20 Jul 2026

ترکی اور جمعیت علمائے ہند: تاریخی، سیاسی اور امدادی روابط

 خلاصہ

ترکی اور جمعیت علمائے ہند: تاریخی، سیاسی اور امدادی روابط

محمد یاسین جہازی

سلطنتِ عثمانیہ (ترکی) کئی صدیوں تک عالمِ اسلام کی سیاسی و دینی وحدت کی علامت اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس جیسے مقدس مقامات کی پاسبان رہی۔ یہی وجہ تھی کہ برصغیر کے مسلمان، برطانوی اقتدار کے ماتحت ہونے کے باوجود، عثمانی خلیفہ سے گہری قلبی اور دینی وابستگی رکھتے تھے اور خلافت کے تحفظ کو پوری امتِ مسلمہ کی عزت اور آزادی کا ضامن سمجھتے تھے۔ 28/جولائی 1914ئ کو جب پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی اور ترکی نے برطانیہ کے خلاف حصہ لیا، تو ہندستانی مسلمانوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ مسلمانوں کو اطمینان دلانے کے لیے برطانوی حکومت اور اس کے مدبرین نے 2/نومبر 1914ئ، 20/اپریل 1915ئ اور 5/جنوری 1916ئ کو باضابطہ اعلانات کے ذریعے یہ یقین دہانیاں کروائیں کہ مقدساتِ اسلام اور خلافت عثمانیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ان وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے تقریباً 11/لاکھ ہندستانی فوجیوں (جن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل تھی) نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی، جن میں 1916–1917ئ کے دوران ایک لاکھ تیرہ ہزار، 1917ئ میں دو لاکھ چوہتر ہزار اور 1918ئ میں تقریباً پانچ لاکھ مسلمان شامل تھے۔

تاہم، جنگ میں فتح کے بعد برطانیہ اپنے تمام وعدوں سے منحرف ہو گیا۔ 30/اکتوبر 1918ئ کو معاہدہ مدروس(Armistice of Mudros) اور بالخصوص 10/اگست 1920ئ کو معاہدہ¿ سیورے (Treaty of Sèvres) کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کر دیے گئے؛ عراق اور فلسطین برطانیہ کے اور شام و لبنان فرانس کے تحت چلے گئے، جب کہ استنبول (قسطنطنیہ) پر اتحادی افواج نے قبضہ کر لیا۔ اس عظیم وعدہ خلافی کے خلاف ہندستان میں ایک تاریخی بیداری پیدا ہوئی۔ 18/ستمبر 1919ئ کو آل انڈیا مسلم کانفرنس کے فیصلے کے تحت 17/اکتوبر 1919ئ کو ملک گیر ’’یومِ خلافت‘‘ منایا گیا۔ور 13/دسمبر 1919ئ کے سرکاری جشنِ فتح کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد 3/نومبر 1919ئ کے دہلی اجلاس میں مولانا حسرت موہانی، مہاتما گاندھی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ جیسے قائدین نے برطانوی جشنِ فتح کا بائیکاٹ کرنے اور فتویٰ جاری کرنے کا اعلان کیا۔

اسی تاریخی تناظر اور خلافتی تحریک کے ماحول میں جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ 23 اور 24/نومبر 1919ئ کو دہلی میں منعقدہ ’’آل انڈیا خلافت کانفرنس‘‘ کے موقع پر تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور یہی اجتماع جمعیت علمائے ہند کی تنظیمی شکل اختیار کر گیا۔ 23/نومبر کو مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ کی پیش کردہ بائیکاٹ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی اور اجتماعی فتویٰ شائع کیا گیا۔

سفارتی سطح پر یکم فروری 1920ئ کو مولانا محمد علی جوہر کی سربراہی میں ایک وفد انگلستان روانہ ہوا، جو 22/فروری کو وینس پہنچا اور 17/مارچ 1920ئ کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ لائیڈ جارج سے ملا، لیکن تمام مطالبات مسترد کر دیے گئے اور وفد اکتوبر 1920ئ میں ناکام لوٹا۔ 12/ فروری تا 10/اپریل 1920ئ لندن صلح کانفرنس اور معاہدہ¿ سیورے کی ظالمانہ شقوں کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند نے 6/ستمبر 1920ئ کو باقاعدہ ’’ترکِ موالات‘‘ (عدم تعاون) کی تاریخی تجویز منظور کی، جس میں برطانوی حکومت کو مالی، یا عسکری امداد دینا حرام قرار دیا گیا۔

19تا 21/ نومبر1920ئ کو دوسرے اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ترکی کے متعلق برطانوی طرز عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے، برطانوی مظالم اور قسطنطنیہ پر غاصبانہ قبضے کا پردہ چاک کیا گیا۔ اور مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ برطانیہ کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔

23/اگست 1921ئ کو جمعیت علمائے دہلی کے ایک اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے خلافت اسلامیہ ترکیہ کے خلاف برطانیہ کی ریشہ دوانیوں کی تفصیلات بیان کیں۔

دوسری طرف ترکی کے اندر غازی مصطفی کمال پاشا نے آزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ 6–10/جنوری 1921ئ کو پہلی اور 23/مارچ تا یکم اپریل 1921ئ کو دوسری اینونو کی جنگ میں کامیابی ملی۔ 7–8/اپریل 1921ئ کو افیون قرہ حصار پر عارضی قبضہ اور 28/جون 1921ئ کو ازمیر دوبارہ ترکوں کے پاس آیا۔ پھر 23/اگست تا 13/ستمبر 1921ئ کے درمیان 21 روزہ تاریخی ’’جنگِ سقاریہ‘‘ میں یونانی فوج کو عبرت ناک شکست دی گئی۔ اس فتح پر 19/ ستمبر1921ئ کو ترک مجلس کبیر (گرینڈ نیشنل اسمبلی) نے مصطفیٰ کمال کو ’’غازی‘‘ اور ’’ماریشال‘‘ کا خطاب دیا۔ ادھر ہندستان میں 8–9/جولائی 1921ئ کے کراچی اجلاس میں مولانا محمد علی جوہر کی صدارت میں اور 21/ستمبر 1921ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے کمال پاشا کو مبارک باد دی اور ترکوں کی حمایت میں گرفتار ہونے والے رہنماؤں (مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی، مولانا حسین احمد مدنی، پیر غلام مجدد، ڈاکٹر کچلو، مولانا نثار احمد کے اقدام کو شریعت کا قطعی حکم قرار دیا۔

18 تا 20/اکتوبر 1922ئ کو مجلس منتظمہ نے برطانیہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون اور فوجی امداد حرام قرار دی اور ’’جیش انگورہ‘‘ (ترک فوج) کی حمایت کی۔

24تا 26/دسمبر 1922ئ میں جمعیت علمائے ہند کے چوتھے اجلاسِ عام (گیا، بہار) میں صدرِ اجلاس مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے ترکوں کی 642/سالہ تاریخ اور خدماتِ اسلام کا مفصل احاطہ کرتے ہوئے مصطفی کمال کی فتوحات کو ’’اسلام کا معجزہ‘‘ قرار دیا، اور جمعیت نے انھی خدمات کے اعتراف میں غازی مصطفی کمال کو ’’مجددِ خلافت‘‘ کا خطاب دیا۔

یکم نومبر 1922ئ کو مصطفی کمال نے سلطان وحید الدین کو معزول کر کے سلطان عبدالمجید خاں کو محض مذہبی خلیفہ مقرر کیا اور سیاست و مذہب کو الگ کر دیا۔ جمعیت علما نے اپنے 24تا 26/ دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاس عام میں خاندانِ عثمانی کی خدمات کے پیشِ نظر سلطان عبدالمجید کو خلیفہ تسلیم کیا۔

 30 اکتوبر 1923ئ کو غازی مصطفیٰ کمال پاشا نے صدر جمعیت مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام مکتوب بھیج کرجمعیت علما کی جانب سے بھیجے گئے تہنیتی تار کا شکریہ ادا کیا۔

 29/دسمبر 1923ئ تا یکم جنوری 1924ئ کے پانچویں اجلاسِ عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنے خطبے میں واضح کیا کہ ترکی کا تحفظ ہندستان کی آزادی پر موقوف ہے اور جمعیت علما نے حکومت انگورہ پر کامل اعتماد کا اظہار کیا۔

 لیکن 3/ مارچ 1924ئ کو جب مصطفی کمال نے باضابطہ طور پر خلافت کا خاتمہ کر کے جدید جمہوریہ کا اعلان کیا، تو برصغیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ 9/مارچ 1924ئ کوجمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے مشترکہ طور پر، بعد ازاں 23تا 25/ جون 1924ئ کو جمعیت علمائے ہند نے  انقرہ وفد بھیجنے کی تجویز پاس کی اور مولانا ابوالکلام آزاد کو قائد چنا گیا، مگر برطانوی حکومت نے پاسپورٹ جاری نہیں کیا۔ مولانا محمد علی جوہر کی طرف سے بھیجی گئی چندے کی رقم سے ترکی کا سب سے بڑا تجارتی بنک ’’اش بنکاسی‘‘ Is Bankasi قائم ہوا۔ لیکن مصطفی کمال نے اس نظریے کو ایک غیر عملی تصور قرار دے کر مسترد کر دیا۔ 

اس کے باوجود جمعیت علمائے ہند نے اپنے11تا 16/ جنوری  1925ئ کو منعقد اپنے چھٹے اجلاس عام میں حکومت ترکیہ سے منصب خلافت قائم رکھنے کی اپیل کی۔

بعد ازاں 11تا 14/ مارچ 1926ئ کے ساتویں اجلاس عام میں مسئلہ¿ خلافت کی شرعی اہمیت اور عالم اسلام کی تنظیم کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے حضرت العلامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے فرمایا کہ : ترکی کی جس خلافت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے دنیا لڑ رہی تھی، اہل ترک نے خود اپنے ہی ہاتھوں اس کو دفن کرکے یورپین کی مدتوں کی سازش کو دفعۃ کامیاب کردیا، جس کی وجہ سے ہندستان میں بھی ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ کا خاتمہ ہوگیا۔

بعد ازاں 10/نومبر 1938ئ میں مصطفیٰ کمال پاشا کی وفات ہوئی، تو جمعیت علمائے ہند نے اپنے بارھویں اجلاس عام منعقدہ 3تا 6/ مارچ 1939ئ میں تعزیتی قرارداد کے ذریعے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

تحریکِ خلافت کے بعد کے ادوار میں بھی جمعیت علمائے ہند اور ترکی کے درمیان دینی، سیاسی اور انسانی یک جہتی کا سلسلہ قائم رہا۔

27–29/اپریل 1951ئ کو حیدرآباد میں منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے سترھویں اجلاس عام میں ترکی سفارت خانے کے کمرشل ایلچی نے دعوت نامے کے جواب میں باضابطہ پیغام بھیج کر جمعیت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

6/ستمبر 1962ئ کو مشرقی ترکی کے علاقے اغدیر میں زلزلہ آیا، جس پر 7/ستمبر1962ئ  کو جمعیت علمائے ہند کے اکابر (مفتی عتیق الرحمان عثمانیؒ، مولانا سید محمد میاںؒ وغیرہ) نے ایرانی سفیر سے ملاقات کر کے تعزیت پیش کی۔

 اس کے بعد 19/اگست 1966ئ کو صوبہ موش کے ضلع وارتو میں 6.8 تا 7.0 شدت کا ہلاکت خیز زلزلہ آیا، جس میں 2,500 افراد جاں بحق اور 1,500 زخمی ہوئے (جب کہ اس سے قبل 7/مارچ 1966ئ کو بھی 5.6 شدت کے زلزلے میں 14/افراد ہلاک ہوئے تھے۔) اس سانحے پر 27–28/اگست 1966ئ کو مجلس عاملہ نے باضابطہ ہمدردی اور دعائے مغفرت کی تجویز منظور کی۔

 2/اپریل 1970ئ کو ترکی میں آنے والے زلزلے پر جمعیت علما نے ہمدردی کا پیغام بھیجا، جس پر 4/اپریل1970ئ کو ترکی کے سفیر نے شکریہ کا پیغام روانہ کیا اور 18–19/اپریل 1970ئ کو مجلس منتظمہ نے باقاعدہ ہمدردی کی تجویز پاس کی۔

بعد ازاں 13/مارچ 1992ئ کو ارزنجان میں 6.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں 500 سے 650 /افراد جاں بحق ہوئے۔ 25/مارچ 1992ئ کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی نے ترک ہائی کمشنر کو 50,000/روپے کا اعانتی چیک پیش کیا، جس کے جواب میں 10/اپریل 1992ئ کو ترکی کے سفیر مراد سنگر نے رسمی شکریہ کا خط تحریر کیا۔

 24–25/اپریل 1998ئ کے اجلاس منتظمہ میں مولانا اسعد مدنی نے ترکی میں نجم الدین اربکان کے دورِ حکومت کے قائم کردہ مدارس پر فوجی پابندیوں اور دینی طبقے پر سختیوں پر شدید تشویش ظاہر کی، اور جمعیت علما نے جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

یکم جولائی 2006ئ کو جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے استنبول میں منعقدہ ’’مسلم یورپ کانفرنس‘‘ میں شرکت کی اور عالمی سطح پر اسلام فوبیا کے خلاف آواز بلند کی۔

 23/اکتوبر 2011ئ کو صوبہ وان اور ارچش میں 7.1 تا 7.2 شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس کے بعد 9/نومبر2011ئ کو 5.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا اور مجموعی طور پر 644/افراد جاں بحق ہوئے۔ 25/اکتوبر 2011ئ کو جمعیت علمانے گہرے رنج کا اظہار کیا اور اسرائیل کی طرف سے پیش کی جانے والی امداد کو مسترد کرنے پر ترکی حکومت کے خوددارانہ موقف کو سراہا۔

 10/اکتوبر 2015ئ کو انقرہ ریلوے اسٹیشن کے باہر داعش کے خودکش دھماکوں (109/ اموات، 500/ زخمی) کے خلاف 17/نومبر 2015ئ کو مولانا محمود مدنی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کی اور 18/نومبر کو جنتر منتر سمیت ملک کے 75 سے زائد شہروں میں مظاہرے کر کے صدرِ ہند، سفیرِ ترکی اور اقوامِ متحدہ کو میمورنڈم پیش کیا۔

 25/جولائی 2016ئ کو مولانا محمود مدنی کی قیادت میں ایک وفد نے ترکی کے سفیر بوراک اکبر سے ملاقات کر کے صدر رجب طیب اردوان اور ترک عوام کے نام فوجی بغاوت کو ناکام بنانے پر سپاس نامہ اور مبارک باد پیش کی۔

 23/جون 2022ئ کو ترکی کے عظیم مصلح و مفسر شیخ محمود آفندیؒ کے 93/سال کی عمر میں انتقال پر مولانا محمود مدنی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی علمی و تجدیدی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

6/فروری 2023ئ کو جنوب مشرقی ترکی (قہرمان مرعش و غازی عینتاب) میں 7.8 اور 7.5 شدت کا جدید تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا، جس میں 53,000 سے زائد ترک شہری جاں بحق اور 1,60,000 عمارتیں تباہ ہوئیں۔ 12/فروری 2023ئ کو جمعیت علمائے ہند نے ایک کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔ 27/فروری 2023ئ کو ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی ترکی پہنچے، یکم مارچ2023ئ کو انطاکیہ میں 1,000 سلیپ ویل گدے تقسیم کیے اور ترکی کے وزیرِ انصاف بیکیر بوزداگ سے ملاقات کی۔ 3/مارچ 2023ئ کو الخیر فاؤنڈیشن کے ساتھ راشن کٹس تقسیم کی گئیں۔ 7/مارچ 2023ئ کو صدر جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی خود زلزلہ زدہ علاقوں (انطاکیہ، قہرمان مرعش) پہنچے، متأثرین کی دل جوئی کی اور راشن تقسیم کیا، جب کہ 6/اپریل 2023ئ کو 1,000/متأثرہ خاندانوں میں رمضان راشن کٹس اور افطار کا انتظام کیا گیا۔

خلاصہ یہ کہ خلافتِ عثمانیہ کے تحفظ سے لے کرجدید دور کے زلزلوں، سیاسی بحرانوں اور رفاہی کاموں تک، جمعیت علمائے ہند نے ترکی کے عوام اور حکومت کے ساتھ ہر دور میں دینی، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر کامل یک جہتی کا تسلسل برقرار رکھا۔