26 Jan 2026

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

مکرمی محترم مفتی صاحب !               السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مسئلۂ ذیل کے بارے میں شرعی رہ نمائی درکار ہے:

ہردورکےعلمائے کرام نے ہندستان کی شرعی حیثیت متعین کرکے اسی کےمطابق ملت اسلامیہ کی رہنمائی کی ہے،جیسے کہ انگریزوں کے مکمل قبضہ کے بعد بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہونے کےباوجود 1809ء میں حضرت شاہ عبد العزیز نور اللہ مرقدہ نے ہندستان کے دارالکفر ہونے کا فتوی دیا۔ پھر 14 ؍ستمبر 1857ءکی جنگ شاملی و تھانہ بھون کے لیے جہاد آزادی کا فتوی دیا گیا۔

بعد ازاں جب دسمبر 1885ء میں آل انڈیا کانگریس بنی، جس نے حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوراج اور حقوق کا مطالبہ کرنا شروع کیا، تو جناب سرسید احمد خان صاحب نے انجمن محبان وطن بناکر مسلمانوں کو انگریزوں کی وفاداری کی تلقین کرنی شروع کردی اور کانگریس میں شرکت سے مسلمانوں کو ورغلاتے رہے، جس کے خلاف حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ  اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒنے کانگریس میں شرکت اور سرسید کی مخالفت کا فتوی دیا۔

پھر جب انگریزوں کی خطرناک خفیہ سازش کے تحت مسلمانوں میں30؍دسمبر 1906ء کو  مسلم لیگ اور ہندوؤں میں ہندو مہاسبھا کی تشکیل عمل میں آئی اور فرقہ وارانہ خطوط پر فیصلہ ہونے لگے، جس میں سب سے خطرناک فیصلہ 1916ء کا میثاق لکھنو تھا، تو علما نے گوشہ نشینی کوچھوڑ کر میدان سیاست میں آنا ضروری سمجھا۔ چنانچہ آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر 23 ؍نومبر 1919ء کو جمعیت علمائے ہند کی تشکیل عمل میں آئی۔

جمعیت علمائے ہند کے قیام کے بعد 1920ء میں امام الہند اور تحریک ہجرت کا آغاز ہوا۔ چنانچہ ہندستان کی شرعی حیثیت کے تناظر میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور خود شیخ الہند نے ہجرت کے حق میں فتویٰ دیا؛ لیکن تحریک خلافت نے تحریک امام الہند کا خاتمہ کردیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اتنی بڑی آبادی کی ہجرت ناممکن ہے، تحریک خلافت کی تقویت و تائید کے لیے ترک موالات کا فتویٰ دے کر تحریک ہجرت کا خاتمہ کردیا۔ 

پھر جب جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی آزادی کو وطنی فریضہ کے ساتھ ساتھ مذہبی فرض بھی قرار دیا، تو یہ سوال ابھر کر سامنے آیا کہ تنہامسلمان اپنے مذہبی فرض کی ادائیگی کرکے ہندستان کو انگریزوں سے آزاد نہیں کراسکتے، اس کے لیے غیر مسلم برادران وطن سے تعاون لینا، یا ان کا ساتھ دینا ضروری ہے،تو پھر یہ سوال ایک چیلنج بن کر سامنے آیا کہ کیا  جہاد آزادی جیسے مذہبی فرض کو ادا کرنے کے لیے غیرمسلم کی امداد، یا استمداد جائز ہے؟ اور ایسی صورت میں ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ دارالاسلام کی؟ دارالحرب کی؟ یا پھر کچھ اور؟؟....

 جمعیت علمائے ہند کے رہ نماؤں نے غور کیا کہ ہندستان دارالحرب نہیں ہوسکتا؛ کیوں کہ یہاں پر مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر دارالحرب مان بھی لیتے ہیں، تو پھر مسلمانوں کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا وہ مستامن ہوں گے، لیکن اس کے لیے باہر کا ہونا ضروری ہے، جب کہ مسلمان یہیں کے باشندے ہیں۔

اور دارالاسلام بھی نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ یہاں مسلمانوں کو قوت حاکمہ حاصل نہیں ہے، اس لیے جمعیت علما نے اسے دارالامان قرار دیتے ہوئے آزادی مذہب اور جملہ حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ جمہوری حکومت کی تشکیل کے لیے آزادی ہند کی لڑائی میں برادران وطن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

اسی بیچ میں کچھ علمائے کرام کی رائے یہ تھی کہ مسلمان ایک مستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، جس میں کافروں کے ساتھ موالات کی بالکل گنجائش نہیں ہے، اسی نظریے کی بنیاد پر انھوں نے اسلام کے نام پر اسلامی ریاست کا نظریہ پیش کرتے ہوئے دوقومی نظریہ کے تحت پاکستان کا مطالبہ پیش کیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی شرعی حیثیت کے پیش نظر متحدہ قومیت کا نظریہ پیش کرکے جمہوریت کی تائید و حمایت کی۔

پھر 1947کو ہندستان آزاد ہوگیا، تو انگریزی دور عبودیت میں جب ہندستان دارالامان تھا، تو جمہوری دور حکومت میں تو بدرجہ اولیٰ اس کی حیثیت دارالامان  کی رہی ۔ اور مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہے، جس میں سب سے  بڑا فرض جہاد اکبر تھا، جہاد اصغر نہیں تھا۔ اورجب تک ہندستان میں اصلی اورحقیقی جمہوریت باقی ہے، تب تک ہندستان میں مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندستان میں اب جمہوریت باقی ہے؟

قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق  دس پوائنٹس ایسے ہیں، جن کو معیار بناکر حالات کا تجزیہ کرنے سے کسی قوم کے عروج وزوال کا نتیجہ مرتب کرسکتے ہیں۔ وہ 10 پوائنٹس درج ذیل ہیں :

1۔ روٹی کا مسئلہ

2۔حفاظت جان و مال

3۔عدل و انصاف

4۔ مذہبی حقوق کی حفاظت

5۔ تہذیب و زبان کی حفاظت

6۔تعلیم

7۔حقوق ملازمت

8۔یکساں شہری حقوق اور مساوات

9۔حقوق ملکیت میں آزادی

10۔سیاسیات

ان دس پوائنٹس کے تناظر میں ٹو دہ پوائنٹ بات کی جائے، تو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:

1۔ٹھیلہ وغیرہ پر نام لکھوانے کی تحریک چلاکر، یا صرف اپنے ہم مذہب سے خریداری کی اپیل کرنے جیسے معاملات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔

2۔ ملک میں بڑھتے ہیٹ ریٹ، سفر وغیرہ میں مسلم شناخت والوں کے ساتھ تشدد، بعض بعض جگہوں پر مسلمانوں کے داخلے کی پابندی، خود ہی فرقہ وارانہ فسادات کر اکے ان کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور رہائی کے لیے وصولی کرنا، یا طول طویل عدالتی کارروائیاں اور بعد ازاں حکومت کا جبری بلڈوزر جیسی دہشت گردانہ حرکتیں اور مآب لنچنگ کے واقعات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔

3۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، دہلی اور پورے ملک میں آثار قدیمہ کے نام پر بند پڑی مساجد، گیان واپی مسجد،عیدگاہ متھرا اور تقریباً تین ہزار مساجد پر قانونی شکنجہ کسنے کے بعد عدالتوں کے فیصلے، اسی طرح تین طلاق اور شرعی محکمہ قضا کے فیصلوں کے متعلق حالیہ دنوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں، نیز جدید وقف ایکٹ میں ظالمانہ ترمیمات پر اصرار سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ملک میں کتنا عدل و انصاف بچا ہوا ہے۔

4۔وقف ایکٹ ،فتوی پر پابندی (ہماچل پردیش میں) مدارس اسلامیہ کو نوٹس، قربانی اور غیر قربانی کے مواقع پر گائے کے ذبح پر پابندی،یا ہنگامہ اور کسی بھی مسجد کو غیر قانونی تعمیرات کے بہانے شہید کردینے کے متواتر واقعات سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کس درجہ محفوظ ہیں، دانش ور خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔

5۔ داڑھیوں کے خلاف مقدمے، تعلیم گاہوں میں برقعہ پوش خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرنا اور اردو زبان کے ساتھ تعصب انگیز رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اور زبان کو مٹانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔

6۔ تعلیم کی بات کریں ،تو مسلمان کے اندر 42 فی صد جہالت ہے۔ آزاد مدارس کے سامنے تو مسائل پیدا کیے ہی جارہے ہیں ؛لیکن سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستگی سے بھی ان کو چڑھ ہے، جیسا کہ کچھ دن پہلے جمعیت اسٹڈی سینٹر کے تحت نوائس سے امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی بڑھتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے این سی پی سی آر کے چئیرمین نے زہر اگلتے ہوئے اسے ٹرر فنڈنگ کہا تھا۔ اس طرح کے اور بھی معاملات ہیں، جہاں مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی مکمل سازش کی جارہی ہے۔

7۔حقوق ملازمت کی بات کریں، تو سیکڑوں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ڈس کرمنیشن یعنی امتیازات سے کام لیا جارہا ہے۔

8۔ یکساں شہری حقوق اور مساوات سے مراد حکومت کے جملہ وسائل میں بلا امتیاز مذہب وغیرہ یکساں شرکت ہے۔ سی اے بی، گجرات میں ڈسٹربڈ ایریا کا قانون اور نچلی ذاتوں اور مسلمان سمجھ کر بعض محکمہ جیسے ڈفنس میں مسلمانوں کو ملازمت، یا اعلی ملازمت نہیں دی جاتی۔گویا یکساں شہری حقوق اور مساوات پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔

9۔ حقوق ملکیت میں تو اب تک آزادی ہے، لیکن بعض مخدوش علاقوں میں محض مسلمان کا گھر ہونے کی وجہ سے جس طرح بغیر عدالتی کارروائی کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے، یہ بھی اس سے کم ظلم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ملکیت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے واضح معاملہ یہ ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے محرومی تقریباً تمام حقوق سے محرومی کا باعث بن جائے گی۔

10۔البتہ سیاست میں مسلمان اب تک آزاد ہیں ،لیکن مسلم آبادی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حلقہ ہائے انتخاب کی جس طرح حدبندی کی جاتی ہے، اس سے اس سازش کا اندازہ لگانا کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو بے وزن کرنے کی لگاتار کوشش کی جارہی ہے۔

ان نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ بھارت ہندو راشٹر بن چکا اور جمہوریت اور دستور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

ایسی صورت میں اہل فتاویٰ اور ماہرین شریعت سے گذارش ہے کہ ہندستان کی شرعی حیثیت، مسلمانوں کی شرعی حیثیت اور ان دونوں کی حیثیت کے تعین کے بعد مسلمانوں کے ذمہ واجب فرائض پر مکمل شرعی رہ نمائیں فرمائیں۔

محمد یاسین جہازی

6؍جنوری 2025