چودھواں سال:1932ء
محمد یاسین جہازی
یہ سال جمعیت علمائے ہند کے لیے جہاد آزادی کی تاریخ کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی کے بعد ، جب بھارتیوں نے دوبارہ تحریک سول نافرمانی کا آغاز کیا، تو حکومت نے مختلف آر ڈی نینسوں کے ذریعہ بھارتیوںکی آزادی کو کچلنا چاہا، لیکن غیوربھارتیوں اور جمعیت علمائے ہند کے اکابرین و کارکنان حکومت کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہوگئے اور بھارت کو آزاد کرانے کے لیے جہاں فرنگی اسارت کو بخوشی قبول کیا، وہیں کسی بھی قسم کے مصائب برداشت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
دوسری گول میز کانفرنس (7؍ستمبر تایکم دسمبر1931ء ) کی ناکامی کے بعد وائسرائے کی طرف سے صوبہ سرحد میں آرڈی نینس جاری کرنے کے بعد پیداشدہ صورت حال کے تناظر میں صدر و ناظم عمومی جمعیت علما نے تار بھیج کر5؍جنوری1932ء کو وائسرائے کو متوجہ کیا۔
5؍جنوری1932ء کو کشمیر معاملہ کو لے کرصدرجمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب نے نواب سکندر حیات اوراحراری لیڈروں سے ملاقات کی۔
6؍جنوری1932ء کو ناظم عمومی کے مکان کی تلاشی لی گئی۔
9؍جنوری1932ء کو لال قلعہ دہلی شاہی مسجد کے انہدام کی کارروائی کو رکوائی گئی ۔
23؍جنوری 1932ء کو میرپورکشمیر میں ڈوگرہ فوج کے مظالم کے خلاف اجلاس و احتجاج کیا گیا۔
24؍جنوری 1932ء کو مختلف الخیال مسلمان لیڈروں کا ایک اہم اجتماع ہوا، جس میں حکومت کی حمایت کی وجہ سے مسلم کانفرنس سے علاحدگی، صوبہ سرحد میں مظالم کی مذمت، دوسری گول میز کانفرنس کا مقاطعہ، حالات حاضرہ پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی کا تقرر، مظالم کشمیر پر احتجاج اور جمعیت علمائے ہند کے وفد کو آزاد تحقیقات کے لیے سرحدجانے کی اجازت نہ دینے پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔
27؍جنوری1932ء کو ناظم عمومی مولانا احمد سعید صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔
30؍جنوری 1932ء کو صوبہ سرحد میں محاکم شرعیہ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔
6؍فروری1932ء کو یوم سرحد مناتے ہوئے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔
29؍فروری سے2؍مارچ 1932ء تک مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں مسلمانوں پر حکومت کشمیر کے زہرہ گداز مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، آزادی کشمیر کے لیے کوشاں مجلس احرار اور حکومت کشمیر کے درمیان ثالثی کے لیے ہوئے خط و کتابت کو شائع کرنے اور ایک وفد جاکر بذات خود حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہاں کے ظلم و ستم سے لوگوں کو واقف کراتے ہوئے ، کشمیر کے حالات کی تحقیق پر مبنی مڈلٹن کمیشن کی رپورٹ میں حکومت کی طرف داری کرنے پر اسے غیر منصفانہ قرار دیا۔اس میں الجمعیۃ کی ملکیت تبدیل کرکے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو سارے اختیارات حوالے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ، موجودہ مجلس عاملہ کوتوڑ دیا گیا ۔اور کل اختیارات حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندکے سپرد کردیے گئے۔ چنانچہ حضرت مفتی صاحب نے اپنی سیاست بصیرت اور فراست ایمانی سے، پہلے سے قائم مجلس حربی، یا دائرۂ حربیہ کے نظام کو دوبارہ جاری کرتے ہوئے ڈکٹیٹری کا سلسلہ قائم فرمایا اور خود کو پہلا ڈکٹیٹر مقرر کیا۔ بعد ازاں علی الترتیب مولانا بشیر احمد، مولانا حفظ الرحمان ، مولانا نور الدین، مولانا عبدالحلیم صدیقی،مولانا حسین احمد مدنی، مفتی محمد نعیم ، مولانا محمد اسماعیل، مولانا سید محمد میاں اور دسویں ڈکٹیٹر مولانا محمد عبداللہ بنائے گئے اور گرفتار ہوتے رہے۔ اسی طرح مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد، ہلال احمد زبیری اور عثمان فارقلیط وغیرہ درجنوں ذمہ داران جمعیت کو نوٹس اور گھر و آفس پر چھاپے پڑتے رہے۔
11؍مارچ 1932ء کو ڈکٹیٹر اول صدر محترم حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کوگرفتار کرلیا گیا۔
25؍مارچ1932ء کو مجلس احرار دہلی نے خود کو جمعیت علمائے ہند میں مدغم کرلیا ۔
2؍اپریل1932ء کو درجنوں رضاکاران جمعیت کو فرنگیوں نے جیل بھیجا۔
5؍اپریل 1932ء کو کارکنان جمعیت نے ایک جلسہ کیا ، جس کی وجہ سے گرفتار کیے گئے۔
5؍اپریل1932ء کو معاون مدیر الجمعیۃ کے سامان کی تلاشی لی گئی۔
7؍اپریل1932ء کو ڈکٹیٹر دوم مولانا بشیر احمد صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
13؍اپریل1932ء کو مہاجرین میر پور کے متعلق جمعیت نے اپنی رپورٹ شائع کی۔
24؍اپریل1932ء کو ڈکٹیٹر سوم حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
11؍مئی1932ء کو ڈکٹیٹر چہارم مولانا نور الدین صاحب بہاری کو گرفتار کرلیا گیا۔
26-27؍مئی 1932ء کو مرادآباد میں مجلس مشاورت کے اجلاس میںتینوں مسودات حج کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور ممبئی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی شدید مذمت کی۔
27؍مئی1932ء کو مرادآباد میں اکابرین جمعیت کا عظیم الشان اجتماع ہوا۔
29؍مئی1932ء کو الور کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔
9؍جون1932ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب نے دشمنان آزادی کے شرم ناک کرتوت کے خلاف ایک بیان دیا۔
10؍جون1932ء کو مسودات حج کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا۔
11؍جون1932ء کو ڈکٹیٹر پنجم کو دہلی چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
یکم جولائی1932ء کو کچھ تنظیموں کی طرف سے پھیلائی جارہی گمراہی کے خلاف جنگ آزادی کے متعلق مسلمانوں کے کامل آزادی کے نصب العین کے متعلق سرکردہ رہنماوں کی طرف سے ایک اپیل جاری کی گئی۔
4؍جولائی1932ء کو جمعیت کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔
9؍جولائی1932ء کو ڈکٹیٹر پنجم مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی گرفتار کرلیے گئے ۔
16؍جولائی1932ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب نے ایک بیان میں بھارت میں ری پبلک کے قیام کا مشورہ دیا۔
16؍جولائی1932ء کو جمعیت کے ایک جلسہ پر لاٹھی چارج کی گئی۔
24؍جولائی1932ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب نے مسلمانوں سے سستی و غفلت چھوڑ کرجنگ آزادی میں شرکت کی تلقین کی۔
28؍جولائی1932ء کو مولانا مجیب الرحمان صاحب کارکن جمعیت رہا کردیے گئے۔
30؍جولائی1932ء کو جناب ہلال احمد زبیری صاحب ایڈیٹر الجمعیۃ کو نوٹس دیا گیا۔
5؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ششم حضرت مولانا حسین احمد مدنی گرفتار کرلیے گئے۔
7؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ششم کو رہا کردیا گیا۔
16؍اگست1932ء کو وزیر اعظم برطانیہ نے کمیونل ایوارڈ پیش کیا اور ساتھ ہی ایک تشریحی بیان بھی دیا۔
20؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ہفتم مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانوی نے برطانوی وزیر اعظم کے کمیونل ایوارڈ (فرقہ وارانہ تصفیہ ) پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا فیصلہ اپنی قوت سے ہوگا۔
28؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ہفتم نے کمیونل ایوارڈ کو محض بے سود قرار دیا ۔
یکم ستمبر1932ء کو دفتر جمعیت پر چھاپہ مارکر طلبۂ دارالعلوم دیوبند کو گرفتار کرلیا گیا۔
2؍ستمبر1932ء کو کارکن جمعیت مولانا صغیر احمد صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔
5؍ستمبر1932ء کو ضبط شدہ جائدادو اوقاف کو واگذار کرانے سے متعلق مولانا ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب نے ایک بیان جاری کیا۔
9؍ستمبر1932ء کو ڈکٹیٹر ہفتم مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی گرفتار کرلیے گئے۔
9؍ستمبر1932ء کو ایک اعلان کے ذریعہ احترام مساجد کا دن منانے کی اپیل کی گئی۔
16؍ستمبر1932ء کو مسودات حج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب نے ایک بیان جاری کیا ۔
17؍ستمبر1932ء کو ڈکٹیٹر دوم مولانا بشیر احمد رہا کیے گئے۔
27؍ستمبر1932ء کو جمعیت دفتر کی تلاشی لی گئی۔
27؍ستمبر1932ء کو ایک بیان کے ذریعہ طلبائے دارالعلوم دیوبند کو سیاست میں حصہ لینے سے منع کرنے پر انتظامیہ دارالعلوم دیوبند کے اس فیصلہ پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔
برطانوی حکومت ہند نے جامع مسجد دہلی میں سیاسی جلسے جلوس پر پابندی لگانے کے لیے ایک نوٹس جاری کیا، جس کو جمعیت نے مساجد کی آزادی پر حملہ تصور کرتے ہوئے اس کے خلاف 30؍ستمبر1932ء کواور اس کے علاوہ کئی تاریخوں میں ملک گیر یوم احترام مساجد مناتے ہوئے گرفتاریاں پیش کیں۔
یکم اکتوبر1932ء کو جناب ہلال احمد زبیر ی صاحب کے کی گھر کی تلاشی لی گئی۔
یکم اکتوبر1932ء کو فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر سید محمود کی طرف سے بلائی جارہی آل پارٹیز کانفرنس لکھنو کی تائید کی گئی۔
یکم اکتوبر1932ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب نے آل پارٹیز کانفرنس کی تائید کی۔
8؍اکتوبر1932ء کو ڈکٹیٹر ہشتم مولانا محمد اسماعیل صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔
13؍اکتوبر1932ء کو آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے جمعیت کی مشاورتی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
15؍اکتوبر1932ء کو منعقد جمعیت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا، جس میں فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ کے لیے جمعیت کا منظور کردہ فارمولہ کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جسے مجلس عاملہ منعقدہ 3؍اگست 1931ء نے منظور کیا تھا۔
15-16؍اکتوبر1932ء کو لکھنو میں مختلف الخیال لیڈروں پر مشتمل آل پارٹیز مسلم کانفرنس ہوئی،جس میں وزیر اعظم کے کمیونل ایوارڈ کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ3؍ اگست 1931ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے اجلاس عاملہ میں پاس کردہ ’’جمعیت علما کا فارمولہ‘‘ فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ کے لیے بہترین فارمولہ ہے ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ساتھ فرقہ وارانہ حقوق طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔
22؍اکتوبر 1932ء کو لاہور کے ایک اخبار نے حکومت ہند کاایک خفیہ مراسلہ شائع کیا، جس میں جمعیت علمائے ہند کو قابو میں لانے کی بات کہی گئی تھی۔
23؍اکتوبر 1932ء کو لکھنو کانفرنس کے فیصلے کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی۔
23؍اکتوبر1932ء کو مولانا منت اللہ رحمانی اور دیگر کارکنان جمعیت کو گرفتار کرلیا گیا۔
31؍اکتوبر 1932ء کو مختلف مذاہب کے درمیان فرقہ وارانہ حقوق طے کرنے کے مقصد سے منعقد کی جانے والی الٰہ آباد کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعیت علمائے ہند کو دعوت دی گئی۔
یکم نومبر 1932ء کو جمعیت نے اعلان کیا کہ گول میزکانفرنس پر کوئی توجہ نہ دی جائے۔
2؍نومبر1932یء کو الٰہ آباد میں جمعیت کی ایک مجلس مشاورت کی گئی، جس میں مسودات حج کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جگہ جگہ مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
3؍نومبر 1932ء سے لے کر مسلسل سترہ دن تک الٰہ آباد میں ہندوؤں ،مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان فرقہ وارانہ حقوق پر مشتمل متحدہ مطالبہ کا مسودہ تیار کیا گیا۔
4؍نومبر 1932ء کو کارکنان جمعیت پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
7؍نومبر 1932ء کو ڈکٹیٹرنہم مولانا سید محمدمیاں صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
12؍نومبر 1932ء کو ڈکٹیٹر ہشتم مولانا اسماعیل صاحب کے گھر کی قرقی کرلی گئی۔
25؍نومبر 1932ء کو جمعیت دفتر پر چھاپے ماری کی گئی۔
5؍دسمبر 1932ء کو دسویں ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند مولانا محمد عبداللہ صاحب نے مجلس عاملہ کے اراکین کی نام زدگی کرتے ہوئے سابقہ نظام بحال کردیا۔
6؍دسمبر 1932ء کو چند رضاکاران جمعیت رہا کردیے گئے۔
10تا12؍دسمبر 1932ء کو لکھنو میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس ہوئی، جس میں 17؍ نومبر 1932ء تک ہونے والی آل پارٹیز مسلم کانفرنس الٰہ آبادکے فیصلوں کو منظوری دی گئی ؛ لیکن اس میں مسلم لیگ نے شرکت نہیں کی۔
13؍ دسمبر سے لے کر 24؍دسمبر تک الٰہ آباد میں، آل پارٹیز لکھنو کانفرنس (منعقدہ: 10تا12؍ دسمبر 1932ء) کے فیصلوں کی تائید کے لیے الٰہ آباد اتحاد(یونٹی) کانفرنس ہوئی ۔ بعد ازاں یہی یونٹی کانفرنس 2؍جنوری 1933ء تک کلکتہ میں منعقد ہوئی، جس میں 17؍نومبر 1932ء تک چلنے والی الٰہ آباد کانفرنس اور 10تا12؍ دسمبر 1932ء کی آل پارٹیز مسلم کانفرنس لکھنو کے فیصلوں کی جزوی ترمیم کے بعد منظوری دی گئی۔
11؍دسمبر1932ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کانپور کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں فرضی جمعیت علمائے کانپور کو مفاہمت کی دعوت دی گئی۔
14؍دسمبر 1932ء کو سردفتر جمعیت کی تلاشی لی گئی اور دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔
28؍دسمبر1932ء کو مولانا مظہر الدین صاحب ایڈیٹر الامان کی طرف سے بنائی گئی فرضی جمعیت علمائے کانپور کے خلاف اعلان جاری کرتے ہوئے اس سے برات کا اعلان کیا گیا۔
30؍دسمبر 1932ء کو مولانا محمد عبد اللہ صاحب دسویں ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند کو گرفتار کیا گیا۔