25 Sept 2026

حیدرآباد اور جمعیت علمائے ہند

 حیدرآباد اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

آزادی ہند کے وقت برطانوی ہندستان میں تقریباً 565/ریاستیں تھیں، جن میں بیشتر نے 1947ئ اور 1948ئ کے دوران ہندستان، یا پاکستان سے الحاق کیا، لیکن حیدرآباد کی صورتِ حال مختلف رہی۔ نظام میر عثمان علی خان آصف جاہ ہفتم نے 15/اگست 1947ئ کو ہندستان میں شامل ہونے کے بجائے اپنی الگ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی اور نومبر1947ئ میں ہندستان سے اسٹینڈ اسٹل معاہدہ کیا، مگر مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد 13/ستمبر 1948ئ کو ہندستانی فوج نے ’’آپریشن پولو‘‘ شروع کیا اور 17/ستمبر 1948ئ کو نظام نے جنگ بندی اور ہندستان سے الحاق قبول کرلیا۔ اس پورے دور میں جمعیت علمائے ہند نے حیدرآباد کے سیاسی، انتظامی اور فرقہ وارانہ مسائل پر مسلسل اپنا موقف ظاہر کیا۔

حیدرآباد سے متعلق جمعیت کی سرگرمیوں کا ایک اہم موضوع برار کی واپسی تھا۔ 1853ئ میں نظام اور برطانوی حکومت کے معاہدے کے تحت برار کا انتظام برطانوی حکومت کے سپرد ہوا، جب کہ 1860ئ کے معاہدے میں یہ صورت برقرار رہی۔ 1902ئ میں برار کو سالانہ 25/ لاکھ روپے کے عوض مستقل لیز پر برطانوی حکومت کو دے دیا گیا اور یکم اکتوبر 1903ئ سے اسے مرکزی صوبہ جات کے چیف کمشنر کے تحت کردیا گیا۔ اواخر 1923ئ میں نظام نے وائسرائے ہند کو خط لکھ کر برار کی واپسی اور تنازع کے لیے کمیشن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔

11 تا 16/جنوری 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے چھٹے اجلاس عام کی تجویز نمبر 10 میں نظام کے برار کی واپسی کے مطالبے کو حق و انصاف پر مبنی قرار دیا گیا اور ہندستانیوں سے اس کی حمایت کی توقع ظاہر کی گئی۔ برطانوی حکومت نے تاہم یہ موقف اختیار کیا کہ برار واپس کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

برار کے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مخالفت بھی جمعیت نے کی۔ 13/فروری 1933ئ کے سہ روزہ الجمعیۃ میں بعض ہندو اخبارات کی اس مخالفت کا ذکر کیا گیا، جو حیدرآباد کے مسلم ریاست ہونے کی بنیاد پر برار کی واپسی کے خلاف تھے۔ 10/مارچ 1933ئ کو کرنجہ کے مسلمانوں نے ایک عام جلسے میں برار کی واپسی کا مطالبہ کیا۔اس کے باوجود 25/مارچ 1933ئ کو برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ برار نظام کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ بعد میں 5/ اپریل 1933ئ کو بعض شرائط کے ساتھ برار نظام کے حوالے کردیا گیا۔

نظام کے وقار اور اختیارات کے تحفظ کے سلسلے میں 20/دسمبر 1929ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے وائسرائے لارڈ ارون کو برقی پیغام بھیجا، جس میں امید ظاہر کی گئی کہ برطانوی حکومت نظام کے قدیم وقار اور اختیارات کے استحکام کا باعث بنے گی۔

4/جون 1933ئ کو جامع مسجد دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں ریزیڈنسی بازار کی واپسی پر نظام کو مبارک باد دی گئی۔ مولانا احمد سعیدؒ نے اپنے خطاب میں حیدرآباد اور برطانوی حکومت کے تاریخی تعلقات، ریاستی اختیارات میں برطانوی مداخلت اور ریزیڈنسی بازار کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔ انھوںنے نظام کے اصلاحی و مذہبی اقدامات کی بھی تحسین کی۔

1939ئ میں حیدرآباد کے خلاف فرقہ وارانہ تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ 5/جنوری 1939ئ کے سہ روزہ الجمعیۃ نے آریہ سماج کے ایک اشتعال انگیز پمفلٹ کی نشاندہی کی۔ 22/ جنوری 1939ئ کو ’’یوم حیدرآباد‘‘ کے موقع پر دہلی میں جلوس کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور مسجد کے قریب تنازع پیدا ہوکر تشدد کی صورت اختیار کرگیا۔اس پر مولانا احمد سعیدؒ نے 13/فروری 1939ئ کو بیان دیتے ہوئے حیدرآباد مخالف تحریک کو فرقہ وارانہ منافرت کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ اگر مقصد حقیقی سیاسی اصلاح اور تمام باشندوں کے مساوی حقوق ہوتے تو اس کی حمایت کی جاسکتی تھی، لیکن مذہبی اشتعال انگیزی ملک کے اتحاد اور امن کے لیے نقصان دہ ہے۔ بعد ازاں 3 تا 6/مارچ 1939ئ کے جمعیت علمائے ہند کے گیارھویں اجلاس عام کی تجویز نمبر 13 میں ہندو مہاسبھا اور آریہ سماج کی حیدرآباد مخالف فرقہ وارانہ تحریک کی مذمت کی گئی۔

آزادی کے بعد حیدرآباد کا مسئلہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا۔ 15/ستمبر 1948ئ کو جمعیت نے حکومت ہند کی کارروائی کو جائز قرار دیا اور 16/ستمبر 1948ئ کو مولانا احمد سعیدؒ، مولانا حفظ الرحمنؒ اور مولانا محمد میاںؒ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ حکومت ہند نے نظام کو مناسب شرائط پیش کی تھیں، جنھیں قبول کرلیا جاتا، تو حیدرآباد اور ہندستانی مسلمانوں دونوں کے لیے بہتر ہوتا۔ نظام کے مشیروں کو پیش کشیں مسترد کرانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوجی کارروائی کو حالات کے پیش نظر حق بجانب بتایا گیا۔ یہ بیان 18/ستمبر 1948ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔

19/ستمبر 1948ئ کو حیدرآباد کی فوج نے میجر جنرل جے این چودھری کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ۔ جمعیت کے ناظم عمومی مولانا حفظ الرحمنؒ نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ حیدرآباد کے باشندوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہ ہونے دی جائے اور تمام معاملات فرقہ واریت سے بلند ہوکر انجام دیے جائیں۔

اس تاریخی مرحلے کے اختتام پر 27/ستمبر 1948ئ کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان دعائیہ اجتماع منعقد ہوا، جس میں گورنر جنرل شری راج گوپال، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا احمد سعیدؒ، مولانا حفظ الرحمنؒ اور دیگر اکابر شریک ہوئے۔ مولانا احمد سعیدؒ نے حیدرآباد کے مسئلے کے حل پر اطمینان کا اظہار کیا، جب کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے امن، باہمی اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ ہند نے مسئلہ حل کرنے کے لیے طویل عرصے تک صبر و تحمل سے کام لیا اور نظام کو مناسب شرائط قبول کرنے کی متعدد بار دعوت دی۔ 

گورنر جنرل شری راج گوپال نے بھی اس موقع پر کہا کہ 15/اگست 1947ئ کے بعد حیدرآباد کا مسئلہ ہندستان کی جغرافیائی وحدت اور امن سے الگ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انھوں نے ہندستانی عوام کے ضبط و تحمل کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حیدرآباد میں ہندو، مسلمان اور سکھ باہمی اعتماد اور وفاداری کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

سقوطِ حیدرآباد کے بعد جمعیت علمائے ہند کی خدمات

حیدرآباد کے ہند یونین میں شامل ہونے کے بعد جمعیت علمائے ہند نے وہاں کے مسلمانوں کے درمیان امن، باہمی اعتماد، اتحاد اور بازآبادکاری کے لیے عملی جدوجہد جاری رکھی۔ 4/جنوری 1949ئ کو جمعیت کا چار رکنی وفد حیدرآباد پہنچا، جس میں مولانا محمد میاںؒ، مولانا بشیر احمد، مولانا نور الدین بہاری اور سید محمد جعفری شامل تھے۔ وفد نے مختلف علاقوں اور کیمپوں کا دورہ کیا، عوام کو ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے مشترکہ قومی ترقی کی طرف بڑھنے کا پیغام دیا اور ملٹری گورنر میجر جنرل چودھری سے ملاقات کرکے مسلمانوں کی مشکلات، ضروریات اور قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ پیش کیا۔ 16/جنوری 1949ئ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفد کی متعدد تجاویز پر حکام نے اتفاق کیا۔

جمعیت کی سالانہ کارگزاری رپورٹ، جو 16 تا 18 اپریل 1949ئ کے سولھویں اجلاس عام میں پیش ہوئی، میں بتایا گیا کہ 13/ستمبر 1948ئ کے پولیس ایکشن کے دوران اور اس کے بعد مبینہ بے اعتدالیوں کی اطلاعات ملتے ہی جمعیت نے گورنر جنرل، وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم اور دیگر ذمہ داران کو متوجہ کیا اور مولانا حفظ الرحمنؒ نے پنڈت جواہر لال نہرو سے ملاقات کرکے صورتِ حال کی تحقیق اور انسدادی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی سلسلے میں قاضی عبدالغفار اور پنڈت سندر لال کے وفود بھی حیدرآباد پہنچے۔ مقامی سطح پر جمعیت سے وابستہ افراد نے تنظیم قائم کرکے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جب کہ جمعیت کے وفد نے حیدرآباد، شولاپور، عثمان آباد اور گلبرگہ کے متاثرہ علاقوں میں ہندو مسلم مشترک ریلیف کمیٹیاں قائم کیں، حکام تک شکایات پہنچائیں اور بے گھر لوگوں کی واپسی و آبادکاری کی کوشش کی۔

حیدرآباد کے مسلمانوں کی طرف سے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے سامنے پیش کیے گئے ایک یادداشت میں قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ تفریق سے بلند ہوکر ملک کی خدمت، گرفتاریوں میں نرمی، خصوصی ٹربیونل کے بجائے عام عدالتوں میں مقدمات، جبری مذہبی تبدیلی، اغوا اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے خلاف کارروائی، مقامی حالات سے ناواقف بیرونی افسران کی تعیناتی پر نظرثانی اور تمام طبقات کے درمیان اعتماد و تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس یادداشت کا بنیادی مقصد ماضی کی تلخیوں سے نکل کر حیدرآباد میں ایک پُرامن اور مشترک قومی زندگی کی بنیاد مضبوط کرنا تھا۔

18/جنوری 1951ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ حیدرآباد پہنچے، تو اوقاف کے بہتر انتظام کا مطالبہ سامنے رکھا۔ اسی سال 27 تا 29/اپریل 1951ئ کو جمعیت علمائے ہند کا سترھواں اجلاس عام حیدرآباد میں منعقد ہوا، جس کا مقصد پولیس ایکشن کے بعد مسلمانوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی، ذہنی انتشار، معاشی پستی اور احساسِ کمتری کو ختم کرکے انھیں قومی زندگی میں مثبت کردار کے لیے تیار کرنا تھا۔ حیدرآباد کے وزیر اعلیٰ ایم کے ویلیڈی نے بھی اپنے پیغام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی گفتگو، برداشت اور تعلیمی ترقی کو ضروری قرار دیا اور جمعیت کے کردار کو اہم بتایا۔

اس اجلاس میں مولانا احمد سعیدؒ نے واضح کیا کہ جمعیت ’’رضاکار‘‘ یا ’’غیر رضاکار‘‘ اور مسلم لیگی، یا غیر مسلم لیگی کی تفریق سے بلند ہوکر سب کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ نے بھی مسلمانوں کو خوف کے بجائے اللہ پر توکل اور حوصلے کی تلقین کی۔ اجلاس نے اردو کو حیدرآباد کی علاقائی اور سرکاری زبان برقرار رکھنے اور عثمانیہ یونی ورسٹی کو اردو یونی ورسٹی کی حیثیت سے قائم رکھنے کے مطالبات کیے۔ 20/مئی 1951ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ نے پنڈت نہرو کو خط لکھ کر اجلاس کی قراردادیں بھیجیں، جن میں پولیس ایکشن کے بعد گرفتار قیدیوں اور نظربندوں کی رہائی، عثمانیہ یونی ورسٹی کا اردو تشخص برقرار رکھنے ، بے گھر افراد کی بازآبادکاری اور برطرف سرکاری و فوجی ملازمین کی بحالی، یا مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔

15، 16/اپریل 1952ئ کی مجلس عاملہ میں عثمانیہ یونی ورسٹی کے مستقبل پر غور ہوا اور مولانا ابوالکلام آزادؒ نے بتایا کہ اس معاملے پر مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان گفتگو جاری ہے۔ 28/ستمبر 1952ئ کو پنڈت نہرو اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے حیدرآباد دورے کے موقع پر جمعیت علمائے حیدرآباد کے وفد نے پولیس ایکشن کے بعد گرفتار مسلمانوں کی رہائی، مقدمات کی واپسی اور بے روزگار و بے گھر مسلمانوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ 11، 12/اکتوبر 1952ئ کی مجلس عاملہ نے جمعیت علمائے حیدرآباد کو تین ہزار روپے قرضِ حسنہ دینے کا فیصلہ کیا، جو 31/ جنوری 1953ئ تک واپس کیا جانا تھا۔ 28/فروری و یکم مارچ 1953ئ کی مجلس عاملہ میں مسلمانوں کی آبادکاری اور لائق علی کابینہ کے ارکان سمیت دیگر اسیروں کی رہائی کے مطالبات کی تجویز منظور کی گئی اور انھیں حکومت کوبھیجنے کا فیصلہ ہوا۔

6/اکتوبر 1953ئ کو جمعیت علمائے حیدرآباد کے وفد نے مرکزی وزیر داخلہ ڈاکٹر کیلاش ناتھ کاٹجو کو یادداشت پیش کرکے پولیس ایکشن سے متاثرہ مسلمانوں کی بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔ اگست 1954ئ میں گلبرگہ، نظام آباد اور دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران مولانا حفظ الرحمنؒ نے 28/اگست 1954ئ کو حکومتِ ہند کے ایک اعلیٰ اہل کار کو خط لکھ کر فوری کارروائی اور اقلیتوں میں اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 11، 13/فروری 1955ئ کی مجلس عاملہ میں حیدرآباد کی آبادکاری اور گزشتہ فسادات کے مسائل زیر بحث آئے۔ 5 /مئی 1955ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ نے مولانا ابوالکلام آزادؒ کو خط لکھ کر سرکاری رپورٹ میں فسادات کی ذمہ داری یک طرفہ طور پر مسلمانوں پر ڈالنے پر اعتراض کیا اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، ہندو و مسلم فرقہ پرست عناصر کے ساتھ یکساں طرزِ عمل اور حیدرآباد کے مسلمانوں کے لیے امن و اطمینان کی فضا پیدا کرنے پر زور دیا۔

22/جنوری 1960ئ کو مولانا حفظ الرحمنؒ نے حیدرآباد کے نظامی طبیہ کالج کی عمارت کو آیورویدک ادارے کے لیے خالی کرانے کے معاملے پر آندھرا کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر یونانی طب کے اس تاریخی ادارے اور اس کی عمارت کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ 13، 14/مئی 1967ئ کی مجلس عاملہ نے نظام آباد کے فرقہ وارانہ فساد پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومت سے فوری تدارک، مظلومین کو معاوضہ اور ذمہ دار حکام و مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

 اگست 1978ئ کے فساد کے بعد 30/اگست کو ناظم عمومی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، 2/ ستمبر کو پولیس کی ناکامی پر بیان دیا اور 24/ستمبر 1978ئ کو جمعیت کے وفد نے شریمتی اندرا گاندھی سے ملاقات کرکے نقصانات سے آگاہ کیا۔ 23، 24/ستمبر 1978ئ کی مجلس عاملہ نے عدالتی تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، مکمل معاوضے اور متاثرین کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ 24/نومبر 1979ئ کو ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمیؒ نے وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش کو تار بھیج کر فسادات کی تحقیقات اور امن کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ 16/جولائی 1981ئ کو جمعیت نے حیدرآباد اور گودھرا کے فسادات پر تشویش ظاہر کی، جب کہ 5/اگست 1981ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے حیدرآباد کے نومسلموں کے تحفظ اور فسادات کے ذمہ دار افسران سے بازپرس کا مطالبہ کیا۔ 10/اکتوبر 1983ئ کو وزیر داخلہ سے حیدرآباد کے فساد پر گفتگو کی گئی اور 31/جولائی 1984ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور آندھرا کے وزیر اعلیٰ کو تار بھیج کر امن و امان کی بحالی اور مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ 12/ستمبر 1984ئ کو مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ نے مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے یہی مسئلہ اٹھایا۔

9/ ستمبر 1984ئ کے حیدرآباد فساد کے بعد جمعیت نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ 16/ ستمبر 1984ئ کی مجلس عاملہ نے مظلومین کی امداد کے لیے ایک لاکھ روپے منظور کیے اور مرکزی ملی ریلیف کمیٹی آندھراپردیش قائم کی، جس کا مقصد امن و امان کی کوشش، امداد، ریلیف اور نقصانات کا سروے تھا۔ جمعیت نے حکومت سے اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ، مکمل معاوضے ، فساد کی سازش کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات، ذمہ دار افراد کی گرفتاری اور پولیس و مقامی حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یوں سقوطِ حیدرآباد کے بعد جمعیت علمائے ہند کی خدمات محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہیں؛ بلکہ اس نے امداد و بحالی، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی آبادکاری، ملازمین کی بحالی، اوقاف کے تحفظ، اردو زبان اور عثمانیہ یونی ورسٹی کے تشخص، اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ، فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات اور ہندو مسلم اعتماد کی بحالی کے لیے مسلسل عملی جدوجہد کی۔ حیدرآباد کے بدلتے ہوئے حالات میں جمعیت نے ہر مرحلے پر امن، انصاف، قومی یک جہتی اور تمام طبقات کے باہمی تعاون کو اپنی کوششوں کا بنیادی محور بنایا۔