31 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بتیسواں سال: 1950ء

 بتیسواں سال: 1950ء

محمد یاسین جہازی

5؍جنوری1950ء کو سعودیہ عربیہ کے اقتصادی مشن کوایٹ ہوم دیاگیا ۔

11؍جنوری1950ء کو حضرت مجاہد ملتؒ نے جدید ممبرسازی کی اپیل کی۔

12؍جنوری1950ء کو ترک وطن کے تناظرمیں عارضی اورمستقل پرمٹ والے حضرات کی پریشانیوں کے ازالے کے لیے جدوجہد کی گئی۔

13؍جنوری1950ء کو مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندستانی مسلمان اپنے آپ کو ہندستانی سمجھیں۔

15؍جنوری1950ء کو مصر کی وفد پارٹی کی جیت پر اس کے سربراہ نحاس پاشا کو مبارک باد دی گئی ۔

27؍جنوری1950ء کو صدر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے صدر جمہوریۂ ہندکو اور ہندستان کی جمہوریہ کے افتتاح پر مبارک بادی پیش کی گئی۔

4؍فروری1950ء کو صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد نے حضرت سحبان الہند کو جوابی مکتوب لکھا۔

11؍فروری1950ء کو ملک سے طوائف کے خاتمہ کی اپیل کی گئی۔

11؍فروری1950ء کو سردار نجیب اللہ خان افغانستان کو عصرانہ دیا گیا۔

11؍فروری1950ء کو وزیر داخلہ حکومت مدھیہ پردیش کو ایک مکتوب لکھ کر 30-31؍ جنوری 1950ء کو ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر قانونی ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

13،14؍فروری1950ء کو منعقد مجلس عاملہ میںمذہبی تعلیم اور میعاد ممبرسازی پرغورو خوض کیا گیا۔

5؍مارچ1950ء کو حضرت مجاہد ملت نے کلکتہ فساد زدہ علاقوں کادورہ کیا۔

6؍مارچ 1950ء کو حکومت سعودیہ کی طرف سے ناظم عمومی صاحب کو خلعت پیش کی گئی۔

7؍مارچ1950ء کو مشرقی راجستھان کے مسلمان باشندوں سے ایک خصوصی اپیل کی گئی۔

12؍مارچ1950ء کو فسادات کی وجہ سے بنگال میں تبادلۂ آبادی کی مخالفت کی گئی۔

25؍مارچ1950ء کو حضرت شیخ الاسلام کو تمدنی تعلیمات کی انڈین کونسل میں رکن نام زد کیا گیا۔

31؍مارچ1950ء کو مسلمانان ہند کے نام ایک پیغام میں تلقین کی گئی کہ موجودہ حالات سے گھبراکر مسلمان اپنے وطن ہندستان کو نہ چھوڑیں۔

یکم اپریل1950ء کی خبر کے مطابق جمعیت علم کے ایک وفد نے علی گڑھ فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔

3؍اپریل1950ء کو حضرت مجاہد ملتؒ نے انڈوپاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی گفت وشنید کے تناظر میں دونوں ممالک کو ایک رہنما مکتوب لکھا۔

7؍اپریل1950ء کو فساد زدہ گوالیار کا دورہ کیا گیا اور امن وامان قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

12؍اپریل1950ء کو نہرو لیاقت معاہدہ کو عملی جامہ پہنانے کامطالبہ کیا گیا۔

16؍اپریل1950ء کو صوبائی صدورو نظمائے اعلیٰ کی خدمت میں ایک سرکلر جاری کرکے تنظیمی امور کوانجام دینے کی گذارش کی گئی۔

19؍اپریل1950ء کو دہلی میں واقع ایک مزار اور قبرستان کے انہدام سے متعلق وزیر اعظم مسٹر جواہر لال نہرو کو مکتوب لکھا گیا۔

25؍اپریل1950ء کو ٹونک کا دورہ کرکے حالات کو پرامن بنانے کی جدوجہد کی گئی۔

25؍اپریل1950ء کو جمعیت کے ایک وفد نے جے پور کا دورہ کیا ۔

24؍مئی1950ء کو آسام فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرکے امن و امان قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

27؍مئی1950ء کو الور، بھرت پوروغیرہ متأثرہ علاقوں کا دورہ کیا گیا۔

29؍مئی1950ء کو نہرو لیاقت پیکٹ پر نائب صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمدسعید صاحب نے ہندو پاک کے مسائل کو حل کرنے والا شان دار فارمولہ قرار دیا۔

6؍جون1950ء کو جبل پور کے کسٹوڈین کی ظالمانہ کارروائیوں کے متعلق ایک چشم کشا مکتوب لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

19؍جون1950ء کو مدھیہ بھارت میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کا جائزہ لے کر ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

25؍جون1950ء کو دھوراجی فساد پر فوری ایکشن لینے کی درخواست کی گئی۔

27؍جون1950ء کو قربانی کے سلسلے میں حکام کے جانب دارانہ رویے پرحکومت یوپی کومکتوب لکھ کومتوجہ کیا گیا۔

8؍جون1950ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعظم ہند پنڈت نہرو کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ مسلم ملازمین کے لیے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آدھے گھنٹے کی رخصت دی جائے۔

10؍جولائی1950ء کو وزیر اعظم سے ملاقات کرکے ملک گیر فسادات پرتبادلۂ خیال کیا گیا اور اس کے سد باب کامطالبہ کیا گیا۔

16؍جولائی کو عید الفطر کی تہنیت پیش کی گئی۔

29؍جولائی1950ء کو اجمیر کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا گیا۔

5؍اگست1950ء کو مولانا آزاد کو ایک مکتوب لکھ کر صوبہ وسطی کے فسادات پر توجہ دلائی گئی۔ 

9؍اگست1950ء کو گوالیار کے حالات کی اصلاح کی کوشش کی گئی۔

10؍اگست1950ء کو منعقد دینی تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ میں ابتدائی درجات کے لیے دینی نصاب مرتب کرنے والی کمیٹی نے دینی تعلیم کے رسالے کو منظوری دی۔

12،13؍اگست1950ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میںانتخابی تنظیم، حالات حاضرہ، مظلومین کی امداد،اصلاحی و تعمیری خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کافیصلہ اور لٹریچر شائع کرنے کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ کے قیام کی منظوری کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلفون کے ذریعہ رویت ہلال اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پربھی غورو خوض کیا گیا۔

30؍اگست1950ء کو جمعیت کے مطالبے پر دہلی میں انفساخ نکاح کے لیے مسلم جج کی اسپیشل عدالت قائم کی گئی۔

31؍اگست1950ء کو سوراشٹرکادورہ کیا گیا۔

18؍ستمبر1950ء کو قربانی کے مسئلے پر یوپی حکام کی روش پرافسوس کا اظہار کیا گیا۔

21؍ستمبر1950ء کونائب صدر جمعیت نے انڈوپاک گڈول کنونشن کو وقت کی اہم ضرورت بتائی۔

26؍ستمبر1950ء کو جمعیت علمائے ہند کی تعلیمی کمیٹی کا مرتب کردہ نصاب پیش کیا گیا۔

2؍اکتوبر1950ء کو مسلم ریلوے ملازمین کی پریشانیوں کے حوالے سے ریلوے منتری سے خط وکتابت کی گئی۔

12؍اکتوبر1950ء کو قصبہ چلمل (بھاگلپور) میں ہوئے فسادات کی مکمل رپورٹ وزیر اعظم مسٹر پنڈت نہرو کے سامنے پیش کی گئی۔

15؍اکتوبر1950ء کو یوپی کے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھ کر مظفر نگر میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کی طرف توجہ دلائی گئی۔

یکم نومبر1950ء کو ناظم عمومی نے کارکنان جمعیت کو نصیحت کرتے ہوئے گروہ بندی سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔

18؍نومبر1950ء کو الجمعیۃ کا انگریز ایڈیشن ’’دی میسج‘‘ نکالنے کی جدوجہد کو کامیابی کا اشاریہ قرار دیا گیا۔

30؍نومبر1950ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ ممبئی سے کسٹوڈین کے اہل کاروں کی ظالمانہ سرگرمیوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

18،19؍دسمبر1950ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میںسردار پٹیل کے انتقال کو عظیم سانحہ قرار دینے کے علاوہ مذہبی تعلیم پر خصوصی غوروفکر کیا گیا۔چنانچہ ابتدائی مذہبی تعلیم کے لیے مشترک بورڈ قائم کرنے، ابتدائی مذہبی تعلیم کی ذمہ داری جمعیت کو لینے،مرتدین کی واپسی، مکاتب کی امداد،حج فلم پر بندش، جمعیت کابینک اکاؤنٹ، حسابات پراظہار اطمینان،انگریزی اخبار کے لیے کی گئی کوششوں کی ستائش اور گوالیار میںمساجد پر غیر مسلموں کے قبضہ کو ختم کرانے جیسے معاملات پراہم فیصلے لیے گئے۔

19؍دسمبر1950ء کو وزیر بحالی حکومت ہند دہلی کو ایک مکتوب لکھ کر کسٹوڈین اہل کاروں کے متعصبانہ رویوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: اکتیسواں سال:1949ء

 اکتیسواں سال:1949ء

محمد یاسین جہازی

 1948ء میںماہ ستمبر13؍سے 15؍تک پولیس ایکشن کی وجہ سے سقوط حیدرآباد سے پیدا شدہ تباہ کن حالات میں امن و محبت کا پیغام پہنچانے اور ریلیف ورک کرنے کے لیے جمعیت کے ایک وفد نے 5؍ جنوری 1949ء کو حیدرآباد، شولاپور، بڑودہ اور ممبئی وغیرہ کا دورہ کیا ۔

8؍جنوری1949ء کو اردو کے تحفظ فراہم کرنے کے لیے شعبۂ تعلیمات قائم کیا گیا۔

12؍جنوری1949ء کو میوات اور آگرہ فساد متأثرین کی امداد کی گئی۔

17؍جنوری1949ء کوکسٹوڈین کے مظالم کے خلاف ایک بیان جاری کیا گیا۔

حالات کے جائزہ کے لیے 5؍فروری1949ء کوایک وفد نے کٹک اڈیشہ کا دورہ کیا۔

بعد ازاں7؍فروری1949ء کو یہ وفد مدراس پہنچا۔ پھر24؍فروری1949ء کو راجستھان یونین کے مختلف شہروں میں ریلیف ورک انجام دیتے ہوئے 28؍فروری1949ء کو وفد بڑودہ پہنچا، جہاں اس کا زبردست استقبال کیا گیا۔

7؍مارچ1949ء کو اردو کے مسئلے کو لے کر ایک وفد نے وزیر اعلیٰ یوپی سے ملاقات کی۔ 

9؍ مارچ 1949ء کو منعقد ایک تقریب میں مصرکے اخبار نویسوں نے جمعیت کی خدمات کا اعتراف کیا۔

12؍مارچ1949ء کو جمعیت علما کا وفد مالیگاؤں پہنچا اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔

12؍مارچ 1949ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علمائے ہند کا تعمیری پروگرام کا خاکہ اور پندرہ نکاتی عملی پروگرام بھی پیش کیا گیا۔ آزاد ہندستان کے نئے تقاضے کے پیش نظر دستو رمیں ترمیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

13؍ مارچ1949ء کومجلس مشاورت کی میٹنگ میں اہم فیصلے لیے گئے۔

28؍مارچ 1949ء کو ایک فلم کمپنی نے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس کی فلم بندی کی اجازت مانگی، لیکن فلم سازی کی اجازت نہیں دی گئی۔ 

از 16؍تا 18؍ اپریل 1949ء کو لکھنو میں سولھواں اجلاس عام ہوا، جس میں سیاست سے علاحدگی کے بعد آزاد ہند میں عملی پروگرام کا خاکہ،اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کا انتظام، اوقاف کے تحفظ کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ، نکاح و طلاق کے مسائل کو شریعت کے مطابق حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام، حجاج کے ٹیکس کو کم کرنے کا مطالبہ، درگاہ اجمیر کی کمیٹی میں نصف تعداد جمعیت کو منتخب کرنے کا اختیار دینے کا مطالبہ،حکومت یوپی سے بیک وقت دو اختیاری مضمون کے احکام صادر کرنے کی اپیل، حیدرآباد، جے پور، بدایوں اور سہارنپور وغیرہ کے فسادات پر اظہار مذمت اور تجاویز وفیات کے علاوہ تجویز شکریہ پر مشتمل تجاویز منظور کی گئیں۔ 

جمعیت کو مستحکم و منظم کرنے کے لیے جاری تحریک کے نتیجے میں سولہ ریاستوں میں جمعیت کا دائرۂ عمل پھیلا۔

16؍اپریل1949ء کو ندوۃ العلما لکھنو میں تاریخی و تعلیمی نمائش کی گئی۔ 

7؍ مئی 1949ء کو صوبہ بہار میں مڈل اتہاس کی کتاب میں اہانت رسول پر مبنی تصویر شائع کرنے پر احتجاج درج کرایا۔ اور اسی تاریخ میں ٹیلی پرنٹر مشین نصب کی گئی۔

10؍مئی1949ء کو تعلیمی دشواریوں کے پیش نظروزیر تعلیم یوپی سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔

17؍مئی1949ء کو ماتحت جمعیتوں کے نام ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

26؍مئی1949ء کومجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان صاحب اور مولانا شاہد فاخری صاحب یوپی اسمبلی کے بلامقابلہ رکن منتخب ہوگئے۔ 

3؍جون1949ء کو جمعیت علما کے کاموں میں وسعت کے پیش نظر ناظم کا تقرر کیا گیا۔

5؍ جون 1949ء کو دہلی میں فسادات کی کوششوں کو ناکام بنایاگیا اور اس طرح کے فسادات کو روکنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیاگیا۔ 

17؍جون1949ء کو فساد زدہ علاقہ سرونج کو دورہ کیا گیا اور ہندو مسلم مفاہمت کی کوشش کی گئی۔ 

21؍جون 1949ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ یوپی سے وقت مانگا گیا، تاکہ اردو کے مسئلے پر بات کی جاسکے۔

28؍جون1949ء کو دہلی کے فسادیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

10؍جولائی 1949ء: کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف جمعیت نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور 12؍ جنوری 1949ء سے لے کر 13؍اگست 1949ء تک الجمعیۃ میں 5,089 مقبوضہ جائدادوں کی فہرست شائع کرکے قانونی امداد کا اعلان کیا۔

3؍اگست 1949ء کو رائچور میں مساجد کی بے حرمتی کے واقعات کی تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح حیدرآباد کے فیل خانہ کیمپ کو خالی نہ کرانے، اور بہرصورت خالی کرانے کی صورت میں مہلت دینے کا مطالبہ کیاگیا۔

اسی تاریخ کو ہندستانی زبان کے متعلق ارکان قانون ساز کو ایک یاد داشت پیش کی گئی۔

7؍اگست1949ء کو ہندستانی زبان کو ہند یونین کی زبان قرار دینے کے لیے ارکان مجلس قانون ساز کے سامنے ایک یاد داشت پیش کی گئی۔ 

12؍اگست1949ء کو اسمبلی میںناظم عمومی مولانا حفظ الرحمان صاحب نے اردو کو ہند یونین کی دوسری زبان بنانے کی زبردست وکالت کی۔

22؍اگست1949ء کو ایک بیان کے ذریعہ ارکان مجلس عاملہ میں توسیع نہ کرنے کی وجوہات بیان کی گئیں۔

25؍اگست 1949ء کودہرادون کے کاشت کاروں کو قرض تقاوی کی ادائیگی میں مہلت دینے کے لیے ریونیو منسٹر کو مکتوب لکھا گیا۔

یکم ستمبر1949ء کو ہندی زبان کو ہند یونین کی زبان قرار دینے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ اور اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے لیے جمعیت نے انتھک کوشش کی، لیکن اس کے باوجود 15؍ ستمبر1949ء کو ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا اعلان کردیا گیا۔

2؍ستمبر1949ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف وزیر اعظم مسٹر جواہر لعل نہرو کو ایک میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ 7؍ستمبر1949ء کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔  چنانچہ جمعیت کی کوشش بارآور ہوئی اور 18؍ اکتوبر1949ء کو حکومت نے، جمعیت کے منشا کے مطابق آرڈی نینس میں ترمیم کردی۔

2؍ ستمبر1949ء کومنعقد کانفرنس میں جمعیت نے مضبوط پریس کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔

3؍ستمبر1949ء کوپالی فساد کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا گیا۔

3؍ستمبر1949ء کو شائع ایک خبر کے مطابق مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے قومی زبان کے مسودۂ تجویز سے استعفیٰ پیش کردیا۔ 

17؍ستمبر1949ء کوبھیلواڑہ راجستھان میں آر ایس ایس جیسی شدت پسند تنظیم کے ذریعہ پرامن ماحول کو مکندر کرنے سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ بھیلواڑہ کو مکتوب لکھا گیا۔

20؍ستمبر1949ء کوسیاست میں مضبوط شراکت کے لیے کانگریس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔  

21؍ستمبر1949ء کو جوالاسہارنپور کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا گیا۔

کشمیر کو انڈین یونین کے ساتھ الحاق کے اعلان پر شیر کشمیرشیخ عبد اللہ کو 26؍ ستمبر1949ء کو مبارک باد پیش کی۔

30؍ستمبر1949ء کوچھتاری فساد ات کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

5؍اکتوبر1949ء کو دہرادون کاشت کاروں کے مسئلے پر وزیر مالیات حکومت اترپردیش کو مکتوب لکھ کر قرض کی ادائیگی میں مہلت کی درخواست کی گئی۔

6؍اکتوبر1949ء کو وزیر اعلیٰ یوپی مسٹر پنتھ کو مکتوب لکھ کر دارالعلوم دیوبند کی تلاشی لینے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ 

14؍اکتوبر1949ء کومردآباد فسادات کی تحقیقات کے لیے وفد روانہ کیا گیا۔

4؍نومبر1949ء کومسٹر جے پرکاش نرائن نے جمعیت اور آر ایس ایس میں زمین و آسمان کا فرق واضح کیا گیا۔

 5؍نومبر1949ء کوانڈونیشیا کی آزادی پر جمعیت نے اس کے پہلے وزیر اعظم ڈاکٹر حتیٰ کو مبارک باد پیش کی۔

اسپیشل میرج ایکٹ پر خصوصی غورو خوض کے لیے 13؍ نومبر1949ء کو مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا۔

14؍نومبر1949ء کو وزیر اعظم مسٹر جواہر لعل نہرو کو ان کے ساٹھویں یوم پیدائش پر مبارک باد پیش کی گئی۔

7؍دسمبر1949ء کو ایک بے قصور قیدی کی رہائی کے لیے سفارشی خط بھیجا گیا۔

8؍دسمبر1949ء کی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ جامع مسجد دہلی پولیس اسٹیشن میں مجاہد آزادی ہند سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ کا اسم گرامی بدمعاشوں کی فہرست میں شامل ہے۔

13؍دسمبر1949ء کو علامہ شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ کے انتقال پرملال پر اکابرین جمعیت نے رنج و غم کا اظہار کیا۔

متفرقات کے عنوان کے تحت، حیدرآباد کے معاملے میںامام الہند سے ایک وفد کی ملاقات پر ، مولانا محمد میاں صاحب کی حضرت امام الہند سے خصوصی گفتگو،ناظم عمومی کے ایک بیان کے ذریعہ مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کرنے کی مذمت،سردار ولبھ بھائی پٹیل کی خدمت میں سقوط حیدرآباد کے تناظر میں حیدرآبادی مسلمانوں کی طرف سے ایک مختصر عرض داشت کی پیشی، کسٹوڈین سے متعلق میمورنڈم، اور کسٹوڈین کے مسائل پر ایک میٹنگ کی روئیداد پیش کی گئی ہے۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تیسواں سال: 1948ء

 تیسواں سال: 1948ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1948ء کو مسلمان کارخانہ داروں کو متوجہ کرتے ہوئے ریلیف کمیٹی نے قانونی امداد کا اعلان کیا۔

4؍جنوری 1948ء کو پل بنگش دہلی میں بم پھٹنے پر حالات کا جائزہ کے لیے موقع پر پہنچا۔ اور اسی تاریخ کو اراکین ریلیف کمیٹی جمعیت علما نے گاندھی جی سے ملاقات کی۔ 

8؍جنوری1948ء کو مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نہ بھاگیں۔ اور کانگریس میں شامل ہوجائیں۔ 

دہلی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات کی مسلسل خبروں سے پریشان ہوکر گاندھی جی نے 12؍ جنوری 1948ء کو مرن برت شروع کردیا، جمعیت نے گاندھی جی کی زندگی اور ہندو مسلم، سکھ اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

 جب سبھی فرقوں نے امن قائم کرنے کا عندیہ دیا، تو 21؍جنوری 1948ء کو گاندھی جی نے اپنا برت توڑ دیا؛لیکن 30؍ جنوری 1948ء کو دشمن امن گوڈسے نے گاندھی جی کا قتل کردیا، جس پر جمعیت علمائے ہند نے یکم فروری1948ء کی اپنی مجلس عاملہ میں اس حادثۂ قتل پر افسوس کے اظہارکے علاوہ، لکھنو مسلم کانفرنس کے فیصلے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اور جمعیت کا دائرۂ عمل صرف مذہبی اور تمدنی حقوق و فرائض تک محدود رکھنے، پاکستان میں رہ جانے والی شاخوں سے ترک تعلق کا اعلان اور دستور العمل میں ترمیم کے لیے سب کمیٹی کے قیام کے ساتھ پندرھویں اجلاس عام کا فیصلہ کیا۔

13؍ فروری 1948ء کو گاندھی جی کے حادثۂ قتل پر یوم ماتم منانے کا اعلان کیاگیا۔

16؍فروری1948ء کو بریگیڈیر محمد عثمان کو ان کی بہادری پر مبارک بادی پیش کی گئی۔ 

17؍فروری 1948ء سے لے کر 17؍ مارچ 1948ء تک روزنامہ الجمعیۃ پر فرقہ وارانہ اخبار کا الزام لگاکر پابندی لگادی گئی۔

15؍مارچ 1948ء کو مولانا ثناء اللہ امرتسری کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔ 

20-21؍ مارچ 1948ء کو کل ہند جمعیت کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں گاندھی جی کے حادثۂ قتل پر اظہار افسوس، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ کے لواحقین سے اظہار تعزیت، کشمیر میں قومی حکومت کی تشکیل پر شیخ عبد اللہ کو مبارک باد، جمہوری دستور العمل اختیار کرنے پر انڈین یونین کو مبارک باد، جمعیت کی پاکستانی شاخوں سے ترک تعلق کا اعلان اور سیاسی سرگرمیوں سے قطع تعلق کا فیصلہ کیا گیا۔

پھر15-16؍اپریل 1948ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس میں اجلاس عام کی تجاویز پر غورو خوض کیا گیا۔

25؍اپریل 1948ء کوایک پریس کانفرنس میں پندرھویں اجلاس عام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیت علما کی سیاست سے علاحدگی کا مطلب بیان کیا گیا۔ 

 26،27،28؍ اپریل 1948ء کو ممبئی میں پندرھواں اجلاس عام کیا گیا، جس میں سیاست سے علاحدگی کا اعلان، جمعیت کی پاکستانی شاخوںسے ترک تعلق، جمہوری طرز حکومت کی تشکیل پر انڈین پارلیمنٹ کو مبارک باد، اردو اور ہندی رسم الخط میں لکھی جانے والی ’’ہندستانی‘‘ زبان کو  انڈین یونین کی زبان قرار دینے کی اپیل، مسلم پرسنل لاء کے نفاذ کے لیے بااختیار قاضی کا تقرر اور صوبائی اسمبلیوں میں مسودۂ قضا منظور کرانے کی اپیل اور مسودہ بنانے کے لیے دس رکنی کمیٹی کی تشکیل، نصاب تعلیم اور طریقۂ تعلیم وغیرہ کے لیے ایک مرکزی مجلس علمی بنانے کے لیے اہل مدارس سے اپیل اور اس کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی کی تشکیل، ابتدائی مدارس اور شبینہ مکاتب قائم کرنے کی اپیل، عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے محروم نہ رہنے کی تدابیر پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹی کا قیام، اوقاف کی بقا و تحفظ کے لیے مسودہ ٔقانون بنانے کے لیے کمیٹی کی تشکیل، اغوا کی گئیں عورتوں کو ہوس پرستوں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے حکومت ہند اور پاکستان سے مطالبہ ، قیام امن کے لیے حکومت کو مبارک باد اور تباہ حال مسلمانوں کی واپسی کے لیے وزیر اعظم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مسلمانوں پر ہوئے منظم حملوں کے مجرمین کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں مولانا احمد سعید صاحب کو نائب صدر اور مولانا محمد میاں صاحب اور مولانا عبد الصمد صاحب رحمانی کو ناظم منتخب کیا گیا۔ جملہ عہدے داران کو مبارک باد اور وفات شدگان پر افسوس و تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

10؍مئی 1948ء کوگودھرا کے تباہ حال لوگوں کے جائزے کے لیے وفد روانہ کیا گیا۔

17؍مئی 1948ء کو ایک سرکلر کے ذریعہ جمعیت کے دفاتر کو خدمت خلق کے مراکز بنانے کی اپیل کی گئی۔ 

 23؍مئی 1948ء کو پاکستان کو اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی نصیحت کی گئی۔

 27؍مئی 1948ء کو صدر جمعیت نے بیان دیا کہ فلسطین پر صرف فلسطینیوں کاحق ہے۔ 

وطن چھوڑ کر جانے والے، یا جاکر واپس وانے والے، یا بھارت میں مقیم افراد کے مکانات، دکانوں، باغات، کارخانوں، زرعی آراضی اور باغات وغیرہ کو محکمۂ کسٹوڈین ظالمانہ طور پر ضبط کرتا جارہا تھا، جمعیت علمانے 28؍مئی 1948ء کو ’’قانونی امدادکمیٹی‘‘ تشکیل دے کر کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا اور الجمعیۃ سے دستیاب رپورٹ کے مطابق،27؍ دسمبر 1948ء تک4678؍ مکانات، 2407؍ دکان، 133؍باغات،54؍زرعی آراضی، 142؍کارخانے اور 1815؍کاروباری جائداوں کی واگذاری کی اپیلیں شائع کی گئیں۔ 

6؍جون 1948ء کو عرب لیگ کو ہندستان کی طرف سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کے بعد 9؍جون1948ء کو لیگ کی طرف سے شکریے کا تار موصول ہوا۔

15؍جون1948ء کوقبرستانوں پر قبضہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

16؍جون1948ء کو سنبھل فساد متأثرین کی خبر گیری کی گئی۔

28؍جون1948ء کوتبادلۂ آبادی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

24؍جولائی1948ء کو پاکستان سے آنے والے کے لیے پرمٹ کی پریشانیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ 

30؍جولائی 1948ء کویوپی حکومت کی اردو دشمنی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔

 4؍اگست 1948ء کوجمعیت علماکی جدید مجلس عاملہ کی تشکیل عمل میں آئی۔

17؍اگست1948ء کو تقسیم کے نتیجے میں برپا فسادات میں اغوا شدہ عورتوں کی بازیابی کی کوششیں کی گئیں۔

25؍اگست1948ء کو آگرہ فساد متأثرین کی خبر گیری کی گئی۔

12؍ستمبر1948ء کو تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں آزاد ہندستان میں دینی تعلیم کے فروغ اور اسے عملی طور پر نافذ العمل بنانے پر غوروخوض ہوا۔

14؍ستمبر1948ء کو وزیر اعظم و وزیر تعلیم یوپی سے اردو کو لازمی تعلیمی زبان بنائے جانے کے مطالبہ کو لے کر ملاقات کرنے کی کوشش کی گئی۔

15؍ستمبر1948ء کونظام حیدرآباد کے فوجی ایکشن کو غیر مدبرانہ قرار دیا اور بھارتی فوج کی جیت پر اسے ہند یونین میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا۔ 

22-23؍ ستمبر1948ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں قومی زبان، جبری تعلیم، آگرہ فساد اور تنظیمی استحکام جیسے ایجنڈے پر غورو فکر کیا گیا۔ 

27؍ستمبر1948ء کو حیدرآباد میں ہندی افواج کی کامیابی پر دعائیہ تقریب منعقد کی گئی۔

29؍ستمبر1948ء کوپاکستان چلے جانے کے بعد پھر ہندستان واپس آکر رہنے کی اجازت حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور پرمٹ کی پریشانیوں کا ازالہ کرایا گیا۔

8؍اکتوبر1948ء کو راجستھان میں شریعت کورس ختم کرنے پر متعلقہ حکام کو تار بھیج کر اسے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

19؍اکتوبر1948ء کو تعلیمی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایک جزو وقتی اور ایک کل وقتی ، کل دو نصاب تعلیم مرتب کیے جائیں۔

23؍اکتوبر1948ء کواوقاف و قضا کی سب کمیٹیوں کے اجلاس میں اہم فیصلے لیے گئے۔

13؍نومبر1948ء کوہفتۂ جمعیت منانے کی اپیل کی گئی۔

22؍ نومبر سے 29؍ نومبر 1948ء تک ہفتۂ جمعیت منانے کا اہتمام کیا گیا۔

10؍دسمبر1948ء کو جمعیت کی ممبرسازی کے حوالے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔

11؍دسمبر1948ء کومیواتیوں کی امداد کی گئی۔

15؍دسمبر1948ء کو سری پرکاش کو دی گئی چائے نوشی کی دعوت میں پاکستان سے آمد و رفت کی مشکلات پر تبادلۂ خیالات کیا گیا۔  

26-27؍ دسمبر 1948ء کو بنارس میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں مدراس، سی پی، گجرات، ممبئی اور حیدرآباد کے دورے کرنے کے لیے چند وفود مرتب کیے گئے، تعمیری پروگرام کا عملی خاکہ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی، صوبہ متحدہ کے وقف ایکٹ میں کی گئیں ترمیمات کو منظور کیا گیا اور صوبہ بہار کی تنسیخ زمین داری کے قانون سے اوقاف کو مستثنیٰ رکھنے کے لیے ایک وفد مرتب کیا گیا۔

27؍دسمبر1948ء کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ حضرت شیخ الاسلام کے متعلق نیشنل ہیرالڈ کی دروغ گوئی کا پردہ فاش کیا گیا۔

اسی تاریخ کو اطراف دہلی میں تباہ شدہ دیہات میں ریلیف ورک انجام دیاگیا۔

حکومت کشمیر کے بے جا تشدد، شیخ عبداللہ اور ان کے رفقا کی گرفتاری پر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: انتیسواں سال: 1947ء

 انتیسواں سال: 1947ء

محمد یاسین جہازی

3؍مارچ 1947ء کو شائع ایک خبر کے مطابق شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب ؒ کوجمعیت علمائے ہند کا دوبارہ صدر منتخب کیا گیا۔

وزیر اعظم برطانیہ مسٹرایٹلی نے 20؍ فروری 1947ء کو اعلان کیا کہ جون 1948ء تک ہندستان کو آزاد کردیا جائے گا۔ اس اعلان سے پیدا شدہ نازک صورت حال پر غورو خوض کرنے کے لیے 13تا 15؍ مارچ 1947ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان آزادی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، اسے جمعیت علمائے ہند کی طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ دوسری تجویز میں فرقہ وارانہ خطوط پر ملک کی تقسیم کو ملک کے لیے بالعموم اور مسلمانوں کے لیے بالخصوص تباہ کن قرار دیا اور پنجاب کی تقسیم کے لیے کانگریس کی رضامندی پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ تیسری تجویز میںآزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مذہبی اور قومی تحفظات کے لیے تمام مسلم جماعتوں کا ایک مشترکہ اجتماع بلانے پر زور دیاگیا۔ اور صدر مسلم لیگ کو دعوت عمل دیتے ہوئے متعدد خطوط لکھے، لیکن مسلم لیگ نے اسے منظور نہیںکیا ۔ چوتھی تجویز میں پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔پانچویں تجویز میں فسادات بہار کے متأثرین کے ساتھ حکومت بہار سے مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔

30؍مارچ1947ء کو جمعیت علما نے سکھوں کے کھلے عام تلوار لے کر گھومنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

31؍مارچ1947ء کو ایشیائی کانفرنس کے موقع پر اسلامی ممالک کے مسلم نمائندگان کے کے لیے خیرمقدمی اجلاس منعقد کیا گیا۔اور انھیں عصرانہ دیا گیا۔

9؍اپریل1947ء کو وزیرستان سے موصول ایک خط میں اپنا سیاسی موقف واضح کرتے ہوئے مسلم لیگ کے پاکستان کی حمایت سے انکار کیا گیا۔

15؍اپریل1947ء کو مہاراجہ پٹیالہ کے نام تار بھیج کر مسلم اقلیت کے تحفظ کی بات کہی گئی۔ 

16؍اپریل1947ء کو مہاراجہ فریدکوٹ کو تار بھیج کر مسلمانوں کی جان ، عزت اور مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

کیبنٹ مشن بھارت میں عارضی قومی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا، تو مسٹر ایٹلی وزیر اعظم برطانیہ نے اپنے 20؍ فروری کے اعلان کے مطابق جلد از جلد مکمل اختیارات ہندستانیوں کو منتقل کرنے کے لیے24؍ مارچ  1947ء کو وائسرائے ویول کی جگہ ماونٹ بیٹن کو ہندستان کا بیسواں اور آخری وائسرائے بناکر بھیجا ۔بیٹن نے ہندستان آتے ہی بھارتی لیڈروں کے نظریات اور رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے میٹنگوں اور گفت و شنید کا سلسلہ شروع کردیا۔ انھوں نے بالعموم کیبنٹ مشن کو منظور کرلینے کا مشورہ دیااور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر یہ قابل قبول نہیں ہوگا، تو اس کی متبادل صورت بھی موجود ہے؛لیکن مسلم لیگ کا پاکستان کے لیے اصرار کے پیش نظر کیبنٹ مشن پلان منظور نہیں ہوا۔اور متبادل کے طور پر ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا پلان پیش کردیا۔ان حالات کے پیش نظر از 9؍تا 11؍ مئی 1947ء کو لکھنو میں جمعیت علمائے ہند نے مجلس عاملہ اور مجلس مرکزیہ (جنرل کونسل) کا اجلاس کیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان کا خیر مقدم کیا، لیکن فرقہ وارانہ خطوط پرملک کی تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیبنٹ مشن پلان کو ہی قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ دوسری تجویز میں پورے ہندستان میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کو پوری دنیا میں ہندستان کو شرمندہ کرنے والا عمل قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل بیزاری کا اعلان کیا۔تیسری تجویز میں ہندستانیوں کو تحفظ وطن اور انسداد فسادات کے لیے اسلحہ رکھنے کی عام اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ چوتھی تجویز میں مسلمانوں کی مذہبی، تعلیمی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح پر زور دیا گیا۔ پانچویں تجویز میں بہار فسادات متأثرین سے متعلق حکومت بہار کی مجرمانہ غفلت کی تلافی کرنے کا مطالبہ دوہرایا۔ چھٹی تجویز میں حکومت یوپی سے گڈھ مکتیشر فساد مظلومین کی امداد کرنے کی اپیل کی۔ ساتویں تجویز میں دستور ساز اسمبلی میں مسلمانوں کی صحیح نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا۔ آٹھویں تجویز میں مدح صحابہ سے متعلق حکومت یوپی کے رویہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ نویں تجویز میں سندھ کے حروں پر مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ اور آخری تجویز میں امیر شریعت ثانی بہار حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری نور اللہ مرقدہ کے علاوہ دیگر سماجی شخصیات کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدری کے جذبات پیش کیے۔

23؍مئی 1947ء کو ایک مکتوب لکھ کر بہار میں مسلم اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا۔

23؍مئی 1947ء کو مہاراجہ چترال کو تار بھیج کر اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ اوربلاقصور گرفتار کیے گئے کارکنان جمعیت کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

30؍مئی1947ء کو گڑگاوں فسادات کے تعلق سے متعلقہ حکام کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

یکم جون1947ء کو آل انڈیا ریڈیو کی اردو کش پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی ۔

9؍جون1947ء کی ایک رپورٹ کے مطابق کارکنان جمعیت علما کے گڑگاں متأثرین کے درمیان قابل قدر خدمات پیش کیں۔

10؍جون1947ء کو شائع ایک خبر کے مطابق مصیبت زدگان گڑگاوں کی امداد کی گئی۔

15؍جون1947ء کو جاری ایک اپیل میں 17؍جون کو یوم فلسطین منانے کی اپیل کی گئی۔

15؍جون1947ء کی ایک خبر کے مطابق کارکنان جمعیت علما تسلسل کے ساتھ فساد متأثرین کے درمیان ریلیف ورک میں مصروف ہیں۔

15؍ جون 1947ء کو فرقہ وارانہ بد ترین صورت حال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ریاست بھرتپور اور جے پور کے نام تار بھیجا۔

18؍جون1947ء شیر گڑھ میں ممکنہ فساد کے پیش نظر فورس تعیینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اور اب تک امن وامان قائم رکھنے پر انھیں مبارک باد پیش کی گئی۔

19؍جون1947ء کو گڑگاوں فسادات میں جمعیت علما کی خدمات کی ایک زمینی رپورٹ پیش کی گئی۔

20؍جون1947ء کو گڑگاوں میں امدادی کام جاری رکھنے کے لیے فوجی امداد کا مطالبہ کیا گیا۔

23؍جون1947ء کو منعقد مرکزی تعمیری کمیٹی میں، جمعیت علما کی شاخیں اور مکاتب قائم کرنے کا فیصلہ، تعمیری پروگرام کے عملی خاکے، جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی ضرورت، اور ٹریننگ کیمپ کے قیام جیسی تجاویز منظور کی گئیں۔

24؍جون1947ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب نے وزیر اعظم صوبہ سندھ کو ایک کانفرنس کی معلومات حاصل کرنے کے لیے تار بھیجا۔  

جب مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور نہیں کیا، تو ماونٹ بیٹن نے ہندستان کی تقسیم کا فارمولہ پیش کیا اور 2؍ جون 1947ء کو سبھی ہندستانی لیڈروں کو بلاکر اسے منظور کرالیا۔ پھر اسے مسلم لیگ نے 9-10؍ جون 1947ء کو ،اور14-15؍ جون 1947ء کو کانگریس نے اپنے اپنے اجلاس میں باقاعدہ منظوری دے دی۔ کانگریس کے اجلاس میں صرف مسٹر پروشتم داس ٹنڈن اور جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ہی اس تجویز کی مخالفت کی ۔ بعد ازاں 24؍ جون 1947ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا،جس میں تقسیم ہند کو مسلمانوں کے لیے سخت نقصان قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس سے بیزاری کا اعلان کیا؛ بلکہ اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی۔ ان تمام کوششوں کے باوجود ہندستان کی تقسیم نہیں رک سکی اور 14؍ اگست 1947ء کو پاکستان ڈومینین کا اور 15؍ اگست 1947ء کو ہندستان کی مکمل آزادی کااعلان کردیا گیا۔چوں کہ ہندستان کی آزادی میں جمعیت نے انقلاب آمیز قائدانہ کردار ادا کیا تھا، اس لیے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے سبھی لوگوں سے دھام دھام سے جشن آزادی منانے کی اپیل کی۔ 

24؍ جون 1947ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں دیگر تجاویز پاس کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کوپاکستان، ہندستان، یا آزاد ریاست رہنے کے سلسلے میں ان کے باشندگان کی صواب دید پر چھوڑنے ، صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کرانے کی مخالفت، بصورت مجبوری رائے دہندگان کو ہندستان اور پاکستان کے حق میں رائے دینے کے بجائے آزاد انہ رائے دینے کا مطالبہ، ضلع سلہٹ کو ریاست آسام میں شامل رکھنے اور پانچ کروڑ مسلمانوں کے قومی و ملکی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک عام کانفرنس بلانے پر زور دیا گیا۔ چنانچہ 28-27؍ دسمبر 1947ء کو لکھنو میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں ’’لکھنومسلم کانفرنس ‘‘ ہوئی، جس میں سبھی مسلم جماعتوں نے متفقہ طور پر فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے علاحدگی کا اعلان کیا۔

ہندستان کے اعلان آزادی کے ساتھ ہی پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے، جس میں جمعیت علمائے ہند کے خدام نے جان کی بازی لگاکر متأثرین و مظلومین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے کام کیے؛ بالخصوص دہلی، گوڑگاوںکوٹ قاسم وغیرہ میں جنگی پیمانے پر خدمات انجام دیں۔ 

3؍جولائی 1947ء کو کوٹ قاسم کے حالات کے متعلق جمعیت علما کے وفد نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

23؍جولائی 1947ء کو خط لکھ کر حجاج کے مسائل کو حل کرانے کی کوشش کی۔

26؍جولائی1947ء کو جشن آزادی میں ہر ایک مسلمان کو حصہ لینے کی اپیل کی گئی۔

27؍جولائی1947ء کو فتح پوری مسجد کی بے حرمتی پر دہلی حکومت سے جواب طلب کیا گیا۔

6؍اگست 1947ء کو صدر جمعیت علمانے ایک بیان دے کر کہا کہ انڈونیشیا کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔

10؍اگست1947ء کو شائع ایک مضمون کے مطابق سلہٹ میں لیگیوں نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے جمعیت علما کے دفتر پر قبضہ کرلیا۔

ہندستان میںہندوؤں کے رحم و کرم پر رہ جانے والے ساڑھے پانچ کروڑ مسلمانوں کے سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور اخلاقی جائزہ لینے کے لیے 13؍ اگست 1947ء کو ، 24؍ سوالات پر مشتمل ایک سروے فارم جاری کیا۔

20؍اگست1947ء کو مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور مفتی محمد نعیم لدھیانوی کی تحریر کردہ مکتوب سے پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کے وحشیانہ مظالم کا علم ہوا۔

28؍اگست1947ء کو پناہ گزیں میواتیوں کے لیے رہائش کے انتظام کا مطالبہ کیاگیا۔ اور بہادر میواتیوں سے امن وشانتی کی اپیل کی گئی۔

اسی تاریخ کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق،پلول گڑگاوں میں جمعیت علما کی طرف سے قائم سینٹرل ریلیف کمیٹی نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔

28؍اگست1947ء کو ایک بیان کے ذریعہ، باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کے بعدمشرقی اور مغربی پنجاب میں انتقال آبادی سے پیدا شدہ نازک صورت حال میں دکانوں اور مکانوں پر ناجائز قبضہ اور مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

6؍ستمبر1947ء کو شائع ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دہلی کے خطرناک علاقوں سے مسلمانوں کو باہر نکالنے کی کارکنان جمعیت علما نے انتھک کوششیں کیں۔

فرقہ وارانہ فسادات کی شدت سے ہجرت کے نام پر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے پاکستان جانے والے لوگوں کوپیغام حیات پیش کرتے ہوئے 24؍اکتوبر1947ء کو امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے حوصلہ افزا خطاب فرمایا۔

19؍نومبر1947ء کو گڑھ مکتیشور میں فرقہ وارانہ فسادات کے اندیشے کے پیش نظر حفاظتی بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا۔اور پچھلے فساد میں متأثرہ پانچ مساجداور ایک عیدگاہ کی مرمت کرائی گئی۔

23؍نومبر1947ء کو جمعیت علمائے صوبہ بنگال نے مدرسہ عالیہ کلکتہ کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔

25؍نومبر1947ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے اسمبلی میں دہلی فساد میں شہید مسلمانوں کی تعداد کم بتائے جانے پر ایک بیان سے حقیقت کو اجاگر کیا۔

 فسادات کے ناگفتہ بہ حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے سنٹرل ریلیف کمیٹی قائم کی تھی،جس کے ذریعہ ناجائز اورفوج داری معاملات میں قانونی امداد فراہم کی گئی۔ اس کمیٹی نے حکومت ہند سے29؍نومبر1947ء کو دہلی فساد متأثرین کی بازآباد کاری کامطالبہ کیا۔ اور خود ناظم عمومی دہلی کے مختلف متأثرہ علاقوں کا دورہ کرکے حالات کا صحیح جائزہ لیتے رہے۔ 

23؍دسمبر1947ء کو جمعیت علما کے ایک وفد نے موضع کھڑی گاوں کا دورہ کیا، جہاں سے فسادیوں نے مسلمانوں کو نکال باہر کردیا تھا۔

24؍دسمبر1947ء کو سینٹرل ریلیف کمیٹی نے گاندھی جی سے ملاقات کرکے دہلی میں ہورہے ناجائز قبضوں کی اطلاع دی اور انتظامی امور کے متعلق مشورے کیے۔

25؍ دسمبر1947ء کو جمعیت علمائے ہند کا ترجمان اخبار روزنامہ الجمعیۃ کا دوبارہ اجرا عمل میں آیا۔

تقسیم ہند کے بعد پانچ کروڑ مسلمانوں کے تحفظ کے مسئلے کر لے کر27-28دسمبر 1947ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میںمختلف ملی جماعتوں کی ایک مشترکہ’’لکھنو مسلم کانفرنس‘‘ لکھنو میں منعقد کی گئی، جس میں فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے، مسلمانوں سے کانگریس میں شامل ہونے کی اپیل اور اپنا دائرۂ عمل تعمیری ، تعلیمی اور تہذیبی دائرے تک محدود کرنے کا فیصلہ لیا۔اسی طرح ایک غیر فرقہ وارانہ کمیٹی قائم کرتے ہوئے ’’انجمن اتحاد و ترقی یونین اینڈ پروگریس کمیٹی‘‘ تشکیل دی گئی۔

جمعیت علمائے ہند نے مسلمانوں کی واحد سیاسی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کو ایک مشترکہ میٹنگ کے ذریعہ ،آزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مذہبی و قومی تحفظات کا لائحۂ عمل طے کرنے کی دعوت دی؛ لیکن صدر مسلم لیگ نے اس دعوت کو عملی جامہ پہنانے سے انکار کردیا۔

ان کے علاوہ،متفرقات کے عنوان کے تحت، حکومت دہلی کے رویے سے مسلمانوں کی پریشانیاں،مولانا محمد حنیف سہمی اور مولانا فقیہ الدین کی خدمات کی تحسین،مرکزی ریلیف کمیٹی کی سرگرمیاں، جگادھری (انبالہ) کے مسلمانوں کی حالت زار،بہار میں تعمیری خدمات، مسودات قانون کے لیے بنائی گئی سب کمیٹی کی رپورٹ، سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو اقوام متحدہ میں فلسطین کا موقف رکھنے پر مبارک باد،اور ٹنڈن جی کی فساد انگیز تقریر کے خلاف ناظم عمومی صاحب کا بیان شامل کیا گیا ہے۔


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: اٹھائیسوں سال: 1946ء

  اٹھائیسوں سال: 1946ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1946ء کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فتویٰ دیا کہ کانگریس میں شرکت جائز ہے۔

22؍جنوری 1946ء کو ایک استفسار کے جواب میں مفتی اعظم نے لیگ میں شرکت اور اس کی امدادکی حیثیت پر ایک فتویٰ جاری کیا۔

یکم فروری1946ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب اور مولانا حفظ الرحمان صاحب کے دورے کی تفصیلات شائع کی گئیں۔یہ دورے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مقصد سے کیے جارہے تھے۔

17؍فروری1946ء کو حضرت مفتی اعظم ہند نے خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کے سوالوں کے جوابات پیش کیے۔ 

جب وائسرائے ہند لارڈ واویل نے جداگانہ(مسلمان مسلمان کو اور غیر مسلم غیر مسلم کو ووٹ پر مبنی ) انتخابات کرانے کا اعلان کیا، تو مسلم لیگ نے پاکستان اور اسلامی حکومت کے نعرے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند تمام مسلم قوم پرور جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم’’آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ کے تحت آزادیِ ہند کے نعرے کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری ۔مسلم لیگ نے الیکشن جیتنے کے لیے جہاں غنڈہ گردی اور ماردھاڑ سے کام لیا، وہیں فتووں کا بھی سہارا لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند اپنے لوگوں سے امن و امان کی اپیل کرتی رہی۔ 

آواخر دسمبر1945ء تک مرکزی قانون ساز اسمبلی کی 102 ؍نشستوں پر ہوئے الیکشن کے نتائج سامنے آگئے۔ مسلم لیگ نے پاکستان کے نعرے کے ساتھ الیکشن لڑا ، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے آزادی ہند کے نام پرمسلم پارلیمنٹری بورڈ کے تحت کانگریس کی حمایت کی۔ اس میں 30؍ نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں،ان سب نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرائی، جب کہ کانگریس کو کل 57؍نشستیں ملیں۔ 

بعد ازاں 1946ء میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔اس میں کانگریس نے کل 1585؍ نشستوں میں سے923 ؍نشستیںجیتیں، جو(%58.23)فی صد ہوتا ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے 425؍ نشستیں (کل کا %26.81) جیت کر دوسرے درجہ کی جماعت کا مقام حاصل کرلیا، یعنی اس نے مرکزی اسمبلی کے تمام مسلم حلقوں کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے زیادہ تر مسلم حلقوں پر قبضہ کر لیا۔

 اسی طرح ہندستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) میں کل 389؍ نشستیں تھیں، جن میں سے 292؍ نشستیں برطانوی ہند کے صوبوں کے لیے اور 93؍ نشستیں دیسی ریاستوں کے لیے تھیں۔ دیسی ریاستوں کے نمائندوں کا انتخاب وہاں کے حکمرانوں کی مرضی سے ہوتا تھا۔جو نشستیں برطانوی ہند کے لیے مخصوص تھیں، انھیں پر جولائی 1946ء میں الیکشن ہوئے، جن میں کانگریس نے 207؍ نشستوں (کچھ ذرائع کے مطابق 208) اور مسلمانوں کے لیے مخصوص 78 ؍ نشستوں میں سے مسلم لیگ نے 73؍ نشستوں پر ،اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے 28؍ نشستوں پر جیت درج کرائی۔ان تینوں انتخابات میں مسلم لیگ کی نمایاں جیت نے پاکستان کا راستہ کھول دیا۔

انتخابات کے بعد حکومتی اختیارات منتقل کرنے کے لیے 17؍ فروی1946ء کو کیبنٹ مشن بھیجنے کا اعلان ہوا۔ 23؍ مارچ 1946ء کو کیبنٹ مشن ہندستان پہنچا اور کانگریس، لیگ اور دیگر لیڈروں سے صلاح و مشورے شروع کیے، لیکن اس کے لیے جمعیت کو مدعو نہیں کیا،جس کے پیش نظر جمعیت نے 28-29؍ مارچ 1946ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ اگر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کوئی دستوری دفعہ شامل کیا گیا، تو جمعیت اس کی مخالفت کرے گی۔ مسلم لیگ نے 4؍ اپریل 1946ء کو مشن سے ملاقات کی ، بعد ازاں 8-9؍ اپریل 1946ء کو دو آئین ساز ادارے بنانے اور ہندستان کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ 

مجلس عاملہ کے فیصلے کا فوری اثر ہوا اور کیبنٹ مشن نے 16؍ اپریل 1946ء کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ جمعیت نے ملاقات سے ایک دن پہلے 15؍ اپریل 1946ء کو مختلف قوم پرور مسلم جماعتوں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ کی اور وزارتی مشن کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک فارمولا تیار کیا۔ اور پھر 16؍ اپریل1946ء کو مجلس عاملہ میں پاس کرکے، اسی دن صدر مسلم پارلیمنٹری بورڈ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صدر جمعیت علمائے ہندکی قیادت میں ایک وفد نے کیبنٹ مشن سے ملاقات کی اور فارمولا پیش کیا۔مجلس عاملہ کے اس اجلاس میں فارمولا کے علاوہ سید احمد کاظمی کی وفات پر تجویز تعزیت اور آزاد ہند فوج کے تمام ارکان کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

آواخراپریل میں مشن نے مسلم لیگ اور کانگریس کے لیڈروں کو تبادلۂ خیالات کی دعوت دی اور ساتھ ہی اپنا مجوزہ منصوبہ پیش کیا۔5؍ مئی 1946ء کو شملہ میں کیبنٹ مشن نے کانفرنس کی، جس میں دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ لیگ کے مطالبۂ پاکستان کے اصرار اور کانگریس کے اکھنڈ بھارت کے دعوے پرقائم رہنے کی وجہ سے کانفرنس ناکام ہوگئی؛ تاہم مشن نے چوبیس نکاتی پلان پیش کرکے عارضی حکومت کے قیام کی کوششوں کو جاری رکھا۔26؍مئی 1946ء کو مشن کی تجاویز پر نیشنلسٹ مسلم رہنماؤں کی طرف سے مشترکہ تبصرہ کیا گیا۔ بعد ازاں 6؍ جون 1946ء کو مسلم لیگ نے، اور25؍ جون 1946ء کو کانگریس نے مشن کے پلان کو قبول کرتے ہوئے عارضی حکومت سازی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ 

ریاست الور میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی تحقیقات کے لیے جمعیت کے تحقیقاتی وفد کو آنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے، پہلے صدر جمعیت نے 3؍ اپریل 1946ء کو، پھر 13؍ اپریل 1946ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا حفظ الرحمان نے وزیر اعظم ریاست الور کے نام تار بھیجا۔

23؍اپریل1946ء کو افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے امن و شانتی قائم رکھنے کی اپیل کی گئی۔

26؍اپریل1946ء کو پانچ لاکھ سے زائد مجمع پر مشتمل ایک عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں پاکستان کی حقیقت اجاگر کی گئی۔

30؍اپریل1946ء کوسماجی و دینی اصلاح سے متعلق ایک اہم اپیل کی گئی۔

از 10تا 12؍ جون 1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں کیبنٹ مشن کی تجاویز کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ دیگر تجاویز میں آسام لائن سسٹم میں آباد لوگوں کو بے دخل نہ کرنے کی اپیل،کشمیری عوام پرڈوگرا فوج کے مظالم کی مذمت اور نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ اور فلسطین میں ایک لاکھ یہودیوں کے داخلہ کی اجازت پر مشتمل برطانوی امریکی تحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی اپیل کی گئی اور مسلمانان ہند کے جذبات سے آگاہ کرنے کے لیے 24؍ مئی 1946ء کو ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا۔

13؍جون1946ء کو کل ہند فلسطین کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

21؍جون1946ء کوسکریٹری عرب لیگ کے برقیہ کا جواب دیاگیا۔

25؍ جون 1946ء کو حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے نیشنلسٹ مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن کو پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک ایسا نہیں ہے، جس کے انقلاب میں طلبہ کے ہاتھ نہ ہوں۔

12؍جولائی 1946ء کو مسلم لیگیوں کی طرف سے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی ذات کو گستاخیوں کا نشانہ بنانے پرمولانا کی حمایت میں مکتوب لکھا گیا۔ 

پھر28؍ جولائی 1946ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں ساؤتھ افریقہ میں ہندستانیوں کے ساتھ بھید بھاؤ والے قانون پاس کرنے کی مذمت کی اور اس کے خلاف عدم تشدد کی تحریک چلانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایک دوسری تجویز میں آسام لائن سسٹم کے مسئلہ کو حل کرنے کا مطالبہ اور تیسری تجویز میں پوسٹ مینوں کے اسٹرائیک میں مولانا آزادؒ کی ثالثی کو قبول کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

چوں کہ مشن پلان میں تقسیم ہند کو قبول نہیں کیا گیا تھا، اس لیے حکومت سازی میں لیگ کی شمولیت کے فیصلے پر اس کے حلقے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیاگیا، جس سے متأثر ہوکر 27؍ جولائی 1946ء کو لیگ نے حکومت سازی میں شرکت سے انکار کردیا۔ اور پاکستان حاصل کرنے کے لیے 16؍ اگست1946ء کو ’’ڈائریکٹ ایکشن ڈے‘‘ منانے کا فیصلہ کیا، جو پورے ہندستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا باعث بنا۔ 

26؍ اگست 1946ء کو کچھ غنڈوں نے جمعیت کے دفتر پر چھاپا مارااور اسٹاف سے مار پٹائی کی ۔

کیبنٹ مشن کی دعوت پر 2؍ ستمبر1946ء کو کانگریس نے غلام بھارت میں پہلی مرتبہ قومی عارضی حکومت کی تشکیل کی۔جب ڈائریکٹ ایکش ڈے منانے کے باوجود مسلم لیگ کو کچھ ہاتھ نہیں آیا، تو 15؍ اکتوبر1946ء کو عارضی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔لیکن مسلم لیگ نے سب سے بڑی تاریخی غلطی یہ کی کہ مسلمانوں کی واحد نمائندگی کا دعویٰ کرنے کے باوجود کیبنٹ مشن پلان کے مطابق پانچ مسلم ناموں میں ایک نام غیر مسلم دلت لیڈر جوگندر ناتھ منڈل کاشامل کردیا، جس سے وزارتی پلان میں مسلمانوں کی نمائندگی پینتالیس فی صد سے گھٹ کر پینتیس فی صد رہ گئی۔ 

21تا 24؍ ستمبر1946ء کومجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں انتقال اختیارات کے لیے عارضی قومی حکومت کے قیام پر اظہار اطمینان کیا گیا، تاہم مسلم لیگ کی غلط قیادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ، کانگریس ہائی کمانڈ کے طریق کار پر اعتراض ظاہر کیا گیا۔ دیگر تجاویز میں ملک بھر میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، ان میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ، زمین داری کے قانون کا خاتمہ،اوقاف سے متعلق غوروفکر کے لیے 26-27؍ اکتوبر 1946ء کو دیوبند میںاجتماع کا فیصلہ، فلسطین سے متعلق تجاویز کو انگریزی اور عربی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کے سکریٹری کو بھیجنے اور فرقہ وارانہ فسادات کو جہاد پاکستان قرار دینے کو اذیت ناک بتاتے ہوئے مسلمانوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔

3؍نومبر1946ء کوفسادات میں مسلمانوں کے نامناسب رویے پر ایک بیان جاری کیا گیا۔اسی تاریخ کو جمعیت علما، مسلم لیگ اور کانگریس کو ووٹ دینے سے متعلق استفتے کے جوابات دیے گئے۔

3؍ستمبر1946ء کو توہین رسالت پر مبنی ایک جریدے کے مضمون پروائسرائے ہند سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

3؍ستمبر1946ء کو عید کے دن مسٹر جناح کی جانب سے دعوت اتحاد کا خیرمقدم کیا گیا، لیکن ان کے سابقہ رویے کو دیکھ کر طرز عمل پر تنقید بھی کی گئی۔

6؍نومبر1946ء کو مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانوی صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند گرفتار کرلیے گئے۔اسی تاریخ کو بہار کے فسادات کے تعلق سے صدراور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا۔

28؍نومبر1946ء کو مظلومین بہار کی امداد واعانت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی۔

از 14تا 16؍ دسمبر1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں بہاراور گڈھ مکتیشر کے خونی فسادات کی مذمت کرتے ہوئے مظلومین کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا گیااور پورے ہندستان میں صلح و آشتی برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی۔ اسی طرح کیبنٹ مشن کے گروپنگ سسٹم کو وقتی مصلحت کے پیش منظر تسلیم کرلینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اور آخری تجویز میں حاجی متولی محمد جلیل صاحب کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

20؍دسمبر1946ء کوایک سرکلر نمبر ۷ جاری کیا گیا، جس میں مقامی، ضلعی اور صوبائی یونٹوں کے انتخابات کی تمام کارروائیاں جلد از جلد مکمل کرانے اور آئندہ سال (1947ء )میں ہونے والے اجلاس عام میں شرکت کے لیے مرکزی مجلس منتظمہ کے اراکین کے نام بھیجنے کی گذارش کی گئی۔  

25؍دسمبر1946ء کو سرحد جمعیت علمائے ہند کی امداد کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ نے ایک اپیل جاری کی۔


30 Jan 2026

توہین رسالت کے مجرمین کے خلاف کرنے کےضروری کام

 

توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

بھارت میں مجرمین کے تئیں  گورنمنٹ کی نرم روی اور عدالتوں کی لیٹ لطیف کارروائی کی وجہ سے جس طرح مجرمین بے خوف ہوتے جا رہے ہیں، یہ بہتر بھارت کےلیےبالکل بھی اچھا اشارہ نہیں ہے اوربالخصوص مسلمانوں کےلیے بدترین حالات پیدا ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات کے لیے راستے ہموار کرنے میں ہماری جہالت بھی برابر کی شریک ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھار ہمارے حق میں ہونےوالےفیصلےبھی  غیرکے  حق میں چلے جاتےہیں۔ اس لیے موقع بہ موقع کےلیے قانونی معلومات رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

یتی نرسنگہانند کا معاملہ

29؍ستمبر2024ء کو غازی آباد کے ایک مندر کے مہنت یتی نرسنگہانند نے ایک  پروگرام میں تقریر  کرتے ہوئے  سرور کائنات ﷺ کی شان میں بھیانک گستاخی کی، جس نے بھی اس تقریر کو سنا، وہ مچل کر رہ گیا۔

3؍اکتوبر2024ءکو آلٹ نیوز کے بانی ممبر مشہور فیکٹ چیکر محمد زبیر صاحب نے اپنے ’’ایکس‘‘ ہینڈل سے اس کو اجاگر کیا، جس سے دنیا کو اس گستاخی کے بارے میں معلوم ہوا۔  چنانچہ اسی تاریخ کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے وزیر داخلہ (امیت ساہ)کو خط لکھ کر اس کے خلاف قانونی ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ۔اور 4؍اکتوبر2024ء کو مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی  ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں ایک وفدنے  کمشنریٹ غازی آباد پہنچ کر اجے کمار مشرا سے ملاقات کی اور شکایت درج کرائی۔

آج بتاریخ 5؍اکتوبر2024ءکو دوبارہ وفد کمشنریٹ  اور اے سی پی آفس پہنچا اور بی این ایس کی مزید دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل رات میں بھی مقامی نوجوانوں نے مہنت کے مندر کی طرف کوچ کرکے ایف آئی آر درج کرنے کا دباؤ بنایا تھا۔ ان تمام کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ الحمد للہ گرفتاری عمل میں آگئی ہے۔

یتی نرسنگہا نند کے خلاف  سخت قانونی کارروائی کا ایک اور سنہری موقع

یتی نرسنگہا نند اس سے پہلےہیٹ اسپیچ کی وجہ سے گرفتار ہوچکا ہے۔ اسے ہریدوار ضلع کورٹ نے  7؍فروری 2022 ء کو اس شرط کے ساتھ ضمانت دی تھی کہ آپ دوبارہ نفرتی بیان نہیں دیں گے اور دینے پر ضمانت رد ہوجائے گی۔ اب چوں کہ اس نے دوبارہ نفرتی بیان دے دیا ہے، لہذا اس پر جو کہ پہلے ہی سے دفعہ 153Aاور 295A لگی ہوئی  ہے، مقدمہ نمبر 849-2021ء کے آرڈر کےمطابق اس آرڈر کی پہلی کنڈیشن کی خلاف ورزی  کے تحت قانونی کارروائی کی جائے ۔  اور اس کے لیے application for cancellation of bail فائل کیا جائے ۔ اور چوں کہ ہریدوار ضلع کورٹ میں پہلا مقدمہ درج ہوا تھا، اور اس نے اب یہ ہیٹ اسپیچ غازی آباد میں دیا ہے، لہذا ہرید وار ٹرائل کورٹ میں اپیلیکشن  ڈالی جائے گی ۔ اگر یہاں سے فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آتا ہے، تو پھر ہائی کورٹ نینی تال میں اس کے خلاف  عرضی ڈالی جائے گی ۔

توہین رسالت کے مجرم کے لیے قانونی چارہ جوئی کے طریق کار

اگر کوئی شخص کسی بھی مذہب، یامذہبی رہنما ، یا کمیونٹی کے بارے میں کوئی ایسی بات  کہتا، لکھتا،یا کسی بھی ذریعہ سے پھیلاتا ہے، جس سے مذہب، مذہبی رہنما ، اس کے متبعین، یا کمیونٹی کے سینٹی مینٹ ہرٹ (جذبات مجروح) ہوتے ہیں، تو اس کے لیے درج ذیل دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی جاسکتی ہے:

BNS(بھارتیہ نیائے سنہتا) کی دفعہ 299(جو IPC میں 295(A)تھی) کی دفعہ لگوائیں۔ اس دفعہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی مذہب، یا اس کے فالورس کے بارے میں غلط بیانی کرنا، یا کوئی ایسی بات کہنا جس سے ان کے جذبات مجروح ہوں، قانونا جرم ہے اور جرمانے کے ساتھ تین  سال کی سزا ہے۔

BNSکی دفعہ 196(جو IPC میں (A) 153تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی دھرم گروکے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا ، جس سے اس کے فالورس کے جذبات مجروح ہوتے ہوں، یا جس بات سے فرقہ وارانہ جھگڑا ہونے کا خطرہ ہو، قانونا جرم ہے۔ اور اس کے مجرم کو جرمانے کے ساتھ تین سال کی قید کی سزا دی جائے گی۔

BNSکی دفعہ 302(جو IPC میں298تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کے بارے میں ایسے گندے الفاظ جیسے گالم گلوچ وغیرہ کرنا، جس سے اس سماج کے لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھے، ایسے مجرم کو ایک سے تین سال تک کی سزا کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا جاتاسکتا ہے۔ 

BNSکی دفعہ 197C (جو IPC میں153تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

اس کا مطلب  یہ ہے کہ کسی بھی مذہب ،زبان ،یا  ذات کے خلاف لوگوں کر بھڑکاتا ہے ، جس سے امن وچین کا ماحول بگڑے، قانونی طور پرجرم ہے۔ اور اس کی سزاتین  سال کی قید ہے۔

BNSکی دفعہ 197D(جو IPC میں153تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

کوئی بھی ایسی جھوٹ بات پھیلانا، جس سے بھارت کی ایکتا کو خطرہ لاحق ہو، اس کے مجرم میں کو بھی تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔

6۔دفعہ352 کا سیکشن لگوائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے آدمی کو بھڑکاتا ہے،جس سے پبلک کے امن و امان کے زائل ہونے کا خطرہ ہو، یا کسی اور طرح کا جرم کرنے پر اکساتا ہو، یہ قانونا جرم ہے، اور اس کی سزا جرمانے کے ساتھ دو قید ہے۔

 

7۔چوں کہ یتی نرسمہانند نے ابھی کی تقریر میں عورتوں کے ساتھ زنا کا بھی تذکرہ کیا ہے، جو اسلام پر سخت الزام ہے، اس لیے اس کے خلاف BNS79کی دفعہ بھی لگائی جاسکتی ہے۔ اس دفعہ کا مطلب یہ ہے: insult modesty of woman  یعنی عورتوں کی عزت کے بارے میں ایسی بات کہنا، جو غلط بیانی پر مبنی ہو۔ اس کی سزا تین سال قید کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔  لہذا یتی کے خلاف ایف آئی آرمیں اس دفعہ کو ضرور شامل کرائیں۔

 عوامی رد عمل

لیگل ایکشن کو مؤثر بنانے کےلیے مسلمانوں کو درج ذیل کام کرنا چاہیے:

1۔ ہندستان بھر کے تھانے میں جہاں جہاں بھی عاشق رسول موجود ہیں، وہاں وہاں پرامن جلوس نکالیں اور توہین رسالت کے مجرمین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ہرایک تھانے میں شکایت  درج کرائی جائے ۔اور ایف آئی آر رجسٹر کرانے پر مجبور کیا جائے۔

2۔ ہر مسجد ، اور  دینی اداروں میں یک روزہ، سہ روزہ، پندرہ روزہ  سیرت نبوی ﷺ کے پروگرام  کا سلسلہ جاری کیا جائے۔

3۔ جمعہ کے دن خصوصیت کے ساتھ سیرت نبوی ﷺ پر خطاب کیا جائے ۔ بعد ازاں ایک پرامن جلوس کی شکل میں ڈی ایم، ایس ڈی ایم اور اے ڈی ایم :کسی بھی  دفتر میں پہنچ کر قانونی کارروائی کرنے کے لیے ریپریزینٹیشن پیش کیا جائے۔

4۔ سوشل میڈیاز پر زیادہ سے زیادہ نعت النبی ﷺ اور سیرت پر موجود تحاریر و تقاریر کو شیئر کریں ۔

5۔ ہر شخص انفرادی طور پر خود بھی درود پاک ﷺ کا اہتمام کریں اور اپنے بھائیوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔

نوٹ: قانونی دفعات سمجھنے میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے وکیل جناب عاقب بیگ صاحب سے مدد لی گئی ہے۔ اور ان کےشکریے کے ساتھ یہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

آج کے جمعیت علمائے ہند کے وفد میں جناب عاقب بیگ صاحب، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا، مولانا اسجد صاحب قاسمی صدر جمعیت علمائے ضلع غازی آباد، مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند، مولانا ضیاء اللہ صاحب قاسمی منیجر الجمعیۃ بکڈپو ، مولانا ذاکر صاحب آرگنائزر جمعیت علمائے ہند،قاری عبدالمعیدصاحب کانپور اور راقم الحروف محمد یاسین جہازی قاسمی شامل تھا۔

آخری گذارش

توہین رسالت مسلمانوں کے لیے ایک نازک اور حساس معاملہ ہے، جس سے عاشقان رسول اکرم ﷺ کا بے قابو ہوجانا ایک فطری امر ہے؛ لیکن ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر حکمت و دانائی کا یہی تقاضا ہے کہ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قانونی کارروائی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں اور غیر ضروری جذباتیت کے اظہار سے پرہیز کریں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے کہ ہماری کوشش رنگ لائے گی ، مجرم کیفر کردار تک پہنچے گا  اور ہمارے بے چین جذبات کو تسکین ملے گی ، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

محمد یاسین جہازی

9891737350 

27 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: ستائیسواں سال: 1945ء

 ستائیسواں سال: 1945ء

محمد یاسین جہازی

مولانا اطہر صاحبؒ کٹکی رکن جمعیت علمائے ہند کو ڈھائی سال کی نظر بندی کے بعد 6؍ جنوری 1945ء کو رہا کردیا گیا۔

31؍ جنوری و یکم و 2؍ فروری 1945ء کو مجلس عاملہ کا سہ روزہ اجلاس ہوا، جس میں ریاست دھار کی شاہ مسجد اور مقابر کے قضیہ کی تحقیق کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسی طرح آزاد ہندستان کے دستور میں مسلمانوں کی حقیقی پوزیشن پر بھی کافی غورو خوض کیا گیا۔ 

7؍فروری1945ء کو غلط فہمی پر مبنی ایک مراسلہ کی تردید کی گئی۔

7؍مارچ1945ء کو مہاراجہ الور کو تار بھیج کر مسلمانوں کے ساتھ نازیبا رویے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

15؍مارچ1945ء کو جمعیت علمائے ہند اور اہل حدیث افرادکے تعلق سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا۔

رسالہ پرچار میں تعلیمات اسلام کے خلاف باتیں لکھنے کی وجہ سے 7؍ اپریل 1945ء کو ایک تار بھیج کر مہاراجہ اندور سے اسے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا۔

13؍اپریل1945ء کو مولانا آزاد اور مولانا مدنی کی مسلم لیگ کی جانب سے توہین کی گئی۔ 

14؍اپریل1945ء کی ایک خبر کے مطابق ریاست دھار اور الور کے متعلق مرکزی اسمبلی میں سوال اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

14-15؍ اپریل 1945ء کے اجلاس مجلس عاملہ میں آسام لائن سسٹم کو ختم اور مسلمانان برپیٹا پر مظالم کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا اور ہسٹری آف پرشیا میں نبی کریم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصاویر شائع کرنے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے، انھیں کتاب سے نکالنے کا مطالبہ کیاگیا۔اسی طرح سپرو کمیٹی کی سفارشات کی نامنظوری اور اسیران فرنگ کو جلد از جلد رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

20؍اپریل1945ء کو مسٹر آصف علی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

4،تا7؍ مئی 1945ء کو سہارن پور میں چودھواں عظیم الشان تاریخی اجلاس عام ہوا، جس میں ملک و ملت کے سلگتے مسائل پر طویل بحث و مباحثے کے بعد بائیس تجاویز منظور کی گئیں۔ پہلی تجویز میں امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، بانی تبلیغی تحریک حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلویؒ، محدث دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحبؒ ،شہید ملت جناب خان بہادر اللہ بخش سندھی ؒ کے علاوہ دیگر مشاہیر امت کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کیا گیا۔دوسری تجویز میں پرشوتم داس ٹنڈن اور بعض دیگر کانگریس وزیروں اور عہدے داروںکی اردوکے خلاف معاندانہ سرگرمیوں کی مذمت کی گئی۔ تیسری تجویز میں مرکزی جمعیت کے لیے ایک بڑے دفتر کی ضرورت کا اعلان کرتے ہوئے چندہ کی اپیل کی گئی اور اجلاس ہی میں تقریبا چالیس ہزار روپے جمع ہوگیا۔ دفتر کے چندہ کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ کی ایک چھڑی ایک ہزار میں اور ٹارچ تین سو روپے میں نیلام کیا گیا۔ چوتھی تجویز میں مدارس عربیہ کے فضلا کے لیے سیاسی تربیت گاہ قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ پانچویں تجویز میں حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ،حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاریؒ اور جناب رفیع احمد قدوائی صاحبؒ کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ چھٹی تجویز میں 1942ء کی ’’ بھارت چھوڑ دو‘‘ تحریک کے تحت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی گئی۔ ساتویں تجویز میں مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادیؒ کی گرفتاری پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ آٹھویں تجویز میں آئینی مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے پیش کی گئیں سپرو کمیٹی کی سفارشات میں حق خود ارادیت کی کلیتا نفی، دستور ساز اسمبلی میں اچھوتوں کے لیے جداگانہ نیابت کا استحقاق اور آئندہ آزاد حکومت کی تشکیل کی بعض تفصیلات جمعیت علمائے ہند کے فیصلوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہندستان کے مسئلہ کے حل کے لیے غیر مفید قرار دیا۔ نویں تجویز میں از 25؍ اپریل، تا 26؍ جون 1945ء کو سان فرانسسکو کانفرنس میں شرکت کرنے والے وفد کی نام زدگی، چوں کہ حکومت ہند نے برطانوی شہنشاہیت کے مفاد کی ترجمانی کی غرض سے کی تھی، اس لیے اس وفدپر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔دسویں تجویز میں آسام لائن سسٹم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ گیارھویں تجویز میں جنگ عظیم دوم ختم ہونے کے باوجود سیاسی جمود و تعطل پر اظہار تعجب کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے مذہبی ، تہذیبی اور سیاسی حقوق کی ضمانت پر مشتمل دستور ہند میں شامل کرنے کے لیے مشہور فارمولہ پیش کیا گیا، جو تاریخ میں ’’جمعیت کا فارمولہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ بارھویں تجویز میں برطانوی حکومت ہند کی طرف سے تعلیمی اقدامات کے لیے پیش کیا گیا سارجنٹ پلان (Sargent Plan) میں مسلمانوں کی مخصوص تعلیمی ضروریات کا تذکرہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔تیرھویں تجویز میں اے ہسٹری آف پرشیا نامی کتاب میں نبی اکرم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصاویر کو نکالنے کا مطالبہ کیا ۔ چودھویں تجویز میں کنٹرول سسٹم کی وجہ سے دیسی صنعت تباہ ہونے کے باعث اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پندرھویں تجویز میں چمور اور آشتی کے ملزموں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ سولھویں تجویز میںتحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی روشنی میں ریاست دھار کی جامع مسجد کو ہندو مہاسبھا کی طرف سے بھوج شالا گرداننے کی شدید مذمت کی گئی۔ سترھویں تجویز میں لکھنو میں پانچ سال سے مدح صحابہ پر پابندی لگانے کی مذمت کرتے ہوئے اس ناانصافی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اٹھارھویںتجویز میں سگریٹ فیکٹری کے مالکان کا مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کرنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے گورنمنٹ سے سگریٹ مزدوروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انیسویں تجویز میں ریلوے کو موٹرس سروس کی ماناپولی دینے کی تجویز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ بیسویں تجویز میں جمعیت کے ساتھ مسلم مجلس کے اشتراک کو منظوری دی گئی۔ اکیسویں تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور آخری تجویز شکریہ کے الفاظ پر مشتمل تھی۔

4؍ مئی 1945ء کو جمعیت علمائے صوبہ یوپی نے ریاستی سطح پر امیر شریعت منتخب کرنے کی کوشش کی، جو کامیاب نہ ہوسکی۔ 

7؍مئی1945ء کو مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں: مشاہیر کے انتخاب کی منظوری۔ترمیمات دستور اساسی پر نظر ثانی کے لیے کمیٹی کی تشکیل۔ جمعیت علمائے صوبہ متحدہ آگرہ اور اودھ کی تشکیل۔ علاوہ ازیں عہدے داران کاانتخاب بھی عمل میں آیا۔

29؍مئی 1945ء کو مسٹر آصف علی کی رہائی پر ان کی گرتی صحت دیکھ کر حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

2؍جون 1945ء کو شام، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کی گئی۔

7؍جون1945ء کو جمعیت علما سے غلط فہمی پر مبنی قاری زاہر صاحب کی ایک تحریر کا جواب دیا گیا۔

11؍جون1945ء کو منعقد ایک عظیم الشان جلسے میں ممالک اسلامیہ کے متعلق یورپی حکومتوں کی انتدابی کوششوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ،شام ، لبنان اور مراکش کے نہتے باشندوں پر فرانسیسی حکومت کے مظالم کی مذمت،فلسطین کے متعلق نئی پالیسی پر اظہار تشویش،ایران پر روسی و برطانوی قبضے پر غم و غصے کا اظہار،اور مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔اور 22؍جون 1945ء کو یوم ممالک اسلامیہ منانے کی اپیل کی گئی۔  

20؍جون1945ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے کہا کہ ویول پلان کوئی کشش نہیں رکھتا۔ 

28؍ جون 1945ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میںجمعیت کے علاوہ دوسری تنظیموں کے لیڈروں کو بھی مدعو کیا گیاتھا۔ اس مشترکہ اجلاس میں ہندستان کے آئینی مسئلے کو حل کرنے اور انگریزوں سے بھارتیوں کو پاور منتقل کرنے کے حوالے سے ،14؍ جون 1945ء کولارڈ واویل کا پیش کردہ واویل پلان پر غوروخوض کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ پلان عارضی وقت کے لیے مناسب ہے۔ اسی طرح اس کا بھی اعلان کیا گیا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ 

واویل نے اپنے فارمولہ کے مطابق ایگزیکیٹو کونسل کے اراکین کو منتخب کرنے کے لیے 25؍ جون 1945ء کو شملہ کانفرنس بلائی، جس میں کانگریس نے نام پیش کردیے؛ مگر مسلم لیگ نے اس بات پر اصرار کرتے ہوئے نام پیش کرنے سے انکار کردیا کہ کانگریس ہندوؤں کی جماعت ہے، اس لیے اسے مسلمان ممبروں کو نام زد کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ حق صرف مسلم لیگ کو ہے؛ کیوں کہ وہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ اس بے جا اصرار کی وجہ سے 14؍ جولائی 1945ء کو کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کردیا گیا۔

11؍جولائی1945ء کو کلکتہ میںجمعیت علمائے ہند کی مخالفت اور پاکستان کے نام پر مسلم لیگ کو الیکشن جتانے کے مقصد سے جمعیت علمائے اسلام قائم کی گئی۔

29؍جولائی1945ء کو نصابی کمیٹی نے تعلیم کا نصابی خاکہ پیش کیا۔ 

31؍جولائی1945ء کو سری نگر کشمیر میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کے جلوس پر لیگیوں کی طرف سے حملہ کیا گیا۔  

یکم اگست 1945ء کو علی گڑھ اسٹیشن پر مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ساتھ لیگیوں نے توہین آمیز سلوک کیا۔

12؍ستمبر1945ء کو سلہٹ آسام میں جمعیت بلڈنگ کے لیے چندہ میں مولانا مدنی کاٹارچ نیلام کیا گیا۔

اس کے بعد واویل نے ہندستان میں خود مختارقومی حکومت قائم کرنے کے لیے ستمبر 1945میں مرکزی اور صوبائی انتخابات کا اعلان کیا، جس کے پیش نظر ،جمعیت علمائے ہند کی دعوت پر مختلف مسلم تنظیموں اور لیڈروں پر مشتمل 16تا 19؍ستمبر1945ء ، مسلم آل پارٹیز اور جمعیت علما کا چار روزہ اجلاس کیا گیا، جس میں پہلے دو دن مجلس عاملہ کا اور بعد کے دو دن میں مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا۔16 ؍ ستمبر1945ء :پہلے دن کے اجلاس میںاسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق غلط اور توہیز آمیزمضامین پر مشتمل کتاب کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا اور پھر آئندہ انتخابات پر طویل بحث و گفتگو ہوئی۔ دوسرے دن 17؍ ستمبر1945ء کے اجلاس میںآئندہ انتخابا ت میں مشترک طور پر حصہ لینے کے لیے تمام آزادی خواہ جماعتوں اور نیشنلسٹ مسلمانوں پر مشتمل ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ تشکیل دی گئی، جس کا صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کو بنایا گیا۔اس بورڈ کے اراکین نے الیکشن میں صرف مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے نام زد، یا تائید کردہ امیدواروں کو ہی ووٹ دینے کی تحریک چلانے کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا۔ لیکن مسلم لیگ کے غنڈوں نے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے اکابرین ملت؛ بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒصاحب صدر جمعیت علمائے ہند و مسلم پارلیمنٹری بورڈ، حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہاروی ؒصاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند و صدر آل انڈیا کانگریس اور دیگر قومی قائدین کے ساتھ گستاخیاں کیں ؛ حتیٰ کہ انھیں جان سے مارنے کی بھی کوششیں کیں۔  

18اور 19؍ستمبر1945ء کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس کی پہلی تجویز میں ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ تشکیل دینے پر تمام آزادی خواہ جماعتوں اور افراد کو مبارک باد پیش کی گئی ۔ دوسری تجویز میں فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور2؍ نومبر 1945ء کو پورے ہندستان میں یوم فلسطین منانے کی اپیل کی۔ تیسری تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ چوتھی تجویز میں انڈین نیشنل آرمی کے تمام سپاہیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔پانچویں تجویز میں آزادی خواہ اخبارات و پریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر حکومت برطانیہ کے رویہ کی مذمت کی گئی۔ چھٹی تجویز میں مسلم لیگ اور خاکسار کارکنوں میں ہوئے تصادم کے نتیجے میں قید خاکساروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتویں تجویز میں صوبہ سندھ میں ووٹرفہرست میں ترمیم کامطالبہ کیا گیا۔آٹھویں تجویز میں مسلم آل پارٹیز کانفرنس میںشرکت کا شکریہ ادا کیا گیا اور نویں تجویز تجویز شکریہ پرمشتمل تھی۔اس اجلاس میں ووٹروں کے نام ایک اپیل بھی شائع کی گئی۔ 

29؍ستمبر1945ء کو سید پور بنگال میںمولانا مدنی کو قتل کرنے کی سازش کی گئی ۔

30؍ستمبر1945ء کو کٹیہار میں مولانا مدنی پر حملہ کیا گیا۔

یکم اکتوبر1945ء کو بھاگلپور میں مولانا مدنی پر پتھر پھینکے گئے۔

6؍اکتوبر1945ء کو آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا۔

9؍اکتوبر1945ء کو فلسطین کے حالات کے مطابق مسٹر ایٹلی ، وزیر اعظم فلسطین اور عرب فیڈریشن کو تار بھیجا گیا۔

9؍اکتوبر1945ء کونواب زادہ لیاقت علی خاں کی پاکستان کی حمایت میں کی گئی تقریر کا جواب دیا گیا۔ 

9؍اکتوبر1945ء کو سرورکائنات ﷺ کی تصویر سازی پر گورنرصوبہ اڈیشہ کو تار بھیجا گیا۔ 

9؍اکتوبر1945ء کو فتح پور اسٹیشن قریب کے مسلم مسافر خانہ بنوانے کی اپیل کی گئی۔ 

16؍اکتوبر1945ء کو حضرت مدنی پر لیگیوں کے حملے کی مذمت کی گئی۔

22؍اکتوبر1945ء کو مولانا آزاد نے مسلمانوں کے نام ایک پیغام میں کہاکہ مسلمان پاکستان کے نام سے فریب نہ کھائیں۔ 

25؍اکتوبر1945ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے لیے دس لاکھ روپے کی اپیل کی گئی۔ 

25؍اکتوبر1945ء کو مسلم لیگ، مسلم پارلیمنٹری بورڈ اور کانگریس کو ووٹ دینے کے تعلق سے چند استفتے کے جوابات دیے گئے ۔ اور ایک اپیل بھی شائع کی گئی۔ 

27؍اکتوبر1945ء کو مولانا مدنی کی گستاخی کے رد عمل کے طور پر مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا نیشنل گارڈ بنانے کا اعلان کیا گیا۔اور مجاہد ملت ؒ نے ایک بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح سے حضرت مدنی پر حملے کی مذمت کرنے کی اپیل کی۔

28؍اکتوبر1945ء کو مشہور سکھ لیڈر ماسٹر مونا سنگھ نے انکشاف کیا کہ مسٹر جناح کو نظام حیدرآباد کی معرفت برطانوی حکومت ہند پاکستان بنانے کے لیے چھ لاکھ روپے سالانہ دیتی ہے۔  

یکم نومبر1945ء کو مرکزی و صوبائی کونسلوں کے مسلم ووٹروں کے نام مکتوب ارسال کرکے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امید واروں کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کی گئی۔  

2؍نومبر1945ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا گیا۔ 

3؍نومبر1945ء کو سید پور، بھاگلپور اور کٹیہار میں ہوئے حادثہ پر مولانا مدنی نے ایک بیان دیتے ہوئے متوسلین کو صبر و تحمل کی تلقین کی۔ اور اسی تاریخ کو ان حملوں کو مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ نے سفلہ خوئی اور کمینہ پن کا بدترین مظاہرہ قرار دیا۔

7؍نومبر1945ء کو گیا کے ایک جلسہ میں لیگیوں نے پتھر بازی کی۔

13؍نومبر1945ء کو مسلم لیگ اور جمعیت کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دیے گئے۔ 

15؍نومبر1945ء کو حضرت مدنی نے حضرت رائے پوری کو ایک خط لکھ کر اپنے حامیوں سے مسلم لیگ کا ساتھ نہ دینے کی اپیل کی۔

15؍ نومبر1945ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈکے امیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں کے دورہ کا پروگرام پیش کیا گیا۔ 

 16؍ نومبر1945ء کوجمعیت کے جلسۂ بریلی میں لیگیوں نے ہنگامہ آرائی کی۔

17؍نومبر1945ء کو نائب صدر جمعیت مولانا احمد سعید صاحب نے اسی سال کے بعد لال قلعہ میں عید کی نمازکی امامت فرمائی۔ 

30؍نومبر1945ء کوامروہہ میں مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا شان دار جلسہ کیا گیا۔

30؍نومبر1945ء کو الیکشن فنڈ کے لیے امدادی ٹکٹ خریدنے کی اپیل کی گئی۔

7؍دسمبر1945ء کو بند کمرے میں ہوئی رازدارانہ کوگفتگوکوکذب و افترا سے ملمع کرکے مکالمۃ الصدرین کے نام شائع کرنے پر کشف حقیقت کے عنوان سے اس کامدلل جواب دیا گیا۔ 

9؍دسمبر1945ء کو پلول گڑگاؤں کے فسادات پر مسلمانوں کی پریشانیوں کی فہرست پیش کی گئی۔   

15؍ دسمبر1945ء کو مدنی فوج کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

واحد نمائندگی کے فریب مولانا احمد سعید صاحب نے زبردست خطاب فرمایا۔

مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے سیاسی ، جغرافیائی اور اقتصادی اعتبار سے پاکستان کا نامعقول اور ملک و ملت کے لیے انتہائی مضر ہونا ثابت کیا۔ 

کشن گنج بہار کے گنیش کالج کے ایک ماسٹر کی نازیبا حرکت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

مظلومین بہار کے متعلق مولانا محمد میاں صاحب نے دورہ کے بعد ایک تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے، متأثرین کے متعلق حکومت کے اعداد وشمار کو چیلنج کیا۔

امسال جمعیت کے لیے انتخاب کا سال تھا، جس میں دوبارہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صاحب کو صدر بنایا گیا۔ 

  مرکزی قانون ساز اسمبلی کے 102 ؍نشستوں میں، مسلمانوں کے لیے کل 30؍ مخصوص نشستوں میں سے سبھی تیس مسلم نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرالی۔ یہ انتخابی نتائج لیگ کے لیے ’’پاکستان‘‘ کے مطالبے کے لیے عوامی حمایت کو ثابت کرنے کے لیے بہت اہم ثابت ہوئے۔  اس کے بعد اگلے سال صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔