25 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: سترھواں سال: 1935ء

 سترھواں سال: 1935ء

محمد یاسین جہازی

9؍جنوری1935ء کو کولہاپور میں بھڑکے فساد کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

20؍جنوری1935ء کو کولہاپور فساد کے خلاف احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

21؍جنوری1935ء کو مسلم یونٹی بورڈ کے اجلاس میں شیعہ حضرات کی نمائندگی پر غور کیا گیا۔

24؍جنوری1935ء کو برطانی حکومت ہند کی طرف سے انڈیا بل اور اس کے ساتھ ایک میمورنڈم شائع کیا گیا۔

یکم فروری 1935ء کو معلمین حجاج بل کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت میں احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

8؍مارچ1935ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ایک اعلان کے ذریعہ گائے کی قربانی کی ممانعت کے پیش نظر عید الاضحی کے موقع پر فسادات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔

9؍مارچ1935ء کو مولوی حبیب الرحمان کے نومسلم صاحب زادے کے اغوا کیے جانے پر مہاراجہ جیند کو تار بھیج کر واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

13؍مارچ1935ء کو غازی عبدالقیوم کی پھانسی کے خلاف صدائے احتجاجی بلند کررہے کراچی کے مسلمانوںپر کی گئی فائرنگ کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔ 

24؍مارچ1935ء کو حجاز کے والی سلطان ابن سعود اور ان کے صاحب زادے پر ہوئے قاتلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے عافیت کی گئی۔ 

27؍مارچ1935ء کو دفتر الجمعیۃ پر چھاپے مارے گئے اور ضروری دستاویزات پولیس لے کرچلی گئی۔ 

13؍اپریل1935ء کو حکومت بمبئی کی طرف سے حادثۂ کراچی پر آزدانہ تحقیقات نہ کرنے کے اعلان پر اس کے خلاف رد عمل ظاہر کیا گیا۔ 

26؍اپریل1935ء کو حادثۂ کراچی کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبہ کے لیے عظیم الشان جلسہ کیا گیا۔ اور اس میں حکومت کی سلور جوبلی میں شرکت کی بھی مخالفت کی گئی۔ اسی کے ساتھ حادثۂ کراچی کی آزادانہ تحقیقات ٹھکرانے پر لیجسلیٹو کونسل سے استعفیٰ دینے والے مسلم ممبران کو مبارک باد دی گئی اور مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب کی گرفتاری پر انھیں بھی مبارک باد پیش کی گئی۔ 

26؍مئی1935ء کو کانگریس قومی ہفتہ کے اجلاس میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب نے خطاب کے بعد دیہاتی تنظیم کے لیے خود بھی چندہ دیا اور لوگوں سے بھی دینے کی اپیل کی۔ 

28؍مئی 1935ء کو سب کمیٹی الجمعیۃ نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ 

31؍مئی1935ء کو کوئٹہ میں آئے بھیانک زلزلے میں جمعیت علمائے ہند نے ہر ممکن تعاون کرنے کی جدوجہد کی اور زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے ، لیکن حکومت نے فوجی رقبہ قرار دے کرجانے نہیں دیا۔

3؍جون1935ء کو قومی و مذہبی معاملات پر اہم مشورے کیے گئے۔

4؍جون 1935ء کو صدر جمعیت کی صدارت میںمنعقد اہالیان دہلی کے جلسہ میں مصیبت زدگان زلزلہ کے لیے چندہ کیا گیا۔ 

 6؍جون1935ء کو کوئٹہ میں ریلیف ورک نہ کرنے دینے کی مذمت  اور زلزلہ زدگان سے اظہار ہمدردی کے لیے ایک جلسہ کیا گیا۔ 

9؍جون1935ء کو شہیدان زلزلہ کی لاشوں کو جلانے کی مذمت کی گئی۔

9؍جون1935ء کو مزارات و مساجد کی بے حرمتی کے خلاف وزیر اعظم پٹیالہ کو تار بھیج کر توجہ دلائی گئی۔ 

24؍جون1935ء کو انڈیا ایکٹ -جسے2؍اگست1935ء سے نافذ العمل قرار دیا جانے والا تھا-چوں کہ اس میں مکمل آزادی اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق میں عدم مداخلت سے متعلق کوئی مستقل دفعہ نہیں تھی اور گورنرجنرلوں کو بے پناہ اختیارات دے دیے گئے تھے، اس لیے جمعیت نے اس کی مخالفت کی۔

12؍جولائی1935ء کو مسجد شہید گنج کی شہادت کے خلاف زبردست احتجاجی جلسہ کیا گیا۔ 

25؍جولائی1935ء کو مسجد شہید گنج  کی تحریک سے متعلق مسلم لیڈروں میں اختلافات کے باعث جمعیت نے اپنا موقف پیش کیا۔ 

9؍ستمبر1935ء کو مولانا حسرت موہانی کی چند غلط فہمیوںکے ازالے کے لیے جوابی مراسلہ لکھا گیا۔

25؍ستمبر1935ء کو مسجد شہید گنج کی واگزاری کے لیے بے موقع تحریک سول نافرمانی شروع کرنے پر تحریک کے ذمہ دار اتحاد ملت کے سکریٹری کو مکتوب لکھ کر تحریک کو فورا روک دینے کا مطالبہ کیاگیا۔

9؍اکتوبر1935ء کو صدر جمعیت حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب پر مسجد تحریک شہید گنج سے متعلق افواہ کی تردیدکی گئی۔

 13؍اکتوبر1935ء کو، جب ڈاکٹر امبیڈ کرنے اپنے مذہب سے بیزاری کا اعلان کیا، تو انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت پیش کی گئی۔

18؍اکتوبر1935ء کو ایک جلسے میں،غیر مسلموں کے مظالم سے تنگ آکر کوٹ پتلی سے ہزاروں مسلمانوں کے دہلی ہجرت کرجانے کے پیش نظر جمعیت نے ان کی امدادو بازآباد کاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

28؍اکتوبر1935ء کو جمعیت کے متعلق پھیلائی جارہی غلط فہمی کاجواب دیتے ہوئے مسجد شہد گنج کی تحریک میں مکمل معاونت کا اعلان کیا گیا۔ 

28؍اکتوبر1935ء کو مجلس اتحاد ملت کی راول پنڈی کانفرنس میں جمعیت پرلگائے گئے الزامات کی تردید کی گئی۔ 

2؍نومبر1935ء کو مسجد شہید گنج کی واگزاری سے متعلق ایک استفتا کا جواب دیا گیا۔

7؍نومبر1935ء کو صوبہ سرحد میں شریعت بل پاس ہونے پر مبارک باد پیش کی گئی۔ 

یکم دسمبر1935ء کودہرادون میں شعبۂ تبلیغ کا قیام عمل میں آیا۔ 

13؍دسمبر1935ء کومولانا عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کی گرفتاری پر احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

28؍دسمبر1935ء کو کانگریس کے گولڈن جوبلی منانے میں شرکت کی اپیل کی گئی۔