25 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند:قدم بہ قدم : تیرھواں سال: 1931ء

 تیرھواں سال: 1931ء

محمد یاسین جہازی

7؍جنوری 1931ء کو مولانا مفتی محمد نعیم صاحب کو سزائے قید سنائی گئی۔  

8؍جنوری1931ء کو جمعیت علمائے آسام کے دفترپر چھاپہ مارا گیا ۔

8؍جنوری1931ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کو رہا کیا گیا۔ 

8؍جنوری1931ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمدسعید صاحب کی رہائی عمل میں آئی۔ 

10؍جنوری1931ء کو قید فرنگ سے واپس آنے پر ریلوے اسٹیشن پر حضرت ناظم عمومی صاحب زبردست استقبال کیا گیا۔ 

12؍جنوری1931ء کو مفتی اعظم اور مولانا ابوالمحاسن وغیرہ پر حساب فہمی کے نام پرمقدمہ کیا گیا۔ 

دہلی میں منعقد 15و 16؍جنوری 1931ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں جہاں صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو اسارت پر تہنیت پیش کی گئی، وہیں دوسری طرف حکومت کے ذریعہ مجاہدین آزادی کی جائدادوں کو ضبط کرکے نیلام کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے برادران وطن سے انھیں نہ خریدنے کی اپیل کی۔اسی طرح جمعیت نے کانگریس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی راہ میں جن لوگوں کی جائدادیں ضبط ہوں گی، آزاد ہندستان میں اس کی حکومت قائم ہونے کے بعد ان سب کی پوری تلافی کردی جائے۔ اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ مسلمان بکثرت کانگریس کا باضابطہ ممبر بنیں۔

26؍جنوری1931ء کو حضرت مفتی اعظم صدرجمعیت علمائے ہند کو قید فرنگ سے رہائی ملی۔ 

 یکم فروری1931ء کو وزیر اعظم برطانیہ کے 19؍جنوری1931ء اور وائسرائے ہند ارون کے 25؍جنوری 1931ء کے بیان پر مولانا ابوالمحاسن مولانا محمد سجادصاحب نے کڑی  تنقید کرتے ہوئے کہ یہ اعلانات کامل آزادی تو دور ؛ خلاصۂ آزادی سے بھی کوسوں دور ہیں۔  

5؍فروری1931ء کو مسلمانان ہند کو دینی و تبلیغی فرض یاد دلاتے ہوئے جمعیت کے تعاون کی اپیل کی گئی۔ 

6؍فروری1931ء کو ازدواج بین الملل کے مسودۂ قانون کی منسوخی پر عظیم الشان اجلاس کیا گیا ۔ 

9؍فروری1931ء کو جمعیت کے خلاف قائم مقدمہ کو عدالت نے خارج کردیا ۔ 

25؍فروری1931ء کو بڑی تعداد میں جمعیت کے رضاکاروں کی رہائی عمل میں آئی۔ 

25؍فروری1931ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب کی رہائی عمل میں آئی ۔ 

9؍مارچ1931ء کو مولانا شوکت علی صاحب کی وطن واپسی اور مولانا محمد علی جوہر صاحب کے انتقال پر تعزیت پیش کرنے کے لیے تعزیتی و استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ 

13؍مارچ1931ء کو حضرت ناظم عمومی صاحب نے گاندھی ارون معاہدہ پر ایک اہم بیان دیا۔ 

16؍مارچ1931ء کو مولانا نور الدین بہاری صاحب رہا کیے گئے۔ 

19؍مارچ 1931ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں گاندھی ارون مفاہمت کی تائید کرتے ہوئے سردست دائرۂ حربیہ کے جارحانہ اقدام کو ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا۔ الجزائر اور مراکش میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی مذمت کی گئی اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے پرسنل لاء کے تحفظ کے لیے فارمولہ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اور 22؍مارچ کو یہ فارمولہ گاندھی جی کو دے دیا گیا ۔

28؍مارچ1931ء کو صدر جمعیت نے بھگت سنگھ اور ان کے رفقا کی سزائے موت کو منسوخ کرنے کے لیے تار بھیجا۔

31؍مارچ و یکم اپریل 1931ء کو جمعیت علمائے ہند کے دسویں اجلاس عام میں مولانا محمد علی، سید شاہ محمد زبیر مونگیری اور پنڈت لال نہرو کے انتقال پر اظہار تعزیت اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کے علاوہ درج ذیل فیصلے لیے گئے۔(1) ہندو مسلم فسادات بنارس ، مرزا پور ، آگرہ، کانپور پر اظہار نفرت۔(2) مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی و دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ۔(3)تمام فدا کا ران آزادی؛ بالخصوص باشندگان صوبہ سر حد کی جنھوں نے جنگ آزادی میں شریک ہوکر قر بانیاں پیش کیں شکریہ(4) حکومت کی طرف سے سر حدی قبائل پر جو بم باری کی گئی، اس پر غم و غصہ کا اظہار۔ (5)گاندھی ار ون مفا ہمت سے اتفاق رائے کا اظہار(6) سول نا فر مانی کا التو ا کرکے رضا کاروں کی بھرتی جاری رکھنے، مسکرات اور بد یشی کپڑوں پر پکٹنگ کرنے اور دیسی کپڑے کے استعمال کی تر غیب دینے کا مشورہ۔(7) آئندہ دستور ا ساسی میں مسلمانوں کی تہذیب و شا ئستگی اور پر سنل لاء کی حفاظت کا مطالبہ۔(8)سردار بھگت سنگھ ، راج گرو اور سکھد یو کی شجا عت کا اعتراف اور ان کے لیے سزائے موت کو قید دوام میں نہ بدلے جانے پر اظہار افسوس۔(9) حبیب نور کے اقدام قتل کے مقدمہ میں چو بیس گھنٹے کے اندر پھانسی دینے پر حکومت سر حد سے ناراضی کا اظہار۔(10) فلسطین میں برطانیہ کی یہو د نواز پا لیسی کی پرزور مذمت۔(11) ہند و مسلم مفا ہمت کا مسودہ مرتب کرنے کا فیصلہ۔(12) صوبہ سر حد کے متولیان اوقاف سے مدارس دینی قائم کرنے کا مطالبہ۔

6؍اپریل1931ء کو خان عبدالغفار خان کا دہلی میں استقبال کیا گیا۔ 

7؍اپریل1931ء کو خان عبدالغفار خاں نے دہلی دفتر جمعیت میں خطاب کیا۔ 

11؍اپریل1931ء کو ریاست قرولی میں ایک قبرستان کے مسئلے پر وہاں کے راجہ کو تار دے کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

21؍اپریل1931ء کو گول میز کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے متحدہ مطالبہ تیار کرنے کے لیے مسلم نیشنلسٹ کی جانب سے مولانا ظفر علی خاں صاحب نے جمعیت کو مکتوب ارسال کیا، جس کا مفتی صاحب نے جواب دیا۔

24؍اپریل1931ء کو گول میز کانفرنس میں متحدہ مطالبہ کا فارمولہ تیار کرنے کے لیے ڈاکٹر انصاری صدر نیشنلسٹ مسلم کانفرنس کو مکتوب لکھا۔ 

7؍مئی1931ء کو نماز کے لیے کانگریس کے اجلاس کے التوا کے موضوع پر چل رہی بحث و گفتگو پر جمعیت نے وضاحتی بیان جاری کیا۔ 

8؍جون1931ء کو میسور میں گائے کی قربانی پر لگائی پابندی کے خلاف ریاست میسور کو تار بھیج کر متوجہ کیا۔ 

19؍جون1931ء کو جمعیت کی تبلیغی و اصلاحی کوششوں کی ایک رپورٹ شائع کی گئی۔ 

3؍اگست1931ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں گول میز کانفرنس لندن میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کرنے کے لیے ایک فارمولا تیار کیا، جس کو جمعیت علمائے ہند کا فارمولا کہا جاتا ہے۔ اس میں کانگریس کی طرف سے پیش کردہ فارمولا کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا۔ 

19؍ نومبر1931ء کو احرار قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کرنے کی وجہ سے ایک پریس بیان دیا گیا۔ 

نوٹ: امسال کے بقیہ ایام کے الجمعیۃ کی فائلیں نہ ملنے کی وجہ سے مزید کارروائیاں دستیاب نہیں ہوسکیں۔