8 May 2026

حجۃ الوداع

 

حجۃ الوداع

شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی نور اللہ مرقدہ شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور یوپی



اس میں سارے علما کا اتفاق ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ہجرت کے بعد صرف ایک ہی مرتب حج کیا ہے۔ 10ھ میں، جو حضور اقدس ﷺ کی زندگی کا آخری سال تھا اور اس سفر میں ایسے واقعات حضور ﷺ کی طرف سے ظہور ہوا، جیسا کہ کسی سے رخصت ہوتے وقت ہوا کرتے ہیں، اسی وجہ سے اس کا نام ’’حجُ الوداع‘‘ یعنی رخصت کاحج پڑگیا کہ گو یا حضوراقدس ﷺ حق تعالی شانہ کے یہاں جانے کے لیے اس سفر کے اجتماع کے وقت سارے مسلمانوں سے جو حاضر تھے، رخصت ہوگئے۔

سفر حج کی ابتدا کے وقت حضور اقدس ﷺ نے اپنے ارادے کا اعلان فرمایا، تو ہزاروں کی مقدار میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہم رکابی اور معیت کا فخر حاصل کرنے کے لیے حج کا ارادہ فرمالیا اور جو خبرسنتا گیا، وہ ہم رکابی کی کوشش کرتا گیا، ان میں سے ایک بڑی مقدار مدینہ طیبہ روانگی سے قبل پہنچ گئی اور جو وہاں حاضر نہ ہو سکے تھے، وہ راستہ میں ملتے رہے اور جن کو اتنا بھی وقت نہ ملا، وہ مکہ مکرمہ اور بعض براه راست عرفات پر پہنچے۔ غرض بہت کثیر مجمع اس حج میں ہم رکاب تھا، جس کی مقدار ایک لاکھ چوبیس ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ (لمعات حاشیہ ابوداؤد)

حضور اقدس ﷺ مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئے اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں پہنچ کر ادافرمائی اس میں مورخین کا اختلاف ہے کہ روانگی کی تاریخ کیا تھی، چوبیس، پچیس، چھبیس ذی قعدہ تین قول ہیں اور اسی طرح دن کے متعلق بھی پنج شنبہ، جمعہ، شنبہ، تین قول ہیں۔ جن میں سے جمعہ کا دن جن حضرات نے کہا ہے وہ صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لیے کہ روانگی سے قبل مدینہ پاک میں چار رکعت ظہر کی پڑھنا مشہور روایات میں ہے، اس ناکارہ کے نزدیک پچیس ذی قعدہ شنبہ کے دن روانگی روایات سے رائج معلوم ہوتی ہے، شب کو ذوالحلیفہ میں قیام فرمایا اور تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے جو ہمراہ تھیں، صحبت کی ، اسی وجہ سے علما کے نزدیک اگر بیوی ساتھ ہو، تو احرام سے قبل صحبت کرنا مستحب ہے کہ احرام کے طویل زمانہ میں دونوں کے لیے عفت کا سبب ہے، دوسرے دن ظہر کے وقت حضور اقدس ﷺ نے احرام کے لیے غسل کیا اور احرام کی چادریں زیب تن فرمائیں اور ذو الحلیفہ کی مسجد میں ظہر کی نماز کے بعد قران کا احرام باندھا۔ محققین علما کے نزدیک حضور ﷺکا احرام شروع ہی سے قرآن کا تھا، یہاں حضور اقدس ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اختیار دے دیا کہ جس کا دل چاہے افراد تمتع ، قران میں سے جونسا چاہے باندھ لے، خود حضور اقدس ﷺ نے قران کا باندھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رات کو تشریف لاکر یہ فرمایا تھا کہ یہ وادی عقیق مبارک وادی ہے، آپ اس میں نماز پڑھیں اور حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھیں۔ اس کے بعد مسجد سے باہر تشریف

لاکر اونٹنی پر سوار ہوئے اور زور سے لبیک پڑھا، چوں کہ مسجد کی آواز قریب کے آدمیوں نے سنی تھی اور یہاں اونٹنی پر تشریف رکھنے کے بعد دور تک آواز گئی ، اس لیے بہت سے حضرات نے یہ سمجھا کہ اس وقت حضور ﷺ نے احرام کی ابتدا فرمائی۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی مبارک اونٹنی  آپ ﷺ  کو اپنی پشت پر لے کر چلی اور بیداء کی پہاڑی پر چڑھی، جو ذوالحلیفہ کے قریب ہے، چوں کہ حاجی کے لیے ہر اونچی جگہ چڑھتے ہوئے لبیک زور سے پڑھنا مستحب ہے، اس لیے حضور ﷺ نے یہاں بھی زور سے کی لبیک پڑھا، جس کی آواز پہاڑی کا اونچان ہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ دور تک گئی ، اس کی وجہ سے صحابہ کی ایک بڑی جماعت اسی جگہ حضور ﷺ  کا حرام با ندھنا نقل کرتی ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے لبیک پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ کی طرف روانگی شروع کی۔ حضرت جبرئیل علیہ اسلام نے آکر یہ درخواست کی کہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کو حکم فرمادیجیے کہ لبیک زور سے پڑھیں ۔ چنانچہ حضور ﷺ نے اس کا حکم فرمایا۔

 راستہ میں جب ’’وادی روحاء “ پر پہنچے تو حضور ﷺ نے وہاں نماز پڑھی اور یہ فرمایا کہ ستر نبیوں نے اس جگہ نماز پڑھی۔ حضور اقدس ﷺ کا سامان اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا کا سامان سب ایک اونٹ پر تھا، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے سپردگی میں تھا، جب ” وادی عرج‘‘ میں پہنچے، تو دیر تک یہ حضرات ان کا انتظار فرماتے رہے۔بڑی دیر میں وہ آئے اور کہا کہ اونٹ تو کھویا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو مارا کہ ایک ہی تو اونٹ تھا، وہ بھی گم کردیا اورحضور ﷺ تبسم فرما کر ارشاد فرمارہے تھے کہ ان محرم کو دیکھو! یہ کیا کر رہے ہیں؟ یعنی احرام کی حالت میں مارتے ہیں۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کو جب معلوم ہوا کہ حضور ﷺکے سامان کی اونٹنی گم ہوگئی، تو جلدی سے کھانا تیار کر کے لائے ، حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ آؤ !اللہ تعالی نے بہترین غذا عطا فرمائی، مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آرہا تھا۔ حضور ﷺنے ان کو فرمایا کہ ابو بکر ! غصہ کو جانے دو، اس کے بعد حضرت سعد اور حضرت ابو قیس رضی اللہ عنہما اپنے  سامان کی اونٹنی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضورﷺ یہ  قبول فرمالیں، مگر حضور ﷺنے فرمایا :اللہ تمھیں برکت عطا فرمائے ، ہماری اونٹنی اللہ کے فضل سے مل گئی ۔

 جب وادی عسفان میں جو مکہ مکرمہ کے قریب ہے تشریف فرما تھے، تو حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ  نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہمیں حج کا طریقہ اس طرح بتادیجیے کہ گویا ہم آج ہی پیدا ہوئے ہیں یعنی اس پر اطمینان نہ فرما ویں کہ یہ بات تو ان کو پہلے سے معلوم ہوگی ۔ حضور صﷺنے ان حضرات کو بتایا کہ مکہ میں داخل ہو کر کیا کیا کریں ۔

سرف میں پہنچ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض آنے لگا، وہ بہت پریشان ہو ئیں ، رونے لگیں کہ میرا توسفر ہی بے کار ہو گیا، حج کا وقت قریب آگیا اور میں ناپاک ہوگئی۔ حضور ﷺنے تسلی دی کہ یہ تو ساری ہی عورتوں کو پیش آتا ہے ، پھر ان کو بتایا کہ وہ اب کیا کریں ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو ارشاد فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی  نہیں ہے، وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر عمرہ کر کے اپنا احرام کھول دیں۔

 مکہ مکرمہ کے قریب جب ’’وادی از رق‘‘پر پہنچے، تو ارشاد فرمایا کہ میرے سامنے اس وقت وہ منظر ہے، جب حضرت موسی علیہ السلام اس جگہ پر حج کے لیے گزر رہے تھے اور کانوں میں انگلیاں دے کر زور سے لبیک پڑھ رہے تھے،۔

اس کے بعد حضور اقدس عﷺ ’’ذوطوی“ پہنچے، جو مکہ مکرمہ کے بالکل قریب ہے اور شب کو وہاں قیام فرمایا اور صبح کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی غرض سے غسل کیا اور چاشت کے وقت 4/ذی الحجہ یک شنبہ کی صبح کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ، اس دن اور تاریخ میں علما کا سب کا قریب قریب  اتفاق ہے کہ مکہ مکرمہ میں داخلہ کی یہی تاریخ اور یہی دن تھا۔ بندہ کے نزدیک ذی قعدہ کا یہ مہینہ انتیس دن کا تھا، اس لیے شنبہ کو چل کر نویں دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، مکہ مکرمہ میں پہنچ کر سب سے اول مسجد حرام میں تشریف لے گئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور طواف کیا ،تحیۃ المسجد بھی نہیں پڑھی۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی طواف شروع فرمادیا ۔ طواف سے فراغت پر مقام ابراہیم پر طواف کا دوگانہ ادا کیا، جس میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھی ۔ اس کے بعد پھر حجر اسود کو بوسہ دیا اور باب الصفا سے نکل کر صفا کی پہاڑی پر تشریف لے گئے اور اوپر چڑھے ،یہاں تک کہ بیت اللہ نظر آنے لگا، پھر بڑی دیر تک تکبیر و تحمید اور دعا کرتے رہے، اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان سات چکر پورے فرمائے اور مروہ پر جب سعی سے فراغت فرمائی، تو جن حضرات کے ساتھ ہدی نہیں تھی ، ان کو احرام کھولنے کا حکم فرمایا، اس کے بعد قیام گاہ پر تشریف لائے اور چار دن قیام فرمایا۔

 آٹھ ذی الحجہ پنج شنبہ کو چاشت کے وقت منی تشریف لے گئے اور سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حج کا احرام باندھ کر ہم رکاب تھے، پانچ نمازیں منی میں پڑھیں ، اسی شب میں سورہ والمرسلات حضور ﷺ پر نازل ہوئی ، جمعہ کی صبح کو طلوع آفتاب کے بعد عرفات تشریف لے گئے اور نمرہ میں جو خیمہ حضور ﷺ کے لیے خدام نے پہلے سے لگا دیا تھا تھوڑی دیر قیام فرمایا، پھر زوال کے بعد اپنی اونٹنی پر جس کا نام ” قصوی‘‘ تھا، سوار ہو کر ” بطن عرنہ‘‘  میں جو وہیں قریب ہے، تشریف لائے اور بہت طویل خطبہ پڑھا، اس خطبہ میں ایسے الفاظ بھی تھے کہ شاید تم اس سال کے بعد مجھے نہ دیکھو اور یہ کہ اس سال کے بعد بھی بھی میرا تمھارا یہاں اجتماع نہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

خطبہ کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تکبیر کا حکم فرمایا اور ظہر اور عصر کی نمازیں ظہر ہی کے وقت میں پڑھائیں ، نماز سے فراغت کے بعد عرفات کے میدان میں تشریف لائے اور مغرب تک اپنی اونٹنی  پر دعا میں بڑے اہتمام سے مشغول رہے، اسی دوران میں حضرت ام افضل  رضی اللہ عنہا  نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آپ کا روزہ  ہے یانہیں؟ ایک پیالہ میں دودھ بھیجا، جس کو حضور ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سارے مجمع کے سامنے نوش فرمایا، تا کہ سب کو معلوم ہو جائے کہ روزہ نہیں ہے،۔

اسی دوران میں ایک صحابی اونٹ پر سے گر کر مر گئے۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ ان کے احرام کے کپڑوں ہی میں ان کو کفنا دو، یہ قیامت میں لبیک ہی پڑھتے ہوئے اٹھیں گے۔

 اس جگہ نجد کی ایک جماعت براہ راست پہنچی اور حضور ﷺسے ایک آدمی کے ذریعہ سے آواز دے کر دریافہ کرایا کہ حج کیا ہے؟ حضور ﷺ نے ایک آدمی کو حکم فرمایا کہ اعلان کردو کہ حج عرفہ میں ٹھہرنے کا نام ہے، جو شخص دس ذی الحجہ کی صبح سے پہلے پہلے یہاں پہنچ جائے، اس کا حج ہو گیا۔ [ابوداؤد ]

حضورﷺ مغرب تک امت کے لیے مغفرت کی دعا بہت ہی الحاج اور زاری سے مانگتے کے رہے۔ حق تعالی شانہ کے یہاں سے اُمت کے لیے مظالم کے سوا اور سب چیزوں کی مغفرت کا وعدہ ہو گیا ؛مگر حضور اقدس ﷺ پھر بھی التجا فرماتے رہے کہ یا اللہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مظلوموں کو تو اپنے پاس سے بدلہ عطا فرمادے اور ظالموں کو معاف فرمادے ۔اسی دوران میں آیت شریفہ { الْيَوْمَاکملت لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ (سورہ مائدہ :۳) نازل ہوئی، جس کا بیان سب سے پہلی فصل میں گزر چکا ہے،۔جس وقت یہ آیت شریفہ نازل ہوئی، تو وحی کے بوجھ سے حضور اقدس ﷺ کی اونٹنی بیٹھ گئی، کھڑی نہ ہو سکی۔ غروب کے بعد نماز سے قبل حضور ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے، اونٹنی ایسے زوروں پر تھی کہ نہایت شدت سے اس کی باگ کھینچ رکھی تھی ، وہ جوش میں دوڑنا چاہتی تھی ، جہاں ذرا چڑھائی آتی، تو حضور ﷺ اونٹنی کی باگ ذرا ڈھیلی فرما دیتے تھے، پھر اس کو زور سے کھینچ لیتے ؛حتی کہ اس کا سر باگ کے زیادہ کھینچنے کی وجہ سے کجاوے سے لگا جارہا تھا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ حضور ﷺکے پیچھے اونٹنی پر تھے، راستہ میں ایک جگہ مزدلفہ کے قریب حضور علی کو پیشاب کی ضرورت ہوئی ،اتر کر پیشاب کیا ، وضو کیا، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے وضو کرایا۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ  عنہ کا معمول اتباع کے شوق میں ہمیشہ یہ رہا کہ جب حج کرتے ،تو اس موقع پر اتر کر وضو کیا کرتے اور ذوق میں کہا کرتے کہ حضور اقدس  ﷺ نے یہاں وضوکیا تھا۔ حضرت اسامہ  رضی اللہ عنہ نے وضوکے بعد حضور ﷺ سے نماز کی یاد دہانی کرائی۔ حضورﷺ نے فرمایا آگے چلو، مزدلفہ پہنچ کر سب سے پہلے حضور ﷺ نے نئے وضو کے بعد مغرب اور عشاء کی نماز پڑھائی، اس کے بعد دعامیں مشغول ہوئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس جگہ مظالم کے بارہ میں بھی حضور ﷺ کی دعا قبول ہوگئی۔ حضور ﷺ نے بچوں اور عورتوں کو نیز ضعفاء کو ہجوم میں تکلیف ہونے کے خیال سے رات ہی میں مزدلفہ سے منی کو روانہ فرمادیا اور خود تمام رفقاء کے ساتھ صبح صادق کے بعد سویرے سے نماز پڑھ کر طلوع آفتاب سے قبل منی کے لیے روانہ ہوئے اور اس وقت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو پیدل چلنے والوں میں تھے اور حضرت فضل بن عباس  رضی اللہ عنہما ،حضور ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے، راستہ میں ایک نوجوان لڑکی نے حضور ﷺسے اپنے باپ کے حج بدل کا مسئلہ دریافت کیا، حضرت فضل رضی اللہ عنہ ابھی نوعمر تھے ، ان کی نگاہ اس عورت پر پڑی۔ حضورﷺ نے اپنے دست مبارک سے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دوسری طرف پھیر دیا کہ نا محرم کونہ دیکھیں اور یہ ارشاد فرمایا کہ آج کا دن ایسا دن ہے کہ جو شخص اس میں اپنی آنکھ، کان اور زبان کی حفاظت کرے، اس کی مغفرت ہوتی ہے۔ راستہ ہی سے حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے لیے کنکریاں چنیں، لوگ مسائل بھی دریافت کرتے جاتے تھے اور حضورﷺجواب فرماتے جارہے تھے، ایک صاحب نے دریافت کیا: حضور ﷺ! میری والدہ اتنی بوڑھی ہیں کہ اگر سواری پر ان کو باندھ کر پٹھایا جائے، تو ان کی موت کا اندیشہ ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمھاری والدہ کے ذمہ کسی کا قرض ہوتا تو کیا تم ادانہ کرتے ؟ ایسے ہی حج کو بھی سمجھ لو ۔ جب حضور ﷺ  راستہ میں وادی محسر پر پہنچے ، جہاں حق تعالٰی شانہ نے ابرہہ کے ہاتھی کو ہلاک کیا تھا، جب کہ اس نے مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی، تو حضور ﷺ نے اپنی اونٹنی کو تیز کر دیا کہ جلدی سے اس عذاب کی جگہ سے آگے بڑھ جائیں۔

 منی پہنچ کر سیدھے جمرہ عقبہ پر پہنچے اور سات کنکریاں اس کے ماریں اور لبیک کا پڑھنا جو احرام کے بعد سے اب تک وقتا فوقتا ہوتا رہتا تھا، اس وقت بند کر دیا، اس کے بعد منی میں قیام گاہ پر تشریف لائے اور بڑا طویل وعظ فرمایا، جس میں بہت سے اہم احکام کا اعلان کیا، اور اس قسم کے مضامین بھی ارشاد فرمائے جیسا کہ الوداع کے وقت کہے جاتے ہیں، پھر قربانی کی جگہ تشریف لے گئے اور اپنی عمر کے سالوں کے مطابق تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے قربانی کیے، جن میں چھ سات اونٹ اُمنڈ کر قربان ہونے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے، ہر ایک زبانِ حال سے جلدی قربان ہونا چاہتا تھا۔

داغ جاتے تو ہیں مقتل میں پر اول سب سے

دیکھیے وار کرے وہ ستم آرا کس پر

تریسٹھ کے علاوہ باقی اونٹوں کو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے قربان کیا، کل عدد سو تھے۔ قربانی کے بعد اعلان فرمادیا کہ جس کا دل چاہے ، ان میں سے گوشت کاٹ کر لے جائے ، اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ ہر اونٹ میں سے ایک ایک بوٹی لے کر سب کو ایک برتن میں جوش دیں، ان کا شور با حضور ﷺ نے پیا، تا کہ ہر اونٹ کو حضور ﷺ کے نوش فرمانے کی سعادت حاصل ہو۔

اپنی از واج  مطہرات  رضی اللہ عنہن  کی طرف سے گائے ذبح کی ۔قربانی سے فراغت کے بعد حضرت معمر رضی اللہ عنہ یا حضرت خراش  رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے حجامت بنوائی ، سر منڈایا، لبیں بنوائیں، ناخن ترشوائے اور یہ بال اور ناخن جاں نثاروں میں تقسیم کر دیے ۔ کہتے ہیں کہ کہیں کہیں جو بال مبارک موجود ہیں وہ انھی میں کا بقیہ ہے۔ اس کے بعد احرام کی چادریں اُتار کر کپڑے پہنے، خوشبو لگائی ، اس دوران میں کثرت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  آ کر حج کے متعلق مسائل دریافت کرتے رہے، اس دن میں چار کام کرتے ہیں: رمی، ذبیح، سر منڈانا ، طواف زیارت کرنا، یہی ترتیب ان کی ہے، اس میں بہت سے حضرات سے بھول وغیرہ کی وجہ سے ترتیب میں تقدم و تاخر ہوا، ہر شخص آکر عرض کرتا کہ مجھ سے بجائے اس کے ایسے ہو گیا۔ حضور ﷺفرماتے اس میں کوئی گناہ نہیں ہوا، البتہ اس میں گناہ ہے کہ کسی مسلمان کی آبروریزی کی جائے۔ ظہر کے وقت حضور اقدس ﷺ طواف زیارت کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ اور ظہر کی نماز مکہ مکرمہ میں پڑھی یا منی واپس آکر ؟ روایات میں اختلاف ہے اور طواف سے فراغت پر زم زم شریف کے کنویں پر تشریف لے گئے اور خود ڈول کھینچ کر پیا اور بعض روایات میں ہے کہ حضور ﷺ نے خود نہیں کھینچا، بلکہ یہ فرمایا کہ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غلبہ کرنے لگیں گے تو خود کھینچ کر پیتا لیکن ان دونوں میں کچھ اشکال نہیں، زم زم شریف کا پینا بار بار ہوا، اس لیے کسی موقع پر خود کھینچ کر پیا ہو، جب ہجوم نہ ہو اور کسی موقع پر ہجوم کی وجہ سے ایسا فرمادیا ہو، اس میں اشکال نہیں۔ آپ ﷺ نے زم زم شریف کھڑے ہو کر پیا اور پھر صفا مروہ کی دوبارہ سعی کی ،یا نہیں کی؟ اس میں اختلاف ہے، حنفیہ کے قواعد کے موافق تو کی ہے، اس کے بعد منیٰ واپس تشریف لے گئے اور تین دن وہاں قیام کیا اور روزانہ زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کیا کرتے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ ان ایام میں جب منی میں قیام تھا، روزانہ رات کو بیت اللہ شریف کی زیارت اور طواف کے لیے تشریف لاتے اور منی کے قیام میں متعد دوعظ بھی حضور ﷺ نے فرمائے ، جن میں اس قسم کے الفاظ بھی ہیں کہ میں شاید تم سے پھر نہ مل سکوں۔ منیٰ ہی کے قیام میں سورہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ نازل ہوئی۔ بعض روایات میں ہے کہ حج سے قبل مدینہ طیبہ ہی میں نازل ہو چکی تھی اور متعدد روایات میں ہے کہ اس سورۃ کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس سورۃ میں میری وفات کی خبر دی گئی ہے، میں عنقریب جانے  والا ہوں، اس کے بعد تیرہ ذی الحجہ سہ شنبہ کو زوال کے بعد آخری رمی سے فارغ ہو کر حضور ﷺ منی ٰ سے روانہ ہوئے اور مکہ مکرمہ کے باہر محصب میں جس کو بطحا اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں، ایک خیمہ میں جس کو حضور ﷺکے غلام  حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ  نے حضورﷺ کے  یہاں تشریف لانے سے سے پہلے ہی اس جگہ لگا رکھا تھا، قیام کیا اور چار نمازیں ظہر سے  عشاء تک وہاں ادا فرمائیں اور عشاء کے بعد تھوڑی دیر اس میں آرام کیا ۔ یہ وہی جگہ ہے جس جگہ کفار نے بیٹھ کر ابتداء اسلام یعنی نبوت کے چھٹے برس میں یہ معاہدہ کیا تھا کہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کا بائیکاٹ کر دیا جائے کہ نہ ان سے لین دین کسی قسم کا کیا جائے نہ ان کوکھانے کو دیا جائے نہ ان سےکوئی ملاقات کرے، نہ اس کی بات کرے جب تک یہ لوگ ( نعوذ بالله ) حضور اقدس ﷺکو ہمارے حوالہ نہ کردیں تا کہ ہم حضور ﷺکو قتل کریں، یہ معاہدہ اس جگہ لکھا گیا تھا، جس کا قصہ مشہور ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے آج دو جہاں کا سردار ہونے کی حیثیت سے یہاں قیام کیا اور عشاء کے بعد تھوڑی دیر آرام فرما کر طواف وداع کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے اور اسی رات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بھائی کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے  تنعیم بھیجا اور عمرہ کرایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب عمرہ سے فارغ ہو کر محصب پہنچ گئیں، تو حضورﷺ نے قافلہ کومدینہ طیبہ کی طرف روانگی کا حکم فرمایا۔ اس میں اختلاف ہے کہ اس حج کے موقع پر حضور اقدس ﷺ بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہوئے یا نہیں؟ داخل ہونا تو حق ہے لیکن بعض علماء حج کے ایام میں داخل ہونا بتاتے ہیں اور بعض حضرات اس زمانہ کے بجائے فتح مکہ کے زمانہ میں بتاتے ہیں اور طواف وداع سے فراغت کے بعد بعض روایات کے موافق صبح کی نماز مکہ مکرمہ میں پڑھا کر، جس میں سورہ والطور حضورﷺ کی نے پڑھی۔ چودہ ذی الحجہ 10 ھ، چہار شنبہ کی صبح کو مدینہ طیبہ کی طرف مع خدام جاں نثاران واپسی ہوئی اور جب اٹھارہ ذی الحجہ یک شنبہ کو غدیرخم پر جو جحفہ کےقریب ایک جگہ ہے پہنچے تو حضور ﷺ نے ایک اونچی جگہ منبر کی شکل پر کھڑے ہو کر طویل وعظ فرمایا، جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مناقب بھی ارشاد فرمائے، یہی وہ چیز ہے جس کو رافضیوں نے بگاڑ کر عید غدیر سے مشہور کیا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ میرے بارہ میں دو جماعتیں ہلاک ہوں گی: ایک وہ جو محبت کے دعوے میں افراط کریں اور دوسرے وہ جو عداوت میں افراط کریں ( تاریخ الخلفاء بروایۃ حاکم وغیرہ) یعنی رافضی اور خارجی۔  اس کے بعد جب ذو الحلیفہ پہنچے، توشب کو وہاں قیام فرمایا اور صبح کے وقت "معرس" کے راستہ سے مدینہ منورہ میں یہ دعا پڑھتے ہوئے تشریف لے گئے۔

أَيْبُونَ تَأْثِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ

 ( ہم لوٹنے والے ہیں ایسی طرح کہ تو بہ کرنے والے ہیں اپنے گناہوں سے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ فقط )۔

اس ناپاک نے 1342ھ میں ایک رسالہ عربی زبان میں حجۃ الوداع میں لکھا تھا تا کہ حضور ﷺکے حج کی روایات متفرقہ مسلسل طریقہ سے مستحضر رہیں اس میں ہر قول کا ما خذ اور فقہی مباحث بھی لکھے تھے اور اس میں ہر روایت کا حوالہ بھی درج کیا تھا، اس سے یہ واقعہ نقل کیا ہے، اس میں ہر واقعہ کا حوالہ موجود ہے، ابھی تک اس کے طبع ہونے کا وقت نہیں آیا، کیا بعید ہے کسی وقت اللہ جل شانہ کے فضل سے آجائے۔

 اس کے بعد دو ماہ حضور اقدس ﷺ کی اس عالم میں تشریف فرما ر ہے، پھر رفیق اعلیٰ کے ساتھ جا ملے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول ہوئے ۔ پہلے سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو امیرالحج بنا کر بھیجا اور خود تشریف نہ لے جا سکے دوسرے سال خود امیر الحج بن کر تشریف لے گئے اور پھر وہ بھی اس عالم سے رخصت ہو گئے، تو حضرت عمر رضی الله عنہ خلیفہ ثانی ہوئے اور خلافت کے پہلے سال میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا اور اس کے بعد سے دس سال تک

مسلسل خود امیر الحج بن کر تشریف لے گئے اور اپنی حیات کے آخری سال میں ازواج مطہرات کو خصوصیت کے ساتھ اپنے ساتھ حج کرایا ، اس کے بعد حضرت عثمان  غنی رضی اللہ  عنہ خلیفہ ثالث ہوئے تو پہلے سال یعنی24ھ میں حضرت عبد الرحمن بن عوف  رضی اللہہ عنہ کو امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا اور 25ھ سے 34ھ تک ہر سال خود حج کے لیے تشریف لے جاتے رہے، اس کے بعد محصور کر دیے گئے اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا۔ حضرت سید المشارق والمغارب علی کرم الله و جہہ خلافت سے قبل تو بکثرت حج کرتے رہے، لیکن خلافت کے زمانہ میں جنگ جمل و صفین وغیرہ کی وجہ خود تشریف لے جانے کی نوبت نہ آسکی۔ [مسامرات]

(فضائل اعمال-فضائل حج، ص؍828-836۔ تصنیف: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی نور اللہ مرقدہ شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور یوپی)