27 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھبیسواں سال: 1944ء

 چھبیسواں سال: 1944ء

20؍جنوری1944ء کے ایک مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ کفالت و پرورش کے لیے بنگال قحط زدگان کے لاوارث بچوں کے حصول میں دشواریوں کے پیش نظر ریلیف ورک کا آغاز کیا گیا۔

6؍مارچ 1944ء کو تمام اسلامی جماعتوں سے یہ اپیل کی گئی کہ فلسطین میں داخلۂ یہود سے متعلق قرطاس ابیض کی مدت کے ختم ہونے کے باوجود مزید یہودیوں کو وہاں بسانے کے وعدے کی خلاف ورزی کے خلاف 17؍مارچ 1944ء کو پورے ہندستان میں یوم فلسطین منایا جائے۔ 

حالات حاضرہ پر تبصرہ پر مبنی 19؍مئی 1944ء کو لکھے ایک مکتوب میں مسلم لیگ کے نظریے کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی، جس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے لکھا کہ پاکستان کا لفظ محض ایک دھوکا ہے۔

پنڈت نہرو کے کشمیر میں داخل ہوتے وقت گرفتاری کی خبر پاکر جون 1944ء کی کسی تاریخ میں حکومت کشمیر کو تار بھیج کر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔  

 از17؍ تا 19؍جولائی 1944ء میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں تجاویز تعزیت کے علاوہ حج کے لیے سفری رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ اسی طرح حج نہ ہونے کی وجہ سے حجاز مقدس میں قحط اور گرانی کے حالات پیدا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، غلہ بھیجنے کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ، مولانا احمد سعید صاحبؒ اور مولانا بشیر احمد صاحبؒ پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 

23؍اکتوبر1944ء کو گورنر اور وزیر اعظم بنگال کے نام تار بھیج کر صدر جمعیت علمائے بنگال حضرت مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

26؍اکتوبر1944ء کو ایک بیان کے ذریعہ جمعیت علمائے ہند کے جلسے پر پابندی لگاکر  امتیازی سلوک کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

پھر 8-9؍ نومبر1944ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔ اس میں فلسطین کے متعلق امریکہ کے صدر روز ویلٹ (Franklin D. Roosevelt) اور برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر چرچل (Winston Churchill) کے بیان کی مذمت، مدارس کے نصاب کی اصلاح کے لیے مولانا سید سلیمان صاحب ندویؒ، مولانا محمد شفیع حجۃ اللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ نظامیہ فرنگی محل لکھنؤؒ، مولانا محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپورؒ، مولانا مناظر احسن صاحبؒ صدر شعبۂ دینیات جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، مولانا سعید احمد صاحب ؒرفیق اعلیٰ ندوۃ المصنفین دہلی، ڈاکٹر شہید اللہ صاحب ڈھاکہ، پروفیسر عبد الباری صاحب جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند، مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحبؒ دہلی، حضرت مولانا عبد الحق صاحبؒ مدنی مراد آباد ،مولانا عبد الحلیم صاحب ناظم جمعیت علمائے ہنداورمولانا محمد حفظ الرحمان ؒناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہندپر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ رویت ہلال کے متعلق آلات جدیدہ کے ذریعہ قبول شہادت اور لاوڈاسپیکر میں نماز پڑھانے سے متعلق استفا لینے کا فیصلہ لیا گیا۔پنجاب اور دہلی میں جبریہ تعلیم سے مذہبی تعلیم کو الگ رکھنے کا فیصلہ منسوخ کرنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔ دہلی میں سرکاری عمارتوں اور کوٹھیوں کے احاطے میں آنے والی مساجد کے تحفظ کامطالبہ کیا گیا۔پٹیالہ کے قصبہ کلابت کی مسجد، راجپورہ کی قبرستان، مسجد و روضہ امام چشتی کی بے حرمتی اور انہدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مہاراجہ پٹیالہ ادھی راج سے تحقیقات اورکارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ آبادی اجاڑکر پٹنہ کی توسیعی اسکیم کی مذمت کرتے ہوئے جمعیت علمائے بہار کی تجویز کی تائید کی گئی۔ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒصاحب رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند، مولانا داود غزنویؒ صاحب، مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے سیاسی اسیروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ ساتھ ہی مفتی محمد نعیم صاحب رکن جمعیت علمائے ہند سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے، مولانا منیر الزماں ؒ صاحب صدر جمعیت علمائے بنگال کی نظر بندی پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ ایک تجویزمیں امام مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا حافظ محمد یوسف صاحبؒ اور دیگر حضرات کی وفات پر افسوس اور تعزیت پیش کی گئی۔ 

14؍نومبر1944ء کو جماعتی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: پچیسواں سال: 1943ء

 پچیسواں سال: 1943ء

محمد یاسین جہازی

8؍ اگست 1942ء کو ’’ہندستان چھوڑدو‘‘ تحریک چھیڑتے ہی انگریزوں نے گاندھی جی، کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ اور کانگریس کے دیگر رہ نماوں کے ساتھ اکابرین جمعیت کو بھی گرفتار کرلیا۔ گاندھی جی نے ایام اسیری میں بھی ہندستان کی آزادی کے قابل قبول حل نکالنے کے لیے فروری 1943ء تک خط و کتابت کرتے رہے؛ لیکن وائسرائے ہند لن لتھ گو ٹس سے مس نہ ہوا۔ بالآخر گاندھی جی نے آخری ہتھیار کے طور پر 10؍فروری سے 3؍ مارچ 1943ء تک اکیس روز کا برت رکھا۔ برت کے اختتام کے موقع پرحضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہندنے ایک صلح کانفرنس کی قیادت کی، جس کی وجہ سے آپؒ کو گرفتار کرلیا گیا۔ 

گاندھی جی کے برت پر حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ ایک اہم بیان دیا اور انھیں دنوں منعقد ایک اجلاس میں مولانا احمد صاحب اور مولانا عبدالماجد صاحب کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادی پیش کی گئی۔ 

14؍مئی 1943ء کو خان بہادر اللہ بخش کی مظلومانہ شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

8؍ستمبر1943ء کو جناب نبی بخش خان صاحب ایم ایل اے مرکزی کی جانب سے موصول ایک خط کا جواب دیتے ہوئے ساردا ایکٹ کی حقیقت کا رسالہ بھیجا گیا۔ 

25-26؍ اکتوبر 1943ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں بنگال کے انسانیت سوز قحط پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ یتیم و لاوارث بچوں کی کفالت کا انتظام کیا گیا۔ اہل خیر سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ ابتدائی مصارف کے لیے خزانہ الجمعیۃ سے ایک ہزار پیش کرتے ہوئے ایک وفد کو بنگال بھیج کر جنگی پیمانے پر ریلیف کا کام شروع کیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق دس ہزار سے زائد لاوارث بچوں کی پرورش و کفالت کی گئی۔  


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چوبیسواں سال:1942ء

 چوبیسواں سال:1942ء

محمد یاسین جہازی

ضلع گورکھپور اور اعظم پور کے دو گاؤں میں قربانی کے موقع پر ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی حقیقت کا پتہ لگانے کے لیے 27-28؍جنوری 1942ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا حسین احمد مدنی صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے دورہ کیا اور انگریزوں کی سازش لڑاؤ اور حکومت کرو کو طشت ازبام کیا۔ 

8؍فروری1942ء کو منعقد مجلس استقبالیہ کے اجلاس میں تیرھویں اجلاس عام کے تعلق سے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ 

18-19-20؍مارچ1942ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں کشمیر کے باشندوں کو عام ممبربناکر اجلاس میں شریک کرنے کے فیصلے کے علاوہ اجلاس عام کی تجاویز کے مسودوں کو منظوری دی گئی۔ 

20،21،22؍ مارچ 1942ء کو لاہور میں جمعیت علمائے ہند کا تیرھواں اجلاس عام منعقد ہوا۔ خطبۂ استقبالیہ جناب عبد القادر قصوری صاحبؒ نے اور خطبۂ صدارت صدر اجلاس شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہند نے پیش کیا۔ اس خطبہ میں مسلمانوں کے عہد میں ہندو مسلمانوں میں سیاسی و سماجی تعلقات، ایک دوسرے پر اعتماد، باہمی رواداری کے حوالے سے بابر کی وصیت، حاکم بنارس کے نام اورنگزیب کے خط، کپتان الگزینڈر ہملٹن کے سفرنامے، ٹارنس کی تاریخ، جہاں گیر کے توپ خانوں کے ہندو افسران، مرہٹوںکے توپ خانوں کے مسلم کمانڈر، عہد مغلیہ میں ہندو منصب داروں کی تفصیل، ہندو عہدے داروں پر اورنگزیب کے اعتماد اور عطا و بخشش ، اس دور کے ہندو مسلم کے باہمی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے، اور اب دونوں قوموں میں نفرت و عداوت کو انگریزی حکومت کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا۔

اس اجلاس میں اکیس تجاویز پاس کی گئیں، جن میں حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد علیہ الرحمہ سابق ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، مولانا ابو حامد محمد عبد الحق صاحبؒ سابق صدر جمعیت علمائے آسام، مفتی محمد عنایت اللہ فرنگی محلیؒ، چودھری افضل حق ؒرکن مجلس احرار اور نواب محمد شاہ نواز صاحب نواب ممدوٹ کی وفات پر حسرت و تعزیت کا اظہار کیا گیا۔اس کے علاوہ مسلکی اختلافات میں شدت پسندی اور گالم گلوچ کی مذمت، اسلامی ممالک؛ بالخصوص عراق، ایران، شام اور فلسطین کے تشویش ناک حالات پر اظہار افسوس، آزاد ہندستان کا دستور ایسے وفاق پر تشکیل دینے کا مطالبہ، جس میں مسلمانوں کو مذہبی، تہذیبی اور سیاسی آزادی حاصل ہو، مکمل آزادی کی حمایت نہ کرنے والا اسٹفرڈ کرپس (Stafford Cripps)کے مشن کی مخالفت اور کسی متحدہ فیصلہ پر پہنچنے کے لیے مسلم اداروں سے متفق ہونے کی اپیل، کاظمی ایکٹ 1939ء میں مسلم قاضی کی شرط ختم کرنے کی مذمت اور اس میں ترمیم کرنے کا مطالبہ، ذات برادری کے نام پر رذیل و کمین سمجھنے کی مذمت اور اسلامی اصول پر عمل کرنے کی تلقین، ایک ہی شہر میں بلا ضرورت دو تین جگہ نماز جمعہ نہ پڑھنے کی اپیل، مدارس اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی اورخود جمعیت سے عملی اقدام کرنے کا مطالبہ، دیسی مصنوعات بنانے کی اپیل، کشمیر مہاراجہ بہادر رائے سے مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ، جنگ عظیم دوم میں شرکت کی مخالفت کے لیے سول نافرمانی کے تحت گرفتار سیاسی اسیروں؛ بالخصوص مولانا حبیب الرحمان صاحبؒ لدھیانوی کو رہا کرنے کا مطالبہ، بلوچستان کو آزاد کرنے کا مطالبہ،مجاہد آزادی مولانا فضل الٰہی وزیر آبادیؒ کی جلاوطنی ختم کرنے کی اپیل، قازاغستان کے قازاغ مجاہدین کے حالات پر اظہار تشویش، حجاج کی پریشانیوں کو دور کرنے کا مطالبہ اور آخری تجویز میں اراکین مجلس استقبالیہ، خاص طور پر جمعیت کے انصار اللہ اور دارالعلوم دیوبند کے جمعیۃ الطلبا کا شکریہ ادا کیا گیا۔ 

23؍ مارچ 1942ء کو اجلاس مجلس مرکزیہ میں عہدے داران کا انتخاب کرتے ہوئے، سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ اور مولانا سید محمد داود غزنویؒ صاحب کو نائبین صدر، حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ سیوہاروی کو ناظم عمومی اور فرم حاجی علی خان دہلویؒ کو خازن جمعیت علمائے ہند منتخب کیا گیا۔ 

15؍اپریل1942ء کوخدام خلق کا نظام پیش کیا گیا۔

23؍اپریل1942ء کو حکومت کے مختلف محکموں کو اجلاس عام کی منظور کردہ تجاویز بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

25؍اپریل1942ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا حسین احمد مدنی صاحب گرفتار کرلیے گئے۔

7؍مئی1942ء کو ہفتہ وار بے باک سہارنپور کے لیے طلب کردہ زر ضمانت فراہم کرنے کی اپیل کی گئی۔

17؍مئی1942ء کو مولانا مبارک حسین صاحب کی رحلت پر تعزیت پیش کی گئی۔

2؍جون1942ء کو ایک سرکاری ورکشاپ کے موقع پر مسلمانوں کی نماز جمعہ کی رخصت کو گھٹانے کے خلاف مکتوب لکھ کر سابقہ رخصت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔

8؍جون 1942ء کومسلم مساوات کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند پر کیے گئے اعتراض کا جواب دیا گیا۔ 

6؍ جولائی 1942ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی گرفتاری پرمبارک باد پیش کرتے ہوئے رہائی کی عملی کوشش، قانون انفساخ نکاح یعنی کاظمی ایکٹ میں ترمیم کا مطالبہ، کاظمی ایکٹ میں جمعیت کی طرف سے پیش کردہ ترمیم کو منظوری اور کلکتہ کے مشہور تاجر خان بہادر شیخ محمد جان کی طرف سے جمعیت کو ماہانہ دو سو روپے امداد پیش کرنے پر شکریہ پر مبنی تجاویز پاس کی گئیں۔ 

ماہ جون اور جولائی1942ء کی مختلف تاریخوں میں شیخ الاسلام کی گرفتاری کے خلاف متعدد اجلاس کیے گئے۔

29؍جولائی 1942ء کو دیواس مالوہ میں بھینس اور پاڑے کی قربانی پر بندش لگانے پر حکومت وقت کے خلاف فتویٰ دیتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین قرار دیا گیا۔ 

5؍ اگست 1942ء کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ سابق صدر جمعیت علمائے ہند،حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی صاحبؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی ؒنے،ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام ہندستانیوں کا متفقہ مطالبہ : مکمل آزادی کے مطالبہ کو تسلیم کرے؛ ورنہ ایک فیصلہ کن جنگ کے کے لیے تیار رہے۔ 

8؍ اگست 1942ء کو گاندھی جی کی قیادت میںکانگریس نے ’’ہندستان چھوڑ دو‘‘ (Quit India) تحریک چھیڑتے ہوئے ایک بے تشدد انقلاب کا آغاز کیا۔ اس تحریک میں جہاں کانگریس کے سیکڑوں رہ نماوں کو گرفتار کیا گیا، وہیں جمعیت علمائے ہند نے بھی سرفروشانہ کردار ادا کیا۔

 جمعیت نے 17-18؍ اگست 1942ء کومجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا، جس میں جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کے اعلان پرمبنی تجویز پاس کی اور اس کی بار بار اشاعت کرکے ہندستان کے گو شے گوشے میں پھیلادیا۔ اس تحریک میں جمعیت کی شرکت انگریزوں کے لیے سوہان روح ثابت ہوئی، جس کے رد عمل کے طور پرامام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ صدر آل انڈیا کانگریس و رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہارویؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب ؒ ناظم جمعیت علمائے صوبہ متحدہ آگرہ کے علاوہ سیکڑوں قائدین ملت کوگرفتارکرکے جیلوں میں بند کردیا ،جب کہ مسلم لیگ نے ہندستان چھوڑ دو تحریک کو بغاوت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کہ وہ اس تحریک سے لاتعلق رہیں؛ مگر مسلمانوں نے مسلم لیگ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے، ہندستان آزاد ہونے تک تحریک جاری رکھی۔

24؍اگست1942ء کو میرٹھ میں آٹھ کارکنان جمعیت علمائے ہند کو ایک جلوس نکالنے کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا۔

23؍ ستمبر1942ء کو اسمبلی میں اسیران فرنگ کے متعلق حکام کے ناروا سلوک کے پیش نظر اسمبلی کی بحث کو ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی گئی۔

غالبا اکتوبر1942ء کی کسی تاریخ میں اسلامک نیشنل فیڈرین چین کے نمائندہ مسٹر عثمان کی آمد پر ان کا استقبال کیا گیا اور ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ 

یکم نومبر1942ء کو الٰہ آباد جیل میں مولانا مدنی صاحب کے ساتھ سپرنڈنڈنٹ نے گستاخی کی، جس سے پورے ہندستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی؛ لیکن حضرت نے متعلقہ افسر کو معاف کردیا۔ 

6؍نومبر1942ء کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں حکومت کی طرف سے رکاوٹ ڈالنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

جمعیت علمائے پنجاب کے عارضی انتظام کی تائید کی گئی۔ اور ڈاکٹر خان صاحب کی صاحب زادی کی غیر مسلم سے شادی کرنے کی وجہ سے انھیں فہمائش کی گئی۔ 


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تئیسواں سال: 1941ء

 تئیسواں سال: 1941ء

محمد یاسین جہازی

ایک اجلاس میں خطاب کرنے کی وجہ سے حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند کو ایک ماہ قید محض کی سزا دی گئی، لیکن ضمانت داخل کرنے کی وجہ سے 3؍جنوری 1941ء کو رہائی مل گئی۔

امسال مجلس عاملہ کے چار اجلاس ہوئے۔5-6؍ جنوری 1941ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ، خلع بل کے استفتا کے جوابات کا خلاصہ انگریزی اور اردو زبان میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اورجمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی ابوالمحاسن حضرت مولانا سید محمد سجاد بہاری علیہ الرحمہ کا 18؍ نومبر1940ء کو انتقال ہوگیا تھا، اس لیے  تجویز تعزیت منظور کی گئی۔

 ہندستان کے وائسرائے لارڈ لن لتگھونے جنگ عظیم دوم میں بھارتیوں کی رائے لیے بغیر ہندستان کی جنگ میں شمولیت کا اعلان کردیاتھا، اسی طرح ڈیفینس آف انڈیاایکٹ 1939ء پاس کرتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگادی تھی، جس کے خلاف کانگریس کے دوش بدوش جمعیت علمائے ہند نے انفرادی ستیہ گرہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نظم وضبط قائم رکھنے کے لیے دس نکاتی اعلان بھی جاری کیا۔ یہ تحریک دوسرے مرحلے کے طور پر جنوری 1941ء میں شروع ہوئی اور دسمبر 1941ء میں اختتام پذیر ہوئی۔

آواخر جنوری 1941ء میں حضرت شیخ الاسلام کی صدارت میں بمقام ملتان عظیم الشان اتحاد کانفرنس کی گئی۔

20،21؍ اپریل 1941ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میںریاست محمود آباد میں مسلمانوں پر شیعوں کے مظالم کا جائزہ لینے کے لیے مولوی محمد احمد کاظمی اور ڈاکٹر عبد العلی لکھنوی پر مشتمل دو رکنی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اور انھیں رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس میٹنگ کی دوسری تجویز میں سندھ میں علمائے کرام کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا۔ 

یوپی کے حکام کی طرف سے لکھنو کے شیعہ حضرات کو جلوس کی اجازت دے کر طرف داری پر تنبیہہ کرتے ہوئے 22؍اپریل1941ء کو یوپی گورنر کو تار بھیجا گیا۔اسی طرح اسی تاریخ کو نظام الملک خسرو دکن کی والدہ محترمہ کے انتقال پرملال پر تعزیتی تار روانہ کیا گیا۔

8؍مئی 1941ء کو جمہوری حکومت میں مخلوط انتخاب پر غور و خوض کرنے کے لیے ’’مسلمانوں کے افلاس کا علاج اور مسئلۂ انتخاب‘‘ نامی رسالے کو مطالعہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

محمودآباد میں شیعی مظالم کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجنے کے تعلق سے 29؍مئی 1941ء کو ارسال کردہ مکتوب کا 4؍جون 1941ء کو جواب دیتے ہوئے سیتاپور سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ کسی قسم کی تحقیقات کرنا مناسب نہیں ہے۔  

11؍جون1941ء کو جمعیت علما نے وفد محمودآباد میں دوبارہ وفد بھیجنے کی بات کہی، تاکہ سچائی اجاگر ہوسکے۔

25؍ جون 1941ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس میں ریاست محمود آباد کی رپورٹ اوربنگال وقف ایکٹ کی رپورٹ پر بحث و گفتگو کے علاوہ ریاست الور میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی تحقیقات کرانے اور جنگ یورپ سے متعلق ہدایات جاری کی گئیں۔ اسی طرح قضیۂ مدح صحابہ کے متعلق ایک بیان شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

26؍جون 1941ء کو کولائی الور (راجستھان) کے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف تار بھیج کر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

4؍جولائی1941ء کو محمود آباد میں شیعہ کے مظالم کی تحقیقات کے لیے گئے وفد پر محمود آباد میں داخلہ پر پابندی، اور سبھی ممبران جمعیت علمائے ہند پر دفعہ 144 لگانے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ 

27-28؍جولائی1941ء میں جیور ضلع بلند شہر یوپی میں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کے لیے ایک وفد بھیجا گیا، جس نے دورہ کرکے سچائی پر مبنی رپورٹ پیش کی۔ 

28؍ستمبر1941ء کو ایک سوال کے جواب میں کانگریس میںشرکت کوضروری قرار دیاگیا۔

کشمیر سری نگر میں واقع خپلو میں سنی مسلمانوں پر شیعہ مظالم کے پیش نظر مہاراجہ کشمیر کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

سنڈے نیوز آف امریکہ کی 27؍اپریل1941ء کی ایک اشاعت میںتوہین رسالت کا مضمون شائع کیا گیا، جس کے خلاف سر عبدالرحیم غزنوی نے ہندپارلیمنٹ میں تحریک التوا پیش کی۔ جمعیت علمائے ہند نے 6؍نومبر1941ء کو سر غزنوی کی مکمل تائید کی۔  

 13،14؍ نومبر1941ء کومجلس عاملہ کی میٹنگ میں آزاد ہندستان میں نظام حکومت کی تشکیل ،ممالک اسلامیہ کے خطر ناک پوز یشن، مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق اور یک جہتی پیدا کرنے کے ذرائع، سیاسی جماعتوں میں اپنے مخصوص اور معین مسلک پر قائم رہتے ہوئے رواداری اور متانت و تہذیب کی اہمیت، دیہاتی اور دیسی صنعتوں کی مزید ترقی جیسے متعدد امور پر غور و خوض کیا گیا ۔ 

متعدد وجوہات کی وجہ سے جمعیت علمائے ہند کا تیرھواں سالانہ اجلاس ملتوی ہوتا رہا، جو بالآخر 20-21-22؍مارچ 1942ء کو لاہور میں منعقد ہوا۔ 


26 Jan 2026

میثاق لکھنو 1916ء پر تنقید و تبصرہ کی ایک نظر

 میثاق لکھنو 1916ء پر تنقید و تبصرہ کی ایک نظر

حضرت العلامہ مولانا و مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند

1916ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک سمجھوتا ہوا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی ایک ہی سیاسی جماعت تھی۔ مسلمانوں میں سیاسی بیداری بھی نہ تھی۔ حکومت خود اختیاری کا بہت زیادہ امکان بھی نہ تھا۔ اس لیے اس وقت اس پیکٹ کے متعلق نہ کچھ زیادہ چر چا تھا اور نہ کسی قسم کے جھگڑے تھے؛ لیکن شاید یہ سن کر آپ کو تعجب ہو گا کہ اس وقت با وجود یکہ علما نے میدان سیاست میں قدم بھی نہ رکھا تھا، نہ جمعیت علما کا وجود تھا، نہ ان کا کوئی سیاسی پلیٹ فارم تھا؛ مگر جوں ہی کانگریس اور مسلم لیگ کا سمجھوتا شایع ہوا، فورا علمائے کرام کی تمام جماعت میں سے صرف ایک ہی شخص اٹھا تھا اور اس نے مسلم لیگ کے سمجھوتے میں وہی خامیاں بیان کی تھیں، جن کی بنا پر آج تمام ہندستان کے مسلمان اس سمجھوتے کو ناپسند اور نا قابل قبول سمجھتے ہیں۔ وہ دور بین اور غائر النظر اور ہمدرد اسلام و مسلمین ہستی حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی ہے۔ حضرت محترم نے اس وقت ایک اعلان بعنوان ’’مسلمانوں کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت‘‘ شایع کیا اور مسلمانوں کو حکومت خود اختیاری کے حصول میں کوشش کرنے کی تاکید کے ساتھ ہی مسلم لیگ کانگریس کے سمجھوتے کی خامیاں بیان کی تھیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم حضرت موصوف کا وہ اعلان تمام و کمال یہاں پر نقل کر دیں، تا کہ آپ یہ اندازہ کرسکیں کہ جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر کے کسی وقت سے تحصیل آزادی کے جذبہ بے پناہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا خیال پیش نظر ہے۔

 (مولانا) احمد سید دہلوی

وہ اعلان یہ ہے:

مسلمانوں کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت

صاحب وزیر ہند کی ہندستان میں تشریف آوری کی تقریب میں تمام اقوام ہند میں سیاسی تحریک موجزن ہے۔ تمام چھوٹی بڑی قومیں اپنی آئندہ بہبودی کے متعلق غور و فکر کر رہی ہیں۔ اس وقت ہر شخص کا فرض ہے کہ جس چیز کو قوم کے لیے مفید سمجھے، بغیر کسی پس و پیش کے ظاہر کر دے، اس لیے خاکسار اپنے خیالات کو مسلم پبلک کے سامنے پیش کر کے اپنے فرض سے سبک دوش ہوتا ہے۔

ا۔ کوئی قوم حقیقی ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کے افراد میں اپنے اوپر خود حکومت کرنے کی استعداد نہ پیدا ہو جائے اور حقیقی آزادی اور حقیقی ترقی بغیر حکومت خود اختیاری کے حاصل نہیں ہو سکتی۔

۲۔ آزادی کی خواہش انسان کی طبعی اور جبلی خواہش ہے، اس لیے کوئی فرد بشر بجا طور پر حکومت خود اختیاری کی مخالفت نہیں کر سکتا۔

۳۔ دنیا کی متمدن اور مہذب قو میں ہمیشہ انسانی آزادی اور ترقی میں مساعی رہتی ہیں۔ برطانی گورنمنٹ کی رعایا کے مختلف طبقے بھی ہمیشہ اس کے آرزو مند رہے کہ گورنمنٹ ان کو حکومت خود اختیاری عطا فرمائے اور برطانی گورنمنٹ نے اپنی رعایا کے کئی طبقوں کی یہ آرزو پوری بھی کر دی۔

۴۔ اس وقت کہ گورنمنٹ نے فراخ دلی سے ہوم رول دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، یا اس کی امید کی جاتی ہے اور صاحب وزیر ہند بہادر اسی کے متعلق ہندستانیوں کے خیالات معلوم کرنے تشریف لا رہے ہیں۔ اگر ہندستان کی قومیں ہوم رول کی خواہش کریں اور آزادی کی نعمت حاصل کرنے کی کوشش کریں، تو ان کی یہ خواہش اور کوشش یقینا حق بجانب ہوگی۔

۵۔ ہندستان کی آبادی مختلف العقائد اور متباین الخیالات اقوام سے مرکب ہے اور ایک قوم کے مذہبی اغراض دوسری قوم کے مذہبی اغراض سے متصادم ہیں، اور اس بنا پر یہاں ہمیشہ جھگڑے اور فساد ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہوم رول کی خواہش کرنے سے پہلے مذہبی تصادم اور تمام اقوام کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت کا پورے طور پر خیال کر لیا جائے۔

یہ باتیں تو ایسی ہیں، جن کا تعلق کسی خاص قوم سے نہیں تمام اقوام اس حد تک متساوی الاقسام ہیں۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے ،ان وجوہ ستہ کی معقولیت میں کسی کو بھی کلام نہ ہوگا۔ اس کے بعد خاکسار خاص اسلامی طبقے کے متعلق عرض کرتا ہے۔

مسلم پبلک کا اولین فرض ہے کہ وہ سیاسی ترقی کی رفتار میں مذہبی آزادی کی حفاظت کو سب سے زیادہ اہم اور مقدم سمجھے۔ اور’’پہلے ہم مسلمان ہیں، پھر ہندی، یا عربی، ایرانی ،یا چینی وغیرہ‘‘ کے اصول کو لازم سمجھیں، کیوں کہ مسلمانوں کی متحدہ قومیت کا شیرازہ صرف مذہب اور اسلام سے ہی بندھا ہوا ہے۔

اس وقت مسلمانوں کی اصولی تقسیم کے لحاظ سے دو گروہ ہیں:

ا۔ ہوم رول کے طالب۔

۲۔ ہوم رول کے مخالف۔

دوسرے گروہ میں پھر دو قسم کے لوگ ہیں: اول وہ لوگ، جن کو ہوم رول کے معنی اور مفہوم کی خبر نہیں (اور انھیں کی تعداد زیادہ ہے)۔ دوسرے وہ جو کسی خارجی اثر سے متاثر ہو کر اپنے ذاتی اغراض کی خاطر قومی اغراض اور انسانی فطری خواہش کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں فریق کی متفقہ آواز یہ ہے کہ ہمیں ہوم رول کی ضرورت نہیں، ہم گورنمنٹ انگریزی کی حکومت سے خوش ہیں۔ مسلمان ابھی ہوم رول کے لائق نہیں ہوئے۔

لیکن چوں کہ ان کی مخالفت نا واقفیت، یا ذاتی غرض پر مبنی ہے، اس لیے وہ کسی درجہ میں لائق اعتبار نہیں اور نہ مسلمانوں کو ان کی آواز پر کان لگانا چاہیے اور نہ ان کی آواز قومی آواز سمجھی جاسکتی ہے۔ہوم رول کے طالب گروہ میں تمام سمجھ دار، ذی علم، متمدن، مہذب افراد شامل ہیں، مگر اس میں بھی دو فریق ہوگئے۔ فریق اول مسلم لیگ کے ارکان اور اس کے حامی فریق دوم جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا ایک معتد بہ حصہ اور تقریباً تمام مذہبی طبقہ اور عامۂ مسلمین کا ایک جم غفیر۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ دونوں ہوم رول کے مطالبہ میں شریک اور اصل مقصد میں متفق ہیں۔ پھر وجہ اختلاف کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فریق اول یعنی مسلم لیگ نے ہوم رول کے مطالبہ کا یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے۔

ا۔ کانگریس کے ساتھ اتفاق کر لیا اور لیگ اور کانگریس نے متفقہ اسکیم تیار کی۔

۲۔ اس اسکیم میںمسلمانوں کو جو حق نیابت دیا گیا ہے، اس کے لحاظ سے کسی صوبے کی کونسل میں دس فی صدی، کسی میں پندرہ فی صدی کسی میں بیس فی صدی کسی میں تیں فی صدی مسلمان ممبر ہوںگے، صرف صوبہ پنجاب میں پچاس فی صدی مسلمان ہوںگے، یعنی ہندستان کے کسی صوبے میں ان کو اکثریت حاصل نہ ہوگی۔

۳۔ کم تعداد والی قوموں (جن میں سوائے پنجاب کے تمام ہندستان کے مسلمان داخل ہیں) کے قومی اغراض کی حفاظت اس طرح کی گئی کہ ایک قاعدہ مقرر کر دیا گیا کہ کوئی ایسا ریزولیوشن جو کسی غیر سرکاری ممبر نے پیش کیا ہو اور کسی قوم کے اغراض پر اس کا اثر پہنچتا ہو۔ اگر اسی قوم کے نمائندوں کی تین چوتھائی  تعداد اس ریزولیوشن کی مخالفت کر دے، تو وہ ریزولیوشن پاس نہ ہو سکے گا۔

اس قرارداد پر لیگ اور کانگریس کے ممبروں نے سمجھوتا کر لیا ہے اور ارکان لیگ کا خیال ہے کہ یہ سمجھوتا مسلمانوں کے لیے مضر نہیں ہے اور اس میں مسلم پبلک کی قومی اغراض کو کوئی صدمہ نہیںپہنچے گا۔ نیز بعض حامیان لیگ سے یہ بھی سناگیا کہ گورنمنٹ ہوم رول ضرور دے گی۔ اس کی بنیاد پڑچکی ہے، تو اگر ہم اس سمجھوتا کے موافق ہوم رول لینے پر آمادہ نہ ہو جاتے، تو اندیشہ تھا کہ گورنمنٹ ہوم رول دے دیتی اور پھر برادران وطن ہمیں اتنا حصہ بھی نہ دیتے، جتنا کہ اس سمجھوتا میں انھوں نے منظور کر لیا ہے۔

فریق دوم کے خیالات

فریق دوم کہتا ہے کہ مطالبہ ہوم رول ضروری اور ہمارا بھی مقصد ا ہم یہی ہے اور ہم کو ارکان مسلم لیگ کی نیت پر بھی حملہ کرنا مقصود نہیں۔ انھوں نے جو کچھ کیا، مسلمانوں کی خیر خواہی کی نیت سے ہی کیا؛ لیکن ان کے فیصلے کے متعلق ہمیں حسب ذیل شکایتیںہیں:

ا۔ مسلم لیگ نے یہ فیصلہ کرتے وقت عام مسلم رائے حاصل نہیں کی۔ مسلمانوں کی قومی اور مذہبی انجمنوں سے کوئی استصواب نہیں کیا گیا اور اگر چہ ہمیں ان کی نیت پر بدگمانی نہیں؛ تاہم سات آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں وہ معصوم بھی نہیں ہیں اور اپنی اس استبدادی کارروائی کے جواب دہ ہیں۔

۲۔ اس سمجھوتے میں مسلمانوں کے قومی اغراض کو صدمہ پہنچنے گا، نہ صرف گمان؛ بلکہ ظن غالب ہے؛ کیوں کہ مسلمانوں کو اس صورت میں کثرت رائے حاصل ہونا ناممکن ہے۔

۳۔ یہ قاعدہ کہ غیر سرکاری ممبر کے پیش کیے ہوئے ریزولیوشن کی اگر کسی قوم کیتین چوتھائی ممبر مخالفت کریں، تو وہ پاس نہ کیا جائے، پرسنل لاء کی حفاظت کے لیے چنداں مفید نہیں؛کیوں کہ سرکاری غیر مسلم ممبروں کے ان ریزولیوشنوں کی جو مسلمانوں کے اغراض قومی کے مخالف ہوں، اس قاعدے سے کوئی روک نہیں ہوئی۔ وہ برابر کثرت رائے سے پاس ہوتے رہیںگے اور غیر سرکاری ممبر اپنے ریزولیوشن کا مقصد سرکاری ممبروں کو سمجھا کر ان کے ذریعے سے پیش کر اسکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس قاعدے کا اثر زیادہ سے زیادہ ان تجاویز پر پڑ سکتا ہے، جو غیر مسلم غیر سرکاری ممبروں کی طرف سے پیش کی جائیں؛ لیکن مسلمان ممبروں کے واسطے اپنی اغراض کے لیے مفید تجاویز پاس کرانے کا کوئی راستہ نہیں۔ بخلاف غیر مسلم ممبروں کے کہ وہ اپنی اغراض کے لیے مفید تجاویز جس قدر چاہیں، کثرت رائے سے پاس کر سکتے ہیں۔

۴۔ پنجاب میں پچاس فی صدی مسلم نیابت اس اصول کے موافق بھی صحیح نہیں؛ کیوں کہ پنجاب میں مسلم آبادی کا اوسط اس سے زیادہ ہے۔

۵۔ ہند و تعداد مردم شماری میں تمام ان قوموں کو محسوب کر لیاگیا ہے، جو ہندو دھرم کے معتقد نہیں؛ بلکہ اس کے مخالف ہیں اور یہ اصولا خلاف انصاف ہے۔

۶۔ مسلم لیگ اور کانگریس نے جو سمجھوتا کیا ہے، اس کی پختگی کی طرف سے بھی تقدم کا کوئی اطمینان نہیں کیا گیا۔

۷۔ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے تحفظ کا خیال نہیں رکھا گیا۔

یہ خیال کہ گورنمنٹ ہوم رول ضرور دیتی اور ہم یہ سمجھوتا نہ کرتے، تو اس سے زیادہ نقصان میں رہنے کا اندیشہ تھا، صحیح نہیں؛کیوں کہ ہندستان کو ہوم رول دینے کے نہ یہ معنی ہیں کہ ہندوؤں کو ہوم رول دے دیا جائے۔ اور نہ گورنمنٹ کے ہوم رول دینے کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ مسلم قومیت اور مسلم حقوق کو پامال کر کے ایک قوم کو حکمراں بنا دیتی۔ اگر مسلمان استقلال اور خودداری اور وقار سے اپنے حقوق کا مطالبہ آئینی طریقے سے کرتے، تو کوئی وجہ نہیں کہ گورنمنٹ اسے نظر انداز کر دیتی۔

اس کے بعد عرض ہے کہ اگر چہ اب وقت نہیں رہا کہ وزیر ہند کی خدمت میں کوئی ایڈریس یا وفد پیش کرنے کی درخواست کی جائے؛ لیکن جن ایڈریسوں اور وفدوں کی اجازت لی جا چکی ہے، ان کے اصحاب و ارکان کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے مجمل ایڈریسوں کی تفصیل میں اس تجویز کے مضمون کو بھی شامل کر لیں، جو ذیل میں درج ہے اور اب سے بہت پہلے شائع کی جا چکی ہے۔

مسلمانوں کی شدید ترین مذہبی ضرورت

اسلامی عقائد کے بموجب بہت سے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے قاضی، یا حاکم کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ مثلاً ایک عورت کا نا بالغی کی حالت میں باپ دادا کے سوا کسی اور ولی نے نکاح کر دیا۔ نکاح تو صحیح ہو گیا؛ لیکن عورت کو بلوغ کے وقت یہ اختیار ہوتا ہے کہ اس نکاح کو پسند کر کے باقی رکھے، یا نا راضی ظاہر کر کے فسخ کر دے؛ مگر اسلامی احکام کی رو سے عورت خود نکاح کو فتح نہیں کر سکتی؛ بلکہ ضروری ہے کہ مسلمان قاضی سے مسخ کرائے۔

 اسی طرح کسی عورت کا خاوند چار پانچ سال سے مفقود الخبر ہو گیا ہے اور عورت کے لیے گزارے کی کوئی صورت نہیں، یا اس کے جوان ہونے کی وجہ سے اس کی عصمت محل خطر میں ہے۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ مسلمان قاضی سے خاوند کی موت کا حکم حاصل کیا جائے اور عورت عدت وفات پوری کر کے دوسرا نکاح کرلے۔

اسی طرح عبادات و معاملات؛ بالخصوص نکاح، طلاق، میراث، وقف، شفعہ و غیرہ کے ہزاروں مقدمات ایسے ہوتے ہیں، جن میں مسلمان حاکم کے فیصلے اور حکم کی ضرورت ہے ،غیر مسلم حاکم کا حکم، یا فیصلہ شرعی نقطۂ نظر اور اسلامی عقائد کے بموجب کافی نہیں۔

گورنمنٹ انگلشیہ کے شاہی اعلان 1858ء کے بموجب اگرچہ رعایا کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور قوانین گور نمنٹ احکام مذہبیہ کے موافق فیصلے کرنے کے مدعی ہیں؛ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ناقابل انکار حقیقت بھی ہمارے پیش نظر ہے کہ گورنمنٹ کی عدالتوں میں مسلم و غیر مسلم دونوں قسم کے حاکم مسند آراے سر پر حکومت ہوتے ہیں؛ بلکہ اعلیٰ عدالتوں میں غیر مسلم عنصر ہی غالب ہے۔ بہت سے شہر اور قصبے ایسے ہیں، جہاں ایک بھی منصف ،یا جج مسلمان نہیں۔

اس لحاظ سے گورنمنٹ کا اعلان مذکور اور موجودہ قوانین ان مقدمات کے متعلق- جن میں حاکم کا مسلمان ہونا شرط ہے- بالکل غیرمفید اور ناکافی ہیں اور مسلمانوں کی اس شدید ترین مذہبی ضرورت کے پورے ہونے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔

ہندستان میں بلامبالغہ ہزاروں عورتیں ایسی ہوں گی، جو اپنے خیار بلوغ کو اس وجہ سے استعمال نہیں کر سکتیں کہ مسلمان حاکم میسر نہیں اور اگر نا واقفیت کی وجہ سے غیر مسلم حاکم سے فسخ نکاح کا حکم حاصل کر کے دوسرا نکاح کر لیتی ہیں، تو وہ اسلامی عقائدکے بموجب گناہ گار اور مرتکب حرام ہوتی ہیں۔

ہزاروں عورتیں جن کے خاوند مفقود ہیں، مسلم عدالت نہ ہونے کے باعث عذاب میں مبتلا ہیں۔ زندگی بے کار ہے۔ رات دن مصیبت جھیلتی ہیں اور اسی طرح بہت سے دینی اور قومی اغراض اسلامی عدالت نہ ہونے کی وجہ سے ملیا میٹ ہو رہے ہیں۔

 مجوزہ درخواست یہ ہے:

 گورنمنٹ مسلمانوں کے خالص مذہبی معاملات اور ان مقدمات کے فیصلے کے لیے -جن میں مسلمان قاضی شرط ہے- ہر ضلع میں ایک شرعی عدالت قائم کر دے اور اس میں ایک مسلمان قاضی (جو علوم شرعیہ کا عالم اور متدین ہو) مقرر کرے اور اس کو ان مقدمات کے متعلق ڈسٹرکٹ حج کے برابر اختیارات عطا کیے جاویں اور ہر صوبے میں ان ماتحت عدالتوں کے احکام کے خلاف اپیل کرنے کے لیے ایک بڑی عدالت قائم کی جائے۔

یہ درخواست کا مجمل خاکہ ہے۔ اس کی اجمالی عام منظوری کے بعد ان احکام کی تعیین -جوان شرعی عدالتوں میں طے ہونے ضروری، یا مناسب ہیں- علمائے ہندستان کی ایک منتخبہ جماعت کر دے گی اور اس کے دیگر مراحل پر بھی مفصل بحث کی جاسکے گی۔

کتبہ محمد کفایت اللہ غفر لہ

مدرس اول مدرسہ امینیہ۔ دہلی 1917ء

حاشیہ:

(۱) ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد: 6,66,47,299

(۲)بنگال میں مسلمانوں کی تعداد:2,39,89,719

(۳)پنجاب میں مسلمانوں کی تعداد: 1,09,55,721+


ہندستان کی شرعی حیثیت

ہندستان کی شرعی حیثیت

مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی

سوال: کیا ہندستان دارالحرب ہے؟

  اگر نہیں ہے ،تو شرعی طور پر کسی قسم کے دار میں آتا ہے؟

  سنا ہے بعض علما آزاد ہندستان کو دارالامن کہتے ہیں، کیا دارالامن کے نام سے موسوم دار کا ثبوت کتب حدیث وفقہ میں ہے ؟

اگر آزاد ہندستان کو دارالامن ہی کہا جائے، تو کیا دار الامن میں دارالحرب جیسے معاملات جائز ہیں؟

الجواب: مندرجہ ذیل نمبر ملاحظہ فرمائیے:

۱۔ دار الحرب لفظی معنی کے لحاظ سے تو ایسے ملک کو کہنا چاہیے، جو بر سر جنگ ہو، جس سے کوئی معاہدہ نہ ہو، جہاں مسلمان کے لیے امن اور تحفظ نہ ہو۔

لیکن حضرات فقہا -جن کے پیش نظر احکام اسلام کا اجرا اور نفاذ ہوتا ہے- وہ اسی نقطۂ نظر سے دار (ملک) کی تقسیم کرتے ہیں اور صرف دو دار (دو قسم کے ممالک) تسلیم کرتے ہیںـ:۱۔دار الاسلام۔۲۔ دار الحرب۔ 

۲۔ دار الاسلام - وہ ملک جہاں حکومت کا مذہب اسلام ہوار مسلمانوں کو کلی طور پر اقتدار اعلیٰ حاصل ہو۔ وہ اپنی آزادانہ رائے سے جو قانون چاہیں، بنائیں اور جس قانون کو چاہیں، منسوخ کر دیں، وہ دارالاسلام ہے۔ 

الف: اس دار کے مسلمانوں پر فرض ہوتا ہے کہ وہ احکام اسلام جاری کریں اور شریعت غرا کے مطابق قانون بنائیں۔ اس کے خلاف قانون بنائیں گے، تو گنہگار ہوںگے:

  ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الظالمون ومن لم یحکم بما انزل اللہ فأولئک ہم الفاسقون۔(سورہ مائدہ آیات:45-46-47)

ب: وہ ایسی طاقت فراہم کریں، جو حریف طاقتوں کو اسی طرح متاثر اور مرعوب رکھے، جیسے سرد جنگ میں ایک حریف دوسرے کو خوف زدہ رکھتا ہے:

واعد والہم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ترہبون بہ عدواللہ وعدوکم وآخرین من دونہم لا تعلمونہم اللہ یعلمہم (سورۃ انفال: آیت:60 )

ج: وہ دفاعی حیثیت میں نہ آئیں؛بلکہ ان کی اقدامی صلاحیت ایسی ہو کہ ہمسایہ ممالک اس کو محسوس کرتے رہیں اور اس کا لوہا مانتے رہیں:

یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجد وفیکم غلظۃ ۔ الآیۃ (سورہ توبہ آیت: 123)

د: وہ ان کمزور مسلمانوں کی بھی امداد کریں، جو کسی دوسرے ملک میں محض مسلمان ہونے کی بنا پر ظلم وستم کا تختۂ مشق بنے ہوئے ہوں اور ضرورت ہو، تو ان کو نجات دلانے کے لیے فوجی طاقت بھی استعمال کر سکیں:

وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ تا نصیرا - (سورہ النساء آیت:75)

۳۔ ایسا ملک جہاں مسلمانوں کو کلی اقتدار حاصل نہ ہو، مثلاً امور خارجہ اور بین الاقوامی تعلقات میں وہ خود مختار نہ ہوں، فوجی اختیارات ان کو حاصل نہ ہوں، جرم و سزا کے قانون بنانے میں بھی وہ آزادنہ ہوں؛ البتہ سماجی اور عائلی معاملات میں وہ خود مختار ہوں، ان کا پرسنل لاء محفوظ اور کار فرما ہو؛ فقہائے اسلام اس کو بھی دارالاسلام کہتے ہیں ،وہاں اقتدار اور اختیار کی حد تک احکام اسلام جاری کر نے لازم ہوں گے۔

کل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار یجوز منہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج وتقلید القضاۃ وتزویج الایامی۔(رد المحتار، ص؍275، ج؍ سوم)

یعنی جمعہ اور عیدین کا نظام قائم کرنے، خراج وصول کرنے، قاضیوں کے مقرر کرنے اور لاوارث غیر منکوحہ عورتوں کے نکاح کرنے کا اصل حق تو امام عامہ کو ہے؛ لیکن اگر کوئی شہر (علاقہ) امام عامہ کے بجائے غیر مسلم اقتدار اعلیٰ کے تحت ہے اور اس اقتدار اعلی کی طرف سے اس کا مسلمان سربراہ (والی) مقرر ہے، اس کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ ان فرائض کو انجام دے، ایسا ملک بھی حکما دار الاسلام ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے انگریزی دور حکومت میں حیدر آباد، بھوپال جیسی ریاستیں جو اپنے داخلی معاملات میں خود مختار تھیں؛ یہی حیثیت رکھتی تھیں۔

۴۔ وہ مملکت جہاں مسلمانوں کو یہ اقتدار حاصل نہ ہو، خواہ مسلمان وہاں ہر طرح امن واطمینان سے رہتے ہوں، وہاں کے سیاسی اور غیر سیاسی کاموں میں حصہ لیتے ہوں، اس کو اپنا وطن سمجھتے ہوں اور باشندہ ملک کی حیثیت سے اس کی حفاظت اور ترقی کو بھی اپنا فرض سمجھتے ہوں، اس کے لیے ایثار اور قربانی بھی کردیتے ہوں؛ مسلمان کی حیثیت سے، یا مسلمانوں کی اجتماعی طاقت کی بنا پر نہیں؛ بلکہ ایک شہری کی حیثیت سے وہ اقتدار اعلیٰ میں حصہ لے سکتے ہوں، مثلا وہ رئیس جمہوریہ اور وزیر اعظم بن سکتے ہوں؛ مگر احکام اسلام جاری نہ کر سکتے ہوں، جرم و سزا اور اقتصادی مسائل، کرنسی اور شرح تبادلہ وغیرہ کے سلسلہ میں احکام اسلام کو قانون نہ بنا سکتے ہوں، جب کہ ان میں اس ملک کے قوانین کے پابند ہوں، تو وہ دارالاسلام نہیں ہے۔

حضرات فقہائے کرام کی تقسیم کے مطابق (کہ یہاں احکام اسلام جاری نہیں ہیں، یعنی قانون اسلامی قانون نہیں ہے) یہ ملک دارالحرب ہوگا؛ لیکن ایک پر امن اور با حفاظت ملک کے لیے اس لفظ کو غیرمانوس سمجھا جاتا ہے، تو اس کو دارالا من کہہ دیا جاتا ہے۔

۵۔ دارالامن ہو گا، تو یہاں مسلمانوں کی حیثیت مستامن کی ہوگی۔ یعنی ان کو خود اپنی اجتماعی قوت کی بنا پر امن حاصل نہیں ہے؛ بلکہ حکومت کے قانون کی بنا پر وہ حقوق حاصل ہیں، جو باشندہ ملک کو حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایسے ملک میں اگرچہ قانونی طور پر مسلمانوں کو بحیثیت مسلمان کوئی اقتدار، یا قانون سازی کاکوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا؛ مگر مسلمانوں پر فرض ہوتا ہے کہ وہ ایک نظام بنائیں اور اس کے تحت جمعہ اور عیدین کا انتظام کریں۔

واما بلاد علیہا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ووجب علیہم طلب وال مسلم - (رد المحتار قبیل باب العشرۃ والخراج)

ایسے شہروں میں جہاں غیر مسلم حکام ہوں، مسلمانوں کے لیے جمعہ اور عیدین کا قائم کرنا جائز ہے اور جس کو وہ اپنی مرضی سے قاضی بنا دیں، وہ قاضی ہو جائے گا۔ اور مسلمان والی کے لیے جد و جہد کرنا ان پر لازم ہوگا۔

۶۔ اگر مسلمانوں کا ایسا نظام بھی نہ ہو، تو نماز جمعہ وقف انتشار نہیں ہوگی؛ بلکہ یہ فریضہ تمام مسلمانوں پر عائد ہو گا کہ وہ جمعہ کا امام بنائیں اور جمعہ وعیدین کی نمازیں شہروں میں حسب شرائط ادا کریں۔

یقیمہا امیرالبلد ثم الشرطی ثم من ولاۃ قاضی القضاۃ ونصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر۔ا ما مع عد مہم فیجوز للضروۃ (رد المحتار، ج؍اولص؍754)

نماز جمعہ امیرالبلد (والی یا گورنر قائم کرائے گا۔ وہ نہ ہو، تو شر طی، یعنی وہ افسر جس کو سلطان نے اسی قسم کے تقررات کے لیے مقرر کیا ہے۔ مثلاً صدرالصدور، یا امیر الامراء وغیرہ۔ عام مسلمان اگر خطیب اور امام جمعہ مقرر کرلیں، تو وہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ جب کہ ان عہدہ داروں میں سے کوئی عہدہ دار موجود ہو۔ اور اگر کوئی عہدہ دار بھی نہ ہو، تو ضرور تا تمام مسلمانوں کے انتخاب کو منظور کر لیا جائے گا۔ اور اس کو امام قرار دیا جائے گا جس کو مسلمان امام قرار دے لیں۔

۷۔ جہاں تک احقر کی واقفیت ہے ،دارالا من جدید اصطلاح ہے۔ قرآن اور حدیث تو کیا فقہائے متقدمین کی تصانیف میں بھی یہ اصطلاح رائج نہیں ہے؛ لیکن اس کا تصور ضرور موجودہے؛ کیوںکہ غیر اسلامی مملکت میں جہاں اقتدار اعلی مسلمانوں کو حاصل نہ ہو، مسلمانوں کے لیے بود و باش اور کاروبار کوحرام نہیں قرار دیا گیا؛ بلکہ وہ مسلمان جودشمنوں میں رہتا تھا اور کسی مسلمان کے ہاتھ سے خطاء اً قتل ہو گیا، اس کے متعلق سورہ نسا، آیت:91-92 میں احکام مذکور ہیں۔

اسی طرح سورہ انفال کے آخری رکوع میں اُن نو مسلموں کے متعلق احکام ہیں، جو اپنے وطن میں مسلمان ہو گئے اور ہجرت کر کے دارالاسلام میں نہ آئے۔ اسی طرح کے اور احکام جو دوسری آیتوں سے مترشح ہوتے ہیں، اُن سے اُن کا جواز ثابت ہوتا ہے اور یہی جواز تھا، جس کی بنا پر حضرات صحابہ اپنے دور میں اور ان کے بعد حضرات تابعین اور ان کے اتباع غیر اسلامی ممالک میں پہنچے، وہاں قیام کیا۔ ان کی زندگیاں اسلامی تھیں۔ ان کے اقوال و اعمال میں صداقت تھی۔ وہ کاروبار میں نہایت دیانت دار، خلق خدا کے بہی خواہ، اور جو اُن سے خرید و فروخت کرتا، اس کے بھی خیر خواہ اور صحیح معنی میں الصدوق اور الا مین ہوتے تھے۔ اُن کی اس شان نے ان ممالک کے عوام کے دلوں کو اسلام کا گرویدہ بنایا۔ ایشیا، افریقہ کے بہت سے ممالک جن میں مسلمانوں کی غیر معمولی اکثریت ہے؛ بلکہ وہ مسلمانوں کے ملک کہلاتے ہیں، ان میں اسلام ان ہی حضرات کے قیام کی بدولت پھیلا۔ علاوہ ازیں جس طرح ان غیر مسلم مستامنین کے احکام موجود ہیں، جو دار الحرب سے دارالاسلام میں آئیں۔ ایسے ہی ان مسلمانوں کے متعلق بھی احکام موجود ہیں،جو دارالاسلام سے دارالحرب میں مستامن کی حیثیت سے جائیں۔

البتہ زمانہ جنگ میں جائز نہیں ہے کہ دارالاسلام کا کوئی مسلمان دار الحرب میں قیام کرے، جس سے دشمنان اسلام کو قوت پہنچے اور خود اس کے لیے بھی خطرہ رہے۔

کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا ترا ای ناداہما۔ (ترمذی شریف، جلد اول، ص؍193)

رہا یہ کہ دار الامن میں دار الحرب جیسے معاملات جائز ہیں؟ اس کا جواب اثبات میں دیا جا سکتا ہے؛ مگر بنیادی طور پر فقہا کا یہ مسلمہ اصول یا درکھنا ضروری ہے:

المسلم ملتزم بحکم الاسلام حیث ما نیکون -(شرح کبیر جلد؍ ۳)

ترجمہ :مسلمان احکام اسلام کا پابند ہے جہاں کہیں بھی وہ ہو۔

چنانچہ خیانت، دھوکہ، رشوت، احتکار (ذخیرہ اندوزی) استحصال بالجبر،ٹیکس کی چوری وغیرہ جس طرح دارالاسلام میں حرام ہیں؛ دارالحرب میں بھی حرام ہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان سب برائیوں سے بالا رہے اور خصوصا ایسے موقعہ پر کہ یہ امراض وبا کی طرح پھیل رہے ہوں، مسلمان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ احکام اسلام پر عمل کرتے ہوئے خیر امت ہونے کا مظاہرہ کرے۔ یہی موقعہ ہے کہ عمل اسلام کی برتری ثابت کی جاتی ہے اور دوسرے کو متاثرکیا جاتا ہے۔

باقی بہت سے معاملات ایسے ہیں، جو دارالاسلام میں اسلامی قانون کے مطابق ناجائز ہوتے ہیں۔ اگر ان کے سلہ میں کوئی مقدمہ اسلامی عدالت میں پیش ہو،تو عدالت اس کے ناجائز ہونے کافیصلہ کرے گی۔ اور اس خریدو فروخت کو نا جائز قرار دے گی؛ لیکن یہی معاملات اگر دارالحرب میں کیے جائیں، تو وہاں کے قانون کے مطابق وہ غلط نہیں ہوتے ؛بلکہ ان کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک من گیہوں کے معاوضہ میں ڈیڑھ من یا دو من گیہوں خرید نا’’ ر بوا‘‘کہلاتا ہے،جو اسلامی قانون کے مطابق جائز نہیں ہے۔ اس طرح کی بیع اگر دار الاسلام میں ہو اور مقدمہ عدالت میں پہنچے، تو اس بیع کو ناجائز قرار دیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ دارالحرب میں ہو اور وہاں کا قانون اجازت دے دے، تو اُسے مسلمان کی ملک تصور کیا جائے گا۔ اب اگر کوئی فریق دارالاسلام میں اس مقدمہ کو چلانا چاہے، تو قاضی اسلام اس کو خارج کر دے گا؛ کیوںکہ یہ معاملہ دارالاسلام کا نہیں ہے۔

اسی طرح کے احکام ہیں، جن کے متعلق مشہور ہوگیا ہے کہ دارالحرب میں بیوع فاسدہ جائز ہوتی ہیں،بشرطیکہ فریقین راضی ہوں اور معاملہ خوش دلی سے ہو۔

سیر کبیر میں ہے:

اذا دخل المسلم دار الحرب با مان فلاباس بان یا خذ منہم اموالہم بطیب انفسہم بای وجہ کان، لانہ انما أخذ المباح علی وجہ عری عن الغدر فیکون ذلک طیبالہ۔ والاسیر والمستامن سواء حتی لو باعہم درہما بدرہمین او باعہم میتۃ بدراہم او اخذ مالا منہم بطریق القمار ذلک کلہ طیب لہم - (سیر کبیر بحوالہ کشف الاستار)

کوئی مسلمان دارالحرب میں پروانہ امن (ویزا) لے کر جائے، تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہاں دار الحرب والوں کے مال کسی بھی صورت سے حاصل کرے جو طیب خاطر اور خوش دلی سے ہو؛ کیوںکہ یہ ایسا مال لے رہا ہے،جو مباح ہے ۔ایسی صورت سے لے رہا ہے جو دھوکہ وفریب سے پاک ہے، پس یہ مال اس کے لیے حلال و طیب ہوگا۔ کوئی مسلمان دار الحرب میں اسیر کی حیثیت سے ہو یا پر وانہ امن حاصل کر کے (ویزا لے کر گیا ہو) دونوں کے لیے یہی حکم ہے۔

چنا نچہ اگر وہاں ایک درہم دو درہم میں فروخت کر دے، یا مردار جانور کو درہموں کے بدلے فروخت کر دے (بقیمت فروخت کر دے) یا قمار کی صورت میں مال حاصل کرے، تو یہ سب صورتیں اس کے لیے جائز ہوں گی۔(سیر کبیر بحوالہ کشف الاستار)

سیر کبیر کی مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالحرب میں جو معاملہ اہل حرب سے ہو، اس کے حلال دطیب ہونے کے لیے طیب نفس یعنی خوش دلی اور رضامندی کافی ہے، وہ رضامندی شرعا معتبر ہو یا نہ ہو۔ چنانچہ سو داور قمار میں جو رضا مندی ہوتی ہے، اگرچہ وہ شرعا معتبر نہیں ہے؛ لیکن دار الحرب میں یہ غیر معتبر بھی معتبر ہوگی۔ اور اس رضامندی سے حاصل شدہ مال طیب قرار دیا جائے گا۔

تو سوال یہ ہے کہ شریعت نے جس کو خبیث فرمایا ہے، کیا اس کی خباثت صرف دار الاسلام تک ہے؟ یا وہ خباثت اس معاملہ کی فطرت ہے ،جہاں بھی اس معاملہ کا وجود ہو گا، خباثت موجود رہے گی۔

مثلاً قمار بقول حضرت شاہ ولی اللہ اس لیے حرام ہے کہ کسب و استحصال کے جو ضابطے شریعت نے مقرر کیے ہیں، یہ ان کے برعکس اور اُن کے مناقض و مخالف ہے۔ مثلاً یہ کہ ان میں ایسی محنت نہیں ہوتی، جس سے قوم اور ملک کو فائدہ پہنچے۔

حضرت شاہ رحمہ اللہ محنت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

چور، ڈاکو، گرہ کٹ اور بھیک مانگنے والے سب ہی محنت کرتے ہیں؛ مگر ان کی محنت سے نہ ملک کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، نہ اس کی صنعت و حرفت میں، نہ تمدن وترقی کرتا ہے، نہ تعمیر ملک میں فروغ ہے؛ بلکہ یہ جرائم ان مقاصد کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔ اسی طرح قمار باز اور سود خوار محنت ضرور کرتے ہیں؛ مگر ان کی محنت سے ملک کی دولت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا؛ بلکہ ان کی محنت ایک طرح کا ہیر پھیر ہوتی ہے، جس سے دوسر ے کی رقم جھپٹ لی جاتی ہے اور اس کی تہ میں طمع و حرص کار فرما ہوتی ہے، جو قانون کی حد سے آگے بڑھ کر اخلاق اور رومانیت کے نقطۂ نظر سے نہایت خطر ناک مرض ہیں۔ سود کی بھی اصل علت حرص وطمع ہوتی ہے، جس میں جارحیت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ سود خوار کمزور کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی کمزوری میں اور اضافہ کر دیتا ہے؛ کیوںکہ ضرورت مند ہی قرض لینے پر مجبور ہے۔ ظاہر ہے اس میں ادائے قرض کی وسعت مشکل ہی سے پیدا ہوگی۔ لیکن سود خوار اس مشکل کی بنا پر رحم کرنے کے بجائے اس کی مشکل میں اضافہ کر دیتا ہے کہ سود کے مطالبہ کو دو چند اور سہ چند کر دیتا ہے (حجۃ اللہ البالغہ - باب البیوع المنہی عنہا)

ان افعال کی یہ قباحتیں جس طرح دار الاسلام میں ہوتی ہیں، دارالحرب میں بھی قائم رہتی ہیں۔ تو جن معالات کی تہ میں یہ قباحتیں موجود ہوں، ان کی آمدنی کو حلال و طیب کیسے کہا جا سکتا ہے۔ قانونی نقطۂ نظر سے اگر جواز پیدا ہوتا ہے، تو اس کو اسی حد تک محدود رہنا چاہیے۔ اس کو حلال و طیب نہیں کہنا چاہیے۔ قمار سے حاصل کردہ رقم دارالحرب میں جائز ہوگی، کیوںکہ اس کواسلامی قانون کا تحفظ حاصل نہیں اور ملکی قانون اس کو جائز قرار دیتا تھا؛ لیکن اس جائز کو طیب نہیں کہا جاسکتا؛ کیوںکہ اخلاقی قباحتیں اس کی شکنوں میں بدستور پیوست ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ حسن و قبح کا مدار شریعت کے فیصلہ پر ہے۔ شریعت جس کو جائز قرار دے، وہ حسن ہے اور جس کو نا جائز قرار دے وہ قبیح ہے۔

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غلبہ روم کی قرآنی پیشین گوئی کے سلسلہ میں بازی لگا دینے پر جو مال حاصل کیا تھا، آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز قرار دیا۔ اس جائز کو حسن اور اس ملک کو طیب ہی کہا جائے گا؛ لیکن بحر العلوم حضرت مولانا فتح محمد صاحب رحمہ اللہ نے اس جواز کے متعلق جو تفصیل بیان کی ہے، وہ بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’جو مال ایسے ملک سے لیا جائے، جہاں صلح وعہد ہے۔ اگر بقہر وجبرلیا ہے، تو غیرم ملوک حرام ہے۔ اور اگر ایسی رضا سے لیا جائے، جو شرعا ممنوع ہے جیسے حرکی بیع، یا سود، یا قمار وغیرہ تو ملک آجائے گی برعایت صورت رضا اور حلت نہ آئے گی بوجہ مخالفت شرعی۔ اور اگر وہ رضا شرعامیسر یا مسکوت ہو، تو ملک بھی آجائے گی اور حلت بھی (عطر ہدایہ، ص؍180)

۱۰۔ دار الامن کے غیر مسلم کو حربی کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ مثلا ہندستان کا کوئی مسلمان باشندہ لندن، یا پیرس چلا جائے، تو وہاں کے باشندوں سے اس کا کوئی رابطہ یا معاہدہ نہیں ہوگا۔ لیکن ہم وطن غیر مسلموں سے اس کے بہت سے رابطے ہیں۔ وہ برابر کے شہری ہیں۔ ملکی قانون کے پابند اقتصادی اور کاروباری معاملات اور قومی اداروں میں شریک اور ایک دوسرے کے مددگار وغیرہ وغیرہ۔

۱۱۔ تنویر الابصار میں ایک جزیہ ہے:

دار الحرب تصیر دار الاسلام باجراء احکام اہل الاسلام۔

صاحب در المختار نے اس کی مثال دی ہے۔ کجمعۃ وعید۔

در مختار کی اس مال کی بنا پر کچھ علما کی رائے ہے کہ ہندستان دار الاسلام ہے کہ یہاں جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھی جاتی ہیں؛ لیکن ہر ایک صاحب بصیرت فیصلہ کر سکتا ہے کہ جمعہ وعیدین کی مثال صحیح نہیں ہے؛ کیوںکہ جمعہ اور عید کی نماز کے پڑھ لینے کو اجرائے احکام اسلام نہیں کہا جا سکتا۔ ایک معمولی مجسٹریٹ بھی کسی مقام پر جمعہ، یا عید کی نمازسے روک دے، تو مسلمانوں میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اس کے حکم کو منسوخ کر کے اپنے فیصلہ کے بموجب وہاں عید کی نماز،یا جمعہ کی نمازپڑھ سکیں۔ حکم اسلام کا اجرا یہ ہے کہ ہل اسلام اپنا فیصلہ نافذ کرسکیں۔ ادائے فرض کی اجازت ہونا اور چیز ہے اور حکم اسلام کے اجرا کا اختیار واقتدار اور چیز۔ یہ مثال اس لیے بھی بے محل ہے کہ خود رد المحتار کی تحریر سابق کے مخالف ہے۔ جو فقرہ ’’ب‘‘ میں پیش کی گئی، جس میں دارالاسلام اس علاقہ کو کہا گیا ہے، جہاں بااختیار والی مسلم ہو۔ اگر محض نماز جمعہ پڑھ لینے سے کوئی علاقہ دارالاسلام ہو جاتا ہے، تو وہاں مسلم کا تذکرہ غیر ضروری اور بے کار ہے۔

۱۲۔ بہر حال ہندستان کو آپ دار الحرب قرار دیں، یا دار الاسلام، مگر یہ ظاہر ہے کہ یہاں عقود اور معاملات کے متعلق وہی احکام ہیں، جو دارالاسلام میں ہوتے ہیں۔ پھلوں اورباغات کی بیع کی مختلف صورتوں میں وہی فتاویٰ صادر کیے جاتے ہیں، جو دارالاسلام میں صادر کیے جاتے ہیں، گویا عقود اور معاملات کے سلسلہ میں عملاً دارالاسلام ہی مانا جاتا ہے۔

حضرت مولانا فتح محمد میاں صاحب رحمہ اللہ اس سلسلہ میں ایک ضابطہ تحریر فرماتے ہیں:

فقرہ (۹) میں جو عطر ہدایہ کی عبارت گذری ہے، اس کو ملاحظہ فرمائیے۔ اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

’’اس سے ظاہر ہے جولوگ درالکفر میں بامان رہتے ہیں، یاداخل ہوں، یا باہم صلح و عہد رکھتے ہوں،انھیں کوئی ایسامعاملہ کرنا جو شرعا نا جائز ہو، جیسے بیع، یا اجارہ فاسد و باطل، یا شرعی ربو، یا رشوت وغیرہ ہرگز جائز نہیں۔‘‘

اور حدیث لار بو بین المسلم والحربی کے معنی ہیں کہ مسلمان دارالکفر میں کافرسے سودلے، تو وہ سود خوار اور موجب وعید ربوا نہ ہوگا۔ اگر چہ ملک حرام کا مواخذہ باقی ہے ؛مگر سود دینا کسی طور پر جائز نہ ہوگا؛ مگر جب کہ اس سود کے لینے سے وہاں کے لوگوں کا عہد و صلح ہو، یا یہ وہیں کی رعیت ہو، تو لینا بھی جائز نہیں۔ (عطر ہدا یہ، ص؍181)

۱۳۔ دار کے سلسلہ میں ملک العلماء علاء الدین کا سانی رحمہ اللہ نے مسلک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

أن الامان ان کان للمسلمین فیہا علی الاطلاق والخوف للکفرۃ علی الاطلاق فہی دار الاسلام۔ وان کان الامان فیہا للکفرۃ علی الاطلاق والخوف للمسلمین علی الاطلاق فہی دار الکفرۃ - (بدائع الصنائع، ج؍7، ص؍ 131)

 سوال یہ ہے کہ اگر امن اور خوف کا مدار کسی مذہب پر نہ ہو۔ حکومت کا دستور اساسی یہ ہو کہ حکومت کا تعلق کسی  مذہب سے نہیں ہے،نہ کسی مذہب کی بنا پر کسی کو ترجیح دی جائے گی؛ بلکہ امن اور خوف کا مدار و طینت اور شہریت پر ہو۔ مثلاً د ہلی کا رہنے والا مسلمان ہندستان کے کسی صوبہ، یا کسی شہر میں بھی جائے، وہ ہندستانی ہونے کی بنا پر محفوظ اور مامون اور اس کو تمام شہری حقوق حاصل ہیں؛ لیکن نیپال کا رہنے والا بر ہمن ویزا کے بغیر حدود ہندستان میں قدم بھی نہیں رکھ سکتا، تو اس صورت میں اس دار کو کیا کہا جائے گا؟ کیا کسی مذہب کی طرف منسوب کرنا الزام مالا یلتزم نہیں ہوگا ہے؟

گذارش

حضرات علمائے کرام کی خدمت میں مندرجہ بالا نمبر پیش ہیں۔ سوال کی صورت صرف آخری نمبر میں ہے؛ مگر در حقیقت جملہ نمبر استصواب کے لیے ہیں، فیصلے نہیں ہیں۔ حضرات علما ان سب کے متعلق رائے ظاہر فرمائیں۔ اسی لیے تقریبا نصف صفحہ کا حاشیہ چھوڑا گیا ہے کہ رائے عالی تحریر فرما سکیں۔ بینوا توجرو، ان شاء اللہ اجرا عظیما۔

حضرات علمایہ بھی تحریر فرمائیں کہ کیا ان مسائل کے سلسلہ میں کوئی اجتماع مناسب ہوگا، تاکہ حضرات علما اجتماعی طور پر ان مسائل پر غور فرمائیں اور فیصلہ فرمائیں۔ کیا یہ صورت بہتر نہ ہوگی کہ آپ اپنی رائے مقالہ کی صورت میں پیش فرمائیں۔

نیازمند محتاج دعا

محمد میاں

خادم ادارہ مباحث فقہ جمعیت علمائے ہند

خادم درس حدیث و افتا بمدرسہ امینیہ کشمیری گیٹ دہلی۔ 

ہندستان کی شرعی حیثیت 

باب اول :

ہندستان کی گذشتہ تاریخ پر ایک نظر مسلمان اور برٹش دورِ حکومت

(الف) مسلمان دور حکومت

(۱) اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندستان تقریباً ایک ہزار سال تک دار الاسلام رہا۔ یہاں کے حکمران مسلمان تھے، یا مسلمان بادشاہوں کے ماتحت اور ان کے باج گذار تھے۔مسلمان حکمران داخلی اور خارجی پالیسی میں کسی کے ماتحت نہیں تھے اور خود اپنی فوجی قوت سے اپنے ملک اور اپنی حکومت کی حفاظت کیا کرتے تھے۔

(۲) اس ملک کے زیادہ تر مسلمان خود یہاں کے قدیم باشندے ہیں اور تقریبا ایک چوتھائی مسلمان وہ ہیں، جو دوسرے ملکوں سے اگر یہاں آباد ہوئے اور انھوں نے اس ملک کو اپنا وطن بنایا۔

(۳) مسلمانوں کی کافی تعداد مسلمان حکمرانوں سے پہلے گجرات کا ٹھیاواڑ، مدراس وغیرہ جنوبی سرحد کے شہروں میں آکر آباد ہوئی۔ اقتصادی ضرور تیں ان کو کھینچ کر یہاں لاتی تھیں، یا تبلیغی مقاصد نے ان کی اس ملک کی طرف رہنمائی کی تھی۔ بہر حال تاجر اور مبلغ یہاں پہنچے اور انھوں نے بود و باش اختیار کی اور رفتہ رفتہ ان کی اولاد کا آبائی وطن یہ ہندستان ہی بن گیا۔ بسا اوقات ان پاک باز نفوس قدسیہ کو -جو نوع انسان کا درد دل میں لے کر تبلیغ و اصلاح کی غرض سے تشریف لائے تھے-بے پناہ مصائب برداشت کرنے پڑے،جن کو ان بندگان خدا پرست نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ نتیجہ کا میاب رہا، جو آج ہماری تاریخ کا سنہری باب ہے۔

(۴) مسلمان حکمرانوں کے دور میں اور اس سے پہلے اور بعد میں مسلمانوں نے کروڑوں اربوں روپے کی جائدادیں جائز اور صحیح طور پر حاصل کیں اور آج تک ان کی املاک -جن کی قیمت کئی ارب روپے ہو سکتی ہے- یہاں موجود ہیں۔

(۵) مسلمانوں نے اس ملک میں اسلامی آثار و روایات کو قائم اور سربلند اور مستقبل میں اپنی نسلوں اور جدید مسلمانوں کے اسلام اور تعلیم اسلام کو محفوظ اور جاری رکھنے کے لیے ہزاروں مدر سے قائم کیے، لاکھوں مسجدیں تعمیر کیں اور کروڑوں روپے کی جائدادیں وقف کیں، جو آج ہمارا ملی سرمایہ ہیں۔

(ب) برٹش دور حکومت

(۶) ایک دور آیا کہ مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی۔ سات سمندر پار کر کے ایک قوم یہاں پہنچی۔ اس نے دھوکا، مکر، فریب اور پھر جبر، تشدد اور ہول ناک مظالم سے مسلمانوں کی حکومت ختم کی۔ اپنی قاہر اور جابر سلطنت قائم کی۔ اس کے بے پناہ مظالم کا تذکرہ بھی لرزہ خیز ہے۔ مثلاً مسٹر ایڈور ڈٹامسن نے انگریزوں کے بیانات کے حوالے سے لکھا ہے:

’’بنارس اور الہ آباد میں کان پور کے واقعے سے پہلے ایک موقع پر چند نوجوان لڑکوں کو محض اس بنا پر پھانسی دی گئی کہ انھوں نے شوقیہ طور پر باغیوں کی جھنڈیاں اٹھا کر بازاروں میں منادی کی تھی۔ سزائے موت دینے والی عدالت کے ایک افسر کے پاس جاکر درخواست کی کہ ان نا بالغ مجرموں پر رحم کر کے پھانسی کی سزا کو تبدیل کر دیا جائے؛ لیکن بے سود۔ اس تمام سلسلے میں ایسے بے شمار واقعات ہیں، جن میں اس قسم کی نمائشی عدالتوںسے بھی گریز کیا گیا اور بے گناہ انسانوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ پھانسیاں دینے کا سامان بھی مکمل نہ تھا اور نہ ہی کسی کو پھانسی دینے کے طریقے سے پوری طرح واقفیت تھی۔ چنانچہ ان میں سے ایک شریف آدمی اپنی شان دار کامیابی کا اس طرح فخریہ اظہار کیا کرتا تھا کہ ہم پھانسی دیتے وقت عام طور پر آم کے درخت اور ہاتھی کو استعمال کیا کرتے تھے۔ یعنی ملزم کو ہاتھی پر بٹھا کر درخت کے نیچے لے جاتے تھے اور گلے میں اوپر سے رسہ ڈال کر ہاتھی کو ہنکا دیتے تھے، یہاں تک کہ ملزم اس طرح تڑپنے اور جانکنی کی حالت میں انگریزی کے آٹھ کے بندے کی دل چسپ شکل (8) بن کر رہ جاتا تھا۔(انقلاب1857ء کی تصویر کا دوسر ارخ، ص؍64)

’’لکھنو پر قبضہ کرنے کے بعد قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا۔ چنانچہ ہر ایسے ہندستانی کو قطع نظر اس سے کہ وہ سپاہی ہے، یا اودھ کا دیہاتی، بے دریغ تہ تیغ کیا گیا۔ یہاں تک کہ نہ کوئی سوال ہی کیا جاتا تھا اور نہ اس قسم کا کوئی تکلف روا ر کھا جاتا تھا، بلکہ محض سیاہ رنگ ہی اس کے مجرم ہونے کے لیے کافی دلیل سمجھی جاتی تھی اور سزا دینے کے لیے ایک رسہ اور درخت کی شاخ کا استعمال کیا جاتا تھا۔( تصویر کا دوسر ارخ، ص؍68)

’’دہلی وغیرہ میں شہر کے بلند مقام پر ایک چو گوشہ سولی نصب کی گئی تھی۔ جہاں پانچ، چھ اشخاص کو روزانہ پھانسی دی جاتی تھی،جس کے قریب ہی انگریز افسران سگریٹوں کے کش پر کش اڑاتے ہوئے، لاشوں کے تڑپنے کے نظاروں میں محود کھائی دیتے تھے‘‘۔ (ایضا، ص؍66)

لارڈرانڈٹس اپنی والدہ کو ایک چٹھی میں لکھتا ہے:

’’ہم پشاور سے جہلم تک پیادہ سفر کرتے ہوئے پہنچے اور راستہ میں کچھ کام بھی کرتے آئے، یعنی باغیوں سے اسلحہ چھیننااور ان کو پھانسیوں پر لٹکا دینا۔ چنانچہ توپ سے باندھ کر اڑا دینے کا جو طریقہ ہم نے اکثر استعمال کیا ہے، اس کا لوگوں پر ایک خاص اثر ہوا،یعنی ہماری ہیبت لوگوں کے دلوں پر بیٹھ گئی۔‘‘ (ایضا، ص؍34)

’’شمال مغربی سرحدی صوبے اور پنجاب میں اندھا دھند پھانسیاں دی گئیں۔ جن میں مرد، عورت اور بچوں کی کوئی تمیز روانہ رکھی گئی تھی۔ بے شمار دیہات جلائے گئے۔‘‘(ایضاً، ص؍51)

’’راستے میں سیکڑوں میل تک سڑک کے دونوں طرف دیہاتیوں کو بے دریغ اور قتل و غارت اور برباد کر کے ملک کو صحرا کی طرح ویران کر دیا گیا۔

وہلی سے باغیوں کے فرار ہونے کے بعد انگریز فاتحین نے باشندوں کا قتل عام کیا اور بے ضابطہ انگریزی عدالتوں کے حکم سے ہزاروں شہری پھانسی کے تختے پر لٹکا دیے گئے، حالاں کہ ان کو بغاوت سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔‘‘1857ء کی تصویر کا دوسرا رخ، ص؍  75-76)

مختصر یہ کہ بے شمار دیہات کو ایسے وقت میں جلا کر خاکستر کر دیا گیا، جب کہ عور تیں، بوڑھے اور بچے گھروں کے اندر موجود تھے۔‘‘ (ایضا، ص؍78)

ٹائمنر کے نامہ نگار نے لکھا تھا:

’’ میں نے دہلی کے بازاروں میں سیر کرنا مطلقاً چھوڑ دیا، کیوں کہ کل ایسا درد ناک واقعہ دیکھنے میں آیا، جس سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب ایک افسر بیس سپاہی لے کر شہر کی گشت کو جانے لگا، تو میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا اور راستہ میں ہم نے چودہ عورتوں کی لاشوں کو شالوں میں لپٹے ہوئے بازار میں پڑا پایا، جن کے سر دھڑوں سے ان کے خاوندوں نے خود جدا کیے تھے۔ چنانچہ ایک عینی شاہد سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ درد ناک حادثہ اس لیے ظہور پذیر ہوا کہ ان کے خاوندوں کو خطرہ تھا کہ اگر انگریز سپاہیوں کے قابو میں آگئیں، تو وہ ان کی عصمت دری کریں گے۔ لہذا تحفظ ناموس کا یہی طریقہ مناسب خیال کیا گیا، جس کے بعد خاوندوں نے بھی خود کشی کر لی۔ چنانچہ ان کی لاشوں کو بھی ہم نے دیکھا۔‘‘ (ا یضا، ص؍28)

والپول کا بیان ہے

’’صرف دہلی میں تین ہزار آدمیوں کو پھانسی دی گئی۔ مؤلف ’’تبصرۃ التواریخ‘‘ کی تحقیق یہ ہے کہ تیس ہزار مسلمان قتل کیے گئے اور سات دن تک برابر قتل عام جاری رہا۔‘‘ (افسانہ غم، ص؍28-29)

مذکورہ بالا اقتباسات میں بہت ہی مختصر طور پر پشاور سے لے کر لکھنو اور کان پور تک کے واقعات کا خفیف سا عکس پیش کیا گیا ہے جو بہت ہی نا تمام ہے۔

صوبہ بہار، کلکتہ اور بنگال جہاں سے 1857ء کے واقعات کا آغاز ہوا تھا، وہ اس سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ ان کی تفصیلات مسٹر ایڈورڈ ٹامسن نے اپنی کتاب ’’دی آور سائڈ آف دی مڈل میں پیش کی ہیں اور ان تمام لرزہ خیز تفصیلات کے متعلق اس کا دعوی ہے کہ جتنے واقعات قلم بند کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک بھی کسی ہندستانی قلم، یا زبان سے نکلا ہوا نہیں ہے۔ یہ سب انگریزوں اور بالخصوص انگریز افسران کے بیانات سے ماخوذ ہیں۔ بہر حال سرحد سے بنگال تک پورے شمالی ہند میں درختوں پر لٹکا کر پھائی دینے، توپ دم کرنے، کمروں میں بند کر کے بھوکے پیاسے مار ڈالنے، گرم سلاخوں سے داغ داغ کر مارنے، چونے کی بھٹی میں ڈال دینے، ہاتھی کے پیروں سے باندھ کر سسکا سسکا کر مارنے، سور کی کھال میں سی کر چونے کی بھٹی میں ڈال دینے کے واقعات اتنے بکثرت ہیں کہ ان کے قلم بند کرنے کے لیے ضخیم کتاب کی ضرورت ہے۔ یہاں بطور اشارہ چند واقعات نقل کیے گئے (اس سے مزید تفصیل آپ ’’علمائے ہند کا شان دار ماضی‘‘ حصہ چہارم میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں)۔بطور نمونہ دو اقتباس اور ملاحظہ فرمائیے۔

ٹائمنر آف انڈیا کے ایڈیٹر مسٹر ڈی لین نے لکھا تھا:

’’زندہ مسلمانوں کو سور کی کھال میں سینا، یا پھانسی سے پہلے ان کے جسم پر سور کی چربی ملنا، یا زندہ آگ میں جلا دینا ،یا ہندستانیوں کو مجبور کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بد فعلی کریں، ایسی مکروہ اور منتقمانہ حرکات کی دنیا کی کوئی تہذیب بھی کبھی اجازت نہیں دیتی۔ ہماری گردنیں شرم و ندامت سے جھک جاتی ہیں اور یقینا ایسی حرکات عیسائیت کے نام پر ایک بد نما دھبہ ہیں۔‘‘ (ترجمہ دی آور سائڈ آف دی مڈل، ص؍42)

مجیدی لکھتا ہے:

’’وہ رات ہم نے جامع مسجد (دہلی) پر پہرہ دیتے ہوئے بسر کی اور ہمارا زیادہ تر وقت ان قیدیوں کو گولی سے اڑا دینے، یا پھانسی پر لٹکانے میں گزرتا تھا، جن کو ہم نے صبح کے وقت گرفتار کیا تھا؛ لیکن آخر وقت تک ان کے چہروں سے شجاعت اور ضبط کے آثار ہویدا تھے، جو اس سے کسی بڑے مقصد کے لیے شایان شان علامات تھیں۔ ‘‘ (1857ء کی تصویر کا دوسر ارخ، ص؍45)

(۷) انگریزی مظالم کی چیرہ دستیاں مسلمانوں کی حکومت اور ان کے جان و مال تک ہی محدود اور منحصر نہیں رہیں؛ بلکہ اس نے مسلمانوں کے دین اور مذہب کو تباہ کرنے میں بھی کوئی دقیقہ نہیں اٹھار کھا۔ بے شمار اوقاف کو ضبط کیا۔ مساجد کو شہید کیا اور قبرستانوں کو مسمار کر دیا گیا۔

آج ان شاہی جاگیروں کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا، جو تاج محل آگر ہ، جامع مسجد دہلی جیسے شاہی اداروں کے لیے مسلمان بادشاہوں نے شاہانہ انداز میں وقف کی تھیں۔ صرف تاریخ کے اوراق ہی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اوقاف کروڑوں روپے کے تھے۔ جامع مسجد دہلی -جو سر زمین ہند میں مرکز اسلام کی حیثیت حاصل کر چکی ہے- اس کے ضبط کرنے کے واقعات وہلی کے ہر باشندے کو معلوم ہیں۔ تاریخ ان واقعات کو اس لیے نہیں محفوظ کر سکی کہ نوک شمشیر کے سامنے نوک قلم کو قوت تحریر باقی نہیں رہی تھی۔

لا ہور، لکھنو، احمد آباد و غیرہ میں آپ کو بہت سی مسجدیں مل سکتی ہیں، جو منہدم کی گئیں، یا دفتروں، تھانوں اور پولیس چوکیوں کے کام میں لائی گئیں، جو بعد میں بہت سے اپیلوں اور درخواستوں کے بعد واگذار کر لی گئیں۔ اور تقریبا پندرہ سال پہلے لاہور میں ایک مسجد دکھائی گئی بھی تھی، جس میں ایک محلے کا دفتر تھا۔ وہ اب بھی دفتر کے کام ہی میں استعمال کی جارہی ہے۔

 (۸) انگریز کے مقابلے میں استخلاص وطن کی جو تحریک شروع ہوئی،1947ء میں اس کا خاتمہ اس پر ہوا کہ:

(الف) ہندستان کے دو حصے کر دیے گئے۔

(ب) ہر حصہ ملک کو داخلی اور خارجی امور میں آزادی دی گئی۔

(ج) اور اس کا بھی حق دیا گیا کہ وہ برطانیہ سے اپنا تعلق منقطع کر سکتے ہیں۔

اس تقسیم کی بنا پر یہ ضرور ہوا کہ مسلم اکثریت کا علاقہ پاکستان بن گیا اور ہندو اکثریت کے علاقے نے ہند،یا انڈین یونین اپنا نام تجویز کیا۔

مگر اس تقسیم نے کسی بھی اقلیت کو اکثریت کے علاقے میں وطنی اور شہری حقوق سے محروم نہیں کیا۔ بو د وباش، کاروبار، ملازمت، تجارت، مذہبی مراسم اور امور معاشرت وغیرہ میں اس تقسیم کی رو سے جو حیثیت اکثریت کو حاصل ہوئی، وہی اقلیت کی بھی تسلیم کی گئی۔

جس طرح ایک مسلمان کو پاکستان میں، ایک ہندو کو ہندستان میں رہنے سنے، ملازمت، مذہبی عبادتوں، مذہبی تہواروں اور نکاح، بیاہ شادی ،یا مراسم تعزیت انجام دینے کا حق ہے، ایسے ہی ہر ایک اقلیت کو ان امور کا حق حاصل ہے۔ تقسیم نے ان امور میں اقلیت اور اکثریت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں قائم کیا۔ اسی بنا پر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ تقسیم فرقہ واریت کے اصول پر نہیں ہوئی۔

(۹) جب ملک تقسیم ہو رہا تھا، تو دونوں ملکوں کے کچھ علاقوں میں بلوؤں اور ہنگاموں کا ایک طوفان اٹھا، جس کی قیامت خیزیاں کم و بیش تین ماہ تک جاری رہیں، جس سے پاکستان کا تقریبا نصف علاقہ اور ہند یونین کے چند سرحدی علاقے (مشرقی پنجاب، دہلی اور بھرت پور و غیرہ) تہہ وبالا ہو گئے۔ فوج اور پولیس تک اس طوفان سے متاثر ہوئی۔ حکومت کا نظم و نسق معطل ہو گیا۔ یہاں تک کہ ان متاثرہ علاقوں کی اقلیتیں ترک وطن پر مجبور ہوئیں۔

(10) تقسیم کے بعد ہند یونین کے ارباب حل و عقد (دستور ساز اسمبلی) نے یونین کا ایک دستور بنایا، جس میں بلا لحاظ مذہب و ملت ہر باشندہ ملک کے بنیادی حقوق مساوی تسلیم کیے گئے۔ دستوری اور آئینی طور پر تسلیم کیا گیا کہ ہر فرقہ کومذہبی امور میں آزادی ہوگی۔ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہو گا، یعنی وہ مذہب و ملت کی بنا پر باشندگان ملک میں کوئی امتیاز روانہ رکھے گی۔

ملک کے تمام باشندے اپنی آزادانہ رائے سے نمائندے منتخب کریں گے، جو غیر مذہبی حکومت کی تشکیل کیا کریں گے۔ اور ہر باشندہ ملک بلا لحاظ مذہب و ملت اپنی صلاحیت، قابلیت اور جدو جہد کے بموجب حکومت میں حصہ لے سکے گا۔

(11) آزادی ملنے کے بعد اصول آزادی، نیز ان اصول کے پیش نظر جو تقسیم کے وقت فریقین نے تسلیم کر رکھے تھے اور جن کو ہند یونین کی دستور ساز اسمبلی نے بنیادی حقوق اور اصول موضوعہ کی حیثیت دے دی ہے، ہند یونین کے مسلمانوں کی حیثیت اس حیثیت سے متفاوت ہو گئی، جو انگریزی حکومت کے دور میں ان کو حاصل تھی۔ مثلاً:

(الف) انگریزی دور حکومت میں ملک کا مالک برطانوی سامراج تھا۔ اس ملکیت میں نہ کسی مسلمان کا حصہ تھا، نہ ہندو کا۔ چنانچہ وہ جس کو چاہتا تھا، اپنی صواب دید کے مطابق اپنے اغراض کے لیے استعمال کرتا تھا۔ کبھی وہ مسلمان کو آگے بڑھا دیتا تھا اور کبھی ہندو کو آگے بڑھا کر مسلمانوں کو پٹوا دیتا تھا۔

بیرونی معاملات میں بھی وہ جس سے چاہتا تھا، صلح کرتا تھا، جس کو چاہتا تھا تجارتی مراعات دیتا تھا اور جس سے چاہتا تھا جنگ کرتا تھا اور ہندستان کے باشندوں اور اس کی دولت کو ہندستان سے مشورہ کیے بغیر جنگ میں جھونک دیتا تھا۔

چنانچہ 1914ء سے 1945ء تک اکتیس سال میں اس نے دو مرتبہ جرمنی اور خود مسلمانوں کے مرکز خلافت حکومت ترکی سے عظیم الشان لڑائیاں کیں، جن میں ہندستان کے لاکھوں نوجوانوں اور اربوں روپے کی دولت تباہ و برباد کی گئی اور ہندستانیوں سے استصواب بھی نہیں کیا گیا۔

(ب) انگریز کے دورِ حکومت میں اسمبلی وغیرہ کے جملہ حقوق انگریز کے عطا کردہ تھے، کیوں کہ ہندستان کا مالک برطانوی سامراج کو مانا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد یہ جملہ حقوق ہندستانیوں کو ہندستانی ہونے کی حیثیت سے حاصل ہیں، کسی کے رحم و کرم پر نہیں؛ بلکہ اس بنا پر کہ وہ اس ملک کے باشندے اور مجموعی طور پر اس ملک کے مالک ہیں اور باشندہ ملک ہونے کی بنا پر فطری طور سے ان کو اپنے گھر بار، اپنے شہر اور اپنے وطن کے حقوق اور اختیارات حاصل ہیں۔

(ج) انگریز کے زمانے میں مذہبی آزادی جو کچھ بھی تھی وہ تاج بر طانیہ کی عطا کردہ تھی؛ لیکن اب یہ آزادی کسی عطا اور بخشش کی بنا پر نہیں ہے؛بلکہ دنیا بھر کے اس مسلمہ اصول کی بنا پر ہے کہ آزاد ملک میں ہر ایک باشندہ ملک کو قدرتی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ اس کا مذہب آزاد ہو اور اس کو اپنے عقائد، خیالات اور تہذیب و طرز معاشرت میں آزادی حاصل ہو۔

(12) مذکورہ بالا اصول کے خلاف عمل درآمد، خیانت اور جرم تسلیم کیا گیا ہے اورحکومت کے کسی رکن، یا کسی افسر کو، یا کسی بھی کار پرداز کے لیے جائز نہیں کہ ان اصول کے خلاف عمل کرے، جن کو دستوری اور آئینی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور جن کو ہر انسان کا پیدائشی حق قرار دیا گیا ہے۔ لیکن جس طرح حکومت کے اصول اور آئین کے بر خلاف رشوت، بلیک مارکیٹ وغیرہ کا سلسلہ جاری ہے، اسی طرح اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے برخلاف عمال اور افسران حکومت کی فرقہ وارانہ ذہنیتیں کار فرمارہتی ہیں اور ان کی بنا پر ہند یونین میں مسلمانوں کو اور پاکستان میں ہندوؤں کو انفرادی اور اجتماعی پریشانیاں درپیش ہیں اور اس وجہ سے دونوں ملکوں میں ترک وطن کا سلسلہ جاری ہے؛ لیکن جس طرح رشوت، یا بلیک مارکیٹ کو حکومت کا آئین، یا اس کی پالیسی نہیں قرار دیا جا سکتا، باوجود یکہ بکثرت موجود ہے، اسی طرح ظاہر ہے کہ اس فرقہ پرستی کو بھی آئین حکومت نہیں مانا جا سکتا اور نہ اس کی وجہ سے امن اور دستور ہند کو نا قابل اعتبار گردانا جا سکتا ہے۔

ہمارے وطن کی شرعی حیثیت

(۱) مذکورہ بالا نمبروں میں پس منظر کی طرف اشارہ کرنے کے بعد وقت آیا ہے کہ ہم اصل عنوان کی طرف رجوع کریں۔ عنوان کے تین جزو ہیں:

۱۔ ہمارے وطن کی حیثیت

۲۔ ہماری حیثیت اور

۳۔ ترک وطن کا شرعی حکم

پہلا جزو: ’’دار‘‘ کی بحث سے متعلق ہے کہ ہندستان دارالحرب ہے، یا دار الاسلام، یا کسی اور قسم کا ’’دار '' ہے؟ لیکن آپ کو تعجب ہو گا کہ دار کی بحث جس درجے ہمارے زمانے میں اہمیت رکھتی ہے، فقہائے کرام نے اپنے مباحث میں اس کو اتنی اہمیت نہیں دی؛ حتی کہ فقہ کی بہت سی مشہور اور متداول کتابیں -جو درس میں بھی داخل ہیں- ان میں دار الاسلام اور دار الکفر کی تعریف بھی نہیں بیان کی گئی۔ ردالمختار میں تعریف بیان کی گئی ہے، لیکن اس کے آخر میں یہ عبارت بھی ہے:

ہذا ثابت فی نسخ المتن ساقط من نسخ الشرح فکانہ ترکہ لمجئی بعضہ و وضوح باقیہ - (رد المحتار، جلد: ۳، ص؍277)

’’یہ عبارت متن کے نسخوں میں ہے، مگر شرح کے نسخوں میں نہیں ہے۔ غالباً شارح نے اس کو اس لیے نظر انداز کر دیا کہ اس کا کچھ حصہ ضمنا آچکا ہے اور باقی حصہ واضح محتاج بیان نہیں۔ یہ واضح حصہ جو محتاج بیان نہیں دار الاسلام اور دار الحظر کی تعریف ہے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ فقیہ یعنی ماہر قانون، قانون کی دفعات اور اس کی امکانی یا احتمالی شکلوں کو تو بیان کرے گا، لیکن وہ اس بحث میں نہیں پڑے گا کہ یہ قانون کہاں نافذ ہوگا، کہاں نہیں ہو گا؟ یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ اس قانون کے حدود نفاذ کو وسیع کرے، یا اپنی کوتاہیوں سے ان کو تنگ کر دے۔ فقیہ یعنی ماہر قانون کے نزدیک یہ ایک مسلمہ اور واضح امر ہوتا ہے کہ یہ قانون انھیں حدود میں نافذ ہو گا، جہاں تک اس حکومت کے اقتدار کا دامن پھیلا ہوا ہے، جس کا یہ قانون ہے۔ لہذا کوئی عدالت عالیہ، ہائی کورٹ، یا سپریم کورٹ حدود نفاذ سے بحث نہیں کرتا؛بلکہ دفعات قانون کے مقصد و منشا اور امکانی اور احتمالی شکلوں سے بحث کیا کرتا ہے اور انھیں صورتوں کے متعلق اس کے امثال اور نظائر ہوا کرتے ہیں۔

البتہ جہاں تک جنگی قوانین اور دو ملکوں کے باہمی نزاعات کا تعلق ہے، ان کے لیے دور حاضر نے بین الاقوامی عدالتیں ایجاد کی ہیں؛ لیکن اسلام چوں کہ بین الا قوامی وسعت کا حامل ہے، لہذا اس نے وسیع ترین نقطہ نظر سے انسانی اخوت اور انسانی حقوق سے متعلق خود ہی بنیادی اصول کی تعلیم دی ہے۔ ان اصول کے پیش نظر فقہائے کرام ’’ابواب السیر‘‘ یعنی جہاد سے متعلق ابواب میں جنگ، صلح، امن، ضبط کردہ مال اور جائیداد، اسیران جنگ، مفتوحہ ممالک میں فاتح مسلمانوں کے طرز عمل اور شکست کی صورت میں مسلمان اگر قید ہوجائیں، تو ان کے طریق کار اپنے ملک (دار الا سلام) کے باشندے اگر غیر ممالک میں جائیں ،تو ان کے اخلاق اور طرزِ عمل اور دیگر ممالک کے باشندے اگر دار الاسلام میں آئیں، تو ان کے ساتھ سلوک، ان کے لیے اجازت وغیرہ کے متعلق مسائل بیان کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں دار کا تذکرہ بھی آتا ہے جو قدرتی طور پر اس قابل نہیں ہو تا کہ اس کو خاص اہمیت دی جائے اور اس کی تفصیلات کے لیے صفحات رنگیں کیے جائیں۔

دار الاسلام

(۲) جنگ اور جہاد کے مسائل بیان کرتے ہوئے جب ’’دار ‘‘ کا تذکرہ آئے گا، تو دو ہی عنوان سامنے آئیں گے: دار الاسلام اور دارالحرب۔ اور ان کی تعریف بھی ایک بدیہی مسئلہ ہو گا، یعنی جہاں امن اور سیاسی اقتدار حاصل ہو ،وہ دارالا سلام ہے اور جہاں یہ باتیں مفقود ہوں، وہ دارالحرب ہے۔

کما قال شمس الائمہ السرخسی رحمہ اللہ:الموضع الذی لا یا من فیہ المسلمون من جملۃ دار الحرب، فان دار الاسلام اسم للموضع الذی یکون تحت ید المسلمین وعلامۃ ذلک ان یامن فیہ المسلمون۔‘‘(شرح السیر الکبیر، ص؍81، ج ۳- مطبوعۃ دائرۃ المعارف، حیدر آباد)

دار الاسلام کا دار الحرب بن جانا

اس سلسلے میں ایک ذیلی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دار الاسلام دار الحرب بن سکتا ہے؟ دوسراسوال یہ ہے کہ دارالحرب، دارالاسلام کی صورت میں بن سکتا ہے؟

ان دونوں سوالوں کا جواب ظاہر ہے کہ اثبات ہی میں ہو گا۔ یہ دنیا جس طرح تغیرات کا گہوارہ ہے، دن سے رات اور رات سے دن، گرمی کے بجائے سردی اور سردی کی جگہ گرمی آتی اور جاتی رہتی ہے، اسی طرح وہ انقلابات کی آماجگاہ بھی ہے۔ کوئی ملک کبھی ایک کے زیر نگیں ہوتا ہے اور دوسرا دور آتا ہے تو دوسری قوم وہاں حکمران ہوتی ہے۔ تلک الایام نداولہا بین الناس (قرآن حکیم )۔البتہ یہ کہ دار الاسلام، دارالحرب کب بنے گا، اس کے متعلق ملک العلماء '' علامہ علاء الدین کا شانی فرماتے ہیں:

قال ابو حنیفہ:انہا لا تصیر دار الکفر الابثلاث شرائط: احدہا ظہور احکام الکفر فیہا۔والثانی ان تکون متاخمۃ لدار الکفر۔ والثالث ان لا یبقی فیہا مسلم ولا ذمی آمنا بالامان الاول۔‘‘(بدائع الصنائع - جلد؍ ۷، ص؍130)

’’یعنی امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ جب تین باتیں ثابت ہو جائیں، اس وقت دار الاسلام دارالحرب ہو جائے گا۔اول یہ کہ کفر کے قوانین اور فرامین علانیہ صادر ہوں۔ دوم اس کے متصل دوسر املک بھی دار الکفر اور دار الحرب ہی ہو۔ سوم یہ کہ مسلمانوں کے اقتدار کے باعث جو امن تھا اور اس ملک میں آنے جانے کی جو اجازت تھی، وہ ختم ہوجائے اور اب کوئی مسلم یا غیر مسلم (ذمی) اس جدید اقتدار کی اجازت کے بغیر نہ اس ملک میں داخل ہو سکے اور نہ محفوظ ومامون ہو سکے۔‘‘

ہندستان کی شرعی حیثیت

1806ء میں دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد اگر چہ انگریزوں نے بساط سیاست پر ’’شاہ عالم کو ایک تاج دار کی حیثیت سے نمایاں کیا اور مملکت اور حکومت میں ایک عجیب و غریب تقسیم کر کے یہ اعلان کیا کہ ’’ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا‘‘۔ اور اس بنا پر کچھ علما کو یہ خیال بھی ہوا کہ ہندستان بدستور دار الاسلام ہے، مگر اس زمانے کے فقیہ اعظم عالم ربانی حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کی ایمانی فراست و حمیت اور آپ کی دقیقہ رس بصیرت اس سیاسی شعبدے کی حقیقت سے واقف تھی۔ آپ نے فتوی صادر فرمایا کہ ہندستان دارالحرب ہو گیا ہے۔ الفاظ یہ ہیں:

’’زیرا کہ مساجد را بے تکلف ہدم می نمایند و ہیچ مسلمان، یا ذمی بغیر استیمان ایشان دریں شہر و نواح آن نمی تواند آمد برای منفعت خود از وار دین و مسافرین و تجار مخالفت نمی نمایند ۔ اعیان و دیگر مثل شجاع الملک و ولایتی بیگم بغیر حکم ایشان دریں بلاد داخل نمی تواند شد۔ وازیں شہر تا کلکتہ عمل نصاری ممتد است۔آرے در چپ و راست مثل حیدر آباد و لکھنو و رام پورا حکام خود جاری نکردہ اند بسبب مصالحت و اطاعت مالکان آن ملک۔ (فتاوی عزیزی، جلد اول، ص؍17)

1857ء کے بعد امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی قدس اللہ سرہ العزیز سے استفسار کیا گیا۔ آپ کا جواب بھی یہی تھا۔ 

گذشتہ باب کے نمبرچھ اور سات میں انگریز کی خونیں کار گزاریوں کے جو نشانات دیے گئے ہیں، وہ ان دونوں فتووں کی علت واضح کر دیتے ہیں۔

ان دونوں فتووں میں اگر چہ نصف صدی سے زائد کا فصل تھا؛ لیکن ہندستان کی سیاسی حیثیت میں اگر کچھ فرق واقع ہوا ہے، تو صرف یہ کہ انگریزی اقتدار حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قدس سرہ کے دور میں ابتدائی مراحل طے کر رہا تھا اور 1857ء کے بعد وہ عروج اور استحکام کے آخری نقطے پر پہنچ گیا تھا،یعنی باہر کی غیر مسلم طاقت جس نے ہندستان سے اقتدار مسلم کو ختم کیا، جو لا محالہ حربی طاقت تھی، اس کا تسلط ہندستان پر روز افزوں ہو تا رہا۔ لہذا ہندستان بدستور دار الحرب رہا۔

چوں کہ ان بزرگوں کی کوشش یہ رہی کہ اس جابر و قاہر اقتدار کو ہندستان سے ختم کیا جائے۔ لفظی معنی کے لحاظ سے بھی ہندستان ’’دار الحرب‘‘بنا ہوا تھا۔ فرق صرف یہ ہوا کہ 1857ء تک یہ حرب اسلحے سے رہی اور1857ء کے بعد اسلحے ضبط ہو گئے۔ لیکن مجاہدین حریت کے جذبات اور جنگی منصوبوں کو ضبط نہ کیا جاسکا۔ وہ امکانی حدود میں بدستور مصروف پیکارر ہے۔

انگریزی دور میں مسلمانوں کی حیثیت

(۳) انگریزی اقتدار، اس کے جابرانہ تسلط اور اس کی اسلام کش کار گزاریوں کے لحاظ سے ہندستان یقینا دار الحرب تھا؛ لیکن ایک دوسراسوال بھی قابل توجہ تھا۔ وہ یہ کہ خود ہماری حیثیت کیا ہے؟ اور باشندگان وطن کا لحاظ کرتے ہوئے ہمار الملک کیا حیثیت اختیار کرتا ہے۔ آیا ہم حربی ہیں؟

اگر ہم حربی ہیں تو کیا مسلمان حربی ہوا کرتا ہے؟ اور پھر ہماری جنگ کس مسلم ملک سے ہے؟ کہ ہم اپنے آپ کو حربی تصور کریں۔اگر ہم حربی نہیں ہیں، تو کیا ہم مستامن ہیں؟ مگر اصطلاح فقہ میں ’’مستامن‘‘ وہ ہو گا، جو اس ملک کا باشندہ نہ ہو۔ ہم جب ہندستان کے باشندے ہیں، ہندستان ہمارا وطن ہے، تو کیا کسی ملک کا اصل باشندہ خود اپنے وطن میں ’’مستامن‘‘ ہو سکتا ہے؟

کیا ہم مستضعفین ہیں؟ لیکن مستضعفین کے زمرے میں اس وقت داخل ہو سکتے ہیں جب معاذ اللہ نماز، روزہ، جمعہ اور عیدین وغیرہ شعائر اسلام سے بھی محروم ہو جائیں۔لیکن اس دور میں؛ بالخصوص ملکہ وکٹوریہ کے اعلان 1858ء کے بعد کہ کسی کے مذہب میں حکومت کی طرف سے مداخلت نہ کی جائے گی، ہماری یہ حالت نہیں رہی۔

عیسائی مشنریاں یقینا عیسائیت کی تبلیغ کرتی رہیں اور کروڑوں روپیہ سالانہ خرچ کر کے ہندستانیوں کو عیسائی بھی بناتی رہیں، مگر حکومت کی طرف سے 1857ء تک تبلیغ عیسائیت کے بارے میں جو جبر کی شکل جاری تھی، وہ 1858ء کے بعد باقی نہیں رہی۔

مسلمانوں نے اسلامی مدارس، یونی ورسٹیاں، کالج قائم کیے۔ تبلیغی انجمنیں نہ صرف عیسائیت کا مقابلہ کرتی رہیں، بلکہ عیسائی بننے والوں کو دوبارہ اسلام میں داخل کرتی رہیں۔ عالی شان مسجد یں تعمیر کی گئیں، حتی کہ سرکاری دفاتر، چھاؤنیوں، سکریٹریٹ کے قریب اور خود ان کے حلقوں میں مسجد میں تعمیر کی گئی۔

انتہا یہ کہ ہمیں اس کا بھی حق تھا کہ اندرونی معالات کے لیے ہم پنچایتی نظام قائم کریں ۔ چنانچہ امارت شرعیہ صوبہ بہار میں قائم کی گئی اور کوشش کی گئی کہ ہم فقہائے کرام کی تصریح کے مطابق اس دار الحرب کو دار الاسلام بنالیں ۔

فقہا کی تصریح یہ ہے:

اما فی بلاد علیہا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد ویصیر القاضی قاضیاً بتراضی السلمین (رد المحتار، ص؍277، ج؍3)

’’ لیکن ایسے شہر جن کے فرماںروا کفار ہیں، وہاں مسلمانوں کے لیے جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھنا درست ہے اور ایسے شہر میں مسلمان بھی طور پر آپس کے اتفاق سے کسی کو قاضی بنا سکتے ہیں، جو ان کے معاملات کا فیصلہ کرے۔ (یعنی یہ ضروری نہیں کہ وہ حکومت کی طرف سے باضابطہ مجسٹریٹ ہو) مسلمانوں کے معاملات میں اس کا فیصلہ واجب العمل ہوگا۔‘‘

اس مذہبی آزادی کا لحاظ کرتے ہوئے اگر در مختار کی مندرجہ ذیل عبارت پر اعتماد کر لیا جائے، تو ہندستان کو دارالاسلام بھی کہا جا سکتا ہے۔ عبارت یہ ہے:

دار الحرب تصیر دار الاسلام بأجراء احکام الاسلام فیہاکجمعۃ وعبد وان بقی فیہا کافر اصلی وان لم یتصل بدار الاسلام (رد المحتار، ص؍277، ج؍3)

 جمعہ اور عید جیسے احکام اسلام جاری کر دینے سے دار الحرب دار الاسلام بن جاتا ہے، اگر چہ اس میں کا فر باقی رہیں اور اگرچہ اس کا اتصال کسی دار الاسلام سے نہ ہو۔

جن باتوں کے ثابت ہونے پر بقول امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ دار الاسلام دار الحرب بن جاتا ہے، وہ تمام باتیں بھی اس دور میں مشکوک تھیں؛ کیوںکہ :

(۱) حکومت کا کوئی قانون، یا حکم بھی عیسائیت کی بنیاد پر نہیں ہوتا تھا، لہذا ظہور احکام الکفرکی شرط مشتبہ اور مشکوک ہو گئی تھی۔

(۲) پورا ہندستان ایک مملکت تھا اور اس کا اتصال، افغانستان اور ایران سے تھا، جو اس تمام عرصہ میں دارالاسلام رہے۔

(۳) بے شک وہ امن جو مسلم اقتدار کے باعث ہونا چاہیے تھا ،وہ نہیں تھا۔ فوج اور پولیس جو امن کی محافظ تھی، انگریزی اقتدار کے ماتحت تھی اور انگریزی پاسپورٹ کے بغیر ہندستان میں نہ کوئی آسکتا تھا، نہ جا سکتا تھا؛ لیکن مسلمان ہونے کی بنا پر کوئی خطر ہ بھی نہ تھا، لہذا یہ شرط بھی ایک حد تک مشتبہ ہو گئی تھی۔

حضرت انور شاہ کشمیری کی تحقیق

بہر حال ان سہولتوں اور رعایتوں کے پیش نظر یہ سوال یقینا جواب طلب تھا کہ ہم اپنے وطن کو کیا کہیں۔ خداوند عالم حضرت الاستاذ علامہ سید محمد انور شاہ صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپ کی دقیقہ رس ذکاوت نے اس طرف توجہ فرمائی اور 1927ء مطابق 1346ھ میں جمعیت علمائے ہند کے اجلاس ہشتم کی صدارت فرماتے ہوئے آپ نے واضح فرمایا کہ ہندستان نہ دارالحرب ہے، نہ دارالا سلام، بلکہ ’’دارا الا من ‘‘ ہے۔ ارشاد ہے:

مسائل شرعیہ تین قسم کے ہیں:

 اول وہ جو اسلامی حکومت اور اس کی شوکت کے ساتھ متعلق ہیں۔

دوسرے وہ جو دارالامان کے ساتھ مخصوص ہیں۔

تیسرے وہ جو دارالحرب میں جاری ہوتے ہیں۔

ہندستان کی موجودہ حالت کو دیکھنا ہے کہ وہ دارالاسلام ہے، یا دارالامان، یا دار الحرب۔ جہاں تک غور و فکر اور اصول شرعیہ کا تعلق ہے، زیادہ سے زیادہ اس کو دارالامان کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ دار الاسلام کے احکام جاری ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔‘‘(خطبۂ صدارت، ص؍22، جمعیت علمائے ہندا جلاس ہشتم، بمقام پشاور)

اس کے بعد حضرت شاہ صاحب ارشاد فرماتے ہیں:

ہندستان کے دارالاسلام نہ ہونے کی حالت میں ہمارا فرض ہے کہ ہم دار الامان کے احکام کتب مذہب میں تلاش کریں اور ان احکام کی روشنی میں ہندستانی مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دیں۔‘‘ (ص؍23)

حضرت شاہ صاب نے بطور مثال آںحضرت ﷺ کا وہ معاہدہ پیش کیا ہے، جو آپ نے ابتداے زمانہ ہجرت میں مسلمانوں اور یہود مدینہ کے درمیان کرایا تھا۔

اس معاہدے میں فریقین کی مذہبی آزادی تسلیم کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا تھا کہ  دفاع کے وقت یہود اور مسلمان ایک جماعت ہوںگے، ہر ایک فریق پر دوسرے کی ہمدردی اور اعانت لازم ہو گی، دونوں فریق کوشش کریں گے کہ ظلم اور ناانصافی ختم ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن چوں کہ اس معاہدے میں ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ یہوداور مسلمانوںکے باہمی نزاعات کی آخری اپیل آںحضرت ﷺ کی بارگاہ عدالت پناہ میں ہوسکے گی، اس لیے ہندستان کے حالات پر اس معاہدے کو منطبق کرنے میں بعض حضرات کو تامل ہوتا ہے؛ لیکن اس معاہدے کے علاوہ سیرت مقدسہ کے دوسرے دور بھی ہمارے لیے سبق آموز ہیں اور ہمارے احکام کے لیے سر چشمہ اور اصول اساسی کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے پیش نظر اس تامل کی گنجایش نہیں رہتی۔ مثلاً حیات مقدسہ کے ابتدائی دور میں مکہ معظمہ کی مختلف جماعتوں میں ایک معاہدہ ہوا تھا، جو حلف الفضول کے نام سے مشہور ہے۔ آںحضرت  ﷺ اس معاہدے میں شریک تھے۔

یہ معاہدہ اگر چہ قبل از نبوت ہوا تھا، اس بنا پر اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا تھا؛ مگر نبوت کے بعد جن الفاظ سے آپ اس معاہدے کی تحسین اور تعریف فرمایا کرتے تھے، وہ بموجب روایت ابن ہشام یہ تھے:

 ما احب ان لی بہ حمر النعم ولوادعی بہ فی الاسلام لاجبت (سیرۃ ابن ہشام، ص؍84، ج؍ ۱)

میں سرخ اونٹوں (زیادہ سے زیادہ گراں قدر چیز) کے بدلے میں بھی اس معاہدے سے روگردانی پسند نہیں کر سکتا اور اگر مجھ کو اسلام کے دور میں بھی اس کی دعوت دی جائے، تو میں یقینا منظو کرلوں۔‘‘

دور نبوت میں کسی چیز کی تحسین خود ایک شرعی دلیل ہے اور یہاں تو خود لسان نبوت تصریح فرمارہی ہے کہ: ’’اگر دور اسلام میں اس کی دعوت دی جائے، تو میں یقینا منظور کر لوں۔‘‘

 یہ معاہدہ کیا تھا؟ محد ثین اور ارباب سیر کی تصریح کے مطابق اس کی حقیقت یہی تھی کہ  مظلوم کی امداد، ضمیر اور رائے کی آزادی اور درماندہ اور افتادہ انسانوں کی ترقی کی کوشش۔

اسلام میں اس کو منظور کر لینے کا مفاد یہ تھا کہ جب آںحضرت کفار مکہ کے سامنے دعوت اسلام پیش فرمارہے تھے، تو اگر کفارِ مکہ اس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے دعوت اور تبلیغ کے راستے میں بے پناہ جبر و تشدد سے کام نہ لیتے اور ان کی جارحانہ جد وجہد اس آواز حق کو دبانے میں صرف نہ ہوتی، تومکہ معظمہ سے ہجرت فرض نہ ہوتی۔ آپ کفار مکہ کے ساتھ اس ’’بلدہ‘‘ میں قیام فرماتے اور نظام زندگی میں بدستور شریک رہتے۔ ایسی صورت میں کہ مسلمان اقلیت میں تھے اور مکہ معظمہ میں اقتدار غیر مسلموں کا تھا۔ اگر اس معاہدے پر عمل ہوتا رہتا، تو ہم فقہی اصطلاحات کے لحاظ سے جو لفظ مکہ معظمہ کے لیے استعمال کر سکتے تھے، وہ دار الامان ہے۔ سب دلائل سے بالا قرآن حکیم نے ہمارے سامنے ایک روشن اصول پیش فرمادیا ہے، جس کو دار الامان کا دستور اساسی کہا جا سکتا ہے۔

سورہ ممتحنہ کی مندرجہ ذیل آیت اس اصول کی تلقین کرتی ہے:

لَا یَنْہٰیکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَ تُقْسِطُوْااِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۸)اِنَّمَا یَنْہٰیکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظٰہَرُوْاعَلٰی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰٓیکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۹)

سیدنا حضرت مولانا شاہ عبد القادر صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کے الفاظ میں ان آیات کا ترجمہ یہ ہے:

’’اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان سے جو لڑے نہیں تم سے دین پر، اور نکالا نہیں تم کو تمھارے گھروں سے کہ کروان سے بھلائی اور انصاف کا سلوک۔ اللہ چاہتا ہے (محبت کرتا ہے) انصاف والوں کو۔ اللہ تو منع کرتا ہے تم کو ان سے جو لڑے تم سے دین پر اور نکالا تم کو تمھارے گھروں سے اور میل باندھا تمھارے نکالنے پر کہ ان سے کرو دوستی اور جو کوئی ان سے دوستی کرے، سو وہ لوگ وہی ہیں گنگار ۔‘‘

یہ آیت صرف ان غیر مسلموں کے ساتھ دوستی کو ممنوع قرار دے رہی ہے جو:

(الف) دین کے بارے میں جنگ کریں۔

(ب) مسلمانوں کو وطن سے نکالیں اور

(ج) مسلمانوں کو وطن سے نکالنے میں امداد کریں۔

ان کے علاوہ جملہ غیر مسلموں کے ساتھ اجازت دے رہی ہے کہ بر اور قسط کے اصول پر ان سے معاہدہ کریں، ان کے ساتھ نظام ملکی، یا نظام زندگی میں اشتراک و تعاون کریں۔ (واللہ اعلم بالصواب)

آزادی کے بعد ہندستان کے بارے میں شرعی حکم

(۴) حضرت شاہ صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کے ارشاد کے مطابق انگریزی دور کے ہندستان کو اگر دار الا من کہا جا سکتا ہے، تو 1947ء کے انقلاب کے بعد ہندستان کو بدرجہ اولی ’’دار الامان‘‘ کہا جا سکتا ہے، کیوں کہ انگریزی دور میں ہماری مذہبی آزادی انگریز کی عطا کردہ تھی اور اس وقت یہ آزادی کسی کی عطا نہیں؛ بلکہ ہمارا ایک فطری ،یا وطنی حق ہے۔ جیسا کہ نمبر ۸ تا ۱۱ (باب اول) میں بیان کیا جا چکا ہے۔

اس موقع پر یہ خلجان یقینا پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک طبقہ اس کے درپے ہے کہ ہندو تہذیب کو حاوی کرے ۔ عوام کے رجحانات یہ ہیں کہ ذبیحہ گاؤ ایک فتنہ بن گیا ہے جس کے نتیجے میں فریضہ قربانی کی ادائیگی میں دشواریاں پیدا ہوتی ہیں، تو ہندستان کو دار الامان کس طرح کہا جائے؛ بالخصوص جب کہ جگہ جگہ میونسپل بورڈ اور ڈسٹرکٹ بورڈوں نے ذبیحہ گاؤ کی ممانعت کر کے اس کو قانون کی حیثیت بھی دے دی ہے ۔ مسجدوں کے سامنے باجے کی پہلے ممانعت تھی، اب وہ ختم ہو گئی ہے۔

اس قسم کے تمام خلجانات کے متعلق ہمیں یہ غور کرنا ہو گا کہ ان امور کو خود اسلام میں کیا حیثیت حاصل ہے۔ آیا وہ اسلام کے ضروری احکام اور شعائر ہیں، یا ہمارے مصنوعی رجحانات نے ان کو مذ ہبی شعائر کی حیثیت دے دی ہے؟جہاں تک ہندو تہذیب کے حاوی کرنے کا تعلق ہے، تو بے شک ٹنڈن جی ٹائپ کے کچھ آدمی یہ نعرہ لگاتے ہیں۔ لیکن اگر کچھ افراد، یا کوئی جماعت ملک کے دستور اساسی کے بر خلاف کوئی نعرہ لگائے، تو اعتبار دستور اساسی کا ہو گا۔ اس جماعت کے نعرے قابل التفات نہ ہوں گے؛کیوں کہ ارباب اقتدار اور اصحاب حل و عقد کے قول و فعل کا اعتبار ہوتا ہے، افراد، یا کسی جماعت کے قول و فعل پر پورے ملک کے متعلق فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

مثلاً کسی ملک میں اگر صلح کا معاہدہ ہوا ہے، تو اگر اس ملک کے کچھ آدمی دار الاسلام میں گھس کر ڈاکہ ڈال دیں اور قتل اور غارت کر جائیں، تو اس کو پورے ملک کی طرف سے نقض عہد نہیں تصور کیا جاتا۔ 

کما قال فی الہدایہ:اذا دخل جماعۃ منہم فقطعوا الطریق ولا منعۃ لہم حیث لا یکون ہذا نقضاً للعہد۔ (ھدایہ، باب الموادعۃ)

ہندو تہذیب کے نعرے لگانے والوں کے اقتدار اور مقبولیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس کی صدارت نہیں سنبھال سکے، پورے ملک کے مزاج کو تو کس طرح بدل سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے قول، یا فعل کو پورے ملک کے سر تھوپنا نہ صرف بے ضابطہ ہے؛ بلکہ مرعوبیت بے جا بھی ہے۔ ذبیحہ گاؤ کو اسلامی شعار قرار دینا سراسر تکلف ہے ۔ قربانی یقیناً شعار اسلام ہے، مگر نہ وہ گائے پر موقوف ہے اور نہ اس کی ممانعت ہے۔ 

باقی رہا مسجد کے سامنے باجہ، تو اگر یہ مسجد کے احاطے میں ہو تو بے شک تعدی اور جبر ہے؛لیکن ایسا نہیں ہوتا، نہ اس کی قانونا اجازت ہو سکتی ہے۔ البتہ عام راستے پر باجہ بجانا، جاتے ہوئے گزرنا، تو اس کی ممانعت تو ہر موقع پر دار الاسلام میں بھی نہیں کی جاسکتی، دار الامان میں اس کی ممانعت کا مطالبہ انگریز کی تفرقہ انگیز پالیسی کا ثمرہ ہے، اسلامی حکم یقینا نہیں۔ بہر حال ایسے مسائل میں ہمیں پوری طرح غور کر کے فیصلہ کرنا چاہیے۔

ہماری اور ہمارے وطن کی حیثیت اور ترک وطن کا شرعی حکم

باب سوم: دارالامان اور فرائض مسلمہ

(۱) دار الامان میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی؛ لیکن اقتدار اعلیٰ تنہا مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہو گا۔ لہذا مسلمان مکلف نہ ہوں گے کہ وہ احکام جن کے لیے اقتدار اعلیٰ (بہ عوان دیگر قوت و شوکت) شرط ہے اور خالص اسلامی نظام حکومت کے بغیر وہ نافذ نہیں ہو سکتے، ان کو دار الامان میں نافذ کرنے کا تکلف کریں۔ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا۔

مثلاً؛ اسلامی حدود و تعزیرات یعنی قتل عمد، قتل خطا، زنا، تہمت، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی وغیرہ کی وہ مخصوص سزائیں، جو اسلام نے مقرر کی ہیں، اسلامی نظام حکومت کے بغیر ان کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ لہذا دار الامان میں ان کا نفاذ شر عا واجب بھی نہیں ہو گا۔

اسلام ان جرائم کو انسانیت کے لیے لعنت قرار دیتا ہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی روادار نہیں کہ ان جرائم کا ادنی سا شائبہ بھی مہذب سوسائٹی میں باقی رہے، اس لیے ان کی سزائیں نہ صرف یہ کہ سخت مقرر کی ہیں، بلکہ ایسی عبرت ناک مقرر کی ہیں کہ اگر ایک مرتبہ بھی صحیح طور پر ان کو نافذ کر دیا جائے، تو مدتوں تک دل و دماغ ان جرائم کے تصور سے بھی لرزتے رہیں گے۔ دوسری قوموں کے نافذ العمل قوانین میں ان کی سزائیں اتنی سخت نہیں ہیں، لیکن جرائم کی قباحت کو ہر ایک مذہب اور ہر ایک قانون تسلیم کرتا ہے اور صحیح معاشرت کے لیے ان کے انسداد کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔ لہذا اگر کوئی غیر مسلم حکومت ان کے انسداد کے لیے قانون بنائے تو باوجو دے کہ ہمارے عقیدے کے لحاظ سے وہ قانون اصلاح نوع انسان اور عدل و انصاف کے اس اعلیٰ معیار سے گرا ہوا ہو گا، جو کتاب اللہ نے قائم فرمایا ہے؛ مگر چوں کہ مقصد بہتر ہو گا، لہذا تعاون و اشتراک میں مضائقہ نہیں ہو گا۔ 

قال اللہ تعالی:تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان۔

اس تعاون و اشتراک کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

(الف) مثلاً: آںحضرت ﷺ نے اس معاہدے میں شرکت فرمائی، جس کا مقصد خدمت خلق، امداد مظلوم اور رفع ظلم تھا۔ جس میں قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے شرکت کی۔ جس کو اوراق تاریخ میں ’’حلف الفضول‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (اس کا مختصر تذکرہ باب ۲ کی ضمنی بحث بہ ذیل انگریزی دور میں مسلمانوں کی حیثیت گزر چکا ہے۔)

(ب) جب آںحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو غیر مسلموں کے اشتراک سے ایک دستور اساسی مرتب فرمایا، جو بعد میں یہود کی بد عہدی کی وجہ سے درہم برہم ہو گیا (اس کا مختصر تذکرہ بھی گذشتہ باب میں اس ذیل میں گزر چکا ہے)۔

(ج) غزوہ احزاب کے موقع پر رسولﷺآمادہ تھے کہ عیینہ بن حصن سے اس شرط پر صلح کر لیں کہ مدینہ کی پیداوار کا ایک تہائی عیینہ اور اس کے قبیلے کو دیا جائے گا؛ لیکن انصار کے شیوخ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: 

’’یار سول اللہ! اگر یہ مصالحت کسی آسمانی اشارے پر ہے، تو ہم سر تسلیم خم کیے دیتے ہیں اور اگر ’’وحی‘‘ کی بنا پر نہیں ہے، تو ہم اس کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ جن کو ہم نے زمانہ جاہلیت میں کبھی خراج نہیں دیا، آج اسلام سے مشرف ہونے کے بعد ہم یہ ذلت کیسے گوارا کر سکتے ہیں۔ آںحضرت ﷺ نے انصار کی اس خود داری کی قدر فرمائی اورجو گفتگو ہو رہی تھی، اس کو ختم کر دیا۔‘‘ (شرح السیر الکبیر، ج؍ ۴، ص؍ ۴)

(د) صلح حدیبیہ کے موقع پر آںحضرت ﷺ نے فریق مخالف کے مطالبے پر لفظ رسول اللہ کو معاہدے کے مسودے سے محو کرا دیا۔

’’اس صلح کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ فریق مخالف کا کوئی شخص اگر اسلام قبول کر کے آںحضرت ﷺ کی پناہ میں جائے گا، تو اس کو واپس کرنا ہو گا اور اگر معاذ اللہ کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ آجائے گا ،تو مکہ والے اس کو واپس نہیں کریں گے۔‘‘

اس قسم کی بہت سی نظیریں حامل وحی، رموز شناس دفتر قدس رحمت عالم ﷺ کی سیرت مقدسہ کے تئیس سالہ دور میں بھری ہوئی ہیں، جو ہمارے سامنے یہ زرین اصول پیش کرتی ہیں کہ جب اقتدار اعلیٰ مسلمانوں کو حاصل نہ ہو، تو حفاظت ملت کو نصب العین قرار دے کر ’’بر اور قسط ‘‘ (بھلائی اور عدل و انصاف) کے اصول پر ہم غیر مسلموں کے اشتراک سے ایک دستور اساسی بھی بنا سکتے ہیں۔ ملکی نظم و نسق میں شرکت کر کے خدمت خلق کے مقدس فرض کو بھی انجام دے سکتے ہیں۔

(الف وب) اور تحفظ ملت اور بقا امن کے لیے ہم نرم و گرم شرطوں پر معاہدہ بھی کرسکتے ہیں۔

(ج ۔د) البتہ اقتدار اعلیٰ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو تو لا محالہ فرض ہو جاتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں کتاب اللہ کے فرامین نافذ کریں، کیوں کہ وہ نور و ہدی ہیں، رحمت و بشریٰ ہیں، وہی سراسر عدل ہیں: 

ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکافرون(سورہ مائدہ، آیت (۴۴)ہم الظالمون ایضا، آیت (۴۵)…ہم الفاسقون (ایضاً، آیت۴۷)۔

لیکن اس موقع پر یہ حقیقت فراموش نہ ہونی چاہیے کہ اس حکومت کو جس کا دستور اساسی: کتاب اللہ ہو، آپ خلافت راشدہ کہیں، یا اسلامی حکومت اس کا نام رکھیں، وہ عملا سیکولر اور غیر فرقہ ورانہ حکومت ہو گی؛ کیوں کہ اس میں:

(۱) غیر مسلموں کی جان، مال، عزت اور آبرو اسی طرح محفوظ ہوگی، جیسے مسلمانوں کی۔

(۲) غیر مسلموں کو ضمیر اور رائے، مذہب اور اعتقاد کی آزادی حاصل ہو گی۔ وہ اپنے اصول اور قواعد کے مطابق مذہبی فرائض انجام دیں گے۔ اپنی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے۔

(۳) ملک اور اہل ملک کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہو گی۔ وہ مذہبی فریضے کی حیثیت سے اس ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ لہذا ان کو حق نہیں ہو گا کہ غیر مسلموں کو جبرافوج یا پولیس میں بھرتی کریں۔ البتہ اگر غیر مسلم پیش کش کریں، تو ان کو مزید رعایتیں دی جائیں گی۔ (فتوح البلدان، ص؍66 اور168)

(۴) کاروباری امور میں غیر مسلموں کو مسلمانوں سے زیادہ آزادی حاصل ہو گی۔ مثلاً؛ شراب، خنزیر، مردار، خون، پلیدی وغیرہ) کی تجارت مسلمان نہیں کر سکتے۔ غیر مسلموں کے لیے ان چیزوں کی تجارت ممنوع نہ ہو گی۔ وہ بیرونی تجارت میں بھی آزاد ہوںگے۔ البتہ مہاجنی سود عام طور پر ممنوع ہوگا۔

(۵) جس طرح کسی مسلمان کو ستانا، نقصان پہنچانا نا جائز اور حرام ہو گا، اسی طرح غیر مسلم پر بھی کسی قسم کا ظلم جائز نہ ہو گا؛ بلکہ فقہاے کرام کا فیصلہ یہ ہے:

ظلم الذمی اشد من المسلم - (در مختار شامی، ج؍ 5، ص؍396)

 غیر مسلم پر ظلم کرنا مسلمان پر ظلم کرنے کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ، فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم۔

 آںحضرت ﷺ کا ارشاد ہے:

المومن من امتہ الناس بوائقہ( وامثال ذالک کثیر فی الاحادیث)

دار الا من اور جہاد اکبر

(۲) اقتدار اعلیٰ اور اجتماعی شوکت و قوت کے فقدان کا ثمرہ یہ بھی ہو گا کہ’’ دار الا من‘‘ میں مسلمانوں پر ’’جہاد اصغر‘‘ فرض نہیں ہو گا؛بلکہ ان پر فرض ہو گا کہ وہ ’’جہاد اکبر‘‘ کو پوری قوت سے انجام دیں۔ ’’جہاد اصغر‘‘ کا مشہور نام ’’جہاد بالسیف‘‘ ہے اور جہاد اکبر وہ ہے جس کی ابتدا ’’جہاد نفس‘‘ سے ہوتی ہے، یعنی خود اپنے نفس امارہ ہے۔ 

جہادکما قال رسول اللہ ﷺ: المجاہد من جاہد نفسہ۔‘‘

چنانچہ رسول ﷺ کا ارشاد ہے: مجاہد وہ ہے جو خود اپنے نفس سے جہاد یعنی اپنے نفس کی کجی کو درست اور اس کی تمام ناہمواریوں کو ہموار کر کے ٹھیک ٹھیک احکام الہیہ اور سید الانبیاء والمرسلین ﷺ کے ارشادات کے تابع کر لینا اور خدا اور رسول کی مرضی کا اس طرح حریص بنا دینا کہ خود اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں اور اللہ اور رسول کی مرضی اس کی رضا اور دلی خواہش بن جائے۔ یہ ہے جہاد نفس!

قال رسول اللہ ﷺ:لا یومن احدکم حتی یکون ہداہ تبعاً لماجئت۔

کوئی شخص اس وقت تک صحیح معنی میں مومن نہیں ہے، جب تک اس کی خواہش اور اس کے جذبات میری پیش کردہ سنت کے تابع نہ ہو جائیں۔

دشمن کو مارنا جہاد اصغر ہے۔ اور جہاد اکبر یہ ہے کہ خود اپنے نفس کو مو تو اقبل ان تموتوا (موت سے پہلے مرجاؤ) کا مزہ چکھائے۔

یہ جہاد میدانوں میں نہیں ہوتا؛بلکہ مکانات کی کوٹھریوں میں اور مسجدوں کی محرابوں میں ہوتا ہے، جہاں انسان اور اس کے معبود حقیقی کے سوا کوئی نہیں ہوتا۔ جہاں وہ اپنے رب کے سامنے اپنے افعال و اعمال کا محاسبہ کرتا ہے۔ آںحضرت کے ایک مرتبہ میدان جنگ سے واپس ہوئے تو ارشاد فرمایا:

رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر۔

ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی جانب واپس ہوئے ہیں۔

اس جہاد میں ہاتھ بڑھائے نہیں جاتے؛ بلکہ ہاتھ سکوڑے جاتے ہیں۔ کمال قال اللہ تعالی:

کفواایدیکم واقیموا الصلوۃ وآتوا الزکوۃ(سورۃ نساء، آیت: ۷۷)

ا پنے ہاتھ روکو، نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔

اقامت صلوۃ اور صبر و استقامت

قیام صلوۃ اس جہاد کا سب سے بڑا حربہ ہوتا ہے اور دوسرا حربہ ضبط وتحمل اور صبر و استقامت ہوتا ہے۔ چنانچہ تمام شدائد و مصائب کے مقابلے میں انھیں دو حربوں کے استعمال کرنے اور ان سے مدد حاصل کرنے کا حکم ہے۔ کمال قال اللہ تعالیٰ:

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاۃِ  إِنَّ اللَّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ (۱۵۳) وَلَا تَقُولُوا لِمَن یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَائٌ وَلَٰکِن لَّا تَشْعُرُونَ (۱۵۴) وَلَنَبْلُوَنَّکُم بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ  وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ (۱۵۵) الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُم مُّصِیبَۃٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ (۱۵۶) أُولَٰئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَأُولَٰئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (۱۵۷: البقرۃ) 

’’مسلمانو! مدد حاصل کرو صبر اور نماز سے، بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ جو اللہ کے راستے میں مارے جائیں ان کو مردہ مت کہو۔ وہ زندہ ہیں، لیکن تمھیں خبر نہیں۔ اور تمھیں ہم آزمائیں گے خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور میووں میں کمی کر کے۔ اور بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوں (ضبط و تحمل کے ساتھ ثابت قدم رہنے والوں) کو کہ جب ان پر آتی ہے کوئی مصیبت تو کہتے ہیں کہ بے شک ہم خدا کے ہیں اور خدا کی طرف ہی ہمیں رجوع کرنا ہے۔ یہیں ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے شاباش و آفرین رحمت اور مہربانی ہے اور یہی لوگ ہیں ہدایت پانے والے۔‘‘

1947ء کے ہنگاموں کے دوران میں اور ان کے بعد عرصے تک پاکستان ریڈیو پر یہ آیت پڑھائی جاتی اور اس کی تفسیر ہوتی رہی؛ مگر لطف کی بات یہ تھی کہ اس آیت کے صحیح مصداق وہ نہیں تھے، جو پاکستان کے باشندے تھے، یا پاکستان پہنچ گئے تھے، بلکہ اس کے صحیح مصداق وہ باخدا سچے مسلمان تھے، جنھوں نے ہر قسم کی مصیبت برداشت کی، صبر و استقامت سے کام لیا، آثار و روایات کے حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا دی، جو اسلاف کرام نے سرزمین ہند میں ایک ہزار برس کی قربانیوں سے قائم کی تھیں ؛لیکن ان تمام مصائب و مشکلات کے باوجود ترک وطن کا دل میں خیال تک نہ لائے)۔

ادائے زکوۃ

اس جہاد کا تیسرا حربہ یا پروگرام کا تیسر اجز آتوا الزکوۃ ہے۔ زکوۃ ادا کرو۔ چنانچہ حافظ الحدیث علامہ عماد الدین ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ سورہ نساء کی مذکورہ بالا آیت:کفوا ایدیکم کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

کان المومنون فی ابتداء الاسلام وہم بمکۃ مامورین بالصلوۃ والزکوۃ وان لم یکن ذات النصب۔وکانوا مامورین بمواساۃ الفقراء وکانوا مامورین بالصفح والعفوعن المشرکین والصبرالی حین۔ وکانوا یتحرفون ویودون لوامروا بالقتال (تفسیر ابن کثیر، ج؍ ۱، صفحہ؍525)

ابتدائے اسلام میں جب کہ مسلمان مکہ میں تھے ان کو نماز اور زکوۃ کا حکم تھا، اس وقت زکوۃ کے لیے نصاب کی شرط نہیں تھی۔ مسلمانوں کو حکم تھا کہ وہ ضرورت مندوں کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کریں۔ مشرکین کے مقابلے میں عفو اور درگزر کا حکم تھا اور یہ کہ ایک مدت تک ضبط و تحمل سے کام لیں۔ مسلمان دشمنان اسلام پر دانت پیسا کرتے تھے۔ وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ ان کو جنگ کا حکم مل جائے۔

کاش ہند یونین کے مسلمان بھی اس حقیقت کو محسوس کریں کہ حفاظت و ترقی ملت کے لیے مالی جہاد اہم ترین فریضہ ہے۔ اس کا معیار شریعت کا مقرر کردہ نصاب نہیں؛ بلکہ قوم و ملت کی ضرورت اس کا معیار ہے۔ زکوۃ، یتیموں، بیواؤں اور مصیبت زدہ و مفلوک الحال مسلمانوں کا مخصوص حصہ ہے۔ ان کے علاوہ بہت سی قومی اور ملی ضرور تیں ہیں، جن کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ امدادی رقوم کی ضرورت ہوتی ہے،جب کہ حکومت ان کی متکفل نہیں تو ان ضرورتوں کو پورا کرنا مسلمانوں ہی کا فرض ہے۔

جہاد اکبر اور جہاد اصغر کا فرق

غزوہ احدکے موقع پر آںحضرت ﷺ نے اپنی مخصوص تلوار حضرت ابودجانہ کو عطا فرمائی، تو آپ کی مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس غیر متوقع عزت نے دماغ میں کیف بے خودی پیدا کر دیا۔ آپ نے سر پر سرخ رومال باندھا اور اکڑتے تنے فوج سے نکلے۔ آںحضرت نے حضرت ابودجانہ کو اکڑ کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:

انہا المشیۃ یبغضہا اللہ الا فی مثل ہذا الموطن (سیرۃ ابن ہشام ،ج؍ ۲، ص؍69)

 یہ چال خدا کو سخت نا پسند ہے، مگر اس جیسے موقع پر (پسند ہے)۔

 مختصر یہ کہ جہاد اصغر کے میدان جنگ میں تبختر (اکٹر کر چلنا پسندیدہ رفتار ہے؛ لیکن جہاد اکبر کے مجاہدین کی شان یہ ہے:

 وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِینَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (۶۳) وَالَّذِینَ یَبِیتُونَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَقِیَامًا (سورہ فرقان، آیات:۶۴)

بندے رحمن کے وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر دبے پاؤں (عاجزی کے ساتھ) اور جب بات کرنے لگیں ان سے بے سمجھ لوگ، تو وہ کہتے ہیں صاحب سلامت (ایسا جواب دیتے ہیں جس کا مقصد امن، سلامتی اور رفع شر ہوتا ہے) اور جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے آگے سجدے میں یا کھڑے۔ (موضح القرآن و بیان القرآن)

 وَالَّذِینَ لَا یَشْہَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَامًا (سورہ فرقان، آیات:72)

اور وہ جو شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں اور جب ہو نکلیں کھیل کی باتوں پر نکل جاویں بزرگی رکھ کر۔ (موضح القرآن)

یعنی متانت اور سنجیدگی سے گزر جاتے ہیں۔ نہ دل چسپی لیتے ہیں، نہ وہاں کے لوگوں سے الجھتے ہیں۔

مجاہدین جہاد اکبر کے متعلق حکم یہ ہے: 

 یَا بُنَیَّ أَقِمِ الصَّلَاۃَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنکَرِ وَاصْبِرْ عَلَیٰ مَا أَصَابَکَ إِنَّ ذَٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (۱۷) وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِی الْأَرْضِ مَرَحًا  إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (۱۸) وَاقْصِدْ فِی مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ  إِنَّ أَنکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیرِ (سورۃ القمان، آیات:۱۹)

کھڑی رکھ نماز اور سکھلا بھلی بات اور منع کر برائی سے اور سہار جو تجھ پر پڑے۔بے شک یہ ہیں ہمت کے کام اور اپنے گال نہ پھلا لوگوں کی طرف (بے رخی نہ برت) اور مت چل زمین پر اتراتا۔ بے شک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اتراتا۔ بڑائیاں کرتا اور چل سچ کی چال اور نیچی کر اپنی آواز بے شک بری سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔ (موضح القرآن)

جہاد اصغر میں اغاظۂ کفار (کافروں کا دل جلانا) گویا نصب العین اور مطمح نظر بن جاتا ہے۔ چنانچہ ہر ایسا فعل موجب اجر و ثواب ہوتا ہے، جس سے دشمنوں کو کوفت ہو اور ان کے احساسات پست ہوں۔ ملاحظہ ہوار شاد ربانی:

ذلک بانہم لا یصیبہم…تا…لیجزیہم اللہ احسن ما کانوا یعملون (سورۃ توبہ، آیات:120-121)

لیکن مجاہدین جہاد اکبر کو اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی کا دل دکھائیں، یا سخت بات کہیں۔ ؎

شنیدم کہ مردان راہ خدا

دل دشمناں ہم نہ کردند تنگ

ترا کے میسر شود این مقام 

کہ با دوستانت خلاف است و جنگ

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو جب فرعون جیسے دشمن خدا کی طرف بھیجا گیا، تو ان دونوں پیغمبروں کو ہدایت یہ تھی:

قولا لہ قولا لیناً لعلہ یتذکر او یخشی (سورہ طہ، آیت:۴۴)

فرعون سے نرم بات کہیے۔ بہت ممکن ہے وہ غور کرے اور خوف پیدا ہو۔

آںحضرت ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو دعوت اسلام کے لیے بھیجا ،تو ہدایت فرمائی:

بشرا ولا تنفرا۔ یسرا ولا تعسرا۔

بشارت دیجیے اور نفرت مت دلائیے۔ سہولت پیش کیجیے دشواریوں میں مت ڈالیے۔

خود آںحضرت ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی:

قل یا عبادی الذین اسر فوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ہو الغفور الرحیم (سورہ زمر، آیت (53)

 آپ (سوال کرنے والوں سے میری طرف سے) کہہ دیجیے، اے میرے بندو! جنھوں نے (کفر و شرک کرکے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں، تم خدا کی رحمت سے ناامید مت ہو۔ بے شک اللہ تعالی تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ بے شک وہ غفور رحیم ہے۔

آیت کریمہ کے الفاظ پر غور کیجیے، کس قدر رقت انگیز ہیں۔ گویا لطف و کرم کے چشمے ان کے نقوش سے امنڈ رہے ہیں۔

جہاد اصغر کے میدان جنگ میں حکم ہوتا ہے:

اقتلوہم حیث ثقفتموہم (سورہ بقرہ، آیت (191) اور فاضربوا فوق الاعناق واضر بوامنہم کل بنان (سورہ انفال، آیت (12)

ان کو قتل کر ڈالو جہاں پاؤ۔گردنوں کے او پر مارو اور ہر ہر جوڑ پر مارو۔

لیکن جہاد اکبر میں قتل و ضرب کے بجائے حکم ہوتا ہے:

ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ(سورۃ نحل،آیت (125)

بلا اپنے رب کے راستے کی طرف دانش مندی اور اچھی نصیحت کے ذریعے۔

قتل و ضرب تو در کنار، بحث و مجادلہ کے لیے بھی حکم یہ ہے:

جادلہم بالتی ہی احسن(سورہ نحل، آیت:125)

ان سے ایسی طرح بحث و مباحثہ کیجیے، جو بہت ہی بہتر (بہت ہی حسین) ہو۔

جزاء سیۃ سیۃ مثلہا (سورہ شوری، آیت (۴)

برائی کابدلہ عام طور پر برائی ہوتا ہے۔

لیکن جہاد اکبر کا مجاہد برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتا ہے۔ دشنام کے عوض دعا کرتا ہے۔

تم نے دیکھا، طائف کے اوباشوں نے جب رحمت عالم ﷺ کے جسد اطہر کو اینٹوں اور پتھروں سے لہولہان کر دیا، تو رؤف رحیم نے کیا فرمایا تھا۔ آپ نے اس جور و ستم کے مقابلے میں دعا کی:

 اللہم اہد قومی فانہم لا یعلمون

اے اللہ میری قوم کو ہدایت فرما،وہ مجھے جانتے نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ کفار اور اعدائے دین جن کو جہاد اصغر کا مجاہد قتل کرتا ہے، جہاد اکبر کے مجاہد کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے مشرک اور کافر دل وہ کھیت ہوتے ہیں، جن کے جھاڑ اور کانوں کو صاف کر کے مجاہد اکبر ایمان و یقین کی تخم ریزی کرتا ہے۔

وہ برائی کابدلہ برائی سے نہیں دیتا، کیوں کہ اس صورت میں برائی ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ بسا اوقات انتقام در انتقام کا تسلسل برائی کو زندہ کر دیتا ہے۔ وہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتا ہے، تا کہ برائی ختم ہو اور برے لوگ بھلے آدمی بن جائیں۔ وہ دشمنوں کو ختم نہیں کرتا ہے، بلکہ دشمنی کو ختم کرتا ہے۔ وہ دشمن کی طرف محبت اور شفقت کے پھول پھینکتا ہے، جس کا نتیجہ جلد، یابد یر اخلاص و مودت ہوتا ہے۔ سورۃ حم السجدہ کی مندرجہ ذیل آیتیں تلاوت کیجیے، ان میں آپ کو ایسا کامیاب لائحۂ عمل (پروگرام) ملے گا، جو ناکامی سے قطعاً نا آشنا ہے اور جو ہمیشہ سوفی صدی کامیاب ہی رہا ہے:

من احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ ادفع بالتی ہی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم وما یلقاہا الا الذین صبروا وما یلقاہا إلا ذو حظ عظیم واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ انہ ہو السمیع العلیم (آیات:33-36)

اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو (لوگوں کو) خدا کی طرف بلائے اور (خود بھی) نیک عمل کرے اور اظہار اطاعت کے لیے) کہے کہ میں فرماںبرداروں میں سے ہوں (یعنی بندگی کو فخر سمجھے، متکبرین کی طرح عارنہ سمجھے)۔

اور (چوں کہ دعوت الی اللہ میں جس کا ذکر ہے اکثر جہلا کی طرف سے ایذارسانی بھی ہوتی ہے، اس کے متعلق خصوصا اور دوسرے حالات میں عموما اچھے معاملے اور حسن سلوک کی تعلیم فرمائی جارہی ہے اور نبی ﷺ کو اور آپ کے تمام متبعین کو اول بطور تمہید کے ایک بات سمجھائی جارہی ہے کہ)نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ؛بلکہ ہر ایک کا اثر جدا ہے۔ جس کو ہر شخص جانتا ہے۔ جب یہ بات ذہن نشین ہو گی تو اب) آپ نیک برتاؤ سے بدی کو ٹال دیا کیجیے۔ پھریکا یک (دیکھ لینا) کہ آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہو جائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔

(یعنی بدی سے بدی کا بدلہ دینے میں تو عداوت بڑھتی ہے اور نیکی کرنے سے عداوت گھٹتی ہے۔ بشر طیکہ دشمن میں کچھ بھی شرافت ہو) حتی کہ اکثر بالکل عداوت جاتی رہتی ہے)۔

یہ بات انھیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو (اخلاق کے لحاظ سے بڑے مستقل (مزاج) ہیں اور یہ بات اس کو نصیب ہوتی ہے جو (ثواب کے اعتبار سے) بڑا صاحب نصیب ہے اور اگر ایسے وقت آپ کو شیطان کی طرف سے غصے کا کچھ وسوسہ آنے لگے، تو فورا اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے۔ بلا شبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے‘‘۔ (بیان القرآن از حضرت تھانوی بتغییریسیر فی الالفاظ)

بہر حال کج روی کج فہمی، بد خلقی اور معاندانہ سرگرمیوں کے مقابلے میں قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق وسعت ظرف، فراخی حوصلہ اور مکارم اخلاق پیش کرتے ہوئے سعی پیہم اور مسلسل جدو جہد کو ’’جہاد بالقرآن‘‘ کہا جاتا ہے۔ دارالامان میں ’’جہاد بالقرآن‘‘ فریضہ مسلم ہے، جس کو قرآن حکیم میں ’’جہاد کبیر ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 فلا تطع الکافرین و جاہدہم بہ جہادا کبیرا (سورۃ فرقان، آیت (۵۲)

قال ابن عباس جاہدہم بہ ای بالقرآن و قال ابن زید ای بالاسلام تفسیر ابن جریری، جلد؍19، ص؍15)

آپ کا فروں کی خوشی کا کام مت کیجیے اور قرآن سے ان کا مقابلہ کیجیے بڑے زور سے۔(ملاحظہ ہو موضح القرآن از حضرت شاہ عبد القادر صاحب اور تفسیر بیان القرآن از حضرت تھانوی رحمہ اللہ)

حافظ الحدیث علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں: 

ہذہ سورۃ مکیہ امر فیہا بجہادالکفار بالحجۃ والبیان وتبلیغ القرآن وکذاک جہاد المنافقین انما ہو بتبلیغ لانہم تحت قہر اہل الاسلام۔

یہ مکی سورت ہے۔ اس میں حکم ہوا ہے کہ دلیل و حجت، تحریر و تقریر اور تبلیغ قرآن کے ذریعے کفار سے جہاد کیا جائے۔ منافقوں سے بھی جہاد اسی طرح تھا (یعنی دلیل،حجت تحریر و تقریر اور تبلیغ قرآن سے، کیوں کہ منافق حکومت اسلام کے ماتحت تھے، لہذا ان سے جہاد بالسیف کے کوئی معنی نہیں۔

اس کے بعد فرماتے ہیں:

فجہاد المنافقین اصعب من جہاد الکفار وہو جہاد خواص الامۃ وورثۃ الرسل۔ والقائمون بہ افراد فی العالم والمشارکون فیہ والمعاونون علیہ وان کانوا ہم الا قلین عدداً فہم الاعظمون عند اللہ قدراً (زاد المعاد، ج؍ ۱، ص؍29مطبوعہ مصر)

منافقوں سے جہاد کرنا جہاد کفار کے مقابلے میں بہت سخت ہے۔ جہاد کفار جو توپ و تفنگ سے ہوتا ہے، اس میں ہر ایک نوجوان شریک ہو سکتا ہے، لیکن جہاد منافقین جو حجت  واستدلال سے ہوتا ہے وہ ہر ایک کا کام نہیں۔ امت کے خاص خاص افراد جو انبیا علیم السلام کے صحیح وارث ہوتے ہیں، وہی اس جہاد کے شہ سوار ہو سکتے ہیں۔ یہ لوگ اگر چہ گنتی میں کم ہوتے ہیں ؛مگر اللہ تعالی کے یہاں ان کا مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے۔

اس کے بعد تحریر ہے:

ولما کان جہاد اعداء اللہ فی الخارج فرعاً علی جہاد العبد نفسہ فی ذات اللہ تعالی کما قال النبی اللہ المجاہد من جاہد نفسہ فی ذات اللہ و المہاجر من ہجرما نہی اللہ عنہ کان جہاد النفس مقدماً علی جہاد العدو فی الخارج و اصلالہ - (ایضا،ص؍293)

چوں کہ دشمنان خدا سے جہاد ایک ثمرہ ہوتا ہے، اس جہاد کا جو انسان اللہ سے تعلق قائم کرنے سے خود اپنے نفس سے کرتا ہے، چنانچہ آںحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجاہد وہ ہے، جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اور مہاجر وہ ہے جوان باتوں کو چھوڑ دے، جن کو اللہ نے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا اپنے نفس سے جہاد کر نا مقدم ہو گا اور دشمنان دین سے جہاد در حقیقت نتیجہ ہو گا اس صحیح جذبے کا جو خود اپنے نفس سے جہاد کر کے انسان نے اپنے اندر پیدا کیا ہو (کہ کلمۃ اللہ کے بلند کرنے کا جذبہ یہاں تک بڑھ جائے کہ خود اپنی جان بھی اس کے مقابلے میں ہیچ ہوتی ہے)۔

مسائل کا اختلاف اور عمل کی صورتیں

(۳) معاملات، یعنی خرید و فروخت لین دین، اجرت، ملازمت، شرکت چوں کہ افراد سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے لیے ہئیت اجتماعی قوت و شوکت کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے احکام میں بھی کوئی خاص تفاوت نہیں ہو گا۔ مثلاً شراب، خنزیر، مردار وغیرہ کی خرید و فروخت جس طرح دار الاسلام میں مسلمان کے لیے حرام ہے، دارالامان؛ بلکہ دار الحرب میں بھی حرام رہے گی۔ قمار، جوا، سٹہ وغیرہ کی حرمت بدستور رہے گی۔ یہ شیطانی اعمال ہیں۔ ان کی شیطنت کسی ملک، یا کسی دار کے ساتھ مخصوص نہیں۔ قال اللہ تعالیٰ:

انما الخمر والمیسر والا نصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ (سورہ مائدہ، آیت (90)

دھوکا، فریب، بلیک مارکیٹ صرف معاملات کے لحاظ ہی سے جرم نہیں؛ بلکہ اخلاقی جرم بھی ہیں۔ وہ ہر حالت میں ممنوع رہیں گے۔

اسی طرح ان امور سے اجتناب لازم ہو گا جس کا ارتکاب معصیت ہے۔ مثلاً عصمت فروشی، رقص، سرود، سحر، کہانت، نجوم اور جو تش و غیرہ بالمعاوضہ ہوں ،یا بلا معاوضہ۔

علیٰ ہذاوہ معاملات بھی ممنوع ہوں گے، جن کے نتیجے میں لازمی طور پر معصیت کا ارتکاب یا جرائم کی پرورش ہوتی ہے۔ مثلاً آلات لہو و لعب ،یا مورتیوں اور تصاویر کی خرید و فروخت (ملاحظہ کتب فقہ اور حجۃ اللہ البالغہ)

یہ تمام امور وہ ہیں، جن سے شریعت مطہرہ نے شدت سے ممانعت کی ہے۔

ان کی حرمت نہ قوت و شوکت پر موقوف ہے، نہ دارالا سلام کے حدود میں محدود۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ دارالاسلام میں ان کی ممانعت کے لیے قانون ہو گا۔ دارالحرب یا دار الامان میں مسلمانوں کو یہ حیثیت حاصل نہیں ہو گی کہ قانون ممنوع کر سکیں، مگر مذہبی نقطہ نظر سے ان کی حرمت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

رہ گئے وہ تمام مسائل جو اخلاق، یا عبادات سے متعلق ہیں۔ چوں کہ ہر ایک مسلمان بہ حیثیت مسلمان ان کا مکلف ہے۔ لہذا ملک اور دار کے اختلاف اور سیاسی حالات کی تبدیلیوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ سچائی، دیانت، رحم، انصاف و غیر ہ اخلاق جمیلہ مسلمانوں پر ایسے ہی فرض ہیں، جیسے نماز، روزہ، حج، زکوۃ۔

جھوٹ، فریب، ظلم، بخل، خیانت، حسد، کینہ وغیرہ ایسے ہی ممنوع ہیں، جیسے شرک، کفر، اصنام پرستی ،یا بدعات، مراسم قبیحہ۔ لہٰذا ان کے احکام میں کوئی تفاوت نہیں ہو گا۔

اللہم وفقنا لما تحب و ترضی