9 May 2026

قضیۂ فلسطین اور جمعیت علمائے ہند

قضیۂ فلسطین اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی 

جنگ عظیم اول (28؍ جولائی 1914ء- 11؍ نومبر1918ء) میں برطانیہ نے تین الگ الگ لوگوں سے تین الگ الگ وعدے کیے:

۱۔ مسلمانان عالم سے تعاون و حمایت حاصل کرنے کے لیے خلافت عثمانیہ اسلامیہ کے تحفظ کا وعدہ کیا۔

۲۔ یہودیوں سے وعدہ کیا کہ انھیں فلسطین میں اسرائیل کے نام سے ایک مستقل وطن دے دیںگے۔ 

۳۔ اور ہندستانیوں سے وعدہ کیا کہ انھیں سوراج ، یعنی غلامی سے آزاد کردیںگے۔  

قاضی عدیل عباسی صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’ایک طرف حکومت برطانیہ کے ذمہ داروں نے مسلمانان عالم سے خلافت مرکزی اسلامیہ اور اماکن مقدسہ کے قیام کا وعدہ کر رکھا تھا۔ دوسری جانب صہیونی جماعت سے ان کو فلسطین میں وطن دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ان دو متضاد و عدوں کا نبھانا آسان نہ تھا، اس لیے ایک رائل کمیشن مقرر کیا گیا۔ رائل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ان دونوں کا تذکرہ کر کے لکھا کہ ہم نے دو متضاد وعدے کیے اور ہم کو ایک وعدے سے منحرف ہونے اور وعدہ خلافی کے مجرم بننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ دوسری طرف اس نے لڑائی میں شرکت کے بدلے کانگریس سے ہندستان کو اصلاحات دینے کا وعدہ کر لیا تھا، جس کی ایک اعلیٰ طاقتی کمیٹی لندن میں جانچ کر رہی تھی۔ ہندستان کو ذمہ دار حکومت دینے کا وعدہ مسٹر مانٹیگو نے بذریعہ اعلان شاہی مؤرخہ 18؍ اگست 1917ء کو کیا تھا اور چند ماہ بعد خود ہندستان آکر وائسرائے کے ساتھ تمام ہندستان کا دورہ کیا تھا، تاکہ پبلک کے خیالات معلوم ہوں۔ معتدلین انگلستان و فد لے کر گئے اور اپنے نقطۂ نگاہ کو پیش کر رہے تھے۔‘‘

 (تحریک خلافت، قاضی محمد عدیل عباسی، ص؍74-77)

پھر واقعہ یہ ہوا کہ برطانیہ نے یہودیوں کے ساتھ وعدہ وفا کرتے ہوئے وطن الیہود کے تصور کو آگے بڑھایا اور عالم اسلام کو دھوکا دیتے ہوئے خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے مل بانٹ لیا۔ چنانچہ 30؍ اکتوبر 1918ء کو رؤف بے وزیر بحریہ اور برطانوی امیر البحر کالتھراپ کے دستخطوں سے ہوئی عارضی صلح کے بعد،اس فیصلے کی تصدیق و تائید کے لیے 10؍ اگست 1920ء کو ترکی اور دول متحدہ کے درمیان ’’معاہدۂ سیورے‘‘ ہوا،جس کی رو سے:

’’ ترکی کے علاقوں پر اس طرح قبضہ طے کیا گیا کہ عراق، فلسطین اور شرق اردن برطانیہ کی عمل داری میں چلے گئے۔‘‘ (تاریخ اقوام عالم: مرتضی احمد خان لاہور، 1963ء۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص؍78)

 اور ادھر ہندستانیوں کے ساتھ بھی غداری کرتے ہوئے سوراج دینے کے بجائے 18؍ جنوری1919ء کو ر رولٹ ایکٹ شائع کرکے ان کی غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑ دیا۔

قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’عارضی صلح کی شرائط سے ہندستان کے مسلمانوں کو بڑی مایوسی ہوئی۔ اب ان کو اندازہ ہوا کہ مستقل صلح جب ہوگی،تو نہ ترکی باقی رہے گا نہ خلیفۃ المسلمین، نہ اماکن مقدسہ نہ فلسطین، نہ بیت المقدس ؛بدحواسی اور بے چارگی میں مسلمانوں نے جلسے اور تجاویز کا انبار لگا دیا۔‘‘

 (تحریک خلافت، قاضی محمد عدیل عباسی، ص؍77)

چنانچہ اس بے چینی نے تحریک خلافت کو جنم دیا، جو بعد میں آزادی کی تحریک میں معاون بن گئی۔

مشرق وسطیٰ میں مغربی مفادات کے تحفظ کی گہری سازش

مولانا انیس الحسن صاحب بی اے نے متحدہ عرب جمہوریہ کے سفر سے واپسی پر’’عرب قومیت‘‘ کے عنوان سے بائیس قسطوں میں اپنے مشاہدات و تأثرات الجمعیۃ میں پیش کیے۔ اسی  تناظر میں’’سرزمین ظلم و جفا: ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ: 

’’ٹھیک اسی نوعیت کی ایک سیاسی تدبیر ہے، جو مشرق وسطی میں مغربی مفادات کو تادیر محفوظ رکھنے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر آہستہ آہستہ بروئے کارلائی گئی ہے اور جسے ’’اسرائیل‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔

اس سازش کا ظاہری اور نمائشی پہلو تو یہ ہے کہ یہو دی دنیا کی ایک مستقل قوم ہیں۔ پانچ چھے لاکھ کی تعداد رکھتے ہیں۔ صدیوں سے ان کا کوئی ہوم لینڈ، یا ٹھکانہ نہیں۔ بچارے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ پھر ہٹلر نے تو ان پر مظالم کی حد ہی کردی۔ یہ غریب بھی انسان ہیں، ان کا وطن فلسطین ہے۔ ان کو فلسطین کی کچھ زمین ملنی چاہیے کہ اپنا گھر بسا کر رہ سکیں۔ سارے جہاں کا درد برطانیہ ہی کو ہے اور یہودیوں پر بھی آخر کار برطانیہ ہی کو رحم آیا اور اس کی کوششوںسے یہودیوں کو سرزمین فلسطین پر اپنا گھر بنانے کا موقع ملااور اسرائیل کی نام نہاد حکومت بن سکی۔

لیکن اس نمائش اورفریب واشتہار سے الگ جب آپ حقیقت پر نظر ڈالیںگے، تو وہ بہت بھیانک اور خود غرضی کی ایک ننگی تصویر ہے۔ یورپ سے آپ مشرق کی طرف چلیں، تو سب سے پہلے ان عرب ممالک سے آپ کو گزرنا ہوگا، جو مشرق وسطی کہلاتے ہیں۔ گویا یہ مشرق کا دروازہ ہے اور مشرق کے بعید ترین گوشوں تک اپنا سیاسی اقتدار اور سلسلۂ نفع اندوزی قائم رکھنے کے لیے یورپ کی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ عرب ممالک پر پنجہ جما رہے۔

اس مصلحت سے یورپ کی حکومتوں نے اپنے دور تسلط میں عرب ملکوں کے زیادہ سے زیادہ ٹکڑے کیے۔ ان کی طاقت کو منتشر کیا۔ ان میں باہم کشمکش اور اختلاف کے مسلسل انجکشن لگائے۔ پھر جب زمانہ کے حالات قابو سے باہر نظر آنے لگے اور یہ امید ٹوٹ گئی کہ یہ تمام ممالک اپنے پنجۂ غلامی میں رہ سکیںگے، تو فکر ہوئی کہ کسی نہ کی شکل میں یہاں اپنا ایک مرکز تو قائم ہی کر دیا جائے، اس لیے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے علاقہ سے ایک بار یورپ کی طاقتیں بالکل واپس ہوگئیں، تو پھر کبھی انھیں مشرق کی طرف واپس ہونے کا موقع نہ ملے گا۔

چنانچہ اس منصوبہ کو بروئے کار لانے کے لیے یہودیوں کو اکسایا گیا اور دنیا میں شور مچا کر ان کے مسئلہ کو ابھارا گیا۔ کم و بیش ایک چوتھائی صدی میں یہ منصوبہ مختلف مرحلوں سے گذر کر آخر اپنی منزل تک پہنچ گیا۔ اور بقول کرنل عبدالحمید سراج عربوں کے سینہ میں مغربی مفادات و تحفظات کا یہ خنجر بھونک دیا گیا، جس کا نمائشی نام ’’اسرائیل‘‘ ہے۔ 

(روزنامہ الجمعیۃ،16؍مئی 1958ء، ص؍2)

قضیۂ فلسطین کا آغاز: اعلان بالفور

چنانچہ اس کا آغاز پہلی عالمی جنگ کے دوران اس خط سے ہوا، جسے برطانوی خارجہ سکریٹری آرتھر جیمز بالفور نے 2 ؍نومبر 1917ء کو برطانوی یہودی رہنما لارڈ والٹر روتھس چائلڈ کو لکھا تھا۔ یہ خط بالفور ڈیکلریشن (Balfour Declaration) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں برطانوی حکومت نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک ’’قومی گھر‘‘ (national home) قائم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا۔

یہ اعلان 31؍ اکتوبر 1917ء کو برطانوی وار کیبنٹ نے منظور کیا تھا اور 2؍ نومبر 1917ء کو خط کی شکل میں جاری ہوا، جو 9؍ نومبر 1917 ء کو اخبارات میں شائع ہوا۔

خط کا اصل متن درج ذیل ہے:

Foreign Office

November 2nd, 1917

Dear Lord Rothschild,

I have much pleasure in conveying to you, on behalf of His Majesty's Government, the following declaration of sympathy with Jewish Zionist aspirations which has been submitted to, and approved by, the Cabinet.

''His Majesty's Government view with favour the establishment in Palestine of a national home for the Jewish people, and will use their best endeavours to facilitate the achievement of this object, it being clearly understood that nothing shall be done which may prejudice the civil and religious rights of existing non-Jewish communities in Palestine, or the rights and political status enjoyed by Jews in any other country.''

I should be grateful if you would bring this declaration to the knowledge of the Zionist Federation.

Yours sincerely,

Arthur James Balfour

 ترجمہ

فارن آفس۔ 2 ؍نومبر 1917ء۔

پیارے لارڈ روتھسچائلڈ!

میں آپ کو تاج دار برطانیہ کی حکومت کی طرف سے یہودی زنونسٹ امنگوں کے ساتھ ہمدردی کے اس اعلان کی اطلاع دیتے ہوئے بڑی خوشی محسوس کر رہا ہوں، جو کیبنٹ کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور اس کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔

تاج دار برطانیہ کی حکومت فلسطین میں یہودی قوم کے لیے ایک قومی گھر کے قیام کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس مقصد کے حصول میں اپنی بہترین کوششیں کرے گی، اس بات کو واضح طور پر سمجھ لیا جائے کہ ایسا کچھ نہیں کیا جائے گا، جس سے فلسطین میں موجود غیر یہودی برادریوں کے شہری اور مذہبی حقوق پر کوئی اثر پڑے، یا کسی دوسرے ملک میں یہودیوں کے جو حقوق اور سیاسی حیثیت ہیں ان پر کوئی اثر نہ پڑے۔

اگر آپ اس اعلان کو زنونسٹ فیڈریشن کے علم میں لا دیں، تو میں آپ کا شکرگزار ہوں گا۔

آپ کا مخلص:آرتھر جیمز بالفور۔ 

(https://www.un.org/unispal/document/auto-insert-193242/)

10؍ اگست1920 ء کو ہونے والے معاہدۂ سیورے (Treaty of Sevray) کی دفعات کا تذکرہ کرتے ہوئے دفعہ نمبر(۹) میںقاضی عدیل صاحب لکھتے ہیں کہ: 

’’2؍ نومبر1917ء کو یہودیوں کی انجمن سے فلسطین میں وطن دینے کا جو وعدہ انگریزوں نے کیا تھا، اس کے مطابق طے ہوا کہ یہودیوں کو فلسطین میں وطن دیا جائے۔ (مسلمانوں سے جو وعدہ کیا گیا تھا، اسے قطعی فراموش کر دیا گیا۔)‘‘ (تحریک خلافت، ص؍152)

اور اس طرح تاریخ میں قضیۂ فلسطین کا آغاز ہوا۔

فلسطین کے متعلق امام الہند کی رائے عالی

 امام الہندحضرت مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ جمعیت علمائے ہند کے تیسرے اجلاس عام منعقدہ : 18،19،20؍نومبر1921 ء کے تقریری خطبۂ صدارت میں فلسطین کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ:

’’دوسری اہم چیز ہمارے سامنے فلسطین کی وہ سرزمین ہے، جس کی تحریم ہمارے لیے ویسی ہی ضروری ہے، جب تک کہ اس کا ایک چپہ بھی غیر مسلم اثر میں باقی ہے، اس وقت تک محال ہے کہ ہمارے واسطے کسی صلح، یا مفاہمت کا دروازہ کھل سکے۔ میں اس وقت اُن دفعات کی تشریح نہ کروںگا، جو خلیفۃ المسلمین پر بصورت شرائط عائد کیے گئے، یا خلافت کے اُن حقوق پر، جس وقت تک ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی باقی ہے، اس وقت تک مسلمانان ہند کے لیے محال قطعی ہے کہ وہ صلح کا، اتفاق کا کوئی ہاتھ بھی اس گورنمنٹ کی طرف بڑھا سکیں۔ میں یہ بھی کہے دیتا ہوں کہ اب جب کہ حالات نے پلٹا کھایا، واقعات نے اپنا ورق اُلٹا اور حضرت غازی مصطفی کمال پاشا کی فوجوں نے یقینا موجودہ جنگ کے میدان ہی کو نہیں؛ بلکہ وسط ایشیا کے میدان کو ہمیشہ کے لیے فتح کرلیا، تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے بار بار اس طرح کی چیزیں لائی جاتی ہیں اور ظاہرکیا جاتا ہے کہ آج مسلمانوں کے مطالبات خلافت کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز تھریس اور سمرنا ہے۔

لیکن میں اس وقت اس امر کا اعلان کردینا چاہتا ہوں کہ سمرنا اور تھریس کا میدان فی الحقیقت وہ دونوں ایسے میدان تھے کہ اس کا فیصلہ ہوسکتا تھا۔ اس کی بنیاد یہ تھی کہ فی الحقیقت تمام مسئلۂ خلافت میں یہ ظلم اتنا نمایاں اور اُبھرا ہوا تھا کہ بار بار مقررین خلافت اپنی تقریروں میں ذکر کیا کرتے تھے۔ یہ دونوں علاقے یونان کو دلائے گئے۔ یونان فریق جنگ نہ تھا۔ جنگ سے اس کا تعلق نہ تھا، اس کو بار بار نمایاں کرکے پیش کیا جاتا تھا ؛لیکن اس سے یہ مقصد نہ تھا کہ مطالبات خلافت میں اس کی اہمیت بمقابلہ دیگر معاملات کے ہے۔ میں اس امر کا اعلان کردینے کے لیے تیار ہوں کہ سمرنا اور تھریس کو غازی مصطفی کمال پاشا کی تلوار کی نوک کی قسمت پر چھوڑ دیجیے۔ ہمارا مطالبہ جزیرۃ العرب، فلسطین اور شام کے لیے ہے۔ بیت المقدس کے لیے ہے اور ان شرائط کے لیے ہے، جو پائے گاہ خلافت کے لیے عائد کی گئیں۔

فلسطین کو خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں رکھنے کا مطالبہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ 22؍ مارچ1922ء کو حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی زیر صدارت منعقد ہوئی، جس میں تحفظ خلافت کے پیش نظر مطالبات پیش کرتے ہوئے فلسطین کو بھی خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ تجویز کے متعلقہ حصے میں کہا گیا کہ:

’’(ب)سلطنت عثمانیہ کے ان حصوں کو -جہاں عربی زبان بولی جاتی ہے، مثلاً فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد، یمن وغیرہ کو- بغیر کسی غیر مسلم حکومت کے ادنیٰ دخل و اثر کے خلیفۃ المسلمین سلطان ٹرکی کے زیر اقتدار اندرونی آزادی دے دی جائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز ارو فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍111)

مجوزہ مطالبۂ خلافت میں فلسطین کی شمولیت

مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس18،19، 20؍ اکتوبر1922ء کو منعقد ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند نے اپنے مجوزۂ مطالبات خلافت میں کمی کی عدم گنجائش کا اعلان کرتے ہوئے فلسطین سے تعرض نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت منتظمہ کا یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ مسلمانانِ ہند کا مطالبۂ خلافت- جو جمعیت علما کے مجوزہ نقشہ پر مبنی ہے- خالص مذہبی مطالبہ ہے، اس میں کسی کمی کی گنجائش نہیں۔ موجودہ صلح ترکی میں اگر ترکان احرار کی طرف سے کسی وجہ سے اس مطالبہ میں کوئی کمی کی گئی، مثلاً جزیرۃ العرب، مقامات مقدسہ، فلسطین اور عراق عرب سے تعرض نہ کیا گیا، تو وہ مذہبی حیثیت سے ناکافی صلح ہوگی اور مسلمانان ہند؛ بلکہ تمام مسلمانانِ عالم اس کو ناکافی قرار دے کر باقی حصہ(کے) مطالبہ کے لیے اپنی جدوجہد بدستور جاری رکھیں گے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍115)

مینڈیٹ برائے فلسطین(Mandate for Palestine)

پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے زوال نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے لیگ آف نیشنز (League of Nations) نے ’’مینڈیٹ‘‘ (Mandate) کا نظام متعارف کرایا، جس کے تحت فلسطین کا انتظامی کنٹرول باقاعدہ طور پر برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔ اس بین الاقوامی دستاویز کو تاریخی طور پر ’’مینڈیٹ برائے فلسطین‘‘ کہا جاتا ہے۔

 سان ریمو کانفرنس کی 23-24؍اپریل 1920ء کی نشستوں میں اتحادی ممالک نے 2؍ نومبر1917ء کے بالفور اعلامیہ(Balfour Declaration) کو باقاعدہ طور پر منظوری دیتے ہوئے فلسطین کا مینڈیٹ برطانیہ کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں 24؍جولائی 1922ء کو لیگ آف نیشنز کی کونسل نے مینڈیٹ برائے فلسطین کے مسودے کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا۔ اس طرح برطانوی قبضے اور بالفور اعلامیہ کو ایک بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو گئی۔بعد ازاں 29؍ستمبر 1923ء کویہ مینڈیٹ اور اس کی تمام قانونی و انتظامی شرائط باقاعدہ طور پر نافذ العمل کردی گئیں۔

اس مینڈیٹ میںیہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے، فلسطین میں موجود غیر یہودی کمیونٹیزکیحقوق کا تحفظ اورمقدس مقامات کی حفاظت کی بات کہی گئی تھی۔

اس مینڈیٹ نے خطے کی آبادیاتی (Demographic) ساخت کو تیزی سے تبدیل کیا۔ یہودیوں کی سرپرستی اور بڑے پیمانے پر ہجرت نے مقامی عرب آبادی میں شدید احساسِ محرومی اور بے چینی پیدا کی، جس کے نتیجے میں متعدد عرب جنگیں(جیسے 1936 کی جنگ) اور پرتشدد تصادم ہوئے۔ بالآخر، یہی برطانوی مینڈیٹ مشرق وسطیٰ کے سب سے طویل اور پیچیدہ تنازعے کی بنیاد بنا، جو آج تک جاری ہے۔

 جمعیت علما سے مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین کی طرف سے تعاون کی اپیل

2؍نومبر1925ء کو شائع ایک خبر کے مطابق، صدر مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین نے سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کے نام ایک تار بھیج کر تعاون کی اپیل کی۔ وجوہات خود تار میں موجود ہے۔ اس کا متن درج ذیل ہے:

’’فرانسیسی افواج نے ستاون گھنٹے دمشق پر گولہ باری کی۔ شہر کا بہت بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ پناہ گزینوں کا بیان ہے کہ پچیس ہزار متنفس تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دفن ہیں۔ ہزارہا بے گناہ بے خانماں ہوگئے ہیں۔ نقصانات نہایت زبردست اور بے شمار ہیں۔ مالی امداد کی فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔ فلسطین اپنی بساط کے مطابق پوری کوشش کررہا ہے۔ آپ بھی اس مقدس شہر کی صدائے استمداد پر لبیک کہیے۔‘‘ 

صدر مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،2؍نومبر1925ء)

یہودیوں کے مظالم اور برطانیہ کی حمایت کی مخالفت

1920ء کی دہائی میں فلسطین برطانوی مینڈیٹ کے تحت تھا، جہاں بالفور اعلان (1917)  کے تحت یہودیوں کو ’’نیشنل ہوم‘‘ قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، اس لیے یہ پالیسی عرب آبادی کی ناراضگی کا باعث بنی، کیوںکہ یہودی امیگریشن میں اضافہ ہو رہا تھا، جو عربوں کی معاشی اور سیاسی حقوق پر چوٹ پہنچا رہا تھا، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے۔علاوہ ازیں1929ء میں یروشلم کی مغربی دیوار –جو یہودیوں کے لیے مقدس مقام اور عربوں کے لیے مسجدِ اقصیٰ کے حصہ – پر تنازع نے فسادات کو ہوا دی۔ یہودیوں نے دیوار پر عبادت گاہیں بنانے کی کوشش کی، جسے عربوں نے اپنے مقدس مقام کی خلاف ورزی سمجھا۔ نتیجتاً، 23-24؍ اگست 1929ء کو یروشلم میں جھڑپیں شروع ہوئیں، جو حبرون، صفد اور دیگر شہروں تک پھیل گئیں۔ ان فسادات میں 133؍ یہودی ہلاک اور 116؍عرب شہید ہوئے،جب کہ ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے۔ 

برطانوی حکومت نے فسادات کے فوری بعد، ستمبر 1929 میں شا کمیشن کا اعلان کیا۔ اس کی سربراہی اعلیٰ عدالت کے جج سر والٹر شا نے کی، جب کہ اراکین میں برطانوی سرکاری افسران اور ماہرین شامل تھے۔ کمیشن کا بنیادی مقصد فسادات کی فوری وجوہات کی نشاندہی کرنا، ذمہ داروں کی نشاندہی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کی سفارش کرنا تھا۔ یہ ٹیم فلسطین پہنچ کر گواہوں، عرب اور یہودی رہنماؤں، مذہبی علما اور مقامی افسران سے ملاقاتیں کیں۔ انھوں نے یروشلم، حبرون اور جفا جیسے متأثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ کمیشن کی رپورٹ مارچ 1930 میں شائع ہوئی، جو 150؍سے زائد صفحات پر مشتمل تھی۔

 مسلمانان فلسطین کی انھی ہول ناک مصیبتوں پر بھارت کے مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے 3؍ستمبر 1929ء کو دہلی کے کمپنی باغ میں عظیم الشان جلسہ کیا ، جس کی مکمل کارروائی درج ذیل ہے:

مسلمانان فلسطین کی حمایت میں عظیم الشان اجلاس

3؍ستمبر1929ء کی شب ساڑھے سات بجے مسلمانان دہلی کا ایک جلسہ کمپنی باغ میں ٹاؤن ہال کے پیچھے منعقد ہوا۔ شرکائے جلسہ کی تعداد نہایت غیرمعمولی تھی اور مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی شریک تھے۔ حاضرین میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا ابوالکلام صاحب آزاد، مولانا عبد الماجد صاحب، مولانا عبد المجید صاحب، شیخ نجم العارفین صاحب، ہلال احمد صاحب زبیری اڈیٹر الجمعیۃ، محمد جعفری صاحب اڈیٹر ’’ملت‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ قرآن کریم کی قرآت کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدرجلسہ منتخب کیے گئے۔

 حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ کا خطاب

حضرت مولانا نے اپنی ابتدائی تقریر میں -جو تقریبا نصف گھنٹے تک جاری رہی-جلسہ کی غرض و غایت کو نہایت تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ فلسطین کے مسلمانوں پر یہودیوں نے جو مظالم ڈھائے ہیں، ان کا ذکر کرنے کے بعد حضرت مولانا نے دیوار گریہ کی تاریخ نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور یہ بتایا کہ یہو دیوں کو اس دیوار پر، یا اس کے سامنے کی زمین پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ محض مسلمانوں کی رواداری تھی کہ وہ انھیں مخصوص تاریخوں پر اس دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر گریہ و بکا کرنے کی اجازت دے دیتے تھے۔ اور یہودی اس زمین کو -جو مستند قانونی دستاویزات کے مطابق مسلمانوں کی ایک موقوفہ زمین ہے -صرف مقررہ مدت کے لیے استعمال کرسکتے تھے۔ جناب صدر نے صلیبی جنگوں کے بعد سے ترکان آل عثمان کی حکومت تک کے واقعات سے یہ ثابت کیا کہ یہودیوں کا عمل کبھی اس کے خلاف نہیں ہوا اور انھوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انھیں اس دیوار پر ، یا اس کی ملحقہ زمین پر کسی قسم کا تملک حاصل ہے۔ یہ سوال ابھی حال ہی میں پیدا کیا گیا ہے اور براہ راست اس تحریک کا نتیجہ ہے، جو تحریک صہیونیت کے نام سے مشہور ہے اور جسے لارڈ بالفور کے اس اعلان نے تقویت پہنچادی ہے، جس میں یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے لیے برطانیہ یہودیوں کی امداد کرے گی۔ برطانیہ کی یہی وہ پالیسی ہے، جس نے چند سال کے اندر فلسطین میں چھ ہزار یہودیوں کے بجائے ایک لاکھ ستر ہزار یہودی دنیا بھرسے لاکر آباد کردیے ہیں اور جو فلسطین کے عربوں کا حق وطنیت سلب کر کے یہودیوں کو فلسطین کا مالک بنانا چاہتی ہے۔

حضرت مولانا ابو الکلام آزادصاحب کا خطاب

جناب صدر کی تقریر کے بعد حضرت مولانا ابو الکلام آزاد صاحب نے ایک مؤثر تقریر ارشاد فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ مشرق کے تمام ممالک کی بیماری ایک ہی ہے اور ان کا علاج بھی ایک ہی ہے۔ حقیقتا اس وقت دنیا برطانوی شہنشاہیت کی حرص کا شکار ہورہی ہے۔ اور جب تک اس شہنشاہیت کا جذبہ فنا نہیںہوتا، اس قسم کے مصائب میں مختلف ممالک برابر مبتلا رہیںگے۔ دیوار گر یہ تو حقیقت میں ایک بہانہ ہے، یورپین قوتوں نے جزیرۃ العرب میں شام اور فلسطین کو اپنی قوت کے استحکام کی خاطر منتخب کر لیا ہے۔ برطانیہ اس قسم کی تدابیر اختیار کر رہا ہے کہ اگر کسی وقت مصر ہاتھ سے جاتا رہے، تو نہر سوئز کے کنارے پر ایک دوسرا ساحل برطانوی افواج کے قبضہ میں رہے۔ یہودیوں کی حکومت قائم کرنے میں یہی راز مضمر ہے۔ مولانا کی تقریر کافی طویل تھی اور دیر تک جاری رہی۔

اس کے بعد مندرجہ ذیل تجویز مولوی عبد المجید صاحب نے پیش کی، جو مولانا عبد الماجد صاحب کی تائید کے بعد بالاتفاق منظور ہو گئی:

دیوار گریہ پر یہودیوں کو کوئی حق تملک حاصل نہیں 

(الف)مسلمانان دہلی کا یہ جلسہ اپنے اس علم و یقین کی بنا پر کہ براق شریف کی دیوار گریہ پریہودیوں کو کسی قسم کا حق تملک حاصل نہیں ہے اور یہ کہ وہ دیوار قرنہا قرن سے مسلمانوں کے قبضے میں ہے اور صدیوں سے حکومتوں کا دستور بھی یہی چلا آتا ہے کہ یہودیوں کو سوائے اس کے کہ وہ دیوار کے نیچے کھڑے ہو کر دعاپڑھے لیںاور گریہ کرلیںاور کسی قسم کے تصرف کا موقع نہیں دیا جا تا تھا۔ یہودیوں کی موجودہ تعدی کو نہایت نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہودیوں کی اُن تمام کارروائیوں کو- جو وہ نا حق دیوار پر قبضہ جمانے اور اپنی ملکیت قرار دینے کے لیے کر رہے ہیں- موجودہ فساد و خوںریزی کا اصل باعث سمجھتا ہے۔

(ب) جلسہ کو یقین ہے کہ اگر حکومت انتداب اس فتنہ کی روک تھام پہلے سے کرنا چاہتی توکر سکتی تھی؛ مگر اس کی غفلت ،یا سہل انگاری نے یہودیوںکو جرأت دلائی کہ وہ مسلمانوں کا ناحق خون بہائیں۔ یہ جلسہ پوری قوت کے ساتھ فلسطین میں برطانیہ کی یہودنوازحکمت عملی کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور برطانیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جلد از جلد فلسطین کے باشندوں کی آزاد حکومت کے قیام کی کارروائی شروع کرے،تا کہ وہاں حقیقی طور پر امن و امان قائم ہوسکے۔

(ج) یہ جلسہ برطانیہ کی اس جنگی مہم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، جو اس نے فلسطین میں بحری اور ہوائی جنگی جہازوں کو وہاں کے عرب باشندوں کودبانے کے لیے بھیج کر ظاہر کی ہے، اور برطانیہ کو بتادینا چاہتا ہے کہ فلسطین کی بے چینی کا علاج جنگی کارروائیوں اور آلات حرب کے مظاہرے سے نہ ہو گا؛ بلکہ اس کا حقیقی علاج صہیونی غیر منصفانہ پالیسی کو ختم کر دیناہے۔ اور یہ کہ ہندستان کے تمام باشندوں کی دلی ہمدردی مظلوم مسلمانان فلسطین کے ساتھ ہے۔

 آخر میں جناب صدر نے تمام ہندستان کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ یہودیوں کے ان مظالم اور برطانیہ کی حمایت کے خلاف پر زور احتجاج کریں، جس کے بعد جلسہ ساڑھے نو بجے شب کو ختم ہوا۔(سہ روزہ الجمعیۃ،5؍ستمبر1929ء)

اہلفلسطین کی طرف سے امدادکی اپیل 

20؍اکتوبر1929ء کو ’’جماعت مرکزیہ فلسطین کی جانب سے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے نام مندرجہ ذیل اعلان تازہ ولایتی ڈاک سے موصول ہوا ہے: 

’’فلسطین -جو کہ قدیم الایام سے منبع الادیان و مہبط انبیا ہونے کا شرف حاصل ہے - آج وہ یہودیوں کی سرکشی اور بے اعتدالیوں کے باعث معرض جنگ و جدل و مقام خوف و ہراس بنا ہوا ہے ۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ یہودیوں کو یہ طمع دامن گیر ہوگئی ہے کہ جس طرح ممکن ہو، اس مبارک زمین پر قبضہ کرلیں ، جس کے ایک ایک ذرے میں عربی قوم کا خون مخلوط ہے۔ چنانچہ اب یہاں کے عربوں کی حالت بڑی قابل رحم ہے ۔ پے درپے مصائب و آلام کا سامنا ہے ، یہاں کی امن و آسائش خوف و ہراس سے مبدل ہے ۔ ہر چھوٹا بڑا عورت مرد پریشان حال ہے۔ بے یارومددگار، بے کس و لاچار؛ غرض عجیب مصیبت میں گرفتار ہے۔

ان غم زدوں کی ایسی حالت زار دیکھ کر چند عمائدین نے ایک جماعت مرکزیہ لجنہ مرکزیہ عربیہ کے نام سے قائم کی ہے، جس کے سر پرست و نمائندہ سید محمد ابن حسینی رئیس، اور یعقوب آفندی اور احمد علمی پاشا نائب قرار پائے ہیں اور عونی بک عبد الہادی دھنا آفندی خیلادۃ و فخری بک انشا شیبی، شیخ محمود آفندی دجانی، و عبدالقادر آفندی العفیفی وزکی آفندی  نسیبہ، ڈاکٹر رفوتی فریج، و احمد نمر آفندی الشہابی اس کمیٹی کے اراکین یا ممبر ہیں و عبد الحمید آفندی شومان خزانچی و فیاض آفندی حضرا محاسب اور سید رام الخالدی سکریٹری ہیں۔ 

یہ کمیٹی تمام دنیا کے مسلمانوں اور تمام دنیا کی عرب قوم کو خدا واسطہ اور خدا کی قسم دے کر اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی اعانت و امداد اور کرم و احسان کے لیے ہاتھ بڑھائیں ۔ انتہائی صمیم قلب و عظم راسخ کے ساتھ اس انجمن کی اعانت کرنے پر دریغ نہ کریں۔ ‘‘

(سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍اکتوبر1929ء) 

فلسطین کو وطن الیہود بنانے کی مخالفت

برطانیہ نے فلسطین کو اپنی عمل داری میں لینے کے بعد، نہ صرف یہودیوں کو ایک مستقل وطن دینے کی کوشش کی؛ بلکہ فلسطین میں مسلمانوں کو جبرا یہودیوں کا غلام بنائے جانے کا کھیل شروع کردیا۔ چنانچہ  بیت المقد س کے صیہونی کھیل کے صدر ڈاکٹر ریڈر نے علی الاعلان کہاکہ :

’’فلسطین میں صرف ایک قومی وطن ہوسکتا ہے اور وہ یہودیوں کا ہوگا، جس میں عربوں کو برابر کا شریک نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ وہ یہودیوں سے مغلوب ہوکر ان کے ماتحت رہیں گے۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍ستمبر1929ء) 

فلسطینیوں پر جاری یہودیوں کے ظلم و تشدد کے تحقیقات کے لیے ایک’’شا کمیشن‘‘بنائی گئی، اس  برطانوی کمیشن نے یہودیوں کی بربریت کے بجائے مظلوم مسلمانوں پر ہی الزامات عائد کردیے۔ سہ روزہ الجمعیۃ کمیشن کے متعلق ایک خبر میں لکھتا ہے کہ:

’’بیت المقدس۔2؍ستمبر۔سرجان چانسلر برطانوی مندوب حامی ایک اعلان میں کہتا ہے: ’’میں ولایت سے واپس آگیا ہوں ۔ میں نے از حد خوف و ہراس کے ساتھ ظالمانہ حرکتوں کی داستان جو بے رحم خوں خوار بد کرداروں نے کی ہیں اور یہودی آبادی کے پناہ گزیں اراکین کو جن کوبے رحمانہ طریقے سے قتل کیا ہے اور ہبرون کے مقام پر جو ناقابل بیان وحشت و بربریت ظاہر کی ہے، ان جرائم کے عاملوں کو دنیابھر کے مہذب قوموں نے لعنت ملامت کی ہے ۔ ‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍ستمبر1929ء) 

انھیں دنوں جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا ایک دو روزہ اجلاس 26، و 28؍ اکتوبر 1929ء کوحضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں ہوا، جس کی ایک تجویز میں انتداب فلسطین اوراعلان بالفور کی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہوئے برطانوی کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس فلسطین پر برطانیہ کے انتداب کو احکام اسلام اور حرم محترم کے تقدس اور اہل فلسطین کی فطری آزادی کے منافی سمجھتا ہے اور جمعیت الامم (لیگ آف نیشنز) اور برطانیہ سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فورا اعلان بالفور کی منسوخی اور انتداب ہٹالینے کا صاف اور غیر مشتبہ الفاظ میں اعلان کردے ۔ جلسہ کو یقین ہے کہ فلسطین کے گذشتہ خونی واقعات صہیونی تحریک اور اعلان بالفور اور قوت انتداب کی یہود نواز پالیسی کے اندوہ ناک نتائج ہیں ۔ اور ان کا واحد سبب یہودیوں کا وہ غاصبانہ و ظالمانہ رویہ ہی ہے ، جو انھوں نے قدیم الایام کے دستور کے خلاف اختیار کیا ہے اور برطانیہ کے افسروں نے ان کے جو رو اعتدا کی عملی ہمت افزائی کی ہے ۔ 

یہ جلسہ اس کمیشن کو ہرگز قابل اعتماد نہیں سمجھتا ، جو برطانیہ نے مقرر کیا ہے۔ قابل اعتماد وہی کمیشن ہوسکتا ہے، جس کو خود اہل فلسطین قابل اعتماد سمجھیں اور اس کی تحقیقات پر مطمئن ہوں۔ ہندستان کے تمام مسلمان اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے، جب تک فلسطین کی آبادی اپنی مرضی کے موافق قائم نہ ہوجائے گی اور وہ پورے طور پر آزاد نہ ہوجائیں گے۔ 

محرک : یہ تجویز مولانا عبد الحلیم صدیقیؒ صاحب نے پیش کی، جس پر مولانا محمدنعیم صاحب، مولانا محمد علی صاحبؒ، مولانا محمد ابراہیم صاحبؒنے موافق و مخالف تقریریں کیں۔ پھر باتفاق رائے منظور کی گئی۔‘‘

 (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍ 275)

 فلسطین میں برطانیہ کی یہودنواز پالیسی کی پرزورمذمت

برطانیہ کا وزیر اعظم مسٹر ریمزے میکڈانلڈ انتداب فلسطین کی دفعات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی کوششوں میں لگا رہا۔مسٹر ریمزے نے وکالۃ الیہود کے صدر ڈاکٹر ویزمین کو ایک خط میںصاف لکھا تھا کہ: 

’’انتداب صرف فلسطین کی یہودی آبادی کا ہی خیال نہیں رکھے گا؛ بلکہ وہ تمام یہود قوم کے معقول مفادات کو پیش نظر رکھے گا۔‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍فروری 1931) 

برطانیہ کی اس یہود نواز پالیسی کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے آواز اٹھاتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور فلسطین کو مسلمان فلسطینی کے لیے بلا شرکت غیرے اپنا وطن برقرار رکھنے کے لیے مسلسل آواز بلند کرتی رہی۔ اسی ضمن میں جب 31؍مارچ و یکم اپریل1931ء کو دسواں اجلاس عام ہوا، تو اس میں تجویز نمبر- 17 میںبرطانیہ کی اس پالیسی کی شدید مذمت کی۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ فلسطین میں برطانیہ کی یہودنواز پالیسی کی پرزورمذمت کرتا ہے۔ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانا اور عربوں کے حقوق و جاگیرات پر قبضہ دلانا؛ فلسطین کے امن کو تباہ کرتا ہے۔ فلسطین کی حکومت کا نظام فلسطین کے باشندوں کی مرضی کے مطابق کرنا، قیامِ امن کے لیے ضروری ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍307)

 فلسطین کے وفدکا پرجوش استقبال

ہندستانی مسلمان فلسطین اور فلسطینیوں سے محبت بھی رکھتے ہیں اور عقیدت بھی۔رشتۂ انسانیت اور کلمہ کی وحدت؛ محبت کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اور عقیدت اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ جہاں سرزمین انبیاء ہونے کا شرف رکھتا ہے، وہیںقبلۂ اول کا امتیاز بھی اسے ہی حاصل ہے۔ اور یہ سب چیزیں فلسطین اور فلسطینیوں سے تعلق رکھنے میں فخر محسوس کراتی ہیں۔ اس کا ایک منظر سرزمین ہندستان نے اس وقت دیکھا، جب اس کے ایک وفد کا ہندستانیوں نے پرجوش استقبال کیا ، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: 

’’وفد فلسطین - جس کی آمد آمد کادہلی والوں کو انتظار تھا-20؍ جون1933ء کی صبح کوساڑھے سات بجے دہلی پہنچ گیا ۔بروقت اطلاع نہ ہونے کے باعث اسٹیشن پر اجماع نہ ہوسکا۔ حضرت سیدامین الحسینی مفتی اکبر اور صاحب المعالی محمد علی پاشا سابق وزیر مالیات مصر اور آپ کے رفقا نے میڈنس ہوٹل میں بطور معزز مہمانوں کے قیام فرمایا۔ شام کو حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند اور مسٹر آصف علی بیرسٹر نے وفد مذکور سے ملاقات کی اور تقریبا رات کے دس بجے تک فلسطین کے حالات اور دیگر معاملات پر تبادلۂ خیالات ہوا۔ کل صبح کو معززین شہر کے دستخطوں سے ایک پوسٹر شائع کیا گیا، جس میں مذکور تھا کہ  فلسطین کے معزز ارکان شام کو بعد نماز مغرب جامع مسجد دہلی میں تشریف لا کر اپنے خیالات سے مسلمانان دہلی کو آگاہ کریں گے، نیز ان محترم مہمانوں کا حاضرین سے تعارف کرایا جائے گا۔ پوسٹر پر چھبیس معززین کے دستخط ثبت تھے ،جن میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب، حضرت مولانا احمد سعید صاحب، ڈاکٹر مختار احمد انصاری صاحب، مسٹر آصف علی بیرسٹر، جناب ہلال احمد زبیری ایڈیٹر الجمعیۃ، سید محمد جعفری ایڈ یٹر ملت، مولانا عبد الماجد صاحب دہلوی ،حاجی عبد الغفار صاحب (حاجی علی جان)۔عزیزحسن صاحب بقائی، حاجی عبدالغنی صاحب، ایس ایم عبداللہ صاحب، حاجی شرف الدین صاحب، محمد عثمان صاحب آزاد، محمد خلیل سوت والے، محمد یوسف خلف شاہ والے، حاجی محمد یحیٰ سوت والے،عبد العزیز ٹھیکیدار، ملا واحدی ۔

جامع مسجد میں جلسہ

چنانچہ ٹھیک مغرب کی اذان کے وقت وفد کے محترم ارکان جامع مسجد میں تشریف لائے، جن کا نہایت پر جوش استقبال کیا گیا۔ مغرب کی نماز کے بعد جلسہ کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے حافظ محمد یوسف صاحب نے قرآن عزیز کی تلاوت فرمائی، بعد ازاں جلسہ کی صدارت کے لیے حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے مولانا معین الدین صاحب اجمیری نائب صدر جمعیت علمائے ہند- جو آج کل دہلی تشریف لائے ہوئے ہیں- کا اسم گرامی پیش کیا، جس کی تائید خواجہ حسن نظامی صاحب نے کی اور مولانا باتفاق رائے صدر منتخب کیے گئے۔ اس ابتدائی کارروائی کے بعد حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے معززوفد کے اراکین کا فرداً فرداً حاضرین سے تعارف کرایا اور خصوصیت کے ساتھ سید امین الحسینی مفتی اکبراور محمد علی پاشا سابق وزیر مالیات مصر کی وطنی اور مذہبی خدمات سے لوگوں کو آگاہ کیا اور وفد نے اس گرمی کے زمانہ میں جو اتنا طول طویل سفر اختیار کیا ہے، اس کی غرض وغایت بتلائی۔

مفتی اکبر کی تقریر

آپ کے بعد سید امین الحسینی مفتی اعظم فلسطین تقریر کے لیے کھڑے ہوئے اور فصیح و بلیغ عربی میں ایک فاضلانہ اور حقیقت افروز تقریر فرمائی۔ ابتدا میں حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ساتھ ہی ساتھ اس کا اردو ترجمہ بھی فرماتے رہے؛ لیکن چوںکہ گرمی اور اژدحام کے باعث حضرت موصوف کو اختلاج قلب کا دورہ شروع ہو گیا، اس لیے بقیہ تقریر کا ترجمہ تقریر کے ساتھ ساتھ مولانا احمد سعید صاحب نے دہلی کی نہایت فصیح اور شستہ اردو میں کیا، جس کو سن کر حاضرین کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین و آفرین بلند ہوتے رہے۔ 

مفتی اکبر نے فرمایا:

برادران اسلام! اسلامی اخوت کے حقیقی جذبہ سے آپ خوب واقف ہیں۔ میں نے آپ کو اپنا بھائی کہہ کر خطاب کیاہے ،یہ اس لیے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور یہ وہی رشتہ ہے، جو تمام اسلامی اقوم اور ممالک کو متحد کرتا ہے۔میں اپنے سے بڑے مسلمان کو اپنا باپ سمجھتا ہوں ،چھوٹے کو اولاد اور برابر کے مسلمان کو بھائی؛ کیوںکہ اسلام نے ہم کویہی تعلیم دی ہے۔ میں نے ابھی دیکھا کہ آپ نے اپنے جلسہ کی ابتدا قرآن پاک کی تلاوت سے کی۔ یہی قرآن ہے، جس سے ہم تمام مصائب سے نجات پا سکتے ہیں۔ قرآن حکیم سے میرا مطلب صرف قرآن کے الفاظ نہیں ؛بلکہ اس پر عمل اور اس کے احکام کی تعمیل ہے۔ یہی وہ نسخہ ہے، جس کا استعمال کرتے ہی ہم تمام امراض سے شفا حاصل کر سکتے ہیں ۔ خالی قرآن حکیم کی تلاوت ہمارے کسی مرض کی دوا نہیں ہے۔جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا جائے،ہمارے مصائب دور نہیں ہو سکتے۔ اگر کوئی مریض دوا کو اٹھا کر طاق میں رکھ دے اور علاج علاج پکارتا رہے، تو اس کو کبھی شفا حاصل نہ ہوگی۔ اس کا علاج یہی ہے کہ وہ مجوزہ نسخہ کو طاق میں رکھنے کے بجائے اس کو استعمال کرے ۔اگر وہ ایسا کرے گا، تو اس کو شفا حاصل ہو جائے گی؛ ورنہ علاج علاج کہنے سے وہ افاقہ نہیں پاسکتا۔ یہی حال قرآن کریم کا ہے کہ اس کو استعال کر کے ہم تمام امراض سے شفا حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن حکیم کی ایک آیت ابھی قاری صاحب نے آپ کے سامنے تلاوت فرمائی ہے:

لَوْ أَنزَلْنَا ہَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَیٰ جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ (الحشر:21)

 اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے، توہ بھی اللہ کی خشیت سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ کیا ہمارے دل،پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں؟ پہاڑتو قرآن عظیم کی تاثیر سے پگھل جائیں؛ مگر ہم اثرپذیرنہ ہوں۔ مصر کا ایک شاعر اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتا ہوا کہتا ہے کہ اے اللہ! مسلمان کس طرح برباد ہو سکتے ہیں، حالاںکہ ان میں تیری کتاب موجود ہے؟ اسلام کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مسلما ن منظم ہوکر رہیں اوران کا ہر عمل نظم اور ضابطہ کے ماتحت ہو۔

اسلام اور روح تنظیم

 مغرب کی نمازمیں ابھی آپ نے کیا دیکھا؟ آپ نے اپنا ایک امام مقر ر کیا، جب وہ کھڑا ہوا، تو آپ بھی کھڑے ہو گئے۔ جب اس نے رکوع کیا ،تو آپ نے بھی رکوع کیا اور اس نے سجدہ کیا، تو آپ نے بھی سجدہ کیا۔ غرض آپ نے نماز کے اندر امام کی پیروی کر کے اپنے پورے نظم و ارتباط کا ثبوت دیا۔ لیکن یہی وہ نظم ہے، جس کی تعلیم دینے کے لیے اسلام آیا ہے۔ یہ نظم صرف نماز کے لیے ہی مخصوص نہیں ہے؛ بلکہ خارج میںبھی تمام امور میں اسلام نے اسی نظم کی تعلیم دی ہے۔

ہم جس وقت فلسطین سے چلے، تو ہم بہت خوش تھے کہ ہم تھوڑے مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندستان کے کثیر مسلمانوں سے ملاقات کرنے کے لیے جارہے ہیں اورلاریب ہم یہاں آکر بہت خوش ہوئے ؛کیوںکہ ہم نے آپ کو اور آپ کی اخوت کو دیکھا۔ یہی اخوت ہم کو یہاں کھینچ کر لائی ہے۔

گرمی کے موسم میں سفر

ہم سے کہا گیا کہ گرمی کے موسم میں تم ہندستان کیوں جاتے ہو۔یہ بعینہ وہ بات ہے، جو آںحضرت ﷺکے زمانہ میں بعض منافقین نے مسلمانوں کے جنگ میں جانے سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ آج کل گرمی بہت سخت ہے، تم میدان جہاد میں نہ جاؤ، جس کا جواب باری تعالیٰ کی طرف سے یہ دیا گیا: قل نار جہنم اشد حراً۔ ائے نبی! کہہ دو: جہنم کی آگ تو اس سے بھی زیادہ سخت اور الم انگیر ہے۔ گو فلسطین کا موسم معتدل ہے اور ہندستان کا سخت گرم؛ مگر بعض دفعہ ہمارے ملک کے داخلی امور موسم کی سختی سے بھی زیادہ ناگوار ہو جاتے ہیں۔ فلسطین کے حالات اتنے سخت ہیں کہ وہ ہندستان کی گرمی پر غالب آگئے ہیں اور اسی لیے ہم یہاں آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

دو مقاصد

فلسطین سے چل کر ہندستان میں آنے کے ہمارے دو مقصدہیں: پہلا مقصد تو یہ ہے کہ ان ہردو ممالک میں اسلامی رابطہ کو مستحکم اور ا خوت کی روایت کو تازہ کیا جائے ۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ فلسطین میں جو جامعہ اسلامیہ و اسلامی یونی ورسٹی قائم کرنے کی تجویز ہے، اس میں آپ کی معاونت حاصل کی جائے؛ کیوںکہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے: تعاونوا علی البر والتقویٰ۔ مسلمانو!نیکی اوربھلائی کی باتوں میں تم ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔( دوران تقریر میں نعرہ ہائے اللہ اکبر سے فضائے بسیط گونج رہی تھی)

تقریر کے بعد مفتی اکبر نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور بیٹھ گئے۔

محمد علی پاشا کی تقریر

آپ کے بعد محمد علی پاشا سابق وزیر مالیات مصر اللہ اکبر کے نعروں میں کھڑے ہوئے اور ایک مختصر؛ مگر جامع تقریر کی۔ آپ کی تقریر کا ترجمہ بھی ساتھ ہی ساتھ مولانا احمد سعید صاحب نے دہلی کی شستہ اردو میں کیا۔ پاشا موصوف نے فرمایا:

ہندستان کے مسلمان ہمارے بڑے بھائی ہیں؛ کیوںکہ وہ تعداد میں ہم سے بہت زیادہ ہیں اور اس نسبت سے ہندستانی مسلمان دیگر ممالک کے مسلمانوں کے بڑے بھائی ہیں۔ جب کبھی چھوٹے بھائی پر کوئی مصیبت گرپڑتی ہے، تو وہ بڑے بھائی کے سامنے اس کا اظہار کرتا اور امداد چاہتا ہے۔ ہمارے آنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی مصیبتوں کو اپنے بڑے بھائی کے سامنے بیان کریں اور ان سے امداد کے طالب ہوں۔

 میں مصر کا ایک باشندہ ہوں؛ مگر فلسطین کے مسلمانوں کے مصائب سے متأثر ہوکر اور اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آیا ہوں۔ آخر میں آپ نے فرمایا کہ میں عرب اور فلسطین کے مسلمانوں کی طرف سے آپ کو سلام پہنچاتا ہوں اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

پاشا موصوف کے بعد حضرت مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند نے ایک مختصر تقریر کی اوروفد مذکورکے آنے کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ان واقعات کی طرف اشارہ کیا، جو آج کل مسلمانان فلسطین کو پیش آرہے ہیں۔

 اس کے بعد جناب صدر نے دعا فرمائی اور جلسہ برخاست ہوا۔

چوںکہ ڈاکٹر انصاری صاحب نے وفد مذ کور کی اپنے دولت کدہ پر ضیافت کی تھی، اس لیے نماز عشاکے بعد وفد کے ارکان ڈاکٹر صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے ،جہاں پر پرتکلف ضیافت میں ارکان وفد کے علاوہ معززین شہر نے بھی شرکت فرمائی۔

( سہ روزہ الجمعیۃ،24؍جون 1933ء)

 فلسطین کے وفد سے اکابرین جمعیت کی ملاقات

وفد فلسطین کے محترم ارکان نے قیام دہلی کے دوران میں متعددبار حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندا ور مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند سے ملاقات فرمائی اور مسجد اقصیٰ کی اسلامی یونی ورسٹی اور یہودیوں کے جارحانہ اقدام پر تبادلۂ خیال کیا۔ 25؍جون1933ء کو  جمعرات کی صبح دس بجے سیدامین الحسینی مفتی اکبر، محمدعلی پاشا سابق وزیر مالیات مصر اور جناب انصاری صاحب حضرت صدر محترم کی بازدید کے لیے تشریف لائے اور فلسطین کے معاملات پر دیر تک گفتگو کی۔ پرسوں جمعہ کو صبح دس بجے وفد فلسطین کے جملہ ارکان حضرت مولا نا احمد سعید صاحب کی باز دید کے لیے دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لائے اور تقریبا ایک گھنٹہ تک پر لطف اور علمی گفتگو ہوتی رہی۔ اس موقعہ پر حضرت صدر جمعیت علمائے ہند، ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر الجمعیۃ اور مولانا عبد الماجد صاحب دہلوی بھی موجود تھے۔ جملہ حضرات نے محترم ارکان سے فلسطین کے مختارات مسائل پر گفتگو کی اور ارکان و فد کی چائے اور شیرینی سے تواضع کی گئی۔ مفتی اکبر سیدامین الحسینی نے حضرت مولانا احمد سعید صاحب کا اس فصیح و بلیغ ترجمہ کے لیے بار بار شکریہ ادا کیا ،جو موصوف نے جامع مسجد میں مفتی اکبر اور محمد علی پاشا کی عربی تقریروں کا شستہ اردو زبان میں کیا تھا،اور جس پر ہر طرف سے نعرہ ہائے تحسین و آفرین بلند ہورہے تھے۔

 جمعہ کی شام کو ارکان وفد حیدر آباد تشریف لے گئے۔ اسٹیشن پر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، مسٹرآصف علی، خواجہ حسن نظامی اور دیگر حضرات نے اپنے معززو محترم مہمانوں کو رخصت کیا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،28؍ جون 1933ء)

فلسطین کے متعلق برطانیہ کے جابرانہ عمل کی مذمت

جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا ایک سالانہ اجلاس27,28,29؍مارچ 1936ء کو دہلی میں ہوا، تو صوبائی جمعیت علمانے بھی مرکز کی تائید کرتے ہوئے اپنے اجلاس میں فلسطین کے متعلق برطانیہ کے جابرانہ و جارحانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے تجویز نمبر(۱۰) میں کہا کہ:

’’جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا یہ اجلاس حکومت برطانیہ کے اس جابرانہ طرز عمل کو- جو اس نے فلسطین میں ایک انتدابی حکومت کی حیثیت سے جاری کر رکھا ہے- انتہائی تشویش و اضطراب کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان مطالبات کی پرزور تائید کرتا ہے، جو مظلوم باشندگان فلسطین کی جانب سے طلب آزادی اور انسداد تحریک صیہونیت و استرداد اعلان بالفور کے متعلق پیش کیے گئے ہیں اور جنھیں برطانوی وزیر نوآبادیات نے بغیر کسی معقول دلیل کے مسترد کردیا ہے۔ اجلاس کی رائے میں حکومت برطانیہ کا یہ فعل- کہ وہ فلسطین میں دنیا بھر کے یہودیوں کو لاکر بسا رہے ہیںاور ان کی تعداد کو نہایت خطرناک حد تک پہنچا چکی ہے، اور باوجود مسلسل احتجاج کے اپنی اس پالیسی پر قائم ہے- نہ صرف فلسطین اور جزیرۃ العرب کے امن و امان کو تباہ و برباد کرنے والا ہے؛ بلکہ تمام دنیائے اسلام میں اس طرز عمل سے برطانیہ کے خلاف سخت جذبات غلیظ وغضب پیدا ہورہے ہیں اور اگر یہ حکمت عملی جلد تبدیل نہ کی گئی ، تو اس کے نتائج سخت مہلک ثابت ہوں گے۔ 

محرک: مولانا مفتی محمد نعیم صاحب۔مؤید: مولانا مبارک حسین صاحب۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اپریل، 1936ء) 

فلسطین میں برطانیہ کیا کر رہا ہے؟

فلسطین کے حالات اور اس کے ساتھ برطانیہ کے ظالمانہ رویہ پر حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہندنے  یکم جون 1936ء کواپنا بیان جاری کرتے ہوئے برطانیہ سے سوال کیا کہ وہ فلسطین میں کیا کر رہا ہے؟

مکمل بیان درج ذیل ہے:  

’’فلسطین میں زیادہ تر آبادی عربوں کی ہے۔ تمدن، کلچر، زبان سب عربی ہے۔ عیسائی بھی عربی تہذیب اور عربی زبان کے دل دادہ اور عربی کے بڑے بڑے فاضل اور ادیب ہیں۔

جنگ عظیم کے بعد یورپین طاقتوں نے ممالک اسلامی کا آپس میں بٹوارہ کرلیا۔ فلسطین پر برطانوی انتداب اپنی قہرمانی طاقتوں کے ساتھ مسلط کیا گیا۔ اور برطانیہ نے اپنی جبروتی شان کے ساتھ جلوہ آرا ہوکر پہلا کام یہ کیا کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی گہوارہ اور تحریک صہیونیت کا مرکز قرار دے دیا۔ عرب نے اس کے خلاف انتہائی ناراضگی ظاہر کی اور آئینی جدوجہد کے تمام ذرائع ختم کرڈالے۔ دوسری طرف برطانیہ کے جبری انتداب کے خلاف آزادی کی مہم شروع کی اور برطانیہ سے آئینی طور پر پرزور مطالبات کیے اور جب کہ برطانیہ نے ان کے مطالبات کے ساتھ سرد مہری کا برتاؤ کیا اور ان کی فریاد کی کچھ شنوائی نہیں ہوئی، تو انھوں نے غیر متشددانہ سول نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ 

حکومت برطانیہ کی جانب سے ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے جو تشدد اور سختی کام میں لائی جارہی ہے اس کے نتائج 28؍مئی کے تار میں یہ بتائے گئے ہیں کہ حریت پسند عربوں پر گرفتاریاں اور دوسری قسم کے تشدد کیے جارہے ہیں ۔ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ گرفتاریاں ہوچکی ہیں اور سینکڑوں عرب شہید اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ مسلمانان عالم برطانیہ کی اس بہیمت اور جبروتی حاکمیت کو غم و غصہ کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان کے دل فرط غم و رنج سے خون ہورہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ برطانیہ کی یہ تمام سخت گیر پالیسی -جو فلسطین میں ظاہر ہورہی ہے- بالکل غیر منصفانہ اور عربوں کے ساتھ صریح ناانصافی ہے اور تمام عالم اسلامی اور انصاف پسند انسانوں کی نظر میں قابل نفرت و ملامت ہے۔

 محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم جون 1936ء)

یوم فلسطین سے شملہ وفد تک

یہودی نیشنل ہوم کی پالیسی نے عرب آبادی میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہودی امیگریشن میں تیزی سے اضافہ – خاص طور پر نازی جرمنی سے بھاگنے والے یہودیوں کی وجہ سے – نے عربوں میں خوف پیدا کر دیا کہ ان کی زمینیں اور سیاسی حقوق چھن جائیںگے، جس کے پیش نظر1936ء میں، عرب قومیت پرست رہنماؤں نے برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا، جو جلد ہی مسلح بغاوت میں تبدیل ہو گیا۔ یہ بغاوت تین مراحل میں چلی: ابتدائی ہڑتال (اپریل 1936)، مسلح مزاحمت (1937-38) اور شدید جھڑپیں (1939 تک)۔ ہزاروں عرب اور یہودی ہلاک ہوئے، برطانوی فوج کو کریک ڈاؤن کرنا پڑا، اور معیشت تباہ ہوئی۔ 

ادھر ہندستان میں برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسیوں اور فلسطین میں یہودی امیگریشن کے خلاف ہندستان کے مسلمانوں نے منظم انداز میں آواز اٹھانا شروع کی۔آل انڈیا مسلم لیگ نے اس کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ کی کونسل کی جانب سے ایک اپیل جاری کی گئی، جس کے نتیجے میں 19؍جون 1936ء کو ہندستان کے طول و عرض میں ’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ اس موقع پر متعدد بڑے شہروں میں عظیم الشان جلسے منعقد ہوئے اور مسلمانوں نے فلسطین کے عربوں سے یک جہتی کا اظہار کیا۔

یوم فلسطین کی کامیابی کے تین ماہ بعد، مسلم رہنماؤں نے اپنی کوششوں کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا۔ یہ اجلاس 26؍ستمبر 1936ء کو شملہ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے نام ور مسلم رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں فلسطین کی ابتر صورت حال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور برطانوی حکومت کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک جامع قرارداد منظور کی گئی، جس میں فلسطین میں برطانوی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ فلسطین میں عربوں کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس قرارداد نے مسلمانوں کے موقف کو ایک دستاویزی شکل دے دی۔

اجلاس کے بعد 28؍ستمبر 1936ء کو اجلاس کے شرکا پر مشتمل ایک وفد نے مولوی سر محمد یعقوب ممبر اسمبلی کی قیادت میںلن لتھ گو وائسرائے ہند سے ملاقات کی۔ اس وفد نے وائسرائے کے سامنے فلسطین کی صورت حال پر اپنے شدید تحفظات رکھے اور برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔یہ کوششیں برطانوی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام تھیں کہ ہندستان کے مسلمان فلسطین میں ہونے والے واقعات سے قطعاً بے خبر نہیں ہیں اور وہ اپنے مذہبی بھائیوں کے حق میں ہر ممکن آواز بلند کریںگے۔

فلسطین کانفرنس میں شرکت کے تعلق سے جواہر لعل نہروکا مکتوب

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ماہ نومبر1936ء کے پہلے عشرے کی کسی تاریخ میں دہلی میں عظیم الشان آل انڈیا فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں شرکت کے لیے مسٹر جواہر لعل نہرو کو دعوت دی گئی۔ مسٹر نہرو نے جو جواب دیا، اس سے فلسطین کے حوالے سے آل انڈیا کانگریس اور ہندستان کا موقف سامنے آتا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے لیے خط کا متن اور اس کا ترجمہ درج کیا جارہا ہے: 

31؍اکتوبر1936ء

October 31, 1936

Maulana Ahmad Said Sahab, Jamiatul Ulema, Delhi.

Dear Maulana Sahab,

I thank you for your invitation to the All India Palestine Conference to be held in Delhi. I would have liked to be present but unfortunately I must be in Calcutta on those very days. So you must excuse me.

You know that the National Congress has expressed itself many times on the Palestine issue. We have laid stress on the fact that this struggle is essentially a national struggle of the Arabs for freedom from the domination of British imperialism. The British Government in Palestine, as in India, has sought to introduce communal issues and to make it appear that it is an onlooker or an impartial judge of the conflicts of the Arabs and the Jews. In reality the conflict is between Arab nationalism and British imperialism. And all of us who value freedom in our own country and struggle for it must wiam well to the Arabs who are in a like plight to ours. I believe that the solution of the Palestine problem will come when the Arabs and the Jews cooperate together to free Palestine from imperialism and foreign control. I am glad to find that there is some evidence of this desire for cooperation. So long as the Jews side with British imperialism they will inevitably be suspects in the eyes of the Arabs. In the past for hundreds of years Arabs and Jews have lived peacefully together in Palestine. To-day, owing to British policy, conflicts have arisen, and the Arabs have begun to fear, not. without reason, that they will occupy a subordinate place in their own country. That is a legitimate fear.

Palestine cannot cease to be Arab and, therefore, it is right that the Arabs should lay stress on this.

I trust your Conference will appeal to the Arabs and Jews to cooperate together on this basis and free the country.

With all good wishes to your Conference,

I  am yours sincerely,

Jawaharlal Nehran

آل انڈیا کانگریس کمیٹی، سوراج بھون، الٰہ آباد

31 ؍اکتوبر 1936ء

برادرِ محترم مولانا احمد سعید صاحب،جمعیۃ العلماء، دہلی،

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے دہلی میں منعقد ہونے والی آل انڈیا فلسطین کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ میں چاہتا تھا کہ حاضر رہوں، لیکن بدقسمتی سے انھی دنوں مجھے کلکتہ میں رہنا ضروری ہے، اس لیے آپ میری معذرت قبول فرمائیں۔

آپ جانتے ہیں کہ نیشنل کانگریس فلسطین کے مسئلے پر کئی مرتبہ اپنی رائے ظاہر کر چکی ہے۔ ہم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ جدوجہد دراصل عربوں کی قومی جدوجہد ہے، جو برطانوی سامراج کی بالادستی سے آزادی کے لیے کی جا رہی ہے۔ فلسطین میں برطانوی حکومت نے، بالکل اسی طرح جیسے ہندستان میں، فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دی ہے اور یہ تأثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا وہ ایک تماشائی، یا عرب و یہودی جھگڑوں میں غیر جانب دار منصف ہے۔ حقیقت میں یہ تنازعہ عرب قومیت اور برطانوی سامراج کے درمیان ہے۔

ہم سب -جو اپنے ملک کی آزادی کو قیمتی سمجھتے ہیں اور اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں- لازمی طور پر ان عرب بھائیوں کے خیر خواہ ہیں، جو ہماری ہی طرح کی حالت میں مبتلا ہیں۔ میرا یقین ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اس وقت حل ہوگا، جب عرب اور یہودی مل کر فلسطین کو سامراج اور غیر ملکی قبضے سے آزاد کرنے کی جدوجہد کریںگے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس باہمی تعاون کی خواہش کے کچھ آثار نظر آ رہے ہیں۔ جب تک یہودی برطانوی سامراج کا ساتھ دیتے رہیںگے، عربوں کی نظر میں وہ لازماً مشکوک سمجھے جائیں گے۔

ماضی میں صدیوں تک عرب اور یہودی فلسطین میں امن و سکون کے ساتھ رہتے آئے ہیں، لیکن آج، برطانوی پالیسی کے سبب، اختلافات نے جنم لیا ہے اور عربوں نے، بجا طور پر، یہ خوف محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اپنے ہی وطن میں ماتحت حیثیت اختیار کرنے پر مجبور کر دیے جائیں گے۔ یہ خوف بالکل جائز ہے۔

فلسطین ہمیشہ عرب رہے گا، اس لیے یہ بالکل بجا ہے کہ عرب اس حقیقت پر زور دیں۔مجھے امید ہے کہ آپ کی کانفرنس عربوں اور یہودیوں دونوں سے اس بنیاد پر باہمی تعاون کی اپیل کرے گی، تاکہ ملک کو آزاد کرایا جاسکے۔

آپ کی کانفرنس کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ!

آپ کا مخلص:جواہر لعل نہرو۔ (ریکارڈ روم)

افسوس کہ اس کانفرنس کی تفصیلات نہیں مل سکیں۔ 

تحفظ فلسطین کے تعلق سیصدر محکمۂ شرعیہ استانبول کا مکتوب گرامی

برطانیہ کے ظالمانہ رویوں کے خلاف جمعیت مسلسل آواز اٹھاتی رہی اور ہندستان میں جگہ جگہ جلسے اور مظاہرے کرتی رہی، انھیں کوششوں کی کامیابی پرسابق صدر محکمۂ شرعیہ استانبول اسعد شقیری نے 5؍جنوری1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت کی مساعی پر تشکر کا اظہار کیا۔

’’حضرت مفتی ہند علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدرجمعیت علمائے ہند کی خدمت میںعکا(فلسطین) سے ایک عربی مکتوب موصول ہوا ہے، جس کا اردو ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ یہ مکتوب جن بزرگ کی طرف سے موصول ہوا ہے، ان کا اسم گرامی اسعد شقیری سابق صدر محکمۂ شرعیہ استانبول ہے اور اس وقت عکا میں تشریف فرما ہیں۔ مکتوب کے ساتھ موصوف نے ایک مطبوعہ رسالہ بھی ارسال فرمایا ہے، جس کا موضوع خط کے مضمون سے معلوم ہوگا۔ اس عربی مکتوب کا ترجمہ ذیل میں ہے: 

بسم اللہ الرحمان الرحیم

لحضرۃ مولانا لشمس العلما ء الاستاذ الکبیر صاحب الفضل والفضیلۃ محمد کفایت اللہ المفتی و رئیس العلماء دھلی مداللہ فی حیاتہ و نفع بعلومہ المسلمین۔ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ میں اپنے اس خط کے ساتھ ایک رسالہ خدمت عالی میں ارسال کر رہا ہوں ، جو فلسطین کے باب میں مسلمانوں اور یہودیوں کے متعلق آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ اور اقوال فقہا پر مشتمل ہے ۔ امید ہے کہ ملاحظہ کے بعد یہ رسالہ جناب کی نظر میں شرف قبولیت حاصل کرے گا۔ مہربانی فرماکر رسالہ کے مضمون اور اس کی تفصیلات سے آپ جلالۃ الملک شاہ افغانستان اور جلالۃ الملک شاہ ایران کو مطلع فرمائیے، تاکہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کو ابتلا و مصائب سے نجات دلانے کا جو فرض ان پر عائد ہوتا ہے، وہ اس سے سبکدوش ہوں۔ اگر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے رسالہ کی اشاعت کا انتظام ہوسکے اور آپ وزرا، ارباب حکومت اورمسلمانوں کے اہل حل و عقد کے پاس اس کو پہنچا سکیں، تو بہت ہی مناسب ہے۔

آپ کے اہتمام میں دہلی کے اندر جو فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں آپ کی مساعی قابل تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور عمر دراز کرکے ہمیشہ آپ کو عافیت میں رکھے۔ واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ و باطنۃ۔ والسلام علیکم ۔

شہر عکاصع فلسطین، مؤرخہ 20؍رمضان المبارک 1355ھ۔ رئیس التدقیقات الشرعیہ السابق فی الآستانہ اسعد الشقیری۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ 9؍ جنوری 1937ء) 

تقسیم فلسطین کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس

برطانوی حکومت نے بغاوت کے بعد، نومبر 1936ء میں پیل کمیشن کا اعلان کیا۔ اس میں چھ برطانوی اراکین شامل تھے، جن میں اعلیٰ افسران، جج اور ماہرین تھے۔ کمیشن کا بنیادی مقصد بغاوت کی وجوہات کی نشاندہی، عرب اور یہودی دونوں کی شکایات کی سماعت اور مینڈیٹ کی عمل داری کو بہتر بنانے کی سفارشات کرنا تھا۔ یہ ٹیم فلسطین پہنچ کر 88؍ دنوں تک کام کرتی رہی، جس میں یروشلم، حیفہ اور غزہ جیسے علاقوں کا دورہ، گواہوں کی سماعت (عرب، یہودی اور برطانوی افسران سے) اور دستاویزات کی جانچ شامل تھی۔ کمیشن نے 1,000 سے زائد صفحات کی رپورٹ تیار کی۔اور7؍جولائی 1937ء کو بیک وقت ہندستان اور برطانیہ میں اس کو شائع کیا گیا۔ اس کی رو سے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

’’ ایک حصے کو وطن یہود قرار دیا گیا ہے۔ وہاں یہودی حکومت قائم کی جائے گی۔ دوسرا حصہ عربوں کے پاس رہے گا، وہاں یہ آزاد ہوں گے۔ تیسرا علاقہ برطانیہ کی نگرانی میں رہے گا۔

عربی اور یہودی حصوں کی آبادیوں اور اراضی کے تبادلے کا انتظام کیا جائے گا۔ یعنی اگر یہودی چا ہیں، تو اپنی ملکیتیں عربی حصے میں چھوڑ دیں اور وہ یہودی علاقے میں چلے جائیں۔ ایک حصہ زمین- جو عربوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا- اس کے عوض عربوں کو یہودی ریاست سے خراج ملے گا۔ اور برطانوی رعایت سے عرب ملکوں کو آب پاشی اور ترقی کی اسکیموں کے لیے بیس لاکھ پونڈ کی رقم سے گی۔‘‘

تقسیم فلسطین پر شاہی کمیشن کی رپورٹ میں مندرج تمام تجاویز کے بارے میں حکومت برطانیہ نے اپنی پالیسی کی وضاحت میں ایک بیان شائع کیا، جس میں رپورٹ کی تمام سفارشات کو من و عن قبول کر لیا گیا۔

برطانوی تجاویز کے شائع ہوتے ہی عرب ممالک میں ایک ہیجان برپا ہو گیا۔(روز نامہ انقلاب لاہور۔ 9؍ جولائی1937ء۔ بحوالہ کاروان احرار، جلد سوم،ص؍106)

30؍جولائی 1937ء کو بعد نماز عشا جامع مسجد دہلی میں حضرت علامہ مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ مسلمان ہزاروں کی تعداد میں نہایت گرم جوشی کے ساتھ شریک ہوئے۔ جامع مسجد کے صحن میں ہر طرف انسانی سروں کا بے پناہ ہجوم نظر آرہا تھا۔ ہر طبقہ و خیال کے مسلمان مضطرب قلوب کے ساتھ تقریریں سن رہے تھے۔ ان کی اٹھی ہوئی گردنیں، گرم نگاہیں، فلک شگاف اور اثر آفریں نعرے یہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ قبلۂ اول قدس کے تحفظ اور آزادی فلسطین کے سلسلہ میں امکانی جد و جہد کے لیے تیار ہیں

جلسہ کا آغازتلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد حضرت مفتی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں نہایت ہی جامعیت اور تفصیل کے ساتھ قدس کی مذہبی اہمیت، فلسطین کی سیاسی تاریخ، ترکوں اور عربوں کا اختلافی دور،برطانیہ کی وعدہ خلافیوںاور موجودہ الم ناک حکمت عملی پر روشنی ڈالی اور آخرمیں فرمایا کہ عرب کو تقسیم کرنے کے بعد فلسطین کی تقسیم نتائج کے اعتبار سے ناقابل برداشت ہے۔

 محی الدین صاحب قائد بی اے مدیر الجمعیۃ نے تجویز احتجاج پیش کرتے ہوئے اپنی مسلسل تقریر میں دل نشیں عنوان سے تقسیم فلسطین کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا۔ آپ نے فرمایا کہ فلسطین کا مسئلہ ایک خالص اسلامی مسئلہ ہے۔ قدس ظہور اسلام سے قبل اسرائیلی آثار سے محروم ہو چکا تھا۔ جب حضرت فاروق اعظم فاتحانہ حیثیت سے قدس میں داخل ہوئے، اس وقت یہودی اقتدار کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ یورپ سالہا سال تک صلیبی جنگیں لڑچکا ہے اور آج بھی ایک دوسرے عنوان سے فلسطین کی مقدس سرزمین پر قبضہ رکھنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

 حامد الانصاری غازیؔ نے تجویز کی تائید کرتے ہوئے انتدابی حکمت عملی کے ناروا اثرات اور تقسیم کے نتائج پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ عربوں کا قومی مسئلہ نہیں؛ بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اس کا اثر مشرق و مغرب کی سیاست پر یکساں پڑتا ہے۔ برطانیہ اپنی حکمت عملی کے استحکام کے لیے ہندستان پر قبضہ رکھنے پر مصر ہے اور اس لیے ایک طرف عقبہ اور فلسطین کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف نہر سویز اور اس کے ساحلی ماحول سے علاحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس باب میں ہماری ذمہ داریاں اہم ہیں اور ہمیں حضرت مفتی صاحب کی مدبرانہ رہنمائی میں وقت کی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

 جناب ہلال احمد صاحب زبیری نے اپنی شائشتہ تقریر میں شاہی کمیشن کی رپورٹ کاکامیاب تجزیہ کیا اور فرمایا کہ کمیشن کی سفارشات بالکل واضح ہیں۔ ان کے مفہوم میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ اگران کو طبع کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے، تو یہی بات حقائق کے چہرے سے نقاب الٹ دے گی۔ آپ نے نہایت گرم جوشی کے ساتھ احتجاج کی عملی نوعیت پر زور دیا اور فرمایا کہ برطانیہ کی قوت فیصلہ دنیا ئے اسلام کی رائے عامہ کی منتظر ہے۔ تقسیم فلسطین کے مسئلہ کو صرف اس لیے جمعیت اقوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے، تا کہ اس عرصہ میں مسلمانوں کی رائے کا علم ہو سکے اور اگر شاید نتائج رو نما ہونے کا امکان ہو، تو نو عیت فیصلہ کو بدل دیا جائے۔

سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے نہایت ہی پرجوش اور اثر انگیز تقریر فرمائی۔ آپ نے کلام مجید کی بر محل آیات پیش کرتے ہوئے برطانوی تدبرکی دردناک روایات اور مسلمانوں کے تأثرات پر ہمہ گیر تبصرہ فرمایا اور کہا کہ ایک طرف عربوں سے آزادی کا وعدہ کرنا اور دوسری طرف وطن یہود کے قیام کی اسکیم کو تیار کرنا قطعا د و متضاد امور تھے؛ لیکن برطانیہ نے اپنے مخصوص مفاد کی وجہ سے عملی سیاست کی روشنی سے ان پرغور نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمان برطانیہ کے طرز عمل سے شدید طور پر متأثر ہیں اور وہ چند لاکھ پونڈ کے عوض فلسطین کے بہترین حصہ کو برطانیہ اوریہود کے حوالے نہیں کر سکتے۔ اگر برطانیہ فلسطین کی بندرگاہوں کو چند لاکھ پونڈ میں خریدنا چاہتا ہے، تو کیا وہ افغانستان کے ہاتھوں کراچی کی بندرگاہ فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر وہ دوسروں کی اشیا اس طرح خریدنے کی جرأت رکھتا ہے، تو اسے اپنا مال بھی فروخت کرنا چاہیے۔

آخر میں حضرت صدر جلسہ نے رائے عامہ سے خطاب کیا اور جملہ حاضرین نے باتفاق آراتجویز کو منظور کیا۔تجویز حسب ذیل ہے:

فلسطین کی تقسیم ناقابل قبول

مسلمانان دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ جزیرۃ العرب کی ایک مقدس سرزمین فلسطین کی اس مجوزہ تقسیم کو -جس کی رو سے وہاں کے عرب باشندے زرخیز اور بہترین حصے سے محروم ہو کر غیر آباد،بنجر اور ریگستانی علاقے میں دھکیلے جارہے ہیں اور مقامات مقدسہ کی حفاظت اور نگرانی کی مقدس امانت ان کے ہاتھوں سے چھینی جا رہی ہے اور بہترین و زرخیز علاقہ پر مبغوض و مغضوب علیہ قوم یہود مسلط کی جارہی ہے اور مقامات مقدمہ پر برطانیہ بغیر کسی جائز قانونی استحقاق کے اپنا پنجۂ جمارہی ہے-سخت نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ مجوزہ تقسیم برطانی شہنشاہیت کی استعمار پسندی، یہود نوازی اور ہندستان پر انگلستان کی حکومت کے استحکام کے منصوبوں کی تکمیل کا آئینہ ہے۔ اور فلسطین کے عرب باشندوں کو سیاسی، اقتصادی، قومی، وطنی حیثیت سے اور مسلمانان عالم کو دینی اور مذہبی حیثیت سے ایک چیلنج ہے، جس سے برطانیہ کے غرور و تکبر اور امن عالم کی طرف سے کورا نہ بے پر وائی کا رازفاش ہو گیا ہے۔

باشندگان فلسطین کے لیے یہ تجویز کسی طرح بھی قابل قبول نہیں اور نہ مسلمانان عالم اس کو جزیرۃ العرب میں دینی حیثیت سے منظور کر سکتے ہیں۔

یہ جلسہ فلسطین کے عرب باشندوں کی اس تقسیم کے خلاف سرفروشانہ جد و جہد کو تحسین و تبریک کی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنی تمام ہمدردیوں اور امکانی اعانتوں کا ان کو یقین دلاتا ہے۔ اور برطانیہ کو بتا دینا چاہتا ہے کہ اگر یہ تجویز جلد سے جلد منسوخ کرکے فلسطین کے باشندوں کی آزادی اور خود مختاری تسلیم نہ کی گئی، تو عالم کا امن درہم برہم ہو جائے گا۔ اور اس کی ذمہ داری برطانیہ کی یہود نوازی اور استعماری حرص پر ہوگی۔

حضرت مفتی صاحب کا بیان

فلسطین آج اسلامی سیاست کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اعراب فلسطین اپنی جگہ پر اس مسئلہ کی پیچیدگیوں کا احساس کر رہے ہیں۔ بلاد اسلامیہ اپنے مقام پر مضطرب ہیں اور اسلامیان ہند اپنے موقف پر صورت حال کو دیکھ دیکھ کر پریشان و سراسیمہ ہیں، ا سلامیان عالم اپنے اپنے نقطۂ نظرسے اس مسئلہ کو دیکھ رہے ہیں؛ لیکن حضرت مفتی محمدکفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندکے حالیہ ار شاد کے مطابق’’ تقسیم فلسطین اعراب فلسطین ہی کے لیے نہیں؛ بلکہ مسلمانان روئے زمین کی مذہبی غیرت اور انسانی شرافت وحمیت کے لیے ایک کھلا ہواچیلنج ہے، اور اس چیلنج کی گہرائیوں میں برطانیہ کی استعمار پسند یہود نوازی اور وعدہ شکنی کے خفیہ منصو بے پنہاں ہیں اور وہ براہ راست مسلمانوں کے مذہبی و ملی اور اقتصادی وسیاسی اقتدار کو پامال کر رہے ہیں۔

 حضرت مفتی صاحب نے اپنے بیان میں دو اہم امور کی جانب اشارہ فرمایا ہے۔ اول حکومت برطانیہ کا اخلاقی تسفل اور دوسرا اسلامیان عالم پر تقسیم فلسطین کے اثرات۔ اخلاقی تسفل کا نتیجہ ہے کہ فسوں کاران برطانیہ نے آزاد عرب حکومت کے قیام کے متعلق اپنے صریح مواعید کو فراموش کر کے فلسطین کے حصے بخرے کر دیے ہیں اور مشرق قریب پر برطانی استعمار کی بقا کے لیے قدس اور دیگر اماکن مقدسہ پر اپنا انتداب اور فلسطین کے زرخیز سواحلی علاقہ پر یہودیوں کا اقتدار قائم کر دیا ہے۔ یہودنوازی اور وعدہ شکنی کا اس سے بہتر نمونہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ رائل کمیشن کا خیال ہے کہ ارض مقدس پر برطانیہ کا عمل جراحی کامیاب ہو جائے گا اور اس اسکیم کے ذریعہ وحدت عرب کا تصور کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا؛ لیکن یہ خیال خوش آئند ہونے سے زیادہ ابلہ فریب ہے۔ آج دنیا کا نقشہ بدل چکا ہے، اب کسی صورت سے ممکن نہیں کہ برطانیہ فلسطین کو پارہ پارہ کر کے اپنی استعماری اغراض کو تقویت پہنچا ئے اور نہ صرف فلسطینی عربوں کی مذہبی و سیاسی حیثیت ہی کو ختم کردے؛ بلکہ اسلامیان عالم کے قبلۂ اول کی مرکزی حیثیت کو بھی کمزور بنادے۔ اگر بر طانیہ کا یہ خیال ہے، تو وہ سرا سر غلط، نفس فریب اور غیر مدبرانہ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اگر استعمار پرستان مغرب نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی سعی کی، تو وہ ایک خوف ناک غلطی کا ارتکاب کریں گے اور ان کو نہ صرف فلسطین ہی میں مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؛بلکہ تمام مشرق قریب اور مشرق وسطیٰ میں ان کے لیے جرأت آزما مواقع پیدا ہوجائیں گے اور بالخصوص ہندستان میں ایک ایسی صورت حال پیدا ہوجائے گی، جو تقسیم فلسطین کی نہایت گراں قیمت ہوگی۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،5؍اگست1937ء)

تقسیم فلسطین کے متعلق مفتی اعظم ہندکا بیان

 رائل کمیشن (شاہی کمیشن) کی اشاعت پر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے یکم اگست 1937ء کو درج ذیل بیان دیا:

’’فلسطین کمیشن کی سفارشات اہل فلسطین کے نزدیک ہی ناقابل قبول نہیں؛ بلکہ ہر مہذب اور منصف انسان کا ضمیر ان کو ملامت کرتا اور مذموم سمجھتا ہے ۔ برطانیہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کی ظالمانہ اسکیم کی منظوری نے برطانیہ کی استعمار پسند یہود نوازی اور وعدہ شکنی کے خفیہ منصوبوں کو طشت ازبام کردیا ہے۔ یہ تقسیم سیاسی اور اقتصادی جہت سے تمام باشندگان فلسطین کے لیے عموما اور مذہبی حیثیت سے مسلمانوں کے لیے نا قابل تسلیم ہے۔

مسلمانان فلسطین اپنے خون کا آخری قطرہ بہادیں گے، مگر اس تقسیم کو قبول نہ کریںگے۔ اور مسلمانان عالم کی تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوں گی۔ یہ تقسیم صرف اعراب فلسطین کے لیے نہیں؛ بلکہ مسلمانان روئے زمین کی مذہبی غیرت اور انسانی شرافت و حمیت کے لیے کھلا چیلنج ہے اور اگر اس اسکیم کی تنفیذ پر اصرار کیا گیا، تو امن عالم کی تباہی اور بربادی کا عالم سوز منظر دنیا کے سامنے آجائے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوگی۔

محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اگست 1937ء)

مجلس عمل فلسطین کی تجاویز 

بعد ازاں8؍ اگست1937ء کو مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند، دائرہ شاہ حجۃ اللہ میں منعقد ہوا، جس میں مندرجہ ذیل قرار دادیں منظور ہوئیں:

تجویز نمبر (۱)رائل کمیشن کی مخالفت

 مجلس عمل جمعیت فلسطین کا یہ اجلاس جزیرۃ العرب کی ایک مقدس سرزمین فلسطین کی اس مجوزہ تقسیم کو- جس کی رو سے اعراب فلسطین سیاسی اقتدار اور اقتصادی ترقی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے گئے ہیں اور بحالت موجودہ وہاں کے زر خیر اور بہترین حصہ و نیز بندرگاہوںسے محروم ہو کرغیر آباد، بنجر اور ریگستانی علاقہ میں ڈھکیلے جا رہے ہیں اور مقامات مقدسہ کی حفاظت اور نگرانی کی مقدس امانت ان کے ہاتھوں سے چھینی جا رہی ہے اور بہترین اورزر خیز علاقوں پر یہودی قوم مسلط کی جا رہی ہے، اور شاہی اعلان 2؍ نومبر 1914ء کے صریحا خلاف ہے، مقامات مقدسہ پر برطانیہ بغیر کسی جائز قانون کے اپنا پنجہ جمار ہی ہے- سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رائل کمیشن کی یہ مجوزہ تقسیم برطانوی شہنشاہیت کی استعمار پسندی، یہود نوازی اور ہندوستان پرانگلستان کی حکومت کے استحکام کے منصوبوں کی تکمیل کا آئینہ ہے اور فلسطین کے عرب باشندوں کو سیاسی، مذہبی،اقتصادی، قومی اور وطنی حیثیت سے ایک چیلنج ہے، جس سے برطانیہ کے غرور و تکبر اور امن عالم کی طرف سے کورا نہ بے پروائی کار از فاش ہو گیا۔ باشندگان فلسطین کے لیے یہ تجویز کسی طرح قابل قبول نہیں۔ اور نہ مسلمانان عالم اس جزیرۃ العرب میں اپنی حیثیت سے منظور کر سکتے ہیں۔

 یہ جلسہ فلسطین کے عرب باشندوں کی اس تقسیم کے خلاف سرفروشانہ جد و جہد کو تحسین و تبریک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور اپنی تمام ہمدردیوں اور امکانی اعانتوں کا ان کو یقین دلاتا ہے۔ اور برطانیہ کو بتا دینا چاہتا ہے کہ اگر یہ تجویز جلد سے جلد منسوخ کر کے فلسطین کے باشندوں کی آزادی اور خود مختاری تسلیم نہ کی گئی، تو تمام عالم کا امن درہم برہم ہو جائے گا۔ اور اس کی ذمہ داری برطانیہ کی یہود نوازی اور استعماری حرص پر ہوگی۔

تجویز نمبر(۲):3؍ستمبر1937ء کو فلسطین ڈے منانے کا اعلان

 مجلس عمل جمعیت فلسطین کا یہ جلسہ طے کرتا ہے کہ کہ جمعہ 3؍ستمبر1937ء کو تمام ہندستان میں فلسطین ڈے منایا جائے اور مسلمانان ہند سے اپیل کرتا ہے کہ اس دن کو کامیاب بنانے میں پوری جدو جہد سے کام لیں۔ مسجدوں میں بعد نمازجمعہ دعائیں کی جائیں۔ شام کو تمام مقامات پر بڑے بڑے جلسے منعقد ہوں۔ اور جن مقامات پر جلوس کا انتظام ہو سکے، وہاں جلوس نکالے جائیں۔ جلسوں میں رائل کمیشن کی رپورٹ اور برطانوی حکومت کی یہود نواز استعماری پالیسی اور فلسطین کے مقدس مقامات پر جابرانہ قبضہ کے خلاف تجاویز پاس کی جائیں۔ اور نفرت و پنداری کا اعلان کیا جاوے۔

تجویز نمبر(۳):ایک مشترک اجلاس کا فیصلہ

 مجلس عمل کا یہ اجلاس یہ محسوس کرتے ہوئے -کہ فلسطین کا مسئلہ انتہائی نازک اور فیصلہ کن مدارج سے گزر رہا ہے- تجویز کرتا ہے کہ آئندہ ماہ میں دہلی، یا کسی دوسرے مناسب مقام پر مجلس عمل کا جلسہ منعقد کیا جاوے، جس میں دیگر اسلامی اداروںکو بھی مدعو کیا جائے، تاکہ مقاطعۂ ثلاثہ اور دیگر تجاویز کے متعلق با ہمی غور و فکر اور پوری بصیرت کے کوئی مؤثر عمل کیا جاسکے۔ 

 (سہ روزہ الجمعیۃ،24؍ اگست 1937ء)

جمعیت علمائے سندھ کا تقسیم فلسطین کی تجویز پر احتجاج

17؍اگست 1937ء کو سندھ میں جمعیت علمائے سندھ کا عظیم الشان اجلاس عام ہوا، جس میں کانگریس میں شرکت کا اعلان کیا گیا، تقسیم فلسطین پر احتجاج، انڈیمان کے اسیران سیاسی کی رہائی کا مطالبہ اور کئی دیگر اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍اگست 1937ء)

زعماو علمائے ہند کا یوم فلسطین منانے کا ایک مشترکہ اعلان

24؍اگست 1937ء کو ہندستان کے علمااور سیاسی لیڈران نے  3؍ستمبر جمعہ کویوم فلسطین منانے کی اپیل کی جاری کی۔ اپیل میں کہا گیاکہ:

’’رائل کمیشن کی رپورٹ نے عربوں کے وطن کو ان سے چھین لیا، ان کا مقدس مقام -جو انھیں کا نہیں؛ بلکہ تمام دنیائے اسلام کا قبلۂ اولیٰ ہے- اسلامی سیادت سے نکال کر حکومت برطانیہ کے زیرانتداب کردیاگیا۔ یہ رپورٹ ایک کھلا ہوا چیلنج ہے، جسے دنیائے اسلام کوقبول نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ خداکا شکر ہے کہ تمام ممالک اسلامیہ نے اس کے خلاف اعلانات کیے اور بتا دیا کہ وہ اس کا ہر طرح کا مقابلہ کرنے کو تیارہیں ۔اب مسلمانان ہندکا  یہ فرض ہے کہ وہ ایک آواز ہو کر 3؍ستمبر سے اپنی عملی جد و جہد شروع کر دیں۔ مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس کے جلسہ منعقدہ 8؍اگست نے 3؍ستمبر بروز جمعہ آل انڈیا یوم فلسطین قرار دیا ہے ،اس دن ملک کے ہرہرگوشہ میں شان دار مظاہرے کیے جائیں اور جلسہ کر کے اس رپورٹ پر اظہار نفرت اور ناراضگی کیا جائے۔

 نیز ہماری استدعاہے کہ اس آواز پر ہندستان کے تمام مقتدرا شخاص اور کل اسلامی جماعتیں لبیک کہیں اوراپنی اور اسلامی زندگی کا ثبوت دیں۔

۱۔ حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی جانشین شیخ الہند۔۲۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند۔ (۳) حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند۔ (۴) حضرت مولانا محمدقطب الدین عبدالوالی صاحب فرنگی محل۔ (۵)حضرت مولانا مفتی عنایت اللہ صاحب فرنگی محلی۔(۶) حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت بہار۔ (۷) حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حفظ الرحمان صاحب۔ (۸) جناب ڈاکٹر سید محمود صاحب (وزیر تعلیمات بہار)۔(۹) جناب چودھری خلیق الزماں صاحب لیڈر مسلم لیگ پارٹی۔ (۱۰) حضرت مولانا محمد میاں صاحب مرادآبادی۔(۱۱) حضرت مولاناحافظ محمدا براہیم صاحب وزیر مفادعامہ۔ (۱۲) حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی۔ (۱۳) حضرت مولانا بشیر احد صاحب سیوہار وی۔ (۱۴) حضرت مولانا ابو الوفا صاحب۔(۱۵)محمد الفار و قی سکریٹری مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس (۱۶) حضرت مولانا محمد شاہد صاحب۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ،24؍اگست 1937ء)

تقسیم فلسطین کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس

چنانچہ 3؍ستمبر1937ء کو مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ملک گیر سطح پر یوم فلسطین منایا گیا اور دہلی میں توتاریخی ہڑتال کی گئی، جس کی رپورٹ درج ذیل ہے:

تاریخی ہڑتال

مسلمانان دہلی بزرگان جمعیت علمائے ہند کی مسلسل تقاریر اور مواعظ سے یہ واضح طور پر سمجھ چکے تھے کہ مسئلۂ فلسطین مسئلۂ خلافت سے زیادہ اہم اور دور رس ہے اور ارض مقدس کی حفاظت و تقدیس کے لیے اسلامیان ہند کو اس سے زیادہ ایثار و قربانی کرنی چاہیے، جو تحریک خلافت کے دور میں کی گئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانان دہلی نے اس حقیقت کو گوش ہوش سے سنا، قلب کی گہرائی میں جگہ دی اور۳؍ ستمبر کو اپنی اسلامی اخوت، جوش عمل اور گرمی حیات کا وہ دور آفریں مظاہرہ کیا، جو شاید ہی کسی دوسرے مقام پر نظر آیا ہو۔ صبح ہی سے شہر کے تمام بازار اور گلی کوچوں کی دکانیں بند تھیں اور تمام شہر سنسان نظر آرہا تھا۔ ہڑتال کا منظر اور مسلمانوں کا جوش و خروش بتار ہا تھا کہ تحریک خلافت کے بعد سے آج تک دہلی میں اس قدر مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال نہیں ہوئی۔

پرشکوہ جلوس 

نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد شاہ جہانی سے مسلمانان دہلی کا ایک عظیم الشان جلوس نکلا، جو ’’فلسطین زندہ باد، برطانیہ مردہ باد اورتقسیم فلسطین منسوخ کرو‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہوا شہر کے بڑے بڑے بازاروں میں سے گذرا، جلوسیوں کی تعداد ہزارں ہزارتھی۔رضا کار گوشہ گوشتہ پر نظر آر ہے تھے۔ ورکروں کے ہاتھوں میں جھنڈیاںاور نشانات تھے اور جیش رضا کاران کے سیاہ پوش سپہ سالار گھوڑوں پر سوار جلوسیوں کی رہنمائی اور ترتیب و تنظیم میں مصروف تھے۔

جوشیلے انسانوں کا یہ ٹھا ٹھیں مارتا ہواسمندر جس طرف بھی نکلا،اسی طرف مسلمانوں کے جوش و خلوص کا ایک نقش قائم ہو گیا اور دنیا پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ مسلمانان ہند آج بھی اپنے اقتدار رفتہ کی بازیابی، اپنے مذہب کی تقدیس اور اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے تمام اختلافات کو مٹاکر ایک رشتۂ اتحاد میں منسلک ہونے کے لیے تیار ہیں؛ مگر وہ صرف ایک بے لوث، عمل پرست اور صائب الرائے رہنما چاہتے ہیں۔

جلسہ کی کارروائی

نماز جمعہ کے بعد سے پانچ بجے تک جلوس نے تمام بڑے بڑے بازاروں میں گشت لگایا اور ٹھیک پانچ بجے گاندھی گر اؤ نڈ میں پہنچ گیا۔

مسلمان جوق درجوق جمع ہونے شروع ہو گئے اور تھوڑی سی دیر میں حد نظر تک پرجوش انسانوں کا ایک بے پناہ سمندر نظر آنے لگا۔ مبصرین کا اندازہ ہے کہ تقریبا اسی ہزار مسلمانوں نے جلسہ میں شرکت کی۔ اسٹیج پر جو حضرات تشریف فرما تھے، ان میں سے خاص طور پر قابل ذکر حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند، مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احرار، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبد الماجد صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی،مولانا حامد الانصاری غازمی ایڈیٹر الجمعیۃ، کامریڈ احمد دین، سید حبیب ایڈیٹر سیاست اور مسٹرہلال احمد زبیری ایڈیٹرانصاری ہیں۔

حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی تقریر

ساڑھے پانچ بجے تلاوت قرآن مجید اور قومی ترانوں کے بعد جلسہ کی با ضابطہ کارروائی شروع ہوئی۔ مولانا احمد سعید صاحب نے حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کا اسم گرامی صدارت جلسہ کے لیے پیش کرتے ہوئے ایک مختصر سی افتتاحی تقریر کی، جس میں یہ فرمایا کہ فلسطین سے مسلمانان ہند کادو گو نہ تعلق ہے: ایک مذہبی؛ کیوںکہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول اور ارض مقدس انبیا علیہم السلام کا مسکن و مدفن ہے۔ دویم سیاسی؛ کیوںکہ تقسیم فلسطین کے پردہ میں برطانیہ کا مقصد یہود نوازی، یا اپنے اخلاقی وعدوں کا ایفا نہیںہے؛ بلکہ اپنی شہنشاہی اغراض کی تکمیل، وحدت عرب کی تباہی،بحر روم پر تسلط اور ہندستان کی غلامی کا استحکام مقصود ہے۔ 

مولانا کی تحریک پر مسٹرعطاء الرحمان وکیل نے مفتی صاحب کی صدارت کی تائید کی۔

حضرت مفتی صاحب کی حقائق افروز تقریر

حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فلسطین کی مذہبی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ فلسطین ہی میں وہ مقدس مسجد اقصیٰ ہے، جہاں سرکار دو عالمﷺ کی معراج کی پہلی منزل ختم ہوئی۔ یہی وہ پاکیزہ مقام ہے۔ جس کے گردوپیش میں بار کنا حولہ کہہ کو برکتیں نازل کیں۔ اور یہی وہ برگزیدہ جگہ ہے، جس کے متعلق آقاکریم نے فرمایا: لا تشد الرحال الاالی ثلاثۃ مساجد: تین مساجد میں عزم کے ساتھ سفر کر کے جانا چاہیے: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ،مسجد نبوی۔مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب پچیس ہزار گو نہ ملتا ہے۔

حضرت مفتی صاحب نے مسئلۂ فلسطین کی سیاسی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں نے تیرہ سو برس تک فلسطین کی تقدیس کی حفاظت کی اور ہزار ہا مسلمانوں نے اپنے سرخ و گرم خون کے قیمتی قطرے بہا بہا کر ارض مقدس کو مشرکین کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا جہاد اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے؛ لیکن مسلمانوں نے رواداری کے ساتھ ارض قدس کے دروازوںکو یہود و نصاری پر ہمیشہ کھلا رکھا اور کبھی ان کے مذہبی شعائر میں مداخلت نہیں کی؛ مگر اس کے باوجود انگریزوں نے فلسطین پر ہمیشہ نظر رکھی اور بالآ خر جنگ عظیم میںشریف مکہ کو اپنی فریب کاریوںکا شکار بنا کر اور یہ وعدہ کر کے کہ اگر اتحادی کامیاب ہو گئے، توجزیرۃالعرب میں ایک آزاد عرب حکومت قائم کردی جائے گی۔ خلیفہ المسلمین سلطان ترکی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دیا اور ترکوں کو عرب سے نکال کر آزاد عرب حکومت قائم کرنے کے بجائے فلسطین،شرق اردن اور عراق پر اپنا تسلط قائم کر لیا اور شام فرانس کے حوالہ کر دیا۔

 مفتی صاحب نے کرنل لارنس کی ریشہ دوانیوں، سر ہیئری میکموہن کے جھوٹے وعدوں اور اعلان بالفور کی فریب کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ایک فریب تھا۔ اعلان بالفور کھلے متضاد وعدوں پر مشتمل ہے اور دیدہ و دانستہ یہ دجل کیا گیا ہے۔

جنرل البنی فاتح بیت المقدس نے فتح قدس کے بعد کہا تھا کہ آج آخری صلیبی جنگ ختم ہوگئی۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے برطانیہ کی نیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ صلیبی جنگوں کا انتقام لے رہا ہے۔ آپ نے تقسیم فلسطین کی نوعیت پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ عربوں کو بنجرو کوہستانی علاقہ دے کرہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے اور بیت المقدس اور بیت اللحم پر برطانی انتداب قائم کر کے صلیبی تمناؤں کو پورا کیا ہے اور زرخیز و ساحلی علاقہ اور بندرگا ہیں یہودیوں کو دے کر بحر روم میں اپنی شہنشاہیت کو مضبوط، اسلامی مرکزیت کو تباہ اور ہندستان کی غلامی کو پائدار بنایا ہے۔ شاطران برطانیہ کی یہ اسکیم یہود نوازی و استعمار پرستی ہی کے مرادف نہیں ہے؛ بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے اورہندستان کی زنجیر غلامی کا از سر نو استحکام ہے۔

قرارداد

 مفتی صاحب کی تقریر کے بعد مولانا احمد سعید صاحب نے حسب ذیل قرار داد پیش کی:

 اہالیان دہلی کا یہ جلسہ انتہائی صدمہ کے ساتھ ان حقائق کا اظہار کرتا ہے:

الف رائل کمیشن نے فلسطین کی مقدس سرزمین کو تین حصوں میں تقسیم کر کے مسلمانان عالم کی مذہبی غیرت اور قومی حمیت کو نہایت خطر ناک چیلنج کیا۔

ب تقسیم کی تجویز مشرق اور خصوصا ہندستان کی آزادی کے خلاف کھلا ہوا چیلنج ہے۔ یہ تقسیم کی تجویزتمام عرب کے لیے دائمی غلامی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ تقسیم مقامات مقدسہ اسلامیہ کے قلب پر عمل جراحی ہے۔یہ تقسیم برطانوی استعماریت کی حرص وہوس کا روشن آئینہ ہے۔

ج یہ تجویز برطانی وعدہ خلافی کا زیادہ سے زیادہ روشن ثبوت ہے۔

د یہ تقسیم قیام امن کے بہانہ سے امن عالم کو تباہ و برباد کرنے کے مترادف ہے۔

ھ یہ تجویز عربوں اور یہودیوں کی آزاد حکومت قائم کرنے کے پردے میں مسلمانوں سے سلطان صلاح الدین کی فتوحات کا کھلا ہوا انتقام ہے، ان وجوہات سے عرب اور فلسطین اور مسلمانان عالم اور تمام آزادی پسند منصف مزاج انسان ایک لمحہ کے لیے بھی اسے قبول نہیں کرسکتے ۔

اعراب فلسطین اس مقدس سرزمین کے استقلال وآزادی کو قائم رکھنے کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بہاد دیں گے اور یہودی سلطنت اور برطانوی تسلط کو اس سر زمین کی ایک انچ زمین پرقائم نہ ہونے دیںگے اورتمام عالم اسلامی واہل مشرق کے ہمدردان ان کے ساتھ ہوں گے اور اس تجویز پر اصرار کرنے کی صورت میں امن عالم کی تباہی و بربادی کی تمام تر ذمہ داری برطانیہ اور جمعیت اقوام پر عائد ہوگی۔

شیخ حسام الدین کی ولولہ انگیز تائید

شیخ صاحب موصوف نے تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم فلسطین یورپ کی ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے ،جو جنگ عظیم کے دوران میں مسٹر گلیڈ سکون وزیر اعظم برطانیہ کی تحریک پر برطانیہ، فرانس، اٹلی اورروس کے مابین ایک خفیہ معاہدہ کی صورت میں نمودار ہوئی تھی اور جس کا منشایہ تھا کہ اسلامی ممالک میںتبلیغی مشن، مدارس، شفا خانے اور مغربی خواتین کے ذریعہ عریانیت کی تحریک پیدا کر کے اسلامی اخوت و وحدت اور جذبۂ جہاد کوختم کر دیا جائے۔ آپ نے مغربی اصول حکمرانی کو طاقت اور ضرورت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے جنگ عظیم میں یہودیوں سے رشوت لے کر فلسطین ان کے حوالہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور دوسری طرف سلطان ابن سعود نے معدنیات نکالنے کے لیے چھپن برس کے واسطے حجاز کے ریگستانوں کا ٹھیکہ دے کر عالم اسلام کے لیے ایک نئے خطرہ کی راہ پیدا کر دی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ مصطفی کمال پاشا کی طرح منظم و مضبوط ہو کر اس اسکیم کو ناکام بنائیں۔

 شیخ صاحب کے بعد مسٹر بختیار بار ایٹ لا اور سید حبیب نے مختصر تائیدی تقریریں کیں۔

مسئلۂ ہندستان و فلسطین ایک ہے

لاہور کے مشہور سوشلسٹ لیڈر کامریڈ احمد دین نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان اور فلسطین کا مسئلہ ایک ہے۔فلسطین یونین جیک کا وجود ہندستان میں برطانی اقتدار کی وجہ سے ہے۔ آپ نے کہاکہ مسلمانان ہند ہمیشہ ایسے مسئلہ پر متفق اور سر گرم عمل ہوں، جس میں ہندستان کی آزادی کا تصور ہو۔ اثنائے تقریر میں آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم لیگ کے پروگرام میں ہندستان کی آزادی نہیں،لہذا اس مقصد کے حصول کے لیے کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل ضروری ہے۔

مولانا حبیب الرحمان کاہنگامہ خیز بیان

مولانا موصوف نے ایک ولولہ انگیز تقریر کی، جس میں یہ واضح کیا کہ اسلامیان ہند کے لیے اس موضوع پر یہ بہتر ین راہ عمل تھی کہ وہ مسئلۂ فلسطین کا حل کانگریس کے ساتھ مل کر پیدا کرتے؛ لیکن جس طرح عرب خان بہادروں(سلاطین عرب)نے فلسطین میں اس ایجی ٹیشن کوابلہ فریب وعدوں سے ختم کرا دیا، اسی طرح ہندستان میں مجلس عمل فلسطین کانفرنس کے چندغداروںنے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی اور وہ اپنی سعی میں کامیاب ہوگئے۔

باہمی تفریق پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اختلاف عوام میں نہیں ہے؛ بلکہ خواص میںہے اور اب تک یہی سوال حل نہیں ہو سکا ہے کہ کس لیڈر کو زیادہ ہارپہنائے جائیں۔ ہند ومسلم سمجھوتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے کہا کہ دنیا میں سیاسی سمجھوتوں کی کوئی قیمت نہیں۔ مخالفین کو دنیا میں کوئی نہیں بخشتا۔ انگریزوں نے قلعۂ معلی کے بسنے والوں کو، نادر خان نے امان اللہ خان کے مددگاروں کو اور اتا ترک نے اپنے مخالفین کو دنیا کے سامنے یہ تیغ کر دیا۔

آپ نے کہا کہ اصل چیز قوت ہے۔ اگر قوت نہ ہو گی،توگاندھی جی ،یا جواہر لال کی منظور کردہ فرد مطالبات پاؤں کے نیچے کچل ڈالنے کے قابل ہے۔

مولانا عطاء اللہ شاہ کی تقریر

شاہ صاحب نے ایک مختصر تقریر میں فرمایا کہ میرے نزدیک قبلۂ اول سے زیادہ قبلۂ دویم کا مسئلہ ا ہم اور پریشانی افزا ہے۔ انگریز نے مکہ معظمہ کی گھاٹیوں اور مدینہ منورہ کے صحراؤں کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ خدا انجام بخیر کرے۔ آپ نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین بھنور کی طرح قربانی مانگتا ہے۔ اگر دس ہزار مسلمان جیل جانے کے لیے تیار ہیں، تو اس مسئلہ کا حل پیدا ہو سکتا ہے۔ مولانا محمد علی مرحوم کا مقولہ نقل کرتے ہو ئے آپ نے فرمایا کہ اگر اسلامی مرکزیت اور اسلامی حرمت کی بقا کے لیے ہندستان کے آٹھ کروڑ مسلمان بھی مر جائیں، تو کچھ پرواہ نہیں؛کیوںکہ اس قربانی سے باقیپچیس کروڑ اسلامیان عالم ضرور آزاد ہو جائیںگے۔ حضرت شاہ صاحب نے آخر میں مسلمانان دہلی کو عسکری تنظیم کی دعوت دی اور دعا پر جلسہ برخاست کر دیا۔

یوم فلسطین کے سلسلہ میں اسلامیان دہلی نے جس قدر مذہبی حمیت اور اسلامی اخوت کا ثبوت دیا ہے، مستحق مبارک باد ہے۔ نیز مولانا عبد الماجدصاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی- جن کی مخلصانہ ساعی سے یہ تاریخی جلسہ و جلوس مرتب ہوا- قابل صد ہزارتحسین و تبریک ہیں۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ،9؍ستمبر1937ء)

وائسرائے کے نام صدر جمعیت علمائے ہند کا تار

فلسطین میں برطانیہ کے تشدد کو ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے، 9؍اکتوبر1937ء کو حضرت العلامہ مولانا مفتی محمدکفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے وائسرائے کو درج ذیل تار ارسال فرمایا:

’’فلسطین کے متعلق برطانیہ کے موجودہ تشدد آمیز رویہ نے تمام عالم اسلامی کو مضطرب کر دیا ہے، جو معاملہ اعراب فلسطین کے ساتھ ان کی وطنی تحریک کی پاداش میں کیا جا رہا ہے، یہ انصاف اور آئین کے خلاف ہے ۔

برائے کرم مسلمانان ہندستان کے اضطراب اورغم و غصہ کے جذبات سے برطانوی حکومت کو مطلع کر کے موجودہ تشدد کے انسداد کی صورت نکالیے اور مسلمانان عالم کو مطمئن کیجیے۔

(سہ روزہ الجمعیۃ9؍اکتوبر1937ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا قیام

31؍ اکتوبر1937ء کو میرٹھ میں مجلس عمل فلسطین کانفرنس کا اجلاس حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب پوپلزئی پشاوری کی صدارت میں متعدد نشستوں اور گرما گرم بحثوں کے بعد ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں طول و عرض ہند کے تقریبا ایک سو لیڈر ان ملت نے شرکت فرمائی، جس میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدرجمعیت علمائے ہند، مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند ،مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احراراسلام، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری،چودھری افضل حق صاحب، مولانا حفظ الرحمان صاحب، مولانا بشیر احمد صاحب، مولانا فخر الدین صاحب (مراد آباد)، مولوی محمد احمد صاحب کاظمی ایم ایل اے، ڈاکٹر حماد فاروقی براسٹریٹ لا،مسٹر ہلال احمدزبیری ایڈیٹر انصاری، سر محی الدین قائد ایڈیٹر الجمعیۃ، شیخ حسام الدین بی اے،جناب عبد الغفور صاحب ایم ایل اے وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

مجلس عمل کا پہلا عام جلسہ

29؍اکتوبر1937ء کیشب کو مجلس عمل کا ایک عام جلسہ نارائن ہال کے سامنے ایک نہایت وسیع اور خوب صورت آراستہ و پیراستہ پنڈال میں منعقد ہوا۔ ساغر صاحب نے اپنے قومی ترانوں سے پبلک کو محظوظ کیا اور اس کے بعد لیڈران کرام حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب، شیخ حسام الدین صاحب اور مولانا بشیر احمد صاحب نے مسئلۂ فلسطین اور دیگر مسائل حاضرہ پر ولولہ انگیز تقریریں فرمائیں اور مولانا حبیب الرحمان صاحب نے خصوصیت کے ساتھ مسلم لیگ کی موجودہ کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لیڈر ان مسلم لیگ کی بے عملی، وجاہت پسندی اور تعطل وجمود پر سیر حاصل تبصرہ فرمایا۔

مجلس مضامین میں غورو خوض

30؍اکتو بر1937ء کی صبح مجلس مضامین کا اجلاس بند کمرہ میں شروع ہوا۔ تمام ارکان مجلس عمل، بزرگان احرار اور چند مقتدر لیڈروں نے گفت و شنید میں بے ضابطہ طور پر شرکت کی۔ اس اجلاس میں مسئلۂ فلسطین کا حل تلاش کرنے اور اسلامیان ہند کو اپنے وطنی وملی فرائض بجالانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ بعض حلقوں کی طرف سے مسئلۂ فلسطین کا حل پیدا کرنے کے لیے سول نافرمانی اور عمل براہ راست کا پروگرام اصرار کے ساتھ پیش کیا گیا اور یہاںتک مطالبہ کیا گیا کہ اگر مجلس عمل نے اس وقت-جب کہ برطانی حکومت فلسطین کے حصے بخرے کرنے اور عربوں کو تباہ وبرباد کرنے پر آمادہ ہو چکی ہے- کوئی مؤثر و عملی قدم نہیں اٹھایا، تو چند رہنما اس پروگرام کو اپنی ذمہ داری پر ملک کے سامنے پیش کریںگے۔ اس تجویز کے مقابلہ میں ایک غالب اکثریت کا رجحان یہ تھا کہ اس وقت ہندستان جس پیچیدہ سیاست سے روشناس ہو رہا ہے، اس کا تقاضہ اس پروگرام کے بالکل منافی ہے۔ نیز فلسطین کے غیر مستقل اور تغیر پذیر حالات کے پیش نظر کوئی انتہا پسندانہ اقدام مفید ہونے کے بجائے مضر ہو سکتا ہے۔ آج دن بھر اسی موضوع پر گفت و شنید رہی اور بالآخر شام کے وقت یہ طے پایا کہ چودھری افضل حق صاحب، مولانا حفظ الرحمان صاحب، مولوی محمد احمد صاحب کاظمی، ڈاکٹر حمادفاروقی اور مسٹر ہلال احمدزبیری پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کیا ہے، جو تمام گفت و شنید اور موجودہ حالات و واقعات کی روشنی میں اصل قرار داد کا مسودہ تیار کرے۔

سب کمیٹی کی قرار داد

سب کمیٹی نے تین گھنٹے کی مسلسل غوروخوض کے بعد شام کے وقت اپنا مسودۂ تجویز ایوان کے سامنے پیش کردیا اور پھر اس پر کافی بحث و تمحیص ہوتی رہی اور چند جزوی ترمیمات بھی پیش کی گئیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس قرار داد کا ما حصل یہ ہے کہ آل انڈیا فلسطین کا نفرنس دہلی نے گزشتہ سال مقاطعات ثلاثہ کے متعلق جوقرار داد منظور کی تھی، اسی کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ اور کسی عملی پروگرام کو خود کرنے اور اس کی تفصیلات پر عمل کرنے لیے ایک نمائندہ کمیٹی تشکیل کی جائے، جو بہت جلد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کر دے۔

 مغرب کی نماز سے قبل یہ اجتماع کسی آخری اور قطعی نتیجہ پر پہنچے بغیراگلے دن کے لیے ملتوی ہو گیا۔

مجلس عمل کا دوسرا عام جلسہ

آج شب کو مجلس عمل کا دوسراپبلک جلسہ زیرصدارت مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احرار اسلام ہند منعقد ہوا۔ پنڈال بجلی کے سرخ و سبز اور سفید قمقموں سے جگمگا رہا تھا اور اس خوش آئند اور دل فریب روشنی میں سرخ پوش خدائی خدمت گار،جلسہ گاہ کے اہتمام اور نظم ونسق کے قیام کے لیے چاروں طرف گشت لگاتے ہوئے ایک نہایت ہی خوش نما منظر پیش کر رہے تھے۔ آج کے اجتماع میں تقریباً دس ہزار اسلامیان میرٹھ ملحقات اور ایک ہزاربرادران وطن موجود تھے اور والہانہ انداز میں مقررین کی ولولہ انگیز تقریریں سننے کے لیے بے تاب تھے۔

تلاوت قرآن شریف کے بعد جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ جناب ساغر، جاںباز اور مولانا میر ہلالی نے حیات آفریں قومی ترانے پڑھے اور اس کے بعد صدر محترم نے ایک مختصر؛ مگربصیرت افروز تقریر کی۔

مولانا حفظ الرحمان صاحب کی حقائق افروز تقریر

صدر محترم کی تقریر کے بعد مولانا حفظ الرحمان صاحب رکن جمعیت علمائے ہند نے اپنے مخصوص ودل نشیں انداز میں ڈیڑھ گھنٹہ تک ایک مفصل و جامع تقریر کی، جس میں مسئلۂ فلسطین کوواضح کیا۔ اور 1857ء سے آج تک مسلمانوں کی منظم جدوجہد آزادی، علما کی قربانی اور عامۃ المسلمین کی وطنی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بیسویںصدی کے فن پر وپیگنڈہ نے جہاں اور بہت سے مخرب اخلاق طریقے سکھائے ہیں، وہاں ایک نئی راہ یہ بھی کھول دی ہے کہ وہ نام نہاد لیڈر-جن کے قومی کیریکٹر مشتبہ ہیں-حضرات علما کو مرتد و کافر بتار ہے ہیں اور اپنی اغراض کے لیے مذہبی پیشواؤں پرنا پاک سے ناپاک حملے کر رہے ہیں۔ مولانا نے بہت سے اہم مسائل وقت پر فاضلانہ انداز میں تبصرہ فرمایا اور اپنی سحر پاش تقریر سے عوام وخواص پر نہایت ہی خوشگوار اثر پیدا کیا۔

مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر

مولانا حفظ الرحمان صاحب کی تقریر کے بعد حضرت شاہ صاحب نے قرآن مجید کی آیت: ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدواھا وجعلوا اعزۃ اہلہا اذلۃ کی تلاوت فرماتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور حکومت برطانیہ کی ملوکیت پرستی کو واضح کرتے ہوئے ہندستان کی رجعت پسند قوتوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ مسلم لیگ ہو، یا ہند ومہا سبھا؛ یہ دونوں فرقہ وارانہ انجمنیں اپنی متعلقہ قوموں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ہر عمل و قربانی کے وقت میدان آزادی سے غائب رہتی ہیں اور ملک کی قومی تحریکات کو فائدہ پہنچانے کے بجائے انگریز کی استعماری گرفت کو مضبوط کرتی ہیں۔ 

شاہ صاحب موصوف نے مسٹر جناح کی بے عملی اور اسلامی مفادات سے بے پرواہی کا تذکرہ کرتے ہو ئے فرمایا کہ مسٹر جناح نے مسند خلافت، مسئلۂ فلسطین،مسجد شہید گنج، تحریک موپلہ وغیرہ مواقع پر کوئی خدمت انجام نہیں دی۔ اور جس وقت علم الدین شہید نے راجپال کو رنگیلا رسول، کتاب لکھنے کی سزا میں قتل کیا تھا، تو انہی مسٹر جناح نے علم الدین شہید کے باپ سے دس ہزار روپیہ لے کر مقدمہ کی پیروی کی۔

حضرت شاہ صاحب نے تین گھنٹے تک تقریر فرمائی اور رات کو ۲؍بجے جلسہ بر خاست ہوگیا۔

سبجیکٹ کمیٹی کا دوسرا اجلاس

31؍اکتوبر1937ء کی صبح کو حضرت مفتی صاحب قبلہ بھی دہلی سے تشریف لے آئے اور مجلس مضامین کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ آج آپ کی رہنمائی سے مجلس مضامین کی وہ قرار داد- جس پر دو روز سے مسلسل بحث ہورہی تھی- تکمیل کے مدارج تک پہنچ گئی اور موصوف کے مفید مشورہ سے حسب ذیل الفاظ میں منظور ہو گئی :

قرارداد نمبر-۱:مقاطعات ثلاثہ کوجاری رکھنے کا فیصلہ

چوںکہ یہ حقیقت روشن ہو چکی ہے کہ حکومت برطانیہ مسلمانوں کے قبلۂ اول اور مقدس ارض فلسطین کے ایک زرخیز حصہ کویہودیوں کے حوالہ کر دینے اور ارض فلسطین پر اپنی حکومت قائم کرنے اور فلسطین کے اصلی مستحقوں کے، یعنی اعراب فلسطین کو غیر آباد پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں دھکیل دینے پر تلی ہوئی ہے اور اس سلسلہ میں انصاف اور آئین کے اصول کو نظر انداز کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے مستحکم موا عید اور اسلامیان عالم کے مذہبی جذبات کو پامال کرنے کا تہیہ کر چکی ہے اور باشندگان فلسطین پر بے پناہ مظالم توڑ رہی ہے اور اس سب کارروائی کا اصل مقصد برطانوی مفاد کی حفاظت اور استعماری پالیسی کی تنفیذ اور ہندستان پربرطانوی قبضہ کا استحکام ہے اور اس صورت حال کو مسلمانان ہند کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے مجلس عمل فلسطین کا یہ جلسہ فیصلہ کرتا ہے کہ مقاطعات ثلاثہ :(۱)برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ۔(۲) دربار تاج پوشی کا بائیکاٹ(۳) اور آئندہ عالم گیر جنگ میں برطانیہ کی ہرقسم کی امداد کابند کرنے کی جو قرار داد آل انڈیافلسطین کا نفرنس منعقدہ دہلی میں منظور کی گئی تھیں، اس پر جلد از جلد عمل شروع کردیا جائے۔اس کامفصل پروگرام بنانے اور ملک کی رہنمائی کرنے کی غرض سے ایک مجلس تحفظ مقرر کر دی گئی ہے ، جو اکیس ارکان پر مشتمل ہے اور جس میں جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار اسلام اور مجلس عمل کے نمائندے شامل ہیں۔

تحریک فلسطین کو کامیاب بنانے اور آخری مرحلے تک پہنچانے کے لیے اس مجلس تحفظ فلسطین کو مکمل اختیارات حاصل ہوںگے۔اوریہ مجلس اپنی صواب دید کے مطابق تحریک کو آگے بڑھانے کی اور مقاطعات ثلاثہ کی کامیابی کے لیے جو طریقہ مناسب سمجھے گی، عمل میں لائے گی۔یہ مہم زیادہ سے زیادہ 15؍ دسمبر1937ء تک شروع ہو جائے گی اور اس درمیانی وقفے میں مجلس تحفظ فلسطین مقامی مجالس کے قیام اور رضا کاروں کی بھرتی کے ذریعہ سے مسلمانوں کو منظم کرے گی۔

 مجلس تحفظ کے ارکان حسب ذیل منتخب کیے گئے:

محرک :ڈاکٹر حماد فا روقی۔مؤید: احمد حسین قدوائی۔

جمعیت علمائے ہند سے:(۱) مولانا محمد میاں فاروقی۔ (۲) مولانا حسین احمد صاحب۔ (۳) مولانا حفظ الرحمان صاحب۔ (۴) مولانا فخر الدین صاحب۔ (۵) مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب۔ (۶) مولانا احمد سعید صاحب۔ (۷) مولانا نور الدین صاحب بہاری۔

جمعیت احرار اسلام ہند سے:(۱) مولانا حبیب الرحمان صاحب (۲) چودھری افضل حق صاحب (۳) مولانا مظہر علی صاحب (۳) ماسٹر تاج الدین صاحب (۴) مولانا حامد الانصاری غازی ایڈیٹر ا لجمعیۃ دہلی (۵) محمد احمد صاحب کا ظمی ایم ایل اے۔

مجلس عمل فلسطین سے: (۱)سید مظفر حسین صاحب الٰہ آباد (۲) ڈاکٹر اشرف (۳) مولانا شاہد صاحب فاخری (۴) مسٹر ہلال احمد زبیری (۵) مسٹر سعید رزمی اجمیر (۶) ڈاکٹر محمد حماد فاروقی الٰہ آباد (۷) مولانا قطب الدین صاحب عبد الوالی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 5؍ نومبر 1937ء)

ہندستان کی آزادی کا مسئلہ فلسطین کے مسئلہ سے الگ نہیں

31؍اکتوبر1937ء کی تاریخ کے تیسرے پہرکو جمعیت علمائے ضلع میرٹھ کا اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب منعقد ہوا، جس میںتمام مقامی علما و طلبا اور ہزاروںمسلمانوں نے شرکت کی۔ صدر موصوف نے جمعیت علماکے بنیادی نصب العین اور اس کی خدمات پر دو گھنٹے تک ایک مبسوط تقریر کی اور مسلمانوں کو جمعیت علما کے نظام سے وابستہ ہونے کی ہدایت کی۔

اسی تاریخ کی شب کو حسب پروگرام مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کی تقریر ہوئی۔آپ نے خصوصیت کے ساتھ مسئلۂ فلسطین کے تمام مذہبی وسیاسی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ ہندستان کی آزادی کا مسئلہ فلسطین کے مسئلہ سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دونوں مسئلے کو ایک ہی زاو یۂ نگاہ سے دیکھ کر ایک ہی وقت میں اور ایک ہی تدبیر سے حل کرنے ہیں۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،5؍نومبر1937ء)

فلسطین میں برطانوی پالیسی کیجمعیت علمائے بہار کی مذمت

جمعیت علمائے بہار کا ایک عظیم الشان اجلاس 27،28، 29؍مئی 1938ء کو ضلع چھپرا میں منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند نے فرمائی۔ اس اجلاس کی تجویز نمبر(۱۲) میں فلسطین میںبرطانیہ کی مسلم آزارپالیسی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے صوبہ بہار کا یہ اجلاس حکومت برطانیہ کی اس مسلم آزار پالیسی کے خلاف پرزور صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، جو اس نے فلسطین میں مظلوم عربوں کے جذبۂ آزادی کو کچلنے کے لیے اختیار کی ہے اور جس کے ماتحت ہزارہا مسلمانوں کا خون پانی کی طرح ارض مقدس میں بہایا جارہا ہے۔

  (سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍جون 1938ء) 

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی کا بیان

 جب برطانوی فوج کی بربریت اور مذہب کی توہین کی خبریں تسلسل کے ساتھ آنے لگیں، تو حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے ، 28؍جون 1938ء کو در ج ذیل تار وائسرائے کے نام بھیج کر حکومت کو نتائج بد سے آگاہ کیا: 

’’فلسطین کے مسلمانوں پر ناقابل گرفت مظالم کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ برطانوی فوجیں قتل و غارت کے علاوہ مسلمانوں کے مذہب کی توہین کا بھی ارتکا ب کر رہی ہیں۔ ان اطلاعات سے ہندستان کے مسلمان سخت مضطرب ہیں۔ مہربانی فرماکر مداخلت کیجیے ، ورنہ نتائج کی ذمہ داری آپ کی حکومت پر عائد ہوگی۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28؍جون 1938ء) 

فلسطین میںبرطانوی مظالم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا

فلسطین میں برطانیہ کے بڑھتے مظالم کے خلاف مولانا حفظ الرحمان صاحب رکن جمعیت علمائے ہند نے بھی5؍ جولائی 1938ء کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکام کا جبرو استبداد ہماری مذہبی حمیت پر ایک سخت حملہ ہے ، جسے بالکل بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ فلسطین میں موجودہ صورت حالات نے پھر ایک دفعہ ہمیں مجبور کردیا ہے کہ ہم اپنی قوت فیصلہ سے کام لے کر مفید اور مؤثر احتجاج کریں۔

 مولانا کا مکمل بیان درج ذیل ہے:

’’فلسطین میں موجودہ صورت حالات نے پھر ایک دفعہ ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم اپنی قوت فیصلہ سے کام لے کر مفید اور مؤثر احتجاج کریں۔ فلسطین کے مسئلہ کا ہندستان کی آزادی کے مسئلہ سے براہ راست تعلق ہے۔ مالٹا اور سوئز سے اس طرف (مشرقی ممالک میں )برطانیہ کی فوجی قوتیں جہاں کہیں بھی متحرک ہوتی ہیں،ان کا مقصد ومنشایہی ہوتا ہے کہ ہندستان پر برطانوی غلبہ کو تقویت پہنچائی جائے۔ 

مسلمانوں کے لیے فلسطین کے مسئلہ کی نوعیت خالص مذہبی ہے۔ فلسطین پر برطانوی تسلط کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہمارا قبلۂ اول انگریزی فوجوں کے قبضہ میں ہے۔ اور ہمارے مقامات مقدسہ پر بالواسطہ انگریزی اقتدار ہے۔

فلسطین اور ہندستان

برطانیہ ہندستان کی گردن پر سوار ہے اورہندستان پر قبضہ رکھنے کے لیے سوئز اور فلسطین دو ایسے مقامات ہیں، جو رکاب کا کام دیتے ہیں۔ ایک ہندستانی مسلمان کی حیثیت سے جب میں فلسطین کی غلامی کے مسئلہ پر غور کرتا ہوں، تو مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اس مقدس ملک کی بربادی اور غلامی میں ہماری غلامی اور بر بادیوں کا خاص حصہ ہے۔

اس وقت فلسطین میں صبر آزما حالات حد سے گزر چکے ہیں۔ آج ہم برداشت کی آخری سرحد پر کھڑے ہیں۔ ہماری اسلامی حمیت اور مذہبی غیرت کے لیے کوئی جائز دلیل باقی نہیں، جو ہمارے لیے مزید سکون و اطمینان اور سکوت وجمود کی بنیاد بن سکے۔ افراد و اشخاص پر مظالم کے بعد اب مقامات مقدسہ اور کلام مقدس کی بے پناہ بے حرمتی کا بھی نمبر آگیا۔

عمل کا وقت

اب جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں کا وقت نہیں رہا؛ بلکہ ضرورت ہے کہ اب جلد از جلد جمعیت علمائے ہند اس مسئلہ کی طرف فوری اور خاص توجہ دے اور اس خالص اسلامی فریضہ کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ مؤثر اقدام کے متعلق تدابیر سوچے اور ان کو بروئے کار لائے۔

متحدہ محاذکی ضرورت

میرے خیال میں فلسطین کے مسئلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اتحاد، بلندیِ حوصلہ اور ثبات و استقلال کی ضرورت ہے۔ میںپوری دیانت کے ساتھ یہ رائے دوںگا کہ جمعیت علمائے ہند کو عملی نقطۂ نگاہ سے میدان میں آکر تمام اسلامی ہند کی رہنمائی کرنا چاہیے۔ اور اس اہم مقصد کے لیے تمام اسلامی مجالس کو -خواہ ان کا سیاسی مسلک اور تنظیم جمعیت علمائے ہند کی تنظیم کے موافق ہو، یا مخالف- دعوت دینی چاہیے کہ وہ ایک خیال کے ماتحت ایک پر وگرام کے لیے ایک ساتھ مل کر اور متحد ہو کر کام کریں۔

مسٹر عزیز احمد وکیل کا بیان

 مسٹر عزیز احمد خاں صاحب وکیل بریلی نے جو اتحاد کی پیشکش کی ہے، اس سے حرف بحرف متفق ہوں۔ ہم عزیز احمد خان صاحب سے اور عزیز احمد خاں صاحب ہم سے، واقف نہیں ہیں۔اگردہ اس راہ میں مخلصانہ اقدام کے لیے تیار ہیں، تو میں ان سے زیادہ خلوص کے ساتھ یہ کہوں گا کہ فلسطین نے ہمارے دلوں کو مدد کی لذت سے مالا مال کر دیا ہے۔ یہ ایک ورثہ ہے، جس کے حصہ دار ہم سب ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جمعیت علمائے ہند استقلال کے ساتھ اور اتحاد کے جذبہ کے ماتحت اپنے حصہ کی قربانیوں سے پہلو تہی نہیں کرے گی۔

میں اپنے علم کی بنا پر یہ اعلان کرنے کی جرأت کرتا ہوں کہ جمعیت علمائے ہندبہت جلد فلسطین کے مسئلہ کے متعلق مجلس عاملہ کا جلسہ طلب کر رہی ہے۔ میں تمام اسلامی مجالس سے عموما جمعیت علمائے ہند اور مجلس عمل فلسطین سے خصوصا درخواست کرتا ہوں کہ جلد از جلد متحدہ محاذ قائم کریںاور مؤثر قدم اٹھائیں۔

 برطانیہ نے 1915ء میں شریف حسین سے جو آزادی کا وعدہ کیا تھا، اگر چہ وہ الفاظ کا ایک فریب تھا؛ مگر آج جو کچھ ہورہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کسی طرح یہ نہیں کہاجا سکتا کہ بر طانی حکومت کسی حیثیت سے بھی حق پر نہیں ہے۔ برطانیہ نے بد ترین سیاسی اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے۔ 1917ء کے اعلان کی رو سے بر طانیہ کی ذمہ داریاں دو گونہ تھیں۔

(۱) فلسطین کے عربوں کی آزادی۔(۲) یہودی وطن کا قیام۔

برطانیہ نے نہایت ہی فریب کے ساتھ اپنی پہلی ذمہ داری کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ اور فلسطین کو یہودی وطن بنا کر وہاں یہودی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 میں یہ کہوںگا کہ ہندستان کی ہر مسجد سے فلسطین کی آوازبلند ہوگی اور ہم بیت المقدس کی آزادی کے لیے آخری قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

(سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍ جولائی1938ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس

یکم اگست1938ء کو دفتر جمعیت علمائے ہند میں مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس منعقد ہوا۔یہ وہی مجلس ہے، جو جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اسلام ہند اور نیشنلسٹ مسلم پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل ہے، اور جس کی تشکیل فلسطین کا نفرنس میرٹھ میں ہوئی تھی۔

چودھری افضل الحق،مولوی مظہر علی اظہر، مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد، مولانا حفظ الرحمان، مولانا نور الدین بہاری، مولانا حامد الانصاری غازی،مسٹر ہلال احمد زبیری اور مسٹرحماد فاروقی نے اجلاس میں شرکت فرمائی۔

 مجلس نے اپنی دونوں نشستوںمیں- جو صبح گیارہ بجے اور شام کو ساڑھے پانچ بجے منعقد ہوئیں- مسئلۂ فلسطین کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا اور اس سلسلہ میں جوتازہ اطلاعات اور عربی لٹریچر موصول ہوا ہے، اس کی روشنی میں موجودہ حالات کا جائزہ لیا۔

 دوسری نشست میں حضرت علامہ مفتی محمد کفایت صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کا مشورہ بھی مجلس نے حاصل کیا، اور تقریباپانچ گھنٹے تک بحث و تمحیص جاری رہی۔ کا رروا ئی صیغۂ راز میں ہے۔ کل اس مجلس کا اجلاس پھر ساڑھے سات بجے سے ہو گا۔ کل مزید ارکان کی شرکت بھی متوقع ہے۔

2؍اگست1938ء کی صبح آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک جمعیت علمائے ہند کے دفتردہلی میں مجلس تحفظ فلسطین کی تین نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں ان حضرات کے علاوہ -جو کل کے اجلاس میں شریک تھے- باہر سے آنے والے مزید ارکان نے بھی شرکت فرمائی اور بعض غیر ارکان کو بھی مشورہ کے لیے گفتگو کا موقع دیا گیا۔ آج کے غور و خوض اور بحث و تمحیص میں جن اصحاب نے حصہ لیا، ان کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:

حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب۔ حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی۔ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب۔ حضرت مولانا احمد سعید صاحب۔ چودھری افضل حق صاحب (صدر اجلاس)۔ مولانا مظہر علی اظہر صاحب۔ مولانا حفظ الرحمان صاحب۔ مولانا بشیر احمد صاحب۔ مسٹر ہلال احمد صاحب زبیری ۔مسٹر حماد فاروقی۔مولانا ابو القاسم صاحب۔ مولانا نور الدین صاحب بہاری۔ماسٹر تاج محمد صاحب۔ مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی۔ مولانا حامد الانصاری غازی۔ مولانا عبد الصمد صاحب مونگیری۔

چوںکہ تمام گفتگو بند کمرے کے اندر ہوئی اور صیغۂ راز میں تھی، اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ آج کی بحث و تمحیص کی روشنی میں مجلس نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ ان حضرات کے عام رویہ سے -جو مجلس عاملہ میں شریک ہوئے -ایسا ضرور معلوم ہوتا تھا کہ فلسطین کے معاملہ میں جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اور مسلم نیشنلسٹ پارٹی کے نمائندے سنجیدگی کے ساتھ کسی عملی پروگرام پر غور کر رہے ہیں۔

اگر چہ آج دفتر کے باہر اخباری نمائندے جمع تھے اور انھوں نے کارروائی حاصل کرنے کی کوشش کی؛ لیکن اس سلسلہ میں کارروائی کو اس قدر صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے کہ کوئی یقینی بات نہیں معلوم ہو سکتی۔مجلس فلسطین کے ارکان اس مرتبہ بہت ہی متأثر معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں کی سنجیدگی سے ظاہر کرتی ہے کہ مجلس نے بہت ہی سنجیدہ فیصلے کیے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجلس کے ارکان فلسطین کے مسئلہ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کے لیے زبردست بحث کے بعد ایک فیصلہ کن متحدہ رائے تک پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے آثار اور قرائن اس طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ مجلس فلسطین کے کام کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر کرنا چاہتی ہے۔ اگر چہ ہندستان کی ہر جماعت سے آگے بڑ ھ کر رہنمائی کرنا اس کا فرض ہے؛ مگروہ دوسری جماعتوں کے مفید تعاون کو اغلباًکسی مرحلہ پر نظر انداز نہیں کرے گی۔ یہ بات تعجب انگیز ہے کہ جمعیت علما کی ورکنگ کمیٹی کے رکن اعلیٰ مولانا حفظ الرحمان صاحب کے بیان میں اتحادکی جو پیشکش موجود تھی، مسلم لیگ کونسل میں اس کا کوئی اثر محسوس نہیں ہوا، تاہم اس بیان کے بعد حالات میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ تمام معاملات کا انحصار مستقبل کے واقعات پر ہے۔ اگر فلسطین میں موجودہ صورت حال جاری رہی، تو مجلس کے تمام فیصلے اس کے مطابق ہوںگے ۔

تمام فیصلے اس کے مطابق ہوں گے۔ ہندستان کے مسلمان یقینا مجلس کے فیصلوں اور احکام کے منتظر ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند دن میں یقینی معاملات پیش کی جا سکیں گی اور مجلس تحفظ فلسطین -جن میں اسلامی ہند کے عظیم القدر رہنما موجودہیں- اپنے فیصلوں سے ان کی صحیح رہنمائی کرسکیں گی۔

 مجلس تحفظ فلسطین کے فیصلوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ جمعیت اور احرار کے حلقوں میں مجلس کا ایک مستقل مرکز می دفتر قائم کرنے اور اس کا نظام مکمل کرنے کے تذکرے ہو رہے ہیں اور اس سلسلہ میں ایک مؤثر اور نتیجہ خیز عملی پروگرام پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ مجلس نے آج کوئی قرار داد بھی منظور کرلی ہے۔

مجلس تحفظ فلسطین کا آخری اجلاس کل صبح آٹھ بجے منعقد ہو گا، جس میں تجاویز پر غور کر کے ان کا آخری فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہو گا، جو غالباً 4؍ا گست تک جاری رہے گا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،5؍اگست1938ء)

3؍اگست1938ء کو زیر صدارت جناب چودھری افضل حق صاحب دفتر جمعیت علمائے ہند میں مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں حسب ذیل حضرات نے شرکت فرمائی:

حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی۔ حضرت مولانا ابو المحاسن صاحب۔ حضرت مولانا احمد سعید صاحب۔ مولانا حفظ الرحمان صاحب۔ مولانا نور الدین صاحب۔ مولانا مظہر علی اظہر صاحب۔ سعید رزمی صاحب۔ ماسٹر تاج الدین صاحب۔ مولانا حا مدا نصاری صاحب غازی۔ ڈاکٹر محمد صاحب فاروقی۔ مولانا ابو القاسم صاحب۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب۔ مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی۔ مولانا بشیر احمد صاحب۔ مولانا عبد الصمد صاحب مونگیری۔ ہلال احمد صاحب زبیری۔

 فلسطین کے عربوں پر برطانیہ کے تشددانہ رویہ اور اس کی یہود نواز پالیسی پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے مسلمانان فلسطین کے ساتھ ہمدردی کے ذرائع پر غور و خوض ہوتا رہا اور پورے دو دن کی بحث و تمحیص کے بعد مجلس جس نتیجہ پر پہنچی ہے، اس کے متعلق ایک متفقہ بیان مرتب کیا گیا۔ اور حسب ذیل تجویز منظورکی گئی:

قرار داد مجلس تحفظ فلسطین 

مجلس تحفظ فلسطین کا یہ جلسہ فلسطین کے جگر خراش وروح فرسا واقعات کے پیش نظر مسلمانان ہند پر قبلۂ اول کی آزادی اور مسلمان بھائیوں کی اعانت و نصرت کا جو فریضہ عائد ہورہا ہے، اس کی ادائیگی کے لیے تجویز کرتا ہے کہ سول نافرمانی کی جائے۔ سول نافرمانی کی تیاری کے لیے تمام ہندستان میں فوراً جلسے شروع کر دیے جائیں۔ فلسطین کمیٹیاں قائم کی جائیں۔ رضا کار بھرتی کیے جائیں اور ان کی مضبوط اور منظم جماعتیں بنائی جائیں اور پوری تیاری کے ساتھ سول نافرمانی کے لیے مستعدی پیدا کی جائے۔ سول نافرمانی کا مؤثر اور نتیجہ خیز طریقہ متعین کرنے کے لیے ہندستان کی دوسری جماعتوں سے مشورہ کرنے اور ملک کو سول نافرمانی کے لیے تیار کرنے کی غرض سے فوراً کام شروع کر دیا جائے، تاکہ 7؍ اکتوبر 1938ء، مطابق 11؍ شعبان1357ھ کو مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس کے بعد -جو فلسطین کے معاملات پر بحث کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کے لیے قاہرہ مصر میں منعقد ہورہی ہے- جس قسم کی سول نافرمانی مناسب ہو، فورا شروع کر دی جائے۔ اسی درمیان میں امکانی کوشش کی جائے کہ ہندستان کی حکومتیں مسلمانان ہند کی طرف سے بر طانی حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ قضیۂ فلسطین کو انصاف اور اعراب فلسطین کی مرضی کے موافق جلد از جلد طے کردے۔

عہدے داران کا انتخاب

 مجلس تحفظ فلسطین کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے حسب ذیل عہدے داران منتخب ہوئے:

صدر: حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی۔

نائبین صدر: حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب۔ چودھری افضل حق صاحب۔ مولانا محمد میاں صاحب فاروقی۔ 

جنرل سکریٹری : مولانامحمد حفظ الرحمان صاحب۔

جو ائنٹ سکریٹری: مولانا ابو القاسم صاحب شاہجہا ں پوری۔ مسٹر ہلال احمد زبیری۔

خزانچی: حاجی عبد الغفار صاحب۔

وفود کی تشکیل

مجلس نے چار وفو د حضرت مولانا احمد سعید صاحب، حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا بشیر احمد صاحب اور حضرت مولانا نعیم صاحب کی قیادت میں منتخب کیے ہیں، جو تمام ہندستان کے مختلف صوبوں کا دورہ کر کے فلسطین کمیٹیاں قائم کریںگے اور اس مسئلہ کے متعلق مسلمانوں کی رائے تیار کریں گے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،9؍اگست 1938ء)

مظلوم عربوں کے ساتھ ہمدردی کے متعلق مجلسِ تحفظِ فلسطین کا فیصلہ 

مجلس تحفظ فلسطین نے اپنے اجلاس منعقدہ یکم و 2؍اگست 1938ء میں جو متفقہ بیان  مرتب کیا، اس کا متن درج ذیل ہے:

فلسطین کی حالتِ زار اور برطانوی حکومت کے ہول ناک مظالم

مسجدِ اقصیٰ بیت المقدس کی حفاظت کا فریضہ اور مسلمانانِ ہند 

مظلوم عربوں کے ساتھ ہمدردی کے متعلق مجلسِ تحفظِ فلسطین کا فیصلہ اور اپیل

تمام مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح ہے کہ مسجدِ اقصیٰ بیت المقدس، فلسطین، وہ مقدس اور اہم ترین مقام ہے ،جس کے تقدس کی حفاظت کی خاطرقرون اولیٰ کے مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں اور اپنا خون پانی کی طرح بہایا ہے، اور صدیوںسے مسلمانوں کی حفاظت و سیادت کے ماتحت مسیحی اور یہودی قومیں بھی آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی مراسم ادا کرتے چلے آئے ہیں۔

جنگِ عظیم کے مشؤوم نتائج میں یہی مقدر تھا کہ یہ مقدس علاقہ بدنصیب ہندستانی فوجوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کی حکومت سے نکل کر برطانوی حکومت کی نگرانی میں آ گیا۔ برطانی حکومت نے ہندستان کی غلامی کی زنجیریں مستحکم کرنے کی غرض سے فلسطینی مسلمانوں کے تمام حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے ’’اعلانِ بالفور‘‘ کے ذریعے یہودیوں سے یہ وعدہ کر لیا کہ فلسطین کو تمھارا قومی وطن بنایا جائے گا۔

اس اعلان کے خلاف فلسطین کے اعراب اسی وقت سے جدوجہد کر رہے ہیں، اور جہاں تک ممکن تھا، انھوں نے آئینی ذرائع سے اعلانِ بالفور کو منسوخ کرانے کی سعی کی۔ لیکن جب ان کی تمام آئینی کوشش بے کار ہوگئیں، اور برطانیہ نے کامل بے پرواہی اور پورے تکبر و غرور سے کام لے کر ان کے صحیح اور جائز مطالبات کو ٹھکرا دیا، تو اعرابِ فلسطین میں بمصداق ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ اور ’’جو وقت ضرورت جو… دست بگیر وسرشمشیر تیز‘‘ انھوں نے قانون شکنی اور ہڑتالوں کا طریقہ اختیار کر لیا۔

ان کی تمام تر جدوجہد اور متشددانہ مقابلہ بالکل مجبوری کی حالت میں ہوا ہے۔ حکومتِ برطانیہ کا رویہ ان کے ساتھ اس قدر جابرانہ اور متشددانہ ہے کہ ان کی زندگیاں دشوار ہو گئی ہیں۔ یہودیوں کی کئی لاکھ کی آبادی زبردستی فلسطین میں بسا دی گئی، اور ان کے ساتھ برطانیہ کے ہمدردانہ رویے نے یہودیوں کو اس قدر جری کر دیا ہے کہ وہ بھی عربوں پر طرح طرح کے مظالم توڑ رہے ہیں۔

الغرض، اس وقت اس خطۂ مقدس کے مسلمان باشندے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہودیوں کے بموں کا نشانہ بن کر مر رہے ہیں، اور حکومت کی طرف سے آتش بازی، گولیوں، قید اور جلاوطنی کے شکار بنائے جارہے ہیں۔ ان کی طرف سے فریاد و شیون کا شور بلند ہو رہا ہے، اور تمام عالم کے مسلمانوں سے وہ رو رو کر امداد و اعانت کی اپیلیں کر رہے ہیں۔

ہندستان کے مسلمانوں نے جہاں تک آئینی ایجیٹیشن اور مظاہروں کا تعلق تھا، دو سال کے عرصے میں پورے زور اور طاقت کے ساتھ احتجاج کیا، کانفرنسیں منعقد کیں، جلسے کیے، قراردادیں پاس کیں، ’’یومِ فلسطین‘‘ منائے، تار بھیجے، مگر حکومتِ برطانیہ کے کانوں پر جو نہ رینگی، اور اس کا جابرانہ و متشددانہ رویہ اپنی پوری ہول ناکی اور ہلاکت آفرینی کے ساتھ تیزی سے جاری رہا اورجاری ہے۔

ان حالات میں ہمارے لیے کوئی چارۂ کار نہیں رہا کہ اپنا وہ فریضہ-جو ہم پر قبلۂ اول، مسجدِ اقصیٰ بیت المقدس کی حفاظت اور مسلمان بھائیوں کی نصرت و اعانت کا خدا و رسول کی طرف سے عائد ہوتا ہے- پورا کریں۔ ظاہر ہے کہ ہم موجودہ حالات میں ان کو کوئی مادی، جنگی امداد نہیں دے سکتے، مالی امداد پہنچانا بھی دشوار ہے، مگر ہم اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ برطانوی حکومت پر اپنی انتہائی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے اپنے آپ کو قید و بند کی تکلیف اٹھانے اور جیلوں میں جانے کے لیے تیار رہیں۔

اس لیے جمعیت علمائے ہند، مجلسِ احرار اور جمعیت فلسطین کے آزاد خیال مسلمانوں کی مشترک اجلاس نے یہ فیصلہ کیاہے کہ ہندستان کے مسلمانوں پر اس وقت لازم ہو گیا ہے کہ… (ریکارڈ سے ایک ہی صفحہ دستیاب ہوسکا۔ بسیار تلاش کے باوجود بقیہ حصہ نہیں مل سکا۔ (محمد یاسین جہازی)

جمعیت علمائے ہند کی فلسطین پر برطانوی مظالم کی مذمت

مجلس تحفظ فلسطین کے اگلے دن ، 3؍ اگست 1938ء کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں برطانوی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی: 

’’جمعیت علما کا یہ جلسہ فلسطین کے جگر خراش اور روح فر سا واقعات اور بر طانوی مظالم کو سخت غم و غصّہ کی نظر سے دیکھتا ہے اور قبلۂ اول کی حفاظت اور مسلمانان فلسطین کی امداد و اعانت کے سلسلہ میں مجلس تحفظ فلسطین نے جو حسب ذیل تجویز پاس کی ہے ،جمعیت عاملہ کا یہ اجلاس اس کی تصدیق و توثیق کرتا ہے اور تجویز کرتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند اپنے تمام ذرائع اس تجویز کو کامیاب بنانے میں بر وئے کار لائے اور جمعیت کی صوبہ وار شاخوں اور تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس مقدس اور مذہبی فریضہ کی ادائیگی میں پورے جوش اور انہماک کے ساتھ قربانی کے لیے کھڑے ہوجائیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍364)

فلسطین کے لیے بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز

یکم تا 3؍اگست 1938ء کو منعقد مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میں بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی تحریک کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا، جس کی تفصیلات آچکی ہیں۔اس کے علاوہ مجلس عاملہ 3؍اگست1938ء کے اجلاس میں منظور کردہ درج بالا تجویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پورے ہندستان میں فوجی دستے اور فلسطین کمیٹیاں قائم کرکے جگہ جگہ جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس سلسلے میں حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے جو بیان دیا ، وہ درج ذیل  ہے:

’’مسئلۂ فلسطین کی اہمیت اور مسلمانوں کے قبلۂ اول کی عظمت اور اعراب فلسطین کی حالت پر غور کرنے کے لیے مجلس تحفظ فلسطین کا جلسہ دہلی میں منعقد ہوا۔ دو دن تک بحث و مباحثہ جاری رہا اور انتہائی غور و فکر کے بعد مجلس نے جو تجویز پاس کی، وہ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ مجلس کے صدر حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب اور ناظم مولانا حفظ الرحمان صاحب مقرر ہوئے ہیں۔ مجلس کا مرکزی دفتر دہلی میں رہے گا۔ مجلس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ سب سے اہم اور ضروری چیز یہ ہے کہ ہر شہر اور ہر قریہ میں فلسطین کمیٹیاں قائم کی جائیں اور ہر ایک کمیٹی رضا کار بھرتی کرے، مسلمانوں میں عام جلسے کیے جائیں اور ان کو بیت المقدس کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ جس گاؤں، یا شہر میں فلسطین کمیٹی قائم کی جائے، اس کی اطلاع مرکزی دفتر کو دی جائے۔ یہ تمام کام زیادہ سے زیادہ ستمبر کے آخر تک ہو جائے۔ صوبجاتی حکومتوں سے بھی خط و کتابت شروع کر دی گئی ہے۔ آج حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی کی جانب سے تمام صوبجاتی حکومتوں کو خطوط روانہ کیے جا رہے ہیں، تاکہ ہندستان کی تمام صوبجاتی حکومتیں سول نافرمانی شروع ہونے سے قبل گورنمنٹ برطانیہ کومسلمانوں کے صحیح جذبات اور ہرقسم کے خطرات سے مطلع کر دیں۔ مرکزی مجلس کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں وفود بھی روانہ ہو رہے ہیں، جو صاحب اس سلسلے میں کوئی جلسہ کرنا چاہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مرکزی دفتر کو اطلاع دیں، تاکہ دہلی سے کسی ایسے مقرر کو بھیجا جاسکے، جو فلسطین کے معاملہ میں پوری بصیرت رکھتا ہو اور مسلمانوں کو فلسطین کی اہمیت سمجھا سکتا ہو۔ جو اہل خیر اس سلسلہ میں مالی خدمت کرنا چاہیں،وہ حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب ،مولانا حفظ الرحمان صاحب کے نام روپیہ روانہ کریں۔ اوائل اکتوبر میں ہی مسئلۂ فلسطین پر غور کرنے کی غرض سے مصر میں تمام عالم اسلامی کی ایک کا نفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ ہندستان سے اس کا نفرنس میں شریک ہونے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی کو منتخب کیا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ دونوں حضرات آخر ستمبر تک قاہرہ روانہ ہو جائیں گے۔

 میں آخر میں پھر مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وقت غفلت کا نہیں ہے، ہمارے مظلوم بھائی چشم براہ ہیں۔ فلسطین کی آزادی پر جزیرۃ العرب کی آزادی موقوف ہے۔ اگر ہندستان کے مسلمانوں نے تھوڑی سی ہمت سے کام لیا، تو اللہ تعالیٰ کی امداد ان کے شامل حال ہوگی۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 24؍اگست1938ء) 

مجلس تحفظ فلسطین کا چوتھا عظیم الشان اجلاس

17؍اگست 1938ء کو بعد نماز عشار لال کنواں بازاردہلی میں حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب کی صدارت میں مجلس تحفظ فلسطین کے جلسے میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا گیا۔ اس جلسہ کا شارع عام پرمنعقد کرنے کا اعلان کیاگیا تھا؛مگر پولیس نے ٹریفک بند ہونے کے خطرہ سے اس کوممنوع قرار دے دیا، جس کی وجہ سے ملحقہ مکان میں جلسہ کیاگیا۔ جلسہ میں لاؤڈ اسپیکر کا انتظام کیا گیا تھا۔ تمام مکان مسلمانوں سے بھرا ہوا تھا اور ہزاروں آدمی با ہر سٹرک پر بیٹھے ہوئے تھے۔

تلاوت قرآن کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب نے فلسطین کے معاملات پر تقریر فرمائی اور اس کے بعد حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں فلسطین کے معاملات کے تمام پہلوؤں کو نہایت پر جوش اور مؤثر پیرایہ میں مسلمانوں پر واضح کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ایک مغرور حکومت بہترکروڑ مسلمانوں کو چیلنج کر رہی ہے، مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس چیلنج کو قبول کریں اور اپنے عمل سے یہ ظاہر کر دیں کہ وہ فلسطین کے عربوں کے ساتھ پوری ہمدردی رکھتے ہیں۔ اپنی تمام مختلف الخیال مسلمان جماعتوں کو فلسطین کے خالص اسلامی مسئلہ میں متحدہ محاذ پر کام کرنے کی دعوت دی۔ فلسطین کے لیے مجوزہ سول نافرمانی کے سلسلہ میں رضا کاروں کی بھرتی پر آپ نے زور دیا۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا مذہبی فرض ہے کہ وہ فلسطین کے درد مند بھائیوں کے ساتھ عملی طور پر اپنے ملک کی ہمدردی کا اظہار کریں۔ اور اس مظلومی وبے چارگی کی حالت میں جو کچھ وہ کر سکتے ہیں، اس کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ آپ کی تقریر نہایت ولولہ انگیز تھی، جس نے مسلمانوں کے دلوں پر خاص طور سے اثر کیا۔

 آپ کے بعد حضرت مولانا احمد سعد صاحب نے اپنے خاص انداز میں ایک مؤثر تقریر فرمائی اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ مجوزہ سول نا فرمانی کے لیے اپنی رضا کارانہ خدمات پیش کریں۔جلسہ ڈیڑھ بجے کے قریب ختم ہوا۔(سہ روزہ الجمعیۃ،20؍اگست 1938ء)

مظلوم فلسطینیوں کی امداد

20؍اگست1938ء کومولانا حفظ الرحمان سکریٹری مجلس تحفظ فلسطین دہلی نے ایک بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ قبلۂ اول :مسجد اقصیٰ اور فلسطین کی تباہی و بربادی کی داستان اب کچھ پوشیدہ اور پیچیدہ مسئلہ نہیں رہا۔ مسلمانوں کو اپنے مظلوم بھائیوں اور مقدس مقام کی امداد اور اعانت کے لیے جانی و مالی قربانی پیش کرنی چاہیے۔ ہر جگہ مجالس تحفظ فلسطین قائم کی جائیں اور زیادہ سے زیادہ رضا کار بھرتی کیے جائیں۔

 اس مقدس خدمت کے لیے کم از کم ایک لاکھ ایثار پیشہ رضاکاروں کی ضرورت ہے۔ اسی غرض سے مجلس تحفظ فلسطین کا مرکزی دفتر دہلی میں قائم کیا ہے۔ مجھے آپ کی اسلامی حمیت اور مذہی ودینی غیرت سے متوقع ہے کہ آپ اس وقت تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس خالص مذہبی و دینی خدمت کے لیے مجلس کی ہر طرح کی اعانت و امداد فرمائیں، تاکہ جلد آنے والے وقت میں ہم زیادہ سے زیادہ مضبوط طریقہ پر اسلامی فریضہ کو خدائے قدوس کے بھر وسے پر انجام دیتے ہوئے دارین کی سرخ روئی حاصل کریں۔

( سہ روزہ الجمعیۃ،24؍اگست1938ء)

حوالہ مذکور کے ص؍۷ پرایک خبر درج ہے کہ 8؍جولائی1938ء کوکنتھاریہ کے اہل خیر مسلمانوں نے مظلومین فلسطین کے لیے دست امداد دراز کیا، چنانچہ پچاس معطین کے اسما مع رقم خبرمیں درج ہیں۔

فوجی بھرتی بل تحریک فلسطین کی تباہی ہے

متوقع جنگ عظیم دوم کے لیے افراد مہیا کرنے کے مقصد سے برطانوی حکومت ہند نے مسٹر اوگلوی ڈیفنس سکریٹری کے ذریعہ فوجی بھرتی بل کو منظوری دی، جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئیناظم مجلس تحفظ فلسطین حضرت مولانا محمدحفظ الرحمان صاحب نے 21؍اگست 1938ء کو درج ذیل بیان دیا:

’’مرکزی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے فوجی بھرتی کے خلاف تقریر کرنے والے کو مجرم قرار دینے کے لیے جو بل پیش کیا گیا ہے، اس کا سب سے پہلا وار فلسطین کی خالص اسلامی ومذہبی تحریک پر پڑے گا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان شریعت کے احکام کی بمو جب کسی مسلمان سے یہ نہ کہہ سکے کہ وہ برطانیہ کی فوج میں بھرتی ہو کر اپنے ہی ہاتھوں فلسطین، آزاد قبائل اور ممالک اسلامیہ کو تباہ وبرباد نہ کریں۔ اور اس طرح اپنی عاقبت کی بربادی مول نہ لیں۔

مسلمانوں کو معلوم ہے کہ فلسطین کمیٹی نے مقاطعۂ ثلثہ کی جو تجویز پاس کی ہے، اس کا ایک نمبر یہ بھی ہے کہ فوجی بھرتی کے خلاف سعی کی جائے۔ مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احرار اسلام پر جو مقدمہ چلا یا گیا ،وہ اسی کا ایک شاخسانہ تھا؛ مگر نہایت افسوس اور قابل شرم منظر یہ ہے کہ اس بل کی حمایت مسلمانوں ہی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ مولانا ظفر علی خان صاحب نے مسلم لیگ کے نمائندہ کی حیثیت سے جو تقریر کی، وہ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ دنیا میں ہر بری بات کے لیے بہتر پہلو نکالنے کی سعی ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور آج بھی اسی قسم کی افسوس ناک سعی کی جا رہی ہے۔

میں تمام اسلامی جماعتوں سے اسلامی غیرت و حمیت کے نام پراپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مسلم کش نا پاک بل کی پر زور مخالفت کریں اور احتجاجی جلسے کر کے حکومت کو متنبہ کر دیں کہ جو مسلمان اس بل کی حمایت کر رہے ہیں، مسلمانوں کی رائے عامہ ہرگز ان سے متفق نہیں ہے۔

خادم ملت محمد حفظ الرحمان کان اللہ لہ۔ ناظم مجلس تحفظ فلسطین دہلی ۔21؍اگست 1938ء۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28؍اگست 1938ء)  

مسئلۂ فلسطین کے متعلق جوش و خروش

25؍اگست 1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے زیر سرکردگی مسئلۂ فلسطین کے متعلق بلیماران دہلی میں جلسۂ عام کیا گیا، جس میں حضرت مفتی اعظم ہند، حضرت سحبان الہند، حضرت مجاہد ملت اور مولانا عبدالماجد صاحب نے تفصیل کے ساتھ واقعات فلسطین پر روشنی ڈالی اور مسلمانان ہند کو ان کے فریضۂ مذہبی سے آگاہ کیا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،28؍اگست1938ء)

صدر مجلس تحفظ فلسطین کی تعاون کی اپیل

حضرت مولانا سید حسین احمدمدنی صاحب صدرمجلس تحفظ فلسطین نے 20؍ستمبر1938ء کو  درج ذیل اپیل شائع کی:

’’گورنمنٹ برطانیہ نے فلسطین میں ظلم وستم کی جو گرم بازاری کر رکھی ہے اور یہود کو فلسطین میں آباد کرنے کی پیہم جو سعی جاری ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اعراب فلسطین پر مختلف انواع و اقسام کے ظلم کیے جارہے ہیں۔ ان کے مردوں اور عورتوں پر بلا امتیاز تشدد کیا جا رہا ہے اور گورنمنٹ اپنی قوت سے فلسطین کے اصلی باشندوں کو تباہ کر رہی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ ایسی منزل پہ پہنچ گیا ہے کہ اگر مسلمانوں نے اس وقت غفلت سے کام لیا، تو زمین قدس سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

قبلۂ اول کی اہمیت کا احساس رکھنے والے حضرات نے مجلس تحفظ فلسطین کا کام توکل علی اللہ شروع کر دیا ہے اور الحمد للہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے جو توقع تھی، اس کے موافق انھوں نے اس تحریک کا خیر مقدم کیا اورہندستان کے مختلف مقامات پر اس وقت تک بہت سی فلسطین کمیٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ مسلمانوںمیں اعراب فلسطین کی ہمدردی اور اعانت کے جذبات پیدا ہورہے ہیں اور وہ بڑی سے بڑی قربانی اس راہ میں کرنے کو تیار ہیں۔ اگر قاہرہ کا نفرنس میں کوئی نتیجہ خاطر خواہ نہ نکلا،تو وہ سول نافرمانی کرنے پر مجبور ہوںگے۔ اتنی بڑی تحریک کے لیے روپے کی جس قدر ضرورت ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ میں مسلمانوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ فراہمی چندہ کا کام پوری قوت سے شروع کر دیں اور جس قدر ممکن ہو سکے، زیادہ سے زیادہ روپیہ جمع کر کے مجلس تحفظ فلسطین کے ناظم اعلیٰ مولانا حفظ الرحمان صاحب کے نام روانہ کریں۔

میں امید کرتا ہوں کہ اہل خیر او راہل دل حضرات میری اس مختصر گزارش پر توجہ فرمائیں گے اور فلسطین کی عزت وحرمت کے تحفظ کے لیے اپنی آمدنی کا ایک معتد بہ حصہ وقف کر کے اللہ جل شانہ اور اس کے حبیب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارمیں اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔‘‘

محمد وحید الدین قاسمی، دفتر مجلس مرکز یہ تحفظ فلسطین دہلی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ،20؍ستمبر 1938ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا اہم اعلان

حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے 5؍ اکتوبر 1938ء کودرج ذیل بیان دیا:

’’فلسطین سے برطانیہ کے مظالم کی جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، وہ نہایت افسوس ناک اور دل خراش ہیں۔ فوجی حکام کو اس قدر وسیع اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ فلسطین کی آبادی پر بد ترین وحشیانہ مظالم برپاکر رہے ہیں۔ اخبار بیں طبقہ پر یہ امرپو شیدہ نہیں ہے کہ اس وقت فلسطین میں قیامت برپا ہے۔ گورنمنٹ برطانیہ اس پر تلی ہوئی ہے کہ اپنے استبدادی قوت کے پنچہ سے عربوں کے جذبات کو ہمیشہ کے لیے کچل دے۔ گورنمنٹ برطانیہ کے اس استعماری اور وحشیانہ طرز عمل سے- جس کا مسلمانوں کے مقدس مقامات میں مظاہرہ ہو رہا ہے- مسلمانان ہندستان کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے اور ہمارے امتحان کا زمانہ بہت قریب آگیا ہے۔

 میں ہندستان کے مسلمانوں سے اس قدر عرض کر دیناضروری سمجھتا ہوں کہ یورپ عنقریب اس متوقع جنگ میں مبتلا ہونے والا ہے، جس کی پیشین گوئی عرصہ سے کی جارہی تھی۔ اگر یورپ میں جنگ شروع ہو گئی، تو برطانیہ کو اس عام جنگ سے علاحدہ رہنا نا ممکن ہو جائے گا۔ اگر گورنمنٹ برطانیہ اس جنگ میں شریک ہوئی، تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو اپنے مذہبی فریضہ سے تغافل نہیں برتنا چاہیے اور مقاطعۂ ثلاثہ، اس تجویز کو- جس کا الہ آباد اور دہلی میں مسلمان معاہدہ کر چکے ہیں -نظر انداز نہیں کر دینا چاہیے۔ جنگ شروع ہوتے ہی بعض صوبوں میں آرمی بل کا نفاذ کر دیا جائے گا اور مسلمانوں کو گورنمنٹ کی فوجی بھرتی اور فوجی امداد کے لیے مجبور کیا جائے گا اور ایسے موقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جو معاہدہ خدا اور اس کے رسول سے کر چکے ہیں، اس کو پورا کریں اورکسی استبدادی قوت کے جیل خانوں سے ڈر کر کلمۂ حق کے اظہار میں کوتا ہی نہ کریں اور فلسطین کا نفرنس کے متفقہ فیصلوں پرعمل کر کے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کریں۔

خادم ملت :محمد حفظ الرحمان ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین دہلی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ،5؍ اکتوبر 1938ء)

 مؤتمر عالمی قاہرہ میں جمعیت علمائے ہند کی شرکت

7؍اکتوبرسے تا 11؍اکتوبر 1938ء قاہرہ میں دنیائے اسلام کے نمائندوں پر مشتمل عظیم الشان کانفرنس(مؤتمر) کا انعقاد کیا گیا، جس میںمؤتمر کے صاحب المعالی علویہ پاشا کی دعوت پر درج ذیل حضرات نے جمعیت علمائے ہند کے نمائندگان کی حیثیت سے شرکت کی:

 (۱) حضرت مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ صاحب۔ (۲) حضرت مولانا عبد الحق صاحب مدنی محدث جامعہ شاہی مرادآباد۔ (۳) مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل۔ (۴) مولانا سید احمد رضا صاحب ناظم مجلس علمی ڈابھیل۔ (۵) مولانا عبد الصمد صارم سیوہاروی فاضل دیوبند۔

حضر ت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند اس کانفرنس کی متعلق روداد تحریر فرماتے ہیں کہ: 

25؍جولائی 1938 ء کو قاہرہ سے میرے(مفتی کفایت اللہ صاحب) نام جناب محترم محمد علی علوبہ پاشا صدرلجنۃ برلمانیہ مصریہ للدفاع عن فلسطین کی طرف سے یہ دعوت نامہ موصول ہوا:

 القاہرۃ فی 19 ؍یولیو

حضرۃ صاحب السماحۃ مولا نا کفایت اللہ المعظم مفتی الہند الاعظم ورئیس جمعیۃ العلماء دہلی- السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔وبعد فلعلہ  قد وصل إلی مسامعکم ان  فریقا کبیرا من حضرات الشیوخ والنواب المصریین اعتزم عقد مؤتمر برلمانی عام للبحث فی قضیۃ فلسطین وقد اتصلت مع عدد کبیر من حضرات النواب الشیوخ والزعماء فی البلاد العربیۃ والإسلامیۃ فوصلتنی منہم رسائل عدیدۃ یوافقون بہا علی فکرۃ عقد المؤتمر ویقترح بعضہم عقد المؤتمر فی القاہرۃ فی شہر اکتوبر لاسباب ابدوہا لہا وجاہتہا و جدارتہا وقد اقتنعت بصواب ہذہ الفکرۃ ولعلہ من الملائم ان یکون عقد المؤتمر فی یوم الجمعۃ الموافق شعبان ۱۲؍ شعبان ۱۳۵۷ھ (۷؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء)

وسنسعی فی الحصول علی تصریح بذلک من الحکومۃ المصریۃ وقد روعی من الفوروالمناسب ان یشترک ایضا فی ہذا المؤتمر زعماء العرب المسلمین فی الاقطار الاسلامیۃ والعربیۃ التی لیس فیہا برلمانات اتماما للقائدۃ المرجوۃ۔ لذلک یسرنی جدا ان اوجہ الی حضرتکم ہذہ الرسالۃ علی اصل ان تتفضلوا ببث الدعوۃ للاشتراک فی المؤتمربین حضرات الاخوان الزعماء فی قطر کم الکریم وان تتفضلوا بالکتابۃ الی فرصۃ قریبۃ بوجہۃ نظر کم فی ہذا الخصوص وان تزودونی بلائحۃ باسماء الاخوان الذین ترون من المصلحۃ دعوتہم للمؤتمر العتید وارجو ان تتفضلوا بقبول فائق الاحترام۔

محمد علی علوبہ رئیس اللجنۃ البرلمانیۃ المصریۃ للدفاع عن فلسطین

حضرت صاحب السماحہ مولانا کفایت اللہ صاب معظم مفتی اعظم ہندا اور رئیس جمعیت علمائے دہلی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ غالبا یہ بات آپ کے گوش گزار ہو چکی ہوگی کہ مصر کے شیوخ اور زعمائے قوم کی ایک بڑی جماعت نے ارادہ کیا ہے کہ فلسطین کے معاملات پربحث کرنے کے لیے ایک پارلیمنٹری کا نفرنس منعقد کی جائے۔ اور بلاد عر بیہ اور اسلامیہ کے زعماوشیوخ کی بہت بڑی تعداد نے اس رائے سے موافقت کی ہے اور میرے پاس ان کے بہت سے مراسلے آ چکے ہیں، جنھیں وہ انعقاد مؤتمر کی تجویز سے اتفاق رائے فرماتے ہیں اور ان میں سے بعض اصحاب نے یہ تجویز بھی فرمائی ہے کہ یہ مؤتمر 12؍ماہ اکتوبر1938ء میں قاہرہ میں منعقد ہو۔ یوم انعقاد جمعہ مبارکہ12؍ شعبان 1357ھ،مطابق7؍اکتو بر1938ء ہو۔ہم کوشش کریں گے کہ حکومت مصر سے اس کی منظوری حاصل کر لیں۔ یہ بھی ضروری اور مناسب سمجھا گیا کہ اس مؤتمر میں اُن ممالک اسلامیہ اور اقطار عربیہ کے نمائند ے بھی شریک ہوں، جن میں پارلیمنٹ قائم نہیں ہے، تاکہ انعقاد مؤتمر سے جو فائدہ مدنظر رکھا گیا ہے، وہ علی الوجہ الاتم حاصل ہو۔ اس لحاظ سے میں دعوت نامہ آپ کی خدمت میں ارسال کرنے میں دلی مسرت محسوس کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی طرف کے زعما ئے مسلمین میں مؤتمر کی دعوت پہنچا دیں گے ۔ اور مجھے جلد تر اس معاملہ میں اپنے نقطۂ نظر سے بھی مطلع فرمائیں گے اور جن حضرات کو اس مؤتمر میں شریک کرنا آپ کے نزدیک مصلحت ہو، ان کے اسم گرامی سے مجھے مطلع فرماکر میری امداد فرمائیںگے۔ امید ہے کہ آپ براہ کرم میری جانب سے تکریم واحترام قبول فرمائیں گے۔

محمد علی علوبہ رئیس لجنہ برلمانیہ مصریہ للدعفاع عن فلسطین۔ 

میں نے یہ دعوت نامہ جمعیت علما کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ 3؍اگست 1938ء میں پیش کر دیا۔ مجلس عاملہ نے اس پر غور و بحث کے بعد حسب ذیل تجویز (درج ذیل تجویز نمبر ۶) منظور کی:

’’مؤتمرعالمِ اسلامی متعلق فلسطین- جو قاہرہ میں منعقد ہونے والی ہے- اس کی شرکت کے لیے محمد علی علویہؒ کا دعوت نامہ- جو مفتی صاحب کے نام آیا ہے- پیش ہوکر قرار پایا کہ اس مؤتمر میں شرکت کرنی چاہیے اور مصا رف کا بندو بست ہوجائے، تو داعی کو اطلاع دے دی جائے کہ دو اصحاب جمعیت کی طرف سے مؤ تمر میں شرکت کریں گے۔ شرکا کے نام یہ ہیں:

۱۔ مفتی صاحب ۔(حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند)

۲۔ مولانا عبد الحلیم صاحبؒ۔(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍366)

 اس تجویز کے منظور ہونے کے بعد میں نے جناب محمد علی علو بہ پاشا صدر لجنہ بر لما نیہ مصریہ کو ان کے دعوت نامہ کا حسب ذیل جواب ارسال کیا:

 دفتر جمعیۃعلما ء ہند28؍ اگست 1938ء

حضرۃ صاحب السماحۃ مولانا محمد علی علوبۃ رئیس اللجنۃ البرلمانیۃ المصریۃ للدفاع عن فلسطین - القاہرۃ - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبعد۔ فقد وصل الی کتابکم الکریم علمت مافیہ وانا اتفق بفکرۃ عقد المؤتمر للبحث فی قضیۃ فلسطین ویسرنی ان اخبرکم ان کتابکم عرض علی الجمعیۃ العاملۃ لجمعیۃ العلماء الہند المرکزیۃ وانہا قررت قبول ہذہ الدعوۃ المہمۃ و عزمت توفید رجلین صالحین للنیابۃ عنہا وعن مسلم الہند و امرتنی ان اطلعکم انہا قبلت دعوتکم المبارکۃ متشکرۃ ممتنۃ ۔

وسیصل إلی القاہرۃ (ان شاء اللہ تعالی) مندوبان فی یوم عقدالمؤتمر یوم الجمعۃ الموافق ۱۲؍شعبان ۱۳۶۷ھ (۷؍اکتوبر۱۹۳۸ء)و انی استمرت بأمرکم ببث الدعوۃ بین زعماء ہذا القطر وارجو ان یعزم بعض الزعماء علی الشرکۃ ویمکن ان یرافق مریدالشرکۃ مندوبی جمعیۃ العلماء، ثم انکم سالتمونی ان اکتب الیکم اسماء الاخوان الذین یلائم وصول مکاتب الدعوۃ الیھم منکم۔ فأرسم اسماء بعض الزعماء ینبغی ان توجہوا الیکم مکاتیب الدعوۃ للشرکۃ فی المؤتمر۔

از دفتر جمعیت علمائے دہلی ،28؍اگست 1938ء۔

 حضرت صاحب السماحۃ مولانا محمد علی علوبہ رئیس لجنۃ برلمانیہ مصریہ للدفاع عن فلسطین القاہرہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

 آپ کا مکرمت نامہ پہنچا۔ میں اس کے مضمون سے مطلع ہوا۔ فلسطین کے معاملات پر غورو بحث کے لیے انعقاد مؤتمر کی تجویز سے مجھے اتفاق ہے۔ میں مسرت کے ساتھ آپ کو مطلع کرتا ہوں کہ آپ کا دعوت نامہ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے سا منے پیش کیا گیا اور مجلس نے اس دعوت مہمہ کی منظوری کے متعلق تجویز پاس کردی اور یہ عزم کر لیا ہے کہ وہ دومندوب جو -مؤتمر میں جمعیت علمائے ہند کی نمائندگی کریں- شرکت مؤتمر کے لیے روانہ کرے گی۔ مجلس نے مجھے یہ بھی حکم دیا ہے کہ میں آپ کی خدمت میں یہ اطلاع بھیج دوں کہ مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے آپ کی دعوت کو تشکر اور امتنان کے سا تھ قبول کر لیا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ جمعیت علماکی طرف سے دو مندوب یوم انعقاد مؤ تمر۱۲؍شعبان۱۳۵۷ھ، مطابق ۷؍کتو بر۱۹۳۸ء کوقاہرہ پہنچ جائیںگے۔ میں نے آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اس طرف کے زعما میں مؤتمر کی دعوت پہنچادی ہے اور مجھے آس ہے کہ بعض زعمائے مسلمین شرکت مؤتمر کے ارادہ سے جمعیت العلما کے مندوبوں کے ساتھ شریک سفر ہو جائیں۔

آپ نے اس امر کی خواہش فرمائی ہے کہ جن اکابر کو مؤتمرس شریک کرنامیرے خیال میں قرین مصلحت ہو، اُن کے اسمائے گرامی سے آپ کو مطلع کر دوں، تا کہ آپ اُن کے نام دعوت نامے ارسال فرمادیں، اس لیے ذیل میں چند نام تحریر کرتا ہوں۔ مناسب ہے کہ آپ ان کے نام دعوت نامے جاری فرمائیں:

(۱) حضرت مولانا سید سلیمان ندوی اعظم گڑھ دار المصنفین۔

(۲) مولانا السید حسین احمد صدر المدرسین دار العلوم دیوبند یوپی۔

 (۳)حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد نائب امیر الشریعۃ پھلواری شریف پٹنہ بہار۔

(۴)حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صدر المدرسین جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل ضلع سورت۔

 (۵)مسٹر محمد یونس صاحب ایم ایل اے پٹنہ بہار۔ 

(۶)حضرت مولانا عبد الحق المدنی ناظم مدرسہ شاہی مسجد مرادآباد یوپی۔

 وسأخبرکم بتاریخ رحلتی من دھلی باسماء رفقائی ان شاء اللہ وتفضلوا یاسیدی بقبول فائق الاحترام۔

 مخلصکم محمد کفایت اللہ رئیس جمعیۃ علماء ہند

اس خط کے قاہرہ پہنچنے پر جناب کی طرف سے یہ جواب موصول ہوا:

القاہرۃ ،۳؍ دسمبر۱۹۳۸ء

سیدی المفضال صاحب السماحہ مولانا محمد کفایت اللہ رئیس جمعیۃ العلما الھند السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ وبعد فقد وصل کتابکم الکریم نظر الغیاب معالی علوبہ باشافی رحلۃ قصیرۃ إلی اور با اتصلت بہ تیلیفونیا واخبرتہ بمضمون خطابکم الکریم فسرہ روح سما حتکم و غیرتکر علی قضیۃ فلسطین و نرجوان یجزیکم اللہ عن ہذہ المجہود المبارکۃ خیر الجزاء۔

 سیدی! سیکون المتؤتمر شرف الانتفاع بشخصیتکم الفذۃ وآرا ئکم السدیدۃ و قدارسلنا  بطاقات الدعوۃ الیٰ حضرۃ من تفضلتم بکتابۃ اسمائھم فی کتابکم الکریم ونرجو ان یکون لقضیۃ من مسلمی اقوی عون ونصیر وارجوا ان یتفضلوا بقبول عظیم اجلالی و شکری۔ 

سکرتاریۃ المؤتمر حسان ابو رحاب

قاہرہ ۳؍دسمبر ۱۹۳۸ء 

بعد سلام ۔آپ کا مکرمت نامہ پہنچا۔ چوںکہ جناب محمدعلی علوبا شا ایک مختصر سے سفر میں یورپ گئے ہوئے ہیں، اس لیے میں نے ٹیلیفون ملا کر ان سے گفتگو کی اور آپ کے مکرمت نامہ کا مضمون ان کو سنادیا، وہ آپ کی اس مہربانی اور قضیۂ فلسطین کے ساتھ ہمدردی اور دل سوزی سے بہت مسرور ہوئے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ آپ کو ان مساعی مبارکہ کی بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ مؤ تمر کو آپ کی یکتا شخصیت اور درست وصحیح رائے سے فائدہ حاصل کرنے کا شرف (ان شاء اللہ تعالی) حاصل ہوگا ۔ جن حضرات اکابر و زعماکے اسمائے گرامی آپ نے تحریر فرمائے تھے، اُن کے نام ہم نے دعوت نامے جاری کر دیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مسلمانو کی توجہ قضیۂ فلسطین کو حل کرنے میں بڑی مدد گار ثابت ہو گی۔ امید کہ آپ براہ کرم میری طرف سے شکریہ اور عظیم اجلال قبول فرمائیں گے۔

حسان ابو رحاب سکریٹری

 اس خط کے ساتھ ہی دعوتی کارڈ بھی -جو مندوبین کے لیے لجنۃ بر لمانیہ کی طرف سے طبع کرائے گئے تھے-آگئے۔ دعوتی کارڈ کی نقل یہ ہے:

حضرت صاحب…محمد علی علوبہ باشا رئیس اللجنۃ البرلمانیۃ المصریۃ للدفاع عن فلسطین یتشرف بدعوۃ…الحضورالمؤتمر البرلمانی العالمی للبلادالعربیۃ الإسلامیۃ الذی سینعقد بمدینۃ القاہرۃ ابتداء من یوم الجمعۃ۱۲؍ شعبان۱۳۵۷ھ ،۷؍اکتوبر۱۹۳۸ء للبحث فی حالۃ فلسطین الحاضرۃ.

(ترجمہ) حضرت صاحب…محمد علی علو بہ پاشا صدرلجنۃ برلمانیہ مصر یہ آپ کو مؤتمر برلمانی مصری میں -جو بلاد عربیہ اوربلاد اسلامیہ کے مسلمانوں کی کا نفرنس ہے اور جس میں فلسطین کی حالت حاضرہ پر بحث ہوگی اور جو قاہرہ میں ۱۲؍ شعبان ۱۳۵۷ھ، مطابق۷؍کتور ۱۹۳۸ء،کو منعقد ہوگی-شرکت کی دعوت دینے کا شرف حاصل کرتا ہے۔

قاہرہ کانفرنس میں شرکت کے لیے روانگی

مجلس عاملہ کی تجویز میں میرا اورمولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کا نام تجویز کیاگیاتھا؛ مگر اتفاق کہ مولانا عبدالحلیم صدیقی بعض عوارض کی وجہ سے نہ جاسکے۔اور پاسپورٹ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ اس لیے عین وقت پرحضرت مولانا عبد الحق صاحب مدنی کو -جن کے نام دعوت نامہ بھی آچکا تھا- میں نے رفیق سفر بنالیا اور28؍ستمبر 1938ء کو بمبئی سے وکٹوریہ نامی جہاز میں روانہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار ہونے کے بعد دوسرے روز مجھے بخار ہو گیا۔ ایک دو روزتک تو اس کو معمولی بخار سمجھا، کچھ زیادہ خیال نہ کیا؛ مگر جب بخار کی شدت بڑھتی گئی، تو جہاز کے ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا۔ اُس نے مجھے اپنے کمرے سے منتقل ہو کرہسپتال کے کمرہ میں چلے جانے کی فہمائش کی ۔آخر دوستوں کی رائے سے ہسپتال میں منتقل ہوگیا۔ڈاکٹر نے بخار کو ملیریا بخار سمجھا اور کونین کے انجکشن دیتا رہا۔ اور بڑی مقدارمیں کونین کھلاتا پلاتا رہا۔ اسی حالت میں5؍ اکتوبر 1938ء کو پورٹ سعیدپہنچ کر ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ وہاں ایک ڈاکٹر کودکھلایا۔ اُس نے دیکھ کرکہا کہ یہ بخار ملیریا نہیں معلوم ہوتا۔ یہ تو میعادی بخار معلوم ہوتا ہے اورچوںکہ آپ قاہرہ جارہے ہیں، اس لیے وہاں کسی قابل ڈاکٹرسے رجوع کیجیے۔ وہ خون کا امتحان کرکے صحیح رائے قائم کر سکے گا۔بہرحال پورٹ سعیدٹھہر گیا اور دوسرے رفقائے سفر قاہرہ چلے گئے۔ مولانا عبد الحق صاحب مدنی اور میں شام کی گاڑی سے روانہ ہو کر دوبجے شب کو قاہرہ پہنچے۔ راستہ میں اسماعیلیہ کے اسٹیشن پر ایک جماعت استقبال کے لیے موجود تھی۔ جمعیۃ الاخوان کے عہدے دار اور رضاکاران نے اسٹیشن پر خیر مقدم کا مظاہرہ کیا۔ اور لیحیٰ مولانا کفایت اللہ المفتی الاعظم، لیحی جمعیۃ العلماء کے پرجوش نعروں سے اسٹیشن کی فضا گونج اٹھی۔ وہاں سے گاڑی روانہ ہوئی اور جب قاہرہ کے اسٹیشن پر پہنچی، تو وہاں اکابر و زعمائے قاہرہ اورمسلمانوں کی ایک بڑی جماعت استقبال کے لیے موجود تھی۔مگر چوں کہ مجھے اس وقت بخار زیادہ تھا، اس لیے جناب ڈاکٹر عبد الحمید صاحب صدر جمعیۃ الشبان نے استقبال کرنے والے بزرگوں سے معذرت کر دی اور مجھے نہایت آرام سے موٹر میں بٹھاکر جمعیۃالشبان کے عالی شان دفتر کی عمارت میں لے آئے اور اسی مکان میں آخر تک میرا قیام رہا۔ اسی عالی شان مکان میں ہندستان کے تمام مندوبین ٹھہرے ہوئے تھے اور جمعیۃ الشبان نے میزبانی کے تمام فرائض باحسن وجوہ ادا کیے۔ 

میں6؍ اکتوبر کی شام کو آٹھ بجے قاہرہ پہنچا اورصبح کو یعنی ۷؍ اکتوبرشام کومؤتمرکا پہلا اجلاس شام کے پانچ بجے ہونے والا تھا؛ مگرڈاکٹر نے میرا معائنہ کرنے کے بعد یہ قطعی رائے ظاہر کر دی کہ میعادی بخار ہے اور اس میں نقل و حرکت مضر ہے۔ میں نے ہر چند افتتاحی جلسہ میں شرکت کی اجازت مانگی؛ مگرڈاکٹر نے کسی طرح اجازت نہ دی اور جناب علامہ ابراہیم جبالی -جومصری وفدکے صدر کی حیثیت سے ہندستان تشریف لائے تھے- انھوں نے بھی مجھے باصرار شرکت مؤتمر سے روک دیا اور فرمایا کہ آپ کی صحت وعافیت سب سے زیادہ مقدم ہے۔ اور مؤتمر کے اجلاس میں آپ کی نیابت آپ کے رفیق مولانا عبد الحق صاحب کر رہیںگے۔ اس مجبوری کی وجہ سے میں اجلاس میں شریک نہ ہوسکا۔ مگر میں نے فورا پہلے اجلاس میں پڑھنے کے لیے ایک تقریر قلم بند کرادی اور حضرت مولانا عبد الحق صاحب مدنی کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیج دیا۔ اجلاس میںہندستانی وفد کے تقریر کرنے والوں میں اول نمبر پر میرانام رکھاگیا تھا۔ اور پہلی کرسی میرے لیے مخصوص تھی۔ جب میں بیماری کی وجہ سے نہ جاسکا، تو مولانا عبد الحق صاحب کو وہ کرسی دی گئی ۔ اور انھوں نے میری طرف سے میری تقریر سنادی۔ اور اس کے بعد بلیغ و شستہ عربی زبان میں تقریر کی۔ میری جانب سے جو تقریر پڑھی گئی، اس کی نقل یہ ہے:

حضرت مفتی اعظم ہند کا خطاب

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، اما بعد فاخوانی! قلبی یملاء حزنا مما انا فی الحالۃ التی عجزت فیہا ان القی علیکم من نفثات صدری التی لا تزال تہیج فی زوایاہ حیث مرضت منذ ابحرت و وصلت بی الحال الی حد منعنی الدکتورعن ان اخوض فیما یدفعنی الیہ قلبی وفکرتی ومع ہذا فالقی علیکم کلمۃ وجیزۃ فی ہذہ الحفلۃ الأولی لمؤتمر فلسطین وأرجو اللہ ان یوفقنی فی الحفلات التالیۃ لاظہار ما احاول اظہارہ ۔

سادتی! قضیۃ فلسطین و الطوارق الملمۃ علی مسلمی فلسطین اصبحت علی حالۃ تتقطع لہا الاکباد وتنشق لہا القلوب۔

فلسطین لمسلمی فلسطین، المسلمون لا یمکن ان یرضوا بحکومۃ الخیر علی فلسطین والقسمۃ البریطانیۃ لفلسطین لا یمکن ان یقبلہا المسلمون فی بقاع الارض فضلاً عن مسلمی فلسطین و المسلمون فی الہند فی اشد قلق واضطراب لہذہ الحالۃ القادحۃ واظن انہم قد سبقوا فی ہذا الشعور والاحساس علی کثیر من اخوانہم فی البلاد۔

بل اصبحوا غرضا للملمات فی التضحیۃ لہذا السبیل وقبضت الحکومۃ فی الہند علی بعض زعماء المسلمین وحکمت علیہ بالاسارۃ  الی سنتین وسترون ان شاء اللہ ما یقوم بہ من التفدیۃ والمتضحیۃ اخوانکم فی الہند والسلام۔

ترجمہ:الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفے، برادران ملت! مجھے سخت اندوہ والم ہے کہ میں آج مرض کی وجہ سے اپنے اُن جذبات کو -جو میرے سینے میں موجزن ہیں- اپنی زبان سے پیش کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں جہاز پر سوار ہوتے ہی بیمار ہوگیا اور میںیہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ ڈاکٹرنے مجھ کو اس امرمیں حصہ لینے سے منع کر دیا، جس کی طرف میرا دل اور میرے خیالات مجھ کو دھکیل رہے ہیں۔ باوجود اس کے میںمؤ تمر کی اس پہلی نشست میں مختصر سی ایک بات تو عرض کیے دیتا ہوں اور حق تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید کرتا ہوں کہ آئندہ نشستوں میں وہ مجھے اپنے خیالات کو مفصل پیش کرنے کی توفیق اور قوت عطا فر مائے۔

سادات کرام! فلسطین کا معاملہ اور مصائب کے پہاڑ -جو مسلمانان فلسطین کے سروں پر آج توڑے جارہے ہیں-ان کی وجہ سے مسلمانوں کے جگرپاش پاش اور قلوب ریزہ ریزہ ہور ہے ہیں۔ فلسطین مسلمانان فلسطین کا ہے۔ وہ ہر گز کسی غیر کی حکومت فلسطین پر برداشت نہیں کر سکتے۔ برطانیہ نے تقسیم فلسطین کی جو تجویز کی ہے، اس کو مسلمانان عالم میں کوئی ایک مسلمان بھی قبول نہیں کر سکتا، پھر یہ کیسے تصور کیا جاسکتاہے کہ فلسطین کے عرب باشند اسے مان لیںگے۔ مسلمانان ہند فلسطین کی موجودہ اضطراب انگیز مصیبت کی وجہ سے انتہائی قلق اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانان ہند اس شعور و احساس میں بہت سے بلاد اسلامی کے مسلمانوں سے مقدم ہیں؛بلکہ اس معاملہ میں حکومت برطانیہ ہند کی طرف سے مصائب کا شکار ہوچکے ہیں اور ہرقسم کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت ہند نے اسی معاملہ میں بعض زعما کو گرفتار کر کے دو سال کی سزا بھی دے دی ہے اور ان شاء اللہ آپ دیکھ لیں گے کہ مسلمانان ہند اس معاملہ میں کہاں تک قربانیاں پیش کرنے والے ہیں۔ والسلام ۔ 

موتمر کی اخباری رپورٹ

اس جلسے میں دیگر مندوبین نے بھی تقریریں کیں اور اسی میں ایک مجلس بنادی گئی ،جو مؤتمر کے لیے تجویزیں تیار کرے۔ اس جلسے کی روئیداد الاہرام نے ۸؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء کے پرچہ میں شائع کی، اس کے الفاظ یہ ہیں:

کلمات الھند و اعطیت الکلمۃ للھند وکان اول خطبائھا مولانا کفایت اللہ رئیس جمعیۃ العلماء فی الھند غیر انہ لم یحضر لمرضہ، فالقی کلمتہ أحد الضیوف الہنود وقد وصف فی مستہلہا مبلغ الم المسلمین فی الہندلما وصلت فلسطین من حالۃ محزنۃ وذکر ان الوطن الفلسطینی وإن کان الشان الاول فیہ للفلسطینین الا ان اخوانہم من ابناء الأمۃ الإسلامیۃ الاخری لایرضون أن یتحکم الغیر فیہم ولا یقبلون بحال مشروع التقسیم البریطانی انتقل الشعوب المسلمین الھنود حیال فلسطین فاکد انہم فی اشد القلق والاضطراب لہذہ الحالۃ القادحۃ التی یعانیہا اہل فلسطین وقد اصبحوا غرضا للملمات فی ہذاالسبیل ۔و ختم کلمتہ بان مسلمی الہند سیواصلون تائید فلسطین فی جہادہا۔( الاہر م، ص؍۳، کالم، ۵۔ ۸؍اکتوبر ۱۹۳۸ء)

ترجمہ: اور ہندستانی مسلمانوں کو تقریر کا موقع دیا گیا ۔ ہندستان کے مقررین میں پہلا نمبر مولانا کفایت اللہرئیس جمعیت علمائے ہند کا تھا؛ مگر وہ بیماری کی وجہ سے کانفرنس میں نہ آسکے، تو ان کی تقریر ہندی مہمانوں میں سے ایک صاحب نے کانفرنس میں پڑھی۔  اس تقریر کی ابتدا میں اُس رنج والم کا ذکر تھا، جو ہندستان کے مسلمانوں کو فلسطین کی الم انگیز حالت پر پہنچ رہا ہے۔ پھر یہ ذکر کیا تھا کہ اگرچہ فلسطین کے مسلمانوں کا یہ مقدم حق ہے کہ وہ فلسطین کی آئندہ حکومت کے متعلق فیصلہ کریں؛ لیکن اسلامی دنیا کے دوسرے مسلمان-جو ان کے بھائی ہیں- وہ بھی اس کے روادار نہیں ہیں کہ اہل فلسطین پر کوئی اجنبی طاقت حکمرانی کرے اور برطانیہ کی تجویز کردہ تقسیم فلسطین کسی حال میں قبول نہیں کی جاسکتی۔ پھر مقرر نے ہندی مسلمانوں کے اس شعورو احساس کا ذکر کیا، جو فلسطین کی مصائب الیمہ پر ان میں پیدا ہو رہا ہے، اور اس پر مضبوطی کے ساتھ اظہار خیال کیا کہ وہ سخت فکر میں مبتلا ہیں۔ اور اس معاملہ میں وہ مصیبتوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

پھر اپنا کلام اس بیان پرختم کیا کہ مسلمانان ہند بر ابر فلسطینی بھائیوں کے جہاد حریت کی تائید کرتے رہیں گے۔ 

اسی اخبارالاھرام مؤرخہ ۹؍اکتوبر ۱۹۳۸ء کے صفحہ ۹ کالم اول پر مجلس مظامین یعنی سبجیکٹ کمیٹی کے اعضا کے نام لکھے ہیں۔ اس کی عبارت درج ذیل ہے: 

وأشیر إلی تألیف لجنۃ لبحث المقترحات التی تقدم إلی المؤتمرمن حضرات المحترمین الاستاذین جبران توینی،و خلیل ابوجودہ عن لبنان، وابراہیم الواعظ، وابراہیم عبد الریادی بک، وابراہیم عطاریاشی،والاستاذ توفیق السمعانی عن العراق، ونسیب البکری بک، ومظہر رسلان باشار، الدکتور توفیق الشیشکلی، والشیخ الدف عن سوریا، و مولانا کفایت اللہ، والاستاذعبد الرحمن الصدیقی، مولانا محمد عرفان عن الھند،والسید عبد الخالق الطریسی، والسید المکی الناصری عن المغرب الاقصی، والسید عبد الرحمن عمر عن الصین، والسید اصیل الغوری عن بلاد المہجروالسید محی الدین العنسی عن الیمن۔

وقد وافق الموتم علی تالیف اللجنۃعلی النحو المتقدم۔

ترجمہ: پھر مجلس مضامین کے ارکان کا انتخاب کیا گیا، جو تجاویز مرتب کر کے مؤتمر میں پیش کرے۔ یہ مجلس ان حضرات پر مشتمل تھی:…اور موتمر نے مجلس مضامین کا یہ انتخاب منظور کر لیا۔

قاہرہ کانفرنس میں صدر جمعیت کی تجاویز

اب مجلس مضامین کے اجلاس ہوتے رہے، میں چوںکہ ڈاکٹر کی ممانعت کی وجہ سے اجلاس میں نہ جاسکتا تھا، اس لیے میں نے مجلس مضامین میں تحریری تجاویز بھیج دیں، جو حسب ذیل تھیں:

(۱) یقرر ہذا المجلس باتفاق تا م ان ارض فلسطین ارض مقد سۃ ، وفیہا المسجد الاقصی ومأثر أخری تتعلق کلہا بالمسلمین وان مسلمی العالم الاسلامی با جمعہ یزعجہم ان یروا فلسطین تحت سیطرۃ ا یۃ حکومۃ کانت غیر مسلمۃ۔

(۲) یجب علی الحکومۃ البریطانیۃ ان ترفع انتدابہا عن فلسطین بکل معنی الکلمۃ ۔

(۳) ان حکومۃ فلسطین تکون حکومۃ مختارۃ وحرۃ تتشکل علی وفق نظام الحکومات الدستوریۃ الجمہوریۃ وان یتوصل انتخاب صدر مجلسہا الدستوری الی مسلمی فلسطین بدون معارضۃ ولا مداخلۃ ایۃ - حکومۃ کانت اجنبیۃ۔

(۴) یلزم علی الفور حجز الیہود ومنعہم عن الدخول فی فلسطین والحالۃ ہذہ ۔

(۵) ان مسلمی الہند یہمھم تقسیم فلسطین جدا وان احدا منہم لا یرضی بتجزیۃ فلسطین بای حالۃ کانت ۔

(۶) أن الحکومۃ البریطانیۃ اذا لم تقلع عن اعمالہا ولم تحل عقدۃ فلسطین الی نہایۃ ہذہ السنۃ الجاریۃ۱۹۳۸ء فلا غرو ان العالم الإسلامی بأجمعہ یکون ملجائاًحینئذ بمقاومۃ الحکومۃ بکل صورۃ بکل ممکنۃ ومکافحۃ قوانینہا احتجاجاً علیہا وان المسلمین علی اختلاف مناطقہم ومواقفہم السیاسیۃ یتعصبون امام امتثال قوانین الحکومۃ ویحتشمون کل مشقۃ تعود علیہم فی تضحیۃ للإسلام والدین ۔

(۱) یہ مجلس بالاتفاق قرار دیتی ہے کہ زمین فلسطین ایک مقدس سرزمین ہے۔ اور اس میں مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے و دیگر مآثر اسلامیہ بھی واقع ہیں ،جن کے ساتھ مسلمانوں کا گہرا تعلق ہے اور تمام عالم اسلامی کے مسلمان اس بات سے مضطرب اور بے چین ہیں کہ ارض مقدس فلسطین پر کوئی غیر مسلم طاقت حکمراں نہ ہو۔

(۲) حکومت برطانیہ کو لازم ہے کہ فلسطین پر سے اپنے انتداب کو بالکلیہ ہٹالے۔

(۳) فلسطین کی آئندہ حکومت ایک خود مختار حکومت ہو، جس کا نظام جمہوری حکومتوں کی طرح مرتب کیا جائے اور مجلس حکومت کے صدر کا انتخاب مسلمانان فلسطین کے ہاتھ میں ہو۔ اس میں کسی اجنبی حکومت کو مداخلت کا موقع نہ دیا جائے۔

(۴) یہود کا داخلہ فی الفور بند کر دیا جائے اور ان کواس حالت میں ہرگز فلسطین میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

 (۵) مسلمانان ہند تقسیم فلسطین کی تجویز کواضطر اب کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، ان میں ایک متنفس بھی تقسیم کی تجویز کو کسی حال میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 (۶) اگر حکومت برطانیہ ان مظالم سے۱۹۳۸ء  کے ختم تک دست بردارنہ ہوئی اور فلسطین کا عقدہ حل نہ ہوا، تو عجب نہیں کہ تمام عالم اسلامی اضطراری طور پر برطانیہ کے مقابلہ پر کھڑا ہوجائے اور برطانوی حکومت کے مسلمان سول نافرمانی شروع کر دیں، یا اور دیگر ممالک اسلامیہ کے مسلمان اپنی سیاسی ماحول کے موافق برطانوی حکومت کے خلاف ہر ممکن اور مناسب محاذ جنگ اختیار کرلیں۔ 

یہ تجویز میں نے جناب مسٹر عبد الرحمان صاحب صدیقی کے ذریعہ مجلس مضامین میں بھیج دی۔ مجلس نے دیگر تجاویز کے ساتھ اس پر بھی غور کیا اور آخر میں ارکان مجلس نے ایک طویل تجویز مرتب کی اور مسٹر عبد الرحمان صدیقی نے اُس کا مسودہ مجھے لاکر دکھا دیا۔میں نے اس پر اتفاق رائے کا اظہار کر دیا۔ اور مؤتمر کے آخری جلسے منعقدہ 11؍اکتوبر 1938ء میں وہ بالا تفاق پاس ہو گئی۔ وہ تجویز یہ ہے:

موتمر کی تجاویز

(اولا) اعتبار تصریح بلفور باطلا من اساسہ ولا قیمۃ لہ فی نظر العرب والمسلمین۔

(ثانیا) ضرورۃ منع ھجرۃ الیہود لفلسطین من الآن منعا باتا۔

 (ثالثا) رفض تقسیم فلسطین علی ای نحوکان والتمسک ببقائہاقطراً عربیا۔

(رابعا) ضرورۃ انشاء حکومۃ وطنیۃ دستوریۃ بمجلس نیابی منتخب بالتمثیل النسبی من العرب و الیہود وعقد معاہدۃ تحالف ومودۃ بین انجلترا وفلسطین ینتھی بہا الانتداب۔

(خامسا) العفو الشامل عن المتہمین والمحکوم علیہ ہم فی حوادث الثورۃ الفلسطینیۃ واطلاق سراح المعتقلین والمسجونین واعادۃ جمیع المبعدین والمنفین السیاسیین۔

(سادسا) ان تنفیذ الطلبات السابقۃ ہو الحل الوحید لقضیۃ فلسطین وبالتالی لاعادۃ الہدو والسلام الیہا ولایجاد الصداقۃ والثقۃ بین انجلترا و بین العرب والمسلمین والشعوب العربیۃ و الاسلامیۃ فی جمیع اقطارہم والایعتبرون موقف الانجلیز والیہود - منہم موقفا عدائیا جدیرا بان یعامل بمثلہ و ان یقرن بالنتائج الطبعیۃ لہ حیال الصلات السیاسیۃ و الاقتصادیۃ والاجتماعیۃ ۔

(سابعا) حث ملوک وحکومات الامم العربیۃ والإسلامیۃ وشعوبہا علی العمل علی تنفیذ ہذہ القرارات بکافۃ الوسائل الممکنۃ وتبلیغہا إلی ہذہ الحکومات والحکومۃ الانجلیزیۃ وعصبۃ الام۔

(ثامنا) انتخب المؤتمر لجنۃ دائمۃ تنوب عنہ فی اتخاذ ما تراہ من الوسائل المؤدیۃ لتنفیذ ہذہ القرارات مکونۃ من محمد علی علوبہ باشارئیسا و مولود مخلص باشاد فارس بک الخوری وجیران بک التوینی وحمد الباسل باشا و توفیق دوس باشا والدکتور عبد الحمید سعید بک والسید عبد الرحمن الصیدیقی،وجمال بک الحسینی وعونی بک، عبد الہادی والفرید بک روک، یکون مقرہا الرئیسی بمصر ولہا ان تضم الیہا وان توکل عنہا من تشاء با غلبیۃ اصوات اعضائہا۔

(۱) اعلان بالفور جس کی عرب اورمسلمانوںکی نظروں میں کوئی وقعت نہیں ہے، باطل قرار دیا جائے۔

(۲) فلسطین کی جانب ہجرت یہود کو قطعی طور پر فوراً روک دیا جائے۔

(۳) تقسیم فلسطین کی تجویز کو خواہ کسی صورت سے ہو ترک کر دیا جائے اور فلسطین کا عربی ملک رہنا تسلیم کر لیا جائے۔

(۴) فلسطین میں آئندہ حکومت وطنی دستوری اصول پر قائم کی جائے، جس میں عرب اور یہود کی آبادی کے تناسب سے منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ ہواور فلسطین اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدۂ مودت ہو جائے، جس کے ذریعہ سے انتداب ختم کر دیا جائے۔

 (۵) جن لوگوں پر حکومت نے مقدمات چلاکر سزا دے دی ہے، یا جو لوگ مہتم، یا نظربند ہیں، ان کے لیے عفو عام، یا رہائی کا حکم دے دیا جائے اور تمام جلا وطنوں کو واپسی کی اجازت ہو جائے۔

(۶) ان مطالبات کی منظوری ہی قضیۂ فلسطین کا واحد حل ہے اور اسی طریق سے فلسطین میں امن وامان کی واپسی ہوسکتی ہے اور اسی ذریعہ سے انگلستان اورعرب اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور باہمی اعتماد پیدا ہو سکتا ہے ؛ورنہ عرب اور مسلمان مجبور ہوںگے کہ برطانیہ اور یہود کو اپنا دشمن سمجھیں اور وہی معاملہ کریں، جو دشمن کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اس کا اثر تمام سیاسی اور اقتصادی اور معاشرتی تعلقات پر پڑے گا۔

(۷) بادشاہوں اور اسلامی حکومتوں کو متوجہ کیا جائے کہ وہ ان تجویزوں کو عملی جامہ پہنائیں اور تمام ممکن وسائل اس کے لیے وقف کر دیں۔ یہ تجاویز ان حکومتوں اور جمعیتہ الاقوام اور برطانوی حکومت کوبھیج دی جائیں۔

(۸) مؤتمر قاہرہ نے حسب ذیل حضرات پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی ہے، جو مؤتمر ختم ہونے کے بعد قائم رہے گی اور ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام ممکن ذرائع استعمال کرے گی۔ محمد علی علوبہ پاشا صدر ہوں گے۔ مولود مخلص باشا وفارس بک خوری، جبران بک توینی ، حمد باسل باشا، توفیق دوس پاشا،ڈاکٹر عبدالحمید سعیدبک، مسٹر  عبد الرحمان صدیقی، جمال بک حسینی، عونی بک عبد الہادی، فرید بک روک۔ اس کمیٹی کا صدر مقام مصر میں رہے گا۔ اور اسے اختیار ہو گا کہ اپنے ارکان میں اضافہ کرے، یا اپنے اختیارات کو کام میں لانے کے لیے کسی کو قائم مقام مقرر کرے۔

یہ خلاصہ ہے ان تجاویز کا جو مؤتمر کی طویل تجویز میں مندرج ہیں۔ ہم نے طویل تجویز کا ابتدائی تمہیدی حصہ بقصداختصار حذف کر دیا ہے، جس میں شریف حسین اور سرہنری میکموہن کی خط وکتابت نقل کر کے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ برطانیہ نے جنگ عظیم کے دوران میں عرب کی آزادی کامل کا جو وعدہ شریف حسین سے کر کے اس کو ترکی سلطنت اور خلیفۃ المسلمین سے بغاوت کرنے پر آمادہ کیا تھا، اسے پورا نہیں کیا اور اعلان بالفور اس عہد کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اس تجویز کے بالاتفاق پاس ہوجانے کے بعد مؤتمر کا اجلاس ختم ہوا۔ 

تشکرو امتنان

ناشکری ہوگی اگر رپورٹ ختم کرنے سے پیشتر ان بزرگان قاہرہ کا شکریہ ادا نہ کروں، جنھوں نے اپنی ہمدردیاں میری عیادت اور علاج اور راحت رسانی کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان میں سب سے پہلے ڈاکٹر عبد الحمید سعید بک صدر جمعیۃ شبان المسلمین اور جمعیۃ الشبان کے دیگر ارکان شکریہ کے مستحق ہیں۔ اس اولو الحرم جمعیت نے تمام ہندستانی مندوبین کو اپنا مہمان بنایا اور حق میزبانی با حسن وجود انجام دیا۔

جناب صاحب السماحۃ ڈاکٹر عبد الحمید سعید بک صدر جمعیۃ الشبان المسلمین متعدد مرتبہ میرے پاس تشریف لائے اور علاج اور دیگر ضروریات کا نہایت شغف کے ساتھ انتظام فرماتے رہے۔ میری علالت کے زمانہ میں جن اعیان و افاضل و اکابر مصر نے انتہائی خلوص و محبت کا اظہار فرمایا اور غایت شفقت و احترام ضیف کی جہت سے عیادت کے لیے تشریف لائے، اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

(۱)حضرت صاحب الفضیلۃ الاستاذ الاکبر الشیخ محمدمصطفی المراعی رئیس الازہر الشریف تین مرتبہ تشریف لائے اور نہایت محبت و خلوص کے ساتھ دعائے صحت فرماتے رہے۔(۲)حضرت صاحب السماحۃ السید محمد صادق المجددی وزیر مفوض دولت علیہ افغانستان مقیم قاہرہ۔ (۳) حضرت صاحب الفضیلۃ الاستاذ السید محمد خضر حسین، تفضل سیادتہ واہدی کتابہ نقض الشعر الجاہلی۔ (۴) معالی السید محمد علی علوبہ پاشا رئیس اللجنۃ البرمانیۃ للدفاع عن فلسطین۔ (۵) صاحب الفضیلۃ الشیخ عبد الوہاب النجار احد اعضاء البعثۃ الازہریۃ إلی الھند۔(متعدد بار تشریف لاتے رہے)(۶)صاحب الفضیلۃ والسیادۃ الشیخ ابراہیم الجبالی شیخ معہد طنطا رئیس البعثۃ الازہریۃ إلی الہند تفضل سیادتہ واہدی کتابہ الفرید’’ شفاء الصدور فی تفسیر سورۃ النورابدی من عواطف مود تہ یعجز اللسان عن اداء شکرہ۔ (۷) صاحب الفضیلہ الاستاذ محمد حبیب احمد (قاہرہ)۔ (۸) صاحب السماحۃ احمد بے عیسی اکبر الاطبابمصر۔ (۹) صاحب الفضیلۃ العلامۃ الجوہری الطنطاوی المفسر المشیر تفضل سیادتہ و جاء  عائدا کل یوم غدوۃ و عشیۃ و ابدی من اللطف الشفقۃ ما یفوق البیان۔ (۱۰) صاحب الفضیلۃ الاستاذ الشیخ احمد العد وی المفتش ادارۃ الوعظ احد اعضاء البعثۃ الازہرۃ إلی الہند۔ (۱۱) صاحب الفضیلۃ والسیادۃ الشیخ احمد محمد شاکر القاضی الشرعی۔ (۱۲) صاحب السماحۃ الاستاذ محمد عبد اللطیف الفحام وکیل جامع الازہر ۔(۱۳) الاستاذ محمد صبری عابدین مراقب الشئون الدینیۃ بالمجلس الاسلامی الاعلی۔ (۱۴) صاحب السماحۃ السید ابراہیم عربی نجل المرحوم السید احمد عرابی باشا۔ (۱۵) الاستاذ الدکتور عبد الوہاب غرام (مصر حلوان)۔ (۱۶) صاحب السماحۃ الدکتور محمد الدردیری۔ (۱۷) الشیخ محمد زاہد الکوثری الترکی۔ (۱۸) السید جمال حسینی ابن عمر السد ابن الحسینی المفتی الأعظم (فلسطین) (۱۹) الاستاذ سعید یعقوبی فلسطینی۔ (۲۰) الاستاذ عبد العزیز الاسلامبولی۔ (۲۱) الاستاذ عبد الرحمن العیسوی مدیر سیاستہ العالم الاسلامی (قاہرہ)۔ متعدد بار تشریف لاتے رہے اور لطف وکرم کا اظہار فرمایا۔ (۲۲) صاحب السماحۃ الشیخ عبد الرزاق ابو العزائم ۔ (۲۳) صاحب السماحۃ افندی صلاح الدین بن الشیخ العلامۃ عبد الوہاب النجار۔ (۲۴) الاستاذ محمد محمود احد اعضاء جمعیۃ الاخوان المسلمین۔ (۲۵) الحافظ السید محمود احمد المکی حلمیہ جدیدہ قاہرہ۔ (۲۶) محمد احمد الصحافی (قاہرہ) ۔(۲۷) صاحب السماحۃ عبد الغفور بے مدحت الافعانی۔

ان حضرات کے علاوہ بھی بہت سے علما و اعیان مصر تشریف لائے، جن کے اسمائے گرامی محفوظ نہ رہے۔ حالیہ ہندی کے ارکان اور خصوصا شیخ ریاض الدین حساب فاروقی نے خاص طور پر راحت رسانی کا خیال رکھا اور قاہرہ میں ہندستانی اہل علم -جو بسلسلۂ تحصیل علم، یا دیگر اسباب مصرمیں مقیم ہیں -پوری ہمدردی اور محبت کے ساتھ اکثر اوقات میرے پاس موجود رہے۔ ان میں سے مولانا سید احمد رضا صاحب بجنوری، مولانا محمد یوسف صاحب بنوری مدرس جامعہ اسلامی ڈابھیل ضلع سورت اور مولانا سید ابونصر صاحب اور مولانا محمد عمران صاحب اور مولانا عبد الصمد صاحب اور مولانا سعد الدین صاحب خصوصا مستحق شکریہ ہیں۔

اکابر مصر نے وفود کے اکرام و احترام میں کھانے اور چائے کی دعوتیں دیں، اور اگرچہ میں کسی دعوت میں بیماری کی وجہ سے اور رفیق محترم مولانا عبدالحق صاحب مدنی میری تیمارداری کی وجہ سے اکثر دعوتوں میں شریک نہ ہو سکے؛ لیکن تمام داعی حضرات مکاتیب دعوت اس زبردست خواہش کے ساتھ بھیجے کہ جس طرح ممکن ہو، مجلس دعوت میں میری شرکت ہوجائے۔ مکاتب دعوت میں سے دو تین مکاتیب کی نقل ان حضرات کے خلوص کا اندازہ کرنے کے خیال سے ذیل میں دی جاتی ہے:

 نقل مکتوب دعوۃ منجانب جلا لۃ الملک فاروق الاول ملک مصر دامت دولتہ

بامرحضرۃ صاحب الجلالۃ الملک یتشرف کبیر الامناء بدعوۃ حضرۃ صاحب الفضیلۃ مولانا محمد کفایت اللہ لتناول الشای یوم الخمیس ۱۳؍ اکتوبر۱۹۳۸ء، الساعۃ۳۰:۴ بعد الظہر بقصر رأس التین العامر(عنوان اللفافہ) حضرت صاحب الفضیلۃ مولانا محمد کفایت اللہ مفتی الہند الاعظم رئیس جمعیۃ العلماء بالہند ورئیس الوفد الہندی

نقل مکتوب دعوت منجانب الاستاذ الاکبر شیخ الجامع الازہر:

یتشرف محمد مصطفی المراغی شیخ الجامع الازہر بدعوۃ فضیلۃ المفتی الأکبر مولانا کفایت اللہ لتناول الشای بکلیۃ أصول الدین بشبرافی  تمام الساعۃ الخامسۃ من مساء یوم الجمعۃ۳۰؍ من شعبان ۱۳۵۷ھ، الموافق ۱۴؍اکتوبر ۱۳۳۸ء تکریما لوفود الاقطارالعربیۃ والإسلامیۃ للمؤتمر البرلمانی وتفضلوا بقبول عظیم الاحترام (عنوان اللفافۃ) حضرۃ صاحب الفضیلۃ المفتی الأکبر مولانا کفایت اللہ۔

نقل مکتوب دعوت منجانب صاحب الرفعہ رئیس الوزراء:

یتشرت محمد محمود باشا رئیس مجلس الوزراء بدعوۃ حضرت صاحب السیادۃ مولانا محمد کفایت اللہ لتناول الغداء بسرای الزعفران الساعۃ الدقیقۃ۳۰؍ مساء من یوم الثلاثاء۷؍ شعبان ۱۳۵۷ھ الموافق۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء

نقل مکتوب دعوت منجانب صاحب الرفعہ مصطفے نحاس پاشا:

 مصطفے نحاس باشا یتشرف بدعوۃ حضرت صاحب السماحۃ مولانا السید کفایت اللہ لتناول الشای بدارہ بمصر الجدیدۃ من الساعۃ السابعۃ من مساء یوم الثلاثاء،۱۱؍اکتوبر۱۹۳۸ء تکریما لوفود البلاد العربیۃ والإسلامیۃ  والشرقیۃ (عنوان اللفافۃ) حضرت صاحب السماحۃ مولانا السید کفایت اللہ المفتی الاعظم

ان کے علاوہ جمعیۃ الشبان المسلمین وجمعیۃ الاخوان المسلمین وصاحب الرفعہ مولود مخلص باشا رئیس المجلس النیابی العراقی وصاحب السماحۃ احمد حلاوہ و ادارہ بیت المغرب وصاحب السیادۃ عبد اللہ بک لعلوم عضو المجلس الشیوخ و ادارہ اکتب المرشد العام و نا دی لبنان کی جانب سے شان دار دعوتیں دی گئیں۔ 

آخرمیں مناسب ہے کہ صاحب الفضیلہ سید امین حسینی مفتی اعظم فلسطین کا گرامی نامہ بھی یہاں درج کیا جائے، جو مجھے قاہرہ پہنچتے ہی موصول ہواتھا؛ کیوںکہ مفتی اعظم موصوف نے یہ خبر پاکر کہ میں مؤتمر فلسطین میں آرہا ہوں، پہلے ہی سے بھیج دیا تھا۔ اس گرامی نامہ کا ترجمہ درج کر رہا ہوں - صل عربی خط دفتر میں محفوظ ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم - الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین سیدنا محمد و آلہ و صحبہ اجمعین۔ حضرت صاحب السماحۃ والفضیلۃ استاذ علامہ کبیرمولانا کفایت اللہ مفتی اعظم ہند حفظہ اللہ تعالی آمین۔ میں آپ کی خدمت میں اہلاً و سہلااور خیر مقدم پیش کرتا ہوں اور خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کو سلامتی پر مبارک با د دیتا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کے قیام مصر کو -جو ایک عمدہ اسلامی شہر ہے- پر لطف اور خوشگوار بنائے اور یہ کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ نے محض خدا کے لیے اس کی حرمات مقدسہ کی طرف سے مدافعت اور مسجد اقصیٰ کے خدام اور اماکن مقدسہ کے نگہبان مظلوم فلسطینی مسلمان بھائیوں کی نصرت و امداد کے لیے دور دراز سفر کی زحمت گوارہ فرمائی۔ ظالموں نے فلسطین کے مسلمان مظلوموں پر یہ مظالم توڑے کہ ان کو تتر بتر کر دیا، قتل کیا، ان کے گھر ویران کر دیے، اُن کے مکان منہدم کیے، اُن کے مال ضبط کر لیے، تا کہ وہ تنگ آکران بلاد مقدسہ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ دشمن چاہتے ہیں کہ ان پاک شہروں سے خدا کی روشنی اور نور کو بجھا دیں؛ مگر اللہ تعالیٰ ان کی یہ آرزو پوری نہ ہونے دے گا۔ بلاداسلامیہ کے مسلمانوں کی طرف سے ان کو مد د پہنچائے گا، اور ان کو تحمل مصائب کی قوت عطا کرے گا۔ اور ان کو اپنے دینی مرکز کی حفاظت لیے جہاد کی توفیق ا رزانی کرے گا۔ مسلمانان فلسطین کی ہمت اس بات سے قوی ہو رہی ہے کہ روئے زمین کے مسلمان فلسطین کے معاملات میں دل سوزی اور ہمدردی ظاہر کر رہے ہیں۔ اور فلسطینی بھائیوں کی اعتماد کے طریقے اختیار کر رہے ہیں؛ خصوصاً آپ اور دیگر ہندستانی قوی الایمان مسلمان بھائی۔

ہمیں امید ہے کہ بلاد مقدسہ کے بارے میں اور اس کے مظلوم باشندوں کی مصیبتیں کم کرنے اور مظلومین فلسطین کی امداد کرنے میں ہمارے ہندستانی بھائی صف اوّل میں ہوںگے۔ اور ہمیں پوری توقع ہے کہ یہ مؤتمر آپ جیسے غیور مسلمانوں کی توجہ اور اُن کے صدق و اخلاص کی بدولت ایسا درجہ اور اتنی وقعت حاصل کرے گی کہ اللہ تعالیٰ اس کی مساعی کو کامیا ب فرمائے اور متوقع فوائد حاصل ہوجائیں۔ جو شخص خدا کے لیے مظلوم کی مدد کرے گا، خدا تعالی اس کی ضرور مدد کرے گا۔ خدا تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے اور آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اسلام اور مسلمانوں کی نصرت و امداد کے لیے آپ کے وجود مسعود کو تادیر قائم و باقی رکھے۔ آمین۔

سید امین الحسینی

مؤتمر کی کارروائی ختم ہونے کے بعد مؤتمر کی استقبالیہ کمیٹی کی طرف سے تمام ارکان مؤتمر کو بطور یادگار نقرہ تمغے تقسیم کیے گئے۔ میں 20؍ اکتوبر1938ء کو قاہرہ سے روانہ ہو کر یکم نومبر 1938 ء کو بمبئی پہنچا۔

 والحمد للہ اولا واخرا و الصلوۃ والسلام علی نبیہ ورسولہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین ۔

محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ۔26؍فروری 1939ء۔دہلی۔ (مطبوعہ رپورٹ وفد فلسطین)

کانفرنس کی تجاویز و تجزیہ

قاہرہ میں منعقد اس کانفرنس میں جو تجاویز منظور کی گئیں، وہ درج ذیل ہیں:

۱۔اعلان بالفور کی تنسیخ

 یہ کانگریس اعلان بالفور کی تنسیخ اور نامنظوری کا فیصلہ کرتی ہے ۔ اس کی رائے میں فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانا ناجائز ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے ، جس کو کسی دلیل کی قوت سے جائز نہیں قرار دیا جاسکتا۔ 

۲۔آزاد دستوری حکومت

 کانگریس کی رائے میں فلسطین کے مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ وہاں آزاد دستوری اور نمائندہ حکومت قائم کی جائے۔

۳۔باہمی میثاق

کانگریس کی رائے میں اب وقت آگیا ہے کہ فلسطین کے معاملہ کو از سر نو ایک نئے نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے۔ اس سلسلہ میں کانگریس ضروری قرار دیتی ہے کہ انگریزی حکومت اور آزادی فلسطین کے مجاہدوں کے درمیان ایک جدید باہمی معاہدہ طے پائے۔ 

۴۔جہاد کا فتویٰ

 قاہرہ کانفرنس نے آخری تجویز نہایت اہم اور مؤثر پاس کی: 

کانفرنس یہ قرار دیتی ہے کہ تمام تجاویز کی نگرانی کرنے اور ان کو عمل میں لانے کے لیے ایک مستقل کمیشن مقرر کیا جائے، جو قاہرہ میں ایک مرکز کے ماتحت کام کرے گا۔ اگر انگریزوں نے کانفرنس کی تجاویز کو منظور نہ کیا، تو کمیشن عربوں کو مشورہ دے گا کہ وہ انگریزوں اور یہودیوں کو اسلامی احکام کے مطابق حربی قرار دیں۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 16-20؍ اکتوبر 1938ء) 

تجاویز کی ناکامی

تجاویز تو انتہائی اثر انگیز تھیں؛ لیکن خود مسلمانوں ہی کے آپسی تفرقہ کی وجہ سے عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکی اور کانفرنس اپنے مقصد میں ناکام ہوگئی۔ حضرت علامہ مفتی اعظم صاحب نے ہندستان واپسی پر جن خیالات کا اظہار کیا، ان سے اس حقیقت پر بہ خوبی روشنی پڑتی ہے:

’’یہ بات حیرت انگیز ہے کہ مصر کے مسلمان-جو فلسطین کے پڑوسی ہیں- فلسطین کے حالات سے زیادہ متأثر نہیں۔ اگرچہ کانفرنس میں وزیر اعظم مصر محمود پاشا اور دیگر وزیر بھی شریک تھے؛ مگر فلسطین کے مسئلہ پر ان میں وہ جوش و خروش نہ تھا، جس کی توقع کی جاتی تھی۔کانفرنس کے متعلق بعض حلقوں میں یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ محض برطانیہ کے حق میں ایک قسم کی نمائش تھی۔ ایسا کہنے کے لیے کئی وجوہات تھیں۔ اول تو یہ کہ کانفرنس کے منتظم ان دنوں انگلینڈ گئے، جب کہ کانفرنس کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ اور بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے برطانوی حکام سے صورت حالات پر تبادلۂ خیال کیا ۔ دوسرے اس کانفرنس میں جو تجویزیں پاس ہوئی ہیں، و ہ اس امید پر مبنی ہیں کہ حکومت برطانیہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے فلسطین کی جانب اپنی پالیسی میں تبدیلی کرے گی۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا : محض یہ برطانوی حکومت سے درخواست کرنے کی نسبت زیادہ دلیرانہ رہنمائی کی ضرورت تھی۔

وفد پارٹی نے کانفرنس میں اس لیے تعاون نہیں کیا کہ اصل میں وفد پارٹی کے لیڈر نحاس پاشا نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ فلسطین کے مسئلہ پر مسلمانوں کا نظریہ معلوم کرنے کے لیے عالم گیر اسلامی کانفرنس کی جائے، اس وقت مصر میں جو پارٹی برسر اقتدار ہے، اس نے نحاس پاشا سے پہلے ہی کانفرنس کرلی۔ اور بیان کیا جاتا ہے کہ کہ وہ اپنی مجوزہ کانفرنس دسمبر میں بلائیں گے۔ اس کانفرنس میں نحاس پاشا سیاسی اختلافات کی بنا پر شریک نہیں ہوئے۔‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍ نومبر1938ء) 

فلسطین کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کا جہد مسلسل

قاہرہ کانفرنس سے مایوس کن نتائج کے باوجود جمعیت نے اپنی کوشش ترک نہیں کی اور فلسطین کے متعلق اپنی آواز مسلسل بلند کرتی رہی۔ مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے ہندستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ عملی اقدام کے لیے 7؍نومبر1938ء سے ہفتۂ فلسطین منایا جائے۔ مولانا نے اپنے بیان میں کہا کہ: 

’’آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کے تمام عملی اقدام قاہرہ کانفرنس کے انعقاد تک موقوف تھے۔ قاہرہ کانفرنس منعقد ہوکر ختم ہوچکی ہے، جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ 

فلسطین کے حالات پہلے سے بہت زیادہ ناگفتہ بہ ہورہے ہیں، اس لیے آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین عنقریب عملی قدم اٹھانے والی ہے۔ اور حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی واپسی پر -جو اب تک اپنی بیماری کی وجہ سے واپس نہیں آسکے ہیں-پروگرام مرتب کرکے کام شروع کردیا جائے گا۔ قبل ازیں ایک مرتبہ پھر مسلمانان فلسطین کی توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ اعراب فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت و حرمت کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہوجائیں۔ اور رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں ۷؍ نومبر سے 15؍نومبر تک ہفتہ فلسطین مناکر اپنی طاقت و قوت کو منظم و متحد کرلیں۔ 

آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کی شاخوں اور جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر قومی و مذہبی فعال اداروں کے کارکنان سے درخواست ہے کہ وہ اس ہفتہ کو ہر جگہ اور ہر مقام پر کامیاب بنائیں ۔ پروگرام یہ ہوگاکہ اس ہفتہ میں زیادہ سے زیادہ رضاکار بھرتی کیے جائیں اور مجلس تحفظ فلسطین کے بکثرت معاون بنائے جائیں۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم نومبر1938ء)

اس اپیل پر پورے بھارت کے مسلمانوں نے عمل کیا اور ہفتۂ فلسطین مناکر حکومت برطانیہ کو اپنے جذبات سے آگاہ کیا۔

قاہرہ میں صدر جمعیت کا اعزاز

قاہرہ کانفرنس کے موقع پر جمعیت علمائے ہند کے لیے ایک خوشی کی خبر یہ رہی کہ علامہ مراغی شیخ الازہر بذات خود حضرت مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ اور اس خبر کو مصر کے علمی حلقوں میں بڑی اہمیت کے ساتھ پڑھی گئی۔ 

’’قاہرہ۔11؍ اکتوبر۔ آج مصر کے علمی حلقوں میں یہ خبر بہت اہمیت کے ساتھ سنی گئی کہ فضیلۃ الاستاذ حضرت علامہ محمد مصطفیٰ المراغی استاذ اکبر شیخ جامعہ ازہر ، حضرت مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب سے ملاقات کرنے کے لیے اپنی موٹر میں مفتی صاحب کی جائے قیام پر تشریف لائے۔ مفتی صاحب اس وقت آرام فرما رہے تھے اور علالت کی وجہ سے بستر خواب پر تھے، اس لیے شیخ اکبر اپنا کارڈ چھوڑ گئے۔ 

یہ خاص امتیاز تھا۔ شیخ ازہر کا درجہ یہاں شاہ مصر کے بعد ہے۔ شیخ یہاں کبھی کسی ملاقات کے لیے خود نہیں جاتے۔ شیخ اکبر کو ایک ہزار اشرفیاں بطورتن خواہ ملتی ہیں، جو وزیر اعظم کی تن خواہ سے کہیں زیادہ ہے۔ کل حضرت مفتی صاحب نے شکریہ کا خط شیخ اکبر کی خدمت میں بھیج دیا ہے۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 16-20؍اکتوبر1938ء) 

قاہرہ سے حضرت مفتی اعظم ہند کامکتوب

حضرت علامہ مفتی کفایت اللہ صاحب کا مکتوب گرامی دفتر جمعیت علمائے ہند میں قاہرہ سے موصول ہوا ہے۔ اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محترم کی طبیعت قاہرہ کانفرنس کے دوران میں برابر ناساز رہی۔ مکتوب میں تجویز کا بھی ذکر ہے۔خط کے ایک حصہ سے اس عمیق عقیدت کا مظاہرہ ہوتا ہے، جس کا اظہار حضرت مفتی صاحب کی ذات اور ان کی مخلصانہ خدمات کے متعلق عام طور پر مصر کے علمی اور سیاسی حلقوں میں کیا گیا ہے۔ (مدیر)

حضرت مفتی صاحب قبلہ نے پہلا خط 6؍ اکتوبر کو پورٹ سعید سے لکھا تھا، جس میں حضرت نے اپنی طبیعت کی ناسازی کا مختصر حال درج کیا تھا۔ خط بھی بہت مختصر تھا۔ اس خط سے معلوم ہوتا تھا کہ مفتی صاحب کو بمبئی سے ہی بخار ہو گیا تھا۔ راستے میں بخار ایک سو چار ڈگری تک ہو گیا۔ جب پورٹ سعید پہنچے، جب بھی بخار تھا، لیکن اسی حالت میں حضرت قبلہ نے چند سطریں لکھ کر ہوائی جہاز سے روانہ کر دیں۔ دوسرا خط حضرت نے 11؍ اکتوبر کو لکھا ہے، جو حسب ذیل ہے:

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبر کاتہ۔ آج مؤتمر کا آخری جلسہ ہو رہا ہوگا؛ لیکن مجھ کو ڈاکٹر کی طرف سے اتنی بھی اجازت نہیں کہ اٹھ کر دوچار قدم چل پھرلوں۔ بخار 29؍ ستمبر سے شروع ہوا اور آج تک چوبیس گھنٹہ لازم رہتا ہے۔ کھانا قطعاً بند کر رکھا ہے۔ یہاں کے ڈاکٹر دودھ نہیں دیتے۔ کہتے ہیں چائے سادی پیواور کچھ مت کھاؤ۔ ہم کچھ سموسمیاں بمبئی سے لائے تھے، وہ اسٹیمر میں دوستوں نے کھائی۔ کچھ بچ گئے، وہ یہاں لے آئے۔ وہ کسی وقت جب بہت بے چینی ہوتی ہے، کھا لیتا ہوں۔ یہاں دودو، تین تین ڈاکٹر روزانہ دیکھتے ہیں، باہمی مشورہ سے علاج کرتے ہیں؛ مگر میری سمجھ میں ان کا طریقۂ علاج نہیں آتا۔ دیسی طبیب اور دیسی دواخانہ کا نام نہیں۔

چودھری خلیق الزماں صاحب،عبد الرحمان صدیقی اور حسرت موہانی بڑی ہمد ردی سے دیکھ بھال رکھتے ہیں۔ مولوی سید احمد رضا، مولوی یوسف بنوری، ریاض الدین فاروقی صاحب الجالیۃ، عبد الصمد صاحب بڑی ہمدردی اور دل سوزی سے خبر گیری کرتے ہیں۔ اور بھی ہندستان کے لوگ ہیں، جو نہایت محبت سے پیش آتے ہیں۔مصر کے علمی حلقے کے اکابر، علمائے ازہر کے وکیل، معتمد اور قاضی شرعی اور بہت سے اکا بر آتے رہے، کسی سے ملاقات ہوئی اور کسی سے نیم بے ہوشی کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اپنے اپنے کارڈ دے گئے۔ جامع ازہر کے شیخ اکبر محمد مصطفے المراغی- جو مصر میں ملک فاروق کے سوا کسی کے یہاں نہیں جاتے،حتیٰ کہ رئیس الوزراء بھی ان کے مکان پر آئیں گے، شیخ ان کے گھر بھی نہ جائیں گے- وہ ملنے تشریف لائے، اور میں چوںکہ اس وقت نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا، اس لیے اپنا کارڈ دے کر چلے گئے۔ بیسیوں دعوتوں کے کارڈآئے ہیں، کسی میں شریک نہ ہو سکا۔ آج رئیس الوزراء کے یہاں دعوت تھی اور شام کو مصطفے نحاس پاشارئیس وفد پارٹی کے یہاں ہے، معذرت نامے بھیج رہا ہوں۔

مؤتمر میں جو تجویز زیر غور تھی، اس کا مسودہ میں نے منگا کر دیکھ لیا تھا۔ اگر وہ پاس ہوگئی، تو کافی ہوگی اور اس کا مفاد یہ ہو گا ایک وفد لندن مطالبات لے کر جائے گا۔ اور وہاں ارباب حل و عقد کے روبر پیش کرے گا۔ پھر اگروہ تسلیم کر لیے گئے، توفبہا؛ ورنہ پھر عالم اسلامی یہ فیصلہ کرلے گا کہ اب انگریز کی اور مسلمانوں کی لڑائی ہے۔ پھر جوملک جو کچھ کرسکے گا، وہ کرے گا۔

موسم یہاں کا دہلی کے موسم سے مختلف نہیں ہے۔ میں اپنی حالت اور بخار کی کیفیت اور ڈاکٹروں کی تشخیص و علاج کو دیکھتے ہوئے اس کی امید نہیں رکھتا کہ23؍ اکتوبر کے جہازسے بھی روانگی ہو سکے۔ اور اگر اس حالت میں اور کوئی نیا تغیر ہوگیا، اور کوئی اور بیماری پیداہوگئی، پھر شاید واپسی ہی نا ممکن ہو جائے گی۔ بہر حال جو کچھ خدا تعالیٰ کو منظور ہو گا، وہ ہوگا۔

محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،یکم نومبر1938ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس

21؍دسمبر1938ء کو صبح سے جمعیت علما کے دفتر میں مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس ہو رہا ہے۔ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد صاحب، حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، مولانا حفظ الرحمان صاحب، مولانا فخر الدین صاحب، مولانا بشیر احمد صاحب، مولانا حبیب الرحمان صاحب، مولانا شاہ صاحب فاخری، مولانا حامد الانصاری غازی، ماسٹرہلال احمد زبیری کے علاوہ متعدد حضرات حصہ لے رہے ہیں۔ کارروائی کو صیغۂ راز میں رکھا جا رہا ہے، پر یس کے نمائندگان کو بھی داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ کارروائی کے متعلق یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جہاں تک ایک عام قیاس اور اندازہ کا تعلق ہے،یہ کہاجاسکتاہے کہ مجلس کے پیش نظر قاہرہ کانفرنس کے بعد سے اس وقت تک کے حالات، قدس کی موجودہ صورت حال، فلسطین کا نفرنس لندن کے انعقاد سے پیدا ہونے والے نتائج، فلسطین کے مسئلہ میں تمام مسلمانوں کے رجحانات طبیعت اور بالخصوص وہ صورت حال ہے، جو مجلس تحفظ فلسطین کے کاموں میں مسلم لیگ کی طرف سے رکاوٹیں پیدا کرنے کے سلسلہ میں سامنے آگئی ہے۔ 

اندازہ کیا جاتا ہے کہ صبح کی نشست میں مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم مجلس تحفظ فلسطین نے قاہرہ کا نفرنس کے بعد سے اس وقت کے حالات سے متعلق رپورٹ مجلس کے سامنے رکھی ہے۔امید کی جاتی ہے کہ مجلس کے فیصلے بہت جلد سامنے آجائیں گے۔ اور حالات کے پیش نظر نہایت اہم ہوں گے۔(سہ روزہ الجمعیۃ، 20-24؍دسمبر1938ء)

21؍دسمبر سے 22؍ دسمبر تک اراکین مجلس تحفظ فلسطین کا اجتماع دفتر جمعیت علمائے ہند میں منعقد ہوا۔ دو دن کے غور و فکر کا نتیجہ حسب ذیل ہے:

دو دن کی بحث و تمحیص اور موقعہ کی نزاکت اور تمام صورت حالات پر غور کرنے کے بعد مجلس نے طے کیا کہ چوںکہ برطانوی انتدابی حکومت کے مظالم اور تشدد کی پالیسی اس وقت تک فلسطین میں قائم ہے؛ بلکہ اس کے حالیہ اقدامات نے قبلۂ اول اور مسجد اقصیٰ کے تقدس اور احترام کو مجروح کر دیا ہے، نیز فلسطین کے عرب باشندوں کے جائز وطنی مطالبات کی منظوری کا اعلان نہیں کیا؛ یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ قاہرہ کا نفرنس کی قانونی اورآئینی تجاویز کے نتائج ابھی تک ظہور میں نہیں آئے۔ مجلس تحفظ فلسطین، لندن کی مجوزہ کانفرنس میں یہودیوں کو مشتبہ نظر سے دیکھتی ہے اور اس کی یہ بھی قطعی رائے ہے کہ اگرمفتی اعظم فلسطین اور ان کی جماعت کو کا نفرنس میں شرکت کاموقع نہ دیا گیا، تو مسئلۂ فلسطین کا صحیح حل نہیں ہوسکتا۔

 اس لیے مجلس کے لیے فریضۂ مذہبی کی ادائیگی کے طور پر سول نافرمانی کرنے کا اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس اقدام کو مؤثر طریق پر شروع کرنے کا پروگرام زیر غور ہے، جو عنقریب سول نافرمانی شروع کرنے کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ شائع کر دیا جائے گا۔

 اجلاس میں کمال پاشا، مولانا شوکت علی، وبیگم صاحبہ مرحومہ ڈاکٹر انصاری کے انتقال پر تجاویز تعزیت پاس کی گئیں۔(سہ روزہ الجمعیۃ،28؍دسمبر1938ء)

برطانیہ کی دو رخی پالیسی اور ہماری منزل

مولانامحمد حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے 16؍جنوری 1939ء کو برطانیہ کی دورخی پالیسی پر ایک بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ:

’’بار بار اس کا ذکر فضول ہے کہ فلسطین کے عربوں پر جو بے پناہ مظالم ہو رہے ہیں اور وحشیانہ قتل و غارت کا بازار گرم ہے، اس کی مثال ماضی و حال کی کسی جابر سے جابر حکومت میں بھی نہیں پائی جاتی،اب وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مظلوم عربوں کا خون پانی کی طرح ارزاں ہے اور برٹش شہنشاہیت کی جانب سے وہاں انصاف کے علاوہ سب کچھ مہیا ہے۔ خیال تھا کہ ان تمام مظالم کے بعد- جو حکومت کی جانب سے وہاں ہوتے رہے ہیں-ہونے والی گول میز کانفرنس میں مجاہدین فلسطین اور مفتی اعظم کے مقرر کردہ نمائندوںکے ساتھ مل جل کر کوئی ایسا حل ہوجائے گا، جس سے گذشتہ وحشیانہ طرز عمل کی تلافی ہوسکے گی؛ مگر حالیہ انتہائی جبر و تشدد کے دور دورہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے سر پرغرور پر ابھی تک استبدادو بر بریت کابھوت سوار ہے۔

لیکن حکومت کے اس طرز عمل سے زیادہ مسلمانان ہند کے اس جمود پر حیرت و تعجب ہے کہ ان میں مظلومین فلسطین کی امداد کے لیے کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ نہ مالی امداد کا جذبہ ہے اور نہ عملی فداکاری کا۔

اول و آخر تجاویز ہیں اور بس۔ مجلس تحفظ فلسطین اپنی فداکارانہ تحریک کو بھی جب ہی چلا سکتی اور کا میاب بنا سکتی ہے ،جب کہ ہندستان کے ہر گوشہ میں مجلس کی شاخیں قائم ہوجائیں اور کم از کم صوبہ کے مرکزی مقام میں مجلس کا نظام اس طرح مضبوط ہو جائے کہ جس وقت مرکز سے اطلاع پہنچے، تو فوراً ہر صوبہ کے مرکزی مقام پر اسمبلی ہال کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا جائے اور سمجھ دار اور باوقار اشخاص کا ایک وفد ہر صوبہ کے وزیر عظیم سے اس صوبہ کی پبلک کی جانب سے مل کر اس پر زور دے کہ وہ گورنر جنرل اور حکومت ہند کو مطلع کرے کہ اس صوبہ کے باشندے فلسطین کے متعلق یہ جذبات رکھتے ہیں۔ اگر ان کا لحاظ نہ رکھا گیا، تو پر امن تحریک کے ذریعہ گورنمنٹ برطانیہ کے خلاف جد و جہد جلد ہی شروع کر دی جائے گی۔

مرکز میں اگر تمام صوبوں سے مجالس کے استحکام اور ان کی تیاری کی جلد اطلاعات بہم پہنچ جائیں، تو ہر صوبہ میں پبلک مظاہرہ، مسلم ارکان اسمبلی اور وزیر اعظم حکومت صوبہ سے مطالبہ کا صحیح پروگرام شائع کر دیا جائے۔

 اس لیے ہر صوبہ کے فدا کاروں سے گزارش ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے اپنے صوبوں کی مجالس فلسطین اور دیگر انجمنوں کے ان ارکان کی مستعدی اور تیاری سے مطلع کریں، جو اس منزل میں گامزن ہونے کو تیار ہوں۔‘‘

خادم ملت :محمد حفظ الرحمان ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین دہلی۔

(سہ روزہ الجمعیۃ، 16؍ جنوری 1939ء)

گیارہ فروری کو فلسطین کی آزادی کا دن منانے کی اپیل

9؍فروری 1939ء کو آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین نے درج ذیل اعلان شائع کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ 11؍فروری1939ء کو فلسطین کی آزادی کا دن منائیں:

’’مجلس تحفظ فلسطین نے ہندستان کے تمام صوبوں میں جمعیت علما، مجلس احرار اسلام اور اپنی شاخوں کو اطلاع دی ہے کہ لندن کا نفرنس میں مجاہدین فلسطین اور مفتی اعظم کے ڈیلیگیشن کی شرکت کے بعد ضروری ہے کہ ہر صوبہ کے مرکزی مقام پر 11؍ فروری کو فلسطین کی آزادی کے متعلق زبردست جلسے کیے جائیں۔ اور اسی تاریخ کو جلسہ کے بعد ایک مؤقر وفد صوبہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے یہ مطالبہ پیش کرے کہ وہ صوبہ کے مسلمانوں اور قوم پر وروں کی جانب سے گورنمنٹ آف انڈیا کو مطلع کرے کہ وہ پارلیمینٹ پر زور دے کہ وہ مجاہدین فلسطین کے مطالبات کو ضرور بالضرور منظور کرے؛ ورنہ مسلمانان ہند مجاہدین کی امداد کے لیے گورنمنٹ برطانیہ کے مقابلہ میں مقاومت کے لیے تیار ہیں۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ،9؍فروری1939ء)

چیمبر لین کی دو رخی پالیسی پر جمعیت اور مجلس احرار کا احتجاج

1936 سے 1939 ء تک جاری رہنے والی عرب جنگ ، فلسطین کے مستقبل کے نظامِ حکومت پر بات چیت کرنے، برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے پر غور کرنے اور کشیدگی کا سیاسی حل نکالنے کے مقصد سے ، برطانوی وزیراعظم مسٹر چیمبر لین کی دعوت پر لندن میں ایک کانفرنس ہوئی، جسے تاریخ میں لندن کانفرنس 1939ء یا سینٹ جیمز پیلس کانفرنس کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ کانفرنس 7؍فروری کو شروع ہو کر 17؍مارچ 1939ء تک جاری رہی۔ اس میں برطانوی حکام، فلسطینی رہنماؤں، اور مصر، عراق، سعودی عرب، یمن اور ٹرانس جارڈن (شرق اردن) کے عرب نمائندوں کے ساتھ ساتھ یہودی وفود نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ عرب وفد نے یہودی نمائندوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں بیٹھنے اور براہِ راست بات چیت سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں برطانوی وزیر اعظم نیویل چیمبرلین اور دیگر حکام کو دونوں وفود کے ساتھ الگ الگ اجلاس منعقد کرنے پڑے۔

اس کانفرنس کے دوران 22؍فروری کو برطانوی اور عرب وفود کے درمیان ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس میں برطانوی نوآبادیاتی سیکریٹری میلکم میکڈونلڈ نے عرب وفد کے سامنے برطانوی موقف واضح کیا، جس کے اہم نکات درج ذیل تھے:

فوری آزادی سے انکار: برطانیہ نے فلسطین کی فوری آزادی کے عرب مطالبے کو مسترد کر دیا اور اس کے بجائے ریاستی معاملات میں عربوں کی محدود شمولیت کی ایک اسکیم تجویز کی۔

امیگریشن (آبادکاری): یہودی امیگریشن کو مکمل طور پر روکنے کا عرب موقف بھی نامنظور کر دیا گیا اور اس کی جگہ محدود امیگریشن کی تجویز پیش کی گئی۔

اراضی کی فروخت:یہودیوں کو زمین کی فروخت پر مکمل پابندی کا مطالبہ بھی ٹھکرا دیا گیا۔ اس کے بجائے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی: ایک وہ حصہ جہاں زمین کی فروخت جاری رہے گی، دوسرا جہاں اسے ریگولیٹ (باقاعدہ) کیا جائے گا، اور تیسرا جہاں فروخت ممنوع ہوگی۔

ان تجاویز پر اتفاق نہ ہونے کے باعث اس اجلاس کو 22؍فروری کو ہی ملتوی کر دیا گیا۔ بالآخر، یہ تاریخی کانفرنس 17؍مارچ 1939ء کو کسی بھی فریق کے درمیان حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔ مذاکرات کی اس ناکامی کے بعد، برطانیہ نے یک طرفہ طور پر اپنی پالیسی وضع کی اور مشہورمئی 1939ء کا وائٹ پیپر (White Paper of 1939) جاری کیا۔ اس پالیسی کے تحت فلسطین میں آئندہ پانچ سالوں کے لیے یہودی آباد کاری کو صرف 75,000 ؍افراد تک محدود کر دیا گیا اور یہودیوں کو زمین کی فروخت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

اس کے متعلق جناب جاں باز مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’برطانوی وزیراعظم مسٹر چیمبر لین کی دعوت پر لندن میں7؍فروری1939ء کو فلسطین کانفرنس شروع ہوئی۔ اس میں شمولیت کے لیے عربی وفد-جو عراق، حجاز، مصر، فلسطین ،یمن اور شرق اردن پر مشتمل تھا- انھوں نے عین وقت پریہود وفدکے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس پر دونوں وفود کے علاحدہ علاحدہ بیٹھنے کا انتظام کر دیا گیا۔کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں چیمبر لین نے کہا:

’’جیسے کہ آپ سب کو معلوم ہے، میری پالیسی امن کی پالیسی ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہوں کہ آپس کے جھگڑے باہمی صلاح ومشورے سے طے کر لیے جائیں۔ لہذا ضرورت ہے کہ فریقین ایک دوسرے سے میانہ روی اختیار کریں اور بھائیوں کی طرح رہیں۔ ایسے موقعہ پربہ حیثیت ایک ہمسایہ ملک کے میرا فرض ہے کہ میں فریقین کے درمیان مفاہمت کراؤں اور فریقین کے مطالبات از راہ انصاف طے کرانے کی کوشش کروں۔ گو یہ کام مشکل ہے، تاہم اگر رواداری سے کام لیا گیا، تو تصفیہ ناممکن نہیں۔‘‘

 اس کے بعد عرب وفد کے لیڈر نے عرب اور فلسطین کے مطالبات پیش کرتے ہوئے صرف اتنا کہا:

’’ہمارے مطالبات کو امن اور انصاف کے مطابق طے کیا جائے۔‘‘

 ان مطالبات کے جواب میں چیمبر لین نے یہودیوں سے کہا:

’’ آپ نے فلسطین میں سخت مشکل حالات کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا ہے۔‘‘

 چیمبر لین کی اس دورخی پالیسی کے باعث لندن فلسطین کانفرنس ناکام ہوگئی، تو 15؍ فروری(1939ء) کو شمال مغربی صوبہ سرحد کے احرار رہنماؤں نے جمعیت علمائے سرحد اورفلسطین کمیٹی کے تعاون سے ایک قرارداد کے ذریعہ برطانیہ کو چیلنج کیا گیا کہ اگر فلسطین کے عربوں کے مطالبات منظورنہ کیے گئے، تو تمام ہندستان اور خصوصا سرحد کے عوام سول نافرمانی کریں گے۔ اگر اس سے حالات بگڑ گئے، تو اس کی تمام تر ذمہ داری برطانیہ پر ہوگی۔

اس قرار داد کی ایک نقل وائسرائے ہند کو بھیج دی گئی۔

اسی تاریخ کو بہار کے وزیراعظم سری کرشن سنہاسے احرار اور جمعیت کامشترک وفدملا۔ انھیں فلسطین کے معاملات پر توجہ دلائی گئی۔ جواب میں بہار کے وزیر اعظم نے کہا: آپ کا مطالبہ بجا ہے؛ کیوںکہ فلسطین کے متعلق کانگریس کی پالیسی سب پر عیاں ہے۔ بنا بریں مجھے آپ کے مقصد سے پوری ہمدردی ہے اور میں بحری تار کے ذریعے برطانیہ کو آپ کے جذبات سے مطلع کروں گا۔(کاروان احرار، جلد چہارم، ص؍25)

آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کا صوبائی پروگرام

وڈہیڈکمیشن کی اسکیم کو منسوخ کرنے کے بعد لندن میں فلسطین کانفرنس کا انعقاد اور اس میں سادہ لوح مجاہدین فلسطین کے نمائندوں کی جبری شرکت شاطران برطانیہ کی ایک سیاسی چال ہے۔ اور اس کا نتیجہ اظہرمن الشمس ہے؛ مگر پھر بھی اس کو مؤثر بنانے اور مدبران برطانیہ کو کانفرنس کے موقعہ پر دعوت غوروفکر دینے کے لیے آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین نے ہندستان کی صوبجاتی حکومتوں کی وساطت سے یہ پیغام11؍ فروری 1939ء کو پہنچا ہی دیا کہ اگر حکومت برطانیہ نے مجاہدین فلسطین کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا، تو ہندستان مجاہدین کی امداد کے لیے ہر قربانی کرنے کو تیار ہے۔

 اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کی طرف سے ذمہ داران و کارکنان صوبائی مجالس، جمعیت علما، مجلس احرار، مجلس تحفظ فلسطین کے نام ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا، جس میں ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے صوبہ کے مرکزی مقام پر ۱۱؍ فروری کو ایک پبلک جلسہ کریں، جس میں یہ تجویز پاس کی جائے کہ:

صوبہ… کے تمام مسلمان اور قوم پر ور فلسطین میں برطانیہ کے بڑھتے ہوئے مظالم پر اظہار غیض و غضب کرتے ہیں اور برٹش ایمپائرسے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فورا اپنی رفتار کو بدلے اور مجاہدین کے مطالبات کو تسلیم کرلے ؛ورنہ صوبہ کے تمام مسلمان مجلس تحفظ فلسطین کی زیرنگرانی سول نافرمانی کے لیے تیار  ہیں۔ نیز صو بائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس مطالبہ کو جلد از جلد حکومت ہند کی معرفت برٹش حکومت تک پہنچادے ۔ (تلخیص) ۔ اس کے بعد ایک مؤقر وفد مرتب کر کے صوبہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کی جائے اور مذکورہ بالا مطالبہ پیش کیاجائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جہاں جہاں وفود نے وزیر اعظموں سے ملاقات کی ہے، وہاں کی امید افزا اطلاعات آرہی ہیں۔ اطلاعات کا خلاصہ یہ ہے کہ وزیر اعظموں نے وفود کے مطالبات کو بغور سنا اور نوٹ کر لیا۔ اور حکومت ہند کی معرفت برٹش حکومت تک پہنچانے کا یقین دلایا۔حسب ذیل صوبوں کی اطلاعات دفتر میں آچکی ہیں:

صوبہ سندھ: حضرت مولانا محمد صادق صاحب صدر جمعیت علمائے سندھ کی قیادت میں وفد مرتب ہوا اور مولانا محمد صدیق صاحب، مولانا حکیم فتح محمد صاحب، مولوی حافظ محمد حسن صاحب، مسٹر حافظ شریف حسین صاحب نے وفد میں شرکت فرمائی۔

صوبہ سرحد:حضرت مولانا عبد الحق صاحب نافع مدرس دار العلوم دیو بند کی قیادت میں وفد مرتب ہوا اور مولانا گلاب آقا صاحب، مولانا حافظ عبد القیوم صاحب پوپلزئی، مولانا عبد الحنان صاحب، مولانا محمد لطیف اللہ صاحب، مولانا سید عبداللہ شاہ صاحب شریک وفد ہوئے۔

صوبہ سی پی:حضرت مولانا چراغ الدین صاحب کی زیر قیادت وفد مرتب ہوا اور مولانامقبول احمد صاحب ،مولانا عبد الرؤف صاحب محوی، مولانا عبد الغفار صاحب شریک وفد ہوئے۔

صوبہ بہار:حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب کی زیر قیادت وفد نے ملاقات کی۔ توقع ہے کہ باقی صوبوں کے ذمہ دار حضرات بھی اپنے ہاں کی تفصیلات سے جلد ہی مطلع فرمائیں گے۔

خادم ملت محمد حفظ الرحمان ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین دہلی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ،24؍ فروری 1939ء)

مقاطعات ثلاثہ کی اپیل

جمعیت علمائے ہند نے اپنا گیارھواں اجلاس عام 3-4-5-6؍ مارچ 1939ء کو منعقد کیا، جس میں جناب ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاری صاحب صدر مجلس استقبالیہ نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں فلسطین کی تازہ ترین صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: 

(الف)فلسطین کی جدوجہد آج فیصلہ کن منزل میں ہے اور اِس سلسلہ میں یک طرف برطانوی استعمار نے انتہائی تشدد انگیزی سے کام لیا ہے۔ چنانچہ پچیس ہزار سے زائد برطانوی افواج فلسطین میں مصروف کار ہیں۔ دوسری طرف برطانوی استعمار کی یہ کوشش ہے کہ دفع الوقتی کی خاطر ایک نام نہاد آزاد حکومت کا اعلان کردیا جائے، تاکہ بین الاقوامی حالات کے رُوبہ اصلاح ہونے کے بعد ازسرِ نو اپنا اقتدار مطلق قائم کرلیا جائے۔

الٰہ آباد فلسطین کانفرنس سے لے کر اب تک ہمارے سامنے مقاطعات ثلاثہ یعنی ولایتی مال، شاہی دربار اور فوجی بھرتی کے بائیکاٹ کا پروگرام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بلاامتیاز مسلک ہم جملہ مسلمان جماعتوں کو اوّل فرصت میں ان باتوں پر متحد کرلیں۔ دوسری طرف ہمیں وطن کی استعمار دشمن جہدوجہد میں شریک ہونے کی مسلمانوں کو دعوت دینا چاہیے۔‘‘

بعد ازاں اسی اجلاس میں، جب شیخ التفسیر حضرت علامہ مولانا سیّد عبدالحق صاحب مدنیؒ صدر اجلاس نے اپنا خطبۂ صدارت پیش کیا، تو مسئلۂ فلسطین پر مسلمانوں کو للکارتے ہوئے فرمایا کہ: 

’’غلام ہندستان کے بسنے والے مسلمانو! فلسطین کے موجودہ ہنگامے صرف اسی لیے ہیں کہ تمھاری غلامی کو محفوظ رکھا جائے، تم بہت چیخے اور چیخ رہے ہو۔ مگر تمھاری چیخ وپکار بے کار رہی اور بے کار رہے گی؛ کیونکہ یہاں تمھاری چیخ و پکار براہِ راست برطانیہ کے شہنشاہی مفاد سے ٹکراتی ہے، تمھاری چیخ و پکار صرف اسی وقت سماعت کے قابل ہوسکتی ہے، جب انگریز کا نقصان نہ ہوتا ہو۔ اگر آپ واقعی طور پر فلسطین کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، تو اس کی صورت صرف یہی ہے کہ اپنی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ ڈالیں اور انگریز کی اُن تمام اغراض کا بیڑا بحر روم میں غرق کردیں، جن کی تکمیل کے لیے وہ فلسطین اور مصر کو غلام بنائے ہوئے ہے۔

میرے خیال میں قبلۂ اوّل کی اہمیت، اس کا تقدس، عربی مظلوموں اور معصوموں کا احترام ہمارے اوپر صرف ایک ہی فرض عائد کرتا ہے، یعنی آزادی کی انتہائی جدوجہد۔ 

جمعیت علمائے ہند نے گذشتہ دِنوں میں مجلس تحفظ فلسطین کے نام سے ایک کمیٹی بنائی تھی؛ لیکن افسوس آپ کے جمود اور خنکی نے اس کی سرگرم جدوجہد کو ابھی تک کامیاب نہیں ہونے دیا۔جمعیت علمائے ہند کے موجودہ اجلاس کو اس کے متعلق بھی غور و خوض کرنا ہے۔‘‘

پھر اسی جلاس کی تجویز نمبر(۲۸) منظورکی گئی، جس میں کہا گیاکہ: 

’’مجلسِ مرکزیہ جمعیت علمائے ہند کے سامنے فلسطین کے وفد کی رپورٹ کا ماحصل پیش ہوا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مؤتمرِ قاہرہ نے جو تجاویز پاس کی تھیں، جمعیت کے نمائندوں نے اس سے اتفاق کیا تھا۔ یہ جلسہ اُن تجاویز کی مزید تصدیق و توثیق کرتا ہے اور قرار دیتا ہے کہ اگر فلسطین کانفرنس لندن ناکامیاب ہوگئی ،یعنی عربوں کے مطالبات منظور نہ کیے گئے اور ان کو مطمئن نہ کیا گیا، تو ہندستان کے مسلمان برطانیہ کی مجوزہ اسکیم ہرگز قبول نہ کریں گے۔ جمعیت علما برطانیہ کی طرف سے اُس تشدد اور آتش بازی اور داروگیر کی تمام کارروائی کی -جو فلسطین میں جاری ہے- سخت مذمت کرتی ہے اور اس کو انسانیت کے خلاف سمجھتی ہے۔ جمعیت علما تمام مسلمانانِ ہند سے توقع رکھتی ہے کہ وہ بلالحاظ فرقہ اور مسلک اس مسئلہ میں متفق ہوکر فلسطین کی نجات کے لیے مجلس تحفظِ فلسطین کی ہدایات کے ماتحت ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنے کے لیے آمادہ ہوں گے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍387)

اور جیسا کہ عرض کیا گیا کہ لندن کانفرنس ناکام ہوگئی اور برطانیہ نے یک طرفہ طور پر اپنی پالیسی وضع کرتے ہوئے مئی 1939ء کا وائٹ پیپرجاری کیا۔ اس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعیت کا ترجمان رقم طراز ہے کہ:

’’ ادھر 22؍فروری 1939ء کو برطانی اور عرب ڈیلی گیٹس کے درمیان فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں آزاد عرب اسٹیٹ کے متعلق عربوں کا مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ اسی طرح فلسطین میں یہودیوں کے داخلہ کو قطعی طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی نامنظور کردیا گیا۔ اس طرح یہ کانفرنس تباہ کن انجام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 28؍ فروری و یکم مارچ 1939ء) 

جمعیت علما سے مجلس دفاع فلسطین کی دردناک اپیل

23؍مارچ 1939ء کو مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے نام دمشق سے ایک تار موصول ہوا کہ’’ مصیبت زدہ فلسطینی بہت زیادہ حاجت مند ہیں ۔ برائے کرام حتی الامکان روپیہ فراہم کیجیے اور بحری تار کے ذریعہ بھیجیے۔ 

’’ہیئۃ العظمی پریسیڈنٹ فلسطین ڈیفنس کمیٹی مشق۔ ہندستان کی موجودہ نازک حالت اور سیاسی کشمکش کے پیش نظر مجلس تحفظ فلسطین ہندیہ… لینے کا ارادہ نہیں رکھتی کہ وہ خود ہندستان سے اعانات جمع کرکے بھیجے؛ لیکن غیرت مند اورحساس قلوب کے مسلمانوں سے یہ امید رکھتی ہے کہ مجاہد ین فلسطین کی بیواؤں اور یتیموں اورمجروحین کے علاج کے لیے جو کچھ بھی وہ کرسکتے ہیں، کریں۔بہتر یہ ہے ہر قصبوں اور شہروں کے مسلمان اپنی اپنی رقوم بحری تار کے ذریعہ سے مصری بنک کو پریسیڈنٹ فلسطین ڈیفنس کمیٹی دمشق کو روانہ کردیں اور ہر رقم کے ساتھ یہ تصریح کر دیں کہ یہ رقم مصیبت زدگان فلسطین کی اعانت کے لیے ہے۔ فلسطین کے مسلمانوں پر اس اس وقت قیامت جیسا ہول ناک وقت آیا ہوا ہے اور وہ عالم اسلامی کی امداد و اعانت کے سخت مستحق ہیں۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اپریل1939ء)

فلسطینیوں کی امداد رسی

چنانچہ مجلس تحفظ فلسطین کی جانب سے 11؍ مئی1939ء  کو پہلی قسط میں دو سو تیس روپے اور دوسری قسط میں دو سو پچاس روپے مظلومین فلسطین کی امداد کے لیے بھیجی گئی۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 16؍مئی 1939ء) 

فلسطین کا قرطاس ابیض ناانصافی پر مبنی

لندن کانفرنس کی ناکامی کے بعد جو وائٹ پیپر جاری کیا گیا تھا، وہ پیپر17؍مئی 1939ء کو شائع کیا گیا۔ 

’’لندن، 17؍مئی 1939ء- فلسطین کے متعلق حکومت برطانیہ کا قرطاس ا بیض آج شائع ہوگیا۔ اس میں تجویز کیا ہے کہ فلسطین میں دس سال کے اندر آزاد حکومت قائم ہوجائے گی اور پانچ سال کے اندر سات سو پچاس یہودیوں کو داخلہ کی اجازت ہوگی۔ اس کے بعد ان کا داخلہ بند ہو جائے گا۔ فلسطین میں جو آزاد مملکت قائم ہوگی، اس کے اور برطانیہ کے دوستانہ تعلقات کی بنا پر معاہدہ ہوگا، جس کے ذریعہ دونوں ملکوں کی تجارتی اور اقتصادی ضرورتوں کو تسلی بخش طریقہ پر پورا کیا جائے گا۔ سینڈیٹ کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی لیگ سے مشورہ کرنا ضروری ہوگا۔ (سینڈیٹ ایک فرمان ہے، جس کے ذریعہ لیگ نے برطانیہ کو فلسطین پر حکومت کرنے کا اختیار دیا تھا۔ آزاد ریاست میں عربوں اور یہو دیوں دونوں کا حصہ ہوگا۔ اور وہ حصہ اس طریقہ پر آپس میں تقسیم ہو گا، جنھیںدونوں فرقوں کے ضروری مفاد کی حفاظت ہوسکے۔ جب تک آزاد ریاست قائم ہو، اس کے درمیانی عرصہ میں حکومت برطانیہ فلسطین کے نظم و نسق کی ذمہ دار ہوگی۔ اس درمیانی عرصہ میں اہل فلسطین کو حکومت میں زیادہ حصہ دیا جائے گا۔ اس طریقۂ کار پر عمل کیا جائے گا، خواہ یہودی اور عرب اس سے فائدہ اٹھائیں، یا نہیں۔ 

منتخب شدہ مجلس آئین ساز

اس مرحلہ پر حکومت نے کوئی منتخب شدہ مجلس آئین ساز کرنے کی تجویز نہیں کی ہے۔ اگر رائے عامہ اس کے حق میں رہی، تو حکومت لیجس لیچر مجلس قانون ساز قائم کر دے گی۔

امن بحال ہونے کے پانچ سال بعد ایک موزوں کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں فلسطین کے، نیز برطانیہ کے نمائندے شامل ہوںگے۔ یہ کمیٹی عبوری دور میں آئینی انتظامات کی حالت پر غور کرے گی اور آزاد فلسطین کے آئین کے متعلق سفارش کر ے گی ۔ 

تمام اسکیم کے لیے لیگ کی منظوری لی جائے گی۔ اور مستقل سینڈیٹ کمیشن اس پر جون میں غور کرے گا۔ اور اس کے بعد لیگ کونسل کے پاس بھیج دی جائے گی۔

قرطاس ابیض پر دارالعوام میں پیر اور منگل کو بحث ہوگی۔ اور اس وقت مسٹر میکڈونلڈ فیصلہ کے اسباب بیان کریںگے۔ ملک معظم کی حکومت اس بارے میں اپنا اطمینان کرے گی کہ تمام متبرک مقامات تک پہنچنے کی آزادی اور تحفظ اور فلسطین کے مختلف فرقوں کی مذہبی جماعتوں کے مفاد اور جائداد کے تحفظ کے معقول انتظام کرلیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطین میں چند غیر ملکیوں کے مفاد کا بھی مناسب تحفظ ہونا چاہیے۔

ملک معظم کی حکومت اس بات کی پوری کوشش کرے گی کہ حالت پیدا کی جائے کہ دس سال کے اندر آزاد ریاست قائم ہوجائے۔ لیکن اگر التوا کی ضرورت پڑے گی، تو حکومت اہل فلسطین، بین الاقوامی لیگ اورقریب کی عرب ریاستوں سے مشورہ کرے گی۔

اگر التوا لابدی ہوا، توملک معظم کی حکومت ان پارٹیوں(اہل فلسطین، لیگ اور قریب کی عرب ریاستوں) کا تعاون حاصل کر کے اسکیم تیار کرے گی، جس کے ذریعہ جلد از جلد منزل مقصود طے کی جاسکے۔

پانچ سال کے اندر یہودیوں کو اس حساب سے داخلہ کی اجازت دی جائے گی کہ یہودی آبادی کاایک تہائی ہوجائیں۔ اس کے معنی یہ ہوںگے کہ اس سال کے اپریل سے پانچ سال کے اندرسات سو پچاس یہو دیوں کو داخلہ کی اجازت ملے گی۔ پانچ سال کے بعد کسی یہودی کو عربوں کی اجازت کے بغیر داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہائی کمشنر کو آراضی منتقل کرنے کے متعلق قاعدے و قانون بنانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

حکومت میکڈونالڈ کے خط و کتابت کی بنا پر عربوں کے مطالبے نا منظور کرتی ہے۔ حکومت نہ تو عربوں کے اس مطالبہ کو مانتی ہے کہ فلسطین کو عرب اسٹیٹ بنایا جائے اور نہ یہودیوں کے اس مطالبہ کو منظور کرتی ہے کہ فلسطین کو یہودی اسٹیٹ بنایا جائے۔

فلسطین کے متعلق اپنی پالیسی کا اعلان کرنے سے حکومت کی خاص غرض یہ ہے کہ غیر یقینی فضادور ہوجائے؛ کیوںکہ غیر یقینی فضا فلسطین میں جھگڑے کی جڑ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ دونوں فریق اس کے خلاف نکتہ چینی کریںگے۔‘‘(سہ روزہ الجمعیۃ،20-24؍مئی 1939ء،ص؍5)

چوں کہ اس قرطاس میں فلسطین میں ایک برطانوی عبوری اقتدار اور فوری آزادی دینے سے انکار کرتے ہوئے دس سال بعد مشروط آزادی کی وکالت کی گئی تھی، اس لیے جمعیت علمائے ہند نے27،28،29؍ مئی 1939ء کوحضرت مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ رکن منتظمہ جمعیت علمائے ہندکی صدارت میں منعقد مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں  اس کی شدیدمخالفت کی اور اسے ناانصافی پر مبنی قرار دیا۔

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس بر طانوی حکومت کے قر طاس ابیض کو- جو فلسطین کے متعلق اس نے شائع کیا ہے- عر بوں کے ساتھ نا انصافی اور وعدہ شکنی پر مبنی سمجھتا ہے۔ اور عربوںپر بر طانیہ کے تشدد اور جابر انہ اور ظا لمانہ اقدامات کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ برطانوی حکومت کو لازم ہے کہ وہ عربوں کو بغیر مزید تاخیر کے فوراً آزادی دے کر فلسطین میں امن قائم کرے اور مسلمانانِ عالم کے اضطراب اور بے چینی کورفع کرے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تجاویز ، جلد اول، ص؍393)

ہندستان کی آزادی سے فلسطین بھی آزاد ہوگا

جمعیت علمائے ہند کا  بارھواں اجلاس عام 7،8،9؍ جون1940ء کو منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے فرمایا۔ مولانا نے ہندستان کو آزاد کرانے کی ضرورت پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے خطبۂ صدارت میں فرمایا: 

’’(و)مقاماتِ مقدسہ اور دیار عرب، مصر، شام، فلسطین، سوڈان، شمالی لینڈ وغیرہ، جن میں اسلامی آبادی ہے اور ہندستان کی غلامی کی وجہ سے یہ سب غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے گئے ہیں، آزاد ہوسکیںگے۔‘‘

17؍مارچ1944ء کو تمام ہندستان میں یوم فلسطین منایا جائے

چوں کہ لندن کانفرنس کے بعد جاری وائٹ پیپر کی مدت ختم ہونے والی تھی، اس لیے فلسطین کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر عالم اسلام کا موضوع بحث بنا۔ ایسے حالات میں جمعیت علمائے ہند نے 6؍ مارچ 1944ء کو تمام اسلامی جماعتوں سے ایک اہم اپیل کی، جس کا متن درج ذیل ہے:

’’عالم اسلام میں آج کل فلسطین کامعاملہ خاص طور پر زیربحث ہے، کیوںکہ 31؍مارچ 1944ء کو فلسطین میںداخلۂ یہود سے متعلق گورنمنٹ برطانیہ کے اس قرطاس ابیض کی مدت ختم ہورہی ہے ، جس میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پانچ سال کے بعد گورنمنٹ برطانیہ اور فلسطین کے نمائندے باہم مل کر فلسطین کے لیے ایک فلسطینی حکومت کی تشکیل کریںگے۔ اور اس پانچ سال کی مدت میں صرف پچھتر ہزار یہودی باہر سے فلسطین میں آ سکیںگے؛ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ قرطاس ابیض کی آخری تاریخ ختم ہونے سے پہلے یہودی تحریک صیہونیت کو پھر زندہ کر رہے ہیں۔ اور اس امر کی کوشش کر رہے ہیں کہ فلسطین میں یہودی حکومت قائم کی جائے اور داخلۂ یہود پر کوئی پابندی باقی نہ رہے۔

یہودیوں کو پروپگنڈے نے کی جو بے پناہ طاقت حاصل ہے، اُس سے روز بروز یہ خطرہ بڑھ رہا ہے کہ امریکی حکومت کے ارباب حل و عقدہ یہودیوں کے اس پروپیگنڈے سے متأثر ہوجائیںگے۔ اور اگر امریکہ نے یہودیوں کی حمایت کی، تو گورنمنٹ برطانیہ کا اپنے وعدے کو پورا کرنا اور اس وعدے کی پابندی کرنا- جو اس نے 17؍مئی 1939ء کو غیرمبہم الفاظ میں کیا تھا- دشوار معلوم ہوتا ہے۔ اس خطرہ کا احساس کرتے ہوئے حکومت مصر، عراق، شام، حجاز، یمن وغیرہ نے نہایت سختی سے یہودی پروپیگنڈے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ فلسطین اور تمام عالم اسلامی میں ایک خاص بے چپنی اور اضطراب پھیل رہا ہے۔ ان تمام حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ ہندستان کے مسلمان بھی متفقہ طور پر احتجاجی جلسے منعقد کریں اور گورنمنٹ برطانیہ کو حکومت ہند کی معرفت ایک بار اور متنبہ کر دیں کہ اگر گورنمنٹ برطانیہ نے یہودیوں کے پروپیگنڈے سے کوئی اثر قبول کیا، یا امریکی حکومت کی مداخلت کو گوارا کیا، تو یہ اُس وعدے کے بالکل خلاف ہو گا، جو17؍مئی 1939ء کو تمام دنیا کے مسلمانوں سے عموماً اور اعراب فلسطین سے خصوصاً اُس نے کیا تھا اور یہ وعدہ خلافی کی ایسی بدترین مثال ہوگی، جس کی نظیر دنیا میں ملنی ناممکن ہوگی۔ اور اس کا تمام عالم اسلامی کے جذبات پر بہت ہی برا اثر پڑے گا اور اس کے نتائج نہایت ہی خطر ناک ہوںگے۔

 جمعیت علمائے ہند اپنی تمام ماتحت شاخوں اور ہندستان کی دوسری تمام اسلامی جماعتوں سے پر زور مخلصانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ 17؍ مارچ1944ء کو جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ ملک کے گوشہ گوشہ میں یوم فلسطین کے جلسوں کا انتظام کریں۔ اور ان جلسوں میں بلاکسی اختلاف کے سب حضرات حصہ لیں، تاکہ معلوم ہوسکے کہ ہندستان کے مسلمان مذہبی تعلق کی بنا پر کسی اسلامی مسئلہ میں کس طرح متحد ومشترک ہیں۔ ان جلسوں میں ذیل کی تجویز پاس کی جائے۔ اگر مقامی اعتبار سے کسی ترمیم کی ضرورت پیش آجائے، تو ترمیم کر لی جائے۔ 

تجویز: مسلمانان …کا یہ جلسہ گورنمنٹ برطانیہ سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے قرطاس ابیض میں کیے گئے وعدے پر مضبوطی سے قائم رہے اور یہودیوں کے فلسطین میں داخلہ کو 31؍مارچ کے بعد قطعی بند کر دے اور نمائندگان فلسطین کے مشورہ سے فلسطین کی آئندہ حکومت کی ایسی تشکیل کرے، جو اہل فلسطین اور عالم اسلامی کے لیے موجب اطمینان ہو۔

اگر برطانیہ یہودیوں کی تحریک صیہونیت سے متأثر ہوگئی اور اس نے اپنا صریح اور حتمی وعدہ پورا نہ کیا، تو مسلمانان عالم کے قلوب مجروح ہوجائیں گے اور برطانیہ کے خلاف ان کے جذبات غم و غصے کا طوفان خیز تلاطم برپا ہوجائے گا۔

عبدالحلیم صدیقی ناظم جمعیت علمائے ہند دہلی۔ (ریکارڈ روم)

 صدر امریکہ ووزیر اعظم برطانیہ کے بیانات کی مذمت

امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے Zionist Organization of America کی 47؍ویں سالانہ کانفرنس (جو اٹلانٹک سٹی، نیو جرسی میں منعقد ہوئی) کو بھیجا گیا پیغام میں فلسطین کو یہودیوں کی آمد اور نوآبادیاتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ بیان برطانوی وائٹ پیپر (1939) کی پالیسی-جو فلسطین میں یہودیوں کی آمد کو محدود کرتی تھی اور یہودی قومی گھر کی بجائے عرب اکثریت کی حفاظت پر زور دیتی تھی-کو تبدیل کرنے کی واضح کوشش تھا۔ روزویلٹ نے Democratic Party کی پلیٹ فارم کا حوالہ دیتے ہوئے یہودیوں کے لیے ’’آزاد اور جمہوری یہودی‘‘ commonwealth (یعنی ریاست) کی تشکیل کی حمایت کی، جو وائٹ پیپر کے فیصلوں کو چیلنج کرتا تھا۔ان کے بیان کا انگریزی متن درج ذیل ہے:

Washington, October 15, 1944

Dear Bob: Knowing that you are to attend the forty-seventh annual convention of the Zionist Organization of America, I ask you to convey to the delegates assembled my cordial greetings.

Please express my satisfaction that, in accord with the traditional American policy and in keeping with the spirit of the‘‘four freedoms,’’the Democratic Party at its July convention this year included the following plank in its platform:

‘‘We favor the opening of Palestine to unrestricted Jewish immigration and colonization, and such a policy as to result in the establishment there of a free and democratic Jewish commonwealth.’’

Efforts will be made to find appropriate ways and means of effectuating this policy as soon as practicable. I know how long and ardently the Jewish people have worked and prayed for the establishment of Palestine as a free and democratic Jewish commonwealth. I am convinced that the American people give their support to this aim and if reelected I shall help to bring about its realization.

]Franklin D. Roosevelt[

یہ بیان WWII کے تناظر میں یہودیوں کی ہولوکاسٹ سے بچاؤ اور فلسطین میں ان کی آبادکاری کی حمایت کرتا تھا، جو برطانوی پالیسی کو بدلنے کی دباؤ ڈالتا تھا۔

اسی طرح برطانوی وزیر اعظم Winston Churchill  چرچل نے برطانوی پارلیمنٹ (House of Commons) میں لارڈ موائن (جو مصر میں برطانوی وزیر رہائشی تھے) کے 6؍نومبر 1944ء کو قتل-جو مبینہ طور پر یہودی دہشت گردوں (Stern Gang) نے کیا-پر ردعمل میں فلسطین میں دہشت گردی کی مذمت کی۔ تاہم، انھوں نے Zionist hopes اور یہودی قومی گھر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو یہودیوں کا ’’مستقل دوست اور مستقبل کا معمار‘‘ سمجھتے ہیں۔ یہ بیان 1939ء کے وائٹ پیپر - جو چرچل کی مخالفت میں منظور ہوا تھا اور یہودی ریاست کی راہ میں رکاوٹ تھا-کو تبدیل کرنے کی ان کی پرانی کوششوں پر مبنی تھا۔ چرچل نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی صورت میں Zionist dreams کو دوبارہ سوچنا پڑے گا، لیکن ان کی بنیادی حمایت برقرار رہی۔ انھوں نے یہ بیان 17؍نومبر 1944ء کو دیا تھا، جس کا انگریزی متن درج ذیل ہے:

This shameful crime has shocked the world. It has affected none more strongly than those, like myself, who, in the past, have been consistent friends of the Jews and constant architects of their future. If our dreams for Zionism are to end in the smoke of assassins' pistols and our labours for its future to produce only a new set of gangsters worthy of Nazi Germany, many like myself will have to reconsider the position we have maintained so consistently and so long in the past. If there is to be any hope of a peaceful and successful future for Zionism, these wicked activities must cease, and those responsible for them must be destroyed root and branch.

یہ بیانات دونوں رہنماؤں کی مشترکہ کوشش تھیں کہ فلسطین کو یہودیوں کے لیے کھولا جائے اور وائٹ پیپر کی پابندیوں کو ختم کیا جائے، جو بعد میںفلسطین  کی تقسیم اور اسرائیل کی تشکیل کی بنیاد بنیں۔ 

جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ منعقدہ 8، 9؍ نومبر1944ء کی میٹنگ میں ان دونوں بیانات کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ فلسطین کے متعلق مسٹر روز ویلٹ صدر امر یکہ کے اظہار خیال اور مسٹر چرچل وزیر اعظم بر طانیہ کے اس بیان کو- جو صدر امریکہ کے بیان کے بعد انھوں نے دیا ہے-سخت غم و غصہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان دونوں بیانوں سے مترشح ہوتا ہے کہ صدر امریکہ برطانوی حکومت کے قر طاس ابیض 1939ء میں کیے ہوئے حتمی وعدہ کو بد لوانا چاہتی ہیں۔ اور مسٹر چرچل اپنی سیاسی مصالح کی بنا پر صدر امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے اپنے حتمی وعدہ سے ہٹ جانے کی آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔

 جمعیت علمائے ہند- جو اس قر طاس ابیض کو بھی اہل فلسطین کے حق میں نا انصافی سمجھتی تھی- اس سے انحراف کو سخت ترین وعدہ خلافی اور اہل فلسطین کے حق میں صریح ظلم سمجھتی ہے اور حکومت برطانیہ کو مطلع کرتی ہے کہ فلسطین میں یہودی آبادی قائم کرنے کا خیال عالم اسلامی کے لیے ایک کھلا چیلنج ہوگا اور تمام دنیا کے مسلمان ان لوگوں کو- جو ایسا کرنے، یا برطانیہ کو اس کی ترغیب دینے، یا بزور اس کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں- سخت نفرت وحقارت سے دیکھتے ہیں اور اس حرکت کو تمام مسلمانوں کے ساتھ بُغض و عناد پر محمول کرتے ہیں۔ نیز یہ جلسہ لندن کی اس کمیٹی کو -جویہو دیوں کی مقصد بر آری اور فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے لیے قائم ہوئی ہے اور یہودیوں کی ان وحشیانہ اور متشددانہ کارروائیوں کو- جو فلسطین میں وہ کر رہے ہیں، اور ان کا مقصد برطانوی حکومت کو اہل فلسطین کے حقوق غصب کرنے پر مجبور کرنا ہے -سخت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور تمام مساعی کو انسانیت کے خلاف ایک قبیح اور بد نما دھبہ سمجھتا ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍490)

اس کے بعد 5؍ اپریل 1945ء کو امریکی صدر روزویلٹ نے سعودی فرما روا عبد اللہ ابن عبد الرحمان فیصل السعود کو لکھے خط میں اپنی حکومت کی جس پالیسی کی وضاحت کی، وہ پالیسی بھی ان کے سابقہ بیان کی مؤید تھی۔امریکی صدر نے اپنے خط کے ایک پیرا گراف میں لکھا کہ: 

Your Majesty will recall that on previous occasions I communicated to you the attitude of the American Government toward Palestine and made clear our desire that no decision be taken with respect to the basic situation in that country without full consultation with both Arabs and Jews. Your Majesty will also doubtless recall that during our recent conversation I assured you that I would take no action in my capacity as Chief of the Executive Branch of this Government which might prove hostile to the Arab people. (https://www.jewishvirtuallibrary.org/)

آپ کا یاد ہوگا کہ فلسطین کے متعلق امریکی حکومت کی جو پالیسی تھی ، وہی پالیسی آج بھی برقرار ہے کہ فلسطین کی بنیادی صورت حال کے بارے میں جانے بغیراور عربوں اور یہودیوں دونوں کے ساتھ مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں لیا جائے گا۔ اور اس حکومت کے ایگزکیٹو برانچ کے چیف کی حیثیت سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کروں گا، جو عرب عوام کے لیے دشمنی کا باعث ہو۔

شام، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی

2؍جون1945ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی نے ایک بیان دیتے ہوئے درج ذیل اپیل شائع کی:

’’ابھی فرانس ذلت و رسوائی کے غار سے پوری طرح نکل نہیں پایا۔ یورپ کی روایتی مسلم کش پالیسی کا علم بردار بن کر، شام اور لبنان کی آزادی کے خلاف وحشت ناک مظالم شروع کر دیے اور مظلوم عربوں کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ظالم فوجوں نے مقدس شہروں کی بربادی کے لیے اسلحہ سنبھال لیے۔ کل تک جو ڈنکر ک کی جنگ میں بزدل اور نامرد کی طرح میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگا تھا، وہ آج مظلوم نہتوں پر شیر بن کر مجرمانہ بہادری کی مشق کر رہا ہے۔ ع

تفو برتو ائے چراغ گرداں تفو

 کیا! برطانیہ، امریکہ اور روس سے ہم یہ دریافت کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ جنگ کے پوری طرح ختم ہونے سے پہلے مقبوضہ چھوٹے چھوٹے ریاستوں پر یہ بے پناہ مظالم آپ کے مستقبل کے عدل و انصاف کی بھیانک تصویر اور مضموم عزائم کا پتہ نہیں دیتے؟

مفتیِ اعظم فلسطین کی مقدس جذبۂ آزادی وطن پر گرفتاری اور ان کے خلاف غداری کا ناپاک الزام، شام اور لبنان کی تسلیم شدہ آزادی کے خلاف ان کی ہول ناک تباہی و بربادی؛ برطانیہ کی لیبر پارٹی کی جانب سے فلسطین کے خلاف یہود نواز پالیسی کا اعلان، فرانس، برطانیہ؛ بلکہ اتحادیوں کی جانب سے صریح مسلم کش پالیسی، فلسطین سے متعلق وعدے کے خلاف غداری، محکوم قوموں کی آزادی کے خلاف جبر و ظلم کا مظاہرہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر  اپنے وطن اور ملت کی آزادی کے لیے جدوجہد غداری ہے، تو پھر مفتی اعظم فلسطین ہی کیوں غدار ہے؟ اتحادیوں کے تمام ذمہ دار افراد، وزرا اور سپاہی کیوں غدار نہیں ہیں؟ اگر فلسطین عربوں کا ملک ہوتے ہوئے یہودیوں کا وطن بنایا جا سکتا ہے اور یہ عدل و انصاف کے خلاف نہیں ہے، تو پھر انگلستان، امریکہ اور فرانس پر غیر ملکی حکومت کیوں ناقابلِ برداشت سمجھی جاتی ہے؟

آج شام، لبنان اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہندستان کے مسلمانوں سے یہ کہنا تو فضول ہے کہ وہ یہ عبرت و بصیرت حاصل کریںگے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، محض اس لیے کہ ہندستان اغیار کے پنجے میںہے اور تمام ممالکِ اسلامیہ کی تباہی و بربادی کا راز صرف اس عظیم الشان ملکِ ہندستان کی غلامی کے اندر محفوظ ہے۔

تاہم جمعیت علمائے ہند، اسلامی عالم گیر اخوت کے پیش نظر، اپنی تمام شاخوں سے بالخصوص اور تمام اسلامی جماعتوں سے بالعموم اپیل کرتی ہے کہ وہ وقت کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے فوری طور پر ہر جگہ فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کے خلاف احتجاجی جلسے کریں اور اپنے غم و غصے کا اظہار کریں اور اسلامی حمیّت و غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے شام و لبنان کی آزادی کامل، فلسطین کو وطن الیہود نہ بنانے کا مطالبہ، اور مفتی اعظم کو سزا نہ دینے کے مطالبے سے متعلق تجاویز پاس کی جائیں۔ حکومت برطانیہ کو متنبہ کیا جائے کہ اگر اس کی مسلم کش پالیسی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو اس کے عواقب و نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

منظور شدہ تجاویز حکومتِ ہند اور اخبارات کو روانہ کی جائیں۔

خادمِ ملت، محمد حفظ الرحمان،ناظمِ اعلیٰ، جمعیت علمائے دہلی۔(ریکارڈ روم)

ممالکِ اسلامیہ اور یورپی حکومتوں کی انتدابی کشمکش

ممالک اسلامیہ کی آزادی اوریورپی حکومتوں کی انتدابی کوششوں کی مذمت کرنے کے لیے 11؍جون 1945ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک عظیم الشان اجلاس کیا ، جس میں 22؍ جون کو یومِ ممالکِ اسلامیہ منانے کی اپیل کی۔ اجلاس کی مکمل کارروائی درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی جانب سے 11؍ جون 1945ء کو دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ، بہ صدارت حضرت مولانا احمد سعید صاحب، اردو پارک جامع مسجد میں منعقد ہوا۔ تلاوتِ کلامِ مجید اور قومی نغموں کے بعد صدرِ محترم نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جلسے کی غرض و غایت بیان فرمائی اور ممالکِ اسلامیہ کی آزادی کے مسئلے پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد مولانا محمد حفظ الرحمان ناظمِ اعلیٰ جمعیت علمائے ہند نے تجویز نمبر ایک پیش کرتے ہوئے ایک مفصل تقریر کی اور ممالکِ اسلامیہ؛ خصوصاً شام، لبنان، الجزائر، مراکش، فلسطین اور عراق وغیرہ پر یورپی حکومتوں کے انتداب کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور ممالکِ اسلامیہ کی فوری آزادیِ کامل کا مطالبہ کرتے ہوئے یورپی حکومتوں کے مظالم اور وہ وعدہ خلافیوں کی تاریخ کو دہرایا اور بتایا کہ اس وقت ہندستان میں اس مسئلے پر شدید ہیجان ہورہا ہے اور یہاں کے مسلم و غیر مسلم رہنما اور عوام سبھی اس آواز میں ہم آہنگ ہیں کہ ممالکِ اسلامیہ کو آزاد کیا جائے۔

اس تجویز کی تائید مسٹر ہلال احمد صاحب زبیری نے فرمائی۔ آپ نے ممالکِ اسلامیہ پر یورپی حکومتوں کی انتدابی کشمکش پر سخت اظہارِ مذمت کیا اور بتایا کہ کس طرح شام و لبنان کو فرانس نے دورانِ جنگ میں آزاد کیا تھا اور اب کس طرح وعدہ خلافی کی ہے۔

تجویز نمبر دو مولانا مفتی محمد نعیم صاحب نے پیش فرمائی اور فلسطین کے حالات و اقعات بیان فرمائے اور فلسطین کو وطن الیہود بنائے جانے کی برطانوی منصوبہ بندی پر اظہارِ نفرت و مذمت کیا۔ مولانا اخلاق احمد صاحب دہلوی نے اس کی مؤثر تائید کی اورمولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے تائید مزید کی۔

تجویز نمبر تین مسٹر ہلال احمد صاحب زبیری نے پیش کی اور ایران پر برطانوی قبضہ اور فوجی مداخلت کے سلسلے میں تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس تجویز کی تائید مولانا بشیر احمد صاحب نے فرمائی اور مولانا محمدحفظ الرحمان نے تائید مزید کرتے ہوئے مسٹر چرچل کے بیان متعلقہ فوجی مداخلتِ ایران کو قطعی غیر معقول، نا منصفانہ اور سامراجی تسلط کی  تصویر ثابت کیا۔

تجویز نمبر چار مولانا سمیع اللہ صاحب نے پیش کی اور مفتیِ اعظمِ فلسطین کی مجاہدانہ سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انھیں ہر دل عزیز و مقبول قرار دیا اور ان کی رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ مولانا محمد سعید صاحب نے اس کی تائید فرمائی۔

 آخر میں صدرِ محترم نے تقریر فرمائی اور جلسہ بخیر و خوبی دعا پر ختم ہوا۔

تجاویز حسبِ ذیل ہیں:

تجویز نمبر-۲):فلسطین کے متعلق نئی پالیسی پر اظہار تشویش

 مسلمانان دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ ان بیانات اور اس پالیسی کو- جس کا اظہار فلسطین کے مسئلے میں انگلستان و امریکہ کے بعض ذمہ دار لوگوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے- اپنی دلی تشویش اورپریشانی کے ساتھ مسترد کرتا ہے اور حکومتِ برطانیہ کو متنبہ کرتا ہے کہ فلسطین کے متعلق 1939ء کے وائٹ پیپر میں اعرابِ فلسطین سے جو وعدہ کیا گیا تھا، اگر اس کو جلد از جلد پورا نہ کیا گیا، یا اس میں کوئی ایسی تبدیلی کی گئی، جو اعرابِ فلسطین کے لیے مضر اور ان کی اکثریت کو نقصان پہنچانے والی ہو، تو اس کے نتائج بہت خطرناک اور مسلمانوں کی عام ناراضگی و غصے کا موجب ہوں گے۔

محرک: حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی۔

 مؤیدین: مولانا اخلاق احمد صاحب دہلوی۔ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب۔

تجویز نمبر-۴):مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ

مسلمانانِ دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ مفتیِ اعظم فلسطین کے متعلق حکومتِ برطانیہ کو بتانا چاہتا ہے کہ مفتیِ اعظم عالمِ اسلام کی ایک محبوب ترین اور قابلِ احترام ہستی ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیشہ فلسطین کی آزادی اور اعرابِ فلسطین کے حقوق کی حفاظت پر مرکوز رہی ہے۔ اس لیے اگر ان کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں کوئی مقدمہ چلا، یا انھیں سزا دی گئی، تو اس سے عام مسلمانوں کے دلوں میں سخت صدمہ اور ناراضگی کی لہر پیدا ہو جائے گی۔ لہذا یہ جلسہ حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسلمانان عالم کے جذبات و احساسات کا لحاظ رکھتے ہوئے حضرت مفتیِ اعظم فلسطین کو فوراً رہا کرے۔

محرک: مولانا محمد سمیع اللہ صاحب۔

 مؤیدین: مولانا محمد سعید صاحب۔ مولانا مفتی محمد نعیم صاحب۔

فلسطین میں آزاد حکومت قائم کرنے کا مطالبہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس18؍ 19؍ ستمبر1945ء کو ہوا، جس کی ایک تجویز میں فلسطین میں آزاد حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے درج ذیل قرارداد منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس اس امر کو حد درجہ تشویش ناک جانتا ہے کہ اتحادی حکومتوں؛ خصوصاً ممالک متحدہ امریکہ کے ذمہ دار حلقوں میں فوری رجحان اس کا پایا جاتا ہے کہ فلسطین کو ’’وطن الیہود‘‘ بنا دیا جائے، جس کے خلاف تمام دنیائے اسلام کی طرف سے صدائے احتجاج بلند کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صراحتاً اعلان کیا ہے کہ یہودیوں نے چوں کہ بے گناہ انبیا کو قتل کیا، اس لیے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور اس قوم پر ذلت و مسکنت طاری کردی گئی۔ یہی سبب ہے کہ ہزاروں سال سے یہ قوم حکومت کی عزت و شوکت سے محروم رہی ہے اور جب کبھی اللہ تعالیٰ کے منشا کے خلاف دنیا کے کسی حصہ میں یہودیوں کی حکومت قائم کرنے کی کوشش ہوگی، مسلمان قرآنی تصریحات کے بہ موجب یقین کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قہر اور غضب نازل ہوگا اور دنیا اسی قسم کے مصائب سے دو چار ہوگی، جس قسم کے مصائب گزشتہ چھ سال کی عالم گیر جنگ میں اس نے برداشت کیے ہیں۔ لہٰذا جمعیت مرکزیہ علمائے ہند تمام اتحادی زعماسے عموماً اور دنیائے مسیحیت کے سرداروں سے خصوصاً درخواست کرتی ہے کہ عالم انسانی کو تباہی و مصیبت میں دوبارہ ڈالنے سے احتراز کریں اور ارض مقدس فلسطین کو وطن الیہود بنانے کا خیال ترک کردیں اور اہل فلسطین کو سکون اور عافیت سے زندگی بسر کرنے دیں۔

جمعیت مرکزیہ کی رائے میں جمہوریہ امریکہ کے صدر اور برطانیہ کی ترقی پسند مزدور پارٹی کے لیے ہرگز زیبا نہیں کہ اہل فلسطین کو دنیائے متمدنہ کے مسلمہ اصول حق خود ارادیت سے محروم کرکے ممالک غیر کے آباد کاروں کو اس ملک پر مسلط کیا جائے۔ اور برطانوی قدامت پسندوں نے فلسطین کے انتساب کو اپنے دائمی تسلط کا ذریعہ بنانے کی غرض سے جو حکمت عملی اختیار کی تھی، اسے جاری رکھ کر حق و انصاف کا محض اس بنا پر خون کیا جائے کہ فلسطین کے اصل باشندے، یعنی عرب سفید فام نہیں ہیں۔ انتداب کی عمر پوری ہوچکی اور اب وقت آگیا ہے کہ جلد از جلد فلسطین میں عربوں کو کامل آزاد حکومت کے قائم کرنے کا موقع دیا جائے، تاکہ متحدہ اقوام کی مجلس میں ایک نئے امن پسند حلیف کا اضافہ ہوسکے۔

جمعیت مرکزیہ اپنے دفتر کو ہدایت کرتی ہے کہ اس تجویز کی نقول عربی تار کے ذریعہ صدر جمہوریہ امریکہ اور وزیر اعظم انگلستان کو روانہ کرے اور کوشش کرے کہ ہندستان اور یورپ و امریکہ کے انگریزی اخبارات میں اس کی مناسب تشہیر ہوجائے۔

محرک: مولانا عبدالوحید صاحب صدیقی غازی پوریؒ ۔

مؤید: مولانا قاسم صاحب شاہ جہاں پوری ؒ۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ،جلد اول، ص؍536)

 فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے خلاف احتجاج

مولانا محمد میاں صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند لکھتے ہیں کہ:

’’9؍ اکتوبر1945ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید حسین احمد مدنی صاحب کی جانب سے فلسطین کے متعلق ایک بحری تار مسٹر ایٹلی، ٹرومین، وزیر اعظم فلسطین اور عرب فیڈریشن کے نام بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں جمعیت کے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا کہ: 

مرکزیہ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس (منعقدہ18-19 ؍ستمبر 1945ء دہلی) نے ایک تجویز پاس کی ہے، جس میں ظاہر کیا ہے کہ فلسطین میں متعین مدت کے ختم ہونے کے بعد مین ویٹ (جبریہ حکومت) عربوں کے مفاد، نیز اصول خود ارادیت کے برعکس ہے، نیز صدر امریکہ اور لیبر گورنمنٹ برطانیہ کی اس پالیسی نے کہ ’’سرزمین فلسطین میں یہودیوں کی نو آبادی قائم کی جائے‘‘، مسلمانان ہند کو پریشان کردیا ہے، وہ اس کو رنگ و نسل کے امتیاز کا نہایت مکروہ اور نفرت انگیز تصور کرتے ہیں۔ 

اجلاس مذکور نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کے عربوں کی اپنے وطن میں ایک آزاد ریاست ہونی چاہیے ، اور ان کو یونائٹیڈ انڈی پنڈنٹ اسٹیٹس لیگ میں مناسب جگہ ملنی چاہیے۔ 

یہ تار شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی مدظلہ صدر جمعیت علمائے ہند کے نام سے روانہ کیا گیا ہے۔

(محمد میاں، ناظم جمعیت علمائے ہند)۔‘‘ )مدینہ بجنور،9؍ اکتوبر1945ء۔ 

( شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص؍814۔شہباز لاہور، 3؍ اکتوبر1945ء)

وہ تار درج ذیل ہیں:

تار بنام پریزیڈنٹ ٹرومین واشنگٹن: جمعیت علمائے ہند-جو ہندستان کے علما کی آل انڈیا مجلس ہے- آپ کی اس روش کے خلاف -جو آپ نے فلسطین کے متعلق اختیار کی ہے- شدید ناراضگی کا اظہار کرتی ہے اور اسے عربوں کے حق میں غیر منصفانہ تصور کرتی ہے۔آپ کی تجاویز اصولاً بے جا ہیںاور ان سے سارے عالم اسلام میں یہودیوں کے خلاف غصے کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ ہندستان کے مسلمان ہر اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں، جو فلسطین میں یہودیوں کو مزید بسانے، یا وہاں یہودیوں کی حکومت قائم کرنے کی حمایت میں کی جاتی ہے۔

برائے مہربانی تمام صورت حال پر دوبارہ غور کیجیے اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل ہونے سے روکیے۔ مسلمانوں کی سب جماعتیں اس احتجاج میں متفق ہیں۔

مولانا حسین احمد صاحب، صدر جمعیت علمائے ہند۔ (ریکارڈ روم)

تار بنام وزیر اعظم لندن: جمعیت علمائے ہند کی رائے میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کی کارروائی اور اس کو جاری رکھنے کا سلسلہ بنیادی طور پر ناجائز اور غلط ہے۔ ہر وہ کارروائی-جو فلسطین کے عربوں کی آزادی کی رام میں حائل ہو-ہندستان کے مسلمانوں میں لازمی طور پر شدید بے چینی پیدا کردے گی۔ 

مسلمانان ہندصدر امریکہ کی اس بارے میں مداخلت اور یہودیوں کی ناروا حمایت کے طریقہ پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں، جس سے اندیشہ ہے کہ ساری عرب اقوام کا امن خاک میں مل جائے گا۔ 

حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند۔ (ریکارڈ روم)

یوم فلسطین منانے کی اپیل

فلسطین کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ؒ نے 2؍ نومبر 1945ء کو یوم فلسطین منانے کی اپیل کرتے ہوئے درج ذیل بیان دیا:

’’جرائد اور بحری برقیہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ عرب لیگ فلسطین اور عرب ممالک میں 2؍ نومبر کو یوم فلسطین منارہی ہے؛ کیوں کہ یہی دن اعلان بالفور کا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی جانب سے اگرچہ گذشتہ چند ماہ میں یوم فلسطین منایا جاچکا ہے، تاہم عرب لیگ کے اعلان کی اہمیت کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کی اپیل ہے کہ 2؍ نومبر یوم جمعہ کو تمام ہندستان میں یوم فلسطین منایا جائے۔ جامع مسجد میں، یا کسی دوسری جگہ پبلک میدان میں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو، جس میں فلسطین اور داخلۂ یہود کے برخلاف اور اعراب فلسطین کے مطالبۂ آزادی کی تائید میں تجاویز پاس کی جائیں اور وائسرائے ہند و اخبارات کو بذریعۂ تار تجاویز سے مطلع کیا جائے، جمعیت علمائے ہند کی صوبائی ضلع وار اور مقامی شاخوں کے علاوہ مجھے قوی امید ہے کہ دوسری مسلم جماعتیں بھی جمعیت علمائے ہند کے اس اسلامی احتجاج میں شرکت فرماکر اپنی ملی و دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیں گی۔

(مولانا حفظ الرحمان ، ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند)۔ (زمزم، لاہور،3؍ نومبر 1945ء)

( شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص؍853۔شہباز لاہور، 30؍ اکتوبر1945ء)

اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ

فلسطین کے حوالے سے اینگلو-امریکن کمیٹی ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تھی، جو برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں نے13؍ نومبر 1945ء کو تشکیل دیا۔ور اس میں چھ برطانوی اور چھ امریکی اراکین شامل تھے۔ اس کا بنیادی مقصد دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں یہودیوں کی صورت حال کا جائزہ لینا اور فلسطین میں ان کی آبادکاری سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔

کمیٹی کو دو اہم کام سونپے گئے تھے:

(۱) یورپ میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے یہودیوں کی حالت کا جائزہ لینا اور ان کی آبادکاری کے لیے عملی اقدامات کی سفارش کرنا۔

(۲) فلسطین کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی صورت حال کا جائزہ لینا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہودیوں کی مزید ہجرت سے وہاں کے حالات پر کیا اثر پڑے گا۔

کمیٹی نے واشنگٹن، لندن، قاہرہ اور یروشلم میں عوامی سماعتیں کیں اور مختلف فریقوں، بشمول یہودی اور عرب نمائندوں سے شواہد اور گواہیاں سنیں۔

کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ 20؍ اپریل 1946ء کو لوزان، سوئٹزرلینڈ میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں کئی اہم سفارشات شامل تھیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

۱۔ حکومتیں تمام بے گھر افراد (بشمول یہودیوں) کے لیے نئے گھر تلاش کریں، بغیر کسی عقیدے، یاقومیت کے فرق کے۔

۲۔ 1946ء میں نازی اور فاشسٹ مظالم کے شکار 100,000 یہودیوں کو فلسطین میں داخلے کے لیے سرٹیفکیٹس جاری کریں۔

۳۔ فلسطین کو نہ تو یہودی ریاست بنایا جائے اور نہ عرب ریاست؛ یہودی عربوں پر اور عرب یہودیوں پر غلبہ نہ کریں، اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔

۴۔ یہودیوں اور عربوں کے درمیان دشمنی کی وجہ سے فلسطین کو مینڈیٹ کے تحت رکھا جائے، جب تک اقوام متحدہ کی ٹرسٹیشپ نہ قائم ہو۔

۵۔ عربوں کی معاشی، تعلیمی اور سیاسی ترقی کو یہودیوں کے برابر لایا جائے، تاکہ معیار زندگی میں فرق کم ہو۔

۶۔ فلسطین کو مینڈیٹ کے مطابق چلایا جائے، یہودی امیگریشن کو فروغ دیا جائے؛ لیکن دیگر طبقات کے حقوق متأثر نہ ہوں۔

۷۔ 1940ء کے لینڈ ٹرانسفر ریگولیشنز منسوخ کیے جائیں، تاکہ زمین کی خرید و فروخت آزاد ہو، لیکن چھوٹے مالکان کی حفاظت کی جائے۔

۸۔ یہودی ایجنسی اور پڑوسی عرب ریاستوں کے ساتھ مشاورت سے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں۔

۹۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں اور لازمی تعلیم متعارف کرائی جائے۔ 

۱۰۔ تشدد، یا دہشت گردی کی کوششوں کو روکا جائے، اور یہودی ایجنسی امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کرے۔(گروک)

’’برطانی اور امریکی ماہرین کی کمیٹی نے فلسطین کو تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے۔ واشنگٹن میں اس کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے خیال میں تقسیم برطانیہ کی منشا سے کی گئی ہے، کیوں کہ امریکی حکومت کی عرب سے اس قسم کی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی۔

برطانی دفتر خارجہ نے اس تجویز کو وفاقی بتایا ہے اور کہا ہے کہ اس کی رو سے عرب اور یہودی صوبے ایک مرکزی حکومت کی نگرانی میں ہوں گے اور یہ حکومت عربوں ، یہودیوں اور انگریزوں پر مشتمل ہوگی۔‘‘ (قومی آواز لکھنو، 25؍ جولائی 1946ء) 

’’نیویارک،4؍ ستمبر۔ رئیس ٹرومین نے آج ایک بیان جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ فلسطین میں داخلے کی کارروائی فی الفور شروع ہوجائے۔ اور اس کے لیے مسئلۂ فلسطین کے مجموعی حل کاانتظار قطعا نہ کیاجائے۔ہماری حکومت اس نقل و حرکت کے سلسلہ میں تیاری کرچکی ہے اور فوری امداد دینے کے لیے تیار ہے۔ ‘‘ (روزنامہ انقلاب لاہور،6؍ اکتوبر1946ء) 

رپورٹ کا ردعمل

اس رپورٹ کو تمام فریقوں نے مسترد کر دیا۔عربوں نے ایک لاکھ یہودیوں کی ہجرت کی سفارش کو سختی سے مسترد کر دیا، جسے وہ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم سمجھتے تھے۔عرب اعلیٰ محاذ نے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے لیے ہمیشہ مخالفت کی۔ چنانچہ اس جماعت کے لیڈر عینی بے عبد الہادی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: 

اگر ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کی اجازت دی گئی ، تو عرب سو سال کے لیے برطانیہ کا دشمن ہوجائے گا۔‘‘ (قومی آواز لکھنو، یکم جون1946ء) 

 برطانیہ نے رپورٹ میں شامل سفارشات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، خاص طور پر ایک لاکھ یہودیوں کی ہجرت سے متعلق سفارش کو۔ برطانیہ کو اس بات کا خوف تھا کہ اس سے عربوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہودی رہنماؤں نے 100,000 یہودیوں کی ہجرت کی سفارش کا خیرمقدم کیا؛ لیکن وہ اس بات سے ناخوش تھے کہ کمیٹی نے فلسطین کو ایک یہودی ریاست قرار دینے سے انکار کر دیا۔

اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ پر شیخ الاسلام کا رد عمل

درج بالا اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ پر 13؍مئی 1946ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ نے کہا کہ یہ رپورٹ سخت افسوس ناک ہے اور اس پر عمل کیا گیا، تو نتائج خطرناک ہوںگے۔مولانا کا مکمل بیان درج ذیل ہے:

’’فلسطین کمیٹی کی اس رپورٹ نے- جوبرطانوی اور امریکی نمائندوں پر مشتمل تھی- یہ بات پھر ایک دفعہ واضح طور پر ثابت اور نمایاں کردی ہے کہ یورپین اقوام کی نگاہ میں وعدہ اور ایمان داری کے الفاظ ایک بے معنی اور ایک بے حقیقت چیز ہیں۔ اس رپورٹ نے فلسطین میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کے داخلہ کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کی یہ نامعقول سفارش عالم اسلامی کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ عالم اسلامی کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرے، جو برطانوی اور امریکی رپورٹ نے اپنے غرور اور طاقت کے گھمنڈ پر دیاہے۔مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ عربوں نے اس رپورٹ کے خلاف اگرکوئی عملی اقدام کیا اور اپنی آزادی اور اپنے وطن کی حفاظت کے لیے سربکف میدان میں نکلے، تو مسلمانان ہند کی تمام ہمدردیاں اور بقدر استطاعت ہر قسم کی اعانت ان کے لیے وقف ہوں گی اور ہندستان کے مسلمان اپنے مقام مقدس کے خلاف برطانوی اور امریکی عزائم اور ان کی ظالمانہ چیرہ دستیوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ جمعیت علمائے ہند برسوں سے فلسطین پر انگریزی انتداب اور صیہونی تحریک اور اعلان بالفور کی سخت ترین مخالفت کرتی رہی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اعراب فلسطین پر گورنمنٹ برطانیہ جو حیاسوز اور درد انگیز مظالم کرتی رہی ہے، اس کے خلاف بارہا جمعیت علما نے احتجاج کیا ہے۔ اس نے متعدد بار یوم فلسطین منائے، احتجاجی جلسے کیے، بحری برقیوں کے ذریعہ برطانوی اور امریکی حکومتوں کو مسلمانان ہند کے غم و غصہ اور ان کے تأثرات مذہبی سے بارہا آگاہ کیا اور اعراب فلسطین کی مالی اعانت اور امداد بھی کی۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ اس حقیقت کو ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ آج تک طاغوتی طاقتوں پر اس تمام احتجاجی چیخ و پکار کا کوئی اثر نہیںہوا اور وہ برابر اپنے ناپاک ارادوں کو بروئے کار لانے کے لیے سرگرم عمل اور اپنی غیر منصفانہ ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ اور اس موجودہ رپورٹ نے تو ہر قسم کی وعدہ خلافی اور صریح بے ایمانی و ناانصافی کا ریکارڈ ہی مات کردیا ہے۔ اعراب فلسطین اور عربوں کی حکومتیں اور عرب لیگ اس رپورٹ کے خلاف جس جرات اور دلیری سے آواز بلند کر رہی ہیں، اور تمام عرب جہاد حریت کے اعلان پر جس طرح ہم آہنگ و ہم نوا ہیں، وہ ان کی باغیرت فطرت کا تقاضا ہے۔ اور وہ ایسا کرنے میں اخلاقا، مذہبا حق بجانب ہیں اور وہ اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ عرب کا ترکی سے جدا ہوکر برطانوی اور فرانسیسی انتداب میں داخل ہونا ہی اس تمام تباہی اور بربادی کا اصلی سبب ہے۔ اس رپورٹ سے تمام عالم اسلامی میں جو اضطراب و ہیجان بپا ہے، میں اس بے چینی کے پیش نظرنہ صرف جمعیت علمائے ہند کی جانب سے ؛ بلکہ تمام مسلمانان ہندستان کی جانب سے حکومت برطانیہ کو تنبہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اگر اس اینگلو امریکن رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا گیا، تو اس کے نتائج سخت خطرناک اور نہایت خوف ناک ہوں گے اور ان نتائج کی تمام ذمہ داری برطانیہ اور امریکہ پر ہوگی۔ ابھی وقت ہے کہ کمیٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا جائے۔ جو وعدے مسلمانوں سے کیے ہیں، ان کا ایفا کیا جائے اور اپنی اس دیرینہ اسلام کش اور عالم اسلامی سے عداوت کی پالیسی کا اعادہ کرنے اور اس کو دہرانے سے اجتناب کیا جائے۔ میں اس سلسلے میں وزیر اعظم برطانیہ میجر ایٹلی اور صدر جمہوریہ امریکہ مسٹر ٹرومین کو بھی بحری برقیہ کے ذریعہ اطلاع دے رہا ہوں۔

 حسین احمد صدر جمعیت علمائے ہند۔ ‘‘ (روزنامہ اجمل ممبئی، 13؍ مئی 1946)  

فلسطین سے متعلق یوم احتجاج منانے کا اعلان

اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ سے پیدا شدہ حالات کے تناظر میں ناظم جمعیت علمائے ہند نے 16؍ مئی 1946ء کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے ، 24؍ مئی 1946ء کو فلسطین سے متعلق یوم احتجاج منانے کی اپیل کی ۔ بیان درج ذیلہے:

’’دہلی۔ 16مئی ۔ فلسطین کے متعلق اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ نے تمام عالم اسلامی میں ایک اضطراب انگیز ہیجان برپا کردیا ہے۔ ارض فلسطین کے ساتھ تمام دنیا کے مسلمانوں کا جو تعلق ہے، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ عالم اسلامی کے جذبات کو جانتے ہوئے اس قسم کی رپورٹ مسلمانوں کے صحیح اورمذہبی جذبات کی بد ترین توہین ہے۔ جمعیت علمانے ہمیشہ گورنمنٹ برطانیہ کے ارباب حل و عقد کو مسلمانوں کے صحیح جذبات سے آگاہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند پھر اس ضرورت کو محسوس کر رہی ہے کہ ہندستان کے مسلمان پھر ایک دفعہ متفق ہوکر گورنمنٹ کو مسلمانوں کے ان معتقدات اور جذبات سے آگاہ کردیں، جو ان کو اپنے مقامات مقدسہ کے ساتھ ہمیشہ رہے ہیں۔ 

اور گورنمنٹ برطانیہ اور اس کی حلیف امریکن گورنمنٹ کو واضح طور پر یہ بتادیا جائے کہ اگر اس کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کے نتائج بہت ہی خطرناک ہوں گے۔ جمعیت علمائے ہند نے اس قسم کی آئینی احتجاج کے لیے 24؍ مئی 1946جمعہ کا دن مقرر کیا ہے، اس دن تمام ہندستان کے مسلمان عام جلسے منعقد کریں اور جلسوں میں ایک متفقہ تجویز پاس کریں اور ہر مقام سے اس تجویز کی ایک نقل وائسرائے ہند کو بھیجی جائے۔

 تجویز حسب ذیل ہے: 

مسلمانان … کا یہ عام جلسہ برطانوی امریکن تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر -جس میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کے فلسطین میں داخلہ کی سفارش کی گئی ہے- انتہائی نفرت اور غم و غصے کا اظہار کرتا ہے۔ فلسطین کے مختصر رقبہ میں وہاں کے اصل باشندوں پر ایک لاکھ اجنبی سرمایہ پرست یہودیوں کو مسلط کرنا اور ان کو شہری حقوق دے کر حکومت میں ان کو حصہ دار بنادینا؛ باشندگان فلسطین پر نفرت انگیز ظلم و تعدی ہے، جس کو آئین کی دنیا میں کبھی بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔یہ جلسہ اس حقیقت کا اعلان ضروری سمجھتا ہے کہ فلسطین مقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے۔ اس کا احترام مسلمانوں کا جزو ایمان ہے۔ مسلمان اس کی بے حرمتی کو اور اس سرزمین پاک پر یہود کی چیرہ دستی کو قطعا برداشت نہیں کرسکتے۔ جو حکومتیں اس مسئلہ میں اپنے تمام سابقہ وعدوں کو فراموش کرکے یہودیوں کی حمایت کر رہی ہیں، وہ عالم اسلامی کے مذہبی جذبات کو ناقابل برداشت ٹھیس پہنچا رہی ہیں۔ مسلمان اس مذہبی اور خالص دینی ضرر کے لیے ہر ایک قربانی کے واسطے تیار ہیں اور اس مقصد عظیم کی راہ میں ہر قسم کے ایثار و قربانی کو عین سعادت سمجھتا ہے۔ 

یہ جلسہ حکومت برطانیہ اور امریک کو پوری صواب دید کے ساتھ قبل از وقت متنبہ کرتا ہے کہ اگر غیر منصفانہ اور جانب دارانہ رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا گیا، تو اس کے نتائج و عواقب سخت خطرناک ہوں گے اور ان نتائج کی تمام ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی ، جو اس ظالمانہ رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرنے سے پیدا ہوں گے۔‘‘ (شہبازلاہور، 17مئی 1946ء )

 برطانوی امریکن تحقیقاتی مشن کی رپورٹ پر جمعیت علما کا رد عمل

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ مرکزیہ کا ایک اہم اجلاس 10،11،12؍ جون 1946ء کو منعقد ہوا، جس قضیۂ فلسطین کا معاملہ پیش ہوکر حسب ذیل تجویز منظور ہوئی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس برطانوی امریکن تحقیقاتی مشن کی رپورٹ پر- جس میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کے فلسطین میں داخلہ کی سفارش کی گئی ہے- نفرت و غصہ کا اظہار کرتا ہے اور اسے دنیائے اسلام کے لیے ایک چیلنج سمجھتا ہے۔ فلسطین کے مختصر رقبہ میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کو داخلہ کی اجازت دے کر انھیں شہری حقوق دینا اور وہاں کی حکومت میں حصہ دار بنانا، وہاں کے اصل باشندوں پر قابل ملامت جبر و تعدی ہے، جسے آئین پسندی کے موجودہ دور میں کسی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ 

مجلس عاملہ اس حقیقت کا اظہار ضروری سمجھتی ہے کہ فلسطین کی مقدس سرزمین مسلمانوں کا قبلۂ اولیٰ ہے، جس کا احترام تمام مسلمانوں کا جزو ایمان ہے، اس لیے مسلمان اس سرزمین پر یہودیوں کے غلبہ اور ان کی چیرہ دستیوں کو قطعا گوارا نہیں کرسکتے۔ 

مجلس عاملہ حکومت برطانیہ و حکومت امریکہ کو متنبہ کردینا ضروری سمجھتی ہے کہ وہ داخلۂ یہود کے متعلق کمیشن کی سفارشات کو مسترد کردیں اور عالم اسلامی کے مذہبی جذبات کو مشتعل ہونے سے بچالیں۔ مجلس عاملہ عرب ہائی کمیٹی کے سکریٹری کے اس بحری برقیہ کی روشنی میں - جو صدر جمعیت علما کے بحری برقیہ کے جواب میں موصول ہوا ہے-فلسطین کے باشندوں کو خصوصا اور تمام عرب حکومتوں کو عموما یقین دلاتی ہے کہ مسلمانان ہند ان کے جہاد آزادی میں ایسی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے حتیٰ الوسع ہر قسم کی اعانت سے دریغ نہ کریں گے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍552)

قضیۂ فلسطین کے سلسلہ میں متحدہ مؤتمر اسلامی کے انعقاد پر غور 

اسی مجلس عاملہ مرکزیہ میں قضیۂ فلسطین کے سلسلہ میں متحدہ مؤتمر اسلامی کے انعقاد کے لیے بمبئی کی آمدہ درخواست پر غور کیا گیا۔ اور مولانا حفظ الرحمان صاحب کو اختیار دیا گیا کہ وہ سید عبد اللہ صاحب بریلوی سے مزید خط و کتابت کر کے بہت جلد مؤتمر کے انعقاد کی تاریخوں کا اعلان کریں۔ (مطبوعہ رپورٹ)

کل ہندفلسطین کانفرنس کا اعلان

13؍ جون 1946ء کو کل ہند فلسطین کانفرنس کے تعلق سے درج ذیل اعلان شائع کیا گیا:

’’قوم پرور مسلمانوں کے تنظیمی اداروں نے ایک کل ہند کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ فلسطین کی صورت حال پر غور کیا جائے، جو برطانی امریکی کمیشن کی رپورٹ کے بعد پیدا ہوگئی ہے۔

یہ کانفرنس دہلی، یا بمبئی میں عنقریب کسی تاریخ میں منعقد کی جائے گی۔ اس کے انتظامات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک مخصوص کمیٹی بنادی گئی ہے، جو مولانا احمد سعید ، مولانا حفظ الرحمان ، شیخ حسام الدین، شیخ ظہیر الدین اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر مشتمل ہے۔ ‘‘ 

(قومی آواز لکھنو، 15؍ جون 1946ء) 

افسوس کہ اس کانفرنس کے تعلق سے کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔(محمد یاسین جہازی)

عرب لیگ کی طرف سے جمعیت علمائے ہند کو جوابی مکتوب

’’شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی مدظلہ کی جانب سے سکریٹری عرب لیگ کو فلسطین کے متعلق ایک بحری برقیہ بھیجا گیا تھا، 21؍جون 1946ء کو اس کے جواب میں سکریٹری عرب لیگ نے حسب ذیل بحری برقیہ حضرت مولانا کے نام بھیجا: 

’’آپ کا بحری پیغام -جو ہمارے لیے بہت زیادہ حوصلہ افزا ہے- موصول ہوا۔ عموما تمام ہندستانی اور خصوصا ہندستانی مسلمان ہم عربوں کے لیے ایک بہت بڑی قوت کا باعث ہیں اور ہمیں آپ کے توسط سے ان کی ہمدردی اور مدد کی پوری امید ہے۔ ہم تہیہ کرچکے ہیں کہ فلسطین کی حفاظت کی خاطر ہم اپنا سب کچھ قربان کردیں گے اور یہی امید ہم تمام ہندستانیوں اور ہندستانی مسلمانوں سے بھی رکھتے ہیں۔ فتح ہماری ہی ہوگی، کیوں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ 

عبد الرحمان اعظم سکریٹری عرب لیگ( مصر) 

از دفتر جمعیت علمائے ہند دہلی۔ 21؍ جون 1946۔ ‘‘ (26؍ جون 1946ء)

صدر ٹرومین کے جواب پر جمعیت علمائے ہند کا تبصرہ

مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند لکھتے ہیں کہ: 

’’صدر جمعیت علمائے ہند نے صدر جمہوریہ امریکہ کے نام فلسطین سے متعلق جو تار بھیجا تھا، اس کا جواب قونصل امریکہ مقیم نئی دہلی کی معرفت موصول ہوا ہے۔ اس جواب میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کی وہی فرسودہ تاویلیں کی گئی ہیں، جن کی بارہا عالم اسلامی کی جانب سے تردید کی جاچکی ہے۔ فلسطین میں دہشت انگیزی کی جو تحریک چل رہی ہے، اخبارات سے معلوم ہوچکا ہے کہ اس میں بھی امریکہ کا ہاتھ ہے، جو یہودیوں کو شہ دے کر فلسطین کے عربوں کو مرعوب کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا حالیہ بیان بھی اس کی ناپاک ذہنیت کا شرم ناک مرقع ہے۔ اگر امریکہ کے باشندے بقول صدر ٹرومین اس سے دل چسپی رکھتے ہیں کہ فلسطین کو یہودیوں کا ملک بنادیا جائے، تو تمام عالم اسلامی اس ذلیل قصہ کے خلاف متحد ہے اور حکومت امریکہ کی اس ظالمانہ روش پر عربوں اور تمام عالم اسلامی میں غم و غصہ کی جو لہر دوڑ گئی ہے، اس کے نتائج بہت دو رس ہوں گے، جو یقینا امریکہ کو بھی چین و آرام سے نہ بیٹھنے دیں گے۔ 

فلسطین عربوں کا ملک ہے، اس میں امریکہ، یا برطانیہ کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر یہ دونوں سلطنتیں اپنے ناپاک مقاصد کا آلۂ کار فلسطین کو نہ بنائیں، تو عرب ایک ہفتہ کے اندر اندر یہودیوں کے سازشوں اور ناپاک عزائم کا قلم قمع کرکے ان سے اپنے ملک کو پاک کرسکتے ہیں۔‘‘

 (روزنامہ الجمعیۃ،18؍ اگست1946ء) 

کل مشرق فلسطین کانفرنس

مجلس عاملہ منعقدہ : 21تا 24؍ ستمبر 1946ء میں کل مشرق فلسطین کانفرنس کا مسئلہ پیش ہوا۔ اور طے ہوا کہ فلسطین سے متعلق جمعیت علمائے ہند کی خدمات کی رپورٹ عربی، یا انگریزی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کے سکریٹری کے نام جلد از جلد بھیج دی جائے۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍560) 

یوم فلسطین منانے کی اپیل

15؍ جون1947ء کو  شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے اپیل جاری کی کہ مفتی اعظم فلسطین کے حکم کے مطابق 17؍ جون کو یوم فلسطین منایا جائے۔ ہندستان کی اسلامی جماعتوں نے بھی اس اپیل کی تائید کی ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی تمام ماتحت شاخوں کا فرض ہے کہ وہ بھی 17؍ جون کو یوم فلسطین منائیں۔‘‘

 (روزنامہ انصاری 17؍ جون 1947ء)

 فلسطین ناقابل تقسیم ہے:لکھنو مسلم کانفرنس

ہندستان کی آزادی کے بعد تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا شدہ دل خراش حالات کے تناظر میں، امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ کی صدارت میں  27 ،28؍ دسمبر 1947ء کو منعقد لکھنو مسلم کانفرنس میں  فلسطین کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا ۔  اس کی تحریک ڈاکٹر سید محمود نے اور تائید سید عبدللہ بریلوی نے کی۔ پھر متفقہ طور پر درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’مولانا آزادؒ نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ بہت دنوں سے زیر بحث ہے۔ ادارہ متحدہ اقوام میں ہندستانی نمائندوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ انڈین یونین عربوں کے حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور فلسطین کو ناقابل تقسیم سمجھتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کی رائے بالکل درست تھی ؛ لیکن آپ یہاں جمع ہوئے ہیں ، اس لیے اس مسئلہ پر بھی اپنی رائے ظاہر کردینا مناسب ہے۔ ‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍589)

بالآخر وہی ہوا، جس کا ڈر تھا

دوسری عالمی جنگ (یکم ستمبر1939ء تا 2؍ستمبر1945ء)کی تباہ کاریوں کے بعد فلسطین کا مسئلہ عالمی سطح پر ایک نہایت پیچیدہ اور حساس معاملہ بن چکا تھا۔ برطانیہ -جو فلسطین پر اپنے منڈیٹ کے تحت حکمرانی کر رہا تھا- اس مسئلے کے حل میں بڑھتی ہوئی مشکلات کے باعث اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہونا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس صورتِ حال نے اقوام متحدہ کو مجبور کیا کہ وہ ایسا حل تلاش کرے، جو عربوں اور یہودیوں دونوں کے حقوق کو مدنظر رکھ سکے۔

اسی پس منظر میں 15؍مئی 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر (106) کے تحت ’’اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے فلسطین‘‘ (UNSCOP) قائم کی۔ اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ فلسطین کی صورتِ حال کا جائزہ لے کر مسئلے کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔

کمیٹی نے طویل غور و خوض اور مختلف فریقوں سے مشاورت کے بعد اپنی رپورٹ 3؍ستمبر 1947ء کو جنیوا میں پیش کی۔ یہ رپورٹ دو حصوں پر مشتمل تھی: اکثریتی اور اقلیتی رپورٹ۔

اکثریتی رپورٹ- جسے آٹھ اراکین کی حمایت حاصل تھی- نے فلسطین کو دو الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ اس منصوبے کے مطابق 56؍فی صد علاقہ یہودی ریاست کو، 43؍ فی صد علاقہ عرب ریاست کو دیا جانا تھا، جب کہ یروشلم اور اس کے اطراف کے علاقے کو بین الاقوامی انتظام کے تحت رکھا جانا تھا۔ اس کے برعکس اقلیتی رپورٹ- جسے تین اراکین کی حمایت حاصل تھی- نے ایک وفاقی ریاست کی تجویز پیش کی۔ اس منصوبے کے مطابق فلسطین کو ایک مشترکہ وفاقی ریاست کی شکل دی جاتی، جس میں عرب اور یہودی علاقے اپنی داخلی خودمختاری کے ساتھ ایک مرکزی وفاقی ڈھانچے کے تحت متحد رہتے۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں برطانوی منڈیٹ کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ایک طرح کی ’’پولیس اسٹیٹ‘‘ قرار دیا۔

یہی رپورٹ بعد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایڈھاک کمیٹی کے غور کا بنیادی ماخذ بنی۔ بالآخر 29؍نومبر 1947ء کو جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر (181) منظور کر لی، جس کے تحت فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اس قرارداد کے نتیجے میں 14؍مئی 1948ء کو یہودی قیادت نے فلسطین کے ایک بڑے حصے پر  ’’اسرائیل‘‘ کے نام سے مسلمانوں کے دلوں کے بیچوں بیچ ’’وطن الیہود‘‘ کا زہر بودیا اور ڈیوڈ بن گوریان کو اس کا پہلا وزیر اعظم بنادیا۔لیکن عرب ممالک اور فلسطینی عربوں نے اس تقسیم کو یکسر مسترد کر دیا۔ اسی ردِ عمل کے طور پر فوراً ہی 1948ء کی عرب-اسرائیل جنگ شروع ہوگئی، جس کے اثرات اور کشیدگی آج تک مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی حالات پر نمایاں طور پر موجود ہیں۔

فلسطین میں صرف وہاں کے باشندے حکومت کا حق رکھتے ہیں

 شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے 27؍مئی1948ء کو  فلسطین کے متعلق حسب ذیل پریس بیان جاری کیا:

’’فلسطین میں جو ہنگامہ آرائی ہورہی ہے، اس کے متعلق بعض احباب جمعیت علمائے ہند کو توجہ دلارہے ہیں۔ میں اس سلسلہ میں اس پالیسی کو پھر ایک دفعہ ظاہر کردینا چاہتا ہوں، جو جمعیت علما نے اپنے مختلف جلسوں میں متعدد بارے طے کرچکی ہے اور جس کا اظہار بیانوں میں بھی کیا جاچکا ہے کہ فلسطین میں حکومت کرنے کا حق صرف فلسطین کے باشندوں کو ہے، خواہ مسلمان ہوں،یا عیسائی ہوں، یا یہودی ہوں، بلا تفریق مذہب جو عرب اس خطۂ زمین پر آباد ہیں، صرف وہی اس ملک پر حکومت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ جمعیت علما نے مبنی برحقیقت مطالبہ کو کئی مرتبہ پیش کیا ہے کہ فلسطین میں بیرونی لوگوں کا داخلہ بند کیا جائے۔ مختلف گوشوں سے یہودیوں کو وہاں لاکر نہ بسایا جائے اور تحریک صہیونیت کو اس سرزمین پر پرورش نہ کیا جائے؛ لیکن برطانیہ نے جمعیت علما کی کوششوں کو بارآور نہ ہونے دیا اور بیرونی یہودیوں کو آہستہ آہستہ فلسطین میں داخل کرتی رہی۔ اور جب یہودی کافی تعداد میں وہاں داخل ہوگئے، تو فلسطین کو تقسیم کرنے کا تباہ کن فارمولا فلسطین کے باشندوں کے سامنے پیش کردیا اور دنیا سے بالکل انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ حالاں کہ جمہوریت کا یہ فیصل شدہ اصول ہے ، جس کو سیکورٹی کو نسل بھی مانتی ہے؛ لیکن مجھے افسوس ہے کہ فلسطین میں دنیا کے ایک مسلمہ اصول کے خلاف کیا جارہا ہے اور عربوں کے قدیم حق حکومت کو غیر ملکی یہودیوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ ہندستان کی تقسیم سے جو ناقابل تلافی نقصان ہندستان کے باشندوںکو پہنچا ہے، اس کا اعادہ فلسطین میں کیا جارہا ہے اور ایک خوں ریز ہنگامہ آرائی شروع ہوجائے گی۔ برطانیہ وہاں سے رخصت ہورہا ہے۔ یہ کس قدر ناانصافی اور ظلم ہے کہ کسی ملک سے رخصت ہوتے ہوئے اور اس کو آزاد کرتے وقت اس ملک کے باشندوں کو ایک ایسی جنگ میں مبتلا کردیا جائے، جس کا سلسلہ مدتوں تک چلتا رہے اور یورپ کی مستبدانہ طاقتوں کو نہایت آسانی کے ساتھ یہ کہنے کا موقع دیا جائے کہ آزاد شدہ ملک کے باشندوں میں آزادی کی صلاحیت اور اہمیت نہیں تھی اور ہندستان، یا فلسطین کو آزادکرکے برطانیہ نے ایک شدید غلطی اور ایک بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس سے زیادہ ایسی تقسیم کا- جو مذہب کے نام پر کی جائے- اور کوئی مفاد نہیں ہے۔ 

اسی تقسیم کے اصول پر ایک طرف ہندستان کو اور دوسری طرف فلسطین کو انسانی خوں ریزی میں مبتلا کیا گیا ۔ روس اور امریکہ کا رویہ بھی حد درجہ افسوس ناک ہے کہ انھوں نے جمہوری اصولوں اور خلاف انصاف خود غرضی پر مبنی سیاست کے ماتحت فلسطینی عرب باشندوں کے جائز حقوق کو پامال کرکے تقسیم کو نہ صرف پامال کیا؛ بلکہ یہودیوں کی نام نہاد حکومت کو بھی تسلیم کرلیا۔

فلسطین کا معاملہ چوں کہ سکیورٹی کونسل میں پیش ہے، اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ سکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے گی اور جمہوریت پسند طاقتوں کے اس مسلمہ اصول کی روشنی میں فیصلہ کرے گی اور ہر ملک کے باشندوں کو اپنے اوپر خود حکومت کرنے کا حق حاصل ہے اور دین و دھرم کے اصول پر کسی ملک کو تقسیم کرنا اس ملک کے باشندوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ 

میں آخر میں انڈین یونین کے اس مدبرانہ رویہ پر اس کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اس نے فلسطین کے معاملہ میں غیر جانب دارری اختیار کی ہے اور تقسیم کے ظالمانہ طریقۂ کار سے جو حکومت بنائی گئی ہے، اسے ہنوز تسلیم نہیں کیا ہے اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اپنے اس معقول رویہ پر قائم رہے گی۔ مجھے ہر ہندستانی سے توقع ہے کہ وہ فلسطین کے معاملہ میں انصاف پسندی کا ثبوت دے گا اور انڈین یونین کے موجودہ رویہ کو بہ نظر استحسان دیکھے گا۔‘‘

 (روزنامہ الجمعیۃ 29؍مئی 1948ء) 

 صدر جمعیت علمائے ہند کے نامعظام پاشا کا تار

’’آپ کی دلی ہمدردی اور امداد کا پرخلوص وعدہ قابل ستائش ہے ۔ خدا کی عنایت سے فتح ہماری ہوگی‘‘۔

 یہ ہیں وہ الفاظ اس تار کے، جو عظام پاشا سکریٹری عرب لیگ کی طرف سے آج 9؍ جون1948ء، شیخ الہند مولانا حسین احمد صاحب مدنی صدر جمعیت علمائے ہندکے نام دفتر جمعیت علمائے دہلی میں موصول ہوا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 6؍ جون کو حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی کے ذریعہ عظام پاشا کو مسلمانان ہند کی حمایت کا کامل یقین دلایا تھا۔ عظام پاشا کے اس تار سے عربوں کے عزائم کا پتہ چلتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کو اپنے خدا پر یقین ہے ۔ اور انھیں اعتماد ہے کہ روس اور امریکہ کی یہود نواز پالیسی کے باوجود خدا کی امداد سے اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اور بالآخر فتح انھیں کی ہوگی ۔ توقع کی جارہی ہے کہ 11؍ جون کو حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علما کی اپیل پر یوم فلسطین بڑے زور و شور کے ساتھ منایا جائے گا اور اس دن عربوں کی فتح و کامرانی کے لیے دعا کی جائے گی۔

(روزنامہ الجمعیۃ، 11؍ جون 1948ء)

سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو جمعیت علما کا برقی مبارک باد

حضرت مولانا حفظ  الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہندنے مسٹر آصف علی سفیر ہند متعین امریکہ کو ایک تار بھیجی ہے، جس میں انھیں جمعیت علما کی طرف سے مبارک باد پیش کی گئی ہے کہ آپ نے مجلس اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلے کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا اور اس کی حمایت کا حق ادا کیا۔تار کے الفاظ یہ ہیں:

’’جمعیت علمائے ہند آپ کے اس موقف پر- جو آپ نے مجلس اقوام متحدہ میں فلسطین کے بارے میں اختیار کیا ہے- مبارک باد دیتی ہے۔‘‘

محمدحفظ الرحمان جنرل سکریٹری، جمعیت علمائے ہند۔ (ریکارڈ روم)

فلسطین کمیٹی کی تشکیل کا پس منظر

1951ء کی کسی تاریخ کو فلسطین کمیٹی کی تشکیل کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند نے درج ذیل معلوماتی پمفلٹ شائع کیا: 

سامراجی طاقتوں نے ہندستان اور دیگر مشرقی ممالک پر اپنی حکمرانی اور استحصال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر طرح کی سازشیں اور چالیں چلی ہیں۔ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کو اپنے قبضے میں کرنے کی سازش اس لیے کی تاکہ بحیرۂ روم (Mediterranean Sea) پر اپنی گرفت مضبوط رکھ سکیں۔ اسی حکمتِ عملی کے ایک حصے کے طور پر سوئز نہر (Suez Canal) تعمیر کی گئی۔ اس کے بعد مصر پر قبضہ کیا گیا، اور ایڈن، قبرص اور دیگر اسٹریٹیجک جزیروں میں سامراجی اڈے قائم کیے گئے۔

انھی مقاصد کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا، اور شام، عراق اور فلسطین کو چھوٹے اور کمزور ریاستوں میں تقسیم کردیا گیا، تاکہ وہ کبھی بھی ہندستان اور ایشیائی ممالک پر سامراجی تسلط کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔

عرب ممالک کی آزادی، خودمختاری اور غیرملکی اثر و تسلط سے نجات براہِ راست ہندستان، ایشیا اور افریقہ کے امن و سلامتی سے وابستہ ہے۔ ان خطوں میں غیرملکی مداخلت سے آزادی، ان سب کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔اسی لیے جمعیت علمائے ہند نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر کے تمام انصاف پسند اور امن دوست لوگوں کو متحد کرے گی تاکہ عالمی امن کی حمایت کی جا سکے،عرب ممالک کے زیر قبضہ علاقوں کی آزادی کے لیے آواز بلند کی جاسکے،اور افریقہ و ایشیا کی آزاد قوموں کے ساتھ مل کر غیرملکی تسلط اور جارحیت کے خلاف مسلسل جدوجہد جاری رکھی جا سکے۔

یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک کہ اسرائیلی افواج اور ان کے سامراجی حامی عرب ممالک کے قبضہ شدہ علاقوں کو خالی نہیں کر دیتے اور اپنے جارحانہ و توسیع پسندانہ عزائم سے باز نہیں آ جاتے۔

ان مقاصد کے لیے ملک بھر میں اس تحریک کو منظم کرنے کی خاطر جمعیت علمائے ہند نے ’’فلسطین کمیٹی‘‘ قائم کی ہے، جس میں ملک کی اہم و سرکردہ شخصیات شامل ہیں، جو اس جدوجہد کی قیادت کریں گی۔(ریکارڈ روم)

فلسطین کی جنگ ہم جیت کر رہیں گے

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام19؍ فروری1964ء کو منعقد تقریب استقبالیہ میں، سپاس نامہ کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے شامی وفد کے قائد جناب عبد المعین الملوحی نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ …

ہم کو معلوم ہے کہ ہندستان کے مسلمان ہمارے دوست ہیں، جن کی اخلاقی امدادم ہمیںبالخصوص فلسطین کی جنگ میں حاصل ہے۔ اس جنگ میں حاصل ہے جو کہ ہم عرب پناہ گزینوں کو ان کے وطن میں دوبارہ آباد کرنے کے لیے کر رہے ہیں، اسرائیل کے خلاف یہ جنگ ہے، جس نے ہمارے لاکھوں عربوں کو بے وطن کر دیا اور فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کر لیا، جو کہ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم اس جنگ میں کامیاب ہوںگے اور ایک دن وہ آئے گا جب عربوں اور تمام مسلمانوں کی اخلاقی اورمادی امداد سے ہم اپنے اس وطن کو اسرائیل سے واپس لے لیں گے۔

فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے جمعیت کا شکریہ

اسی طرح 26؍ فروری1965ء کو منعقد ایک تقریب استقبالیہ سے عرب لیگ سکریٹری جنرل جناب عبد الخالق حسونہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

میں آپ کی جماعت کا شکریہ ادا کر تا ہوں کہ آپ نے دیار عرب کے مسائل میں دل چسپی لی اور ان کی جدوجہد کی حمایت کی۔ میں تمام عربوں کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ (آپ کا اشارہ تمام مسلمانوں اور خصوصا جمعیت علمائے ہند کی ان کوششوں کی طرف تھا، جو فلسطین اور الجزائر کی آزادی اور عرب جمہوریہ پرتین استعماری طاقتوں کے حملہ کے خلاف کی گئی تھیں۔

…فلسطین کے معاملہ میںہم اقوام متحدہ کو کسی قوم پر ظلم و زیادتی کرنے کے لیے نہیں پکارتے؛ بلکہ ایک ظالم قوم کے مقابلہ میں مدافعت کے لیے اور عربوں پر جو ظلم ہوا ہے، اس کا ازالہ کر نے کے لیے ان سے تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔ سرزمین فلسطین کی آزادی اور برباد شدہ عربوں کے غصب کردہ حقوق کی بحالی کے لیے ہم ان سے مدد کی توقع رکھتے ہیں۔ اللہ نے ہم کو جو طاقت دی ہے، اس پر ہمیں اعتماد ہے اور دوستوں کی معاونت پر بھی اعتماد ہے، جوہمیں حاصل ہونے کی پوری پوری توقع ہے۔ فلسطین کی آزادی اور مظلوم عربوں کے حقوق کی بحالی کے بغیر مسلمان اور عرب چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

بائیسویں اجلاس عام میں فلسطین کے مسئلہ پر جمعیت کی ستائش

15،16،17؍اپریل1966ء کو بائیسواں اجلاس عام منعقد ہوا، جس میں محترم جناب کلوویس مقصود نمائندہ عرب لیگ نے اپنا پیغام بھیجا، جس میں انھوں نے لکھا کہ:

میں عرب لیگ مشن اور عرب عوام کی طرف سے آپ کی کانفرنس اور آپ کے نیک مقاصد کی تکمیل کے لیے مخلصانہ تہنیت پیش کرتا ہوں۔ آپ کی جماعت فلسطین اور جنوب کے عربوں کے جائز حق اور ہندستان اور عرب اقوام کی بڑھتی ہوئی دوستی کی مسلسل حمایت کرتی رہی ہے۔ تاریخ کے اس موڑ پر-جب دشمن طاقتیں اس دوستی کی تاریخی اہمیت، صداقت اور قیمت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی کو شش کر رہی ہیں- ہمیں یقین ہے کہ جیسا آپ نے ہمیشہ کیاہے، آپ اس دوستی اورناوابستگی ، سامراج دشمنی اور انسانی ترقی کو تقویت پہنچائیں گے ۔

اسرائیلی عزائم اور جارحیت کی مذمت

23؍ مئی 1967ء کو حضرت ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور عربوں کے خلاف اسرائیل کے جارحانہ عزائم کی مذمت میں ایک طویل اخباری بیان جاری کیا، جس کے آخر میں آپ نے اپیل کی کہ:

اس لیے بلا امتیاز مذہب و ملت ہندستان کے سبھی حلقوں سے ہماری یہ اپیل ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحانہ اور معاندانہ سرگرمیوں اور امریکہ کی سامراجی سازش کے خلاف یوم احتجاج منائیں، اور احتجاجی جلسے کریں۔ خصوصیت کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کی تمام صوبائی اور علاقائی تنظیموں سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں دن کی سہولت کے مطابق یوم احتجاج اور مشترکہ احتجاجی جلسوں کا اہتمام کریں اور ان جلسوں کی احتجاجی اور عرب موقف کی تائیدی تجویزوں کی نقلیں بذریعہ تار سفیر عرب جمہوریہ ،شام اور عرب لیگ کے نمائندہ تنظیم دلی اور جمعیت علمائے ہند اور دلی میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کے نام دفتر واقع کر زن روڈ کو بھیجیں۔ 

جمعیت علمائے ہند کی طرف سے صوبائی اور علاقائی شاخوں کے ذمہ داروں کے نام ایک سرکلر بھی آج ہی روانہ کیا جارہا ہے؛ لیکن ضرورت ہے کہ اس اپیل ہی کو کافی سمجھا جائے اور سرکلر کا انتظار کیے بغیر مذکورہ گزارش پر التفات فرما یا جائے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،25؍ مئی 1967ء)

نوٹ: تفصیلی بیان اسی تاریخ پر ’’اسرائیل ‘‘ کے عنوان میں درج کردیا گیا ہے۔

فلسطین معاملے میں عربوں کی حمایت جمعیت کا قدیم موقف

28؍ مئی 1967ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام عرب اسرائیل نمائندہ اجتماع منعقد کیا گیا۔جس میںعرب لیگ کے قائم مقام نمائندہ جناب محمد عبد العزیز المحامی، شام کے ناظم الامور اور قائم مقام سفیر جناب شائشی ترکاوی نے اور سعودی عرب سفارت خانے کے نمائندے جناب شیخ حسین موجود تھے۔

اس اجلاس کی تفصیلات ’’اسرائیل ‘‘ میں گذرچکی ہیں۔ تاہم فلسطین کے حوالے سے حضرت مولانا عبد الحلیم صدیقی صاحب نے اس کی تاریخ پر سیر حاصل بحث کی اور کہا کہ جمعیت علمائے ہند کی طرف سے فلسطین کے معاملہ میں عربوں کی حمایت کو کوئی نئی بات نہیں ہے۔

 اس سے قبل تبادلۂ خیال کے دور ان حضرت ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سفرائے عرب کو تائید اور حمایت کا یقین دلایا گیا۔(روزنامہ الجمعیۃ،30؍ مئی 1967ء

ہندستان کی روح عربوں کے ساتھ ہے

23؍ جولائی 1967ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے دلی میں مقیم عرب سفیروں کو اسرائیلی حملہ کے شکار عرب مظلومین کی امداد کے سلسلہ میں ایک لاکھ ایک ہزار ایک روپیہ نقد اور سامان کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مظلومین عرب کی امداد کے سلسلہ میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ریلیف کی جو مہم شروع کی گئی ہے، اس کے سلسلہ میں یہ پہلی قسط تھی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ، جناب رنبیر نے کہا کہ بیس سال قبل فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل قائم کیا گیا تھا اور عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا گیا، اسی طرح مغربی سامراج نے عربوں پر دباؤ ڈالا کہ اگر وہ ان کی مرضی پر نہ چلے، تو یہ خنجر انھیںگھونپ دیا جائے گا۔ 

آخر میں انھوں نے کہا کہ میں عرب سفیروں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کے باوجود کہ ہندستان میں بھی امپر یلزم کے کچھ ایجنٹ موجود ہیں، ہندستان کی روح عربوں کے ساتھ ہے، ہم ہر جدوجہد میں عربوں کا ساتھ دیں گے۔

نوٹ: اس اجلاس کی مکمل تفصیل ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں درج ہوچکی ہے۔

اسرائیلی جارحیت اور اینگلو امریکی سازش کے خلاف مظاہرہ

28؍ جولائی 1967ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولا نا اسعد مدنی کی اپیل پر تیسرے پہرامریکی انفارمیشن سینٹر پرساٹھ ہزار فر زندان توحید اوردلی کے دوسرے انصاف پسند شہریوں اور ہند عرب دوستی کے حامیوں کی جانب سے زبردست مظاہرہ اور عربوں کے خلاف امریکہ و برطانیہ کی پشت پناہی سے اسرائیلی جارحیت پر احتجاج کیا گیا۔ یہ مظاہرہ جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر یوم فلسطین کے سلسلہ میں کیا گیا۔ دلی کے علاوہ آج پورے ملک میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 30؍ جولائی 1967ء)

نوٹ: اس کی تفصیل ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں آچکی ہے۔ 

مظلومین فلسطین کی حمایت میں قومی کانفرنس کا انعقاد

10؍ اگست 1967ء کو عربوں کی حمایت میں سپرو ہاؤس نئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’قومی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت شری کے ڈی مالویہ نے کی۔

اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر وی سی شکلا نے کہا کہ: ہندستان کی طرح سامراجی طاقتوں نے فلسطین کو بھی تقسیم کیا، تاکہ سامراجی مفا و محفوظ رہے اور عرب ممالک میں ان کے سامراجی استبداد کو ختم کرنے کی طاقت نہ رہے۔ ہم نے عرب ممالک کی جو حمایت کی ہے، وہ ہندستانی حکومت اور ہندستان کے عوام کے مخلصانہ جذبات کی آئینہ دار ہے۔ہما رے ملک میں بہت سی طاقتیں ہیں، جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ عرب ممالک کی حمایت کے بارے میں ہمارے اندر اختلاف ہے۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہندستان کے عوام عربوں کی حمایت میں متفق ہیں، اور حکومت ہند کی پالیسی مضبوط اور بہت ہی واضح ہے۔ یہ تمام مکروہ پر وپیگنڈے ہیں، جن پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

نوٹ: اس کی مکمل تفصیل ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں درج ہوچکی ہے۔

آل انڈیا فلسطین کمیٹی کا قیام

20؍ ستمبر1967ء کو جمعیت علمائے ہند نے آل انڈیا فلسطین کمیٹی کے قیام سے متعلق درج سرکلر جاری کیا:

مسلمانان عالم اور دنیائے اسلام کے تمام مسائل اور جد و جہد میں جمعیت علمائے ہند کا ہمیشہ ایک تاریخی اور مؤثر کردار رہا ہے۔ عالمگیر انسانی برادری کے عظیم احساس کی وجہ سے جب کبھی عالم اسلام اور مسلمانان عالم پر کوئی حادثہ گزرا ہے، تو جمعیت علمائے ہند نے خلش محسوس کی ہے اور اپنی تمام توانائیوں کو یک جا کر کے اس نے یہ کوشش کی ہے کہ ملت کی یہ مصیبت دور ہو۔ آج تاریخ نے اس عالمی ملت کے سامنے پھر آزمائش کے کانٹے بچھائے ہیں اور ہمیں ان کانٹوں کو چننا ہے۔

 جمعیت علمائے ہند اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کے لیے مستقل جد و جہد کے اعلان کے ساتھ میدان میں اُتر رہی ہے،اور مسلمانان ہند کو یہ مجاہدانہ دعوت دے رہی ہے کہ آزار اور تاریخ کے اس چیلنج کو قبول کر کے اپنی زندگی، اپنی ملی غیرت و حمیت کی تصدیق کرو۔

قبلۂ اول، مقامات مقدمہ، بیت القدس، فلسطین اور تمام مقبوضہ عرب علاقوں کی واگذاری ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔ یہ مسئلہ حق و انصاف کا مسئلہ ہے۔ مظلومیت کی نصرت وحمیت کا مسئلہ ہے۔ ایشیا کو استعماری طاقتوں کی گرفت سے آزاد کرانے کا مسئلہ ہے۔جزیرۃ العرب کی آزادی، اس کی سلامتی اس پر مسلمانوں کے کامل اقتدار اور اس کے تحفظ کو جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ دینی و مذہبی مسئلہ سمجھا ہے۔ اور اعلان بالفور کے بعد سے اب تک باہر کے ممالک سے درآمد شدہ یہودیوں کا مصنوعی وطن بنانے کی عالمی سازش کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس کے لیے جد و جہد کی ہے اور جزیرۃ العرب کے کسی حصہ پر بھی غیر ملکی اقتدار کو اس نے کبھی برداشت نہیں کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے سابق صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ نے جمعیت علمائے ہند کے تاریخی اجلاس کو کناڈا کی صدارت کرتے ہوئے 1922ء میں سامراجی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور بلاد اسلامیہ کو تباہ کرنے کی معاندانہ سازشوں کی تفصیل سے آگاہ کر دیا تھا۔ آپ نے دلائل شرعیہ کی روشنی میں یہ واضح کر دیا تھا کہ:

 ممالک اسلامیہ پر جب غیر ملکی اقتدار قائم ہوجائے، تو اس کی مدافعت کرنی تمام مسلمانان عالم پر تدریجا واجب ہے۔ جملہ اہل اسلام کا فریضہ ہے کہ ان کو روکنے او ر تمام جزیرۂ عرب کے احترام وتطہیر کے لیے پوری کوشش کریں۔ مسلمانان ہند کا خصوصاًاہم فریضہ ہے کہ ان کی آزادی اور جزیرۂ عرب سے غیر ملکی اقتدار اٹھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ 

اسی تاریخی اجلاس میں- جس کی صدارت حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے فرمائی تھی -جمعیت علمائے ہند نے یہ مبصرانہ تجویز بھی منظور کی تھی:

 جزیرۂ عرب کا -جس میں عدن بھی شامل ہے- غیر ملکی اقتدار و تسلط واثر سے پاک رہنا، اسلام کا ضروری مسئلہ ہے، اور پاک رکھنا حضرت رسالت پناہ تاج دار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت کی تعمیل کے لیے مسلمانوں کا مقدس مذہبی فریضہ ہے۔

 اس کے ساتھ عرب ملکوں کا غیر ملکی اقتدار و گرفت سے آزاد رہنا ہندستان، افریشیا اور پوری مشرقی اقوام کے لیے ان کی آزادی کی سلامتی اور استعماری طاقتوں سے ان کے تحفظ کا مسئلہ بھی ہے۔ اجلاس کو کناڈا کے تاریخی اجلاس کی مذکورہ تجویز کا یہ آخری حصہ ہمارے لیے قابل غور ہے:

 نیز جزیرۂ عرب کی آزادی نہ صرف ہندستان کی آزادی کا اصلی دروازہ ہے؛ بلکہ مشرق کی نجات کا ضروری مقدمہ بھی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا مذہبی مقدس فرض ہونے کے علاوہ تمام مشرقی اقوام کا بھی لازمی فریضہ ہے کہ وہ اس ایشیائی اہم مقام کی آزادی کے لیے جد وجہد کے تمام ممکن ذرائع استعمال کر کے اُسے آزاد کرائیں۔

ہمیں یہاں یہ کہنے دیا جائے کہ ہندستان اور مشرقی اقوام پر غیر ملکی قبضہ و اقتدار باقی رکھنے کے لیے سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ سازشیں کی ہیں۔ اسی لیے مشرق وسطیٰ کو غلام بنانے کا منصوب بنایا۔ بحر روم پر اینٹی بالا دستی قائم رکھنے کی کوشش کی۔ اس لیے نہر سوئز بنائی گئی۔ اسی کی وجہ سے مصر پر قبضہ کیا گیا۔ اسی کے حصول کی خاطر عدن اورملحقہ علاقوں پر سامراجی اقتدار قائم کیا گیا۔ اسی کے لیے کریٹ، قبرص میں اور دوسرے اہم جزیروں پر قبضہ کر کے سامراجی فوجی مراکز قائم کیے گئے۔ اسی کے لیے دولت عثمانیہ (ترکی) کو ختم کیا گیا۔ اسی کے لیے شام و فلسطین اور عراق کے ٹکڑے کیے گئے۔ انھیں چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں تقسیم کیا گیا، تاکہ ان قوموں کے اندر کبھی اتنی طاقت اور حوصلہ پیدا نہ ہو سکے کہ وہ ہندستان اور دوسرے ایشیائی ممالک پر سامراجی گرفت قائم کرنے کی راہ میں حائل ہوسکیں۔

 ہمیں برطانوی پارلیمنٹ کے کنزرویٹو ممبر کرنل کا سفٹن براؤن کی وہ تقریر بھی یاد ہے، جو اس نے 19؍جون1936 ء کو برطانوی پارلیمنٹ میں کی تھی، جس میں اس نے بہت صفائی کے ساتھ یہ کہا تھا کہ:

یہ( فلسطین) سلطنت برطانیہ میں رسل و رسائل اور آمد و رفت کا اہم نقطہ ہے۔ لہذا ہمارے نقطۂ نظر سے ہمارے لیے یہ دیکھتے رہنا ضروری ہے کہ وہاں کسی ایسی قوم کو آباد ہونے اور اپنی قومیت کو عظیم الشان ترقی دینے کی اجازت نہ دی جائے، جو بالآخر ہمارے لیے خطر ناک ہو ۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اسی اجلاس کی یہ تقریر بھی ہمیں یاد ہے، جس میں ایک دوسرے کنزرویٹو ممبر مسٹرا میری نے فلسطین کے قبضہ کے جواز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ:

 مدافعت کے لحاظ سے فلسطین کی مقامی حیثیت نہایت اہم ہے، یہ گویا کلیفم جنکشن (لندن کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن) ہے۔ یہ ایک ایسے مقام پر واقع ہے، جو انگلستان، افریقہ اور ایشیا کے ہوائی راستوں کا مرکز ہے۔ بحر روم کے جدید حالات میں اس کی بحری حیثیت بھی حد درجہ اہم ہے۔قبرص، فلسطین اور مصر پر اگر مضبوطی سے قبضہ رکھا جائے، تو اس سے نہ صرف نہر سوئز کو کھلا رکھنا ممکن ہوگا، بلکہ تمام مشرقی بحر روم پر بھی قبضہ رہ سکے گا۔ اگر چہ یہ صحیح ہے کہ حکم بر داری کی رو سے ہمیں فلسطین میں کوئی بحری مرکز قائم کرنے کی اجازت نہیں؛ تاہم اگر حیفہ کو ترقی دے کر بحر روم کا ایک زبردست بندرگاہ اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے، نیز اسے تیل کی فراہمی کا ایک بڑا ذخیرہ قرار دیا جائے، جب کہ لڑائی کے زمانہ میں کسی دوسری جگہ سے ہمیں تیل نہ مل سکے، تو اس کے نتائج نہایت اہم ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حیفہ اور عقبہ کے درمیان ریل سے آمد و رفت جاری ہو جائے، جس سے نہر سوئز کے لیے ایک اور راستہ کھل جائے گا۔

 یہی وہ اہم اسباب تھے، جن کی وجہ سے فلسطین میں باہر سے لا کر غیر ملکیوں کو بسایا گیا،تا کہ یہ غیر ملکی قوم- جس کا مذہب اور قومیت سے کوئی اخلاقی رشتہ نہیں رہا ہے- ہمیشہ سامراجی طاقتوں کی اطاعت گزار بن کر ان کی سامراجی سازشوں کی آلۂ کار بنی رہے۔

 اس تمام تاریخی پس منظر کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسرائیلی جارحیت اور اس کی توسیع پسندی صرف مسلمانوں کا اب مذہبی مسئلہ نہیں رہا ہے؛ بلکہ مشرقی اقوام اور افریشیا کی آزادی و سلامتی اور دنیا کا سیاسی اور اقتصادی مسئلہ بھی ہے۔

اس لیے جمعیت علمائے ہند نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ دنیا کے امن، تمام مقبوضہ عرب علاقوں کی واگزاری، افریشیائی آزادی، آزاد ترقی پسند قوموں کی حفاظت اور مظلوم عربوں کی تائید و حمایت میں پورے ملک کے اندر مسلمانوں اور انصاف پسند ہندستانی عوام کی رائے عامہ کو مستقل جدوجہد کے لیے بیدار کرے۔ہندستانی مسلمانوں، اور ہندستان کے انصاف پسند عوام کی یہ تحریکی جد وجہد اس وقت تک برابر جاری رہے گی، تا وقتیکہ اسرائیل اور اسرائیل نو از سامراجی طاقتیں مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی نہ کر دیں اور وہ اپنے توسیع پسند جارحانہ عزائم سے باز نہ آجائیں۔ پورے ہندستان میں اس جدوجہد کو تحریک کی شکل دینے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے ملک کی ہم شخصیتوں پر مشتمل ’’ آل انڈیا فلسطین کمیٹی‘‘ کی تشکیل کر دی ہے۔ یہ کمیٹی پورے ملک میں اس جد و جہد کو ہمہ گیر بنائے گی۔

 جمعیت علمائے ہند فلسطین تحریک کی آواز کو ملک کے تمام گوشوں تک پہنچانے کے لیے ایک ہفت روزہ جریدہ نکالنے کے عزم کا بھی اعلان کرتی ہے اور ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی ایک مرتبہ پھر واضح کر دینا چاہتی ہے کہ ہمارے مطالبہ میں کوئی تحدید نہیں ہے۔ ہم قبلۂ اول اور مقامات مقدسہ کی واگزاری کو ضرور اہمیت دیتے ہیں؛ لیکن ہمارا مطالبہ مقبوضہ عرب علاقوں کی ایک ایک انچ زمین واپس لینے کا ہے۔ ہم مقبوضہ عرب علاقوں میں سے کسی کو اولیت دے کر دوسرے کو پس پشت ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم نے یہ وضاحت اس لیے ضروری سمجھی ہے کہ استعماری طاقیتں اس سازش میں مصروف ہیں کہ صرف مقامات مقدسہ کے جذباتی عنوان سے مقبوضہ عرب علاقوں کے مطالبہ کو کمزور کر دیا جائے۔ جمعیت علمائے ہند کی ملک گیر فلسطین تحریک قبلۂ اول، مقامات مقدسہ اور تمام مقبوضہ عرب علاقوں کی بازیابی اور اسرائیلی جارحیت کے ہرنشان کو ختم کرنے کے لیے اپنی جد وجہد جاری رکھے گی۔

 ہمیں توقع ہے کہ ہندستان کے مسلمان اور انصاف پسند ہندستانی عوام، مظلوموں کی حمایت، دنیا کے امن، مقبوضہ عرب علاقوں کی بازیابی، افریشیائی آزادی اور ہندستان کی آزادی کے تحفظ کے لیے بھر پور تعاون دیں گے۔

 حضرت مولانا سید فخر الدین احمد صاحب صدر جمعیت علمائے ہندنے ’’آل انڈیا فلسطین کمیٹی‘‘ کے لیے ملک کی جن اہم شخصیتوں کو نام زد فرمایا ہے، وہ حسب ذیل ہیں: 

جناب پروفیسر ہمایوں کبیر صاحب ایم پی۔ جناب مولانا سید محمد میاں صاحب۔ جناب مولانا محمد میاں صاحب فا روقی الہ آباد۔ جناب مولانا شاہد میاں صاحب فاخری ایم ایل سی۔ جناب مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند۔ جناب ایم آر شیروانی ایم پی۔جناب مولانا عبدالوہاب صاحب آرویؒ۔ جناب مولانا ابو الوفا صاحب شاہ جہاں پوری۔ جناب مولانا اسحاق سنبھلی ایم پی۔جناب مولانا عبد الرؤف صاحب ایم ایل سی۔ جناب مصطفی فقیہ صاحب۔ جناب مولانا عبد الرحمان صاحب پالن پوری۔ جناب مولانا اسحاق علمی صاحب ایڈیٹرسیاست جدید کانپور۔جناب حیات اللہ صاحب انصاری ایم پی۔ جناب مولانا حبیب الرحمان صاحب مئو۔ جناب پی ایم سعید صاحب ایم پی لنکادیپ۔ جناب مولانا سید محمد نور اللہ صاحب ایم ایل سی۔ جناب مولانا محمد طاہر صاحب مغربی بنگال۔ جناب مولانا احمد علی صاحب آسام۔ جناب مولانا منت اللہ صاحب رحمانی۔ جناب عبد الحمید انصاری ایڈیٹر انقلاب۔ جناب نور الدین صاحب بیرسٹر۔ جناب کرنل بشیر حسین زیدی۔ جناب مولانا اویس ندوی لکھنو۔جناب مولانا سید اسعد مدنی (کنوینر)۔ (روزنامہ الجمعیۃ،13؍ اگست1967ء)

نوٹ: مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کو ارکان میں اضافہ کا اختیار ہوگا۔ 

(روزنامہ الجمعیۃ،22؍ ستمبر1967ء)

آل انڈیا فلسطین کمیٹی کی میٹنگ

22؍ ستمبر1967ء کو ہندستان میں تحریک فلسطین کو کا میاب بنانے کے لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کی دونشستوں کے درمیان وقفہ میں چار بجے شام سے آل انڈیا فلسطین کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا اسعد مدنی نے- جو اس کمیٹی کے کنوینر بھی ہیں- فلسطین کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صہیونیت تحریک سے اب تک کی اسرائیلی جارحیت کے ظالمانہ کردار پر مبسوط تبصرہ فرمایا۔ آپ کے بعد پروفیسر ہمایوں کبیر صاحب ایم پی سابق مرکزی وزیر نے مغربی ایشیا کی صورت حال کے مختلف پیلوؤں پر روشنی ڈالی اور مولانا اسحاق سنبھلی ایم پی نے فلسطین تحریک کہ ہمہ گیر بنانے کے لیے مشورے دیے۔ آل انڈیا فلسطین کمیٹی کے اس اجلاس کی صدارت حضرت مولانا سید فخر الدین صاحب نے فرمائی۔ آل انڈیا فلسطین کمیٹی کی اس نشست میں دوسرے اہم امور پر تبادلۂ خیال کے علاوہ ہمایوں کبیر صاحب کو صدر منتخب کیا گیا۔ بعد ازاں صدر منتخب مشورہ کر کے کمیٹی کے جنرل سکریٹری کے نام کا اعلان فرمائیں گے۔ کمیٹی میں شرکت کے لیے باہر سے آئے ہوئے مند و بین محمد حنیف صاحب دائما کمار ایڈوکیٹ بڑودہ، معین الدین صاحب ایڈوکیٹ ایم پی، مولانا عبد الرؤف ایم ایل سی، مولانا شاہد میاں فاخری، مولانا نور اللہ صاحب ایم ایل سی، قاضی زین العابدین سجاد صاحب میرٹھی اور دوسرے حضرات کے علاوہ دہلی سے پروفیسر ہمایوں کبیر ایم پی ،کرنل بشیر حسین زیدی ایم پی، بیرسٹر نورالدین سابق میئردہلی ،مولانا اسحاق سنبھلی ایم پی وغیرہ نے شرکت فرمائی۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ جلد ہی فلسطین کمیٹی کی میٹنگ پھر بلائی جائے،تا کہ اس میں تفصیلی طور سے تمام اقدامات طے کیے جاسکیں۔(روزنامہ الجمعیۃ،24؍ ستمبر1967ء)

آل انڈیا فلسطین کمیٹی کی توثیق

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس :23،24؍ ستمبر1967ء کو منعقد ہوا، جس کی تجویز نمبر(۱۰) میں آل انڈیا فلسطین کمیٹی کے قیام کی توثیق کی گئی۔ 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس آل انڈیا فلسطین کمیٹی کی تشکیل کی توثیق کرتا ہے اور یہ توقع رکھتا ہے کہ آل انڈیا فلسطین کمیٹی عرب مظلوموں کی حمایت و تائید میں پورے ملک کے اندر جد وجہد کو ہمہ گیربنائے گی اور مشرق وسطیٰ میںاسرائیلی جارحیت کے خطروں سے ملک کے عوام کو باخبر رکھے گی۔

 مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو- جو آل انڈیا فلسطین کمیٹی کے کنوینر بھی ہیں- حالات کے مطابق طریقۂ کا ر اور اقدامات کے فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔ نیز جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس یہ ہدایت بھی دیتا ہے کہ فلسطین کمیٹی اپنا لائحۂ عمل خود بنائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

بین الاقوامی کانفرنس کے مندوبین کو استقبالیہ

13؍ نومبر1967ء کو جمعیت علمائے ہند کی آل انڈیا فلسطین کمیٹی کی جانب سے شام وٹھل بائی پٹیل ہاؤس میں بین الاقوامی کانفرنس میں شریک مندوبین کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا۔ اس میں فلسطین کمیٹی کے صدر پروفیسر ہمایوں کبیر صاحب نے کہا کہ عربوں کا مسئلہ بقائے انسانیت کا اور آزادی کا مسئلہ ہے اور جمعیت علمائے ہند عربوں کے ساتھ ہے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،15؍ نومبر1967ء)

 تقریب استقبالیہ میں فلسطین  کے متعلق جمعیت کے موقف کا اعادہ

23؍ جنوری 1968ء کو مسجدعبد النبی دفتر جمعیت علمائے ہند کے وسیع صحن میں متحدہ عرب جمہوریہ کی مجلس اعلیٰ برائے امور اسلامیہ کے ایک وفد کو ایک پر خلوص استقبالیہ دیا گیا، جس میں ہند اور عرب جمہوریہ دونوں ملکوں کے مسلمانوں کے نہایت قدیم تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ہندستان نے عمومام اور جمعیت علمائے ہند اور مسلمانان ہند نے خصوصا ہمیشہ مسئلۂ فلسطین پر عربوں کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی حمایت کی جائے گی۔

سپاس نامہ (اردو ترجمہ)

…مسئلۂ فلسطین پر عربوں کی حمایت میں جمعیت علمانے بڑا اہم رول ادا کیا ہے اور عربوں کی مکمل تائید کی ہے اور اسرائیل کے قیام کو جو صہیونی لالچ اور ہوس اور استعماری طاقتوں کی سازش کا ایک بے مثال نمونہ ہے،اس نے شروع سے مخالفت کی ہے فلسطین  عربوں کی سرزمین ہے ،اس کو عربوںنے آزاد کیا اورعرب ہی اس کے باشندے ہیں، جنھوں نے قدس شریف کو تعمیر کیا، وہی اس کے جائز مالک اور حق قدارہیں۔

جمعیت علمانے ہمیشہ حق اور انصاف کی حمایت کی ہے۔ مسئلۂ فلسطین کے آغاز سے ہی جمعیت علما عربوں کی حامی رہی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ آزادی اور انصاف کا مسئلہ ہے۔ ہم عربوں کی پوری طاقت سے حمایت اور تائید کرتے ہیں ک ان کو ان کی چھینی ہوئی سر زمین واپس کی جائے اوراسلامی مقامات مقدسہ کو صہیونی جارحیت سے نجات دلا کر اصل حق داروں کے سپرد کیا جائے۔ اس موقع پر ہم آپ کو اور آپ کے ذریعہ عرب جمہوریہ اور دوسرے عرب ممالک میں اپنے بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ جمعیت علما نے جس طرح ان کی ماضی میں اخلاقی، مادی حمایت کی ہے، اسی طرح آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

مسٹر محمد توفیق عویضہ کی تقریر

وفدکے لیڈر مسٹر محمد توفیق عویضہ نے سپاس نامہ کے جواب میں عربی میں تقریر کی، جس کا مولوی فصیح الدین صاحب عربک اسسٹنٹ انڈین کو نسل فار کلچرل ریلیشنز نے اردو میں ترجمہ کیا۔ 

 قائد وفدنے دہلی کے مسلمانوں سے ملاقات اور جمعیت علما کے استقبالیہ میں شرکت کا موقعہ ملنے پر اظہار مسرت کیا اور جمعیت علما کا اور حضرت ناظم عمومی کا شکر یہ ادا کیا کہ عرب جمہوریہ میں اسلامی امور کی مجلس اعلیٰ کے وفد کی پذیرائی کی گئی۔ سلسلۂ تقریر جاری رکھتے ہوئے مسٹر عویضہ نے کہا کہ سپاس نامہ میں قضیۂ فلسطین کا تذکرہ کیاگیا ہے اور عربوں کے موقف کو مبنی بر انصاف کہا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ فلسطین کا سوال ایک عربی مسئلہ نہیں؛ مسلمانوں کا مسئلہ ہے؛ بلکہ ہر آزادی پسند کا فرض ہے کہ اس مسئلہ پر ایک مثبت پالیسی اختیار کرے۔ فلسطین کی سرزمین نہایت ہی مقدس سرزمین ہے۔ اس سرزمین پر تمام مذاہب آسمانی کا نزول ہوا۔ سرزمین فلسطین اول تا آخر اسلامی سرزمین ہے۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے، جو عیسائیت اوریہو دیت کو آسمانی مذاہب تسلیم کرتا ہے، جب کہ یہودو  عیسائیت ایسا نہیں کرتی۔ اس لیے اس سرزمین کے اصل حق دار مسلمان اور صرف مسلمان ہیں۔

 آپ نے زور دے کرکہا کہ فلسطین کا مسئلہ تمام آزادی پسند لوگوں کا مسئلہ ہے، ہر اس شخص کا مسئلہ ہے، جو امن کی دعوت دیتا ہے، جو ہتھیار ڈالنے اور دوسروں کے سامنے جھک جانے کے خلاف ہے۔ہمیں یقین ہے کہ حق حق دار کو پہنچے گا،اور اس پر اسلام کا پرچم بلند ہوگا۔

مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کا عندیہ

28؍ اگست 1968ء کو کانسٹی ٹیوشن کلب کے حسین سبزہ زار پر مرکزی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے عرب جمہوریہ کے سبک دوش ہونے والے سفیر ہز ایکس لینسی جناب عیسیٰ سراج الدین کو و داعیہ دیا گیا۔ کارروائی کا آغاز قاری محمد میاں صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد نائب صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید شاہد میاں فاخری ایم ایل سی نے معزز مہمان کا سنہری ہار پہنا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا قاضی سجاد حسین صاحب نے عربی زبان میں سپاس نامہ پڑھا۔

پھر مولانا اسعد میاں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک مختصر تقریر میں فرمایا کہ ہندستان اور عرب جمہوریہ کے درمیان بہت سے تعلقات ہیں۔ اصل تعلق ظاہر کرنے سے نہیں ہوتا، اصل تعلق تو قلبی تعلق ہوتا ہے۔ جمعیت علما کا جو تعلق ہز ایکسی لینسی سے ہے، وہ تو ہمیشہ قائم رہے گا۔ لیکن اس تعلق کی یادگار کے طور پر جمعیت علما کی طرف سے ان کو تاج محل کا ایک ماڈل پیش کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ وہ اسے قبول فرمائیں گے۔

 سپاس نامہ

جمعیت علمائے ہند عرب ممالک سے تعلقات پر ہمیشہ زور دیتی رہی ہے، جوہندستانی ہونے اورعقیدہ کے لحاظ سے بھائی ہونے کے ناطے بہت ضروری ہے۔ جمعیت علمائے ہند یقین رکھتی ہے کہ ہند اور عرب جمہور کی دوستی ضروری اور ایک دوسرے کے لیے مفیدہے۔ یہ الفاظ اس احترام کو پوری طرح ظاہر نہیں کر سکتے ، جو ہمارے دلوں میں آپ کے لیے ہے۔ جمعیت علمائے ہند 1919 ء سے مسلمانان ہند کی خدمت میں لگی ہے۔

 جمعیت علما نے عرب ممالک میں آزاد ی کی تحریکوں اور مظلوم فلسطینیوں کی بھی حمایت میں جو کوششیں کیں، ان کا بھی اس میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ سپاس نامہ میں فلسطین پر یہودیوں کے قبضہ کی مذمت کی گئی ہے اور مظلوم فلسطینیوں کی ہر ممکن امداد کا یقین دلایا گیا ہے۔ آخر میں معزز مہمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئندہ زندگی میں ان کی کا میابیوں کا یقین ظاہر کیا گیا ہے۔

فلسطین کے مظلوم عربوں کی حمایت میںکھلا اجلاس

1969ء میں مجموعی طور پر اسرائیل نے جنگ استنزاف(War of Attrition)  کے دوران متعدد فوجی کارروائیاں کیں۔ مارچ 1969 میں مصر کی توپ خانے کی بم باری کے جواب میں اسرائیل نے جوابی حملے شروع کیے۔

جولائی 1969 میں اسرائیل نے Operation Bulmus 6 اور Operation Boxer کے تحت مصری پوزیشنوں پر شدید فضائی اور کمانڈو حملے کیے۔ ستمبر 1969 میں Operation Raviv اور دسمبر 1969 میں Operation Rooster 53 کے ذریعے مصر کے Red Sea ساحل اور ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔

26؍مارچ 1969 کو اسرائیلی فوج نے اردن کے Es-Salt علاقے پر حملہ کیا، جس میں 17؍شہری شہید ہوئے۔ اکتوبر 1969 میں لبنان کے ایک گاؤں پر ہیلی کاپٹر حملہ کیا گیا۔

سب سے اہم واقعہ 21؍اگست 1969ء کو پیش آیا، جب مسجد اقصیٰ میں آگ لگا دی گئی، جس سے مسجد کا بڑا حصہ تباہ ہوا۔

ان کارروائیوں میں ہزاروں فوجی اور کئی شہری شہید ہوئے۔ عربوں پر انھی مظالم کے خلاف جمعیت علمائے ہند جلسے جلوس اور احتجاج کا ایک طویل سلسلہ شروع کردیا،انھیں میں سے ایک عظیم الشان اور کھلا اجلاس 6؍ جون 1969ء کو اردو بازار دہلی میں عظیم الشان اجلاس کیا گیا۔جس میں  فلسطین کے مظلوم عربوں کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کی جم کر مذمت کی۔ 

نوٹ:اس اجلاس کی مکمل تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ میں درج ہوچکی ہیں۔ 

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس

اسی طرح 29؍ اگست 1969ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام اردو پارک دہلی میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔اس اجلاس کی بھی مکمل تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ میں درج ہوچکی ہیں۔ 

قاہرہ کانفرنس اوراس کی قرار دادوں کی تائید

متحدہ عرب جمہوریہ کے دارالحکومت قاہرہ میں یکم مارچ تا 5؍ مارچ 1970ء، منعقد ہونے والی مجمع البحوث الاسلامیہ کی پانچویں کا نفرنس میں دنیا کے چھتیس ملکوں سے ایک سو سے زائد علمائے دین نے شرکت کی ۔ ہندستان سے شرکت کرنے والے جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی تھے۔ کانفرنس نے مشرق وسطیٰ کے بحران، اسرائیلی جارحیت اور بیت المقدس، نیز مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی پر غور و خوض کیا، پانچ دن کے پیہم اور لگاتار اجلاسوں کے بعد شر کانے متفقہ طور پرجو فیصلے کیے، مجلس منتظمہ منعقدہ:18،19؍ اپریل 1970ء نے ان تجاویز پر غور کیا،  اور تمام تجاویز کو منظوری دی۔

موتمر کی ایک اہم قرارداد-قرارداد نمبر-۳- میںمجاہدین فلسطین کی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ:

’’کا نفرنس عرب ملکوں کی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مجاہدین فلسطین کی سرگرمیوں میں ان کی مدد کریںاور ان کو ضروری سہولتیں بہم پہنچا ئیں۔

 کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ مجاہدین فلسطین کی اسلحہ اور سرمایہ سے مدد کرنا مذہبی فرض ہے اور سرگرمی کا یہ مد ان کے شرعی مصارف میں سے ایک ہے۔‘‘

اس کے بعد اس کے اگلے سال بھی (از27؍ مارچ 1971 ء تا یکم اپریل1971ء قاہرہ میں المجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ منعقد کی گئی۔جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ منعقدہ: 26، 27 ؍ اپریل 1971ء میں مؤتمر کی قرار دادیں پیش کی گئیں۔بالخصوص فلسطین سے متعلق درج ذیل تجویز پیش نظر رکھی گئی:

’’یہ کا نفرنس اسلامی ممالک اور مسلم اقوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فلسطینی قوم اور دوسری تمام عرب اقوام کی عملی تائید اور ان کی جد و جہد میں مدد کریں، تاکہ وہ مقبوضہ علاقوں کو واگزار کرانے اور اسلامی مقدس مقامات کو دشمنوں کے پنجہ سے چھڑانے میں کامیاب ہو سکیں۔‘‘

 مجلس عاملہ نے اس تجویز سمیت تمام تجاویز کا جائزہ لینے کے بعدان کی تائید کرتے ہوئے حسب ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علما ئے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ’’المجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ کانفرنس‘‘ کی تمام قرار داد کی تحسین کرتا ہے ۔ کانفرنس نے اپنی تجاویز میں جن عزائم کا اظہار کیا ہے، وہ قابل مبارک باد ہیں۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے پہلے بھی ’’المجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ کے حوصلوں،ارادوں اور تجاویز کی تائید کی تھی۔ اور اب پھر مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ’’المجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ کے تمام فیصلوں کی تقویت و تائید کرتے ہوئے عرب موقف کو اپنی حمایت کا یقین دلاتا ہے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

فلسطینی موقف پرجمعیت علمائے ہند کو خراج تحسین

 مصر کی مجلس اعلیٰ برائے امور اسلامیہ کے جنرل سکریٹری جناب محمد توفیق عویضہ نے آج جمعیت علمائے ہند کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ اس نے ہمیشہ عربوں اور فلسطین کے کاز کی حمایت کی ہے۔وہ 10؍ جون 1972ء کو  ایک تقریب استقبالیہ میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی طرف سے پیش کر دہ سپاس نامہ کے جواب میں بول رہے تھے۔ سپاس نامہ میںجمعیت علمائے ہند کا تعارف کرایا گیا اور فلسطین اور عربوں کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کی جو ہمدردانہ پالیسی رہی ہے، اس کی وضاحت کی گئی۔ نیز اس بات کا خیر مقدم کیا گیا کہ مصر کی مجلس اعلیٰ برائے امور اسلامیہ دینی تبلیغی کام کر رہی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ استقبالیہ تقریب نئی دلی کے کانسٹی ٹیویشن کلب کے لان میں ہوئی، جس میں تقریباً تین سو سرکردہ اصحاب بشمول مسٹر کرشنا مینن، و مسٹر یونس سلیم سابق وزرائے ہند یونین، مختلف اسلامی ممالک کے سفرا اور جمعیت علمائے ہندہند کے مقامی و بیرونی ذمہ دار حضر ات شریک تھے۔ عرب ممالک کے سفرا میں حسب ذیل  شامل تھے : سفر مصر مسٹرا مین حلیمی،سفیر کویت مسٹر عبد الرحمان عیسیٰ،سفیر اردن مسٹر طوقان، سفیر عراق ڈاکٹر عبداللہ امسال، سفیر سوڈان مسٹر حسن امین اور سفیر الجزائر مسٹر ناصر حجاتی۔ سعودی عرب کے سفیر شامل نہ تھے؛ لیکن سفارت خانہ سعودی عرب کے دو ڈپلومیٹ مسٹر یوسف مطبقانی اور مسٹر حسین برکات شریک تھے۔ مصری سفارت خانہ کے مسٹر مصطفی مسٹر محی الدین عطار اور  مسٹر محمددینا موجود تھے۔

مسٹر جناب محمد توفیق عویضہ کی تقریر

 سپاس نامہ کا جو اب بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرتے ہوئے مسٹر جناب محمد توفیق عویضہ نے جو تقریر کی وہ حسب ذیل ہے:

 حاضرین !میں آپ حضرات کو مبارک باد دیتا ہوں اور سلام کہتا ہوں۔ مولانا مدنی صاحب نے جس گرم جوشی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا، اس کے لیے میں شکر گزار ہوں۔ جمعیت علمائے ہندنے فلسطین اور عربوں کے کاز کی جو حمایت کی ہے، میں اس کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہندستانی قوم اور ہندستانی مسلمانوں کا ہمدردی اورحمایت کا جو موقف مشرق وسطیٰ کے معاملہ پر رہا ہے، اس سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ہند اور مصر کے درمیان تعلقات بڑے گہرے رہے ہیں اور ان تعلقات کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں۔ اگر ماضی میں دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط و مستحکم تھے، توآئندہ بھی مضبوط ہوں گے۔

فلسطینی وفد کو دعوت افطار

اگرچہ آج ہم پریشانی کا شکار ہیں اور دشمن غالب ہے؛ لیکن ہم کامیاب ہوں گے اور حق حق دار کو مل کر رہے گا۔ اس خیال کا اظہار فلسطینی ورکروں کی جنرل فیڈریشن کے لیڈر مسٹر محمد ابو فاشا نے کیا۔ وہ مسجد عبد النبی میں 30؍ ستمبر1973ء کو منعقدتقریب دعوت افطار کے موقع پر  خطاب کر رہے تھے، جس کا اہتمام جمعیت علمائے ہند کی طرف سے کیا گیاتھا۔ ابتدا میں مسٹر شمیم احمد فاروقی نے وفد کے ممبروں کا تعارف کرایا۔ اور اس کے بعد حضرت مولانا سید احمد ہاشمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے وفد کے ممبروں کا خیر مقدم کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں آج یہاں فلسطینی وفد کے استقبال کرنے کا موقع ملا ۔جہاں تک جمعیت علمائے ہند کا تعلق ہے، اس نے ہمیشہ فلسطین کے کاز کی حمایت کی ہے۔ اوربرابر کر رہی ہے۔ 1965ء میں جب فرانس اوربرطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کیا تھا، تب بھی جمعیت علما نے عربوں کے کاز کی حمایت کی تھی۔

 مسٹر ابو فاشا نے کہا کہ ہم جہاں کہیں گئے، ہم نے اپنے مسائل کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی، اس لیے کہ ہندستانی باشندے ہمارے مسائل سے واقف ہیں۔ ہندستان کی حکومت نے بھی ہمارے بارے میں جو موقف اختیار کیا ہے، وہ مبنی بر انسان ہے۔ مزید کہا کہ ہمیں سامرا جی سازش کے نتیجہ میں گھرسے بے گھر کیا گیا ہے۔ اصل مقصد ہمارے علاقے پر قبضہ کرنا ہے۔ سامراجی طاقتوں نے اسلحہ مہیا کردیے۔ ہم سیکڑوں ہزاروں سال سے پر امن طور پر رہ رہے تھے، کوئی نزع نہیں تھا؛ لیکن جب انتداب کی صورت میں برطانیہ نے اقتدار سنبھالا، تو اس نے اختلاف کے بیچ بوئے اور ہماری پیٹھ میں چھرا گھوپنے کے لیے، اسرائیل کی اسٹیٹ قائم کی گئی۔ یہ کوئی مذہی جھگڑا نہیں ہے؛ بلکہ ایسی تحریک ہے، جس کا مقصد ہماری زمین پر غیر ملکیوں کوبسادینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا سے مسلمان کی حیثیت سے نہیں؛ بلکہ مظلوم کی حیثیت سے امداد کے لیے درخواست کرتے ہیں۔

 مسٹر محمد ابوفاشانے آخر میں کہا کہ ہم حق کے لیے لڑرہے ہیں، اور اگر چہ اس وقت ہم پریشانی کا شکار ہیں اور دشمن ہم پر غالب ہے؛ لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوںگے۔ اور حق حق دار کو مل کر رہے گا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیںہے کہ جب ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے؛ بلکہ اس سے قبل بھی ایسے حالات ہوئے ہیں اور ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم اپنی جدو جہد میں مصروف ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،2؍ اکتوبر1973ء)

 فلسطین کے باشندوں کو ان کی زمین واپس دینے کا مطالبہ

رمضان جنگ-جو 6؍اکتوبر1973ء کو شروع ہوئی تھی اور تقریبا 24؍اکتوبر1973ء تک جاری رہی-جاری تھی کہ اسی درمیان12؍ اکتوبر1973ء کو بعد نماز جمعہ جامع مسجد میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا، جس میں مغربی ایشیا میں اسرائیل کی جارحیت کی پر زور مذمت کی گئی اور عربوں کو اس بات کے لیے مبارک باد دی گئی کہ وہ نہایت جرأت و بہادری کے ساتھ اس کا مقابلہ کرر ہے ہیں۔ 

اس جلسے میں منظور ہونے والی قرارداد میں فلسطین سے متعلق پیراگراف میں کہا گیا کہ:

’’ یہ اجلاس انجمن اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے اپیل کرتا ہے کہ وہ حق وباطل کے اس معر کہ میں عربوں کی پوری طرح حمایت کریں اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہو ئے کہ اسرائیل نے ہر بین الاقوامی فیصلے کو پیروں تلے روندا ہے، اسرائیلی توسیعی پسندی کی تمام سازشوں کو پارہ پارہ کر دیں، اور اسے تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے اور فلسطین کے باشندوں کو ان کی زمین واپس دینے پر مجبور کر دیں۔(روزنامہ الجمعیۃ،14؍ اکتوبر 1973ء)

نوٹ: اس اجلاس کی مکمل تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ میں درج کی جاچکی ہیں۔

فلسطین کو زبردستی وطن الیہود نہیں بنایا جاسکتا

19؍ اکتوبر1973ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کے ساتھ امریکی مرکز اطلاعات کے سربراہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا، جس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ فوراً اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بند کر دے۔ اس سے قبل امریکی مرکز اطلاعات کے دفتر کے سامنے عظیم الشان مظاہرہ کیا گیا، جس میںنہ صرف دلی ؛بلکہ میرٹھ، مراد آباد، سہارنپور، بلند شہر، ہاپوڑاور دیگر مقامات کے جمعیت کے کارکنان بھاری تعداد میں شریک تھے۔ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کے کار کنان بھی مظاہرہ اور جلوس میں شریک رہے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں،  مسز سبھدرا جوشی نے مقبوضہ علاقوں کے خالی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے گاندھی جی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ انھوں نے یہودیوں سے کہا تھا کہ اگر وہ فلسطین کو اپنا وطن بنانا چاہتے ہیں، تو عربوں کے ساتھ دوستی سے ایساکر سکتے ہیں، زبر دستی اور لڑ کر نہیں۔

(روزنامہ الجمعیۃ،21؍ اکتوبر 1973ء)

نوٹ: اس کی مکمل تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ میں درج کی جاچکی ہیں۔

تنظیم آزادی فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

1973ء میں الجزائر کانفرنس Non-Aligned Movement (NAM) کا چوتھا سربراہی اجلاس ہوا، جو 5 سے 9؍ستمبر 1973ء تک الجزائر کے دارالحکومت الجزائر شہر میں  منعقد ہوا۔ الجزائر کے صدرHouari Boumediene کی میزبانی میں تقریباً 76 ممالک نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں دو اہم دستاویزات جاری کی گئیں:

سیاسی اعلامیہ (Political Declaration): غیر جانب دار ممالک نے عالمی امن، استعمار کے خاتمے، اور آزادی کی جدوجہد (خاص طور پر فلسطین، جنوبی افریقہ وغیرہ) کی حمایت کی۔ اسرائیل کے خلاف موقف مضبوط کیا گیا، جس کے بعد کئی افریقی ممالک نے اسرائیل سے تعلقات ختم کر دیے۔

اقتصادی اعلامیہ میں New International Economic Order (NIEO) کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ عالمی تجارت اور معاشی نظام میں ترقی پذیر ممالک کے حقوق کو تسلیم کیا جائے۔

اس اجلاس نے غیر جانب دار ممالک کی یک جہتی کو مضبوط کیا اور تیسرے دنیا کو عالمی امور میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

24 ؍نومبر 1973ء کو مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر(۳) میں الجزائر کانفرنس کے تناظرمیں حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ تنظیم آزادی فلسطین کو تسلیم کرے۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی منتظمہ کا یہ اجلاس الجزائر کانفرنس میں مسئلۂ فلسطین سے متعلق قرار داد کی روشنی میں حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ جس طرح الجزائر کانفرنس نے’’ تنظیم آزادیِ فلسطین‘‘ کوفلسطین کے عوام اور ان کی مبنی بر انصاف جد وجہد کے لیے قانونی اورجائز نمائندہ تسلیم کیا ہے، اسی طرح حکومت ہند بھی تنظیم مذکور کو قانونی طورپر تسلیم کرنے کا جلد اعلان کرے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

عرب حمایت کنونشن

اگرچہ رمضان جنگ 24؍اکتوبر1973ء کو ختم ہوچکی تھی، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی جارحیت و بربریت کا سلسلہ جاری تھا، جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے 25؍ نومبر1973ء کو ’’عرب حمایت کنونشن‘‘ کا انعقاد کیا، جس میں ملک کے بڑے بڑے دانش وروں نے عرب بالخصوص فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے خلاف اپنے احتجاج درج کرائے۔ مقررین کے اظہار خیال کے علاوہ ایک قرارداد بھی منظور کی گئی، جس کے پیرا نمبر(۵) میں درج ذیل مطالبہ کیا گیا:

’’۵۔ یہ کا نفرنس ساری دنیا کے آزادی پسندعوام اور بالخصوص ہندستانی عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ صیہونی فسطائیت اور امر یکی سامراج کو شکست دینے کے لیے اپنی جدو جہد تیز تر کردیں۔ساری دنیا کی رائے عامہ، اپنا پورا زوراس کے لیے صرف کر ے کہ نہ صرف اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہی ہو؛ بلکہ فلسطینی عربوں کے ساتھ انصاف ہو، صرف یہی شکل ہے ،جس کے ذریعے مغربی ایشیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

۶۔یہ کنونشن حکومت ہند سے یہ پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ’’ تنظیم برائے آزادیِ فلسطین‘‘ کو عوام کا جائزہ نمائندہ تسلیم کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ہندستان میں اسرائیلی قونصل خانہ کو بند کیا جائے۔‘‘

 (روزنامہ الجمعیۃ 27؍ نومبر1973ء)

کنونشن کی ضروری کارروائی’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں درج کی جاچکی ہے۔

صدر مصرکی تقریب استقبالیہ میںفلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت

24؍ فروری 1974ء کو جب مصر کے صدر جناب انور السادات نے سر زمین ہندستان پر پہلی بار بحیثیت صدر مصر قدم رکھا، تو ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے جمعیت علمائے ہند کے ایک نمائندہ وفد نے ان کا انتہائی پرتپاک شان دار اور پر جوش خیر مقدم کیا اور انھیں یقین دلایا کہ ہندستان کے عوام عرب کاز کی اور فلسطین کے عوام کے حقوق کی حمایت کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اپنی یہ حمایت جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر انھیں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا، جس کا متن درج ذیل ہے:

’’ ہمارے لیے یہ لمحہ بڑا مبارک ہے کہ ہم آپ کا خیر مقدم و استقبال کرنے کے لیے یہاں جمع ہیں۔ ہمارے لیے یہ انتہائی مسرت اور خوشی کا موقعہ ہے۔ ہم جمعیت علمائے ہند کی طرف سے اور ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ آپ کی اولو العزم اور جرأت مندانہ قیادت نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ دوشمن کو ہز یمت دے سکتے ہیں۔ اس مجاہدانہ کارنامہ کے طفیل میں ہمیں آج آپ کے خیر مقدم کا یہ موقع نصیب ہوا ہے۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ آپ کی راہ میں حائل تمام روکا وٹیں اور دشواریاں دور ہوں گی اور بالآ خرآپ کو قطعی طور پر فتح حاصل ہوگی۔

ہندستان اور مصر کے درمیان تعلقات بڑے قدیم، گہرے اور مضبوط ہیں ۔ان کی بنیاد وہ عقیدہ ہے کہ جس پر آپ اور ہم مشترکہ طور پر یقین رکھتے ہیں، اور وہ ہے آزادی کی راہ میں جدو جہد۔ ہم آپ کو مکمل طور پر یقین دلاتے ہیں کہ ہم اور پورے ہندستان کی قوم آپ کے ساتھ ہے اور رہے گی۔ ہم آپ کو اپنا ایک دوست تصور کرتے ہیں ۔اس موقع پر ہم آپ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہندستان کے مسلمان ہمیشہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رہے ہیں ؛بالخصوص انھوں نے فلسطین کے عوام کا ساتھ دیا ہے۔ ہماری پالیسی آپ کی حمایت کرتی رہی ہے اور یہ آج بھی ہے۔ ایک بار پھر ہم آپ کا گرم جوشی سے خیر مقدم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کی پوری پوری مدد کرے۔

(حضرت مولانا) سید اسعد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 26؍ فروری 1974ء)

20،21؍ اپریل 1974ء کو منعقد مجلس عاملہ نے مغربی ایشیا میں اسرائیلیوں کے جارحانہ طرز عمل پر بحث و گفتگو کی اورایک تجویز کے پیرا نمبر(۲) میں فلسطینیوں کے بارے میں درج ذیل مطالبہ کیا گیا:

’’ فلسطینی عربوں کے مسئلہ کا ایسا منصفانہ اور اطمینان بخش حل نکالا جائے، جو ان کی پسند اور مرضی کے مطابق ہو۔‘‘

اسی طرح تنظیم آزادی فلسطین کو تسلیم کرنے کے مطالبے پر مشتمل ایک تجویز منظور کی، جس کا متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ اس بات پر اظہار مسرت کرتی ہے کہ اردن کے شاہ حسینؒ نے ’’تنظیم آزادیِ فلسطین‘‘ کو صدر انور الساداتؒ کے ساتھ اسکندریہ کی بات چیت میں فلسطینی عوام کی واحد نمائندہ تنظیم اور جینوا مذاکرات میں آئندہ اس کی شرکت اور فلسطینی عوام کے حقوق اور نقطہ ٔ نظر کی ترجمانی کا حق تسلیم کرلیا ہے، ان حالات میں تنظیم آزادی فلسطین کی مدد اور پشت پناہی ان تمام اقوام و ممالک کا فرض ہوجاتا ہے، جو فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت میں آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ اپنے نومبر1973ء کے اجلاس میں اور اس کے بعد ’’عرب حمایت کنونشن‘‘ اور ملک کی دوسری متعدد تنظیموں کی جانب سے حکومت ہند سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ’’ تنظیم آزادیِ فلسطین‘‘ کو سرکاری طور پر تسلیم کرلے۔ 

علاوہ ازیں حکومت ہند الجزائر کے ناوابستہ ملکوں کی قرارداد کی رو سے بھی اس کی پابند ہے، جس کی طرف مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند اپنے نومبر کے اجلاس میں بھی ان کو توجہ دلاچکی ہے۔ حکومت ہند کا چوں کہ یہ موقف رہا ہے کہ فلسطین کے عربوں کو ان کے حقوق ملنے چاہیئیں، اس لیے یہ اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ’’تنظیم آزادیِ فلسطین‘‘ کو سرکاری منظوری دے، جو فلسطینیوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ ‘‘

رابطۂ عالم اسلامی کانفرنس مکہ کی تجاویز

عالم اسلام کے دلوں کا مرکز شہر مکہ معظمہ میں 6؍ اپریل سے 10؍ اپریل1974ء تک رابطۂ عالم اسلامی کانفرنسمنعقد ہوئی۔ 

 کا نفرنس نے مختلف قرار دادیں پاس کیں، ان میں سے اہم قرار داد یہ ہے کہ دنیا کی تمام مسلم تنظیموں، انجمنوں اور جماعتوں میں باہم ربط ہو۔ ان کی کوششوں میں اجتماعیت اور یکسانیت پیدا کی جائے اور دعوت اسلامی کے کام کو خاص ترقی دی جائے۔ اسی طرح کانفرنس نے فلسطین کے مسئلہ پر فلسطینی عربوں کی حمایت کی ہے۔ اور دوسرے معاملات پر بھی قرار دادیں پاس کی ہیں۔

20،21؍ اپریل 1974ء کو منعقد اسی مجلس عاملہ نے اس کانفرنس کی تمام قراردادوں کی تائید کرتے ہوئے درج ذیل فیصلہ کیا:

’’صدر محترم جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ نے - جو ابھی ابھی مکہ معظمہ میں منعقد ’’رابطۂ عالم اسلامی‘‘ کی طرف سے مسلم تنظیموں کی عالمی کانفرنس میں شرکت کے بعد دہلی واپس تشریف لائے ہیں- اس کانفرنس کی پوری روداد مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہندکے اس اجلاس میں بیان فرمائی۔ساتھ ہی کانفرنس کی تمام قرار دادیں بھی اس اجلاس میں پڑھی گئیں۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے مذکورہ کانفرنس کی قراردادوں پر باہمی تبادلۂ خیال کے بعد یہ طے کیا کہ فی الوقت ان قرار دادوں پر اظہار رائے مناسب نہیں ہے، آئندہ حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

(روزنامہ الجمعیۃ،18؍ اپریل 1974ء)

سفیر مصر کو دیے گئے سپاس نامہ میں فلسطین کی حمایت 

26؍ اگست1974ء کو جمعیت علمائے ہند کی جانب سے سفیر مصر ہز ایکسی لینسی جناب زکریا العدلی امام کو ایک عصرانہ دیا گیا،جس میں ایک سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ اس میں فلسطین مسئلے پر عربوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ سپاس نامہ کا متن درج ذیل ہے:

’’ہمارے لیے انتہائی مسرت اور خوشی کا مقام ہے کہ ہم جمعیت علمائے ہند کی جانب سے آپ کا استقبال ایک ایسے دوست ملک کے سفیر کی حیثیت سے کر رہے ہیں، جس سے ہمارے انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں۔

سفیر محترم! ہندستان اور عرب ممالک کے تعلقات دور حاضر کی پیداوارنہیں؛بلکہ یہ تعلقات بہت قدیم ہیں، ان کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہوگئی ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔ ہمارے اور عرب ممالک کے در میان جو رشتے ہیں، وہ اصولی اور ہم آہنگی کی بنیادوں پر قائم ہیں۔ یہ تعلقات اس وقت سے ہیں، جب کہ ہم اور آپ دونوں سامراج کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔

جمعیت علمائے ہند کی روایت رہی ہے کہ وہ اپنے عرب بھائیوں سے ان تعلقات کو وقتاً فوقتاً مختلف موقعوں پر زندہ کرتی رہی ہے، اور یہ اس لیے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ان تعلقات کی بقا اور استواری ہمارے ملک او رعرب ممالک دونوں کے لیے باہمی طور پر مفید ہے۔

اگر آج ہم عرب جمہوریۂ مصر کے سفیر محترم کا استقبال کر رہے ہیں، تو یہ جہاں ایک طرف ان کا شخصی اعزاز ہے، وہیں ساتھ میں مصر کا بہ حیثیت ایک دوست ملک کے، نیز تمام عرب ممالک کا بہ حیثیت ایک عالمی قوت کے بھی اعزاز ہے۔

سفیر محترم! ہمارے دل محبت اور خلوص کے جذبات سے لبریز ہیں۔ ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں، جن سے ہم آپ کو خوش آمدید کہہ سکیں۔ 

اس موقعہ پر غیر مناسب نہ ہوگا کہ میں جمعیت علمائے ہند کی تاریخ اور اس کی سرگرمیوں کا مختصر طور پر ذکر کروں۔

عزت مآب! مسلمانوں کی یہ واحد نمائندہ جماعت پچپن سال سے مسلمانان ہند کی خدمت میں مصروف ہے۔ یہ جماعت آزادی سے قبل برطانوی سامراج سے بر سرپیکار تھی اور آزادی کے بعد یہ مسلمانوں کی دینی، سماجی، ملی، اقتصادی اور تعلیمی خدمات میں مصروف ہے؛ لیکن اس کا دائرۂ عمل صرف ہندستان تک ہی محدود نہیں، بلکہ یہ اسلامی ممالک میں ہونے والے واقعات سے بھی پوری طرح باخبر رہتی ہے اور اس میدان میں ہمارے ایسے کارہائے نمایاں ہیں کہ ان کے ذکر کی ضرورت نہیں۔

یہ جماعت ہمیشہ سے یہ سمجھتی رہی کہ ہندستان سے برطانوی سامراج کا خاتمہ عالم اسلام کی آزادی کے لیے ضروری ہے۔ ہم نے اس موقعہ پر جب کبھی ہمارے عرب بھائی کسی پریشانی میں مبتلا ہوئے، پوری طرح نہ صرف یہ کہ صدائے احتجاج بلند کی؛ بلکہ ہر طرح کی عملی امداد بھی بہم پہنچائی۔

ہم نے مسئلۂ فلسطین پر ہمیشہ عرب موقف کی حمایت کی ہے۔ ہم فلسطین کے مسئلہ کو اپنا اور تمام مسلمانوں کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اور آئندہ بھی ہماری یہی پالیسی رہے گی۔

 آخر میں ہماری دعا ہے کہ خدا وند تعالیٰ ان تعلقات کو مزید مستحکم کرے۔ اور آپ کو صحت وعافیت اور آپ کے ملک کو ترقی و خوش حالی سے نوازے۔ آئین۔

(روزنامہ الجمعیۃ،26؍ اگست 1974ء)

رباط کانفرنس کے فیصلے پراظہار مسرت اور فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

 مراکش کے دارالحکومت رباط میں عرب لیگ کی ساتویں سربراہی کانفرنس (Seventh Arab League Summit) منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس 26 سے 29؍اکتوبر 1974ء تک جاری رہی (بعض ذرائع کے مطابق 25 سے 28؍اکتوبر تک بھی بتایا جاتا ہے)۔

اس کانفرنس میں20؍عرب ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔ سب سے اہم فیصلہ 28؍ اکتوبر 1974 کو کیا گیا، جس میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو فلسطینی عوام کا واحد اور قانونی نمائندہ (sole legitimate representative of the Palestinian people) تسلیم کر لیا گیا۔ کانفرنس نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور واپسی کے حقوق کی بھی تصدیق کی۔اس فیصلہ نے یاسر عرفات کی قیادت میں PLO کی بین الاقوامی حیثیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کانفرنس کے بعد 9،10؍ نومبر1974ء کو مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر(۲) میں جہاں ایک طرف ’’رباط کانفرنس‘‘ کے اس فیصلے پر مسرت کا اظہار کیا، تو وہیں دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم کے جنگ جویانہ بیانات کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ تجویز درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مجلس اقوام متحدہ اور عرب سربراہوں کی ’’رباط کانفرنس‘‘ کے اس فیصلے پر اظہار مسرت و اطمینان کرتا ہے، جس کی رو سے’’ تنظیم آزادی ِفلسطین‘‘( پی ایل او) کو فلسطینیوں کا واحد نمائندہ تسلیم کیا گیا ہے۔ مجلس عاملہ عرب سربراہوں کو خصوصیت سے مبارک باددیتی ہے کہ انھوں نے رباط میں عرب اتحاد کا مظاہرہ کیا اور تمام معاملات کا اتحاد رائے سے فیصلہ کیا۔ مجلس عاملہ کو یہ امید ہے کہ ان کا یہ اتحاد (ان شاء اللہ) عرب علاقوں، بشمول بیت المقدس کی جلد بازیابی اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی اور ایک آزاد مملکت فلسطین کے قیام میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔

 مجلس عاملہ اسرائیل کے وزیراعظم کے ضدی رویہ، ہٹ دھرمی اوران جنگ جویانہ بیانات کی مذمت کرتی ہے ،جن میں فلسطینیوں سے بات چیت سے انکار کر کے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے زبردست خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس لیے مجلس عاملہ مجلس اقوام متحدہ اور ان دو بڑی طاقتوں سے اپیل کرتی ہے، جنھوں نے جنگ اکتوبرمیں بیچ بچاؤ اور جنگ بندی کرائی تھی، کہ وہ مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا سلامتی کونسل کے1967ء کی قرارداد242 کے مطابق جلد از جلد تصفیہ کرانے کی سعی کریں؛ ورنہ مو جو دہ دھماکہ خیز صورت حال نہ صرف مشرق وسطیٰ؛ بلکہ عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

 مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اسرائیل کی خطرناک حد تک مسلح ہونے کی کوششوں کو امن کے منافی اور تشویش ناک محسوس کرتا ہے۔ اور ان طاقتوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جو اسرائیل کو انتہائی مہلک اور خطرناک ہتھیاروں سے لیس کر کے مشرق وسطیٰ کے امن وامان کو خطرہ میں ڈال رہی ہیں۔

 مجلس عاملہ تمام دنیا کے انسانیت اور انصاف پسند انسانوں سے درمندانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کومسلح کرنے والی طاقتوں پر زور ڈالیں، تاکہ مشرق وسطیٰ کا مسئلہ جنگ سے حل نہ ہو کرانجمن متحدہ اقوام کی تجویزاور انسانی جذبات اور حریت پسندی کے اصول کے مطابق طے ہو۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

تنظیم آزادی فلسطین کو تسلیم کرنے پر حکومت ہند کا شکریہ

ہندستان نے رباط کانفرنس کے فوراً بعد 1974 میں ہی PLO کو فلسطینی عوام کا واحد اور قانونی نمائندہ تسلیم کر لیا۔ اس طرح ہندستان پہلا غیر عرب ملک بنا جس نے PLO کی اس حیثیت کو تسلیم کیا۔ اس تسلیم کے نتیجے میں 1975 میں نئی دہلی میں PLO کا ایک معلوماتی دفتر قائم کیا گیا۔ بعد میں مارچ 1980 میں PLO کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

مجلس عاملہ منعقدہ: 9،10؍ نومبر1974ء نے حکومت ہند کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ پر مبنی درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت ہند کے اس فیصلہ کا خیر مقدم اور اس بات پرمسرت اور اطمینان کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے’’ تنظیم آزادیِ فلسطین‘‘ (پی ایل او) کوفلسطین کا واحد نمائندہ تسلیم کرتے ہوئے ہندستان میں اس کے دفتر کھولنے کی اجازت دی۔مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کاتأثر یہ ہے کہ حکومت ہند کایہ مستحسن اقدام ملک کی ان روایات کے عین مطابق ہے کہ ہندستان نے ہمیشہ حریت پسند اقوام کی حمایت اور تائید کی ہے اوران کے مسائل سے دل چسپی لی ہے۔

مجلس عاملہ اس موقعہ پر حکومت ہند سے یہ بھی درخواست کرتی ہے کہ وہ ممبئی میں اسرائیلی قونصل خانہ کو بند کر دے، تاکہ ہندستان اور عرب ممالک کے درمیان اتحاد و دوستی کے خلاف ریشہ دوانیوں کا دروازہ بند ہو سکے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

11؍ مئی کو ملک بھر میں یوم فلسطین منانے کا اعلان

10؍ مئی 1975ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے ایک اخباری بیان کے ذریعہ 11؍ مئی 1975ء کو پورے ملک میں یوم فلسطین منانے  اور فلسطین کے حق میں تجویز پاس کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر ممبئی کے اسرائیل قونصل خانہ کو احتجاجی برقیہ روانہ کیا۔  (روزنامہ الجمعیۃ،11؍مئی 1975ء)

مشیرمتحدہ عرب امارات کی تقریب استقبالیہ میں فلسطین کی حمایت

24؍ نومبر1975ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام کانسٹی ٹیوشن کلب میں متحدہ عرب امارات کے ثقافتی مشیر شیخ عز الدین ابراہیم کے اعزاز میں ایک استقبالیہ پروگرام منعقد کیا گیا، جس میںایک سپاس نامہ پیش کیا گیا۔سپاس نامہ کے ایک پیرا گراف میں کہا گیا کہ:

’’ جمعیت علمائے ہند- جو آپ کا خیر مقدم مسلمانان ہند کی جانب سے کر رہی ہے- ان کی سب سے بڑی اور قدیم جماعت ہے، اس نے برطانوی استعمار کا مقابلہ کیا ہے۔ اس کی تاریخ اسلامی ثقافت کے تحفظ کی تاریخ ہے۔ اس نے یورپی افکار کے غلبہ کو روکا ہے اور ہندستان کی آزادی کی تحریک میں زبر دست حصہ لیا ہے۔ جمعیت علمانے ہندستان میں علوم اسلامی و عربی کی ترقی اور فروغ کے لیے جدوجہد کی ہے۔ عرب مسائل میں اور عربوں کومکمل تائید اور مسئلۂ فلسطین پر فلسطینیوں کی مکمل حمایت اس کا قدیم موقف ہے، جس پر وہ اس وقت بھی قائم ہے۔ ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہماری دعوت قبول کی اور اس کے اجتماع میں شرکت فرمانا قبول کیا۔ آخر میں ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آپ کے اس دورہ  سے دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتوں کے تعلقات کو اورامت مسلمہ کے باہمی اتحاد کو تقویت حاصل ہوگی۔

(روزنامہ الجمعیۃ،26؍ نومبر1975ء)

اجلاس منتظمہ میں پی ایل او کے ڈائرکٹر مسٹر فیصل عویضہ کی تقریر

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اجلاس، 15،16؍ مئی 1976ء کو منعقد ہوا، جس میں پی ایل او کے ڈائرکٹر مسٹر فیصل عویضہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

’’ میں بڑا خوش نصیب ہوں کہ اس اجتماع میں نمائندہ فلسطین کی حیثیت سے شرکت کررہا ہوں۔ اب سے اٹھائیس سال پہلے جب انگریزوں نے یہودیوں کو فلسطینیوں پر مسلط کیا تھا، اس وقت سے وہ بے وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جب ہم پر امن طریقوں سے نا امید ہو گئے، تو ہم نے آزادی کی جنگ شروع کر دی۔ یہ جنگ ہم آج بھی لڑ رہے ہیں۔ ہم نے اس وقت سے اب تک شہیدوں کی ایک بڑی تعداد جنگ آزادی کی بھینٹ چڑھا دی ہے۔ ہم آزادی کی جد وجہد مختلف محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ ہمارے بھائی لبنان میں بھی ایسی ہی جنگ لڑرہے ہیں۔ اس کا وہ مقصد نہیں، جو عام طور سے سمجھا جارہا ہے۔ لبنان کی لڑائی ہر گز فرقہ وارانہ بنیادوں پر جاری نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جدو جہد سے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک ایسی جمہوری حکومت فلسطین میں قائم کریں کہ جہاں سب قوتیںمل کر سکون کی سانس لے سکیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سرزمین ہند میں بھی ایک گروہ کے خلاف جنگ لڑ کر کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ ہندستان میں آپ حضرات کی مسلسل تائید اور مدد کے پیش نظر ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم دنیا میں تنہا نہیں ہیں۔ ہم اپنی سرز مین کو آزاد کرا کے ہی دم لیں گے۔‘‘

فلسطین کو سیکولر جمہوری اسٹیٹ بنانے کا مطالبہ

اسی اجلاس منتظمہ میں اپنی تجویز نمبر(۱۰) میں فلسطین کو سیکولر جمہوری اسٹیٹ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’ مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اس بات پر اپنی زبر دست تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ1973ء کی جنگ بندی کو تین برس گزر چکے ہیں؛ مگر اسرائیل سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر242 کے مطابق مغربی ایشیا کا مسئلہ حل کرنے اور وہاں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنا ہو اہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ دو بڑی طاقتیں -جنھوں نے بیچ بچاؤکر کے جنگ بندی کرائی تھی- اب مسئلہ کامستقل حل تلاش کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کر رہی ہیں۔

 مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس مجلس اقوام متحدہ اور روس وامریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسئلہ کے مستقل حل کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈال کرجلدازجلد ’’جینوا کانفرنس‘‘ بلائیں اور اس میں فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم ’’پی ایل او‘‘کوایک مستقل آزاد اور برا بر کے شریک کی حیثیت سے شریک کیا جائے اورفلسطین کو سیکولر جمہوری اسٹیٹ کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں، جس میں مسلمان اور عیسائی اور یہودی؛ تینوں قومیں مساوی حقوق کے ساتھ بیرونی مداخلتوں سے آزاد ہو کر ایک دوسرے کے جذبات ومعتقدات کا خیال رکھتے ہوئے ایک آزاد اور متحد قوم کی حیثیت میں زندہ رہ سکیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

قیام فلسطین کے لیے جینوا کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل 

5،6؍ فروری 1977ء کو مجلس عاملہ کا دو روزہ اجلاس ہوا، جس میں اسرائیل سے فلسطین کے مقبوضہ علاقے کو واپس کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جینوا کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل کی گئی۔ چنانچہ تجویز (۱) کے متعلقہ حصے میں کہا گیاکہ:

’’مجلس عاملہ کو اس بات پر بے حد تشویش ہے کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی بدولت نہ تو اب تک مقبوضہ عرب علاقے خالی ہوسکے ہیں، نہ اپنے حقوق سے محروم اور بے گھر لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق مل سکے ہیں۔ 

مجلس عاملہ مسلمانان ہند کی طرف سے زبردست تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے نئے صدر جمی کارٹر پر اس بات کے لیے زور دیتی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر اسرائیل کو مجبور کریں کہ وہ مقبوضہ عرب علاقہ خالی کردے اور فلسطینیوں کی ایک آزاد مملکت:’’ فلسطین‘‘ کے قیام کا حق تسلیم کرے اور اس خطہ میں پائیدار امن اور جملہ مسائل کے تصفیہ کے لیے ’’جینوا کانفرنس‘‘ کے انعقاد پر تیار ہوجائے، جس میں ’’پی ایل او‘‘ ایک خود مختار رکن کی حیثیت میں شامل ہو۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

 مسلمانان ہند فلسطینیوں کی پشت پر

جمعیت علماکے زیر اہتمام3،4؍ اکتوبر1977ء کو آل انڈیاملی کنونشن کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس کنونشن کی تجویز نمبر(۱۲)منظور کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مسلمانان ہند فلسطینیوں کی پشت پر قائم ہے۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

’’ہندستانی عوام اور ہندستانی مسلمان شروع ہی سے مظلوم فلسطینی عوام کے کاز کے حامی رہے ہیں۔ فلسطین سے ان کی بے دخلی جہاں اس صدی کا سب سے بڑا المیہ ہے، وہیں اسرائیلی ریاست کی تشکیل اس صدی میں ہونے والی چند بین الاقوامی سازشوںمیں سے ایک ساز ش ہے۔

لیکن جیسا کہ دنیا میں ہمیشہ سے ہوتا چلاآیا ہے، کچلنے اور پسے جانے کے بعد جب مظلوم ابھرتے ہیں، تو بحران کے اقدامات کی یورش کوروکنا آسان نہیں رہتا۔ فلسطین کی نئی نسل اب ایک تازہ توانائی کے ساتھ اپنی کھوئی ہوئی آزادی اور عظمت حاصل کرنے کا پورا عزم رکھتے ہیں۔ اور اس کی ان قربانیوںکی وجہ سے دنیا کی وہ تمام قوتیں بھی- جنھوں نے اس سر زمین سے فلسطینیوںکو بے دخل کرنے کی سازش کی تھی- اب فلسطین کی آزادی کا احترام  کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، تاہم ابھی آزادی کی منزل دور ہے۔ دنیا بھر کے عوام لڑائی نہیں چاہتے؛ بلکہ وہ ہر جھگڑے کا پرامن حل چاہتے ہیںاور عالمی رائے عامہ کا یہی دباؤ انھیں جینوا کانفرنس کی ضرورت پر زور دینے کے لیے آمادہ کر رہا ہے؛ لیکن اس میں اس مسئلہ کے اصل فریق اور اصل مدعی فلسطینی عوام کے نمائندوں: پی ایل اوکو شریک نہ ہونے دینا ایک ایسی شرم ناک سازش ہے، جو اب بھی اسرائیل اور اس کی حامی طاقتوں کی طرف سے کھلے عام کی جارہی ہے۔

مسلمانان ہند اپنے اس ملی کنونشن کے ذریعہ کروڑوں انسانوں کی طرف سے فلسطین کے مسئلہ کے فوری اور منصفانہ حل پر بھر پور زور دیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیںکہ فلسطینیوں کو ان کا وطن واپس ملے۔ اور وہ اپنے وطن میں اپنی مرضی کی حکومت بنائیں۔ ہم دنیا بھر کی تمام قوموں سے پر زور الفاظ میں کہتے ہیں کہ اسرائیل نے جن عرب مقبوضہ بستیوں کو زبردستی اپنی نوآ بادی بنانا شر و ع کر دیا ہے، وہاں اس ظالمانہکار روائی کو فوراً روکا جائے اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین میں اپنی آزاد حکومت بنانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ور نہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر پر امن مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے کے موجودہ مواقع کھودیے گئے، تو نہ صرف مغربی ایشیا؛ بلکہ پوری دنیا کو ایک انتہائی خطر ناک حالات سے دو چار ہونا پڑے گا۔

یہ کنونشن مسجد اقصیٰ اور مسلمانوں کے دیگر مقدس مقامات اور علاقہ جات کی جلد از جلد بازیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں دعا کرتا ہے اور اپنے عرب بھائیوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتا ہے۔

یہ کنونشن ایسی تمام ناپاک سازشوں اور طاقتوں کی -خواہ ان کا تعلق مشرق سے ہو، یا مغرب سے، شمال سے ہو یا جنوب سے- پر زور مذمت کرتا ہے، اور ان کو باور کرانا چاہتا ہے کہ آج انسان نے مجبوری اور کمزوری کی تمام زنجیروں کو توڑ دیا ہے۔ فلسطینیوں کی بے وطنی، شدائد و مصائب اور غربت و صحرانوردی کا دور بھی ختم ہونے والا ہے۔ قابل مبارک باد ہوں گی دنیا کی وہ قومیں،جو اس سلسلہ میں فلسطینیوں کی امداد و اعانت کریں گی۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تجاویز، جلد سوم، ص؍

مصراور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کی مخالفت

26؍مارچ 1979ء کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے مقام پر مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے تاریخی معاہدے کو ’’مصر-اسرائیل امن معاہدہ‘‘ (Egypt-Israel Peace Treaty) کہا جاتا ہے۔

27؍مارچ 1979ء کو مولانا سید احمد ہاشمی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا معاہدہ جس میں فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کردیا جائے اور انھیں ایک آزاد مملکت بنانے کا حق نہ ملتے، اور سرزمین قدس مسلمانوں کو واپس نہ ہو؛ ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اس سے نہ صرف مغربی ایشیا میں قیام امن ممکن نہ ہوگا؛ بلکہ صورت حال اور دھماکہ خیز ہوجائے گی۔ اگر یہ معاہدہ ایسا ہی ہے، تو ہندستانی مسلمانوں ہی کو نہیں؛ دنیا کے مسلمانوں؛ بلکہ تمام جمہوریت اور انصاف پسندوں کو قبول نہ ہوگا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 27 ؍ مارچ 1979ء)

 جناب یاسر عرفات صاحب کا پرجوش استقبال

جمعیت علمائے ہند نے 28؍ مارچ 1980ء کو کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی میں تنظیم آزادی فلسطین کے سربراہ جناب یاسر عرفات کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ چنانچہ اس تقریب استقبالیہ کی رپورٹ درج ذیل ہے:

’’گورنمنٹ آف انڈیا نے یاسر عرفات کے سفر دلی کا جس خفیہ طریقہ سے اورجس خوش اسلوبی سے اہتمام کیا، اس نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ جس وقت تک ایک دن قبل سرکاری طور پر یہ اعلان نہیں ہو گیا کہ یا سر عرفات 28؍ مارچ(1980ء) کو نئی دلی پہنچ رہے ہیں، کسی کو یہ وہم وگمان بھی نہ تھا کہ یاسر عرفات ہندستان کی اس عظیم اور قدیم راجدھانی کو رونق بخشیںگے۔ اس لیے جب انھیں ہم لوگوں نے اپنے درمیان پایا اور ہمارے کانوں نے ان کا یہ ولولہ انگیز پیغام سنا کہ ہمیں ارض مقدس کو امپیر لیٹ صہیونی اور استعماری نجاست سے پاک کرنا ہے۔ اور ان شاء اللہ اس میں ہمیں کا میابی ہوگی، تو ہمیں اپنی آنکھوں اور کانوں پر دھو کہ ہو رہا تھا۔ یا سر عرفات اپنی صحت، اپنی شکیل و جمیل چہرہ و دل کش خدو خال کے باعث اپنی عمر سے بہت چھوٹے نظر آرہے تھے۔ اپنے ہلکے کریم کلر کے فوجی کوٹ میں ملبوس ، سرپرسفید اور سیاہ ڈوری سے بندھا کو فیہ پہنے جب وہ کانسٹی ٹیوشن کلب کے ہال میں داخل ہوئے، تو ہال نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھا۔

ڈائس پر آنے کے بعد سب سے پہلے مولانا نے انھیں ایک بہت بڑا پھولوں کا ہار پہنایا ،جس میں نو ہزار روپے کے سو سو روپے کے نوٹ ٹکے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایک گل دستہ پیش کیا۔ پھر مولوی فصیح الدین صاحب نے جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم مولانا سید اسعد مدنی کی جانب سے عربی میں سپاس نامہ پیش کیا۔

سپاس نامہ

آج ہمارے لیے انتہائی مسرت اور خوشی کا مقام ہے کہ ہم اپنے ملک میں اس مجاہد و جاںباز سپاہی کا استقبال کر رہے ہیں،جو اپنے وطن اور قوم کی عزت و شرافت کے لیے سرگرم جد و جہد ہے۔ ہم جمعیت علمائے ہند اور مسلمانان ہند کی جانب سے ان تمام شہیدوں کو سلام کرتے ہیں، جنھوں نے آزادی کی راہ میں قربانیاں دیں۔

 ابو عمار! جمعیت علمائے ہند- جو آج آپ کا استقبال کر رہی ہے- وہ بھی مجاہدین اور جاںبازوں کی جماعت ہے، جس نے برطانوی راج سے لڑائی لڑی اور نہ صرف ہند؛ بلکہ دنیائے اسلام کے دوسرے علاقوں سے بھی سامراج کے خاتمہ کے لیے جہاد آزادی کا جھنڈا بلند کیا۔

ہمارا تعلق مسئلۂ فلسطین سے آج کا نہیں؛ بلکہ اس وقت سے ہے، جب کہ ہندستان میں اس مسئلہ سے کوئی واقف تک نہ تھا۔ ہم نے بلا خوف و خطر برطانوی سامراج کی فلسطین پالیسی کی پرزور مذمت کی۔ ہم بجا طور پر پورے فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مسئلۂ فلسطین کے سلسلہ میں قاہرہ میں سب سے پہلی جو کا نفرنس 1938ء میں منعقد ہوئی تھی، اس میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مفتی اعظم مولانا مفتی محمد کفایت اللہ نے شرکت کی تھی۔ اس وقت سے ہم برابر آج تک ہر موقع پر اس مسئلہ میں بلا دریغ پوری قوت سے اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ نہ صرف یہ؛ بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک مسئلۂ فلسطین ایک قومی مسئلہ ہے۔ ایک انقلاب کا مسئلہ ہے۔ ایک قوم کے مستقبل کے فیصلہ کا مسئلہ ہے۔ ایک آزاد جمہوری حکومت اور اسٹیٹ کے قیام کا مسئلہ ہے۔ اس میں کسی قسم کی گنجائش نہیں۔ ہرگز یہ ممکن نہیں کہ ناپاک صہیونی وجود کو تسلیم کیا جائے۔

برادر محترم! ہتھیارا ٹھانا اور میدان کارزار میں نبرد آزما ہونا کوئی خون خرابہ یا قتل   غارت گری نہیں؛ بلکہ ایک بنیادی فرض ہے، جس کا مقصد سماج کو ظلم و ستم اور تشدد سے پاک کرنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان معرکۂ آزادی کے لیے آگے بڑھیں اور ان کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں، ان سے کسی بھی طرح غافل نہ ہوں۔ آپ کی قیادت وسرکردگی میں’’ تنظیم آزادی فلسطین‘‘ نے دنیا کی اکثریت سے اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ اور آج وہ عزت و آبرو اور احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ آپ کی ہندستان میں آمد اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ ہندستان کی حکومت یہاں کے عوام اور لیڈر شپ فلسطین کے کاز کو کتنا عزیز رکھتے ہیں۔ حکومت ہند کا حالیہ فیصلہ جہاں ایک طرف اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ وہ حق وانصاف کے ساتھ ہے ،وہیں یہ آپ کی بھی زبردست کامیابی ہے۔ اورانقلاب فلسطین مسلسل کامیابی کی راہ پر گامزن رہے گا،ان شاء اللہ۔

و نصر من اللہ و فتح قریب

 سپاس نامہ کے بعد پاکستان فوجی اتحاد کے صدر حضرت مولانا محمود صاحب نے حضرت مولانا اسعد مدنی کی درخواست پر عربی میں ایک مختصر؛ مگر جامع تقریر کی، جس میں پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے فلسطینیوں کو مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا تھا۔

 جناب یاسر عرفات کا جواب

ان کے بعد یاسر عرفات نے سپاس نامہ کے جواب میں نہایت ولولہ انگیز تقریر کی۔   مسٹر یا سر عرفات نے تقریر شروع کرتے ہوئے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت میرے جذبات امنڈر ہے ہیں۔اور میرے ذہن میں بڑی پرانی یادیں تازہ ہو رہی ہیں، ابھر کر آرہی ہیں، ہمارے آپ کے درمیان جو تعلق ہے اور جو رشتہ ہے، وہ بڑا گہرا اور مضبوط ہے۔ یہ رشتہ اسلام و قرآن اورتہذیبی، ثقافتی اور انسانی قدروں کا مشترکہ اور اٹوٹ رشتہ ہے۔ آپ کی جماعت مجاہدین کی جماعت ہے۔ ان مجاہدین کی، جنھوں نے سامراج سے نبرد آزمائی کی ہے۔ہم بھی سامراج سے پنجہ آزمائی میں مصروف ہیں۔ آپ کا دشمن اور ہمارا دشمن ایک ہے۔ جس طرح آپ کو کامیابی حاصل ہوئی ہے، ان شاء اللہ ہمیں بھی فتح حاصل ہوگی۔ نصر من اللہ وفتح قریب۔

 آج صبح جب میری صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی، تو انھوں نے کہا کہ آپ کو صرف رسمی اور سرکاری دعوت نہیں دی گئی؛ بلکہ ہندستانی عوام نے آپ کو بلایا ہے۔ آپ سب حضرات کو یہاں دیکھ کر اور جس طرح آپ نے میرا استقبال کیا، اس سے یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ ہندستانی عوام کو فلسطینی عوام اور فلسطینی کاز سے کس قدر دل چسپی ہے۔ ہندستان کے عوام اور یہاں کی حکومت نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے، جس کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔ ہم جو لڑائی لڑ رہے ہیں اور جو جدو جہد کر رہے ہیں، وہ صرف اپنے لیے نہیں ہے اور ہماری لڑائی صرف اسرائیل سے نہیں؛ بلکہ امریکہ اور سامراجی طاقتوں اور ان کے جدیدترین اسلحہ سے ہے، جیسے لیزر بم،جو ہمارے خلاف استعمال ہورہے ہیں ۔(شرم شرم کی آوازیں) اگر ہم صرف اپنے لیے لڑتے، تو اتنی جد و جہد نہ کرنی پڑتی۔ ہم پورے مشرق وسطیٰ اور مظلوم عوام کے لیے لڑرہے ہیں۔ ہم حق و انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں۔ آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں اور ساری دنیا کے لیے لڑرہے ہیں۔ امریکہ کے ساتویں اور پانچویں بحری بیڑوں کا بحرہند میں اس وقت موجود ہونا محض اتفاقی بات نہیں، اس سے سامراجی عزائم بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ ہماری لڑائی سامراج، صہیونیت اور نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ ہم فلسطین میں صرف اپنا ہی دفاع نہیں کر رہے ہیں، بلکہ انسانیت کا دفاع کر رہے ہیں، ہم شرافت، تہذیب اور اخلاقی قدروں کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہماری لڑائی مقامی یا ملکی نہیں؛ بلکہ انسانیت کی لڑائی ہے۔ ہم اس پورے علاقے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہم ان قدروں کے لیے لڑرہے ہیں، جن کے سائے میں ہماری تربیت اور نشو و نما ہوئی۔ خدا نے چاہا، تو ہم بیت المقدس کو آزاد کرا کے رہیں گے۔ ہم بیت المقدس کو امپریلیٹ اور استعماری نجاست سے پاک کریں گے۔ ہم فلسطینی چالیس لاکھ ہیں؛ لیکن ہم تنہا نہیں؛بلکہ آپ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ اور آپ کی حمایت و مدد ہماری کامیابی کی ضامن ہے۔

آخر میں یا سر عرفات نے بہت زور دے کر کہا :ہم کوئی مذہبی لڑائی نہیں لڑرہے ہیں، ہم ایک ایسی دنیا کے لیے لڑرہے ہیں، جس میں انسان عزت سے سر اونچا کر کے رہ سکے، جس میں اس کے حقوق غصب نہ ہو سکیں، اس کی آزادی محفوظ رہے۔ خدا نے کہا ہے:

 أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَٰتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُواْ وَإِنَّ اللَّہَ عَلَیٰ نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ(الحج:39)

(روزنامہ الجمعیۃ،2؍ اپریل1980ء)

عمومی اجلاس برائے فلسطین

2؍ اپریل1980ء کو دلی کی تاریخی جامع مسجد کے زیر سایہ اردو پارک میں جمعیت علمائے ہند کا ایک عظیم الشان جلسہ ہوا، جس میں دو اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ ایک تنظیم آزادی فلسطین کے سربراہ کو سربراہ مملکت کا درجہ دینے کے سلسلے میں ہے ۔دوسری افغانستان میں روسی جارحیت کی مذمت میں۔

 حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے مسئلۂ فلسطین کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کی وابستگی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ1938 ء میں جب قاہرہ میں سب سے پہلی فلسطین کا نفرنس ہوئی تھی، تو جمعیت علما کے اس وقت کے صدر مفتی اعظم حضرت مولانا کفایت اللہ صاحبؒ نے اس میں شرکت کی۔ اور برطانوی استبداد میں بھی بلاجھجھک فلسطین کے متعلق برطانوی سامراج کی مذمت فرمائی۔

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ  28؍ مارچ 1980ء کو جناب یاسر عرفات صاحب ہندستان کے دورے پر تشریف لائے تھے، تو ایک طرف جہاں جمعیت علمائے ہند نے ایک تقریب استقبالیہ منعقد کرکے ان کا پرجوش خیرمقدم کیا، وہیں جمعیت اسلامی کی طرف سے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس عمومی اجلاس نے ان دونوں کرداروں کے تناظر میں درج ذیل تجویز منظور کی:

یاسر عرفات کے خلاف مظاہرہ کی مذمت

مسئلۂ فلسطین ایک قومی اور انسانی مسئلہ ہے۔ چالیس لاکھ فلسطینی عوام کے مستقبل اور آزاد جمہوری حکومت کے قیام کا مسئلہ ہے۔ مسئلۂ فلسطین سے جمعیت علمائے ہند کا بہت قدیم تعلق ہے۔ 1938 ء میں قاہرہ میں جب سے پہلی’’ فلسطین کا نفرنس‘‘ ہوئی، جمعیت علمائے ہند کے صدر مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے شرکت کی تھی، اور بلاخوف و خطر برطانوی سامراج کی فلسطین پالیسی کی پر زور مذمت کی تھی۔ پورے فخر کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جب کہ ہندستان میں اس مسئلہ سے کوئی واقف بھی نہ تھا، اس وقت سے آج تک برابر ہر موقع پر جمعیت علمائے ہند فلسطینی کاز کی حمایت میں نہ صرف پوری قوت کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتی رہی ہے؛ بلکہ عملی اقدامات بھی کرتی رہی ہے، اور ان شاء اللہ جمعیت علمائے ہند اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھے گی، جب تک کہ ارض مقدس صہیونی اور استعماری نجاست سے پاک نہ ہو جائے،اور فلسطین میں ایک آزاد اسٹیٹ کا قیام عمل میں نہ آجائے۔ 

ابھی چند روز قبل اس صدی کے ایک عظیم فرزند اسلام ابو عمار یاسر عرفات ہماری قومی حکومت کی دعوت پر تشریف لائے تھے،اور جمعیت علمائے ہند نے ہندستانی عوام کی طرف سے ان کا استقبال کیا۔ جناب یاسر عرفات اپنے وطن اور قوم کی عزت اور شرافت اور آزادی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ انسانیت کا دفاع کر رہے ہیں۔ شرافت، تہذیب اور اخلاقی قدروں کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کی لڑائی صرف مقامی ، یا مسلکی نہیں ہے؛ بلکہ انسانیت کی لڑائی ہے۔ وہ ان قدروں کے لیے لڑرہے ہیں، جن کے سائے میں ان کی تربیت اور نشوو نما ہوئی ہے۔ ہندستان میں ان کی تشریف آوری اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ ہندستان کی حکومت یہاں کے عوام اور لیڈرشپ فلسطین کے کاز کوغیر معمولی عزیز رکھتے ہیں۔

 جمعیت علمائے ہندکو مسرت ہے کہ حکومت ہند نے پی ایل او کو مملکت اور جناب یاسر عرفات کو اس کا سر براہ اورہندستان میں مقیم پی ایل اوکے ڈائریکٹر کی ڈپلومیٹک حیثیت تسلیم کر کے اس حقیقت کا پختہ ثبوت فراہم کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے جہاں حق وانصاف کی سربلندی ہوتی ہے، وہیں فلسطینی عوام کوزبردست قوت ملی ہے۔ جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ اس فیصلہ پر حکومت ہند کا شکریہ ادا کرتا ہے ،اورفلسطینی عوام اور جناب یاسر عرفات کو ان کی زبر دست کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔

 جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ جماعت اسلامی کے زیر سایہ’’ اسلامک اسٹوڈنٹ مومنٹ‘‘ کی طرف سے یاسر عرفات کے خلاف پرچہ بازی اور مظاہرہ کی سخت مذمت کرتا ہے، اور افغانستان کی نام نہاد ہمدردی کی آڑ لے کر فلسطینی کاز کونقصان پہنچانے کی اس شرم ناک کردار کو انسانیت اور شرافت کے اخلاقی قدروں اور دین و ایمان کے تقاضوں کے منافی سمجھتا ہے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،3؍ اپریل 1980ء)

یاسر عرفات کے خلاف مظاہرہ کی ملک گیر مذمت

جمعیت علمائے ہند کی اپیل کے مطابق11؍ اپریل1980ء کو  بعد نماز جمعہ مسجد عبد النبی میں ایک جلسہ منعقد ہوا، جس میں مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک مبسوط تقریر فرمائی۔ جلسہ کے اختتام پر ایک تجویز منظور کی گئی، جو حسب ذیل ہے: 

مسئلۂ فلسطین سے جمعیت علمائے ہند کا بہت قدیم تعلق ہے۔برابرہر موقع پر جمعیت علما ئے ہند اور اس کے اکابر نے فلسطینی عوام اور تحریک آزادی فلسطین کی حمایت میں نہ صرف اپنی آواز بلند کرتی رہی ہے؛ بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھاتی رہی ہے۔

آج کے اس جلسہ کو اس بات پر بے حد مسرت ہے کہ ابھی حال میں یاسر عرفات صاحب کو ہماری قومی حکومت نے سربراہ مملکت تنظیم آزادی فلسطین کو مستقل مملکت اور ہندستان میں مقیم پی ایل او کے ڈا ئریکٹر کو ڈپلومیٹک حیثیت دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت ہند اور ہندستانی عوام فلسطین کے کاز کو بے حد عزیز رکھتے ہیں۔ آج کا یہ جلسہ اسی مستحسن اور بر وقت اقدام پر حکومت ہند کا شکر یہ ادا کرتا ہے۔

ہندستان میں تشریف آوری کے موقع پر یاسر عرفات کے خلاف ’’جماعت اسلامی ہند کے زیر سایہ’’ اسلامک اسٹوڈنٹ موومنٹ‘‘ کی طرف سے پرچہ بازی کی گئی اور مظاہرہ کیا گیا، جس سے نہ صرف اس عظیم مجاہد کی توہین ہوئی؛ بلکہ انسانیت و شرافت کا سر شرم سے جھک گیا۔ آج کا یہ جلسہ اس عمل کو دین و ایمان کے تقاضوں کے خلاف سمجھتا ہے اور اس کی پرزور مذمت کرتا ہے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،12؍ اپریل 1980ء)

مجلس عاملہ کا فیصلہ

اسی طرح مجلس عاملہ منعقدہ: 27؍ اپریل 1980ء میں ہندستان میں جماعت اسلامی کے زیر سایہ’’ اسلامک اسٹوڈنٹ مومنٹ‘‘ کی طرف سے مجاہد فلسطین یاسرعرفات کے خلاف مظاہرہ کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ مجلس عاملہ نے طے کیاکہ اسلامک اسٹوڈنٹ موومنٹ اور جماعت اسلامی کی امریکی نواز اس پالیسی کے خلاف ہمیں اپنی مخالفت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے، اور الجمعیۃ کو پوری مستعدی اور دانش مندی سے ان تمام باتوں کا جواب لکھنا چاہیے جو’’ دعوت‘‘ لکھ رہاہے۔

مجلس منتظمہ کا فیصلہ

اس کے بعد 28،29؍ اپریل 1980ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، اس میں اسلامک مومنٹ کی حرکت کی مذمت کرتے ہوئے یاسر عرفات کو مبارک پیش کی گئی۔

’’جمعیت علمائے ہند،ہندستان کے مسلمانوں اور انصاف پسند غیر مسلموں نے مجاہدین فلسطین کی شروع ہی سے پر جوش حمایت کی ہے اور عربوں کی حمایت میں مسلسل جد و جہد کرتی رہی ہے۔ مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس حکومت ہند؛ خصوصا وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کو مبارک باد پیش کرتا ہے کہ انھوں نے تنظیم آزادیِ فلسطین( پی ایل او) کو سفارتی درجہ دیا۔ اور اس طرح انھوں نے اسرائیلی سامراج اور اس کے ہمدردوں کو شکست  دے کر انصاف اور جرأت کی ایک مثال قائم کی۔

 مجلس منتظمہ جماعت اسلامی کے ماتحت چلنے والی ’’اسٹوڈ ٹینس اسلامک موو منٹ‘‘ کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتا ہے، جو انھوں نے عظیم رہ نما اور مجاہد یاسر عرفات کے خلاف مظاہرہ کیا اورپمفلٹ چھاپے اور اس طرح اسرائیلی اور ان کے حواری امریکی بر طانوی سامراج کو جانے ان جانے طور پر خوشی کا سامان مہیا کیا۔ مجلس منتظمہ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر ندامت کا اظہار کریں اور عوام میں اظہار افسوس کر یں۔ مجلس منتظمہ مجاہدین فلسطین اور یاسر عرفات کو یقین دلاتی ہے کہ ہماری جملہ ہمدردیاں عربوں کے ساتھ ہیں اور ہم ان کو آزاد اور ان کے وطن کا مالک و حکمراں دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی بنانے  کااعلان اقوام متحدہ کی توہین 

اسرائیلی وزیر اعظم مناخم بیگن(Menachem Begin )نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا موقف پیش کیا۔بعد ازاں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے 30؍ جولائی 1980ء کو ایک قانون منظور کیا، جسے (Jerusalem Law )کہا جاتا ہے۔اس قانون میں یروشلم کو اسرائیل کا’’مکمل اور متحد دارالحکومت‘‘قرار دیا گیا۔

اس قانون کے پاس ہونے سے پہلے ہی،27؍ جولائی 1980ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اسرائیل کے وزیر اعظم مسٹر بیگن کے اس اعلان کی پرزور مذمت کی کہ متحدہ یروشلم (بیت المقدس) اسرائیلی اور یہودی قوم کا آنے والے نسلوں تک کے لیے ابدی اور ناقابل تقسیم دارالحکومت ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ مجلس اقوام متحدہ کے ایک خصوصی اجلاس میں مسئلۂ فلسطین پر بحث ہورہی ہے، اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ شرم ناک اعلان ان کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کو ظاہر کرتا ہے ۔ اور اس مذموم اعلان سے نہ صرف مجلس متحدہ اقوام کے معزز نمائندوں کی توہین ہوئی ہے؛ بلکہ ان تمام انسانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جو لوگ حق و انصاف کی حمایت اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور جارحانہ اقدامات کو برابر تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ساتھ ہی مولانا نے 8؍ اگست 1980ء کو ’’یوم بیت المقدس‘‘ منانے کا بھی اعلان کیا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،28؍ جولائی 1980ء)

4؍ اگست 1980ء کو رابطۂ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل مسٹر محمد علی الحرکان نے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک مکتوب لکھ کر یہ اپیل کی کہ پورا عالم اسلام بیت المقدس کو اسرائیلی راجدھانی بنانے کے خلاف احتجاج کرے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،5؍ اگست 1980ء)

31؍جولائی1981ء کو ملک گیر یوم فلسطین منانے کا اعلان

24؍ جولائی 1981ء کو جمعیت علمائے ہند نے تمام ماتحت یونٹوں کو ایک سرکلر بھیج کر یہ اپیل کی کہ اسرائیلیوں کے ذریعہ فلسطینی آبادیوں کو منصوبہ بند طریقے پر تباہ و برباد کرنے کے خلاف،31؍ جولائی کوملک گیر سطح پر ’’یوم فلسطین‘‘ مناتے ہوئے،بعد نماز جمعہ ہندستان کے ہر ہر شہراور گاؤں میں جلسے کرکے احتجاجی قرارداد منظور کرکے وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور سفارت خانہ پی ایل او کو بھیجیں۔ صدر محترم نے ایک خط کے ذریعہ وزیر اعظم ہند کو بھی توجہ دلائی۔

قرارداد کا مضمون درج ذیل ہے: 

… کا یہ جلسۂ عام لبنانی عوام اور فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اثرات کو کام میں لاکر کمزور اور مظلوم عرب عوام کو بچائے اور بمبئی میں اسرائیلی قونصل خانے کو بند کرے۔ نیز اقوام متحدہ میں اسرائیل پر پابندیاں عائد کرانے کے لیے عربوں سے تعاون کرے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،25؍ جولائی 1981ء)

یوم فلسطین منانے پر عوام کا شکریہ

سابقہ اعلان کے مطابق مقررہ تاریخ پر پورے ملک میں احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے۔ 9، 10؍ اگست 1981ء کو منعقد مجلس عاملہ میں ایک تجویز منظور کرتے ہوئے، عوام کا شکریہ ادا کیا گیا۔ تجویز کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے: 

’’ جمعیت علمائے ہند حکومت ہند، خاص کر مسز اندراگاندھی کی شکرگزار ہے، جنھوں نے اسرائیل کی ہر جارحیت کی کھل کر مذمت کی اور صدر محترم جمعیت علمائے ہند اور عرب کے قائد جناب یاسر عرفات کو خطوط لکھ کرعربوں کی پرزور حمایت کی۔

 مجلس عاملہ مسلم عوام کا بھی شکریہ ادا کرتی ہے، جنھوں نے جمعیت علمائے ہند کی آواز پر31؍ جولائی کو’’ یوم فلسطین‘‘ مناکر عظیم عرب قوم کے ساتھ یک جہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

اس کے بعد مجلس عاملہ کا ایک دو روزہ اجلاس : 26،27؍ دسمبر1981ء کو منعقد ہوا، جس میں اسرائیل کے سامراجی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے، سرزمین فلسطین پر اسرائیل کے وجود کو ہی ناجائز اور غاصبانہ قرار دیا۔تجویز کا متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس گولان کے علاقہ کو اسرائیلی مملکت میں شامل کرنے کے اقدام کو نہایت شرم ناک، جارحیت اور عربوں کی مقدس سرزمین پر افسوس ناک حملہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ سامراجی اسرائیل نے یہ اقدام کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ انجمن متحدہ اقوام کے فیصلوں کی پابندی کرتا ہے، نہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کرتا ہے، نہ کسی ضا بطہ اور قانون کا پابند ہے۔

اسرائیل اپنے وجود سے ہی سرزمین فلسطین پر غاصبانہ طور پر قابض ہے اور وہ مسلسل عرب علاقوں کو جارحانہ طور پر اسرائیل میں شامل کر رہا ہے۔ پچھلے عرصہ اس نے القدس (بیت المقدس) کو اسرائیل میں شامل کر کے ساری دنیا کے مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا یا ہے اور اب گولان کی پہاڑیوں پر امریکی سامراجی کی سازش سے قبضہ کر کے شام کے لیے سخت خطرہ بن گیا ہے۔

مجلس عاملہ اسرائیل کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتی ہے اور تمام دنیاکے انصاف و آزادی پسند عوام اور انجمن متحدہ اقوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو اس اقدام سے باز رکھیں اور شام کی آزادی اور سالمیت کو خطرہ میں نہ پڑنے دیں۔

 مجلس عاملہ ہندستان کے مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جمعیت علمائے ہند کی اپیل کے مطابق یکم جنوری 1982 ء کو یوم احتجاج منا کر گولان کی پہاڑیوں کی آزادی کا پرزورمطالبہ کریں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

تنظیم آزادی فلسطین کے ناظم الامور کو برقیہ

لبنان پر اسرائیلی جارحانہ حملوں کی پرزور مذمت پر مشتمل تنظیم آزادی فلسطین کے ناظم الامور کوبتاریخ 11؍ جون1982ء، ایک برقیہ بھیج کر مسلمانان ہند کی طرف سے اسرائیل کے خلاف مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اسی طرح اس کے لیے 18؍جون 1982ء کو ’’یوم دعا‘‘ منانے کی بھی اپیل کی گئی۔ (روزنامہ الجمعیۃ،12؍ جون1982ء)

ایک دن کی آمدنی فلسطینی مجاہدین کو دینے کی اپیل

 صدر جمعیت علمائے ہند مولانا اسعد مدنی صاحب نے عیدکے موقع پر، 18؍ جولائی 1982ء کو  مسلمانوں سے اپیل کی کہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے والے فلسطینی مجاہدین کی کامیابی کے لیے عید کے دن دعا کا اہتمام کریں اور ایک دن کی آمدنی ان کے لیے پیش کریں۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،19؍ جولائی 1982ء)

مجلس عاملہ میں عربوں اور مسئلۂ فلسطین پر بحث

 7،8؍ اگست 1982ء کو منعقد مجلس عاملہ میں لبنان اور مغربی ایشیا کی موجودہ صورت حال پر پوری تفصیل کے ساتھ غور کیا گیا۔ اور اسرائیل کی مسلسل غیر انسانی حملوں، اس کی وحشیانہ جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کی سخت مذمت کرتے ہوئے مجاہدین فلسطین کو اپنی بھرپور حمایت و تعاون کا یقین دلایا گیا۔ 

بحث میں حصہ لیتے ہوئے صدر محترم مولانا مدنی صاحب نے فرمایا کہ فلسطین کا مسئلہ تنہا عربوں کا نہیں ہے؛ بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ 

مولانا اسحاق سنبھلی صاحب نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ عرب ملکوں کا رول لبنان کی موجودہ صورت حال میں بے حد مایوس کن ہے۔ 

صدر محترم نے کہا کہ اس وقت عربوں کی جو آزمائش کا وقت ہے، آپ حضرات کو اس صحیح اندازہ نہیں ہے۔ اس موقع پر ہماری حکومت نے فلسطینیوں کی پرجوش حمایت کی ہے۔ اور اسی بنیاد پر آج ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، اس کے لائق بھی ہیں۔ اگر صورت حال ایسی نہ ہوتی، تو معلوم نہیں کیا صورت پیش آتی۔ صرف عربوں پر تنقید کرکے یہ سمجھ لینا کہ ہم اپنا کوئی فرض پورا کررہے ہیں، یہ بات سراسر انصاف کے خلاف ہے۔ اس موقع پر کئی عرب ملکوں نے فوجی امداد بہم پہنچانے کی کوشش کی؛ مگر حافظ الاسد نے راستہ نہیں دیا۔ دمشق کا ہوائی اڈہ روک دیا گیا۔ لبنان کا ہوائی اڈہ توڑ دیا گیا۔ شام نے اپنی سرحد بند کردی، جس کی وجہ سے وہ بے گھر ہوگئے۔ ہمیں ان باتوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ 

مجلس عاملہ میں اس مسئلہ پر تجویز کا مسودہ پیش ہوا۔ ارکان گرامی نے جناب مولانا سید احمد ہاشمی، مولانا افضال الحق قاسمی، مولانا اسحاق سنبھلی، جناب جنرل شاہ نواز اور جناب مسعود حسن صدیقی کو تجویز کے اس مسودہ کی ترتیب و تیار ی کی ذمہ داری سپرد کی۔ چنانچہ شام کی نشست میں ان حضرات کا تیار کردہ مسودہ پڑھ کر سنایا گیا اوربہ اتفاق رائے اس کی منظوری دی گئی۔ نیز مجلس عاملہ نے یہ بھی طے کیا کہ اس صورت حال پر صدر محترم جمعیت علمائے ہند کی طرف سے عرب سربراہوں کو خط بھی لکھا جائے۔

مجلس عاملہ نے جو تجویز منظور کی، وہ درج ذیل ہے:

’’تنظیمِ آزادیِ فلسطین کے جاں باز، پرعزم ، جرأت اور بے جگری کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور دنیا کے سب سے بڑے سا مراج امریکہ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ امریکہ اسرائیل جیسے سفاک کو اسلحہ اور ہر طرح کی امداد دے کر عربوں، فلسطینیوں اور لبنان کے شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ اسرائیل نے -جس کا وجود ہی سازشوں اور ظلم کے ذریعہ ہوا ہے- درندگی، سفاکی اور ظلم میں دنیا کے بدترین ظالموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عربوں کی نسل کشی، عورتوں اور بچوں تک کا قتل عام، جیلوں اور کیمپوں میں بدترین ایذارسانی، مغربی بیروت میں مجاہدوں اور شہریوں کا پانی، بجلی، دوائیں اور رسد بند کر کے بدترین بے رحمی کا ثبوت دیا ہے۔ جس قدر بم اور خطرناک بم بیروت کے عربوں پر برسائے گئے ہیں، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ہے۔ اسرائیل انجمن متحدہ اقوام اور تمام دنیا کی رائے عامہ کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے اور اس کے سرپرست امریکہ نے ویٹو پاور استعمال کر کے تمام دنیا کی آواز ا ور جد و جہد کو ناکام بنا دیا ہے۔ اسرائیل کو نہ رائے عامہ کا لحاظ ہے، نہ اپنی ہٹ دھرمی اور قتل وسفاکی پر شرمندگی ہے، نہ تاریخ کے فیصلوں کا خیال ہے، نہ انسانیت اور قانون کی پاس داری ہے۔

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس فلسطینی جاںباز مجاہدوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، جو دنیا میں بے وطن، بے زمین ہو کر اور بے وسائل ہوکر دنیا کے سب سے بڑے سامراج سے ٹکر لے رہے ہیں اور اپنے کو ناقابل تسخیر ثابت کر رہے ہیں۔

 مجلس عاملہ انجمن متحدہ اقوام کے تمام ممبرملکوں، ساری دنیا کے امن و آزادی پسند عوام کو مبارک باد دیتا ہے،جنھوں نے فلسطینیوں کے حق میں پر زور آواز بلند کی۔ یہ تکلیف کی بات ہے کہ انجمن متحدہ اقوام مظلوم قوموں کی حمایت اور عدل وانصاف کے جن مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا، اس وقت وہ ان مقاصد کے لیے اپنا مؤثر کردارادا کرنے میں دن بہ دن قاصر اور مجبور ہوتا جارہا ہے اور بدقسمتی سے اس کی شکل لیگ آف نیشن جیسی بنتی جارہی ہے، جو چند قوموں کی تسلط کی وجہ سے ختم ہوگئی تھی۔ اسی طرح و یٹوپاور کے ذریعہ آج انجمن متحدہ اقوام کی اکثریت ؛ بلکہ متفقہ فیصلوں کو ویٹو کے ذریعہ ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ اس لیے کمزوروں کو انصاف دلانے اور ظلم سے بچانے کے لیے ویٹوپاور کا ختم ہونا نہایت ضروری ہے۔

امریکہ کے وہ لاکھوں لاکھ عوام اور اسرائیل کے ہزار ہا ہزار عوام مبارک باد کے مستحق ہیں، جنھوں نے جاںباز مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اپنی حکومتوں کے خلاف مظاہرے کیے اور لبنان سے اسرائیلی فوجوں کو واپس بلانے اور عربوں کو ان کے حقوق دیے جانے کا مطالبہ کیا۔

 مجلس عاملہ حکومت ہند؛ خصوصامسز اندرا گاندھی کی شکرگزار ہے کہ انھوں نے ہندستان کی عظیم اور آزادی پسند روایات کے مطابق ہر طرح فلسطینی جاںبازوں کی مدد کی اور ان کی حمایت میں انجمن متحدہ اقوام اور انڈین پارلیمنٹ میں تاریخی بیان دے کر حمایت کی مثال قائم کی۔

 مسزاندرا گاندھی نے نہ صرف اخلاقی امداد کی؛ بلکہ میڈیکل مشن بھیج کر ، جس کے دو ڈاکٹر اس وقت ظالم اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ہیں اور دواؤں اور خون کا عطیہ دے کر زبردست انسانیت دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

 وزیراعظم نے بمبئی میں اسرائیل کے قونصل یوسف حسین کو اڑتالیس گھنٹہ کے نوٹس پر اس کی نازیبا حرکات اور ہند دشمن کارروائیوں کی بنا پر ملک سے نکال کر قابل تعریف اقدام کیا ہے۔

مجلس عاملہ ہندستانی عوام کی بھی شکرگزارہے،جنھوں نے بلالحاظ مذہب و ملت آزادی کے متوالے اور جیالے فلسطینیوں کی اخلاقی،مالی، خون اور دواؤں سے امداد کی ہے۔

 جمعیت علمائے ہند ہمیشہ سے تحریک آزادی فلسطین کی سرگرم حامی رہی ہے۔ اس موقع پر پھراعلان کرتی ہے کہ وہ مجاہدین فلسطین اور لبنانی عوام کے ساتھ ہے اور ملک کے کونہ کونہ میںبسے ہوئے جمعیتی حضرات اور مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ صدرمحترم مولانا سید اسعد مدنی کی اپیل کے مطابق کم از کم ایک دن کی آمدنی پی ایل او کو دیں اور کنونشن اور کانفرنسیں کر کے عوام کو متوجہ کریں اور اپنے ہم وطن غیرمسلموں کوساتھ لے کریہ ثابت کر دیں کہ صرف وزیر اعظم اور رہ نما ہی نہیں ؛ ملک کے دیہاتی و شہری عوام بلا لحاظ مذہب و ملت فلسطینی جاںبازوں اور لبنان کے شہریوں کے ساتھ ہیں اور اس مسئلہ میں بلاتفریق سیاسی نظریات اپنی وزیراعظم کے ہم نوا ہیں۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلدسوم، ص؍

تنظیم آزادی فلسطین کو استقبالیہ و امداد

6؍ ستمبر1982ء کو نئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے منعقد ایک جلسۂ عام میں تنظیم آزادی فلسطین کے نمائندے مسٹر جمیل الحجاج کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید اسعد مدنی ایم پی نے فرمایا کہ ہم مجاہدین فلسطین کی وہ مدد نہیں کرسکے، جو ہم کو کرنی چاہیے تھی۔ آج فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر طرح طرح کی سازشیںہو رہی ہیں۔ جنگ بیروت کا ذکر کرتے ہوئے صدرمحترم نے فرمایا کہ تنظیم آزادی فلسطین سے تعلق رکھنے والے مجاہدین بیروت سے نہیں گئے ہیں، وہ ابھی تک وہیں ہیں اور وہیں رہیں گے ؛البتہ عراق، قبرص اور اردن سے مجاہدین کی امداد کے لیے جو دستے گئے تھے، صرف انھوں نے ہی بیروت کو چھوڑاہے ۔

 پی ایل او کی مددکسی ایک قوم کی ذمہ داری نہیں؛ بلکہ تمام عالم اسلام کی ذمہ داری ہے۔لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان خطرناک حالات میں عالم اسلام مردہ ہے اور بے جس ہے اور فرائض کے سلسلہ میں وہ کچھ نہیں کر سکا ہے ۔

 حکومت ہند ہندستانی شپ نے کھل کر فلسطینیوں کی، ان کے کازکی اوران کے حقوق کی پوری طرح حمایت کی ہے۔ ہم پر جو واجب تھا، اس کا ہم کوئی حصہ ادا نہیں کر سکے۔ ایک طرف وہ قوم ہے، جس نے اپنے بچوں، عورتوں اور مردوں کو مسلسل داؤ پر لگا رکھا ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ چین سے بیٹھے ہوئے ہیں۔

 فلسطین کے ان جاںبازوں نے اپنے سرسے کفن باندھ رکھا ہے اور وہ اس وقت تک اپنی جدو جہد اور جنگ جاری رکھیں گے، جب تک فلسطین کی ایک ایک اینچ زمین کوآزاد نہیں کر لیا جاتا۔ بیروت میں حالیہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اسرائیل نے مجاہدین کے خلاف اپنے حملہ میں ایک دن میں ایک لاکھ بم گرائے؛ لیکن مجاہدین کے حوصلے پست نہیں ہوئے؛ البتہ ان فضائی حملوں میں شہریوں کا زیادہ نقصان ہوا ہے اورمجاہدین کا نقصان کم ہو ا ہے۔

اس موقع پر مولانا مدنی نے جمعیت علمائے ہند کی طرف سے تنظیم آزادی فلسطین کے لیے جمع کی گئی ایک لاکھ روپے کی رقم نمائندہ پی ایل او مسٹر جمیل الحجاج کو پیش کی۔ اس کے علاوہ جناب حاجی محمد فاروق صاحب نے پانچ سو روپے بطور امداد پیش کیے۔

 حضرت مولانا نے فرمایا کہ یہ امدادی رقم کوئی چیز نہیں ہے؛ بلکہ ہم کو چاہیے تھا کہ ہم اپنے نوجو انوں کو جنگ شروع ہونے کے پہلے اور دوسرے دن وہاں بھیجتے؛ لیکن ایسا نہیں کرسکے، جس کی ہمیں شرمندگی اور ندامت ہے۔

جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے پی ایل او کے نمائندہ مسٹر جمیل الحجاج نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل اور امریکہ نے فلسطینیوں کے خلاف جو جارحیت کی ہے، وہ عصر جدید کی سب سے بڑی جارحیت کہی جا سکتی ہے۔ اس جنگ میں بے گناہ اور بہت شہریوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے خلاف ایسے بم استعمال کیے گئے ہیں، جو بین الا قوامی قانون کے خلاف ہیں اور جو پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ فلسطینی انقلاب اور فلسطینیوں کو بالکل مٹادیا جائے۔ پہلے اعلان کیا گیا کہ جنگ صرف تین دن جاری رہے گی اور اس دوران تمام فلسطینیوں کو مٹا دیا جائے گا؛ لیکن ہمارے مجاہدین نے اس کا بھر پور جواب دیا ہے۔ آپ نے پر زور الفاظ میں کہا کہ پی ایل او کے مجاہدین بیروت میں ہیں اوروہ ہر گز بیروت نہیں چھوڑیں گے۔ تاریخ میں پہلی بار امریکی سیاست میں تبدیلی آئی ہے اور اس نے امریکہ کی نام نہاد اسرائلی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پٹی کی اور مغربی کنارے پر یہودی بستیاں نہ بسائے اور وائٹ ہاؤس سے پہلی بارایسی دستاویز جاری ہوئی ہے کہ جس سے مسئلۂ فلسطین کو حل کرنے کا دروازہ کھلا ہے۔

ہم نے اپنی قربانیوں کے سبب امریکی پالیسیوں میںتبدیلی کرائی ہے۔ ان شاء اللہ ایک دن ہم اپنی قربانیوں کے بل پر فلسطینی ریاست بنائیں گے۔ ہم اپنی جد وجد جاری رکھیں گے اور ہماری قربانیاں جاری رہیں گی۔(روزنامہ الجمعیۃ،7؍ ستمبر1982ء)

اس کے بعد مجلس عاملہ منعقدہ: 30،31؍ اکتوبر1982ء میں فلسطینیوں کی امداد کے حوالے سے فلسطینی مجاہدین کی امداد کے لیے مبلغ پینتیس ہزار روپے کی منظوری دی۔ یہ رقم 6؍ ستمبر1982ء کو ادا کردی گئی تھی۔ وہ اس طرح کہ اس وقت حضرت صدر محترم نے فلسطینی نمائندہ کو ایک لاکھ روپے کی تھیلی پیش کی تھی، اس مد میں جو رقم موصول ہوئی تھی، وہ ایک لاکھ سے کم تھی، جس میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے پینتیس ہزار روپے شامل کرکے ایک لاکھ کردی گئی۔

فلسطینی عربوں کا مسئلہ

مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا ایک اجلاس: 14،15؍ جنوری 1983ء کو منعقد ہوا، جس کی تجویز نمبر(۱۳) میں فلسطین عربوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’فلسطین کے عربوں کو جس طرح ان کے وطن سے محروم اور ان کو تباہ و برباد کیا گیا ہے، وہ تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے۔ فلسطین کے جیالے اور بہادر عربوں اور ان کی تنظیم پی ایل او اور ان کے رہ نما یا سرعرفات نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد جس طرح ظالم اور سفّاک سامراجیوں، اسرائیل اور امریکہ کا مقابلہ کیا ہے اور بے وطن و بے گھر ہوکر جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ بھی دنیا کی تاریخ میں ایک مثال ہے۔

اسرائیل نے جس کا وجود ہی سازشوں اور ظلم کے ذریعے ہوا ہے، فلسطینیوں کے علاوہ بے قصور لبنانیوں کا خون بہایا اور ان کے خوب صورت ملک کو تباہ و برباد کیا، جس کے لیے دُنیا کا سب سے بڑا سامراج امریکہ کی اس کو ہر طرح کا اسلحہ اور فوجی امداد حاصل رہی ہے۔

ایک اندازہ کے مطابق حالیہ جنگ میں صرف لبنان میں فلسطینیوں اور عربوں کے تقریباً 48؍ہزار افراد کو شہید کیا گیا۔ مظلوم آزادی کے عرب پروانوں اور پُرامن و بے قصور شہریوں پر نیپام بم اور زہریلی گیس پھیلانے والے بم برسائے گئے۔ ان کا بجلی اور پانی بند کردیا گیا۔

جہاں یہ قابلِ اطمینان بات ہے کہ ساری دنیا اور تمام دُنیا کے نمائندوں نے انجمن اقوام متحدہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور اس کو انجمن اقوام متحدہ سے نکالنے کی سفارش کی، لیکن سفاک اسرائیل کے سرپرست امریکہ نے اس تجویز کو ویٹوکردیا۔ امریکہ اور اسرائیل کو نہ رائے عامہ کا لحاظ ہے، نہ اپنی ہٹ دھرمی اور سفّاکی پر شرمندگی ہے، نہ تاریخ کے فیصلوں کا احترام ہے، نہ قانون اور انسانیت کی پاس داری ہے۔

جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس انجمن اقوام متحدہ کے تمام ممبران اور دنیا کے تمام انسانیت دوست عوام کو مبارک باد دیتا ہے، جنھوں نے عربوں کی حمایت میں آواز بلند کی۔

جمعیت علمائے ہند، ہندستانی عوام، حکومت ہند اور وزیر اعظم مسز اندراگاندھی کی بھی شکر گزار ہے، جنھوں نے ہر موقع پر عربوں کی نہ صرف حمایت کی؛ بلکہ میڈیکل مشن بھیج کر دواؤں اور خون کا عطیہ دے کر انسانیت دوست ہونے کا ثبوت دیا۔

جمعیت علمائے ہند ہمیشہ تحریکِ آزادی فلسطین کی سرگرم حامی رہی ہے۔ اس موقع پر پھر اعلان کرتی ہے کہ وہ جاںباز عربوں کے ساتھ ہے اور ہر ہر قدم پر ان کو آزادی وطن کی تحریک اور جہاد حریت میں مدد دینے کی کوشش کرنا اپنا فرض سمجھے گی۔

جمعیت علمائے ہند ان تمام حضرات کا شکریہ اداکرتی ہے، جنھوں نے جمعیت کی اپیل پر لبیک کہا اور تحریکِ آزادی فلسطین کی لاکھوں روپوں سے مددکی۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

بین الاقوامی جنگی جرائم ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ

اس کے بعد 5،6؍ مارچ 1983ء کو مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا، جس ایک تجویز کے پیرا نمبرات (۹) و (۱۰) میں درج ذیل مطالبات کیے گئے: 

۹۔ اسرائیل نے فلسطینی عوام پر جو مظالم کئے ہیں ، ان کے لیے اسرائیل کو سزا دینے کے لیے بین الاقوامی جنگی جرائم ٹریبونل قائم کیا جائے ۔

۱۰۔ کانفرنس فلسطین، نابیا اور جنوبی افریقہ کے عوام کی جنگ آزادی کی حمایت کرتی ہے۔ مغربی ایشیا پر اپنی پالیسی لادنے اور اسرائیل کو سیاسی وفوجی امداد دینے کے لیے امریکہ کی مذمت کرتی ہے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،12؍ مارچ 1983ء)  

فلسطینی مجاہدین کی حمایت

 25،26؍ نومبر1983ء کو مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر(۸) میں مجاہدین فلسطین کی حمایت کی گئی۔ مکمل متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہنداپنے عرب بھائی مجاہدین فلسطین کی حمایت میں ہمیشہ سرگرم رہی ہے۔ مسئلۂ فلسطین کے آغاز سے ہی جمعیت نے اپنے محدود وسائل کے ساتھ فلسطین کی آزادی کے کاز کے لیے عملی شرکت کی ہے۔

 جمعیت علمائے ہند تنظیم آزادی فلسطین اور اس کے رہ نما جناب یاسرعرفات کی صلاحیتوں اور خدمات سے امید کرتی ہے کہ وہ بالا ٓخرفلسطینی آزادی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔ 

مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کو تنظیم آزادی فلسطین کے خلاف سازشوں اور اس میں انتشار پیدا ہونے سے سخت تشویش ہے، جس کے نتیجہ میںباہم عربوں کا خون بہہ رہا ہے اور جو قوت دشمنان فلسطین کوختم ہونے میں صرف ہونی چاہیے تھی، وہ آپس کے قتل وقتال میں صرف ہورہی ہے۔ مجلس منتظمہ کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہے کہ شام کے ڈکٹیٹر حافظ الاسد -جو پہلے خودشام میں مسلمانوں اورلبنان میں دوسال پیشتر فاشسٹ عیسائیوں کی حمایت میں عربوں کاقتل عام کرچکے ہیں- وہی اب فوج اور ہتھیاروں کے ذریعہ فلسطینی مجاہدوں کاقتل عام کرارہے ہیں۔

مجلس منتظمہ حافظ الاسد کی اس کارروائی کو نہایت نفرت اور حقارت آمیز سمجھتی ہے ۔ اور امیدکرتی ہے کہ فلسطینی مجاہد اس ظالم اور افتراق انگیز شخصیت کے شر سے اپنے کو محفوظ کرسکیں گے۔اس سلسلہ میں مجلس منتظمہ حکومت ہند اورمسز اندرا گاندھی چیرمین نا وابستہ کانفرنس کا شکریہ اداکرتی ہے، جو مسلسل فلسطینی عربوں کی حمایت کر رہی ہیں، اور اس تصادم کو روکنے کے لیے سرگرم کوشش کی ہے۔ مجلس منتظمہ کو دکھ ہے کہ حکومت لیبیا پی ایل او کی حمایت کے بجائے افتراق انگیز عناصر کی پشت پر ہے۔

 مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند ایک بارپھر فلسطینی مجاہدوں، ان کے رہ نما یاسرعرفات کو اپنی حمایت کا یقین دلاتی ہے۔اور ان کے باہمی قتل و غارت گری پر سخت رنج وغم کا اظہار کرتی ہے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

تعلیمی و ملی کانفرنس میں فلسطینی عربوں کی حمایت

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام 6،7،8؍ اپریل1984ء کو تعلیمی و ملی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں فلسطینی عربوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے درج ذیل تجویزنمبر-۱۵- کو منظوری دی:

 ’’فلسطین کے عربوں کو جس طرح ان کے وطن سے محروم اور ان کو تباہ و برباد کیا گیا ہے، وہ تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے۔ فلسطین کے جیالے اور بہا در عربوں کی تنظیم بی ایل او اور عظیم رہ نما یاسر عرفات نے جس طرح ظالم اور سفاک سامراجیوں: اسرائیل اور امریکہ کا مقابلہ کیا ہے اور بے وطن، بے سہارا اور بے گھر ہو کر آزادی کے لیے جرأت مندانہ لڑائی لڑی ہے، وہ بھی دنیا کی تاریخ میں ایک مثال ہے۔ اسرائیل نے- جس کا وجودہی سازشوں اور ظلم کے ذریعہ ہوا ہے- فلسطینیوں کے علاوہ بے قصور لبنانیوں کا خون بہایا اور ان کے خوب صورت ملک کو تباہ و برباد کیا، جس میں ان کو دنیا کے سب سے بڑے سامراجی امریکہ کی فوجی و اسلحہ کی مدد حاصل رہی۔ ایک اندازہ کے مطابق اب تک قریب دو لاکھ مرد،عورت، بوڑھے اوربچے فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ صرف حالیہ لبنان پر حملوں کے درمیان پچاس ہزار سے زائد فلسطینیوں اور عربوں کو شہید کیا گیا ہے۔ ان پر زہریلی گیس اور ان پر نیپام بم برسائے گئے اور ان کا پانی وبجلی بند کی گئی ؛ مگر ان بہادروںکے عزم  و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ فلسطینی مجاہدوں کا ہیڈ کوارٹر تیونس منتقل ہونے کے بعد بھی اسرائیل امریکی اسلحہ کی مدد سے لبنان میں برابر قتل و غارت گری کر رہا ہے۔ اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو پورا کرنے کے لیے لبنان پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے؛ مگر عرب مجاہدوں کے عزم و استقلال اور قربانیوں کے جذبہ سے مجبور ہو کر امریکی سامراج نے اپنا بحری بیڑا واپس بلا لیا۔ لبنان اسرائیل معاہدہ ختم ہوا۔مگراب بھی اسرائیل کی مسلح کارروائی جاری ہے۔ جہاں یہ بات قابل اطمینان ہے کہ ساری دنیا کے نمائندوں اور انجمن متحدہ اقوام نے عربوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور اس کو انجمن سے نکالنے کی تجویز رکھی، جس کو سفاک اسرائیل کے سرپرست اورمربی امریکہ نے بار بار ویٹو کے ذریعہ ناکام بنا دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کو نہ رائے عامہ کالحاظ ہے، نہ اپنی ہٹ دھرمی اور سفاکی پر شرمندگی ہے، نہ تاریخ کے فیصلوں کا احترام ہے۔

 آل انڈیا تعلیمی وملی کانفرنس انجمن متحدہ اقوام، ناوابستہ کا نفرنس اور دنیا کے تمام انسانیت دوست عوام کو مبارک با دیتی ہے کہ جنھوں نے عربوں کی پر زور حمایت کی۔ کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ وہ جاں باز عربوں کی حمایت اور ان کے جہاد حریت میں سرگرم تائید جاری رکھے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت

مجلس منتظمہ منعقدہ: یکم نومبر1986ء کی تجویز نمبر-۱۰- بھی اسرائیلی جارحیت اور مظلوم عرب فلسطینی کی حمایت کا اعلان کیا ۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

’’ فلسطین میں اسرائیلی حکومت کے قیام کے وقت سے ہی جمعیت علمائے ہند نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ فلسطین عربوں کی تباہی و بربادی-جو اسرائیلی سامراج اور اس کے آقاؤں کی مدد سے کی گئی ہے- وہ دنیا میں ظلم و سفاکی کی بدترین مثال ہے۔ جمعیت علمائے ہندنے مسلسل عربوں کی حمایت اور فلسطین کی آزادی کے لیے پر زور جد وجہد کی ہے۔ اس کے اکابر ملک اور بیرون ملک مظلوم فلسطینی عربوں کی پر زور حمایت کرتے رہے ہیں۔ 

اب تو اسرائیلی سامراج اپنے سامراجی آقاؤں کی مدد سے اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ اس نے لبنان و بیروت کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے۔ اور آزاد و خود مختار ملک تیونیشیا پر بم باری کر کے بد ترین بین الاقوامی مجرم ثابت ہوا ہے۔ یہ جلسہ امریکی صدر رونالڈریگن کی سخت مذمت کرتا ہے، جنھوں نے اس وحشیانہ بم باری کو جائز وصحیح قرار دیا ہے۔

 یہ وہی رونالڈریگن ہیں، جنھوں نے دنیاکے ایک آزاد و خود مختارمسلم ملک لیبیا پر وحشیانہ بم باری کرکے ان کو بد ترین مجرم ثابت کر دیا ہے اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ان کو نہ انسانیت کا پاس ہے، نہ بین الاقوامی سرحدوں اور فیصلوں کا لحاظ ہے، نہ دنیا کی رائے عامہ کا احترام ہے۔

مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند ایک بار پھر واضح اعلان کرتی ہے کہ وہ ان واقعات پر سخت غم وغصہ کا اظہار کرتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ فلسطینی عربوں کی حمایت مسلسل کرتی رہے گی اورفلسطین کی آزادی تک اس کی جدوجہد جاری رہے گی۔(تجاویز اور فیصلے اجلاس مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند، یکم نومبر1986ء بروز ہفتہ۔ ترتیبؒ مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند،ص؍4-25)

محصورو مظلوم فلسطینی

1982ء میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد PLO کی قیادت کو تیونس منتقل ہونا پڑا، لیکن چند برسوں میں فلسطینی جنگ جو دوبارہ بیروت اور جنوبی لبنان کے کیمپوں میں منظم ہونے لگے۔ شام اور امل موومنٹ کو خدشہ تھا کہ یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی دوبارہ طاقت حاصل کر کے لبنان میں’’ریاست کے اندر ریاست‘‘قائم کر لیںگے، اسی لیے اس ابھار کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

چنانچہ 19؍مئی 1985ء کو امل ملیشیا نے بیروت کے بڑے فلسطینی کیمپوں:صبرا، شتیلا اور برج البراجنہ کا سخت محاصرہ کر لیا۔ ان کیمپوں پر شدید گولہ باری کی گئی اور خوراک، پانی اور ادویات کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں ایک شدید انسانی بحران پیدا ہوا، جہاں بھوک، بیماری اور محرومی نے ہزاروں افراد کو متأثر کیا۔ بعد میں یہ لڑائی جنوبی لبنان تک بھی پھیل گئی۔

بالآخر یہ جنگ جولائی 1988ء میں شامی مداخلت کے بعد ختم ہوئی۔ ایک معاہدے کے تحت یاسر عرفات کے حامی جنگج جووں کو بیروت سے نکال کر جنوبی لبنان منتقل کیا گیا۔ اس طویل اور خوںریز تنازعے میں تقریباً 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور مہاجر کیمپوں کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔

13؍ فروری 1987ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں ان صورت حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا اور درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جنوبی لبنان کے فلسطینیوں کے کیمپوں پر کئی ماہ سے شدید قتل و غارت گری جاری ہے اور اسرائیل کی مدد سے یہ سفاکانہ حملے ، قتل عام شیعہ تنظیم ’’امل‘‘ کے کیمپوں پر ہورہا ہے، جس کو اسرائیل اور شام کی حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل ان کیمپوں پر مسلسل بم باری کر رہا ہے اوراب تک’’ امل‘‘ نے کیمپوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، جہاں کھانا، دوائیاں اور پانی تک جانے نہیں دیا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں بچے بھوک، پیاس اور بیماریوں میں تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں ۔ بوڑھے اور جوان مردہ جانوروں اور مردہ انسانوں کا گوشت کھارہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ صرف اس محاصرہ کے نتیجہ میں ہورہا ہے۔ 

انسانیت کو تڑپا دینے والے ان واقعات نے ساری دنیا کو ہلادیا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں شدید ترین سفاکی اور شقاوت ہے، جو شاید ہی کسی سوسائٹی میں مل سکے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ان واقعات پر انتہائی رنج و غم اور غصہ کا اظہار کرتا ہے اور انجمن متحدہ اقوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے اثرات کو کام میں لاکر فلسطینی نسل کشی کو بند کرانے کے لیے محاصرہ اٹھائیں۔ ورنہ چنددن میں پورا کیمپ پیاس سے تڑپ تڑپ کر ختم ہوجائے گا۔ 

مجلس عاملہ ناوابستہ تحریک کے چیرمین ڈاکٹر وابرٹ موگابے سے بھی درخواست کرتا ہے کہ وہ خود لبنان جائیں اور امل حامیوں کو مجبور کریں کہ وہ یہ مظالم بند کریں۔ 

مجلس عاملہ انجمن تحفظ انسانیت اور انسداد مظالم کی بین الاقوامی کمیٹی کو توجہ دلاتا ہے کہ وہ بلاتاخیر اس ظلم کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ 

مجلس عاملہ مظلوموں کو یقین دلاتی ہے کہ اس کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

فلسطین کی آزادی کی حمایت

اپنے سابق موقف کے مطابق، جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس منتظمہ کے اجلاس منعقدہ: 7؍ نومبر1987ء کو فلسطین کی آزادی کی حمایت کا اعلان کیا اور درج ذیل تجویز منظور کی:

’’ارض فلسطین میں اسرائیلی مملکت کے قیام کے وقت ہی جمعیت علمائے ہند نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ جمعیت کی رائے میں سامراجی طاقتوں نے اس کو عربوں کو زیر اور پابند رکھنے کے لیے قائم کیا تھا۔

 فلسطین میں عربوں کی تباہی و بر بادی-جواسرائیلی سامرا ج اور اس کے سامراجی آقاؤں کی مدد سے کی گئی ہے- وہ دنیا میں ظلم وسفاکی کی بدترین مثال ہے۔

ایک اندازہ کے مطابق سرزمین فلسطین کی ساٹھ فی صدی آبادی فلسطین سے باہر کردی گئی ہے۔ عربوں کی زمینوں، باغوں اور مکانوں پر اسرائیلیوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ اور جو عرب باقی ہیں، وہ بھی اپنے وطن میں گھروں، جائدادوں سے محروم تقریبا بے وطن ہیں۔

 اب تو اسرائیل اپنے سامراجی آقاؤں کی مدد سے اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ اس نے لبنان و بیروت کو تباہ کر ڈالا ہے۔ آزاد و خود مختار ملک تیونیشیا پر بم باری کر کے بدترین بین الاقوامی مجرم ثابت ہوا ہے۔ 

یہ جلسہ امریکی صدر رونالڈ ریگن کی سخت مذمت کرتا ہے، جنھوں نے اس وحشیانہ بم باری کو جائز وصحیح قرار دیا ہے۔ ان کو نہ انسانیت کا پاس ہے، نہ بین الاقوامی سرحدوں اور فیصلوں کا لحاظ ہے، نہ دنیاکی رائے عامہ کا احترام ہے۔

مجلس منتظمہ ایک بار پھر واضح اعلان کرتی ہے کہ وہ اسرائیلی سامراج کو بدترین مجرم مانتے ہوئے فلسطین کی آزادی کی پرزور حمایت کرتی ہے اور جمعیت کے ممبران، ملک کے مسلمان اور تمام آزادی پسند عوام فلسطین کے عربوں کے ساتھ ہیں اور پی ایل او، اوراس کے رہ نما یاسرعرفات کی پرزور تائید کرتے ہیں اور فلسطین کی آزادی اور خود مختار حکومت بننے تک اس کی ممکن حمایت کرتے رہیںگے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

غازہ پٹی میں میں اسرائیلی خون خرابہ روکنے کی اپیل

 اسرائیلی فوج نے اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے پرفلسطینیوں پر گولیاں چلائیں، جس سے دسمبر1987ء کے آخر تک اور جنوری کے ابتدائی ہفتوں میں کئی فلسطینی شہید ہوئے۔

 مجلس عاملہ منعقدہ: 9،10؍ جنوری 1988ء میں اسرائیل کی انھیں مظالم کی مذمت میں درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’اردن کے مغربی کنارے اور غازہ پٹی میں فلسطینی عربوں پر اسرائیل کے حالیہ مظالم نہایت ہی رونگٹھے کھڑے کردینے والے ہیں ۔ یوں تو عربوں پر اسرائیلی سامراج اپنے سامراجی آقاؤں کی مدد سے نہایت سفاکانہ مظالم کر رہا ہے۔ اسرائیل کے مظالم اور بربریت کی مثال ملنی مشکل ہے۔ اسرائیل عرب بستیوں کو اجاڑ کر منصوبہ بند طور پر یہودی آبادیوں میں تبدیل کر رہا ہے اور عرب شہریوں کو اپنے وطن میں ہی بے وطن کرکے در بدر پھرنے پر مجبور کردیا ہے۔ 

حال ہی میں پر امن عرب مظاہرین پر جس طرح مظالم کیے گئے ہیں، ان سے ساری دنیا چلا اٹھی ہے اور ہر طرف سے مذمت ہورہی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی سب سے بڑی پشت پناہ امریکی حکومت کو بھی اسرائیلی مظالم پر مذمت کی تجویز کی تائید کرنی پڑی ہے؛مگر اسرائیل کے مظالم بدستور ہیں، نہ اس کو اپنے مظالم پر ندامت ہے اور نہ ظلم و بربریت پر افسوس ہے، نہ بین الاقوامی قوانین کا پاس ہے، نہ دنیا کی رائے عامہ کا احترام ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ اسرائیلی مظالم کو ساری دنیا کے لیے ایک چیلنج محسوس کرتی ہے اور اس پر سخت غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے ۔ 

پچھلے ماہ جمعیت علمائے ہند نے سارے ملک میں ’’یوم فلسطین‘‘ مناکر اسرائیلی مظالم پر سخت احتجاج کیا۔ یہ احتجاج ملک کے کونے کونے میں کیا گیا۔ 

مجلس عاملہ انجمن اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مغربی کنارے اور غازہ پٹی میں بلاتاخیر امن فوج تعیینات کرکے وہاں خوں ریزی کو روکے اور انجمن متحدہ اقوام کے فیصلوں سے مسلسل بغاوت کرنے والے اسرائیل کو مظالم روکنے کے لیے مجبور کرے ۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کرکے اس کو اسلحہ و دیگر سامان نہ پہنچنے دیا جائے ، تاکہ عربوں کی نسل کشی اور مظالم سے اس کو باز رکھا جاسکے۔ 

مجلس عاملہ ساری دنیا کے مسلمانوں، جمہوریت و انصاف پسند عوام سے دردمندانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے اثرات و وسائل کو کام میں لاکر اسرائیل کی ناکہ بندی کرائیں اور اس کو مظالم بند کرنے پر مجبور کریں۔ 

مجلس عاملہ طے کرتی ہے کہ عربوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف 5؍فروری 1988ء کو ’’یوم احتجاج‘‘ منایا جائے ۔

مجلس عاملہ تمام یونٹوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بعد نماز جمعہ فلسطینیوں کے لیے دعا کریں اور جلسہ کرکے اسرائلی مظالم پر احتجاج کریں۔ احتجاجی جلسوں میں فلسطین و عربوں کے ایسے ہمدرد حضرات کو مدعو کیا جاسکتا ہے، جو جمعیتی نہ ہوں؛ مگر فلسطینی عربوں سے ہمدردی رکھتے ہوں۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج اور فلسطینیوں کی امداد

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ؒ لکھتے ہیں کہ:

’’9،10؍ جنوری 1988ء کو نئی دہلی میں مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی مظالم پر سخت غم وغصہ کا اظہار کیا۔ اور ان مظالم کو ساری دنیا کے لیے ایک چیلنج بتاتے ہوئے تمام ہندستانی مسلمانوں اور عرب دوست انسانوں سے اپیل کی کہ عربوںپر اسرائیلی مظالم کے خلاف 5؍ فروری 1988ء کو ’’یوم احتجاج‘‘ کے طور پر منائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ مجلس عاملہ کی اپیل پر پورے ملک میں گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ اور شہر شہر یوم احتجاج منایا گیا۔

جمعیت علمائے ہند اور ہندستانی مسلمان فلسطینی عربوں کے موقف کی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس تاریخی رشتہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی جدو جہد کی اس نازک گھڑی میں -جب کہ وہ اپنی آزادی کے لیے فیصلہ کن جہاد میں مصروف ہیں- ان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ اس احساس کے تحت جمعیت علمائے ہند نے فلسطین کی مدد کے لیے پچاس ہزار روپے کی پہلی قسط پیش کی ہے۔ امداد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔‘‘ (ملی کردار، ص؍34)

فلسطینی پارلیمنٹ اسپیکر کا استقبال

12؍ مارچ1988ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر الشیخ عبد الحمید السائح کی ہندستان آمد پر ان کے اعزاز میں ایک پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس عشائیہ میں محترم و معزز مہمان کے علاوہ سعودی عرب، مصر، عراق، کویت، اردن سمیت چودہ ملکوں کے سفرا و نمائندہ گان نے شرکت فرمائی۔ اس موقعہ پر ملک کی ممتاز و مؤقر شخصیتیں -جن میں خصوصیت سے جناب رفیق عالم صاحب نائب وزیر حکومت ہند، جناب حیات اللہ انصاری ایم پی اور جناب عبد الحمید صاحب ایم پی قابل تذکرہ ہیں- موجود تھیں۔ صدر محترم جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم اور ناظم عمومی جناب مولانا محمد اسرارالحق قاسمی صاحب نے مہمانوںکو خوش آمدید فرمایا۔ الشیخ عبد الحمید السائح نے اپنی اس عزت اورانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند اور اس کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی مد ظلہ کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فلسطینی رہنما نے فرمایا کہ جمعیت علمائے ہند اور اس کی دینی وملی جد و جہد پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جمعیت علمائے ہند کی قیادت ہمیشہ ایسے ہاتھوں میں رہی ہے، جن کا ہاتھ ملت کی نبض پر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند مصلحتوں کی پرواہ کیے بغیر دین اسلام اور ملک وملت کی خدمت میں اپنی تمام تر توانا ئیوں کے ساتھ مصروف عمل ہے۔(ہفت روزہ مساوات، 25تا 31؍ مارچ1988ء)

صندوق جہاد فلسطین کی تشکیل

چنانچہ اس کے بعدمجلس عاملہ نے 8؍ اپریل 1988ء کو منعقد اپنے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے پچاس ہزار روپے کی مالی امداد مجاہدین فلسطین کے لیے منظور کی اور یہ طے کیا کہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے لیے جدوجہد اور مالی امداد کا اعلان کیا جائے۔

پھر جب 9،10؍ اپریل 1988ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، تو اس میں فلسطین کے تعاون کے لیے ’’صندوق جہاد فلسطین‘‘ تشکیل دیا گیا۔ مجلس منتظمہ نے اپنی تجویز نمبر(۹) میں کہا گیاکہ: 

’’مقدس ارض فلسطین میں عربوں کی تباہی و بربادی-جواسرئیل سامراج اوراس کے سامراجی آقاؤں کی مدد سے کی گئی ہے- وہ دنیا میں ظلم وسفاکی کی بدترین مثال ہے۔

 اب تواسرائیل کی دریدہ دہنی، یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مظلوم عربوں کے کیمپوں پر بم باری کرکے پرامن پناہ گزیں مردوں، عورتوں اور بچوں تک کو شہید کیا جارہا ہے۔غازہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارہ پر بسے ہوئے فلسطینی عربوں پر جو ظلم وستم کیے جارہے ہیں، انھوں نے ساری دنیاکولرزہ براندام کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو گرفتا رکرکے گولی مارنا، ہاتھ پاؤں کو توڑ کر بیابان جنگلوں میں چھوڑ دینا، بے قصور عورتوںتک کو گرفتار کرکے ان کو اذیت پہنچانا، زہریلی گیس چھوڑ کر ہزاروں لوگوں کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کر دینا،ر وزمرہ کا معمول ہوگیا ہے۔ زہریلی گیس اس قدر خطرناک ہے کہ سینکڑوں عرب خو اتین کے حمل ساقط ہوگئے ہیں اور اس طرح ظالم اسرائیلی حکومت عربوں کی نسل کشی اور بچوں کے پیدا ہونے سے قبل ہی ان کا قتل عام کر رہی ہے۔ اس وقت مقبوضہ فلسطینی عرب بے مثال مجاہدانہ جنگ لڑ رہی ہے، جس کے لیے وہ ہر طرح کی حمایت و ہمدردی کے مستحق ہیں۔ مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند’’صندوق جہاد فلسطین‘‘ قائم کرنے کا اعلان کرتی ہے اور ہندستان کے مسلمانوں اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مجاہدین فلسطین کی ہرطرح مالی اور اخلاقی امداد کریں۔ سر دست مرکزی جمعیت علمائے ہند نے مجاہدوں کی امداد کے لیے تحریک آزادی فلسطین کی تنظیم کے سفیر ڈاکٹر خالد الشیخؒ کوپچاس ہزار روپیہ پیش کیا ہے۔

 مجلس منتظمہ مسلمانوں؛ خاص کرجمعیت کی اکائیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مجاہدین فلسطین کی امداد کے لیے پرجوش مہم چلائیں اور مدد کے لیے وصول شدہ رقم کو جمعیت علمائے ہند کے قائم کیے ہوئے صندوق جہاد واقع جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر۱۔ بہادرشاہ ظفر مارگ نئی د ہلی کو روانہ کریں۔ اگر کوئی صاحب براہ راست سفیر محترم کو رقم بھیجنا چاہیں، توڈا کٹر خالد الشیخؒ سفیر پی ایل او،وسنت وہار نئی دہلی کو روانہ فرما دیں اوراس کی اطلاع جمعیت دفتر کو بھی کر دیں۔

 اسرائیل نے فلسطینی عربوں کو دبانے کے بہانے سے بیروت ولبنان کو تباہ کرڈالا ہے اورتیونیشیا جیسے آزاد و خود مختارملک پر بم باری کی ہے۔ بدقسمتی سے امریکی سامراجی حکومت کے صدر رونالڈ ریگن وہ تنہا سامراجی حکمراں ہے، جس نے اس وحشیانہ بم باری کو جائز کہا۔جمعیت علمائے ہند نے فلسطین میں اسرائیلی مملکت کے قیام کے وقت سے ہی مخالفت کی تھی اور اس کو عربوں کو زیر کرنے اور فلسطینیوں کو تباہ کرنے والا اقدام قرار دیا تھا۔

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ اسرائیل مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے دنیا کے تمام امن وانسانیت دوست ملکوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیلی سامراج سے ناطہ توڑ لیں اور اس کا بائیکاٹ کرکے مجبور کریں کہ وہ مظلوم عربوں کی مقدس سرز مین کو آزاد کریں، تاکہ آزاد عرب فلسطینی حکومت وہاں قائم ہوسکے۔

جمعیت علمائے ہند عربوں کو یقین دلاتی ہے کہ اس جنگ میں ہندستانی مسلمان اور انصاف پسند عوام عرب مظلوموں کے ساتھ ہیں اوران کی پر زور حمایت کرتے ہیں۔

 محرک: مولانا سید اسعد مدنی صاحب ؒ۔تائیدات: مولا نا عبدالرحمانؒ پالن پوری ۔سابق وزیراتر پردیش مسٹر عبدالرحمان خاں نشتر صاحب ؒ۔

 حضرت صدرمحترم، مولا نا پالن پوری اورنشتر صاحب نے ایک ایک سور و پیہ ماہانہ اس فنڈ میں دینے کا اعلان کیا۔ مجمع نے اسی وقت پانچ ہزار روپے نقد دیے اور متعد د حضرات نے ماہانہ و یک مشت دینے کے وعدے کیے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

13،14؍ جون 1988ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ کی ایک تجویز کے پیراگراف نمبر میں مطالبہ کیا گیا کہ:

’’تحفظ حرم، فلسطین کی آزادی اور امارت شرعیہ کے سلسلے میں مرکزی جمعیت کی ہدایت کے مطابق پروگرام اور جدوجہد کی جائے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

آزاد فلسطینی حکومت کو مبارک باد

15؍نومبر 1988ء کو یاسر عرفات نے الجزائر میں فلسطینی قومی کونسل کے اجلاس میں ریاست فلسطین کے قیام کا اعلان کیا۔اس میں یروشلم (القدس) کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا گیا تھا۔اس کے بعد 26،27؍ نومبر1988ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس کی تجویز نمبر(۵) میں اس اعلان کا خیرمقدم کیا گیا۔ 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس آزاد فلسطینی ریاست کے اعلان پر اپنی از حد خوشی کا اظہار کرتا ہے ، کیوں کہ پی ایل او کے قومی کونسل کا یہ اعلان تاریخ حریت و آزادی کا ایک ایسا ولولہ انگیز باب ہے ، جس پر دنیا کی تمام حریت پسند قوموں کو فخر ہے۔ 

قابل صدر احترام مجاہد جناب یاسر عرفاتؒ کی قیادت میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار داد 242کے مطابق ہے۔ 

مجلس عاملہ کو مسرت ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے میں حکومت ہند نے بروقت اقدام کیا ہے۔ مزید مسرت کی بات یہ ہے کہ اب تک 54ممالک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں، جن میں چین اور روس جیسے بڑے ملک بھی شامل ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ امریکہ برابر اس نوزاد مملکت کی مخالفت کر رہا ہے اور آزادی و تہذیب کے دعوے دار برطانیہ نے ابھی تک اس عظیم بہادر قوم کی مملکت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، جمعیت علمائے ہند کے خوابوں کی تعبیر ہے اور فلسطینی عوام سے جمعیت علمائے ہند کی ہمدردی اور تعاون ایک واضح حقیقت ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس امریکہ اور برطانیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھی آزادفلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔ مجلس عاملہ انجمن اقوام متحدہ سے درخواست کرتی ہے کہ وہ مملکت فلسطین کو بلاتاخیر تسلیم کرے، تاکہ اس عالمی تنظیم میں آزاد اور پر عزم فلسطینی قوم کی نمائندگی ہوسکے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

آزادفلسطینی ریاست کا قیام جمعیت کی خوابوں کی تعبیر

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان 15؍نومبر 1988 کو الجزائر میں’’فلسطین لبریشن آرگنائزیشن‘‘(PLO) کے رہنما یاسر عرفات نے کیا تھا۔ چوںکہ یہ اعلان 1988 کے آخر میں ہوا تھا، اس لیے درجنوں ممالک نے اسی سال اسے تسلیم کر لیا تھا۔ البتہ 1989 میں بھی کچھ ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

ہندستان نے فلسطینی ریاست کو 18؍نومبر 1988ء کو تسلیم کیا۔ یہ فلسطینی اعلانِ آزادی کے صرف تین دن بعد تھا، اور ہندستان اس وقت کے پہلے غیر عرب ممالک میں سے ایک تھا، جس نے اسے تسلیم کیا۔ ہندستان نے 1974 میں PLO کو فلسطینیوں کا واحد نمائندہ تسلیم کیا تھا، اور 1988 میں مکمل ریاست کی حیثیت دی۔

مجلس منتظمہ منعقدہ: 11،12؍ فروری 1989ء میںآزادفلسطینی ریاست کے قیام کو جمعیت علمائے ہند کی خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس آزاد فلسطینی ریاست کے اعلان پراپنی ازحد خوشی کا اظہار کرتا ہے، جو دنیا کی تاریخ حریت و آزادی کا ایک ولولہ انگیز باب ہے اور اس اعلان پر ہم تمام ہندستانیوں؛ بالخصوص مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کو فخر ہے۔

 جمعیت علمائے ہند ارض فلسطین میں روز اول سے ہی اسرائیلی مملکت کے قیام کی مخالف رہی ہے۔ مسئلۂ فلسطین پر پہلی کانفرنس ہوئی تھی، اس میں مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحبؒ کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند کے ایک مقتدر وفد نے شرکت کی تھی۔ وقت نے ثابت کردیا کہ جمعیت علمائے ہند نے اسرائیل کے سلسلے میں جو موقف اختیار کیا تھا ،وہ درست ہے۔

جمعیت علمائے ہند کا اجلاس اس صورت حال کو بہت خوش آئند تصور کرتا ہے کہ عالمی رائے عامہ کے دباؤ سے خود اسرائیل میں عوام کا ایک بڑا طبقہ اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پی ایل او سے گفتگو کرے۔ پی ایل او کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے لیے امریکہ نے یاسر عرفاتؒ کو ویزا دینے سے انکار کر دیا،توان کی تقریر سننے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس جینیوا میں منعقد کیا گیا۔

 فلسطینیوں کا واحداور سب سے بڑا مسئلہ فلسطینی ریاست کا قیام ہے، اس لیے خود اسرائیل کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر پی ایل او سے گفتگو کرے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ حق کی فتح جدید ہتھیاروں کی مرہون منت نہیں ہے اور حق بہرحال فتح یاب ہو کر رہتا ہے۔ پی ایل او سے گفتگو کے لیے اسرائیل کی آمادگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ رائے عامہ بجائے خود سب سے بڑا مؤثر ہتھیار ہے اور اس کو بڑی سے بڑی طاقت بھی نظر انداز نہیں کر سکتی۔

 جمعیت علمائے ہند نے فلسطینی کاز کے لیے جو عملی جدوجہد کی، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے اپنے محدود وسائل کے باوجود فلسطینیوں کی ہمیشہ مالی، اخلاقی اور ہر قسم کی مادی مدد کی ہے اور ان کے جہاد میں شریک ہونے کے لیے ’’صندوق الجہاد‘‘ بھی قائم کیا ہے، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آزاد فلسطینی ریاست جمعیت علمائے ہند کے خوابوں کی شان دار تعبیر ہے اور جب آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تاریخ رقم کی    جائے گی، تو اس میں جمعیت علمائے ہند کے تعاون اور اس کی جد و جہد کا بھی ایک اہم باب ضرور درج ہوگا۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس بارگاہ رب العزت میں دعا کرتا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد مسٹر یا سرعرفات کی قیادت میں فلسطینی نوجوانوں کی بے مثال قربانیاں جلد از جلد کامیابی کی منزل سے ہم کنار ہوں۔ 

یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عدل وانصاف کی رو سے آزاد فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرے اور اس کو بھی اس عالمی ادارے میں رکن بنا کر نمائندگی دے۔‘‘

فلسطینیوں کی نسل کشی پر پرزور احتجاج

اسرائیل کی طرف سے فلسطین پر تسلسل کے ساتھ وحشیانہ بم باری جاری تھی، جس کے تناظر میں مجلس منتظمہ منعقدہ: 3؍ جون1990ء میں درج ذیل تجویز نمبر-۱۸- منظور کی گئی:

’’فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان کی نسل کشی پر -جس کا سلسلہ اعلان ’’بالفور‘‘ کے بعد سے ہی چل رہا ہے- جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس پر زور احتجاج کرتا ہے۔ مجلس منتظمہ کوسخت تشویش ہے کہ اس وقت اسرائیل نے فلسطینیوں پر مظالم، ان کی نسل کشی اور انھیں اجاڑنے کی کارروائی کو تیز کر دیا ہے، جس کی وجہ سے پوری عرب دنیا میں سخت بے چینی پھیل گئی ہے۔ مجلس منتظمہ حکومت ہند اور ہندستانی فلسطین دوست عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی کی پر زور مذمت کریں اور اقوام متحدہ کے فیصلوں پر عمل کرنے کے لیے اسے مجبور کرے۔

 مجلس منتظمہ کو اس امر پر بھی نہایت تشویش ہے کہ عرب مقبوضہ علاقوں میں روس اور مشرقی یورپ کے ملکوں سے یہودیوں کے بڑی تعداد میں آنے سے ایک سنگین صورت پیدا ہو گئی ہے۔ اسرائیلی حکام بر سر عام یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی عظیم اسرائیلی ریاست ہے، جس میں وہ اردن، شام اور سعودی عرب کے حصوں کو شامل کرتے ہیں۔

 مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سوال کا نہایت سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لے۔ مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطینیوں کے بے رحمانہ قتل اور اسرائیل کی دہشت گردی، نیز امریکہ کی پشت پناہی کی پرزور مذمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کو ہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی اپنی پوری حمایت کا یقین دلاتا ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ،جلد سوم، ص؍

فلسطینی آبادیوں پر اسرائیل کی درندگی پر سخت نفرت اور غصہ کا اظہار

اس کے بعد 9؍ جون 1991ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میں بھی فلسطینی آبادیوں پر اسرائیل کی درندگی پر سخت نفرت اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس جنوبی لبنان میں ، فلسطینی آبادیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ بم باری اور درندگی پر سخت نفرت اور غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے اور اس کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ 1982ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے فلسطینی بستیوں پر اتنی زبردست بم باری کی ہے، جس میں دو درجن کے قریب معصوم فلسطینی ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں اسکولی بچے بھی شامل ہیں۔ 

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پہلی فرصت میں سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرکے اس صورت حال پر غور کرے اور اسرائیل کی ان وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف سخت مذمتی قرارداد منظور کرے ۔ امریکہ کو بھی مجبور کیا جائے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیار کی سپلائی بند کرے؛کیوں کہ امریکہ جیسی سامراجی ملک کی پشت پناہی سے اسرائیل عالمی غنڈہ گردی کی طرف برابر اپنا قدم بڑھا رہی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دنیا کے تمام امن پسند اور انسان دوست ملکوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس بربریت اور عالمی دہشت گردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ 

مجلس عاملہ حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے اس صورت حال پر غور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے پر زور دے کر مظلوم فلسطینی عوام سے اپنی دیرینہ ہمدردی کا ثبوت پیش کرے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد چہارم، ص؍

اس کے بعد 30؍ نومبر1991ء کو منعقد مجلس عاملہ میں بھی فلسطین کے موجودہ مسائل پر غور کیا گیا۔ اور مجلس عاملہ نے فلسطینیوں کے لیے آزاد فلسطینی حکومت کو ایک ضرورت قرار دیا اور فلسطینیوں کے اس مطالبہ کی تائید میں تجویز پاس کی۔(کارروائی رجسٹر)

قیام امن کے لیے پی ایل او کو شریک کرنے کا مطالبہ

یکم و 2؍ دسمبر1991ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی تجویز نمبر-۵- میں اسرائیل کے ایٹمی طاقت بننے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آخری پیرا میں یہ مطالبہ کیا کہ:

’’ مجلس منتظمہ اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ اسرائیل امریکی، برطانوی مدد سے ایٹمی طاقت بن چکا ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ کا امن خطرہ میں نظر آتا ہے۔ مجلس منتظمہ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ پی ایل او کو قیام امن کی گفتگو میں شریک کیا جائے۔ پی ایل او کے بغیرفلسطینی نمائندگی ممکن نہیں ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

یا سر عرفات کے ہوائی حادثہ میں محفوظ رہنے پر مبارک باد

 7؍ا پریل 1992ء کو لیبیا میں بطل حریت اور عالم اسلام کے فرزند جلیل، تنظیم آزادی فلسطین کے چیرمین اور آزاد فلسطین ریاست سربراہ جناب ابو عمار یاسرعرفات ایک شدید صحرائی طوفان میں گھرگئے تھے؛ مگر اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کی حفاظت فرمائی اور ان کواس حادثہ سے محفوظ رکھا۔جیسے ہی مسٹرعرفات کے محفوظ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی، ملت اسلامیہ کا الم انگیز اضطراب خوشی و مسرت میں بدل گیا۔ اس موقعہ پر 9؍اپریل1992ء کو صدر محترم جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے ایک مؤقر وفد کے ہمراہ فلسطینی سفارت خانہ تشریف لے جاکر اس حادثۂ جاں کاہ سے بخیر وعافیت بچ نکلنے پر اپنی اور مسلمانان ہند کی طرف سے مبارک باد پیش فرمائی تھی، جس کے جواب میں جناب یا سر عرفات کی طرف درج ذیل برقیہ موصول ہوا ہے، جس کی فوٹو کاپی اور اس کا اردو ترجمہ پیش ہے:

انتہائی شکر ومسرت کے ساتھ میں نے آپ کا وہ مبارک بادی پیغام وصول کیا، جو آں جناب نے میرے اور میرے ساتھیوں کے ہوائی جہاز حادثہ میں بخیر و عافیت محفوظ رہنے پر ارسال فرمایا ہے۔ ہمارا جہاز شدید صحرائی طوفان کی زد میں آکر لیبیائی صحرا میں حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ میں ذاتی طور پر اپنے رفقا، ارکان مجلس عاملہ تحریک آزادی فلسطین، نیز پوری فلسطینی قوم کی جانب سے جناب والا کے جذبات صادقہ پر تہہ دل سے شکر یہ پیش کرتا ہوں اور میں آپ کے ہماری فلسطینی قوم اور مسئلۂ فلسطین سے متعلق جذبات اور قیام امن کے لیے ہماری سرگرمیوں کی مسلسل حمایت کی نہایت قدر کرتا ہوں۔ اخیر میں دوبارہ خلوص دل سے شکریہ پیش کرتا ہوں اور آںجناب کی دائمی صحت و سلامتی کا متمنی اور آزادی قدس کے لیے دعا کا خواست گار ہوں۔

والسلام 

یا سر عرفات صدر مملکت فلسطین و صدر مجلس عاملہ تحریک آزادی فلسطین تیونس۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،8-14؍مئی1992ء)

 آزادخود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ

 8؍ مئی 1992ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں جمعیت علمائے ہند نے جہاں ہند اسرائیل سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا، وہیں یہ بھی مطالبہ کیا کہ آزاداورخود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو بھی یقینی بنایا جائے۔ 

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس اس  بات پراز حد تشویش کاا ظہار کرتا ہے کہ مسئلۂ فلسطین اب تک لاینحل بنا ہوا ہے اور اس مسئلہ کے مذاکرات اب تک بے سود ثابت ہوئے ہیں۔ اسی دوران ہماری حکومت نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر کے مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کی پالیسی، نیز جمہوریت اور غیر جانب دار تحریک کی خلاف ورزی کی ہے، جب کہ1986ء میں سری لنکا کی حکومت نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے رابطہ قائم کیا تھا، تو اس وقت ہماری حکومت نے اس پر سخت اعتراض کیا تھا۔

 مجلس عاملہ کو احساس ہے کہ اسرائیلی ایجنسیاں ہمارے ملک میں ہند ومسلم تعلقات کو خراب کرنے کے لیے نت نئی سازشیں کر یں گی۔ اسرائیل ایک بین الاقوامی سازش کے تحت 1948ء  میں قائم کیا گیا اور اپنے قیام کے روز اول سے ہی وہ امن عالم کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں متعدد جنگیں ہوچکی ہیں اور اس نے لاکھوں عربوں کو مارکرا و را نھیں برباد کر کے پناہ گزیں بنادیا ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرار دادیں تسلیم کر نے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ ایک عالمی مجرم ہے۔ ہماری حکومت کو بائیس عرب ملکوں اور باون مسلم ملکوں کے احساسات و جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چا ہیے کہ ان ملکوں میں دس لاکھ ہندستانی کام کر رہے ہیں اور عرب ملکوں سے ہمارا اربوں روپیہ کا تجارتی لین دین ہے۔ ان حالات میں حکومت ہند کا اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرناہرگز مناسب نہیں ہے، اس لیے حکومت ہند اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرلے۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دنیا کے تمام ملکوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے حقوق تسلیم کر نے پر مجبور کریں اور آزادخود مختار فلسطینی ریاست کا قیام یقینی بنائیں اور قبلۂ اول کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کرائیں۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

سلامتی کونسل سے فلسطینیوں کو انصاف دلانے کا مطالبہ

مجلس عاملہ منعقدہ: 21 ؍ دسمبر1992ء میں سلامتی کونسل سے فلسطینیوں کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ طرح طرح سے سیکڑوں فلسطینیوں کو بے گناہ قتل کردیا گیا ۔ ان مظلوموں کو کیمپوں میں بھی پناہ حاصل نہیں ہے۔ صرف ایک اسرائیلی کے اغوا اور قتل کے بدلے میں چار سو سے زائد فلسطینیوں کو قیدی بناکر اسرائیل سے نکال دیا گیا، جو ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں برفیلے پہاڑوں پر پڑے ہوئے ہیں۔ یہ چیز انسانیت کے لیے باعث شرم ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کے چھ جوانوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا ، جن میں ایک نو سال کی بچی بھی تھی۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اور تمام انسانی ہمدردی رکھنے والے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس ظلم و بربریت کا خاتمہ کرنے میں متحد ہوکر آواز اٹھائیں اور مظلوم فلسطینیوں کو اس ظلم سے نجات دلائیں۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

فلسطین اسرائیل معاہدہ کا خیر مقدم

13؍ستمبر 1993ء کو واشنگٹن ڈی سی (امریکہ) کے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم یتزحاک رابن اور PLO کے چیئرمین یاسر عرفات کے درمیان امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اہم معاہدہ:’’اوسلو معاہدہ‘‘ ہوا، جسے (Oslo Accord)بھی کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت PLO نے اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کیا۔اسرائیل نے PLO کو فلسطینی عوام کا واحد نمائندہ تسلیم کیا۔ ایک پانچ سالہ عبوری دور (interim period) طے کیا گیا، جس میں فلسطینی علاقوں (غازہ اور مغربی کنارے) میں محدود خودمختاری دی گئی۔ فلسطینی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسی طرح اسرائیل نے غازہ اور جریکو سے فوجی انخلا کرنے کا وعدہ کیا۔

اس کے کچھ دنوں بعد 3،4؍ اکتوبر 1993ء کو جمعیت علمائے ہند نے ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ منعقد کی، جس میں تجویز نمبر-۸-کو منظوری دیتے ہوئے اس معاہدہ کا خیرمقدم کیا گیا:

’’مسلمانوں کی یہ نمائندہ کانفرنس فلسطین و اسرائیل کے مابین امن معاہدہ کا خیر مقدم کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ معاہدہ فلسطینیوں کی آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو۔ اسرائیل نے سلامتی کونسل کی قرار داد 242اور 338کا احترام و نفاذ قبول کرلیا ہے، جن کی رو سے اسرائیل ان تمام علاقوں کو خالی کردے گا، جن پر اس نے 1967ء میں قبضہ کیا تھا، تو اس پر ایمان داری کے ساتھ عمل ہونا چاہیے۔ یاسر عرفات نے اسرائیل سے امن معاہدہ کرکے اپنے لیے شدید امتحان مول لیا ہے۔ آزادی کے لیے فلسطینی عوام کا پیمانۂ صبر لبریز ہوچکا تھا اور اب ان کے جذبۂ حریت کو کچلنا اسرائیل اور امریکہ کے لیے ممکن نہیں تھا، اس لیے وہ اسرائیل -جو نئے ورلڈ آرڈر کے علم بردار امریکہ کی سرپرستی میں فلسطینیوں کو منھ لگانا پسند نہیں کرتا تھا- ان سے ایک امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

فلسطینیوں کا اجتماعی قتل امریکہ اور اسرائیل دونوں ذمہ دار

25؍فروری 1994ء کو جمعہ کے دن، رمضان المبارک کے دوران اور یہودی تہوار پوریم کے موقع پر،شہر الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد میں،ایک یہودی انتہا پسندباروخ گولڈسٹین (Baruch Goldstein)نے فجر کی نماز کے وقت مسجد میں داخل ہوکر نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہادت اور لوگ زخمی ہوئے۔ 

28؍ فروری1994ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر امیرالہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی  صاحب نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ بیان درج ذیل ہے:

 جمعیت علمائے ہند کے صدر امیرالہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں ہیبرون کی ابراہیمی مسجد میںچون مسلمانوں کے قتل عام کے لیے اسرائیل کے علاوہ امریکہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی امریکہ سے آئے قاتل یہودی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے فلسطینیوں کو ہی اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ ایک طرف امریکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کی علم برداری کا مدعی ہے۔ دوسری طرف اس نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ سلامتی کونسل میں جس طرح امریکہ نے اسلامی ملکوں کی فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے متحدہ اقوام کی فورس تعینات کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ہے، اس سے امریکہ کے مسلم دشمن رویہ کی توثیق ہو جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کہیں مسلمانوں کے قتل عام کا جو کھیل بوسنیا میں امریکہ اور روس کی شہ اور سرپرستی میں کھیلا جا رہا ہے، وہ فلسطین میں بھی دوہرایا جائے گا۔

 امیر الہند نے کہا کہ13؍ ستمبر(1992ء) کو پی ایل او اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت اسرائیل سے جن علاقوں کو آزادی ملنے والی ہے، اگر وہاں سے نئی بستیوں میں بسائے گئے یہودیوں کو نہیں ہٹایا گیا، تو فلسطینوں کو بھی بوسنیا جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،11-17؍مارچ1994ء)

مسجد ابراہیم میں فلسطینیوں کا قتل عام 

اس کے بعد جب 18؍ مارچ 1994ء کو مجلس عاملہ منعقد ہوئی، اس میں بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس فلسطین کے مقبوضہ شہر’’ الخلیل‘‘ کی ’’مسجد ابراہیم‘‘ میں فلسطینی نمازیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس درندگی اور بہیمیت کا ذمہ دار اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو ٹھہراتا ہے۔ مسجد ابراہیم میں نماز فجر کے درمیان غازیوں پر اس وقت فائرنگ کی گئی ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سربہ سجود تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں نمازیوں کی شہادت اسرائیل کی مذہبی منافرت کی بدترین علامت ہے۔ فائرنگ کرنے والا انتہا پسند یہودی اسرائیل کی فوجی وردی میں تھا اور وہ امریکہ سے آکر وہاں گیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے آغاز کے بعد ہی فلسطینیوں کی داخلی خود مختاری کے مسئلہ پر پیش رفت کو روکنے کے لیے انتہا پسندیہودی گروہوں کی فلسطین مخالف سرگرمیاں ہیں۔ اور مقبوضہ عرب علاقوں میں صہیونی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے مابین پرتشدد جھڑپیں روزانہ کا معمول بن گئی ہیں۔ مسجد ابراہیم میں نمازیوں کا قتل عام ایک جنونی یہودی آباد کار کی کارستانی نہیں ہے؛ بلکہ ایک منصوبہ بند سازش ہے۔ فائرنگ کرنے والا تنہا نہیں تھا ؛ بلکہ وہ گولیوں کی بوچھار کرتا آیا ، تو دیگر اسرائیلی فوجی اس کی مدد کرتے رہے۔ 

اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے فلسطینی رہ نمایاسر عرفات کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کی فوج تعیینات کی جائے۔ اس سلسلے میں حقوق انسانی کے علم بردار امریکہ کا رویہ بے حد افسوس ناک ہے ، جو سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کی فوج تعیینات کرنے کی قرارداد کی مخالفت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مسلم ملکوں نے اس قتل عام کی مذمت کی قرارداد پیش کرنی چاہی، تو امریکہ کو یہ بھی گوارا نہیں ہوا اور اس نے تجویز کو رکوادیا۔ 

حکومت اسرائیل نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہودیوں کے دو گروپوں (انتہا پسندوں) پر بظاہر پابندی عائد کردی ہے؛ لیکن یہ سراسر دھوکہ ہے ، کیوں کہ مقبوضہ علاقوں میں آباد یہودیوں کو تو مسلح رہنے کی اجازت ہے؛ لیکن فلسطینیوں کو مسلح رہنے اور اپنا دفاع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ نو سو فلسطینیوں کا جیل سے رہا کرنا بھی فریب اور مکاری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے، وہی کھیل فلسطین میں بھی کھیلا جارہا ہے؛ تاکہ فلسطینی داخلی خود مختاری کی بات بھول جائیں۔ اسرائیل کی بدنیتی اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حکومت نے مسجد ابراہیم میں فلسطینیوں کو نماز عید الفطر ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دنیا کی تمام انصاف پسند قوموں سے اپیل کرتا ہے کہ پی ایل او اور اسرائیل کے مابین ہونے والا معاہدہ کے تحت جن علاقوں کو داخلی خود مختاری ملنے والی ہے، وہاں یہودیوں کی نئی بستیوں کو ہٹانے کا فوراً انتظام کیا جائے اور وہاں اقوام متحدہ کی فوج تعینات کی جائے ؛ ورنہ فلسطینیوں کو بھی بوسنیا جیسے حالات سے دوچار ہونے کا خطرہ ہے۔ 

مسلم ملکوں کا فرض ہے کہ وہ سفارتی اور سیاسی سطح پر فلسطینیوں کی سلامتی کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کریں اور اپنی تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہوکر انصاف اور انسانیت کے ناطہ آواز بلند کریں۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہام، ص؍ 

عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت

13؍ مئی 2000ء کو منعقد چھبیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں  مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے عالم کے مسائل کا تحزیہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ: 

’’مذکورہ تمام باتوں کے پیش نظر بڑی مغربی و یورپی طاقتوں؛ خصوصاً امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس سے ہمارا مطالبہ ہے کہ افغانستان اور عراق پر سے تمام پابندیاں ہٹائی جائیں اور مسئلۂ فلسطین، کوسوو، برما اور چیچنیا کے مسلم عوام کے مسائل اور تکالیف و مشکلات کو دُور کرنے کے لیے فوری، مؤثر اقدامات کریں اور معقول بنیادوں پر باہمی بات چیت سے مسائل کے حل کی راہ نکالیں۔ اس کے بغیر انسانی حقوق کے محافظ و نگراں ہونے کا دعویٰ محض ایک فریب اور ناجائز پروپیگنڈہ ہے۔‘‘

اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحدہ مضبوط موقف اختیار کریں

ایریل شیرون کے مسجد اقصیٰ کے دورہ کرنے کے بعد28؍ستمبر2000ء سے دوسری تحریک انتفاضہ شروع ہوئی، جس کے تحت اسرائیلی فوج نے نہتے فلسطینیوں پر بربریت کا شدید مظاہرہ کیا۔حتیٰ کہ30؍ستمبر2000ء کو ایک ننہا فلسطینی محمد الدرہ بربر اسرائیلی فوج کی گولیوں سے شہید ہوگیا۔ 

16؍اکتوبر2000ء کو صدرجمعیت نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی ان ننگی جارحیت کی سخت مذمت کرت ہوئے کہا کہ اسرائیل یہ سب کچھ امریکہ و برطانیہ کی اندرون خانہ ساتھ گانٹھ سے کر رہا ہے۔ یہ صرف زبانی بیان دے کر عرب ممالک اور تیسری دنیا کو حسن فریب میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں اور افسوس ہے کہ عرب، اسرائیل کی ننگی جارحیت، مکاری، غداری، عیاری اور غاصبانہ ذہنیت و اقدام کے خلاف کوئی مضبوط متحدہ محاذ، اب تک نہیں بنا سکے ہیں۔

انھوں نے عالم اسلام کو مشورہ دیا کہ وہ قیام امن تک اسرائیل سے ہر طرح کے سفارتی و اقتصادی تعلقات منقطع کرلیں ۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،27؍اکتوبر تا2؍نومبر 2000ء)

اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

23؍اکتوبر2000ء کوخدام جمعیت علمائے ہند نے فلسطینی مسلمانوں پراقوام متحدہ اور امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کے خلاف ا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر واقع لودھی اسٹیٹ نئی دہلی پرعظیم الشان پُرامن احتجاج کیا۔ جس کی مکمل کارروائی’’اسرائیل‘‘ میں درج کردی گئی ہے۔ اس موقع پر جو تجویز منظور کی گئی، اس کا متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجتماع مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کھلی جارحیت، مسجد اقصیٰ کی حرمت کی پامالی اور اقوام متحدہ کے بے نتیجہ مذمتی زبانی بیانات کی سخت مذمت کرتا ہے۔ نیز امریکہ اور اس کے حلیف ممالک-جو اسرائیل کی ہمیشہ پشت پناہی، حمایت اور فلسطینیوں کے خلاف کام کرتے رہے ہیں- ان کی بھی سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ بہت ہی تشویش ناک اور انسانیت کے لیے باعث ننگ و عار ہے۔ حقوق انسانی کے تحفّظ کی بات کرنے والے یورپی مغربی ممالک ؛خصوصاً امریکہ اور اقوام متحدہ کی حمایت اور کمزور، بے جان باتوں سے شہ پاکر اسرائیل کھلے عام فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے۔ گولیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ حالیہ جاری جارحیت میںایک سو چوبیس سے زائد افراد ہلاک اور ساڑھے تین ہزار (3500) زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ اسرائیل کے اس اعلان سے اس کی دیدہ دلیری، ہٹ دھرمی اور غاصبانہ ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصر میں عرب سربراہ چوٹی کانفرنس کی صرف مذمتی قرار داد کی بنا پر امن کے عمل سے الگ ہوجائے گا۔

 یہ اجلاس عرب سربراہ کانفرنس میں اسرائیل کی مذمت، فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی؛ خاص طور سے سعودی عرب کے اسرائیل کے خلاف اختیار کردہ موقف کو اُمید افزا قرار دیتے ہوئے تمام عرب ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف متحدہ مضبوط موقف اپنائیں اور اس سے ہر طرح کے اقتصادی، سفارتی تعلقات منقطع کرلیں۔

یہ اجتماع فلسطینیوں کے ساتھ مکمل اظہاریک جہتی کرتے ہوئے تمام انصاف پسند انسانیت نواز ممالک ؛خصوصاً ہندستان کی سیاسی جماعتوں اور فلاحی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد اور اسرائیل کی مذمت کریں۔

 یہ اجتماع یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ امریکہ نے 1993ء میں وہائٹ ہاؤس میں مختلف ممالک کے سربراہوں کو گواہ بناتے ہوئے پانچ سال کی عبوری مدت کے بعد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق جو معاہدہ کردیا تھا، اس پر عمل آوری کے لیے اسرائیل کو فوری تیار کرے۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،3-9؍نومبر2000ء)

بیت المقدس کی بازیابی کے لیے فیصلہ کن اقدام کی ضرورت

12؍نومبر سے14؍نومبر 2000ء کے درمیان،قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (OIC) کی نویں اسلامی چوٹی کانفرنس (Islamic Summit Conference) منعقد ہوئی تھی۔

اس سربراہی اجلاس کا باقاعدہ عنوان ’’سیشن آف پیس اینڈ ڈیولپمنٹ — الاقصیٰ انتفاضہ‘‘ (Session of Peace and Development ''Al-Aqsa Intifada'') رکھا گیا تھا۔ یہ نام اسے خصوصی طور پر اس لیے دیا گیا، کیوںکہ یہ کانفرنس ستمبر 2000 ء میں شروع ہونے والے دوسرے فلسطینی انتفاضہ اور ان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے فوراً بعد اور اسی تناظر میں بلائی گئی تھی۔

12؍نومبر2000ء کو جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر امیر الہند حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اس کانفرنس کے صدر امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے نام ایک پیغام میں یہ اپیل کی کہ عالم اسلام کے تمام رہنما متحد ہوکر اسرائیل کی بربریت اور ظلم وتشدد کے خلاف فیصلہ کن اقدام کی راہ نکالیں۔ مولانا مدنی نے اجتماع میں شرکت کرنے والے تمام رہنماؤں سے سوال کیا ہے کہ بیت المقدس ، مسجد ِ اقصیٰ اور سرزمین فلسطین میں مقاماتِ مقدسہ کی جس طرح بے حرمتی کی جارہی ہے اور فلسطین کے نہتیّ نوجوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو اسرائیل جس وحشیانہ انداز سے ہیلی کاپٹروں سے راکٹ اور گولیاں برسا کر تباہ اور برباد کررہا ہے، کیا اس سے بھی زیادہ کسی اور ظلم و ستم کا انتظار ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور ہر قسم کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کوئی فیصلہ کن اقدام کریں۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ، 24-30؍ نومبر 2000ء)

اس کی تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں درج ہیں۔

انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اپیل

 27،28؍ ستمبر2001ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں ایک فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ:

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس امریکہ سمیت عالمی برادری سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل ، فلسطین، چیچنیا، سوڈان، عراق اور دیگر مقہور ممالک کے سلسلے میں انسانیت و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور فرقے ، مذہب کی بنیاد پر دہشت گردی کی الگ الگ تعریف نہ کرے۔ دہشت گردی، دہشت گردی ہے ، چاہے وہ کوئی فرد کرے یا تنظیم یا سرکار کرے، امریکہ اور اس کے حلیف و اتحادی ممالک اسرائیل کے دہشت گرد، جاسوسی ادارہ موساد کی دہشت گردانہ ، بربرانہ سرگرمیوں کے خلاف بھی اقدامات کریں، کیوں کہ بغیر غیر جانب دارانہ مؤثر اقدامات کے دہشت گردی کا پائدار خاتمہ نہیں ہوسکتا ہے۔

 امریکہ اور اسرائیل کی ریشہ دوانیوںکی مذمت

 7؍ مارچ 2002ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی ریشہ دوانیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے، اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ متعلقہ تجویز نمبر(۳) میں کہا گیاکہ:

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے جاری وحشیانہ اور انسانیت سوز جارحانہ کارروائیوں اور ان کی امریکہ کی طرف سے مسلسل حمایت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ 

اسرائیل مسلسل فلسطینی عوام کے کیمپوں اور انتظامیہ کو اپنی بم باری اور ٹینکوں کا بے دریغ نشانہ بنارہا ہے۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور بے قصور افرادکو قتل عام کر رہا ہے، حتیٰ کہ فلسطینی انتظامیہ کے اقتدار اعلیٰ کے دفاتر کو پوری طرح برباد کردیا گیا ہے۔ یاسر عرفات کو ان کے دفتر میں محصور کردیا گیا ہے۔ اسرائیل مختلف ممالک اور تنظیموں کی طرف سے قیام امن کی تمام تر اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کے مہیا کردہ بم بار طیاروں سے فلسطینی آبادیوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ نتیجہ میں امن کا عمل پوری طرح تعطل کا شکار ہے، اس کے پیش نظر مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فوری راہ ہموار کرے۔ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں پر روک لگائے۔ اجڑے بے گھر فلسطینیوں کی باز آباد کاری کا انتظام کیا جائے اور اسرائیل کو اس کے لیے مجبور کرے کہ وہ تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کردے۔ 

 (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

اس کے بعد  یکم مئی 2002ء کوجمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر(۱۰) میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی مسلسل حمایت کی سخت مذمت کی۔ مکمل تجویز ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں درج ہوچکی ہے۔

19؍جولائی کو یوم فلسطین منایا گیا

یہودیوں کی جارحیت کے خلاف 19؍جولائی2002ء کو جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر پورے ملک میں جمعہ کو یوم فلسطین منایا گیا اور اپنے احتجاجی جلسے میں درج ذیل تجویز منظور کرکے اقوام متحدہ،امریکی سفارت خانہ اور جمعیت علمائے ہند کو بھیجا گیا۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

…کے باشندوں کا یہ اجتماع اسرائیلی جارحیت اور غاصبانہ و قاتلانہ اقدامات اور امریکہ کی ناجائز اور غیر منصفانہ پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیل اپنی غاصبانہ توسیع پسندانہ مہم سے باز آئے اور مقبوضہ علاقوں کو فوراً خالی کرے۔ امریکہ اسرائیل فلسطین معاملے میںمنصفانہ پالیسی اپنائے۔ یہ اجتماع اقوام متحدہ اور اس کے توسط سے عالمی برادری سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں کو فوری خالی کرنے اور ظلم و جبر سے روکنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اپنائے۔ فلسطین کے مظلوم، اجڑے اوربے گھر عوام کی بازآبادکاری کا معقول بندو بست کرے۔ اور ایک خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے۔ 

(ہفت روزہ الجمعیۃ،19-25؍ جولائی 2022ء)

فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج

 9؍ مارچ 2003ء کو جمعیت علمائے ہند کے ستائیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میںحضرت مولانا اسعد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہندنے فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت وبربریت پر روشنی ڈالی۔ اور اس کے بعد ایک تجویز بھی منظور کی گئی۔ اس کی تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں ملاحظہ فرمائیں۔

حماس رہنما کی شہادت اسرائیل کا بزدلانہ عمل

 حماس کے بانی اور روحانی رہنما شیخ یاسین -جواس وقت 67؍سال کے تھے اور مدتوں سے معذور وہیل چیئر پر تھے - کو اسرائیل نے 22؍مارچ 2004 کی صبح اس وقت نشانہ بناکر شہید کردیا، جب وہ فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہے تھے۔اس حملے میں ان کے ساتھ کئی دیگر افراد بھی شہید ہوئے۔

24؍مارچ 2004ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان میں اسرائیل کی طرف سے شیخ احمد یاسین کو شہید کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ، مجرمانہ اور امن کے عمل کو تباہ کرنے والا بتایا۔تفصیلات کے لیے ’’اسرائیل‘‘ کا عنوان دیکھیں۔

یاسرعرفات کو ایک عظیم قائد کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا

11؍نومبر2004ء کو پیرس میں پچھتر سال کی عمر میں یاسر عرفات صاحب کا انتقال ہوگیا۔اسی تاریخ کو صدرجمعیت علمائے ہندنے فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین شیرِ فلسطین جناب یاسرعرفات کے سانحۂ ارتحال پر اپنے قلبی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاسرعرفات کی وفات کے ساتھ فلسطین کی تحریک آزادی کا ایک باب ختم ہوگیا ہے۔ فلسطینی تحریک آزادی کے سلسلہ میں ان کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ ان کی ذات وہ مینارۂ نور تھی، جس سے دُنیا میں ہر جگہ شمع آزادی کے پروانے روشنی اور بصیرت حاصل کرتے تھے اور امریکہ و اسرائیل کی طرف سے ان کا قد چھوٹا کرنے کی کوششوں کے باوجود ان کو ایک عظیم قائد کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کی فطری موت سے قبل ان پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے؛ لیکن انھوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انتہائی تدبر کے ساتھ فلسطین کی تحریک آزادی کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں پوری دنیا نے فلسطین کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کو تسلیم کیا۔ ان کی مساعی کی بدولت1993ء میں اوسلو کا معاہدہ ہوا، جس کی بنیاد پر ہندستان، چین اور دوسرے ملکوں نے اسرائیل کا وجود تسلیم کیا۔یاسرعرفات کے لیے دعائے مغفرت کرنے کے ساتھ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ فلسطینی ان کی دِکھائی ہوئی راہ پر چلتے ہوئے اپنی جدوجہد کو کامرانی کی منزل تک لے جائیں گے۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ، 26؍نومبر تا 2؍ دسمبر 2004ء)

 عید ملن تقریب میں یاسر عرفات کا ذکر 

17؍نومبر2004ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے لی میریڈین ہوٹل کے نپولین ہال میں عیدملن تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر امیر الہند حضرت مولانا سیّد اسعد مدنی نے اس کے مقاصد و اغراض پر مختصراً روشنی ڈالی۔اس اسلامی تہوار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولانا مدنی نے فلسطین کے مردآہن اور اس کی آزادی کے لیے سراپا جدوجہد بنے یاسرعرفات کے سانحۂ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یاسرعرفات کے انتقال سے بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انھوں نے فلسطین کو صیہونی ظلم و بربریت اور غاصبانہ قبضے سے آزاد کرانے کے لیے جس جرأت و بہادری سے جدوجہد کی اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اُمید رکھتے ہیں کہ یاسرعرفات کی جدوجہد عملی شکل ضرور اختیار کرے گی اور فلسطینی عوام کو باوقار، آزاد اور پرامن زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ اور خود مختار آراد فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔ ہندستان نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے اُن کے مقصد کے حصول میں ہر ممکن اعانت کرے۔ 

(ہفت روزہ الجمعیۃ،26؍نومبرتا2؍دسمبر2004ء)

 اجلاس عام میںاسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج

 29؍ مئی 2005ء کو جمعیت علمائے ہند کااٹھائیسواں اجلاس عام ہوا، جس کے خطبۂ صدارت میں حضرت مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے فلسطین میں قیام امن اور اسرائیل کی جارحیت وبربریت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:

فلسطین ،عرب فلسطینیوں کی مظلومی ومقہوریت اور امریکی، برطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم ووحشت، جارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی ناپاک خواہشات کی علامت بن چکا ہے۔ جمعیت علمائے ہند ہمیشہ اسرائیل کے عزائم واقدامات کی مذمت ومخالفت اور فلسطینیوں کے حق ومطالبے کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کی فلسطینیوں سے دشمنی، غلط پالیسی، مخالفت اور اسرائیل کی ناجائز حمایت، بے جاسرپرستی وشرپرستی، دہشت گردی، مسلح اڈہ کے قیام اور عالمی برادری کے غیر مؤثر رول نے فلسطین اور اس کے مظلوم باشندوں کو سراپا محروم ومظلوم بنادیا ہے۔ امریکہ، اسرائیل کی طرف سے وسیع پیمانے پر تشہیری مہم چلائی گئی کہ یاسرعرفات قیام امن کی راہ میں رکاوٹ اور دہشت گردی کے حامی ہیں۔ان کے انتقال کے بعد، دونوں طاقتوں نے محمود عباس کے نئے صدر بننے کو ایک انقلاب قرار دیا۔ یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے نئی پہل کا آغاز ہورہا ہے۔ امریکی انتظامیہ، اسرائیل کو قیام امن کے عمل میں سنجیدہ حصہ لینے کے لیے آمادہ کررہا ہے اور فلسطینیوں کی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام اور یہودی بستیوں کی تعمیر سے روک رہا ہے؛ لیکن حقیقت میں حالات کسی اور طرف اشارہ کررہے ہیں۔ 8؍فروری 2004ء کو مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ سے جاری سرکاری بیانات میں کہا گیاتھا کہ فلسطین اور اسرائیل دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے نہیں ہوںگے؛ لیکن یہ سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینیوں نے عالمی رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سیزفائر کیا ہے۔ یہ مزید خوش آئند بات ہے کہ آنے والے قومی کونسل کے الیکشن میں حماس نے بھی حصہ لینے کا اعلان کیا ہے اور اس کی طرف سے انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے۔ اسرائیل روڈ میپ اور معاہدۂ امن کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس نے فلسطینیوں کو مشتعل کرنے اور تشدد پر اکسانے کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقوں میں دو نئی یہودی بستیوں کے قیام اور وہاں 35000نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ امن کے عمل کے منافی مذموم قدم ہے۔یہ امریکی روڈمیپ (نقش راہ) کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ اگر اسرائیل اپنے عزائم میں ،کھلی دھاندلی کرکے کامیابی حاصل کرتا ہے، تو امریکہ کی طرف سے پیش کردہ روڈمیپ اور قیام امن میں تعاون دینے کا اس کا دعوی کھوکھلا ثابت ہوجائے گا۔ غالباً اسی لیے بش انتظامیہ نے مغربی کنارے پر نئے مکانات کی تعمیر کے اسرائیل منصوبے کے بارے میں اسرائیل سے وضاحت طلب کی ہے۔ بش نے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اس طرح کے تعمیراتی کام روک دیں۔ وعدہ کے مطابق آٹھ ہزاراسرائیلی آبادکاروں کا انخلا 20؍جولائی 2005ء تک ہوجانا چاہیے، لیکن شیرون اپنی حکمت عملی کے تحت 16؍اگست تک انخلا کو ملتوی کرنا چاہتا ہے۔ غالباً وہ مذاکرے اور امن کے عمل کو سبوتاژ کرکے اسرائیل کی توسیع پسندی کی تکمیل چاہتا ہے۔

مذکورہ حالات کے مدنظر ہماری اس اہم اسٹیج سے فلسطینیوں سے اپیل ہے کہ

۱۔ صبروتحمل اور محتاط رہ کر اسرائیلی عزائم کو ناکام بنادیں۔

۲۔ ہم اسرائیلی عزائم اور غاصبانہ قدم کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

۳۔ خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدہ کے مطابق امریکہ، روس اور عالمی برادری تعاون کرے۔

۴۔ بے گھر، اجڑے فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور گھرواپسی فوری ہو۔

۵۔ عرب مقبوضہ علاقوں سے تمام یہودی بستیوں کو ہٹایاجائے۔

۶۔ امریکہ ،اسرائیل کو مسلح کرنے سے باز آئے۔ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اسرائیل کو بھی بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے غیرمسلح کیا جائے۔

اس کے بعد اسی اجلاس میں منظور کردہ تجویز نمبر- ۱۰- میں درج ذیل الفاظ میں فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی۔ 

جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام فلسطین میں قیام امن کے لیے جاری کوششوں کو غنیمت خیال کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں سے صبروضبط اور تحمل اپنانے کی اپیل کرتا ہے۔ جناب یاسرعرفات کے انتقال کے بعد ان کے جانشین جناب محمود عباس کی صدارت کو اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے فلسطین میں ایک خوش آئند تبدیلی قرار دیا گیا تھا، لیکن افسوس ہے کہ مقرر کردہ ’’نقشۂ راہ‘‘ پر عمل کرنے میں اسرائیل کی طرف سے جس سست روی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور مقررہ یہودی بستیوں کے انخلاکے عمل کو معرض التوا میں ڈالنے اور مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبہ کے ساتھ فلسطینی تحریک مزاحمت (حماس) کے کارکنوں پر جبروتشدد کا جو سلسلہ جاری ہے، اس سے آگے چل کر امن کے عمل کے سبوتاژ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام مطالبہ کرتا ہے کہ:

(۱) جلد از جلد بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔

(۲) بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ فوراً ہٹائے اور’’ اوسلو معاہدہ‘‘ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

(۳) اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے بازآئے اور فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیاں بسانے کا کام فوراً روک دے۔

(۴) مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے لازم ہے کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں اسرائیل کو بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے غیر مسلح کریں۔

(۵) فلسطینی اور اسرائیلی علاقوں کو الگ الگ کرنے والی غیر منصفانہ تعمیر کردہ دیوار فوری طور پر منہدم کی جائے۔

وزیر اعظم سے ملاقات میں فلسطین کے تعلق سے تعلقات خارجہ کا ذکر

17؍مئی 2006ء کو چاربجے دن کو جمعیت علمائے ہند کے ایک مؤقروفد نے حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی مدظلہ‘ صدر جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں وزیرا عظم ہند سے ملاقات کی اور ملک و ملت خصوصاً اقلیت کے ضروری قابل تو جہ مسائل پیش کر کے ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایک طویل میمورنڈم بھی پیش کیا گیا، جس میں وزیرا عظم کو مخاطب کرتے ہوئے نواں یہ مطالبہ پیش کیا گیا کہ:

 مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

(۹)عربوں اور ایران کے ساتھ ہندستان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار اور دوستانہ رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت ہماری خارجہ پالیسی کا روشن باب ہے۔ دور حاضر میں ایران پر غیر مناسب اور ناانصافی پر مبنی امریکہ اور اس سے وابستہ اداروں کا دباؤ ہمارے لیے باعث تشویش ہے اور ہندستان کو اپنے مفادات کا تحفظ ملحوظ نظر رکھتے ہوئے امریکی اجارہ داری کے خلاف ایرانی جدوجہد کی حمایت کرنی چاہیے۔

وزیر اعظم نے وفد کے مطالبات کو توجہ سے سنا اور ان کے حل کے لیے مناسب اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،26؍مئی تا یکم جون2006ء)

اسرائیلی کارروائی سراسر دہشت گردی اور سفاکیت 

25؍جون 2006ء کو فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک اسرائیلی فوجی (گیلاد شالیت) کو قیدی بنائے جانے کے بعد،  اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں ایک وسیع اور انتہائی تباہ کن فوجی آپریشن جاری کیا، جسے اسرائیل نے ’’آپریشن سمر رینز‘‘ (Operation Summer Rains) کا نام دیا۔

اسی تناظر میں30؍جون2006ء کوجمعیت علمائے ہند نے فلسطین میں اسرائیل کی وحشیانہ و سفاکانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے امن کے عمل کو تباہ کرنے والی بتایا۔

  (ہفت روزہ الجمعیۃ،7-13؍جولائی 2006ء)

بعد ازاں 30؍ جولائی2006ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں فلسطین و لبنان پر اسرائیلی وحشیانہ بم باری کی مذمت کرتے ہوئے تجویز منظور کی گئی۔

اس کی تفصیلات’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں درج کردی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ مجلس عاملہ منعقدہ: 22؍ نومبر2006ء میں مسئلۂ فلسطین پر بحث و گفتگو کی گئی اور درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس مشرق وسطیٰ پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے سلسلے میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کی پالیسی اور اقدامات کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حالات کو بگاڑنے کے لیے امریکہ ہی ذمہ دار ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ افغانستان ، عراق میں بش انتظامیہ کی جارحانہ مہم جوئی کا احساس کرتے ہوئے امریکی عوام نے انتخاب میں بش کے خلاف اپنی رائے دی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں امریکی پالیسی کی ناکامی کے بعد یورپی ممالک نے بھی اپنی کوششیں شروع کردی ہیں ۔ اور خطہ کے تنازعہ ختم کرنے اور امن کی نگرانی کی غرض سے ایک مشترکہ منصوبہ تیار کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ اس سے قیام امن میں مدد ملنے کی امید ہے۔ یورپی ممالک کا یہ احساس بہت بامعنی ہے کہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا کے امن پر بین الاقوامی امن منحصر ہے۔ مجلس عاملہ عراق، فلسطین میں جاری قتل و تباہی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے قیام امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے۔ نیز صدام حسین کے لیے جس طرح پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے، اس کی عراق کے مخصوص حالات میں عدل و انصاف کے لحاظ سے کوئی معنویت و اہمیت نہیں ہے۔ اس کے پیش نظر یہ اجلاس اقوام متحدہ ، امن پسند یورپی ممالک ؛ خصوصا تیسری دنیا کے ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حالات کو بہتر بنانے اور قیام امن میں مؤثر رول ادا کریں اور عرب ممالک بھی متحدہ طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ 

 مختلف فلسطین گروپوں میں اتحاد کرانے کی کوششوں کو تحسین 

 14؍ فروری 2007ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ، عراق اور فلسطین کی صورت حال پر غوروخوض کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مشرق وسطیٰ؛ خصوصا عراق، فلسطین کے تشویش ناک حالات پر گہری فکرمندی کا اظہار کرتا ہے۔ امریکہ کی بڑھتی مداخلت، قانون و انسانیت کا مذاق اڑاتے ہوئے صدام حسین کو پھانسی، آئے دن جان و مال کی بھاری تباہی و بربادی اور لاقانونیت اور انارکی نے صورت حال کو انتہائی دھماکہ خیز بنادیا ہے۔ امریکہ کی سازش کے نتیجہ میں شیعہ سنی کی محاذ آرائی اور قتل و غارت کے واقعات سے حالات مزید ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کے قریب اسرائیل کی طرف سے کھدائی کے عمل نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مضطرب اور پورے مشرق وسطیٰ کو بارود کے ڈھیر پر کھڑا کردیا۔ اگر صورت حال پر فوری قابو نہیں پایا گیا، تو قیام امن کا راستہ ، آئندہ ہمیشہ کے لیے مسدود ہوجانے اور تصادم اور خود کش حملوں کا دائرہ مزید پھیل جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ایران کے جوہری پروگرام اور ایٹم بم کی افزودگی کا بہانہ بناکر امریکہ کی عملی مداخلت اور خطے پر قبضہ کی مدت بڑھانے کی کوشش تیز تر ہوجائے گی، جس سے خطے کی خود مختاری اور آزاد حیثیت تباہ ہوجائے گی۔ اس کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس شدت سے محسوس کرتا ہے کہ :

۱۔ شیعہ سنی متحد ہوکر صورت حال کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کی سالمیت و استحکام کے لیے کوشش کریں اور مسلک و فرقہ کے نام پر قتل و غارت کا سلسلہ روکیں۔ 

۲۔ عالمی طاقتیں یورپی ممالک اور تیسری دنیا کے امن پسند ممالک قیام امن اور عراق کو انتشار و انارکی سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے انسانی جان اور سماجی ڈھانچے کو بچانے کے لیے آگے آئے۔ 

۳۔ عرب ممالک متحد ہوکر اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کریں اور قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدام کریں اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے متحدہ جدوجہد کی جائے۔ 

یہ اجلاس سعودی سربراہ ملک عبداللہ کی طرف سے مختلف فلسطین گروپوں میں اتحاد کرانے کی کوششوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور امید کرتا ہے کہ قضیۂ فلسطین کے حل اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ایمان دارانہ اقدامات کیے جائیں گے۔ 

 فلسطین کاز کی حمایت

بعد ازاں مجلس منتظمہ منعقدہ: 5؍ اپریل2008ء میں فلسطین کاز کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطین میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کو غنیمت خیال کرتے ہوئے فلسطینیوں کے کاز کی حمایت کرتے ہوئے وہاں اسرائیل کی طرف سے جاری قتل و غارت گری، ہوائی حملے اور فلسطینیوں کے خون ناحق کی سخت مذمت کرتا ہے۔ وہاں آئے دن کے اسرائیلی محاصرہ، فلسطینیوں کی ناکہ بندی، اقتصادی وسائل کی تباہی اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کرنے کی اسرائیلی کارروائیوں کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ فلسطین میں فلسطینیوں کی حکومت کے قیام و استحکام میں اسرائیل کی طرف سے مسلسل ناجائز رکاوٹوں اور امریکہ کی طرف سے نقشۂ راہ پر عمل کرنے سے گریز کی صورت حال کو خرابی کے لیے اصل سبب سمجھتا ہے۔ اسرائیل جس طرح فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، وہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس ہے۔ یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی عمداً و ارادتاً کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً پوری مغربی حکومتیں، ادارے ؛خصوصاً امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور اقوامِ متحدہ، فلسطین میں قیام امن کے لیے ایمان دارانہ کوشش کریں۔ اسرائیل کو جارحیت اور قتل و غارت گری، ہوائی حملے سے روکیں۔ نیز یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے غیر انسانی اور وحشیانہ تباہ کن کارروائیوں پر ہندستان سمیت تمام ممالک کی خاموشی کو مجرمانہ عمل تصور کرتا ہے۔ ہندستان کے اسرائیل سے بڑھتے تعلقات اور فوجی تعاون و اشتراک کو انتہائی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہوئے نہروگاندھی کے اصولوں کے منافی اور ہندستان کی سابقہ خارجہ پالیسی اور ماضی سے جاری قدیم روایت سے انحراف تصور کرتا ہے۔ اس کے پیش نظر یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ :

(۱) وہ فلسطینیوں کے تئیں سابقہ پالیسی پر کاربند رہے اور ان کی نسل کشی کو روکے اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے کلیدی رول ادا کرے۔

(۲) جلد از جلد بااختیار مستحکم فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔

(۳) بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ فوراً ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

(۴) اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز آئے اور فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیاں بسانے کا کام فوراً روک دے۔

(۵) مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے لازم ہے کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں اسرائیل کو بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے غیر مستحکم کریں۔

(۶) فلسطینی اور اسرائیلی علاقوں کو الگ الگ کرنے والی غیرمنصفانہ تعمیر کردہ دیوار فوری طور پر منہدم کی جائے۔

(۷) فلسطینی عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کی راہ ہموار کی جائے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 انتیسویں اجلاس عام میں مسئلۂ فلسطین کا ذکر

9؍ نومبر2008ء کو جمعیت علمائے ہند کا انتیسواں اجلاس عام ہوا، جس کے خطبۂ استقبالیہ میں فلسطین میں اسرائیل کی جارحیت اور مشرق وسطیٰ کے حالات پر روشنی ڈالی گئی۔ چنانچہ خطبہ میں لکھا گیا کہ:

’’ فلسطینیوں کی مظلومی ومقہوریت امریکی وبرطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم وجارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے ناپاک خواہشات کی علامت بن چکی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اسرائیل کے عزائم واقدامات کی مذمت ومخالفت اور فلسطینیوں کے حق ومطالبہ کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی ناجائز حمایت اور عالمی برادری کے غیر مؤثر رول نے فلسطین کے مظلوم باشندوں کے حقوق کی پامالی میں اہم رول اداکیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے وسیع پیمانے پر یہ تشہیری مہم چلائی گئی کہ یاسر عرفات قیام امن کی راہ میں رکاوٹ اور دہشت گردی کے حامی ہیں، ان کے انتقال کے بعد محمود عباس اور بعد میں حماس کے جمہوری طریقے پر منتخب ہوکر اقتدار میں آنے کے بعد بھی مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے گئے، جو ہونے چاہیے۔ فلسطینیوں نے عالمی رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سیز فائر کیا ہے۔ فی الحال جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جھڑپیں اور مزاحمت کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اسرائیل روڈمیپ اور معاہدۂ امن کی خلاف ورزی مسلسل کرتا آرہاہے۔اقتصادی ناکہ بندی اور مختلف پابندیوں سے فلسطینیوں کے اذیتوں میں اضافہ ہوتارہتا ہے۔ آج بھی فلسطین کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ غزہ پٹی کی جس طرح اقتصادی ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کو بے پناہ تکلیفوں سے گزارنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اس سے اسرائیل کے ناپاک مقصد کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال پارہے ہیں۔ یہ بات عالم اسلام کے لیے شرم ناک اور انسانی لحاظ سے خوش آئند ہے کہ فلسطینیوں کی بے کسی کا احساس ان لوگوں نے کیا ،جن کی غالب اکثریت غیر مسلم ہے، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک سے تعلق رکھتی ہے، انھیں کے کوششوں سے فری غزہ مومنٹ کا قیام عمل میں آیا۔اس تحریک نے اس راہ میں حائل غیر معمولی خطرات اور عالمی صیہونی دباؤ کے باوجود اقتصادی محاصرہ کو توڑنے کے مقصد سے چالیس رضاکاروں پر مشتمل ایک گروپ سمندر کے راستے غزہ کے لیے روانہ کیا۔ یہ رضاکار مختلف قومیتوں اور ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں ٹونی بلیئر کی اسی سالہ بہن بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے اس گروپ کو ڈرانے، دھمکانے اور ان کا راستہ روکنے کی ہرممکن کوشش کی ؛لیکن ان کے ناقابل شکست عزائم کے سامنے منھ کی کھائی۔ یہ گروپ سائپرس سے دوکشتیوں میں اس آبی گذرگاہ سے عازم سفر ہوئے، جن پر مدت سے کوئی کشتی نہیں گزری تھی۔ نہتے لیکن انسانی ہمدردی اور امن وآزادی کے جذبہ سے معمور یہ گروپ وہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہوا، جس کا مظاہرہ وسائل سے مالا مال عرب حکومتیں نہ کرسکیں۔ انھوں نے 23؍اگست کو اسرائیل کے اس جابرانہ محاصرہ کو توڑ دیا۔ اس واقعہ سے نئی امید پیدا ہوئی ہے اور نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔اسرائیل کی وزارت خارجہ نے محاصرہ کے سلسلے میں اپنے سخت گیر موقف میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ آئندہ انسانی حقوق اور انسانی امداد سے تعلق رکھنے والے کسی مشن کو روکنے اور ڈرانے دھمکانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ اب اسرائیلی حکومت کے ذمہ دار، کارگزار وزیراعظم یہود المورٹ تک کہہ رہے ہیں کہ پائدار قیام امن کے لیے کچھ مقبوضہ علاقوں کا انخلا اور فلسطینیوں کے مطالبات وجذبات کا لحاظ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب مصری حکام نے رفح چوکی سے کچھ مریضوں کو مصر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ انسانیت اور قیام امن کے لیے ایسی کوشش کرنے والوں کی ہم تحسین کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ حالات میں دیر سویر خوشگوار تبدیل ہوگی، عالمی سطح پر قیام امن میں فلسطین کا مسئلہ اہم رول اداکرے گا۔ فلسطینیوں کی آزادی اور باعزت زندگی اور خودمختار ریاست کے قیام سے عالمی سطح پر حالات میں تبدیل کے قوی امکانات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکہ، روس اور عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدے کے مطابق تعاون کریں۔ بے گھر اجڑے فلسطین عوام کی بازآبادکاری اور گھر واپسی کے راہ ہموار کی جائے۔ عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔ اس سلسلے میں ہندستانی حکومت کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیے۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے سلسلے میں ہندستان کی پالیسی میں امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے تبدیلی اور انحراف پیداہوگیا ہے۔ گاندھی، نہرو اور ملک کی سابقہ روایت وپالیسی کو نظرانداز کرکے اسرائیل سے حد سے زیادہ قربت وموافقت کی راہ پر حکومت گامزن ہے، اس کے مدنظر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندستان، مظلوموں، کمزوروں کی اعانت وحمایت کی سابقہ پالیسی پر چلے۔

اس کے بعد ایک تجویز نمبر- ۸-بھی اسی موضوع پر منظور کی گئی، جس  کا متن بعینہ وہی ہے، جو مجلس منتظمہ: 5؍ اپریل2008ء کی تجویز نمبر (11)میں ہے؛ البتہ درج ذیل پیراگراف نمبر(۸) کا اضافہ ہے:

(۸)اور جتنی جلد ہوسکے اسرائیل عرب مبقوضہ علاقوں کو خالی کردے۔

یوم فلسطین و دعا منانے کا اعلان

جون 2008 میں مصر کی ثالثی سے چھ ماہ کی عارضی جنگ بندی (ceasefire) ہوئی تھی، جس کے تحت حماس نے راکٹ حملے روک دیے تھے اور اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ جزوی طور پر ہٹایا تھا۔ نومبر2008 میں اسرائیلی چھاپے میں حماس کے چھ ارکان ہلاک ہوئے، جس کے بعد حماس نے راکٹ حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ اسرائیل نے 27؍دسمبر 2008 سے 3؍ جنوری 2009تک شدید بم باری کی، جس کے نتیجے میںپہلے دن ہی 200-230 فلسطینی شہید ہوگئے۔یہ جنگ 18؍جنوری 2009ء تک جاری رہی۔عربوں نے اس جنگ کو غزہ قتل عام کا نام دیا، جب کہ اسرائیلی اسے ’’آپریشن کاسٹ لیڈ‘‘ کہتے ہیں۔

اسی تناظر میں مجلس عاملہ منعقدہ: 30؍ دسمبر2008ء میں اسرائیل فلسطین قضیہ کے سلسلے میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرکے ایک تجویز منظور ہوئی ۔ یوم دعا و مذمت بروز جمعہ منانے اور ایک وفد مختلف ذمہ داروں سے ملاقات کرنا طے کیا گیا۔ یوم دعا و احتجاج 2؍ جنوری 2009ء کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے بے قصور فلسطینی شہریوں کے مسلسل قتل عام کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ کئی دنوں کی لگاتار وحشیانہ بم باری سے ابھی تک سیکڑوں نہتے مرد و عورت اور بچے شہید کیے جاچکے ہیں۔ اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ دنیا میں نام نہاد امن کی علم بردار طاقتیں اس کھلی ہوئی بربریت اور جارحیت پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اور اسرائیل کی طرف سے سرکاری دہشت گردی کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ اس صورت حال پر مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتی ہے اور دنیا کی امن پسند طاقتیں؛ بالخصوص عرب ممالک اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ نیز یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سابقہ غیر جانب دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسرائیل کی دہشت گردی کو روکنے لیے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرے۔ 

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند ، جمعیت کی سبھی ضلعی و مقامی اکائیوں اور ائمۂ مساجد کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ2؍ جنوری 2009ء، جمعہ کے دن اسرائیلی جارحیت پر یوم مذمت و دعا منائیں۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

اس کے بعد مجلس عاملہ منعقدہ: 13،14؍ فروری 2009ء میں بھی ایجنڈا نمبر(4) کے تحت فلسطین پر تجویز مولا نا محمود اسعد مدنی صاحب نے پیش فرمائی، مجلس عاملہ نے اسے منظور ی دی، جس میں اسرائیلی رویہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے تئیں سابقہ پالیسی پر کار بندر ہے، ان کی نسل کشی رو کے اور حل کے لیے کلیدی رول ادا کرے۔ اس ذیل میں مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے کہا کہ ہندستان کے تعلقات اسرائیل سے بڑھتے جارہے ہیں اور ہندستان نہرو کی خارجہ پالیسی سے منحرف ہو گیا ہے۔

دہشت گردی مخالف، امن عالم کا نفرنس میں فلسطین کی حمایت

14؍فروری2009ء کو دہشت گردی مخالف امن عالم کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا، جس کے خطبۂ صدارت میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہند نے فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ:

’’حضرات گرامی قدر !ہم دہشت گرامی کے ضمن میں ایک ایسے سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلانے چاہتے ہیں، جو سامراجی طاقتوں کی مدد سے صیہونیت اور اسرائیل کی عالمی دہشت گردی اور انسانی المیہ کی عالمی علامت بن گیا ہے، وہ مسئلہ ہے: عرب فلسطینیوں پر ظلم و بر بریت کا غاصبانہ قبضے کا سلسلہ۔ فلسطین کا مسئلہ گذشتہ سالوں سے پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ فلسطین کے مظلوم و مقہور بے کس اور نہتے مسلمانوں کے تئیں بڑی عالمی طاقتوں کا امتیازی رویہ دور حاضر کا بڑا المیہ ہے۔ آئے دن صیہونی غاصب اسرائیلی افواج نہتے فلسطینیوں کا بے دریغ قتل عام کرتی رہتی ہیں؛ لیکن ساری دنیا کی نام نہاد امن کی ٹھکے دارطاقتیں نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں؛ بلکہ درپردہ اورا علانیہ ظالموں کا ساتھ دیتی ہیں۔ اور عرب ممالک بھی اپنی عسکری کمزوری کی بنا پر بے بسی کے ساتھ اپنے بھائیوں کی خوںریزی کا منظر دیکھتے رہتے ہیں اور کسی عملی کار روائی کی ہمت نہیں کر پاتے۔

  گذشتہ 27؍ دسمبر2008 ء سے18؍ جنوری 2009ء کے درمیانی عرصہ میں اسرائیل حماس کے زیر کنٹرول فلسطینی علاقہ: غزہ کی پٹی پربم برساتا ہے، آبادیوں کو ویران، سرکاری و رہائشی عمارتوں؛ حتی کہ مسجدوں کو مسمار کرتا رہا، حد یہ ہے کہ قبرستانوں تک کوتہس نہس کرتا رہا، بچوں اور عورتوں کے خون کی ہولی کھیلتا رہا؛ لیکن پانچ ارب آبادی والی اس وسیع دنیا میں کوئی ایسا نہ تھا، جو اس ظالم اور غاصب غیر قانونی ملک کے ہاتھ کو پکڑ پاتا، اس کے خلاف کوئی کارروائی کرتا۔ اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی تجویز اس ظالم نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ پائے حقارت سے روند دی؛ مگر وہ اقوام متحدہ- جو اپنی معمولی خلاف ورزی پر ملکوں کو اقتصادی بندشوں میں جکڑ کر کنگال بنا دیتی ہے- وہ اسرائیل کے خلاف محض بے جان مایوس آمیز بیان دینے پر اکتفا کرتی رہی۔ دنیا کے کسی خطہ میں اگر کسی عیسائی، یا یہودی کی نکسیر پھوٹ جائے، تو ان طاقتوں کو جلال آجاتا ہے؛ لیکن فلسطین میںہزاروں مرد، بچے، عورتیں بے دردی سے قتل ہو گئے؛ مگر سلامتی کونسل کے ٹھیکے داروں کے کانوں پر جوں نہیں رینگی، اس صورت حال پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے ؛کم ہے۔ اسرائیل نے حملہ اس وقت بند کیا، جب کہ غزہ پٹی کا سب کچھ ختم ہو گیا ہے، بلکہ پوری طرح اب بھی حملہ بند نہیں ہوا ہے، اب نئی تعمیر اور باز آباد کاری کا اہم ترین مسئلہ ہے، پورا نظام اور ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دے کر باز آباد کاری کا خرچ اسرائیل سے وصول کیا جائے؛ ورنہ آئندہ بھی اسرائیل از سر نو تیار ڈھانچے کو تباہ کر دے گا، اس سے روکنے کے لیے اسرائیل پر مالیاتی جرمانہ عائد کرنا ضروری ہے۔

حضرات گرامی جمعیت علمائے ہند ہمیشہ سے قضیۂ فلسطین کو نہ صرف مشرق وسطیٰ ؛بلکہ پوری دنیا کا ایک اہم مسئلہ مانتی رہی ہے، جس کی شہادت وہ تجاویز ہیں، جو جمعیت کے اجلاسوں میں اس بارے میں منظور کی گئیں۔ اس مرتبہ بھی جب یہ ظالمانہ کارروائی شروع ہوئی، تو جمعیت کی طرف سے پورے ملک میں ۲؍جنوری کو ’’یوم دعا ومذمت ‘‘منانے کی اپیل کی گئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق اور مکمل آزادی ملنی چاہیے اور خود فلسطینی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر متحدہ کاز کے لیے اجتماعی جدوجہد کریں۔ حماس اور الفتح کے اختلاف کا سیدھا فائدہ اسرائیل اور اس کے آقاؤں کو ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے مسلسل ظلم اور قتل و تباہی نے دہشت گردی کے لیے عالمی سطح پر راہ ہموار کی ہے۔ پائیدار اور دیر پا امن کے لیے مسئلۂ فلسطین کا حل ضروری ہے۔

اس کانفرنس میں فلسطین کے حوالے سے ایک تجویز بھی منظور کی گئی، جس کا متن بعینہ وہی ہے، جو مجلس منتظمہ: 5؍ اپریل2008ء کی تجویز نمبر(11)میںہے؛ البتہ درج ذیل دو پیراگراف کا اضافہ ہے:

 (۸)   اور جتنی جلد ہوسکے اسرائیل عرب مقبوضہ علاقوں کو خالی کردے۔

 (۹)یہ کانفرنس اپیل کرتی ہے کہ حماس، الفتح اور دیگر فلسطینی باہمی اختلافات کو نظر انداز کرکے بااختیار فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی کاز کے لیے کام کریں۔

فلسطین کی موجودہ اندوہ ناک صورت حال کے تئیں تشویش

 10؍ جولائی 2009ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میںفلسطین کے قضیے کے سلسلے میں بات آئی، تو یہ معاملہ سامنے آیا کہ جب تک اس کے حل کے لیے الفتح اور حماس کو شامل نہیں کیا جائے گا، تب تک تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ عربوں کا رویہ عراق ، کویت جنگ کے بعد بدل گیا ہے، فلسطینیوں کے تئیں ان میں منفی رویہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب حکومتوں کا بھی یہی خیال ہے۔ مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے فرمایا کہ سعودی سفیر سے مل کر بات کرنی چاہیے۔ اور فلسطین سے متعلق امور میں مولانا نور عالم خلیل الامینی صاحب وغیرہ سے رابطہ قائم کیا جانا چاہیے۔ اس سے متعلق ایک تجویز بھی منظور کی گئی، جو درج ذیل ہے: 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس فلسطین کی موجودہ اندوہ ناک صورت حال کے تئیں تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ مسئلہ کے پرامن حل کے لیے امریکہ کے بلند بانگ دعوؤں اور زبانی اظہار ہمدردی پر اعتماد کرکے فلسطینی عوام پر جاری اسرائیلی مظالم کو مزید برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ دنیا کی تمام انصاف پسند طاقتوں اور عرب سربراہوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ قول و فعل کے تضاد کی پالیسی کو ترک کرے اور وہ اسرائیل کو عملی طور پر فلسطینی کے تئیں جارحانہ کارروائیوں کو فوراً روکے اور آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنائے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں پائدار امن کا قیام ممکن ہو۔

غیر مسلح فلسطینی ریاست کی اسرائیلی تجویز فلسطینیوں کی مزید تذلیل اور انھیں غلام بنانے کے مترادف ہے۔ نیز اسرائیلی نوآبادی سرگرمیوں کو روکے بغیر کوئی مثبت حل ممکن نہیں ہے۔

فلسطین کے بارے میں امریکی صدر اوبامہ کے قاہرہ اعلانیہ کو جب تک عملی شکل نہیں دی جائے گی، ہم اطمینان کا سانس نہیں لے سکتے۔ صرف وعدوں اور زبانی ہمدردی جتاکر فلسطینی عوام کے زخم پر مرہم نہیں رکھا جاسکتا۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

قضیۂ فلسطین پر امیر الہند رابع کا بیان

3؍ نومبر2009ء کو منعقد تیسویں اجلاس عام میں صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری نے صدارتی خطاب میںقضیۂ فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:

عرب فلسطینیوں کی مظلومی ومقہوریت، امریکی وبرطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم وجارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے ناپاک خواہشات کی علامت بن چکی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اسرائیل کے عزائم واقدامات کی مذمت ومخالفت اور فلسطینیوں کے حق ومطالبہ کی حمایت کی ہے۔ اس وقت خطے میں حالات بہت دھماکہ خیز ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے وہاں (غازہ پٹی میں) مسلسل محاصرہ ہے۔ مسجد اقصی کا وجود معرض خطر میں ہے۔ اسرائیل اپنے ناپاک مقصد کے تحت اس کو ختم کردینے کے درپے ہے۔ گذشتہ دنوں امریکی صدر باراک اوبامہ اور امریکی وزیر خارجہ نے قضیۂ فلسطین کے حل کی سمت میں پیش قدمی کی بات کہی تھی؛ لیکن عملاً اس سمت میں کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اسرائیل بے اختیار غیرمسلح فلسطین کی بات کررہا ہے، جب کہ کسی بے اختیار اور غیرمسلح حکومت کا تصور سراسر بے معنی ہے، ادھر حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل، روڈمیپ اور معاہدۂ امن کی خلاف ورزی مسلسل کرتا آرہاہے۔ اقتصادی ناکہ بندی اور مختلف پابندیوں سے فلسطینیوں کی اذیتوں میں اضافہ ہوتارہتا ہے۔ آج بھی فلسطین کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال پارہے ہیں۔ یہ بات عالم اسلام کے لیے شرم ناک اور انسانی لحاظ سے خوش آئند ہے کہ فلسطینیوں کی بے کسی کا احساس ان لوگوں نے کیا، جن کی غالب اکثریت غیر مسلم ہے۔ یہ افسوس ناک اور قابل توجہ امر ہے کہ امریکی صدر اور وزیر خارجہ کے کہنے کے باوجود اسرائیل نہ تو فلسطینی علاقوں سے یہودی بستیاں ہٹانے کے لیے تیار ہے، نہ نئی بستیاں بسانے پر روک لگارہا ہے۔ ۶؍مختلف مقامات پر ۴۰۰؍ سے زائدمکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے،جب کہ ڈھائی ہزار مکانات کی تعمیر پہلے ہی سے جاری ہے۔1967ء میں غرب اردن اور مشرقی یروشلم کے قبضے کے بعد سے ۱۰۰؍بستیوں میں ۵؍لاکھ یہودی آبادہوئے ہیں،۔بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ تمام بستیاں غیر قانونی ہیں۔ہمیں امید ہے کہ حالات میں دیر سویر تبدیل ہوگی۔ عالمی سطح پر قیام امن میں فلسطین کا مسئلہ اہم رول اداکرے گا۔ فلسطینیوں کی آزادی اور باعزت زندگی اور خودمختار ریاست کے قیام سے عالمی سطح پر حالات میں تبدیلی کے قوی امکانات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکہ، روس اور عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدے کے مطابق تعاون کریں۔ بے گھر اجڑے فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور گھر واپسی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔ اس سلسلے میں ہندستانی حکومت کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیے۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے سلسلے میں ہندستان کی پالیسی میں امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے تبدیلی اور انحراف پیداہوگیا ہے۔گاندھی، نہرو اور ملک کی سابقہ روایت وپالیسی کو نظرانداز کرکے اسرائیل سے حد سے زیادہ قربت وموافقت کی راہ پر حکومت گامزن ہے۔ اس کے پیش نظر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندستان، مظلوموں، کمزوروں کی اعانت وحمایت کی سابقہ پالیسی پر چلے۔

اسی اجلاس میں تجویز نمبر- ۱۴- میںفلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا گیاکہ: 

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام فلسطینیوں کے کاز کی حمایت کرتے ہوئے وہاں اسرائیل کی طرف سے جاری قتل و غارت گری کی سخت مذمت کرتا ہے۔ وہاں آئے دن کے اسرائیلی محاصرہ، فلسطینیوں کی ناکہ بندی، اقتصادی وسائل، تعمیراتی ڈھانچے، دفاتر، ہسپتال، اسکول کی تباہی اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کرنے کی اسرائیلی کارروائیوں کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔فلسطین میں فلسطینیوں کی حکومت کے قیام و استحکام میں اسرائیل کی طرف سے مسلسل ناجائز رکاوٹوں کو خرابی کے لیے اصل سبب سمجھتا ہے۔ گذشتہ جنوری2009ء میں اسرائیل نے جدید ترین امریکی ہتھیاروں کے ذریعہ غزہ کے بے قصور فلسطینیوں کا جو قتلِ عام کیا تھا اور جس طرح کھلے عام جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا، ان پر 17؍اکتوبر 2009ء کو اقوام متحدہ نے بھی مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

لہٰذا یہ اجلاس عام اسرائیل کی طرف سے امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی عمداً وارادتاً کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً یورپی مغربی حکومتیں، ادارے اور اقوام متحدہ، فلسطین میں قیام امن کے لیے ایمان دارانہ کوشش کریں۔ یہ اجلاس یہودی نئی بستیوں کی تعمیر اور کھدائی سے مسجد اقصیٰ کی بنیاد کو لاحق ہونے والے خطرات پر تشویش ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ سے بلند بانگ وعدوں اور زبانی ہمدردی پر اعتماد کرکے فلسطینی عوام پر جاری اسرائیلی مظالم کو مزید برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔دنیا کی تمام امن پسند طاقتوں اور عرب سربراہوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ قول و فعل کے تضاد کی پالیسی کو ترک کرے اور اسرائیل کو عملی طور پر فلسطین کے تئیں جارحانہ کارروائیوں سے فوراً روکے۔ ساتھ ہی خود مختار، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنائے، تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائدار امن قائم ہوسکے۔ غیر مسلح فلسطینی ریاست کی اسرائیلی تجویز فلسطینیوں کی مزید تذلیل اور انھیں غلام بنانے کے مترادف ہے۔ یہ اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ:

(۱) حکومت ہند فلسطینیوں کے تئیں سابقہ پالیسی پر کاربند رہے اور ان کی نسل کشی کو روکنے اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے کلیدی رول ادا کرے۔ 

(۲) عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد بااختیار مستحکم فلسطینی حکومت کے قیام کی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

(۳) فلسطینی عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کی راہ ہموار کی جائے۔

(۴) غزہ میں بھیانک جنگی جرائم کے ارتکاب پر اسرائیل پر بین الاقوامی جنگی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

(۵) یہ اجلاس عام اپیل کرتا ہے کہ حماس، الفتح اور دیگر فلسطینی گروپ باہمی اختلافات کو نظرانداز کرکے بااختیار فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی کاز کے لیے مل جل کر کام کریں۔

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری سے اقدامات کا مطالبہ

یکم جون2010ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنے ایک بیان میں غزہ پٹی کے محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی ساز و سامان لے جانے والے چھ جہازوں پر مشتمل سات سو نہتے رضا کاروں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ یہ قافلہ قبرص سے اتوار کو روانہ ہوا تھا۔اس طرح کا حملہ انسانیت کے بنیادی اصولوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے، جس  سے نہ صرف مشرق وسطیٰ؛ بلکہ اس سے پورا عالم متأثر ہوگا۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،11-17 ؍ جون 2010ء)

غزہ محصورین کے لیے عملی اقدامات پر غور

22؍جون2010ء کو ملی جماعتوں کی ایک نشست بمقام دفتر جماعت اسلامی ہند منعقد ہوئی، اس نشست میں جناب نیاز احمد فاروقی صاحب اور مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب شریک ہوئے،جس میں غزہ کی موجودہ کی صورت حال کا جائزہ، ان کے مسائل کے حل کے لیے ہماری حکمت عملی، انٹر نیشنل کا نفرنس، امداد کی شکل، فنڈ جیسے مسائل زیر غور آئے اور تفصیلی اظہار خیال کے بعد جن باتوں پر بھی کا اتفاق ہوا، اور جو فیصلے ہوئے، وہ درج ذیل ہیں:

 (۱) فلسطین، خصوصا غزہ کی صورت حال اور اسرائیلی جارحیت کو اجاگر کرنے، اہل ملک اور بیرون ملک مسلمانان ہند کا نفس مسئلہ پر اپنی رائے اور احساس کو درج کرانے کے لیے ایک بین الاقوامی کا نفرنس دہلی میں کرنا طے پایا۔ اس میں فلسطین اور ملکی دانش وران سے استفادہ کیا جائے گا۔ اس سے ہمارا رابطہ بھی فلسطینی ذمے داران سے ہوگا، جس کی وجہ سے راست تعلق اور واقفیت کا تبادلہ ہوگا۔ اس دوروزہ کا نفرنس کا تخمینہ سات آٹھ لاکھ روپیہ ہوگا، جو باہم تقسیم کیا جائے گا۔

 (۲) طے پایا کہ مسئلۂ فلسطین کے عنوان سے ایک کل ہند مہم منائی جائے، جس کا مقصد رائے عامہ کی ہمواری اور مسلمان نوجوان نسل، جو نفس مسئلہ سے واقف نہیں ہیں، انھیں روشناس کرانا ہوگا، اس کے لیے ریاستی راجدھانیوں میں پروگرام، لیٹریچر کی تیاری وغیرہ کی جائے گی۔

 (۳) طے پایا کہ ایک مؤقر وفد اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور محروم و مظلوم فلسطینیوں سے ہمدردی کے لیے غزہ جائے۔ بحری سفر مشکل ہوگا، اس لیے بہتر ہو گا کہ مصر کے راستہ غزہ جائے اور موقع ملے، تو بیت المقدس بھی جائے۔ اس وفد میں ملی تنظیموں کے نمائندے، مسلم و غیر مسلم ایم پیز،صحافی اورایکٹیویسٹحضرات بیس سے پچیس افراد کا وفد اچھی نمائندگی کر سکتا ہے۔ کوشش ہوگی کہ جلد از جلد یہ دورہ ہو، ہر فرد اپنا خرچ خود اٹھائے گا۔ 

(۴) غزہ کے حصار کو توڑنے، عالمی رائے عامہ کو بنانے اور اسرائیل پر دباؤ کو مسلسل رکھنے کے لیے بہتر ہوگا کہ جو بحری کا رواں جاتے ہیں، بطورایڈاور علامت کی ایک شپہندستانی مسلمانوں اور انسانیت دوست غیر مسلمین کی جانب سے روانہ کی جائے، اس کی بھی کوشش کی جائے گی۔

 تنظیمیں غور کریں اور بتائیں کہ اس کے کیا امکانات ہیں اور کتنا share کیا جاسکتا ہے۔ نمائندوں نے طے کیا کہ تنظیموں کے ذمے داران سے رہ نمائی حاصل کرنے کے بعد تفصیلات طے کی جائیں گی۔ اس shipمیں امدادی سامان بھی بھجوایا جا سکے گا۔ shipکی قیمت تقریبا ایک کروڑ روپیہ ہوگی۔ (سرگزشت، ص؍66)

فلسطین کے خلاف ہندستان کی غلط پالیسیوںپر احتجاج پر غور 

 5؍ جولائی 2010ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے تین باتیں سامنے آئیں:

۱۔ ایک عالمی کانفرنس بلائی جائے، جس میں فلسطین سے کسی نمائندے کی شرکت ہو۔ 

۲۔ غزہ کے خلاف حصار کو ختم کرنے کے لیے ایک کشتی خرید کر کچھ امدادی سامان لے کر چند افراد جائیں۔

۳۔ فلسطین کے خلاف ہندستان کی بن رہی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا جائے۔ 

اور ہندستان کی جو اس سلسلے میں غلط پالیسی بن گئی ہے، اس کے خلاف مؤثر اور مناسب احتجاج کیا جائے ۔ ایک ریلی نکالی جائے۔ اس کے لیے ریاستی جمعیتوں نے مالی امداد پر آمادگی ظاہر کی ۔ عالمی کانفرنس، کشتی بھیجنا اور احتجاج کرنا؛ان تینوں باتوں پر حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے افراد حسب ذیل ہوں گے: 

۱۔ جناب شکیل احمد سید صاحبؒ۔ ۲۔مولانا نیاز احمد فاروقی صاحب۔ 

۳۔ قاری شوکت علی صاحب۔ ۴۔ مولانا محمود اسعد مدنی صاحب۔ 



سعودی علما کے ایک وفدکواستقبالیہ تقریب 

14؍فروری2011ء کو امیرالہند مولانا قاری سیّد محمد عثمان منصورپوری کی صدارت میں سعودی علمائے کرام کے ایک وفد کواستقبالیہ تقریب دی گئی، جس میں مبلغ اسلام ڈاکٹر عائض القرنی بھی شریک تھے۔

تقریب میںصدر جمعیت علمائے ہند مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے عربی میں سپاس نامہ پیش کیا۔ سپاس نامہ میں انھوں نے مہمانانِ کرام کا استقبال کرتے ہوئے آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد جمعیت علمائے ہند کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ صدر جمعیت نے کہا کہ جمعیت علمائے ہند صرف ہندستان کے مسلمانوں کے مسائل تک محدود نہیں؛ بلکہ عالم عرب خصوصاً فلسطین اور پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کی حمایت میں ہمیشہ آواز بلند کرتی رہتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند کا عالم عرب کے ساتھ ایک گہرا رشتہ ہے اور آپ کی آمد سے اس رشتہ کو مزید تقویت ملے گی۔ امید ہے کہ یہ ملاقات اور بھی ملاقات کا سبب بنے گی۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،25؍فروری تا3؍مارچ 2011ء)

فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کی مہم پر تشویش کا اظہار

مجلس عاملہ منعقدہ: 14،15؍ اکتوبر2011ء میں فلسطین کے تعلق سے تجویز نمبر-۳- منظور کی گئی۔ اس کا متن درج ذیل ہے: 

’’ مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اپنی سابقہ روایت اور تاریخ کے مطابق فلسطینیوں کے کاز کی حمایت کرتا ہے اور وہاں اسرائیل کی طرف سے جاری قتل و غارت گری کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی طرف سے امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی عمدا و ارادتا کوششوں کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی برادری، خصوصا یورپی مغربی حکومتیں ، ادارے اور اقوام متحدہ فلسطین میںقیام امن اور خود مختار حکومت کے قیام کے لیے ایمان دارانہ کوشش کریں۔ یہ اجلاس یہودی نئی بستیوں کی تعمیر اور ہندستان سمیت پوری دنیا سے یہودیوں کو بلاکر ان میں بسانے کی مہم اور مسجد اقصیٰ کی بنیاد کو لاحق ہونے والے خطرات پر تشویش ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ سے بلند بانگ وعدوں اور زبانی ہمدردی پر اعتماد کرکے فلسطینی عوام پر جاری اسرائیلی مظالم کو مزید برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ دنیا کی تمام امن پسند طاقتوں اور عرب سربراہوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ قول و فعل کے تضاد کی پالیسی کو ترک کرے اور اسرائیل کو عملی طور پر فلسطین کے تئیں جارحانہ کارروائیوں کو فورا روکے۔ ساتھ ہی خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنائے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں پائدار امن قائم ہوسکے۔ غیر مسلح فلسطینی ریاست کی اسرائیلی تجویز فلسطینیوں کی مزید تذلیل اور انھیں غلام بنانے کے مترادف ہے۔ فلسطین کے بارے میں امریکی صدر کے قاہرہ اعلامیہ کو جب تک عملی شکل نہیں دی جائے گی، تب تک عملا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ صرف دعوؤں اور زبانی ہمدردی جتاکر فلسطینی عوامی کے زخم پر مرہم نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ 

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حماس اور الفتح کی طرف سے اتحاد کی کوششوں کی تحسین کرتے ہوئے پائداراتحاد کی امید کرتا ہے ، نیز اقوام متحدہ میں چین وغیرہ کی اس کے نئے تبدیل شدہ حالات اور ترکی کے اختیار کردہ موقف سے قضیۂ فلسطین کی راہ میں بہتر تبدیلی پیدا ہوگی۔ یہ اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت ہند : 

۱۔ فلسطینیوں کے تئیں سابقہ پالیسی پر کاربند رہے اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے کلیدی رول ادا کرے۔

۲۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ جلد از جلد بااختیار مستحکم فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

یونیسکو میں فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت کی منظوری

یونیسکو (UNESCO) میں فلسطین کو 31؍اکتوبر 2011ء کو مکمل رکنیت دی گئی تھی۔

 فلسطین کو رکن بنانے کے لیے جنرل کانفرنس میں ووٹنگ ہوئی، جس میں 107؍ممالک نے حق میں، 14؍نے مخالفت میں ووٹ دیا، جب کہ 52؍ممالک غیر حاضر رہے۔یہ پہلی بار تھا کہ فلسطین کو اقوامِ متحدہ کے کسی ذیلی ادارے میں مکمل رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا، جسے فلسطینی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔

 یکم نومبر2011ء کو اس حوالے سے ایک پریس بیان میں کہاکہ:

’’جمعیت نے اقوام متحدہ کے ثقافتی تعلیمی اور سائنسی ادارے یونیسکو میں فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت کی منظوری کو صحیح سمت میں صحیح قدم قرار دیا ہے۔ اس نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ میں جلد سے جلد فلسطین کو مستقل رکنیت کی منظوری دی جائے اور ایک آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔ترکی کی موجودہ اختیار کردہ پالیسی سے فلسطینی کاز کو تقویت ملے گی۔ اگر عرب، افریقی، ترکی اور دیگر پڑوسی ممالک متحد ہو کر اسرائیل کی جارحیت اور غاصبانہ اقدامات پر قدغن لگانے اور مظلوم فلسطینیوں کو انصاف دلانے کی کوشش کریں اور ہندستان سمیت پر لگانے اور عالمی برادری، فلسطین کی مستقل رکنیت کی منظوری اور خود مختار ریاست کے قیام میں منصفانہ رویہ اختیار کرے، تو صورت حال میں بہتر تبدیلی آسکتی ہے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،11-17؍نومبر2011ء)

بیت المقدس پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت

مجلس عاملہ منعقدہ: 27؍ فروری 2012ء میں بیت المقدس پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویزنمبر-۲- منظور کی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس حالیہ دنوں میں اسرائیل کی طرف سے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور مقامی فلسطینی آبادی پر ظلم و تشدد کی کارروائی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق گذشتہ کئی مہینوں سے مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اسرائیلی افواج نے حفاظتی گھیرا سخت کر رکھا ہے اور مسجد اقصیٰ میں نماز کے لیے آنے والے فلسطینیوں کو سخت نگرانی سے گذرنا پڑتا ہے اور اس پر احتجاج کرنے والوں پر جبرو تشدد کیا جاتا ہے اور اسرائیلی افواج مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرنے سے بھی باز نہیں آتی ہے۔ اسرائیلی افواج کا یہ عمل پوری ملت اسلامیہ کے لیے سخت اذیت کا باعث ہے۔ جمعیت علمائے ہند اس جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں پر بند لگانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

اکتیسویں اجلاس عام میں اسرائیل جارحیت کی مذمت

 19؍ مئی 2012ء کو منعقد اکتیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں مسئلۂ فلسطین اور القدس کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ:

عرب فلسطینیوں کی مظلومی ومقہوریت، امریکی وبرطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم وجارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی ناپاک خواہشات کی علامت بن چکی ہے، جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اسرائیل کے عزائم واقدامات کی مذمت ومخالفت اور فلسطینیوں کے حق ومطالبہ کی حمایت کی ہے۔ اس وقت خطے میں حالات بہت دھماکہ خیز ہیں۔ مسجد اقصی کا وجود معرض خطر میں ہے۔ اسرائیل اپنے ناپاک مقصد کے تحت اس کو ختم کردینے کے درپے ہے۔ آئے دن ایسے اقدامات کرتا رہتا ہے ، جن سے مسجد اقصیٰ کے وجود کو لاحق خطرات میں اضافہ ہورہاہے۔چند سال قبل سے امریکی صدر باراک اوبامہ اور امریکی وزیر خارجہ نے قضیۂ فلسطین کے حل کی سمت میں پیش قدمی کی بات کہی تھی، لیکن عملاً اس سمت میں کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اسرائیل بے اختیار غیرمسلح فلسطین کی بات کررہا ہے، جب کہ کسی بے اختیار اور غیرمسلح حکومت کا تصور سراسر بے معنی ہے۔ اسرائیل کی جارحیت و بربریت میںاب بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ روڈمیپ اور معاہدۂ امن کی خلاف ورزی مسلسل کرتا آرہاہے۔ مختلف پابندیوں سے فلسطینیوں کی اذیتوں میں اضافہ ہوتارہتا ہے۔بغیر مقدمہ چلائے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو ان جیلوں میں قید کر رکھا ہے ، جہاں کسی طرح کی؛ حتیٰ کہ پڑھنے لکھنے تک کی سہولت حاصل نہیں ہے اور قیدی اذیت ناک زندگی گذار رہے ہیں۔ فلسطینی صدر کا یہ فیصلہ مناسب ہے کہ قیدیوں کے معاملے کو اقوام متحدہ میں رکھا جائے گا۔ آج بھی فلسطین کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال پارہے ہیں، یہ بات عالم اسلام کے لیے شرم ناک ہے ؛البتہ انسانی لحاظ سے یہ خوش آئند ہے کہ فلسطینیوں کی بے کسی کا احساس ان لوگوں نے کیا، جن کی غالب اکثریت غیر مسلم ہے۔ یہ شرم ناک بات ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کے قافلے کو بھی اسرائیل اپنی بربریت و زیادتیوں کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتاہے اور انسانی ضروریات ؛ حتیٰ کہ ادویہ کی فراہمی سے بھی روک دیتا ہے ۔ مختلف عالمی اداروں ؛ حتیٰ کہ امریکی وزیر خارجہ کے کہنے کے باوجود اسرائیل نہ تو فلسطینی علاقوں سے یہودی بستیاں ہٹانے کے لیے تیار ہے، نہ نئی بستیاں بسانے پر روک لگارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی اس تنقید کے باوجود کہ مغربی کنارہ پر اسرائیل کی طرف سے کوئی بھی بستی غیر قانونی ہے ، نئی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل نے نئی یہودی آبادیوں کی تعمیر کی ہے ، ایسا اس کے باوجود ہورہاہے کہ ماہ اپریل کے اوائل میں امریکہ سمیت یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے مذمت کی تھی۔

مصر اور دیگر ممالک کے حالات کی تبدیلی سے ہمیں امید ہے کہ دیر سویرصورت حال میں بہتر تبدیلی آئے گی۔ عالمی سطح پر قیام امن میں فلسطین کا مسئلہ اہم رول اداکرے گا۔ فلسطینیوں کی آزادی اور باعزت زندگی اور خودمختار ریاست کے قیام سے عالمی سطح پر حالات میں تبدیلی کے قوی امکانات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکہ، روس اور عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدے کے مطابق تعاون کریں۔بے گھر اجڑے فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور گھر واپسی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔اقوام متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت کی منظوری دلانے میں عالمی برادری تعاون کرے۔ یو نیسکو میں فلسطینی ریاست کی مستقل رکنیت کی منظوری صحیح سمت میں ایک اچھا قدم ہے۔ اس سلسلے میں ہندستانی حکومت کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیے۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے سلسلے میں ہندستان کی پالیسی میں امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے تبدیلی اور انحراف پیداہوگیا ہے۔ گاندھی، نہرو اور ملک کی سابقہ روایت وپالیسی کو نظرانداز کرکے اسرائیل سے حد سے زیادہ قربت وموافقت کی راہ پر حکومت گامزن ہے۔ اس کے پیش نظر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندستان، مظلوموں، کمزوروں کی اعانت وحمایت کی سابقہ پالیسی پر چلے۔

پھر اسی اجلاس میں  القدس کی صورت حال اور مسئلۂ فلسطین کے تعلق سے جماعت کا موقف پیش کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’عرب فلسطینیوں کی مظلومیت ومقہوریت، امریکی وبرطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم وجارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی ناپاک خواہشات کی علامت بن چکی ہے۔ اس وقت خطے میں حالات بہت دھماکہ خیز ہیں۔ مسجد اقصیٰ کا وجودخطر ے میں ہے۔ اسرائیل اپنے ناپاک مقصد کے تحت اس کو ختم کردینے کے درپے ہے۔آئے دن ایسے اقدامات کرتا رہتا ہے ، جن سے مسجد اقصیٰ کے وجود کو لاحق خطرات میں اضافہ ہورہاہے۔ بغیر مقدمہ چلائے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو جیلوں میں قید کر رکھا ہے۔ قیدی اذیت ناک زندگی گذار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی تنقید کے باوجود مغربی کنارہ پر اسرائیل کی طرف سے غیر قانونی بستیوں کی تعمیرجاری ہے ۔ان حالات کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کے اس اجلاس عام کا مطالبہ ہے کہ :

۱۔ امریکہ، روس اور عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدے کے مطابق تعاون کریں۔ پناہ گزیں فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور وطن واپسی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔

۲۔ فلسطینی عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کی راہ ہموار کی جائے۔

۳۔ غزہ میں بھیانک جنگی جرائم کے ارتکاب پر اسرائیل پر بین الاقوامی جنگی عدالت میں مقدمہ چلایاجائے۔ مسجد اقصیٰ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ فوراً ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

۴۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت کی منظوری دلانے میں عالمی برادری تعاون کرے۔ یو نیسکو میں فلسطینی ریاست کی مستقل رکنیت کی منظوری صحیح سمت میں ایک اچھا قدم ہے، اس سلسلے میں ہندستانی حکومت کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیے۔

۵۔ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عا م مشرق وسطی خا ص طور پر فلسطین کے تعلق سے ہندستان کی طے شدہ اور تاریخی خارجہ پالیسی سے موجودہ مرکزی حکومت کے انحراف کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتاہے اور یوپی اے حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ ہندستان کی دیرینہ پالیسی پر پھر سے عمل در آمد شروع کرے، جس کے تحت ہندستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کی جد وجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ہر فورم پر کھل کر حمایت کی ہے ۔

اجلاس محسوس کرتاہے کہ کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی سے فلسطینی کا ز کو سخت نقصان پہنچا ہے،حالاںکہ ہندستان پچاس برسوں تک فلسطینی کاز کے لیے ہر فورم پر جد وجہد کرتا رہا ہے ۔یہ اجلاس ہند اسرائیل دوستی کو امن عالم کے لیے سنگین خطرہ تصور کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میںمرکزی وزرا کے اسرائیل دوروں سے یہ تأثر ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہر سطح پر رشتے مستحکم ہو رہے ہیں،حالاں کہ حکومت ہند بھی یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اسرائیل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں نہ صرف مسلسل رخنہ اندازی کررہا ہے ؛بلکہ فلسطینیوں کی آزادی کے لیے جد وجہد کرنے والوں پر  بدترین مظالم کا ارتکاب بھی کر رہا ہے ۔

۶ ۔ یہ اجلاس مرکز کی یوپی اے حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ کروڑوں انصاف پسند انسانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور دوستی کی پالیسی پر فورا نظر ثانی کرے ، ساتھ ہی یہ اجلاس مرکزی حکومت کو متنبہ کرتاہے کہ اگر اس نے عوام کے جذبات کی پروا نہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں یہی روش جاری رکھی، تو اسے ہندستان میںسیاسی اور انتخابی نقصانات کا ہر حال میں سامنا کرنے پڑے گا ۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

حکومت ہند سے فلسطین کے متعلق سابقہ موقف اختیار کرنے کی اپیل

مجلس عاملہ منعقدہ: 28؍ اگست 2012ء کی تجویز نمبر- ۳- کے ذریعہ اسرائیلی جارحیت و بربریت کو روکنے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مؤثر اقدام کی اپیل کی گئی۔اور ہندستان سے اپیل کی گئی کہ وہ فلسطین کے حوالے سے اپنے سابقہ موقف پر قائم رہے۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اسرائیلی جارحیت اور روز بروز اشتعال انگیزی کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مؤثر اقدام کی اپیل کرتا ہے۔ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مساجد کی بے حرمتی، ان کے جوار میں رقص و سرور، شراب نوشی اور میلے وغیرہ کا انعقاد کرکے مسلم امور میں اضطراب و اشتعال پیدا کرکے فلسطین سے متعلق بات چیت کے عمل کو معطل کردینا چاہتا ہے۔ اسرائیل جس طرح فلسطینیوں کو نشانہ بنارہا ہے اور مقدس عبادت گاہوں کی بے حرمتی کر رہا ہے، اس سے حالات انتہائی دھماکہ خیز ہوگئے ہیں اور قیام امن کی امید کم سے کم؛ بلکہ موہوم ہوگئی ہے۔ اس کی طرف سے پوری کوشش کی جارہی ہے کہ خود مختار فلسطینی ریاست کی راہ مسدود ہوجائے۔ اور یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ عالمی برادری اور ادارے اسرائیل کی سرکشی پر روک لگاکر امن کی راہ پر لانے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہندستان بھی اپنا رول تقریبا ختم کرچکا ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت فلسطین کے معاملہ میں گاندھی، نہرو کی پالیسی سے منحرف ہوکر پوری طرح اسرائیل کے زیر اثر آگئی ہے۔ عرب ممالک بھی باہمی اختلافات کے سبب اپنا وزن ختم کرچکے ہیں ۔ مذکورہ باتوں کے مدنظر مجلس عاملہ کا یہ اجلاس عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کو مسلسل جارحیت اور اشتعال انگیزی سے روکے اور امن کا عمل جاری کرکے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے۔ نیز فلسطینی عوام کی گھر واپسی کا انتظام اور مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل سے خالی کرانے کی سمت میں بھی ضروری اقدام کیے جائیں۔ اگر اسرائیل سرکشی سے باز نہ آئے، تو اس پر اقتصادی پابندی عائد کی جائے۔ 

یہ اجلاس حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل سے متعلق اختیار کردہ موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کو منصفانہ اور امن کی راہ اپنانے پر آمادہ کرے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام مسئلے کا اصل حل

فلسطین کو یونائیٹیڈ نیشنمیں 29؍نومبر 2012ء کو  غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیا گیا ۔یہ فیصلہ  یونائیٹیڈنیشن کی جنرل اسمبلی میں قرارداد نمبر 67/19 کے ذریعے منظور ہوا، جس میں بڑی اکثریت نے فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔جنرل اسمبلی کے 193 ؍ارکان میں سے 138؍ ممالک نے فلسطین کے حق میں ووٹ دیا، 9؍ممالک نے مخالفت کی، جب کہ 41؍ ممالک غیر حاضر رہے۔

اس سے قبل فلسطین کی حیثیت صرف ایک ’’مبصر ہستی‘‘ (Observer Entity) کی تھی، لیکن اس فیصلے کے بعد اسے بین الاقوامی سطح پر ایک ’’ریاست‘‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا، جس سے فلسطین کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICC) اور دیگر عالمی اداروں کے دروازے کھل گئے۔

اسی تناظر میں3؍دسمبر2012ء کو جمعیت علمائے ہند نے درج ذیل پریس بیان جاری کیا:

’’جمعیت علمائے ہند نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیے جانے کو بہتر سمت میں ایک اچھا قدم قراردیا ہے، تاہم ناظم عمومی کا کہنا ہے کہ اس کی تکمیل اس وقت ہو گی جب فلسطین کو مکمل رکنیت کا درجہ بھی حاصل ہوجائے۔ مولانا مدنی نے اس سلسلے میں حکومت ہند؛ خاص طور سے وزارت خارجہ کی تحسین کی کہ اس نے مظلوموں کا ساتھ دیتے ہوئے فلسطین کے حق میں ووٹ دے کر اسے کامیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انھو ں نے اس امید کا اظہا رکیا کہ ہندستان اسی طرح فلسطین کے سلسلے میں پنڈت نہرو کی پالیسی کے مطابق اپنے اثرات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے متمردانہ رویوں اور ارادوں پر روک لگائے گا ۔(ہفت روزہ الجمعیۃ، 14-20؍ دسمبر 2012ء)

اسی طرح مجلس عاملہ منعقدہ: 12؍ دسمبر2012ء کی تجویز نمبر(۳) میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تشویش کے اظہار کرتے ہوئے، فلسطین کے متعلقہ حصۂ تجویز میں کہا گیا کہ:

’’ یہ بات خوش آئندہ ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندہ کو مبصر کا درجہ مل گیا ہے؛ لیکن یہ مسئلہ کا مستقل حل نہیں ہے؛ بلکہ جب تک فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق نہیں ملیں گے اور غاصب اسرائیلیوں سے ان کی زمین واپس دلا کر بیت المقدس پر فلسطینیوں کو قبضہ نہیں دلایا جائے گا، اس وقت اس مسئلہ کا کوئی پائدار حل ممکن نہیں ہے۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 بھارت کے سولھویں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے واضح اور قطعی اکثریت حاصل کر کے،26؍مئی 2014 کونریندر مودی کوبھارت کے وزیر اعظم کے حلف دلاکر نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس (NDA) کی حکومت تشکیل کی۔

اس حکومت کی تشکیل سے دو دن قبل 24؍ مئی 2014ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں نئی این ڈے اے حکومت کو اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے، ایک تجویز میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ :

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے مظلوموں کی حمایت کی اپنی دیرینہ پالیسی پر عمل کرے۔ یہ اجلاس نئی سرکار کو اس طرف متوجہ کرنا اپنا وطنی و قومی فریضہ سمجھتا ہے کہ وہ اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ رہ کر ملکی امور میں مداخلت کا موقع نہ دے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

انسانیت بچاؤ احتجاجی تحریک

غزہ میں انسانیت سوز سفاکانہ صہیونی بربریت کے خلاف احتجاج اور ہزاروں فلسطینی شہدا اورلاکھوں زخموں سے چور خانماں برباد فلسطینی پناہ گزینوں کو انصاف دلانے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے ملک گیر’’ انسانیت بچاؤ احتجاجی ہفتہ مہم‘‘ چلانے کا فیصلہ کیا ۔اور بتاریخ4؍اگست 2014ء بروز پیر شروع ہوکر 8؍اگست 2014ء تک جاری رہی۔ اس کی مکمل تفصیل ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں ملاحظہ فرمائیں۔ 

 بتیسواں اجلاس عام اورمسئلۂ فلسطین 

 16؍ مئی 2015ء کو بتیسواں اجلاس عام ہوا، جس کے صدارتی خطاب میں صدر اجلاس و صدر جمعیت علمائے ہند مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری نے مسئلۂ فلسطین کو اٹھاتے ہوئے تحریر فرمایا کہ:

عالم اسلام کے تناظر میںکچھ باتیں ہم قضیہ فلسطین کے تعلق سے بھی کہنا چاہتے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ہمیشہ سے قابل توجہ رہاہے۔جس طرح یورپی ومغربی ممالک نے ایک منصوبہ بند حکمت عملی اور سازش کے تحت عرب فلسطینیوں کی زمین پر ان کو بے دخل کرکے ناجائز طریقہ پر اسرائیلی حکومت قائم کی اور یہودیوں کو بسانے کا کام کیا ،وہ سب کے سامنے ہے۔اسرائیلی حکومت نے اپنے قیام سے لے کر اب تک جو ظلم و بربریت او رغاصبانہ اقدام کی مجرمانہ تاریخ رقم کی ہے ، اس نے عالمی برادری اور امن پسند ممالک کے سامنے اہم سوال کھڑا کردیا ہے کہ وہ مظلوموں کے ساتھ ہیں،یا ظالموں اور غاصبوں کے؟ہندستان کے تعلق سے یقینا یہ بات قابل تعریف ہے کہ اس نے ہمیشہ مظلوموں اور کمزوروں کا ساتھ دیاہے ، اورکچھ دنوں پہلے تک گاندھی ،نہرو کی پالیسی پرچلتے ہوئے ہندستان نے مظلوم فلسطینیوں کے کاز کی حمایت کی ہے ، لیکن افسو س کی بات ہے کہ اب کچھ اسرائیل نواز عناصر کے دباؤ میں ہندستان کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف بہت زیادہ ہوگیا ہے اور وہ ہندستان کے بہت سارے اندرونی معاملات میں دخیل ہوگیا ہے ۔زبانی طور پر اب بھی یہی کہا جارہاہے کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے؛ لیکن عملا بنیادی موقف میں بہت کچھ تبدیلی آچکی ہے۔گزشتہ دنوں اسرائیل نے غزہ پر جس طرح حملہ کرکے ۲۲۰۰؍ سے زائدافراد-جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے- کو ہلاک اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کردیا ہے، اس موقع پر ہندستان کو اور عالمی برادری کو جو رول اداکرنا چاہیے، وہ نہیں کیا؛ بلکہ دفاع کے نام پر اسرائیل کے جارحانہ اور وحشیانہ اقدام کی امریکا، برطانیہ نے حمایت کی اور اب بھی کسی نہ کسی طور سے حمایت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل کی سرکشی اور بربریت کا بھیانک نمونہ یہ بھی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی عمارتوں کو بھی حملہ کا نشانہ بنایا، جن میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کی سرکشی اور جارحیت پرپوری طرح روک لگائی جائے۔ نیز

(۱) خودمختار او رآزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے ۔

(۲) اسرائیل تمام تر عرب مقبوضہ علاقوں کو خالی کرے اور نئی یہودی بستیاں بسانا بند کرے۔

(۳) بے گھر فلسطینی عوام کی گھر واپسی کا پختہ بندوبست کیا جائے۔

پھر تجویز نمبر(۱۵) کے آخری پیراگراف میں فلسطین کے متعلق کہا گیا کہ:

’’اسی طرح فلسطین کے مسئلہ میں عالمی طاقتوں کا غیر منصفانہ کردار اور اسرائیل کی طرف جھکاؤ بھی باعث تشویش ہے ۔ادھرچند سالوں سے ہماری حکومت کا جھکاؤ بھی اسرائیل کی طرف زیادہ ہوگیا ہے ۔اس لیے یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ آزادی اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے اور اسرائیل کومقبوضہ عرب علاقے خالی کرنے پر مجبور کیا جائے۔یہ اجلاس حکومت ہند سے بھی اپیل کرتاہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

تینتیسواں اجلاس عام  اورمسئلۂ فلسطین 

اس کے بعد 13؍ نومبر2016ء کو جمعیت علمائے ہند کا تینتیسواں اجلاس عام ہوا۔خطبۂ صدارت میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے فرمایا کہ: 

’’جمعیت علمائے ہند کی روز اول سے یہ خصوصیت رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے معاملات پر گہری نظر رکھی ہے اور حسب ضرورت اپنا دردمندانہ موقف ظاہر کیا ہے۔ عالم اسلام کے مسائل میں فلسطین کا مسئلہ تو ایک قدیم ناسور کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے ملت اسلامیہ کا دل مسلسل زخمی رہا ہے، اس بارے میں جمعیت علمائے ہند ہمیشہ نہایت سرگرمی اور قوت کے ساتھ آواز بلند کرتی رہی ہے؛ لیکن اِس وقت تو صورتِ حال ایسی ہے کہ:ع

تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجاکجا نہم

اسی اجلاس کی تجویز نمبر (۱۳) میں عالم اسلام کے عنوان کے تحت فلسطین کے متعلق کہا گیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ذریعے مسجد اقصیٰ اور دیوار براق پر مسلمانوں کے اولین حق کے فیصلے کا ا ستقبال کرتا ہے ۔مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول اور نہایت ہی قابل احترام مسجدہے ، اس لیے اس کاتعلق صرف فلسطین سے نہیں؛بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں سے ہے۔حال میں اقوام متحدہ نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں کئی فیصلے کیے ہیں، لیکن یہ انتہائی قابل مذمت ہے کہ اسرائیل عالمی برادری اوراقوام متحدہ کے فیصلوں کی مسلسل توہین اور خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور مختلف طریقوں سے فلسطینی بچوں ، عورتوں اور کمزوروں کو قتل کرتا ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین ، حقوق انسانی چارٹر س کی کوئی پروا نہیں ہے ۔ اس لیے جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام عالمی برادری ، عالم ا سلام اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ:

(۱) وہ ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مداخلت کریں ، تا کہ پناہ گزیں فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور وطن واپسی کی راہ ہموار کی جائے، نیز اسرائیل کو مجبور کیا جائے کہ وہ عرب مقبوضہ علاقوں کو خالی کردے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے بازآئے۔

(۲) غازہ کی ناکہ بندی فوری طور سے ختم کرائی جائے ۔اگر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی قراردادو ںکی اسرائیل پابند نہیں ہے اوروہ مطالبات کے باوجود ناکہ بندی کرکے لاکھوں انسانوں کو قید کی زندگی گزارنے پر مجبور کررہا ہے ،تو اس میں کیا تاخیر ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دینے کی تجویز لائی جائے اور اس پرمعاشی پابندیاں نافذ کی جائیں ۔

(۳) اب جب کہ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کی تولیت کا فیصلہ ہو گیا ہے ، تو بلاتاخیر بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

(۴) جمعیت علمائے ہند فلسطین کے تعلق سے موجودہ مرکزی حکومت کے انحراف کو ہندستان کی دیرینہ پالیسی سے انحراف کے طور پر دیکھتی ہے۔ ہندستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کی جد وجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ہر فورم پر کھل کر حمایت کی ہے ۔تاہم حال میں یونیسکو میں قبلۂ اول کے سلسلے میں ہوئی ووٹنگ سے ہندستان کی دانستہ غیر حاضری ، نیز سرجیکل اسٹرائیک کو اسرائیلی اسٹرائک سے مماثلت پر جمعیت علمائے ہند تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ سرکار سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مہاتماگاندھی، جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپئی کی راہ پر چلتے ہو ئے ظالم اور توسیع پسند اسرائیل سے اپنے تعلق پر نظر ثانی کرے اور دنیا بھر میں مظلوموں اور کمزوروں کا دوست ہونے کی ہندستان کی روایت کی پامالی نہ کرے۔

 اسرائیلی صدر کی آمد کے خلاف احتجاجی اجلاس

از:14، تا21؍نومبر2016ء اسرائیل کے صدر ووین ریولن ہندستان کے دورے پر آئے۔ جس پر جمعیت علمائے ہند نے 15؍نومبر2016ء کو ایک پریس بیان جاری کرکے اس کی شدید مذمت کی ۔ بعد ازاں 18؍ نومبر2016ء کو جنتر منتر نئی دہلی پر امیر الہند مولانا قاری محمد عثمان صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں اسرائیلی صدر کی ہندستان میں موجودگی کے خلاف زبردست احتجاجی اجلاس کیا گیا۔اس کی مکمل تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ میں دیکھیں۔

اس احتجاجی اجلاس میں فلسطین کے حوالے سے درج ذیل مطالبات پیش کیے گئے: 

 اس لیے ہم عالمی برادری، عالم اسلام اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:

۱۔ وہ ایک خود مختار آزا دفلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مداخلت کریں، تا کہ پناہ گزیں فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور وطن واپسی کی راہ ہموار کی جائے، نیز اسرائیل کو مجبور کیا جائے کہ وہ عرب مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز آئے۔

۲۔ غازہ کی ناکہ بندی فوری طور سے ختم کرائی جائے۔ اگر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی اسرائیل پروا نہیں کرتا اور تمام تر مطالبات کے باوجود ناکہ بندی کر کے لاکھوں انسانوں کو قید کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رہا ہے، تو اس میں کیا تا خیر ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دینے کی تجویز لائی جائے اور اس پر معاشی پابندیاں نافذ کی جائیں۔

۳۔ اب جب کہ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کی تولیت کا فیصلہ ہو گیا ہے، تو بلاتاخیر بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کرے۔

۴۔ ہم فلسطین کے تعلق سے موجودہ مرکزی حکومت کے انحراف کو ہندستان کی دیرینہ پالیسی سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہندستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کی جد و جہد اور آزادفلسطینی ریاست کے قیام کی ہر فورم پر کھل کر حمایت کی ہے۔ تاہم حال میں یونیسکو میں قبلۂ اول کے سلسلے میں ہوئی ووٹنگ سے ہندستان کی دانستہ غیر حاضری، نیز سرجیکل اسٹرائیک کو اسرائیلی اسٹرائیک سے مماثلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپئی کی راہ پر چلتے ہوئے ظالم اور توسیع پسند اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور دنیا بھر میں مظلوموں اور کمزوروں کا دوست ہونے کی ہندستان کی روایت کی پامالی نہ کرے۔ (سکریٹری رپورٹ، بموقع مجلس منتظمہ، 28؍ اکتوبر2017ء، ص؍74)

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا تشدد

14؍جولائی سے 27؍جولائی 2017ء تک اسرائیلی فورسیز نے مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا، جس کے خلاف احتجاج میں کئی فلسطینی شہید اور کئی اسرائیلی جہنم رسید ہوئے۔ اسی تناظر میں مجلس عاملہ منعقدہ: 24؍ جولائی 2017ء میں اسرائیلی فوجی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس گذشتہ کئی ہفتوں سے قبلۂ اول مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں جاری تشدد اور بدامنی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ واضح ہو کہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں کشیدگی کے بعد کئی روز تک حکومت نے مسجد اقصیٰ کو بند کرکے چپہ چپہ کی تلاشی لی اور جابجا رکاوٹیں کھڑی کردیں اور 21؍ جولائی 2017ء کو جمعہ کے دن جب مسجد کھولی گئی ، تو پچاس سال سے کم عمر کے فلسطینی مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے پر پابندی لگادی گئی، جس کی وجہ سے جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والی شاہراہ پر ادا کی گئی ۔ بعد میں نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے بے تحاشا تشدد کیا، جس کی وجہ سے کئی فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ 

افسوس ہے کہ اس طرح کے واقعات آئے دن بیت المقدس کا معمول بن چکے ہیں اور اسرائیلی فوج کی طرف سے جبرو تشدد حد سے تجاوز کرچکا ہے؛ لیکن دنیا میں امن کی ذمہ دار طاقتیں اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے اس ظلم کو روکنے کے لیے عدل و انصاف پر مبنی ٹھوس تدبیریں اپنانے سے گریز کر رہی ہیں، جس سے اسرائیل کو حوصلہ ملتا ہے۔ 

بریں بنا جمعیت علمائے ہند عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل کو جبروتشدد سے روکیں اور مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر لگائی گئی بے جا پابندیاں ہٹوائیں، تاکہ زائرین بلا روک ٹوک مسجد اقصیٰ میں عبادت انجام دے سکیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 فلسطین میں الفتح اورحماس کا اتحاد نیک فال

غزہ کا انتظامی کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے اور سالہا سال سے جاری داخلی تقسیم کو ختم کر کے ایک متحدہ حکومت کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے ، 12؍اکتوبر 2017ء کو الفتح اور حماس کے درمیان مصر کی ثالثی میں قاہرہ میں ایک معاہدہ ہوا۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ منعقدہ : 27؍ اکتوبر2017ء میں اس اتحاد کو نیل فال قرار دیتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس فلسطین میں الفتح اور الحماس کے اتحاد کو نیک فال تصور کرتے ہوئے اس کی تحسین کرتا ہے اور مظلوم فلسطینیوں کے سلسلے میں عالمی برادری ، عالم اسلام اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ: 

۱۔ وہ ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مداخلت کریں اور اسرائیل کو مجبور کریں کہ وہ اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل کرتے ہوئے مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرے۔

۲۔ ہندستان نے ہمیشہ اور ہر فورم پر فلسطینیوں کی جدوجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے؛ لیکن موجودہ حکومت اس سے انحراف کر رہی ہے۔ جمعیت علمائے ہند تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ سرکار سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مظالم اور توسیع پسند اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور دنیا بھر میں مظلوموں اور کمزوروں کے دوست ہونے کی ہندستان کی شان دار رویات کو بحال کرے ۔

اور لیبیا میں بھی متحارب جماعتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جنگ سے نہیں، امن سے اپنے ملک کی تعمیر میں حصہ لیں اور لیبیا کی موجودہ متحدہ حکومت (گورنمنٹ آف نیشنل اکورڈ) کی یہ ذمہ داری ہے کہ بدلہ لینے کے جذبہ سے اوپر اٹھ کر تمام قبائل کو متحد کرنے کی کوشش کرے اور جنگ بندی کو یقینی بنائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 اسرائیلی دارالحکومت ناقابل قبول

20؍ دسمبر2017ء کو بمقام: پانچ ستارہ ہوٹل نئی دہلی، زیر صدارت:امیر الہند مولانا قاری محمد عثمان صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند، جمعیت علمائے ہند کے زیرا ہتمام منعقد ایک مشاورتی اجلاس میں، متعدد ممبران پارلیمنٹ،ملی تنظیموں کے سربراہان، عرب ممالک کے سفارت کار اور سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات نے فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی اور غاصب اسرائیل کے خلاف زور دار آواز اٹھانے کا متفقہ عہد کیا اور ٹرمپ کے قدم کو عالم اسلام سمیت پوری دنیا کے لیے تباہ کن بتایا۔ اس پر وقار تقریب میں فلسطین سمیت عرب ممالک کے سفیروں نے شرکت کی اور امریکہ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کی پر زور مذمت کی اور حکومت ہند اور ہندستانی عوام سمیت عالمی برادری سے فلسطین کی حمایت کی اپیل کی۔ اس موقع پر امریکی فیصلہ کے خلاف اور فلسطین کی حمایت کو لے کر دو گھنٹہ غور وفکر کے بعد متفقہ طور سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔ یہ طے ہوا کہ قراداد کو اقوام متحدہ ارسال کیا جائے گا اور حکومت ہند کو بھی واقف کرایا جائے گا۔ اس موقع پر تمام لوگوں کے اتفاق سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جو فلسطین عوام کو انصاف دلانے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گی۔ اس اہم مشاورتی اجتماع کی صدارت جمعیت علمائے ہند کے صدر قاری عثمان صاحب منصور پوری نے فرمائی۔ 

تفصیلات ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان میں درج کی جاچکی ہیں۔ 


مسئلۂ فلسطین پر تشکیل کردہ کور کمیٹی کی میٹنگ

10؍ جنوری2018ء کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرنئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے تعاون سے مسئلۂ فلسطین پر تشکیل کردہ کور کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ملک کی کئی نمائندہ شخصیات شریک ہوئیں۔ یہ کمیٹی گزشتہ ماہ 20؍دسمبر کونئی دہلی میں جمعیت کے تحت منعقد ہ ایک مشاورتی اجتماع میں فلسطین کے کاز پر ہم آہنگی بنانے اور مختلف طبقات سے تعاون حاصل کرنے کے مقصد سے تشکیل پائی تھی۔

اس میٹنگ میں خاص طور سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتین یاہوکا دورۂ ہند موضوع بحث بنا، جو 14؍جنوری کو احمدآباد سے اپنے دورے کی شروعات کرنے والے ہیں۔ میٹنگ میں متفقہ طور سے طے کیا گیا کہ ہندستان ہمیشہسے فلسطینی کاز اور وہاں کے مظلوم عوام کا طرف دار رہا ہے، جو اس ملک کی قابل قدر شناخت بھی ہے۔ اس لیے اس ملک کے ذمہ دار شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ ایک غاصب ملک کے وزیر اعظم کی آمد کی مخالفت کی جائے۔ نیز فلسطینی مظلوم عوام سے ہمدردی اور دوستی کا مظاہرہ ہو۔ مختلف مؤثر وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اس دورہ کی مخالفت کی جائے اور فلسطین کے سلسلے میں ہندستان کی دیرینہ پالیسی اور مظلوموں سے ہمدردی والی اس کی شناخت کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ 

 اس میٹنگ میں مولانا محمود مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، سراج الدین قریشی صدر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، جان دیال سکریٹری جنرل آل انڈیا کر سچن کا ونسل، ہر چرن سنگھ جوش، اشوک بھارتی دلت رہنما،نوید حامد صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور مولانا نیاز فاروقی رکن مجلس عاملہ جمعیت علما ئے ہند شریک ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر وائل اے اے بتر یکھی ڈی سی ایم سفارت خانہ فلسطین بطور مد عو خصوصی شریک ہوئے۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،19-25؍جنوری 2018ء)

صدی ڈیل کی مخالفت

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے28؍جنوری 2020ء کو  وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایک اعلان کیا، جسے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا نام دیا گیا۔

اس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا۔

فلسطینیوں کے لیے ایک محدود خودمختار ریاست کی تجویز دی گئی۔

مغربی کنارے (West Bank) کے کئی حصے اسرائیل کے پاس رکھنے کی اجازت دی گئی۔اورفلسطینیوں کو کچھ معاشی سہولیات اور ترقیاتی پیکج دینے کا وعدہ کیا گیا۔

جمعیت علمائے ہند اس سے تقریبا دو سال پہلے ، اپنی مجلس عاملہ منعقدہ: 30؍ جون2018ء میں، جہاں اسرائیل کے نئے دارالحکومت کی مخالفت کی، وہیں اس متوقع صدی ڈیل کو بھی مسترد کردیا۔ مکمل تجویز درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس یروشلم میں باضابطہ امریکی سفارت خانہ کے قیام کو عالمی رائے عامہ، اقوام متحدہ ، بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی توہین قرار دیتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ 1967ء میں اسرائیل نے ناجائز طور سے یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر قبضہ کیا تھا۔ اب امریکہ نہ صرف اپنے اقدام سے اسے جائز ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے؛ بلکہ موجودہ وقت میں فلسطین میں بڑھتی بے چینی اور اضطراب کا بھی ذمہ دار ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس امریکی اقدام کے بعد فلسطین میں عام شہریوں پر بڑھتی اسرائیلی سفاکیت اور مسلسل خون خرابہ و قتل عام پر سخت قلق و اضطراب کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے انسانی، بنیادی اور مذہبی حقوق کی بازیابی کے لیے انتہائی مظلوم و مقہور فلسطینیوں کا قتل سنگین جنگی جرائم کے زمرہ میں آتا ہے۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر فوجی حملہ اور عبادت سے روکنا بھی انتہائی تشویش ناک عمل ہے۔ 

اس لیے جمعیت علمائے ہند مطالبہ کرتی ہے کہ: 

۱۔ امریکی حکومت اپنے امریکی عوام سمیت دنیا بھر میں پیدا شدہ ناراضی اور احتجاج کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا سفارت خانہ بند کرے۔ اس سلسلہ میں حکومت ہند کے موقف پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے مطالبہ ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی ہر محاذ پر اعلانیہ حمایت کرے اور اس سے متعلق امریکی رویہ سے بیزاری کا اظہار کرے۔ 

۲۔ فلسطین اتھارٹی، عالم عرب اور بااثر بین الاقوامی طاقتیں مشترکہ طور سے اسرائیلی جارحیت، ناکہ بندی ، جنگی جرائم اور بنیادی وسائل پر ناجائز قبضے کے خلاف بین الاقوامی کریمنل عدالت میں اپیل دائر کریں۔

۳۔ مسجد اقصیٰ کا تعلق محض فلسطین سے نہیں ہے؛ بلکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے، اس لیے ہم بھارت کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اسفار میں مسجد اقصیٰ کے سفر کو ضرور شامل کریں، تاکہ مسجد اقصیٰ سے ہمارے روحانی اور دینی رشتے کا اظہار ہو اور یہ کہ مسلمان دنیا میں کہیں بھی ہوں ،مسجد اقصیٰ سے ہرگز دست بردار نہیں ہوں گے۔ 

۴۔ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس فلسطین کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے مزعومہ فارمولہ ’’ صدی کی ڈیل‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ جلد از جلد فلسطینیوں کے لیے ان کے علاقہ میں خود مختار ریاست قائم کی جائے۔ ‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

مسجد اقصی میں فلسطینی نمازیو ں پر حملہ ،صیہونی دہشت گردی

7؍مئی 2021ء کو رمضان کے آخری جمعہ کے دن اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوکرنمازیوں پر ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی مسلمان زخمی ہوگئے۔ 

اس کے بعد جب 27مئی 2021ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، تو اس میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہندکی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ظالم اور دہشت گرد اسرائیلی فوج کے ذریعہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں نمازیوںپر حملہ اور اس کی حرمت کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔حال میں اسرائیل نے جس طرح مسجد اقصیٰ کی توہین کی ہے اور اس کے بعد غزہ میں فضائی حملہ کرکے دو سوسے زائد لوگوں کا قتل کیا ہے، جن میں ستربچے اور خواتین شامل ہیں، اس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ کسی نہ کسی بہانے فلسطین کے نہتے عوام پر بم برسانا اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ذریعہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنااسرائیل کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے ۔ سب سے شرم ناک بات یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ہمیشہ چشم پوشی سے کام لیتی ہیں۔تاہم اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں حکومت ہند نے جو موقف اختیار کیا ہے، وہ قابل اطمینان ہے ۔ یہ ہمارے ملک کی قدیم روایت اور ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے کہ ظالم و جابر کے مقابلے مظلوم اور مقہور اقوام کی حمایت کی جائے۔

نیز جمعیت علما ئے ہند یہ مطالبہ کرتی ہے کہ: 

۱۔ غزہ میں بھیانک جنگی جرائم کے ارتکاب پر اسرائیل پر بین الاقوامی جنگی عدالت میں مقدمہ چلایاجائے۔ مسجد اقصیٰ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ فوراً ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

۲۔ عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کو فوری طور پر قائم کرنے میں تعاون کریں۔ پناہ گزیں فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور وطن واپسی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔

۳۔ اسرائیل کو مشرقی یروشلم میں کسی طرح کی تعمیر نو سے باز رکھا جائے ،یہ قدم بین الاقوامی معاہدوں کی شدید خلاف ورزی ہے ۔

۴۔ غزہ میں جس وسیع پیمانے پر رہائشی مکانات کو مسمار کیا ہے، ان کی تعمیر و بازآبادکاری کے لیے اسرائیل سے مطالبہ اولین ضرورت اور انصاف کا تقا ضہ ہے ۔

۵۔ جنگ بندی کے اعلان کے برخلاف اسرائیل مستقل مسجد اقصیٰ اور متصل علاقوں میں بے قصور فلسطینی شہریوںپر ظلم و تشدد کی کارروائی کررہا ہے ، اسے اس ظالمانہ عمل سے باز رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

فلسطین کے متعلق کئی اہم مطالبات

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اجلاس  28،29؍ مئی 2022ء کو منعقد ہوا، جس کی تجویز نمبر-۹ میں فلسطین اور عالم اسلام کے مسائل کو اٹھاتے ہوئے ، بالخصوص ظالم اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطین میں اسرائیلی تشدد اور مسجد اقصی میں نمازیوں کے ساتھ مارپیٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ تشدد اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اسرائیل کی ایک شناخت بن گئی ہیں ۔ نہتے اور کمزور فلسطینیوں اور ان کے بچوں کو قتل کرنا اس دہشت گرد اور شیطانی حکومت کی صفت خاصہ ہے۔ یہ اس کی توسیع پسندانہ سوچ کا مظہر ہے کہ پچاس لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہیں اور وہ لگاتار اس سلسلۂ ستم کو جاری رکھا ہواہے۔

جمعیت علمائے ہند اِس سلسلے میں بین الاقوامی برادری سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس ظلم و ستم کے طویل عہد کے خاتمے کے لیے درج ذیل فوری اِقدامات کو بروے کار لائے :

(۱) اَقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1860 (2009ء) کے مطابق اسرائیل کو غزہ کی 15 سالہ پرانی ناکہ بندی ختم کرنے اور کراسنگ پوائنٹس کھولنے پر مجبور کیا جائے ۔

(۲)  اَقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016ء) کے مطابق اسرائیل کو مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کی تمام سرگرمیاں بند کرنے کی ہدایت دی جائے ۔

(۳)  اِسرائیل مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیوں اور زیادتیوں سے فوری طور سے بازآئے ، جس میں طاقت کا ناجائز استعمال، مکانات کی مسماری، جبریہ بے دخلی اور بین الاقوامی اصولوں کی فوجی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔

(۴)  مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے آزادانہ داخلے کو یقینی بنایا جائے اور اس پر اسرائیلی تسلط کا جلد خاتمہ کیا جائے۔ 

(۵)   ایک آزاد خو د مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اسرائیل کو مجبورکیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے اور مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرے۔

(۶)  ہندستان نے ہمیشہ اور ہر فورم پر فلسطینیوں کی جد وجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے، یہ ملک کی شان دار روایت رہی ہے کہ اس نے استعماری اور قابض طاقتوں کی مخالفت کی ہے ۔موجودہ وقت میں ہماری حکومت سے امید ہے کہ وہ اس روایت کو باقی رکھے گی۔

(۷)  جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس فلسطین کے علاوہ عالم اسلام کے دیگر ممالک؛ بالخصوص شام اور یمن کی صورتِ حال پر بھی اپنے دکھ اور قلق کا اظہار کرتا ہے اوریہ مخلصانہ اپیل کرتا ہے کہ مسلمانوں کا حکمراں طبقہ، نہایت بیدار مغزی اور دردمندی کے ساتھ حالات کے تقاضوں کو محسوس کرے اور اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر اَدا کرے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 مسئلۂ فلسطین اور مولانا محمود اسعد مدنی 

12؍ فروری2023ء کو چونتیسواں اجلاس عام، مولانا محمود اسعد مدنی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا، جس کے خطبۂ صدارت میں مولانا موصوف نے تحریر فرمایا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی روز اول سے یہ خصوصیت رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے معاملات پر گہری نظر رکھی ہے اور حسب ضرورت اپنا دردمندانہ موقف ظاہر کیا ہے ۔ عالم اسلام کے مسائل میں فلسطین کا مسئلہ تو ایک قدیم ناسور کی حیثیت رکھتا ہے ، جس سے ملت اسلامیہ کا دل مسلسل زخمی رہا ہے ، اس بارے میں جمعیت علمائے ہند ہمیشہ نہایت سرگرمی اور قوت کے ساتھ آواز بلند کرتی رہی ہے؛ لیکن اِس وقت تو صورتِ حال ایسی ہے کہ : ع

تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجاکجا نہم

فلسطین اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز

پھر اسی اجلاس میں فلسطین اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کے عنوان سے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام مسجد اقصیٰ اور یروشلم پر اپنے حتمی تسلط کے مقصد سے اسرائیلی حکومت کی جابرانہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی حالیہ قرار داد کو امید کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، جس میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے غیر قانونی ’طویل قبضے‘ اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی خلاف ورزی کے قانونی نتائج پر عالمی عدالت انصاف سے رائے مانگی گئی ہے۔اس قرارداد میں اسرائیل کے یروشلم کے آبادیاتی ڈھانچے، کرداراورحیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے اور امتیازی قوانین اپنانے کی بات بھی کی گئی ہے۔جمعیت علما ئے ہند کا یہ اجلاس بین الاقوامی برادریوں کے ان مثبت اقدامات کے مدنظر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ :

(۱)  اَقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادکے مطابق اسرائیل کو غزہ کی 15 سالہ پرانی ناکہ بندی ختم کرنے اور کراسنگ پوائنٹس کھولنے پر مجبور کیا جائے ۔

(۲) مسجد اقصیٰ پر صرف مسلمانوں کا حق ہے ، اس لیے اس کو یہودی تسلط اور قبضے سے آزاد کیا جائے ۔

(۳)  ایک آزاد خو د مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔

(۴) ہندستان نے ہمیشہ اور ہر فورم پر فلسطینیوں کی جد وجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔موجودہ حکومت نے بھی اس کو باقی رکھنے کی کوشش کی ہے ، جو قابل ستائش ہے ، لیکن اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ملک کی عدم تشدد کی عظیم روایات کے منافی ہیں، اس لیے اسے ختم کرنا ہی بہتر ہوگا ۔

(۵)  جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس فلسطین کے علاوہ عالم اسلام کے دیگر ممالک؛ بالخصوص شام ، یمن و لیبیا کی صورتِ حال پر بھی اپنے دکھ اور قلق کا اظہار کرتا ہے اور وہاں کے حکمرانوں اورعوام کو باہمی افتراق و جدال ترک کرکے ہوش مندی اور سیاسی سوجھ بوجھ کے ذریعہ اپنا مسئلہ حل کرنے پر متوجہ کرتا ہے ۔

(۶) مسلمانوں سے پرخلوص اپیل کرتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی دینی و تاریخی اہمیت کے پیش نظر حج و عمرہ کے موقع پر یا مستقل طو پر اس کی زیارت کریں۔ 

(۸) یہ اجلاس عام عالم عرب کے بعض حصوں میں ابراہمک مذہب کے نام پر پیدا کردہ فتنہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔ سبھی گزشتہ و موجودہ مذاہب سماوی کا ایک ہی نام ہے اوروہ اسلام ہے ۔جو لوگ باہمی رواداری کے نام پر ایسا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، وہ درحقیقت رواداری کے حقیقی مقصد اور معنی سے غافل ہیں ۔ ‘‘

فلسطین میں جاری خوںریز حملوں کو فوراً روکا جائے 

حماس نے7؍اکتوبر 2023ء کو(Operation Al Aqsa Flood)کے تحت اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، جس کے جواب میں اسرائیل نے (Operation Iron Swords) کے نام سے فوجی مہم آغاز کرتے ہوئے غزہ پر شدید بم باری شروع کردی ۔ اس جنگ میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس جنگ میں 2025 تک تقریبا فلسطینی شہداء: 45,000 سے 75,000+ (اندازوں کے مطابق)، اسرائیلی ہلاکتیں: 1,200–1,700+، زخمی: 100,000+ فلسطینی، خواتین و بچے: اکثریت (60–70%)، اور تقریباً پوری غزہ آبادی بے گھر ہوگئی۔ 

حماس حملے کے دوسرے دن ،9؍اکتوبر2023 ء کو جمعیت علمائے ہندنے فلسطین میں جاری خوںریز جنگ اور رہائشی علاقوں پرزبردست بم باری کی مذمت کرتے ہوئے اس پر فوری رو ک لگانے کی اپیل کی ہے ۔ مولانامحمود مدنی نے عالمی طاقتوں ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور ورلڈ مسلم لیگ وغیرہ سے بلاتاخیر مداخلت اور عملی اقدام کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہندستان کے عوام فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، جو گزشتہ۷۵؍سالوں سے اسرائیلی جابرانہ تسلط و تشدد کے شکار ہیں، جس کی وجہ سے وہ آج اپنے ہی وطن میں قیدیوں کی طرح رہ رہے ہیں ۔ بلاشبہ فلسطین کے عوام کی جد وجہد اپنے وطن کی آزادی او ر قبلۂ اول کی بازیابی کے لیے ہے۔

 اس تنازع کی اصل بنیاد اسرائیل کے ذریعہ خطۂ فلسطین پر ناجائز قبضہ اور توسیع پسندانہ سوچ ہے ، اس جنگ کے نتیجے کو دیکھتے ہوئے اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ یو این کے مقرر کردہ اصول کے مطابق اسے جلد ازجلد حل کیا جائے اور اسرائیلی تسلط و جبر سے آزاد ایک خود مختار فلسطین ریاست کا قیام عمل میں آئے ۔

مولانا مدنی نے بھارت میں میڈیا کے ذریعہ موجودہ جنگ کی شرم ناک رپورٹنگ اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے لڑنے والی قوم کو’ دہشت گرد‘ بتانے پر تشویش اور ناراضی کا اظہار کیاہے او رکہا ہے کہ ملک کے معمار بالخصوص مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو ا ور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی وغیرہم نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے ۔ اس موقع پر ہم ملک کے وزیر اعظم کو متوجہ کرنا چاہیں گے کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل میں بااثر کردار ادا کریں اور اسرائیل کی حمایت کے بجائے انصاف کے تقاضوں کے مطابق پائیدار امن کے قیام اور بے قصور شہریوں کی جان بچانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا صحیح استعمال کریں ۔ اسی میں ہمارے ملک کا مفاد ہے اور انسانیت کے تئیں یہی ہمارا فرض ہے ۔

فلسطین کے متعلق مختلف ملی جماعتوں کا مشترکہ اجتماع

شہدائے فلسطین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار

فلسطینی عوامی پر اسرائیل کی وحشیانہ بم باری کے خلاف اور مظلوم عوام کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے مقصد سے، 19؍اکتوبر2023ء کو  مختلف ملی جماعتوں کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی ، جس میں مولانا محمود مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند،مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیت علمائے ہند، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، ایم کنور علی دانش، سلیم انجنیر،ڈاکٹر جان دیال ، ششی شیکھر،جناب سعاد ت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند اور دیگر حضرات نے شرکت و خطاب کیا۔ آخر میں مولانا نیاز احمد فاروقی صاحب نے منظور کردہ قرارداد پڑھ کا سنایا، جس کا متن درج ذیل ہے:

من جانب انڈین فرینڈس آف فلسطین

بموقع فلسطین کانفرنس بمقام ڈی وائی اسپیکر ہال، کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی۔ 

 ہم انڈین فرینڈس آف فلسطین فلسطینی غزہ کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ معصوم انسانی جانوں؛ حتی کہ بچوں اور خواتین کی مسلسل ہلاکت، غذا، پانی، ادویات اور بجلی کی سپلائی کا انقطاع اور شہری علاقوں پر مسلسل بم باری اور غزہ کے انخلا کی کوششوں کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ہم یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ صہیونی حکومت گذشتہ ستر برسوں سے مسلسل فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر رہی ہے اور اس سرزمین کے اصل باشندوں یعنی فلسطینیوں پر مسلسل وحشیانہ مظالم ڈھارہی ہے۔ تمام عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں نئی بستیوں کی مسلسل آبادکاری اور مسجد اقصی کی مسلسل بے حرمتی اور اس طرح کی دیگر جارحانہ پالیسیاں علاقے میں امن و امان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری فوری حرکت میں آئے اور خوں ریزی کے سلسلے کو روکے، اس علاقے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی بازیابی اور اس سلسلے میں عالمی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

ہم ارباب اقتدار سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہندستان کی دیرینہ استعمار مخالف اور فلسطین دوست خارجہ پالیسی، جس کی گاندھی جی سے لے کر واجپئی جی تک نے بھی وکالت کی ہے، اس کو جاری رکھتے ہوئے وہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرے۔

منجا نب  :کے سی تیاگی سابق ممبر پارلیمنٹ۔ کنور دانش علی ایم پی۔پروفیسر بیتھل جنرل سکریٹری آریہ سماج۔پروفیسر آدیتہ نگم۔پروفیسر ششی شیکھر ۔جون دیال۔ مولانا محمود مدنی ۔ سید سعادت اللہ حسینی۔مولانا اصغر علی امام مہدی۔ مولانا حکیم الدین قاسمی۔جناب سلیم انجینئر۔ 

فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردی کی شدید مذمت

5؍جنوری 2024ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں فلسطین پر اسرائیلی وحشت وبربریت کے تناظر میں درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’گذشتہ17؍ اکتوبر2023ء کو مسلسل محاصرہ سے تنگ اگر فلسطینی مزاحمتی تحریک ’’حماس‘‘ کے اقدام کے بعد غزہ (فلسطین) پر اسرائیل کی لگاتار وحشیانہ بم باری کی جمعیت علمائے ہند شدید مذمت کرتی ہے۔ اب تک اس جنگ میں تقریباً تئیس ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ جو افراد کار پیٹ بم باری کی وجہ سے عمارتوں کے نیچے زندہ دفن ہوگئے ہیں، ان کی تعداد کا تواند ازہ ہی نہیں لگا یا جا سکتا۔ علاوہ ازیںاسرائیل کی مسلسل بم باری کی وجہ سے غزہ کی اکثر عمار تیں اور آبادیاں ملبہ کا ڈھیربن چکی ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ قریبی زمانہ میں روئے زمین پر انسانوں کی اتنی بڑی اور بھیانک تباہی نہیں دیکھی گئی، لیکن شرم ناک بات یہ ہے کہ اس صریح ظلم و بربریت کو روکنے میں اقوام متحدہ بھی نا کام ہے اور امریکہ اور اس کے حلیف اسرائیل کی پشت پناہی اور تعاون کر رہے ہیں۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

فلسطینی مزاحمت کاروں کا تعاون کریں

مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس:4-5؍جولائی2024ء کو منعقد ہوا، جس میں خطاب کرتے ہوئے  مولانا محمود مدنی اسعد مدنی صاحب نے اپیل کی کہ : 

’’فلسطینی مزاحمت کاروں کا تعاون کریں۔ اس ملک نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا۔ گاندھی جی نے فلسطینیوں کے عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ آج ہمارا ملک دعویٰ تو کر رہا ہے کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہے، لیکن اسرائیلیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ یہ ملک اور اس کی سنہری تاریخ کے ساتھ بدترین غداری ہے اور یہ کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ وہاں بچے اور عام شہری مارے جارہے ہیں۔‘‘

پھراسی اجلاس منتظمہ میں فلسطین کے موجودہ حالات کے تناظر میں درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس مجلس منتظمہ فلسطین؛ بالخصوص غزہ اور مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت، جنگی جرائم اور وحشیانہ قتل عام کی سخت مذمت کرتا ہے۔ اسرائیل غزہ پر حالیہ فوجی مہم کے آغاز کے بعد سے بڑے پیمانے پر اور اندھا دھند شہریوں اور آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ غزہ میں 60 فی صد سے زیادہ گھر تباہ و برباد ہو گئے۔ سیکڑوں خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ غزہ میں سترہ لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا گیا، جب کہ ان میں سے اکثریت پہلے ہی پناہ گزیں ہے، یا 1948 کے پناہ گزینوں کی اولاد ہیں۔ دوسری طرف صحافیوں، طبی عملے، ایمبولینسوں، اسکولوں، عبادت گاہوں، یونی ورسٹیوں، پناہ گاہوں اور اسپتالوں کے ساتھ ساتھ پانی، بجلی،ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنارہا ہے۔

۱۔ یہ اجلاس تمام ممالک؛ بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور ہندستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ قابض حکام کو اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدات بند کریں، جو ان کی فوج اور دہشت گرد اسرائیلی آباد کار فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جو ریاستیں اسرائیل کو اسلحہ اور سیاسی مدد فراہم کرتی ہیں، وہ اس نسل کشی میں برابر کی شریک ہیں۔ 

۲۔ بین الاقوامی فوج داری عدالت اور دفتر استغاثہ فوری طور پر فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی جرائم کے ذمہ دار اسرائیلی اہل کاروں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے، اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کرے اور فلسطین میں خون خرابہ اور قتل عام کے لیے اسرائیل پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور نقصانات کا ہرجانہ وصول کیا جائے۔ 

۳۔ یہ اجلاس حکومت ہند، عرب لیگ اور ممالک اسلامیہ کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ سفارتی، سیاسی اور قانونی دباؤ ڈالیں اور انسانیت کے خلاف استعماری قابض حکام کے جرائم کو روکنے کے لیے دو ٹوک اقدامات کریں اور ساؤتھ افریقہ کی معاونت کرتے ہوئے اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت اور سلامتی کونسل میں سزا دلائیں۔ 

۴۔ یہ اجلاس بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی خود مختار ریاست کے قیام کے لیے ایک سنجیدہ اور حقیقی کوشش شروع کرے، مگر یہ خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ پر تسلط کی کوئی بھی اسرائیلی کوشش ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ 

وزیر اعظم فلسطین اسماعیل ہنیہ کے بزدلانہ قتل پر جمعیت کا سخت رد عمل

 جناب اسماعیل ہنیہ وزیر اعظم فلسطین کو یکم اگست 2024ء کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک منصوبہ بند حملے کے تحت بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جہاں وہ بطور سرکاری مہمان مقیم تھے۔  2؍ اگست2024ء کو صدرجمعیت علمائے ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اس بزدلانہ قتل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اوراس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

مولانا مدنی نے زور دے کر کہا کہ گزشتہ دس مہینوں کے دوران غزہ اور خان یونس میں جاری نسل کشی ایک سنگین انسانی المیہ ہے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ ناگزیر ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے معصوم شہریوں-جن میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں- کے قتل عام سے لے کر اسپتالوں اور اسکولوں جیسے اہم بنیادی ڈھانچوں کی تباہی تک، یہ تمام اقدامات انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

 اسماعیل ہنیہ اس جابرانہ نظام کے خلاف مزاحمت میں صف اول میں رہے اور اس جدوجہد کے دوران انھوں نے اپنے کئی عزیزوں کی قربانی دے کر بے پناہ ذاتی صدمات برداشت کیے۔ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی کی کوششوں اور مختلف ممالک کی قیادت میں ہونے والے انسانی مذاکرات میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔

 مولانا مدنی نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بہیمانہ قتل کی واضح اور دوٹوک مذمت کرے، جو انصاف اور اخلاقی اقدار کی حامل بھارت کی شان دار روایت کے عین مطابق ہے اور فلسطین میں جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس کے ڈائریکٹر جنرل کا استقبال

24؍ اگست2024ء کو لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلاوی جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر نئی دہلی پہنچے۔ اورجمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر بلاوی کا تعلق فلسطین سے ہے اور وہ اس وقت اردن میں مقیم ہیں۔ وہ القدس (یروشلم) سے متعلق مختلف تحریکوں کے ایک ممتاز رہنما سمجھے جاتے ہیں۔

ملاقات کے دوران ڈاکٹر بلاوی نے فلسطین کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی اور فلسطینی عوام کی بے مثال قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینی عوام نے اپنی جانوں اور اپنے عزیزوں کی جانوں کی قربانیاں دیں؛ مگر اپنی سرزمین اور اپنے ایمان پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہماری جدوجہد مظلوموں اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہے۔ دنیا کے دیگر حصوں میں جب بیرونی قوتوں نے حملہ کیا، تو وہاں لوگوں کے پاس جنگل اور پہاڑ تھے، جہاں وہ پناہ لے سکتے تھے، مگر ہمارے پاس کچھ نہیں۔ اس کے باوجود ہمارا عزم مضبوط ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایک دن ہم ضرور کامیاب ہوںگے۔

ڈاکٹر بلاوی نے فلسطین کے حق میں بھارت کی دیرینہ پالیسی کی ستائش کی اور کہا کہ بھارت کے عوام اور حکومت فلسطینیوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ انھوں نے جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، اس کی قربانیوں اور اس کی انسانی خدمات کو بھی سراہا۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ڈاکٹر بلاوی کا پُرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے کہا:

جمعیت علمائے ہند ہمیشہ سے فلسطینی کاز کی مضبوط حامی رہی ہے۔ ہم انسانی اور دینی بنیادوں پر القدس کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہوگا، کرتے رہیں گے۔ ہمارے ملک کی پالیسی ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کی رہی ہے۔ یہ نظریہ ہماری قومی شناخت کا حصہ ہے اور اس سے انحراف اس شناخت کو مجروح کر دے گا۔

جمعیت علمائے ہند ہر طرح کی دہشت گردی کی مخالف ہے، خصوصاً نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی کی، کیوںکہ یہ انسانیت کے دامن پر بدنما داغ ہیں۔

اس موقع پر جمعیت علمائے ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی نے تنظیم کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فلسطین میں معصوم بچوں اور عام شہریوں کے مسلسل قتل پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا۔اور کہا کہ دن ہو یا رات، اس طرح کے مظالم کی خبریں ہمیں شدید غم اور اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ہم جلد از جلد جنگ بندی کی دعا کرتے ہیں، تاکہ امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس ملاقات میں مولانا ڈاکٹر عبد المالک رسول پوری اور دیگر حضرات بھی موجود تھے۔

امریکی صدر کے غزہ پر قبضہ سے متعلق بیان کی شدید مذمت

4؍فروری 2025ء کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے حوالے سے اپنے نئے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھال کر اس کا ’’مالک‘‘ بن جائے گا۔

6؍فروری 2025ء کوجمعیت علما کی طرف سے جاری ایک پریس بیان میں کہا گیا کہ:

’’ صدرجمعیت محترم نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کی سخت مذمت کی ہے، جس میں انھوں نے غزہ پر امریکی  قبضے اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی تجویز دی ہے۔ یہ اعلان نہ صرف مضحکہ خیز ہے؛بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ غزہ کوئی زمین کا ٹکڑا نہیں؛ بلکہ لاکھوں مظلوم فلسطینیوں کا آبائی وطن ہے ،جو کئی دہائیوں سے ظلم وستم، قبضے اور جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔

فلسطینی عوام کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی کوئی بھی کوشش انسانی حقوق پر براہ راست حملہ ہوگا۔حالیہ اسرائیلی جارحیت اور دہشت گردی میں پچاس ہزار کے قریب معصوم جانیں ضائع ہوچکی ہیں، ایسے میں مزید غیر منصفانہ منصوبے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔یہ انتہائی  شرم کی بات ہے کہ امریکی صدر ایک ظالم اور سفاک اسرائیلی حکمراں کیساتھ وہائٹ ہاوس میں اسٹیج شیئر کررہے ہیں اور اس کے رنگ میں رنگ کرایسا ظالمانہ منصوبہ پیش کررہے ہیں، جس پر اگر وہ خود بھی انسانیت کے ضمیر سے غور کریںگے، تو شرمندہ ہو جائیںگے ۔

 جمعیت علمائے ہند عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ اور بااثر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کریں اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی کے لیے عملی اقدامات تیز کریں۔ہندستان نے ہمیشہ فلسطین کے حق میں اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ وہ اپنے دیرینہ اصولی موقف پر قائم رہے اور انصاف و امن کے حق میں آواز بلند کرے۔

جمعیت علمائے ہند فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یک جہتی کا اعادہ کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ غزہ کی بازآبادکاری کی جائے اور فلسطینیوں کے حقوق بحال کیے جائیں اور مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نکالا جائے ۔


حکومت ہند سے اسرائیلی مظالم اور غزہ جنگ بند کرانے کا مطالبہ

 مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ13؍اپریل 2025ء کو منعقد ہوئی، جس میں7؍اکتوبر 2023ء سے اسرائیل کی طرف سے جاری کی جانے والی (Operation Iron Swords) فوجی مہم کے تحت ہزاروں فلسطینی دردناک طریقے پرکی گئی شہادت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بند کرانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’جمعیت علمائے ہند کا اجلاس غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، جنگی جرائم اور معصوم فلسطینی عوام کے قتل عام کو انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ ہزاروں بچوں، خواتین اور عام شہریوں کا بے دریغ قتل عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ اور شرم ناک بے حسی کی علامت ہے۔

اس اجلاس کو اس امر پر شدید تشویش ہے کہ اسرائیل عالمی قوانین اور بنیادی انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف فلسطینی علاقوں کی مکمل ناکہ بندی کیے ہوئے ہے؛ بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی پر بھی مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جو کہ جرم پر جرم کے مترادف ہے۔ اسرائیلی جارحیت صرف شہریوں تک محدود نہیں؛بلکہ صحافیوں، طبی عملے، ایمبولینسوں، اسکولوں، مساجد، عبادت  گاہوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے پانی، بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی کے نظام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ ان مظالم میں امریکہ بھی اسرائیل کا شریکِ جرم ہے، جو مسلسل جارح اسرائیلی حکومت کو ہر سطح پر حمایت فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد اسلامی ممالک کی سرد مہری، بے عملی اور غیر مؤثر رویہ بھی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اس صورت حال میں جمعیت علمائے ہند درج ذیل مطالبات کرتی ہے:

۱۔ جمعیت علمائے ہند حکومتِ ہند سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر فوری مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے، بالخصوص زخمی فلسطینیوں کے علاج و معالجہ کے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے اور غزہ میں محصور فلسطینی عوام تک بنیادی انسانی ضروریات پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

۲۔ اس اجلاس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور متأثرہ فلسطینی عوام کو مکمل مالی معاوضہ دیا جائے۔

۳۔ یہ اجلاس حکومتِ ہند، عرب لیگ اور تمام اسلامی ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لیے واضح، متحد اور مؤثر سفارتی، سیاسی اور قانونی دباؤ ڈالیں، تاکہ ظلم و استحصال کرنے والی قابض حکومت کو اس کے جرائم کی سزا دی جا سکے۔

۴۔ یہ اجلاس بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد، خود مختار ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ، مؤثر اور نتیجہ خیز کوششوں کا آغاز کریں۔ اور ساتھ ہی یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیلی تسلط کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔

۵۔ جمعیت علمائے ہند فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی، ان کے حقِ خود ارادیت اور ان کے مذہبی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی رہی ہے اور ان شاء اللہ کرتی رہے گی۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

اسرائیلی حملہ میں نو بچوں کو کھونے والی ڈاکٹر آلاء النجار کے نام

28؍مئی2025ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں معروف فلسطینی شخصیت ڈاکٹر آلاء النجار کے نومعصوم بچوں کی الم ناک شہادت پر نہایت رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا مدنی نے ڈاکٹر آلاء النجار کے نام ایک درد بھرا تعزیتی مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں انھوں نے جمعیت علمائے ہند اور ہندستان کے شہریوں؛ بالخصوص مسلمانوں کی جانب سے گہرے دکھ، مکمل ہمدردی اور غیر متزلزل یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

مولانا مدنی نے خط میں لکھا ہے کہ ان معصوم بچوں کی بلا جواز شہادت ایک وحشیانہ، مجرمانہ اور انسانیت سوز عمل ہے، جو نہ صرف بچپن اور معصومیت پر حملہ ہے؛ بلکہ انسانیت کی روح کو زخمی کرنے والا جرم بھی ہے۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان معصوم شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے والدین اور اہل خانہ کو صبر، حوصلہ اور سکون عطا کرے اور اس المیے کو ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔

 مولانا مدنی نے اسرائیلی جارحیت کو ایک طے شدہ جنگی جرم قرار دیا، جو برسوں سے نہتے فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کی شکل میں جاری ہے۔ جمعیت علمائے ہند ہمیشہ سے فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی اور ان کے حقوق کے تحفظ کی حامی رہی ہے اور آئندہ بھی اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

فلسطین کا مسئلہ پرو انسانیت کا مسئلہ بن چکا ہے

 پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیت علمائے ہند کی دعوت پر 24؍ جولائی 2025ء کو  بدھ کی شام دہلی کے شنگری لا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں؛ بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجو جنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔تقریب میں ملک کے اندر جاری اقلیت مخالف رویوں، آسام میں بنگلہ زبان بولنے والوں پر سرکاری ظلم وستم، فلسطین پر حکومتی موقف، نفرت انگیز واقعات ، بہار میں جاری ایس آئی آر اور ذات کی بنیاد پر مردم شماری جیسے حساس موضوعات پر ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ 

اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں صدر جمعیت علمائے ہند مولانا محمود مدنی صاحب نے دو اہم نکات پر زور دیا اور کہا کہ پہلی بات یہ کہ ہماری حکومت نے فلسطین واسرائیل کے تعلق سے جو پالیسی اپنائی ہے، وہ بھارت کے تاریخی موقف اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔ اس سے ہمارے ملک کی عالمی شناخت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ موجودہ پالیسی نے ہمیں ایسے گروہوں کے ساتھ لاکھڑا کیا ہے، جو انسانی حقوق کی پامالی کر رہے ہیں۔

 فلسطین کا قضیہ اب صرف فلسطین کے حامی ہونے، یا نہ ہونے کا نہیں رہا؛ بلکہ یہ ایک پرو انسانیت (Pro-Humanity) مسئلہ بن چکا ہے۔ آج وہاں انسانیت لہولہان ہے، لیکن ہم انسانیت کی بنیاد پر بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے سے پہلو تہی کر رہے ہیں، جو شرم ناک ہے۔

 فلسطین میں جاری نسل کشی پر گہرے رنج و الم کا اظہار

حماس کی طرف سے 7؍اکتوبر 2023ء کے حملے بعداسرائیل کی طرف سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم پر ، جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ کی میٹنگ منعقدہ 20؍اگست2025ء میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس فلسطین میں جاری نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم پر نہایت گہرے رنج والم کا اظہار کرتا ہے۔ ایک لاکھ کے قریب انسانوں کا قتل اور عام شہریوں کو بھوک پیاس کی سزادے کر موت کے گھاٹ اتار ناردہشت گردی کی بدترین مثالیں ہیں، جن پر امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کا رویہ شرم ناک چشم پوشی کا مظہر ہے۔

مزید گریٹر اسرائیل کی فتنہ انگیزی اور غزہ کی زمین کو مکمل طور پر قبضے والحاق میں لینے کا اعلان فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹانے اور اس کی باقی ماندہ زمین کو ہڑپنے کی سازش ہے، جو نو آبادیاتی ذہنیت اور انتہا پسندانہ عزائم کی عکاس ہے۔ اور یہ ایسا ظلم ہے، جس کے خلاف انسانی ضمیر عمومی طور پر احتجاج کر رہا ہے۔

یہ اجلاس غزہ میں جاری انسانی المیہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے، جہاں طویل محاصرہ اور امدادی سامان پہنچانے پر عائد پابندیوں نے لاکھوں معصوم جانوں کو موت و ہلاکت کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ کھانے پینے ، ادویات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا ایک تاریخی جرم اور تمام انسانی اصولوں کی پامالی ہے۔

اس کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند عالم عرب اور پوری عالمی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس جارحیت کے خلاف عملی طور پر متحد ہوں۔ اسرائیلی پرو پیگنڈہ اور باطل دعووں کو بے نقاب کرنے ، اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں کو ناکام بنانے اور قبلۂ اول و دیگر مقدسات کے تحفظ کے لیے سیاسی، سفارتی، ابلاغی اور قانونی جد وجہد کو مزید تیز کیا جائے۔ نیز اسرائیل کو مجبور کیا جائے کہ تمام گزر گاہوں کو کھول دے اور امدادی سامان کی فوری و آزادانہ فراہمی کو یقینی بنائے اور جنگ بندی پر عمل پیرا ہو کر فلسطین کی سرزمین پر اپنے ہر طرح کے تسلط کو ختم کر دے۔

یہ اجلاس باور کراتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی خاموشی اور چشم پوشی مزید جرائم کو بڑھاوا دیتی ہے۔ ہم دنیا کی تمام آزاد قوموں، عالمی اداروں اور انصاف پسند لیڈروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کو ادا کریں، خطے کو بدامنی سے بچائیں اور انصاف وامن کی حمایت میں مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوں۔

فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو ان کا بنیادی حق دیں

جمعیت علما کی  مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس29؍نومبر2025ء کو بھوپال میں منعقد ہوا، جس میں مولانا عبدالقوی نائب صدر جمعیت علمائے تلنگانہ کو فلسطین سے متعلق تجویز پر اظہار کے لیے مدعو کیا گیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ: 

اس وقت جو تجویز جمعیت علما کی جانب سے اہل فلسطین کی حمایت اور تائید میں پیش کی گئی ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے دو سال سے، یک طرفہ مظالم کے ذریعے ایک قوم کو مسلسل دبایا گیا اور ہر طرح کی نسل کشی کی کوششیں کی گئیں؛ لیکن ایمانی قوت سے وہ اپنے وطن اور اپنے حق کے لیے مسلسل مضبوطی کے ساتھ جمے رہے اور قائم رہے اور انھوں نے عظیم ہمت اور اللہ تعالی پر توکل کی ایک عظیم تاریخ بھی رقم کی اور ایک عظیم پیغام دنیائے انسانیت کو دیا ہے۔ اب تھوڑی بہت جو امید کی روشنی آئی ہے اور کچھ ان کو سانس لینے کا موقع ملا ہے اور جو امن کی تجویز: جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی ہے، اس کے باوجود جنگ بندی کی شرائط اور حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسے میں پوری دنیا کی یہ ذمہ داری ہے، جو حق و انصاف کی بات کرتے ہیں، وہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو ان کا بنیادی حق دیں، ان کا وطن دیں اور ان کو آزادی کے ساتھ دوسری قوموں کی طرح جینے کا موقع فراہم کریں۔ ان کوششوں کے اندر بھی جو دوہری پالیسیاں سامنے آتی ہیں، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمان بالخصوص ہم ہندستانی مسلمان اور جمعیت علماکے کارکنان دنیا کے با اثر اور ذمہ دار لوگوں سے خواہش کرتے ہیں کہ وہ اس قوم کو، اہل فلسطین کو ان کا جائز حق دیں اور انھیں امن و سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کریں۔ اللہ تعالی اس تجویز کو قبول فرمائے اور اس کی برکت سے ان کے لیے امن و امان کے راستے پ قائم ہو،آمین۔

نائب صدر جمعیت علمائے ہند کا اعلان حق

اسی اجلاس منتظمہ میں حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند و استاذ دارالعلوم دیوبند نے اختتامی صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ: 

حرم کے لفظ پہ فلسطین یاد آگیا۔ پوری دنیا کی طاقتوں سے اگر یہ اجلاس اپیل کرے کہ تمھاری آنکھوں پر ابھی تک پٹی بندھی ہوئی ہے، وہ کب تک بند رہے گی۔ فلسطین کے مسئلے میں کب تک تم تسلیوں سے کام چلاتے رہوگے اور خاتمہ کرتے رہو گے، کبھی تو تمھیں خدا کا خوف ہونا چاہیے، کبھی تو تمھارا ضمیر زندہ ہونا چاہیے، کبھی تو تمھارے ہاں انصاف کا کوئی پیمانہ دس فی صد بھی مسلمانوں کے لیے کام میں آنا چاہیے۔ یہ عالمی طاقتوں سے ہم کہتے ہیں اور عالمی طاقتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے ۔معاف کریں، پتہ نہیں یہ کہنے کا منھ بھی ہے ہمارا یا نہیں؛ لیکن بس ایک مسلمان کہنا چاہتا ہے ہمارے اپنے حکمرانوں سے  کہ ؎

 مجھ کو معلوم ہے پیران حرم کے انداز

ہو نہ اخلاص تو دعوئے نظر لاف و گزاف

اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

اس اجلاس میں فلسطین کی موجودہ الم ناک حالات سے متعلق درج ذیل تجویز منظور کی گئی: 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطین سے متعلق امریکہ اور عرب ممالک کے ذریعہ حالیہ امن اقدامات اور مذاکراتی پیش رفت کا نوٹس لیتے ہوئے اس امر پر زور دیتا ہے کہ اگرچہ امن کی ہر کوشش قابلِ قدر ہے، تاہم حقیقی اور پائدار امن تبھی ممکن ہے، جب فلسطینی عوام کو اُن کے جائز حقوق حاصل ہوں اور ان کی عزت نفس اور خود داری کو مجروح کرنے والے اقدامات سے گریز کیا جائے ۔

 یہ اجلاس واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار، متحدہ اور مکمل فلسطینی ریاست کا قیام نہ ہو، جس کا دارالحکومت القدس (یروشلم) ہو، اور مسجد اقصیٰ سمیت تمام مقامات مقدسہ کی مذہبی حیثیت، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت فراہم نہ کی جائے۔

یہ اجلاس فلسطینی عوام کی ثابت قدمی اور اپنے وطن کی آزادی کے لیے ان کی طویل جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ فلسطینی عوام نے ظلم و جبر، محاصرے اور مسلسل جارحیت ونسل کشی کے باوجودجس صبر، حوصلہ اور عزمِ حریت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پوری انسانیت کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی منظم نسل کشی اور غزہ کے تباہ کن محاصرہ کی شدید مذمت کرتا ہے اور حالیہ امن معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل قتل و غارت کے سلسلہ کو شدید خطرہ تصور کرتا ہے ۔

جمعیت علمائے ہند عالمی برادری؛بالخصوص اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور امن دوست ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ:

۱۔ فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنائیں ۔مسجداقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی مذہبی و تاریخی حیثیت کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

۲۔ غیر قانونی یہودی بستیوں، قبضوں اور جبری انخلا کے خلاف ٹھوس اور عملی قدم اٹھائیں۔

۳۔ غیر قانونی آبادکاروں کی طرف سے فلسطینیوں پر پرتشدد حملوں کے خلاف بھی ٹھوس قدم اٹھا یا جائے۔

۴۔ جنگ سے تباہ حال فلسطینیوں کو امداد، علاج، تعلیم، اور بازآبادکاری میں فوری مدد فراہم کریں۔

۵۔ مجلس منتظمہ حکومت ہند سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ ہندستان کی قدیم سامراج مخالف خارجہ پالیسی کے مطابق، فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے، اور ہر بین الاقوامی فورم پر اس کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے آواز بلند کرے۔

خلاصہ

جنگ عظیم اول (28؍ جولائی 1914ء- 11؍ نومبر1918ء) میں برطانیہ نے تین الگ الگ لوگوں سے تین متضاد وعدے کیے۔ یہودیوں سے ان کو قومی وطن دینے کا، عالم اسلام سے تحفظ خلافت کا اور ہندستانیوں سے سوراج کا؛ لیکن جنگ کے اختتام کے بعد، 30؍ اکتوبر 1918ء کو ترکی اور اتحادیوں کے درمیان ہوئی عارضی صلح، بعد ازاں 10؍اگست1920ء کو معاہدۂ سیورے کے ذریعہ اس کی تصدیق وتوثیق کے بعد عالم اسلام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خلافت عثمانیہ اسلامیہ کی بندر بانٹ کرکے،2؍نومبر1917ء کے بالفور اعلامیہ کے مطابق،24؍جولائی 1922ء کو لیگ آف نیشنز کی کونسل نے فلسطین کا مینڈیٹ برطانیہ کو دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ اس طرح خطۂ فلسطین خلافت عثمانیہ کی عمل داری سے نکل کر برطانیہ کی غلامی میں چلا گیا۔

ادھر ہندستانیوں کے ساتھ بھی دھوکہ کرتے ہوئے سوراج دینے کے بجائے ، 18؍جنوری 1919ء کو ’’رولٹ ایکٹ‘‘ شائع کرکے بھارتیوں کی غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑدیا۔ اور ان سب کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں مغربی کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے گہری سازش کافرما تھی، تاکہ وطن الیہود ’’اسرائیل‘‘ کو ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

23؍نومبر1919ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنے قیام کے بعد، 10؍اگست 1920ء کو ہوئے سیورے معاہدہ کی رو سے خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے اور فلسطین میں برطانوی قبضے کے تناظرمیں، 6؍ستمبر1920ء کوکلکتہ کے ایک خصوصی اجلاس میں برطانوی حکومت کے خلاف مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے،8؍ستمبر1920ء کو اسی فیصلے کو شرعی تقاضاقرار دے کرترک موالات کا فتویٰ دیا، جس پر تقریبا پانچ سو علمائے کرام نے دستخط کیے۔

18تا20؍نومبر1921ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے تیسرے سالانہ اجلاس عام کی صدارت کرتے ہوئے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اپنے تقریری صدارتی خطاب میں فلسطین کی تحریم و تحفظ کومسلمانوں کے لیے ضروری قرار دیا۔ 

22؍مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند نے فلسطین کو برطانیہ کے بجائے خلافت عثمانیہ کے زیرنگیں رکھنے کا مطالبہ کیا۔اور18تا 20؍اکتوبر1922ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مجوزۂ مطالبات خلافت میں فلسطین کو بھی شامل رکھا۔ان تمام مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے، لیگ آف نیشنز نے 29؍ستمبر1923ء مینڈیٹ برائے فلسطین کو قانونی طور پر برطانیہ کے حوالے کرتے ہوئے،یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کی اجازت دے دی، جس سے اس خطے میں بڑھتی آبادی سے عدم توازن پیدا ہونے لگا۔

 2؍نومبر1925ء کو مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین نے جمعیت علمائے ہند سے تعاون کی اپیل کی۔

یہودیوں کے لیے نیشنل ہوم کے قیام کی اجازت سے یہودی امیگریشن میں اضافے کے باعث عرب یہودی تنازع شروع ہوا، جس میں سے ایک یروشلم کی مغربی دیوار: دیوار گریہ پر یہودیوں کی دعوے داری تھی، جس کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے سبب 23-24؍اگست 1929ء کو زبردست فسادات ہوئے، جن کی تحقیقات کے لیے برطانوی حکومت نے ستمبر 1929ء میں ’’شا کمیشن‘‘ تشکیل دی۔ادھر ہندستانی مسلمانوں نے دیوار گریہ پر یہودیوں کی دعوے داری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 3؍ستمبر1929ء کو عظیم الشان اجلاس عام کیا۔

عرب یہودی بڑھتے فسادات نے عرب مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے کمر توڑ کر رکھ دی، جس کی وجہ سے 20؍اکتوبر1929ء کو جماعت مرکزیہ فلسطین کی طرف سے ہندستانی مسلمانوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔

26تا 28؍اکتوبر1929ء کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں  جمعیت علمانے ’’شا کمیشن‘‘ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے،فلسطینی انتداب اور بالفور اعلامیہ کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔

عالم اسلام کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود برطانوی وزیر اعظم مسٹر ریمزے میکڈانلڈ فلسطین میں وطن الیہود بنانے میں سرگرم عمل رہا، تو جمعیت علما نے 31؍مارچ 1931ء کو منعقد دسویں اجلاس عام میں برطانیہ کی اس پالیسی کی شدید مذمت کی۔

20؍جون 1933ء کو فلسطین کا ایک مؤقد وفد ہندستان آیا، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کا زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان اجلاس منعقد کیا۔ بعد ازاں 25؍جون 1933ء کو اکابرین جمعیت نے وفد سے خصوصی ملاقات کی۔

فلسطین میں دنیا بھر کے یہودیوں کو لالاکر بسانے کا عمل جاری تھا، جس سے 1936ء سے تقریبا1939ء تک متعدد بار عرب فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں برطانیہ نے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے۔ انھی دنوں 27تا 29؍مارچ 1936ء کو جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں یہودیوں کی آبادی اور برطانوی مظالم کی مذمت کی گئی۔بعد ازاں حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے یکم جون 1936ء کو ایک طویل پریس بیان دے کر فلسطین پر برطانیہ کے قبضے کی مخالفت کی۔ 

برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے 19؍جون 1936ء کو’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ بعد ازاں 26؍ ستمبر 1936ء کو شملہ میں ایک عظیم الشان اجلاس کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات سے برطانیہ کو آگاہ کیا اور ساتھ ہی 28؍ستمبر1936ء کو ایک اعلیٰ سطحی وفد لے کر وائسرائے ہند مسٹر لن لتھ گو سے ملاقات کرکے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

اوائل نومبر1936ء میں جمعیت علمائے ہند نے بھی فلسطین کانفرنس منعقد کی، اس اجلاس میں ایک خط کے ذریعہ مسٹر جواہر لال نہرو نے فلسطینیوں کی تحریک آزادی وطن کی حمایت کرتے ہوئے برطانیہ کو فرقہ وارانہ جھگڑے کرانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ 

صدر محکمۂ شرعیہ استانبول نے فلسطین کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کی کوششوں کو سراہتے ہوئے 5؍جنوری 1937ء کو ایک مکتوب لکھ کر شکریہ ادا کیا۔

1936ء میں ہوئے عرب اسرائیلی جنگ کی تحقیقات کے لیے برطانیہ نے نومبر1936ء میں ’’پیل کمیشن‘‘ تشکیل دی،جس نے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی۔ 30؍ جولائی 1937ء کو حضرت مفتی اعظم ہند کی صدارت میں جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں اس کمیشن کی سفارشات کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے تقسیم فلسطین کو ناقابل قبول بتایا۔اس کمیشن کو ’’رائل‘‘ یعنی ’’شاہی کمیشن‘‘ کا بھی نام دیا گیا،یکم جون 1937ء کو حضرت مفتی اعظم ہند نے اس کمیشن پر ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانان فلسطین اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیںگے، مگر اس تقسیم کو قبول نہ کریںگے۔ 

8؍اگست 1937ء کو مجلس عمل فلسطین کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں رائل کمیشن کی مخالفت کرتے ہوئے 3؍ستمبر1937ء کو فلسطین ڈے منانے کا اعلان کیاگیا۔

17؍اگست1937ء کو منعقد جمعیت علمائے سندھ کے اجلاس میں بھی اس کمیشن کی مخالفت کی گئی۔

24؍اگست1937ء کو تمام زعما ولیڈران ہند نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے 3؍ستمبر 1937ء کو ملک گیر سطح پر ’’فلسطین ڈے‘‘ منانے کی اپیل کی۔چنانچہ پورے ملک میں احتجاج کیا گیا۔ادھر دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے بینر تلے عظیم الشان احتجاجی اجلاس ، جلوس اور ہڑتال کی گئی۔

9؍اکتوبر1937ء کو وائسرائے ہند کے نام ایک تار بھیج کر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مفتی اعظم ہند نے ہندستانی مسلمانوں کے اضطراب کا اظہار کیا اور برطانوی تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

31؍اکتوبر1937ء کو مجلس عمل فلسطین کا ایک اہم اجلاس میرٹھ میں منعقد ہوا، جس میں مجلس تحفظ فلسطین کا قیام عمل میں آیا۔اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے فرمایا کہ ہندستان کی آزادی کا مسئلہ فلسطین کے مسئلہ سے الگ نہیں ہے۔اسی اجلاس میں مقاطعات ثلاثہ: (۱) برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ، (۲) دربار تاج پوشی کا بائیکاٹ، (۳) آئندہ جنگ عظیم دوم میں برطانیہ کی ہرقسم کی امداد کا بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔

27تا 29؍مئی 1938ء کو جمعیت علمائے بہار کا عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں فلسطین میں برطانیہ کی مسلم آزار پالیسی کے خلاف سخت احتجاج کیاگیا۔

 28؍جون 1938ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے وائسرائے ہند کو تار بھیج کر برطانوی بربریت کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

5؍جولائی1938ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطین میں برطانوی مظالم برداشت نہیں کیاجاسکتا۔

یکم اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں تحریک سول نافرمانی چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

3؍اگست 1938ء کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں مجلس تحفظ فلسطین کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے قربانی دینے کی اپیل کی گئی۔

17؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا چوتھا عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں تحریک سول نافرمانی میں اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کی اپیل کی گئی۔

20؍اگست1938ء کو مظلوم فلسطینیوں کی امداد کی اپیل کی گئی۔

متوقع جنگ عظیم دوم (یکم ستمبر1939ء تا 2؍ستمبر1945ء)میں بھرتی کے لیے برطانوی حکومت ہند نے فوجی بھرتی بل کو منظوری دی، جس کی مخالفت کرتے ہوئے،21؍اگست 1938ء کو ایک بیان میں حضرت مجاہد ملت نے اسے فلسطین کی تباہی سے تعبیر کیا۔

25؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا ایک اور اجلاس ہوا۔

20؍ستمبر1938ء کو صدر مجلس تحفظ فلسطین حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے تعاون کی اپیل جاری کی۔

مجلس تحفظ فلسطین کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے 5؍اکتوبر1938ء کو ایک اپیل میں مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

7تا 11؍اکتوبر1938ء فلسطین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دنیائے اسلام کے نمائندوں پر مشتمل قاہرہ میں ایک عالمی کانفرنس ہوئی، جس میں صدر جمعیت حضرت مفتی اعظم ہند کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں نے شرکت کی اور قضیۂ فلسطین کے حل کے لیے اہم اور مفید تجاویز پیش کیں؛ حتیٰ کہ کانفرنس نے جہاد تک کے اعلان کا امکان ظاہر کیا؛ لیکن مصر کی وفد پارٹی کی عدم شرکت کی وجہ سے ناکانفرنس ناکامی کی شکار ہوگئی۔

اسی موقع پر تاریخ نے سرزمین مصر میں حضرت مفتی اعظم ہند کے لیے سب سے بڑا اعزاز کا منظر دیکھا، جب شاہ مصر کے بعد درجہ رکھنے والی شخصیت شیخ الازہر علامہ مراغی بذات خود حضرت مفتی صاحب کی عیادت کے لیے ان کی جائے قیام پر تشریف لائے۔ 

جمعیت علما نے کانفرنس کی ناکامی سے مایوس ہونے کے بجائے 7؍نومبر1938ء سے ہفتۂ فلسطین منانے کا اعلان کیا۔

31؍دسمبر1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا اہم اجلاس ہوا، جس میں عملی طور پر تحریک سول نافرمانی کو شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا۔

16؍جنوری 1939ء کو ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے برطانیہ کی تشدد آمیز پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کو اس کے تعاون کے لیے آمادہ کیا۔

مجلس تحفظ فلسطین نے 9؍فروری1939ء کو ایک اعلان جاری کرتے ہوئے، 11؍ فروری 1939ء کو ’’یوم آزادی فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی۔

برطانوی وزیر اعظم مسٹر چیمبر لین کی دعوت پر7؍فروری سے شروع ہوکر17؍مارچ 1939ء تک ہونے والی لندن کانفرنس میں عرب وفد نے یہودی وفد کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے یہ کانفرنس ناکامی کی شکار ہوگئی۔ اسی کانفرنس کے موقع پر مجلس احرار اسلام ہند اور جمعیت علمائے ہند کے مشترکہ وفد نے بہار کے وزیر اعظم سری کرشنا سنہا سے ملاقات کرکے فلسطین کے تعلق سے ہندستانی مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں برطانوی حکومت تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کی دعوت پر11؍فروری1939ء کو تمام صوبوں میں فلسطین کی حمایت میں احتجاجی اجلاس کیا گیا۔

جمعیت علمائے ہند نے 3تا 6؍مارچ 1939ء کو منعقد اپنے گیارھویں اجلاس عام کے خطبۂ استقبالیہ میں مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کی اپیل کی ۔ اور تجویز میں برطانیہ کی مجوزہ تقسیم فلسطین کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

مجلس دفاع فلسطین کی طرف سے 23؍مارچ 1939ء کو ایک تار موصول ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے امداد کی اپیل کی گئی۔ چنانچہ جمعیت علما نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا۔

لندن کانفرنس کی ناکامی کے بعد برطانیہ کا جاری کردہ قرطاس ابیض 17؍مئی 1939ء کو  شائع کیا گیا ۔ چوں کہ اس میں برطانوی عبوری اقتدار کے خاتمے اور فلسطین کی فوری آزادی کی وکالت نہیں کی گئی تھی، اس لیے 27تا 29؍مئی 1939ء کو منعقد مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے، اسے ناانصافی پر مبنی قرار دیاگیا۔

7تا 9؍جون 1940ء کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں صدر جمعیت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے کہا کہ ہندستان کی آزادی سے فلسطین بھی آزاد ہوگا۔

31؍مارچ 1944ء کو وائٹ پیپر کی مدت کے اختتام کے تناظر میں، جمعیت علما نے 6؍مارچ 1944ء کو ایک اپیل جاری کرتے ہوئے 17؍مارچ 1944ء کو ملک گیر سطح پر ’’ یوم فلسطین‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ 

امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے امریکی یہودی تنظیم کے سینتالیسویں سالانہ کانفرنس میں 15؍اکتوبر1944ء کو خطاب کرتے ہوئے فلسطین میں مزید یہودی آبادی کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسی طرح برطانوی وزیر اعظم مسٹر ونسٹن چرچل نے 17؍نومبر1944ء کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے یہودی قومی گھر کی حمایت اور خود کو یہودیوں کا مستقل دوست قرار دیا۔ جمعیت علما نے 8-9؍نومبر1944ء کو منعقد اپنی مجلس عاملہ میں ان دونوں بیانات کی مذمت کی اور انسانیت کے خلاف ایک قبیح اور بدنما دھبہ قرار دیا۔

2؍جون1945ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے شام ، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کی۔

11؍جون 1945ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک عظیم الشان اجلاس کیا ، جس میں 22؍ جون کو یومِ ممالکِ اسلامیہ منانے کی اپیل کی۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس18؍ 19؍ ستمبر1945ء کو ہوا، جس کی ایک تجویز میں فلسطین میں آزاد حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔

9؍اکتوبر1945ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے مسٹر ایٹلی، مسٹر ٹرومین اور وزیر اعظم فلسطین کو بحری تار بھیج کر فلسطین میں یہودی آبادکاری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

2؍نومبر1917ء کو بالفور اعلامیہ سے قضیۂ فلسطین کا آغاز ہوا تھا، اسی مناسبت سے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے 2؍نومبر1945ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں یہودیوں کی صورت حال کا جائزہ لینے اور فلسطین میں ان کی آباد کاری کے تعلق سے تحقیقات کے لیے 13؍نومبر1945ء کو اینگلو امریکن کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں تقسیم فلسطین کی سفارش کی گئی تھی۔ 13؍مئی 1946ء کو اس کمیٹی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صد رجمعیت حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے اسے سخت افسوس ناک قرار دیتے ہوئے 24؍مئی 1946ء فلسطین کے متعلق یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا۔

 10تا 12؍جون 1946ء کو منعقد مجلس عاملہ مرکزیہ کے اجلاس میں اینگلو امریکن کمیٹی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل برداشت قرار دیا گیا۔

13؍جون1946ء کو اس کمیٹی کی رپورٹ سے پیداشدہ صورت حال کے تناظر میں کل فلسطین کانفرنس کرنے کا مشورہ کیا گیا۔

21؍جون1946ء کو سکریٹری عرب لیگ نے ایک تار بھیج کر آگاہ کیا کہ فلسطین کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

21تا 24؍ستمبر1946ء کی مجلس عاملہ میں یہ طے کیا گیا کہ فلسطین سے متعلق جمعیت علما کی خدمات کو عربی، یا انگریزی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کو بھیجا جائے۔

صدر جمعیت علمائے ہند نے 17؍جون 1947ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا۔

تقسیم ہند کے نتیجے میں پیداشدہ شدید حالات کے تناظر میں27-28؍دسمبر1947ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں لکھنو مسلم کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں فلسطین کو ناقابل تقسیم قرار دیاگیا۔

جنگ عظیم دوم کے بعد 15؍ مئی 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 106 کے تحت ’’اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے فلسطین‘‘ (UNSCOP) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی نے فلسطین کی تقسیم کی حتمی تجویز پیش کی (جسے اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کے طور پر جانا جاتا ہے)۔ اس میں 56 ؍فی صد رقبہ یہودی ریاست کو، 43؍فی صد عرب ریاست کو، اور یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر14؍مئی 1948ء کو ’’اسرائیل‘‘ کا قیام عمل میں آیا؛ لیکن غیورعربوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

27؍مئی 1948ء کو جمعیت علمائے ہند نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے پریس بیان میں کہا کہ فلسطین میں صرف وہاں کے باشندے ہی حکومت کا حق رکھتے ہیں۔اور6؍جون 1948ء کو عظام پاشا سکریٹری عرب لیگ کو ایک تار بھیج کر ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

اسی طرح سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو جمعیت علما نے اس بات پر مبارک باد دی کہ انھوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلے کو بہت خوبی سے پیش کیا۔

1951ء میں شائع شدہ پمفلٹ میں سامراجی طاقتوں کی مشرقِ وسطیٰ میں مداخلت، سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمہ اور فلسطین کی تقسیم کو ایک بڑی سازش قرار دیتے ہوئے عرب آزادی کو ایشیا و افریقہ کے امن سے جوڑا گیا اور اسی پس منظر میں فلسطین کمیٹی کے قیام کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد کے برسوں میں جمعیت نے اس موقف کو عملی تحریک میں تبدیل کیا، جس کی جزوی تفصیل درج ذیل ہے:

19؍ فروری 1964ء کو شامی وفد کے استقبال میں عربوں کی جدوجہد کی حمایت کا اظہار ہوا،جب کہ 26؍ فروری 1965ء کو عرب لیگ کے نمائندہ نے جمعیت کی کوششوں کو سراہا۔ 15،16،17؍ اپریل 1966ء کے اجلاس عام میں بھی فلسطین کے حق میں جمعیت کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر 23؍ مئی 1967ء کو مولانا اسعد مدنی نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کی اپیل کی، جس کے بعد 28؍ مئی 1967ء کے اجتماع میں عربوں کی حمایت کو جمعیت کا قدیم موقف قرار دیا گیا۔

اسی سلسلے میں 23؍ جولائی 1967ء کو عرب مظلومین کے لیے امداد پیش کی گئی، 28؍ جولائی 1967ء کو یومِ فلسطین کے تحت بڑے پیمانے پر مظاہرہ ہوا، اور 10؍ اگست 1967ء کو قومی کانفرنس منعقد کر کے عربوں کی حمایت کو مزید مضبوط کیا گیا۔ بالآخر 20؍ ستمبر 1967ء کو ’’آل انڈیا فلسطین کمیٹی‘‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان ہوا، جس کے بعد 22؍ ستمبر 1967ء کو اس کا اجلاس منعقد ہوا اور 23،24؍ ستمبر 1967ء کو مجلسِ منتظمہ نے اس کی توثیق کی۔ اسی تحریک کے تسلسل میں 13؍ نومبر 1967ء کو بین الاقوامی مندوبین کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔

بعد ازاں 23؍ جنوری 1968ء کو عرب وفد کے استقبال میں جمعیت نے اپنے موقف کا اعادہ کیا، اور 28؍ اگست 1968ء کو بھی عرب سفیر کے اعزاز میں تقریب کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت کا یقین دلایا گیا۔ مزید برآں 26؍ مارچ 1969ء کے حالات کے تناظر میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے فلسطینیوں کی مظلومیت کو اجاگر کیا گیا۔

1969ء میں جنگِ استنزاف (War of Attrition) کے دوران اسرائیل نے مسلسل فوجی کارروائیاں کیں؛ مارچ 1969ء میں مصر پر حملوں کا آغاز، جولائی 1969ء میں Operation Bulmus 6 اور Boxer، ستمبر 1969ء میں Operation Raviv، اور دسمبر 1969ء میں Operation Rooster 53 کے ذریعے شدید حملے کیے گئے۔ اسی سلسلے میں 26؍ مارچ 1969ء کو اردن کے Es-Salt پر حملہ، اکتوبر 1969ء میں لبنان پر ہیلی کاپٹر حملہ، اور سب سے اہم سانحہ 21؍ اگست 1969ء کو مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی تھا۔ ان مظالم کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے عملی جدوجہد کرتے ہوئے 6؍ جون 1969ء کو اردو بازار دہلی میں اور 29؍ اگست 1969ء کو اردو پارک دہلی میں عظیم الشان احتجاجی اجلاس منعقد کیے۔

اس کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری رہیں، چنانچہ یکم تا 5؍ مارچ 1970ء قاہرہ میں مجمع البحوث الاسلامیہ کی کانفرنس ہوئی، جس کی قراردادوں کی توثیق جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس 18،19؍ اپریل 1970ء میں کی۔ اگلے سال 27؍ مارچ تا یکم اپریل 1971ء قاہرہ کانفرنس کی قراردادیں جمعیت کے سامنے 26،27؍ اپریل 1971ء کو پیش ہوئیں اور ان کی تائید کی گئی۔ بعد ازاں 10؍ جون 1972ء کو مصری نمائندے نے جمعیت کی فلسطین نواز پالیسی کو سراہا۔

فلسطینی جدوجہد کے ساتھ یک جہتی کے اظہار میں 30؍ ستمبر 1973ء کو افطار تقریب منعقد ہوئی، جب کہ رمضان جنگ (6؍ اکتوبر تا 24؍ اکتوبر 1973ء) کے دوران 12؍ اکتوبر 1973ء کو جامع مسجد دہلی میں بڑااحتجاجی اجلاس کیا گیا ۔مزید برآں 19؍ اکتوبر 1973ء کو امریکی مرکز اطلاعات کے خلاف مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اسی سال غیر وابستہ ممالک کی الجزائر کانفرنس 5 تا 9؍ ستمبر 1973ء منعقد ہوئی، جس کے بعد جمعیت نے 24؍ نومبر 1973ء کو اجلاس میں PLO کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا، اور 25؍ نومبر 1973ء کو عرب حمایت کنونشن منعقد کیا۔

1974ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا؛ 24؍ فروری 1974ء کو صدر مصر انور السادات کے استقبال میں فلسطینی حقوق کی حمایت کی گئی۔ مکہ میں 6 تا 10؍ اپریل 1974ء رابطہ عالم اسلامی کانفرنس ہوئی، جس پر 20،21؍ اپریل 1974ء کو منعقد مجلس عاملہ میں غور ہوا، جب کہ اسی اجلاس میں فلسطینیوں کے حق میں قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ مزید برآں 26؍ اگست 1974ء کو مصری سفیر کے اعزاز میں بھی فلسطین کی حمایت دہرائی گئی۔

اسی سال رباط کانفرنس 26 تا 29؍ اکتوبر 1974ء (یا 25 تا 28؍ اکتوبر 1974ء) میں PLO کو فلسطینیوں کا نمائندہ تسلیم کیا گیا، جس کے بعد جمعیت نے 9،10؍ نومبر 1974ء کے اجلاس میں اس کا خیر مقدم کیا اور حکومت ہند کے اسی فیصلے کی تائید کی۔

10؍ مئی 1975ء کو جمعیت نے اعلان کیا کہ 11؍ مئی 1975ء کو یومِ فلسطین منایا جائے، اور پھر 24؍ نومبر 1975ء کو متحدہ عرب امارات کے نمائندے کے استقبال میں ایک بار پھر فلسطینیوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

 15،16؍ مئی 1976ء کے مجلس منتظمہ اجلاس میں پی ایل او کے ڈائریکٹر فیصل عویضہ نے فلسطینی جدوجہد کو آزادی، جمہوریت اور انسانیت کی لڑائی قرار دیا، جس کے ساتھ ہی فلسطین کو ایک سیکولر جمہوری ریاست بنانے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 242 پر عمل درآمد کے لیے ’’جینوا کانفرنس‘‘ بلانے کا مطالبہ منظور کیا گیا۔ اس کے بعد 5،6؍ فروری 1977ء کے مجلس عاملہ اجلاس میں بھی اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے ہٹانے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے امریکہ کے صدر جمی کارٹر پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی گئی۔ پھر 3،4؍ اکتوبر 1977ء کے آل انڈیا ملی کنونشن میں واضح اعلان کیا گیا کہ مسلمانان ہند فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی آزادی کو عالمی انصاف کا تقاضا قرار دیا گیا۔

بعد ازاں 26؍ مارچ 1979ء کو مصر-اسرائیل امن معاہدہ ہوا، جس پر 27؍ مارچ 1979ء کو جمعیت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی حقوق کو نظر انداز کرنے والا کوئی بھی معاہدہ ناقابل قبول ہے۔ اسی جدوجہد کے تسلسل میں 28؍ مارچ 1980ء کو نئی دہلی میں یاسر عرفات کا شان دار استقبال کیا گیا، جس میں جمعیت نے اپنے تاریخی تعلق (1938ء قاہرہ کانفرنس) کو یاد کرتے ہوئے فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، جب کہ 2؍ اپریل 1980ء کو جامع مسجد دہلی کے زیر سایہ عظیم جلسہ منعقد ہوا، جس میں پی ایل او کو تسلیم کرنے اور فلسطینی ریاست کی حمایت کی قراردادیں منظور ہوئیں۔

اسی دوران جماعت اسلامی کے زیر سایہ اسلامک اسٹوڈنٹ مومنٹ کی طرف سے یاسر عرفات کے خلاف مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے 3؍ اپریل 1980ء اور پھر 11؍ اپریل 1980ء کو جلسوں میں اس عمل کو فلسطینی کاز کے خلاف قرار دیا گیا۔ مزید برآں 27؍ اپریل 1980ء کے مجلس عاملہ کے اجلاس اور 28،29؍ اپریل 1980ء کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند کے اس فیصلے کو سراہا گیا کہ اس نے پی ایل او کو سفارتی حیثیت دی، اور فلسطینیوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

 27؍ جولائی 1980ء کو مولانا اسعد مدنی نے اسرائیلی وزیر اعظم کے اس اعلان کی شدید مذمت کی، جس میں یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا، اور اسے اقوام متحدہ اور انصاف پسند انسانیت کی توہین کہا۔ اس کے بعد 30؍ جولائی 1980ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے ’’یروشلم قانون‘‘ منظور کر کے اسے باضابطہ حیثیت دی۔ اسی سلسلہ میں 8؍ اگست 1980ء کو ’’یوم بیت المقدس‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا، جب کہ 4؍ اگست 1980ء کو رابطۂ عالم اسلامی نے بھی عالمی احتجاج کی اپیل کی۔

اس کے بعد 24؍ جولائی 1981ء کو سرکلر جاری کر کے 31؍ جولائی 1981ء کو ملک گیر پیمانے پر ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی گئی، جس پر عوامی سطح پر بھرپور احتجاج ہوا، اور 9،10؍ اگست 1981ء کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں اسرائیل کی ہر جارحیت کی کھل کر مذمت کرنے کی وجہ سے عوام اور حکومت ہند (خصوصاً اندرا گاندھی) کا شکریہ ادا کیا گیا۔ پھر 26،27؍ دسمبر 1981ء کے اجلاس میں اسرائیل کے اقدامات؛ خصوصاً گولان کی پہاڑیوں کے الحاق کی شدید مذمت کی گئی اور یکم جنوری 1982ء کو ’’یوم احتجاج‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے پس منظر میں 11؍ جون 1982ء کو پی ایل او کو برقیہ بھیج کر مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا اور 18؍ جون 1982ء کو ’’یوم دعا‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔ مزید برآں 18؍ جولائی 1982ء کو ایک دن کی آمدنی فلسطینی مجاہدین کے لیے دینے کی اپیل کی گئی۔ 7،8؍ اگست 1982ء کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطینیوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

اسی تسلسل میں 6؍ ستمبر 1982ء کو دہلی میں پی ایل او نمائندہ کا استقبال کیا گیا اور مالی امداد پیش کی گئی، جب کہ 30،31؍ اکتوبر 1982ء کے اجلاس میں مزید امداد کی منظوری دی گئی۔ بعد ازاں 14،15؍ جنوری 1983ء کے اجلاس میں فلسطینیوں کی جدوجہد کو تاریخی مثال قرار دیا گیا اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کی گئی۔ پھر 5،6؍ مارچ 1983ء کو اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اور 25،26؍ نومبر 1983ء کے اجلاس میں فلسطینی مجاہدین اور یاسر عرفات کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

6،7،8؍ اپریل 1984ء کی تعلیمی و ملی کانفرنس میں بھی فلسطینیوں کی حمایت کی قرارداد منظور ہوئی۔ بعد ازاں 19؍ مئی 1985ء کو لبنان میں فلسطینی کیمپوں کے محاصرہ کا آغاز ہوا، جو انسانی بحران میں بدل گیا، اور یہ صورت حال جولائی 1988ء تک جاری رہی، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے ردعمل میں 13؍ فروری 1987ء کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس محاصرہ اور قتل عام کی شدید مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید برآں یکم نومبر 1986ء کے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت، خصوصاً لبنان اور تیونس پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینیوں کی مسلسل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

 دسمبر 1987ء کے آخر اور جنوری 1988ء کے آغاز میں غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فائرنگ سے متعدد فلسطینی شہید ہوئے، جس پر 9،10؍ جنوری 1988ء کو مجلس عاملہ نے شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے امن فوج تعینات کرنے اور اسرائیل کی ناکہ بندی کا مطالبہ کیا، نیز 5؍ فروری 1988ء کو ’’یوم احتجاج‘‘ منانے کا اعلان کیا، جو ملک بھر میں منایا گیا۔ اسی دوران فلسطینیوں کی مدد کے لیے مالی امداد (پچاس ہزار روپے) دی گئی۔

پھر 12؍ مارچ 1988ء کو فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا استقبال کیا گیا، اور 8؍ اپریل 1988ء کو مزید امداد کی منظوری دی گئی۔ 9،10؍ اپریل 1988ء کے اجلاس میں ’’صندوق جہاد فلسطین‘‘ قائم کیا گیا۔ اس کے بعد 13،14؍ جون 1988ء کو فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔

15؍ نومبر 1988ء کو ایک اہم پیش رفت ہوئی، جب یاسر عرفات نے آزاد فلسطینی ریاست کا اعلان کیا، جسے 26،27؍ نومبر 1988ء کو جمعیت نے سراہا، اورہندستان نے 18؍ نومبر 1988ء کو اسے تسلیم کیا۔ بعد میں 11،12؍ فروری 1989ء کو اس ریاست کے قیام کو جمعیت کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا گیا۔

اسرائیلی مظالم کے تسلسل پر 3؍ جون 1990ء کو سخت احتجاج کیا گیا، اور 9؍ جون 1991ء کو لبنان میں فلسطینی آبادیوں پر بم باری کی مذمت کی گئی۔ اسی سال 30؍ نومبر 1991ء کو آزاد فلسطینی ریاست کی ضرورت پر زور دیا گیا، جب کہ یکم و 2؍ دسمبر 1991ء کو پی ایل او کو امن مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد ازاں 7؍ اپریل 1992ء کو یاسر عرفات ایک ہوائی حادثے میں محفوظ رہے، جس پر 9؍ اپریل 1992ء کو مبارک باد پیش کی گئی۔ پھر 8؍ مئی 1992ء کو مجلس عاملہ نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔ آخر میں 21؍ دسمبر 1992ء کو سلامتی کونسل سے فلسطینیوں پر جاری مظالم روکنے اور انصاف دلانے کی اپیل کی گئی۔

 13؍ستمبر 1993ء کو اوسلو معاہدہ طے پایا، جس میں باہمی تسلیم، عبوری خودمختاری اور فلسطینی اتھارٹی کے قیام جیسے نکات شامل تھے۔ اس کے بعد 3،4؍ اکتوبر 1993ء کو جمعیت نے ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ میں اس معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ بنے گا۔

بعد ازاں 25؍ فروری 1994ء کو الخلیل کی ابراہیمی مسجد میں قتل عام ہوا، جس کی 28؍ فروری 1994ء کو سخت مذمت کی گئی، اور 18؍ مارچ 1994ء کے اجلاس میں بھی اسرائیل اور امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، نیز اقوام متحدہ کی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

پھر 13؍ مئی 2000ء کو عالمی مسائل؛ خصوصاً فلسطین کے حل کے لیے عالمی طاقتوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی سال 28؍ ستمبر 2000ء سے دوسری انتفاضہ شروع ہوئی، اور 30؍ ستمبر 2000ء کو محمد الدرہ کی شہادت ہوئی۔ اس پر 16؍ اکتوبر 2000ء کو شدید مذمت کی گئی اور 23؍ اکتوبر 2000ء کو احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مزید 12؍ نومبر تا 14؍ نومبر 2000ء دوحہ کانفرنس کے موقع پر متحدہ اقدام کی اپیل کی گئی۔

اس کے بعد 27،28؍ ستمبر 2001ء کو عالمی برادری سے انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔ 7؍ مارچ 2002ء اور یکم مئی 2002ء کے اجلاسوں میں اسرائیلی جارحیت اور امریکی حمایت کی مذمت کی گئی، جب کہ 19؍جولائی 2002ء کو ’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ پھر 9؍ مارچ 2003ء کو اجلاس عام میں بھی اسی مسئلہ کو اٹھایا گیا۔

22؍ مارچ 2004ء کو شیخ احمد یاسین کی شہادت پر 24؍ مارچ 2004ء کو شدید مذمت کی گئی۔ اسی سال 11؍ نومبر 2004ء کو یاسر عرفات کا انتقال ہوا، جس پر انھیں عظیم قائد قرار دیا گیا،جب کہ 17؍ نومبر 2004ء کو عید ملن تقریب میں بھی ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

 29؍ مئی 2005ء کے اجلاس عام میں اسرائیلی پالیسیوں، نئی یہودی بستیوں اور امن عمل کی رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست، یہودی بستیوں کے خاتمہ، مہاجرین کی واپسی اور عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

17؍ مئی 2006ء کو جمعیت کے وفد نے وزیر اعظم ہند سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں فلسطین کے تعلق سے خارجہ پالیسی میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور ایران کے معاملہ میں امریکی دباؤ کی مخالفت کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر 25؍ جون 2006ء کے واقعہ (اسرائیلی فوجی کی گرفتاری) کے بعد اسرائیل نے فوجی کارروائی شروع کی، جس پر 30؍ جون 2006ء کو جمعیت نے سخت مذمت کی۔ مزید 30؍ جولائی 2006ء اور 22؍ نومبر 2006ء کے اجلاسوں میں اسرائیل، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر تنقید اور عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

14؍ فروری 2007ء کو مجلس عاملہ نے فلسطین، عراق اور مشرق وسطیٰ کی خراب صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عرب اتحاد، مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور فلسطینی کاز کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔ اس کے بعد 5؍ اپریل 2008ء کو مجلس منتظمہ نے فلسطینیوں کی حمایت، اسرائیلی مظالم کی مذمت، آزاد فلسطینی ریاست، یہودی بستیوں کے خاتمہ اور عالمی برادری کے کردار کا مطالبہ کیا۔

پھر جون 2008ء میں عارضی جنگ بندی ہوئی، لیکن نومبر 2008ء میں دوبارہ کشیدگی بڑھی اور 9؍ نومبر 2008ء کے اجلاس عام میں فلسطین کی مظلومیت، اسرائیلی جارحیت اور عالمی بے حسی پر روشنی ڈالی گئی۔ بعد ازاں 27؍ دسمبر 2008ء تا 18؍ جنوری 2009ء غزہ جنگ (آپریشن کاسٹ لیڈ) کے دوران شدید تباہی ہوئی، جس پر 30؍ دسمبر 2008ء کو مذمتی قرارداد منظور کی گئی اور 2؍ جنوری 2009ء کو ’’یوم دعا و احتجاج‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا۔

اس کے بعد 13،14؍ فروری 2009ء کے اجلاس میں اسرائیلی پالیسیوں کی مذمت اور حکومت ہند سے سابقہ پالیسی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا، جب کہ 14؍ فروری 2009ء کو امن عالم کانفرنس میں فلسطینیوں کی حمایت، اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دینے اور حماس و الفتح کے اتحاد پر زور دیا گیا۔

مزید 10؍ جولائی 2009ء کو مجلس عاملہ نے فلسطین کی سنگین صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکہ پر دباؤ ڈالنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔ پھر 3؍ نومبر 2009ء کے اجلاس عام میں اسرائیلی جارحیت، غزہ محاصرہ، یہودی بستیوں کی توسیع اور عالمی طاقتوں کی بے عملی پر تنقید کی گئی، جب کہ 17؍ اکتوبر 2009ء کو اقوام متحدہ کی توثیق کا حوالہ بھی دیا گیا۔

پھریکم جون 2010ء کو غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی حملہ کے بعد جمعیت نے عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت روکنے اور فلسطینیوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ 22؍ جون 2010ء کو ملی جماعتوں کی نشست میں غزہ کی صورت حال پر غور کرتے ہوئے دہلی میں بین الاقوامی کانفرنس، کل ہند بیداری مہم، غزہ کے دورہ کے لیے وفد کی تشکیل اور امدادی سامان کے ساتھ بحری جہاز بھیجنے جیسے عملی فیصلے کیے گئے۔ پھر 5؍ جولائی 2010ء کو مجلس عاملہ نے عالمی کانفرنس، امدادی کشتی اور حکومت ہند کی فلسطین مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کی تجویز دی اور اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

اس کے بعد 14؍ فروری 2011ء کو سعودی علماکے وفد کے استقبال میں جمعیت نے فلسطین سمیت عالم اسلام کے مظلوموں کی حمایت کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ پھر 14،15؍ اکتوبر 2011ء کے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت، نئی یہودی بستیوں اور مسجد اقصیٰ کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی گئی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید 31؍ اکتوبر 2011ء کو یونیسکو میں فلسطین کو مکمل رکنیت ملنے پر، اور یکم نومبر 2011ء کو اس کے حق میں مثبت ردِّ عمل ظاہر کیا گیا۔

پھر 27؍ فروری 2012ء کو بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر شدید مذمت کی گئی، جب کہ 19؍ مئی 2012ء کے اجلاس عام میں فلسطینیوں کی مظلومیت، اسرائیلی مظالم اور عالمی بے عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بعد ازاں 28؍ اگست 2012ء کو اسرائیلی جارحیت روکنے اور ہندستان سے اپنی سابقہ فلسطین نواز پالیسی اپنانے کی اپیل کی گئی۔

 29؍ نومبر 2012ء کو ایک اہم پیش رفتہوئی، جب اقوام متحدہ نے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیا، جسے 3؍ دسمبر 2012ء کو جمعیت نے سراہا، جب کہ 12؍ دسمبر 2012ء کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اصل حل مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

اس کے بعد 24؍ مئی 2014ء کو مجلس عاملہ نے نئی حکومت کو اسرائیلی اثرات سے محتاط رہنے اور فلسطین کے حق میں سابقہ پالیسی جاری رکھنے کی نصیحت کی، جب کہ 26؍ مئی 2014ء کو نئی این ڈی اے حکومت قائم ہوئی۔ آخر میں 4؍ اگست تا 8؍ اگست 2014ء ’’انسانیت بچاؤ احتجاجی ہفتہ‘‘ منایا گیا، جس کے ذریعے غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف ملک گیر احتجاج اور فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی گئی۔

16؍ مئی 2015ء کو بتیسویں اجلاس عام میں فلسطین پر اسرائیلی ظلم، غزہ حملوں (2200 سے زائد شہادتیں) اور عالمی بے حسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست، مقبوضہ علاقوں کی واپسی اور مہاجرین کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

پھر 13؍ نومبر 2016ء کے تینتیسویں اجلاس عام میں فلسطین کو عالم اسلام کا اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے یونیسکو کے فیصلوں کا خیر مقدم اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کی گئی، ساتھ ہی آزاد فلسطینی ریاست، غزہ ناکہ بندی کے خاتمہ اور اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی تناظر میں 14 تا 21؍ نومبر 2016ء اسرائیلی صدر کے دورۂ ہند کے خلاف، 15؍ نومبر 2016ء کو مذمتی بیان اور 18؍ نومبر 2016ء کو دہلی میں احتجاجی اجلاس منعقد ہوا، جس میں فلسطین کے حق میں مضبوط مطالبات دہرائے گئے۔

بعد ازاں 14؍ جولائی تا 27؍ جولائی 2017ء مسجد اقصیٰ کی بندش اور تشدد کے خلاف، 24؍ جولائی 2017ء کو مذمتی قرارداد منظور کی گئی اور اسرائیلی اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پھر 12؍ اکتوبر 2017ء کو الفتح اور حماس کے درمیان اتحاد ہوا، جسے 27؍ اکتوبر 2017ء کے اجلاس میں مثبت قرار دے کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی اپیل کی گئی۔اس کے بعد 20؍ دسمبر 2017ء کو دہلی میں مشاورتی اجلاس میں امریکہ کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کی گئی اور فلسطین کی حمایت میں قرارداد منظور ہوئی۔مزید 10؍ جنوری 2018ء کو کور کمیٹی میٹنگ میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دورۂ ہند کی مخالفت اور فلسطین کے حق میں عوامی بیداری پر زور دیا گیا۔

پھر 30؍ جون 2018ء کے اجلاس میں یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کے قیام کی مذمت اور مجوزہ ’’صدی کی ڈیل‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

آخر میں 28؍ جنوری 2020ء کو امریکی صدر کی جانب سے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے اعلان کو، 30؍ جون2018ء میں بھی مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا۔

 7؍ مئی 2021ء کو رمضان کے آخری جمعہ پر مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی حملے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوئے، جس پر 27؍ مئی 2021ء کو مجلس عاملہ نے سخت مذمتی قرارداد منظور کی، جس میں غزہ حملوں (دو سو سے زائد شہدا) کی مذمت، اسرائیل پر عالمی عدالت میں مقدمہ، مسجد اقصیٰ کے تحفظ، القدس کی واپسی، فلسطینی ریاست کے قیام اور جنگی جرائم روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پھر 28،29؍ مئی 2022ء کے اجلاس میں غزہ ناکہ بندی ختم کرنے، مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو روکنے، اقوام متحدہ کی قراردادوں 1860 (2009ء) اور 2334 (2016ء) پر عمل کرانے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا۔

اس کے بعد 12؍ فروری 2023ء کے چونتیسویں اجلاس عام میں مولانا محمود اسعد مدنی نے فلسطین کو امت کا مستقل مسئلہ قرار دیا، جب کہ اسی اجلاس میں اسرائیلی قبضہ، یروشلم کی حیثیت بدلنے کی کوششوں اور مسجد اقصیٰ پر تسلط کے خلاف قرارداد منظور کی گئی، جس میں ناکہ بندی ختم کرنے، مسجد اقصیٰ کو آزاد کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دہرایا گیا۔

پھر 7؍ اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر شدید جنگ شروع کی، جس کے رد عمل میں 9؍ اکتوبر 2023ء کو جمعیت نے فوری جنگ بندی، عالمی مداخلت اور فلسطینی حقوق کی حمایت کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد 19؍ اکتوبر 2023ء کو دہلی میں مختلف ملی جماعتوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی اور اسرائیلی بم باری کی مذمت کی گئی۔

بعد ازاں 5؍ جنوری 2024ء کو مجلس عاملہ نے غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی، ہزاروں ہلاکتوں اور عالمی بے عملی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ پھر 4-5؍ جولائی 2024ء کے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت، نسل کشی، بے گھری اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی مذمت کرتے ہوئے اسلحہ فراہمی روکنے، عالمی عدالت میں کارروائی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

یکم اگست 2024ء کواسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کیا گیا، جس پر 2؍ اگست 2024ء کو جمعیت نے شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پھر 24؍ اگست 2024ء کو فلسطینی رہنما ڈاکٹر محمد مکرم بلاوی کے ساتھ ملاقات میں فلسطینی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

پھر 4؍ فروری 2025ء کو امریکی صدر کے غزہ پر قبضہ کے بیان کے بعد 6؍ فروری 2025ء کو جمعیت نے اس منصوبے کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے فلسطینی حقوق کی بحالی، غزہ کی باز آبادکاری اور منصفانہ حل کی اپیل کی۔ 13؍ اپریل 2025ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں 7؍ اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی فوجی مہم (Operation Iron Swords) اور فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے فوری جنگ بندی، انسانی امداد اور فعال سفارتی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی اسرائیل کو جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے، عالمی دباؤ بڑھانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا۔

28؍ مئی 2025ء کو مولانا محمود مدنی نے ڈاکٹر آلاء النجار کے نو بچوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی خط ارسال کیا اور اسرائیلی جارحیت کو انسانیت سوز جرم قرار دیا۔ 24؍ جولائی 2025ء کو دہلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ کی نشست میں فلسطین کے مسئلہ کو صرف سیاسی نہیں بلکہ‘‘انسانیت کا مسئلہ’’قرار دیتے ہوئے حکومت ہند کی پالیسی پر تنقید کی گئی اور انسانی بنیادوں پر فلسطینیوں کی حمایت پر زور دیا گیا۔

20؍ اگست 2025ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں غزہ میں جاری نسل کشی، ایک لاکھ کے قریب ہلاکتوں، محاصرہ، بھوک اور بنیادی ضروریات کی بندش پر شدید تشویش ظاہر کی گئی اور عالمی برادری، عرب ممالک اور طاقتوں سے متحد ہوکر اسرائیلی جارحیت روکنے، راستے کھولنے اور جنگ بندی کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

29؍ نومبر2025ء کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس میں فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت، آزادی اور بنیادی حقوق کی بحالی پر زور دیا گیا، دوہری عالمی پالیسیوں کی مخالفت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس ہو اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدسات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

خلاصۃ الخلاصہ یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی جارحیت، غزہ کی تباہی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا، حکومت ہند اور عالمی برادری سے فعال مداخلت کا مطالبہ کیا، انسانی امداد اور جنگ بندی پر زور دیا، اور آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو مسئلہ کا بنیادی اور مستقل حل قرار دیا۔