16 Jul 2026

بوسنیا میں مسلمانوں پر مظالم اور جمعیت علمائے ہند کا کردار

 بوسنیا میں مسلمانوں پر مظالم اور جمعیت علمائے ہند کا کردار 

(1992ء-2008ء)

محمد یاسین جہازی شعبہ تصنیف جمعیت علمائے ہند

29/فروری 1992ء کو بوسنیا و ہرزیگووینا میں آزادی کے لیے استصوابِ رائے (ریفرینڈم) منعقد ہوا، جس میں مسلمانوں کی اکثریت نے آزاد ریاست کے حق میں ووٹ دیا، اور یکم مارچ 1992ء کو بوسنیا ایک آزاد ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ اس کے فوراً بعد 5–6/ اپریل 1992ء کو بین الاقوامی سطح پر آزادی تسلیم کیے جانے کے ساتھ ہی سربیا کی سیاسی و عسکری سرپرستی میں سرب افواج نے دارالحکومت سرایوو کا محاصرہ کر لیا، جو 29/فروری 1996ء تک جاری رہا۔ اس دوران مسلمانوں کے خلاف قتل عام، نسلی صفائی، عصمت دری اور جبری نقل مکانی کی منظم مہم چلائی گئی۔

بوسنیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف 2/جولائی 1992ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور حکومتِ ہند سے مؤثر سفارتی اور تعزیری اقدامات کا مطالبہ کیا، جب کہ اسی روز 10/جولائی 1992ء کو ملک گیر ”یومِ دعا“ منانے کا سرکلر جاری کیا گیا۔ اس کے بعد 1–2/اگست 1992ء کو مجلس عاملہ نے اپنے اجلاس میں بوسنیائی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم، محاصرے، غذائی و طبی پابندیوں اور خواتین کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی۔ مزید برآں 25/ستمبر 1992ء کو سرب فوج کی تازہ بربریت اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کی اطلاعات کے بعد 16/اکتوبر 1992ء کو دوبارہ ملک گیر ”یومِ دعا“ اور قنوتِ نازلہ کا اہتمام کرنے کی اپیل کی گئی۔ پھر 1–2 / نومبر 1992ء کو مجلس عاملہ نے سربیا کی جارحیت اور اقوامِ متحدہ کے دہرے معیار پر سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے سربیا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔

11/فروری 1993ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور مغربی طاقتوں کی بے حسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد 9/مارچ 1993ء کو جمعیت کی اپیل پر ملک گیر احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے اور اقوامِ متحدہ کے دہلی دفتر کو یادداشتیں پیش کی گئیں، جب کہ 26/مارچ 1993ء کو مولانا اسعد مدنی نے مسلمانوں سے عید انتہائی سادگی سے منانے کی اپیل کی۔ اسی دوران 16/ اپریل 1993ء کو اقوامِ متحدہ نے سربرینیتسا کو مسلمانوں کے لیے ”محفوظ علاقہ“ (Safe Area) قرار دے کر وہاں ڈچ امن فوج تعینات کی، مگر یہ اقدام بعد میں مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔

12/جون 1993ء کو مختلف ملی تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں بوسنیا کی تباہ کن صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور 25/جون 1993ء کو ”یومِ بوسنیا“ منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ 25/ جون 1993ء کو دہلی میں امریکی اور برطانوی سفارت خانوں کے خلاف تاریخی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور قتل عام روکنے کے مطالبے پر مشتمل یادداشتیں پیش کی گئیں۔ بعد ازاں 19–20/ دسمبر 1993ء کو مجلس عاملہ نے بوسنیا کے سانحے کو اسپین کے بعد امتِ مسلمہ کا دوسرا بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے عالم اسلام کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔

23/اکتوبر تا 11/دسمبر 1994ء کے دوران جمعیت نے انسانی حقوق کے عالمی تناظر میں بوسنیا اور صومالیہ کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کو غیر مؤثر اور مغربی طاقتوں کے زیر اثر ادارہ قرار دیا۔

جنگ کا سب سے الم ناک مرحلہ 11/جولائی 1995ء کو آیا، جب جنرل راٹکو ملاڈیچ کی قیادت میں سرب افواج نے اقوامِ متحدہ کے محفوظ علاقے سربرینیتسا پر قبضہ کر لیا۔ 12 تا 13/ جولائی 1995ء کو خواتین، بچوں اور بزرگوں کو زبردستی بے دخل کر دیا گیا، جب کہ 12 سے 77/ سال کی عمر کے مسلمان مردوں اور لڑکوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد 14 تا 17/جولائی 1995ء کے دوران آٹھ ہزار سے زائد نہتے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر شہید کر کے اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا، جسے بعد میں بین الاقوامی عدالتوں نے باقاعدہ نسل کشی (Genocide) قرار دیا۔

اس سانحے پر 21/جولائی 1995ء کو مولانا اسعد مدنی نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بطروس غالی کو ہنگامی تار روانہ کیا، جب کہ 4/اگست 1995ء کو دوبارہ ملک گیر ”یومِ دعا“ اور قنوتِ نازلہ کا اعلان کیا گیا۔ بعد ازاں 29/اکتوبر 1995ء کو جمعیت علمائے ہند کے پچیسویں اجلاسِ عام میں مولانا اسعد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں یورپی طاقتوں کے رویے اور سرب جارحیت کی شدید مذمت کی، اور تجویز نمبر (16) کے ذریعے بوسنیا کے مسلمانوں سے بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا۔

بالآخر 14/دسمبر 1995ء کو امریکی ثالثی میں ڈیٹن امن معاہدہ طے پایا، جس کے ساتھ تقریباً ساڑھے تین سال سے جاری جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ افراد - جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی- جاں بحق ہوئے جبکہ بیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔

بعد کے برسوں میں بھی بوسنیا کا یہ سانحہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی حافظے کا حصہ رہا۔ چنانچہ 25/فروری 2008ء کو دارالعلوم دیوبند کی ”دہشت گردی مخالف کل ہند کانفرنس“ اور 31/مئی 2008ء کو جمعیت علمائے ہند کی ”امن عالم کانفرنس“ کے اعلامیوں میں بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کو انسانی تاریخ کے بدترین سانحوں میں شمار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ کے دہرے معیار کی شدید مذمت کی گئی۔