21 May 2026

اردن اور جمعیت علمائے ہند — ایک مسلسل تاریخی و فکری جائزہ

 اردن اور جمعیت علمائے ہند — ایک مسلسل تاریخی و فکری جائزہ

محمد یاسین جہازی

پہلی جنگ عظیم (28 جولائی 1914ء تا 11 نومبر 1918ء) کے اختتام کے بعد 10 اگست 1920ء کو معاہدہ سیورے کے تحت مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی نقشہ بندی کی گئی، جس کے نتیجے میں اردن برطانیہ کی عمل داری میں چلا گیا۔ اگرچہ اس دور میں جمعیت علمائے ہند کا براہِ راست اردن کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آتا، تاہم اس کے بنیادی اصول، یعنی استعمار مخالفت اور اقوام کی آزادی کی حمایت، اس پورے پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔


جمعیت علمائے ہند کی دستاویزی تاریخ میں اردن کا پہلا واضح ذکر مجلس منتظمہ کے اجلاس (23، 24 ستمبر 1967ء) میں ملتا ہے، جو عرب–اسرائیل جنگ (5 جون 1967ء) کے فوراً بعد منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جمعیت نے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کو “انسانیت سوز بربریت” قرار دیتے ہوئے اردن، شام اور دیگر عرب ممالک پر حملوں، خصوصاً نیپام بموں کے استعمال کی شدید مذمت کی۔ اسی اجلاس کی ایک اور قرارداد میں بیت المقدس، دیگر مقدس مقامات اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے اور وہاں سے عرب آبادی کے جبری انخلا پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور یہ واضح مطالبہ کیا گیا کہ تمام مقبوضہ عرب علاقوں کی ایک ایک انچ زمین عربوں کو واپس کی جائے۔


اس کے بعد مجلس عاملہ کے اجلاس (22، 23 اگست 1969ء) میں بھی اردن کا ذکر اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کے ضمن میں آیا، جہاں مصر، شام، اردن اور لبنان پر مسلسل حملوں کی نشاندہی کرتے ہوئے عالم اسلام اور انصاف پسند دنیا سے اپیل کی گئی کہ وہ مقبوضہ علاقوں اور بیت المقدس کی بازیابی کے لیے متحد ہو جائیں اور اسرائیلی پروپیگنڈہ سے متاثر نہ ہوں۔


بعد ازاں مجلس عاملہ کے اجلاس (20، 21 اپریل 1974ء) میں ایک مثبت پیش رفت کا ذکر کیا گیا، جب اردن کے شاہ حسینؒ نے اسکندریہ مذاکرات کے دوران تنظیم آزادی فلسطین کو فلسطینی عوام کی واحد نمائندہ تنظیم تسلیم کیا۔ جمعیت علمائے ہند نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے فلسطینی حقوق کی جدوجہد میں اہم سنگ میل قرار دیا اور تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس تنظیم کی مدد کریں۔


1980ء کی دہائی میں جمعیت کا موقف مزید شدت اور وضاحت کے ساتھ سامنے آیا۔ مجلس عاملہ کے اجلاس (یکم و 2 مئی 1982ء) میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، لبنان میں مداخلت، اور خصوصاً اردن کے مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ اسی مؤقف کو مجلس عاملہ کے اجلاس (9، 10 جنوری 1988ء) میں دہراتے ہوئے ان مظالم کو نہایت ہولناک قرار دیا گیا۔


اسی سال مجلس منتظمہ کے اجلاس (9، 10 اپریل 1988ء) میں اس مسئلے کو مزید تفصیل سے بیان کیا گیا، جہاں غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم—جن میں قتل، تشدد، گرفتاریوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال جیسے اقدامات شامل تھے—کو پوری دنیا کے لیے باعثِ لرزش قرار دیا گیا۔


1990ء میں مجلس منتظمہ کے اجلاس (3 جون 1990ء) میں صورت حال کے ایک نئے پہلو کی نشاندہی کی گئی، جہاں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو “عظیم اسرائیل” کے تصور کے تحت اردن، شام اور دیگر ممالک کے علاقوں تک پھیلانے کی کوشش قرار دیا گیا۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔


آخرکار مجلس منتظمہ کے اجلاس (11 فروری 1993ء) میں اردن کا ذکر ایک مختلف زاویے سے سامنے آیا، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ عراق اور اردن کے تحفظ کا بہانہ بنا کر مداخلت کرتے ہیں، لیکن بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش رہتے ہیں۔ اس کو عالمی سیاست میں دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دیا گیا اور مسلم ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی تلقین کی گئی۔


اس پورے تسلسل سے واضح ہوتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند کے نزدیک اردن کا مسئلہ کبھی ایک الگ اور محدود مسئلہ نہیں رہا، بلکہ وہ ہمیشہ فلسطین، بیت المقدس اور عرب دنیا کے وسیع تر تناظر میں دیکھا گیا۔ 1967ء سے 1993ء تک کے بیانات میں ایک تسلسل کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کی مخالفت، فلسطینی عوام کی حمایت، اور عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے دوہرے معیار پر تنقید نمایاں طور پر موجود ہے، جو جمعیت کے مستقل اصولی موقف—یعنی استعمار مخالفت، انصاف پسندی اور مظلوم اقوام کی حمایت—کی عکاسی کرتا ہے۔