26 Jan 2026

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

مکرمی محترم مفتی صاحب !               السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مسئلۂ ذیل کے بارے میں شرعی رہ نمائی درکار ہے:

ہردورکےعلمائے کرام نے ہندستان کی شرعی حیثیت متعین کرکے اسی کےمطابق ملت اسلامیہ کی رہنمائی کی ہے،جیسے کہ انگریزوں کے مکمل قبضہ کے بعد بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہونے کےباوجود 1809ء میں حضرت شاہ عبد العزیز نور اللہ مرقدہ نے ہندستان کے دارالکفر ہونے کا فتوی دیا۔ پھر 14 ؍ستمبر 1857ءکی جنگ شاملی و تھانہ بھون کے لیے جہاد آزادی کا فتوی دیا گیا۔

بعد ازاں جب دسمبر 1885ء میں آل انڈیا کانگریس بنی، جس نے حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوراج اور حقوق کا مطالبہ کرنا شروع کیا، تو جناب سرسید احمد خان صاحب نے انجمن محبان وطن بناکر مسلمانوں کو انگریزوں کی وفاداری کی تلقین کرنی شروع کردی اور کانگریس میں شرکت سے مسلمانوں کو ورغلاتے رہے، جس کے خلاف حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ  اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒنے کانگریس میں شرکت اور سرسید کی مخالفت کا فتوی دیا۔

پھر جب انگریزوں کی خطرناک خفیہ سازش کے تحت مسلمانوں میں30؍دسمبر 1906ء کو  مسلم لیگ اور ہندوؤں میں ہندو مہاسبھا کی تشکیل عمل میں آئی اور فرقہ وارانہ خطوط پر فیصلہ ہونے لگے، جس میں سب سے خطرناک فیصلہ 1916ء کا میثاق لکھنو تھا، تو علما نے گوشہ نشینی کوچھوڑ کر میدان سیاست میں آنا ضروری سمجھا۔ چنانچہ آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر 23 ؍نومبر 1919ء کو جمعیت علمائے ہند کی تشکیل عمل میں آئی۔

جمعیت علمائے ہند کے قیام کے بعد 1920ء میں امام الہند اور تحریک ہجرت کا آغاز ہوا۔ چنانچہ ہندستان کی شرعی حیثیت کے تناظر میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور خود شیخ الہند نے ہجرت کے حق میں فتویٰ دیا؛ لیکن تحریک خلافت نے تحریک امام الہند کا خاتمہ کردیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اتنی بڑی آبادی کی ہجرت ناممکن ہے، تحریک خلافت کی تقویت و تائید کے لیے ترک موالات کا فتویٰ دے کر تحریک ہجرت کا خاتمہ کردیا۔ 

پھر جب جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی آزادی کو وطنی فریضہ کے ساتھ ساتھ مذہبی فرض بھی قرار دیا، تو یہ سوال ابھر کر سامنے آیا کہ تنہامسلمان اپنے مذہبی فرض کی ادائیگی کرکے ہندستان کو انگریزوں سے آزاد نہیں کراسکتے، اس کے لیے غیر مسلم برادران وطن سے تعاون لینا، یا ان کا ساتھ دینا ضروری ہے،تو پھر یہ سوال ایک چیلنج بن کر سامنے آیا کہ کیا  جہاد آزادی جیسے مذہبی فرض کو ادا کرنے کے لیے غیرمسلم کی امداد، یا استمداد جائز ہے؟ اور ایسی صورت میں ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ دارالاسلام کی؟ دارالحرب کی؟ یا پھر کچھ اور؟؟....

 جمعیت علمائے ہند کے رہ نماؤں نے غور کیا کہ ہندستان دارالحرب نہیں ہوسکتا؛ کیوں کہ یہاں پر مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر دارالحرب مان بھی لیتے ہیں، تو پھر مسلمانوں کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا وہ مستامن ہوں گے، لیکن اس کے لیے باہر کا ہونا ضروری ہے، جب کہ مسلمان یہیں کے باشندے ہیں۔

اور دارالاسلام بھی نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ یہاں مسلمانوں کو قوت حاکمہ حاصل نہیں ہے، اس لیے جمعیت علما نے اسے دارالامان قرار دیتے ہوئے آزادی مذہب اور جملہ حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ جمہوری حکومت کی تشکیل کے لیے آزادی ہند کی لڑائی میں برادران وطن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

اسی بیچ میں کچھ علمائے کرام کی رائے یہ تھی کہ مسلمان ایک مستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، جس میں کافروں کے ساتھ موالات کی بالکل گنجائش نہیں ہے، اسی نظریے کی بنیاد پر انھوں نے اسلام کے نام پر اسلامی ریاست کا نظریہ پیش کرتے ہوئے دوقومی نظریہ کے تحت پاکستان کا مطالبہ پیش کیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی شرعی حیثیت کے پیش نظر متحدہ قومیت کا نظریہ پیش کرکے جمہوریت کی تائید و حمایت کی۔

پھر 1947کو ہندستان آزاد ہوگیا، تو انگریزی دور عبودیت میں جب ہندستان دارالامان تھا، تو جمہوری دور حکومت میں تو بدرجہ اولیٰ اس کی حیثیت دارالامان  کی رہی ۔ اور مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہے، جس میں سب سے  بڑا فرض جہاد اکبر تھا، جہاد اصغر نہیں تھا۔ اورجب تک ہندستان میں اصلی اورحقیقی جمہوریت باقی ہے، تب تک ہندستان میں مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندستان میں اب جمہوریت باقی ہے؟

قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق  دس پوائنٹس ایسے ہیں، جن کو معیار بناکر حالات کا تجزیہ کرنے سے کسی قوم کے عروج وزوال کا نتیجہ مرتب کرسکتے ہیں۔ وہ 10 پوائنٹس درج ذیل ہیں :

1۔ روٹی کا مسئلہ

2۔حفاظت جان و مال

3۔عدل و انصاف

4۔ مذہبی حقوق کی حفاظت

5۔ تہذیب و زبان کی حفاظت

6۔تعلیم

7۔حقوق ملازمت

8۔یکساں شہری حقوق اور مساوات

9۔حقوق ملکیت میں آزادی

10۔سیاسیات

ان دس پوائنٹس کے تناظر میں ٹو دہ پوائنٹ بات کی جائے، تو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:

1۔ٹھیلہ وغیرہ پر نام لکھوانے کی تحریک چلاکر، یا صرف اپنے ہم مذہب سے خریداری کی اپیل کرنے جیسے معاملات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔

2۔ ملک میں بڑھتے ہیٹ ریٹ، سفر وغیرہ میں مسلم شناخت والوں کے ساتھ تشدد، بعض بعض جگہوں پر مسلمانوں کے داخلے کی پابندی، خود ہی فرقہ وارانہ فسادات کر اکے ان کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور رہائی کے لیے وصولی کرنا، یا طول طویل عدالتی کارروائیاں اور بعد ازاں حکومت کا جبری بلڈوزر جیسی دہشت گردانہ حرکتیں اور مآب لنچنگ کے واقعات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔

3۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، دہلی اور پورے ملک میں آثار قدیمہ کے نام پر بند پڑی مساجد، گیان واپی مسجد،عیدگاہ متھرا اور تقریباً تین ہزار مساجد پر قانونی شکنجہ کسنے کے بعد عدالتوں کے فیصلے، اسی طرح تین طلاق اور شرعی محکمہ قضا کے فیصلوں کے متعلق حالیہ دنوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں، نیز جدید وقف ایکٹ میں ظالمانہ ترمیمات پر اصرار سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ملک میں کتنا عدل و انصاف بچا ہوا ہے۔

4۔وقف ایکٹ ،فتوی پر پابندی (ہماچل پردیش میں) مدارس اسلامیہ کو نوٹس، قربانی اور غیر قربانی کے مواقع پر گائے کے ذبح پر پابندی،یا ہنگامہ اور کسی بھی مسجد کو غیر قانونی تعمیرات کے بہانے شہید کردینے کے متواتر واقعات سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کس درجہ محفوظ ہیں، دانش ور خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔

5۔ داڑھیوں کے خلاف مقدمے، تعلیم گاہوں میں برقعہ پوش خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرنا اور اردو زبان کے ساتھ تعصب انگیز رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اور زبان کو مٹانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔

6۔ تعلیم کی بات کریں ،تو مسلمان کے اندر 42 فی صد جہالت ہے۔ آزاد مدارس کے سامنے تو مسائل پیدا کیے ہی جارہے ہیں ؛لیکن سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستگی سے بھی ان کو چڑھ ہے، جیسا کہ کچھ دن پہلے جمعیت اسٹڈی سینٹر کے تحت نوائس سے امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی بڑھتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے این سی پی سی آر کے چئیرمین نے زہر اگلتے ہوئے اسے ٹرر فنڈنگ کہا تھا۔ اس طرح کے اور بھی معاملات ہیں، جہاں مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی مکمل سازش کی جارہی ہے۔

7۔حقوق ملازمت کی بات کریں، تو سیکڑوں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ڈس کرمنیشن یعنی امتیازات سے کام لیا جارہا ہے۔

8۔ یکساں شہری حقوق اور مساوات سے مراد حکومت کے جملہ وسائل میں بلا امتیاز مذہب وغیرہ یکساں شرکت ہے۔ سی اے بی، گجرات میں ڈسٹربڈ ایریا کا قانون اور نچلی ذاتوں اور مسلمان سمجھ کر بعض محکمہ جیسے ڈفنس میں مسلمانوں کو ملازمت، یا اعلی ملازمت نہیں دی جاتی۔گویا یکساں شہری حقوق اور مساوات پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔

9۔ حقوق ملکیت میں تو اب تک آزادی ہے، لیکن بعض مخدوش علاقوں میں محض مسلمان کا گھر ہونے کی وجہ سے جس طرح بغیر عدالتی کارروائی کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے، یہ بھی اس سے کم ظلم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ملکیت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے واضح معاملہ یہ ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے محرومی تقریباً تمام حقوق سے محرومی کا باعث بن جائے گی۔

10۔البتہ سیاست میں مسلمان اب تک آزاد ہیں ،لیکن مسلم آبادی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حلقہ ہائے انتخاب کی جس طرح حدبندی کی جاتی ہے، اس سے اس سازش کا اندازہ لگانا کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو بے وزن کرنے کی لگاتار کوشش کی جارہی ہے۔

ان نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ بھارت ہندو راشٹر بن چکا اور جمہوریت اور دستور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

ایسی صورت میں اہل فتاویٰ اور ماہرین شریعت سے گذارش ہے کہ ہندستان کی شرعی حیثیت، مسلمانوں کی شرعی حیثیت اور ان دونوں کی حیثیت کے تعین کے بعد مسلمانوں کے ذمہ واجب فرائض پر مکمل شرعی رہ نمائیں فرمائیں۔

محمد یاسین جہازی

6؍جنوری 2025


کائنات عالم کا فطری نظام فلسفہ اسلام قسط سوم

 تمہید چہارم: کائنات عالم کا فطری نظام 

یہ امر مسلم ہے کہ دنیا و جہان میں بڑا سے بڑا اور چھوٹا سے چھوٹا جو بھی کام ہوتا ہے، اس کا کرنے والا درحقیقت خالق کائنات کی ذات ہوتی ہے؛ یہ الگ بات ہے کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے اور اس کا بیشتر کام اسباب کے پردے سے ہی ظاہر ہوتا ہے، لیکن چوں کہ ان اسباب کا خالق بھی خالق کائنات ہی ہے، اس لیے ان امور کا حقیقی خالق بھی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہوگی۔مثال کے طور پر کھانا کھانے میں بھوک مٹانے کی تاثیر ہے، توبھوک کو ختم کرنے کا سبب گرچہ کھانا کھانا ہے، لیکن کھانے میں یہ تاثیر اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے، لہذا یہاں یہی فیصلہ کیا جائے گا کہ درحقیقت یہ بھوک اللہ تعالیٰ نے ختم کی ہے، گرچہ اس کا ظاہری سبب اس کا کھانا کھالینا ہے۔یہ باتیں گرچہ انتہائی واضح اور بدیہی ہیں، تاہم ان پر دلائل عقلیہ و نقلیہ دونوں موجود ہیں۔

دلائل عقلیہ

 دلائل عقلیہ تو بے شمار ہیں: آگ میں جلانے کی تاثیر، زمین میں بیج ڈالنے سے غلہ پیدا ہونے کا عمل ، پودوں کی جڑوں میں پانی ڈالنے سے پھلوں میں مٹھاس، پھولوں میں رنگت اور پتوں میں ہریالی ؛ یہ سب قدرت کی اشیا میں تاثیر رکھنے کی کرشمہ سازیاں ہیں۔ اللہ پاک نے جن چیزوں میں جس طرح کی صلاحیتیں رکھیںہیں، ان سے اسی طرح کے نتائج پیدا ہوں گے، تاہم یہ ان کی اپنی ذاتی صلاحیت نہیں ہے؛ کیوں کہ اگر معاملہ ایسا ہوتا ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جس آگ میں پھینکے گئے تھے، اس میں جل کر بھسم ہوجاتے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ بہت سارے مواقع میں دیکھنے میں آیا ہے کہ درخت سے گرگیا،کارکا زبردست ایکسیڈینٹ ہوگیا، اس کو مرجانا چاہیے تھا، لیکن پھر بھی نہیں مرا، اس کو ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا ؛یہ سب کیا ہے؟ ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کا جواب اس کے لیے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا کہ مشیت ایزدی میں ایسا ہونا نہیں تھا، اس لیے نہیںہوا؛ اگر اسباب ہی فاعل محض ہوتا تو نتیجہ اس کی تاثیر کے خلاف کبھی نہیں آتا، لیکن ان اسباب کے پیچھے ایک غیبی نظام کارفرما ہوتا ہے، اس لیے اس تسلیم کے علاوہ کوئی اور چارۂ کار نہیں ہے کہ اللہ ہی ہر فعل کا فاعل حقیقی اور مؤثر محض ہے، لیکن اس نے چوں کہ اس کائنات کے نظام کا دارومدار اسباب پر رکھا ہے، اس لیے یہاں کے کام اسباب کی تاثیرات اور صلاحیتوں کے مطابق وقوع پذیر ہوںگے۔

دلائل نقلیہ

حضرت عبداللہ ابن سلام رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ بچہ کبھی باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی ماں کے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تو سرکار دو عالم ﷺ نے بتایاکہ :

فإذا سبَقَ مائُ الرجلِ مائَ المرأۃِ نزعَ الولدَ، وإذا سبق مائُ المرأۃِ مائَ الرجلِ سبقت الولدَ (البخاری، کتاب:المناقب، باب: کیف اٰخیٰ النبی ﷺ بین أصحابہ)

جب مرد کا پانی عورت کی پانی پر سبقت حاصل کرلیتا ہے، تو بچہ مرد کے مشابہ ہوتا ہے، اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت پالیتا ہے، تو عورت مشابہت کھینچ لیتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں میں خاندانی مشابہت مادہ میں رکھی ہوئی مشابہت کی صلاحیت کی بنیاد پر پائی جاتی ہے۔ایک دوسری حدیث میں ہے کہ 

إنَّ اللہَ خلق اٰدمَ مِن قبضۃِِ قبضھا مِن جمعِ الأرضِ ، فجائَ بنو آدم علیٰ قدرِ الأرضِ، فجاء منھم الأحمرُ والأبیض،والأسودُ، و بینَ ذٰلک،السھل والحزن والخبیث والطیب۔ (سنن الترمذی، تفسیر القرآن عن رسول اللہ ﷺ ، و من سورۃ البقرۃ)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی کی ایسی مٹھی سے پیدا کیا، جس میںپوری روئے زمین کی مٹی شامل کی گئی ہے، لہذا آدم کی اولاد مٹی کی مختلف قسموں کی طرح وجود میں آئی ہے، کوئی مٹی لال ہوتی ہے، کوئی سفید اور کوئی دیگر ، اسی اعتبار سے اولاد آدم کی رنگت اور شکل و صورت بھی مختلف ہے۔ کوئی کالا ہے،کوئی گورا ہے۔ کوئی سرخ ہے اور کوئی درمیان درمیان۔ کوئی ان میں سے نرم خو ہے اور کوئی سخت مزاج۔ کسی کی سرشت میں خباثت پائی جاتی ہے اور کوئی نیک اور صالح ۔تو انسانوں میں رنگ کا ظاہری تفاوت اور اخلاق کا باطنی اختلاف کا سبب یہی ہے کہ ان کی خمیر میں جس صلاحیت و تاثیر کی مٹی شامل ہے، وہ ویسا ہی ہے۔المختصر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے مختلف چیزوں میں مختلف صلاحیتیں رکھ دی ہیں اور انھیں صلاحیتوں کے مطابق وہ کام انجام پاتے ہیں اور چوں کہ ان تاثیرات کا خالق خود خدائے پاک ہے، لہذا اسباب کے پردے سے جو کام ہوں گے، اس کا خالق حقیقی بھی خالق کائنات ہی ہوگا۔

تکلیف شرعی اور جزا و سزا کے اسباب ۔ فلسفہ اسلام قسط دوم

 تکلیف شرعی اور جزا و سزا کے اسباب 

ایک انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پوری کائنات اور کائنات کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی ہی مخلوق ہے، تو پھر کیوں صرف انسان ہی کواللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کا پابند ہونا پڑتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے اچھا یا برا ، اس کا بدلہ اس کو دیا جائے گا؟ یہ قانون خدا تعالیٰ کی دیگر مخلوق پر لاگو کیوں نہیں ہے؟ مختصر الفاظ میں اس طرح کہ سکتے ہیں کہ شریعت کا مکلف صرف انسان کو کیوں بنایاگیا ہے؟۔

اس باب میں ہم اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش رہے ہیں۔

اس کے جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے چند تمہیدی باتیں سمجھنی ہوں گی:

تمہید اول

(۱)  اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفتیں اور بے شمار اسمائے حسنٰی ہیںاور ہر صفت کا دائرہ ٔ کار الگ الگ ہے، مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت غفور ہے ، اس کا تعلق صرف مومن بندوں کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اسی طرح ایک صفت منتقم کی ہے، اس کا تعلق مشرک کے ساتھ ہے ، ایمان والوں کے ساتھ نہیں ہے۔اسی طرح اس دنیا و جہان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی تین صفات کی کرشمہ سازی ہے اور یہ تینوں صفتیں علیٰ الترتیب کام کرتی ہیں۔ ان کو ابداع، خلق اور تدبیر کہاجاتا ہے۔

ابداع کی تعریف و تشریح

ابداع کے معنی بغیر نمونے کے کوئی چیز بنانے کے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے کوئی نمونہ موجود نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی مادہ و میٹریل موجود تھا، مادہ اور مثال کے بغیر ایک انوکھی چیز پیدا کردی، تو یہ ابداع کہلائے گا۔ ارشاد خداوندی ہے کہ  بَدِیعُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ ( سورہ: البقرۃ، آیت نمبر: ۱۱۷، پ۱:  اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے موجد ہیں، انوکھے طریقے پر پیدا کرنے والے ہیں۔

خلق کی تعریف و تشریح

خلق کے لغوی معنی پیدا کرنے اور کسی چیز کے بنانے کے ہیں، لیکن اس میں وہی تخلیق شامل ہوتی ہے، جسے کوئی مادہ لے کر بنایا جاتا ہے یا پھر کسی نمونے کو سامنے رکھ کر کوئی چیزایجاد کی جاتی ہے، جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش میں مٹی کا مادہ اور جنات کے جد امجد کی تخلیق میں آگ کی آمیزش شامل ہے۔کائنات عالم کی جملہ مخلوق کو کٹیگری میں تقسیم کریں گے، تو یہ تین طرح کی نظر آئیں گی:(۱) جمادات۔ (۲) نباتات۔ (۳) حیوانات۔

جمادات

بے جان چیزوں اور زندگی سے عاری اشیا کا نام جمادات ہے، اس میں نہ ادراک کی صفت ہوتی ہے ، نہ احساس کی ۔ اس میں نشو ونما کی بھی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی ارادہ و قوت کی صفت پائی جاتی ہے۔ اینٹ ،پتھر، سونا،چاندی ، کوئلہ وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

نباتات

نباتات میں نشو ونما کی صفت ہوتی ہے، لیکن احساس و ارادہ اور ادارک کی قوت نہیں ہوتی۔ اس میں زندگی پائی جاتی ہے، موت کا بھی حملہ ہوتا ہے، لیکن ارادہ و احساس نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی دوسری خصوصیات نہیں پائی جاتیں، جیسے پیڑ، پودے، سبزیاں وغیرہ نباتات ہیں۔

حیوانات

یہ ایسی مخلوق ہے، جس میں احساس، ادراک اور ارادہ ؛تینوں صفتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں سردی، گرمی، زندگی اور موت وغیرہ کا احساس بھی ہوتا ہے اور اپنے ارادہ سے کہیں چل پھر بھی سکتی ہے۔ یہ عقل و ادارک کی خصوصیات بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔چوں کہ حیوانات کی مختلف قسمیں ہیں: کچھ عامل العقل ہیں ، تو کچھ ناقص العقل ، اس لیے پھر اس کی کئی تقسیمیں ہیں۔ انسان اور جانور اس کی سب سے بڑی تقسیم ہے۔پھر انسانوں میں بھی ادراک و تعقل کے درجات کی بنیاد پر مختلف تقسیمیں ہوتی ہیں۔ اور ہر ایک تقسیم کا حکم الگ الگ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ ہے یا پاگل ہے، تو اس کا حکم اس سے مختلف ہوتا ہے، جو کامل العقل اورمکمل بصیرت کا حامل ہوتا ہے ۔ان تینوں کو مخلوقات کو موالید ثلاثہ کہاجاتا ہے۔

تدبیر کی تعریف و تشریح

تدبیر کے لفظی معنی انتظام کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو خود پیدا کیا، پھر اس کا نظم و انتظام بھی خود ہی فرمارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسباب میں تاثیر رکھی ہے، اس لیے جو کچھ بھی اسباب کے پردے سے وقوع پذیر ہوتا ہے، وہ درحقیقت اللہ ہی کا کارنامہ ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ کائنات اللہ پاک کی تین صفات کی کرشمہ سازیاں ہیں: صفت ابداع سے اس عالم کا مادہ بنایا۔ پھر صفت خلق کے تقاضے سے مادہ  لے کر موالید ثلاثہ کو وجود بخشا۔ پھر صفت تدبیر کے ذریعے پورے عالم کا نظم و نسق کو مرتب کیا۔ 

تمہید دوم: عالم مثال کی حقیقت و تشریح

لفظ عالَم عربی ہے۔ اردومیں اس کو دنیا کہاجاتا ہے۔ مختلف اعتبار سے عالم کی الگ الگ تقسیم کی گئی ہے۔کوئی  عالم روحانی اور عالم جسمانی سے تقسیم کرتا ہے اور  کوئی عالم شہادت اور عالم غیب کا نام دیتا ہے، کبھی دنیا و آخرت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی اسے عالم ظاہری اور عالم باطنی سے پکارتے ہیں۔ لیکن ان دو عالموں کی بیچ میں ایک تیسرا عالم ہے، اور اسی کا نام عالم مثال ہے: اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سراسر غیر مادی ہے ، اس کی تخلیق میں عناصر اربعہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔اس عالم میں معانی بھی کے لیے بھی جسم ہوتے ہیں۔ ہر معنی کو اس کے معنی کی مناسبت سے جسم کا لباس پہنایا جاتا ہے، مثال کے طور پر بزدلی وہاں خرگوش کی شکل میں  اور دنیا پراگندہ بوڑھی عورت کی صورت میں نظر آتی ہے۔اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، وہ تمام چیزیں عالم مثال میں پائی جاتی ہیںاور دونوں الگ الگ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ہی ہوتی ہیں۔ اور چوں کہ یہ عالم جس طرح مادی نہیں ہے ، اسی طرح زمانی و مکانی بھی نہیں ہے، اس کی جگہ کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔اس عالم کے وجود کے لیے احادیث میں بے شمار اشارے ملتے ہیں۔ یہاں طوالت کے خوف سے صرف دو مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

پہلی مثال

نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

  یُجاء بالموت یومَ القیامۃِ کأنہُ کبشٌ أملحُ ، …  فَیؤمرُ بہِ فیُذبِحُ  (المسلم، کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا أھلھا، باب : النار یدخلھا الجبارون والجنۃ یدخلھا الضعفاء)

قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا اس کی صورت چتکبرے مینڈھے جیسی ہوگی اور حکم خداوندی سے اس کو ذبح کردیا جائے گا۔ موت ایک امر ربی ہے ، جو معنوی چیز ہے، لیکن عالم مثال میں اس کو مینڈھے کی صورت دے کر ذبح کیا جائے گا۔

دوسری مثال

قَالَ النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم : مارأیتُ فی الخیرِ والشر کالیوم قط،إنہ صورت لی الجنۃُ والنار، حتیٰ رأتُھما وارء الحائط۔ (البخاری، کتاب الدعوات، باب التعوذ من الفتن)

جب سورج گہن ہوا تھا اور آپ نماز پڑھارہے تھے ، تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے والی دیوار میں جنت و جہنم کی تصویر دیکھی۔اب ظاہر ہے کہ جنت و جہنم کا جو طول و عرض ہے ، وہ ایک دیوار میں نہیں سماسکتا، تو یہی کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ منظر آپ  ﷺ کو عالم مثال سے دکھائی ہے۔

سائنس کی شہادت

جدید ٹکنالوجی نے اس مئلے کو سمجھنا اور آسان کردیا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں کلو میٹر دور کہیں ایک بہت بڑے میدان میں پروگرام ہورہا ہوتا ہے، بذریعہ ٹی وی اس کو لائیو دکھایا جاتا ہے۔ ٹی وی کی اسکرین کچھ انچوں کی ہوتی ہے ، اس کے باوجود اس میںبڑے بڑے میدان اور بڑی بڑی سائز کی چیزوں کا ہوبہو عکس سماجاتا ہے، تو جو ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اصل نہیں ہوتا اور نہ ہم سے قریب ہوتا ہے ، اس کے باوجود اسے ہم جھوٹ یا غیر واقعی نہیں کہہ سکتے، تو اب اس کو کیا کہاجائے گا؟ یقینا اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی تمثیل ہے اور یہی عالم مثال ہے۔

تمہید سوم: فرشتے اور شیاطین

فرشتے اور انسان کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یہ فرشتے اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ  ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلتف فرشتوں کو الگ الگ کاموں پر لگا رکھا ہے ، تاکہ نظام کائنات پوری طرح اپنے محور پر چلتا رہے۔ان فرشتوں کا وجود انسانوں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا کہ جب کوئی معزز مہمان آتا ہے، تو اس کی شایان شان آرائش و زیبائش اور استقبال کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جب اشرف المخلوقات کو اس دنیا میں خلیفہ بناکر بھیجنا تھا ،تو اس کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اس کائنات کے نظام کو منظم کیا ، تاکہ جب وہ آجائے ، تو فرشتوں کے ذریعے اس کی مصلحتوں کی تکمیل ہو۔

فرشتے کی دو قسمیں ہیں : (۱)عالم بالا کے فرشتے ۔ (۲) عالم زیریں کے فرشتے۔

عالم بالا کے فرشتے

عالم بالا کے فرشتے تین طرح کے ہوتے ہیں: (۱) نورانی فرشتے۔ (۲) اعلیٰ درجے کے عنصری فرشتے۔ (۳)  اعلیٰ درجے کے انسانی نفوس۔

نورانی فرشتے

یہ وہ فرشتے ہوتے ہیں، جن کے جسموں کو نور سے بنایا جاتا ہے اور ان میں اعلیٰ قسم کی روح پھونکی جاتی ہے۔یہ عموما عالم بالا اور عرش پر رہتے ہیں، تاہم گاہے بگاہے زمین پر بھی اترتے ہیں۔ ان فرشتوں کے تعلق سے گناہ اور بہیمی حرکتوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،کیوں کہ نوری مادے میں گناہ کی طاقت و صلاحیت ہی نہیں ہوتی ہے۔

اعلیٰ درجے کے عنصری فرشتے

یہ ایسے فرشتے ہوتے ہیں، جن کے اجسام نور کے نہیں ؛ بلکہ عناصر اربعہ (آگ، مٹی پانی ، ہوا) کے بھاپ سے بنائے جاتے ہیں، پھر ان میں بہترین ارواح ڈالی جاتی ہیں۔ یہ فرشتے بھی پہلے قسم کے فرشتے کی طرح بہیمی گندگیوں سے پاک و صاف ہوتے ہیں۔

اعلیٰ درجے کے انسانی نفوس

اس سے مراد اونچے درجے کے انسانوں کی روحیں ہیں، جیسے انبیا اور بڑے بڑے اولیاء اللہ کی روحیں، جو اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے ملأ اعلیٰ کے قریب قریب ہوتے ہیں۔ جب ان کی وفات ہوجاتی ہیں، تو ان کی روحوں کو عالم بالا کے فرشتوں میں شامل کرلیا جاتا ہے۔جیسے آں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا تھا ۔ یہ عالم بالا کے فرشتوں کے ساتھ پرواز تھی۔

عالم بالاکے فرشتوں کے کارنامے

عالم بالا کے فرشتوں کے تین کام ہوتے ہیں: 

پہلا کام

یہ فرشتے ہمہ وقت صرف اور صرف خدائے بزرگ و برتر کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی توجہ اتنی گہری ہوتی ہے کہ وہ کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ یہ ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔

دوسرا کام 

زمین میں چل رہے جو نظام اللہ تعالیٰ کو پسند ہوتا ہے، اس کے حق میں یہ دعائے خیر کرتے رہتے ہیں اور جو نظام خدا تعالیٰ کو ناپسند ہوتا ہے ،ا س کے لیے بد دعائیں کرتے ہیں اور ان پر لعنتیں بھیجتے ہیں۔ جیسے اعمال صالحہ کا نظام اللہ تعالٰی کو پسند ہے ، تو اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں اور کفر کا نظام خدا تعالیٰ کو پسند نہیں، تو اس سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ مصائب و آلام میں گرفتار ہوتا ہے۔

تیسرا کام

اونچے درجے کے فرشتوں کے انوار روح اعظم کے پاس جمع ہوتے ہیں، جس کے بے شمار منھ ہیں اور بہت سے زبانوں میں بات کرتے ہیں ۔ فرشتوں کی روحیں وہاں جمع ہوکر شئی واحد بن جاتی ہیں، جس کا نام حظیرۃ القدس (بارگاہ مقدس )ہے۔یہ بارگاہ مقدس خدا تعالیٰ کے امر و حکم سے یہ طے کرتی ہے کہ انسانوں کو دینی و دنیوی  نقصانات سے بچانے کے لیے کیا تدبیر اختیار کیا جائے، چنانچہ اس کے لیے تین طرح کے فیصلے کیے جاتے ہیں:

(۱) لوگوں کی صلاحیت کے مطابق ان کے دلوں میں الہام کرکے طریقۂ کار بتایا جاتا ہے۔

(۲) لوگوں کو ایسی ذہنی قابلیت یا علم لدنی عطا کردی جاتی ہے، جس کے ذریعے قوم کے لیے صلاح و فلاح اور بھلائی و ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں ۔

(۳) کوئی ایسی شخصیت پیدا کی جاتی ہے، جو لوگوں کے لیے قابل تقلید بن جاتی ہے ۔ پھر اس کے اور اس کے ساتھ دینے والوں کے لیے حالات سازگار کردیے جاتے ہیں۔ اور ان کی مخالفت کرنے والوں کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوپاتی۔

عالم زیریں کے فرشتے

 یہ فرشتے عالم بالاکے فرشتوں سے کم درجے اور رتبے والے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق عناصر اربعہ کے لطیف بخارات سے کی جاتی ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ہر وقت عالم بالا سے ملنے والے احکامات کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور جوں ہی انھیں کوئی حکم ملتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ تعمیل حکم ان کا فطری تقاضہ اور جذبہ ہوتا ہے۔ 

یہ فرشتے انسانوں اور جانوروں کے دلوں میں اثر ڈالتے ہیں، جس سے وہ ارادۂ خداوندی کے مطابق ہروہ کام کرنے پر امادہ اور مجبور ہوتے ہیں، جو ان کی تقدیر وں کا حصہ ہتے ہیں۔

شیاطین

 اس کائنات میں انسان اور فرشتوں کے علاوہ ایک اور جماعت ہے، یہ شیطانوں کی جماعت ہے۔ جب عناصر اربعہ کی ظلمانی بخارات میں سڑن اور بدبو پیدا ہوجاتی ہے، تو وہ نفوس کا تقاضا کرتے ہیں، چنانچہ قالب کے مطابق ان میں روحیں ڈال دی جاتی ہیں،جیسے کہ گندی نالی کی مٹی میں سڑن اور تعفن پیدا ہوجاتا ہے تو خود بخود مچھر اور کیڑے مکوڑے پیدا ہونے لگتے ہیں۔شیطان برے خیالات کا سرچشمہ ہوتا ہے، یہ نیکی اور خیر سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ اس کی کوشش ہمیشہ فرشتوں کی کوششوں کے برخلاف ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کے دلوں میں گناہوں اور برے اخلاق کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور اور دنیاو آخرت میں تباہی کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔

خلاصۂ کلام

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہاں تین بنیادی مخلوق ہیں: فرشتے، شیطان اور انسان۔فرشتے کی سرشت میں سراسر خیر  ہے، شر کا کوئی بھی عنصر نہیں ہے، اس لیے یہ گناہ کی قدرت نہیں رکھتے۔شیطان کی فطرت شر محض ہے، اس لیے خیر کا کوئی جذبہ اس میں نہیں پایا جاتا ۔ اگر ظاہری طور پر شیطان کا کوئی کام خیر پر مبنی نظر آئے ، تو یقینا وہاں پر اس سے بڑا شر پوشیدہ ہوگا، جیسے کہ شیطان نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک دن تہجد کی نماز چھوٹنے پر دوسرے دن خود ہی جگانے کے لیے آگیا تھا، تاکہ ان کے تضرع و توبہ سے جو رتبہ بڑھ گیا تھا ، وہ بلند رتبہ دوبارہ نہ مل سکے۔ اور انسان دونوں صفتوں کا سنگم ہے۔ اس کے اندر خیر کا بھی مادہ ہے اور شر کی بھی صلاحیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان کی عقل و فکر پر شر کی قوت غالب اور خیر کی قوت مغلوب ہوجاتی ہے، تو یہ شیطان سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، لیکن جب شر کی قوت پر فتح پالیتا ہے اور خیر کی قوت و صلاحیت آگے بڑھ جاتی ہے ، تو اس کا درجہ فرشتوں سے بھی بالا ہوجاتا ہے۔

انھیں تینوں مخلوقات: انسان، فرشتے اور شیاطین اور انھیں تینوں صفات: خیر، شر اور ان دونوں کے مجموعے کی بنیاد پر مقام و مسکن بھی تین ہی بنائے گئے ہیں؛ پہلا جنت ، جو خیر محض ہے، دوسرا جہنم، جو سراسر مقام شر ہے اور تیسرا دنیا ، جو خیروشر دونوں کا سنگم ہے۔ 


فلسفہ اسلام قسط اول

 محمد یاسین جہازی

حکمت شرعیہ کی تعریف

جس اصول و فن کے ذریعے قوانین اسلام اور اصول دین کی وضع کی علت و حکمت معلوم ہوتی ہے، اسے حکمت شرعیہ کہاجاتا ہے۔احکام اسلام میں کچھ فرائض ہیں اور کچھ وجوب، استحباب ، کراہت وغیرہ ۔ اور ان کے الگ الگ مراتب و درجات ہیں ، اس فن میں ان تمام چیزوں کے اصول و فروع کو بحث کا موضوع بنایا جاتا ہے۔

حکمت شرعیہ کا موضوع

احکام شرعیہ کی حکمتیں اور علتیں  اور اسلامی اعمال و احکام کی خصوصیات اور ان کے رموز و نکات اس فن کے موضوعات میں شامل ہیں۔

غرض و غایت

اس فن کی دو غرض و غایت ہے : ایک عام اور دوسری خاص۔

عام غرض و غایت

تمام اسلامی علوم و فنون کی طرح اس کا بھی عام مقصد یہی ہے کہ اس کے مطالعہ سے سعادت دارین حاصل ہوجائے ۔اور دونوں جہان کی نیک بختی اور کامیابی کا ذریعہ بنے۔

خاص غرض و غایت

احکام اسلام میں بصیرت کی کیفیت پیدا کرنا اس کا خاص مقصد ہے؛ کیوں کہ جو کوئی اعمال اسلامی کی علت و اسرار اور اس کی عقلی توجیہات سے واقف ہوتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتا؛ بلکہ وہ اس یقین کے ساتھ عمل کرتا ہے کہ یہی فطرت کا تقاضا ہے۔ اس کے خلاف کرنا گویا فطرت سے بغاوت کا اعلان ہوگا۔

حکمت شرعیہ کے فائدے

اس علم  کے سر دست تین فائدے ہیں:

(۱) شریعت کے اسرار و رموز سے واقف شخص پورے دین کو علیٰ وجہ البصیرت سمجھ سکتا ہے اور دوسروں کو اس دین کا قائل کرسکتا ہے۔

(۲) اس علم سے واقف شخص غلط عقائد اور کج قیاس آرائیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ وہ ہرعقیدے کو پہلے فطرتی اصولوں پر پرکھتا ہے۔ پھر عقلی تقاضے کے مطابق اس کے صحیح ہونے اور غلط ٹھہرانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ وہ دینی معاملہ ہے ، اس کے آگے سر خم تسلیم نہیں کرتا؛ بلکہ پہلے اس کو خوب ٹٹولتا ہے، پرکھتا ہے ، پھر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔

(۳) حکمت شرعیہ جان لینے سے ایمان میں پختگی پیدا ہوجاتی ہے اور مومن کا یقین بالائے یقین ہوجاتا ہے۔

شریعت کا کوئی بھی حکم مصلحت سے خالی نہیں

قرآنی احکامات اور تعلیمات نبوی علیہ السلام پر غور کیا جائے ، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ خدائے برتر و حکیم کا کوئی بھی حکم مصلحت سے خالی نہیں ہے۔ شریعت جہاں انسان کی رہ نمائی کے لیے کوئی مسئلہ بیان کرتی ہے، وہیں اسی مسئلے میں اس کے لیے دنیوی فوائد بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ہر مسئلے کی مصلحت معلوم ہو یا نہ ہو؛ کیوں کہ شریعت اسلامیہ کے تمام اوامر و نواہی کا آمر و حاکم حکیم و علیم ہے اور حکیم کا کوئی بھی کام حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دین وشریعت کے کسی حکم میں کوئی دنیاوی ضرر ہو ۔ 

اسی طرح یہ امر بھی مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن اعمال پر جو بھی جزا یا سزا مقرر فرمایا ہے ، ان کے درمیان گہری مناسبت ہوتی ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا کہ انسان عمل کچھ کرے اور اس کی جزا کچھ اور دیا جائے؛بلکہ جزاو سزا عمل کے مطابق ہی دیا جاتا ہے۔ بے شمار قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں اس کے شواہد ملتے ہیں، جس کا تفصیلی بیان آگے کی صفحات میں آرہا ہے۔

مسائل کے ساتھ مصالح کا تذکرہ

احادیث میں جابجا مسائل کے ساتھ مصالح کا تذکرہ ملتا ہے۔ بعض موقعوں پر خود زبان نبوت مصلحتوں کا ذکر کرتی نظر آتی ہے، جب کہ بعض دیگر مواقع پر صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین بھی احکام کی علتیں بیان کرتے تھے۔ تابعین اور تبع تبعین نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا اور ان کے بعد علمائے مجتہدین بھی برابر احکام کی مصلحتیں بیان کرتے رہے ہیں۔ہر دور کے علما بھی اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے احکام کے وجوہ و معانی سمجھاتے رہے ہیں اور اپنے دور کے مقتضیات کے مطابق قرآن و احادیث سے مسائل کے ساتھ ان کی مصلحتیں اخذ کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الگ الگ دور کے علمائے کرام کی تحریروں میں ان کے زمانے کے رنگ سے ہم آہنگ مسائل کے ساتھ مصالح کا تذکرہ ملے گا۔اگر فلسفہ کا دور رہا ہے ، تو اس زمانے کے علمائے کرام کی تحریروں میں یہی رنگ نمایاں نظر آئے گا۔ اور اگر مادیاتی اور عقلیاتی دور کی باتیں کریں، تو یہاں بھی یہی عکس نمایاں دکھائی دیگا۔

اعمال پر عمل کرنے کے لیے مصلحتوں کا جاننا ضروری نہیں

اگرچہ یہ امر مسلم ہے کہ احکام میں مصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، لیکن ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی علتیں اور مصلحتیں بھی معلوم ہوں۔ یہ تو محض بصیرت پیدا کرنے اور ایمان میں تازگی بخشنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اس لیے کسی حکم سے پہلو تہی کرنے کے لیے یہ عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ ہمیں اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے، اس لیے اس پر عمل بے جا ہے۔ عمل آوری کے لیے بس یہی دلیل کافی ہے کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے پاک رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فرمایا ہے؛ البتہ اس کی تحقیق ضروری ہے کہ وہ حکم قرآن و یاحدیث سے صراحۃ یا استنباطا صحیح ہے نہیں۔ارشاد خداوندی ہے کہ  وَالَّذیْ إذا ذُکِّرُوا بِاٰیَاتِ رَبِّھَمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْھَا صُمّا وَّ عُمْیَانا (سورۃ: الفرقان، آیۃ: ۷۳، پ۱۹:)اللہ کے مخصوص بندوں کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب ان کو ان کے رب کی باتیںسمجھائی جاتی ہیں، تو وہ ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے، اس لیے احکام دین کا صرف سرسری مطالعہ یا غیر معتبر لوگوں سے سن لینا کافی نہیں ہے ، اس کی پوری تحقیق ضروری ہے ؛ لیکن جب تحقیق ہوجائے تو اب اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے دیر بھی نہیں لگانی چاہیے۔


25 Jan 2026

قائد جمعیت حضرت مولانا محمود اسعدمدنی صاحب ناظم عمومی و صدرجمعیت علمائے ہند کی قیدو بند

 قائد جمعیت حضرت مولانا محمود اسعدمدنی صاحب 

ناظم عمومی و صدرجمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ محض ایک تنظیمی روداد نہیں؛بلکہ یہ حریت فکر، قربانی اور برطانوی استعمار کے خلاف مسلسل جدوجہد سے عبارت ایک روشن باب ہے۔ اس جماعت کے دو کلیدی عہدوں: صدر اور ناظمِ عمومی کی یہ انفرادیت رہی ہے کہ ان پر فائز ہونے والی اکثر شخصیات نے نہ صرف تحریکِ آزادی کے دوران؛ بلکہ آزاد جمہوری بھارت میں بھی ملی و قومی مفادات کی خاطر زندان کی سختیاں جھیلیں۔

جمعیت علمائے ہند کی ایک صدی سے زائد کی تاریخ میں 19 شخصیات صدور اور نظمائے عمومی ہوئی ہیں،جن میں سے 16 شخصیات نے غلام ہندستان اور آزاد بھارت میں خواہ علامتی ہی کیوں نہ ہو قیدو بند کا سامنا کیا ہے ۔صرف تین شخصیات ہی اس سنت یوسفی سے مستثنی رہی ہیں ،جن کی جزوی تفصیل درج ذیل ہے: 

گرفتار ہونے والی 16 شخصیات:

1. شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ

2. مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند و اولین ڈکٹیٹر: دو مرتبہ۔

3. سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی و نائب صدر و صدر جمعیت علمائے ہند: پانچ مرتبہ۔

4. شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب ڈکٹیٹر ششم و صدر جمعیت علمائے ہند:  چار مرتبہ۔

5. مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: تین مرتبہ ۔

6. مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی ڈکٹیٹر سوم و ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: چار مرتبہ۔

7. فخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحب نائب صدر و صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ ۔

8. مورخ ملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب دیوبندی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: چھ مرتبہ۔

9. فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی و صدر جمعیت علمائے ہند: پانچ مرتبہ۔

10. حضرت مولانا سید احمد ہاشمی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

11. مولانا محمد اسرار الحق صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

12. مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ۔

13. مولانا ارشد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

14. فاتح قادیانیت حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ۔

15. قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی و صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ۔

16. مجاہد دوراں مولانا محمد حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

گرفتار نہ ہونے والی تین شخصیات:

ان کے علاوہ بقیہ درج ذیل تین شخصیات کبھی گرفتار نہیں ہوئیں:

1. ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب بہاری ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند ۔

2. حضرت مولانا عبد الوہاب صاحب آروی صدر جمعیت علمائے ہند ۔

3. مولانا عبد الرازق صاحب بھوپالی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند ۔

جشن جمہوریہ کی مناسبت سے ان شخصیات میں سے صرف ایک شخصیت قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم کی قیدوبند کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں:

 قائد جمعیت حضرت مولانا محمود اسعدمدنی صاحب 

12؍ اکتوبر1996ء میں،جناب محمد حنیف دائما کمار صاحب کی تحریک پر مجلس عاملہ نے حضرت مولانا محموداسعد مدنی صاحب کو ناظم تنظیم بنایا۔ بعد ازاںمجلس عاملہ منعقدہ: 9؍ نومبر1996ء سے بطور مدعوین خصوصی شرکت کا آغاز کیا۔بعد ازاں 24؍ دسمبر2001ء کو ناظم عمومی نام زد کیے گئے۔اور 7؍اپریل 2008ء تک اس عہدے پر رہے۔ پھر دو سال کے بعد 29؍دسمبر2010ء کو ناظم عمومی نام زد کیے گئے اور 26؍مئی 2021ء تک اس عہدے پر قائم رہے۔ بعد ازاں 27؍مئی 2021ء تا17؍ستمبر2021ء تک عارضی صدر چنے گئے۔ اور پھر 18؍ستمبر2021ء کو مستقل صدر بنائے گئے، جو تادم تحریر صدر جمعیت علمائے ہند ہیں۔

گرفتاری کے اسباب و وجوہات

20،21جون2002ء کو منعقد مجلس عاملہ نے طے کیا کہ اقلیتوں کے مطالبات پرمشتمل ایک میمورنڈم وزیر اعظم کو پیش کیا جائے اور اگر حکومت اس پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہ دے، تو اس کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے۔ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا محمود مدنی صاحب نے میمورنڈم کا ایک مسودہ پڑھ کر سنایا، اس کے ساتھ مجلس عاملہ کے سامنے مطالبات کی فہرست بھی پیش کی، جسے مجلس عاملہ نے منظوری دی۔

تحریک کا آغاز

مجلس عاملہ: 14؍ ستمبر2002ء میں ملک وملت بچاؤ تحریک کو مؤثر طریقہ پر چلانے کے لیے تحر یک کے کوآرڈینیٹر جناب مفتی اشفاق احمد اعظمی صاحبؒ نے اب تک کی کارگزاری رپورٹ پیش کی۔ میمورنڈم دیے جانے اور اس کے بعد کے حالات پر غور وفکر کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ چوںکہ موجودہ حالات میں تحریک ناگزیر ہوگئی ہے، اس لیے 2؍اکتوبر 2002ء سے اسے شروع کر دیا جائے۔چنانچہ 2؍اکتوبر2002ء سے تحریک کا آغاز کردیا گیا۔ چوں کہ چودہ دنوں تک یہ تحریک چلی اورمولانا محمود مدنی صاحب نے آخری دن اس کی قیادت کی، اس لیے تمام تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے ، چودھویں دن کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں:

تحریک کا چودھواں اور آخری دن

ہندستان کو فرقہ پرست طاقتوں سے بچانے اور ملک میں دستور اور قانون کا نظام قائم کرنے اور دلت و مسلمانوں کا استحصال بند کرنے جیسے اہم معاملات کو لے کر جمعیت علمائے ہند کی جانب سے چلائی جا رہی ملک و ملت بچاؤ تحریک کا پہلا دورتیس ہزار سے زائد لوگوں کی گرفتاریوں کے بعد 15؍اکتوبر2002ء منگل کو وزیراعظم کی رہائش گاہ پر زبردست مظاہرہ اور دھرنے اور نعروں کے درمیان اختتام پذیر ہو گیا۔ اس ملک و ملت بچاؤ تحریک کے تحت جیل بھرو مہم نے نہ صرف انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا؛ بلکہ موجودہ حکومت کی نیند بھی اُڑا دی ہے۔

15؍ا کتوبر کو جب پوری پولیس انتظامیہ جنتر منتر پر گرفتاریاں دینے والے جتھے کا انتظار کر رہی تھی، ملک و ملت بچاؤ تحریک کا ایک جم غفیر پرمشتمل دستہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر پہنچ گیا اور مانگوں کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی دیواروں سے ٹکرا کر پورے علاقہ میں گونج دیا۔ اس موقع پر جتھے میں شریک لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے نوجوان قائد زعیم ملت حضرت مولانا سید محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے فرمایا کہ کسی بھی عمارت کے استحکام کے لیے اس کے چاروں ستونوں کا مضبوط اور مستحکم ہوناا ضروری ہے۔ مسلمان بھی ملک کا ایک ستون ہیں۔ اس ملک کا مسلمان سیاسی، معاشی اور تعلیمی لحاظ سے ے کمزورہوگا، توملک بھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔

مولانا محمود مدنی دس ہزار تین سو تیرہ افراد پر مشتمل جیل بھرو تحریک کے آخری جتھے کی قیادت کر رہے تھے۔ مولانا محمود مدنی نے مزید کہا کہ آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں آئی ایس آئی کی ایجنٹ ہیں اور فرقہ پرستی کو بڑھاوا دے کر ملک کو کمزور ہی نہیں؛ بلکہ ملک سے غداری کا جرم بھی کر رہی ہیں، جس پر پابندی لگانا نہایت ضروری ہے۔ اگر ہندستان میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمانوں کو انصاف اور ان کا دستوری حق نہیں دیا گیا اور آئے دن نت نئے الزام لگا کر اسلام و شعائر اسلام کے خلاف گستاخانہ و مذموم پرو پیگنڈہ اور ان کے ساتھ نانصافی کی روش جاری رہی، تو ملک کمزور ہوگا؛ کیوںکہ اگر وطن عزیز میں مسلمان امن و چین سے نہیں رہ سکیں گے، تو پھر ملک بھی سکون سے نہیں رہ سکتا۔

 مولانا مدنی نے پر جوش انداز میں کانگریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اس ملک میں گجرات جیسی سیاہ تاریخ -جو دنیا بھر میں مادر وطن کے لیے بدنامی کا باعث بنی ہے- اسے دوبارہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں نہ دہرایا جائے، تو اپنی ریاستی حکومتوں میں مسلمانوں کے لیے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ریزرویشن، فسادات پر تین گھنٹوں میں قابو نہ پانے والے حکام و انتظامیہ کے افسران کی خود بخود معطلی اور ان کی جان کا دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق معاوضہ، مالی نقصانات کی بھر پائی اور فرقہ پرست تنظیموں پر پابندی کا قانون بنائے، تا کہ اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو یہ اطمینان ہو کہ کانگریس جو وعدہ کرتی ہے ،اسے پورا کرتی ہے اور مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ میں دل چسپی رکھتی ہے۔ پچھلے دنوں کا نگریس کے زیر انتظام ریاستوں میں فسادات ہوئے، جن میں مہاراشٹر سب سے آگے ہے۔ مالیگاؤں فسادات کے وقت ہم نے ضلعی حکام اور افسران کی معطلی ،یا کم سے کم ان کے ٹرانسفر پر بار بار توجہ دلائی، ہم سے وعدہ بھی کیا گیا؛ مگر معطلی تو بڑی بات، ان کا برائے نام ٹرانسفر کر کے انھیں مالیگاؤں میں ہی اسپیشل آفیسر برائے تحقیقاتی کمیشن بنا کر دوبارہ وہیں مقرر کر دیا، جس کی بنا پر مہاراشٹر میں فسادات کا سلسلہ برابر جاری ہے۔

 وزیر اعظم کی رہائش گاہ حالاںکہ ہائی سیکورٹی والے علاقہ میں ہے ؛لیکن تحریک کے جیالے رضا کار اپنے مجاہد کمانڈر کی رہنمائی میں جس عزم و حوصلہ کے ساتھ اس سیکورٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، وہ منظر بڑاقابل دید تھا۔ سینکڑوں بسیں، دس ہزار سے زائد افراد کو لے کر اس علاقہ میں گھس گئیں اور سب لوگ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ شروع میں کچھ نعرے بھی لگائے گئے؛ مگر بعد میں قائدین کی ہدایت کی ہدایت پر ہر شخص کو درود پاک کا خاموشی کے ساتھ وارد کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس سے وہ سیکورٹی افسران بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ جہاں جمعیت علمائے ہند کے ان رضا کاروں کی جرأت پر حیران تھے، وہیں دوسری طرف مظاہرین اور دھرنا دینے والوں کے خلاف کارروائی کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے۔ مگر ہر افسر کی زبان پر صرف ایک ہی سوال تھا کہ ایسے پر امن اور پر سکون مظاہرین پر آخر کس طرح وہ کارروائی کریں۔ اس دوران کئی مرحلے ایسے بھی آئے، جب محسوس ہونے لگا کہ بعض بدطینت اور آر ایس ایس کے غلام افسران پر امن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کرنے والے ہیں ؛مگر آخرکار قائد ملت مولانا محمود مدنی کے اس انتباہ کے بعد کہ ہمیں جو کرنا تھا، وہ ہم کر چکے ہیں۔ اب جو آپ کرنا چاہیں، وہ کریں؛ مگر اس کے لیے جو نتائج ہوں گے، اس کی تمام تر ذمہ داری آپ کی اور حکومت کی ہوگی۔ افسران کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ تقریباً دو گھنٹے بعد وزیر اعظم ہاؤس کے افسران میں حرکت پیدا ہوئی اورانھوں نے پیشکش کی کہ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر وجے گوئل سے گفتگو کے لیے ایک وفد وزیرا عظم ہاؤس آئے۔ چنانچہ جمعیت علمائے ہندکے محترم صدرا میرالہند مولانا مدنی مدظلہ -جو اس تحریک  کے روح رواں بھی ہیں-کی قیادت میںدس رکنی وفد نے -جس میں امیر الہندکے علاوہ مولانا محمود مدنی، حافظ محمد صدیق، مولانا نیاز احمد فاروقی، مولانا حیات اللہ قاسمی، مفتی محمد اشفاق اعظمی، مولانا عبدالحق گجرات، مولانا متین الحق اُسامہ کانپور، مولانا قاری شوکت علی اور جناب شیخ علیم الدین اسعدی شامل تھے -مسٹر گوئل سے ملاقات کی۔ مسٹر گوئل نے وفد کو یقین دلایا کہ جلد ہی وزیر اعظم سے آپ حضرات کے مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

 مسٹر گوئل کی اس یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ تاہم امیر الہند مدظلہ نے یہ صاف کر دیا کہ اگر ہمارے مطالبات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی اور ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہ کیا گیا، تو ہم اس ملتوی شدہ تحریک کو دوبارہ شروع کریں گے اور اس وقت تک جاری رکھیں گے، جب تک حکومت ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی۔ 

امیر الہند مدظلہ نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے وزیر اعظم کی طرف سے اپنی جائز مانگوں کا کوئی جواب نہ ملنے کے بعد ہی یہ قدم اُٹھایا۔ آج ملک میں دستوری حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ قانون اور امن کی حالت خراب ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں عروج پرہیں۔ دلتوں، مسلموں پر ظلم ہو رہے ہیں۔ یہ سب بند ہونا چاہیے اور دنگوں کی ذمہ داری انتظامیہ پر ڈالی جانی چاہیے۔ اقلیتوں کے جان و مال کا معقول معاوضہ دیا جانا چاہیے اور مسلم فرقہ کو نوکریوں میں، تعلیم میں، فوج، پولیس میں، سیاست میں؛ یہاں تک کہ ہر شعبہ میں ریز رویشن دیا جانا چاہیے۔

 امیر الہند نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر موجود ہزاروں لوگوں کے ساتھ ملک و ملت کی سلامتی اوراپنے مطالبات کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی، جس کے بعد پورا مجمع بسوں میں سوار ہو کر نظام الدین کالی مسجد کی طرف روانہ ہو گیا، جہاں ان کے قیام و طعام کا بندو بست تھا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،25-31؍اکتوبر2002ء)

 گرفتاری

ملک و ملت بچاؤ تحریک کے آخری دن کے قائد مولانا محمود مدنی صاحب اور ان کے دیگر رفقا کو 27؍نومبر2006ء کو گرفتار کرکے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں 11؍دسمبر 2006ء کو رہائی عمل میں آئی۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے الجمعیۃ کی یہ مکمل رپورٹ:

مسلم مسائل؛ بالخصوص مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں ریزرویشن ،شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جامع قانون اور مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کرنے اور مین اسٹریم میں لانے کے لیے ضروری اقدامات کرے جیسے مطالبات کو لے کر2؍ اکتوبر سے 15اکتوبر2002ء تک ملک وملت بچاؤ تحریک شروع کر کے گرفتاریاں دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جب حکومت نے تیرہ دنوں تک کوئی توجہ نہیں دی، تو ہم نے استحصال زدہ مظلوموں کے حقوق و اختیارات پر گونگی بہری سرکار کو توجہ دلانے کے لیے تحریک کے آخری دن 15؍اکتوبر 2006ء کو وزیر اعظم ہاؤس پر دھرنا اور گرفتاریاں دیں۔ حکومت نے اس اقدام کو سیکورٹی کے مسئلے سے جوڑ کر جرم مانتے ہوئے خاکسار (مولانا محمود مدنی )سمیت دیگر خدام جمعیت علمائے ہند کے خلاف عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔

جب وارنٹ آیا، تو ہم ملت کی آواز کو بلند رکھنے اور اس کے مفاد میں عدالت سے ضمانت نہیں کرائی۔ نتیجتا27؍نومبر 2006ء کومولانا محمود مدنی صاحب کو دیگر ارکان جمعیت کے ساتھ 11؍ دسمبر 2006ء تک کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔

 جیل جانے سے کچھ قبل میں (مولانا محمود مدنی )نے میڈیا کے سامنے اعلان کیا کہ ایک جمہوری اور آزاد ملک میں جائز مطالبات کو لے کر جد و جہد کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ اگر مظلوموں، محروموں کے حق کی لڑائی کوئی جرم ہے، ہم اس کو بار بار کریں گے اور اس کے لیے ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ 

پٹیالہ کورٹ میں پیشی پر بیان دیا کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، اس لیے ضمانت بھی نہیں کرائیں گے۔ اس بیان کے بعدمولانا محمود مدنی کو ان کے دیگر رفقا: مولانا حیات اللہ قاسمی صدر جمعیت علمائے یوپی، مولاناقاری شوکت علی نائب صدر جمعیت علمائے یوپی، جناب حافظ محمد صدیق جنرل سکریٹری جمعیت علمائے یوپی اور سابق منسٹر یوپی، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیت علمائے ہند، شیخ علیم الدین اسعدی کے ساتھ11؍ دسمبر 2006 ء تک تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ (سکریٹری رپورٹ، ص؍57-58۔ بموقع مجلس منتظمہ،5؍اپریل 2008ء)

سرکردہ افراد اور مسلم تنظیموں کا ردِّعمل 

مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے چلائی گئی تحریک پر ایف آئی آر درج کرنا اور پھر گرفتاری بہرحال اچھی بات نہیں کہی جاسکتی، جمہوری ملک میں ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے اور حق چھیننا ناانصافی ہے۔ قانون کے اطلاق میں بہت ساری باتوں کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ مولانا محمود مدنی کی گرفتاری پر مختلف شخصیات نے مذکورہ ردِّعمل کا اظہار کیا۔ 

جماعت اسلامی ہند کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل مجتبیٰ فاروق نے کہا کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تنظیم کے رہنما کے ساتھ یہ سلوک انتہائی تکلیف دِہ ہے۔ بہت بڑے بڑے مجرموں کے کیس خارج ہوئے ہیں۔ یہاں موضوع کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا۔

مرکزی جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا فضیل احمد قاسمی کا کہنا تھا کہ وہ تحریک حقیقت میں مظلوموں اور خصوصاً مسلمانوں کے حق میں تھی اور چوںکہ جمہوری حق کا استعمال کیا گیا تھا، اس لیے گرفتاری اور ایسے معاملے پر کیس درج کرنا ناانصافی ہے۔

 انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے چیئر مین ڈاکٹر منظور عالم نے ردِّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی پس ماندگی کی آواز حکومت کے ایوان تک پہنچانے کی وہ ایک کوشش تھی اور اس میں بظاہر کامیابی بھی ملی۔ جہاں تک معاملہ عدالت کا ہے، تو وہ حقائق اور شواہد پر کام کرتی ہے۔ ایک اچھا کام بھی اگر ممنوعہ علاقہ میں کیا جائے، تو بہرحال قانون کی فنکشننگ وہاں چالو ہوجاتی ہے۔ میں ان کے ذریعہ چلائی گئی تحریک کی قدر کرتا ہوں۔

مولانایاسین اختر مصباحی کا کہنا تھا کہ اگر انصاف کی طلب میں اُٹھایا جانے والا ان کا قدم خلافِ قانون نہیں تھا، تو ان کے ذریعہ دی جانے والی گرفتاری میں ان کی حکمت عملی ہوگی اور اس حکمت عملی کا بعد میں جو بھی نتیجہ ہو سامنے آئے گا۔ جہاں تک سوال مسلمانوں کی پس ماندگی اور ان پر مظالم کے خلاف آواز اُٹھانے کا ہے، وہ بہرحال جاری رکھنا چاہیے۔

مولانا سیّد عقیل الغروی نے کہا کہ انھیں جیل بھیجنا بڑے، افسوس کی بات ہے، اور میں تہہ دل سے اس کی مذمت کرتا ہوں۔ قانون کے نفاذ میں ہر پہلو کا لحاظ رکھا جانا چاہیے اور اس وقت مسلمانوں کے حقوق کے لیے اٹھائی گئی ان کی کوشش کے خلاف کیس بنانا اور بطور مجرم قانون کا ان پر اطلاق قانون کو غیر انسانی بنانے والی بات ہے۔

شاہی امام مولانا سیّد احمد بخاری نے مولانا محمود مدنی کو جیل بھیجے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات اور ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کرنے پر جو مقدمہ قائم کیا گیا تھا، ملک کی سیکولر سرکار نے اسے آج تک واپس نہیں لیا، جس کی وجہ سے وارنٹ گرفتاری جاری ہوا اور عدالت نے انھیں چودہ روز کے لیے جیل بھیج دیا۔ جمہوریت میں ظلم و زیادتی کے خلاف پرامن احتجاج واحد راستہ ہے اور مولانا محمود مدنی نے احتجاج کرنے کا پرامن راستہ اختیار کرکے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ انھوں نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ مولانا مدنی کے خلاف مقدمہ فوراً واپس لیا جائے اور مولانا کو باعزت رہا کیا جائے۔

شاہی مسجد فتح پوری کے امام ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے مسلمانوں کے حقوق کے لیے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کرنے کی پاداش میں مولانا محمود مدنی اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی مسائل سے جڑے معاملے میں دھرنے، یا مظاہرے کرنا جمہوری حق ہے اور اس طرح کے معاملوں میں فوج داری کا مقدمہ درج کیا جانا قابلِ مذمت ہے۔ علمائے کرام کے ساتھ حکومت کا یہ رویہ تضحیک آمیز اور شرم ناک ہے۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کرکے مقدمہ واپس کرائے اور مولانا محمود مدنی کی باعزت رہائی کو یقینی بنائے۔

 آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے مولانا محمود مدنی کو چودہ دن کے لیے جیل بھیجے جانے پر اپنا ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ لیتی ہیں؛ لیکن مرکزی حکومت چاہتی، تو یہ نوبت نہ آتی۔ یہ مقدمہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوران درج کیا گیا تھا، اس پر یوپی اے حکومت کو غور کرتے ہوئے اسے واپس لے لینا چاہیے تھا۔ مولانا محمود مدنی کو اس طرح سے جیل بھیجے جانے سے مسلمانوں میں حکومت کے تئیں اچھا پیغام نہیں گیا ہے۔

آل انڈیا مسلم ایکتا کمیٹی کے چیئرمین قاضی اکرام حسن نے مولانا محمود مدنی کے خلاف اس طرح کا مقدمہ درج کیے جانے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کی پاداش میں اس طرح کا مقدمہ درج کیا جانا حکومت کی بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔ مرکزی حکومت کو اس سلسلے میں فوری طور پر قدم اُٹھاتے ہوئے اس مقدمہ کو خارج کرا دینا چاہیے اور مولانا محمود مدنی کو باعزت طور پر رِہا کرنا چاہیے۔

جمعیت علمائے صوبہ دہلی کے نائب صدر عتیق صدیقی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس مقدمے کو واپس لے لے۔ انھوں نے مولانا مدنی کے اس بیان کی حمایت کی کہ مظلوموں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانا، مظاہرہ کرنا، یا گرفتاری دینا کوئی جرم نہیں ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی مولانا مدنی کو جیل بھیجے جانے پر احتجاج کیا ہے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سیّد نظام الدین نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں روزانہ مظاہرے ہوتے رہتے ہیں، اس میں توڑ پھوڑ بھی ہوتی ہے اور تشدد بھی ہوتا ہے، مگر پولیس کی طرف سے بہت شدت دیکھنے میں نہیں آتی۔ ملک میں امن و انصاف کو قائم رکھنے کے لیے ظلم و زیادتی کے خلاف اگر کوئی احتجاج کیا جاتا ہے، تو یہ ایک جمہوری حق ہے، یہ کوئی جرم نہیں۔ انھوں نے مانگ کی مقدمہ واپس لیا جائے اور مولانا اور ان کے رفقا کو جلد سے جلد رِہا کیا جائے۔

جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کو گرفتار کرکے جیل بھیجے جانے کی خبر نے ان کے اپنے ضلع سہارنپور میں زبردست تناؤ پیدا کردیا ہے۔ اور بے شمار تنظیموں نے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔قصبہ سرسادا میں جمعیت کے کارکنان سب سے زیادہ غصہ میں نظر آئے اور سرسادا میں حالات کسی بھی وقت ہنگامہ خیز ہوسکتے ہیں۔

مدرسہ مظاہر علوم وقف کے شیخ الحدیث علامہ عثمان غنی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم کی مدد کرنا انسانیت کا فریضہ ہے۔ اگر کانگریس حکومت کی نگاہ میں مظلوموں کی طرف سے آواز اُٹھانا جرم ہے، تو ہم لوگ یہ جرم بار بار کرنے کو تیار ہیں۔ مولانا محمود مدنی نے اپنے دادا مولانا حسین احمد مدنیؒ اور اپنے والد مولانا اسعد مدنیؒ کی سنت پر عمل کیا ہے۔ کانگریس کی موجودہ بے حس لیڈر شپ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ کی تاریخ کو بہت غور سے پڑھنا چاہیے کہ ہندستان کی آزادی میں ان کا کیا رول رہا ہے۔

مدرسہ مظاہر علوم جدید کے ترجمان مولانا محمد نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مدنی خاندان ہمیشہ ہی ظالم کے خلاف سینہ سپر ہوا ہے، خواہ اس کے لیے انھیں کتنی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑی ہوں۔

ضلع سہارنپور کی معروف دینی درس گاہ معہد اصغر ناظرپورہ کے سرپرست و بانی مولانا عبدالخالق مظاہری نے مولانا محمود مدنی اور ان کے رفقاکے خلاف اس مقدمہ اور اس کی پاداش میں اسیری کو ملک و ملت کے لیے ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے مولانا مدنی کی جرأت و ہمت کی تعریف کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مقدمہ کو فوراً واپس لے کر مولانا مدنی اور ان کے ساتھیوں کو فوراً رہا کرے۔

جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد اختر صاحب قاسمی نے مولانا مدنی اور ان کے رفقا پر مقدمہ قائم کرنے اور انھیں جیل بھیجنے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کے آئین میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا ملک کے ہر شہری کا دستوری حق ہے اور اگر جمعیت علمائے ہند اور اس کے کارکنوں نے یہ کیا ہے، تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ مقدمہ فوراً واپس لیا جائے اور ان بے گناہ اسیروں کو رہا کیا جائے۔

آل انڈیا علما مورچہ کے صدر مولانا یاد الٰہی میرٹھی نے کہا کانگریس ہمارے ضبط کا امتحان نہ لے؛ کیوںکہ اگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا، تو ملک میں کانگریس کا کوئی نام لیوا بھی نہیں رہے گا۔

کیرانہ میں مولانا محمود مدنی کی گرفتاری پر کیرانہ اور قرب و جوار میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ جمعیت علما کے شہر صدر مولانا قاری نعمت اللہ قاسمی نے کہا کہ کانگریس برسرِاقتدار آئی، تو اس معاملہ کو واپس لے سکتی تھی؛ لیکن نہیں لیا۔اس پارٹی نے یوپی انتخابات جیسے نازک اور حساس موقع پر اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔ ہم تن من دھن سے اس نازک گھڑی میں جمعیت کے ساتھ ہیں۔ 

جمعیت علمائے ضلع میرٹھ کی ایک ہنگامی میٹنگ ضلع صدر غلام محمد مصطفی کی صدارت میں منعقد کی گئی، جس میںمولانا سیّد محمود مدنی کی گرفتاری پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا اور اسے حکومت کی سازش قرار دیا۔ 

جمعیت علمائے رامپور کے مقامی دفتر میں مولانا محمود مدنی کی گرفتاری پر اظہارِ غم کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ جس جرم میں مولانا کو جیل بھیجا گیا ہے ،اس میں مولانا اور ان کے ساتھیوں کا قصور صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کی آواز اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اسی پاداش میں ان پر مقدمہ قائم ہوا۔ عدالت نے ان سے کہا کہ وہ اپنی ضمانت کرالیں؛ لیکن انھوں نے اس وجہ سے انکار کردیا کہ جب انھوں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے، تو ضمانت کیوں کرائیں۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،8-14؍دسمبر 2006ء)

 رہائی 

11؍دسمبر2006ء کو آپ کی رہائی عمل میں آئی۔ اس سلسلے میں دیکھیے الجمعیۃ کی ایک مکمل رپورٹ:

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ ظلم کے خلاف اور مظلوموں کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ قوم کے لیے دو چار دن تو کیا؛ اگر دو چار، یا دس بیس سال بھی جیل میں رہنا پڑے، تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ نے اپنی زندگی کے نو سال جیل میں گزار دیے تھے۔

 یہ بات تہاڑ جیل سے رِہا ہونے کے بعد مسجد عبدالنبی میں واقع جمعیت علمائے ہند کے صدر دفتر میں اپنے استقبال کے لیے جمع ہوئے جمعیت علمائے ہند کے سینکڑوں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا محمود مدنی نے کہی۔ ان کے ساتھ جیل جانے والے دیگر پانچ افراد: حافظ صدیق سابق وزیر اُترپردیش اور جنرل سکریٹری جمعیت علمائے یوپی، مولانا حیات اللہ قاسمی صدر جمعیت علمائے یوپی، نیاز احمد فاروقی، قاری شوکت علی اور شیخ علیم الدین اسعدی بھی موجود تھے۔ 

واضح ہوکہ مرکزی حکومت نے 29؍نومبر کو اعلیٰ سطحی غور و خوض کے بعد جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن مولانا محمود مدنی سمیت آٹھ افراد کے خلاف 15؍اکتوبر2002ء میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرے کے دوران سیکورٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے متعلق مقدمہ کو واپس لے لیاہے، جس کے بعد مولانا محمود مدنی سمیت تمام چھ افراد کو آج شام تہاڑ جیل سے رہا کردیا گیا۔

مولانا محمود مدنی نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے اور انھیں ان کے واجب حقوق دیے جانے سے متعلق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو جلد ہی ایک نوٹس بھیجا جائے گا، جس میں انھیں تیس دن کی مہلت دی جائے گی۔ اگر اس دوران حکومت نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، تو اس کے بعد جمعیت علمائے ہند پوری طاقت سے ملک و ملت بچاؤ تحریک چھیڑ دے گی۔ جمعیت جس بات کو سالوں سے کہتی آرہی ہے، اب خود حکومت کی تشکیل کردہ جسٹس سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کو دلائل اور اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کردیا ہے۔ہمارے لیے وہ ایشوز بہت اہم ہیں، جن کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں اور اس کے لیے ہم کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارا جیل جانا اس کی ابتدا ہے۔ ان شاء اللہ جمعیت اور اس تحریک کے ذریعہ ملت کو عزت حاصل ہوگی۔

مولانا محمود مدنی کے خلاف دائر مقدمہ حکومت کے ذریعہ واپس لے لیے جانے کا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے خیرمقدم کرتے ہوئے کانگریس حکومت کے اس فیصلہ کی ستائش کی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے جذبات کا پاس رکھتے ہوئے اور اس سلسلے میں فوری طور پر قدم اٹھاتے ہوئے مقدمہ کو واپس لے لیا اور مولانا محمود مدنی سمیت تمام چھ افراد کی باعزت رہائی کی راہ ہموار کی۔

اس سے پہلے 27؍نومبر کو عدالت سے ضمانت نہ کرانے پر مولانا محمود مدنی سمیت چھ افراد کو حراست میں لے کرچودہ دنوں کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا، جب کہ دیگر دو ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوسکے تھے۔ دو بجے دن میں مولانا دیگر ملزمان کے ساتھ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سنجے بنسل کی عدالت میں پیش ہوئے۔ چوںکہ ملزمان کی طرف سے ضمانت کی عرضی عدالت میں پیش نہیں کی گئی، اس لیے مجسٹریٹ نے انھیں تحویل میں لے کر جیل بھیج دیا۔ تھانہ چانکیہ پوری، نئی دہلی میں دفعہ 188کے تحت درج یہ معاملہ 17؍اکتوبر 2002ء کو دائر ہوا۔ درج ایف آئی آر نمبر (268/02)کے مطابق ملزمان نے 15؍اکتوبر2002ء کو سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری باجپئی کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے دھرنا، مظاہرہ اور گرفتاریاں دی تھیں۔ عدالت میں پیش ہونے والوں میں مولانا سیّد محمود مدنی، سابق ممبر پارلیمنٹ حافظ محمد صدیق، محمد نیاز فاروقی، محمد حیات اللہ قاسمی، قاری شوکت علی اور علیم الدین اسعدی شامل تھے۔ دیگر ملزمان محمد متین الحق اُسامہ اور قاری اشفاق احمد عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جب کہ ملزان میں شامل جمعیت علمائے ہند کے سابق سرپرست و صدر امیر الہند حضرت مولانا اسعد مدنیؒ کا انتقال ہوچکا ہے۔

عدالت میں مولانا محمود مدنی اپنے سابقہ موقف پر اٹل رہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم نے جرم کیا ہی نہیں ہے، تو پھر ضمانت کی عرضی کا کیا مطلب۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات اور ان فسادات میں منصوبہ بند طریقے پر مسلمانوں کے جانی و مالی نقصانات، علاوہ ازیں آزادی سے اب تک کے ساٹھ برسوں میں اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی کے خلاف اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے ہم نے ان کی رہائش گاہ پر دھرنا و گرفتاریاں دی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے اس وقت ’’ملک و ملت بچاؤ تحریک‘‘ کے تحت ملک گیر پیمانے پر مہم چلاکر دھرنا، مظاہرہ اور گرفتاریاں دی تھیں۔ دس دنوں کی مہم کے دوران لاکھوں لوگوں نے احتجاج کیا تھا،جب کہ 15؍اکتوبر2002ء کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر مظاہرے میں تقریباً بارہ ہزار کارکنان شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے پھر کہا کہ مظلوموں اور پس ماندہ عوام کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کرنا اگر جرم ہے، تو یہ جرم ہم نے کیا ہے اور ہم بار بار کرتے رہیں گے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم نے آئین ہند میں ملے حقوق کے تحت جمہوری طریقے پر مظاہرہ و احتجاج کیا تھا، پھر یہ جرم کیسے ہوگیا۔ مجسٹریٹ کے ذریعہ 11؍دسمبر تک چودہ دِنوں کی جیل کے حکم کے بعد عدالت کے سامنے موجود مولانا کے حامیوں اور جمعیت علمائے ہند کے کارکنان نے نعرے بازی شروع کردی اور کافی دیر تک یہ معاملہ جاری رہا۔ بعد ازاں حامیوں نے تلک مارگ کو کافی دیر تک جام بھی رکھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مولانا کو اگر جیل ہی لے جانا ہے، تو عام مجرموں کی گاڑی میں نہ لے جائیں؛ لیکن جب انھیں پولیس نے سمجھایا کہ اس گاڑی میں ان کے معیار کا خانہ ہے، تو پھر جام کھول دیا گیا۔

 ادھر موقع پر موجود جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سیّد ارشد مدنی کا کہنا تھا کہ ظلم کے خلاف احتجاج کو بھی جرم بنا دیا گیا۔ ہم نے پُرامن اور آئین کے مطابق احتجاج اور جیل بھرو تحریک چلائی تھی اور تحریک کے آخری دن اسے جرم بنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ25 ؍ نومبر کو غیر ضمانتی وارنٹ کے بعد عدالت میں پہلی پیشی ہوئی تھی اور میٹروپولٹین مجسٹریٹ رویندر بیدی نے 27؍نومبر کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم سنایا تھا۔ اس معاملے میں مولانا محمود مدنی کے وکیل تنویر خاں اور محمد طیب خاں تھے۔

دریں اثنا جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی مدظلہ‘ نے مولانا محمود مدنی کی گرفتاری کے بعد پیدا ہوئی صورت حال پر کہا کہ پُرامن احتجاج اور اپنے حقوق کے لیے پرامن مظاہرہ کرنا ہر ہندوستانی شہری کا بنیادی حق ہے۔ اسی ضمن میں 15؍اکتوبر2002ء کو جمعیت علمائے ہندکے ہزاروں کارکنان ملّی اور قومی مسائل کے سلسلہ میں اپنے مطالبات اور اپنی آواز کو وزیر اعظم مسٹر باجپئی کے کانوں تک پہنچانے کے لیے ان کی رہائش گاہ کے باہر پرامن احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معمولی واقعہ کو پولیس و انتظامیہ نے ایک سنگین کیس بنا ڈالا۔ 27؍نومبر 2006ء کو عدالت کی جانب سے جمعیت علمائے ہند کے اہم ذمہ داران کے خلاف وارنٹ جاری کردیے گئے اور عدالت میں پیش ہونے پر ان تمام کو گرفتار کرلیا گیا، جس میں ناظم عمومی مولانا محمود مدنی اور ناظم اعلیٰ اُترپردیش حافظ محمد صدیق بھی شامل ہیں۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ امن و آشتی اور اخوت و بھائی چارے کی تبلیغ و تلقین کی ہے۔ ہم دستور اور قانون کی پاسداری کرنے والے لوگ ہیں۔ ہنگامہ خیزی صورت حال کو مزید نقصان دہ بنا سکتی ہے۔ اس لیے انھوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی صورت حال پیدا نہ ہونے دیں اور قانونی لڑائی لڑیں۔

اس سلسلہ میں 28؍نومبر کو جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل سے ملاقات کی اور انھیں مولانا محمود مدنی سمیت آٹھ افراد کے خلاف دائر مقدمے اور اُس کی پاداش میں جاری غیر ضمانتی وارنٹ کے سبب ان کو چودہ دن کے لیے تہاڑ جیل بھیجے جانے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔جمعیت علمائے ہند کے ترجمان مولانا عبدالحمید نعمانی کے مطابق وفد کی پوری بات سننے کے بعد وزیر داخلہ نے انھیں اشارہ دیا کہ مولانا مدنی جلد رہا کردیے جائیں گے اور ان کے خلاف دائر مقدمے کو بھی واپس لے لیا جائے گا۔ انھوں نے وفد سے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ انھیں اس مقدمے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

معتبر اطلاعات کے مطابق جیسے ہی مرکزی حکومت کے علم میں مولانا محمود مدنی اور ان کے رفقاء پر مقدمہ اور ان کو تہاڑ جیل میں بھیجنے کی خبر لائی گئی سرکاری حلقوں میں ایک ہیجان بپا ہوگیا۔ وزیر داخلہ نے وزیر اعظم اور مسز سونیا گاندھی سے رابطہ قائم کیا اور ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس مقدمہ کو واپس لینے کا فیصلہ لیا گیا، جس کے بعد 29؍نومبر کو عدالت میں اس مقدمہ کی واپسی کی درخواست دی گئی، جسے منظور کرتے ہوئے فاضل میٹروپولٹین مجسٹریٹ سنجے بنسل نے ان تمام لوگوں کو جیل سے فوراً رہا کرنے کا حکم صادر کردیا۔ جیل کے حکام نے بھی فوراً عمل کرتے ہوئے شام کو ۵بجے ان جملہ افراد کو جیل سے رہا کردیا۔ رہائی کے بعد پہلے تہاڑ جیل کے گیٹ پر اور پھر جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر میں پرجوش اور شان دار استقبال کیا گیا۔

اپنی رہائی کے بعد جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا سیّد محمود مدنی مدظلہ‘ نے صاف صاف اعلان کیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ ہی مظلوموں اور محروم لوگوں کے حق کے لیے لڑائی لڑی ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ ملت کے لیے دوچار دن نہیں؛ بلکہ دوچار دس بیس برس بھی ہمیں جیل میں رہنا پڑے، تو ہم اس کے لیے دل و جان سے تیار ہیں۔‘‘

مولانا سیّد محمود مدنی نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ مظلوم و مقہور اقلیتوں؛ بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی ضمانت کے لیے وہ بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور اگر پھر ضرورت پڑی، تو وہ کسی نقصان یا تکلیف کی پرواہ کیے بغیر بڑے سے بڑے لیڈر کے دروازے پر دستک دینے سے گریز نہیں کریں گے ،خواہ اس کے لیے کسی بھی آزمائش سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،8-14؍دسمبر2006ء)

خلاصہ یہ کہ آپ کل چودہ دن جیل میں رہے۔

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بائیسواں سال: 1940ء

 بائیسواں سال: 1940ء

محمد یاسین جہازی

13؍جنوری 1940ء کو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمدسجاد صاحب نے وائسرائے ہند کو مکتوب لکھ کر واضح کردیا کہ ہم اپنی غلامی کی زندگی کو دراز کرنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ جنگ عظیم دوم میں شرکت نہیں کریں گے۔

اسی تاریخ کووائسرائے ہند کے نام ایک طویل مکتوب لکھ کر قانون انفساخ نکاح مسلم بل میں دفعہ(۶) یعنی مسلم قاضی کی شرط کو ختم نہ کرنے کی اپیل کی۔ 

برطانیہ نے ہندستان سے جنگ عظیم دوم کے درمیان امداد و تعاون کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر جمعیت اور کانگریس نے مکمل آزادی اور مسلم لیگ نے مذہبی خطوط پر وطن کو تقسیم کرنے اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم تسلیم کرنے کی شرط رکھی۔ حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بڑی اکثریتی قومیں اگر متحدہ آواز سے کوئی بات کہیں، تو حکومت ہند اس پر غور کرے گی۔ چنانچہ اس کے لیے 3،4؍ مارچ1940ء کو جمعیت نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس کی داعی ہونے کا فیصلہ لیا۔ اسی طرح آرمی بل کے تحت ہندستانیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے خلاف مجلس احرار اسلام کے کارکنان نے پنجاب میں تحریک چھیڑ رکھی تھی، جس پر حکومت ڈیفنس ایکٹ کے تحت اس کے کارکنان کو اندھا دھند گرفتار کر رہی تھی، مجلس عاملہ نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت پنجاب کی سرزنش کی ۔ 

بشمول جمعیت علمائے ہند،نو مسلم سیاسی جماعتوں نے 27؍تا 30؍اپریل 1940ء کو دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس کرکے ہندستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں: ہندستانیوں کا ہی بنایا ہوا دستور قابل قبول ہوگا۔ مذہبی بنیادپرملک کی تقسیم کی ہر تجویز کی مخالفت۔ دستور ساز مجلس کے لیے مسلم ارکان کا انتخاب مسلمان کریں گے۔ ملک و ملت کے مسائل کے حل کے لیے بورڈ کی تشکیل ۔ بلوچستان کو مساوی درجہ دلانے والی تحریک کی تائید۔ دستی کرگھے کے کپڑے استعمال کرنے کی اپیل۔ وزیرستان کی صورت حال پر افسوس۔جمہوری ممالک کو ہندستان کے حق آزادی کا ساتھ دینا چاہیے۔

7-8-9؍ جون 1940ء کو جون پور میں جمعیت کا بارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں شیخ الاسلام نے اپنے طویل خطبۂ صدارت میں تاریخی حقائق و دلائل سے یہ ثابت کیا کہ غلامی ہندستان اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے ایک خطرناک ذلت ہے، جس کے خلاف مسلمانوں کو جدوجہد کرنا اور ہندستان کو آزاد کرانامذہبی فریضہ ہے۔ اس اجلاس میں حالات حاضرہ سے متعلق تجاویز منظور کی گئیں۔ تجاویز میں مولانا معین الدین صاحب اجمیری ، حکیم محمد میاں صاحب میرٹھی، مولانا فضل الرحمان صاحب قاسمی کٹک کی وفات پر اظہارتعزیت، جنگ عظیم دوم میں برطانیہ کے تعاون سے انکارکرتے ہوئے مکمل آزادی کی تحریک جاری رکھنے کا اعلان،قانون طلاق، یا کاظمی ایکٹ کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے مفتی اعظم سے درخواست، آزاد مسلم کانفرنس کی تمام تجاویز کی تائید، پیشہ کی وجہ سے شریف و ذلیل طبقہ میں تقسیم کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت، شیعوں کی تبرا بازی پر مدح صحابہ کے حق کا مطالبہ، مسجد ٹیڑھی بازار کی تعمیر کی اجازت، مسجد شہید گنج پر پریوی کونسل کے فیصلہ کی مذمت، فسادات بیدر پر افسوس کرتے ہوئے حکومت آصفیہ کی خدمات کی تعریف، واقعۂ قتل چاندر بسوا کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذمت، وفد سرحد کو وزیرستان میں جانے کی اجازت نہ دینے کی تنقید، جمعیت میں رضاکاران نظام قائم کرنے کی اپیل، انتخاب امیر کی ضرورت، فتنۂ خاکساران سے بچنے کی تلقین ، مجلس استقبالیہ، صدر اجلاس اور صدر سابق حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے شکریہ پر مشتمل کل انیس تجاویز منظور کی گئیں۔اسی طرح دفتری امور سے متعلق تجویز پاس کرتے ہوئے ، آریہ سنسکرت کتاب کو ضبط کرنے اوردستور میں ترمیم کے مطابق مجلس مرکزیہ کو منتخب کرنے کا حق صدر اور ورکنگ کمیٹی کودیا گیا۔  

اسی اجلاس میں حضرت العلامہ مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے7؍ جون 1940ء کو جمعیت کی صدارت سے استعفیٰ پیش کردیا۔آپ کو 28؍ دسمبر1919ء سے لے کر 19؍ نومبر1920ء تک عارضی صدربنایا گیا تھا۔ بعد ازاں20؍ نومبر1920ء تا 30؍ نومبر 1920ء کوشیخ الہند حضرت مولانا مفتی محمود حسن دیوبندی ؒ کو مستقل صدر بنایا گیا ، لیکن حضرت شیخ الہند کے صدر بننے کے دس دن کے بعد ہی انتقال ہوجانے کی وجہ سے ، حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو دوبارہ یکم دسمبر 1920ء سے5؍ ستمبر1921ء تک عارضی صدر بنایا گیا۔پھر 6؍ ستمبر1921ء سے 7؍ جون 1940ء تک آپ کو مستقل صدر بنایا گیا۔اس طرح آپ دو مرتبہ عارضی صدر اور ایک مرتبہ مستقل صدر بنائے گئے۔ مفتی اعظم ؒ کے استعفیٰ کے بعدآپ کی جگہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کو نیا صدر منتخب کیا گیا۔ چنانچہ آپ نے 8؍ جون 1940ء سے جمعیت علمائے ہند کی صدارت کو عزت بخشی۔ 

3؍جولائی1940ء کو جواہر لال نہرو نے ایک مکتوب کا جواب دیتے ہوئے حیدرآباد اور ایک مقدمہ سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔

13و 14؍ جولائی 1940ء کو دہلی میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا،جس میں ’’علمائے ہند کا شان دار ماضی‘‘ کی ضبطی پر احتجاج کیا گیا۔ جنگ میں تعاون نہ کرنے اور مکمل آزادی کے مطالبہ کے جرم میں ڈیفینس آف انڈیا ایکٹ کے تحت مجاہدین آزادی کی اندھا دھند گرفتاری کو حکومت کی متشددانہ کارروائی قرار دیا۔ 12؍ جولائی 1940ء کو کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ نے مسٹر جناح کو ایک تار بھیج کر یہ مطالبہ کیا تھاکہ ملک اور قوم کے بہترین مفاد پر مشتمل آزاد ہندستان کا دستور مرتب کرنے میں تعاون کریں ؛ لیکن مسٹر جناح نے اس میں نہ صرف تعاون نہ کرنے کا جواب دیا؛ بلکہ تار کے جواب میں جو زبان اور لہجہ استعمال کیا، اس پر آزاد قومی صحافت، سنجیدہ لیگی حلقوں اور جمعیت علمائے ہند نے اپنی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ایک تجویز میں قیام امن کے لیے محلہ وارمحافظ امن کمیٹی قائم کرنے کی اپیل کی۔ 

اسی اجلاس میں حضرت مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ نے 13؍ جولائی 1940ء کو ناظم کے عہدہ سے استعفیٰ پیش کردیا۔ آپ کو سب سے پہلے 28؍ دسمبر 1919ء سے لے کر 19؍ نومبر1920ء تک عارضی ناظم عمومی بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں 20؍ نومبر1920ء سے لے کر تا حال، یعنی 13؍ جولائی 1940ء تک مستقل طور پر ناظم عمومی رہے۔آپ کے استعفیٰ کے بعد آپ کی جگہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کو ناظم عمومی منتخب کیا گیا ۔حضرت ابوالمحاسنؒ کا دور نظامت 14؍ جولائی 1940ء سے شروع ہوا اور 18؍ نومبر1940ء آپ کی وفات تک جاری رہا۔ 

جنگ عظیم میں ہندستانیوں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے حکومت نے لچک رویہ اختیار کرتے ہوئے 8؍ اگست 1940ء کوہندستان کے کچھ نمائندہ لیڈروں کو اپنی ایگزیکیٹو کونسل میں شامل کرنے اور جنگ کے بعدمشاورتی کونسل قائم کرنے کی پیش کش کی۔ چوں کہ دوران جنگ قومی گورنمنٹ، یا بااختیار کیبنٹ کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے کانگریس نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا اور 12؍ اگست 1940ء کو ناظم جمعیت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت اس طرح کی کسی بھی پیش کش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جس میںہمارے فطری حق یعنی مکمل آزادی کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔

12؍اگست1940ء کو ناظم عمومی مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے جنگ عظیم دوم میں تعاون کی پیشکش پر حکومت برطانیہ کی طرف سے لالچ دینے کو وعدۂ محبوب بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ اس جنگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

اسی تاریخ کوگورنر جنرل آف انڈیا کو لکھے ایک مکتوب میںقاضی ایکٹ میں دفعہ (۶) کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

19؍اگست1940ء کو ممبئی ڈاؤری بل کے منظور نہ ہونے کی وضاحت پیش کی گئی۔

16؍اگست1940ء کو منعقد ایک جلسے میں خطاب کرنے کی وجہ سے 22اور 23؍ اگست 1940ء کی درمیانی شب میں مولانا حفظ الرحمان صاحب کو گرفتار کرلیا گیا، جس کی وجہ سے 23؍اگست 1940ء کو ایک عظیم الشان اجلاس کے ذریعہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا اور ساتھ ہی قانون انفساخ نکاح مسلم میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔ 

27؍اگست 1940ء کو قانون انفساخ نکاح مسلم سے متعلق بھیجے گئے مراسلہ پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔چنانچہ 20؍ستمبر1940ء کو حکومت کی طرف سے اس کا جواب آیا کہ مسلم کمیونٹی کے خیالات پر غور کرتے ہوئے اس قانون سے دفعہ (۶) کو خارج کیا گیا ہے۔ 

30؍ستمبر1940ء کو وائسرائے لن لتھ گو کو لکھے ایک مکتوب میں قانون انفساخ نکاح مسلم سے دفعہ (۶) کو خارج کرنے کو شریعت اسلامی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے شریعت کے مطابق قانون بنانے کے تعاون کی پیش کش کی گئی۔  

29و 30؍ ستمبر و یکم و2؍ اکتوبر 1940ء کو دہلی جمعیت علمائے ہند کے دفتر میں مجلس عاملہ کاچار روزہ اجلاس ہوا، جس میں مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادی پیش کی گئی۔ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کا لکھا کتابچہ ’’تذکرۂ جمعیت علمائے ہند‘‘ کی ضبطی پر حکومت دہلی کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں مفتی اعظم ؒ کی قانون طلاق کے متعلق ترمیمات کو منظور کیا گیا۔ ڈاوری بل بنگال میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا اور آخری تجویز میں جمعیت علمائے ہند نے حکومت کے تعاون کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مکمل آزادی کو مطالبے کا اعلان دوہرایا۔ دفتری امور میں قواعد انتخابات جمعیت کو منظوری دی گئی۔

5؍اکتوبر1940ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا ابوالمحاسن نور اللہ مرقدہ نے 3؍جنوری 1940ء کوحکومت کو بھیجے مکتوب کا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ 

18؍نومبر1940ء کو حضرت ناظم عمومی کا انتقال ہوگیا۔ ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کے لیے 29؍نومبر1940ء کو یوم سجاد منانے کی اپیل کی گئی۔ چنانچہ ہندستان کے طول وعرض میں سیکڑوں مقامات پر یوم سجاد منایا گیا۔