25 Sept 2026

مسئلہ کشمیر اور جمعیت علمائے ہند

مسئلہ کشمیر اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

1845ئ میں سکھ سلطنت کے زوال اور اندرونی کشمکش کے دوران گلاب سنگھ نے اہم سیاسی کردار ادا کیا اور نومبر 1845ئ میں انگریزوں سے کشمیر کے معاملے میں معاہدہ کیا۔ 9/ مارچ 1846ئ کو انگریزوں اور سکھوں کے درمیان لاہور کا معاہدہ ہوا، جس کے بعد 15/مارچ 1846ئ کو گلاب سنگھ نے برطانوی حکومت سے کشمیر سے متعلق الگ معاہدہ کیا، جو بعد میں بیع نامہ¿ امرتسر کے نام سے معروف ہوا۔ 16/مارچ 1846ئ کو یہ معاہدہ باقاعدہ تحریر ہوا، جس کے تحت گلاب سنگھ نے 75 لاکھ نانک شاہی روپے کے عوض کشمیر اور متعلقہ پہاڑی علاقوں پر حکمرانی حاصل کی اور یوں ڈوگرہ حکومت کا آغاز ہوا۔

1846ئ کے بعد ڈوگرہ حکومت نے کشمیر میں اپنا اقتدار مستحکم کیا۔اس دور میں مسلمانوں کو مذہبی، تعلیمی، سرکاری اور معاشی سطح پر متعدد پابندیوں اور مشکلات کا سامنا رہا، جن میں سرکاری ملازمتوں اور فوج میں محدود مواقع، اظہارِ رائے کی پابندیاں، بھاری محصولات، بیگار اور جنگلات سے متعلق سخت قوانین شامل تھے۔

23/ستمبر 1925ئ کو مہاراجہ ہری سنگھ تخت نشین ہوئے اور فروری 1926ئ میں ان کی تاج پوشی ہوئی۔ اسی موقع پر جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا احمد سعید نے 22/اکتوبر 1925ئ کو انھیں مبارک باد کا تار بھیجا اور ریاست میں مسلمانوں کی حالت کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔

کشمیر میں ڈوگرہ حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کا نمایاں مرحلہ 6/جون 1931ئ کو جموں میں قرآنِ کریم کی توہین اور عید کے خطبے پر پابندی، 26/جون 1931ئ کو عبد القادر کی گرفتاری اور بالخصوص 13/جولائی 1931ئ کو سری نگر میں مسلمانوں پر فائرنگ کے واقعات کے بعد شروع ہوا۔ 13/جولائی 1931ئ کا دن کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل بن گیا۔

اس تحریک نے آگے چل کر وسیع صورت اختیار کی۔ 30/اکتوبر 1931ئ کو پنجاب کے مسلمانوں کی طرف سے کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت میں رضاکارانہ تحریک کا آغاز ہوا، جس میں  2/اکتوبر 1931ئ تا 9/جنوری 1932ئ کے دوران ہزاروں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد افراد شہید ہوئے۔ تحریک کے دبا¶ کے نتیجے میں 13/نومبر 1931ئ کو مہاراجہ نے گلینسی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد مذہبی شکایات، تعلیم اور بعض آئینی امور پر غور کرنا تھا۔

جمعیت علمائے ہند نے بھی کشمیر کے حالات پر متعدد مواقع پر آواز اٹھائی۔ 27 تا 29/ اگست 1924ئ کی مجلس منتظمہ میں کشمیر کے ریشم کے کارخانے کے واقعے پر افسوس اور مزدوروں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات اور شکایات کے ازالے کا مطالبہ کیا گیا۔

کشمیر تحریک، احرار اور جمعیت علمائے ہند کی مصالحتی کوششیں

1931ئ میں کشمیر کی صورتِ حال شدید کشیدہ ہوچکی تھی۔ 21/ستمبر 1931ئ کو شیخ عبداللہ کی گرفتاری اور ریاست میں عام بے چینی کے ساتھ مجلس احرار کے کارکنوں کی گرفتاریاں بھی بڑھتی گئیں، جب کہ پنجاب کی جیلوں میں احرار قیدیوں کے ساتھ سخت اور مشقت آمیز سلوک کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان حالات پر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہ نے 19/نومبر 1931ئ کو پریس بیان جاری کرکے احرار رضاکاروں کے ساتھ جیلوں میں ہونے والے مبینہ غیر انسانی سلوک پر سخت تشویش ظاہر کی اور مسلم ارکانِ کونسل سے جیلوں کا معائنہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

5/جنوری 1932ئ کو مفتی محمد کفایت اللہ اور مولانا حافظ احمد سعید نے نواب سکندر حیات خاں سے کشمیر کے مسئلے پر ملاقات کی اور 6/جنوری کو چودھری فضل حق کے ساتھ لاہور کی بورسٹل جیل میں احرار رہنما¶ں سے ملاقات کی۔ اسی دوران جمعیت کی طرف سے حکومتِ کشمیر اور احرار کے درمیان مفاہمت کی کوششیں شروع ہوئیں۔ 23/جنوری 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں مفتی کفایت اللہ کی صدارت میں ایک بڑے جلسے میں کشمیر کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا اور مسلمانانِ ہند سے کشمیر کی تحریک کو صبر و استقلال کے ساتھ جاری رکھنے کی اپیل کی گئی۔ 24/ جنوری 1932ئ کو لکھن¶ میں بھی مظالمِ کشمیر کے خلاف قرارداد منظور ہوئی، جب کہ 29 فروری تا 2/ مارچ 1932ئ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے کشمیر کے حالات پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احرار کی خدمات کا اعتراف کیا۔

اس سے قبل 30/نومبر 1931ئ کو مظفرآباد کے قادیانی احمد یار نے کشمیر کی تحریکِ سبز پوش کا بیرونی تحریکوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا، تاہم اس سے تحریک کی مجموعی رفتار متاثر نہ ہوئی۔ اسی پس منظر میں مہاراجہ کشمیر کی جانب سے 2/دسمبر 1931ئ کو مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کو ملاقات کی دعوت دی گئی۔ اسی روز دونوں رہنما¶ں نے مہاراجہ سے ملاقات کی اور اسیر احرار رہنما¶ں کو ایک جگہ جمع کرکے ان سے مشاورت کا موقع فراہم کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ باعزت مفاہمت کی راہ نکالی جاسکے۔

6/دسمبر 1931ئ کو وزیر اعظم ہری کشن کول نے اطلاع دی کہ احرار قیدیوں کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے پنجاب حکومت سے گفتگو کی جارہی ہے۔ 7/دسمبر کو مفتی کفایت اللہ نے جواب دیا کہ احرار ورکنگ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات اور مشورے کے بغیر کوئی مؤثر تجویز مرتب نہیں ہوسکتی، جب کہ 11/دسمبر کو وزیر اعظم نے قیدیوں کو تحریک ختم کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے مفتی صاحب سے خط لکھنے کی درخواست کی۔ 14 اور 16/دسمبر کو مفتی صاحب نے دوبارہ واضح کیا کہ پہلے احرار رہنما¶ں کو یک جا کرکے مشاورت کا موقع دینا ضروری ہے۔

اسی سلسلے میں میاں سر فضل حسین سے بھی رابطہ ہوا۔ تقریباً 10/دسمبر کو ان سے ملاقات کی اطلاع ملی، 12/دسمبر کو وہ لاہور گئے اور 14/دسمبر کو انھوں نے اطلاع دی کہ چودھری افضل حق اور دیگر احرار رہنما¶ں سے گفتگو ہوچکی ہے۔ 17 اور 18/دسمبر کو حکومتِ کشمیر اور مفتی کفایت اللہ کے درمیان تاروں کا تبادلہ ہوا اور 18/دسمبر کو بورسٹل جیل لاہور میں احرار رہنما¶ں سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید 19/دسمبر کو لاہور روانہ ہوئے اور 20/ دسمبر کو وہاں پہنچ گئے۔

22/دسمبر 1931ئ کو بورسٹل جیل لاہور میں مفتی کفایت اللہ، مولانا احمد سعید، چودھری افضل حق اور خواجہ عبدالرحمان غازی نے احرار کے اسیر رہنما¶ں سے طویل ملاقات کی۔ 23/ دسمبر کو مفتی صاحب نے وزیر اعظم کشمیر کو اطلاع دی کہ احرار رہنما مسلمانانِ کشمیر کے لیے انصاف، امن اور ترقی اور ذمہ دار حکومت کے قیام کو ضروری سمجھتے ہیں اور انھی بنیادوں پر مفاہمت کے لیے تیار ہیں۔ 25/دسمبر کو وزیر اعظم ہری کشن کول نے معاملہ پنجاب حکومت کے سپرد ہونے کی بات کہی، جس پر 29/دسمبر کو مفتی صاحب نے وضاحت طلب کی۔ 31/دسمبر کو وزیر اعظم نے نواب سکندر حیات خاں اور سر ہنری کریک کو خط و کتابت کی نقول بھیجنے اور نواب سکندر حیات سے ملاقات کا مشورہ دیا۔

2/جنوری 1932ئ کو نواب سکندر حیات کا جواب ملا کہ وہ 5/جنوری کو ملاقات کرسکتے ہیں۔ 5/جنوری کو مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید نے ان سے ملاقات کی، مگر نواب صاحب نے سرکاری حیثیت سے مذاکرات کرنے سے معذرت کی۔ 6/جنوری کو دونوں رہنما¶ں نے چودھری افضل حق کے ساتھ احرار کے اسیر رہنما¶ں سے دوسری ملاقات کی، جس میں یہ واضح ہوا کہ بنیادی امور طے کیے بغیر مفاہمت کی بات آگے بڑھانا ممکن نہیں۔ مفتی صاحب نے 6/جنوری کو وزیر اعظم کو لکھا کہ ذمہ دار حکومت کے قیام اور حکومتِ کشمیر کی طرف سے کسی بااختیار نمائندے کی تقرری کے بغیر مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے۔

9 /جنوری 1932ئ کو وزیر اعظم ہری کشن کول نے جواب دیا کہ چوںکہ احرار قیدی پنجاب حکومت کے زیر انتظام تھے ، اس لیے مذاکرات میں حکومت کشمیر براہِ راست شریک نہیں ہوسکتی؛ تاہم انھوں نے مفتی کفایت اللہ کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔ 20/جنوری 1932ئ کو مفتی صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 22/دسمبر 1931ئ سے 5/جنوری 1932ئ تک کی کارروائی کے باوجود مفاہمت کے لیے مؤثر طریقہ پیدا نہیں ہوسکا، اس لیے وہ دہلی واپس جارہے ہیں، تاہم حکومت کشمیر کو جلد از جلد ذمہ دارانہ طریقے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مجلس احرار کی تحریک کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کے طور پر یہ بھی درج ہے کہ کشمیری کاشت کاروں کو زمین پر مالکانہ حقوق حاصل ہوئے، لگان میں بڑی کمی ہوئی، تقریر و تحریر اور جماعت سازی کی اجازت دی گئی، اخبارات اور آزادیِ رائے پر عائد پابندیوں میں نرمی آئی اور آزاد اسمبلی کے وجود کو تسلیم کیا گیا۔ 

شمیر میں مسلمانوں کے حالات اور جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد

ستمبر 1931ئ میں کشمیر کے حالات کی تحقیق کے لیے قائم ہونے والے مڈلٹن کمیشن کی رپورٹ کو جمعیت علمائے ہندنے مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے مظالم کے سلسلے میں غیر منصفانہ قرار دیا۔ رپورٹ میں حکومتی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے مظالم کی شکایات کو بے بنیاد افواہوں سے تعبیر کیا گیا، جس کے خلاف کی مجلس عاملہ نے 29 فروری تا 2 مارچ 1932ئ کے اجلاس میں  جمعیت سخت ردِّعمل ظاہر کیا۔

کشمیر کے حالات سے تنگ آکر میرپور کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے ہجرت کرکے پنجاب کا رخ کیا۔ جمعیت علمائے ہند نے اس صورت حال کی تحقیق کے لیے مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ کی قیادت میں 6/اپریل 1932ئ کو وفد کشمیر روانہ کیا۔ وفد نے جہلم پہنچ کر مہاجرین سے ملاقات اور ان کے حالات کی تحقیق کی اور پچاس سے زائد دیہات سے ہجرت کرنے والے 3617 افراد کا اندراج کیا۔ مہاجرین نے واضح کیا کہ وہ مستقل طور پر وطن چھوڑنا نہیں چاہتے بلکہ عزت و اطمینان کے ساتھ کشمیر واپس جانا چاہتے ہیں؛ ان کے نزدیک اصل ضرورت مالی امداد سے زیادہ ظلم کا خاتمہ، مقدمات کی قانونی پیروی اور باعزت واپسی کی ضمانت تھی۔

جمعیت کے وفد نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد مہاجرین کی فوری اور حقیقی خدمت کے لیے ایک ایسی غیر سیاسی جماعت قائم کرنے کی تجویز دی جو ان کی باعزت واپسی، قانونی امداد اور ضرورت مند افراد کی مالی مدد کا انتظام کرے۔ چنانچہ جہلم میں ’’خدامِ خلق‘‘ کمیٹی قائم کی گئی، جس کے صدر شیخ عبد الحمید لاہور، نائب صدر سائر علم الدین جہلم، سکریٹری حسین محمد اور نائب سکریٹری افضل کریم مقرر ہوئے۔ جمعیت نے بیرونی امداد کو بھی منظم اور قابلِ اعتماد ذرائع کے ذریعے پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

11/مارچ 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں تقریباً پندرہ ہزار مسلمانوں کا جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے کی۔ انھوں نے کشمیر کے مسئلے میں مصالحت نہ ہونے کی بڑی ذمہ داری حکومت پنجاب کے اربابِ حل و عقد پر عائد کی اور مسلمانوں کو موجودہ حالات میں اپنے آئندہ لائحہ¿ عمل پر غور کی دعوت دی۔

 14، 15 اور 16 مارچ 1934ئ کی مجلس عاملہ نے حکومت کشمیر کے جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کے جائز مطالبات کو دبانے کی پالیسی قرار دیا اور اس کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔

4/نومبر 1941ئ کو جمعیت کے صدر مولانا حسین احمد مدنیؒ نے خپلو میں سنی مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم کے سلسلے میں مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کو تار بھیجا اور ان کی دادرسی کا مطالبہ کیا۔ ناظم جمعیت مولانا عبدالحلیم صدیقی نے بھی بعد ازاں مہاراجہ کو خط ارسال کرکے غیر جانب دارانہ تحقیقات اور فوری کارروائی کی درخواست کی۔

18 تا 20/مارچ 1942ئ کی مجلس عاملہ میں مسلمانانِ کشمیر کی نمائندگی کا مسئلہ زیرِ بحث آیا اور کشمیری نمائندوں کو جمعیت کے عام رکن کی حیثیت دے کر لاہور کے اجلاس میں خصوصی نمائندگی کا حق دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 20 تا 22/مارچ 1942ئ کے تیرھویں اجلاس عام میں کشمیر کے مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ کے لیے قرارداد منظور کی گئی، جس میں مذہب کی تبدیلی پر جائداد ضبط کیے جانے ، گائے ذبح کرنے پر سخت سزا¶ں، اردو رسم الخط کی جگہ دیوناگری کے فروغ اور مسلمانوں کے مقابلے میں اسلحہ رکھنے کے امتیازی قوانین جیسے معاملات پر تشویش ظاہر کی گئی اور مہاراجہ سے ان پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔

23/اپریل 1942ئ کو جمعیت علمائے ہند نے مذکورہ قراردادیں مہاراجہ جموں و کشمیر کو بھی ارسال کیں اور ریاست کی مسلم اکثریت کے مذہبی و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ 

کشمیر، قازاق مہاجرین اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

جمعیت علمائے ہند نے کشمیر کے داخلی حالات کے ساتھ ساتھ وہاں پناہ لینے والے قازاق مہاجرین کے مسئلے کو بھی انسانی بنیادوں پر اہمیت دی۔ مشرقی ترکستان کے قازاقستان علاقے سے ظلم و ستم کے باعث ہجرت کرنے والے ہزاروں قازاق باشندوں کو حکومت کشمیر نے بعض شرائط کے ساتھ ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دی، لیکن جمعیت کے تیرھویں اجلاس عام میں منظور کردہ قرارداد کے مطابق ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہ کیے گئے اور انھیں مظفرآباد کے ایک ناموافق علاقے میں محدود کر دیا گیا، جہاں وہ سخت جانی و مالی مشکلات، بھوک اور بیماری کا شکار ہوئے۔ جمعیت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، انھیں آزادانہ نقل و حرکت اور معاش کے ذرائع اختیار کرنے کا موقع دیا جائے اور مسلمانوں و دیگر انسان دوست حلقوں سے ان کی امداد کی اپیل کی۔ بعد ازاں 23/اپریل 1942ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے مہاراجہ کشمیر کو تار بھیج کر قازاق مہاجرین تک امداد صحیح طور پر پہنچانے اور اس کی نگرانی کا مطالبہ کیا۔

1944ئ میں پنڈت جواہر لال نہرو کی کشمیر میں داخلے کے موقع پر گرفتاری کی خبر پر بھی جمعیت علمائے ہند نے احتجاج کیا۔ مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے حکومت کشمیر کو تار بھیج کر اس اقدام کو نیشنل کانفرنس کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سیاسی اختلافات کے حل کے لیے سنجیدہ طرزِ عمل اختیار کرنے پر زور دیا۔

1946ئ میں کشمیر کی سیاسی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی۔ شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس نے ذمہ دار عوامی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا، جب کہ ریاستی حکومت نے تحریک کو روکنے کے لیے گرفتاریوں اور فوجی اقدامات کا سہارا لیا۔ شیخ عبداللہ اور ان کے متعدد رفقا گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کیے گئے۔ 10/ستمبر 1946ئ کو شیخ عبداللہ کو تعزیرات ہند کی دفعہ24(الف) کے تحت تین الزامات میں سزائیں سنائی گئیں۔ جمعیت علمائے ہند نے ان واقعات پر سخت تشویش ظاہر کی اور مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی اختلافات کا جواب تشدد نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے نیشنل کانفرنس کے رہنما¶ں کی رہائی اور عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

کشمیری عوام کے اہم مطالبات میں سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی، گا¶ کشی پر دس سالہ سزا کے قانون میں ترمیم، اسلام قبول کرنے والوں کو موروثی جائداد سے محروم کرنے کے قانون کا خاتمہ اور ہندو راجپوتوں کو اسلحہ رکھنے کی خصوصی رعایت ختم کرنا شامل تھا۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 10 تا 12/جون 1946ئ کے اجلاس میں حکومت کشمیر کی پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے جائز مطالبات تسلیم کرنے اور شیخ عبداللہ سمیت تمام گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

5/مارچ 1948ئ کو مہاراجہ ہری سنگھ نے فرمان جاری کرکے ایمرجنسی ایڈمنسٹریشن کی جگہ عبوری حکومت قائم کی اور شیخ عبداللہ کو ریاست کا وزیراعظم مقرر کیا۔ جمعیت علمائے ہند کی مرکزی کونسل نے 20 اور 21/مارچ 1948ئ کے اجلاس میں اس عوامی حکومت کے قیام پر مبارک باد دی اور امید ظاہر کی کہ نئی حکومت ریاست کی اقلیتوں کو مساوی شہری آزادی اور مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔

جموں و کشمیر کے بھارت سے الحاق کے بعد جمعیت علمائے ہند کے رہنما¶ں نے مسلسل اس الحاق کی حمایت کی۔ 24/ستمبر 1949ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے کشمیر کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں کشمیر اور ہند یونین کی وابستگی کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ 25/جنوری 1951ئ کو انھوں نے یہ موقف ظاہر کیا کہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ رہنے میں ہندستانی مسلمانوں کا بھی مفاد وابستہ ہے۔

1951ئ میں اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر نئی قرارداد اور استصوابِ رائے کے سوال پر بحث ہوئی، تو جمعیت علمائے ہند نے 27 تا 29/اپریل 1951ئ کے اپنے سترھویں اجلاس عام میں اقوام متحدہ کے فیصلے کو کشمیری عوام کی آزادیِ رائے اور خواہشات کے خلاف قرار دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی جمعیت کے رہنما¶ں نے اسی موقف کو دہرایا۔ 29/نومبر 1953ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے ناگپور میں کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ 6/جولائی اور پھر 22/اگست 1955ئ کو مولانا احمد سعیدؒ نے بھی کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی حمایت کرتے ہوئے اسے کشمیری اور ہندستانی مسلمانوں کے مفاد سے وابستہ قرار دیا۔

26/جنوری 1957ئ کو جموں و کشمیر کا نیا آئین نافذ ہوا، تو 27/جنوری کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے ریاست کے عوام کو اپنے لیے آئین بنانے کے حق کے استعمال پر مبارک باد دی۔ 4/ جنوری 1958ئ کو انھوں نے کشمیر کے بارے میں بھارت کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام اپنے سیاسی فیصلے کی توثیق کر چکے ہیں۔ 19 اور 20/مارچ 1958ئ کو لکھن¶ میں مسلم قانون سازوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی طاقتوں کی سیاسی کشمکش سے پیچیدہ ہونے والا معاملہ قرار دیا۔ 13/مئی 1958ئ کو بخشی غلام محمد نے بھی جمعیت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے بھارت کے ساتھ رہنے کے موقف کی حمایت کی۔

 6/جولائی 1959ئ کو دریائے جہلم میں طغیانی کے باعث سری نگر کے نشیبی علاقوں میں شدید سیلاب آیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس موقع پر 22/جولائی 1959ئ کو صدر جمعیت مولانا احمد سعیدؒ اور ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے اہلِ خیر سے اپیل کی کہ سیلاب زدگان کی مالی، غذائی اور دیگر ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر امداد کی جائے۔ اپیل میں تقریباً ڈیڑھ سو انسانی جانوں، دس ہزار سے زائد مویشیوں، ہزاروں مکانات اور تقریباً دو لاکھ ایکڑ اراضی کے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے عوامی تعاون کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

کشمیر کے سیاسی مستقبل کے سلسلے میں یکم جنوری 1963ئ کو مولانا محمد میاںؒ نے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو خط لکھ کر ان کے 22/دسمبر 1962ئ کے ایک اخباری بیان سے پیدا ہونے والی بے چینی کی طرف توجہ دلائی۔ مولانا نے واضح کیا کہ کشمیر کے مسئلے پر غیر واضح، یا متزلزل بیانات سے ہندستانی مسلمانوں میں عدمِ تحفظ پیدا ہوتا ہے اور فرقہ پرست عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اسی دوران جنوری 1963ئ میں امروہہ میں جمعیت اترپردیش کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی گئی۔ نہرو کے متعلق نقل شدہ انٹرویو میں کشمیر میں رائے شماری کو اس بنیاد پر مؤخر رکھنے کی بات سامنے آئی کہ موجودہ حالات میں وہ مذہبی بنیادوں پر ہوگی۔

9/فروری 1963ئ کو کراچی میں سردار سوارن سنگھ اور ذوالفقار علی بھٹو کے مذاکرات میں کشمیر کے بعض علاقوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کی تجویز زیرِ بحث آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 21/اپریل 1963ئ کو نہرو نے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو بھی ایسی ایک تجویز کے بارے میں لکھا، جس میں وادی کشمیر کے شمال مغربی حصے کی منتقلی کا ذکر تھا۔ جمعیت علمائے ہند نے اس تجویز کو ہندستان کی علاقائی وحدت کے منافی سمجھتے ہوئے 8 تا 10/جون 1963ئ کے اکیسویں اجلاس عام کی تجویز نمبر 5 میں اس کی سخت مخالفت کی اور کشمیر کو ہندستان کا قدرتی جزو قرار دیتے ہوئے جنگ بندی لائن کو تقسیم کی مستقل لائن تسلیم نہ کرنے پر زور دیا۔

اسی موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے جمعیت کے سکریٹری مولانا اسعد مدنی نے 22/ جون 1963ئ کی پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعیت کشمیر کی تقسیم کے خلاف ہے اور قوم پرستی کی راہ ترک نہیں کرے گی۔ بعد ازاں 7 تا 8/مارچ 1964ئ کی مجلس عاملہ نے کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی روش کو انصاف کے منافی قرار دیا اور کہا کہ اس سے ہند و پاکستان کے تعلقات میں پیچیدگی اور کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ 16/اپریل 1964ئ کو مولانا مسعود احمد نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے دوبارہ غور اور ہندستان و پاکستان کے درمیان مفاہمت و کنفیڈریشن جیسے امکانات پر گفتگو کی، جب کہ 21/اپریل 1964ئ کو قائم مقام ناظم عمومی مولانا محمد سعید نے واضح کیا کہ جمعیت کے طے شدہ موقف کے مطابق کشمیر ہندستان کا حصہ ہے اور اس مسئلے کو قومی یک جہتی اور علاقائی سالمیت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

1965ئ میں کشمیر میں پاکستان کی مسلح مداخلت کے بعد جمعیت نے اپنے موقف کو مزید واضح کیا۔ 5/اگست 1965ئ سے پاکستانی مسلح افراد کی دراندازی اور یکم ستمبر 1965ئ کو آپریشن گرینڈ سلام کے آغاز کے بعد 11/اگست 1965ئ کے جمعیتی پریس بیان میں حکومت ہند کے اقدامات کو بروقت اور ضروری قرار دیا گیا۔ مولانا اسعد مدنی نے صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، وزرائے داخلہ و دفاع اور کشمیر کی قیادت کو پیغامات بھیج کر کہا کہ جمعیت اور ہندستانی مسلمان ملک کی حفاظت اور سالمیت کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔ 15/ستمبر 1965ئ کو مولانا اسعد مدنی نے صدر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن کو خط میں دوبارہ واضح کیا کہ جمعیت کشمیر کو ہندستان کا اٹوٹ حصہ سمجھتی ہے اور حملہ آور کو نکال کر پورے علاقے کو آزاد کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

2 تا 3/اکتوبر 1965ئ کی مجلس عاملہ نے پاکستان کی کشمیر میں مداخلت اور حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت کے خلاف قرار دیا اور حکومت ہند کی دفاعی کارروائیوں کی حمایت کی۔ اسی تجویز میں کشمیر کے مسلمانوں کو بھی اس لیے خراجِ تحسین پیش کیا گیا کہ جنگ کے نازک موقع پر انھوں نے ہندستان کے ساتھ وفاداری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح 18 تا 19/ دسمبر 1965ئ کی مجلس منتظمہ نے ’’ملکی دفاع اور مسئلہ کشمیر‘‘ کے عنوان سے اس موقف کا اعادہ کیا اور ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے جنگ کے دوران حکومت سے تعاون کو ان کے وطنی فرض کی ادائیگی قرار دیا۔

البتہ جمعیت نے جنگ کے دوران حکومت کی حمایت کے ساتھ شہری حقوق اور حکومتی اقدامات میں احتیاط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 2 تا 3/اکتوبر 1965ئ کی مجلس عاملہ کی دوسری تجویز میں مشتبہ افراد کی گرفتاری اور نظر بندی کو اصولاً قابلِ فہم قرار دیتے ہوئے اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا کہ بعض محب وطن افراد بھی محض شبہ کی بنیاد پر گرفتار یا نظر بند کر دیے گئے۔ جمعیت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے معاملات پر نظرثانی کی جائے اور جن کے خلاف محض شبہ ہو انہیں رہا کیا جائے ، تاکہ حکومت کو عوام کا اعتماد اور خوش دلی سے تعاون حاصل رہے۔

جمعیت علمائے ہند نے مسئلہ¿ کشمیر کے سلسلے میں قومی یک جہتی، آئینی اصولوں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہند و پاک کے درمیان پرامن تعلقات کو ہمیشہ اہمیت دی۔ 1965ئ کی ہند و پاک جنگ کے دوران وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی ایک تقریر میں ہندستانی مسلمانوں کے مستقبل کو مسئلہ¿ کشمیر سے جوڑنے پر مولانا اسعد مدنی، ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے 4/نومبر 1965ئ کو سخت احتجاج کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ہندستانی مسلمان کشمیر کو ہندستان کا حصہ قرار دیتے آئے ہیں اور 1947ئ سے ملک کے دفاع میں عملی قربانیاں بھی دیتے رہے ہیں، اس لیے کشمیر کے کسی ممکنہ سیاسی نتیجے کا بوجھ ہندستانی مسلمانوں پر ڈالنا نہ صرف ناانصافی، بلکہ دستور کی سیکولر اور جمہوری روح کے منافی ہے۔

اسی زمانے میں جمعیت نے جنگ کے بجائے مصالحت کی حمایت کی۔ 18 و19/دسمبر 1965ئ کے اجلاسِ مجلس منتظمہ میں ہند و پاکستان کے درمیان صلح کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں اور باوقار امن دونوں ملکوں کے ساتھ کشمیر کے عوام کے لیے بھی باعثِ رحمت ہوگا۔ چنانچہ 10/جنوری 1966ئ کے اعلانِ تاشقند کو مجلس عاملہ نے 19 و20/فروری 1966ئ کے اجلاس میں خوش آئند قرار دیا اور اسے باہمی مصالحت اور بقائے باہم کی طرف اہم پیش رفت سمجھا۔ بعد ازاں 15 تا17/اپریل 1966ئ کے بائیسویں اجلاس عام میں بھی اعلانِ تاشقند کی تائید کرتے ہوئے دونوں ملکوں سے مطالبہ کیا گیا کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔

اسی اجلاس میں کشمیر سے متعلق پاکستان کے اس استدلال پر بھی تنقید کی گئی کہ مسلم اکثریت کی بنیاد پر کشمیر پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔ جمعیت کے حلقے نے اسے فرقہ وارانہ اصول قرار دیتے ہوئے سیکولر ریاست کے تصور سے متصادم بتایا۔ فخرالدین علی احمد نے اسی موقع پر 1965ئ کی جنگ کے دوران ہندستانی مسلمانوں کی قربانیوں، خصوصاً عبدالحمید جیسے فوجیوں کی مثال پیش کرکے کہا کہ مسلمانوں نے اپنے عمل سے ملک کے دفاع اور قومی یک جہتی کے ساتھ اپنی وابستگی ثابت کردی ہے۔

30/جنوری 1968ئ کو شیخ محمد عبداللہ کی رہائی کے بعد دفتر مرکزی جمعیت علمائے ہند میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ منعقد ہوا۔ جمعیت نے ان کی جدوجہد، سیکولرزم کی حمایت اور ہند و پاکستان کے درمیان دوستی کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔ شیخ عبداللہ نے اپنی جوابی تقریر میں کشمیر کی سیاسی جدوجہد، 1947ئ کے الحاق، بعد کے سیاسی واقعات اور حقِ رائے کے بارے میں اپنا موقف تفصیل سے بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ محض مذہبی اکثریت کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے اور ہندستانی مسلمانوں کے شہری حقوق کو کشمیر کے سیاسی مستقبل سے وابستہ کرنا درست نہیں۔ انھوں نے ہند و پاکستان کی مسلسل کشیدگی کو دونوں ملکوں کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے باہمی اعتماد اور امن پر زور دیا۔

 13/نومبر 1974ئ کو طے پانے والی اندراõشیخ مفاہمت، جس کی بنیاد پر فروری 1975ئ میں شیخ محمد عبداللہ دوبارہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنے ، کا 24/فروری 1975ئ کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمی نے خیر مقدم کیا۔ اس مفاہمت میں ریاست جموں و کشمیر کے ہندستانی وفاق کے ساتھ تعلق کو دفعہ 370 کے دائرے میں برقرار رکھنے ، ریاستی اختیارات، مرکز و ریاست کے قانون سازی کے تعلق اور آئینی انتظامات سے متعلق مختلف امور طے کیے گئے تھے۔

جمعیت علمائے ہند نے مسئلہ¿ کشمیر کے سلسلے میں ہمیشہ ہندستان کی سالمیت کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے جمہوری، آئینی اور بنیادی حقوق کی حمایت کی۔ 6 و7/جولائی 1978ئ کو کراچی میں منعقد ہند ایشیائی کانفرنس میں کشمیر سے متعلق ایک تجویز پر ہندستانی وفد کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیے جانے کو بنیاد بنا کر آل انڈیا ریڈیو نے جمعیت اور اس کے صدر مولانا اسعد مدنی کے خلاف نامناسب تبصرہ کیا، جس پر 13/جولائی کو ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمی نے سخت احتجاج کیا اور واضح کیا کہ جمعیت ہمیشہ کشمیر کو ہندستان کا اٹوٹ حصہ قرار دیتی رہی ہے۔ انھوں نے وزیر اطلاعات و نشریات سے ملاقات کرکے آل انڈیا ریڈیو کے تبصرے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

14 و15/جنوری 1983ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر فاروق عبداللہ نے فرقہ پرستی کی مخالفت، ہندو مسلم اتحاد اور قومی یک جہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری ہندستان کے ساتھ جئیں گے اور ہندستان کے ساتھ مریں گے۔ اسی سال 13/اکتوبر کو سری نگر میں ہندستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کرکٹ میچ کے موقع پر ہندستانی ٹیم کے ساتھ ہونے والی نازیبا حرکت کی جمعیت نے 19/اکتوبر کو مذمت کی اور اسے کشمیر کی بدنامی کا سبب قرار دیا۔

1990ئ میں کشمیر کے حالات انتہائی سنگین ہونے پر جمعیت نے ایک طرف ہندستان سے کشمیر کے الحاق کو مسلمہ اور طے شدہ حقیقت قرار دیا اور دوسری طرف کشمیری عوام پر ظلم، جبر، کرفیو اور سیاسی حقوق کی پامالی کی مخالفت کی۔ مولانا محمد اسرارالحق قاسمی نے فروری 1990ئ میں قرار دیا کہ کشمیر میں پیدا ہونے والی بے چینی کے اسباب کو محض الزام تراشی اور طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا؛ بلکہ کشمیری عوام کے احساسِ محرومی، سیاسی شناخت، جمہوری حقوق اور فرقہ وارانہ حالات کو سمجھ کر ان کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ جمعیت کے نزدیک منصفانہ انتخابات، سیاسی مکالمہ، اقتصادی ترقی اور آئینی دائرے میں داخلی خود اختیاری کے ذریعے حالات کو بہتر کیا جاسکتا تھا۔

مولانا سید اسعد مدنی نے 28/فروری 1990ئ کو واضح کیا کہ کشمیر کا ہندستان سے الحاق ایک طے شدہ حقیقت ہے ، لیکن اس کے نام پر وہاں ہونے والے مظالم کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ انھوں نے طاقت کے بجائے جمہوری طریقہ اختیار کرنے ، عوام کے مسائل حل کرنے اور دفعہ 370 کے تحت داخلی خود مختاری کے دائرے کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ 4/مارچ کو جمعیت نے ملک گیر ’’یوم کشمیر‘‘ منانے کی اپیل کی، جو 16/مارچ کو ملک بھر میں منایا گیا۔ اجتماعات میں کشمیری عوام کی جان ومال کے تحفظ، تشدد کے خاتمے ، گورنر جگموہن کی واپسی اور کشمیری سیاسی رہنما¶ں سے مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا۔

18/مارچ 1990ئ کی مجلس عاملہ نے بھی کشمیر کے ہندستان سے الحاق کو مسلمہ تاریخی حقیقت قرار دیتے ہوئے وہاں جاری تشدد کی مخالفت کی اور کشمیری عوام کا اعتماد حاصل کرنے ، دفعہ 370 کے تحت داخلی خود مختاری بحال کرنے ، گورنر جگموہن کو واپس بلانے اور سیاسی عمل دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت اور جبر سے نہیں؛ بلکہ کشمیری عوام کے دل جیتنے ، ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے اور جمہوری و آئینی ذرائع سے حل کیا جاسکتا ہے۔

21/مئی 1990ئ کو میرواعظ مولوی محمد فاروق کے قتل پر جمعیت نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ 3/جون کی مجلس منتظمہ نے کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو ملکی قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ یک جہتی کے لیے سنگین چیلنج قرار دیا اور مسئلہ¿ کشمیر کے حل کو ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کے خاتمے سے بھی جوڑا۔ اسی اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کے ساتھ ہمدردانہ اور جمہوری طرزِ عمل اختیار کرکے ان کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے ، کیوںکہ جبر اور سیاسی عمل کی معطلی نے ہندستان اور کشمیر کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اسی موقع پر راجیو گاندھی نے بھی فرقہ پرستی کو پورے ہندستان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہلی سے فرقہ پرستی کا اثر کشمیر تک پہنچنے کے نتیجے میں وہاں کے حالات دھماکہ خیز ہوئے۔

 کشمیر میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے پس منظر میں 5/جولائی 1990ئ کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) نافذ کیا گیا، جسے 10/ستمبر 1990ئ کو باقاعدہ قانون کی حیثیت دی گئی۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے 13،14/اکتوبر 1990ئ کے اجلاس نے اس قانون کے نفاذ کے بعد عام شہریوں پر مبینہ مظالم، انسانی حقوق کی پامالی، اندھا دھند گرفتاریوں، تلاشیوں، املاک کی تباہی اور معاشی مشکلات پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو دشمن نہیں؛ بلکہ اپنے شہری سمجھ کر ان کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے ، نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

2/مارچ 1994ئ کو وزیر خارجہ دنیش سنگھ کے اس بیان کہ کشمیر کو خود مختاری تو دی جاسکتی ہے، لیکن آزادی نہیں، کے سلسلے میں مجلس عاملہ کے 18/مارچ 1994ئ کے اجلاس نے صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی کو اس پر احتجاجی بیان جاری کرنے کا ذمہ دار بنایا۔ اسی طرح 11/دسمبر 1994ئ کو تحفظِ شہریت کنونشن میں سابق وزیر خارجہ آئی کے گجرال نے شہریت کو حق قرار دیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے؛ مگر کشمیری نہیں۔

شہریوں کے جانی و مالی تحفظ اور معاوضے کے حق کے سلسلے میں جمعیت نے 8/مارچ 1999ئ کے مسلم اقلیتی کنونشن میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں مطالبہ پیش کیا کہ شہریوں کے تحفظ میں حکومت کی ناکامی کی صورت میں متاثرین کو معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ اسی مطالبے کو 13/مئی 2000ئ کو منعقدہ جمعیت کے چھبیسویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں مولانا اسعد مدنی نے دوبارہ پیش کیا۔

1999ئ کے کارگل واقعہ میں پاکستانی فوجی دراندازی کے بعد 26/مئی 1999ئ کو ہندستان نے ’’آپریشن وجے‘‘ شروع کیا، 3،4/جولائی کو ٹائیگر ہل دوبارہ حاصل کیا گیا، 11/ جولائی کو پاکستانی انخلا شروع ہوا اور 26/جولائی 1999ئ کو فوجی کارروائی کی تکمیل کا اعلان کیا گیا۔ اسی دوران 10/اگست 1999ئ کو پاکستانی بحریہ کا ایک طیارہ رَن آف کچھ میں ہندستانی فضائی حدود میں داخل ہوا اور مار گرایا گیا۔ جمعیت کے 6/جون 1999ئ کے اقلیتی کنونشن نے کارگل، دراس اور بٹالک میں دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے کنٹرول لائن کا احترام کرنے ، دراندازی اور جنگی اقدامات سے باز رہنے اور دونوں ملکوں کے درمیان امن و دوستی کا ماحول پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی حکومت ہند سے سرحدی حفاظت اور خفیہ اطلاعات کے نظام کو مؤثر اور جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ جمعیت نے واضح کیا کہ کشمیر ہندستان کا حصہ ہے ، تاہم کشمیری عوام کے مسائل اور جائز مطالبات آئین و قانون کے دائرے میں منصفانہ طور پر حل کیے جائیں۔

20/مارچ 2000ئ کو چٹی سنگھ پورہ، اننت ناگ میں 35/سکھ شہریوں کے قتل کے واقعے پر 31/مارچ 2000ئ کو جمعیت نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی المیہ قرار دیا اور مقتولین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ جمعیت نے خبردار کیا کہ اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا ملک کے امن و اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اسی پس منظر میں کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے والے جمعیتی وفد کے رکن مولانا محمود مدنی نے 5/جون 2000ئ کو سوپور، برہم پورہ، چٹی سنگھ پورہ اور دیگر علاقوں کے دورے کے بعد بے قصور شہریوں پر مبینہ زیادتیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی اور جامع تحقیقات، قتل و تشدد کے خاتمے اور کشمیری عوام کو اعتماد میں لے کر مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا۔

کشمیر میں یکم اور 2/اگست 2000ئ کو پہلگام، میر بازار، میر نوگام، پوگل پریستان، کیار اور کپواڑہ سمیت مختلف مقامات پر شہریوں اور امرناتھ یاتریوں کے قتل کے واقعات پیش آئے۔ 4/اگست 2000ئ کو جمعیت نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ بے قصور انسانوں کا قتل غیر اسلامی اور غیر انسانی ہے اور اس کا اسلامی جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔ 18،24/ اگست 2000ئ کے دوران جمعیت نے ان واقعات کے ردعمل میں انتقامی کارروائیوں کی دھمکیوں کی بھی مخالفت کی۔ اس کے بعد 19/نومبر 2000ئ کو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے رمضان کے دوران جنگ بندی کا اعلان کیا، جس کا عملی آغاز 28/نومبر 2000ئ سے ہوا۔ جمعیت نے 8/دسمبر 2000ئ کو اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے قیامِ امن کی طرف مثبت قدم قرار دیا۔

9/اپریل 2001ئ کو جموں و کشمیر میں فوج کی بحالی سے متعلق ایک ایسے اطلاع نامے پر مولانا اسعد مدنی نے احتجاج کیا، جس میں مسلمانوں اور کاروباری طبقے کو فوج بحالی ریلی میں شرکت سے روکا گیا تھا۔ انھوں نے اسے فرقہ وارانہ تاثر پیدا کرنے والا اقدام قرار دیتے ہوئے حکومت سے اسے واپس لینے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔یکم اکتوبر 2001ئ کو سری نگر اسمبلی کمپلیکس پر خودکش حملے میں 36/افراد ہلاک اور تقریباً 70/زخمی ہوئے۔ 3/اکتوبر 2001ئ کو جمعیت نے اس دہشت گردانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے قصوروں کے قتل اور املاک کی تباہی کا شریعت میں کوئی جواز نہیں اور مسئلہ کشمیر کا حل تشدد نہیں؛ بلکہ گفت و شنید ہے۔ 14/اپریل 2002ئ کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کنونشن میں شنکر آچاریہ نے بھی کشمیر کو ہندو مسلم مسئلے کے بجائے سیاسی مسئلہ قرار دے کر مذاکرات کے ذریعے حل کی بات کی۔

7/اکتوبر 2002ئ کو جمعیت کی ملک و ملت بچا¶ تحریک کے دوران قاری شوکت علی نے کہا کہ جس طرح جمعیت نے آزادی سے قبل مسلم فرقہ پرستی کے مقابلے میں تقسیمِ ہند کی مخالفت کی تھی، اسی طرح وہ ہندو فرقہ پرستی کے مقابلے میں تقسیم کشمیر کی مخالفت کررہی ہے۔ مجلس عاملہ کے 27،28/دسمبر 2002ئ کے اجلاس نے بھی واضح کیا کہ کشمیر کو ہندستان کے ساتھ رہنا چاہیے۔ 

9/مارچ 2003ئ کو جمعیت کے ستائیسویں اجلاس عام میں میر واعظ مولوی عمر فاروق نے کشمیری عوام کی شکایات سنے جانے اور مسئلے کو تشدد کے بجائے مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا۔ اسی اجلاس میں مولانا اسعد مدنی نے مرکزی حکومت کے سامنے پانچ نکات پیش کیے: کشمیری عوام کو اعتماد میں لینا، بے گھر افراد کی واپسی و بازآبادکاری، ریاست کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج، مسلح تنظیموں کا تشدد ترک کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا، اور پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ۔

17/جولائی 2003ئ کو جمعیت کی دعوت پر پاکستان سے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں خیرسگالی وفد ہندستان آیا۔ انھوں نے کشمیر کے حل کے لیے باہمی مذاکرات اور شملہ سمجھوتے کو بنیاد بنانے اور عوامی تائید حاصل کرنے پر زور دیا۔ 18/جولائی 2003ئ کو جمعیت کی جانب سے دیے گئے استقبالیے میں بھی مذاکرات، لاہور اعلامیہ اور کشمیری نمائندگی کے ذریعے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

8/اکتوبر 2005ئ کو کشمیر میں شدید زلزلے کے بعد جمعیت علمائے ہند نے سیاسی موقف کے ساتھ عملی انسانی خدمت بھی انجام دی۔ کپواڑہ، اوڑی اور کرناہ کے متاثرہ علاقوں میں فوری راحت رسانی شروع کی گئی۔ 13/اکتوبر 2005ئ کو مولانا محمود مدنی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جب کہ 2/نومبر 2005ئ کو مزید خیمے ، شیٹ، غذائی اشیا اور تعمیراتی سامان پہنچایا گیا۔ جمعیت نے مختلف علاقوں میں امدادی مراکز قائم کیے ، ہزاروں خاندانوں کو غذائی و ضروری سامان فراہم کیا، مکانات اور کمیونٹی مراکز تعمیر کیے ، طبی ٹیمیں اور ایمبولنسیں بھیجیں اور متعدد دیہات میں بازآبادکاری کا کام انجام دیا۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ 14/ نومبر 2005ئ کو زلزلہ متاثرین کی بازآبادکاری میں مصروف جمعیتی رضاکاروں کو حراست میں لیے جانے پر احتجاج کیا گیا۔ مجلس عاملہ کے یکم فروری 2006ئ کے اجلاس میں کشمیر ریلیف و بازآبادکاری کی رپورٹ پیش ہوئی اور جمعیت کی خدمات کو سراہا گیا۔

 17/مئی 2006ئ کو مولانا فضل الرحمان نے جمعیت کے استقبالیے میں کشمیر کے حل کے لیے عوامی سطح پر ہندستان و پاکستان کے تعلقات مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا،جب کہ 20،21/اگست 2006ئ کی علما کانفرنس میں کشمیریوں کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کی بات کہی گئی۔

26/مئی 2008ئ کو امرناتھ شرائن بورڈ کو تقریباً 100 ایکڑ جنگلاتی زمین منتقل کرنے کے فیصلے سے کشمیر میں احتجاج شروع ہوا، جسے یکم جولائی 2008ئ کو واپس لینے کے بعد جموں میں احتجاج اور جولائی و اگست 2008ئ میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ جمعیت کے 4/جولائی 2008ئ کے بیان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی مذمت کی گئی۔ اس کے بعد مجلس عاملہ کے 26/ اگست 2008ئ کے اجلاس نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ جغرافیائی حدود کے تناظر میں سیاسی مسئلہ ہے اور اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ جمعیت نے آئین کی دفعہ 370 کے تناظر میں ریاست کی جغرافیائی و سیاسی حیثیت میں تبدیلی اور تقسیم کی مخالفت، امن کو اولین ترجیح، امرناتھ یاترا سے متعلق تنازع اور دیگر شکایات کو مذاکرات سے حل کرنے ، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، نہتے عوام پر مظالم اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے پر زور دیا۔

6/اگست 2010ئ کو لیہ، لداخ میں شدید بادل پھٹنے اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر 7/اگست 2010ئ کو صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ 13/ستمبر 2010ئ کو ٹنگمرگ میں چرچ سے وابستہ مشنری اسکول کو نذرِ آتش کیے جانے کی جمعیت نے 14/ستمبر 2010ئ کو سخت مذمت کی۔

 جمعیت علمائے ہند نے کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 19/ستمبر 2010ئ کی مجلس عاملہ میں کشمیر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 10/اکتوبر 2010ئ کو دیوبند میں صدر جمعیت حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری کی صدارت میں عظیم الشان کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ہزاروں علما اور ملی و سماجی رہنما¶ں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں کشمیر میں جاری بدامنی، انسانی جانوں کے ضیاع، گرفتاریوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فوجی طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کے جائز جمہوری و دستوری حقوق بحال کیے جائیں، تمام فریقوں سے بامعنی مذاکرات کیے جائیں، عوام کا اعتماد بحال کیا جائے اور طاقت کے بجائے انصاف، گفت و شنید اور جمہوری طریقہ¿ کار اختیار کیا جائے۔

کانفرنس کی قرارداد میں خصوصی طور پر آبادی والے علاقوں سے مسلح افواج کے انخلا، آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے خاتمے ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فرضی تصادم کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، متاثرین کو انصاف و معاوضہ، لاپتہ افراد کی بازیابی، بلاجواز گرفتار افراد کی رہائی اور مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے گریز کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی کشمیری عوام سے بھی پرامن اور جمہوری طریقے اختیار کرنے کی اپیل کی گئی۔ قرارداد میں یہ واضح کیا گیا کہ ہندستان کی سماجی، سیاسی اور جغرافیائی وحدت پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم کشمیری عوام کے حقوق اور جائز مطالبات کو نظر انداز کرکے پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

دیوبند کانفرنس کے بعد 31/اکتوبر 2010ئ کو دہلی کے رام لیلا میدان میں لاکھوں افراد کی شرکت سے کشمیر کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں انھی مطالبات کو وسیع پیمانے پر پیش کیا گیا۔ کانفرنس میں مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی حلقوں کے نمائندوں نے کشمیر میں انصاف، انسانی حقوق، مذاکرات اور عوامی اعتماد کی بحالی پر زور دیا۔ صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے واضح کیا کہ جمعیت کی جدوجہد کسی ملک، یا قوم کے خلاف نہیں؛ بلکہ ظلم کے خلاف ہے ، اور اس کا مقصد کشمیریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر بھی ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں۔

19/مئی 2012ئ کے اکتیسویں اجلاس عام میں جمعیت نے اسی موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے سے زیادہ توجہ کشمیری عوام کے جمہوری، دستوری، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی حقوق پر دی جانی چاہیے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات دستور کے مطابق تسلیم کیے جائیں، ترقیاتی وعدوں کو پورا کیا جائے ، آبادی والے علاقوں سے مسلح افواج کے انخلا کی کارروائی کی جائے اور آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ و پبلک سیفٹی ایکٹ کے خاتمے کی سمت پیش رفت کی جائے۔ جمعیت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امن، جمہوریت اور انصاف ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور عوام کا اعتماد حاصل کیے بغیر حالات میں پائیدار بہتری ممکن نہیں۔

12/دسمبر 2012ئ کی مجلس عاملہ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ مسلسل خلاف ورزیوں، گرفتاریوں، فرضی تصادم، لاپتہ افراد اور دیگر شکایات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات، مجرموں کو سزا، متاثرین کو انصاف و معاوضہ، بے گھر افراد کی واپسی و بازآبادکاری، آبادی والے علاقوں سے فوجی دستوں کے انخلا اور مذکورہ خصوصی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا۔ جمعیت نے اس کے ساتھ کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات اور دکھ درد میں وہ ان کے ساتھ ہے اور ان کے مفادات کو ہندستانی مسلمانوں کے مفادات سے جدا نہیں سمجھتی۔

یکم مئی 2013ئ کو جموں و کشمیر کے بھدرواہ کے قریب 5.7 شدت کا زلزلہ آیا، جس سے ڈوڈہ اور کشتواڑ سمیت متعدد علاقوں میں مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ جمعیت علمائے ہند نے 27/مئی 2013ئ کو متاثرین کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پندرہ لاکھ روپے کی فوری امداد منظور کی اور مولانا حکیم الدین قاسمی کی سربراہی میں وفد کے سروے کے بعد مختلف علاقوں میں بازآبادکاری کا کام شروع کیا۔ ڈوڈہ میں 31574 اور کشتواڑ میں 51912 مکانات متاثر ہوئے ،جب کہ متعدد اسکول، صحت مراکز، مساجد اور مدارس بھی نقصان سے دوچار ہوئے۔

17/جولائی 2013ئ کو رام بن کے گول علاقے میں قرآن کریم کی مبینہ بے حرمتی کے بعد احتجاج ہوا، اور 18/جولائی کو بی ایس ایف کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوگئے۔ جمعیت نے 20/جولائی 2013ئ کو قرآن و مسجد کی بے حرمتی اور احتجاج کے دوران شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔

2 تا 6/ستمبر 2014ئ کو جموں و کشمیر میں تباہ کن سیلاب آیا۔ جمعیت علمائے ہند نے 10/ستمبر 2014ئ کو متاثرین کے لیے فوری امداد کا اعلان کرتے ہوئے پچیس لاکھ روپے فراہم کیے ، 13/ستمبر کو 23 لاکھ روپے کا ضروری سامان دو طیاروں کے ذریعے پہنچایا اور یکم اکتوبر کو صورت حال کے جائزے کے لیے اعلیٰ سطحی وفد بھیجا۔ 2/اکتوبر کو 500 چھوٹے کاروباریوں کی بحالی کی کوشش کی گئی،جب کہ 24/اکتوبر کو مہجور نگر سری نگر میں 66 مکانات اور 17/نومبر کو منصور کالونی میں 68 مکانات تعمیر کرکے متاثرین کے حوالے کیے گئے۔ 24/اکتوبر 2014ئ کو مکانات کی حوالگی کے موقع پر مولانا محمود مدنی نے جمعیت کی امدادی سرگرمیوں کو خدمتِ خلق کی روایت کا تسلسل قرار دیا۔ اس دوران ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے ، کھانے ، طبی امداد، لنگر، ایمبولنس، پانی، راشن، کپڑے اور دیگر ضروریات کی فراہمی کے ساتھ مساجد کی صفائی اور روزگار کی بحالی کے متعدد اقدامات کیے گئے۔ 17/نومبر 2014ئ کو مزید 68 مکانات متاثرین کے حوالے کیے گئے اور بتایا گیا کہ بازآبادکاری اور دیگر امدادی کاموں پر 9,87,95,000 / روپے خرچ ہوچکے ہیں۔

30/مارچ 2015ئ کو بڈگام کے لیڈن علاقے میں زمین کھسکنے سے تین مکانات ملبے تلے دب گئے اور 15/افراد جاں بحق ہوئے۔ 31/مارچ 2015ئ کو جمعیت نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے مولانا رحمت اللہ کی نگرانی میں راحت رسانی اور تجہیز و تکفین کا کام شروع کیا۔ 9/جون 2015ئ کو سری نگر میں منعقدہ اجلاس میں کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کردہ 560 مکانات حوالے کیے گئے۔ جمعیت کی امدادی مہم کے تحت طبی ٹیم، راشن، آٹو رکشوں، کمبل اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی بھی جاری رہی۔ 6/جولائی 2015ئ کو سیلاب اور زلزلہ متاثرہ علاقوں کے تقریباً 250 مدارس میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی امداد تقسیم کی گئی۔

8/جولائی 2016ئ کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر احتجاج اور طویل کرفیو کا سلسلہ شروع ہوا۔ 28/ستمبر 2016ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے انسانی حقوق کی پامالی، جانی و مالی نقصان، بیلٹ گن کے استعمال، گرفتاریوں اور دیگر واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی، آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے خاتمے ، جمہوری حقوق کی بحالی اور تمام متعلقہ فریقوں سے بامعنی سیاسی مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی کشمیری مظاہرین سے بھی پرامن اور جمہوری طریقہ اختیار کرنے اور تشدد سے گریز کی اپیل کی۔

16/مئی 2018ئ کو حکومت ہند نے رمضان کے دوران جموں و کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، جو 17/مئی تا 16/جون جاری رہا۔ جمعیت نے 17/مئی 2018ئ کو اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے امن کے قیام میں تعاون کی اپیل کی۔ 15/فروری 2019ئ کو پلوامہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ کشمیر اور کشمیریوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

دفعہ 370 کی رو سے جموں و کشمیر کو ہندستانی آئین کے تحت خصوصی دستوری حیثیت اور محدود خود اختیاری حاصل تھی۔ 5/اگست 2019ئ کو بی جے پی حکومت ہند نے اسے ختم کرنے کا عمل شروع کیا اور 6/اگست 2019ئ سے اس کی دفعات غیر مؤ ثر کردی گئیں۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد جموں و کشمیر کا ہندستان کے ساتھ مکمل دستوری انضمام اور مرکزی قوانین کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانا تھا۔

 جمعیت علمائے ہند نے اس دفعہ کو ہٹانے پراپنے موقف کا اظہار کیا۔ 22/اگست 2019ئ کو جمعیت کے مرکزی دفتر میں مختلف مسلم جماعتوں اور رہنماں کی مشاورتی مجلس منعقد ہوئی، جس میں دفعہ 370 کے معاملے کو دستوری طریقے سے حل کرنے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنے ، کرفیو اور مواصلاتی پابندیاں ختم کرنے ، طبی و تعلیمی سہولتیں بحال کرنے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ 12/ستمبر 2019ئ کو مجلس منتظمہ نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیر کو ہندستان کا اٹوٹ حصہ اور کشمیریوں کو ہم وطن قرار دیا، علاحدگی پسندی کی تائید سے گریز کے ساتھ کشمیریوں کے جمہوری، انسانی اور تہذیبی حقوق کی پاسبانی، امن، دستور کی بالادستی اور کشمیری عوام کے دل جیت کر حالات معمول پر لانے کی اپیل کی۔

12/فروری 2023ئ کو جمعیت علمائے ہند کے چونتیسویں اجلاس عام میں دفعہ 370 کے بعد کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیریوں کے بنیادی حقوق، تعلیم، ترقی، شناخت اور تہذیبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ اور دستور کے مطابق منصفانہ برتا¶ کی اپیل کی گئی۔

5/جون 2024ئ کو سری نگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مبینہ گستاخانہ پوسٹ کے واقعے کے بعد جمعیت نے 7/جون 2024ئ کو اس کی مذمت کی اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی اور تعلیمی اداروں میں برداشت و باہمی احترام کے فروغ کا مطالبہ کیا۔ 14/جون 2024ئ کو میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری پنڈتوں کو اپنے آبائی وطن واپس آنے کی اپیل کی، جس کا 15/جون 2024ئ کو مولانا محمود مدنی نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے باہمی احترام، رواداری اور کشمیریت کے فروغ کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔

22/اپریل 2025ئ کو پہلگام کے بیسرن علاقے میں مسلح دہشت گردوں کے حملے میں 26 سیاح ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ 23/اپریل 2025ئ کو مولانا محمود مدنی نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے بے گناہ انسانوں کے قتل کو انسانیت کے خلاف قرار دیا اور واضح کیا کہ ایسے جرائم کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ جمعیت نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے امن، بھائی چارے اور رواداری برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

حیدرآباد اور جمعیت علمائے ہند

 حیدرآباد اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

آزادی ہند کے وقت برطانوی ہندستان میں تقریباً 565/ریاستیں تھیں، جن میں بیشتر نے 1947ئ اور 1948ئ کے دوران ہندستان، یا پاکستان سے الحاق کیا، لیکن حیدرآباد کی صورتِ حال مختلف رہی۔ نظام میر عثمان علی خان آصف جاہ ہفتم نے 15/اگست 1947ئ کو ہندستان میں شامل ہونے کے بجائے اپنی الگ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی اور نومبر1947ئ میں ہندستان سے اسٹینڈ اسٹل معاہدہ کیا، مگر مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد 13/ستمبر 1948ئ کو ہندستانی فوج نے ’’آپریشن پولو‘‘ شروع کیا اور 17/ستمبر 1948ئ کو نظام نے جنگ بندی اور ہندستان سے الحاق قبول کرلیا۔ اس پورے دور میں جمعیت علمائے ہند نے حیدرآباد کے سیاسی، انتظامی اور فرقہ وارانہ مسائل پر مسلسل اپنا موقف ظاہر کیا۔

حیدرآباد سے متعلق جمعیت کی سرگرمیوں کا ایک اہم موضوع برار کی واپسی تھا۔ 1853ئ میں نظام اور برطانوی حکومت کے معاہدے کے تحت برار کا انتظام برطانوی حکومت کے سپرد ہوا، جب کہ 1860ئ کے معاہدے میں یہ صورت برقرار رہی۔ 1902ئ میں برار کو سالانہ 25/ لاکھ روپے کے عوض مستقل لیز پر برطانوی حکومت کو دے دیا گیا اور یکم اکتوبر 1903ئ سے اسے مرکزی صوبہ جات کے چیف کمشنر کے تحت کردیا گیا۔ اواخر 1923ئ میں نظام نے وائسرائے ہند کو خط لکھ کر برار کی واپسی اور تنازع کے لیے کمیشن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔

11 تا 16/جنوری 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے چھٹے اجلاس عام کی تجویز نمبر 10 میں نظام کے برار کی واپسی کے مطالبے کو حق و انصاف پر مبنی قرار دیا گیا اور ہندستانیوں سے اس کی حمایت کی توقع ظاہر کی گئی۔ برطانوی حکومت نے تاہم یہ موقف اختیار کیا کہ برار واپس کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

برار کے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مخالفت بھی جمعیت نے کی۔ 13/فروری 1933ئ کے سہ روزہ الجمعیۃ میں بعض ہندو اخبارات کی اس مخالفت کا ذکر کیا گیا، جو حیدرآباد کے مسلم ریاست ہونے کی بنیاد پر برار کی واپسی کے خلاف تھے۔ 10/مارچ 1933ئ کو کرنجہ کے مسلمانوں نے ایک عام جلسے میں برار کی واپسی کا مطالبہ کیا۔اس کے باوجود 25/مارچ 1933ئ کو برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ برار نظام کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ بعد میں 5/ اپریل 1933ئ کو بعض شرائط کے ساتھ برار نظام کے حوالے کردیا گیا۔

نظام کے وقار اور اختیارات کے تحفظ کے سلسلے میں 20/دسمبر 1929ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے وائسرائے لارڈ ارون کو برقی پیغام بھیجا، جس میں امید ظاہر کی گئی کہ برطانوی حکومت نظام کے قدیم وقار اور اختیارات کے استحکام کا باعث بنے گی۔

4/جون 1933ئ کو جامع مسجد دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں ریزیڈنسی بازار کی واپسی پر نظام کو مبارک باد دی گئی۔ مولانا احمد سعیدؒ نے اپنے خطاب میں حیدرآباد اور برطانوی حکومت کے تاریخی تعلقات، ریاستی اختیارات میں برطانوی مداخلت اور ریزیڈنسی بازار کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔ انھوںنے نظام کے اصلاحی و مذہبی اقدامات کی بھی تحسین کی۔

1939ئ میں حیدرآباد کے خلاف فرقہ وارانہ تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ 5/جنوری 1939ئ کے سہ روزہ الجمعیۃ نے آریہ سماج کے ایک اشتعال انگیز پمفلٹ کی نشاندہی کی۔ 22/ جنوری 1939ئ کو ’’یوم حیدرآباد‘‘ کے موقع پر دہلی میں جلوس کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور مسجد کے قریب تنازع پیدا ہوکر تشدد کی صورت اختیار کرگیا۔اس پر مولانا احمد سعیدؒ نے 13/فروری 1939ئ کو بیان دیتے ہوئے حیدرآباد مخالف تحریک کو فرقہ وارانہ منافرت کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ اگر مقصد حقیقی سیاسی اصلاح اور تمام باشندوں کے مساوی حقوق ہوتے تو اس کی حمایت کی جاسکتی تھی، لیکن مذہبی اشتعال انگیزی ملک کے اتحاد اور امن کے لیے نقصان دہ ہے۔ بعد ازاں 3 تا 6/مارچ 1939ئ کے جمعیت علمائے ہند کے گیارھویں اجلاس عام کی تجویز نمبر 13 میں ہندو مہاسبھا اور آریہ سماج کی حیدرآباد مخالف فرقہ وارانہ تحریک کی مذمت کی گئی۔

آزادی کے بعد حیدرآباد کا مسئلہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا۔ 15/ستمبر 1948ئ کو جمعیت نے حکومت ہند کی کارروائی کو جائز قرار دیا اور 16/ستمبر 1948ئ کو مولانا احمد سعیدؒ، مولانا حفظ الرحمنؒ اور مولانا محمد میاںؒ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ حکومت ہند نے نظام کو مناسب شرائط پیش کی تھیں، جنھیں قبول کرلیا جاتا، تو حیدرآباد اور ہندستانی مسلمانوں دونوں کے لیے بہتر ہوتا۔ نظام کے مشیروں کو پیش کشیں مسترد کرانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوجی کارروائی کو حالات کے پیش نظر حق بجانب بتایا گیا۔ یہ بیان 18/ستمبر 1948ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔

19/ستمبر 1948ئ کو حیدرآباد کی فوج نے میجر جنرل جے این چودھری کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ۔ جمعیت کے ناظم عمومی مولانا حفظ الرحمنؒ نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ حیدرآباد کے باشندوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہ ہونے دی جائے اور تمام معاملات فرقہ واریت سے بلند ہوکر انجام دیے جائیں۔

اس تاریخی مرحلے کے اختتام پر 27/ستمبر 1948ئ کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان دعائیہ اجتماع منعقد ہوا، جس میں گورنر جنرل شری راج گوپال، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا احمد سعیدؒ، مولانا حفظ الرحمنؒ اور دیگر اکابر شریک ہوئے۔ مولانا احمد سعیدؒ نے حیدرآباد کے مسئلے کے حل پر اطمینان کا اظہار کیا، جب کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے امن، باہمی اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ ہند نے مسئلہ حل کرنے کے لیے طویل عرصے تک صبر و تحمل سے کام لیا اور نظام کو مناسب شرائط قبول کرنے کی متعدد بار دعوت دی۔ 

گورنر جنرل شری راج گوپال نے بھی اس موقع پر کہا کہ 15/اگست 1947ئ کے بعد حیدرآباد کا مسئلہ ہندستان کی جغرافیائی وحدت اور امن سے الگ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انھوں نے ہندستانی عوام کے ضبط و تحمل کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حیدرآباد میں ہندو، مسلمان اور سکھ باہمی اعتماد اور وفاداری کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

سقوطِ حیدرآباد کے بعد جمعیت علمائے ہند کی خدمات

حیدرآباد کے ہند یونین میں شامل ہونے کے بعد جمعیت علمائے ہند نے وہاں کے مسلمانوں کے درمیان امن، باہمی اعتماد، اتحاد اور بازآبادکاری کے لیے عملی جدوجہد جاری رکھی۔ 4/جنوری 1949ئ کو جمعیت کا چار رکنی وفد حیدرآباد پہنچا، جس میں مولانا محمد میاںؒ، مولانا بشیر احمد، مولانا نور الدین بہاری اور سید محمد جعفری شامل تھے۔ وفد نے مختلف علاقوں اور کیمپوں کا دورہ کیا، عوام کو ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے مشترکہ قومی ترقی کی طرف بڑھنے کا پیغام دیا اور ملٹری گورنر میجر جنرل چودھری سے ملاقات کرکے مسلمانوں کی مشکلات، ضروریات اور قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ پیش کیا۔ 16/جنوری 1949ئ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفد کی متعدد تجاویز پر حکام نے اتفاق کیا۔

جمعیت کی سالانہ کارگزاری رپورٹ، جو 16 تا 18 اپریل 1949ئ کے سولھویں اجلاس عام میں پیش ہوئی، میں بتایا گیا کہ 13/ستمبر 1948ئ کے پولیس ایکشن کے دوران اور اس کے بعد مبینہ بے اعتدالیوں کی اطلاعات ملتے ہی جمعیت نے گورنر جنرل، وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم اور دیگر ذمہ داران کو متوجہ کیا اور مولانا حفظ الرحمنؒ نے پنڈت جواہر لال نہرو سے ملاقات کرکے صورتِ حال کی تحقیق اور انسدادی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی سلسلے میں قاضی عبدالغفار اور پنڈت سندر لال کے وفود بھی حیدرآباد پہنچے۔ مقامی سطح پر جمعیت سے وابستہ افراد نے تنظیم قائم کرکے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جب کہ جمعیت کے وفد نے حیدرآباد، شولاپور، عثمان آباد اور گلبرگہ کے متاثرہ علاقوں میں ہندو مسلم مشترک ریلیف کمیٹیاں قائم کیں، حکام تک شکایات پہنچائیں اور بے گھر لوگوں کی واپسی و آبادکاری کی کوشش کی۔

حیدرآباد کے مسلمانوں کی طرف سے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے سامنے پیش کیے گئے ایک یادداشت میں قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ تفریق سے بلند ہوکر ملک کی خدمت، گرفتاریوں میں نرمی، خصوصی ٹربیونل کے بجائے عام عدالتوں میں مقدمات، جبری مذہبی تبدیلی، اغوا اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے خلاف کارروائی، مقامی حالات سے ناواقف بیرونی افسران کی تعیناتی پر نظرثانی اور تمام طبقات کے درمیان اعتماد و تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس یادداشت کا بنیادی مقصد ماضی کی تلخیوں سے نکل کر حیدرآباد میں ایک پُرامن اور مشترک قومی زندگی کی بنیاد مضبوط کرنا تھا۔

18/جنوری 1951ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ حیدرآباد پہنچے، تو اوقاف کے بہتر انتظام کا مطالبہ سامنے رکھا۔ اسی سال 27 تا 29/اپریل 1951ئ کو جمعیت علمائے ہند کا سترھواں اجلاس عام حیدرآباد میں منعقد ہوا، جس کا مقصد پولیس ایکشن کے بعد مسلمانوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی، ذہنی انتشار، معاشی پستی اور احساسِ کمتری کو ختم کرکے انھیں قومی زندگی میں مثبت کردار کے لیے تیار کرنا تھا۔ حیدرآباد کے وزیر اعلیٰ ایم کے ویلیڈی نے بھی اپنے پیغام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی گفتگو، برداشت اور تعلیمی ترقی کو ضروری قرار دیا اور جمعیت کے کردار کو اہم بتایا۔

اس اجلاس میں مولانا احمد سعیدؒ نے واضح کیا کہ جمعیت ’’رضاکار‘‘ یا ’’غیر رضاکار‘‘ اور مسلم لیگی، یا غیر مسلم لیگی کی تفریق سے بلند ہوکر سب کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ نے بھی مسلمانوں کو خوف کے بجائے اللہ پر توکل اور حوصلے کی تلقین کی۔ اجلاس نے اردو کو حیدرآباد کی علاقائی اور سرکاری زبان برقرار رکھنے اور عثمانیہ یونی ورسٹی کو اردو یونی ورسٹی کی حیثیت سے قائم رکھنے کے مطالبات کیے۔ 20/مئی 1951ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ نے پنڈت نہرو کو خط لکھ کر اجلاس کی قراردادیں بھیجیں، جن میں پولیس ایکشن کے بعد گرفتار قیدیوں اور نظربندوں کی رہائی، عثمانیہ یونی ورسٹی کا اردو تشخص برقرار رکھنے ، بے گھر افراد کی بازآبادکاری اور برطرف سرکاری و فوجی ملازمین کی بحالی، یا مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔

15، 16/اپریل 1952ئ کی مجلس عاملہ میں عثمانیہ یونی ورسٹی کے مستقبل پر غور ہوا اور مولانا ابوالکلام آزادؒ نے بتایا کہ اس معاملے پر مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان گفتگو جاری ہے۔ 28/ستمبر 1952ئ کو پنڈت نہرو اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے حیدرآباد دورے کے موقع پر جمعیت علمائے حیدرآباد کے وفد نے پولیس ایکشن کے بعد گرفتار مسلمانوں کی رہائی، مقدمات کی واپسی اور بے روزگار و بے گھر مسلمانوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ 11، 12/اکتوبر 1952ئ کی مجلس عاملہ نے جمعیت علمائے حیدرآباد کو تین ہزار روپے قرضِ حسنہ دینے کا فیصلہ کیا، جو 31/ جنوری 1953ئ تک واپس کیا جانا تھا۔ 28/فروری و یکم مارچ 1953ئ کی مجلس عاملہ میں مسلمانوں کی آبادکاری اور لائق علی کابینہ کے ارکان سمیت دیگر اسیروں کی رہائی کے مطالبات کی تجویز منظور کی گئی اور انھیں حکومت کوبھیجنے کا فیصلہ ہوا۔

6/اکتوبر 1953ئ کو جمعیت علمائے حیدرآباد کے وفد نے مرکزی وزیر داخلہ ڈاکٹر کیلاش ناتھ کاٹجو کو یادداشت پیش کرکے پولیس ایکشن سے متاثرہ مسلمانوں کی بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔ اگست 1954ئ میں گلبرگہ، نظام آباد اور دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران مولانا حفظ الرحمنؒ نے 28/اگست 1954ئ کو حکومتِ ہند کے ایک اعلیٰ اہل کار کو خط لکھ کر فوری کارروائی اور اقلیتوں میں اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 11، 13/فروری 1955ئ کی مجلس عاملہ میں حیدرآباد کی آبادکاری اور گزشتہ فسادات کے مسائل زیر بحث آئے۔ 5 /مئی 1955ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ نے مولانا ابوالکلام آزادؒ کو خط لکھ کر سرکاری رپورٹ میں فسادات کی ذمہ داری یک طرفہ طور پر مسلمانوں پر ڈالنے پر اعتراض کیا اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، ہندو و مسلم فرقہ پرست عناصر کے ساتھ یکساں طرزِ عمل اور حیدرآباد کے مسلمانوں کے لیے امن و اطمینان کی فضا پیدا کرنے پر زور دیا۔

22/جنوری 1960ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ نے حیدرآباد کے نظامی طبیہ کالج کی عمارت کو آیورویدک ادارے کے لیے خالی کرانے کے معاملے پر آندھرا کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر یونانی طب کے اس تاریخی ادارے اور اس کی عمارت کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ 13، 14/مئی 1967ئ کی مجلس عاملہ نے نظام آباد کے فرقہ وارانہ فساد پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومت سے فوری تدارک، مظلومین کو معاوضہ اور ذمہ دار حکام و مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

 اگست 1978ئ کے فساد کے بعد 30/اگست کو ناظم عمومی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، 2/ ستمبر کو پولیس کی ناکامی پر بیان دیا اور 24/ستمبر 1978ئ کو جمعیت کے وفد نے شریمتی اندرا گاندھی سے ملاقات کرکے نقصانات سے آگاہ کیا۔ 23، 24/ستمبر 1978ئ کی مجلس عاملہ نے عدالتی تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، مکمل معاوضے اور متاثرین کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ 24/نومبر 1979ئ کو ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمیؒ نے وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش کو تار بھیج کر فسادات کی تحقیقات اور امن کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ 16/جولائی 1981ئ کو جمعیت نے حیدرآباد اور گودھرا کے فسادات پر تشویش ظاہر کی، جب کہ 5/اگست 1981ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے حیدرآباد کے نومسلموں کے تحفظ اور فسادات کے ذمہ دار افسران سے بازپرس کا مطالبہ کیا۔ 10/اکتوبر 1983ئ کو وزیر داخلہ سے حیدرآباد کے فساد پر گفتگو کی گئی اور 31/جولائی 1984ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور آندھرا کے وزیر اعلیٰ کو تار بھیج کر امن و امان کی بحالی اور مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ 12/ستمبر 1984ئ کو مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ نے مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے یہی مسئلہ اٹھایا۔

9/ ستمبر 1984ئ کے حیدرآباد فساد کے بعد جمعیت نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ 16/ ستمبر 1984ئ کی مجلس عاملہ نے مظلومین کی امداد کے لیے ایک لاکھ روپے منظور کیے اور مرکزی ملی ریلیف کمیٹی آندھراپردیش قائم کی، جس کا مقصد امن و امان کی کوشش، امداد، ریلیف اور نقصانات کا سروے تھا۔ جمعیت نے حکومت سے اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ، مکمل معاوضے ، فساد کی سازش کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات، ذمہ دار افراد کی گرفتاری اور پولیس و مقامی حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یوں سقوطِ حیدرآباد کے بعد جمعیت علمائے ہند کی خدمات محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہیں؛ بلکہ اس نے امداد و بحالی، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی آبادکاری، ملازمین کی بحالی، اوقاف کے تحفظ، اردو زبان اور عثمانیہ یونی ورسٹی کے تشخص، اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ، فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات اور ہندو مسلم اعتماد کی بحالی کے لیے مسلسل عملی جدوجہد کی۔ حیدرآباد کے بدلتے ہوئے حالات میں جمعیت نے ہر مرحلے پر امن، انصاف، قومی یک جہتی اور تمام طبقات کے باہمی تعاون کو اپنی کوششوں کا بنیادی محور بنایا۔

18 Sept 2026

ہندستان میں مسلمانوں کا وطنی استحقاق، شرعی حیثیت اور وفاداری کی تاریخی حقیقت

ہندستان میں مسلمانوں کا وطنی استحقاق، شرعی حیثیت اور وفاداری کی تاریخی حقیقت 

محمد یاسین جہازی

مقدمہ و پس منظر

 ہندستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی وطنی حیثیت اور ان کی حب الوطنی کا مسئلہ آزادی سے قبل کبھی متنازع نہیں رہا۔ آزادی کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں فرقہ پرست عناصر نے اپنے ماضی کے کردار پر پردہ ڈالنے اور سیکولر آئین کی بنیادوں کو کمزور کر کے ’ہندو راشٹر‘ کے تصور کو مسلط کرنے کے لیے مسلمانوں کے وطنی استحقاق پر سوال کھڑے کیے۔ تاریخی و مذہبی استدلال کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسانی وجود؛ جیساکہ مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ (رسالہ ہمارا وطن اور اس کی فضیلت) اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ (رسالہ ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل) نے واضح کیا ہے کہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا اولین ورود ہندستان ہی کی دھرتی پر ہوا۔ علاوہ ازیں، ہندستان کے مسلمانوں کی اکثریت یہیں کے قدیم باشندے ہیں، جن کی قبریں اور یادگاریں اسی خاک کا جزو ہیں۔ چنانچہ ہندستان کو مسلمانوں کا اصلی اور فطری وطن تسلیم کرنا محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ناقابلِ انکار تاریخی و جغرافیائی حقیقت ہے۔

ہندستان کی شرعی حیثیت کا فقہی نقطہ نظر: دار الاسلام سے دار الامان تک 

برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد ہندستان کی شرعی حیثیت کا ازسرنو تعین علمائ کی سب سے اہم فکری ذمہ داری بنی۔ 1806ئ میں جب دہلی پر انگریز قابض ہوئے اور مغل تاجدار شاہ عالم ثانی کو محض برائے نام سربراہ بنا کر ’’خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، تو حکیم الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے 1808ئ/1809ئ میں برصغیر کی تاریخ کا پہلا انقلابی فتویٰ صادر فرمایا کہ ہندستان عملاً’’دار الحرب‘‘ بن چکا ہے۔ شاہ صاحب نے خاموشی، وفاداری، یا اجتماعی ہجرت کے بجائے آزادی کے لیے جدوجہدکو ترجیح دی۔

اس فکری تحریک نے آگے چل کر 1857ئ کی جنگِ آزادی کو جنم دیا۔ دہلی میں مفتی صدر الدین، مولانا عبد القادر اور دیگر ممتاز علما کے دستخطوں سے جہاد کو فرضِ عین قرار دینے کا فتویٰ اخبار الظفر اور بعد ازاں 26/جولائی 1857ئ کو صادق الاخبار میں شائع ہوا۔ اسی فتوے کی روشنی میں 14/ستمبر 1857ئ کو حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ محمد ضامنؒ کی قیادت میں جنگِ شاملی لڑی گئی۔ اگرچہ اس مسلح جدوجہد میں وقتی شکست ہوئی، مگر یکم نومبر 1858ئ کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلانِ عام کے بعدمجاہدین آزادی نے حکمتِ عملی بدلی  اور میدان رزم کے بجائے میدان بزم آراستہ کرتے ہوئے 30/مئی 1866ئ کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی، جس نے فکری تربیت اور آزادی کی تحریکوں کے لیے مسلسل افرادی قوت فراہم کی۔حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمد قاسم نانوتویؒ نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ہندستان کی شرعی حیثیت کا دوسرا بڑا موڑ اس وقت آیا جب آزادی کی تحریک میں غیر مسلموں سے اشتراکِ عمل کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاسِ عام( 2 تا 5/دسمبر 1927ئ) کے صدارتی خطبے میں واضح کیا کہ ہندستان کو فقہی اصطلاح میں ’’دار الامان‘‘ قرار دیا جانا چاہیے ، جہاں مسلمان اور غیر مسلم میثاقِ مدینہ کی طرز پر ایک باہمی معاہدے کے تحت برطانوی استبداد کے خلاف متحد ہو کر جمہوری حقوق کے لیے لڑ سکتے ہیں۔جب انگریزوں کے دور جبر میںہندستان دارالامان تھا، تو 1947ئ کے بعد ہندستان جمہوری اور آئینی بنیادوں پر بدرجہ¿ اولیٰ ’’دار الامان‘‘قرار پایا،کیوں کہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی کسی کی بخشش کے طور پر نہیں؛ بلکہ ایک فطری اور دستوری حق کے طور پر حاصل ہے۔

سیاسی تصورات کا تصادم: سرسید، کانگریس اور جمعیت علمائے ہند

1857ئ کے سانحے کے بعد ہندستانی سیاست میں مختلف رجحانات ابھرے۔ 28 /دسمبر 1885ئ کو اے او ہیوم نے آل انڈیا کانگریس کی بنیاد رکھی۔ اس کے برعکس سرسید احمد خان نے 28/دسمبر 1887ئ کے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو کانگریس سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور 8/ اگست 1888ئ کو انگریزوں سے وفاداری پر مبنی ’’یونائیٹڈ انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ سرسید نے انگریزی نظام میں مسلمانوں کے دنیوی مفادات دیکھے اور قومیت کو مذہب سے جوڑ کر دو الگ اقوام کا ابتدائی تصور پیش کیا۔

علمائے حق نے سرسید کے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا۔ علمائے لدھیانہ (مولانا محمد، مولانا عبد العزیز، مولانا عبد اللہ) نے ملک گیر سطح پر فتاویٰ جمع کر کے رسالہ نصرۃ الابرار شائع کیا۔ 11/ دسمبر 1888ئ کو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے دوٹوک فتویٰ دیا کہ دنیوی و ملی حقوق کی حفاظت کے لیے ہندو¶ں کے ساتھ اشتراک (کانگریس میں شمولیت) جائز ہے ، جب کہ سرسید کی انگریز نواز ایسوسی ایشن مسلمانوں کے حق میں سمِّ قاتل ہے۔

انگریزوں نے اپنی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت یکم اکتوبر 1906ئ کو شملہ وفد اور 30/دسمبر 1906ئ کو ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل کی راہ ہموار کی، تاکہ مسلمانوں کو قومی تحریک سے کاٹا جا سکے۔ 29-31/ دسمبر 1916ئ کے میثاقِ لکھن¶ میںمسلم لیگ کی کوششوں کی وجہ سے پہلی بار جداگانہ انتخابات کی بنیاد پر مسلم نشستیں طے کی گئیں، جو آگے چل کر یہ طرزِ سیاست مزید شقاق کا سبب بنی۔

اس کے برعکس پہلی جنگِ عظیم کے بعد رولٹ ایکٹ( 19/مارچ 1919ئ) اور جلیانوالہ باغ قتلِ عام( 13/اپریل 1919ئ) کے تناظر میں جب تحریکِ عدمِ تعاون شروع ہوئی، تو 23/نومبر 1919ئ کو دہلی میں خلافت کانفرنس کے دوران جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ جمعیت نے 6/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں ترکِ موالات کی تجویز منظور کی اور 8/ ستمبر 1920ئ کو 474 علماکی توثیق سے متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس نے برطانوی حکومت سے بائیکاٹ اور ہم وطنوں سے اشتراک کو شرعی فریضہ قرار دیا۔ اسی دوران جب جذباتی فضا میں تحریکِ ہجرتِ افغانستان( 1920ئ) شروع ہوئی، تو جمعیت نے ہجرت کی کبھی باقاعدہ تائید نہیں کی؛ حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا آزادؒ نے اس پر کڑی شرائط عائد کیں اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے صراحت کی کہ مسلمانوں کے لیے ہندستان چھوڑنے کا تصور ہی باطل ہے ، ان کا فرض یہیں رہ کر جدوجہد کرنا ہے۔

متحدہ قومیت بمقابلہ دو قومی نظریہ و ہندو راشٹر

1920ئ سے لے کر آزادی تک ہندستان میں قومیت کے تین بڑے نظریات مدمقابل رہے:

1۔ متحدہ قومیت (جمعیت علمائے ہند کا نظریہ): جمعیت علمائے ہند کے دوسرے اجلاس (19 تا 21/نومبر 1920ئ) میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، پانچویں اجلاس (دسمبر 1923ئ) کی تجویز نمبر 5، اور ساتویں اجلاس( 11 تا 14 مارچ 1926ئ) میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے واضح کیا کہ قومیت و وطن پرستی اگرچہ معبود نہیں ہوسکتیں، مگر اپنے وطن کا تحفظ مسلمانوں پر شرعاً فرض ہے۔ اس تصور کو قطعی شکل حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے 7/جنوری 1938ئ کے دہلی کے خطاب میں دی، جس پر علامہ اقبالؒ سے تاریخی علمی مکالمہ بھی ہوا۔ مولانا مدنی نے کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں واضح کیا کہ ’’ملت‘‘ دین اور شریعت پر مبنی ہوتی ہے، جب کہ ’’قوم‘‘ اوطان سے بنتی ہے۔ میثاقِ مدینہ کی بنیاد پر ہندستان کے تمام باشندے بحیثیت ہم وطن ایک قوم ہیں، جس میں مسلمانوں کا مذہبی اور تہذیبی تشخص (کلچرل اٹانمی) پوری طرح محفوظ رہے گا۔

2۔ ہندو راشٹر (ساورکر اور گول والکر کا نظریہ): وی ڈی ساورکر نے اپنی کتاب Essentials of Hindutva (1923ئ) میں قومیت کی شرط’’پتر بھومی‘‘ (آبائی وطن) کے ساتھ ’’پنیہ بھومی‘‘ (مقدس سرزمین) قرار دے کر مسلمانوں اور عیسائیوں کو قومی دائرے سے خارج کر دیا، اور 1937ئ میں احمد آباد کے اجلاس میں ہندو اور مسلمان کو دو الگ قومیں قرار دیا۔ بعد ازاں ایم ایس گول والکر نے We, or Our Nationhood Defined(1939ئ) میں جغرافیہ، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان کی پانچ وحدتیں پیش کر کے غیر ہندو¶ں کو مکمل طور پر اقلیتی اور ماتحت حیثیت میں ضم ہونے کا نظریہ دیا۔

3۔ دو قومی نظریہ اور مطالبہ¿ پاکستان: علامہ اقبال کے خطبہ¿ الہ آباد( 29/دسمبر 1930ئ) اور چودھری رحمت علی کے پمفلٹ (Now or Never ، 28/جنوری 1933ئ) کے بعد 23/مارچ 1940ئ کو مسلم لیگ نے قراردادِ لاہور منظور کی۔ اس کے مقابلے میں جمعیت علمائے ہند نے 27 تا 30/اپریل 1940ئ کو دہلی میں ’’آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس‘‘ منعقد کر کے اعلان کیا کہ ہندستان تمام مذاہب کا مشترک وطن ہے اور تقسیم کا مطالبہ ملک اور اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے مفاد کے لیے تباہ کن ہے۔ 14/اپریل 1940ئ کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ نے بھی اپنے مقالے میں اس منصوبے کے عملی نقائص واضح کیے۔ اگرچہ مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی محمد شفیعؒ نے اسلامی نظام کے امکان کی امید پر پاکستان کی حمایت کی، تاہم مسلم لیگ کے مغربی و جمہوری ماڈل کے بیانات( 11 /نومبر 1945ئ کا انٹرویو) نے ثابت کیا کہ یہ تصور محض ایک سیاسی سراب تھا۔

1945–46 کے انتخابات کی حقیقت اور ہجرت کا شرعی حکم

فرقہ پرست عناصر کی جانب سے اکثر یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ46-1945ئ کے عمومی انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر تمام مسلم نشستیں جیت لی تھیں اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔

 فرقہ پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر درست نہیں ہے:

۱۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ئ کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار) پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔

۲۔ برصغیر کے تقریباً 9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان، کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔

14/اگست 1947ئ کو تقسیم کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ترکِ وطن کو اسلامی ہجرت ماننے سے انکار کر دیا۔ مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے مطابق یہ ترکِ وطن خوف یا روزگار کے لیے تھا، جسے شرعی ہجرت نہیں کہا جا سکتا۔ 24/اکتوبر 1947ئ کو امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں سے ہجرت کرنے والوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فرار کی زندگی تمھارا شیوہ نہیں۔

آزادی کے بعد وفاداری اور مساوی شہریت کے لیے جدوجہد

 آزادی کے فوراً بعد جب مسلمانوں کی وفاداری کو مشکوک بنا کر پیش کیا جانے لگا، توجمعیت  علمائے ہند نے اصولی موقف اختیار کیا:

۱۔ 27–28/دسمبر 1947ئ (آزاد کانفرنس)میں مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہارویؒ نے اعلان کیا کہ مسلمان اس ملک کے وفادار ہیں اور اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا، تو قوم پرور مسلمان دفاع میں جان دیںگے ، مگر وفاداری کے نام پر ذلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

۲۔ 1947ئ (جامع مسجد دیوبند) میں مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے واضح کیا کہ ایک جمہوری ملک میں عوام حکومت کے وفادار نہیں ہوتے؛ بلکہ حکومت کو عوام کا خادم ہونا پڑتا ہے ؛ مسلمانوں نے خون دے کر آزادی لی ہے ، لہٰذا وفاداری کا غلامانہ اظہار لایعنی ہے۔

۳۔ 26 تا 28/اپریل 1948ئ کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید دہلویؒ نے فرمایا کہ وفاداری کا ثبوت غیر ملکیوں کے سامنے دیا جاتا ہے ، اپنے وطن میں اپنے ہی لوگوں سے وفاداری کا مطالبہ بے جا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمانؒ نے واضح کیا کہ پوری قوم غدار نہیں ہو سکتی؛ جیسے ہٹلر کے بعد جرمن عوام کو معاف کیا گیا، ویسے ہی ہندستانی مسلمانوں پر الزامات تراشنا بند ہونا چاہیے۔

۴۔ 27تا 29/اپریل1951ئ کومنعقدسترھویں اجلاس کے خطبہ¿ استقبالیہ میں جناب نواب مقصود احمد نے صراحت کی کہ وفاداری آئین اور ملک سے ہوتی ہے ، کسی عارضی حکومت سے نہیں۔ حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے سوال کیا کہ کیا گاندھی جی کے سینے پر گولی چلانے والے ملک کے وفادار ہوسکتے ہیں؟

۵۔ 9 تا 11/دسمبر 1960ئ کے بیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمدحفظ الرحمان نے تاریخی جملہ کہاکہ:’’اگر پنڈت نہرو سے وفاداری کا ثبوت نہیں مانگا جا سکتا، تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں مانگا جا سکتا۔‘‘

۶۔ 15 تا 17/اپریل 1966ئ کے بائیسواں اجلاس کے صدارتی خطاب میں مولانا سید فخر الدین احمدؒ نے بریگیڈیئر عثمان اور عبد الحمید کی شہادتوں کا حوالہ دے کر کہا کہ اقلیت سے وفاداری مانگنا دراصل اسے محکوم بنانا اور ہٹلر ازم کو فروغ دینا ہے۔

جوں جوں دہائیاں گزریں، فرقہ پرستوں نے وفاداری کے ساتھ حقِ شہریت پر حملے شروع کیے۔ 29/اکتوبر 1995ئ کے پچیسویں اجلاس میں جمعیت نے مسلمانوں سے شہریت کے ثبوت مانگنے کے خلاف قرارداد منظور کر کے راشن کارڈ، پٹہ اور پاسپورٹ کو حتمی دستاویز ماننے کا مطالبہ کیا۔ 17/اکتوبر 2000ئ کو مولانا سید اسعد مدنیؒ نے آر ایس ایس کے سہ روزہ کیمپ (آگرہ) کے بیانات کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان روزِ اول سے قومی دھارے میں ہیں، جب کہ آر ایس ایس خود آئین اور سیکولر ڈھانچے سے باہر رہی ہے۔ 9/مارچ 2003ئ کو انھوں نے گول والکر کے الزامات کا مدلل رد کیا۔

15/ستمبر 2006ئ کو مولانا محمود مدنی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ’’وندے ماترم‘‘ چوںکہ توحید کے اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے ، لہٰذا اسے حب الوطنی کی کسوٹی نہیں بنایا جا سکتا۔ 2008ئ اور 2009ئ کے اجتماعات میں مولانا محمود مدنی نے یہ دوٹوک پیغام دیا: ’’مسلمانو! یاد رکھو !تم اس ملک کے حصہ دار ہو، کرایہ دار نہیں ہو!۔‘‘

اس فکر کا تسلسل دورِ حاضر تک جاری رہا۔ 12/فروری 2023ئ کو چونتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا محمود اسعد مدنی نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’بھارت جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے ، اتنا ہی محمود کا ہے۔ نہ محمود ان سے ایک انچ آگے ہے اور نہ ایک انچ پیچھے ۔‘‘ اور واضح کیا کہ آدم علیہ السلام کے ورود کی وجہ سے یہ دھرتی مسلمانوں کا پہلا وطن ہے۔ 

بعد ازاں 29/نومبر 2025ئ کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے واضح کیا کہ ملک سے وفاداری اور دستوری معاہدے کی پاسداری اسلامی حکم ہے ، لہٰذا حکومت اور اکثریتی طبقے کو بھی اسی اخلاص و دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بلاجواز مشکوک بنانے اور یک طرفہ نشانہ بنانے کی روش ترک کرنی چاہیے۔

قصہ مختصر یہ کہ اس تاریخی و دستاویزی جائزے سے یہ حقیقت پایہ¿ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ہندستان مسلمانوں کا اپنا موروثی اور اصلی وطن ہے۔ اس سرزمین سے ان کا رشتہ مذہبی، تاریخی، دستوری اور خون کے نذرانوں سے جڑا ہوا ہے۔ علمائے دیوبند اور جمعیت علمائے ہند نے دارالحرب کے اعلان سے لے کر دارالامان اور متحدہ قومیت کے معاہدے تک ہر موڑ پر ملک کی آزادی اور سالمیت کے لیے اصولی کردار ادا کیا اور تقسیم کے نظریے کی آخری دم تک مخالفت کی۔ ہندستان کا مسلمان ایک آزاد، جمہوری اور سیکولر آئین کے تحت برادرانِ وطن کے شانہ بشانہ اس ملک کا برابر کا مالک و حصہ دار ہے ، جسے اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی فرقہ پرست گروہ سے تصدیق نامہ (سرٹیفکیٹ) لینے کی چنداں ضرورت نہیں۔

15 Sept 2026

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

 

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

محمد یاسین جہازی

ہندستان مسلمانوں کا اصلی وطن ہے یا نہیں، یہ سوال اپنی بنیاد میں ایک تاریخی سوال نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔ آزادی کے بعد فرقہ پرست عناصر نے اس سوال کو اس لیے زندہ کیا تاکہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈالا جا سکے اور ہندستانی جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرکے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسانیت کی تاریخ۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی نے اپنے رسالے "ہمارا وطن اور اس کی فضیلت" میں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے رسالے "ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل" میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا ورود اسی سرزمین پر ہوا۔ اس لیے اس بحث کو ان دونوں کتابوں کے حوالے کرکے ہم اس تحریر میں اصل موضوع یعنی ہندستان کی شرعی حیثیت کی تاریخ کی طرف بڑھتے ہیں۔

آزادی سے پہلے اس سوال کا کوئی تصور ہی موجود نہ تھا۔ اکابر کی تحریروں میں ہندستان کی شرعی حیثیت پر تو سیر حاصل بحث ملتی ہے لیکن مول نواسی کے حوالے سے کوئی اشارہ تک نہیں ملتا، حتیٰ کہ جمعیت علمائے ہند کی آزادی سے پہلے کی تاریخ میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی لیے اس مقالے کی بنیاد ہندستان کی شرعی حیثیت کے تاریخی ارتقاء پر رکھی گئی ہے۔

ہندستان کی تاریخ میں اس کی شرعی حیثیت پر سب سے پہلی باقاعدہ بحث حکیم الہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہ کے یہاں ملتی ہے۔ مشہور مؤرخ مولانا ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری نے لکھا ہے کہ شاہ صاحب وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہندستان کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا اور اس ایک اعلان نے ملک کے قابض اقتدار کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کر دیا۔ دراصل ملک کا دارالاسلام سے دارالحرب بن جانا مسلم ہندستان کی سیاسی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تھا، لیکن یہ عمل اتنی آہستگی سے وقوع پذیر ہوا کہ شاہ صاحب جیسی صاحب نظر ہستی کے علاوہ وقت کا کوئی مدبر اس کی آہٹ بھی نہ سن سکا۔ بلکہ بعض اہل علم نے اس تبدیلی کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا، چنانچہ 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بھی مولانا احمد رضا خان صاحب نے "الاعلام بان الہند دارالاسلام" لکھ کر آزادی کے جہاد کو حرام قرار دے دیا۔

سن 1806 میں دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے شاہ عالم کو برائے نام تخت پر بٹھا کر یہ اعلان کیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا ہے۔ اس ظاہری تقسیم کی وجہ سے بعض علماء کو یہ گمان ہوا کہ ہندستان اب بھی دارالاسلام ہے۔ لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جبکہ تخت پر شاہ عالم ثانی متمکن تھے، فتویٰ دیا کہ ہندستان کی سیاسی حیثیت بدل چکی ہے۔ ان کے سامنے اس وقت چار راستے تھے۔ اول یہ کہ قوم کے سیاسی مفادات سے چشم پوشی کرکے خاموش رہا جائے، دوم یہ کہ تن آسان علماء کی طرح ہندستان کو بدستور دارالاسلام کہا جائے، سوم یہ کہ اسے دارالحرب کہہ کر ہجرت کر لی جائے، اور چہارم یہ کہ اسے دوبارہ دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ ابن الوقت رہنماؤں نے پہلا راستہ اختیار کیا، مفاد پرستوں جن میں قادیانی، بریلوی اور سید احمد خان کے نام نمایاں ہیں، نے دوسرا راستہ لیا، تیسرا راستہ کروڑوں مسلمانوں کے لیے عملاً ناممکن تھا، اور چوتھا راستہ جو ہمیشہ اصحاب عزم کا خاصہ رہا ہے، دشوار ترین تھا۔ شاہ صاحب نے اسی چوتھے راستے کو اختیار کیا اور 1808 یا 1809 میں سب سے پہلا فتویٰ جہاد دیا جس کا متن فتاویٰ عزیزی جلد اول صفحہ سولہ اور سترہ پر موجود ہے اور جس میں انہوں نے در مختار اور کافی کے حوالے سے ثابت کیا کہ یہاں امام المسلمین کا حکم جاری نہیں بلکہ نصاریٰ کا حکم بے دغدغہ جاری ہے۔

دوسرا فتویٰ جہاد شاملی کے عنوان سے مشہور ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ تھانہ بھون کے قاضی عنایت علی اور ان کے بھائی قاضی عبدالرحیم علاقے میں ہر دلعزیز تھے لیکن ایک کائستھ سرشتہ دار نے ذاتی عداوت کی بنا پر حاکم ضلع سہارنپور رابرٹ اسپنکی سے جھوٹی شکایت کی کہ عنایت علی انگریزی حکومت سے باغی ہو گئے ہیں اور عبدالرحیم دہلی کے باغیوں کے لیے اسلحہ خریدنے آئے ہیں۔ اسپنکی نے تحقیق کے بغیر قاضی عبدالرحیم کو ان کے رفقاء سمیت پھانسی دے دی۔ اس خبر سے علاقے میں آگ لگ گئی۔ دیوبند، گنگوہ اور نانوتہ سے علماء تھانہ بھون پہنچے اور ایک مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حافظ محمد ضامن، مولانا مظہر نانوتوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر شریک تھے۔ حاجی امداد اللہ کو امیر جہاد مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر استفتاء کیا گیا کہ جب انگریز دلی پر چڑھ آئے اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہوں تو جہاد فرض ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں مفتی صدر الدین، مولانا نذیر حسین اور دیگر سمیت پینتیس علماء نے دستخط کرکے فتویٰ دیا کہ اس شہر والوں پر جہاد فرض عین ہے اور اطراف والوں پر فرض کفایہ۔ یہ فتویٰ پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا اور پھر 26 جولائی 1857 کی اشاعت میں صادق الاخبار نے اسے نقل کیا۔ اسی فتوے کی بنیاد پر 14 ستمبر 1857 کو شاملی اور تھانہ بھون کی معرکہ آراء لڑائی لڑی گئی۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد علماء پر بے پناہ مظالم ہوئے اور انہیں مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑی۔

ایسے ہی مایوسی کے دور میں یکم نومبر 1858 کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلان عام معافی کے بعد سرسید احمد خان مسلمانوں کے تعلیمی لیڈر بن کر ابھرے۔ ان کا نقطہ نظر دارالعلوم دیوبند کے بالکل برعکس تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان انگریزوں کی مخالفت کرکے باعزت زندگی نہیں گزار سکتے۔ 28 دسمبر 1887 کو ایک بڑے مجمع میں انہوں نے تقریر کی جو 11 اور 12 جنوری 1888 کو اخبار پائینیر میں شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے، انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

اس تقریر کے پیچھے دراصل کانگریس کی بنیاد کا پس منظر تھا۔ یکم نومبر 1858 کے اعلان کے بعد جب انگریز حکام کے مظالم جاری رہے اور گورنروں اور وائسرائے تک شکایات بے اثر رہیں تو وائسرائے لارڈ ڈفرن نے کہا کہ انفرادی شکایات کے بجائے اجتماعی جماعت بناؤ۔ چنانچہ 28 دسمبر 1885 کو مسٹر اے او ہیوم کے ہاتھوں بمبئی میں کانگریس کی بنیاد رکھی گئی جس کے پہلے اجلاس میں اٹھہتر ممبر شریک ہوئے جن میں دو مسلمان بھی تھے۔ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے انگریزوں میں بے چینی پیدا ہوئی تو پرنسپل بیک اور دیگر انگریزوں نے انجمن محبان وطن یعنی انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن بنائی اور سرسید پر دباؤ ڈالا کہ وہ کانگریس کے انتہائی مخالف ہو جائیں۔ یہاں تک کہ چند علماء سے فتویٰ دلوایا گیا کہ کانگریس میں شرکت حرام اور پیٹریاٹک ایسوسی ایشن میں شرکت فرض ہے۔ سرسید نے 21 اگست 1888 کو نینی تال سے ایک عریضہ لکھا جس میں کہا کہ اگر کانگریس کے مقاصد پورے ہو گئے تو مسلمانوں کا حال یہودیوں سے بھی بدتر ہو جائے گا جن کے بارے میں خدا نے فرمایا "وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ"۔

اس پر علمائے حق نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ 1888 تک سرسید کی تحریک زوروں پر رہی تو مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود حسن دیوبند اور دیگر مدارس کے علماء نے اس کی مخالفت کی۔ اس سلسلے میں علمائے لدھیانہ مولانا محمد صاحب اور ان کے بھائیوں نے اطراف ہند سے فتاویٰ جمع کرکے رسالہ "نصرۃ الابرار" مرتب کیا۔ اس میں حضرت گنگوہی کا فتویٰ درج ہے جس میں پوچھا گیا تھا کہ نیشنل کانگریس جو ہندو مسلم سب کے دنیاوی مفاد کے لیے قائم ہوئی ہے اور کسی مذہب کو مضر بحث سے گریز کرتی ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں، اور سید احمد خان کی ایسوسی ایشن جس میں پانچ روپے ماہانہ چندہ مانگا جا رہا ہے اور جبراً لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں۔ حضرت گنگوہی نے جواب دیا کہ ہنود سے بلا ضرر دینی شرکت جائز ہے لیکن سید احمد سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے اگرچہ وہ خیر خواہی کا نام لیتا ہو کیونکہ اس کی شرکت اسلام کے لیے سم قاتل ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن نے 11 دسمبر 1888 کو اس فتوے کی تائید فرمائی۔

انگریزوں کی اسی زہریلی پالیسی کے تحت 1906 میں مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی۔ سید طفیل احمد منگلوری اپنی کتاب روشن مستقبل میں لکھتے ہیں کہ تقسیم بنگال کی تیاریوں کے ساتھ ہی کونسلوں میں حقوق دینے کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا۔ وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنل ڈنلپ اسمتھ نے ایک مضمون بناکر پرنسپل آرچ بولڈ کو دیا، آرچ بولڈ نے 6 جولائی 1906 کو نواب محسن الملک کو بھیجا اور نواب نے فوراً وائسرائے سے ملنے کے لیے وفد مرتب کیا۔ یکم اکتوبر 1906 کو آغا خان کی قیادت میں یہ وفد شملہ میں وائسرائے منٹو سے ملا اور 9 نومبر 1906 کو نواب سلیم اللہ خان نے "مسلم آل انڈیا کنفیڈریشن" کی تجویز دی۔ بالآخر 30 دسمبر 1906 کو نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی جس کے مقاصد میں برطانوی حکومت سے وفاداری اور غلط فہمیاں دور کرنا شامل تھا۔ اس کے قیام کی اطلاع تار کے ذریعے حکومت کو دی گئی۔ جب یہ خبر انگلستان پہنچی تو ٹائمز نے خوشی منائی کہ اب ہندستان میں صلح نہ رہے گی۔

مسلم لیگ کا پہلا مسلم مخالف کارنامہ 1916 میں سامنے آیا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں ہوئے۔ 29 دسمبر کو کانگریس نے اور 31 دسمبر کو جناح کی صدارت میں مسلم لیگ نے میثاق لکھنؤ منظور کیا جس میں پہلی بار فرقہ وارانہ بنیاد پر جداگانہ انتخاب اور مخصوص نمائندگی تسلیم کی گئی، پنجاب میں پچاس فیصد اور بنگال میں چالیس فیصد حالانکہ وہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ سید طفیل احمد لکھتے ہیں کہ یہ آئین امن عامہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اسی تسلسل میں 1930 میں ڈسٹرکٹ جج میرٹھ مسٹر پوڈن نے تقسیم کا تصور پیش کیا، 1931 میں اس کا خط منظر عام پر آیا اور چودھری رحمت علی نے اس کی تشہیر کی، بالآخر 22 اور 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی۔

اس کے متوازی 1914 سے 1920 تک کے واقعات نے ترک موالات کی بنیاد رکھی۔ 28 جولائی 1914 کو پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی، 2 نومبر 1914، 20 اپریل 1915 اور 5 جنوری 1916 کو برطانیہ نے خلافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی لیکن 30 اکتوبر 1918 کی عارضی صلح اور 10 اگست 1920 کے معاہدہ سیورے نے خلافت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ادھر ہندستانیوں سے سوراج کا وعدہ کرکے 18 اگست 1917 کے خود اختیاری کے وعدے کے برخلاف 18 جنوری 1919 کو رولٹ بل پیش کیا گیا اور 19 مارچ 1919 کو رولٹ ایکٹ منظور ہوا۔ اس کے خلاف گاندھی جی نے 30 مارچ اور 6 اپریل 1919 کو ملک گیر ہڑتال کی اور 13 اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ میں نہتے مجمع پر فائرنگ ہوئی۔ خلافت کی بندر بانٹ کی خبروں پر 18 ستمبر 1919 کو لکھنؤ اجلاس میں ترک موالات کی تجویز آئی اور 17 اکتوبر 1919 کو ملک گیر احتجاج ہوا۔ 3 نومبر 1919 کو دہلی میں گاندھی جی نے تحریک خلافت کی حمایت کی اور 23 اور 24 نومبر 1919 کی دہلی خلافت کانفرنس میں جشن فتح کے بائیکاٹ اور عدم تعاون کا فتویٰ دیا گیا۔ اسی موقع پر 23 نومبر 1919 بروز اتوار بعد نماز عشاء جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی جس نے 6 ستمبر 1920 کو کلکتہ میں ترک موالات کی تجویز منظور کی اور 8 ستمبر 1920 کو ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد کے مرتب کردہ فتوے پر چار سو چوہتر علماء نے دستخط کیے۔

جمعیت کا دوسرا سالانہ اجلاس 19، 20، 21 نومبر 1920 کو ہوا۔ اس کی دو سالہ روداد میں پہلے ناظم مولانا عبدالحلیم صدیقی نے لکھا کہ علماء کا فرض صرف فقہی حکم بیان کرنا نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والی طاقت پیدا کرنا بھی ہے اور اس کے لیے کامل آزادی شرط ہے۔ آزادی ہی تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور غلام قوم کے لیے کوئی نیکی نیکی نہیں۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی بے شک اسلامی اصطلاح نہیں اور شاید یورپ سے لی گئی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج ہے۔ جو ملک ایک بار مسلمانوں کے جھنڈے تلے آ جائے اس کا ایک چپہ بھی کفار لینا چاہیں تو شرق سے غرب تک کل اہل اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد تیسرے اجلاس 18، 19، 20 نومبر 1921 میں اعلان کیا گیا کہ ہندستان کو غلامی سے آزاد کرانا مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ چوتھے اجلاس 24 تا 26 دسمبر 1922 میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فرمایا کہ جمعیت کا نصب العین دو حصوں میں ہے، اندرون ملک مذہبی رہنمائی اور بیرون ملک مذہبی تعلقات کا تحفظ، اور دونوں آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ پانچویں اجلاس 29 دسمبر 1923 تا یکم جنوری 1924 میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے مسلمانوں کے بارہ فرائض گنوائے جن میں سے تیسرا ہندستان کو آزاد کرانا تھا۔ انہوں نے قرآن کی آیات "وقاتلوا فی سبیل اللہ" اور "واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ" سے استدلال کیا کہ اس حکومت سے مقابلہ فرض ہے اور ہندستان کی آزادی انگلستان کی موت کے مترادف ہے۔

اسی دوران جہاد آزادی میں غیر مسلموں کے تعاون کا مسئلہ سامنے آیا۔ فخر المحدثین مولانا انور شاہ کشمیری نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ہندستان نہ دارالاسلام ہے کہ غیر مسلموں سے تعاون لینا ناجائز ہو اور نہ دارالکفر ہے کہ مسلمانوں کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ یہ دارالامان ہے۔ چنانچہ انہوں نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کو منعقد آٹھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ شاہ عبدالعزیز نے جب اسلامیت کا رنگ گہرا تھا تب اسے دارالاسلام نہیں کہا تو آج بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اس لیے دارالامان کے احکام تلاش کرکے رہنمائی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میثاق مدینہ کی طرف توجہ دلائی۔ اسی نظریے کی بنیاد پر 4، 5، 6 مئی 1930 کو نویں اجلاس میں کانگریس کے ساتھ جمہوریت کے نفاذ کی شرط پر اشتراک عمل کیا گیا۔

متحدہ قومیت اور دو قومی نظریہ کا فرق اسی پس منظر میں واضح ہوتا ہے۔ ہندستان میں صدیوں تک متحدہ قومیت کا تصور رائج رہا لیکن 1867 میں اردو ہندی تنازع پر سرسید احمد خان نے کہا کہ ہندو مسلم ایک قوم نہیں بن سکتے۔ بعد میں علامہ اقبال نے 29 دسمبر 1930 کو الہ آباد میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل خود مختار ریاست کی تجویز دی اور چودھری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو کیمبرج سے "Now or Never" پمفلٹ میں اسے پاکستان کا نام دیا۔ اس کے برعکس جمعیت کا متحدہ قومیت کا تصور 19 تا 21 نومبر 1920 کے صدارتی خطاب اور 29 دسمبر 1923 کی تجویز نمبر پانچ میں موجود ہے۔ یہ خیال کہ متحدہ قومیت کا پہلا تصور حضرت مدنی کا ہے درست نہیں، البتہ اس پر بحث کا دروازہ حضرت مدنی کے خطاب کے بعد ہی کھلا۔

واقعہ یہ ہوا کہ 7 جنوری 1938 کی شب باڑہ ہندو راؤ دہلی میں حضرت مدنی کی تقریر ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ بعض اخبارات جیسے ہفت روزہ انصاری 8 جنوری 1938 اور روزنامہ تیج اور پھر احسان 31 جنوری 1938 نے اسے سیاق سے کاٹ کر "اقوام وطن سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں" بنا کر پیش کیا۔ اس پر علامہ اقبال نے 3 فروری 1938 کو قطعہ کہا۔ حضرت مدنی نے 9 فروری 1938 کو مولوی عبدالرشید نسیم طالوت کو خط میں وضاحت کی کہ انہوں نے قومیت کا لفظ استعمال کیا تھا ملت کا نہیں، ملت کے معنی شریعت کے ہیں اور قوم کے معنی افراد کی جماعت کے۔ 10 فروری کو اقبال نے جواب دیا کہ اگر یہ بیان واقعہ ہے تو اعتراض نہیں لیکن اگر مشورہ ہے تو اسلام کے منافی ہے۔ حضرت مدنی نے 26 فروری کو دوسرا خط لکھ کر کہا کہ یہ خبر تھی انشاء نہیں۔ 28 مارچ 1938 کو احسان میں اقبال کا تردیدی بیان شائع ہوا کہ اب اعتراض باقی نہیں۔ بعد میں حضرت مدنی نے کتاب "متحدہ قومیت اور اسلام" میں اس کی تفصیل لکھی کہ میثاق مدینہ کی طرز پر ہندستان کے تمام باشندے ہم وطن ہونے کی حیثیت سے ایک قوم بن کر انگریز کے خلاف متحد ہوں جبکہ ہر مذہب اپنے عقائد میں آزاد رہے۔ اسی سال اگست 1938 میں جون پور کانفرنس اور 7، 8، 9 جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ ہم باشندگان ہند بحیثیت ہندستانی ایک اشتراک رکھتے ہیں جو مذہبی اختلاف کے باوجود باقی رہتا ہے جیسے آگ لگنے پر سارے گاؤں والے مل کر بجھاتے ہیں۔

قومیت و وطنیت پر دیگر اکابر نے بھی روشنی ڈالی۔ 11 تا 16 جنوری 1925 کے چھٹے اجلاس میں مولانا محمد سجاد نے وطنی فدویت کو مہلک مرض کہا اور فرمایا اسلامی قومیت کی بنیاد کلمہ لا الہ الا اللہ پر ہے، جغرافیہ پر نہیں۔ 11 تا 14 مارچ 1926 کے ساتویں اجلاس میں مولانا سید سلیمان ندوی نے فرمایا کہ یورپی طرز کی قوم پرستی نسل، وطن اور زبان کی بنیاد پر جاہلیت کی عصبیت ہے جسے اسلام نے ختم کیا، لیکن وطن سے محبت اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر مسلمان کا فرض ہے جیسے صحابہ نے حبشہ میں نجاشی کے دفاع میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پین اسلامزم اور نیشنلزم ایک ساتھ ممکن ہیں جیسے اہل یورپ اپنی قومیت کے ساتھ پورے یورپ سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ اپریل 1930 میں میرٹھ کے بیس ہزار کے اجتماع میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ تمہارا مذہب انگریز اور ہندو دونوں سے الگ ہے لیکن قومیت اور وطن میں تم ہندو کے شریک ہو، انگریز تمہارا ہم وطن نہیں۔ 3 تا 6 مارچ 1939 کے گیارھویں اجلاس میں مولانا سید عبدالحق مدنی نے کہا کہ ہم اس کے حامی ہیں کہ ہندستان کے تمام باشندے بیرونی اقوام کے مقابلے میں ہندستانی کہلائیں اور یہی متحدہ قومیت ہے لیکن ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد پر اثر ڈالے۔

اس کے مقابلے میں ہندو نظریہ میں قومیت کا کوئی مذہبی تصور نہیں ملتا، البتہ ساورکر کے یہاں راشٹر کی تعریف موجود ہے۔ اپنی کتاب Essentials of Hindutva 1923 میں ساورکر نے لکھا کہ ہندو وہ ہے جو سندھ سے سمندر تک کی بھومی کو پتر بھومی اور پنیہ بھومی دونوں مانتا ہو۔ اس معیار پر مسلمانوں کے لیے ہندستان پتر بھومی تو ہے لیکن پنیہ بھومی نہیں کیونکہ ان کی مقدس سرزمین مکہ ہے۔ Hindu Rashtra Darshan میں انہوں نے کہا کہ ہندودم مشترک تہذیب، زبان، تاریخ اور آبائی وطن سے بندھا ہے۔ 1937 میں احمد آباد ہندو مہاسبھا کے انیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ہندستان یک جہتی قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں ہندو اور مسلم، یہ اعلان مسلم لیگ کی قرارداد پاکستان سے تین سال پہلے ہوا تاہم وہ تقسیم کے حامی نہیں تھے بلکہ ایک اٹوٹ ہندستان میں ہندو قوم کو فیصلہ کن بنانا چاہتے تھے۔ فرق واضح ہے کہ علاقائی قومیت میں ہر شخص محض وطن کی بنیاد پر قوم کا حصہ ہے جبکہ ساورکر کے نزدیک تاریخ، تہذیب اور پنیہ بھومی بھی شرط ہے۔ اس کے برعکس جمعیت کا نظریہ شہریت اور مشترک وطن پر مبنی شمولیتی قومیت کا ہے۔

اسی طرح گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood Defined 1939 میں قوم کے لیے پانچ وحدتیں بیان کیں۔ ملک، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان۔ ان کے نزدیک جو ان پانچ ہندو عناصر سے باہر ہیں وہ اپنی جدا شناخت چھوڑ کر ہی قومی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی کتاب کے صفحہ 18، 40 سے 46 اور 130 پر انہوں نے لکھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان راتوں رات دیش بھکت نہیں بن گئے بلکہ خطرہ سو گنا بڑھ گیا ہے۔

پھر دوسری جنگ عظیم کا زمانہ آیا۔ 3 ستمبر 1939 کو جنگ شروع ہوئی اور برطانیہ نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر ہند کو جنگ میں شامل کر دیا۔ 14 ستمبر 1939 کو کانگریس اور 16 تا 18 ستمبر 1939 کو جمعیت نے شرکت سے انکار کیا۔ حکومت نے 17 اکتوبر 1939 کو وائسرائے کی کونسل میں توسیع کی پیشکش کی اور 18 اکتوبر کو انڈیا ایکٹ 1935 پر نظر ثانی کا اعلان کیا لیکن دونوں نے مسترد کر دیا۔ اسی دوران مسلم لیگ نے 27 اگست 1939، 17، 18، 22 اکتوبر 1939 اور 3 فروری 1940 کی قراردادوں میں وفاق کی مخالفت کی اور 13 فروری 1940 کو جناح نے وائسرائے سے ملاقات کرکے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد لاہور منظور کرائی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے 3 اور 4 مارچ 1940 کو دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا جو 27 تا 30 اپریل 1940 کو منعقد ہوئی اور اعلان کیا کہ ہندستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ ایک متحدہ ملک ہے جو تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس کے چپے چپے میں مسلمانوں کی ملکیت اور شعائر موجود ہیں۔ اس کی تجویز نمبر چھ میں کہا گیا کہ ہندستان کو ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان میں تقسیم کرنا ناقابل عمل اور مسلمانوں کے لیے مضر ہے اور اس سے برطانوی سامراج کو فائدہ پہنچے گا۔

پاکستان کی شرعی حیثیت پر بھی دو موقف سامنے آئے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم لیگ کی اصلاح کی شرط پر حمایت کی، مولانا مفتی محمد شفیع نے 1945 میں رسالہ "کانگریس اور مسلم لیگ کے متعلق شرعی فیصلہ" لکھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ پاکستان ایک ابتدائی قدم ہے جو قرآنی حکومت پر منتہی ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ کے قائدین کے بیانات اس سے مختلف تھے۔ 11 نومبر 1945 کے اخبار منشور میں جناح نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی، ایک پارٹی کی حکومت نہیں ہوگی، اقلیتوں کو حکومت میں مناسب نمائندگی دی جائے گی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ حکومت مسلمانوں کی ہوگی۔ مورخ ملت مولانا محمد میاں نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا اسلامی حکومت جمہوری تعریف میں آتی ہے۔

تقسیم کے بعد جب 14 اگست 1947 کو پاکستان بنا تو بعض علماء نے ہجرت کو فرض کہا اور تقریباً دو کروڑ انسان متاثر ہوئے۔ لیکن جمعیت نے تو 2 تا 5 دسمبر 1927 کو ہی انگریزی دور میں ہندستان کو دارالامان کہا تھا تو آزادی کے بعد بدرجہ اولیٰ دارالامان تھا۔ اس لیے اس کے سامنے ہجرت کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ حضرت سید الملت نے لکھا کہ جن کے سامنے نہ موت کا سوال تھا نہ ارتداد کا پھر بھی انہوں نے روزگار، عزت، بچوں کا مستقبل اور خوف کی وجہ سے وطن چھوڑا تو یہ شرعی ہجرت نہیں بلکہ طلب دنیا ہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے 24 اکتوبر 1947 کو جامع مسجد دہلی سے خطاب میں فرمایا کہ یہ فرار کی زندگی جسے تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے اس پر غور کرو، مسجد کے مینار تم سے سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کو کہاں گم کر دیا، کل جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف آتا ہے حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔

اس کے بعد فرقہ پرستوں نے ایک اور دلیل پیش کی کہ 1945 اور 1946 کے تین انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ دسمبر 1945 کے مرکزی انتخابات میں 30 مسلم نشستیں، جنوری تا فروری 1946 کے صوبائی انتخابات میں 509 میں سے 425 نشستیں یعنی 83.5 فیصد، اور جولائی 1946 کی قانون ساز اسمبلی میں 73 نشستیں مسلم لیگ نے جیتیں۔ اس لیے اب ہندستان میں مسلمانوں کا مساوی شہری حقوق کا مطالبہ بے بنیاد ہے۔

اس کا پہلا جواب انتخابی نظام کے جائزے میں ہے۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت ہوئے جو ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر نہیں تھے۔ ووٹ کا حق صرف جائیداد، ٹیکس، تعلیم اور آمدنی کی سخت شرائط پر ملتا تھا جو زمینداروں، وکیلوں اور اعلیٰ ملازمین تک محدود تھا۔ عام کسان، مزدور اور خواتین محروم تھیں۔ اس وقت کل مسلم آبادی تقریباً 9 کروڑ تھی، قانونی اہل ووٹر تقریباً 90 لاکھ یعنی دس فیصد، اور بالفعل ووٹ ڈالنے والے تقریباً 60 لاکھ یعنی 6.6 فیصد۔ نوے فیصد آبادی پہلے ہی حق سے محروم تھی۔ اس لیے 6 سے 7 فیصد کی رائے کو 9 کروڑ کا اجتماعی فیصلہ کہنا تاریخی اور ریاضیاتی بددیانتی ہے۔ دوسرے جدید جمہوری ریاست میں حقوق کی بنیاد آئین، قانون کی حکمرانی اور مساوات پر ہوتی ہے نہ کہ 80 سال پرانے غیر مساوی انتخاب پر۔

دوسرا جواب جمعیت کی تاریخ سے ہے۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جبکہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی۔ اس لیے پاکستان کا نام لے کر ہندستانی مسلمانوں کو مشکوک بنانا فکری دہشت گردی ہے۔

وفاداری کے مسئلے پر بھی جمعیت کا موقف دو ٹوک رہا ہے۔ اسلام میں معاہدے کی پابندی مذہبی حکم ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کے صدارتی خطبے میں قرآن کی آیات "الا الذین عاہدتم من المشرکین" اور "فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم" سے استدلال کرکے کہا کہ اگر برادران وطن مسلمانوں سے منصفانہ معاہدہ کرلیں تو مسلمانوں کو پورا وفادار پائیں گے۔ 27، 28 دسمبر 1947 کی آزاد کانفرنس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ ہم اس ملک کے باشندے اور وفادار ہیں، اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا تو مسلمان سب سے پہلے دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حکام مسلمانوں کو پانچواں کالم کہتے ہیں یہ غلط ہے، ہم اس ملک کو اسی طرح اپنا وطن سمجھتے ہیں جس طرح ہندو۔ وفاداری کا مطالبہ تو اس وقت ہوتا ہے جب معاملہ غیر ملکی سے ہو۔

تقسیم کے بعد جب وفاداری کے سوال نے زور پکڑا تو شیخ الاسلام حضرت مدنی نے دیوبند کی جامع مسجد سے فرمایا کہ اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے آئندہ بھی سینچنے کا عزم رکھو، یہی حقیقی وفاداری ہے۔ یہ ثابت کرنا وزراء کا فرض ہے کہ وہ عوام کے وفادار ہیں، ہم کو ان سے باز پرس کا حق ہے پھر اس غلامانہ اظہار وفاداری کا کیا مطلب۔ انہوں نے سوال کیا کہ بہار، گڑھ مکتسر اور یوپی میں جو دکھ اٹھائے وہ کس غداری کا نتیجہ تھے، دہلی اور مشرقی پنجاب کی تباہی کس بے وفائی کا صلہ تھی، کلکتہ، نواکھالی، مغربی پنجاب میں ہندو سکھوں نے جو مصائب برداشت کیے وہ کس جرم کی سزا تھے۔ چالیس کروڑ میں سے دس فیصد کو ہی ووٹ کا حق تھا، دس کروڑ میں سے ایک کروڑ، اور اس میں سے بھی ساڑھے چار لاکھ ووٹ تقسیم کے حق میں پڑے یعنی ساڑھے چار فیصد، اس کو پوری قوم پر کیسے تھوپا جا سکتا ہے۔

26، 27، 28 اپریل 1948 کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ جو اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے وہ چلے جائیں، بحری بری ہوائی راستے کھلے ہیں، میں جان بوجھ کر وفاداری کا لفظ استعمال نہیں کر رہا کیونکہ اپنا ملک ہے تو ثبوت کس کے سامنے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ بلا شبہ جو پاکستان کی طرف تکتے ہیں وہ چلے جائیں لیکن چار کروڑ مسلمان غدار نہیں، جس طرح جنگ میں جرمن عوام کو ہٹلر ازم کا حامی ہونے کے باوجود مٹایا نہیں گیا بلکہ کہا گیا کہ خطا لیڈرشپ کی ہے، اسی طرح لیگ کے حامی عوام کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ وفاداری ڈرانے سے نہیں پریم اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔

27 تا 29 اپریل 1951 کے سترھویں اجلاس میں صدر استقبالیہ مقصود بن منصور مراد آبادی نے کہا کہ وفاداری کا سوال ملک اور دستور سے ہوتا ہے، میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم اپنے ملک اور دستور کے وفادار ہیں اور ہر اس حکومت کے وفادار رہیں گے جو دستور پر پورا عمل کرے۔ مسلمانوں کو حجاز، ایران، شام سے بھی ہمدردی ہے تو کیا اس کا مطلب غداری ہے، خود حکومت ہند کو پاکستان سے ہمدردی ہے، وفود جاتے ہیں تو کیا وہ غدار ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ غداری افراد میں ہو سکتی ہے جماعت غدار نہیں ہو سکتی، پاکستان کی طرف نظر اٹھانا اگر غداری ہے تو مہاتما گاندھی کے سینے میں گولی مارنا بھی کم غداری نہیں۔

9، 10، 11 دسمبر 1960 کے بیسویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ اگر کسی کو پنڈت نہرو سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں، ہندو مسلم سکھ سب ہندستان کے جسم کے ٹکڑے ہیں ناخن میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو ہوتی ہے۔ 15 تا 17 اپریل 1966 کے بائیسویں اجلاس میں مولانا سید فخرالدین احمد صدر جمعیت نے کہا کہ حفاظت وطن کے دعوے دار پریشان تھے کہ چھ کروڑ مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا لیکن بریگیڈیئر عبدالحمید اور ان کے ساتھیوں نے عمل سے بتا دیا۔ اب بھی وفاداری کا مطالبہ دستور کے احترام کو پامال کرنا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا شاہد فاخری نے کہا کہ ہماری وفاداری زمین اور ملک سے ہے پارٹی سے نہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ 14، 15 جنوری 1983 کی مجلس منتظمہ میں یوپی کے وزیر اوقاف محمد امین انصاری نے کہا کہ حب الوطنی ہمارا ایمان ہے، مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالرحمان انتولے نے کہا کہ ان کی وفاداری پر شیطان بھی شک نہیں کر سکتا۔ 25، 26 جنوری 1991 کے کل ہند اجتماع میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلمان کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہ لیں۔ 29 اکتوبر 1995 کے پچیسویں اجلاس میں جسٹس سردار علی خان نے کہا کہ اس ہندستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا، وزیر فلاح و بہبود سیتا رام کیسری نے کہا کہ کروڑوں مسلمانوں نے موت کے سائے میں ہندستان میں رہنا پسند کیا، اگر ان کی وفاداری پر شک ہے تو شک کرنے والوں کی وفاداری پر مجھے شک ہے۔ اسی اجلاس میں حق شہریت کی تجویز منظور ہوئی جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کا جذبہ وفاداری مذہبی فریضہ ہے، آزادی کے بعد نصف صدی میں ایک مسلمان بھی جاسوسی میں نہیں پکڑا گیا، چین اور پاکستان کی جنگوں میں روشن کردار پیش کیا، اس کے باوجود بنگلہ دیشی دراندازی کا ہوا کھڑا کرکے ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جا رہے ہیں اور شہریت کے ثبوت کے لیے ایسے کاغذات مانگے جا رہے ہیں جو وزراء کے لیے بھی آسان نہیں۔

16، 17 دسمبر 1998 کی مجلس عاملہ نے دینی مدارس اور مساجد کے خلاف مہم کو تشویش کی نظر سے دیکھا۔ 6 جون 1999 کے اقلیتی کنونشن میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان ایک ہزار سال سے یہاں رہ رہے ہیں حاکم بھی رہے اور محکوم بھی لیکن ہمیشہ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔ 25 مارچ 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے آر ایس ایس سربراہ کے ایس سدرشن کے بیان کہ مسلمان ہندستان کو اپنا ملک سمجھیں کو کھلی شرارت کہا۔ 13 تا 15 اکتوبر 2000 کو آگرہ میں آر ایس ایس کی راشٹریہ سرکشا مہاشور کے بعد 17 اکتوبر 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ آر ایس ایس کو اقلیتوں سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں، وہ خود مین اسٹریم سے باہر رہی ہے، بتایا جائے وہ قومی دھارا کہاں بہہ رہا ہے۔ 21 جون 2002 کی مشاورتی میٹنگ کے میمورنڈم میں کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر وفاداری پر انگلی اٹھانا قومی عداوت کے مترادف ہے۔ 9 مارچ 2003 کے ستائیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے میں مولانا اسعد مدنی نے گولوالکر کے الزام کہ مسلمانوں کی وفاداریاں باہر ہیں اور ان کی آبادی گیارہ سے بائیس فیصد ہو گئی ہے کا جواب دیا کہ سرکاری رپورٹ میں آج بھی بارہ فیصد ہے، یہ جھوٹ اقلیتوں کے خلاف ماحول بنانے کے لیے ہے۔

20، 21 اگست 2006 کی علماء کانفرنس میں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے رحمان نے کہا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ 15 ستمبر 2006 کی پریس کانفرنس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ وندے ماترم کو وفاداری سے جوڑنا ملک کو برباد کرنے کی سازش ہے، ٹیگور اور لوہیا نے بھی مانا ہے کہ یہ مسلمانوں کے عقیدے سے ٹکراتا ہے، سپریم کورٹ نے جن گن من کے نہ گانے کو جرم نہیں ٹھہرایا تو وندے ماترم جس کی دستوری حیثیت ہی نہیں اسے کیوں وفاداری کا ثبوت بنایا جا رہا ہے، ملک ہمارے لیے پیارا ہے قابل عبادت نہیں۔ 10 ستمبر 2007 کو انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بعد بلا تحقیق مسلمانوں پر انگلی اٹھانا بند ہونا چاہیے۔ 31 مئی 2008 کی دہشت گردی مخالف امن کانفرنس میں دہلی گردوارہ کمیٹی کے پرم جیت سنگھ سرنا نے کہا کہ ہم خود 1984 میں اس دور سے گزرے ہیں، ہمیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ ہم وفادار ہیں، بدعنوانی دوسرے کریں اور صفائی ہم دیں۔ 9 نومبر 2008 کے انتیسویں اجلاس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں، ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہیے بلکہ وسائل میں ہمارا حق دیا جائے۔ 14 فروری 2009 کی امن کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اس ملک کے معمار ہیں، اس ملک کے مالک ہیں کرایہ دار نہیں۔ 3 نومبر 2009 کے تیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ یاد رکھو تم اس ملک کے حصہ دار ہو کرایہ دار نہیں، میں جب دنیا کے کسی حصے سے ہندستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو لمبی سانس لیتا ہوں جو خوشبو یہاں ملتی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔ اسی اجلاس میں سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مسلمانوں کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، جمعیت کی قربانی خود سرٹیفکیٹ ہے۔ 15 فروری 2019 کو بنارس میں مولانا حبیب الرحمان اعظمی کی خدمات پر سیمینار میں ناظم عمومی مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم ان کے نام لیوا ہیں جنہوں نے مذہب کے نام پر تقسیم کی مخالفت کی تھی اور اپنی مرضی سے اس ملک میں رہنا پسند کیا، ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، بدقسمتی سے ہماری قوم ستر سال سے صفائی دیتی آ رہی ہے۔ 25 ستمبر 2022 کے دھرم سنسد میں پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندستان میرا ماتر بھومی بھی ہے اور پتر بھومی بھی کیونکہ ابوالبشر آدم پر پیغام حق سب سے پہلے اسی سرزمین پر نازل ہوا۔ 12 فروری 2023 کے چونتیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے "بھارت ہمارا وطن" میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ بھارت ہمارا وطن ہے جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے اتنا ہی محمود کا ہے، نہ محمود ایک انچ آگے ہے نہ وہ ایک انچ پیچھے، یہ دھرتی اسلام کی جائے پیدائش اور مسلمانوں کا پہلا وطن ہے اس لیے اسلام کو باہر سے آیا ہوا کہنا تاریخی طور پر بے بنیاد ہے۔ بھارت ہندی مسلمانوں کے لیے وطنی اور دینی دونوں حیثیتوں سے سب سے اچھی جگہ ہے لیکن اس کے لیے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور اس کے چار ستون مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا درست ہونا ضروری ہے۔ اسی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ مذہبی منافرت وطن کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔

آخر میں 29 نومبر 2025 کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس میں نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری نے حکومت کے دوہرے رویے پر کہا کہ ہم مدارس اور تمام مسلمانوں کی طرف سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم ملک سے غداری کرنے والوں کے ساتھ کبھی نہیں، ملک سے وفاداری ہمارے مذہب کا حکم ہے، معاہدوں کی پابندی ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ لیکن ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح ایک مسلمان کے مشتبہ ہونے پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے اپنے ہم مذہب بھائی کی بھی اسی طرح تحقیق کریں اور مجرم کو قرار واقعی سزا دیں۔

 یوں یہ طویل تاریخی سفر اس نتیجے پر منتہی ہوتا ہے کہ ہندستان کی آزادی سے پہلے اس کی شرعی حیثیت پر بحث تو ہوئی لیکن اس کے باشندے ہونے پر کوئی سوال نہ تھا، آزادی کے بعد وفاداری کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ حقیقت میں جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں مسلمانوں نے ہمیشہ متحدہ قومیت، آئین اور جمہوریت کی بنیاد پر وطن کی آزادی اور حفاظت کو اپنا مذہبی اور وطنی فریضہ سمجھا ہے اور اسی بنیاد پر وہ آج بھی اپنے آپ کو اس ملک کا برابر کا حصہ دار سمجھتے ہیں نہ کہ کرایہ دار۔