افغانستان اور جمعیت علمائے ہند
محمد یاسین جہازی
ہندستان اور افغانستان کے باہمی رشتے کو اگر خالص اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو بیسویں صدی کے اوائل؛ بالخصوص 1920ء کے شروع میں ، جب کہ ہندستان میں دارالحرب اور دار الاسلام کی بحث زور شور کے ساتھ شروع تھی، تو اس بحث کا ایک حصہ ہجرت سے متعلق بھی تھا۔ہندستان سے افغانستان ہجرت کی تحریک،تحریک خلافت کے بعددوسری بڑی تحریک تھی، جوعزیز ہندی نامی ایک نوجوان کے بعض جذباتی بیانات اور مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ کی تائید سے شروع ہوئی۔ اس میں وقت کے تقریباً تمام علما نے حصہ لیا۔ شیخ الہندحضرت مولانا محمود حسن دیو بندیؒ اور حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ وغیرہ نے بھی ہجرت کی حمایت کی، گرچہ وہ مشروط تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں لوگ ہندستان سے ہجرت کرکے افغانستان منتقل ہونے لگے۔ جب افغانستان کی گنجائش جواب دینے لگی، تو:
’’9؍ا گست 1920ء کو امیر افغانستان سردار امان اللہ خاں نے ایک فرمان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ صرف ان مہاجرین کو افغانستان میں قبول کیا جائے گا، جواب تک آچکے ہیں،مزید مہاجرین کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘
’’افغانستان میں مہاجرین کی آمدنے حکومت افغانستان کے لیے سخت مشکلیں پیدا کر دی تھیں۔ بالآخر13؍اگست (1920ء)کو اس نے اپنی سرحد مہاجرین کے لیے بند کر دی۔‘‘
(تحریک ہجرت، از ڈاکٹر عقیل، ص؍221-222)
اس کے باوجود کہ 13؍ اگست1920ء کو سرحد بند کر دی گئی تھی؛ لیکن مہاجرین کے آتے ہوئے سیلاب کو روک دینا افغانستان حکومت کے بس کی بات نہ تھی۔ ہزاروں مہاجر اس کے بعد بھی افغانستان میں داخل ہو گئے۔
اس تحریک کے انجام کے بارے میںفاضل محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل لکھتے ہیں:
’’ان چالیس ہزار مہاجرین کے علاوہ جن کی تعداد کا اندازہ افغان حکومت نے لگایا تھا، تقریبا سات ہزار مہاجرین نے امیر افغانستان کے مذکورہ فرمان کے اجرا کے بعد بھی سرحد عبور کر لی تھی۔ درۂ خیبر کے بجائے دوسرے راستوں سے جانے والے مہاجروں کی صحیح تعداد کا کوئی اندازہ نہیں۔ ستمبر تک بھی مہاجروں کی مختلف ٹولیاں ہندستانی سرحد عبور کرتی رہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق ساٹھ ہزار سے زائد افراد نے ہجرت کی تھی۔ بہر حال ان مہاجرین میں سے تقریبا پچھتر فی صد ہندستان واپس آگئے۔ باقی یا تو وہیں رک گئے اور افغانوں میں مدغم ہوگئے، یا روس اور ترکی منتقل ہو گئے۔ ان میں سے ایک خاصی تعدا د راستہ ہی میں مختلف امراض اور دیگر وجوہات کے نتیجہ میں جاں بحق بھی ہوئی۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر نہیں، جو افغانستان میں، یا روس اور ترکی کے راستوں میں فوت ہوئے۔ جو ہندستان واپس آئے، انھیں بحال ہونے میں ایک عرصہ لگ گیا۔(تحریک ہجرت، ص؍ 225-226 )۔
(بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص؍157)
یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی کسی تجویز اور فیصلے میں تحریک ہجرت کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا؛ البتہ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ نے مولانا حسرت موہانی کی زیر صدارت منعقد 18 ؍ اپریل 1920ء کو ورکرز کانفرنس رائل تھیٹر دلی میں اپنی تقریر کے دوران فرمایا کہ:
’’خلافت کمیٹی نہ مسلمانوں سے ہجرت کو کہتی ہے نہ جہاد کو۔ وہ چاہتی ہے کہ گورنمنٹ کے ساتھ عدم اشتراک عمل کے اصول کام میں لائے جائیں اور سودیشی تحریک کی ترقی کی کوشش کی جائے۔‘‘(تحریک خلافت، قاضی محمد عدیل عباسی، ص؍ 144)
تحریک ہجرت کا خاتمہ
مولانا آزاد یہ نہیں چاہتے تھے کہ ہرشخص اپنے طور پر فیصلہ کرے اور کسی نظم اور بیعت کے بغیر ملک چھوڑے۔ مولانا غلام رسول مہر نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ:
’’یہ فتوی ترک موالات کے پروگرام کے نفاذ سے پیشتر دیا گیا تھا، جب ترک موالات کا پروگرام منظور ہو گیا اور جمعیت مرکز یہ خلافت و جمعیت علمائے ہند کے علاوہ کانگریس نے بھی اسے منظور کرلیا، تو پھر یہیں وسیع پیمانے پر کام شروع ہوگیا اور باہر جانے کی ضرورت نہ رہی۔‘‘
(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص؍149)
جمعیت علمائے ہند اور شاہ افغانستان کا خیرمقدم
بات ہے 1927ء کی، جب اس کے 11؍دسمبر کی تاریخ کو شاہ امان اللہ خان غازی شاہ افغانستان، اکھنڈ بھارت کراچی تشریف لائے، تو اہل ہند نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں جب 14؍دسمبر1927ء کو ممبئی کے ساحل پر قدم رکھا، تو اہل ہندخیرمقدم کا سراپا بن گئے۔ دیکھیے تفصیل الجمعیۃ کی زبانی:
’’شاہ افغانستان 11؍دسمبر1927ء کو ہندستان کے دورے کے مقصد سے کراچی پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ از14؍ تا16؍دسمبر1927وہ ممبئی میں رہے، جہاں اہالیان ممبئی نے زبردست استقبال کیا ۔ اور ۱۷؍دسمبر کوممبئی ہی سے روانہ ہوگئے۔ اس موقع پر جمعیت علمائے ہند کا بے باک ترجمان سہ روزہ الجمعیۃ نے شاہ افغانستان کے لیے درج ذیل خیرمقدمی کلمات لکھے:
’’ہم دلی اخلاص و عقیدت کے ساتھ اپنے اس غربت کدۂ وطن میں اعلیٰ حضرت سلطان الاسلام و المسلمین امیر الملۃ والدین شاہ امان اللہ خان غازی خلد اللہ ملکہ و حشمتہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس غلام سرزمین کے کہاں ایسے نصیب کہ دولت مستقلۂ افغانستان کا پادشاہ ذی جاہ اس پر قدم رکھے ۔ اپنے عالی قدر مہمان کی تشریف فرمائی سے مسرور و شادماں ہونا تو بہرحال ایک فطری امر ہے؛ لیکن شرم و ندامت کایہ احساس ہمارے لیے سوہان روح ہے کہ ہم غلامی کا طوق پہنے ہوئے اس شجاع وغیور فرماںروا کا استقبال کر رہے ہیں، جن نے اپنے ملک وملت کی آزادی کو عطیہ، یا ورثہ میں نہیں پایا؛بلکہ خود اپنی قوت بازو سے حاصل کیا ہے۔ کاش!آج ہم بھی آزاد ہوتے اور آزادانسانوں کی طرح اپنے آزاد ہمسایہ کو خوش آمدید کہہ سکتے۔
اعلیٰ حضرت کی ذات اور ان کی شریف ونجیب قوم سے ہم ہندی مسلمانوں کو جومحبت ہے، اس کی محض ایک جھلک بمبئی کی ان ہزارہا آنکھوں میں نظر آئے گی، جو شوق دید کی بے تابی کے ساتھ اعماق قلب کے سچے اور گہرے جذبات کی ترجمانی کریں گی۔ ہم جانتے ہیں کہ اس بے بسی و کمزوری کی حالت میں اسلام اور ملت اسلامیہ کی کوئی خدمت ہم سے بن نہیں آسکتی؛مگر اس عالم حزن و یاس میں صرف یہ چیز ہمارے لیے سرمایۂ سکون و اطمینان بہم پہنچاتی ہے کہ ہمارے پہلومیں اک ایسی بہادر قوم موجودہے، جواپنے مضبوط ہاتھوں سے شریعت مصطفویہ علی صاجہا التحیۃ والسلام کے علم کوسبنھالے ہوئے ہے اوراپنے گرم خون سے محمدرسول اللہ ﷺ (ارواحنافداہ ) کے چمن کوسینچنے کے لیے مستعد ہے۔ ہم سب مسلمان بارگاہ خداوندی میں دست بہ د عاہیں کہ ملت افغانیہ اپنے پادشاہ کے ساتھ خدمت دین حنیف میں ثابت قدم رہے اور ہم اہل ہند کو بھی اتنی قوت و طاقت عطاہو کہ اپنی غلامی کی زنجیریں توڑ کر اسلام اور ملت اسلامیہ کی عملی خدمت کرسکیں۔ آمین۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، 14؍ دسمبر 1927ء)
شاہ افغانستان کے خیر مقدم کے لیے برقی پیغام
اسی موقع پر13؍دسمبر1927ء کو اعلیٰ حضرت شاہ افغانستان کے خیرمقدم کے لیے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نے درج ذیل برقی پیغام بھیجا:
’’جمعیت علمائے ہند اعلیٰ حضرت بادشاہ افغانستان کے ورود مسعود ہند پر مخلصانہ خیر مقدم اور ہدیۂ تہنیت پیش کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اعلیٰ حضرت کا یہ سفر دینی و دنیوی برکات کے حصول کا ذریعہ ہو اور اعلیٰ حضرت راحت و مسرت کے ساتھ مراجعت فرمائے وطن ہوں۔‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ،18؍دسمبر1927ء)
افغانستان کی شورش پر جمعیت علمائے ہند کا موقف
1929ء میں افغانستان میں شورش پیدا ہوئی۔ اس کے متعلق متضاد خبروں اور ہندستان کے غیر ذمہ دارانہ اخبارات کی تحریروں نے مسلمانوں کی رائے عامہ میں شدید اختلافات پیدا کر دیے۔ اس بنا پر ضرورت محسوس ہوئی کہ جمعیت علما کی جانب سے کوئی فتویٰ، یا بیان حالاتِ افغانستان کے متعلق مرتب کر کے عوام کی اصلاح کے لیے اس کی اشاعت کی جائے۔ مزید براں بعض حصص ملک کے ہر قسم کے خطوط بھی موصول ہوئے کہ جمعیت علما کو اس موقع پر شرعی حیثیت سے عوام کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
چنانچہ یکم و 2؍اپریل 1929ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں غور و فکر اور تبادلۂ افکارو خیالات کے بعد ایک متفقہ اعلان متعلقہ شورشِ افغانستان مرتب کیا گیا۔چوں کہ اسے حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے تیار کیا تھا، اس لیے حضرت صدر محترم کے نام ہی سے شائع کیا گیا، جو درج ذیل ہے:
افغانستان کی شورش کے متعلق صدرِ جمعیت علمائے ہند کا بیان
افغانستان کی سلطنت ایک ایشیائی اسلامی آزاد حکومت ہے۔ عموماً تمام ایشیا کا اور خصوصاً ہندستان کا امن و امان، سلطنتِ افغانستان کی آزادی اور استقلال و استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ صرف ایک ایشیائی اور ہمسایہ حکومت ہونے کی وجہ سے نہیں؛ بلکہ خود ہندستان کی فلاح و بہبود کے لحاظ سے بھی تمام ہندستانی افغانستان کو آزاد اور طاقت ور دیکھنے کی تمنا رکھتے ہیں۔
افغانستان کے صاحبِ عزم تاج دار غازی امان اللہ خان کی مساعیِ جمیلہ نے چند سال کے قلیل عرصے میں افغانستان کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کر دیا تھا، اور یورپ کی دُولِ عُظمیٰ نے اس کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم کر کے سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ وہی افغانستان-جو دس سال قبل کسی حکومت کے ساتھ براہِ راست کوئی معاہدہ نہ کر سکتا تھا اور برطانیہ کی وظیفہ خواری کی زندگی بسر کر رہا تھا- آج دُولِ عُظمیٰ سے مساویانہ معاہدے کر رہا تھا اور یورپ کی بڑی بڑی سلطنتوں میں شاہِ افغانستان کا ایک آزاد اور خودمختار بادشاہ کی حیثیت میں استقبال کیا گیا تھا۔
آزادی کی یہ نعمت اتنی عظیم الشان نعمت تھی ،جس کی قدر و قیمت وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں، جنھوں نے رب العزت کے ارشاد:
وَلَن یَجْعَلَ اللَّہُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا (النساء:141)
پر کافی غور کیا ہے۔ مگر افسوس کہ یہی حکومت-جو ایشیا اور ملتِ اسلامیہ کی امیدگاہ تھی- موجودہ شورش کی وجہ سے عالمِ اضطراب میں مبتلا ہے، جس کی وجہ سے بہی خواہان ایشیا اور فدا کارانِ ملتِ اسلامیہ خون کے آنسو رو رہے ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلسِ عاملہ کا یہ اجلاس، ان تمام حالات و واقعات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے -جو اس سلسلے میں معلوم ہوئے ہیں- حسبِ ذیل حقیقتوں کا اظہار ضروری سمجھتا ہے:
الف: افغانستان کی آزادی اور عروج و ترقی کو وہ یورپین طاقتیں نہ دیکھ سکیں، جن کی زندگی کا دار و مدار استعمار اور حریفانہ تقدم کے سوا اور کچھ نہیں ہے، اور جو آزاد اقوام کی آزادی چھیننے اور ان کو غلام بنانے کے بدترین گناہ کو اعلیٰ درجے کی نیکی سمجھتی ہیں۔ جن کے نزدیک یورپ کی گوری رنگت حکومت، اور ایشیا کی رنگینی غلامی کے مترادف ہے۔
اس لیے انھوں نے افغانستان کی بربادی کے لیے بھی وہی وسائل اختیار کیے، جو دوسری آزاد قوموں کو غلام بنانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں، یعنی افغانستان میں داخلی فتنہ اور شورش پیدا کرنا اور خانہ جنگی میں مبتلا کر دینا۔
اعلیٰ حضرت غازی امان اللہ خان جیسا زیرک و ہوش مند تاج دار بھی اس چال کو سمجھ نہ سکا، اور خود اسی کی زبان و قلم سے ایسے احکام صادر ہوئے، یا کرا دیے گئے، جنھوں نے ملتِ افغانیہ میں ناراضی کے جذبات پیدا کر دیے اور بغاوت تک نوبت پہنچا دی۔ بغاوت کا سرچشمہ تو وہی ایشیا اور اسلام کے دشمنوں کی استعمار اور حریفانہ تقدم کی پالیسی ہے، مگر اس کو ایسے عیّارانہ طریقے سے عمل میںلاگیا کہ نہ غازی امان اللہ خان کو اس کا بروقت احساس ہوا اور نہ ملتِ افغانیہ اس کی تہہ تک پہنچ سکی۔
ب: غازی امان اللہ خان کی نافذ کردہ اصلاحات ہم تک اخبارات کے ذریعے پہنچی ہیں، اور اخباروں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غازی ممدوح نے اصلاحات کے پروگرام کو ملتوی کرنے اور نافذ شدہ اصلاحات کو واپس لینے کا، اپنی دست برداری سے پہلے اعلان کر دیا تھا۔ نیز ہم نے وہ اعلان بھی دیکھا جو غازی ممدوح کے خلاف چند وزرا، امرا اور علما کے نام سے شائع ہوا تھا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اصلاحات کی نوعیت اور فریقین کے بیانات کی حقیقت کیا ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگر وہ اصلاحات کا مزعومہ پروگرام اور واپسی کے اعلان کی خبر صحیح ہے، تو اس سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ خود غازی ممدوح نے اصلاحات کے پروگرام کو بھی شورش کے اسباب میں سے ایک سبب سمجھا اور اس کی واپسی کے اعلان سے مخالفین کو مطمئن کرنے کی سعی کی۔
ج: جمعیت علمائے ہند، اس اعلان کو پیشِ نظر رکھنے کے باوجود -جو غازی ممدوح کے خلاف شائع کیا گیا ہے- یہ رائے رکھتی ہے کہ نہ غازی ممدوح کی تکفیر کی جا سکتی ہے اور نہ ان کے خلاف بغاوت و خروج ہی صحیح ہو سکتا ہے۔ اور اگر اصلاح کی واپسی کے اعلان کی خبر صحیح ہو تو پھر تو غازی ممدوح کی مخالفت کی کوئی وجہ ہی باقی نہیں رہتی۔ اگرچہ بعض اصلاحات حدِ صحت و اعتدال سے متجاوز ہیں، تاہم ان کی بنا پر جمعیت علمائے ہند کے سامنے اب تک کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے، جس کی بنا پر اسے غازی امان اللہ خان کے فرزندِ توحید اور شیدائے اسلام ہونے میں شبہ ہو۔
اس لیے جمعیت علما کا یہ جلسہ تمام ملتِ افغانیہ سے التجا کرتا ہے کہ وہ اس بغاوت و شورش کے سلسلے میں، ایک آزاد اسلامی حکومت کی تباہی،عظیم الشان ملکی خزانوں اور فوجی طاقتوں اور ذخائرِ حرب کی بربادی،ہزاروں فرزندانِ توحید کی جانوں کا نقصان، آپس کی خانہ جنگی اور عداوتیں،دشمنانِ اسلام کی کامیابی،اور سب سے بڑھ کر غلامی کے وہ لعنتی طوق-جو اس شورش کے نتیجے میں تمام ملتِ افغانیہ کی گردنوں میں پڑنے والے ہیں- ان تمام ہول ناک نتائج پر غور کرے۔ اور غازی امان اللہ خان کے ظلِّ ہمایونی میں افغانستان کی اسلامی سلطنت کو ہلاکت سے بچانے، شریعت کا احترام کرنے، اور ملتِ افغانیہ کی آزادی، عزت اور وقار کو برقرار رکھنے میں انتہائی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہ کرے۔محمد کفایت اللہ۔ (ریکارڈ روم)
حضرت مفتی اعظم ہند صدر جمعیت کے نام نادر خاں کا پیغام
یہ بات ہے 9؍ستمبر1929ء کی، جب کہ جنرل نادر خان نے حکومت افغانستان کی زبوں حالی کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند سے امداد کا طالب ہوا۔ چنانچہ الجمعیۃ کی رپورٹ کے مطابق:
’’جناب مرتضی احمد خاں صاحب مدیر جریدہ افغانستان نے جنر ل نادرکی ہدایت کے مطابق جنرل موصوف کا مندرجہ ذیل پیغام حضرت العلامہ محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی خدمت میں ارسال فرمایا :
درجرائد عالیہ ہند و جریدہ فریدہ افغانستان علاوہ از اظہار ہمدردی و تالم معنوی و قلبی کہ برادران ہندی ما راجع باحوال تباہ قابل ترحم افغانستان دارند، می خواہند کہ باعانت مالی نیز برادران متألم ومتأثر خودرا امداد و مجاہدین حریت افغانی را تقویۃ نمایند، وضعیت موجودہ مجاہدین خیلے بامداد مالی برادران ہمدرد خویش احتیاج دارد، ویگانہ وسیلہ پیش رفت مجاہدین و نجات افغانستان ازیں تہلکہ و بربادی وابستہ بہ امداد است، لذا من ازیں عقیدہ عالیہ و ارادہ حسنہ برادران ہندی خود اظہار ممنونیت و امتنان نمودہ امید می کنم کہ ارادہ ذہنی خود شاترا فوری لباس عملی پوشانیدہ ملت و رد رسیدہ افغانستان را دریں حالت فلاکت و تباہی شان دستگیری نمایند۔
امید دارم کہ ایں حالت زار افغانستان ہمہ ہمدردان نوع بشر را متأثرہ نمودہ باشد، ودست معاونت خود شان را ازیں ملت مصیبت زدہ کوتاہ نخواہد فرمود، و ایں ملت را برائے ہمیشہ ممنون احسان خواہند رود۔ بہ امضاء محمد نادر خاں سپہ سالار۔
ترجمہ:ہندستان کے جرائد عالیہ اور جریدہ فریدہ افغانستان میں ہمارے ہندی بھائی اس ہمدردی اور دلی اور معنوی رنج و الم کے اظہار کے علاوہ -جو وہ افغانستان کی قابل رحم تباہ حالی پر کہتے ہیں -اس امر کے بھی خواہاں ہیں کہ اپنے رنج رسیدہ اور متأثر بھائیوں کی مالی امداد کرکے جہاد حریت افغانی کے مجاہدین کی تقویت کا باعث بنیں، مجاہدین کی موجودہ حالت اپنے ہمدرد بھائیوں کی مالی امداد کی سخت محتاج ہے اور مجاہدین کی کامیابی اور تہلکہ اور بہادری سے افغانستان کی نجات کا واحد ذریعہ یہی امداد ہے ۔ لہذا میں اپنے ہندی بھائیوں کے اس نیک ارادے اور مبارک عقیدے پر ممنونیت و تشکر کا اظہار کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے اس ذہنی ارادہ کو فورا عملی جامہ پہنائیں اور افغانستان کی درد رسیدہ ملت کی دست گیری اس فلاکت اور تباہی کے حال میں کریں۔
مجھے امید ہے کہ افغانستان کی موجودہ حالت زار سے نوع انسانی کے تمام ہمدرد متأثر ہورہے ہوںگے اور اس مصیبت زدہ قوم کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچیں گے اور اس قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ممنون احسان بنالیں گے۔ (دستخط) محمد نادر خاں سپہ سالار۔ ‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ،13؍اکتوبر1929ء)
فتح کابل پر اظہار مسرت کے لیے عظیم الشان جلسہ
امداد طلبی کو ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے افغانستان کے ایک حصہ کابل پر جنرل نادر خاں کو فتح نصیب ہوئی، جس پر اظہار مسرت کے لیے 18؍ اکتوبر 1929ء کو اورجنرل نادر خاں پر اعتماد اورحکومت برطانیہ سے ناطرف داری کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
18؍اکتوبر کی شب بعد نماز عشامسلمانان دہلی کا ایک عظیم الشان جلسہ جامع مسجد دہلی میں منعقد ہوا۔ حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جلسہ تھے۔ حضرت مولانا احمد سعید صاحب، مولانا سلطان محمود صاحب ، خواجہ غلام السبطین صاحب، مولانا ولایت احمد صاحب نے بصیرت افروز تقریریں فرمائیں۔ مجمع کا اندازہ تقریباً سات ہزار کیا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل تجاویز با تفاق آرا منظور کی گئیں:
فتح کابل پر جنرل نادر خاں کو ہدیۂ تہنیت
مسلمانان دہلی کا یہ جلسہ سپہ سالار اعظم جنرل نادر خاں کی مخلصانہ مساعی جمیلہ کی کامیابی اور ان کے بھائی شاہ ولی خاں کی سرکردگی میں ان فوجوں کے کابل میںداخلہ پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کرتا ہے۔ اور اس کو افغانستان اورافغان قوم کی اعلیٰ درجہ کی خوش نصیبی سمجھتا ہے۔ اور جنرل نادر خان اور ان کے بھائیوں کی خدمت میں ہدیۂ تہنیت پیش کرتا ہے۔ جلسہ کو اعتماد ہے کہ سپہ سالار غازی جنرل نادر خاں افغان کو متحد کرنے اور افغانستان کے استقلال و آزادی کو بحال کرنے اورایک مضبوط، مستحکم، آزاد حکومت قائم کر نے میں اپنی تمام طاقت صرف کر دیں گے اور ان کا اخلاص ان کی کا میابی کا کفیل ہوگا۔ افغانستان کے تمام قبائل اس محسن افغانستان کے معین و مددگار ہو کر استقلال و آزادی کے مقصد کی تکمیل کریںگے۔
برطانیہ گورنمنٹ سے ناطرف داری کی پالیسی پرقائم رکھنے کا مشورہ
مسلمانان دہلی کا یہ جلسہ گورنمنٹ برطانیہ کو توجہ دلاتا ہے کہ وہ اپنی اعلان کردہ نا طرف داری کی پالیسی پر تمام طریقہ سے قائم رہے، اورکسی ادنیٰ سے ادنیٰ ایسے فعل کا اس سے صدور نہ ہو، جو جنرل نادر خاں کے تکمیل مقصد کے راستہ میں سد راہ ہو۔
جنرل نادر خان خود افغانستان کا ایک سعادت مند فرزندہے اور اس کے اخلاص پر مسلمانان ہند کو اعتماد ہے۔(سہ روزہ الجمعیۃ،20؍اکتوبر1929ء)
مولانا احمدسعید صاحب خطاب
اس اجلاس میں مولانا احمد سعید صاحب نے جو خطاب فرمایا، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
18؍کتو بر1929ء کو بعد نماز جمعہ دہلی کی جامع مسجد میں مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند نے جنرل نادر خان کی بادشاہت کے متعلق ایک مفصل اور مبسوط تقریر فرمائی۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ خبر ہنوز تصدیق طلب ہے۔ مسلمانوں کو اس سے متأثر نہ ہونا چا ہیے۔ اگر اس خبر کی تصدیق بھی ہوجائے کہ جنرل نادر خان نے بادشاہت قبول کرلی ہے، تب بھی تأثر اور رنجیدگی کی کوئی وجہ نہیں۔ اس وقت تمام دنیا کے نزدیک جہاںبانی کا یہ اصول مسلم ہے کہ ہر قوم کا اپنے اوپر آپ حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے حق میں مداخلت کرے۔ جب ہم ہندستان کے لیے اس حق پر لڑتے ہیں کہ ہندستان پر ہندستانیوں کو اور فقط ہندستانیوں کو حکومت کا حق ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ افغانستان کے لیے یہ حق تسلیم نہ کیا جائے۔ اگر تمام افغانستان جنرل نادر خاں کی بادشاہت پر متفق ہو جاتا ہے، تومیں نہیں سمجھ سکتا کہ ہندستانی غلاموں کو یہ حق کس طرح حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ جنرل نادرخان پر اعتراض کر یں، یا ان کی نیت پر کوئی حملہ کیا جائے۔
افغانستان کے متعلق میرے خیال میں اس وقت کوئی شخص جنر ل نادر خاں سے بہتر نہیں ہے۔ افغانی قوم کا یہ انتہائی تدبر ہوگا اگر وہ باہمی اتفاق سے جنرل نادر خان کو اپنا بادشاہ منتخب کرلے۔ اگر چہ مجھے اس امر کا یقین ہے کہ نادرخاں اپنے وعدے کے موافق اس بادشاہت کو ہرگز قبول نہ کریں گے؛ لیکن اگر ان کو قبائل نے مجبور کیا اورافغانستان ان جیسے سچے خادم پر متحد ہوگیا، تو افغانستان میں امن وامان قائم کرنے کی غرض سے اُن کو حکومت قبول کر لینی چاہیے۔
جو لوگ نادر خان کو شاہ امان اللہ کی واپسی کا مشورہ دے رہے ہیں، وہ اُن سے زیادہ نادان اور عجلت پسند ہیں، جنھوںنے ابتدامیں انھیں قندھار چلو کا مشورہ دیا تھا۔ جس وقت تک ملک میں صحیح طور پر امن وامان قائم نہ ہو جائے اور افغانیوں کی کثرت دوبارہ شاہ امان اللہ خاں کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے، اس وقت تک کوئی ایسا غلط مشورہ جنرل نادر خاں کو دینا قبل ازوقت اور افغانستان کی تباہی کے مرادف ہوگا۔
جنرل نادر خاں پر افغانستان کے متفق ہو جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ شاہ امان اللہ خاں کی واپسی پر رضا مند ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس موقع پرہندستان کے جلد باز لیڈر اپنی زبان اور قلم کو قابو میں رکھیں گے اور لا مذہب ہندوؤں کی کورانہ تقلید سے اپنے کو محفوظ ر کھیں گے۔
مولانا کی تقریر تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ جلسہ کے آخر میں اعلیٰ حضرت حضور نظام کی والدہ محتر م کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔(سہ روزہ الجمعیۃ، 24؍ اکتوبر 1929ء)
جمعیت علمائے ہند کا اظہار مسرت
برطانوی حکومت نے امان اللہ خاں کے اقتدار اور افغانستان کی آزادی کو تسلیم کر لیا تھا؛ لیکن اسے دونوں میں سے ایک بات بھی پسند نہ تھی۔ برطانوی حکومت نے ایک طرف تو امان اللہ خاں کو ترقی پسندی کی راہ پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی ،دوسری طرف افغانستان کی رجعت پسندی قوتوں کو اس کے خلاف بھڑکایا اور بالآخر ایک تا جیک ڈا کو حبیب اللہ( بچہ سقہ) کو اس کے مقابلے پر کھڑا کر دیا، جس نے جنوری 1929ء میں امان اللہ خاں کو نا کام بنا دیا۔ امان اللہ خاں چمن کے راستے افغانستان سے نکل گئے اور اٹلی میں جا کر سکونت اختیار کر لی۔
(اردو دایرۂ معارف اسلامیہ، جلد :4، لاہور، ص؍1003)
افغانستان میں انقلاب اقتدار کے پس منظر پر الجمعیۃ دہلی نے اپنے ایک مضمون میں روشنی ڈالی، جسے ’’سچ لکھنو‘‘ سے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
1919ء میں جب امیر حبیب اللہ خاں کے قتل اور ان کی غیر متوقع شہادت کے بعد جس دن سے شاہ امان اللہ خاں تخت کابل پر متمکن ہوئے تھے، اسی وقت سے اس جواں بخت تاج دار کے ساتھ عالم اسلامی کی ہزار ہا امیدیں وابستہ ہو چکی تھیں۔ اور جب اس محب ملک و وطن نے 1919ء میں اپنی قوت بازو اور حسن تدبر، نیز ملائے شور بازار کے فتوے اور جنرل نادر خاں کی شجاعت سے افغانستان کو آزاد کرایا، اس وقت سے تو شاہ امان اللہ خاں کے ساتھ عالم اسلام کی گرویدگی اور شیفتگی کی یہ حالت ہوگئی کہ مصطفے کمال نے جب خلافت کے القا کا اعلان کیا، تو عام طور سے مسلمانوں کا یہ خیال ہو گیا کہ شاہ امان اللہ خاں کو خلافت کے منصب جلیلہ پر فائز کیا جائے۔ چنانچہ متعدد بار مختلف گوشوں سے اس قسم کے خیالات کا اظہار بھی کیا گیا۔ پھر بھی بعض حضرات اس فکر میں ضرور تھے کہ مسلمانوں کے لیے ایک مرکز قائم کیا جائے اور وہ افغانستان ہو۔ یہ تحر یک اگر چہ صرف چند دماغوں ہی میں تھی؛ لیکن جس طرح مسلمان اس امر پر غور کر رہے تھے کہ افغانستان کودارالخلافہ بنایا جائے، اسی طرح شاطران یورپ بھی اس فکر میں تھے کہ افغانستان کا وہ مہرہ-جو دو قبیلوں کے درمیان آپھنسا ہے- زیادہ طاقت ور نہ ہو جائے، یورپ کی دوربین نگاہوں نے مسلمانوں کے اس مقدس خیال کا یہی توڑ مناسب سمجھا کہ جس طرح ممکن ہو، اس نو جوان اور ناتجربہ کار بادشاہ کو یورپ کی تعلیم و تمدن سے اتنا قریب کر دیا جائے کہ مصطفیٰ کمال کی طرح مسلمان اس سے بھی نا امید ہو جائیں اورشاہ امان اللہ خاں کا بڑھتا ہوا اقتدار خاک میں ملا دیا جائے۔
یہی وجہ تھی کہ شاہ امان اللہ خاں پر محمود طرزی اور ان کے خاندان کو مسلط کر دیا گیا، اور جنرل نا در خاں جیسے محب وطن کو افغانستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ محمود طرزی کا تسلط حقیقۃ یورپ اور اس کی تہذیب کا تسلط تھا، جس نے آہستہ آہستہ ایک افغان بادشاہ کو یورپین طرز تہذیب کا دل دادہ بنا دیا اور ایک نا تجربہ کار نو جوان یہ سمجھ بیٹھا کہ ملک کی ترقی کا دار و مدار ہی یورپین تہذیب پر موقوف ہے۔ شاہ امان اللہ خاں اس غلط اعتقاد پر یہاں تک راسخ اور مضبوط ہو گئے کہ آخر انھوں نے یورپ کے سفر کی تیاری کی اور1928ء میں یورپ تشریف لے گئے۔ جس وقت شاہ افغانستان کراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہوئے اور ملکہ ثریا نے برقعے کو خیر باد کہا، اسی وقت ہمارا ما تھا ٹھنکا تھا کہ خدا خیر کرے۔ ملکہ کا یہ اقدام موجب خیر و برکت نہیں ہے۔ دورانِ سفر میں جو خبریں ہم کو موصول ہوتی رہیں، وہ بھی حوصلہ شکن اور مایوس کن تھیں؛ لیکن ہمارا خیال تھا کہ یہ تہذیب یورپ ہی میں ختم ہو جائے گی اور یہ بلا شاہ امان اللہ خان کے ساتھ افغانستان میں داخل نہ ہوگی ؛لیکن ہمارا خیال غلط ثابت ہوا۔ اور شاہ امان اللہ خان نے یورپ کی واپسی پر فورا ہی اصلاحات کا نفاذ شروع کر دیا، جن کی مذہبی حیثیت خواہ کچھ بھی ہو، لیکن افغانستان کے اولڈ فیشن اور کٹر مسلمانوں کے لیے یقینا نا قابل برداشت تھیں۔ باوجود اس کے کہ یہ اصلاحات اگر چہ قبل از وقت تھیں، افغانستان نے ان کو طوعاً یا کر ہاً برداشت کیا۔ ان اصلاحات کے خلاف کئی نوٹ لکھے اور اعلیٰ حضرت کو بھی نہایت ادب و احترام کے ساتھ کئی بار توجہ دلائی۔
ان تمام نوٹوں کے فارسی تراجم بھی اعلیٰ حضرت کی خدمت میں بھیجے گئے ؛لیکن شاہ امان اللہ خان پر ان معروضات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ ہندستان کے بعض دیگر مسلم اخبارات نے بھی اعلیٰ حضرت کو توجہ دلائی۔ افغانستان کے بعض مقتدر علماو مشائخ نے بھی ان اصلاحات کے خلاف آواز بلند کی؛ لیکن ان تمام امور کے باوجود انھوں نے اپنے اصلاحی خیالات میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی؛ بلکہ ان علما و مشائخ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ،جن کے ایک اشارہ پر 1919ء میں پچاس ہزار مجاہد امیر صاحب کو مل گئے تھے۔ اور جو افغانستان کی آزادی کے سب سے بڑے حامی تھے اور جن کی سعی سے جنرل نادر خاں کو تھل پر فتح نصیب ہوئی تھی۔ جب اس قسم کے مقدس اور محب وطن علما کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا، تو افغان قوم کے لیے امیر صاحب کایہ رویہ نا قابل برداشت ہو گیا اور افغانستان کے ان پڑھ اور جاہل قبائل نے بغاوت کا علم بلند کر دیا۔
سب سے پہلے امیر صاحب کے اس رویے اور اقدام سے شنواری باغی ہوے۔ شنواریوں کی یہ بغاوت اس قدر عام ہوئی کہ تمام افغانستان کی فضا مکدر ہوگئی۔ شاطران یورپ -جو عرصے سے موقع کی تاک میں تھے- انھوں نے اس شورش سے فائدہ اٹھایا اور بعض علما و مشائخ کو اپنی چالوں کا شکار بنالیا۔ علما- جو امیر صاحب کے اصلاحی قوانین سے پہلے ہی متأثر تھے -جب ان کو دینی خدمت کے ساتھ ساتھ یورپ کی ٹکسال کے سنہرے سکے بھی ملنے لگے، تو انھوں نے ہم خرما وہم ثواب سمجھ کر خوب اچھی طرح بغاوت کو مستقل کیا۔ اور بجائے فتنۂ باغیہ کو قابو میں کرنے کے، اس کو امیر صاحب کے خلاف ابھارنے میں سعی کی۔ اور دن بدن یہ آگ بڑھتی گئی۔
(ہفت روزہ سچ لکھنو،19؍ جولائی 1929 ء، بہ حوالہ سہ روزہ الجمعیۃدہلی)
فتح کابل پر مسرت کا اظہار
جنرل نادر خاں نے بچہ سقہ سے جنگ کرکے کابل کو فتح کرلیا، جس پر جمعیت علمائے ہند نے مبارک باد پیش کی تھی۔ تاریخی شواہد پیش خدمت ہیں۔
16؍ستمبر1929ء کو درانی لشکریوں نے قندھار پر قبضہ کرلیا اور مختلف مقامات پر ہلالی پرچم لہرایا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،20؍ستمبر1929ء) ۔
’’پشاور 21؍ستمبر۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور کا نامہ نگار خصوصی رقم طراز ہے:
کابل کی ایک اطلاع مظہر ہے کہ بچہ سقہ نے جبل السراج میں مغلوب ہوکر غازی نادر خاں کی اطاعت قبول کرلی ہے ۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28؍ اکتوبر 1929ء)
’’پشاور۔یکم نومبر۔ کابل سے حال ہی میں ایک غیر مصدقہ خبر آئی ہے کہ بچہ سقہ، اپنے گیارہ ساتھیوں سمیت شیرپور چھاونی میں آج شام کو شاہ نادرخاں کے حکم سے گولی سے اڑادیا گیا۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ،5؍نومبر1929ء)
’’جنرل نادر خاں نے سقوط کابل کی تصدیق کردی ہے ۔ پشاور کی ریلیف کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کے روز فتح کابل کا یوم جشن منایا جائے ۔ تمام ہندستانیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ،13؍اکتوبر1929ء)
جنرل نادر کاں کا حیرت انگیز کارنامہ
صرف ایک سال کے اندر اندر افغانستان میں جو انقلابات رونما ہوئے ہیں، انھوں نے تمام دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ شاہ امان اللہ خاں جیسے بیدار مغز اور روشن خیال بادشاہ کا یکایک الجھنوں میں مبتلا ہوجانا اور نہایت شدید بغاوت کے مقابلہ میں اپنے پایۂ تخت کو چھوڑ کر قندھار چلاجانا اور وہاں سے بصد حسرت و یاس ہندستان آنا اور یورپ کا سفر اختیار کرنا ، بچہ سقہ جیسے نااہل شخص کا باغیوں کی امداد سے تخت افغانستان پر متمکن ہوکر کابل کی آبادی کو اپنے مظالم کا نشانہ بنانا اور سردار علی احمد جان جیسے بہادر سپہ سالار کو قتل کرادینا اور جنرل نادر خاں کا یورپ سے سفر کرکے ہندستان آنا اور ہندستان سے روانہ ہوکر ایک چھوٹے سے قصبہ علی خیل میں قیام کرنا اور قبائل کو ہموار کرکے لشکروں کو ترتیب دینا اور اپنے بھائیوں کی کمان میں اپنی افواج کو کابل پر حملہ کرنے کے لیے بھیجنا اور اس میں کامیاب ہوجانا؛ یہ سب ایسے واقعات ہیں،جنھیں قصہ کہانی کے طور پر سنا اور سنایا جاسکتا ہے ۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 16؍ اکتوبر1929ء)
’’حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندنے مندرجہ ذیل برقی پیغام جنرل نادر خاں کی خدمت میں ارسال فرمایا ہے :
آپ کی شان دار فتح پر ہدیۂ مبارک باد پیش کرتا ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو آئندہ بھی ان عزائم و مقاصد میں کامیاب فرمائے، جو آپ نے ہندستان سے گزرتے وقت ملاقات کے دوران میں ظاہر فرمائے تھے ۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی یہ فتح ملت افغانیہ کے لیے مستقل اتحاد و اتفاق کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ ‘‘(سہ روزہ الجمعیۃ، 16؍ اکتوبر1929ء)
اسی طرح جمعیت علمائے ہند کے ناظم اعلیٰ مولانا احمد سعید صاحب نے بھی مبارک بادی پیش کی۔ یہ حوالہ دیکھیے:
’’12؍ اکتوبر۔ آج مقامی ہم عصرتیج کے نمائندہ خصوصی نے حضرت مولانا احمدسعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہندسے ملاقات کر کے یہ درخواست کی تھی کہ ممدوح جنرل نادر خاں کی تازہ فتح پر اظہار خیال فرمائیں، چنا نچہ حضرت مولانا نے نما ئندہ مذکور کو مندرجہ ذیل بیان بغرض اشاعت دیا ہے:
جنرل نادر خاں کے بھائی شاہ محمد ولی خاں کی فتح کے متعلق جو خبر موثق ذرائع سے موصول ہوئی ہے، اس نے نہ صرف ہندستان؛ بلکہ تمام مشرقی ،ممالک میں مسرت کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ انقلاب افغانستان کے باعث ملت افغانیہ کی تباہی اور بربادی کے جو سامان پیدا ہو گئے تھے، وہ اس شان دارفتح کے بعد بالکل ختم ہو جائیں گے۔ جنرل نادر خان کی شخصیت کے متعلق مجھے ذاتی طور پر جو علم حاصل ہے، اس کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی جماعت مستقبل میںافغانستان کے متعلق جو کچھ فیصلہ کرے گی، اس میں ملت افغانی کی فلاح و بہبود اور شریعت کے تحفظ کا پوری طرح لحاظ رکھا جائے گا۔ اگرچہ اس وقت یہ نہیں کہا جاسکتا کہ افغانستان کا آئندہ فرماںروا کون ہوگا ؛مگر یہ امر یقینی ہے کہ جنرل نادر خاں کی فتح کے بعد کا بل کا تخت اسی کو مل سکے گی، جس پر ملت افغانیہ متفق ہوگی۔
اگر ایسے وقت میں-جب کہ روس اور برطانیہ کا جدید معاہدہ ہورہا ہے اور ایشیائی طاقتوں کے لیے ایک بالکل نیا خطرہ پیدا کیا جا رہا ہے- جنرل نادرخاں کو یہ فتح حاصل نہ ہوجاتی، تو افغانستان اپنے انتشار و افتراق کے باعث اغیار کی ریشہ دوانیوں کا ضرور شکار ہوجاتا اورکسی ایسی مصیبت میں گرفتار ہوتاکہ اسے سالہا سال تک سنبھلنے کا موقع میسر نہ آسکتا، اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنرل نادر خان کی یہ فتح ایک تائید غیبی ہے، جس نے افغانستان کو مکمل تباہی سے بچالیا ہے اور اس کا پھر امکان پیدا کر دیا ہے کہ جس طرح شاہ امان اللہ خان کے گذشتہ عہد میں ملت افغانیہ اپنے اتحاد و اتفاق کی بدولت مضبوط اور طاقت ور ہوگئی تھی۔ اسی طرح آئندہ بھی اپنی کھوئی ہوئی قوت حاصل کرلے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ جنرل موصوف کی یہ شان دار فتح شریعت اسلامیہ اور اسلامی روایات کے تحفظ کی پوری پوری ضامن ہو۔ اورملت افغانیہ کو ایک ایسے صحیح مرکز پر جمع کر دے، جس کے بعد کسی انتشارو اختلاف کا اندیشہ باقی نہ رہے ۔‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ، 16؍ اکتوبر1929ء)
فتح کابل پر مجلس مرکزیہ کی خوشی کا اظہار
بعد ازاں مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس:26، و 28؍ اکتوبر 1929ء کو منعقد ہوا، جس فتح کابل پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:
(الف) جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس جنرل نادر خاں کے زیر قیادت فتح کابل پر دلی مسرت کا اظہار کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ یہ فتح افغانستان کی اسلامی سلطنت و احترام شریعت و بحالی امن و امان و انسداد خانہ جنگی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
(ب) اس تجویز کی نقل غازی نادر خاں کی خدمت میں ارسال کردی جائے۔
محرک:مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ۔ مؤید:مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ۔
فاتح کابل جنرل شاہ ولی خاں کا استقبال
7؍دسمبر1929ء کی صبح سردار اعلیٰ جنرل شاہ ولی خان فاتح کابل جی آئی پی میل سے دہلی پہنچے۔ میل کوئی پندرہ منٹ لیٹ تھا۔با وجودیکہ سردار صاحب کی آمد کی پہلے سے کوئی اطلاع نہ تھی، پھر بھی اسٹیشن پر کافی مجمع موجود تھا۔ اعیان دہلی میں سے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب پریزیڈنٹ جمعیت علمائے ہند ، رئیس الاحرار مولانا محمد علی صاحب پریذیڈنٹ خلافت کمیٹی، مولانا سید احمد صاحب امام جامع مسجد دہلی اور دیگر حضرات موجود تھے۔ عسکر اسلامیہ کے رضا کار اپنے کرنل سید محمد اسحاق صاحب کی زیر قیادت انتظام میں مشغول تھے۔ گاڑی جیسے ہی پلیٹ فارم پر پانچ بجے پہنچی، مجمع نے پرجوش نعرۂ تکبیر کے ساتھ خیر مقدم کیا۔
گاڑی ٹھہرتے ہی مولانا مفتی محمد کفایت اللہ، مولانامحمد علی اندر پہنچے ۔ سردار اعلیٰ جنرل شاہ ولی خاں نے نہایت پرتپاک اور محبت سے مفتی صاحب سے معانقہ کیا۔ پھر مولانا محمد علی سے نہایت خلوص و محبت کے ساتھ معانقہ فرمایا۔ اس درمیان میں مولانا مظہر الدین صاحب بھی اندر آگئے، اُن سے ملاقات ہوئی۔ مولانا عبد الماجد صاحب بدایونی بھی تشریف لائے اور مولانامحمد علی نے ان کا تعارف کرایا کہ یہ مؤتمر اسلامی کے ایک بڑے عالم ہیں۔ سردار صاحب نے اُن سے بھی ملاقات فرمائی۔ باہر سے لوگوں کا ہجوم اندر آنے کے لیے بے چین تھا، اس لیے بہ مشکل لوگوں کو سمجھاکر کھڑکی سے علاحدہ کیا، تاکہ سردار صاحب باہر تشریف لے جاکر منتظر زیارت بے قرار مجمع سے ملاقات کریں۔
خدا خدا کر کے راستہ نکالا گیا اورسردار صاحب کھڑکی سے باہرنکل کر پلیٹ فارم پر آئے۔ مولانا محمد علی اور سردار صاحب کے اسٹاف کے ارکان کو یک جا کر کے فوٹو لیا گیا۔ پھربے قرار صاحب نے مجمع سے مصافحے کیے۔
سردار صاحب نے مجمع کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اور میرے بھائی اعلیٰ حضرت شاہ خاں اپنے ہندستانی بھائیوں کی اس امداد کے شکرگذار ہیں، جو انھوں نے اخلاقی طور پر افغانستان کے ساتھ ظاہر فرمائی ہے۔ نیز افغانستان کو غیر مستحق کی غلامی سے چھڑانے میں جو ہمدردی فرمائی ہے، میں تمام ملت افغانیہ کی طرف سے اس کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اسی طرح آپ تمام ہندستانی بھائی ہمارے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہم سے اپنی رضامندی کے کام کرائے اور اپنے دین،اپنی مخلوق کی خدمت کی مزید توفیق عنایت کرے۔ جب سردار صاحب اندر تشریف لائے، تو جناب مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے کھڑے ہو کرتقریر فرمائی۔
مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ کی تقریر
میں جمعیت علما ئے ہند اور ان تمام اہل دہلی کی طرف سے -جو سامنے کھڑے ہیں- آپ کے اُن بیش بہا خیالات کا شکر یہ ادا کرتا ہوں، جو آپ نے ہندستانیوں کے جذبات محبت و خلوص اور نہایت ہمدردی و اعانت کے متعلق ظاہر فرمائے ہیں، اور یہ اعتراف کرتا ہوں کہ ہندستانیوں سے سوائے مخلصانہ دعاؤں اور ترقی افغانستان کی دلی تمناؤں کے کوئی عملی خدمت نہیں ہو سکی ہے۔ ہم تمام ہندستانی- جو ملت افغانیہ کے دینی بھائی اور قریب ترین پڑوسی ہیں- افغانستان کی ترقی اور قیام امن کے لیے دل سے دعا گو ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت شاہ محمد نادرخان اور آپ اور آپ کے مخلص رفقانے جس اخلاص اورایثاراور حب الوطنی سے کام لیا ہے، وہ ہمیشہ تاریخ افغانستان میں یادگار رہے گی۔ میں جمعیت علما اور اہل دہلی کی جانب سے مکرر آپ کے تلطف آمیز اظہار خیال کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور آپ کی خدمت میں اور آپ کی وساطت سے اعلیٰ حضرت جنرل نادرخان غازی کی خدمت میں ہدیۂ تہنیت پیش کرتا ہوں۔ اور یقین دلاتا ہوں کہ ہماری مخلصانہ دعائیں ہمیشہ ملت افغانیہ کی بہبودی اور رفاہ و ترقی کے لیے آپ کے ساتھ ہیں اور رہیںگی۔ اور افغانستان کی ترقی تمام ایشیا کے لیے؛ بالخصوص ہم ہندستانیوں کی آزادی کے لیے مشعل راہ ہوگی۔
جنرل شاہ ولی خان کی جوابی تقریر
جنرل شاہ ولی خان فاتح کا بل نے مفتی صاحب کی تقریر کے جواب میں فرمایا کہ میں آپ کا اور جمعیت علما کا اور مسلمانان دہلی کا ان تبریکات پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اور میرے بھائیوں نے جو کچھ کیا ہے، وہ اپنے عزیز وطن کی آزادی اور احترام شریعت کی خاطر کیا ہے اور یہ ہمارا مذہبی اور قومی فریضہ تھا۔ اس پر ہم کسی شکر یہ کے مستحق نہیں۔ ادائے فریضہ پر شکریہ کا استحقاق کیسا۔ ہم نے اپنے اہل و عیال کی اور اپنی جانوں کی پروانہ کرتے ہوئے اپنے وطن عزیز کو تباہی سے بچایا ہے۔جب کہ ہم کابل کے قریب پہنچے،توبچہ سقہ نے ارک میں ہمارے اہل و عیال کو اس غرض سے رکھا کہ ان کی جان کی خاطر ہم ارک پر گولہ باری نہ کریں گے۔ اور اس وجہ سے بچہ سقہ کو ارک میں محفوظ رہنے کا موقعہ بہم پہنچ جائے گا؛ مگر ہم نے اہل و عیال کودین پر سے قربان کر دینے کو مقدم سمجھا۔ اور ارک پرگولہ باری کی اور اس کو جلا کر خاک کر دیا۔ اور خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارے اہل وعیال بھی محفوظ رہے، تاہم ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ابھی ہم نے کچھ نہیں کیا ہے، ہمارا فرض جب پورے طور پر اداہو گا، جب ہماری اور ہمارے اہل و عیال اور اعزا و اقربا کی جانیں بھی اپنے مذہب اور اپنے وطن عزیز کے لیے قربان ہو جائیں۔
ہم آپ کو یقین دلاتے ہیںکہ افغانستان کی سلطنت میں اسلام اور شریعت غرا کا پورا احترام اور وطن عزیز کا مستحکم استقلال ہمارا ہمیشہ مطمح نظر ہوگا؛ کیوںکہ اسلامی سلطنت کا پہلا اور مقدم ترین وظیفہ احترام شریعت اورپھر استقلال و آزادی وطن ہی ہو سکتا ہے۔ میں پھر اپنی طرف سے اور اعلیٰ حضرت غازی شاہ نادر خان کی طرف سے آپ کو اور تمام ہندستانی بھائیوں کو یقین دلاتا ہوںکہ آپ کی اخلاقی اعانتوں کے ہم اپنے دلوں میں عمیق احساسات رکھتے ہیں اور شکر گزار ہیں اور آپ سے دعائے امن و ترقی و استقلال کے خواہاں ہیں۔ خدا ہماری مدد کرے۔ (اس پر تمام مجمع نے بڑے زور سے آمین کہا۔)
اس کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں مسلم کا نفرنس کی طرف سے -جس کا میں ایک خادم ہوں اور جو کان پور میں منعقد ہونے والی ہے، اور علما کانفرنس کان پور جس کے صدر (اشارہ کرکے) یہ مولانا محمد علی ہوں گے- دونوں کی طرف سے آپ کا خیر مقدم کرتا ہوں اور کابل کی شان دار کامیابی پر آپ کی خد مت میں تہنیت پیش کرتا ہوں۔ آپ مسلم کا نفرنس کی کامیابی کے لیے دو لفظ دعا کے فرمادیں۔
جنرل شاہ ولی خاں نے فرمایا کہ خدا مسلمانوں کو توفیق دے کہ وہ آپس میں اتفاق و اتحاد ومحبت پیدا کریں اور کامل اتفاق واتحاد کے ساتھ اپنے مذہب اور وطن کی خدمت کے لیے کھڑے ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوں، ایک اخبار دوسرے کے خلاف لکھے۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دوسری قومیں ہمارے ان باہمی اختلافات سے ہم کو بہت بری نظر سے دیکھتی ہیں۔ میں آپ کی مسلم کانفرنس کے لیے دعا کرتا ہوں کہ خدا اس کو مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کے ساتھ کامیاب فرمائے۔
اس کے بعد مولانا محمد علی نے جمعیت خلافت کی طرف سے شکریہ اور تہنیت پیش کی اور سردار صاحب نے نہایت مناسب الفاظ میں جواب دیا۔
آخر میں سب لوگوں سے نہایت تپاک اور محبت سے ملے اور اللہ اکبر کے پرجوش نعروں میں ٹرین روانہ ہوئی۔ مولانا محمد علی صاحب ماتھرا تک ساتھ جانے کے لیے گاڑی ہی میں رہے۔ سردار صاحب کے ساتھ سردار علی احمد خان- جو آپ کے بھتیجے اور نہایت خوشرو اور خوش سلیقہ نوجوان ہیں- اور دیگر ارکان اسٹاف بھی تھے۔ سردار علی احمد خان فرانس میں سفیر افغانستان ہو کر تشریف لے جا رہے ہیں۔(سہ روزہ الجمعیۃ،9؍دسمبر1929ء)
آزاد قبائل پر بم باری کو روکنے کے لیے حکومت افغانستان سے امداد
جناب جاں باز مرزا صاحب ’’آزاد قبائل پر بم باری ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
یہ حالات تھے کہ برطانوی سامراج ان قبائل پر اپنی غلامی کا جال نہ پھینک سکا۔ ان آزاد قبائل میں باجوڑی قبیلہ سب سے پیش پیش تھااور حاجی ترنگزئی ان سب کے رہ نما تھے۔ یہ لوگ کبھی پہاڑوں سے اتر کر اور کبھی اپنی پناہ گاہوں میں چھپ کر سرکاری فوج پر حملہ آور ہو کرا سے سخت نقصان پہنچاتے۔ کہیں اگر موقع ملتا، تو کسی بڑے انگریز آفیسر کو اغوا کر لیتے اور پھر اس کی بازیابی کے عوض ہزاروں روپے حکومت سے وصول کرتے۔ ان پہاڑوں کی اوٹ سے ایک طرف والی افغانستان غازی امان اللہ خاں کی شمشیر بے نیام فرنگی نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھی، تو برابر میں روس اپنے موقع کی تاک میں تھا۔ ان واقعات کی موجودگی میں آزاد قبائل کی اپنے تحفظ کے لیے انگریز کے خلاف بغاوت بڑی اہمیت کی حامل تھی۔
آزاد قبائل پر شب و روز کی اندھا دھندبم باری سے ہندستان کے علاوہ لندن کے اخبارات نے بھی احتجاجی نوٹ لکھے۔ (کاروان احرار، جلد اول، ص؍360)
سرحد کے مسلمان اور جمعیت ہمیشہ ہی صوبہ سرحد کی علاحدگی کی حامی رہی؛ لیکن انگریزوں نے وہاں کے لوگوں کو جبرا غلام بناکر رکھنے کی کوشش کی، جو ان کی آزاد طبیعت نے کبھی برداشت نہیں کیا، جس کے باعث انگریزوں نے آبادی پر کھلے عام بم باری کی۔ جمعیت نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔
انھیں حالات میں جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس 19 ،20،21؍ اگست1933ء کو منعقد کیا، جس میں سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی مذمت کرتے ہوئے حکومت افغانستان سے حملے کو روکنے کی اپیل کی۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیا کہ:
’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ سرحد کے آزاد قبائل پر حکومت کی بم باری کے خلاف پر زور احتجاج کرتا ہے اور اس کو بین الا قوامی مسلم شدہ امور اور اخلاق و انسانیت کے معمولی اصول کے ماتحت قابل مذمت سمجھتا ہے۔سول آبادی پربم برسا نے سے بے گناہ عورتوں، بچوں، کمزوروں، ضعیفوں، بوڑھوں، اپاہجوں کی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں اور چو بیس گھنٹہ کا نوٹس ایسی ہول ناک کا رروائی کے لیے وجہ جواز نہیں بن سکتا۔
یہ جلسہ حکومت سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس بم باری کو فوراً بند کردے اور ان نتائج کو- جو اس وقت تک بم باری سے پیدا ہوئے ہیں- سر کاری بیان کے ذریعہ سے منظر عام پر لائے اور سر حدی قبائل کے ساتھ معاملات سلجھانے کے لیے مصا لحانہ جرگوں کا طریقہ اختیار کرے۔
نیز یہ جلسہ اخوت اسلامی کی بنا پر حکومت افغانستان سے پر زور استدعا کرتا ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لاکر انگریزی حکومت کو غیر مصافی آبادی پر بم بر سانے سے باز رکھے اور اس سلسلہ میں بے گناہ عورتوں، بچوں، ضعیفوں، اپاہجوں کی جانیں بچا کر اپنے اسلامی اور انسانی فرض کو ادا کرے۔
یہ جلسہ مسلمانان ہند کوتوجہ دلاتا ہے کہ اپنے اپنے مقامات پر بڑے بڑے جلسے منعقد کرکے اس جابر انہ کار روائی کے خلاف پر زور احتجاج کریں۔ اور حکومت پر واضح کردیں کہ اس کی یہ کارروائی انسا نیت کے خلاف جنگ ہے اور اس سے تمام اہل ہند؛ بالخصوص مسلمانوں کے قلوب پارہ پارہ ہوگئے ہیں۔ اگر اس نے اس بہیمانہ کارر وائی کو فوراً بند نہ کیا، تو اس کے ہو ل ناک نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍
افغانستان قونصل جنرل کا مکتوب
4؍ ستمبر 1933ء کو افغانستان کے قونصل جنرل نے جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ کو درج ذیل مکتوب بھیجا:
’’میرے محترم مولانا احمد سعید صاحب!
مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں 28؍ اگست 1933ء کو ہندستان میں افغانستان کے قونصل جنرل کی حیثیت سے شملہ پہنچ گیا ہوں اور میں نے اس دفتر کا چارج سنبھال لیا ہے۔ چوںکہ آپ ہمیشہ اس دفتر کے ساتھ اپنی نیک خواہی، اسلامی اور مشرقی ہمدردانہ جذبات اور برادرانہ پڑوسی تعلقات کا اظہار فرماتے رہے ہیں، اس لیے گزارش ہے کہ یہی دوستانہ طرزِ عمل آئندہ بھی برقرار رہے۔
آخر میں، میری جانب سے بہترین سلام قبول فرمائیں۔
مخلص:قونصل جنرل حکومتِ افغانستان برائے ہند۔از راما ولا، شملہ ویسٹ۔‘‘
اس پر6 ؍ستمبر 1933ء کو ناظم عمومی صاحب ؒ نے درج ذیل جواب دیا:
میرے عزیز برادرِ اسلام! آپ کا مؤرخہ 4؍ستمبر 1933ء کا خط موصول ہوا۔ ہندستان کے مسلمانوں کے لیے یہ نہایت مسرّت کی بات ہے کہ آپ کو ہندستان میں افغانستان کا قونصل جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی مدبّرانہ قیادت اور دوراندیشی سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوںگے۔ افغانستان کی جس قدر خدمت میرے بس میں ہوسکے، میں اسے اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھوںگا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے قونصلی کاموں کو بادشاہِ افغانستان کی حکومت کے لیے نفع بخش بنائے۔ براہِ کرم میری طرف سے حضورِ بادشاہ کو سلام پہنچا دیجیے۔مخلص: سکریٹری جمعیت علمائے ہند، دہلی(ریکارڈ روم)
آزادی فلسطین کے لیے شاہ افغانستان سے استدعا
برطانیہ کے ظالمانہ رویوں کے خلاف جمعیت مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہے اور ہندستان میں جگہ جگہ جلسے اور مظاہرے کرتی رہی ہے، انھیں کوششوں کی کامیابی پرسابق صدر محکمۂ شرعیہ استانبول اسعد شقیری نے5؍جنوری1937ء کو خط لکھ کر جمعیت کی کامیابی پر تشکر کا اظہا رکیا۔ اور ساتھ ہی فلسطین کی آزادی کے لیے شاہ افغانستان سے ان کی ذمہ داری کو یاد دلانے کے لیے جمعیت سے گذارش کی۔
’’حضرت مفتی ہند علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدرجمعیت علمائے ہند کی خدمت میںعکاصع(فلسطین) سے ایک عربی مکتوب موصول ہوا ہے، جس کا اردو ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ یہ مکتوب جن بزرگ کی طرف سے موصول ہوا ہے، ان کا اسم گرامی اسعد شقیری سابق صدر محکمۂ شرعیہ استانبول ہے اور اس وقت عکا میں تشریف فرما ہیں۔ مکتوب کے ساتھ موصوف نے ایک مطبوعہ رسالہ بھی ارسال فرمایا ہے، جس کا موضوع خط کے مضمون سے معلوم ہوگا۔ اس عربی مکتوب کا ترجمہ ذیل میں ہے:
بسم اللہ الرحمان الرحیم
لحضرۃ مولانا لشمس العلما ء الاستاذ الکبیر صاحب الفضل والفضیلۃ محمد کفایت اللہ المفتی و رئیس العلماء دھلی مداللہ فی حیاتہ و نفع بعلومہ المسلمین۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ میں اپنے اس خط کے ساتھ ایک رسالہ خدمت عالی میں ارسال کر رہا ہوں ، جو فلسطین کے باب میں مسلمانوں اور یہودیوں کے متعلق آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ اور اقوال فقہا پر مشتمل ہے ۔ امید ہے کہ ملاحظہ کے بعد یہ رسالہ جناب کی نظر میں شرف قبولیت حاصل کرے گا۔ مہربانی فرماکر رسالہ کے مضمون اور اس کی تفصیلات سے آپ جلالۃ الملک شاہ افغانستان اور جلالۃ الملک شاہ ایران کو مطلع فرمائیے، تاکہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کو ابتلا و مصائب سے نجات دلانے کا جو فرض ان پر عائد ہوتا ہے، وہ اس سے سبکدوش ہوں۔ اگر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے رسالہ کی اشاعت کا انتظام ہوسکے اور آپ وزرا، ارباب حکومت اورمسلمانوں کے اہل حل و عقد کے پاس اس کو پہنچا سکیں، تو بہت ہی مناسب ہے۔
آپ کے اہتمام میں دہلی کے اندر جو فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں آپ کی مساعی قابل تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور عمر دراز کرکے ہمیشہ آپ کو عافیت میں رکھے۔ واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ و باطنۃ۔ والسلام علیکم ۔
شہر عکاصع فلسطین، مؤرخہ 20؍رمضان المبارک 1355ھ۔ رئیس التدقیقات الشرعیہ السابق فی الآستانہ اسعد الشقیری۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ 9؍ جنوری 1937ء)
ہندستان کی آزادی سے افغانستان کا تحفظ
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بارھویں اجلاس عام، منعقدہ: 7، 8، 9؍ جون1940ء کے خطبۂ صدارت میں آزادی ہند کا فریضہ سب سے زیادہ مسلمانوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان بہت سے مصائب سے محفوظ رہیںگے۔
’’(ہ)اس ملک کی آزادی میں قرب وجوار کے اسلامی ملک مثل یاغستان، افغانستان، ایران وغیرہ بہت سے مصائب اور خطرات سے محفوظ ہوجائیں گے۔‘‘
سردار نجیب اللہ خان افغانستان کوعصرانہ
11؍فروری 1950ء کو افغانستان کے سفیرسردار نجیب اللہ خاں کو دفتر جمعیت علمائے ہند میں ایک عصرانہ دیا گیا۔ عصر انہ میں شہر کے عمائدین، اخبار نویس اورپارلیمنٹ کے بعض ارکان نے شرکت فرمائی۔حسب ذیل حضرات خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں:
سحبان الہند مولانااحمد سعید صاحب۔حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ۔ حضرت مولانا محمد میاں صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند۔حضرت مولانا نورالدین بہاری۔حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحب۔جناب مولانا محمد رفیع صاحب۔جناب نوری صاحب سابق وزیر حکومت ممبئی۔ سلطان یار خان صاحب، حافظ نسیم صاحب بٹن والے، حکیم محمد اسماعیل صاحب، مولانا عبد الوحید صاحب صدیقی، میر مشتاق احمد صاحب ،شیخ محمد احمد صاحب، حاجی محمد صالح صاحب، قاضی سجاد صاحب اور پارلیمنٹ کے بعض ارکان۔
سردار نجیب اللہ خاں صاحب کا خطاب
نجیب اللہ خاں نے جن کی تقریر فارسی میں تھی کہا: لاکھوں قبائلیوں نے ہندستان اور اپنی آزادی کے لیے انگریزسے ایک سو سال تک جنگ لڑی ہے، وہ مسلمان ہیں اور اسلامی اتحاد د اخوت کی طاقت سے پوری طرح باخبر ہیں اور وہ اس چیز کو ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتے کہ ان کے رویہ سے کسی مسلمان حکومت، یا ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچے۔ یہ پروپیگنڈا بالکل بے بنیاد ہے کہ افغانستان پاکستان کا مخالف، یا دشمن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان، پاکستان اور ہندستان اتحاد و تعاون کا نمونہ بنیں اور آپس میں مل کر ترقی کریں۔ لیکن اس کے ساتھ میں یہ بتا دینا بھی چاہتا ہوں کہ اگر سترلاکھ قبائلی اس بات کی خواہش کریں کہ انگریز کے بعد وہ بھی آزادی میں برابر کے شریک ہوں اور انھیں بھی پختونستان بنانے کی اجازت دی جائے، تو میرے خیال میں اسے ناجائز تصور نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ انگریزی کے بعد قبائلیوں کی آزادی بھی تسلیم کرتا؛ مگر مجھے افسوس ہے کہ پاکستان کے مدبرین اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کی موجودہ کش مکش کے پس منظر میں کسی قسم کا بغض وعناد نہیں؛ بلکہ صرف قبائلیوں کی آزادی کا اہم مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان آج بھی اس مطالبہ کو تسلیم کرلے، تو افغانستان دل و جان سے پاکستان کی خیر خواہی میں مسرت محسوس کرے گا۔ لیکن اگر پاکستان یہ چاہتا ہے کہ لاکھوں قبائلیوں کو غلام بنا کر اسلام کے نام پر ہم سے دوستی کی خواہش کرے، تو یہ ناممکن ہے۔
افغانستان کا تعلق تمام مسلمانوں سے ثقافتی بھی ہے اور ادبی اور مذہبی بھی، اس لیے حکومت افغانستان کو اس سے بڑھ کرکوئی خوشی نہیں ہو سکتی کہ وہ مسلم ممالک سے دوستی قائم رکھے۔ مگر افسوس ہے کہ پاکستان -جو ہمارا ہمسایہ ملک ہے -ہماری دوستی کی کوئی قدر نہ کی۔ میں یہ بھی بتادوں کہ پٹھانستان کی تحریک افغانستان کا پروپیگنڈانہیں،جیسا کہ لاہور اور کراچی میں بیٹھے ہوئے چند وزیر پروپیگنڈا کر رہے ہیں؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لاکھوںقبائلی اس وقت اپنی آزادی کے لیے بے چین ہیں۔ اگر ان کو آزادی نہ دی گئی، تو صورت حال اور زیادہ خراب ہو جائے گی ۔
دیو بندا ور ملت افغانیہ
سردارنجیب اللہ خاںنے دیوبند اور ملت افغانیہ کے مابین تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خصوصی تعلقات ہمیشہ سے چلے آئے ہیں۔ حکومت افغانستان نے دیوبند کی علمی خدمات اور جمعیت علمائے ہند کی سیاسی اور مذہبی جدوجہد کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ میں حکومت افغانستان کی طرف سے اور اپنی جانب سے جمعیت علمااور اس کے اکابر کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں اور امید دلاتا ہوں کہ حکومت افغانستان کے خصوصی تعلقات آئندہ بھی جمعیت علماکے ساتھ قائم رہیں گے۔
سردار نجیب اللہ خان نے ایشیا کے استحکام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہندستان آزاد ہے اور اس کی آزادی کے لیے جمعیت علمائے ہند نے بڑی قربانیاں کی ہیں۔ ہندستان کا استحکام تمام ایشیا کا استحکام ہے۔ اگر خدانخواستہ اس کا استحکام خطرہ میں پڑ جائے، تو ایشیا اور اس کے مسلم ممالک کی سیاسی پوزیشن بھی خطرہ میں پڑ جاتی ہے ۔
حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علما کا خطاب
اس سے قبل سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے سردار صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ایک مختصر تقریر فرمائی، جس میں محترم نے جمعیت علمائے ہند کی تاریخ اور اس کی دیرینہ خدمات پر روشنی ڈالی،اوران مقاصد کی تشریح فرمائی، جن کے پیش نظر جمعیت علمانے ملک و وطن اور امت اسلامیہ کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ نے ہندستان کی آزادی، ہند و مسلم اتحاداور مسلمانوں میں اتحاد واتفاق کے قیام کو جمعیت علما کا مقصد عظیم بتاتے ہوئے ان روابط کو بھی خراج تحسین پیش کیا،جو مدت زمانہ سے جمعیت علما ئے ہند، دار العلوم دیوبند اور دولت خداداد اور افغانستان کے درمیان قائم ہیںاور فرمایاکہ ہندستان خصوصاً مسلمانوں کو ملت افغانہ کی جدوجہد آزادی اور سر بلندی پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔ اور آج بھی ان کی یہی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ افغان کو ہر آزمائش سے محفوظ رکھے۔ اور وہ اپنی آزادی اور ترقی سے پورے طور پر متمتع ہوں۔
تقریروں سے قبل عصرانہ کے دوران میں حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند سردار صاحب سے مختلف مسائل پر گفتگو فرماتے رہے اور تبادلۂ خیال انتہائی اخلاق، محبت اور دوستی کے جذبات میں ہوتا رہا۔
سردار صا حب نے ناظم اعلیٰ اور دیگرا کا بر کا شکریہ ادا کیا۔ اور بعد میں سب سے متشکرانہ انداز میں مصافحہ کر کے واپس تشریف لے گئے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،14؍فروری 1950ء)
عبدالحسین عزیز سفیرافغانستان کو اجلاس عام میں شرکت کی دعوت
11؍تا 13؍فروری 1955ء جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں شرکت کے لیے جناب عبدالحسین عزیز سفیرافغانستان مقیم ہند نئی دہلی کو بھی دعوت دی گئی۔ انھوں نے درج ذیل جواب دیا:
’’ دعوت نامہ کا دلی شکریہ پیش کرتا ہوں، مجھے بہت ہی خوشی ہوتی، اگر آپ کے اجلاس میں شریک ہو سکتا؛ مگر افسوس کہ کچھ توناسازیِ طبع اور کچھ دفتری مصروفیت کے باعث اور اس لیے بھی کہ مجھے اجلاس کی تاریخوں میں ایک سفر پرجانا ہے، شرکت سے قاصر رہوں گا۔ امید کہ آپ میری مجبوری کو ملحوظ رکھتے ہوئے مجھے معذور رکھیں گے۔
اپنی بہترین نیک خواہشات اور دعائیں اجلاس کے لیے پیش کرتا ہوں۔‘‘
شاہ افغانستان محمد ظا ہر شاہ کے لیے تقریب استقبالیہ
سرشام14؍ فروری 1958ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے اعلیٰ حضرت شاہ افغانستان کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک شان دار استقبالیہ دعوت دی گئی، جس میں مرکزی کابینہ کے متعدد اراکین، مصر، سعودی عرب، انڈو نیشیا وغیرہ ممالک کے سفیر، اعلیٰ افسران اور سرکردہ شہری موجود تھے۔ ڈاکٹر تارا چند اور مسٹر آل احمد سرور بھی موجود تھے۔ سارا پنڈال ہندستان اور افغانستان کے جھنڈوں اور پھولوں سے سجا ہوا تھا۔ اعلیٰ حضرت اپنے اسٹاف کے ہمراہ جب تشریف لائے، تو مجاہد ملت حضرت مولانامحمد حفظ الرحمان صاحبؒ، حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحبؒاور نواب سلطان یار خاں صاحب اور دیگر اصحاب نے ان کا استقبال کیا۔ اعلیٰ حضرت جب خاص شامیانہ میں پہنچے، تو حضرت سحبان الہند مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے شاہ کا خیر مقدم کیا۔ سحبان الہند مولانا احمد سعید صاحبؒ اور دیگر اصحاب نے شاہ افغانستان کوہار پہنائے۔
اس کے بعد جناب گلزار د ہلوی نے فارسی میں اور جناب ولی محمد بابر نے پشتو میں خیر مقدمی نظمیں پڑھیں۔ اس کے بعد حضرت مولانا محمدحفظ الرحمان صاحبؒ نے فارسی میں اور حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحبؒ نے اردو میں سپاس نامہ پڑھا، جو بعد میں شاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
جوابی تقریر میں شاہ افغانستان نے اس اجتماع میں شرکت پر اظہار مسرت کیا اور جمعیت علما کی خدمات کی تعریف کی۔ انھوں نے فرمایا: میں بہت خوش ہوں کہ مجھے جمعیت علما کے اس استقبالیہ جلسہ میں شرکت کا موقعہ ملا۔ جمعیت علمائے ہند کی مذہبی، علمی اور تعلیمی خدمات کو افغانستان میں لوگ اچھی طرح جانتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ اس عظیم جماعت نے جو کارنامے انجام دیے ہیں، وہ بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ افغانستان میں علما کی جماعت بھی اپنے ملک کی بھلائی کے کام کر رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے علما میں گہرے تعلقات رہے ہیں۔ ہم دونوں ملکوں کے تعلقات کو زیادہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ جمعیت علما انسانیت کی فلاح کے مقاصد کو سمجھتی ہے۔ جمعیت علماجن مبارک مقاصد کے لیے کام کر رہی ہے؛ میری دعا ہے کہ خدا انھیں مقاصدمیں کا میاب کرے۔
شاہ افغانستان کی تقریر کے بعد الجمعیۃ کا افغان ایڈیشن شاہ افغانستان کی خدمت میں پیش کیا گیا،جسے اعلیٰ حضرت نے چند منٹ تک ملاحظہ فرمایا۔ آخر میں حضرت مولانامحمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے شاہ افغانستان کی تشریف آوری کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا، اور دولت ہندستان و افغانستان پائندہ باد کے نعرے پر یہ مبارک تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
(روزنامہ الجمعیۃ،16؍ فروری 1958ء)
نطق خیر مقدم (فارسی سپاس نامہ)
نطق خیر مقدم کے عنوان سے ذیل کا سپاس نامہ14؍ فروری 1958ء کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے منعقد کی جانے والی استقبالیہ تقریب میں حضرت معظم ہمایونی المتوکل علی اللہ محمد ظا ہر شاہ پادشاہ افغانستان خلد اللہ ملکہ و دولتہ کو پیش کیا گیا:
اعلیٰ حضرتا! خوشا بخت وحبذا! روزگار ماکہ امروز ما ہر قدر فخر و مباہات کنیم کم است کہ از پادشاہ محبوب و رہبرذی وقار ملتی استقبال می کنیم کہ روابط وعلایق مابآن ہماںقدر قدیم و مستحکم است کہ دوست داشتنی وروز افزوں است بجا طوریکہ ملت نجیب افغان از روایات و عقایدات تاریخی باستانی برخوردار بودہ است امروز ہم از سیاستی پیروی می کند کہ ما را میسنرد کہ مناسبات ہرچہ قوی تر و مطبوع ترمی را بآن ملت دوست و ہم جوار داشتہ باشیم۔
سرزمین افغانستان بہمان اندازہ بہ وطن عزیز ما نزدیک است و بہمان قربت و بہم پیوستگی در میان این دو کشور کہنسال وجود دارد کہ بین اعضای یک بدن موجود باشد و یا درو دیوار ہاخانہ ای را با یک دیگر مرتبط می سازد، در طی قرون متمادی ایںمودت ودوستی دیرینہ چناں ریشہ دوانیدہ است کہ گاہی سیاست افغانستان بسیاست وطن عزیز ما مربوط بودہ، چنانکہ در دورۂ شاہان مغول ہند و ہنگامیکہ استعمار بریتانیا سرزمین مارا مفلوج ساختہ بود ، مرزد بوم ملت افغان ماوی وملجای سیاست ما قرارگرفتہ است۔
خسرو ذیشان افغانستان! جمعیت علمائے ہند بہیچ وجہ ممکن نیست کہ فراموش کند کہ رہ نمایان و قائدین عظام آن، شیخ الہند مولانامحمود حسن، حضرت مولانا عبیدا للہ سندھی، حضرت مولانا سیف الرحمان، مولانا محمد میاں( عرف مولانا منصور انصاری)، مولانا برکت اللہ و بہمین طور یکعذہ رہبران احزاب سیاسی ہند بنا بر صوابدید و مصلحت زمان بسا اوقات در سرزمین افغانستان پناہ بردہ اند، جمعیت علمائی ہند بخاطر دارد کہ در عشرۂ دوم ہمیں قرن بیتم وقتیکہ معمار اول و سر برآور دۂ جمعیت حضرت مولانا محمودحسن شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ لازم دانستند کہ بہ پیروان خود یک حکومت عارضی برای ہندستان را تاسیس نمایند، در داخل خاک افغانستان بود کہ ادارہ مرکزی آنرا تشکیل نمودند۔
زمان سلطہ و اقتدار خارجی کہ وطن مالوف ما تقریباً یازدہ سال پیش ازاں نجات یافت، برای افغانستان نیز بہ منتہای درجہ طاقت فرسا بود، دلی تاریخ ملل شجیع ہمیشہ عزم و ہمت و جرأت را مایۂ افتخار خواہد شمرد کہ در قرن گذشتہ افغانان دلیر از خود نشان دادند، و در روزگار یادگار گذاشتند۔در آن زمان کہ ملتی تمام بست و چہار ساعت شبانہ روزآفتاب بر طول و عرض امپراطوری بریتانیای کبیرمی درخشید۔این امراز جملہ شاہکارہای تاریخی است کہ کشور نسبتا کوچک تر مانند افغانستان بخوبی قادر بود کہ شان خود مختاری ور تبۂ استقلال خود را حفظ نماید۔
پادشاہ ذی جاہ و عالی مرتبت! شکی نیست کہ ادای ارادت و احترام نسبت بہ فرمانروای ورہبریک ملت دوست وظیفۂ اخلاقی و بشری است، دلی جذبات ما بدیں مناسبت ہم شیفتہ ذات ملوکانہ است کہ اعلیٰ حضرت در امور زمام داری ورہنمای ملت خود تدبر وانصاف را شیوہ خود قرار دادہ اند کہ ازحسن تاثیر آن، تمام ملت شاہ دوستی رابطیب خاطر بستہ آمال و آرزو برای خودمی شمرد، و برحسن نظم و ادارہ امور مملکت می بالد۔ پس از خاتمہ دست درازیہای انگلیس متاع گرانمایہ امن و اطمینان کہ نصیب کشور وملت افغانستان شدہ است ،بہ نحو احسن صرف می شود و مملکت بی سرد صدای زیادی تحت ظل مبارک ہمایونی مراحل ترقی وتکامل را با سرعت شایانی می پیماید، بہمراہی تکامل وسایل آبیاری، زراعت ہم پیش رفت دامنہ داری نمودہ۔ و در محصولات اجناس خام افزایش فوق العادہ ای حاصل شدہ است، در صحنہ صنایع نیز قدمہای سرعتی برداشتہ شدہ و کشور در شرف مستغنی و بی نیاز از خارج شدن است، درنقاط مختلف فابریکہ و کارخانہ ہا افتتاح و اقدامات لازمہ برای کشف واستخراج نفت و معادن دیگر در جریان است، ہمہ این فعالیت ہای دامنہ داری راہ سعادت و خوش بختی را بردی ملت باز کردہ است، در ساحۂ معارف و فرہنگ ذات ملوکانہ علاقہ وتوجہ خصوصی مبذول داشتہ اند، و در اثر اعطای چندین اعانہ ہا مملکت خویش را گہوارۂ علوم وفنون ساختہ اند۔
فرمانروای عالی قدر و گرامی! دوشا دوش پیش رفت صنعتی و اجتماعی وسایل و ذرائع تکامل معنوی وارتقای روحانی، نیز رو بہ تزئید گذاشتہ است، در دورۂ مسعود اعلیٰ حضرت بسامساجد پر رونق و در نقاط دور دور از عمارات فلک شگاف مساجد تعمیر شدہ است کہ خلق خدا را بادای فرایض مذہبی دعوت می کند، درین ضمن اجازہ می خواہیم عرض کوچکی بحضور ملوکانہ تقدیم نمائیم، حمایت از امور دینی غیرت ملی و پیروی از احکام شریعت ہمیشہ موقف مخصوص ملت افغان بودہ است، چنانچہ در دوران مسافرت اعلیٰ حضرت دراین کشور دیداری ازدارالعلوم دیوبندو زیارت از درگاہ سرہند شریف ہمانطوریکہ از سایر مقاصد سیاسی اہمیت کمتری ندارد، وایں علامتی است از محبت دینی و رابطۂ ایمانی کہ طرۂ امتیاز ملت افغانیہ بودہ است ۔ طبقہ منور الفکرملت غیور افغان ارزشہای اخلاقی وروحانی را بہمان نحوشایستہ ای کہ خاتم الانبیاء رحمت للعالمین مقرر فرمودہ درک کردہ وازان تابعیت می کردہ اند۔این میراث مقدس کہ افغانان نسلا بعد نسل بارث گرفتہ تقاضاء ایں میراث مقدس و آرزوئے جلد متبعین مذہب و پیروان سنت قویمہ سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم ہمین ا ست کہ این موقف مقدس افغانان رو بتزید باشد، و مبادا در اختلال دوران پیرہ ہنگام مادی قدم ثابت افغانان ازین موقف عظیم بجنبد۔
اے طالع بیدار دولت و ملت افغانستان! شکی نیست گرچہ ملت ہنداز قدیم ہمیشہ رواداری وظیفہ پذیرائی پرگرمی و احترام گذاری صمیمانہ ای نسبت بہ ہر فرمانرا اور سریرآی دولت افغانستان و ہم چنیںبمہمانان عزیز ومحترم ملت نجیب افغان فخرو مباہات را احساس ویک فرضیہ خوشگوار وبہجت آمیز برای خودتلفی می کردہ است، ولی امروز،ما فوق العادہ ای مسروریم کہ جمعیت علمائے ہند یک انجمن ترقی یک ملت آزاد ومستقل ہند بذات معظم ہما یونی خوش آمدید تقدیم می نماید۔ ع
اے آمدنت باعث آبادی ما
وطن عزیز ماکہ در ہمیں اواخر استقلال نصیبش شدہ است و جمعیت چہار کروڑ نفوس از مسلمانان در فضای این قارہ پہناور دوشادوش با افراد دیگر بطور یک ملت آزاد و مستقل زندگانی می کندگربر مقررات قانون اساسی خود کہ در بین تمام قوانین اساسی بہترین نوع خود تلقی می شود ، بہ بالدبی مورد نخواہد بود، چون تحت مقررات قانون اساسی مزبورہریکی ازطبقات وافراد مختلف این کشوراز ہر جنبہ و ازہر گونہ آزاد است، وجدانش آزاد است و گفتار و کردارش آزاد با شد می باشد، و با این آزادی ہرکس اجازہ دادہ شدہ کہ باکمال مادی و منویات خود آثار تہذیب و تمدن را حفظ، و در احیا داشتن امور دینی خود سعی نماید۔ مختصر اینکہ درظل سایہ قانون اساسی ہند پیروان ہر مشرب و مذہب تمامیت کامل دارا می باشد۔
خوش بختانہ قیادت امور ملی ما در دست صدر اعظمی آقای نہرو می باشد کہ از لحاظ نوع دوستی و شرافت مندی سر بر آوردہ رہنمایان و ساستمداران برجستہ جہان بشمار می رود۔
جمعیت علمائے ہند کہ امروز با سعادت خوش آمدید گفتن بہ اعلیٰ حضرت ہمایونی خود بہرہ مندمی سازد، و بنوبہ ٔ خود درحفظ مآثر و ورو ایات اسلامی و در نگہداری تہذیب وتمدن و علوم دینیہ کوشان در اعتلای سطح عرفانی و دینی افرادیکہ بدبختانہ در مناطق عقب ماندہ باشدگانی می کند باوجود سختیہا وشدائد متنوعہ کوشش سرشاری می نمایدو آرزومند است کہ با استفادہ از مقررات قانون اساسی آئیۂ ملت مسلمانان ہندرا درخشان ودر بین صفحات تاریخ آئیۂ ہندہمان مقام ارجمندو شامخی را کہ درگذشتہ پس از قربانیہای بسیار در جنگ آزادی خواہی غیب ملت مسلمان گردانیدہ بود برائش بدست آرد، وباللہ التوفیق۔
پاسبان ملت افغان پادشاہ غازی! جمعیت علمائے ہند کہ ہمیشہ سرمایہ اش توکل علی اللہ و اعانت و کمک ملتہای اسلام دوسر جہان بودہ است برخود می نازد برای اینکہ امروز چنین ذات خسروانہ و ملوکانہ پذیرای پرگرمی بعمل، و احترامات فائقہ می گذارد واسطہ اعتماد بہ توکل علی اللہ آن ذات معظم واشرف بالقب المتوکل علی اللہ ملقب شدہ است ۔ ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ۔
اعلیٰ حضرتا! در پایان این موقع خجستہ تشریف فرمائی ذات ہمایونی مارا مفتخرساخت است، می خواہیم بہ درگاہ احدیت باعجز وانکسار بشری رجوع، و ترقیات مادی وروحانی رابرای ممالکی کہ ازقرون متمادی در حالت محکوم و مقہور بسر بردہ اند،مسلت نمائیم ایشان ہم بانعم آزادی و سعادت پیش رفت برخوردار شوند و ازہر گونہ کامرانی و کامروائی بہرہ ای بردارند۔ ع
این دعا از من و از جملہ جہان آمین باد
خیر خواہان ذات ملو کا نہ وملۃ افغان: ارکان جمعیت علمائے ہند ۔
24؍ رجب المرجب 1377ھ۔ مطابق14؍ فروری 1958ء۔
بمقام کا نسٹی ٹیوشن کلب، نیو دہلی۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 16؍ فروری 1958ء)
سپاس نامہ اردو
بخدمت اعلیٰ حضرت ہمایوں شاہ افغانستان، خلد اللہ ملکہ و دولتہ!
اعلیٰ حضرت شاہ افغانستان! خوشا بخت وخرم روزگار، آج ہم اس ملک کے شاہ ذی وقار و بلند اقبال کا استقبال کر رہے ہیں، جس سے ہمارا تعلق بہت قدیم، بہت عزیز اور بہت مستحکم ہے اور جواپنے تاریخی پس منظر اور اپنے اعلیٰ سیاسی کردار کی بنا پر اس کا مستحق ہے کہ اُس کے ساتھ تعلقات زیادہ سے زیادہ خوشگوار اور مضبوط ہوں۔
افغانستان -جو ہمارے وطن عزیز سے ایسا ہی قریب ہے، جیسے کسی انسان سے اُس کے دست وبازو، یا کسی مکان سے اُس کے درو دیوار- اس کی سیاست کو وطن عزیز کی سیاست سے گہرا تعلق رہا ہے۔ بہادر افغانوں کا یہ ملک کبھی ہمارے وطن کی سیاست کا جزو اعظم بنا، جب یہاں مغلوں کی شاہنشاہیت کا پرچم لہرارہا تھا۔ اور جب برطانوی استعمار نے وطن عزیز کو مطلق مفلوج بنارکھا تھا، توبا رہا ایسا ہوا کہ حریم افغانستان ہماری سیاست کا پناہ گاہ بنا۔
خسرو افغانستان! جمعیت علمائے ہند فراموش نہیں کرسکتی کہ اس کی صف اول کے رہ نما اور قائدین عظام شیخ الہندحضرت مولانا محمود حسنؒ، حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ، حضرت مولانا سیف الرحمان، مولانا محمد میاں عرف مولانا منصور انصاریؒ، مولانا برکت اللہ رحمہم اللہ؛ ان بزرگوں کی جماعت نے اور اسی طرح ہندستان کی دوسری سیاسی پارٹیوں کی سیاسی مصلحتوں نے بسا اوقات افغانستان کو اپنے لیے اس کی جگہ سمجھا،اور وہاں پہنچ کر پناہ لی اور جمعیت علمائے ہندکو تویہ بھی یاد ہے کہ اس صدی کے دوسرے عشرہ میں جب جمعیت علمائے ہندکے سربر آوردہ معمار اول حضرت مولانامحمود حسن شیخ الہندرحمۃ اللہ علیہ اپنے رفقائے کار کے ذریعہ ہندستان کے لیے ایک عارضی حکومت قائم کرنے کی ضرورت پیش آئی، تو حد و د افغانستان ہی کی سرزمین پاک تھی، جہاں یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر سکا۔
اجنبی اقتدار کاوہ دور، جس سے وطن عزیز نے تقریباً گیارہ سال پہلے نجات پائی ہے، ہماری طرح افغانستان کے لیے بھی حد درجہ صبر آزما رہا ؛مگر بہادرقوموں کی تاریخ ہمیشہ اس عزم اور اس ہمت و جرأت پر فخر کرے گی ،جس کے گہرے نشانات گذشتہ صدی میں بہادر افغانوں نے سینۂ سیاست پر کندہ کیے۔ انگریزی اقتدار کے اُس دور میں کہ آفتاب پورے چوبیس گھنٹے برٹش ایمپریلزم کی وسعت اور پہنائی کا تماشہ کرتا رہاتھا، افغانستان جیسے چھوٹے ملک کا اپنے اختیارمیں باقی رہنا اور متاع خود ارادیت کو محفوظ رکھنا وہ کارنامہ ہے، جس کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
بادشاہ ذی جاہ! بے شک ایک فرماں روا کا احترام کرنا تہذیب واخلاق کا تقاضا ہے؛ مگر ہمارے جذبات آپ کے سامنے خصوصیت سے اس لیے بھی جھکے ہوئے ہیں کہ آپ انصاف پر ور فرماںروائی کے ساتھ با تدبیر رہ نمائی کا فرض بھی اس خوبی سے انجام دے رہے ہیں کہ آپ کی پوری قوم آپ کی گرویدہ اور آپ کا پورا ملک آپ کے حسن انتظام کا ممنون و معترف ہے۔ برطانوی چیرہ دستی کے ختم ہو جانے کے بعد امن واطمینان کا متاع گراںمایہ، جوآپ کی قوم اور ملک کو میسر آیا ہے، آپ حسن تدبیر سے اس کو بہترین مصرف میں صرف کر رہے ہیں۔ نہایت خاموشی کے ساتھ آپ کا ملک آپ کے زیر سایہ ترقی کی اعلیٰ منزل کی طرف تیزی سے قدم بڑھا رہا ہے۔ آب پاشی کی ترقی کے ساتھ زراعت کی حدود بھی بہت وسیع ہوگئی ہیں۔ جنس خام کی پیداوار میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہے۔ صنعتی لحاظ سے ملک دن بدن خود متکفل ہوتا جارہا ہے۔ جگہ جگہ مل اور فیکٹریاں قائم ہیں۔ تیل کے چشمے برآمد کیے جارہے ہیں۔ معدنیات کی تلاش جاری ہے۔ خوش حالی میں دن بدن اضافہ ہے، اور ذات شاہانہ کی خصوصی توجہ،لازمی تعلیم اوربے شمار تعلیمی وظائف کے ذریعہ ملک کو علم وفن کاگہوارہ بنا رہی ہے۔
فرماںروائے ذی احترام! بے شک صنعتی اورمعاشی ترقی کے ساتھ روحانی تسکین کے ذرائع بھی روبہ ترقی ہیں۔ آپ کے دور مسعود میں مسجدیں بارونق ہیں ، اور بہت سی جدید مسجدوں کی فلک بوس عمارتیں عبادت اور خداپرستی کی دعوت دے رہی ہیں؛ مگر ایک مؤدبانہ گذارش کی اجازت دیجیے- دینی حمایت، غیرت ملی اور اتباع شریعت میں، افغان قوم کا ایک خاص اور بلند مقام رہا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ کے اس چند روزہ دورہ کے پروگرام میں، ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ اور’’ زیارت سرہند شریف‘‘ کو بھی وہی اہمیت حاصل ہے، جو کسی دوسرے بڑے سے بڑے سیاسی مقصد کو بہادر افغانوں کے ذی علم طبقہ نے اخلاق اور روحانیت کو انھیں قدروں کے ساتھ پہنچانا ہے، جو خاتم الانبیا رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی ہیں۔ یہ مقدس تر کہ جس کی وارث افغان قوم پشت ہا پشت سے چلی آتی ہے، اس کے تقدس کا تقاضہ ہے، اور ہروہ شخص ،جس کا معمورہ قلب عقیدہ مابعد الموت کے تقاضوں کا احساس رکھتا ہے، اُس کی تمنا ہے کہ مادی ترقیات کے اس بحرانی دور میں بھی افغان قوم کا قدم اس مقام بند پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے ،اور دن بدن اُس کے استحکام میں اضافہ ہوتار ہے۔
اسے طالع بیدار سلطنت افغانستان! بے شک سرزمین ہنداس کی عادی رہی ہے کہ امرا اور شاہان افغانستان کا استقبال گرم جوشی سے کرے؛ لیکن آج ہمیں مسرت ہے کہ جمعیت علمائے ہند ذات شاہانہ کا استقبال ایک آزاد اور مستقل جمہوریہ کی ایک ترقی پذیر جماعت کی حیثیت سے کر رہی ہے۔ ع
ائے آمدنت باعث آبادی ما!
جمہوریۂ ہندجو چار کروڑ سے زائد مسلمانوں کو اپنے آغوش میں لیے ہوئے ہے، بجا طور سے اپنے دستور اساسی پر فخر کرسکتا ہے، جو ہر باشندۂ ملک کی آزادیِ فکر ورائے، آزادیِ تحریر و تقریراور آزادیِ ضمیر کا متکفل ہے، جو ہر ایک فرقہ اور ہر ایک طبقہ کو حق دیتا ہے کہ وہ اپنے کلچرو تہذیب اور اپنی مذہبی و روایتی خصوصیات کی حفاظت کرے، اور ترقی کے راستوں پر گامزن ہو، جو دنیاوی دساتیرمیں سب سے بہتر دستور مانا گیا ہے، جس کی قیادت پنڈت جواہر لال نہرو جیسے وزیر اعظم کے سپرد ہے، جن کی انسانیت نوازی، اور شرافت پسندی نے پوری دنیا کے سیاسی رہ نمائوں میں اس کو بلند ترین شخصیت کا مالک بنا دیا ہے۔
جمعیت علمائے ہند-جس کو آپ کے استقبال کرنے کا زریں موقع نصیب ہوا ہے- جس طرح اُس نے جنگ آزادی میں عظیم الشان قربانیاں پیش کر کے تاریخ حریت میں مسلمانوں کے لیے باوقار مقام حاصل کیا ہے، اسی طرح آج وہ سیکولر جمہوریۂ ہند میںدینی مآثر ور ایات، مذہبی علوم اور اسلامی تہذیب و تمدن کی حفاظت اور بالخصوص ان علاقوں میں جہاں قلیل تعداد مسلمان دینی شعور اور مذہبی تعلیم کے لحاظ سے بہت پس ماندہ ہیں، ان میں اسلامی تعلیم وتربیت کی ذمہ داریاں اپنے مونڈھوں پر سنبھال کر کوشش کر رہی ہے کہ آئین جمہوریت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے ملت اسلامیۂ ہندیہ کے مستقبل کو بہتر بنائے۔وباللہ التوفیق۔
پاسبان ملت افغانیہ بادشاہ غازی! جمعیت علمائے ہند، جس کا سرمایہ ہمیشہ سے مسلمانوں کی امداد واعانت اورخدائے بالاو برتر پر اعتمادو توکل رہا ہے۔ آج اس حسن اتفاق پر نازاں ہے کہ وہ ایسی ذات خسروانہ کا خیر مقدم کر رہی ہے، جس نے تو کل کو اپنا طرۂ امتیاز گردانتے ہوئے المتوکل علی اللہ لقب اختیار فرمایا ہے۔ ومن یتوکل علیٰ اللہ فہو حسبہ۔
شاہ محترم !آپ کے خیر مقدم کی تقریب سعید کے موقع پر چند کلمات عرض کرنے کے بعد دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام ملکوں کو ، جن کو سالہا سال کی محکومیت اور مقہوریت نے پس ماندہ بنادیا تھا،دن بہ دن مادی اور روحانی ترقیات کی نعمتوں سے نوازے۔ اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ کامیابی اور کامرانی ان کی قدم بوس ہو۔
این دعا از من وازجملہ جہان آمین باد
ہم ہیں آپ کے اور ملت افغانیہ کے خیر اندیش و بہی خواہ - اراکین جمعیت علمائے ہند۔
24؍ رجب الرجب 1377ھ۔ مطابق 14؍ فروری 1958ء۔
بمقام :کانسٹی ٹیوشن کلب نیو دہلی۔ (روزنامہ الجمعیۃ،16؍ فروری 1958ء)
افغانستان میں علما کے قتل پر احتجاج
27؍اپریل 1978ء کو افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب آیا، جس کے نتیجے میں افغانستان میں نور محمد تراکی اور پھر حفیظ اللہ امین کی قیادت میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کی کمیونسٹ حکومت بنی۔ اس حکومت نے ’’ثور انقلاب‘‘ (اپریل 1978ء) کے بعد سخت سیکولر اور اشتراکی اصلاحات نافذ کیں، جن میںدینی مدارس پر پابندیاں،علما، مشائخ اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ علما کو’’رجعت پسند‘‘اورحکومت دشمن کہا گیا۔بہت سے علما کوگرفتار کیا گیا،جیلوں میں ڈالا گیا اوربعض کو قتل، یا پھانسی دی گئی۔
جب یہ خبر جمعیت علمائے ہند کو موصول ہوئی، تو 3؍فروری1979ء کو حضرت مولانا اسعد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان میں کہا کہ:
’’ افغانستان میں موجو دہ انقلاب کے بعد ہزا رہا مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے اور علمائے اسلام کو جماعت اسلامی کے نام پر پھانسیاں دی جا رہی ہیں اور مولانا ابراہیم مجددی جیسے اکابرین امت کے خاندان کا قتل عام کر کے انصاف اور جمہوریت کا خون کیا جا رہا ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ کمیونسٹ تمام دنیا میں جمہوریت کے نام پر عوام کو اکساتے ہیں۔ اور جہاں قابض ہوجاتے ہیں، کسی طرح اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے۔ مذہبی ہونے کے جرم میں ہزاروں انسان کو فنا کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اور غریبوں اور عوام کو آہنی دیوار میں بند کر کے اپنی فسطائیت کا شرم ناک مظاہرہ کرتے ہیں۔ آج کل افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس طرح اسلام پسند لوگوں کو ذبح کیا جا رہا ہے اور ساری دنیا خا موش تماشائی بنی ہوئی ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ انسانیت کب جاگے گی اور عوام کو انسانی حقوق دلانے کے لیے کب آواز بلند کی جائے گی۔
میں تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ 9؍ فروری 1979ء کو جمعہ کے بعد شہدا کی مغفرت اور افغانستان کو اس بربریت سے نجات دلانے کے لیے خدا سے دعا کریں اور ایک تجویز پاس کر کے وزیر اعظم، وزیر خارجہ ہند اور سفارت خانہ افغانستان کو روانہ کریں۔‘‘
(روزنامہ الجمعیۃ،4؍ فروری1979ء)
تجویز کا متن درج ذیل ہے:
یہ جلسہ موجودہ افغانستان حکومت کی اسلام دشمنی، مذہبی علما کے قتل وغارت گری، جمہوریت کے نام پر قانون وانصاف کی خون ریزی کے خلاف سخت اور پر زور احتجاج کرتا ہے۔ اور حکومت افغانستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ علما کی خوں ریزی کاسلسلہ فوراً بند کرے اور اپنی اسلام دشمنی سے باز آئے۔
نیز حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہمارے احساسات اور جذبات کو وہاں کی حکومت تک پہنچائے اور اس غیر انسانی روش کو ختم کرنے کے لیے افغانستان کی حکومت پر اخلاقی دباؤ ڈالے۔(روزنامہ الجمعیۃ،5؍ فروری 1979ء)
علما کے قتل پر سفیر افغانستان کو میمورنڈم
بعد ازاں15؍ فروری1979ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے ارکان محترم نے حضرت مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں نئی دلی میں متعین ہیز ایکسی لینسی سفیر افغانستان سے ملاقات کی، اور ان کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس میمورنڈم میں افغانستان میں ہونے والے مظالم پراحتجاج اور مسلمانان ہندکی جانب سے تشویش کا اظہار کیاگیا ہے۔ مسٹر موصوف نے بڑی توجہ سے گفتگو سنی اوراپنی حکومت کو ہندستانی مسلمانوں کے جذبات اور احساسات سے مطلع کرنے کا وعدہ فرمایا۔(روزنامہ الجمعیۃ،16؍ فروری1979ء)
پھر اسی تاریخ یعنی 15؍ فروری 1979ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایک تجویز منظور کرتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیاکہ:
’’افغانستان کی ترقی اور حکومت کے دردناک مظالم کی خبریں- جو اپنے عقائد اور طریقۂ کار کے اعتبار سے کمیونسٹ ہے اور فسطائی مزاج رکھتی ہے- معتبر ذرائع سے مسلسل اور متواتر موصول ہورہی ہیں۔ ان مظالم کا سب سے زیادہ بھیانک پہلو یہ ہے کہ علما اور دین دار لوگوں کو اور خاص طور سے ایسے علما کو- جو اپنے تدین اور علم کے اعتبار سے ممتاز اور بااثر ہیں- چن چن کر گرفتار اور شہید کیا جارہا ہے۔ سیکڑوں علما اور مذہبی اشخاص شہید کیے گئے ہیں اور ہزاروں انسان جیل خانوں میں دردناک سختیاں اور دل دہلادینے والے مظالم کے شکار ہیں۔ بعض مشہور مدارس کو فوجی کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ ہزاروں دین دار افراد اور علما افغانستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ان تشویش ناک واقعات پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اپنی شدید بے زاری کا اظہار کرتا ہے اور افغانستان کی تراقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مظالم کا یہ سلسلہ اور اسلام دشمنی اور مذہب بے زاری کا یہ شرم ناک رویہ فورا ختم کردے۔‘‘
(کارروائی رجسٹر)
افغانستان کے حالات پر مجلس عاملہ کی تشویش
سردار محمد داؤد خان نے 1973ء میں اپنے کزن :افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کی بادشاہت کا تختہ الٹ کر افغانستان کو ایک جمہوریہ (Republic) قرار دے کر خود ملک کا پہلا صدر بن گیا ۔ان کی حکومت غیر جانب دار رہنے کی کوشش کر رہی تھی؛ لیکن آہستہ آہستہ ان کے تعلقات ملک کی کمیونسٹ پارٹیوں اور سوویت یونین کے ساتھ خراب ہونے لگ گئے۔
بعد ازاں اپریل 1978ء میں افغانستان کی کمیونسٹ جماعت ’’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان‘‘ (PDPA) نے فوج میں موجود اپنے حامی افسران کی مدد سے داؤد خان کی حکومت کے خلاف ایک خونی بغاوت کر دی۔ چوںکہ یہ بغاوت افغان کیلنڈر کے مہینے ’’ثور‘‘ میں ہوئی، اس لیے اسے ’’ثور انقلاب‘‘ کا نام دیا گیا۔اس بغاوت کے دوران صدارتی محل پر حملہ کیا گیا، اور صدر محمد داؤد خان اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
داؤد خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد، 1978ء سے 1980ء کے درمیان اقتدار میں تیزی سے تبدیلیاں آئیں اور مختلف کمیونسٹ رہنماؤں نے حکومت کی۔انقلاب کے فوراً بعد کمیونسٹ لیڈر نور محمد ترکئی (اپریل 1978 - ستمبر 1979) ملک کے صدر بن گئے۔ انھوں نے سخت گیر سوشلسٹ اور کمیونسٹ اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کی، جو افغان معاشرے کی روایات اور مذہبی اقدار کے خلاف تھیں۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں بغاوتیں شروع ہو گئیں۔
ملک کے اندرونی حالات خراب ہونے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے، ترکئی کے اپنے ہی نائب حفیظ اللہ امین (ستمبر 1979 - دسمبر 1979) نے ان کا تختہ الٹ دیا اور انھیں قتل کروا کر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ حفیظ اللہ امین کا دور بھی انتہائی خونی ثابت ہوا۔
حفیظ اللہ امین حکومت پر قابو پانے میں ناکام رہے اور سوویت یونین کو خدشہ پیدا ہوا کہ افغانستان میں ان کی حامی کمیونسٹ حکومت گرجائے گی۔ چنانچہ دسمبر 1979 کے آخر میں سوویت یونین (روس) نے افغانستان پر باقاعدہ فوجی حملہ کر دیا۔اورکابل پر قبضہ کر کے حفیظ اللہ امین کو قتل کر دیا۔اوران کی جگہ ایک اور افغان کمیونسٹ لیڈر ببرک کارمل کو روس نے اپنا کٹھ پتلی حکمران بنا کر اقتدار پر بٹھا دیا۔ اسی سیاسی اتھل پتھل اور سوویت حملے کے نتیجے میں افغان جنگ (افغان جہاد) کا آغاز ہوا، جس کا سلسلہ دہائیوں تک جاری رہا۔
انھیں حالات میں 28،29؍ جنوری 1980ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا، جس میں افغانستان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی گئی ۔ صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے کہا کہ اس مسئلہ پر جو معلومات حاصل کرسکا ہوں، میرے نزدیک یہ معاملہ عالمی سازش کا ایک حصہ ہے۔ افغانستان تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بہت ہی کمزور ملک ہے۔ وہاں اس طرح کی سازش کی بہت گنجائش ہے۔ وہاں دو سیاسی پارٹیاں ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کے نام سے ہیں، جن کے بنیادی ممبر وہ لوگ ہیں ، جو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے وقتا فوقتا اپنے پڑوسی ملک روس جاتے رہے ہیں، جن کی تعداد بہت کم ہے۔ خود ان پارٹیوں نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں ان کے ممبران کی تعداد عوام میں دس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ اور فوج میں صرف لگ بھگ دو ہزاور ہیں جیسا کہ خود حفیظ الامین نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے لاکھوں عوام ان پارٹیوں کے شدید مخالف ہیں، اور ان کی مخالفت میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔
افغانستان کے کچھ لوگ عام حالات میں سردیوں کے زمانہ میں پاکستان آجاتے تھے، مگر اس وقت لاکھوں کی تعداد میں پاکستان آگئے ہیں۔ جن میں سے تقریبا پچاس ہزار لوگ ایسے ہیں جو اپنے عزیزوں اور شناشاؤں کے گھروں میں قیام پذیر ہیں۔ باقی لوگ جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے، بے حد قابل رحم اور بے گھربار کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ حکومت پاکستان نے اب ان کے لیے معمولی چھول داریوں وغیرہ کا انتظام کیا ہے اور وہ بھی بے حد معمولی ہے ۔ ان کی کسمپرسی کا یہ عالم ہے کہ انھیں سوکھی روٹیاں پانی میں بھگو کر کھاتے دیکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود ان میں مخالفت کا جوش بے پناہ ہے۔ ان کا ہر نوجوان اس بے سروسامانی میں بھی معمولی رائفل لے کر لڑائی میں کود پڑتے ہیں اور ٹینکوں اور توپوں کے دہانوں پر جام شہادت نوش کرلیتے ہیں۔
یہ حقیقت بے حد تکلیف دہ ہے کہ پاکستان میں جماعت اسلامی اور اس کے ہم خیال لوگ افغان مظلوموں کے نام پر نہ صرف پاکستان سے ؛ بلکہ دنیا کے بہت سے ملکوں سے امداد کے لیے چندہ کی رقمیں باقاعدہ مہم بناکر جمع کر رہے ہیں ؛ لیکن وہ لوگ نہ ان کیمپوں میں جاتے ہیں اور نہ ان کی امداد کرتے ہیں ۔ معلوم نہیں یہ رقم کہاں خرچ کرتے ہیں ۔ بظاہر نہ ان کی کوئی قربانی ہے اورنہ ہی محنت؛ البتہ ہمارے ہم خیال لوگ ان کے لیے قربانی دے رہے ہیں ، محنتیں کر رہے ہیں اور ہر محاذ پر افغان مظلوموں کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔
افغانستان کی عوام دین کی خاطر لڑ رہی ہیں۔ ان کو کمیونزم سے کوئی دل چسپی نہیں ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک انھیں واپس مل جائے ۔ ابھی پچھلے دنوں جو انقلابات وہاں ہوئے ہیں، ان سے وہ مایوس ہیں ، اس لیے کہ ان پر کمیونزم کا کوئی اثر نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں ،جو صورت بھی ہو، لوگوں کو زبردستی غلام نہیں بنایا جاسکتا ؛ اس کے لیے عوام میں مقبولیت حاصل کرنا چاہیے ۔ موجودہ صورت بہتر نہیں ہے ۔ حکومت پاکستان بھی مظلوم افغانی کے ساتھ پرخلوص ہمدردی نہیں کر رہی ہے ؛ بلکہ ان کاایک سیاسی موقف ہے۔
حضرت مولانا قاضی سجاد حسین صاحب نے فرمایا کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ شاید افغانی عوام سابق شاہ ظاہر کو دوبارہ واپس لانا چاہتے ہیں ۔ جناب محترم جنرل شاہ نواز خاں صاحب نے کہا کہ وہ لوگ افغانی جنرل ولی خان کو لانا چاہتے ہیں ۔
مجلس عاملہ نے اس پر تشویش ظاہر کی ۔روس کی فوجی مداخلت کی زوردار لفظوں میں مذمت کی گئی اور اس سلسلہ میں ایک قرار داد منظور کی گئی۔ جو درج ذیل ہے:
افغانستان میں روسی فوجیوں کی مداخلت کی مذمت
’’ہر ملک کے باشندوں کو اپنی مرضی کے مطابق حکومت منتخب کرنے اور نظام زندگی اپنانے کا ناقابل تنسیخ حق ہے، جس کو ہرمہذب ملک کے قانون اور ’’انجمن متحدہ اقوام‘‘ کے چارٹر میں تسلیم کیا گیا ہے۔
اس لیے کسی غیر ملکی طاقت اور اس کی فوجوں کو افغانستان میں رہنے اور وہاں پر کسی نظام کو زبردستی اور قتل و غارت گری کے ذریعہ قائم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ افغانستان میں روسی فوجوں کی آمد اور وہاں عوام کے خلاف جدوجہد کی سخت مذمت کرتا ہے۔ مجلس عاملہ پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ روسی فوجوں کو بلاتاخیر افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ اور وہاں کے عوام کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ بغیر روسی و امریکی ، یا کسی اور غیر ملکی مداخلت کے اپنے لیے نظام حکومت منتخب کرسکیں۔
مجلس عاملہ کو یہ دیکھ کر دکھ اور تعجب ہے کہ روس نے حفاظتی کونسل میں افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے فیصلہ پر عمل نہیں کیا اور افسوس ناک حق تنسیخ ہی استعمال نہیں کیا؛ بلکہ انجمن متحدہ اقوام کے فیصلہ کو بھی نظرانداز کردیا۔
مجلس عاملہ افغان عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کو ان کی بربادی کا بے حد صدمہ ہے اور ہندستانی مسلمانوں، انصاف پسند عوام اور جمعیت علمائے ہند کی تمام ہمدردیاں اور خدمات ان کے ساتھ ہیں۔
مجلس عاملہ افغان مجاہدوں سے درخواست کرتی ہے کہ وہ روسی فوجوں کے انخلا کے مطالبہ کے ساتھ برطانوی ، اسرائیلی اور امریکی سامراجیوں کو بھی سرزمین افغانستان میں کھلنے کا موقع نہ دیں اور تمام استعمار پسندوں کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔ ‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
اسی طرح 2؍ اپریل1980ء کو ایک عمومی اجلاس برائے فلسطین منعقد ہوا، اس میں بھی افغانستان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:
’’جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسۂ عام افغانستان میں روسی فوجوں کی آمد اور وہاں کے عوام کے خلاف جد و جہد کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ہر ملک کے باشندوں کو اپنی مرضی کے مطابق حکومت منتخب کرنے اور نظام زندگی اپنانے کا ناقابل تنسیخ حق ہے، جس کو ہر مہذب ملک کے قانون اور انجمن متحدہ اقوام کے چارٹر میں تسلیم کیا گیا ہے، اس لیے کسی غیر ملکی طاقت اور اس کی فوجوں کو افغانستان میں رہنے اور وہاں پر کسی نظام کو زبر دستی قتل و غارت گری کے ذریعہ قائم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسۂ عام پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ روسی فوجوں کو بلا تاخیر افغانستان سے نکل جانا چاہیے، اورو ہاںکے عوام کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ بغیر روسی و امریکی، یا کسی غیر ملکی مداخلت کے اپنے لیے نظام حکومت منتخب کرسکیں۔
جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسۂ عام افغان عوام کو یقین دلاتا ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کو ان کی بربادی کا بے حد صدمہ ہے اور ہندستانی مسلمانوں، انصاف پسند عوام اور جمعیت علمائے ہند کی تمام ہمدردیاں اور خدمات ان کے ساتھ ہیں۔‘‘
(روزنامہ الجمعیۃ،3؍ اپریل 1980ء)
مجلس عاملہ میں مسئلۂ افغانستان پر بحث
27؍ اپریل 1980ء کو مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ ہوئی، جس میں افغانستان کے مسئلہ پر بات چیت ہوئی۔ صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے کہا کہ افغانستان کے مسئلہ پر ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس مسئلہ پر حکومت ہند کا موقف ہمارے آڑے نہیں آسکتا۔
ساتھ ہی مجلس عاملہ نے اس سلسلے میں اگلے دن (28،29؍ اپریل 1980ء)ہونے والی مجلس منتظمہ کے اجلاس کے لیے ایک قرارداد کی سفارش کی، جس میں افغانستان میں روسی فوجوں کی مداخلت کی مذمت کی گئی۔قرارداد درج ذیل ہے:
’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس اپنے اس مستقل موقف کا اصرار کے ساتھ اعادہ کرتی ہے کہ کوئی بھی ملک ہو، وہاں کے باشندوں کو اپنی مرضی کے مطابق اپنی حکومت اور اپنی پسند کا نظام حیات قائم کرنے کا فطری، بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق ہے۔ قوموں کے اس حق کو تمام بین الاقوامی انجمنوں اور خاص طور پر اقوام متحدہ کے منشور میں تسلیم کیا گیا ہے۔ مجلس منتظمہ پوری قوت کے ساتھ اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ کسی غیر ملکی طاقت کی فوجوں کو افغانستان میں رہنے اور کسی مخصوص نظام کوز بر دستی اور قتل و غارت گر ی کے ذریعہ قائم کرنے کا حق نہیں ہے۔
جمعیت علما کا افغانستان کے عوام اور ان کے دینی و علمی حلقوں سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔ افغان کے عوام بہادر اور طبعاً آزاد قوم ہیں۔ انھوں نے انگریزی سامراج کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع نہیں دیا اور نہ کبھی خود برطانوی حکومت نے اس کی ہمت ہی کی۔ جمعیت علماکے اکابر جب آزادی و استخلاص وطن کی لڑائی لڑ رہے تھے، تو افغان قوم کے قائدین کی پوری تائید ان کو حاصل تھی۔ جمعیت علماکی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس افغانستان میں روسی فوجوں کے داخل ہونے اور اس بہادر قوم پر اس کارروائی کے ذریعہ ایک مخصوص نظام حیات مسلط کرنے کی کوشش کی پرزور مذمت کرتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ روسی فوجوں کو بلا تاخیر افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ افغان قوم کو اپنی پسند کا سیاسی نظام قائم کرنے کا آزاد موقع دینا چاہیے۔ مجلس منتظمہ کو یہ دیکھ کر اور تعجب ہوا کہ روس نے اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ حفاظتی کونسل کی اکثریت کے خلاف اپنا ویٹو کا حق استعمال کیا؛ بلکہ اس نے انجمن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کو بھی نظرانداز کر دیا۔ مجلس منتظمہ افغان مجاہدوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ روسی فوجوں کے انخلا کے مطالبے اور اپنی جدو جہد کے ساتھ دنیا کے تمام استعماری قوتوں ؛خاص طور پر امریکی، اسرائیلی سامراجیوں کی طرف سے بھی ہوشیار رہیں اور انھیں کسی صورت میں افغانستان کے معاملات میں دخل دینے کا موقع نہ دیں۔
مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس عوام کو یقین دلاتا ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کو ان کی تباہی وبربادی کا سخت صدمہ ہے اور ان کی آزادی کی جدو جہد میں ہندستان کا تمام انصاف پسند عوام، تمام مسلمان اور جمعیت علمائے ہند کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
پھر حالات کے تناظر میں 9،10؍ دسمبر1980ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں افغانستان کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے روسی فوجیوں کی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیاگیا۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:
’’ ہر ملک کے باشندوں کو اپنی مرضی کے مطابق حکومت منتخب کرنے اور نظام زندگی اپنانے کا ناقابل تنسیخ حق ہے، جس کو ہر مہذب ملک کے قانون اور انجمن اقوام کے چارٹر میں تسلیم کیا گیا ہے۔اس لیے کسی غیر ملکی طاقت اور اس کی فوجیوں کو افغانستان میں رہنے اور وہاں پر کسی نظام کو زبردستی اور قتل وغارت گری کے ذریعہ قائم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ افغانستان میں روسی فوجیوں کی آمد اور وہاں عوام کے خلاف جدوجہد کی سخت مذمت کرتا ہے۔ مجلس عاملہ پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ روسی فوجوں کو بلاتا خیرافغانستان سے نکل جانا چاہیے اور وہاں کے عوام کوموقع ملنا چاہیے کہ وہ بغیرروسی و امریکی ، یاکسی غیر ملکی مداخلت کے اپنے لیے نظام حکومت منتخب کر سکیں۔
مجلس عاملہ افغان عوام کویقین دلاتی ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کوان کی بربادی کا بے حد صدمہ ہے اور ہندستانی مسلمانوں اور انصاف پسند عوام اور جمعیت علمائے ہند کی تمام ہمدردیاں اور خدمت ان کے ساتھ ہیں۔
مذکورہ بالا کارروائیوں اور تجاویز کی منظوری کے بعد مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ دعا پر ختم ہوگیا۔(کارروائی رجسٹر)
چوبیسویں اجلاس عام میں افغانستان کا تذکرہ
جمعیت علمائے ہند کا چوبیسواں اجلاس عام14،15،16؍ جنوری 1983ء کو منعقد ہوا۔ اس میںخطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے کہا کہ:
’’افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ جہاں کے لوگ غربت کے ساتھ قبائلی زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی غربت اور بے مائیگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام حق و انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کو نظر انداز کرکے روس نے وہاں اپنے چند لوگوں کی امداد کا بہانہ بناکر اپنی فوج ایک سال سے اُتار رکھی ہے اور لاکھوں شہریوں کو بے وطن کردیا ہے۔ آبادیوں سے ہوائی جہازوں اور ٹینکوں سے بم باریاں کی جاتی ہیں۔ لوگوں پر بے تحاشا فائرنگ کی جاتی ہے۔ وہاں کے غیور پٹھان تین سال سے مسلسل دُنیا کی اتنی اتنی بڑی فوجی طاقت سے لڑرہے ہیں اور روس کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے سردھڑکی بازی لگارہے ہیں۔ ہم ان افغان مجاہدین کو مبارک باد دیتے ہیں اور اپنے اخلاقی تعاون کا یقین دلاتے ہیں اور اس کے ظالمانہ رویے کی مذمت کرتے ہیں۔
ہمیں خوشی ہے کہ حکومتِ ہند اس مسئلے پر بھی حق و انصاف کے ساتھ ہے اور روس کی بے جا حمایت گہرے تعلّقات کے باوجود نہیں کرتی۔‘‘
پھر اسی اجلاس میں تجویز نمبر(14) کو منظوری دی گئی، جس کا متن درج ذیل ہے:
’’ہر ملک اور قوم کو آزاد رہنے اور اپنی پسند کا نظام حکومت قائم کرنے کا حق ہے، جس کی ضمانت انجمن متحدہ اقوام کے چارٹر میں دی گئی ہے۔
افغانستان میں روسی فوجی مداخلت نامناسب اور انجمن متحدہ اقوام کے منظور شدہ اصول کے خلاف ہے۔ جمعیت علمائے ہند اس کی سخت مذمت کرتی ہے اور حکومت روس سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ افغانستان سے بلاتاخیر اپنی فوجیں واپس بلائے، تاکہ افغانستان کے بہادر اور جرأت مند پٹھان اپنے ملک میں واپس آئیں اور اپنی پسند کی حکومت قائم کریں۔
جمعیت علمائے ہندکو افغانستان کے غیور اور جرأت مند پٹھانوں سے دلی ہمدردی ہے اور ان کو یقین دلاتی ہے کہ جمعیت علمائے ہند ان کے ساتھ ہے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
تعلیمی و ملی کانفرنس کی افغانیوں کی حمایت
6،7،8؍ اپریل1984ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام سہ روزہ تعلیمی و ملی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں افغانیوں کو اپنی پسند کا نظام حکومت قائم کرنے کے حق کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے درج ذیل تجویز نمبر(16) منظور کی گئی:
’’ہر ملک اور قوم کو آزاد رہنے اور اپنی پسند کا نظام حکومت قائم کرنے کا حق ہے ، جس کی ضمانت انجمن متحدہ اقدام کے چارٹر میں دی گئی ہے۔ افغانستان میں روسی فوجوں کی موجودگی نا مناسب اور انجمن متحدہ اقوام کے اصول کے خلاف ہے۔
آل انڈیا تعلیمی وملی کا نفرنس افغانستان میں روسی فوجوں کے قیام کے خلاف ہے اور حکومت روس سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی فوجیں افغانستان سے واپس بلا لے اور افغانی عوام کو اپنی مرضی کے مطابق حکومت قائم کرنے کا موقع دے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
افغان مجاہدین کو مبارک باد
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ دسمبر 1979ء کے آخر میں سوویت یونین (روس) نے افغانستان پر باقاعدہ فوجی حملہ کر دیا۔اورکابل پر قبضہ کر کے حفیظ اللہ امین کو قتل کر دیا۔اوران کی جگہ ایک اور افغان کمیونسٹ لیڈر ببرک کارمل کو روس نے اپنا کٹھ پتلی حکمران بنا کر اقتدار پر بٹھا دیا۔ اسی سیاسی اتھل پتھل اور سوویت حملے کے نتیجے میں افغان جنگ (افغان جہاد) کا آغاز ہوا، جس کا سلسلہ دہائیوں تک جاری رہا۔
افغان جہاد کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی طویل کوششوں کے بعد، 14؍اپریل 1988ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک تاریخی معاہدہ طے پایا۔اس معاہدے کا سب سے اہم فیصلہ یہ تھا کہ سوویت یونین 15؍مئی 1988ء سے اپنی افواج افغانستان سے نکالنا شروع کر دے گا، اور یہ عمل فروری 1989ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔
جنیوا معاہدے کے بعد، فروری 1989ء (اور اس سے قبل 1988ء کے اواخر کی کوششوں) میں مجاہدین نے پشاور میں افغان مہاجرین اور مجاہدین کمانڈروں کی ایک مشاورتی کونسل (شوریٰ) بلائی۔اس شوریٰ نے جلاوطنی میں ایک عبوری افغان حکومت (Afghan Interim Government - AIG) کے قیام کا اعلان کیا، جس میں صبغت اللہ مجددی کو صدر اور عبدالرب رسول سیاف کو وزیر اعظم نام زد کیا گیا۔
جنیوا معاہدے کی رو سے روس کی واپسی کاآغاز ہوا ۔ بعد ازاں مجاہدین کو کابل فتح کر کے اپنی باقاعدہ حکومت بنانے کے لیے مزید چار سال لڑنا پڑا، یہاں تک کہ اپریل 1992ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت مکمل طور پر گر گئی۔
انھیں حالات میں مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس 13،14؍ جون 1988ء کو منعقد ہوا، جس میں افغان پر بحث و گفتگو کرتے ہوئے درج ذیل کارروائی رپورٹ کی گئی:
’’افغانستان مجاہدین نے اپنی غیرت ، دین اور وطنی آزادی کی حفاظت کے لیے جو بے مثال جانی قربانی دی اور روس جیسی عالمی فوجی طاقت کے سامنے سپر نہیں ڈالی اور برسوں تک ہمت اور عظیم قربانی سے مقابلہ کیا، یہاں تک کہ اللہ نے یہ دن دکھایا کہ روسی فوجیں افغانستان کو خالی کرکے جارہی ہیں۔
مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند افغان مجاہدین کو ان کی قربانیوں اور کامیابیوں پر پرجوش مبارک باد دیتی ہے اور یقین کرتی ہے کہ مجاہدین نے اپنے خون سے وطن کی آزادی اور حرمت کو بچایا ہے، اس لیے جائز طور پر ملک کے وارث و حق دار ہیں اور عظیم قربانی کے بعد ان کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
اس کے بعد 11،12؍ فروری 1989ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جس میں افغان مجاہدین کے عزم و کردار کی تحسین کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:
’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس اس بات پر خوشی کا اظہا رکرتا ہے کہ سویت یونین کی فوجیں افغانستان سے واپس جارہی ہیں۔ سوویت یونین کی مسلح مداخلت حریت اور آزادی کے بالکل خلاف تھی، جس کا اعتراف روسی لیڈر میخائل گوربا چوف نے بھی کیا ہے کہ سوویت یونین کی پیش رو قیادت نے افغانستان مسلح مداخلت کر کے کوئی اچھا کام نہیں کیا ہے۔
افغان مجاہدین نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے جو مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں، وہ دنیا کی تمام حریت پسند قوموں کے نزدیک لائق صد تحسین ہیں۔ افغان مجاہدین کی آٹھ سالہ قربانیوں کو نظرانداز کر کے اس ملک میں پرامن پائدار اورمستحکم حکومت کا قیام ممکن نہیں ہے۔
مجلس منتظمہ کی رائے ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تشکیل کا حق افغانی عوام کو ہی ہے، اس لیے سوویت یونین ،یا کسی دوسری طاقت کو وہاں کسی طرح کی سیاسی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
افغان مجاہدین کو مبارک باد
اپریل 1992ء میں سردارنجیب اللہ خاں کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد پشاور معاہدے کے تحت ’’اسلامک اسٹیٹ آف افغانستان‘‘ بنی، جس میں سب سے پہلے صبغت اللہ مجددی اور پھر برہان الدین ربانی صدر بنے۔ اس طرح افغانستان میں مجاہدین کی حکومت قائم ہوئی؛ لیکن اسی دوران مجاہدین کے آپسی اختلافات کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہوگئی۔
8؍ مئی 1992ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں افغانستان میں روسی دور کے خاتمے اور مجاہدین کے دور کے شروع ہونے کو ’’نیادور‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:
’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس اس بات پر ازحد خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ افغانستان کے علما ئے کرام، دینی حلقوں اور غیورعوام کی چودہ سالہ جد وجہد کامیابی سے ہم کنار ہوئی ۔اللہ کے فضل وکرم سے افغانستان پر مجا ہدوں کا قبضہ ہو گیا۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس افغان جہادکی کامیابی پر مجاہدین کو مبارک باد پیش کر تے ہوئے ان سے درخواست کر تا ہے کہ وہ اسلام کی سربلندی اور اپنی حریت بر قرار رکھنے کے لیے متحد ہو جائیں اور بغیر کسی بیرونی مداخلت کے اپنے مسائل ومعاملات خود حل کریں ۔ اللہ تعالیٰ افغان عوام کو ترقی اور خوش حالی دے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍
افغانستان کا دورہ کرنے کا مشورہ
مجلس عاملہ منعقدہ یکم و 2؍اگست1992ء کی بحث و مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے مولانا ارشد مدنی صاحب استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے مشورہ دیا کہ ان مسلم ریاستوں کے طلبا کا چوں کہ ہندستان کے مقابلہ میں پاکستان آنا زیادہ آسان ہے، اس لیے زیادہ مناسب ہوگا کہ پاکستان کے دینی اداروں سے دارالعلوم رابطہ قائم کرکے انھیں ان کی تعلیم کی طرف توجہ دلائے۔
ورکنگ کمیٹی نے اجازت دی کہ صدر محترم وفد بناکر روس کی مسلم ریاستوں اور واپسی میں افغانستان کا دورہ فرمائیں۔وفد کے ارکان کے انتخاب کا مجاز صدر محترم کو بنایا گیا۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ ، جلد چہارم، ص؍
افغانستان میں خانہ جنگی ختم کرنے کی اپیل
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ اپریل 1992ء میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ صدر محمد نجیب اللہ کی حکومت گرنے کے بعد مجاہدین نے پشاور معاہدہ کے تحت اسلامک اسٹیٹ آف افغانستان قائم کی۔ پہلے صبغت اللہ مجددی (دو ماہ کے لیے) اور پھر برہان الدین ربانی صدر بنے۔ لیکن یہ حکومت قومی اتحاد کی بجائے فوری طور پر خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔ مختلف مجاہدین گروہ ؛ بالخصوص گل بدین حکمت یار کی حزب اسلامی، ربانی-مسعود کی جماعت اسلامی، عبد الرسول سیاف، جنرل دوستم کی ازبک فورسز، اور شیعہ ہزارہ گروپس کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہو گئی، جس سے افغانستان شدید خانہ جنگی کا شکار ہوگیا،جو طالبان کے ظہور(27؍ستمبر1996ء) تک اس میں مبتلا رہا۔
جمعیت علمائے ہند نے 29؍ اکتوبر 1995ء کو اپنا پچیسواں اجلاس عام کیا، جس میں افغانستان میں برپا خانہ جنگی کا خاتمہ کرکے باہمی مصالحت سے اختلاف کو ختم کرنے کی اپیل کی گئی۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:
’’افغان بلاشبہ ایک بہادر اور جری قوم ہیں۔ قومی غیرت و حمیت ان کی گھٹی میں شامل ہیں۔ اپنی اسی جرأت وہمّت سے انھوں نے روس جیسے طاقت ور ملک کو شکست دے کر دنیا میں اپنا نام روشن کیا ہے۔ افغانستان سے روسی تسلط کے ختم ہوجانے کے بعد توقع تھی کہ افغان کسی منظم حکومت کے تحت امن و امان اور سکون و راحت کے ساتھ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہوں گے، مگر بعض سازشی عناصر سے متأثر ہوکر وہ خانہ جنگی کے شکار ہوگئے، جس میں روز بروز شدت ہی پیدا ہوتی جارہی ہے اور جس کے نتیجے میں ایک بھائی دوسرے بھائی کو اپنے ہاتھوں قتل کررہا ہے۔یہ اجلاس سربراہانِ افغانستان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس سازش سے ہوشیار ہوکر اپنی اس خانہ جنگی کو ختم کرنے کی کوششیں کریں اور باہمی گفت و شنید، مفاہمت و مصالحت سے اپنے اختلافات کو ختم کریں۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍
افغانستان میں طالبان حکومت اور امریکی مداخلت
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ1989ء میںروسی انخلاکے بعد،1992ء میں کمیونسٹ حکومت ختم ہوئی، تو مجاہدین کی حکومت شروع ہوئی،مگر مجاہدین کی مختلف جماعتیں آپس میں لڑنے لگیں، جس سے کابل سمیت پورا ملک بدامنی، لوٹ مار اور خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔اسی دوران 1994ء میں قندھار کے علاقے میں ملا محمد عمرکی قیادت میں طالبان تحریک شروع ہوئی۔یہ زیادہ تر مدارس کے طلبہ (طالبان) تھے، جنھوں نے امن قائم کرنے اور شریعت نافذ کرنے کا نعرہ لگایا۔ عوام نے بدامنی سے تنگ آ کر ان کی حمایت کی۔طالبان نے ملک کا نام بدل کر ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کردیا اور 27؍ستمبر 1996ء سے باقاعدہ حکومت کا آغاز کیا۔
طالبان کی حکومت 2001 ء تک رہی۔9/11 کے حملے کے بعد القاعدہ کو پناہ دینے کا بہانہ بناکر امریکہ نے 7 ؍اکتوبر 2001 کوافغانستان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی، جس کے نتیجے میں 13؍نومبر 2001 کو طالبان کابل سے فرار ہوگئے۔ 7؍دسمبر 2001ء کو ملا عمر نے قندھار چھوڑ دیا اور طالبان کی پہلی حکومت باضابطہ طور پر ختم ہو گئی۔
امریکی بم باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
7 ؍اگست 1998ء کوکینیا (نیروبی) اور تنزانیہ (دارالسلام) میں امریکی سفارت خانوں کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا،جن میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔امریکہ نے ان حملوں کا ذمہ دار القاعدہ کو قرار دیا، جس کی قیادت اس وقت اسامہ بن لادن کر رہے تھے۔
اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی، اور انھوں نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی تھی۔ امریکہ نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ بن لادن کو حوالے کریں، لیکن طالبان نے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے 20؍اگست 1998ء کو امریکہ نے Operation Infinite Reach کے تحت، افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی کیمپوں پر کروز میزائل سے حملے کیے۔
اسی آپریشن کے تحت سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں الشفاء فارماسیوٹیکل فیکٹری پر بھی میزائل حملہ کیا گیا۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ یہ فیکٹری کیمیکل ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو رہی تھی اور بن لادن سے منسلک تھی۔ بعد میں یہ دعویٰ متنازع ثابت ہوا اور بہت تنقید ہوئی۔
انھیں حالات کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نے 4؍ ستمبر1998ء کو ایک پریس بیان جاری کرکے، افغانستان اور سوڈان دونوں جگہوں پر امریکی بم باری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ بیان درج ذیل ہے:
’’افغانستان اور سوڈان کے مبینہ انتہا پسندوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملے پر جمعیت علمائے ہند نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقومی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی نے- جو اس وقت افریقی و مغربی ممالک کے دعوتی و تبلیغی دورے پر ہیں-نے کہا کہ کسی بھی آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ، اس کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کی توہین اور قانون و آئیمن کے بجائے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری دور میں امریکی اقدام ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی شرم ناک مثال ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مغربی ممالک کے عوام کا عمومی تأثر ہے کہ ایسے وقت میں افغانستان اور سوڈان پر بم باری کرنا، جب کہ امریکی صدر مختلف طرح کے جنسی معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں اور مقبولیت میں تیزی سے کمی آر ہی ہے ،سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ امریکہ پولیس مین کا رول ادا کر رہا ہے، اور ہر ملک میں اپنی پسند کا اور مفاد کے مطابق نظام حکومت رائج کرنا چاہتا ہے۔ اس نے عمدا سرب ظالموں کے ہاتھوں بوسنیائی عوام کا قتل عام کرایا۔ ترکی اور الجزائر میں جمہوریت کشی اور اسرائیل کے جابرانہ عمل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ صدر جمعیت نے زور دے کر کہا کہ سوڈان اور افغانستان میں امریکہ نے جو مذموم بم باری کی ہے، وہ دہشت گردی کے نام پر مختلف ممالک میں جاری تحریک حریت اور مجاہدین کو دبانے کی منصوبہ بند کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ دہشت گردی بہرحال غلط اور قابل نفرت و مذمت ہے، چاہے عوامی سطح پر ہو، یا حکومتی سطح پر اور امریکہ نے جوکچھ لیبیا،سوڈان اور افغانستان میں کیا ہے، وہ بھی دہشت گردی ہے۔ اگر افغانستان سوڈان میں دہشت گرد ہیں، تو اس سلسلے میں وہاں کی حکومت اور بر سراقتدار گروپ سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے بین الا قوامی قانون موجود ہے۔ مولانا مدنی نے متنبہ کیا کہ اگر دنیا کے خود مختار ممالک نے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے غلط اقدامات کا متحدہو کر مقابلہ نہیں کیا، تو دیگر ممالک کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
مولانا مدنی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ،4-10؍ستمبر1998ء)
افغانستان پرمعاشی پابندیوں کی مذمت
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ امریکہ نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کرے؛ لیکن طالبان نے یہ مطالبہ قبول نہیں کیا، جس کی وجہ سے یونائٹیڈ نیشن سکیوریٹی کونسل نے 15؍اکتوبر 1999ء کو قرارداد نمبر 1267منظور کرتے ہوئے ایک ماہ کا وقت دیا
جب طالبان نے انکار کردیا، تو 14؍نومبر1999ء کو عملی طور پراس قرارداد کو نافذ کرتے ہوئیطالبان حکومت پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں، ان کے اثاثے منجمد کیے گئے، بین الاقوامی پروازوں پر پابندی لگائی گئی ،اسلحہ اور مالی مدد روکنے کی کوشش کی گئی۔
انھیں دنوں یکم دسمبر 1999ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں افغانستان پر معاشی پابندیوں کی سخت مذمت کی گئی۔ تجویز میں کہا گیا کہ:
’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اقوام متحدہ کی طرف سے افغانستان پر عائد پابندیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مسئلہ کے حل کے لیے باہمی بات چیت کے معقول طریقہ کو ترک کرکے مبینہ دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاکر پابندی عائد کرنے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ اس اجلاس کو اس بات پر کافی تشویش ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے اقوام متحدہ کو ایک طرح کا یرغمال بنادیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ ادارہ ان ممالک کی اپنی پسند کے نظام و فیصلہ کو جائز ناجائز طور پر نافذ کرنے کے لیے محض آلۂ کار اور ذریعہ بن کر رہ گیا ہے ۔ پھر ایک ایسے شخص ، جس پر کینیا میں قائم امریکی سفارت خانے کے بم دھماکے کا الزام ہے، اسے لے کر افغانستان پر پابندیاں عائد کردینے کے اقدام نے اقوام متحدہ کی شاخ کو بری طرح متأثر کیا ہے۔ طاقت اور قوت کے بل پر اس قسم کے اقدامات دراصل کمزور ملکوں پر دھونس جمانے کی مغربی اور یورپی ممالک، نیز امریکہ کی منصوبہ بندی کا آئینہ دار اور ایک خاص نئے عالمی نظام کے قیام کے لیے مذموم کوشش ہے۔ اس سے بلاشبہ ان ممالک سے نفرت میں اضافہ ہوا۔ دہشت پسندی، بنیاد پرستی کی اصطلاحات سے مذہب اسلام کو بدنام کرکے اس کے خلاف تمام اقوام و ممالک کو متحد کرنے کے لیے کوشش مذہبی منافرت اور بین الاقوامی عدم اعتمادی پیدا کردے گی۔
پابندیوں اور تحریرات کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے حکمراں طبقے کے بجائے معصوم عوام کو بے پناہ تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیبیا ، عراق، یوگینڈا، سوڈان، کیوبا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لیبیا میں تیل کی آمدنی کی کمی کی باعث عوام کی ضروریات زندگی بہت گراں ہوگئی ۔ عراق کے لاکھوں معصوم بچے ، بوڑھے، مرد، عورتیں غذائی قلت اور دواؤں کی عدم دستیابی کی وجہ سے موت کے منھ میں چلے گئے اور زندہ بچے رہنے والے عوام کے مصائب و آلام بے پناہ بڑھ گئے ۔ امریکہ و یورپی ممالک کے دباؤ میں اقوام متحدہ کی طرف سے افغانستان پر عائد پابندیاں اگر طویل مدت تک رہیں، تو افغانی عوام کو عراقی عوام کی طرح ضروریات زندگی کو لے کر گرانی و دیگر مصائب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پابندی عائدے کیے ہوئے ابھی صرف دو ہی ہفتے ہوئے ہیں کہ عام شہری اس سے متأثر ہونے شروع ہوگئے ہیں ۔ اگرچہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ موجودہ پابندیوں سے عام شہری متأثر نہیں ہے ؛ لیکن واقعہ یہ ہے کہ پابندیوں کے منفی اثرات پڑنے شروع ہوگئے ہیں۔
آرین کی پروازیں رک جانے سے افغانی عوام کا بیرونی ممالک میں رہنے والے رشتہ داروں اور متعلقین سے رابطہ ختم ہوگیا۔ تمام بین الاقوامی پروازیں بند ہوگئی ہیں۔ غیر ملکی بینکوں میں جمع اثاثے کو منجمد کردیا گیا ہے۔ یہ تمام تر اقدامات افغانستان کو عالمی برادری سے کاٹنے اور اپنی مرضی کے آگے جھکانے اور اس لیے کیے جارہے ہیں کہ افغانی عوام حکمراں جماعت کے خلاف بغاوت کردے ؛ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ پابندیوں سے کسی ملک کی قیادت کو نہیں مٹایا جاسکتا؛ ہاں اس کی بنا پر عوام بے پناہ مصائب میں مبتلا ہوجائیں گے۔
اس کے پیش نظر مجلس عاملہ کا یہ اجلاس امن و انصاف پسند حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے افغانستان پر عائد کردہ پابندیوں کو ختم کرانے کی مؤثر جدوجہد کریں ؛ کیوں کہ اس قسم کی پابندیوں سے امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک کا مشرقی ممالک پر غیر ضروری خود سے تسلط بڑھ رہا ہے۔ جمعیت علمائے ہند ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے؛ لیکن افغانستان کے خلاف دہشت گردی کے نام پر جو کچھ کیا جارہا ہے، اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے اور اس رویے پر مذمت کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔
مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ سے اپیل کرتاہے کہ باہمی تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے معقولیت و انصاف پر مبنی بات چیت کا قابل قبول راستہ اختیار کیا جائے۔
اس تجویز کی روشنی میں جمعہ کے دن افغانستان اور چیچنیا کی حمایت میں احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍
چیچنیا اور افغانستان مظلومین کے لیے یوم دعا منایا گیا
چنانچہجمعیت علمائے ہند کے اعلان پر17؍دسمبر 1999ء بروز جمعہ پورے ملک کی مساجد اور عام مقامات پر عام اجتماعات کر کے چیچنیا میں روس کی بر ہنہ جارحیت اور امریکی دباؤ میں اقوام متحدہ کی طرف سے، افغانستان پر عائد معاشی واقتصادی پابندیوں کی سخت مذمت کی گئی۔ مساجداور اجتماعات میں چیچنیا اور افغانستان کے مقہور و مظلوم عوام کے حق میں اجتماعی دعا کرتے ہوئے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ روس چیچنیا کے عوام کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے اور اقوام متحدہ جیسا ادارہ، بڑی طاقتوں، خصوصا امریکہ کا محض آلۂ کا ربن کر رہ گیا ہے۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ،24-30؍ دسمبر1999ء)
بے قصوروں کو یرغمال بنانا سراسر غیر اسلامی
انڈین ایر لائن کی فلائٹ نمبر(814 )نیپال کے کھٹمنڈوسے نئی دہلی آ رہی تھی۔جہاز اڑنے کے تقریباً چالیس منٹ بعد، جب یہ بھارتی فضائی حدود میں داخل ہوا، تو پانچ مسلح ہائی جیکروں -جو حرکت المجاہدین سے تعلق رکھتے تھے- نے طیارہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ہائی جیکرز نے طیارے کو مختلف مقامات پر لینڈ کروایا: امرتسر (بھارت)، لاہور (پاکستان)، دبئی (متحدہ عرب امارات) اور آخر کار 25؍دسمبر 1999ء کی صبح قندھار (افغانستان) میں لینڈ کیا۔ اس وقت قندھار پرطالبان کی حکومت تھی ۔جنھوں نے اس طیارے کے سبھی مسافروں کو یرغمال بنالیا، جو 31 ؍دسمبر 1999ء تک جاری رہا ۔ آخر میں بھارت کی حکومت نے تین قیدی رہا کر کے -جن میں مولانا مسعود اظہر، عمر سعید شیخ اور مشتاق احمد زرگر شامل تھے- یرغمالوں کو چھڑوایا۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نے 30؍دسمبر1999ء کو ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے طالبان کے اس عمل کو غیر اسلامی قرار دیا۔ مولانا کا مکمل پریس بیان درج ذیل ہے:
’’صدر جمعیت نے انڈین ایر لائن کے طیارے کے اغوا کو ایک بزدلانہ اور مجرمانہ عمل قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بے قصور عورتوں، بچوں اور مردوں کو یر غمال بنانا، سراسر غیر اسلامی و غیر انسانی حرکت ہے، اس کا اسلامی جہاد اوراسلام کے نظام عدل و انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مولانا مدنی نے ذرائع ابلاغ کی اس بات کے لیے مذمت کی کہ وہ شعوری، غیر شعوری طور پر اغوا کاری کے قابل مذمت عملی کو ہندو مسلم اور اسلام اور کفر سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے آر ایس ایس کے ترجمان ہفت روزہ ’’پانچ جنیہ‘‘ کے تازہ شمارے کے اداریے کا خاص طور سے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر غیر ذمے دارانہ اور نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذموم حرکت ہے۔
صدر محترم نے یر غمالوں کی رہائی کے لیے افغانستان کی طالبان حکومت کی کوششوں کی تحسین کرتے ہوئے، تمام مسلم ممالک اور با اثر شخصیات سے اپیل کی ہے کہ یر غمالوں کی فوری رہائی کے لیے مؤثر کوشش کریں اور اس کا خیال رکھا جائے کہ انھیں کسی طرح کا گزند نہ پہنچے۔ انھوں نے ملک کے ڈھیلے انتظام اور سرکاری عملوں کی لاپروائی وسستی پر بھی افسوس و تشویش کا اظہار کیا۔انھوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیزی سے ہر ممکن قدم اٹھائے، تا کہ ان کی بحفاظت رہائی وواپسی ہوسکے۔‘‘
(ہفت روزہ الجمعیۃ،7-13؍جنوری 2000ء)
اسی طرح جب 13؍ مئی 2000ء کو جمعیت علمائے ہند کا چھبیسواں اجلاس عام ہوا، تو اس کے خطبۂ صدارت میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے افغانستان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ:
’’مذکورہ تمام باتوں کے پیش نظر بڑی مغربی و یورپی طاقتوں؛ خصوصاً امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس سے ہمارا مطالبہ ہے کہ افغانستان اور عراق پر سے تمام پابندیاں ہٹائی جائیں اور مسئلۂ فلسطین، کوسوو، برما اور چیچنیا کے مسلم عوام کے مسائل اور تکالیف و مشکلات کو دُور کرنے کے لیے فوری، مؤثر اقدامات کریں اور معقول بنیادوں پر باہمی بات چیت سے مسائل کے حل کی راہ نکالیں۔ اس کے بغیر انسانی حقوق کے محافظ و نگراں ہونے کا دعویٰ محض ایک فریب اور ناجائز پروپیگنڈہ ہے۔‘‘
طالبان کی مجسمہ شکنی مذہبی رواداری کے منافی
وسطی افغانستان میں واقعبامیان صوبہ کی وادی میں چھٹی صدی عیسوی کیبدھا کے دو دیوہیکل مجسمے تھے، جو پہاڑوں کی چٹانوں میں تراشے گئے تھے۔ بڑا مجسمہ تقریباً 55؍میٹر (180؍فٹ) اونچا اور چھوٹا مجسمہ تقریباً 38؍میٹر (124؍فٹ) اونچا تھا۔
طالبان کے امیر ملا محمد عمر نے 26؍فروری 2001ء کو تمام غیر اسلامی مجسموں (بتوں) اور پناہ گاہوں کو توڑنے کا حکم جاری کیا، تاکہ یہ مجسمے مستقبل میں کسی کی پوجا کا ذریعہ نہ بنیں۔
مجسمہ شکنی کا عمل 2؍مارچ 2001ء سے شروع ہوا۔ اور مارچ 2001ء کے آخر تک (تقریباً 25؍دنوں میں) دونوں مجسمے مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنادیے گئے۔
4؍مارچ2001ء کو جمعیت علمائے ہند کی ایک جائزہ کمیٹی نے طالبان کے اس عمل کو اسلام کے منافی قرار دیا اور پھر درج ذیل پریس بیان جاری کیا گیا:
’’جمعیت علمائے ہند نے افغانستان میں مجسموں وغیرہ کو توڑنے کی اطلاعات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اسے مذہبی رواداری کے منافی قرار دیا ہے۔ جمعیت کی جائزہ کمیٹی نے حالات کے تجزیے کے بعد کہا کہ موجودہ صورت حال کے لیے عالمی برادری خصوصا مغربی و یورپی ممالک بھی کسی حد تک ذمے دار ہیں۔ اگر طالبان حکومت سے جس کا افغانستان کی نوے فی صد سے زائد حصے پر قبضہ ہے، سفارتی تعلقات ہوتے ،تو رابطہ کرنے میں آسانی ہوتی اور اسے موجودہ انہدامی کارروائی سے روکا جا سکتا تھا۔ سفارتی سطح پر تعلقات نہ ہونے اور مختلف طرح کی پابندیوں کے ہوتے ہوئے، طالبان کو سمجھانے اور موجودہ کارروائی سے روکنے میں بہت سی وقتوں کا سامنا ہے۔ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے دباؤ میں آکر اقوام متحدہ نے طالبان حکومت پر پابندیاں عائد کر کے باہمی گفت و شنید کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ جمعیت علمائے ہند نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری موجودہ صورت حال سے عہدہ بر آہونے کے لیے مثبت و معقول رویہ اپنائے اور مسئلے کو باہمی بات چیت سے حل کرے، اس نے طالبان حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر انہدامی کارروائی روک دے۔ اسلام بت پرستی کے خلاف ہونے کے باوجود، دیگر مذاہب کی مذہبی علامتوں کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے، اس لیے طالبان، مذہبی رواداری کے پیش نظرتحمل سے کام لیں اور ہر ایسے اقدام سے احتراز برتیں، جس سے کسی مذہبی گروہ کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی مد ظلہ نے -جو اس وقت سعودی عرب میں ہیں- عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر قابل حل مسئلے کے تصفیہ کے لیے، مثبت اقدامات کرے اور ایسا ماحول بنایا جائے، جو تشدد اور زور زبردستی سے پاک ہو۔ اگر سمجھ داری، انصاف اور تحمل سے فوری کام نہیں لیا گیا، تو دنیا کو جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کے دور میں جانے میں زیاد دوقت نہیں لگے گا۔
انھوں نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کو لے کر کچھ تنظیموں کی طرف سے دھمکیوں اور ماحول بگاڑنے پر اظہار تشویش کیا ہے اور کہا کہ رد عمل مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘‘
(ہفت روزہ الجمعیۃ،16-22؍مارچ 2001ء)
افغانستان میں امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں کی مذمت
11؍ستمبر 2001ء کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر فضائی حملہ ہوا، جسے ’’نائن الیون‘‘ کہاجاتا ہے۔امریکہ نے کسی ثبوت کے بغیر اس کا ذمہ دار القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا، جو اس وقت افغانستان میںطالبان حکومت کی پناہ میں تھے۔امریکہ نے اسی کو بہانہ بناکر7؍اکتوبر 2001ء کو Operation Enduring Freedom شروع کی، جس میں بطور خاص فضائی حملوں میں طالبان کے ٹھکانوں اور القاعدہ کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔جس کی وجہ سے طالبان تیزی سے کمزور ہو گئے اور بالآخر 13؍نومبر 2001ء کو کابل پر قبضہ کر کے امریکہ نے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا ۔
اس کے بعد 22؍دسمبر 2001ء کو حامد کرزئی کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔
انھیں حالات میں جمعیت علمائے ہند نے 27،28؍ ستمبر2001ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا اور اس میں درج ذیل فیصلہ کیا:
’’امریکہ کے اس رویہ سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی سے سبق لینے کے بجائے اپنی قدیم غلطی کو دوہرانے میں لگے ہیں ، کیوں کہ کسی پختہ ثبوت کے بغیر کسی ملک، تنظیم یا فرد کے خلاف جارحانہ کارروائی بذات خود ایک دہشت گردی ہے، جس سے دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے مزید دہشت گردی پھیلے گی۔ یہ اجلاس نیویارک وغیرہ میں ہوئے حملے کی تحقیق کا عمل پورا ہونے سے پہلے کسی بھی ملک کے خلاف محض شک و شبہ کی بنیاد پر کسی فوجی کارروائی کو بین الاقوامی اور دنیا کی تمام عدالتوں کے فیصلوں کی خلاف ورزی سمجھتا ہے، کیوں کہ شبہ سے ملزم کو بری تو کیا جاتا ہے، اسے سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی حلیف ممالک محض ایک مبینہ ملزم کے بہانے سے جس طرح افغانستان پر حملے کا اعلان کر رہے ہیں، اسے انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ فوجی کارروائی سے خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کے ساتھ امن عالم کے تباہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اس کے پیش نظر یہ اجلاس امن پسند، انصاف پرور عالمی برادری اور تنظیموں ، خصوصا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے اپیل کرتا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو-چاہے وہ جتنا بڑا طاقت ور ہو-من مانے طریقے سے طاقت کے غلط استعمال سے روکے اور مسئلے کو دستاویزی پختہ ثبوت کی بنیاد پر باہمی بات چیت سے حل کرنے پر آمادہ کریں۔
مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس امریکہ سمیت عالمی برادری سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل ، فلسطین، چیچنیا، سوڈان، عراق اور دیگر مقہور ممالک کے سلسلے میں انسانیت و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور فرقے ، مذہب کی بنیاد پر دہشت گردی کی الگ الگ تعریف نہ کرے۔ دہشت گردی، دہشت گردی ہے ، چاہے وہ کوئی فرد کرے یا تنظیم یا سرکار کرے، امریکہ اور اس کے حلیف و اتحادی ممالک اسرائیل کے دہشت گرد، جاسوسی ادارہ موساد کی دہشت گردانہ ، بربرانہ سرگرمیوں کے خلاف بھی اقدامات کریں، کیوں کہ بغیر غیر جانب دارانہ مؤثر اقدامات کے دہشت گردی کا پائدار خاتمہ نہیں ہوسکتا ہے۔
یہ اجلاس پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، خصوصا ’’آج تک‘‘ ٹی وی چینل، ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ میگزین، ’’دینک جاگرن‘‘، ’’پانچ جنیہ‘‘ اخبار کی دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنے کی مسلسل کوششوں کی سخت مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ دہشت گردی کو اسلامی دہشت گردی، اسلامک ٹریرزم بتانے سے کلی احتراز کرے اور حکومت دہشت گردی کو مسلمانوں اور اسلام سے جوڑنے کے مذموم عمل پر سختی سے روک لگائے اوراس قسم کی غلط فہمیاں پھیلانے والے فرقہ پرست عناصر پر کڑی نظر رکھے۔
یہ اجلاس ہندستان کی موجودہ حکومت کے طرز عمل کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے، جو آر ایس ایس ، بجرنگ دل، وشوہندو پریشد، شیو سینا وغیرہ دہشت گرد اور فرقہ پرست نازی تنظیموں کو امداد پہنچا کر ملک میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔ اور دوسری طرف امریکہ وغیرہ ممالک کی دہشت گردی مخالف مہم میں شریک ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔ حکومت کا یہ دوہرا رویہ ملک و قوم کے ساتھ غداری کے مرادف ہے۔ اس لیے یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اگر واقعی دہشت گردی کی مخالفت میں سنجیدہ ہے، تو وہ دیگردہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اوپر مذکورہ تنظیموں کی دہشت گردیوں سے ملک و قوم کو بچانے کے لیے ان پر قانونی پابندی عائد کرے۔ ‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍
افغانستان پر حملہ افسوس ناک
افغانستان پر امریکی حملے کے اگلے دن، 8؍اکتوبر2001ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نے ایک پریس بیان میںامریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے، افغانستان پر حملہ کو افسوس ناک اور سرکاری دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ جس طرح امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر وغیرہ پر حملہ، غیر سرکاری، دہشت گردی ہے، اسی طرح امریکہ، برطانیہ کا، تباہ حال افغانستان پر حملہ سرکاری دہشت گردی ہے۔ مولانا مدنی نے تمام ائمۂ مساجد سے بھی اپیل کی کہ وہ امن عالم کے لیے دُعا کے ساتھ، فجر کی نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،19-25؍ اکتوبر2001ء)
افغانستان کے لیے یوم دعامنایا گیا
بعد ازاں جمعیت علمائے ہندکی اپیل پرپورے ملک میں26؍اکتوبر2001ء بروز جمعہ افغانستان پر امریکی جارحیت کے خلاف اور افغان عوام کے تحفظ و سلامتی کے لیے یوم دعا منایا گیا۔ ہر ضلع میں مرکزی و علاقائی اجتماعات منعقد ہوئے، تجاویز منظور کرکے امریکی سفیر مقیم دہلی، اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر اور جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر میں ارسال کی گئیں اور نماز جمعہ کے بعد انتہائی الحا و زاری کے ساتھ اپنے افغان بھائیوں کے تحفظ و سلامتی نیز امریکی جارحیت کے خلاف خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔
اس سلسلہ کا ایک اہم اجتماع جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر مسجد عبدالنبی میں بھی منعقد ہوا ،جس کو مولانا محمد سالم جامعی مدیر ہفت روزہ الجمعیۃ نے خطاب کرتے ہوئے ان تمام حالات سے روشناس کرایا ،جو آج سرزمین افغانستان پر امریکی درندگی کی علامت بن چکے ہیں۔ آخر میں اجتماع نے ایک تجویز منظور کی جس میں امریکی بربریت کی مذمت کے ساتھ اقوامِ متحدہ اور دُنیا کے امن پسند افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس امریکی جارحیت کو فوراً بند کردے۔
امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے 17؍اکتوبر2001ء کو دیے گئے دارالعلوم دیوبند کی فتویٰ پر عمل کرنے کی بھی تلقین کی گئی۔ نماز جمعہ کے بعد شرکا حضرات نے خصوصی دعاؤں کا بھی اہتمام کیا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،9-15؍نومبر2001ء)
افغانستان کے بدامن حالات پر تشویش
امریکہ اور ناٹو افواج، نائن الیون کے حملہ کا بدلہ اور القاعدہ کی طاقت ختم کرنے کے نام پر مسلسل بم باری کر رہے تھے ، جس سے عام شہری ہلاک اور وسائل حیات تباہ ہونے کی وجہ سے لوگ مہگائی اور معاشی پریشانیوں کے شکار ہوگئے تھے۔ انھیں دنوں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میںجمعیت علما کا انتیسواں اجلاس عام9؍ نومبر2008ء کو منعقد ہوا، جس کے خطبۂ صدارت میں صدر اجلاس نے افغانستان کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ۔ خطبہ میں کہا گیاکہ:
’’یہی کچھ صورت حال افغانستان میں بھی ہے۔ جان ومال کے بے پناہ نقصان اور بربادی کے باوجود قیام امن کی کوئی شکل ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ افغانستان کے جغرافیائی اور سماجی حالات میں امریکی حکام اور افواج بھی محسوس کررہی ہیں کہ افغانستان کے حالات انتہائی بھیانک رخ پر جارہے ہیں۔ افغانستان کی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں کے خاتمہ کے نام پر پاکستان کے سرحدی اور قبائلی علاقوں پر مسلسل ہوائی حملے ہورہے ہیں، جن میں تعلیمی ادارے، مدارس، مسجدیں اور مکانات تباہ ہورہے ہیں۔ بے قصور مارے جارہے ہیں۔ پاکستان کے بار بار احتجاج اور اپنے اقتدار اعلیٰ کے تحفظ اور خیال رکھنے کی اپیل کے باوجود حملوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ دوسری طرف ایران کو مختلف سمتوں سے گھیرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اقتصادی پابندیوں کے علاوہ دیگر ہتھکنڈے ایران کو بے دست وپاکرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ سوڈانی صدر کو عالمی عدالت سے مجرم قرار دلانے کے علاوہ وہاں صیہونی طاقتوں کے توسط سے باغیوں کو مسلح کرکے ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے امریکہ اور اس کے حلیفوں کا مقصد بالکل واضح ہوگیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک؛ خصوصاً مسلم ممالک کو اُبھرنے کا موقع کسی قیمت پر نہ دیاجائے اور ان کے معدنیاتی ذخائر اور قدرتی وسائل کا استعمال اپنے لیے کرنے کا ہر وہ طریقہ اپنایا جارہا ہے، جس کی آج کی جمہوری اور مہذب دور میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور جو ناوابستہ تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ تمام امن پسند ممالک-جو امن وترقی کے خواہاں ہیں- امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جارحیت کا مقابلہ متحدہ طور پر کرنے کے لیے آگے آئیں۔‘‘
افغانستان میں امریکی جارحیت کی مخالفت
پھر اسی اجلاس میں تجویز نمبر(15) منظور کرتے ہوئے امریکی دہشت گردی کی سخت مذمی کی۔تجویز کا متن درج ذیل ہے:
’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام افغانستان کے تشویش ناک حالات پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر روز بروز غیرملکی طاقتوں کی بڑھتی مداخلت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ افغانستان ، عراق میںغیرملکی فوجی مداخلت سے افغانستان کے پڑوسی ملکوں اور سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں اور خوف وہراس میںاضافہ ہوتاجارہا ہے۔ قدرتی وسائل اور معدنیاتی ذخائر پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول اور استعمال کی بے پناہ ہوس نے افغانستان کی اقتصادی، سیاسی، تعلیمی حالت کو بدسے بدتر بنادیا ہے اور ملک کے اصل باشندوں کے مستقبل کو تاریک تر کرنے کے ساتھ حال کو بالکل برباد کردیا ہے۔ امن عنقا ہوتا جارہا ہے۔ افغانی عوام کی اذیتوں میں ہردن اضافہ ہورہا ہے۔ قیام امن اور باہمی سمجھوتے کی محض باتیں ہورہی ہیں۔ عملاً تصادم، حملوں، بے قصوروں کی جانوں کے اتلاف میں اضافہ ہورہا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ افیون کی پیداوار اور غیر ملکی افواج میں اضافہ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے افغانی عوام میں غم وغصہ اور مزاحمتی جذبہ مزید پروان چڑھ رہا ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہندستان - جو اب تک افغانستان میں اپنی فوج بھیجنے سے بچاہواتھا- اس نے بھی مختلف ذرائع کی اطلاع کے مطابق اپنی فوج افغانستان بھیج دی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی میں امریکی دباؤ میں تبدیلی کی جارہی ہے، اس سے خطے میں امریکی غلبے میں اضافہ کے ساتھ امن واستحکام کی صورت مزید خراب ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے پیش نظر یہ اجلاس عام حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ امریکی پالیسی کے تحت کسی ملک کی اکثریت اور رائے عامہ کے علی الرغم خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہ کرے اور اپنے حالیہ اقدامات پر نظر ثانی کرے۔
یہ اجلاس عام اقوام متحدہ، ترقی یافتہ عالمی برادری اور تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ افغانستان کی صورت حال بہتر بنانے اور بے جا امریکی مداخلت وجارحیت پر روک لگاکر افغانی عوام کی مرضی کے مطابق جمہوری حکومت کے قیام میں اپنا اثرورسوخ کا استعمال کریں۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تجاویز، جلد پنجم، ص؍
امریکی قائم مقام سفیر اور کلچرل کونسلر سے مسئلۂ افغانستان پر گفتگو
امریکہ کے قائم مقام سفیر مسٹر پیٹر برلے اور کلچر ل کونسلر مائیکل میسی نے امریکہ اور ہندستان کی نئی سرکار کی تشکیل کے بعد عالمی طور پر بدلتے حالات اور اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں پالیسی کے تناظر میں، 9؍جولائی2009ء کو جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر میں آکر تبادلۂ خیالات کیا اور جمعیت علما کے ذمے داروں کے سوالات پر اپنے موقف کو پیش کیا۔
اس موقع پرمولانامحمود اسعدمدنی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے افغانستان، پاکستان کی موجودہ صورت حال پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایک مخصوص گروپ کے خلاف جو جنگ شروع کی تھی، وہ اب افغانستان اور عوام سے لڑائی میں بدل چکی ہے، صدر اوبامہ کے آنے سے امید کی جارہی ہے کہ امریکہ پہلے کی پالیسی میں تبدیلی کرکے عالمی سطح پر پیداشدہ بحران کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔(پریس ریلیز)
افغانستان میں جان ومال کے نقصانات پر تشویش
بعد ازاں 3؍ نومبر2009ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے تیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں صدر اجلاس حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری نے افغانستان کے حالات کے تناظر میں فرمایا کہ:
’’کچھ اسی طرح کی صورت حال افغانستان میں بھی ہے۔ جان ومال کے بے پناہ نقصان اور بربادی کے باوجود قیام امن کی کوئی شکل ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ ہندستانی سفارت خانے پر متعدد بار حملے ہوچکے ہیں۔ دھماکوں اور خودکش حملوں میں وہاں مسلسل بے قصور افراد مارے جارہے ہیں۔ ترقی اور امن کے قیام کے لیے کوئی مؤثر کوشش ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر افغانستان میں فوج کی تعداد میں مزید اضافہ کی بات کررہے ہیں۔اس وقت افغانستان میں جو صورت حال ہے، اس سے وہاں کے عوام کی تکلیفوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ ایسی اذیت ناک بات ہے ،جس کی آج کے جمہوری اور مہذب دور میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور جو ناوابستہ تحریک سے جڑے ہوئے ہوئے ہیں اور وہ تمام امن پسند ممالک جو امن وترقی کے خواہاں ہیں، امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جارحیت کا مقابلہ متحدہ طور پر کرنے کے لیے آگے آئیں۔‘‘
افغانستان میں امریکی جارحیت کی مخالفت
پھری اسی اجلاس کی تجویز نمبر(17) میں افغانستان میں امریکی جارحیت کی مخالفت و مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:
’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام افغانستان کے تشویش ناک حالات پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر روز بروز غیرملکی طاقتوں کی بڑھتی مداخلت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ افغانستان میں غیرملکی فوجی مداخلت سے افغانستان کے پڑوسی ملکوں اور سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں اور خوف و ہراس میں اضافہ ہورہا ہے۔ قدرتی وسائل اور معدنیاتی ذخائر پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول اور استعمال کی بے پناہ ہوس نے افغانستان کی اقتصادی، سیاسی، تعلیمی حالت کو بد سے بدتر بنا دیا ہے اور ملک کے اصل باشندوں کے مستقبل کو تاریک تر کرنے کے ساتھ حال کو بالکل برباد کردیا ہے۔ افغانی عوام کی اذیتوں میں ہر دن اضافہ ہورہا ہے۔ قیامِ امن اور باہمی سمجھوتے کی محض باتیں ہورہی ہیں۔ عملاً تصادم، حملوں، بے قصوروں کی جانوں کے اتلاف میں اضافہ ہورہا ہے۔ افیون کی پیداوار اور غیرملکی افواج میں اضافہ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے افغانی عوام میں غم و غصہ اور مزاحمتی جذبہ مزید پروان چڑھ رہا ہے۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ امریکہ کی نئی اوبامہ سرکار نے افغانستان میں استحکام اور امن کے قیام میں کسی مؤثر پیش رفت کے بجائے وہاں فوج کی تعداد میں اضافہ کی بات کہی ہے۔
اس کے پیش نظر یہ اجلاس عام اقوامِ متحدہ، ترقی یافتہ عالمی برادری اور تیسری دُنیا کے ترقی پذیر ممالک سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ افغانستان کی صورت حال بہتر بنانے اور بے جا امریکی مداخلت و جارحیت پر روک لگا کر افغانی عوام کی مرضی کے مطابق جمہوری حکومت کے قیام میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں۔‘‘
اسی طرح اکتیسویں اجلاس عام(منعقدہ: 19؍ مئی 2012ء) کی تجویز نمبر(12) میں عالم اسلام کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے حالات پر بھی تشویش ظاہرکی۔ چنانچہ تجویز کی متعلقہ عبارت درج ذیل ہے:
’’افغانستان کے حالات بھی اس نہج پر نہیں ہیں کہ وہاں مطلوبہ ترقی کاعمل شروع ہوجائے اور امن قائم ہوجائے۔امریکہ اور اس کے حلیفوں کی فوجیں افغانستان میں اب بھی موجود ہیں۔‘‘
بعد ازاں 24؍ مئی 2014ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی تجویز نمبر(2) میں اسی عبارت کو دہرایا گیا۔
قندوز افغانستان میںہلاکتوں پرغم وغصہ کا اظہا ر
2؍اپریل 2018ء کوشمالی افغانستان کے قندوز میں واقع گوجر اخونزادہ مدرسہ پر افغان فضائیہ نے طالبان پر حملہ کرنے کے بہانے راکٹ داغ دیے اور ہیوی میشن گنوں سے اندھا دھند فائر کیے، جس کے نتیجے میںدرجنوں معصوم بچے شہید ہوگئے تھے۔
9؍ اپریل2018ء کوجمعیت علمائے ہند نے قندوز افغانستان میں معصوم بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت پر سخت غم وغصہ کا اظہا کرتے ہوئے اسے سرکاری دہشت گردی سے تعبیر کیا۔جمعیت علما کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیاکہ:
’’ قندوز میں مدارس کے معصوم بچوں اور حفاظ کرام پر حملہ ا سی طرح شام میں کیمیکل ہتھیار کے ذریعہ عام لوگوں کی ہلاکت انتہائی تکلیف دہ معاملہ ہے۔ ریاست کی سرپرستی میں عام شہریوں کا قتل عام ایک سنگین بین الا قوامی مسئلہ بنتا جارہا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگااور اس قدر معصوموں کے خون کی ارزانی امن وامان کو سبوتاژ کردے گی ۔
جمعیت علمائے ہند نے اقوام متحدہ ، حقوق انسانی کے علم بردار اداروں، او آئی سی اسلامی کانفرنس کو متوجہ کیا کہ وہ ان سنگین حالات کا فوری نوٹس لیں اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، نیز اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ اس طرح کا سانحہ ہرگز رونما نہ ہو ۔‘‘
افغانستان میں طالبان حکومت امید کی کرن
امریکہ اور اس کے اتحادیوںنے القاعدہ اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر2001ء سے افغانستان پر ظلم و ستم کا جو سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا، طالبان کی مسلسل تحریک آزادی اور مزاحمت کے نتیجے میں15؍اگست 2021ء کواس کا خاتمہ ہوگیا۔ اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے مقرر کردہ کٹھ پتلی صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے اور طالبان کی حکومت قائم ہوگئی۔بعد ازاں 7؍ستمبر2021ء کوسرکاری طور پر طالبان حکومت کا باضابطہ اعلان ہوا۔
18؍ ستمبر2021ء کومجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں طالبان حکومت کو امید کی کرن قرار دیتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:
’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ میں افعانستان میں رو نماہونے والی نئی سیاسی تبدیلی پر غور و خوض ہوا ، مجلس عاملہ نے ایک طویل عرصے تک عالمی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ آرائی اور بے شمار قربانیوں کے بعد اپنے ملک کو بیرونی مداخلت سے پاک کرکے اقتدار تک پہنچنے والی جماعت ’طالبان‘ سے امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسلامی اقدار اور نبوی کردار کی روشنی میں حقوق انسانی کا احترام کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقات کے سا تھ منصفانہ اور کریمانہ معاملہ کریں گے ،نیز خطے کے تمام ممالک بالخصوص بھارت کے ساتھ تعلقات کو خوش گوار اور مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کریںگے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دیں گے ۔
واضح رہے کہ ماضی میں افغانستان کے ساتھ ہندستان کے قریبی، تہذیبی روابط رہے ہیں اورنئے افغانستان کی تعمیر و ترقی میں ہندستان کا بہت اہم کردار ہے ، جس کا جیتا جاگتا ثبوت افغانی پارلیمنٹ کی جدید عمار ت، ملک کے طول و عرض میں چلنے والے ترقیاتی منصوبے اور وسیع شاہراہیں ہیں، ایسی صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں، تا کہ گزشتہ چالیس سال سے جنگ و خوف کے سائے میں زندگی بسر کرنے والے افغان عوام سکون کی سانس لے سکیں اور ہر طر ح کے بیرونی خطرات سے محفوظ رہیں ۔‘‘(کارروائی رجسٹر مجلس عاملہ)
طالبان حکومت کو جمعیت علمائے ہند کے مفید مشورے
مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں ، جمعیت علمائے ہند کا چونتیسواں اجلاس عام،12؍ فروری2023ء کو منعقد ہوا، جس کے خطبۂ صدارت میں صدر اجلاس نے طالبان حکومت کو چند اہم مشورے دیتے ہوئے کہاکہ:
’’ایک طویل عرصے تک عالمی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ آرائی اور بے شمار قربانیوں کے بعد اپنے ملک کو بیرونی مداخلت سے پاک کرکے اقتدار تک پہنچنے والی جماعت ’طالبان‘ کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی اقدار اور نبوی کردار کی روشنی میں حقوق انسانی کا احترام کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقات کے سا تھ منصفانہ اور کریمانہ معاملہ کو اپنی حکومت کا لازمہ بنائے ،نیز خطے کے تمام ممالک ؛بالخصوص بھارت کے ساتھ تعلقات کو خوش گوار اور مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے احتراز کرے۔
دنیا کے دیگر ممالک کو بھی افغانی عوام کی مدد اور تعاون کے لیے آگے آنا چاہیے اوربائیکاٹ کے بجائے بات چیت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ یہ بہت ہی افسوس ناک امرہے کہ افغانستان کے اثاثے بہت سے مغربی ملکوں میں منجمد کر دیے گئے ہیں اور افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کر کے دنیا بھر میں ان کے ہمدردوں اور بہی خواہوں پر ان کی امداد و تعاون کے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور ان کی مخالف اقوام و ممالک نے ان کے معاشی بائیکاٹ کا غیر اعلانیہ معاہدہ کر رکھا ہے، جس پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ جو تھوڑی بہت مدد وہاں جا رہی ہے، وہ بھی محاصرہ کرنے والوں کی مرضی اور طریق کار پر موقوف ہے۔اس کی وجہ سے چار عشروں کی طویل جنگ سے تباہ شدہ افغان معاشرہ اور قحط و افلاس کی شکار افغان قوم کو موجودہ معاشی بحران میں انسانی بنیادوں پر غیر مشروط امداد و تعاون کے حق سے بھی محروم کر دیا گیاہے، جو بلیک میلنگ کی بدترین شکل ہے۔ جمعیت علمائے ہند کسی بھی حکومت کے طرز عمل اور اس کی ظالمانہ سیاسی پالیسیوں سے بیزاری کا اظہار کرتی ہے ، لیکن اس کی سزا اس کے عوام کو نہیں دی جاسکتی۔ جمعیت علمائے ہند یہ سمجھتی ہے کہ مغربی ممالک میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی اور موجودہ معاشی بحران میں افغان قوم کی مدد کا غیر مشروط ہونا بھی انسانیت کا تقاضہ ہے ۔
دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان میں اسلامی احکام کی پاسداری کی جائے اورحکومت اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے غیر اسلامی عمل کو اپنا شعار نہ بنایا جائے، مثلاًدور حاضر میں لڑکیوں کی تعلیم کا حصہ بین الاقوامی حقوق سے وابستہ کرکے بہت زیادہ زور وشور سے پیش کیا جاتا ہے ، بلاشبہ تعلیم یافتہ خواتین ملک و معاشرے کے لیے اہم ہیں ، اس لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوںکی تعلیم کا انتظام کیا جانا ضروری ہے ۔ یہ بھی سمجھ لیناچاہیے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت ظلم و جبر اور غیر قانونی راہ سے کامیاب نہیں ہوئی۔ حکومتوںکے استحکام کے لیے عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی نہایت ـضروری ہے؛ بالخصوص جزاو سزا کے معاملات میںایک مضبوط اور آزاد جوڈیشیل سسٹم حکومتوں کا نہایت لازمی حصہ ہے، اس لیے افغان حکومت کو حکمت و دانش مندی کی راہ اختیار کرتے ہوئے ایک مہذب دنیا کے فروغ میں اپنا کردار اد اکرنا چاہیے۔‘‘
خلاصہ
یوں تو ہندستان اور افغانستان کے تعلقات بہت قدیم ہیں؛ لیکن صرف جمعیت علمائے ہند کے تناظر میں بات کریں، تو 1920ء کے ادوار میں جب کہ ہندستان سے افغانستان ہجرت کی بات کی جارہی تھی، تو جمعیت علمائے ہند نے اس تحریک ہجرت کی بالکل حمایت نہیں کی؛ بلکہ 6؍ستمبر1920ء کو ترک موالات کا فیصلہ کرکے اس تحریک کا ہی خاتمہ کردیا۔
جب 11؍دسمبر1927ء کو شاہ افغانستان شاہ امان اللہ خان غازی اکھنڈ بھارت میں واقع کراچی تشریف لائے، تو ہندستانیوں نے زبردست استقبال کیا۔ اسی درمیان 13؍ دسمبر 1927ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ نے قدوم میمنت پر مبارک بادی کا پیغام ارسال کیا۔ پھر جب موصوف 14؍ دسمبر1927ء کو ساحل ممبئی پر پہنچے، تو یہاں بھی بھارتیوں نے پرجوش خیرمقدم کیا۔
بچہ سقہ کی وجہ سے افغانستان خانہ جنگی کی شورش میں مبتلا ہوگیا، تو غازی امان اللہ کی حمایت میں یکم اپریل 1929ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے ہندستانی مسلمانوں کا واضح موقف پیش کیا۔
انھیں حالات کے پیش نظر 9؍ستمبر1929ء کو جنرل نادر خان نے جمعیت علمائے ہند سے امداد و تعاون کی درخواست کی؛ لیکن اس کے اگلے مہینے ہی بچہ سقہ کو شکست ہوئی اور کابل فتح ہوگیا، تو جمعیت علمائے ہند نے 18؍اکتوبر1929ء کو ایک عظیم الشان اجلاس کرکے، جنرل موصوف کو مبارک باد پیش کی۔پھر 26و 28؍ اکتوبر 1929ء کو منعقد مجلس مرکزیہ جمعیت علمائے ہند نے بھی ہدیۂ تبریک پیش کیا۔
اتنا ہی نہیں؛ بلکہ جب 7؍دسمبر1929ء کو جنرل شاہ ولی خان فاتح کابل ہندستان آئے، تو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1933ء میں جب برطانیہ آزاد قبائل پر وحشیانہ بم باری کرکے انسانیت کے چہرے کو نوچ رہا تھا،تو جمعیت علمائے ہند نے، 19 ،20،21؍ اگست 1933ء کو منعقد اپنے اجلاس سے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے حکومت افغانستان سے اسلامی اخوت کے جذبے کے پیش نظر درخواست کی کہ وہ برطانیہ کے ظالم پنجوں کو مروڑ دے۔
4؍ستمبر1933ء کو افغان کونسل کے جنرل نے ناظم عمومی صاحب کے نام ایک مکتوب لکھ کر گزارش کی کہ جمعیت علما پہلے ہی کی طرح افغانستان سے دوستانہ طرزعمل برقرار رکھے۔
جناب اسعد شقیری صاحب صدر محکمۂ شرعیہ استانبول نے 5؍جنوری 1937ء کو جمعیت علما کے نام ایک مکتوب لکھ کر استدعا کی کہ وہ افغانستان کے بادشاہ کو تحفظ فلسطین کی ذمہ داری کو یاد دلائے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے 7تا9؍جون 1940ء کو منعقد جمعیت علما کے بارھویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں فرمایا کہ ہندستان کے آزاد ہونے سے افغانستان کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔
افغانستان کے سفیر محترم جناب سردار نجیب اللہ خاں صاحب 11؍فروری1950ء کو جمعیت علمائے ہند کے دفتر میں تشریف لائے، تو ان کے اعزاز میں عصرانہ پیش کیا گیا۔
11تا13؍فروری 1955ء میں جمعیت علمائے ہند کے اٹھارھویں اجلاس عام میں شرکت کے لیے افغانستان کے سفیر جناب عبدالحسین عزیز صاحب کو مدعو کیا گیا، تو انھوں نے اپنے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ جب ہندستان تشریف لائے، تو جمعیت علمائے ہند نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں 14؍فروری 1958ء کو تقریب استقبالیہ منعقد کیا اور انھیں نطق خیر مقدم بھی پیش کیا۔
27؍اپریل1978ء کو ثور انقلاب کے نتیجے میں افغانستان میں شاہی حکومت کے خاتمہ کے بعد کمیونسٹ حکومت بنی، جس نے علما کو رجعت پسند قرار دے کر ان کا قتل عام شروع کیا، تو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نور اللہ مرقدہ نے 3؍فروری 1979ء کو ایک پریس بیان جاری کرکے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔اور 9؍فروری1979ء کو جمعہ کے بعد شہدائے افغانستان کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کی اپیل کی۔
بعد ازاں 15؍فروری 1979ء کو منعقد مجلس عاملہ میں علما کے قتل پر مذمتی تجویز منظور کرنے کے بعد اراکین عاملہ نے سفیر افغانستان سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔
1973ء میں سردار محمد داؤد خان نے اپنے کزن شاہ افغانستان ظاہر شاہ کو قتل کرکے، افغانستان کو ایک جمہوریہ قرار دے کر خود صدر بن گیا۔پھر27؍اپریل1978ء کو ثور انقلاب کے نتیجے میں داوؤد خاں کو قتل کیے جانے کے بعد افغانستان میں شاہی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور کمیونسٹ حکومت بنی،مختلف کمیونسٹ رہنماوں نے افغانستان پر حکومت کی ، جن میں نور محمد ترکئی، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل کے نام شامل ہیں۔ چوں کہ یہ سب حکمراں روس کے کٹھ پتلی حکمراں تھے ، جو افغان معاشرے کی روایات اور مذہبی اقدار کے خلاف قانون نافذ کر رہے تھے، اس لیے ان کے خلاف افغان جہاد شروع ہوا۔ انھیں حالات میں 28-29؍جنوری 1980ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، تو جمعیت علمائے ہند نے افغانستان کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔اور روسی فوجیوں کی مداخلت کی مذمت کی۔بعد ازاں 2؍اپریل1980ء کو منعقد فلسطین کانفرنس میں، پھر 27؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس عاملہ میں، اس کے بعد 28-29؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں،اور پھر9-10؍دسمبر1980ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں بھی افغانستان کے حالات پر تشویش ظاہر کی گئی اور تجاویز منظور کی گئیں۔
14تا16؍جنوری 1983ء کو جمعیت علمائے ہند کا چوبیسواں اجلاس عام ہوا۔ اس میں بھی صدر اجلاس نے اپنے خطبۂ صدارت میں افغانستان کے حالات پر اپنا موقف رکھا۔اورایک تجویز منظور کرکے افغان جہاد کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر ملک اور قوم کو آزاد رہنے اور اپنی پسند کا نظام حکومت قائم کرنے کا حق ہے۔
جمعیت علما کے زیر اہتمام 6-7-8؍اپریل 1984ء کو تعلیمی و ملی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس نے بھی افغانیوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی۔
دسمبر 1979ء سے روسی کمیونسٹ حکومت کے خلاف جاری افغان جہاد کو روکنے کے لیے 14؍اپریل1988ء کو جینوا معاہدے کے تحت، 15؍مئی 1988ء سے روسی افواج کا افغانستان سے انخلا شروع ہوا، جس کے بعد فروری 1989ء میں مجاہدین کی عبوری افغان حکومت قائم ہوئی۔ انھیں حالات میں 13-14؍جون 1988ء کو مجلس عاملہ اور11-12؍ فروری 1989ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جن میں افغان مجاہدین کو آزادی پر مبارک باد پیش کی گئی۔
بعد ازاں پشاور معاہدے کے تحت، اپریل 1992ء میں سردار نجیب اللہ خاں کی کمیونسٹ حکومت کے مکمل خاتمے کے بعد اسلامک اسٹیٹ آف افغانستان کی حکومت قائم ہوئی،تو جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ منعقدہ: 8؍مئی 1992ء میں ’’نیادور‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا۔لیکن اقتدار کی تقسیم میں مجاہدین کے درمیان کشمکش شروع ہونے کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہوگئی، جس سے افغانستان شدید مشکلات کا شکار ہوگیا۔ جمعیت علما نے 29؍ اکتوبر1995ء کو منعقد پچیسویں اجلاس عام میں ان حالات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے باہمی مصالحت سے خانہ جنگی کو ختم کرنے کی اپیل کی۔
اسی دوران ملا محمد عمر کی قیادت میں طالبان تحریک ابھری، جس نے امن قائم کرنے اور شریعت اسلامیہ کے نفاذ کے نظریے کے ساتھ میدان عمل میں آئے اور مجاہدین کی حکومت کا خاتمہ کرکے 27؍ستمبر 1996ء کو طالبان حکومت کا آغاز کیا،جو7؍دسمبر 2001ء تک قائم رہی۔
7؍اگست1998ء کو کینیا اور تنزانیہ کے امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوگیا۔ امریکہ نے اس کا الزام افغانستان کی طالبان حکومت پر لگاتے ہوئے القاعدہ کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کے قائد اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا؛ لیکن طالبان نے انکار کردیا، جس کی وجہ سے 20؍ اگست 1998ء کو امریکہ نے افغانستان پر حملے شروع کردیے، جس کے تناظر میں 4؍ستمبر 1998ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ایک پریس بیان جاری کرکے امریکی حملے کی مذمت کی۔
اسامہ بن لادن کو حوالے نہ کرنے کی وجہ سے 14؍نومبر1999ء کو یونائیٹیڈ نیشن سیکیورٹی کونسل نے طالبان حکومت پر اقتصادی پابندی لگادی۔ یکم دسمبر 1999ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ کی میٹنگ میںاس پابندی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔اور 17؍ دسمبر 1999ء کو پورے ملک میں یوم احتجاج منایا گیا۔
25؍دسمبر1999ء کو حرکت المجاہدین سے تعلق رکھنے والے افراد نے نیپال سے دہلی آرہے پرواز کو ہائی جیک کرکے سبھی مسافروں کو یرغمال بنالیا ۔اور پھر 31؍دسمبر1999ء کو ان کی شرائط کے مطابق مجبور ہوکربھارتی حکومت نے یرغمالیوں کو رہا کرایا۔ صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے 30؍دسمبر1999ء کو ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے طالبان کے اس عمل کو غیر اسلامی قرار دیا۔
13؍مئی 2000ء کو منعقد چھبیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں صدر اجلاس مولانا اسعد مدنی صاحب نے افغانستان کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس پر معاشی پابندی کی مخالفت کی۔
طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی 26؍فروری 2001ء کی ایک ہدایت کے مطابق، 2؍مارچ 2001ء سے بدھا کے دو دیو ہیکل مجسمے کو توڑنا شروع کیا گیا، تو4؍مارچ 2001ء کو جمعیت علمائے ہند نے طالبان کی مجسمہ شکنی کے اس عمل کو اسلام کے منافی قرار دیا اور ان سے رواداری برتنے کی اپیل کی۔
11؍ستمبر2001ء کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملہ ہوگیا، جسے نائن الیون کہاجاتا ہے۔ امریکہ نے کسی ثبوت کے بغیر اس کا الزام القاعدہ پر لگاکر 7؍اکتوبر2001ء کو افغانستان پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں طالبان کمزور ہوگئے اور بالآخر 13؍نومبر2001ء کو طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔27-28؍ستمبر2001ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں افغانستان پر امریکہ کے حملے کے ارادے کو دہشت گردانہ فیصلے سے تعبیر کیا۔پھر حملے کے اگلے دن 8؍اکتوبر2001ء کو صدر جمعیت نے اسے افسوس ناک قرار دیا۔ اور26؍اکتوبر2001ء کو پورے ملک میں احتجاج کے طور پر یوم دعا منایا گیا۔
نائن الیون کے انتقام کے طور پر افغانستان پر امریکہ اور ناٹو افواج کا حملہ بدستور جاری تھا کہ9؍نومبر2008ء میں جمعیت علمائے ہند کا انتیسواں اجلاس عام ہوا، جس کے خطبۂ صدارت میں صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صاحب نے افغانستان کے حالات پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔اور پھر اس اجلاس عام نے ایک تجویز منظور کرکے امریکی جارحیت کی سخت مذمت و مخالفت کی ۔
9؍جولائی2009ء کو امریکہ کے قائم مقام سفیر اور کلچرل کونسلر جمعیت علمائے ہند کے دفتر میں تشریف لائے، تو ان سے مسئلۂ افغانستان پر گفتگو کی گئی۔
3؍نومبر2009ء کو جمعیت علما کا تیسواں اجلاس عام ہوا،جس میں صدر اجلاس حضرت منصور پوری صاحب نے افغانستان میں جان و مال کے شدید نقصانات پر غم و غصے کا اظہار کیااور ایک تجویز کے ذریعہ امریکی بم باری کی مذمت کی۔اسی طرح 19؍مئی 2012ء کو منعقد اکتیسویں اجلاس عام میں بھی اسی موقف کا اعادہ کیا گیا۔
طالبان کا بہانہ بناکر افغان حکومت نے 2؍اپریل 2018ء کو افغانستان کے قندوز میں واقع گوجر اخونزادہ مدرسہ پر راکٹ داغ دیا، جس سے معصوم بچے اور عام شہری بڑی تعداد میں شہید ہوگئے۔ 9؍اپریل2018ء کو ایک پریس بیان جاری کرکے جمعیت علما نے اس واقعہ پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے القاعدہ اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر 2001ء سے افغانستان پر ظلم و ستم کا جو سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا، طالبان کی مسلسل تحریک آزادی کے نتیجے میں15؍اگست2021ء کو امریکی کٹھ پتلی صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر فرار ہوگیا اور7؍ ستمبر2021ء کوباقاعدہ طورپر طالبان کی حکومت قائم ہوگئی۔18؍ستمبر2021ء کو جمعیت علمائے ہند نے اس سیاسی تبدیلی کو افغانستان کے لیے امید کی ایک کرن قرار دیا۔
12؍فروری 2023ء کو مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں جمعیت علما کا چونتیسواں اجلاس عام ہوا۔ اس کے خطبۂ صدارت میں زمانے کے تقاضے کے مطابق طالبان حکومت کو کئی اہم اور مفید مشورے دیے گئے۔
