25 Mar 2026

ایرانی قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم


 *ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم*


موجودہ عالمی حالات، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود قیادت کا خلا کیوں پیدا نہیں ہوا؟ تو  اس کا جواب ایک مضبوط اور منظم نظام میں پوشیدہ ہے جسے "موزیک سسٹم" (Mosaic System) کہا جاتا ہے۔


موزیک سسٹم دراصل ایک ایسا تنظیمی اور فکری ڈھانچہ ہے جو موزیک ٹائل ڈیزائن کی طرح ہوتا ہے، جہاں مختلف حصے اپنی اپنی جگہ مکمل اور فعال ہوتے ہیں، مگر سب مل کر ایک مضبوط اور مربوط تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس نظام میں اتحاد کے ساتھ ساتھ ذیلی یونٹس کو ایک حد تک خودمختاری بھی حاصل ہوتی ہے، اور وہ ہنگامی حالات میں اعلیٰ قیادت کی اجازت کے بغیر بھی فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس پورے نظام کی منصوبہ بندی کئی سطحوں (Layers) پر پہلے سے طے ہوتی ہے، جس سے کسی بھی غیر معمولی صورت

حال میں نظام متاثر نہیں ہوتا۔


ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد قیادت کو محض شخصیات کے بجائے اداروں سے جوڑ دیا گیا۔ دینی، سیاسی اور انقلابی ادارے مل کر مسلسل قیادت تیار کرتے ہیں۔ ہر سطح پر متبادل قیادت موجود رہتی ہے، جو کسی بھی وقت ذمہ داری سنبھال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی بڑا رہنما ختم بھی ہو جائے تو نظام میں خلل نہیں آتا اور قیادت کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔


اس تصور کی ایک مثال امریکہ میں "Designated Survivor" کا نظام ہے، جہاں ایک نام زد فرد کو اس لیے محفوظ رکھا جاتا ہے کہ اگر تمام اعلیٰ حکام کسی حادثے یا حملے کا شکار ہو جائیں تو وہ فوراً قیادت سنبھال لے اور ملک میں انتشار پیدا نہ ہو۔ یہ بھی دراصل قیادت کے تسلسل کو یقینی بنانے کی ایک عملی صورت ہے۔

اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو موزیک سسٹم کی ایک عملی مثال ہندستان میں 1930–1932 کے دوران بھی ملتی ہے، جب آل انڈیا کانگریس، مجلس احرار اسلام ہند اور جمعیت علمائے ہند نے جدوجہدِ آزادی میں مؤثر حکمت عملی اپنائی۔ خصوصاً 1932 میں جمعیت علمائے ہند نے سول نافرمانی تحریک کے دوران 29/فروری 1932 میں رسمی قیادت کے بجائے مجلسِ حربی قائم کرکے “ڈکٹیٹرشپ نظام” کا آغاز کیا، جس کے تحت یکے بعد دیگرے 12 ڈکٹیٹر مقرر کیے گئے۔ اس سلسلے کے پہلے ڈکٹیٹر مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند تھے۔ اس نظام کا مقصد یہ تھا کہ اگر ایک قائد گرفتار ہو جائے تو فوراً دوسرا اس کی جگہ لے کر تحریک کو جاری رکھے، یوں قیادت کا تسلسل برقرار رہے۔


جنگی یا ہنگامی حالات میں موزیک سسٹم کی سب سے بڑی طاقت یہی ہوتی ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل رکتا نہیں، ادارے باہم مربوط رہتے ہیں اور عوامی اعتماد بھی قائم رہتا ہے۔ اس طرح ریاست کسی ایک فرد کے بجائے ایک مضبوط نظام کے سہارے چلتی ہے۔


اگر اس تناظر میں ہندستانی مسلمانوں کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہاں قیادت کے فقدان کی بڑی وجہ ایسے منظم نظام کا نہ ہونا ہے۔ قیادت اکثر خاندانی یا وراثتی بنیادوں تک محدود ہو جاتی ہے، نئی صلاحیتوں کو آگے آنے کے مواقع کم ملتے ہیں، اور ادارہ جاتی تربیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ نتیجتاً قیادت کا تسلسل قائم نہیں رہ پاتا۔

اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ادارہ جاتی بنیادوں پر قیادت کو فروغ دیا جائے، میرٹ کو ترجیح دی جائے، نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جائیں، اور ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیا جائے جو ہر سطح پر قیادت تیار کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ایک مضبوط، مستحکم اور دور اندیش قیادت وجود میں آ سکتی ہے۔


محمد یاسین جہازی

9891737350