سعودی عرب اور جمعیت علمائے ہند
محمد یاسین جہازی
پہلی جنگِ عظیم (18/جولائی 1914ئ تا 11/نومبر 1918ئ) کے دوران پورا جزیرہ¿ عرب سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ اقتدار تھا، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے نزدیک خلافتِ عثمانیہ کا تحفظ دراصل حرمین شریفین اور پورے جزیرہ¿ عرب کے تحفظ کے مترادف تھا۔ اگرچہ ہندوستانی مسلمانوں نے خلافت کے تحفظ کے وعدے پر برطانیہ کا ساتھ دیا، لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد 30/اکتوبر 1918ئ کی عارضی صلح کے ذریعے سلطنتِ عثمانیہ کو تقسیم کردیا گیا، شریف حسین کو حجاز کا بادشاہ اور امیر فیصل کو عراق کا حکمران بنا دیا گیا۔
تحفظِ خلافت کی پہلی عظیم تحریک کے دوران 23/نومبر 1919ئ کو دہلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی۔ پہلے اجلاسِ عام (28، 31/دسمبر 1919ئ اور یکمßجنوری 1920ئ) میں 12/فروری تا 10/اپریل 1920ئ لندن کی صلح کانفرنس میں مسلم وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، مگر اس کے نتیجے میں 10/اگست 1920ئ کو معاہدہ¿ سیورے نافذ ہوا، جس نے خلافتِ عثمانیہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ اس پر 6/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ میں جمعیت نے انگریزی حکومت کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور 8/ستمبر 1920ئ کو ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ جاری کرکے ترکِ موالات کو شرعی فریضہ قرار دیا، جس کی بنیاد جزیرہ¿ عرب، مقاماتِ مقدسہ اور خلافت کے تحفظ کو بنایا گیا۔
دوسرے اجلاسِ عام (19، 20، 21/نومبر 1920ئ) میں حکیم محمد اجمل خاں نے خلافتِ عثمانیہ کی تقسیم، مقاماتِ مقدسہ پر غیر مسلم غلبے اور جزیرہ¿ عرب میں برطانوی مداخلت کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر حملہ قرار دیا، جبکہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے واضح کیا کہ شریفِ مکہ کی حکومت حقیقی اسلامی حکومت نہیں، اس لیے حجاز، بیت المقدس، عراق اور دیگر مقدس مقامات کو غیر مسلم اثر سے پاک رکھنا مسلمانوں کا دینی فرض ہے۔
تیسرے اجلاسِ عام (18، 19، 20/نومبر 1921ئ) میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اعلان کیا کہ جزیرہ¿ عرب صرف حجاز تک محدود نہیں بلکہ عراق بھی اس میں شامل ہے، لہٰذا جب تک اس خطے سے برطانوی اثر ختم نہیں ہوگا، مسلمان برطانیہ سے مصالحت نہیں کرسکتے۔
22ßمارچ 1922ئ کو مجلسِ عاملہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد اور یمن سمیت تمام عرب علاقے خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیرِ اقتدار رہیں۔ پھر 18، 19، 20/اکتوبر 1922ئ کو مجلسِ منتظمہ نے اعلان کیا کہ خلافت کے مذہبی مطالبات میں کسی قسم کی کمی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ بعد ازاں 24 تا 26/دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاسِ عام میں مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ نے خلافت کے قیام، مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ اور جزیرہ¿ عرب سے غیر مسلم اقتدار کے خاتمے کو مسلمانوں کا فرض قرار دیا۔
9،10/فروری 1923ئ کی مجلسِ منتظمہ میں فیصلہ کیا گیا کہ مدینہ منورہ کے تبرکات اس وقت تک واپس نہ کیے جائیں جب تک حجاز خلیفۃ المسلمین کے قابلِ اعتماد اقتدار میں نہ آجائے، اور اسی اجلاس میں حجاز ریلوے کو پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ملکیت قرار دیتے ہوئے اس کے انتظام کا حق صرف خلیفۃ المسلمین کو دیا گیا۔
20ßمئی 1923ئ کو برطانیہ اور شریف حسین کے درمیان انگلو۔حجاز معاہدہ طے پایا، جس کا متن 7/جون 1923ئ کو شائع ہوا۔ جمعیت علمائے ہند نے 13 تا 16/جولائی 1923ئ کی مجلسِ منتظمہ میں اس معاہدے کو اسلام اور سرزمینِ حجاز کی توہین قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جزیرہ¿ عرب کو ہر قسم کے غیر مسلم اثر سے پاک رکھنا، حجاز کے مذہبی تشخص کی حفاظت کرنا اور اس مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھنا تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔
20،21/ستمبر 1923ئ کو جزیرہ¿ عرب کی آزادی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی، جس نے 6/نومبر 1923ئ کے اجلاس میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزید مشاورت تک فیصلے م¶خر کرنے کی سفارش کی۔ اس سے قبل 15/نومبر 1923ئ کو مفتی محمد کفایت اللہؒ نے پورے ہندوستان میں ’’ہفتہ¿ جزیرہ¿ عرب‘‘ منانے کی اپیل جاری کی۔
پانچواں اجلاسِ عام (29/دسمبر 1923ئ تا یکمßجنوری 1924ئ) مولانا حسین احمد مدنیؒ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں قرار دیا گیا کہ جزیرہ¿ عرب اور مقاماتِ مقدسہ کو غیر مسلم اقتدار سے آزاد کرانا تمام مسلمانوں کا دینی فرض ہے۔ اجلاس نے یہ بھی اعلان کیا کہ جزیرہ¿ عرب، جس میں عدن بھی شامل ہے، ہمیشہ غیر مسلم تسلط سے پاک رہنا چاہیے، برطانیہ اور عرب حکومتوں کے معاہدے ناقابلِ قبول ہیں، اور جزیرہ¿ عرب کی آزادی کے لیے ہونے والے مظاہروں کے خلاف حکومتی کارروائیاں مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔
معاہدہ¿ سیورے کے بعد حجاز میں شریف حسین کی حکومت مسلسل کمزور ہوتی گئی۔ امیرِ نجد عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے حجاز کی مہم کا آغاز کیا اور 5/ستمبر 1924ئ کو طائف پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد 3/اکتوبر 1924ئ کو شریف حسین مکہ چھوڑ کر جدہ چلے گئے اور اقتدار اپنے بیٹے علی بن حسین کے سپرد کردیا، جبکہ 13/اکتوبر 1924ئ کو ابن سعود کی افواج مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئیں۔ بالآخر دسمبر 1925ئ میں جدہ بھی ان کے قبضے میں آگیا اور سلطنتِ حجاز کا خاتمہ ہوگیا، جس کے بعد 23/ستمبر 1932ئ کو مملکتِ سعودی عرب کے قیام کا اعلان کیا گیا۔
اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کا چھٹا اجلاسِ عام 11 تا 16/جنوری 1925ئ کو مولانا محمد سجادؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ صدارتی خطاب میں جزیرہ¿ عرب کو ہمیشہ غیر مسلم اقتدار سے پاک رکھنے، حرمین شریفین کے تحفظ اور رسول اکرم ﷺ کی آخری وصیت کی پاسداری کو مسلمانوں کا بنیادی دینی فرض قرار دیا گیا۔ شریف حسین کی برطانوی حمایت، خلافتِ عثمانیہ سے بغاوت، حجاج پر مظالم اور حجاز میں بدامنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ طائف اور مکہ پر امیرِ نجد کے قبضے کو شریف حسین کے مظالم کے خاتمے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ جزیرہ¿ عرب کی آزادی کا مقصد صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مسلم مداخلت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ حرمین شریفین کا نظم اہلِ حل و عقد کے باہمی انتخاب سے قائم ہونا چاہیے اور مسلمانوں کو باہمی فقہی اختلافات سے بچ کر حرمین کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔ استقبالیہ خطبے اور منظور شدہ قرارداد میں بھی امیر ابن سعود کے اس اعلان کی تائید کی گئی کہ حجاز کے مستقبل کا فیصلہ مسلمانانِ عالم کے مشورے سے ہو، جبکہ جزیرہ¿ عرب میں کسی بھی غیر مسلم طاقت کی مداخلت کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
مکہ معظمہ کی آئندہ حکومت کے تعین کے لیے اسلامی م¶تمر کے سلسلے میں 19/جنوری 1925ئ کو شیخ ابو الفضل، امام مسجد الازہر، نے صدر جمعیت مفتی محمد کفایت اللہؒ کو اجلاس ایک سال م¶خر کرنے کا تار بھیجا، مگر 22/جنوری 1925ئ کو مفتی کفایت اللہؒ نے جواب دیا کہ م¶تمر کا فوری انعقاد ہی عرب تنازعات کے حل کا بہترین ذریعہ ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلسِ عاملہ نے 26/جنوری 1925ئ کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ جب تک واپسی اور سفری انتظامات مکمل نہ ہوں، مسلمانوں کو سفرِ حج کا ارادہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی فیصلے کے مطابق صدر جمعیت نے اعلان جاری کیا، جو 22/فروری 1925ئ کے سہ روزہ ’’الجمعیۃ‘‘ میں شائع ہوا، جس میں حجاز کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث عازمینِ حج کو احتیاط کی تلقین کی گئی۔
بعد ازاں یکمßمئی 1925ئ کو مکہ مکرمہ کے اکیاون سے زائد علمائ نے مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک مفصل مکتوب بھیجا، جس میں حجاز کے شدید معاشی بحران کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانانِ ہند سے مالی تعاون کی اپیل کی گئی اور ابن سعود کے دور میں امن و امان کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس اپیل کا ترجمہ 6/مئی 1925ئ کے سہ روزہ ’’الجمعیۃ‘‘ میں شائع ہوا۔
جب حکومتِ ہند نے حجاج کی روانگی کی اجازت دی تو 18/مئی 1925ئ کو مفتی محمد کفایت اللہؒ نے سلطان عبدالعزیز ابن سعود کے نام تار بھیج کر رابغ بندرگاہ، مکہ مکرمہ اور راستے میں حجاج کے قیام، خوراک اور حفاظت کے مکمل انتظامات کی درخواست کی۔ اسی روز ایک عوامی اعلان بھی جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ پہلا جہاز 22/مئی 1925ئ کو روانہ ہوگا، اس لیے عازمینِ حج 17 اور 18/مئی 1925ئ تک بمبئی پہنچ جائیں اور خلافت کمیٹیوں کے ذریعے اپنی اطلاع فراہم کریں، نیز ہر صوبے سے ایک ذمہ دار نمائندہ حجاج کی خدمت کے لیے روانہ کیا جائے۔
حجاز کے حالات کی تحقیقات کے لیے جمعیت علمائے ہند کا وفد
روزنامہ الجمعیۃ میں 14 مئی 1925ئ کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے حضرت مولانا شوکت علی کو تار بھیج کر یہ تجویز پیش کی کہ جمعیت علمائے ہند، خلافت کمیٹی اور مسلم لیگ کا ایک مشترکہ وفد 15 مئی 1925ئ تک حجاز روانہ کیا جائے تاکہ سلطان ابن سعود سے ملاقات کرکے حج کے انتظامات، امن و امان اور حجاج کی سہولتوں کا براہِ راست جائزہ لے کر مسلمانوں کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا جاسکے۔
بعد ازاں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 20 مئی 1925ئ کے اجلاس میں مشترکہ وفد کی عدمِ تشکیل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ جمعیت اپنا مستقل نمائندہ حجاز بھیجے گی۔ اس مقصد کے لیے حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کو نمائندہ مقرر کیا گیا۔ چنانچہ وہ 5 جون 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے نمائندے کی حیثیت سے، جبکہ مولانا ابوالمعارف محمد عرفان خلافت کمیٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ بعد میں یہ وفد 10 جون 1925ئ کو کراچی سے جہاز اکبر کے ذریعے مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوا۔
حج کے موقع پر 2 جولائی 1925ئ (مطابق 10 ذی الحجہ 1343ھ) کو سلطان ابن سعود نے وفد کو شرفِ ملاقات بخشا۔ اس موقع پر مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ نے ایک اہم خطاب کیا، جس میں حجاز میں قائم امن، مسلمانوں کے اتحاد، حجاز کو بیرونی اثرات سے پاک رکھنے، عالمِ اسلام کی توقعات اور عدل و انصاف کے قیام پر زور دیا۔ یہ خطاب بعد میں 26 اگست 1925ئ کے شمارہ¿ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔
وفد 6 اگست 1925ئ کو دہلی واپس پہنچا، جہاں اس کا شاندار استقبال کیا گیا، اور 7 اگست 1925ئ کو جامع مسجد دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس کی رپورٹ 14 اگست 1925ئ کو شائع ہوئی۔ اس جلسے میں وفد کے ارکان نے اپنے مشاہدات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ابن سعود کی حکومت میں راستوں کا امن، حجاج کی سہولتیں اور انتظامات سابقہ حالات کے مقابلے میں بہتر تھے۔ انہوں نے طائف کے واقعات، مزارات کے قبوں کے انہدام، مدینہ منورہ اور مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق سلطان ابن سعود سے ہونے والی گفتگو بھی بیان کی۔ وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ بہت سی مشہور افواہیں مبالغہ آمیز یا بے بنیاد تھیں، جبکہ سلطان نے طائف کے سانحے پر افسوس، مساجد کی مرمت، قبور کے بارے میں علمائے اربعہ کے فیصلے کی پابندی اور مدینہ منورہ، جنت البقیع اور شہدائے اُحد کے احترام و حفاظت کی یقین دہانی کرائی۔ ان بیانات کی تفصیلی اشاعت 18 اگست 1925ئ کو ہوئی۔
اسی دوران سلطان ابن سعود نے 18 جولائی 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک مکتوب بھی تحریر کیا، جس میں جمعیت کی خدمات کو سراہتے ہوئے وفد کی آمد پر اظہارِ تشکر کیا۔ یہ مکتوب بعد میں 10 اگست 1925ئ کو شائع ہوا۔
مزید برآں، مکہ معظمہ سے آنے والے چار معزز حضرات کے اعزاز میں 28 جولائی 1925ئ (مطابق 6 محرم 1344ھ) کو دہلی میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں حجاز کے حالات پر سوال و جواب ہوئے۔ مہمانوں نے بتایا کہ قبوں کا انہدام ضرور ہوا، مگر قبروں کی بے حرمتی نہیں کی گئی، مختلف فقہوں کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی حاصل تھی، اور ابن سعود کی حکومت میں امن و انصاف نمایاں تھا۔
آخرکار جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 18 تا 21 جنوری 1926ئ کے اجلاس میں حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کی رپورٹ اور خدمات کو باضابطہ طور پر سراہا، رپورٹ کو ریکارڈ میں محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا اور قرار دیا کہ اس کا مضمون انہی بیانات کے مطابق ہے جو وفد کی واپسی کے بعد مختلف جلسوں اور اخبارات میں شائع ہوچکے تھے۔
حرمین کے قبوں اور مزارات کے متعلق شرعی فتویٰ اور حجاز کے حالات
سلطان عبدالعزیز ابن سعود کی حکومت کے استحکام کے بعد حجاز میں ایسے مزارات، قبوں اور تعمیرات کے انہدام کا سلسلہ شروع ہوا جنہیں سعودی حکومت شرک، بدعات اور عوامی استحصال کا ذریعہ سمجھتی تھی۔ اس کے ردِعمل میں شریفِ مکہ کے حامی حلقوں نے آلِ سعود کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کیا، جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی اور اس مسئلے کی شرعی حیثیت معلوم کرنے کے لیے متعدد استفتائات بھیجے گئے۔
اسی سلسلے میں 2 ستمبر 1925ئ کو محمد رفیع صاحب نے مفتیِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد کفایت اللہؒ سے قبروں پر گنبد، قبے، غلاف، نذر و نیاز، طواف اور انہدامِ مزارات کے بارے میں استفتا کیا۔ مولانا نے اپنے فتویٰ میں واضح فرمایا کہ قبروں کو پختہ بنانا، ان پر قبے و عمارتیں تعمیر کرنا، غلاف چڑھانا، نذر و نیاز، طواف اور سجدہ جیسے اعمال شریعت میں ممنوع اور منکراتِ شرعیہ ہیں، اور اگر سلطان ابن سعود نے ان منکرات کے ازالے کے لیے قبے منہدم کیے تو یہ ان کے نزدیک شرعی حکم کی تعمیل تھی۔ مزید یہ کہ حدیثِ نجد کو بنیاد بنا کر تمام اہلِ نجد یا ابن سعود کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں، بلکہ ہر شخص کے عقائد و اعمال ہی اس کے بارے میں رائے قائم کرنے کا معیار ہیں۔ اسی شمارے میں مولانا وحید حسین، مولانا عبدالحلیم صدیقی اور مولانا ولایت احمد کے فتاویٰ بھی اسی م¶قف کی تائید میں شائع ہوئے۔
بعد ازاں 6 اکتوبر 1925ئ کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے ایک اہم اعلان جاری کیا، جس میں برطانوی کمیشن کی متوقع حجاز آمد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ جزیرہ¿ عرب کے کسی بھی حصے پر براہِ راست یا بالواسطہ غیر مسلم اقتدار مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے سلطان ابن سعود سے بھی توقع ظاہر کی کہ وہ جزیرہ¿ عرب کو غیر مسلم اثر سے پاک رکھنے کی ذمہ داری پوری استقامت سے ادا کریں گے، جبکہ مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات چھوڑ کر اس مشترکہ مقصد پر متحد ہوں۔
حرمین کے آثارِ قدیمہ کے انہدام سے متعلق پھیلائی جانے والی مسلسل افواہوں کی حقیقت جاننے کے لیے جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے دوسرا مشترکہ وفد تشکیل دیا، جو 23 اکتوبر 1925ئ کو مولانا شوکت علی، مولانا محمد عرفان اور مولانا ظفر علی خان کی قیادت میں حجاز روانہ ہوا۔ دہلی کی جامع مسجد میں رخصتی کا عظیم الشان اجتماع ہوا اور اسی روز رات 10 بج کر 2 منٹ پر وفد دہلی سے بمبئی روانہ ہوگیا، جس کی تفصیل 26 اکتوبر 1925ئ کے سہ روزہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔
وفد نے 24 نومبر 1925ئ کو مکہ معظمہ پہنچ کر سلطان ابن سعود سے ملاقات کی اور 26 نومبر 1925ئ کو مدینہ منورہ روانہ ہوا۔ 10 دسمبر 1925ئ کو پورٹ سوڈان سے بھیجے گئے تار میں اطلاع دی گئی کہ مسجد ابو قبیس کی مرمت مکمل ہوچکی ہے، مولدِ نبوی کی دوبارہ تعمیر جاری ہے، دیگر آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، مدینہ کے آثارِ مقدسہ کی حفاظت کے لیے سلطان نے اپنے فرزند کو وفد کی ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اہلِ مدینہ کی امداد کے لیے دس ہزار پونڈ مختص کیے گئے ہیں، نہرِ زبیدہ کی مرمت بھی جاری ہے، اور 26 نومبر کی صبح امیر علی کے ہوائی جہاز کے کعبہ کے اوپر پرواز کرنے پر وفد نے مسلمانانِ ہند کی جانب سے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
اس کے بعد 14 دسمبر 1925ئ کو مولانا محمد عرفان کا رابغ سے بھیجا گیا تفصیلی خط شائع ہوا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ 26 اکتوبر 1925ئ کو بمبئی سے روانہ ہوکر 18 نومبر 1925ئ کو رابغ پہنچے۔ انہوں نے عرب ممالک کی مذہبی و سماجی زبوں حالی، برطانوی اثرات، مسٹر فلبی کی سرگرمیوں، مدینہ منورہ کے محاصرے، اہلِ مدینہ کی انتہائی ابتر معاشی حالت، تقریباً 600 مہاجرین کی رابغ میں موجودگی، مدینہ کی سابقہ 20 ہزار آبادی کے منتشر ہونے، شریف علی کی حکومت کی بدانتظامیوں، گنبدِ خضرا پر مبینہ گولہ باری کے پروپیگنڈے کی حقیقت اور مہاجرین کی دردناک کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا۔ ان کے مطابق مدینہ کے عوام قحط، بھوک اور محاصرے کا شکار تھے، جبکہ شریفی حکومت نے ان پر شدید مظالم ڈھائے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ سلطان ابن سعود نے مدینہ کے احترام کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی امداد کے لیے ضروری احکام جاری کیے تھے، جبکہ شریفی پروپیگنڈے کے برخلاف متعدد الزامات کی حقیقت تحقیق کے بعد مختلف نکلی۔
حجاز کی حکومت، سلطان ابن سعود اور جمعیت علمائے ہند (1925ئ–1926ئ)
25ßاکتوبر 1925ئ (8/ربیع الآخر 1344ھ) کو سلطان عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک اہم مکتوب ارسال کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد حجاز پر شخصی حکومت قائم کرنا نہیں، بلکہ شریفِ مکہ کی حکومت سے حرمین شریفین کو آزاد کرانا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حجاز ان کے پاس ایک امانت ہے، جسے اہلِ حجاز کے منتخب حکمران کے سپرد کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ حجاز کے حکمران کا انتخاب عالمِ اسلام کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے ذریعے ہو، حکومت کی بنیاد اسلامی شریعت پر قائم ہو، حجاز داخلی طور پر خودمختار رہے، کسی ملک کے ساتھ سیاسی معاہدہ نہ کرے، غیر مسلم ریاستوں سے معاشی معاہدات نہ کرے، اور حجاز کی آئینی، مالی، عدالتی اور انتظامی تشکیل عالمِ اسلام کے نمائندوں کی مشاورت سے ہو۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے جمعیت خلافت، جماعت اہلِ حدیث اور جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں کو بھی آئندہ م¶تمر اسلامی میں شریک کرنے کی دعوت دی۔
اس دوران حجاز میں آل سعود کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ 5/ستمبر 1924ئ کو طائف فتح ہوا، 3/اکتوبر 1924ئ کو شریف حسین مکہ چھوڑ کر جدہ چلے گئے، 13/اکتوبر 1924ئ کو عبدالعزیز کی افواج مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئیں، اور بالآخر 24/دسمبر 1925ئ کو جدہ بھی بغیر جنگ کے ان کے قبضہ میں آگیا۔ اسی روز سلطان عبدالعزیز نے حضرت مولانا احمد سعیدؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو تار کے ذریعے جدہ کی پرامن فتح کی اطلاع دی۔
ان فتوحات پر 30/دسمبر 1925ئ کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے سلطان ابن سعود کو مبارک باد کا تار بھیجا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حجاز مقدس کو وحدتِ اسلامیہ کا حقیقی مرکز بنائے۔ اس کے جواب میں یکم جنوری 1926ئ کو سلطان عبدالعزیز نے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے اطلاع دی کہ بلادِ مقدسہ میں امن قائم ہے، راستے محفوظ اور کھلے ہوئے ہیں، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین، عباد اور بلاد کی بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔
10ßجنوری 1926ئ کو مدینہ منورہ کے باشندگان سید احمد فیض آبادی اور سید محمود احمد فیض آبادی نے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک لاسلکی پیغام بھیجا، جس میں بتایا کہ سلطان عبدالعزیز کے اقتدار کے بعد پورے حجاز میں امن قائم ہوگیا ہے، شریعتِ مطہرہ نافذ ہے، سفر محفوظ ہوگیا ہے، آثارِ مقدسہ کا احترام برقرار ہے اور پہلے پھیلائی گئی بہت سی افواہیں حقیقت کے خلاف تھیں۔
ادھر قاضی محمد عدیل عباسی کے مطابق، 1924ئ میں عبدالعزیز نے طائف اور مکہ فتح کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کا مقصد مکہ پر شخصی قبضہ نہیں بلکہ شریعت کا نفاذ اور عالمِ اسلام کی مشاورت سے حجاز کا نظم قائم کرنا ہے۔ تاہم 10/جنوری 1926ئ کو قاہرہ سے موصولہ تار کے ذریعے معلوم ہوا کہ انہوں نے "ملک الحجاز و سلطان نجد" ہونے کا اعلان کردیا، حالاں کہ اس سے قبل 24/اکتوبر 1924ئ کو انہوں نے خلافت کمیٹی کو یقین دلایا تھا کہ حجاز کا آخری فیصلہ عالمِ اسلام کی مرضی سے ہوگا۔
اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا چار روزہ اجلاس 18 تا 21/جنوری 1926ئ کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلطان ابن سعود کے دعوت نامے، قاہرہ سے 8/جنوری 1926ئ اور آکسفورڈ سے 12/جنوری 1926ئ کو موصولہ تاروں پر غور کیا گیا، جن میں ان کے اعلانِ ملوکیت اور اہلِ حجاز کی بیعت کا ذکر تھا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ سلطان کو ایک وضاحتی تار بھیجا جائے، جس میں 8/ربیع الآخر 1344ھ (26/اکتوبر 1925ئ) کے مکتوب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے م¶تمر اسلامی کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا جائے اور اعلانِ ملوکیت کی وجوہات دریافت کی جائیں۔ اسی اجلاس میں 30/دسمبر 1925ئ کو بھیجی گئی مبارک باد کی توثیق بھی کی گئی، جبکہ م¶تمر اسلامی کے لیے نمائندوں کے انتخاب کا فیصلہ آئندہ اجلاس تک ملتوی کردیا گیا۔
21ßجنوری 1926ئ کو سلطان عبدالعزیز نے اس تار کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ ذاتی طور پر اعلانِ ملوکیت م¶خر کرنا چاہتے تھے، مگر اہلِ حجاز نے متفقہ طور پر ان کی بیعت پر اصرار کیا، جبکہ اہلِ نجد نے بھی یہ مطالبہ کیا کہ اگر انہوں نے بیعت قبول نہ کی تو حجاز کے امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ اس مجبوری کے باعث انہوں نے بیعت قبول کی، تاہم یہ یقین دلایا کہ وہ حجاز میں مسلمانوں کے تمام مشروع حقوق کی حفاظت کے اپنے سابق وعدے پر قائم رہیں گے۔
بعد ازاں 18/فروری 1926ئ کو سلطان ابن سعود کا ایک اور مکتوب موصول ہوا، جس میں انہوں نے بلادِ مقدسہ کی تطہیر پر اللہ کا شکر ادا کیا، حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی دینی خدمات کی تعریف کی اور اسلام و مسلمانوں کی فلاح کے لیے باہمی تعاون کی امید ظاہر کی۔
مجلس عاملہ (18 تا 21/جنوری 1926ئ) نے مدینہ منورہ کے محتاج باشندوں کی امداد کے لیے "مدینہ فنڈ" قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جس کا اعلان بعد میں 2/فروری 1926ئ کے سہ روزہ "الجمعیۃ" میں کیا گیا۔ 2/مئی 1926ئ تک اس فنڈ میں ہزاروں روپے اور چاول جمع ہوچکے تھے، جبکہ 4/اپریل 1926ئ کی رپورٹ کے مطابق سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون کے ذریعے جیرانِ رسول ﷺ کی امداد کے لیے مجموعی طور پر 2,06,012 روپے وصول ہوچکے تھے، جس کی تفصیل 22/اپریل 1926ئ کو شائع ہوئی۔
حجازی وفد کی رپورٹ کے بعد جمعیت علمائے ہند کا ساتواں اجلاس عام 11 تا 14/مارچ 1926ئ کو منعقد ہوا، جس میں حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اب حجاز میں امن قائم ہے، راستے محفوظ ہیں، قبائل مطیع ہیں اور سلطان عبدالعزیز کی صلاحیتوں کی عام شہادت مل رہی ہے۔ انہوں نے آثارِ مقدسہ کی شرعی بنیادوں پر حفاظت، م¶تمر اسلامی کے ذریعے ان کی نگرانی، اور اس موضوع پر قرآن، حدیث اور آثارِ سلف کی روشنی میں ایک عربی یادداشت حکومتِ حجاز کو پیش کرنے کی سفارش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ ابن سعود نے "ملک" ہونے کا اعلان کرنے میں جلدی کی، کیونکہ حجاز میں وراثتی بادشاہت کے بجائے انتخابی طرزِ حکومت زیادہ موزوں ہے، تاہم انہوں نے اس بات کو باعثِ مسرت قرار دیا کہ سلطان نے حجاز میں عالمِ اسلام کے حقوق کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو اس کے نظم و نسق میں شریک ہونے کا موقع دیا۔
علامہ ندویؒ نے حجاز کے سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی مسائل، یورپی طاقتوں کے ممکنہ عزائم، غیر ملکی سرمایہ کاری کے خطرات، مسلم سفیروں کی تقرری، اور عرب اتحاد کی ضرورت پر بھی مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں خصوصاً برطانیہ اور اٹلی کے ساتھ تعلقات میں انتہائی احتیاط کی نصیحت کی۔
اسی اجلاس (11 تا 14/مارچ 1926ئ) میں جمعیت علمائے ہند نے حجازی وفد کی رپورٹ کی روشنی میں یہ قرارداد بھی منظور کی کہ چونکہ حجاز میں امن بحال ہوچکا ہے، اس لیے اہلِ استطاعت مسلمان بلا تردد حج کے لیے جائیں، تاکہ فریضہ¿ حج کی ادائیگی کے ساتھ جیرانِ بیت اللہ اور جیرانِ رسول اللہ ﷺ کی معاشی امداد بھی ہوسکے، البتہ غیر مستطیع افراد سفرِ حج سے گریز کریں تاکہ خود بھی مشقت سے بچیں اور اہلِ حجاز کے لیے بھی مشکلات پیدا نہ ہوں۔
حکومتِ آل سعود سے م¶تمرِ اسلامی کے انعقاد کی امید
سلطان عبدالعزیز ابن عبدالرحمن آل سعود نے 25/اکتوبر 1925ئ کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ صدر جمعیت علمائے ہند کے نام اپنے مکتوب میں حجاز کے مستقبل کا فیصلہ عالمِ اسلام کے سپرد کرنے اور ایک بین الاقوامی م¶تمرِ اسلامی منعقد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے اس امید کو زندہ رکھا کہ حجاز کی آئندہ حکومت امتِ مسلمہ کی اجتماعی رائے کے مطابق تشکیل پائے گی۔
چنانچہ جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام (11 تا 14/مارچ 1926ئ) میں صدرِ اجلاس حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنے خطبہ¿ صدارت میں ایک عالم گیر م¶تمرِ اسلامی کی بھرپور تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس تصور کی ابتدائی دعوت غالباً 1906ئ میں کریمیا کے مسلمان مصلح غصیر نسکی نے مصر میں دی تھی، بعد میں ہندستانی مسلمانوں، جنیوا میں مسلم نوجوانوں اور جمعیت علمائے ہند و خلافت کمیٹی نے اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلطان ابن سعود اپنے وعدے کے مطابق آئندہ موسمِ حج میں م¶تمر منعقد کرتے ہیں تو یہ عالمِ اسلام کے اتحاد کی اہم پیش رفت ہوگی۔ البتہ انہوں نے ہندستان کے لیے فرقہ وارانہ نمائندگی کے بجائے متحدہ نمائندگی کو زیادہ مناسب قرار دیا۔
اسی اجلاس کی تجویز نمبر (8) میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومتِ حجاز خلافتِ راشدہ کے نمونے پر قائم ہو، اس میں ملوکیت، وراثت اور خاندانی اجارہ داری نہ ہو، غیر مسلم اثرات سے پاک ہو، اور حجاز کی آئندہ سیاسی ہیئت کا آخری فیصلہ عالمِ اسلام کے نمائندہ م¶تمر کے ذریعے کیا جائے۔ جمعیت نے اعلان کیا کہ وہ ایسے م¶تمر میں اپنے نمائندے بھیجنے کے لیے تیار ہے۔
بعد ازاں 28/مارچ 1926ئ کو سلطان عبدالعزیز نے 20/ذی القعدہ 1344ھ (یکم جون 1926ئ) کو مکہ مکرمہ میں م¶تمرِ اسلامی منعقد کرنے کی دعوت جمعیت علمائے ہند سمیت مختلف اسلامی ممالک اور جماعتوں کو ارسال کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے شرکت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ م¶تمر میں حکومتِ حجاز کی آئندہ تشکیل کا مسئلہ بنیادی طور پر زیرِ بحث آنا چاہیے تاکہ حجاز کو ہمیشہ کے لیے غیر مسلم مداخلت سے محفوظ رکھا جاسکے۔ سلطان نے اپنے جوابی تار میں جمعیت کی دینی غیرت اور حسنِ رائے کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ جب تک حکومت قرآن و سنت کے مطابق چلے گی، حرمین محفوظ رہیں گے، تاہم حکومتِ حجاز کی آئندہ آئینی تشکیل کے بارے میں کوئی واضح یقین دہانی نہ کرائی، جس پر سہ روزہ الجمعیۃ (6/اپریل 1926ئ) نے افسوس کا اظہار کیا۔
جمعیت علمائے ہند کی مرکزی مجلس کا اجلاس 20 و 21/اپریل 1926ئ کو منعقد ہوا، جس میں م¶تمرِ حجاز کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کو رئیسِ وفد، مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا مفتی نثار احمد کانپوریؒ کو ارکان منتخب کیا گیا، جبکہ ضرورت پڑنے پر مولانا محمد عرفانؒ یا مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کو سیکرٹری مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی کے وفود مشترکہ مشاورت کے ذریعے متحدہ لائحہ¿ عمل مرتب کریں۔
اسی روز 20/اپریل 1926ئ کو مرکزی خلافت کمیٹی کے اجلاس میں سید سلیمان ندوی، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی اور مسٹر شعیب قریشی کو وفد کے ارکان منتخب کیا گیا اور سید سلیمان ندویؒ کو امیرِ وفد بنایا گیا۔ اجلاس میں مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے۔
وفد کے اخراجات کے لیے 29/اپریل 1926ئ کو تقریباً پانچ ہزار روپے کی اپیل شائع کی گئی۔ بعد میں 2 تا 6/مئی 1926ئ کی رپورٹ کے مطابق سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون نے 200 روپے، ایم اے بھائی باوا نے 1500 روپے اور محمد عثمان صاحب نے 50 روپے عطیہ دیے۔ 8/مئی 1926ئ کو مجلسِ عاملہ نے مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی معذوری کے باعث ان کی جگہ مولانا احمد سعیدؒ ناظمِ جمعیت کو وفد میں شامل کیا، جنہوں نے بھی اپنے اخراجات خود برداشت کیے۔ اسی اجلاس میں ناکافی سرمایہ کے باعث وفد کی روانگی کے لیے ڈھائی ہزار روپے قرض لینے کی منظوری بھی دی گئی۔
صدر جمعیت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے اعلان کیا کہ وفد 9/مئی 1926ئ کو دہلی سے روانہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا نثار احمد پہلے ہی روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ مالی مشکلات کے باوجود سلطان ابن سعود کی دعوت اور جمعیت کی نمائندگی کے پیشِ نظر قرض لے کر وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
قاضی محمد عدیل عباسی کے مطابق، اگرچہ 10/جنوری 1926ئ کو ابن سعود کے ’’ملکِ نجد و حجاز‘‘ ہونے کے اعلان کی خبر پہنچی، تاہم انہوں نے مختلف اسلامی ممالک اور ہندستان کی تین جماعتوں—جمعیت علمائے ہند، جمعیت خلافت اور اہلِ حدیث—کو م¶تمر میں مدعو کیا۔ مئی 1926ئ میں دونوں وفود جدہ اور پھر مدینہ منورہ پہنچے۔ 27/مئی 1926ئ کو سلطان سے پہلی ملاقات ہوئی، جبکہ 30/مئی 1926ئ کو سید سلیمان ندویؒ، مفتی محمد کفایت اللہؒ، مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی نے جنت البقیع کے مقابر کی مسماری پر احتجاج کیا۔ سلطان نے جواب دیا کہ قبائل کے شدید دبا¶ اور داخلی فتنہ کے اندیشے کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہوگیا تھا۔ 31/مئی 1926ئ کو مجلس العلمائ کے اجلاس میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے آثارِ نبویہ کی حفاظت پر علمی گفتگو کی، لیکن اس پر کوئی م¶ثر بحث نہ ہوسکی۔ بالآخر م¶تمر بعض مفید تجاویز کے باوجود خلافت اور منتخب حکومتِ حجاز کے بنیادی مقاصد حاصل نہ کرسکا اور وفود جولائی 1926ئ میں واپس آگئے۔
بعد ازاں مجلسِ عاملہ کے 21 و 22/ستمبر 1926ئ کے اجلاس میں وفد کے مصارف کی منظوری دیتے ہوئے اس کی کفایت شعاری اور ایثار پر شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ 3 و 4/جولائی 1927ئ کے اجلاس میں وفد کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کی رپورٹ کی اشاعت کا اختیار صدرِ جمعیت کو دے دیا گیا۔ پھر جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام (2 تا 5/دسمبر 1927ئ) میں حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں اس بات کو جمعیت کی اہم خدمت قرار دیا کہ اس نے جزیرہ¿ عرب کو غیر مسلم تسلط سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل علمی اور عملی جدوجہد کی۔
بعد کے برسوں میں بھی جمعیت اور حکومتِ آل سعود کے تعلقات خوشگوار رہے۔ 22/مارچ 1935ئ کو یمن کے وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ سلطان عبدالعزیز اور ان کے صاحبزادے پر قاتلانہ حملہ یمن کے بعض زیدی عناصر نے کیا، مگر وہ محفوظ رہے۔ اس پر جمعیت علمائے ہند نے 24/مارچ 1935ئ کو تہنیتی اور دعائیہ تار بھیجا، جس کے جواب میں سلطان نے 28/مارچ 1935ئ کو مختصر الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مجلسِ عاملہ کی 3/فروری 1936ئ کی تجویز نمبر (5) میں تمام مسلمان حکومتوں، خصوصاً حکومتِ مصر، سے اپیل کی گئی کہ حرمین شریفین کے لیے وقف شدہ اوقاف کی آمدنی اہلِ حرمین اور بیت اللہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حجاز بھیجی جائے، تاکہ حرمین کے مذہبی اور معاشی مفادات کو تقویت حاصل ہو۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے عرب دنیا میں اپنے سیاسی و معاشی اثرات کو مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ انہی حالات میں 17/رمضان 1353ھ، مطابق 23/دسمبر 1934ئ کو جدہ میں حکومتِ سعودیہ کے وزیرِ مال اور لندن میں قائم ایک برطانوی معدنیاتی کمپنی کے نمائندے کے درمیان حجاز میں معدنیات کی تلاش اور کان کنی کا معاہدہ طے پایا، جس کی شاہ عبدالعزیز نے 8/ذی قعدہ 1353ھ، مطابق 4/فروری 1935ئ کو توثیق کی۔ اس معاہدے اور شاہی فرمان کا متن یکم اگست 1935ئ کو ہندستانی اخبارات، خصوصاً روزنامہ انقلاب لاہور میں شائع ہوا۔ اس کے تحت کمپنی کو حجاز کے وسیع علاقے میں معدنیات کی تلاش، کھدائی اور استخراج کے لیے طویل مدت تک خصوصی حقوق دیے گئے، البتہ مکہ مکرمہ کے حدودِ حرم اور مدینہ منورہ کے گرد تیس کلومیٹر کا علاقہ مستثنیٰ رکھا گیا۔
جمعیت علمائے ہند نے اس معاہدے کو حجاز کے تقدس اور جزیرہ¿ عرب میں غیر مسلم اثر و رسوخ کے لیے خطرناک قرار دیا۔ چنانچہ مجلسِ عاملہ نے 3/فروری 1936ئ کی تجویز نمبر (2) میں اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومتِ سعودیہ سے اپیل کی کہ وقتی مالی فوائد کے بجائے حجاز کے اسلامی تشخص اور آزادی کو ترجیح دی جائے۔
اسی سلسلے میں 27، 28، 29/مارچ 1936ئ کو جمعیت علمائے دہلی کے سالانہ اجلاس میں عقبہ اور معان میں برطانوی فوجی استحکامات کو عالمِ اسلام اور جزیرہ¿ عرب کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں 3/ستمبر 1937ئ کو آل انڈیا فلسطین کانفرنس کی مجلسِ عمل میں شیخ حسام الدین نے کہا کہ برطانیہ فلسطین کو یہودیوں کے سپرد کرنے کی سازش کر رہا ہے، جبکہ ابن سعود کی جانب سے حجاز کے معدنی علاقوں کا طویل مدت کے لیے ٹھیکہ دینا بھی عالمِ اسلام کے لیے ایک نئے خطرے کی بنیاد ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر 24/اگست 1938ئ کو حضرت مولانا احمد سعیدؒ نے مسلمانوں سے بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطین کی آزادی، جزیرہ¿ عرب کی آزادی سے وابستہ ہے۔ اس کے بعد جمعیت علمائے ہند کے گیارھویں اجلاسِ عام 3، 4، 5، 6/مارچ 1939ئ میں حکومتِ سعودیہ کی جانب سے مکہ مکرمہ کے مہاجرین پر عائد ٹیکس کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر مجلسِ مرکزیہ 27، 28، 29/مئی 1939ئ میں جمعیت کے دستور میں ترمیم کر کے "اسلام، مرکزِ اسلام (حجاز)، جزیرہ¿ عرب اور شعائرِ اسلام کی حفاظت" کو باقاعدہ اس کے بنیادی اغراض و مقاصد میں شامل کر دیا گیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران حجاز میں شدید قحط اور گرانی پیدا ہوئی، جس پر مجلسِ عاملہ نے 17، 18، 19/جولائی 1944ئ کو اظہارِ تشویش کرتے ہوئے غلہ اور ضروری اشیا حجاز بھیجنے کے لیے حضرت مولانا احمد سعیدؒ، مولانا بشیر احمدؒ اور حضرت مفتی محمد کفایت اللہؒ پر مشتمل کمیٹی مقرر کی۔
بعد ازاں 12/مارچ 1949ئ کو جمعیت کی مجلسِ عاملہ نے حرمین شریفین میں نماز کے لیے مائیکروفون کے استعمال کو بند کرنے کی درخواست شاہِ سعودیہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ پھر جمعیت کے سولھویں اجلاسِ عام 16، 17، 18/اپریل 1949ئ میں حکومتِ سعودیہ سے حجاج پر عائد ٹیکس اور جہاز راں کمپنیوں سے کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ حج عام مسلمانوں کے لیے آسان ہو سکے۔
آزاد ہندستان میں سعودی عرب سے تعلقات کے نئے دور کا آغاز 5/جنوری 1950ئ کو اس وقت ہوا جب جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی کے مرینا ہوٹل میں سعودی اقتصادی وفد کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس کے بعد 6/مارچ 1950ئ کو یہ اطلاع شائع ہوئی کہ سعودی حکومت نے حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ اور حضرت مولانا عبد الحق مدنیؒ کو شاہی خلعت سے نوازا، جب کہ یہ خلعت مولانا کرم علی ملیح آبادی، جو 14/فروری 1950ئ کو حجاز سے واپس آئے تھے، اپنے ساتھ لائے۔
حجاج کی سہولت کے لیے حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے 18/جولائی 1955ئ کو شاہ سعود کو تار بھیج کر شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی انتظامات اور بالخصوص حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے لیے سہولتوں کی درخواست کی، جس پر شاہ سعود نے فوری احکامات جاری کیے اور اس کا جواب 20/جولائی 1955ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔
شاہ سعود کے دورہ¿ ہند کے موقع پر 27/نومبر 1955ئ کو دہلی کے پالم ہوائی اڈے پر جمعیت علمائے ہند کے اکابر نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد 29/نومبر 1955ئ (13 ربیع الثانی 1375ھ) کو تال کٹورہ گارڈن، دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی جانب سے عظیم الشان استقبالیہ منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم جواہر لال نہرو، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ، متعدد وزرا، سفرا اور ممتاز شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر عربی اور اردو میں سپاس نامے پیش کیے گئے، شاہ سعود نے حرمین شریفین کی توسیع، مسجد نبویؐ کی تعمیر، سعودی عرب و ہند کی دوستی اور عالمِ اسلام کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ حضرت شیخ الاسلامؒ نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو ایشیا اور عالمِ اسلام کے لیے نیک شگون قرار دیا۔ اس تقریب کی تفصیلی روداد اور سپاس نامے یکم دسمبر 1955ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئے۔
سعودی عرب اور جمعیت علمائے ہند کے تعلقات (1956ئ تا 1969ئ)
27 تا 29 اکتوبر 1956ئ کو منعقد ہونے والے جمعیت علمائے ہند کے انیسویں اجلاسِ عام میں شرکت کے لیے سعودی عرب کی متعدد اہم شخصیات کو دعوت دی گئی۔ سعودی سفیر شیخ یوسف الفوزان اور سعودی وزارتِ تعلیم کے سیکریٹری عبدالعزیز بن عبداللہ نے مصروفیات کے باعث شرکت سے معذرت کرتے ہوئے جمعیت کی قومی و دینی خدمات کو سراہا اور اجلاس کی کامیابی کے لیے نیک تمنا¶ں کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس میں شاہ سعود کو حرمین شریفین کی توسیع پر خصوصی مبارک باد پیش کی گئی اور ان کی اس خدمت کو تاریخِ اسلام کا عظیم کارنامہ قرار دیتے ہوئے مزید توفیق کی دعا کی گئی۔
5 مارچ 1959ئ کو جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب میں متعین ہندوستان کے سفیر مصطفیٰ محمد کامل قدوائی کے اعزاز میں دہلی میں عصرانے کا اہتمام کیا۔ اس کے بعد 19 اپریل 1959ئ کو مولانا سعید رمضان کی دعوت پر حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ہونے والے م¶تمر اسلامی عام میں شرکت کے لیے جمعیت نے مولانا سید فخر الحسن اور مولانا سید محمد اسعد کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔
23 نومبر 1961ئ کو شاہ سعود کی علالت پر جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمن نے ان کی صحت یابی کے لیے برقی پیغام بھیجا۔ 27 نومبر 1961ئ کو شاہ سعود نے بوسٹن (امریکہ) سے جوابی پیغام بھیج کر جمعیت اور اس کی تمام شاخوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنی صحت میں بہتری کی اطلاع دی۔ اس کے بعد 30 نومبر 1961ئ کو جمعیت نے تمام مسلمانوں سے شاہ سعود کی صحت کے لیے دعا کی اپیل جاری کی۔
8 تا 10 جون 1963ئ کو منعقد ہونے والے بیسویں اجلاسِ عام کے لیے شاہ سعود، شہزادہ فیصل اور سعودی سفیر یوسف الفوزان نے اپنے تہنیتی پیغامات بھیجے اور اجلاس کی کامیابی کی دعا کی۔
19 فروری 1965ئ کو جمعیت علمائے ہند نے دہلی میں عرب ممالک کے مندوبین کے اعزاز میں استقبالیہ منعقد کیا، جس میں شام، فلسطین، اردن، الجزائر، تیونس، لبنان، مصر، سوڈان اور دیگر عرب ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شامی وفد کے قائد عبدالمعین الملوحی نے اتحادِ امت، فلسطین کی آزادی اور عرب و ہند کے تعلقات پر زور دیا، جبکہ جمعیت نے اپنے سپاس نامے میں عرب دنیا سے دینی، تہذیبی اور تاریخی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بیان کی۔
اسی سلسلے میں 26 فروری 1965ئ کو عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عبدالخالق حسونہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ انہوں نے عرب دنیا کی آزادی، فلسطین کے مسئلے اور مسلمانوں کے اتحاد پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ جمعیت کے سپاس نامے میں عرب لیگ کی خدمات، فلسطین و الجزائر کی حمایت اور عربی مدارس و علمی تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔
3 جون 1965ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے فوجی اتاشی کرنل عبدالستار کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد کی گئی، جس میں باہمی محبت اور دینی تعلقات کا اظہار کیا گیا۔ بعد ازاں 21 اگست 1965ئ کو لیگ آف عرب اسٹیٹس نے جمعیت کے تہنیتی پیغام کے جواب میں دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔
15 تا 17 اپریل 1966ئ کے بائیسویں اجلاسِ عام کے موقع پر شاہ فیصل نے مسلمانوں کے اتحاد، باہمی تعاون اور اصلاحِ احوال کے لیے دعا کا پیغام بھیجا اور اپنی نمائندگی کے لیے ہندوستان میں سعودی سفیر محمد الحماد الشبیلی کو نامزد کیا۔ سعودی سفیر نے بھی اجلاس کی کامیابی کی خواہش ظاہر کی، جبکہ عبدالخالق حسونہ اور عرب لیگ کے نمائندہ کلوویس مقصود نے جمعیت کی اسلامی، انسانی اور فلسطینی کاز کی خدمات کو سراہا۔
عرب و اسرائیل کشیدگی کے دوران 25 مئی 1967ئ کو مولانا اسعد مدنی نے مسلمانانِ ہند سے عرب ممالک کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا¶ں کی اپیل کرتے ہوئے خلیجِ عقبہ پر عرب ممالک کے حق کی حمایت کی، جس کی تفصیل 27 مئی 1967ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔ پھر 28 مئی 1967ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام اجلاس میں عرب لیگ کے قائم مقام نمائندہ محمد عبدالعزیز الرجبی نے خلیجِ عقبہ پر سعودی عرب اور متحدہ عرب جمہوریہ کے حقِ اقتدار کی وضاحت کی، جبکہ سعودی سفارت خانے کے شیخ حسین نے اعلان کیا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی فوجی مدد کرے گا تو سعودی عرب تیل کی فراہمی بند کر سکتا ہے۔ ان بیانات کی تفصیل 30 مئی 1967ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔
28 اگست 1968ئ کو عرب جمہوریہ کے سبکدوش سفیر عیسیٰ سراج الدین کے اعزاز میں جمعیت علمائے ہند نے وداعی تقریب منعقد کی، جس میں ہند و عرب تعلقات، فلسطین کی حمایت اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔ اس تقریب کی رپورٹ 30 اگست 1968ئ کو شائع ہوئی۔
آخر میں 22 و 23 اگست 1969ئ کو منعقدہ مجلسِ عاملہ نے سعودی سفارت خانے کے ممتاز افسر شیخ حسین اتاشی کے اندوہناک قتل پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا، اسے ہندوستان اور سعودی عرب دونوں کے لیے بڑا سانحہ قرار دیا، حکومتِ ہند سے مکمل تحقیقات اور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا، اور سعودی حکومت، سفارت خانے اور مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔
1969ئ تا 1975ئ: سعودی عرب، فلسطین اور عرب کاز کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیاں
22 و 23 اگست 1969ئ کو منعقدہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے حجاز ریلوے کے متعلق اسرائیل اور سامراجی طاقتوں کی ہر قسم کی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ حجاز ریلوے وقفِ اسلامی ہے، اس لیے اس پر پوری امت مسلمہ کا حق ہے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مقبوضہ علاقے سے دست بردار ہو تاکہ حجاز ریلوے کی تکمیل ممکن ہو سکے۔
اسی پس منظر میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر جمعیت کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید اسعد مدنی کے اظہارِ ہمدردی کے جواب میں 26 ستمبر 1969ئ کو شاہ فیصل نے خط ارسال کیا، جس میں ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مقدسات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ خط 29 ستمبر 1969ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔
23 نومبر 1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں عرب ممالک کے سفیروں اور عرب لیگ کے نمائندوں کے اعزاز میں افطار کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد عرب سفرا، حکومتِ ہند کے وزیر فخر الدین علی احمد اور مسلم ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔
21 اگست 1970ئ کو جامع مسجد دہلی میں یومِ مسجد اقصیٰ کے موقع پر جمعیت کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ¿ عام منعقد ہوا، جس میں اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کی مذمت کرتے ہوئے عرب کاز کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ سعودی عرب کے ناظم الامور سید یوسف محمد مطبقاتی اور عرب جمہوریہ کے سفیر نے بھی اس موقف کی تائید کی، جبکہ جمعیت کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں میں بھی احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے۔
5، 6 اور 7 مئی 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کے تیئسویں اجلاس عام میں سعودی سفیر شیخ انس یوسف یاسین نے ہندوستانی مسلمانوں اور حکومتِ ہند کی عربوں سے ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عربوں اور ہندوستانیوں کے تعلقات تاریخی ہیں اور اسرائیل کے 1967ئ کے قبضے کے خلاف ہندوستان کی آواز ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
یکم ستمبر 1973ئ کو سعودی عرب کے دینی و ثقافتی وفد کا دفتر جمعیت میں استقبال کیا گیا، جہاں جمعیت کی دینی و ملی خدمات کا تعارف کرایا گیا اور وفد نے ان خدمات کو سراہا۔
3 نومبر 1973ئ کو ہندستان کو تیل کی فراہمی میں ممکنہ کمی کی خبروں کے بعد مولانا سید اسعد مدنی نے شاہ فیصل کو برقیہ بھیج کر ہندوستان کو عرب دوست ممالک میں شامل رکھنے کی اپیل کی۔ اس سلسلے میں سعودی ناظم الامور سے ملاقات اور یادداشت بھی پیش کی گئی۔ بعد ازاں 9 نومبر 1973ئ کو شاہ فیصل کی جانب سے ہندستان کو تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے فیصلے پر مولانا اسعد مدنی نے شکریہ کا برقیہ بھیجا، جس کی خبر 11 نومبر 1973ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔
6 تا 25 اکتوبر 1973ئ کی جنگِ اکتوبر (جنگِ کپور) کے بعد 24 نومبر 1973ئ کو مجلس منتظمہ نے قرارداد منظور کر کے عرب ممالک کی تیل پالیسی کو سراہا اور مشورہ دیا کہ مقبوضہ عرب علاقوں کی آزادی اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی تک تیل کو سیاسی و اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ساتھ ہی شاہ فیصل کا شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے ہندوستان کو تیل کی سپلائی میں کسی کمی سے مستثنیٰ رکھا۔
25 مارچ 1975ئ کو شاہ فیصل ریاض میں قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ بعد ازاں 18 جون 1975ئ کو قاتل کو سرِعام سزائے موت دی گئی۔ شاہ فیصل کی وفات پر مولانا سید احمد ہاشمی نے 27 مارچ 1975ئ کو شائع ہونے والی اپیل کے ذریعے ملک بھر میں تعزیتی اجتماعات اور یومِ وفات منانے کی درخواست کی۔
29 مارچ 1975ئ کو جامع مسجد دہلی کے اردو پارک میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان تعزیتی جلسہ منعقد ہوا، جس میں مختلف مذہبی، سیاسی رہنما¶ں، عرب لیگ، سعودی، مصری اور دیگر عرب سفارت خانوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے شاہ فیصل کی دینی، سیاسی اور ملی خدمات، عرب اتحاد، فلسطین کی حمایت، اسلامی بیداری اور عرب و ہند تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ایک جامع تعزیتی قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں شاہ فیصل کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے جانشینوں کے لیے دعا کی گئی۔ اس جلسے کی تفصیلات 31 مارچ، 2 اپریل اور 5 اپریل 1975ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئیں۔
بعد ازاں 9 اور 10 اپریل 1975ئ کو مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران جمعیت کے اراکین نے سعودی سفارت خانہ جا کر سفیرِ سعودی عرب سے ملاقات کی اور شاہ فیصل کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔
آخر میں 13 اگست 1975ئ کو سعودی عرب کے سفر کے دوران مولانا سید اسعد مدنی نے حکومتِ سعودی عرب سے ہندوستانی حجاج کے مسائل پر گفتگو کی، جس کے نتیجے میں حج کے بعد چالیس روز کی قیام کی پابندی اور اس کے بعد روزانہ تیس ریال فیس کی شرط ختم کر دی گئی۔ اس کی خبر 14 اگست 1975ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔
1979ئ میں جمعیت علمائے ہند نے ہندوستانی حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کرانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کیں۔ 12/فروری 1979ئ کو سعودی وزیرِ حج عبد اللہ بوقس کو، جو شاہ خالد کے نمائندہ کی حیثیت سے ہندوستان آئے ہوئے تھے، ایک میمورنڈم پیش کیا گیا، جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہندوستانی رباطوں کی بحالی، مرمت اور بہتر انتظام کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیرِ حج نے یہ یقین دہانی کرائی کہ یہ میمورنڈم شاہ خالد کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد 16، 17 اور 18/فروری 1979ئ کو منعقدہ کل ہند اوقاف کانفرنس نے بھی سعودی عرب میں ہندوستانیوں کے وقف کردہ رباطوں اور اوقاف کی اصل حیثیت بحال کرنے، ناجائز قابضین کی تحقیقات، حج کے ایام میں ہندوستانی زائرین کے لیے ان کے استعمال اور حرمین کی توسیع کے سبب حاصل ہونے والے معاوضے سے جدید رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
20ßنومبر 1979ئ (مطابق 1/محرم 1400ھ) کو مسجد الحرام پر جہیمان العتیبی کے مسلح گروہ کے قبضے کے واقعہ نے پوری دنیا کو ہلا دیا۔ اس کے اگلے روز 21/نومبر 1979ئ کو جمعیت علمائے ہند نے اس سانحہ کو حرم کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی حکومت کی کارروائی کو سراہا۔ یہ بیان 22/نومبر 1979ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔ بعد ازاں 28 اور 29/جنوری 1980ئ کو مجلس عاملہ نے باقاعدہ قرارداد منظور کر کے حملہ آوروں کی مذمت اور شاہ خالد، وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز اور سعودی حکومت کو حرم کے تحفظ پر مبارک باد پیش کی۔
11ßاگست 1981ئ کو جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر، مسجد عبدالنبی (آئی ٹی او، دہلی) میں سعودی سفیر شیخ صالح الصقیر کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ مولانا سید اسعد مدنی نے ہندوستان اور سعودی عرب کے مضبوط ہوتے تعلقات میں ان کی خدمات کو سراہا، جبکہ سفیر نے جمعیت، ہندوستانی مسلمانوں اور دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ پر اظہارِ تشکر کیا۔
8 اور 9/مئی 1983ئ کو مجلس عاملہ نے حجاج کے داخلے سے متعلق سعودی حکومت کی نئی پابندیوں پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ رابطہ¿ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل محمد علی خرکان کو اس سلسلے میں خط لکھا جائے۔
31ßجولائی 1987ئ (مطابق 6/ذی الحجہ 1407ھ) کو ایرانی حجاج کے پرتشدد مظاہرے اور سانحہ¿ حرم میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔ اس پر 2/اگست 1987ئ کو ناظم عمومی مولانا محمد اسرار الحق قاسمی نے ایران کی پالیسی کو حرمین کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ 9/اگست 1987ئ کو حج پر موجود صدر جمعیت مولانا سید اسعد مدنی نے ٹیلی فون پر اپنے بیان میں واقعہ کی ذمہ داری ایرانی حکومت پر عائد کی۔ پھر 12/اگست 1987ئ کو جمعیت نے 21/اگست 1987ئ کو ’’یومِ حرم‘‘ منانے کی اپیل جاری کی، جس پر ملک بھر میں احتجاجی اجتماعات اور قراردادیں منظور کی گئیں۔ بعد ازاں 3/ستمبر 1987ئ کو جمعیت کے وفد نے سعودی سفیر فواد صادق مفتی سے ملاقات کر کے اپنا موقف پیش کیا۔
3 اور 4/اکتوبر 1987ئ کو مجلس عاملہ نے سانحہ¿ حرم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ’’تحفظِ حرم کانفرنس‘‘ کے انعقاد کی توثیق کی۔ پھر 6/نومبر 1987ئ کو کانفرنس کی قرارداد تیار کرنے کے لیے سہ رکنی کمیٹی قائم کی گئی اور سعودی فرمانروا شاہ فہد کو قرارداد پیش کرنے کے لیے وفد بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ 7/نومبر 1987ئ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مولانا اسعد مدنی نے تحفظِ حرم کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور سانحہ¿ حرم کے بارے میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔
اس کے بعد 8/نومبر 1987ئ (مطابق 16/ربیع الاول 1408ھ) کو نئی دہلی کے سپرو ہا¶س میں عظیم الشان ’’تحفظِ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا سید اسعد مدنی نے کی اور افتتاح امامِ حرم شیخ عبداللہ السبیل نے کیا۔ کانفرنس میں حرمین کے تقدس، سعودی حکومت کی خدمات اور ایرانی ہنگامہ آرائی کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، سعودی حکومت کی حمایت کی گئی، ایرانی حکومت کی مذمت کی گئی اور اسلامی ممالک سے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی اپیل کی گئی۔
بعد ازاں 11/دسمبر 1987ئ کو بمبئی، 16/دسمبر 1987ئ کو لکھنؤ، 27/دسمبر 1987ئ کو بسن پور (پورنیہ)، 21/فروری 1988ئ کو جون پور اور 25/فروری 1988ئ کو بستی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں تحفظِ حرم کانفرنسیں منعقد ہوئیں، جن سے مولانا سید اسعد مدنی نے خطاب کیا اور حرمین کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
آخر میں 9 اور 10/اپریل 1988ئ کو مجلس منتظمہ نے تحفظِ حرم کے سلسلے میں ایک جامع قرارداد منظور کی، جس میں سعودی حکومت کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایرانی ہنگامہ آرائی کی شدید مذمت کی گئی، ایران سے سفارتی و اقتصادی تعلقات ختم کرنے، حرمین کے امن کے تحفظ کے لیے م¶ثر اقدامات کرنے اور حجاج کی سلامتی کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی۔
1988ئ سے 2018ئ تک جمعیت علمائے ہند اور سعودی عرب کے تعلقات میں حرمین شریفین کے تحفظ، حج کے انتظامات، فلسطین، عالم اسلام اور سعودی پالیسیوں کے مختلف پہلو نمایاں رہے۔ 11 اپریل 1988ئ کو جمعیت علمائے ہند کا وفد سعودی عرب روانہ ہوا اور 22 اپریل 1988ئ کو واپس آیا۔ اس دوران وفد نے عمرہ ادا کیا، سعودی حکام اور 3 رمضان 1408ھ کو شاہ فہد سے ملاقات کی، جنہوں نے حرمین شریفین کے تحفظ کے سلسلے میں جمعیت کی خدمات کو سراہا۔ بعد ازاں 2 جولائی 1988ئ کو لندن میں منعقدہ تحفظِ حرم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے 1987ئ کے سانحہ¿ حرم اور ایرانی حجاج کی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا۔
11،12 فروری 1989ئ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں سعودی نمائندہ شیخ عبدالعزیز عمار نے جمعیت کے کردار کو سراہا، مولانا سید ارشد مدنی نے حرمین شریفین کی عظمت پر خطاب کیا، اور تقدسِ حرمین کے تحفظ، سعودی حکومت کے حج انتظامات اور حرمین کی توسیع کی تحسین میں قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے بعد 11 جولائی 1989ئ کو حج کے دوران بم دھماکوں کے واقعہ کی جمعیت نے شدید مذمت کی اور اسے اسلام دشمن سازش قرار دیا۔
3 جون 1990ئ کی مجلس منتظمہ نے حج کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے سعودی حکومت کی پالیسی، حرمین شریفین کی توسیع اور 1987ئ کے ایرانی مظاہروں کے تناظر میں کیے گئے اقدامات کی حمایت کی۔ 26 مارچ 1992ئ کو شاہ فہد اور ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے حضرت مولانا سید اسعد مدنی کو رمضان المبارک کی مبارک باد کے خصوصی پیغامات بھیجے۔
23 مئی 1994ئ کو منیٰ میں رمی جمرات کے دوران پیش آنے والے جان لیوا حادثہ پر 11،12 جون 1994ئ کی مجلس عاملہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے سعودی حکومت کے انتظامات کی تحسین کی اور حج کے انتظامات کسی بین الاقوامی ادارے کے سپرد کرنے کے مطالبات کو مسترد کیا۔ 26 مئی 1995ئ کو جمعیت نے ایران کی جانب سے حج کے دوران سیاسی مظاہروں کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے سعودی حفاظتی اقدامات کی تائید کی۔ 29 اکتوبر 1995ئ کو جمعیت کے پچیسویں اجلاس عام کے لیے امام حرم محمد بن عبداللہ السبیل نے تہنیتی پیغام بھیجا۔
12 نومبر 1996ئ کو چرخی دادری کے فضائی حادثہ پر جمعیت نے تعزیت کا اظہار کیا، شاہ فہد اور سعودی سفیر کو تعزیتی پیغامات بھیجے اور ایک وفد کو جائے حادثہ روانہ کیا۔ 15 اپریل 1997ئ کو منیٰ کے خیموں میں آتش زدگی کے المناک حادثہ کے بعد 17 مئی 1997ئ کی مجلس عاملہ نے شہدائ کے لیے دعائے مغفرت کی، سعودی حکومت کی امدادی کارروائیوں کو سراہا اور حکومت ہند کے اقدامات کی بھی تحسین کی۔
7 مارچ 1999ئ کی مجلس عاملہ میں سعودی حکومت کی نئی حج پالیسی، خصوصاً ویکسینیشن کی شرط، پر غور کیا گیا اور احتجاج کے مختلف طریقوں پر تبادلہ¿ خیال ہوا۔ 29،30 جولائی 1999ئ کو سعودی عرب کے ممتاز عالم شیخ عبدالعزیز بن بازؒ کے انتقال پر تعزیتی قرارداد منظور کی گئی۔
2 جولائی 2000ئ کو اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کانفرنس میں سعودی سفیر عبدالرحمن الناصر العویلی نے سعودی عرب کو عالم اسلام کا قلب قرار دیتے ہوئے جمعیت کی تعلیمی خدمات کی تعریف کی۔ اسی سال 23 اکتوبر 2000ئ کے احتجاجی مظاہرہ میں اسرائیل کے خلاف سعودی عرب کے موقف اور فلسطینیوں کی حمایت کی تائید کی گئی۔
2،3 مئی 2001ئ کی تحفظ سنت کانفرنس میں اگرچہ حرمین شریفین کی خدمت، حج انتظامات اور سعودی خدمات کو سراہا گیا، لیکن الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ اور بعض سرکاری مطبوعات کے ذریعے مسلک دیوبند اور ائمہ اربعہ کے خلاف لٹریچر کی اشاعت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سعودی عرب سے اصلاح کا مطالبہ کیا گیا۔
12 جنوری 2006ئ کے منیٰ حادثہ پر جمعیت نے 13 جنوری 2006ئ کو افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حجاج کی بے احتیاطی کو بھی ایک سبب قرار دیا۔ اسی طرح یکم فروری 2006ئ کی مجلس عاملہ نے 30 ستمبر 2005ئ کو ڈنمارک کے اخبار میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے سفارتی احتجاج اور بائیکاٹ کی تحسین کی۔
8 فروری 2007ئ کو سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی کوشش سے مکہ معاہدہ طے پایا، جس کی 14 فروری 2007ئ کی مجلس عاملہ نے تحسین کی اور فلسطینی اتحاد کی حمایت کی۔ 6 نومبر 2012ئ کو میانمار کے مسلمانوں کے مسئلہ پر جمعیت نے سعودی عرب سمیت مختلف مسلم ممالک کے سربراہوں کو خطوط روانہ کیے۔
14 اگست 2013ئ کے رباعہ قتل عام کے بعد سعودی حکومت کی مصری فوج کی حمایت پر جمعیت نے 25،26 مئی 2014ئ کی مجلس منتظمہ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکومت سے اپنی پالیسی پر نظرثانی اور اخوان المسلمون کے معاملہ میں مفاہمت کی اپیل کی، اگرچہ حرمین شریفین کی خدمت اور حج انتظامات کو قابل تحسین بھی قرار دیا۔
12 نومبر 2016ئ کو اجمیر میں جمعیت کے تینتیسویں اجلاس عام کے عالمی نعتیہ مشاعرہ میں سعودی عرب کے معروف شاعر محمد بن عمر سالم العید روس نے شرکت کی اور اتحادِ امت، محبت، امن اور وطن سے وفاداری پر مبنی عربی و اردو کلام پیش کیا۔
آخر میں 30 جون 2018ئ کی مجلس عاملہ میں سعودی عرب میں جاری جدید اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جبکہ 22 اکتوبر 2018ئ کی مجلس عاملہ نے سعودی حکومت کے مبینہ غیر شرعی اقدامات کا معتبر ذرائع سے جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ اور تجویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔