تکلیف شرعی اور جزا و سزا کے اسباب
ایک انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پوری کائنات اور کائنات کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی ہی مخلوق ہے، تو پھر کیوں صرف انسان ہی کواللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کا پابند ہونا پڑتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے اچھا یا برا ، اس کا بدلہ اس کو دیا جائے گا؟ یہ قانون خدا تعالیٰ کی دیگر مخلوق پر لاگو کیوں نہیں ہے؟ مختصر الفاظ میں اس طرح کہ سکتے ہیں کہ شریعت کا مکلف صرف انسان کو کیوں بنایاگیا ہے؟۔
اس باب میں ہم اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش رہے ہیں۔
اس کے جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے چند تمہیدی باتیں سمجھنی ہوں گی:
تمہید اول
(۱) اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفتیں اور بے شمار اسمائے حسنٰی ہیںاور ہر صفت کا دائرہ ٔ کار الگ الگ ہے، مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت غفور ہے ، اس کا تعلق صرف مومن بندوں کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اسی طرح ایک صفت منتقم کی ہے، اس کا تعلق مشرک کے ساتھ ہے ، ایمان والوں کے ساتھ نہیں ہے۔اسی طرح اس دنیا و جہان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی تین صفات کی کرشمہ سازی ہے اور یہ تینوں صفتیں علیٰ الترتیب کام کرتی ہیں۔ ان کو ابداع، خلق اور تدبیر کہاجاتا ہے۔
ابداع کی تعریف و تشریح
ابداع کے معنی بغیر نمونے کے کوئی چیز بنانے کے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے کوئی نمونہ موجود نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی مادہ و میٹریل موجود تھا، مادہ اور مثال کے بغیر ایک انوکھی چیز پیدا کردی، تو یہ ابداع کہلائے گا۔ ارشاد خداوندی ہے کہ بَدِیعُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ ( سورہ: البقرۃ، آیت نمبر: ۱۱۷، پ۱: اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے موجد ہیں، انوکھے طریقے پر پیدا کرنے والے ہیں۔
خلق کی تعریف و تشریح
خلق کے لغوی معنی پیدا کرنے اور کسی چیز کے بنانے کے ہیں، لیکن اس میں وہی تخلیق شامل ہوتی ہے، جسے کوئی مادہ لے کر بنایا جاتا ہے یا پھر کسی نمونے کو سامنے رکھ کر کوئی چیزایجاد کی جاتی ہے، جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش میں مٹی کا مادہ اور جنات کے جد امجد کی تخلیق میں آگ کی آمیزش شامل ہے۔کائنات عالم کی جملہ مخلوق کو کٹیگری میں تقسیم کریں گے، تو یہ تین طرح کی نظر آئیں گی:(۱) جمادات۔ (۲) نباتات۔ (۳) حیوانات۔
جمادات
بے جان چیزوں اور زندگی سے عاری اشیا کا نام جمادات ہے، اس میں نہ ادراک کی صفت ہوتی ہے ، نہ احساس کی ۔ اس میں نشو ونما کی بھی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی ارادہ و قوت کی صفت پائی جاتی ہے۔ اینٹ ،پتھر، سونا،چاندی ، کوئلہ وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔
نباتات
نباتات میں نشو ونما کی صفت ہوتی ہے، لیکن احساس و ارادہ اور ادارک کی قوت نہیں ہوتی۔ اس میں زندگی پائی جاتی ہے، موت کا بھی حملہ ہوتا ہے، لیکن ارادہ و احساس نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی دوسری خصوصیات نہیں پائی جاتیں، جیسے پیڑ، پودے، سبزیاں وغیرہ نباتات ہیں۔
حیوانات
یہ ایسی مخلوق ہے، جس میں احساس، ادراک اور ارادہ ؛تینوں صفتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں سردی، گرمی، زندگی اور موت وغیرہ کا احساس بھی ہوتا ہے اور اپنے ارادہ سے کہیں چل پھر بھی سکتی ہے۔ یہ عقل و ادارک کی خصوصیات بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔چوں کہ حیوانات کی مختلف قسمیں ہیں: کچھ عامل العقل ہیں ، تو کچھ ناقص العقل ، اس لیے پھر اس کی کئی تقسیمیں ہیں۔ انسان اور جانور اس کی سب سے بڑی تقسیم ہے۔پھر انسانوں میں بھی ادراک و تعقل کے درجات کی بنیاد پر مختلف تقسیمیں ہوتی ہیں۔ اور ہر ایک تقسیم کا حکم الگ الگ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ ہے یا پاگل ہے، تو اس کا حکم اس سے مختلف ہوتا ہے، جو کامل العقل اورمکمل بصیرت کا حامل ہوتا ہے ۔ان تینوں کو مخلوقات کو موالید ثلاثہ کہاجاتا ہے۔
تدبیر کی تعریف و تشریح
تدبیر کے لفظی معنی انتظام کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو خود پیدا کیا، پھر اس کا نظم و انتظام بھی خود ہی فرمارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسباب میں تاثیر رکھی ہے، اس لیے جو کچھ بھی اسباب کے پردے سے وقوع پذیر ہوتا ہے، وہ درحقیقت اللہ ہی کا کارنامہ ہوتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ کائنات اللہ پاک کی تین صفات کی کرشمہ سازیاں ہیں: صفت ابداع سے اس عالم کا مادہ بنایا۔ پھر صفت خلق کے تقاضے سے مادہ لے کر موالید ثلاثہ کو وجود بخشا۔ پھر صفت تدبیر کے ذریعے پورے عالم کا نظم و نسق کو مرتب کیا۔
تمہید دوم: عالم مثال کی حقیقت و تشریح
لفظ عالَم عربی ہے۔ اردومیں اس کو دنیا کہاجاتا ہے۔ مختلف اعتبار سے عالم کی الگ الگ تقسیم کی گئی ہے۔کوئی عالم روحانی اور عالم جسمانی سے تقسیم کرتا ہے اور کوئی عالم شہادت اور عالم غیب کا نام دیتا ہے، کبھی دنیا و آخرت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی اسے عالم ظاہری اور عالم باطنی سے پکارتے ہیں۔ لیکن ان دو عالموں کی بیچ میں ایک تیسرا عالم ہے، اور اسی کا نام عالم مثال ہے: اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سراسر غیر مادی ہے ، اس کی تخلیق میں عناصر اربعہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔اس عالم میں معانی بھی کے لیے بھی جسم ہوتے ہیں۔ ہر معنی کو اس کے معنی کی مناسبت سے جسم کا لباس پہنایا جاتا ہے، مثال کے طور پر بزدلی وہاں خرگوش کی شکل میں اور دنیا پراگندہ بوڑھی عورت کی صورت میں نظر آتی ہے۔اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، وہ تمام چیزیں عالم مثال میں پائی جاتی ہیںاور دونوں الگ الگ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ہی ہوتی ہیں۔ اور چوں کہ یہ عالم جس طرح مادی نہیں ہے ، اسی طرح زمانی و مکانی بھی نہیں ہے، اس کی جگہ کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔اس عالم کے وجود کے لیے احادیث میں بے شمار اشارے ملتے ہیں۔ یہاں طوالت کے خوف سے صرف دو مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
پہلی مثال
نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے کہ:
یُجاء بالموت یومَ القیامۃِ کأنہُ کبشٌ أملحُ ، … فَیؤمرُ بہِ فیُذبِحُ (المسلم، کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا أھلھا، باب : النار یدخلھا الجبارون والجنۃ یدخلھا الضعفاء)
قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا اس کی صورت چتکبرے مینڈھے جیسی ہوگی اور حکم خداوندی سے اس کو ذبح کردیا جائے گا۔ موت ایک امر ربی ہے ، جو معنوی چیز ہے، لیکن عالم مثال میں اس کو مینڈھے کی صورت دے کر ذبح کیا جائے گا۔
دوسری مثال
قَالَ النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم : مارأیتُ فی الخیرِ والشر کالیوم قط،إنہ صورت لی الجنۃُ والنار، حتیٰ رأتُھما وارء الحائط۔ (البخاری، کتاب الدعوات، باب التعوذ من الفتن)
جب سورج گہن ہوا تھا اور آپ نماز پڑھارہے تھے ، تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے والی دیوار میں جنت و جہنم کی تصویر دیکھی۔اب ظاہر ہے کہ جنت و جہنم کا جو طول و عرض ہے ، وہ ایک دیوار میں نہیں سماسکتا، تو یہی کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ منظر آپ ﷺ کو عالم مثال سے دکھائی ہے۔
سائنس کی شہادت
جدید ٹکنالوجی نے اس مئلے کو سمجھنا اور آسان کردیا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں کلو میٹر دور کہیں ایک بہت بڑے میدان میں پروگرام ہورہا ہوتا ہے، بذریعہ ٹی وی اس کو لائیو دکھایا جاتا ہے۔ ٹی وی کی اسکرین کچھ انچوں کی ہوتی ہے ، اس کے باوجود اس میںبڑے بڑے میدان اور بڑی بڑی سائز کی چیزوں کا ہوبہو عکس سماجاتا ہے، تو جو ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اصل نہیں ہوتا اور نہ ہم سے قریب ہوتا ہے ، اس کے باوجود اسے ہم جھوٹ یا غیر واقعی نہیں کہہ سکتے، تو اب اس کو کیا کہاجائے گا؟ یقینا اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی تمثیل ہے اور یہی عالم مثال ہے۔
تمہید سوم: فرشتے اور شیاطین
فرشتے اور انسان کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یہ فرشتے اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلتف فرشتوں کو الگ الگ کاموں پر لگا رکھا ہے ، تاکہ نظام کائنات پوری طرح اپنے محور پر چلتا رہے۔ان فرشتوں کا وجود انسانوں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا کہ جب کوئی معزز مہمان آتا ہے، تو اس کی شایان شان آرائش و زیبائش اور استقبال کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جب اشرف المخلوقات کو اس دنیا میں خلیفہ بناکر بھیجنا تھا ،تو اس کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اس کائنات کے نظام کو منظم کیا ، تاکہ جب وہ آجائے ، تو فرشتوں کے ذریعے اس کی مصلحتوں کی تکمیل ہو۔
فرشتے کی دو قسمیں ہیں : (۱)عالم بالا کے فرشتے ۔ (۲) عالم زیریں کے فرشتے۔
عالم بالا کے فرشتے
عالم بالا کے فرشتے تین طرح کے ہوتے ہیں: (۱) نورانی فرشتے۔ (۲) اعلیٰ درجے کے عنصری فرشتے۔ (۳) اعلیٰ درجے کے انسانی نفوس۔
نورانی فرشتے
یہ وہ فرشتے ہوتے ہیں، جن کے جسموں کو نور سے بنایا جاتا ہے اور ان میں اعلیٰ قسم کی روح پھونکی جاتی ہے۔یہ عموما عالم بالا اور عرش پر رہتے ہیں، تاہم گاہے بگاہے زمین پر بھی اترتے ہیں۔ ان فرشتوں کے تعلق سے گناہ اور بہیمی حرکتوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،کیوں کہ نوری مادے میں گناہ کی طاقت و صلاحیت ہی نہیں ہوتی ہے۔
اعلیٰ درجے کے عنصری فرشتے
یہ ایسے فرشتے ہوتے ہیں، جن کے اجسام نور کے نہیں ؛ بلکہ عناصر اربعہ (آگ، مٹی پانی ، ہوا) کے بھاپ سے بنائے جاتے ہیں، پھر ان میں بہترین ارواح ڈالی جاتی ہیں۔ یہ فرشتے بھی پہلے قسم کے فرشتے کی طرح بہیمی گندگیوں سے پاک و صاف ہوتے ہیں۔
اعلیٰ درجے کے انسانی نفوس
اس سے مراد اونچے درجے کے انسانوں کی روحیں ہیں، جیسے انبیا اور بڑے بڑے اولیاء اللہ کی روحیں، جو اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے ملأ اعلیٰ کے قریب قریب ہوتے ہیں۔ جب ان کی وفات ہوجاتی ہیں، تو ان کی روحوں کو عالم بالا کے فرشتوں میں شامل کرلیا جاتا ہے۔جیسے آں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا تھا ۔ یہ عالم بالا کے فرشتوں کے ساتھ پرواز تھی۔
عالم بالاکے فرشتوں کے کارنامے
عالم بالا کے فرشتوں کے تین کام ہوتے ہیں:
پہلا کام
یہ فرشتے ہمہ وقت صرف اور صرف خدائے بزرگ و برتر کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی توجہ اتنی گہری ہوتی ہے کہ وہ کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ یہ ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔
دوسرا کام
زمین میں چل رہے جو نظام اللہ تعالیٰ کو پسند ہوتا ہے، اس کے حق میں یہ دعائے خیر کرتے رہتے ہیں اور جو نظام خدا تعالیٰ کو ناپسند ہوتا ہے ،ا س کے لیے بد دعائیں کرتے ہیں اور ان پر لعنتیں بھیجتے ہیں۔ جیسے اعمال صالحہ کا نظام اللہ تعالٰی کو پسند ہے ، تو اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں اور کفر کا نظام خدا تعالیٰ کو پسند نہیں، تو اس سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ مصائب و آلام میں گرفتار ہوتا ہے۔
تیسرا کام
اونچے درجے کے فرشتوں کے انوار روح اعظم کے پاس جمع ہوتے ہیں، جس کے بے شمار منھ ہیں اور بہت سے زبانوں میں بات کرتے ہیں ۔ فرشتوں کی روحیں وہاں جمع ہوکر شئی واحد بن جاتی ہیں، جس کا نام حظیرۃ القدس (بارگاہ مقدس )ہے۔یہ بارگاہ مقدس خدا تعالیٰ کے امر و حکم سے یہ طے کرتی ہے کہ انسانوں کو دینی و دنیوی نقصانات سے بچانے کے لیے کیا تدبیر اختیار کیا جائے، چنانچہ اس کے لیے تین طرح کے فیصلے کیے جاتے ہیں:
(۱) لوگوں کی صلاحیت کے مطابق ان کے دلوں میں الہام کرکے طریقۂ کار بتایا جاتا ہے۔
(۲) لوگوں کو ایسی ذہنی قابلیت یا علم لدنی عطا کردی جاتی ہے، جس کے ذریعے قوم کے لیے صلاح و فلاح اور بھلائی و ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں ۔
(۳) کوئی ایسی شخصیت پیدا کی جاتی ہے، جو لوگوں کے لیے قابل تقلید بن جاتی ہے ۔ پھر اس کے اور اس کے ساتھ دینے والوں کے لیے حالات سازگار کردیے جاتے ہیں۔ اور ان کی مخالفت کرنے والوں کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوپاتی۔
عالم زیریں کے فرشتے
یہ فرشتے عالم بالاکے فرشتوں سے کم درجے اور رتبے والے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق عناصر اربعہ کے لطیف بخارات سے کی جاتی ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ہر وقت عالم بالا سے ملنے والے احکامات کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور جوں ہی انھیں کوئی حکم ملتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ تعمیل حکم ان کا فطری تقاضہ اور جذبہ ہوتا ہے۔
یہ فرشتے انسانوں اور جانوروں کے دلوں میں اثر ڈالتے ہیں، جس سے وہ ارادۂ خداوندی کے مطابق ہروہ کام کرنے پر امادہ اور مجبور ہوتے ہیں، جو ان کی تقدیر وں کا حصہ ہتے ہیں۔
شیاطین
اس کائنات میں انسان اور فرشتوں کے علاوہ ایک اور جماعت ہے، یہ شیطانوں کی جماعت ہے۔ جب عناصر اربعہ کی ظلمانی بخارات میں سڑن اور بدبو پیدا ہوجاتی ہے، تو وہ نفوس کا تقاضا کرتے ہیں، چنانچہ قالب کے مطابق ان میں روحیں ڈال دی جاتی ہیں،جیسے کہ گندی نالی کی مٹی میں سڑن اور تعفن پیدا ہوجاتا ہے تو خود بخود مچھر اور کیڑے مکوڑے پیدا ہونے لگتے ہیں۔شیطان برے خیالات کا سرچشمہ ہوتا ہے، یہ نیکی اور خیر سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ اس کی کوشش ہمیشہ فرشتوں کی کوششوں کے برخلاف ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کے دلوں میں گناہوں اور برے اخلاق کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور اور دنیاو آخرت میں تباہی کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔
خلاصۂ کلام
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہاں تین بنیادی مخلوق ہیں: فرشتے، شیطان اور انسان۔فرشتے کی سرشت میں سراسر خیر ہے، شر کا کوئی بھی عنصر نہیں ہے، اس لیے یہ گناہ کی قدرت نہیں رکھتے۔شیطان کی فطرت شر محض ہے، اس لیے خیر کا کوئی جذبہ اس میں نہیں پایا جاتا ۔ اگر ظاہری طور پر شیطان کا کوئی کام خیر پر مبنی نظر آئے ، تو یقینا وہاں پر اس سے بڑا شر پوشیدہ ہوگا، جیسے کہ شیطان نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک دن تہجد کی نماز چھوٹنے پر دوسرے دن خود ہی جگانے کے لیے آگیا تھا، تاکہ ان کے تضرع و توبہ سے جو رتبہ بڑھ گیا تھا ، وہ بلند رتبہ دوبارہ نہ مل سکے۔ اور انسان دونوں صفتوں کا سنگم ہے۔ اس کے اندر خیر کا بھی مادہ ہے اور شر کی بھی صلاحیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان کی عقل و فکر پر شر کی قوت غالب اور خیر کی قوت مغلوب ہوجاتی ہے، تو یہ شیطان سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، لیکن جب شر کی قوت پر فتح پالیتا ہے اور خیر کی قوت و صلاحیت آگے بڑھ جاتی ہے ، تو اس کا درجہ فرشتوں سے بھی بالا ہوجاتا ہے۔
انھیں تینوں مخلوقات: انسان، فرشتے اور شیاطین اور انھیں تینوں صفات: خیر، شر اور ان دونوں کے مجموعے کی بنیاد پر مقام و مسکن بھی تین ہی بنائے گئے ہیں؛ پہلا جنت ، جو خیر محض ہے، دوسرا جہنم، جو سراسر مقام شر ہے اور تیسرا دنیا ، جو خیروشر دونوں کا سنگم ہے۔