روس سے متعلق جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف
محمد یاسین جہازی
جمعیت کی تاریخ میں روس کا سب سے پہلا تذکرہ 24 تا 26/دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ملتا ہے، جہاں نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے انقلابِ روس اور نو تشکیل شدہ بالشویک حکومت کی طرف سے مظلوم اقوام اور جدید ترکی کی حمایت و دوستی کو سراہا۔ تاہم، چند ہی سالوں میں اس کے مذہبی مظالم کی خبریں سامنے آئیں؛ چنانچہ 3 تا 6/مئی 1930ئ کے نویں اجلاسِ عام میں جناب ابوالنظر رضوی نے لینن حکومت کی جانب سے مساجد و خانقاہوں کی بندش اور مذہبی کتب پر پابندی کی شدید مذمت کی اور اشتراکیت کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ بعد ازاں 9/ستمبر 1935ئ کو ناظمِ عمومی مولانا احمد سعیدؒ نے مولانا حسرت موہانیؒ کے نام ایک مکتوب میں جمعیت اور حکومت کے گٹھ جوڑ کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمعیت کے حتمی فیصلے تک ہر ممبر اشتراکیت، یا جمہوریت کے حوالے سے ذاتی رائے میں آزاد ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد 25/اگست 1941ئ کو برطانیہ اور روس نے مشترکہ طور پر ایران پر قبضہ کر لیا تھا، اور جنگ کے خاتمے (8/مئی 1945ئ) کے باوجود سوویت افواج کا انخلا نہ ہوا؛ بلکہ اگست 1945ئ تک ان کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی۔ نومبر 1945ئ میں ایران کے احتجاج کے باوجود سوویت سرپرستی میں 12/دسمبر 1945ئ کو ’’آذربائیجان کی خود مختار جمہوریہ‘‘ اور 15/ دسمبر 1945ئ کو ’’جمہوریہ مہاباد‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس صورتِ حال پر جمعیت کے زیرِ اہتمام 11/جون 1945ئ کو عظیم الشان جلسہ ہوا اور 22/جون 1945ئ کو ’’یومِ ممالکِ اسلامیہ‘‘ منا کر ایران پر روس اور برطانیہ کے ناجائز قبضے کی سخت مذمت کی گئی۔ بعد ازاں معاہدے کے تحت 2/مارچ 1946ئ کی تاریخ گزرنے کے بعد بین الاقوامی دبا¶ پر روس نے 24/مارچ 1946ئ کو انخلا کا اعلان کیا اور مئی 1946ئ میں مکمل انخلاپر یہ بحران ختم ہوا۔
اس کے بعد 27/مئی 1948ئ کو صدرِ جمعیت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنے ایک پریس بیان میں تقسیمِ فلسطین اور اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرنے پر روس اور امریکہ کے رویے کو شدید افسوس ناک قرار دیا۔
9/اگست 1971ئ کو بھارت اور سوویت یونین کے درمیان 20 سالہ ’’معاہدہ¿ امن، دوستی و تعاون‘‘ پر دستخط ہوئے۔ 15/اگست 1971ئ کو ناظم عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے 75/ کروڑ عوام کی اتحاد کی طاقت اور عالمی امن کا ستون قرار دیا، اور 18õ19/ستمبر 1971ئ کی مجلس عاملہ کی تجاویز میں اس کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا۔
1973ئ کی عرب اسرائیل جنگ کے تناظر میں 12/اکتوبر 1973ئ کو جامع مسجد دہلی کے احتجاجی اجلاس میں جنرل شاہ نواز نے، 24/نومبر 1973ئ کو مجلس منتظمہ نے، اور 25/ نومبر 1973ئ کے ’’عرب حمایت کنونشن‘‘ میں شیخ عبداللہ و دیگر قائدین نے عربوں کی حربی و عسکری امداد پر روس کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں 15õ16/مئی 1976ئ کی مجلس منتظمہ نے اقوامِ متحدہ، امریکہ اور روس سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل پر دبا¶ ڈال کر ’’جینوا کانفرنس‘‘ بلائیں۔
افغانستان میں اپریل 1978ئ کے ثور انقلاب اور ستمبر 1979ئ میں حفیظ اللہ امین کے اقتدار کے بعد 24/دسمبر 1979ئ کو سوویت فوجیں داخل ہوئیں، 27/دسمبر 1979ئ کو امین کو قتل کر کے ببرک کارمل کو صدر بنایا گیا، اور جنوری 1980ئ تک ایک لاکھ سوویت فوجی وہاں تعینات ہو گئے۔ اس پر جمعیت نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ 28õ29/جنوری 1980ئ کی مجلس عاملہ، 28õ29/اپریل 1980ئ کی مجلس منتظمہ، 14 تا 16/جنوری 1983ئ کے 24/ ویں اجلاسِ عام، اور 6 تا 8/اپریل 1984ئ کی ’’تعلیمی و ملی کانفرنس‘‘ میں روس کی فوجی مداخلت کی سخت مذمت کی گئی اور فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 15/فروری 1989ئ کو روسی فوج کے مکمل انخلا سے قبل ہی 13õ14/جون 1988ئ کو مجلس عاملہ نے افغان مجاہدین کو روس کے خلاف عظیم کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔
سوویت یونین کے بکھرا¶ کے بعد 1õ2/اگست 1992ئ کی مجلس عاملہ میں صدرِ جمعیت مولانا اسعد مدنیؒ نے آزاد شدہ مسلم ریاستوں میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں دینی تعلیمی و تبلیغی وفد بھیجنے پر غور کیا۔ تاہم، 29/اکتوبر 1995ئ کے 25/ویں اجلاسِ عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے بوسنیا پر سربیائی مظالم میں روس کے متعصبانہ کردار اور چیچنیا میں عسکری طاقت کے استعمال پر روس کو ’’اسلام و انسانیت دشمن‘‘ قرار دیا۔ اس کے بعد چیچنیا پر اگست 1999ئ کی کارروائیوں، 26/ستمبر 1999ئ کی بم باری، یکم اکتوبر 1999ئ کے زمینی داخلے، 29/اکتوبر و 3/دسمبر 1999ئ کے پناہ گزینوں پر حملوں، اور دسمبر 1999ئ کے اواخر میں آرکین یورت کے قتلِ عام کے تناظر میں یکم دسمبر 1999ئ کی مجلس عاملہ نے روس کو ظالم و جارح قرار دیا۔ جمعیت کی اپیل پر 17/دسمبر 1999ئ کوروس کے خلاف ملک گیر ’’یومِ بددعا‘‘ منایا گیا۔ اور 13/مئی 2000ئ کے 26/ویں اجلاسِ عام میں روس وغیرہ سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ چیچنیا اور عراق سے پابندیاں ہٹائیں۔
بعد کے سالوں میں، 29/مئی 2005ئ کے 28/ویں اجلاسِ عام، 19/مئی 2012ئ کے 31/ویں اجلاسِ عام، اور 13/نومبر 2016ئ کے 33/ویں اجلاسِ عام میں امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ ساتھ روس سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور شام (حلب) میں مظالم کو رکوانے میں تعاون کرے۔
17/ستمبر 2025ئ کو صدرِ جمعیت مولانا محمود مدنی نے ایک انٹرویو میں بھارت کی قومی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے امریکی ٹیرف کے خلاف ہندõروس تیل تجارت اور آزادانہ تعلقات کی مکمل حمایت کی۔