18 Sept 2026

ہندستان میں مسلمانوں کا وطنی استحقاق، شرعی حیثیت اور وفاداری کی تاریخی حقیقت

ہندستان میں مسلمانوں کا وطنی استحقاق، شرعی حیثیت اور وفاداری کی تاریخی حقیقت 

محمد یاسین جہازی

مقدمہ و پس منظر

 ہندستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی وطنی حیثیت اور ان کی حب الوطنی کا مسئلہ آزادی سے قبل کبھی متنازع نہیں رہا۔ آزادی کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں فرقہ پرست عناصر نے اپنے ماضی کے کردار پر پردہ ڈالنے اور سیکولر آئین کی بنیادوں کو کمزور کر کے ’ہندو راشٹر‘ کے تصور کو مسلط کرنے کے لیے مسلمانوں کے وطنی استحقاق پر سوال کھڑے کیے۔ تاریخی و مذہبی استدلال کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسانی وجود؛ جیساکہ مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ (رسالہ ہمارا وطن اور اس کی فضیلت) اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ (رسالہ ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل) نے واضح کیا ہے کہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا اولین ورود ہندستان ہی کی دھرتی پر ہوا۔ علاوہ ازیں، ہندستان کے مسلمانوں کی اکثریت یہیں کے قدیم باشندے ہیں، جن کی قبریں اور یادگاریں اسی خاک کا جزو ہیں۔ چنانچہ ہندستان کو مسلمانوں کا اصلی اور فطری وطن تسلیم کرنا محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ناقابلِ انکار تاریخی و جغرافیائی حقیقت ہے۔

ہندستان کی شرعی حیثیت کا فقہی نقطہ نظر: دار الاسلام سے دار الامان تک 

برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد ہندستان کی شرعی حیثیت کا ازسرنو تعین علمائ کی سب سے اہم فکری ذمہ داری بنی۔ 1806ئ میں جب دہلی پر انگریز قابض ہوئے اور مغل تاجدار شاہ عالم ثانی کو محض برائے نام سربراہ بنا کر ’’خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، تو حکیم الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے 1808ئ/1809ئ میں برصغیر کی تاریخ کا پہلا انقلابی فتویٰ صادر فرمایا کہ ہندستان عملاً’’دار الحرب‘‘ بن چکا ہے۔ شاہ صاحب نے خاموشی، وفاداری، یا اجتماعی ہجرت کے بجائے آزادی کے لیے جدوجہدکو ترجیح دی۔

اس فکری تحریک نے آگے چل کر 1857ئ کی جنگِ آزادی کو جنم دیا۔ دہلی میں مفتی صدر الدین، مولانا عبد القادر اور دیگر ممتاز علما کے دستخطوں سے جہاد کو فرضِ عین قرار دینے کا فتویٰ اخبار الظفر اور بعد ازاں 26/جولائی 1857ئ کو صادق الاخبار میں شائع ہوا۔ اسی فتوے کی روشنی میں 14/ستمبر 1857ئ کو حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ محمد ضامنؒ کی قیادت میں جنگِ شاملی لڑی گئی۔ اگرچہ اس مسلح جدوجہد میں وقتی شکست ہوئی، مگر یکم نومبر 1858ئ کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلانِ عام کے بعدمجاہدین آزادی نے حکمتِ عملی بدلی  اور میدان رزم کے بجائے میدان بزم آراستہ کرتے ہوئے 30/مئی 1866ئ کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی، جس نے فکری تربیت اور آزادی کی تحریکوں کے لیے مسلسل افرادی قوت فراہم کی۔حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمد قاسم نانوتویؒ نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ہندستان کی شرعی حیثیت کا دوسرا بڑا موڑ اس وقت آیا جب آزادی کی تحریک میں غیر مسلموں سے اشتراکِ عمل کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاسِ عام( 2 تا 5/دسمبر 1927ئ) کے صدارتی خطبے میں واضح کیا کہ ہندستان کو فقہی اصطلاح میں ’’دار الامان‘‘ قرار دیا جانا چاہیے ، جہاں مسلمان اور غیر مسلم میثاقِ مدینہ کی طرز پر ایک باہمی معاہدے کے تحت برطانوی استبداد کے خلاف متحد ہو کر جمہوری حقوق کے لیے لڑ سکتے ہیں۔جب انگریزوں کے دور جبر میںہندستان دارالامان تھا، تو 1947ئ کے بعد ہندستان جمہوری اور آئینی بنیادوں پر بدرجہ¿ اولیٰ ’’دار الامان‘‘قرار پایا،کیوں کہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی کسی کی بخشش کے طور پر نہیں؛ بلکہ ایک فطری اور دستوری حق کے طور پر حاصل ہے۔

سیاسی تصورات کا تصادم: سرسید، کانگریس اور جمعیت علمائے ہند

1857ئ کے سانحے کے بعد ہندستانی سیاست میں مختلف رجحانات ابھرے۔ 28 /دسمبر 1885ئ کو اے او ہیوم نے آل انڈیا کانگریس کی بنیاد رکھی۔ اس کے برعکس سرسید احمد خان نے 28/دسمبر 1887ئ کے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو کانگریس سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور 8/ اگست 1888ئ کو انگریزوں سے وفاداری پر مبنی ’’یونائیٹڈ انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ سرسید نے انگریزی نظام میں مسلمانوں کے دنیوی مفادات دیکھے اور قومیت کو مذہب سے جوڑ کر دو الگ اقوام کا ابتدائی تصور پیش کیا۔

علمائے حق نے سرسید کے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا۔ علمائے لدھیانہ (مولانا محمد، مولانا عبد العزیز، مولانا عبد اللہ) نے ملک گیر سطح پر فتاویٰ جمع کر کے رسالہ نصرۃ الابرار شائع کیا۔ 11/ دسمبر 1888ئ کو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے دوٹوک فتویٰ دیا کہ دنیوی و ملی حقوق کی حفاظت کے لیے ہندو¶ں کے ساتھ اشتراک (کانگریس میں شمولیت) جائز ہے ، جب کہ سرسید کی انگریز نواز ایسوسی ایشن مسلمانوں کے حق میں سمِّ قاتل ہے۔

انگریزوں نے اپنی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت یکم اکتوبر 1906ئ کو شملہ وفد اور 30/دسمبر 1906ئ کو ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل کی راہ ہموار کی، تاکہ مسلمانوں کو قومی تحریک سے کاٹا جا سکے۔ 29-31/ دسمبر 1916ئ کے میثاقِ لکھن¶ میںمسلم لیگ کی کوششوں کی وجہ سے پہلی بار جداگانہ انتخابات کی بنیاد پر مسلم نشستیں طے کی گئیں، جو آگے چل کر یہ طرزِ سیاست مزید شقاق کا سبب بنی۔

اس کے برعکس پہلی جنگِ عظیم کے بعد رولٹ ایکٹ( 19/مارچ 1919ئ) اور جلیانوالہ باغ قتلِ عام( 13/اپریل 1919ئ) کے تناظر میں جب تحریکِ عدمِ تعاون شروع ہوئی، تو 23/نومبر 1919ئ کو دہلی میں خلافت کانفرنس کے دوران جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ جمعیت نے 6/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں ترکِ موالات کی تجویز منظور کی اور 8/ ستمبر 1920ئ کو 474 علماکی توثیق سے متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس نے برطانوی حکومت سے بائیکاٹ اور ہم وطنوں سے اشتراک کو شرعی فریضہ قرار دیا۔ اسی دوران جب جذباتی فضا میں تحریکِ ہجرتِ افغانستان( 1920ئ) شروع ہوئی، تو جمعیت نے ہجرت کی کبھی باقاعدہ تائید نہیں کی؛ حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا آزادؒ نے اس پر کڑی شرائط عائد کیں اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے صراحت کی کہ مسلمانوں کے لیے ہندستان چھوڑنے کا تصور ہی باطل ہے ، ان کا فرض یہیں رہ کر جدوجہد کرنا ہے۔

متحدہ قومیت بمقابلہ دو قومی نظریہ و ہندو راشٹر

1920ئ سے لے کر آزادی تک ہندستان میں قومیت کے تین بڑے نظریات مدمقابل رہے:

1۔ متحدہ قومیت (جمعیت علمائے ہند کا نظریہ): جمعیت علمائے ہند کے دوسرے اجلاس (19 تا 21/نومبر 1920ئ) میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، پانچویں اجلاس (دسمبر 1923ئ) کی تجویز نمبر 5، اور ساتویں اجلاس( 11 تا 14 مارچ 1926ئ) میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے واضح کیا کہ قومیت و وطن پرستی اگرچہ معبود نہیں ہوسکتیں، مگر اپنے وطن کا تحفظ مسلمانوں پر شرعاً فرض ہے۔ اس تصور کو قطعی شکل حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے 7/جنوری 1938ئ کے دہلی کے خطاب میں دی، جس پر علامہ اقبالؒ سے تاریخی علمی مکالمہ بھی ہوا۔ مولانا مدنی نے کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں واضح کیا کہ ’’ملت‘‘ دین اور شریعت پر مبنی ہوتی ہے، جب کہ ’’قوم‘‘ اوطان سے بنتی ہے۔ میثاقِ مدینہ کی بنیاد پر ہندستان کے تمام باشندے بحیثیت ہم وطن ایک قوم ہیں، جس میں مسلمانوں کا مذہبی اور تہذیبی تشخص (کلچرل اٹانمی) پوری طرح محفوظ رہے گا۔

2۔ ہندو راشٹر (ساورکر اور گول والکر کا نظریہ): وی ڈی ساورکر نے اپنی کتاب Essentials of Hindutva (1923ئ) میں قومیت کی شرط’’پتر بھومی‘‘ (آبائی وطن) کے ساتھ ’’پنیہ بھومی‘‘ (مقدس سرزمین) قرار دے کر مسلمانوں اور عیسائیوں کو قومی دائرے سے خارج کر دیا، اور 1937ئ میں احمد آباد کے اجلاس میں ہندو اور مسلمان کو دو الگ قومیں قرار دیا۔ بعد ازاں ایم ایس گول والکر نے We, or Our Nationhood Defined(1939ئ) میں جغرافیہ، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان کی پانچ وحدتیں پیش کر کے غیر ہندو¶ں کو مکمل طور پر اقلیتی اور ماتحت حیثیت میں ضم ہونے کا نظریہ دیا۔

3۔ دو قومی نظریہ اور مطالبہ¿ پاکستان: علامہ اقبال کے خطبہ¿ الہ آباد( 29/دسمبر 1930ئ) اور چودھری رحمت علی کے پمفلٹ (Now or Never ، 28/جنوری 1933ئ) کے بعد 23/مارچ 1940ئ کو مسلم لیگ نے قراردادِ لاہور منظور کی۔ اس کے مقابلے میں جمعیت علمائے ہند نے 27 تا 30/اپریل 1940ئ کو دہلی میں ’’آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس‘‘ منعقد کر کے اعلان کیا کہ ہندستان تمام مذاہب کا مشترک وطن ہے اور تقسیم کا مطالبہ ملک اور اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے مفاد کے لیے تباہ کن ہے۔ 14/اپریل 1940ئ کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ نے بھی اپنے مقالے میں اس منصوبے کے عملی نقائص واضح کیے۔ اگرچہ مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی محمد شفیعؒ نے اسلامی نظام کے امکان کی امید پر پاکستان کی حمایت کی، تاہم مسلم لیگ کے مغربی و جمہوری ماڈل کے بیانات( 11 /نومبر 1945ئ کا انٹرویو) نے ثابت کیا کہ یہ تصور محض ایک سیاسی سراب تھا۔

1945–46 کے انتخابات کی حقیقت اور ہجرت کا شرعی حکم

فرقہ پرست عناصر کی جانب سے اکثر یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ46-1945ئ کے عمومی انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر تمام مسلم نشستیں جیت لی تھیں اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔

 فرقہ پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر درست نہیں ہے:

۱۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ئ کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار) پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔

۲۔ برصغیر کے تقریباً 9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان، کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔

14/اگست 1947ئ کو تقسیم کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ترکِ وطن کو اسلامی ہجرت ماننے سے انکار کر دیا۔ مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے مطابق یہ ترکِ وطن خوف یا روزگار کے لیے تھا، جسے شرعی ہجرت نہیں کہا جا سکتا۔ 24/اکتوبر 1947ئ کو امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں سے ہجرت کرنے والوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فرار کی زندگی تمھارا شیوہ نہیں۔

آزادی کے بعد وفاداری اور مساوی شہریت کے لیے جدوجہد

 آزادی کے فوراً بعد جب مسلمانوں کی وفاداری کو مشکوک بنا کر پیش کیا جانے لگا، توجمعیت  علمائے ہند نے اصولی موقف اختیار کیا:

۱۔ 27–28/دسمبر 1947ئ (آزاد کانفرنس)میں مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہارویؒ نے اعلان کیا کہ مسلمان اس ملک کے وفادار ہیں اور اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا، تو قوم پرور مسلمان دفاع میں جان دیںگے ، مگر وفاداری کے نام پر ذلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

۲۔ 1947ئ (جامع مسجد دیوبند) میں مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے واضح کیا کہ ایک جمہوری ملک میں عوام حکومت کے وفادار نہیں ہوتے؛ بلکہ حکومت کو عوام کا خادم ہونا پڑتا ہے ؛ مسلمانوں نے خون دے کر آزادی لی ہے ، لہٰذا وفاداری کا غلامانہ اظہار لایعنی ہے۔

۳۔ 26 تا 28/اپریل 1948ئ کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید دہلویؒ نے فرمایا کہ وفاداری کا ثبوت غیر ملکیوں کے سامنے دیا جاتا ہے ، اپنے وطن میں اپنے ہی لوگوں سے وفاداری کا مطالبہ بے جا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمانؒ نے واضح کیا کہ پوری قوم غدار نہیں ہو سکتی؛ جیسے ہٹلر کے بعد جرمن عوام کو معاف کیا گیا، ویسے ہی ہندستانی مسلمانوں پر الزامات تراشنا بند ہونا چاہیے۔

۴۔ 27تا 29/اپریل1951ئ کومنعقدسترھویں اجلاس کے خطبہ¿ استقبالیہ میں جناب نواب مقصود احمد نے صراحت کی کہ وفاداری آئین اور ملک سے ہوتی ہے ، کسی عارضی حکومت سے نہیں۔ حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے سوال کیا کہ کیا گاندھی جی کے سینے پر گولی چلانے والے ملک کے وفادار ہوسکتے ہیں؟

۵۔ 9 تا 11/دسمبر 1960ئ کے بیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمدحفظ الرحمان نے تاریخی جملہ کہاکہ:’’اگر پنڈت نہرو سے وفاداری کا ثبوت نہیں مانگا جا سکتا، تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں مانگا جا سکتا۔‘‘

۶۔ 15 تا 17/اپریل 1966ئ کے بائیسواں اجلاس کے صدارتی خطاب میں مولانا سید فخر الدین احمدؒ نے بریگیڈیئر عثمان اور عبد الحمید کی شہادتوں کا حوالہ دے کر کہا کہ اقلیت سے وفاداری مانگنا دراصل اسے محکوم بنانا اور ہٹلر ازم کو فروغ دینا ہے۔

جوں جوں دہائیاں گزریں، فرقہ پرستوں نے وفاداری کے ساتھ حقِ شہریت پر حملے شروع کیے۔ 29/اکتوبر 1995ئ کے پچیسویں اجلاس میں جمعیت نے مسلمانوں سے شہریت کے ثبوت مانگنے کے خلاف قرارداد منظور کر کے راشن کارڈ، پٹہ اور پاسپورٹ کو حتمی دستاویز ماننے کا مطالبہ کیا۔ 17/اکتوبر 2000ئ کو مولانا سید اسعد مدنیؒ نے آر ایس ایس کے سہ روزہ کیمپ (آگرہ) کے بیانات کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان روزِ اول سے قومی دھارے میں ہیں، جب کہ آر ایس ایس خود آئین اور سیکولر ڈھانچے سے باہر رہی ہے۔ 9/مارچ 2003ئ کو انھوں نے گول والکر کے الزامات کا مدلل رد کیا۔

15/ستمبر 2006ئ کو مولانا محمود مدنی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ’’وندے ماترم‘‘ چوںکہ توحید کے اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے ، لہٰذا اسے حب الوطنی کی کسوٹی نہیں بنایا جا سکتا۔ 2008ئ اور 2009ئ کے اجتماعات میں مولانا محمود مدنی نے یہ دوٹوک پیغام دیا: ’’مسلمانو! یاد رکھو !تم اس ملک کے حصہ دار ہو، کرایہ دار نہیں ہو!۔‘‘

اس فکر کا تسلسل دورِ حاضر تک جاری رہا۔ 12/فروری 2023ئ کو چونتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا محمود اسعد مدنی نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’بھارت جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے ، اتنا ہی محمود کا ہے۔ نہ محمود ان سے ایک انچ آگے ہے اور نہ ایک انچ پیچھے ۔‘‘ اور واضح کیا کہ آدم علیہ السلام کے ورود کی وجہ سے یہ دھرتی مسلمانوں کا پہلا وطن ہے۔ 

بعد ازاں 29/نومبر 2025ئ کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے واضح کیا کہ ملک سے وفاداری اور دستوری معاہدے کی پاسداری اسلامی حکم ہے ، لہٰذا حکومت اور اکثریتی طبقے کو بھی اسی اخلاص و دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بلاجواز مشکوک بنانے اور یک طرفہ نشانہ بنانے کی روش ترک کرنی چاہیے۔

قصہ مختصر یہ کہ اس تاریخی و دستاویزی جائزے سے یہ حقیقت پایہ¿ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ہندستان مسلمانوں کا اپنا موروثی اور اصلی وطن ہے۔ اس سرزمین سے ان کا رشتہ مذہبی، تاریخی، دستوری اور خون کے نذرانوں سے جڑا ہوا ہے۔ علمائے دیوبند اور جمعیت علمائے ہند نے دارالحرب کے اعلان سے لے کر دارالامان اور متحدہ قومیت کے معاہدے تک ہر موڑ پر ملک کی آزادی اور سالمیت کے لیے اصولی کردار ادا کیا اور تقسیم کے نظریے کی آخری دم تک مخالفت کی۔ ہندستان کا مسلمان ایک آزاد، جمہوری اور سیکولر آئین کے تحت برادرانِ وطن کے شانہ بشانہ اس ملک کا برابر کا مالک و حصہ دار ہے ، جسے اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی فرقہ پرست گروہ سے تصدیق نامہ (سرٹیفکیٹ) لینے کی چنداں ضرورت نہیں۔

15 Sept 2026

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

 

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

محمد یاسین جہازی

ہندستان مسلمانوں کا اصلی وطن ہے یا نہیں، یہ سوال اپنی بنیاد میں ایک تاریخی سوال نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔ آزادی کے بعد فرقہ پرست عناصر نے اس سوال کو اس لیے زندہ کیا تاکہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈالا جا سکے اور ہندستانی جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرکے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسانیت کی تاریخ۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی نے اپنے رسالے "ہمارا وطن اور اس کی فضیلت" میں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے رسالے "ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل" میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا ورود اسی سرزمین پر ہوا۔ اس لیے اس بحث کو ان دونوں کتابوں کے حوالے کرکے ہم اس تحریر میں اصل موضوع یعنی ہندستان کی شرعی حیثیت کی تاریخ کی طرف بڑھتے ہیں۔

آزادی سے پہلے اس سوال کا کوئی تصور ہی موجود نہ تھا۔ اکابر کی تحریروں میں ہندستان کی شرعی حیثیت پر تو سیر حاصل بحث ملتی ہے لیکن مول نواسی کے حوالے سے کوئی اشارہ تک نہیں ملتا، حتیٰ کہ جمعیت علمائے ہند کی آزادی سے پہلے کی تاریخ میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی لیے اس مقالے کی بنیاد ہندستان کی شرعی حیثیت کے تاریخی ارتقاء پر رکھی گئی ہے۔

ہندستان کی تاریخ میں اس کی شرعی حیثیت پر سب سے پہلی باقاعدہ بحث حکیم الہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہ کے یہاں ملتی ہے۔ مشہور مؤرخ مولانا ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری نے لکھا ہے کہ شاہ صاحب وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہندستان کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا اور اس ایک اعلان نے ملک کے قابض اقتدار کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کر دیا۔ دراصل ملک کا دارالاسلام سے دارالحرب بن جانا مسلم ہندستان کی سیاسی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تھا، لیکن یہ عمل اتنی آہستگی سے وقوع پذیر ہوا کہ شاہ صاحب جیسی صاحب نظر ہستی کے علاوہ وقت کا کوئی مدبر اس کی آہٹ بھی نہ سن سکا۔ بلکہ بعض اہل علم نے اس تبدیلی کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا، چنانچہ 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بھی مولانا احمد رضا خان صاحب نے "الاعلام بان الہند دارالاسلام" لکھ کر آزادی کے جہاد کو حرام قرار دے دیا۔

سن 1806 میں دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے شاہ عالم کو برائے نام تخت پر بٹھا کر یہ اعلان کیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا ہے۔ اس ظاہری تقسیم کی وجہ سے بعض علماء کو یہ گمان ہوا کہ ہندستان اب بھی دارالاسلام ہے۔ لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جبکہ تخت پر شاہ عالم ثانی متمکن تھے، فتویٰ دیا کہ ہندستان کی سیاسی حیثیت بدل چکی ہے۔ ان کے سامنے اس وقت چار راستے تھے۔ اول یہ کہ قوم کے سیاسی مفادات سے چشم پوشی کرکے خاموش رہا جائے، دوم یہ کہ تن آسان علماء کی طرح ہندستان کو بدستور دارالاسلام کہا جائے، سوم یہ کہ اسے دارالحرب کہہ کر ہجرت کر لی جائے، اور چہارم یہ کہ اسے دوبارہ دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ ابن الوقت رہنماؤں نے پہلا راستہ اختیار کیا، مفاد پرستوں جن میں قادیانی، بریلوی اور سید احمد خان کے نام نمایاں ہیں، نے دوسرا راستہ لیا، تیسرا راستہ کروڑوں مسلمانوں کے لیے عملاً ناممکن تھا، اور چوتھا راستہ جو ہمیشہ اصحاب عزم کا خاصہ رہا ہے، دشوار ترین تھا۔ شاہ صاحب نے اسی چوتھے راستے کو اختیار کیا اور 1808 یا 1809 میں سب سے پہلا فتویٰ جہاد دیا جس کا متن فتاویٰ عزیزی جلد اول صفحہ سولہ اور سترہ پر موجود ہے اور جس میں انہوں نے در مختار اور کافی کے حوالے سے ثابت کیا کہ یہاں امام المسلمین کا حکم جاری نہیں بلکہ نصاریٰ کا حکم بے دغدغہ جاری ہے۔

دوسرا فتویٰ جہاد شاملی کے عنوان سے مشہور ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ تھانہ بھون کے قاضی عنایت علی اور ان کے بھائی قاضی عبدالرحیم علاقے میں ہر دلعزیز تھے لیکن ایک کائستھ سرشتہ دار نے ذاتی عداوت کی بنا پر حاکم ضلع سہارنپور رابرٹ اسپنکی سے جھوٹی شکایت کی کہ عنایت علی انگریزی حکومت سے باغی ہو گئے ہیں اور عبدالرحیم دہلی کے باغیوں کے لیے اسلحہ خریدنے آئے ہیں۔ اسپنکی نے تحقیق کے بغیر قاضی عبدالرحیم کو ان کے رفقاء سمیت پھانسی دے دی۔ اس خبر سے علاقے میں آگ لگ گئی۔ دیوبند، گنگوہ اور نانوتہ سے علماء تھانہ بھون پہنچے اور ایک مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حافظ محمد ضامن، مولانا مظہر نانوتوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر شریک تھے۔ حاجی امداد اللہ کو امیر جہاد مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر استفتاء کیا گیا کہ جب انگریز دلی پر چڑھ آئے اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہوں تو جہاد فرض ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں مفتی صدر الدین، مولانا نذیر حسین اور دیگر سمیت پینتیس علماء نے دستخط کرکے فتویٰ دیا کہ اس شہر والوں پر جہاد فرض عین ہے اور اطراف والوں پر فرض کفایہ۔ یہ فتویٰ پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا اور پھر 26 جولائی 1857 کی اشاعت میں صادق الاخبار نے اسے نقل کیا۔ اسی فتوے کی بنیاد پر 14 ستمبر 1857 کو شاملی اور تھانہ بھون کی معرکہ آراء لڑائی لڑی گئی۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد علماء پر بے پناہ مظالم ہوئے اور انہیں مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑی۔

ایسے ہی مایوسی کے دور میں یکم نومبر 1858 کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلان عام معافی کے بعد سرسید احمد خان مسلمانوں کے تعلیمی لیڈر بن کر ابھرے۔ ان کا نقطہ نظر دارالعلوم دیوبند کے بالکل برعکس تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان انگریزوں کی مخالفت کرکے باعزت زندگی نہیں گزار سکتے۔ 28 دسمبر 1887 کو ایک بڑے مجمع میں انہوں نے تقریر کی جو 11 اور 12 جنوری 1888 کو اخبار پائینیر میں شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے، انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

اس تقریر کے پیچھے دراصل کانگریس کی بنیاد کا پس منظر تھا۔ یکم نومبر 1858 کے اعلان کے بعد جب انگریز حکام کے مظالم جاری رہے اور گورنروں اور وائسرائے تک شکایات بے اثر رہیں تو وائسرائے لارڈ ڈفرن نے کہا کہ انفرادی شکایات کے بجائے اجتماعی جماعت بناؤ۔ چنانچہ 28 دسمبر 1885 کو مسٹر اے او ہیوم کے ہاتھوں بمبئی میں کانگریس کی بنیاد رکھی گئی جس کے پہلے اجلاس میں اٹھہتر ممبر شریک ہوئے جن میں دو مسلمان بھی تھے۔ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے انگریزوں میں بے چینی پیدا ہوئی تو پرنسپل بیک اور دیگر انگریزوں نے انجمن محبان وطن یعنی انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن بنائی اور سرسید پر دباؤ ڈالا کہ وہ کانگریس کے انتہائی مخالف ہو جائیں۔ یہاں تک کہ چند علماء سے فتویٰ دلوایا گیا کہ کانگریس میں شرکت حرام اور پیٹریاٹک ایسوسی ایشن میں شرکت فرض ہے۔ سرسید نے 21 اگست 1888 کو نینی تال سے ایک عریضہ لکھا جس میں کہا کہ اگر کانگریس کے مقاصد پورے ہو گئے تو مسلمانوں کا حال یہودیوں سے بھی بدتر ہو جائے گا جن کے بارے میں خدا نے فرمایا "وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ"۔

اس پر علمائے حق نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ 1888 تک سرسید کی تحریک زوروں پر رہی تو مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود حسن دیوبند اور دیگر مدارس کے علماء نے اس کی مخالفت کی۔ اس سلسلے میں علمائے لدھیانہ مولانا محمد صاحب اور ان کے بھائیوں نے اطراف ہند سے فتاویٰ جمع کرکے رسالہ "نصرۃ الابرار" مرتب کیا۔ اس میں حضرت گنگوہی کا فتویٰ درج ہے جس میں پوچھا گیا تھا کہ نیشنل کانگریس جو ہندو مسلم سب کے دنیاوی مفاد کے لیے قائم ہوئی ہے اور کسی مذہب کو مضر بحث سے گریز کرتی ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں، اور سید احمد خان کی ایسوسی ایشن جس میں پانچ روپے ماہانہ چندہ مانگا جا رہا ہے اور جبراً لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں۔ حضرت گنگوہی نے جواب دیا کہ ہنود سے بلا ضرر دینی شرکت جائز ہے لیکن سید احمد سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے اگرچہ وہ خیر خواہی کا نام لیتا ہو کیونکہ اس کی شرکت اسلام کے لیے سم قاتل ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن نے 11 دسمبر 1888 کو اس فتوے کی تائید فرمائی۔

انگریزوں کی اسی زہریلی پالیسی کے تحت 1906 میں مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی۔ سید طفیل احمد منگلوری اپنی کتاب روشن مستقبل میں لکھتے ہیں کہ تقسیم بنگال کی تیاریوں کے ساتھ ہی کونسلوں میں حقوق دینے کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا۔ وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنل ڈنلپ اسمتھ نے ایک مضمون بناکر پرنسپل آرچ بولڈ کو دیا، آرچ بولڈ نے 6 جولائی 1906 کو نواب محسن الملک کو بھیجا اور نواب نے فوراً وائسرائے سے ملنے کے لیے وفد مرتب کیا۔ یکم اکتوبر 1906 کو آغا خان کی قیادت میں یہ وفد شملہ میں وائسرائے منٹو سے ملا اور 9 نومبر 1906 کو نواب سلیم اللہ خان نے "مسلم آل انڈیا کنفیڈریشن" کی تجویز دی۔ بالآخر 30 دسمبر 1906 کو نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی جس کے مقاصد میں برطانوی حکومت سے وفاداری اور غلط فہمیاں دور کرنا شامل تھا۔ اس کے قیام کی اطلاع تار کے ذریعے حکومت کو دی گئی۔ جب یہ خبر انگلستان پہنچی تو ٹائمز نے خوشی منائی کہ اب ہندستان میں صلح نہ رہے گی۔

مسلم لیگ کا پہلا مسلم مخالف کارنامہ 1916 میں سامنے آیا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں ہوئے۔ 29 دسمبر کو کانگریس نے اور 31 دسمبر کو جناح کی صدارت میں مسلم لیگ نے میثاق لکھنؤ منظور کیا جس میں پہلی بار فرقہ وارانہ بنیاد پر جداگانہ انتخاب اور مخصوص نمائندگی تسلیم کی گئی، پنجاب میں پچاس فیصد اور بنگال میں چالیس فیصد حالانکہ وہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ سید طفیل احمد لکھتے ہیں کہ یہ آئین امن عامہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اسی تسلسل میں 1930 میں ڈسٹرکٹ جج میرٹھ مسٹر پوڈن نے تقسیم کا تصور پیش کیا، 1931 میں اس کا خط منظر عام پر آیا اور چودھری رحمت علی نے اس کی تشہیر کی، بالآخر 22 اور 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی۔

اس کے متوازی 1914 سے 1920 تک کے واقعات نے ترک موالات کی بنیاد رکھی۔ 28 جولائی 1914 کو پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی، 2 نومبر 1914، 20 اپریل 1915 اور 5 جنوری 1916 کو برطانیہ نے خلافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی لیکن 30 اکتوبر 1918 کی عارضی صلح اور 10 اگست 1920 کے معاہدہ سیورے نے خلافت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ادھر ہندستانیوں سے سوراج کا وعدہ کرکے 18 اگست 1917 کے خود اختیاری کے وعدے کے برخلاف 18 جنوری 1919 کو رولٹ بل پیش کیا گیا اور 19 مارچ 1919 کو رولٹ ایکٹ منظور ہوا۔ اس کے خلاف گاندھی جی نے 30 مارچ اور 6 اپریل 1919 کو ملک گیر ہڑتال کی اور 13 اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ میں نہتے مجمع پر فائرنگ ہوئی۔ خلافت کی بندر بانٹ کی خبروں پر 18 ستمبر 1919 کو لکھنؤ اجلاس میں ترک موالات کی تجویز آئی اور 17 اکتوبر 1919 کو ملک گیر احتجاج ہوا۔ 3 نومبر 1919 کو دہلی میں گاندھی جی نے تحریک خلافت کی حمایت کی اور 23 اور 24 نومبر 1919 کی دہلی خلافت کانفرنس میں جشن فتح کے بائیکاٹ اور عدم تعاون کا فتویٰ دیا گیا۔ اسی موقع پر 23 نومبر 1919 بروز اتوار بعد نماز عشاء جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی جس نے 6 ستمبر 1920 کو کلکتہ میں ترک موالات کی تجویز منظور کی اور 8 ستمبر 1920 کو ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد کے مرتب کردہ فتوے پر چار سو چوہتر علماء نے دستخط کیے۔

جمعیت کا دوسرا سالانہ اجلاس 19، 20، 21 نومبر 1920 کو ہوا۔ اس کی دو سالہ روداد میں پہلے ناظم مولانا عبدالحلیم صدیقی نے لکھا کہ علماء کا فرض صرف فقہی حکم بیان کرنا نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والی طاقت پیدا کرنا بھی ہے اور اس کے لیے کامل آزادی شرط ہے۔ آزادی ہی تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور غلام قوم کے لیے کوئی نیکی نیکی نہیں۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی بے شک اسلامی اصطلاح نہیں اور شاید یورپ سے لی گئی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج ہے۔ جو ملک ایک بار مسلمانوں کے جھنڈے تلے آ جائے اس کا ایک چپہ بھی کفار لینا چاہیں تو شرق سے غرب تک کل اہل اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد تیسرے اجلاس 18، 19، 20 نومبر 1921 میں اعلان کیا گیا کہ ہندستان کو غلامی سے آزاد کرانا مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ چوتھے اجلاس 24 تا 26 دسمبر 1922 میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فرمایا کہ جمعیت کا نصب العین دو حصوں میں ہے، اندرون ملک مذہبی رہنمائی اور بیرون ملک مذہبی تعلقات کا تحفظ، اور دونوں آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ پانچویں اجلاس 29 دسمبر 1923 تا یکم جنوری 1924 میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے مسلمانوں کے بارہ فرائض گنوائے جن میں سے تیسرا ہندستان کو آزاد کرانا تھا۔ انہوں نے قرآن کی آیات "وقاتلوا فی سبیل اللہ" اور "واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ" سے استدلال کیا کہ اس حکومت سے مقابلہ فرض ہے اور ہندستان کی آزادی انگلستان کی موت کے مترادف ہے۔

اسی دوران جہاد آزادی میں غیر مسلموں کے تعاون کا مسئلہ سامنے آیا۔ فخر المحدثین مولانا انور شاہ کشمیری نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ہندستان نہ دارالاسلام ہے کہ غیر مسلموں سے تعاون لینا ناجائز ہو اور نہ دارالکفر ہے کہ مسلمانوں کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ یہ دارالامان ہے۔ چنانچہ انہوں نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کو منعقد آٹھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ شاہ عبدالعزیز نے جب اسلامیت کا رنگ گہرا تھا تب اسے دارالاسلام نہیں کہا تو آج بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اس لیے دارالامان کے احکام تلاش کرکے رہنمائی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میثاق مدینہ کی طرف توجہ دلائی۔ اسی نظریے کی بنیاد پر 4، 5، 6 مئی 1930 کو نویں اجلاس میں کانگریس کے ساتھ جمہوریت کے نفاذ کی شرط پر اشتراک عمل کیا گیا۔

متحدہ قومیت اور دو قومی نظریہ کا فرق اسی پس منظر میں واضح ہوتا ہے۔ ہندستان میں صدیوں تک متحدہ قومیت کا تصور رائج رہا لیکن 1867 میں اردو ہندی تنازع پر سرسید احمد خان نے کہا کہ ہندو مسلم ایک قوم نہیں بن سکتے۔ بعد میں علامہ اقبال نے 29 دسمبر 1930 کو الہ آباد میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل خود مختار ریاست کی تجویز دی اور چودھری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو کیمبرج سے "Now or Never" پمفلٹ میں اسے پاکستان کا نام دیا۔ اس کے برعکس جمعیت کا متحدہ قومیت کا تصور 19 تا 21 نومبر 1920 کے صدارتی خطاب اور 29 دسمبر 1923 کی تجویز نمبر پانچ میں موجود ہے۔ یہ خیال کہ متحدہ قومیت کا پہلا تصور حضرت مدنی کا ہے درست نہیں، البتہ اس پر بحث کا دروازہ حضرت مدنی کے خطاب کے بعد ہی کھلا۔

واقعہ یہ ہوا کہ 7 جنوری 1938 کی شب باڑہ ہندو راؤ دہلی میں حضرت مدنی کی تقریر ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ بعض اخبارات جیسے ہفت روزہ انصاری 8 جنوری 1938 اور روزنامہ تیج اور پھر احسان 31 جنوری 1938 نے اسے سیاق سے کاٹ کر "اقوام وطن سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں" بنا کر پیش کیا۔ اس پر علامہ اقبال نے 3 فروری 1938 کو قطعہ کہا۔ حضرت مدنی نے 9 فروری 1938 کو مولوی عبدالرشید نسیم طالوت کو خط میں وضاحت کی کہ انہوں نے قومیت کا لفظ استعمال کیا تھا ملت کا نہیں، ملت کے معنی شریعت کے ہیں اور قوم کے معنی افراد کی جماعت کے۔ 10 فروری کو اقبال نے جواب دیا کہ اگر یہ بیان واقعہ ہے تو اعتراض نہیں لیکن اگر مشورہ ہے تو اسلام کے منافی ہے۔ حضرت مدنی نے 26 فروری کو دوسرا خط لکھ کر کہا کہ یہ خبر تھی انشاء نہیں۔ 28 مارچ 1938 کو احسان میں اقبال کا تردیدی بیان شائع ہوا کہ اب اعتراض باقی نہیں۔ بعد میں حضرت مدنی نے کتاب "متحدہ قومیت اور اسلام" میں اس کی تفصیل لکھی کہ میثاق مدینہ کی طرز پر ہندستان کے تمام باشندے ہم وطن ہونے کی حیثیت سے ایک قوم بن کر انگریز کے خلاف متحد ہوں جبکہ ہر مذہب اپنے عقائد میں آزاد رہے۔ اسی سال اگست 1938 میں جون پور کانفرنس اور 7، 8، 9 جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ ہم باشندگان ہند بحیثیت ہندستانی ایک اشتراک رکھتے ہیں جو مذہبی اختلاف کے باوجود باقی رہتا ہے جیسے آگ لگنے پر سارے گاؤں والے مل کر بجھاتے ہیں۔

قومیت و وطنیت پر دیگر اکابر نے بھی روشنی ڈالی۔ 11 تا 16 جنوری 1925 کے چھٹے اجلاس میں مولانا محمد سجاد نے وطنی فدویت کو مہلک مرض کہا اور فرمایا اسلامی قومیت کی بنیاد کلمہ لا الہ الا اللہ پر ہے، جغرافیہ پر نہیں۔ 11 تا 14 مارچ 1926 کے ساتویں اجلاس میں مولانا سید سلیمان ندوی نے فرمایا کہ یورپی طرز کی قوم پرستی نسل، وطن اور زبان کی بنیاد پر جاہلیت کی عصبیت ہے جسے اسلام نے ختم کیا، لیکن وطن سے محبت اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر مسلمان کا فرض ہے جیسے صحابہ نے حبشہ میں نجاشی کے دفاع میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پین اسلامزم اور نیشنلزم ایک ساتھ ممکن ہیں جیسے اہل یورپ اپنی قومیت کے ساتھ پورے یورپ سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ اپریل 1930 میں میرٹھ کے بیس ہزار کے اجتماع میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ تمہارا مذہب انگریز اور ہندو دونوں سے الگ ہے لیکن قومیت اور وطن میں تم ہندو کے شریک ہو، انگریز تمہارا ہم وطن نہیں۔ 3 تا 6 مارچ 1939 کے گیارھویں اجلاس میں مولانا سید عبدالحق مدنی نے کہا کہ ہم اس کے حامی ہیں کہ ہندستان کے تمام باشندے بیرونی اقوام کے مقابلے میں ہندستانی کہلائیں اور یہی متحدہ قومیت ہے لیکن ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد پر اثر ڈالے۔

اس کے مقابلے میں ہندو نظریہ میں قومیت کا کوئی مذہبی تصور نہیں ملتا، البتہ ساورکر کے یہاں راشٹر کی تعریف موجود ہے۔ اپنی کتاب Essentials of Hindutva 1923 میں ساورکر نے لکھا کہ ہندو وہ ہے جو سندھ سے سمندر تک کی بھومی کو پتر بھومی اور پنیہ بھومی دونوں مانتا ہو۔ اس معیار پر مسلمانوں کے لیے ہندستان پتر بھومی تو ہے لیکن پنیہ بھومی نہیں کیونکہ ان کی مقدس سرزمین مکہ ہے۔ Hindu Rashtra Darshan میں انہوں نے کہا کہ ہندودم مشترک تہذیب، زبان، تاریخ اور آبائی وطن سے بندھا ہے۔ 1937 میں احمد آباد ہندو مہاسبھا کے انیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ہندستان یک جہتی قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں ہندو اور مسلم، یہ اعلان مسلم لیگ کی قرارداد پاکستان سے تین سال پہلے ہوا تاہم وہ تقسیم کے حامی نہیں تھے بلکہ ایک اٹوٹ ہندستان میں ہندو قوم کو فیصلہ کن بنانا چاہتے تھے۔ فرق واضح ہے کہ علاقائی قومیت میں ہر شخص محض وطن کی بنیاد پر قوم کا حصہ ہے جبکہ ساورکر کے نزدیک تاریخ، تہذیب اور پنیہ بھومی بھی شرط ہے۔ اس کے برعکس جمعیت کا نظریہ شہریت اور مشترک وطن پر مبنی شمولیتی قومیت کا ہے۔

اسی طرح گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood Defined 1939 میں قوم کے لیے پانچ وحدتیں بیان کیں۔ ملک، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان۔ ان کے نزدیک جو ان پانچ ہندو عناصر سے باہر ہیں وہ اپنی جدا شناخت چھوڑ کر ہی قومی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی کتاب کے صفحہ 18، 40 سے 46 اور 130 پر انہوں نے لکھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان راتوں رات دیش بھکت نہیں بن گئے بلکہ خطرہ سو گنا بڑھ گیا ہے۔

پھر دوسری جنگ عظیم کا زمانہ آیا۔ 3 ستمبر 1939 کو جنگ شروع ہوئی اور برطانیہ نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر ہند کو جنگ میں شامل کر دیا۔ 14 ستمبر 1939 کو کانگریس اور 16 تا 18 ستمبر 1939 کو جمعیت نے شرکت سے انکار کیا۔ حکومت نے 17 اکتوبر 1939 کو وائسرائے کی کونسل میں توسیع کی پیشکش کی اور 18 اکتوبر کو انڈیا ایکٹ 1935 پر نظر ثانی کا اعلان کیا لیکن دونوں نے مسترد کر دیا۔ اسی دوران مسلم لیگ نے 27 اگست 1939، 17، 18، 22 اکتوبر 1939 اور 3 فروری 1940 کی قراردادوں میں وفاق کی مخالفت کی اور 13 فروری 1940 کو جناح نے وائسرائے سے ملاقات کرکے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد لاہور منظور کرائی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے 3 اور 4 مارچ 1940 کو دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا جو 27 تا 30 اپریل 1940 کو منعقد ہوئی اور اعلان کیا کہ ہندستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ ایک متحدہ ملک ہے جو تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس کے چپے چپے میں مسلمانوں کی ملکیت اور شعائر موجود ہیں۔ اس کی تجویز نمبر چھ میں کہا گیا کہ ہندستان کو ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان میں تقسیم کرنا ناقابل عمل اور مسلمانوں کے لیے مضر ہے اور اس سے برطانوی سامراج کو فائدہ پہنچے گا۔

پاکستان کی شرعی حیثیت پر بھی دو موقف سامنے آئے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم لیگ کی اصلاح کی شرط پر حمایت کی، مولانا مفتی محمد شفیع نے 1945 میں رسالہ "کانگریس اور مسلم لیگ کے متعلق شرعی فیصلہ" لکھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ پاکستان ایک ابتدائی قدم ہے جو قرآنی حکومت پر منتہی ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ کے قائدین کے بیانات اس سے مختلف تھے۔ 11 نومبر 1945 کے اخبار منشور میں جناح نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی، ایک پارٹی کی حکومت نہیں ہوگی، اقلیتوں کو حکومت میں مناسب نمائندگی دی جائے گی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ حکومت مسلمانوں کی ہوگی۔ مورخ ملت مولانا محمد میاں نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا اسلامی حکومت جمہوری تعریف میں آتی ہے۔

تقسیم کے بعد جب 14 اگست 1947 کو پاکستان بنا تو بعض علماء نے ہجرت کو فرض کہا اور تقریباً دو کروڑ انسان متاثر ہوئے۔ لیکن جمعیت نے تو 2 تا 5 دسمبر 1927 کو ہی انگریزی دور میں ہندستان کو دارالامان کہا تھا تو آزادی کے بعد بدرجہ اولیٰ دارالامان تھا۔ اس لیے اس کے سامنے ہجرت کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ حضرت سید الملت نے لکھا کہ جن کے سامنے نہ موت کا سوال تھا نہ ارتداد کا پھر بھی انہوں نے روزگار، عزت، بچوں کا مستقبل اور خوف کی وجہ سے وطن چھوڑا تو یہ شرعی ہجرت نہیں بلکہ طلب دنیا ہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے 24 اکتوبر 1947 کو جامع مسجد دہلی سے خطاب میں فرمایا کہ یہ فرار کی زندگی جسے تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے اس پر غور کرو، مسجد کے مینار تم سے سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کو کہاں گم کر دیا، کل جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف آتا ہے حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔

اس کے بعد فرقہ پرستوں نے ایک اور دلیل پیش کی کہ 1945 اور 1946 کے تین انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ دسمبر 1945 کے مرکزی انتخابات میں 30 مسلم نشستیں، جنوری تا فروری 1946 کے صوبائی انتخابات میں 509 میں سے 425 نشستیں یعنی 83.5 فیصد، اور جولائی 1946 کی قانون ساز اسمبلی میں 73 نشستیں مسلم لیگ نے جیتیں۔ اس لیے اب ہندستان میں مسلمانوں کا مساوی شہری حقوق کا مطالبہ بے بنیاد ہے۔

اس کا پہلا جواب انتخابی نظام کے جائزے میں ہے۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت ہوئے جو ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر نہیں تھے۔ ووٹ کا حق صرف جائیداد، ٹیکس، تعلیم اور آمدنی کی سخت شرائط پر ملتا تھا جو زمینداروں، وکیلوں اور اعلیٰ ملازمین تک محدود تھا۔ عام کسان، مزدور اور خواتین محروم تھیں۔ اس وقت کل مسلم آبادی تقریباً 9 کروڑ تھی، قانونی اہل ووٹر تقریباً 90 لاکھ یعنی دس فیصد، اور بالفعل ووٹ ڈالنے والے تقریباً 60 لاکھ یعنی 6.6 فیصد۔ نوے فیصد آبادی پہلے ہی حق سے محروم تھی۔ اس لیے 6 سے 7 فیصد کی رائے کو 9 کروڑ کا اجتماعی فیصلہ کہنا تاریخی اور ریاضیاتی بددیانتی ہے۔ دوسرے جدید جمہوری ریاست میں حقوق کی بنیاد آئین، قانون کی حکمرانی اور مساوات پر ہوتی ہے نہ کہ 80 سال پرانے غیر مساوی انتخاب پر۔

دوسرا جواب جمعیت کی تاریخ سے ہے۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جبکہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی۔ اس لیے پاکستان کا نام لے کر ہندستانی مسلمانوں کو مشکوک بنانا فکری دہشت گردی ہے۔

وفاداری کے مسئلے پر بھی جمعیت کا موقف دو ٹوک رہا ہے۔ اسلام میں معاہدے کی پابندی مذہبی حکم ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کے صدارتی خطبے میں قرآن کی آیات "الا الذین عاہدتم من المشرکین" اور "فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم" سے استدلال کرکے کہا کہ اگر برادران وطن مسلمانوں سے منصفانہ معاہدہ کرلیں تو مسلمانوں کو پورا وفادار پائیں گے۔ 27، 28 دسمبر 1947 کی آزاد کانفرنس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ ہم اس ملک کے باشندے اور وفادار ہیں، اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا تو مسلمان سب سے پہلے دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حکام مسلمانوں کو پانچواں کالم کہتے ہیں یہ غلط ہے، ہم اس ملک کو اسی طرح اپنا وطن سمجھتے ہیں جس طرح ہندو۔ وفاداری کا مطالبہ تو اس وقت ہوتا ہے جب معاملہ غیر ملکی سے ہو۔

تقسیم کے بعد جب وفاداری کے سوال نے زور پکڑا تو شیخ الاسلام حضرت مدنی نے دیوبند کی جامع مسجد سے فرمایا کہ اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے آئندہ بھی سینچنے کا عزم رکھو، یہی حقیقی وفاداری ہے۔ یہ ثابت کرنا وزراء کا فرض ہے کہ وہ عوام کے وفادار ہیں، ہم کو ان سے باز پرس کا حق ہے پھر اس غلامانہ اظہار وفاداری کا کیا مطلب۔ انہوں نے سوال کیا کہ بہار، گڑھ مکتسر اور یوپی میں جو دکھ اٹھائے وہ کس غداری کا نتیجہ تھے، دہلی اور مشرقی پنجاب کی تباہی کس بے وفائی کا صلہ تھی، کلکتہ، نواکھالی، مغربی پنجاب میں ہندو سکھوں نے جو مصائب برداشت کیے وہ کس جرم کی سزا تھے۔ چالیس کروڑ میں سے دس فیصد کو ہی ووٹ کا حق تھا، دس کروڑ میں سے ایک کروڑ، اور اس میں سے بھی ساڑھے چار لاکھ ووٹ تقسیم کے حق میں پڑے یعنی ساڑھے چار فیصد، اس کو پوری قوم پر کیسے تھوپا جا سکتا ہے۔

26، 27، 28 اپریل 1948 کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ جو اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے وہ چلے جائیں، بحری بری ہوائی راستے کھلے ہیں، میں جان بوجھ کر وفاداری کا لفظ استعمال نہیں کر رہا کیونکہ اپنا ملک ہے تو ثبوت کس کے سامنے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ بلا شبہ جو پاکستان کی طرف تکتے ہیں وہ چلے جائیں لیکن چار کروڑ مسلمان غدار نہیں، جس طرح جنگ میں جرمن عوام کو ہٹلر ازم کا حامی ہونے کے باوجود مٹایا نہیں گیا بلکہ کہا گیا کہ خطا لیڈرشپ کی ہے، اسی طرح لیگ کے حامی عوام کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ وفاداری ڈرانے سے نہیں پریم اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔

27 تا 29 اپریل 1951 کے سترھویں اجلاس میں صدر استقبالیہ مقصود بن منصور مراد آبادی نے کہا کہ وفاداری کا سوال ملک اور دستور سے ہوتا ہے، میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم اپنے ملک اور دستور کے وفادار ہیں اور ہر اس حکومت کے وفادار رہیں گے جو دستور پر پورا عمل کرے۔ مسلمانوں کو حجاز، ایران، شام سے بھی ہمدردی ہے تو کیا اس کا مطلب غداری ہے، خود حکومت ہند کو پاکستان سے ہمدردی ہے، وفود جاتے ہیں تو کیا وہ غدار ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ غداری افراد میں ہو سکتی ہے جماعت غدار نہیں ہو سکتی، پاکستان کی طرف نظر اٹھانا اگر غداری ہے تو مہاتما گاندھی کے سینے میں گولی مارنا بھی کم غداری نہیں۔

9، 10، 11 دسمبر 1960 کے بیسویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ اگر کسی کو پنڈت نہرو سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں، ہندو مسلم سکھ سب ہندستان کے جسم کے ٹکڑے ہیں ناخن میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو ہوتی ہے۔ 15 تا 17 اپریل 1966 کے بائیسویں اجلاس میں مولانا سید فخرالدین احمد صدر جمعیت نے کہا کہ حفاظت وطن کے دعوے دار پریشان تھے کہ چھ کروڑ مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا لیکن بریگیڈیئر عبدالحمید اور ان کے ساتھیوں نے عمل سے بتا دیا۔ اب بھی وفاداری کا مطالبہ دستور کے احترام کو پامال کرنا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا شاہد فاخری نے کہا کہ ہماری وفاداری زمین اور ملک سے ہے پارٹی سے نہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ 14، 15 جنوری 1983 کی مجلس منتظمہ میں یوپی کے وزیر اوقاف محمد امین انصاری نے کہا کہ حب الوطنی ہمارا ایمان ہے، مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالرحمان انتولے نے کہا کہ ان کی وفاداری پر شیطان بھی شک نہیں کر سکتا۔ 25، 26 جنوری 1991 کے کل ہند اجتماع میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلمان کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہ لیں۔ 29 اکتوبر 1995 کے پچیسویں اجلاس میں جسٹس سردار علی خان نے کہا کہ اس ہندستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا، وزیر فلاح و بہبود سیتا رام کیسری نے کہا کہ کروڑوں مسلمانوں نے موت کے سائے میں ہندستان میں رہنا پسند کیا، اگر ان کی وفاداری پر شک ہے تو شک کرنے والوں کی وفاداری پر مجھے شک ہے۔ اسی اجلاس میں حق شہریت کی تجویز منظور ہوئی جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کا جذبہ وفاداری مذہبی فریضہ ہے، آزادی کے بعد نصف صدی میں ایک مسلمان بھی جاسوسی میں نہیں پکڑا گیا، چین اور پاکستان کی جنگوں میں روشن کردار پیش کیا، اس کے باوجود بنگلہ دیشی دراندازی کا ہوا کھڑا کرکے ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جا رہے ہیں اور شہریت کے ثبوت کے لیے ایسے کاغذات مانگے جا رہے ہیں جو وزراء کے لیے بھی آسان نہیں۔

16، 17 دسمبر 1998 کی مجلس عاملہ نے دینی مدارس اور مساجد کے خلاف مہم کو تشویش کی نظر سے دیکھا۔ 6 جون 1999 کے اقلیتی کنونشن میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان ایک ہزار سال سے یہاں رہ رہے ہیں حاکم بھی رہے اور محکوم بھی لیکن ہمیشہ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔ 25 مارچ 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے آر ایس ایس سربراہ کے ایس سدرشن کے بیان کہ مسلمان ہندستان کو اپنا ملک سمجھیں کو کھلی شرارت کہا۔ 13 تا 15 اکتوبر 2000 کو آگرہ میں آر ایس ایس کی راشٹریہ سرکشا مہاشور کے بعد 17 اکتوبر 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ آر ایس ایس کو اقلیتوں سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں، وہ خود مین اسٹریم سے باہر رہی ہے، بتایا جائے وہ قومی دھارا کہاں بہہ رہا ہے۔ 21 جون 2002 کی مشاورتی میٹنگ کے میمورنڈم میں کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر وفاداری پر انگلی اٹھانا قومی عداوت کے مترادف ہے۔ 9 مارچ 2003 کے ستائیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے میں مولانا اسعد مدنی نے گولوالکر کے الزام کہ مسلمانوں کی وفاداریاں باہر ہیں اور ان کی آبادی گیارہ سے بائیس فیصد ہو گئی ہے کا جواب دیا کہ سرکاری رپورٹ میں آج بھی بارہ فیصد ہے، یہ جھوٹ اقلیتوں کے خلاف ماحول بنانے کے لیے ہے۔

20، 21 اگست 2006 کی علماء کانفرنس میں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے رحمان نے کہا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ 15 ستمبر 2006 کی پریس کانفرنس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ وندے ماترم کو وفاداری سے جوڑنا ملک کو برباد کرنے کی سازش ہے، ٹیگور اور لوہیا نے بھی مانا ہے کہ یہ مسلمانوں کے عقیدے سے ٹکراتا ہے، سپریم کورٹ نے جن گن من کے نہ گانے کو جرم نہیں ٹھہرایا تو وندے ماترم جس کی دستوری حیثیت ہی نہیں اسے کیوں وفاداری کا ثبوت بنایا جا رہا ہے، ملک ہمارے لیے پیارا ہے قابل عبادت نہیں۔ 10 ستمبر 2007 کو انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بعد بلا تحقیق مسلمانوں پر انگلی اٹھانا بند ہونا چاہیے۔ 31 مئی 2008 کی دہشت گردی مخالف امن کانفرنس میں دہلی گردوارہ کمیٹی کے پرم جیت سنگھ سرنا نے کہا کہ ہم خود 1984 میں اس دور سے گزرے ہیں، ہمیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ ہم وفادار ہیں، بدعنوانی دوسرے کریں اور صفائی ہم دیں۔ 9 نومبر 2008 کے انتیسویں اجلاس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں، ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہیے بلکہ وسائل میں ہمارا حق دیا جائے۔ 14 فروری 2009 کی امن کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اس ملک کے معمار ہیں، اس ملک کے مالک ہیں کرایہ دار نہیں۔ 3 نومبر 2009 کے تیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ یاد رکھو تم اس ملک کے حصہ دار ہو کرایہ دار نہیں، میں جب دنیا کے کسی حصے سے ہندستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو لمبی سانس لیتا ہوں جو خوشبو یہاں ملتی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔ اسی اجلاس میں سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مسلمانوں کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، جمعیت کی قربانی خود سرٹیفکیٹ ہے۔ 15 فروری 2019 کو بنارس میں مولانا حبیب الرحمان اعظمی کی خدمات پر سیمینار میں ناظم عمومی مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم ان کے نام لیوا ہیں جنہوں نے مذہب کے نام پر تقسیم کی مخالفت کی تھی اور اپنی مرضی سے اس ملک میں رہنا پسند کیا، ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، بدقسمتی سے ہماری قوم ستر سال سے صفائی دیتی آ رہی ہے۔ 25 ستمبر 2022 کے دھرم سنسد میں پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندستان میرا ماتر بھومی بھی ہے اور پتر بھومی بھی کیونکہ ابوالبشر آدم پر پیغام حق سب سے پہلے اسی سرزمین پر نازل ہوا۔ 12 فروری 2023 کے چونتیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے "بھارت ہمارا وطن" میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ بھارت ہمارا وطن ہے جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے اتنا ہی محمود کا ہے، نہ محمود ایک انچ آگے ہے نہ وہ ایک انچ پیچھے، یہ دھرتی اسلام کی جائے پیدائش اور مسلمانوں کا پہلا وطن ہے اس لیے اسلام کو باہر سے آیا ہوا کہنا تاریخی طور پر بے بنیاد ہے۔ بھارت ہندی مسلمانوں کے لیے وطنی اور دینی دونوں حیثیتوں سے سب سے اچھی جگہ ہے لیکن اس کے لیے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور اس کے چار ستون مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا درست ہونا ضروری ہے۔ اسی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ مذہبی منافرت وطن کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔

آخر میں 29 نومبر 2025 کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس میں نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری نے حکومت کے دوہرے رویے پر کہا کہ ہم مدارس اور تمام مسلمانوں کی طرف سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم ملک سے غداری کرنے والوں کے ساتھ کبھی نہیں، ملک سے وفاداری ہمارے مذہب کا حکم ہے، معاہدوں کی پابندی ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ لیکن ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح ایک مسلمان کے مشتبہ ہونے پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے اپنے ہم مذہب بھائی کی بھی اسی طرح تحقیق کریں اور مجرم کو قرار واقعی سزا دیں۔

 یوں یہ طویل تاریخی سفر اس نتیجے پر منتہی ہوتا ہے کہ ہندستان کی آزادی سے پہلے اس کی شرعی حیثیت پر بحث تو ہوئی لیکن اس کے باشندے ہونے پر کوئی سوال نہ تھا، آزادی کے بعد وفاداری کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ حقیقت میں جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں مسلمانوں نے ہمیشہ متحدہ قومیت، آئین اور جمہوریت کی بنیاد پر وطن کی آزادی اور حفاظت کو اپنا مذہبی اور وطنی فریضہ سمجھا ہے اور اسی بنیاد پر وہ آج بھی اپنے آپ کو اس ملک کا برابر کا حصہ دار سمجھتے ہیں نہ کہ کرایہ دار۔

 

3 Sept 2026

یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

 یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

محمد یاسین جہازی

یمن جزیرۂ عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ انیسویں صدی میں عثمانیوں نے دوبارہ یمن میں پیش قدمی کی اور 1872ء میں صنعاء پر قبضہ کرکے شمالی یمن میں اپنا اقتدار بحال کیا، تاہم زیدی اماموں اور قبائل کی مزاحمت جاری رہی۔ دوسری طرف 19 جنوری 1839ء کو برطانیہ نے عدن پر قبضہ کرلیا۔ 1869ء میں نہرِ سویز کھلنے کے بعد عدن برطانیہ کے ہندوستان اور مشرق بعید کے بحری راستے کا اہم فوجی و تجارتی مرکز بن گیا اور 1937ء میں اسے باقاعدہ برطانوی کراؤن کالونی بنا دیا گیا۔

جنگِ عظیم اول کے دوران شمالی یمن عثمانی اقتدار اور زیدی اماموں کے اثر میں، جبکہ عدن اور جنوبی علاقوں پر برطانوی اثر و تسلط تھا۔ 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدۂ مدروس کے بعد عثمانی فوجیں یمن سے نکل گئیں اور امام یحییٰ حمید الدین نے شمالی یمن میں خود مختار حکومت قائم کی، جو متوکلی مملکتِ یمن کے نام سے معروف ہوئی۔ امام یحییٰ 1918ء تا 1948ء حکمران رہے، ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے امام احمد نے 1962ء تک حکومت کی۔

22 مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے سلطنت عثمانیہ کی حدود کے متعلق اپنے موقف میں یمن کو بھی شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عربی زبان والے علاقوں، جن میں یمن بھی شامل تھا، کو کسی غیر مسلم حکومت کے ادنیٰ دخل و اثر کے بغیر خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیر اقتدار داخلی آزادی دی جائے۔

11 تا 14 مارچ 1926ء جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ نے یمن کے متعلق خبردار کیا کہ اٹلی یمن پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے اور یمن کے اقتصادی تعلقات بڑھا رہا ہے؛ اس لیے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں سے معاہدات کرتے وقت پوری احتیاط برتنی چاہیے۔

1962ء سے 1970ء تک یمن میں جمہوری حکومت کے حامیوں اور سابق زیدی امامتی نظام کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی۔ جمہوری دھڑے کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی حمایت حاصل تھی، جبکہ شاہی دھڑے کو سعودی عرب اور بعض دوسرے عرب ممالک کی مدد حاصل تھی۔ جنگ ختم کرانے کی کوشش میں 24 اگست 1965ء کو جدہ میں شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان معاہدہ ہوا، جس میں یمن میں جنگ بندی، بیرونی فوجی امداد کے خاتمے اور یمنی عوام کے ذریعے مستقبل کے نظام حکومت کا فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی سلسلے میں 23 نومبر 1965ء کو حَرَض کانفرنس ہوئی، مگر فریقین کے اختلافات کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان مفاہمت پر دونوں کو مبارک باد دی۔ صدر جمال عبدالناصر کا جوابی تار 10 ستمبر 1965ء کو موصول ہوا، جس میں انہوں نے مولانا اسعد مدنی اور مسلمانانِ ہند کے مخلصانہ جذبات پر شکریہ ادا کیا۔

بعد کے دور میں بھی جمعیت علمائے ہند نے یمن کے حالات پر توجہ دی۔ 13 دسمبر 1982ء کو شمالی یمن کے دَمَار علاقے میں شدید زلزلہ آیا، جس میں تقریباً 2800 افراد جاں بحق، 1500 زخمی اور تقریباً سات لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ 18 و19 دسمبر 1982ء کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے یمنی عوام اور حکومت سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور اس سانحے میں ہندوستانی مسلمانوں کی شرکتِ غم کا اعلان کیا۔

2011ء میں عرب بہار کے دوران یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔ 23 نومبر 2011ء کو صالح نے ریاض میں اقتدار کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد 21 فروری 2012ء کو صدارتی انتخاب ہوا اور 27 فروری 2012ء کو عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔

لیکن سیاسی بحران ختم نہ ہوا۔ حوثی تحریک نے منصور ہادی حکومت کے خلاف بغاوت کرکے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس کے نتیجے میں ہادی کو صنعاء سے نکل کر سعودی عرب پناہ لینا پڑی۔ مارچ 2015ء میں ان کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی، جس سے یمن کی خانہ جنگی مزید شدید ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند نے اس جنگ کو طاقت کے بجائے مذاکرات، جنگ بندی، انسانی حقوق کے تحفظ اور تمام طبقات کی مناسب سیاسی نمائندگی کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

13 نومبر 2016ء کو جمعیت کے اجلاس میں مولانا محمد سلمان منصورپوریؒ نے یمن کی جنگ اور وہاں ہونے والی تباہی پر تشویش ظاہر کی، جبکہ صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے یمن میں مسلم ممالک کے باہم جنگ میں مصروف ہونے اور عالمی طاقتوں کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس کی تجویز میں سعودی اتحاد کی جنگ، انسانی بحران اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی کشمکش کے پس منظر میں فوری سیاسی مذاکرات، انسانی حقوق کی پاس داری اور اقوام متحدہ کی تجاویز کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد کے برسوں میں بھی جمعیت نے یمن کی صورت حال پر تشویش برقرار رکھی۔ 28 و29 مئی 2022ء کی مجلس منتظمہ اور 12 فروری 2023ء کے چونتیسویں اجلاس عام میں یمن سمیت عالم اسلام کے بحرانوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکمرانوں اور عوام سے باہمی اختلافات ترک کرکے سیاسی بصیرت اور باہمی گفت وشنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی گئی۔

اس طرح یمن کی تاریخ میں عثمانی اقتدار، برطانوی تسلط، امامتی حکومت، خانہ جنگی، عرب بہار اور موجودہ سیاسی بحران کے مختلف ادوار گزرے ہیں؛ جبکہ جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں یمن کی خود مختاری، وہاں کے مسلمانوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے، سیاسی مفاہمت اور امن کے قیام کے لیے اپنے موقف اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

2 Sept 2026

نیپال اور جمعیت علمائے ہند

 نیپال اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

یکم اپریل 1955ئ کوحکومت ہند کے وزیر داخلہ جی بی پنت نے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ کو خط لکھ کر الجمعیۃ میں 24اور 25/مارچ 1955ئ کو نیپال کے بارے میں شائع ہونے والے مضامین پر حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا اور پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کی ہدایت کی۔ اصل خبر 22/مارچ 1955ئ کے اسٹیٹس مین سے لی گئی تھی۔ 7/اپریل 1955ئ کو مولانا حفظ الرحمانؒ نے جواب دیا کہ الجمعیۃ قومی نقطہ¿ نظر کی حامی ہے ، تاہم خبر دوبارہ شائع کرنا اور 25/مارچ کے مزاحیہ کالم کے تبصرے افسوس ناک تھے ؛ انھوں نے متعلقہ مدیر کو آئندہ ایسی بات نہ دہرانے کی تنبیہ کردی۔

10/اکتوبر 1971ئ کو نیپال کے ترائی علاقے ، خصوصاً راوتہٹ اور بارا اضلاع میں گائے ذبح کیے جانے کی افواہ کے بعد ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ 51/افراد ہلاک اور تقریباً 64/لاکھ نیپالی روپے کی املاک تباہ ہوئیں۔ حکومت نے پولیس کے ذریعے حالات قابو کیے ، تحقیقاتی کمیشن قائم کیا اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی۔ 18/اکتوبر 1971ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے شاہ نیپال کو برقیہ بھیج کر قتل و غارت، لوٹ مار اور مسلمانوں کے جان و مال کے نقصان پر تشویش ظاہر کی اور نقصانات کی تلافی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

15،16/جنوری 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے تجویز نمبر 9 کے ذریعے شاہ نیپال کی جانب سے فساد کے بعد کیے گئے اقدامات کی تحسین کی؛ خصوصاً مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی، مسلمانوں کی دوبارہ آبادکاری و امداد اور آئندہ فرقہ وارانہ فساد روکنے کے لیے آئینی و عملی اقدامات کو قابلِ تقلید قرار دیا۔

31/جنوری 1972ئ کو شاہ مہندر کا انتقال ہوا۔ 15،16/اپریل 1972ئ کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے ان کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور 1971ئ کے فساد کے بعد انصاف پسندانہ اقدامات، مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی اور متاثرہ مسلمانوں کی آبادکاری کے لیے ان کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

26/جون 1979ئ کومولانا اسعد مدنیؒ نے کلکتہ میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس نیپال کے سرحدی علاقوں میں تربیتی کیمپ اور سرگرمیاں چلا رہی ہے اور نیپال کے راستے اسلحہ کی ترسیل کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ 25،26/نومبر 1983ئ کو انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ نیپال میں آر ایس ایس کے لیے مالی وسائل جمع کیے گئے اور سرحدی تربیتی کیمپوں کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ ہندستان میں پہنچایا گیا۔

19/جنوری 1996ئ کی مجلس عاملہ میں ہماچل پردیش اور نیپال وغیرہ میں قادیانیت کے پھیلا¶ سے متعلق مجلس تحفظ ختم نبوت کی رپورٹ پیش ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ نیپال ایک الگ ملک ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں سے معلومات حاصل کرکے اپریل، یا مئی 1996ئ میں مناسب مقام پر اجتماع کیا جائے۔ 11/جون 1996ئ کو دوبارہ اس مسئلے پر غور ہوا اور نیپال میں علما کا اجتماع، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی، دارالعلوم دیوبند سے رابطہ، تبلیغی جماعت کو متوجہ کرنے اور ردِ قادیانیت کے لیے کارکن مقرر کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔

یکم ستمبر 2004ئ کو عراق میں 12/نیپالی مزدوروں کے قتل کے ردِعمل میں کاٹھمنڈو میں ہنگامے ہوئے ، جامع مسجد کو نذرِ آتش کیا گیا اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ فسادات میں 7/افراد ہلاک ہوئے ، جن میں چار مسلمان ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 10/ستمبر 2004ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے جامع مسجد جلائے جانے اور مسلمانوں کے قتل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ نیپال سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور واقعے کو فرقہ وارانہ تعصب کے بجائے انصاف کے ساتھ دیکھنے کا مطالبہ کیا۔

25/اپریل 2015ئ کو نیپال میں 7.8/شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس کے بعد 12/مئی 2015ئ کو بھی بڑا زلزلہ آیا۔ مجموعی طور پر 8,800/سے زائد افراد ہلاک، 22,000/سے زائد زخمی ہوئے ، پانچ لاکھ سے زائد مکانات مکمل اور تقریباً 2.7/لاکھ جزوی طور پر تباہ ہوئے ، جب کہ مالی نقصان تقریباً 7/ارب ڈالر تھا۔ 27/اپریل 2015ئ کو جمعیت نے متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے فوری طور پر 5 /لاکھ روپے ریلیف کے لیے جاری کیے۔

14،15/مئی 2015ئ کو مجلس عاملہ نے نیپال کے زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا، جب کہ ہنگامی حالات میں ریلیف کے لیے بھی الگ ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

10/جون 2015ئ کو جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے نیپال نے زلزلہ متاثرہ ضلع گورکھا میں جزوی بازآبادکاری شروع کی اور متاثرہ خاندانوں میں رہائشی شیڈ تقسیم کیے۔ 19،25/جون 2015ئ کے الجمعیۃ کے مطابق گورکھا کے ڈیرہ گا¶ں میں 62/گھر، آرے سوری میں 26/گھر، اہالے میں 4/گھر اور کاٹھمنڈو و اطراف میں 74/شیڈ تقسیم کیے گئے۔ جمعیت کا وفد بھی امدادی کاموں کا جائزہ لینے نیپال گیا۔

10،11/فروری 2023ئ کو جمعیت علمائے نیپال کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا خالد قاسمی نے جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ میں خطاب کیا۔ انھوں نے جمعیت کے بقائے باہم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریے کو سراہا اور بتایا کہ 2008ئ میں مولانا محمود اسعد مدنیؒ کے نیپال دورے کے موقع پر جمعیت علمائے نیپال کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا مدنیؒ نے نیپال کی دستور سازی کے دوران مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوشش کرنے کی نصیحت کی، جس کے نتیجے میں ان کے مطابق نیپال کے دستور میں 20/مقامات پر مسلمانوں کا ذکر شامل ہوا۔

21،22/نومبر 2025ئ کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی حیات و خدمات پر منعقدہ دو روزہ سیمینار میں مولانا خالد قاسمی نے شرکت کی اور خطاب میں جمعیت کے اکابر کی سیاسی بصیرت، خدمتِ خلق، دینی جدوجہد اور امت کے مسائل سے درد مندانہ وابستگی کو اجاگر کیا۔ انھوں نے علما میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور اکابر کے درد و تڑپ کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مجموعی طور پر: نیپال کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیوں میں پڑوسی ملک کے ساتھ ذمہ دارانہ صحافتی رویہ، فرقہ وارانہ فسادات پر مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ، حکومتِ نیپال کے انصاف پسندانہ اقدامات کی تحسین، مذہبی و فکری مسائل پر توجہ، اور قدرتی آفات کے موقع پر مالی و عملی امداد نمایاں طور پر شامل رہی ہے۔

28 Aug 2026

متحدہ عرب اور جمعیت علمائے ہند: پس منظر، فیصلے اور خدمات


متحدہ عرب اور جمعیت علمائے ہند: پس منظر، فیصلے اور خدمات 

محمد یاسین جہازی

عرب اتحاد کی کوششوں میں چار اہم تجربے سامنے آئے:

 (۱)عرب لیگ، جو22/مارچ 1945ئ کو قائم ہوئی۔

 (۲) متحدہ عرب جمہوریہ: جو 22/فروری 1958ئ کو مصر و شام کے اتحاد سے وجود میں آئی اور 28/ستمبر 1961ئ کو شام کی علاحدگی سے ختم ہوگئی۔

(۳) متحدہ عرب ریاستیں:جو مصر، شام اور شمالی یمن کا کنفیڈریشن تھا، جو شام کی علاحدگی کے بعد دسمبر 1961ئ میں ختم ہوگیا۔

(۴)متحدہ عرب امارات: جو 2/دسمبر 1971ئ کو چھ امارات کے اتحاد سے قائم ہوا اور فروری 1972ئ میں راس الخیمہ کی شمولیت سے سات امارات مکمل ہوئے۔

عرب لیگ کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کے تعلقات

جمعیت علمائے ہند نے عرب دنیا کے مسائل؛ خصوصاً فلسطین، مراکش، تیونس، مصر اور الجزائر کے معاملات میں مسلسل حمایت کا موقف اختیار کیا۔ فلسطین کی بگڑتی صورت حال پر 2/نومبر 1945ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے پورے ہندستان میں ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی اور عرب لیگ کے اعلان کی تائید کی۔

21/جون 1946ئ کو عرب لیگ کے سکریٹری عبد الرحمان اعظم نے جمعیت کے فلسطین سے متعلق پیغام کے جواب میں ہندستانی مسلمانوں کی ہمدردی کو عربوں کے لیے بڑی قوت قرار دیا۔ 9/جون 1948ئ کو عزام پاشا نے مولانا حسین احمد مدنیؒ کے نام تار بھیجا اور ہندستانی مسلمانوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

18/مارچ 1951ئ کو جمعیت نے مراکش میں فرانسیسی مظالم کے خلاف عرب لیگ کے جنرل سکریٹری عزام پاشا کو احتجاجی تار بھیجا۔ 16/نومبر 1951ئ کو مصر و ایران کے حق میں دعا¶ں کی اپیل کی گئی، جس پر 5 /دسمبر 1951ئ کو عرب لیگ کی طرف سے شکریہ کا جواب موصول ہوا۔ 22/اگست 1963ئ کو مراکش اور تیونس میں فرانسیسی جبر کے خلاف عرب لیگ کو پھر احتجاجی مکتوب بھیجا گیا۔

26/فروری 1965ئ کو جمعیت نے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس موقع پر جمعیت نے فلسطین اور الجزائر کی حمایت، مصر پر استعماری حملے کی مخالفت اور عرب اتحاد کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا؛ حسونہ نے بھی فلسطین کی آزادی اور عرب حقوق کی بحالی کے لیے جمعیت کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

متحدہ عرب جمہوریہ اور جمال عبد الناصر سے تعلق

جمعیت نے 23/فروری 1960ئ کو جمال عبد الناصر کے ہندستانی دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ کی درخواست کی، جسے حکومت ہند نے 5/مارچ 1960ئ کو منظور کیا؛ چنانچہ 30/مارچ 1960ئ کو جمعیت نے صدر ناصر کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ خطاب میں ان کی استعمار مخالف جدوجہد، نہر سویز، بانڈونگ کانفرنس، امن پسندی اور ہندõعرب تعلقات کو سراہا گیا۔

3/جون 1965ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے فوجی اتاشی کرنل عبد الستار کے اعزاز میں الوداعی تقریب ہوئی، جب کہ 23/جولائی 1965ئ کو یوم آزادی کے موقع پر مولانا اسعد مدنیؒ نے صدر ناصر کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔

15 تا 17/اپریل 1966ئ کے جمعیت کے بائیسویں اجلاس میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ اور عرب لیگ کے نمائندے نے جمعیت کی فلسطین، عرب حقوق، ناوابستگی اور سامراج دشمنی کے موقف کو سراہا۔

1967ئ کی عرب اسرائیل جنگ اور جمعیت کا ردعمل

1967ئ کے بحران میں جمعیت نے عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ 23/مئی 1967ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے ہندستانی وزیر اعظم، وزیر خارجہ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور عرب سربراہوں کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی تار بھیجے۔ 27/مئی 1967ئ کو شام اور متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیروں سے ملاقات کی گئی، جب کہ 28/مئی 1967ئ کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑا احتجاجی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ساٹھ ہزار سے زائد افرادنے شرکت کی اورامریکی انفارمیشن سینٹر کو ایک یادداشت دی گئی، جس میں اسرائیل سے بیت المقدس، متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔

 10/اگست 1967ئ کی قومی کانفرنس نے بھی متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن پر اسرائیلی حملے کی مذمت اور عرب آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی۔ 23–24/ستمبر 1967ئ کی مجلس منتظمہ نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی، جب کہ 24/ستمبر 1967ئ کی عرب تعاون کانفرنس میں ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے عرب سفرا کو ایک لاکھ چالیس ہزار روپے نقد اور پینتیس ہزار روپے کا سامان امداد پیش کیا گیا۔

مسلسل سفارتی و عملی تعاون

23/جنوری 1968ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کی مجلس اعلیٰ برائے امور اسلامیہ کے وفد کا جمعیت کے دفتر میں استقبال کیا گیا۔ جمعیت نے فلسطین کے مسئلے پر اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور وفد نے قرآن کریم کے ریکارڈ، نماز وغیرہ کے ریکارڈ اور جمعیت کی لائبریری کے لیے 500 کتابیں دینے کا اعلان کیا۔

12/مارچ 1969ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر نے عرب بحران کے وقت جمعیت کی بھرپور حمایت اور ہمدردی کا شکریہ ادا کیا۔ 13/مارچ 1969ئ کو جنرل ریاض کی وفات پر جمعیت کی تعزیت کا جواب بھی موصول ہوا۔

6/جون 1969ئ کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جلسہ ہوا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل 1967ئ میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں سے نکلے اور اقوام متحدہ کی نومبر1967ئ کی قرارداد پر عمل کرایا جائے۔

29/اگست 1969ئ کو مسجد اقصیٰ کو آگ لگائے جانے کے خلاف جمعیت نے بڑا احتجاجی اجلاس کیا۔ اسی سال 16/ستمبر 1969ئ کو رباط کی اسلامی کانفرنس میں ہندستان کو دعوت نہ دیے جانے پر جمعیت نے احتجاج کیا، کیوںکہ اس کے نزدیک ہندستانی مسلمانوں کو عالم اسلام سے الگ کرنا ناانصافی پر مبنی تھا۔ 23/نومبر 1969ئ کو عرب سفرا کے لیے افطار کا اہتمام کیا گیا۔

23/جولائی 1970ئ کو صدر ناصر کو یوم انقلاب کی مبارک باد دی گئی۔ 29/ستمبر 1970ئ کو جمال عبد الناصر کی وفات پر جمعیت نے فوری تعزیت کی اور 25–26/اکتوبر 1970ئ کی مجلس عاملہ نے ان کی خدمات، فلسطین اور عرب آزادی کے لیے جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلق

متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد جمعیت کے روابط بھی سامنے آئے۔ 9–10/اپریل 1975ئ کی مجلس عاملہ نے شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کی طرف سے جمعیت کو دی گئی تین لاکھ روپے کی خطیر مالی امداد پر شکریہ کی قرارداد منظور کی اور ان کی دینی و تعلیمی اداروں کی سرپرستی کو سراہا۔

24/نومبر 1975ئ کو متحدہ عرب امارات کے ثقافتی مشیر شیخ عز الدین ابراہیم کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ مذہبی اور دوستانہ دونوں رشتوں کو اہم قرار دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ جمعیت نے بھی عرب مسائل، فلسطین اور عرب عوام کی حمایت کو اپنا قدیم اور مستقل موقف قرار دیا۔

خلاصہ¿ مجموعی موقف

جمعیت علمائے ہند کے عرب دنیا سے تعلقات کی بنیادی وجہ اسلامی اخوت، استعمار مخالف جدوجہد، فلسطین کی آزادی، عرب ممالک کی خودمختاری اور مظلوم اقوام کی حمایت تھی۔ اس مقصد کے لیے جمعیت نے محض بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا؛ بلکہ 1945ئ سے 1975ئ تک یوم فلسطین منانے ، عرب لیگ سے خط و کتابت، احتجاجی تار بھیجنے ، عرب سفرا و وفود کے استقبال، احتجاجی جلسوں، قومی کانفرنسوں، قراردادوں، مظاہروں، مالی و مادی امداد اور عرب رہنما¶ں سے مسلسل رابطے کے ذریعے عملی کردار ادا کیا۔ فلسطین اور عرب علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اس کا بنیادی مطالبہ یہ رہا کہ مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا، فلسطینی حقوق کی بحالی اور بیت المقدس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔

یوں جمعیت کی پالیسی میں عرب لیگ، متحدہ عرب جمہوریہ، بعد ازاں متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات محض سفارتی روابط نہیں تھے ؛ بلکہ انھیں فلسطین، عرب آزادی، اسلامی اخوت اور استعمار مخالف جدوجہد کی حمایت کا ذریعہ سمجھا گیا۔

18 Aug 2026

نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟

 نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟

محمد یاسین جہازی

تاریخ ولادت: 12/ربیع الاول: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔

تاریخ ولادت:9/ربیع الاول : محمود پاشا فلکی مشہور مصری ہیئت داں ۔

تاریخ ولادت:9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر:ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن۔ 

اقرب الی الصواب: ناسا کے کلینڈر کے حساب سے 12/ربیع الاول23؍اپریل 571 کو جمعرات کا دن پڑتا ہے، جب کہ  یوم پیدائش پیر کے روز ہے۔ اس لیے اقرب الی الصواب 9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر ہے، جیسا کہ دونوں ماہرین فلکیات متفق ہیں۔

تاریخ وفات: 12/ربیع الاول11ھ: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔

تاریخ وفات: یکم ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632:محمود پاشا فلکی ۔

تاریخ وفات: 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632:مولانا ثمیر الدین قاسمی۔

اقرب الی الصواب:12/ربیع الاول11ھ ، مطابق 7؍جون 632 کو اتوار کا دن ہوتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔لہذا اعلیٰ حضرت کا قول درست معلوم نہیں ہوتا۔

  اسی طرح یکم  ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632 کوبدھ کا روز پڑتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔ لہذا محمود پاشا فلکی  کا قول بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔

البتہ 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632 کو پیر کا دن پڑتا ہے، اس لیے مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب کا قول ہی اقرب الیٰ الصواب معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

سرور کائنات ﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے حضرت فاضل بریلوی نور اللہ مرقدہ نے دو الگ الگ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بالاتفاق دو شنبہ اور صحیح و مشہور قول جمہور ماہ ربیع الاول ہے۔ اس کے بعد کئی صفحات تک علما کے اقوال و تحقیق پیش کی ہے۔ پھر آگے لکھا ہے کہ سائل نے تاریخ کے بارے میں سوال نہیں کیا ہے، تاہم حضرت ؒ نے تاریخ بتاتے ہوئے 12/ کو درست قرار دیا ہے۔ اور پھر مختلف اقوال پیش کیے ہیں ۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں : نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال، ص/4)

تاریخ ولادت کے حوالے سے علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ

”تاریخ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں انھوں نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ولادت 9/ ربیع الاول روز دوشنبہ، مطابق 20/ اپریل 571میں ہوئی تھی“۔ (سیرۃ النبی،ج/1، ص/ 136)

اس مقام پر محشی رقم طراز ہیں کہ

”محمود فلکی نے جو استدلال کیا ہے، وہ کئی صفحوں میں آیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔ (۱) صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ (آں حضرت ﷺ کے صغیر السن صاحب زادے) کے انتقال کے وقت آفتاب میں گہن لگا تھا (ابواب الکسوف، باب الصلاۃ فی کسوف الشمس، 1043) اور 10ھ تھا۔ (اور اس وقت آپ کی عمر کا تریسٹھواں سال تھا۔ (۲) ریاضی قاعدے کے حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ 10ھ کا) گرہن 7/ جنوری 632، 8/ بج کر 30منٹ پر لگا تھا۔ (۳) اس حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر قمری 63برس پیچھے ہٹیں تو آ پ کی پیدائش کا سال 571 جس میں از روئے قواعد ہیئت ربیع الاول کی پہلی تاریخ 12/ اپریل 571کے مطابق تھی۔ (۴) تاریخ ولادت میں اختلاف ہے؛ لیکن اس قدر متفق علیہ ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا اور تاریخ 8سے لے کر 12/ تک میں منحصر ہے۔ (۵) ربیع الاول مذکور کی ان تاریخوں میں دو شنبہ کا دن نویں تاریخ کو پڑتا ہے، ان وجود کی بنا پر تاریخ ولادت قطعا 20/ اپریل 571تھی۔“ (حاشیہ سیرۃ النبی، جلد اول، ص/137)

تاریخ وفات

حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال کے فصل دوم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”قول و مشہور و معتمد جمہور دوازدہم ربیع الاول شریف ہے۔“ (سلسلہ رسائل فتاویٰ رضویہ، جلد چھبیسویں ، رسالہ نمبر4، ص/ 11)۔ پھر کے اس کے بعد متعدد روایتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد قول جمہور کو ہی اقرب الیٰ الصواب بتایا ہے۔

صاحب سیرت النبی ﷺ نے قمری مہینوں کا حساب لگاکر ثابت کیا ہے کہ چوں کہ سوموار کا دن ہونا قطعی الثبوت ہے اور 12ربیع الاول کو سوموار ہوتا ہی نہیں ہے، لہذا یہ تاریخ ہوہی نہیں سکتی؛ البتہ صحیح امکانی صورت یکم ربیع الاول ہے، اس لیے تاریخ وفات نبوی ﷺ یکم ربیع الاول ہے۔ تفصیلات کے لیے سیرت النبی کی مکمل عبارت پیش خدمت ہے۔

”تاریخ وفات کی تعیین میں راویوں کا اختلاف ہے۔ کتب حدیث کا تمام تر دفتر چھان ڈالنے کے بعد بھی تاریخ وفات کی مجھ کو کوئی روایت احادیث میں نہیں مل سکی۔ ارباب سیر کے ہاں تین روایتیں ہیں : یکم ربیع الاول۔ دوم ربیع الاول اور 12/ ربیع الاول۔ ان تینوں روایتوں میں باہم ترجیح دینے کے لیے اصول روایت و درایت دونوں سے کام لینا ہے۔ اور روایت دوم ربیع الاول کی روایت،ہشام بن محمد بن سائب کلبی اور ابو مخنف کے واسطہ سے مروی ہے۔ (طبری، ج/4، ص/ 1815)۔ اس روایت کو گو اکثر قدیم مورخوں (مثلا یعقوبی و مسعود وغیرہ) نے قبول کیا ہے؛ لیکن محدثین کے نزدیک یہ دونوں مشہور دروغ گو اور غیر معتبر ہیں ۔ یہ روایت واقدی سے بھی ابن سعد و طبری نے نقل کی ہے۔ (طبقات ابن سعد، جز 2، ص/ 57، جز وفات)۔ لیکن واقدی کی مشہور ترین روایت جس کو اس نے متعدد اشخاص سے نقل کیا ہے، وہ 12/ ربیع الاول کی ہے۔ (ایضا، ص/ 58) البتہ بیہقی نے دلائل میں بسند صحیح سلیمان التیمی سے دوم ربیع الاول کی روایت نقل کی ہے۔ (نور النبراس ابن سید الناس ذکر وفات)۔ لیکن یکم ربیع الاول کی روایت ثقہ ترین ارباب سیر موسیٰ بن عقبہ سے اور مشہور محدث امام لیث مصری سے مروی ہے۔ (فتح الباری، ج/8، ص/ 98)۔ امام سہیلی نے روض الانف میں اسی روایت کو اقرب الیٰ الحق لکھا ہے۔ (ج/2، ص/372 ذکر وفات مطبع جمالیہ مصر: 1332ھ/ 1914)۔ اور سب سے پہلے امام مذکور ہی نے درایۃ اس نکتہ کو دریافت کیا کہ 12/ ربیع الاول کی روایت قطعا ناقابل تسلیم ہے، کیوں کہ دو باتیں یقینی طور پر ثابت ہیں : روز وفات دو شنبہ کا دن تھا(صحیح البخاری1387، و صحیح مسلم60945) اس سے تقریبا تین مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم اکملت لکم دینکم: 6:460)۔ 9/ ذی الحجہ 10ھ بروز جمعہ سے 12ربیع الاول ذی الحجہ تک حساب لگاؤ۔ ذی الحجہ، محرم، صفر، ان تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30۔ بعض 30؛ کسی حالت اور کسی شکل سے 12ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن نہیں پڑسکتا۔ اس لیے درایۃ بھی یہ تاریخ قطعا غلط ہے۔ دوم ربیع الاول کے حساب سے اس وقت دو شنبہ پڑسکتا ہے، جب تینوں مہینے 29کے ہوں ۔ جب دو پہلی صورتیں صحیح نہیں ہیں ، تو اب صرف تیسری صورت رہ گئی ہے، جو کثیر الوقوع ہے، یعنی یہ کہ دو مہینے 29کے اور ایک مہینہ 30کا لیا جائے، اس حالت میں یکم ربیع الاول کو دو شنبہ کا روز واقع ہوگا اور یہ ثقہ اشخاص کی روایت ہے۔ ذیل کے نقشہ سے معلوم ہوگا کہ اگر 9/ ذی الحجہ کو جمعہ ہو تو اوائل ربیع الاول میں اس حساب سے دو شنبہ کس کس دن واقع ہوسکتا ہے:

مفروضہ صورت1: ذی الحجہ، محرم اور صفر سب 30دن کے ہوں ،6،13۔

 مفروضہ صورت 2: ذی الحجہ،محرم اور صفر سب29 دن کے ہوں ۔2، 9، 16۔

 مفروضہ صورت 3۔ذی الحجہ29، محرم29اور صفر 30کا ہو۔1،8،15۔

 مفروضہ صورت4: ذی الحجہ 30/ محرم29اور صفر29کا ہو۔1،8، 15۔

 مفروضہ صورت 5: ذی الحجہ29، محرم30اور صفر29کا ہو: 1،8،5۔

مفروضہ صورت6: ذی الحجہ 30، محرم29اور صفر30کا ہو: 7، 14۔

مفروضہ صورت7:ذی الحجہ 30، محرم30اور صفر29کا ہو۔7،14۔

مفروضہ صورت8 : ذی الحجہ 29اور محرم30اور صفر30کا ہو: 7،14۔

ان مفروضہ تاریخوں میں میں سے 6-7-8-9-13-14-15خارج از بحث ہیں کہ علاوہ اور وجوہ کے ان کی تائید میں کوئی روایت نہیں ۔ رہ گئیں یکم اور دوم تاریخیں ۔ دوم تاریخ صرف ایک صورت میں پڑ سکتی ہے، جو خلاف اصول ہے۔ یکم تاریخ تین صورتوں میں واقع ہوسکتی ہے اور تینوں کثیر الوقوع ہیں اور روایت ثقات ان کی تائید میں ہیں ، اس لیے وفات نبوی کی صحیح تاریخ ہمارے نزدیک یکم ربیع الاول 11ھ ہے۔ اس حساب میں فقط رویت ہلال کا اعتبار کیا گیا ہے، جس پر اسلامی قمری مہینوں کی بنیاد ہے، اصول فلکی سے ممکن ہے کہ اس پر خدشات وارد ہوسکتے ہیں ۔ کتب تفسیر میں آیت: الیوم اکملت لکم دینکم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کے یوم نزول (9/ ذی الحجہ10ہجری) سے روز وفات تک کے 81دن ہیں ۔ دیکھو ابن جریر، ج/6ص/44و ابن کثیر، ج/2، ص/ 13و بغوی وغیرہ)۔ ہمارے حساب سے9/ ذی الحجہ10ھ سے لے کریکم ربیع الاول تک دو 29اور ایک مہینہ 30لے کر جو ہماری مفروضہ صورت ہے، پورے 81/ دن ہوتے ہیں ۔ ابو نعیم نے بھی دلائل میں بسند یکم ربیع الاول تک تاریخ وفات نقل کی ہے۔ (ص/146)۔“ (حاشیہ سیر ت النبی، جلد دوم، ص/ 530-31)

جدید تحقیقات

جدید فلکیات کے ماہر حضرت مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن کی تحقیق یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی تاریخ پیدائش9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء (ثمیری کلینڈر ، ص؍29)اور تاریخ وصال13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون 632ء بروز پیر ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص/341)

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن لکھتے ہیں کہ:

26؍ جنوری 632ءکی شام کو مکہ مکرمہ کے افق پر پونے سات ڈگری (6:44) ڈگری چاند اونچا تھا ، عام حالات میں ؍9 ڈگری پر چاند نظر آتا ہے ،لیکن پونے سات ڈگری پر دور بین سے نظر آنا ممکن ہے اہل فلکیات ایسا کہتے ہیں ، اس لیے جب9؍ذی الحجہ10ھ  کو جمعہ کا دن مانیں، تو یہ کہنا پڑے گا کہ26؍ جنوری632ء  کی شام کو حضوراکرم ﷺ نے چاند دیکھا اور 27؍ جنوری 632ء کو ذی الحجہ10 ھ کی پہلی تاریخ ہوئی ۔ اور جمعہ کے دن 9؍ ذی الحجہ 10ھ ہوئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص؍337)

حضرت ماہر فلکیات اسی کلینڈر میں آگے تحریر فرماتے ہیں کہ:

حضور ﷺ کے وصال کی تاریخ:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...... وَقَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ : يَوْمَ الاثنين ( بخاری شریف ، باب موت یوم الاثنین ، نمبر 1387)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی وفات پیر کے دن ہوئی ہے۔
سیرت ابن اسحاق ، یا سیرہ ابن ہشام میں 12؍ربیع الاول کا تعین نہیں ہے، البتہ دلائل النبوہ ،بیہقی وغیرہ میں ہے۔
 
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وَسَلَّم لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرٍ ربيع الأول (دلائل النبوة للبیہقی ، باب ماجاء فی الوقت واليوم والشهر ، جلد7ص؍235)
لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَت ، کا ترجمہ 12؍  رات اور 12؍دن دونوں گزر گئے، تو13؍ ربیع الاول کو وفات ہوئی ہے، اور اس دن پیر کا دن ہے، کیوں کہ 12؍ربیع الاول کو ہر حال میں اتوار کا دن ہے، جو حدیث کے خلاف ہوگا۔
حضور ﷺکا وصال 13؍ ربیع الاول 11ھ، مطابق8؍ جون 632ء بروز پیر کو ہونی چاہیے۔ (341)

اور یہ شکل نمبر (1) پر منطبق ہوتا ہے، جس میں ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 30 کے  فرض کیا گیا ہے۔ ماہر فلکیات نے چاند کی ڈگریوں کے حوالے سے ، اسی شکل کی رویت کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ دیکھیے: ثمیری کلینڈرازصفحات 337تا 341 )


13 Aug 2026

عراق اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ

عراق اور جمعیت علمائے ہند 

(خلاصہ)

محمد یاسین جہازی

عراق اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ

پہلی جنگ عظیم(1914ئتا1918ئ) کے دوران جب ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا، تو بھارتی مسلمانوں کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ برطانیہ فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ، خلافت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچائے گا۔ اسی خدشے کے پیش نظر برطانیہ سے وعدے لیے گئے کہ مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ محفوظ رہیں گے اور خلافت کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، اور برطانیہ نے 2/نومبر، 20/اپریل1915ئ اور5/جنوری1916ئ کو مختلف اعلانات کے ذریعے یقین دہانی بھی کرائی؛ لیکن جنگ کے بعد ان وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ 30/اکتوبر1918ئ کو مدروس کی عارضی صلح کے بعد عراق سمیت عثمانی علاقوں پر اتحادی طاقتوں کا قبضہ مضبوط ہوگیا، اور10/اگست1920ئ کے معاہدہ¿ سیورے کے تحت عراق کو باقاعدہ برطانیہ کے زیرِ اقتدار دے دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند کے نزدیک یہ مسئلہ محض سیاسی نہیں؛ بلکہ تحفظِ خلافت کا بنیادی حصہ تھا، چنانچہ جب لندن کی صلح کانفرنس(12/فروری تا10/اپریل1920ئ) میں بھی خلافت کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے، تو 6/ستمبر1920ئ کو جمعیت نے کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں برطانیہ سے ترکِ موالات کی تجویز منظور کی۔ اسی سلسلے میں19،20،21/نومبر1920ئ کے دوسرے اجلاسِ عام میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے اپنے خطبہ¿ صدارت میں عراق کو خلافت اور اسلامی مقدسات کا مسئلہ قرار دیا اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے عراق، شام، فلسطین اور قسطنطنیہ کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا۔ پھر18،19،20/نومبر1921ئ کے تیسرے اجلاسِ عام میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے واضح کیا کہ عراق کا دو تہائی حصہ، خصوصاً بصرہ اور بغداد، جغرافیائی اعتبار سے جزیرۃ العرب میں شامل ہے، اس لیے جب تک وہاں برطانوی اقتدار باقی رہے گا، مسلمانوں کے لیے برطانیہ سے صلح ناقابلِ قبول ہوگی۔ اسی موقف کو22/مارچ1922ئ کی مجلس عاملہ نے باقاعدہ مطالبے کی صورت دی کہ فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد اور یمن کو خلیفۃ المسلمین کے زیرِ اقتدار اندرونی آزادی دی جائے، اور18،19،20/اکتوبر1922ئ کی مجلس منتظمہ نے اعلان کیا کہ مطالبہ¿ خلافت خالص مذہبی مطالبہ ہے، جس میں کمی کی گنجائش نہیں۔ 24تا26/دسمبر1922ئ کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے عراق، شام اور فلسطین کے دفاع کو مسلمانانِ ہند پر فرض قرار دیا۔ 7/نومبر1923ئ کو جمعیت تبلیغیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ چوں کہ بغداد میں عیسائی، آریہ اور مرزائی جماعتیں عربی ٹریکٹ شائع کررہی ہیں، اس لیے جواباً عربی ٹریکٹ تیار کرکے عراق بھیجے جائیں، جس کے لیے مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے وعدہ فرمایا۔ اس کے بعد29/دسمبر1923ئ تا یکم جنوری1924ئ کے پانچویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ حجاز، یمن، عراق، شام اور فلسطین سب جزیرۃ العرب میں داخل ہیں، اس لیے ان تمام مقامات کو غیر مسلم اقتدار سے پاک رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ 6/اکتوبر1925ئ کو جمعیت کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ نے برطانوی کمیشن کی طرف سے عراق کی حدود کی تعیین کی مخالفت کی، اور16/دسمبر1925ئ کو جب لیگ آف نیشنز نے موصل کو عراق کا حصہ قرار دیتے ہوئے برطانوی مینڈیٹ مزید25/سال بڑھادیا، تو مولانا احمد سعید صاحبؒ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ 18تا21/جنوری1926ئ کی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کو ترکوں کے حق پر ڈاکہ قرار دیا، اور11تا14/مارچ1926ئ کے ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندویؒ نے عراق و شام کو جزیرۃ العرب کا تکمیلی حصہ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کے سازشی معاہدوں پر شدید تنقید کی۔

اس کے بعد3،4،5،6/مارچ1939ئ کے گیارھویں اجلاس عام میں ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاری اور مولانا سید عبدالحق مدنیؒ نے عراق، یمن، شام اور فلسطین کی استعمار سے آزادی کی کوششوں کا ذکر کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران25/جون1941ئ کو مجلس عاملہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عراق سمیت اسلامی ممالک کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی بھی اجنبی طاقت کے اقتدار کو ناقابلِ برداشت قرار دیا۔ 20،21،22/مارچ1942ئ کے تیرھویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے عراق اور ایران پر برطانوی قبضے کا ذکر کیا اور بتایا کہ کیسے راشد علی جیلانی کے معاہدے کی پابندی کے مطالبے پر برطانیہ نے عراق پر ہی قبضہ کرلیا۔ 11/جون1945ئ کو دہلی کی جامع مسجد میں منعقدہ زبردست احتجاجی اجلاس میں مولانا محمد حفظ الرحمان نے شام، لبنان، الجزائر، مراکش، فلسطین اور عراق پر یورپی حکومتوں کے انتداب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری آزادیِ کامل کا مطالبہ کیا۔ 27تا29/اپریل1951ئ کے سترھویں اجلاس عام کے موقع پر شاہی عراقی سفارت خانے سے پیغام موصول ہوا، اور27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاس عام کے لیے بغداد کے م¶تمر اسلامی کے نائب صدر شیخ محمد محمود صواف کا تہنیتی پیغام آیا۔ 15تا17/اپریل1966ئ کے بائیسویں اجلاس عام میں عراقی صدر فیلڈ مارشل عبدالسلام محمد عارفؒ کی وفات پر رنج و الم کا اظہار کیا گیا۔

1973ئ میں عرب-اسرائیل جنگ(یومِ کپور جنگ) میں عراق و کویت کے اسرائیل کے خلاف شامل ہونے پر7/اکتوبر1973ئ کو جمعیت نے مصر اور شام پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی، اور12/اکتوبر1973ئ کو جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں عراقی سفیر ڈاکٹر عبداللہ سلوم نے تفصیلی خطاب کیا۔ 25/نومبر1973ئ کے عرب حمایت کنونشن میں سفیر عراق ڈاکٹر عبداللہ سلیم سامرائی نے تیل کو مؤثر ہتھیار قرار دیا اور ہندستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ 16،17،18/فروری1979ئ کی کل ہند اوقاف کانفرنس نے عراق کے مقدس شہروں میں ہندستانی مسافرخانوں میں زائرین کو سہولت نہ ملنے کا مسئلہ اٹھایا۔

22/ستمبر1980ئ کو شط العرب کے سرحدی تنازع، 1975ئ کے الجزائر معاہدے کی منسوخی، ایرانی اسلامی انقلاب کے پھیلا¶ کے خدشے اور علاقائی بالادستی کی خواہش کے پیشِ نظر عراق نے ایران پر حملہ کرکے آٹھ سالہ ایران-عراق جنگ کا آغاز کیا۔ یکم اکتوبر1980ئ کو مجلس عاملہ نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی۔ 7/جون1981ئ کو اسرائیل نے عراق کی اوسیرک ایٹمی تنصیب پر حملہ کیا، جس کی15،16/جون1981ئ کی ہنگامی مجلس عاملہ نے سخت مذمت کی، اور9،10/اگست1981ئ کی تجویز میں اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پامالی قرار دیا۔ 26،27/دسمبر1981ئ کی مجلس عاملہ نے ایران کی طرف سے پندرہ سو عراقی جنگی قیدیوں کے قتل(خفاجیہ واقعہ) کی مذمت کی۔ 14تا17/اپریل1983ئ کو بغداد میں پہلا عالمی موتمر منعقد ہوا، جس میں مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے ہندستانی وفد کی قیادت کی؛ اسی دوران23/اپریل1983ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں یو این آئی کے حوالے سے ایک غلط خبر شائع ہوئی کہ مولانا اسعد مدنیؒ نے آسام فسادات کے حوالے سے حکومت ہند کو بری الذمہ قرار دیا، جس پر8،9/مئی1983ئ کی مجلس عاملہ نے ایڈیٹر ناز انصاری کو معطل کیا، جو بعد میں11/جون1984ئ کو دوبارہ بحال کیے گئے۔ 25،26/نومبر1983ئ کی مجلس منتظمہ اور6،7،8/اپریل1984ئ کی تعلیمی و ملی کانفرنس نے ایران کی ہٹ دھرمی پر افسوس کرتے ہوئے جنگ بندی کی اپیل دہرائی۔ 22تا25/اپریل1985ئ کو بغداد میں دوسری عوامی اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی6،7/مئی1985ئ کی مجلس عاملہ نے تائید کی اور24/مئی1985ئ کو یوم دعا منانے کا فیصلہ کیا۔ 11/مارچ1986ئ کو عراقی علما کے وفد کو عصرانہ دیا گیا۔ یکم نومبر1986ئ اور7/نومبر1987ئ کی مجالسِ منتظمہ نے حکومتِ ایران سے جنگ بند کرنے کی اپیل دہرائی، اور8/نومبر1987ئ کو تحفظ حرم کانفرنس میں مولانا اسعد مدنیؒ اور عراقی سفیر عبدالودود شیخ علی نے خمینی ازم کی شدید مذمت کی۔ 9،10/اپریل1988ئ کی مجلس منتظمہ نے صدام حسین کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا، اور بالآخر20/اگست1988ئ کو قراردادِ598 کے تحت جنگ بندی نافذ ہوئی، جس پر جمعیت نے اظہارِ مسرت کی ایک تقریب منعقد کی، جس میں عراقی سفیر عبدالودود عبدالکریم نے شرکت کی۔

عراق پر بھاری قرضوں کے بوجھ، تیل کی پیداوار کے تنازع اور سرحدی اختلافات کے باعث2/اگست1990ئ کو عراق نے کویت پر حملہ کرکے اسے اپنا19واں صوبہ قرار دیا۔ 3/ستمبر1990ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اس پر گہری تشویش ظاہر کی اور13،14/اکتوبر1990ئ کی مجلس عاملہ نے عراقی فوج کے کویت سے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجوں کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ 17/جنوری1991ئ کو امریکہ کی قیادت میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم شروع ہوا اور28/فروری1991ئ کو جنگ بندی ہوگئی۔ 22/مارچ1991ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اپنی طرف منسوب صدام حسین کی تکفیر کی غلط خبر کی تردید کی، اور یکم و2/دسمبر1991ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر عائد ناکہ بندی کی سخت مذمت کی، جو بعد میں1991ئ کی قرارداد687 کے تحت مزید سخت کردی گئی تھی۔ 13سے22/جنوری1993ئ اور26،27/جون1993ئ کو امریکہ نے عراق پر فضائی حملے کیے، جن کی17/جنوری1993ئ کی مجلس عاملہ اور16/جولائی1993ئ کے بیان میں پرزور مذمت کی گئی۔ 5تا13/ستمبر1994ئ کو قاہرہ میں آبادی و ترقی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی23/اکتوبر1994ئ کی مجلس عاملہ نے مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کے بائیکاٹ کو سراہا۔ 29/اکتوبر1995ئ کے پچیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے عراق اور لیبیا کی ناکہ بندی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ 3،4/ستمبر1996ئ کو امریکہ نے آپریشن ڈیزرٹ اسٹرائیک کے تحت عراق پر میزائل داغے، جس کی5/ستمبر1996ئ کو مولانا مدنیؒ نے سخت مذمت کی۔ 24،25/اپریل1998ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا، اور26/مئی1998ئ کو عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر سعدوون حمادی کو جمعیت کے دفتر میں ظہرانہ دیا گیا، جہاں انھوں نے پابندیوں کے المناک اثرات بیان کیے۔ 16تا19/دسمبر1998ئ کو آپریشن ڈیزرٹ فاکس کے تحت امریکہ و برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا، جسے مولانا مدنیؒ نے17/دسمبر1998ئ کو کھلی جارحیت اور دہشت گردی قرار دیا۔ 13/مئی2000ئ کے چھبیسویں اجلاس عام میں مولانا مدنیؒ نے عراق پر عائد پابندیوں کے ہٹائے جانے کا مطالبہ دہرایا۔

بالآخر20/مارچ2003ئ کو امریکہ اور برطانیہ نے "آپریشن عراقی فریڈم" کے تحت یہ جھوٹا الزام لگاکر کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، عراق پر ہمہ گیر حملہ کیا۔ 7،8/مارچ2003ئ کی مجلس منتظمہ اور9/مارچ2003ئ کے ستائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے اس جارحیت کی سخت مذمت کی، اور20/مارچ2003ئ کو ایک بیان میں عالمی برادری سے جنگ رکوانے کی اپیل کی۔ 2/اپریل2003ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام دہلی میں ہزاروں افراد کا احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنیؒ نے خطاب کیا اور امدادی قافلہ بھیجنے کا اعلان کیا۔ 15/جولائی2003ئ کو ہندستان کے دورے پر آئے پاکستانی رہنما مولانا فضل الرحمان نے یہ موقف پیش کیا کہ بزور طاقت امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ 29/مئی2005ئ کے اٹھائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے واضح کیا کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار موجود ہونے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ثابت ہوچکا ہے اور امریکی فوجی قبضے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یکم مارچ2006ئ کو صدر بش کے دورہ¿ ہند کے خلاف احتجاجی اجلاس میں میدھا پاٹیکر نے کہا کہ بش تیل پر قبضے کے لیے عراق کو برباد کرچکے ہیں۔ 23/مئی2006ئ کے پریس بیان میں امریکی مداخلت کو آزاد ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ صدام حسین کو13/دسمبر2003ئ کو گرفتار کیا گیا تھا اور دجیل قتل عام کے مقدمے میں5/نومبر2006ئ کو سزائے موت سنائی گئی، جو30/دسمبر2006ئ کو نافذ کی گئی؛ اس پر22/نومبر2006ئ کی مجلس عاملہ اور30/دسمبر2006ئ کے پریس بیان میں سخت افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ عالمی امن کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی بدترین مثال ہے، اور14/فروری2007ئ کی مجلس عاملہ نے بھی اسی موقف کا اعادہ کیا۔ 31/مئی2008ئ کی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں امریکہ کو نمبر ون دہشت گرد ملک قرار دیا گیا۔ 9/نومبر2008ئ کے انتیسویں اجلاس عام اور3/نومبر2009ئ کے تیسویں اجلاس عام میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے عراق میں جاری انارکی، امریکی جھوٹ کے بے نقاب ہونے اور عراقی عوام کی مشکلات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور عراق کو غاصب افواج سے خالی کرانے کا مطالبہ دہرایا۔ 18/دسمبر2011ئ کو بالآخر امریکی فوج کا عراق سے انخلا مکمل ہوا، تاہم19/مئی2012ئ کے اکتیسویں اجلاس عام میں مولانا منصورپوریؒ نے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے جاری رہنے پر تشویش ظاہر کی۔ امریکی انخلا کے بعد شیعہ سنی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا فائدہ اٹھاکر2014ئ میں داعش نے موصل سمیت عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس پر24/مئی2014ئ کی مجلس عاملہ اور20/جون2014ئ کے پریس بیان میں مولانا محمود اسعد مدنی صاحبؒ نے فرقہ وارانہ نہج پر چلنے والوں کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے امن و قانون کی بحالی کی اپیل کی۔ اکتوبر2016ئ میں عراقی افواج نے موصل کی جنگ شروع کی، اور بالآخر13/نومبر2016ئ کے تینتیسویں اجلاس عام میں جمعیت نے داعش کے دہشت پسندانہ عزائم و نظریات سے مکمل بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو شیعہ سنی تناظر میں نہ دیکھے؛ بلکہ تمام طبقات کی شمولیت یقینی بناتے ہوئے بے گھر افراد کی بازآبادکاری کے لیے عالمی تعاون سے کام لے۔