بائیسواں سال: 1940ء
محمد یاسین جہازی
13؍جنوری 1940ء کو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمدسجاد صاحب نے وائسرائے ہند کو مکتوب لکھ کر واضح کردیا کہ ہم اپنی غلامی کی زندگی کو دراز کرنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ جنگ عظیم دوم میں شرکت نہیں کریں گے۔
اسی تاریخ کووائسرائے ہند کے نام ایک طویل مکتوب لکھ کر قانون انفساخ نکاح مسلم بل میں دفعہ(۶) یعنی مسلم قاضی کی شرط کو ختم نہ کرنے کی اپیل کی۔
برطانیہ نے ہندستان سے جنگ عظیم دوم کے درمیان امداد و تعاون کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر جمعیت اور کانگریس نے مکمل آزادی اور مسلم لیگ نے مذہبی خطوط پر وطن کو تقسیم کرنے اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم تسلیم کرنے کی شرط رکھی۔ حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بڑی اکثریتی قومیں اگر متحدہ آواز سے کوئی بات کہیں، تو حکومت ہند اس پر غور کرے گی۔ چنانچہ اس کے لیے 3،4؍ مارچ1940ء کو جمعیت نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس کی داعی ہونے کا فیصلہ لیا۔ اسی طرح آرمی بل کے تحت ہندستانیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے خلاف مجلس احرار اسلام کے کارکنان نے پنجاب میں تحریک چھیڑ رکھی تھی، جس پر حکومت ڈیفنس ایکٹ کے تحت اس کے کارکنان کو اندھا دھند گرفتار کر رہی تھی، مجلس عاملہ نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت پنجاب کی سرزنش کی ۔
بشمول جمعیت علمائے ہند،نو مسلم سیاسی جماعتوں نے 27؍تا 30؍اپریل 1940ء کو دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس کرکے ہندستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں: ہندستانیوں کا ہی بنایا ہوا دستور قابل قبول ہوگا۔ مذہبی بنیادپرملک کی تقسیم کی ہر تجویز کی مخالفت۔ دستور ساز مجلس کے لیے مسلم ارکان کا انتخاب مسلمان کریں گے۔ ملک و ملت کے مسائل کے حل کے لیے بورڈ کی تشکیل ۔ بلوچستان کو مساوی درجہ دلانے والی تحریک کی تائید۔ دستی کرگھے کے کپڑے استعمال کرنے کی اپیل۔ وزیرستان کی صورت حال پر افسوس۔جمہوری ممالک کو ہندستان کے حق آزادی کا ساتھ دینا چاہیے۔
7-8-9؍ جون 1940ء کو جون پور میں جمعیت کا بارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں شیخ الاسلام نے اپنے طویل خطبۂ صدارت میں تاریخی حقائق و دلائل سے یہ ثابت کیا کہ غلامی ہندستان اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے ایک خطرناک ذلت ہے، جس کے خلاف مسلمانوں کو جدوجہد کرنا اور ہندستان کو آزاد کرانامذہبی فریضہ ہے۔ اس اجلاس میں حالات حاضرہ سے متعلق تجاویز منظور کی گئیں۔ تجاویز میں مولانا معین الدین صاحب اجمیری ، حکیم محمد میاں صاحب میرٹھی، مولانا فضل الرحمان صاحب قاسمی کٹک کی وفات پر اظہارتعزیت، جنگ عظیم دوم میں برطانیہ کے تعاون سے انکارکرتے ہوئے مکمل آزادی کی تحریک جاری رکھنے کا اعلان،قانون طلاق، یا کاظمی ایکٹ کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے مفتی اعظم سے درخواست، آزاد مسلم کانفرنس کی تمام تجاویز کی تائید، پیشہ کی وجہ سے شریف و ذلیل طبقہ میں تقسیم کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت، شیعوں کی تبرا بازی پر مدح صحابہ کے حق کا مطالبہ، مسجد ٹیڑھی بازار کی تعمیر کی اجازت، مسجد شہید گنج پر پریوی کونسل کے فیصلہ کی مذمت، فسادات بیدر پر افسوس کرتے ہوئے حکومت آصفیہ کی خدمات کی تعریف، واقعۂ قتل چاندر بسوا کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذمت، وفد سرحد کو وزیرستان میں جانے کی اجازت نہ دینے کی تنقید، جمعیت میں رضاکاران نظام قائم کرنے کی اپیل، انتخاب امیر کی ضرورت، فتنۂ خاکساران سے بچنے کی تلقین ، مجلس استقبالیہ، صدر اجلاس اور صدر سابق حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے شکریہ پر مشتمل کل انیس تجاویز منظور کی گئیں۔اسی طرح دفتری امور سے متعلق تجویز پاس کرتے ہوئے ، آریہ سنسکرت کتاب کو ضبط کرنے اوردستور میں ترمیم کے مطابق مجلس مرکزیہ کو منتخب کرنے کا حق صدر اور ورکنگ کمیٹی کودیا گیا۔
اسی اجلاس میں حضرت العلامہ مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے7؍ جون 1940ء کو جمعیت کی صدارت سے استعفیٰ پیش کردیا۔آپ کو 28؍ دسمبر1919ء سے لے کر 19؍ نومبر1920ء تک عارضی صدربنایا گیا تھا۔ بعد ازاں20؍ نومبر1920ء تا 30؍ نومبر 1920ء کوشیخ الہند حضرت مولانا مفتی محمود حسن دیوبندی ؒ کو مستقل صدر بنایا گیا ، لیکن حضرت شیخ الہند کے صدر بننے کے دس دن کے بعد ہی انتقال ہوجانے کی وجہ سے ، حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو دوبارہ یکم دسمبر 1920ء سے5؍ ستمبر1921ء تک عارضی صدر بنایا گیا۔پھر 6؍ ستمبر1921ء سے 7؍ جون 1940ء تک آپ کو مستقل صدر بنایا گیا۔اس طرح آپ دو مرتبہ عارضی صدر اور ایک مرتبہ مستقل صدر بنائے گئے۔ مفتی اعظم ؒ کے استعفیٰ کے بعدآپ کی جگہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کو نیا صدر منتخب کیا گیا۔ چنانچہ آپ نے 8؍ جون 1940ء سے جمعیت علمائے ہند کی صدارت کو عزت بخشی۔
3؍جولائی1940ء کو جواہر لال نہرو نے ایک مکتوب کا جواب دیتے ہوئے حیدرآباد اور ایک مقدمہ سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔
13و 14؍ جولائی 1940ء کو دہلی میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا،جس میں ’’علمائے ہند کا شان دار ماضی‘‘ کی ضبطی پر احتجاج کیا گیا۔ جنگ میں تعاون نہ کرنے اور مکمل آزادی کے مطالبہ کے جرم میں ڈیفینس آف انڈیا ایکٹ کے تحت مجاہدین آزادی کی اندھا دھند گرفتاری کو حکومت کی متشددانہ کارروائی قرار دیا۔ 12؍ جولائی 1940ء کو کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ نے مسٹر جناح کو ایک تار بھیج کر یہ مطالبہ کیا تھاکہ ملک اور قوم کے بہترین مفاد پر مشتمل آزاد ہندستان کا دستور مرتب کرنے میں تعاون کریں ؛ لیکن مسٹر جناح نے اس میں نہ صرف تعاون نہ کرنے کا جواب دیا؛ بلکہ تار کے جواب میں جو زبان اور لہجہ استعمال کیا، اس پر آزاد قومی صحافت، سنجیدہ لیگی حلقوں اور جمعیت علمائے ہند نے اپنی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ایک تجویز میں قیام امن کے لیے محلہ وارمحافظ امن کمیٹی قائم کرنے کی اپیل کی۔
اسی اجلاس میں حضرت مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ نے 13؍ جولائی 1940ء کو ناظم کے عہدہ سے استعفیٰ پیش کردیا۔ آپ کو سب سے پہلے 28؍ دسمبر 1919ء سے لے کر 19؍ نومبر1920ء تک عارضی ناظم عمومی بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں 20؍ نومبر1920ء سے لے کر تا حال، یعنی 13؍ جولائی 1940ء تک مستقل طور پر ناظم عمومی رہے۔آپ کے استعفیٰ کے بعد آپ کی جگہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کو ناظم عمومی منتخب کیا گیا ۔حضرت ابوالمحاسنؒ کا دور نظامت 14؍ جولائی 1940ء سے شروع ہوا اور 18؍ نومبر1940ء آپ کی وفات تک جاری رہا۔
جنگ عظیم میں ہندستانیوں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے حکومت نے لچک رویہ اختیار کرتے ہوئے 8؍ اگست 1940ء کوہندستان کے کچھ نمائندہ لیڈروں کو اپنی ایگزیکیٹو کونسل میں شامل کرنے اور جنگ کے بعدمشاورتی کونسل قائم کرنے کی پیش کش کی۔ چوں کہ دوران جنگ قومی گورنمنٹ، یا بااختیار کیبنٹ کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے کانگریس نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا اور 12؍ اگست 1940ء کو ناظم جمعیت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت اس طرح کی کسی بھی پیش کش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جس میںہمارے فطری حق یعنی مکمل آزادی کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔
12؍اگست1940ء کو ناظم عمومی مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے جنگ عظیم دوم میں تعاون کی پیشکش پر حکومت برطانیہ کی طرف سے لالچ دینے کو وعدۂ محبوب بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ اس جنگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسی تاریخ کوگورنر جنرل آف انڈیا کو لکھے ایک مکتوب میںقاضی ایکٹ میں دفعہ (۶) کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔
19؍اگست1940ء کو ممبئی ڈاؤری بل کے منظور نہ ہونے کی وضاحت پیش کی گئی۔
16؍اگست1940ء کو منعقد ایک جلسے میں خطاب کرنے کی وجہ سے 22اور 23؍ اگست 1940ء کی درمیانی شب میں مولانا حفظ الرحمان صاحب کو گرفتار کرلیا گیا، جس کی وجہ سے 23؍اگست 1940ء کو ایک عظیم الشان اجلاس کے ذریعہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا اور ساتھ ہی قانون انفساخ نکاح مسلم میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔
27؍اگست 1940ء کو قانون انفساخ نکاح مسلم سے متعلق بھیجے گئے مراسلہ پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔چنانچہ 20؍ستمبر1940ء کو حکومت کی طرف سے اس کا جواب آیا کہ مسلم کمیونٹی کے خیالات پر غور کرتے ہوئے اس قانون سے دفعہ (۶) کو خارج کیا گیا ہے۔
30؍ستمبر1940ء کو وائسرائے لن لتھ گو کو لکھے ایک مکتوب میں قانون انفساخ نکاح مسلم سے دفعہ (۶) کو خارج کرنے کو شریعت اسلامی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے شریعت کے مطابق قانون بنانے کے تعاون کی پیش کش کی گئی۔
29و 30؍ ستمبر و یکم و2؍ اکتوبر 1940ء کو دہلی جمعیت علمائے ہند کے دفتر میں مجلس عاملہ کاچار روزہ اجلاس ہوا، جس میں مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادی پیش کی گئی۔ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کا لکھا کتابچہ ’’تذکرۂ جمعیت علمائے ہند‘‘ کی ضبطی پر حکومت دہلی کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں مفتی اعظم ؒ کی قانون طلاق کے متعلق ترمیمات کو منظور کیا گیا۔ ڈاوری بل بنگال میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا اور آخری تجویز میں جمعیت علمائے ہند نے حکومت کے تعاون کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مکمل آزادی کو مطالبے کا اعلان دوہرایا۔ دفتری امور میں قواعد انتخابات جمعیت کو منظوری دی گئی۔
5؍اکتوبر1940ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا ابوالمحاسن نور اللہ مرقدہ نے 3؍جنوری 1940ء کوحکومت کو بھیجے مکتوب کا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
18؍نومبر1940ء کو حضرت ناظم عمومی کا انتقال ہوگیا۔ ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کے لیے 29؍نومبر1940ء کو یوم سجاد منانے کی اپیل کی گئی۔ چنانچہ ہندستان کے طول وعرض میں سیکڑوں مقامات پر یوم سجاد منایا گیا۔