15 Jun 2026

برطانیہ اور جمعیت علمائے ہند

برطانیہ اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

اٹھارھویں صدی کے اوائل میں ہندستان 24/فی صد عالمی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا معاشی مرکز تھا، جس کی دولت نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو راغب کیا۔ انگریزوں نے تجارت سے سیاست کا سفر شروع کیا اور مقامی نااتفاقی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 23/ جون 1757ئ کو جنگ پلاسی اور 22/اکتوبر 1764ئ کو جنگِ بکسر جیت کر اقتدار کی بنیاد رکھی۔ اس تسلط کے خلاف ہندستانیوں نے 10/مئی 1857ئ کو پہلی منظم بغاوت (جنگِ غدر) کی، جس کے نتیجے میں کمپنی کا خاتمہ ہوا اوریکم نومبر 1858ئ کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلان کے ذریعے ہندستان براہِ راست تاجِ برطانیہ کے ماتحت چلا گیا۔

پہلی جنگِ عظیم، برطانوی وعدہ خلافی اور تحریکِ خلافت کا آغاز

28/جولائی 1914ئ تا 11/نومبر 1918ئ تک جاری رہنے والی پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ نے ہندستانی مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے خلافتِ عثمانیہ اور حرمین کے تحفظ کا جھوٹا وعدہ کیا۔ اسی دوران 1915ئ میں قاہرہ میں برطانوی نمائندے لارڈ کچر اور شریف مکہ حسین بن علی کے بیٹے امیر عبداللہ کے درمیان عثمانیوں کے خلاف بغاوت کا خفیہ معاہدہ ہوا (جس کے صلے میں انگریزوں نے بعد میں وعدہ خلافی کرتے ہوئے 25/مئی 1923ئ کو اسے پورے عرب کے بجائے محض ٹرانس جارڈن کے ایک حصے کی مشروط بادشاہت دی)۔ جنگ کے دوران صیہونیوں سے فلسطین میں قومی وطن کا وعدہ بھی کیا گیا، جب کہ 20/اگست 1917ئ کو وزیر برائے ہند ایڈون مونٹیگو نے ہندستان میں تدریجی خود اختیاری کا اعلان کیا۔

جنگ ختم ہوتے ہی عثمانی خلافت کے ساتھ 30/اکتوبر 1918ئ کو عارضی صلح کی گئی، جو آگے چل کر 10/اگست 1920ئ کو معاہدہ سیورے کی شکل میں خلافت کے ٹکڑے کرنے پر منتج ہوئی۔ اس جنگ میں استنبول کے ریکارڈ کے مطابق 8/لاکھ 87 ہزار (یا اندازاً 11 لاکھ) ہندستانی مسلمانوں نے حصہ لیا، جسے بعد میں مسلم قائدین (شیخ الہند اور مولانا آزاد) نے گناہِ عظیم قرار دیا۔

برطانیہ نے ہندستان میں بھی وعدہ خلافی کرتے ہوئے 18/مارچ 1919ئ کو ظالمانہ رولٹ ایکٹ نافذ کیا۔ اس کے خلاف گاندھی جی نے 24/فروری 1919ئ کو ستیہ گرہ کا انتباہ دیا اور 30/مارچ 1919ئ سے تحریک شروع کی۔ اسی تحریک کے دوران 13/اپریل 1919ئ کو جلیانوالہ باغ امرتسر کا خونیں سانحہ پیش آیا۔ بعد میں لایا گیا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ئ بھی حقیقی آزادی سے دور تھا۔

جمعیت علمائے ہند کا قیام اور ترکِ موالات کی تحریک

ان برطانوی فریب کاریوں کے خلاف 18/ستمبر 1919ئ کو لکھن¶ میں آل انڈیا مسلم کانفرنس نے 17/اکتوبر 1919ئ کو یومِ خلافت منانے اور برطانوی جشنِ صلح (جو 12 تا 16/ دسمبر 1919ئ کو شیڈول تھا) کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ 3/نومبر 1919ئ کو دہلی میں مولانا حسرت موہانی کی صدارت میں اجلاس ہوا، جہاں گاندھی جی نے شرکت کی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی نے جشنِ صلح میں شرکت کو حرام قرار دینے کا فتویٰ دیا۔

مسلمانوں کے متفقہ مطالبے کو واضح کرنے کے لیے دہلی خلافت کمیٹی نے 23/نومبر 1919ئ کو خلافت کانفرنس اور 24/نومبر 1919ئ کو ہندو مسلم مشترکہ کانفرنس بلائی۔ 23/نومبر 1919ئ کو اسی خلافت کانفرنس میں ترکِ موالات کی تجاویز منظور ہوئیں، مفتی کفایت اللہ دہلوی نے فتویٰ دیا اور اسی رات عشا کے بعد کرشنا تھیٹر ہال، پتھر والا کنواں (نئی دہلی) میں جمعیت علمائے ہند کی تشکیل عمل میں آئی۔

تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے 20/جنوری 1920ئ کو دہلی اجلاس میں گاندھی جی نے عدم تعاون، 28/فروری 1920ئ کو کلکتہ میں مولانا آزاد نے ترکِ موالات کا پروگرام، 23/ مارچ 1920ئ کو میرٹھ میں گاندھی جی نے اس کی اسکیم اور 28/مارچ 1920ئ کو لاہور میں ڈاکٹر سیف الدین کچلو نے تحریک کی تائید پیش کی۔ 12/فروری تا 10/اپریل 1920ئ کو لندن صلح کانفرنس میں خلافت وفد کے مطالبات مسترد ہونے پر جمعیت نے 6/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں باقاعدہ اپنی تاریخ کی پہلی ترکِ موالات کی تجویز منظور کی، جس کے بعد 8/ ستمبر 1920ئ کو مولانا محمد سجاد بہاری نے متفقہ فتویٰ جاری کیا، جب کہ 4 تا 9/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ ہی میں کانگریس نے بھی اس کی منظوری دی۔

جمعیت کے دوسرے اجلاسِ عام (19، 20، 21 نومبر 1920ئ) میں صدر جمعیت شیخ الہند مولانا محمود حسن نے ترکِ موالات کو شرعی فریضہ بتایا۔ حکیم اجمل خان نے برطانوی جھکا¶ کو قرآنی رو سے عذاب الٰہی کا سبب کہا اور کونسلوں، اسکولوں، عدالتوں اور فوج کا بائیکاٹ کرنے کی دوسری بڑی تجویز منظور کی گئی۔ اس کی ہم نوائی میں 26/دسمبر 1920ئ کو ناگپور کانگریس، 21/ فروری 1921ئ کو سیوہارہ میں مولانا حسین احمد مدنی اور 25/مارچ 1921ئ کو انجمن علمائے بنگال نے تائید کی۔ 8õ9/جولائی 1921ئ کو کراچی کانفرنس، 23/اگست 1921ئ کو دہلی پٹودی ہا¶س میں مولانا مدنی کے زیرِ صدارت جلسے اور 25/اگست 1921ئ کو آگرہ میں مولانا آزاد نے برٹش استعمار سے تعلق کو ناممکن قرار دیا۔

جب بعض لیڈر تدریجی آزادی کی وکالت کر رہے تھے، تو جمعیت نے 9õ10/فروری 1922ئ کی مجلس منتظمہ میں برطانوی رویے کی تبدیلی کو محض مفروضہ قرار دیا۔ اسی دوران حکومتی جبر کے خلاف 14 تا 17/جنوری 1922ئ کو ممبئی آل پارٹی کانفرنس ہوئی اور وائسرائے کی ہٹ دھرمی پریکم فروری 1922ئ کو گاندھی جی نے باردولی سول نافرمانی کا الٹی میٹم دیا، جس کا جواب وائسرائے نے 6/فروری 1922ئ کو انکار میں دیا۔ تاہم 5/فروری 1922ئ کو چورا چوری (گورکھپور) کے پرتشدد واقعے کے بعد گاندھی جی نے 11õ12/فروری 1922ئ کو تحریک ملتوی کر دی۔ جمعیت نے اس پر مایوس نہ ہوتے ہوئے 9õ10/فروری 1922ئ اور 3õ5/مارچ 1922ئ کے اجلاسوں میں انفرادی سول نافرمانی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ 18، 19، 20/ اکتوبر 1922ئ کو جمعیت کی مجلس منتظمہ نے برطانوی عداوت کے سبب موالات کو بدستور حرام قرار دیا، اور 24 تا 26/دسمبر 1922ئ کو چوتھے اجلاسِ عام میں مولانا عبدالر¶ف نے برطانوی تعلیمی و فوجی پالیسی کی مذمت کی۔

جزیرۃ العرب، فلسطین اور داخلی و خارجی محاذ (1923ئ تا 1938ئ)

جمعیت نے 13 تا 16/جولائی 1923ئ کی مجلس منتظمہ اور 29/دسمبر 1923ئ تا یکم جنوری 1924ئ کے پانچویں اجلاسِ عام میں شریف مکہ اور برطانیہ کے معاہدوں کو حرمین کی توہین قرار دے کر جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے پاک رکھنے کا اسلامی فریضہ دہرایا اور مولانا حسین احمد مدنی نے ہندستان کی کامل آزادی کو انگلستان کی موت قرار دیا۔ 11 تا 16/جنوری 1925ئ کو چھٹے اجلاسِ عام میں مولانا محمد سجاد نے برطانوی ریشہ دوانیوں سے متنبہ کرتے ہوئے فتوے کو برقرار رکھا اور مصر میں سرلی اسٹیک کے قتل کے بعد برطانوی ہوسِ ملک گیری کی مذمت کی گئی۔

اسٹار لندن میں 18/اگست 1925ئ کو شائع ہتک آمیز کارٹون کے خلاف ناظمِ عمومی مولانا احمد سعیدصاحب نے 21/ستمبر 1925ئ کو وائسرائے کو احتجاجی تار بھیجا، جس کا معذرت خواہانہ جواب سکریٹری حکومت ہند نے 18/اکتوبر 1925ئ کو دیا۔ شام میں فرانسیسی مظالم پر برطانوی تائید کے خلاف مفتی کفایت اللہ نے 29/نومبر 1925ئ کو وائسرائے کو تار بھیجا۔ موصل و عراق کو برطانی انتداب میں دینے کے اقوامِ متحدہ کے فیصلے پر مولانا احمد سعید نے 26/دسمبر 1925ئ کو پریس بیان جاری کیا اور 18 تا 21/جنوری 1926ئ کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے اسے استعمار کی ہوس قرار دے کر ترکوں کی امکانی مدد کا اعلان کیا۔

11 تا 14/مارچ 1926ئ کو ساتویں اجلاسِ عام میں مولانا سلیمان ندوی نے معان ریلوے اسٹیشن اور مقاماتِ مقدسہ پر انگریزی سیاست کی مذمت کی اور ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا، جب کہ قضیہ¿ موصل پر برطانوی بائیکاٹ کا اعادہ کیا گیا۔ جب 8/اکتوبر 1927ئ کو بغیر کسی ہندستانی رکن کے سائمن کمیشن کا اعلان ہوا، تو مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعیدصاحب کے بیانات اور 2 تا 5/دسمبر 1927ئ کے آٹھویں اجلاسِ عام کی روشنی میں اس کا مکمل مقاطعہ کیا گیا اور 3/فروری 1928ئ کو کمیشن کے ممبئی پہنچنے پر تاریخی ہڑتال کی گئی۔ اسی اجلاس میں علامہ انور شاہ کشمیری نے برطانوی پارلیمنٹ سے آزادی کی امید کو فضول کہا۔

فلسطین میں لارڈ بالفور کے 2/نومبر 1917ئ کے صیہونی نواز اعلامیہ (جس کی توثیق برطانوی کابینہ نے 31/اکتوبر 1917ئ کو کی تھی اور جس کے تحت آگے چل کر 14/مئی 1948ئ کو اسرائیل قائم ہوا) کے خلاف جمعیت نے 3/ستمبر 1929ئ کو دہلی میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا آزاد صاحبان کی موجودگی میں بڑا احتجاج کیا۔

 افغانستان میں غداری کے ذریعے امیر امان اللہ کو ہٹا کر حبیب اللہ بچہ سقہ کو لانے کی برطانوی سازش کے بعد جب جنرل نادر خان نے 13/اکتوبر 1929ئ کو کابل فتح کیا اور 15/اکتوبر 1929ئ کو بادشاہ بنے، تو جمعیت نے 18/اکتوبر 1929ئ کو جامع مسجد دہلی میں اجلاس کر کے برطانیہ کو ناطرف داری کا مخلصانہ مشورہ دیا۔

اقوامِ متحدہ کے 24/جولائی 1922ئ کو پاس کردہ اور 19/ستمبر 1922ئ کو نافذ کردہ انتدابِ فلسطین کے خلاف جمعیت کی مجلس مرکزیہ نے 26õ28/اکتوبر 1929ئ کو اس کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔

 داخلی محاذ پر، مسلمانوں پر ساردا بل نافذ کرنے کے خلاف مولانا احمد سعید نے 24/اکتوبر 1929ئ کو سخت بیان دیا (یہ بل اپریل 1930ئ سے نافذ ہوا)۔ یکم نومبر 1929ئ کو وائسرائے لارڈ ارون کے محض ڈومینین اسٹیٹس کے بیان کو مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے 7/نومبر 1929ئ کو برطانوی فراست کا آئینہ قرار دے کر مسترد کیا۔

3 تا 6/مئی 1930ئ کو نویں اجلاسِ عام میں علامہ معین الدین اجمیری نے برطانیہ کو سب سے بڑا دشمن قرار دیا اور وائسرائے ہند کے نافذ کردہ پریس آرڈیننس کو جبر و استبداد کا مظاہرہ کہا۔

 برطانوی وزیر اعظم ریمزے میکڈانلڈ کی یہود نواز پالیسی کے خلاف جمعیت نے 31/ مارچ و یکم اپریل 1931ئ کے دسویں اجلاسِ عام میں شدید مذمت کی۔

 حریت پسندوں کی راہ میں روڑے اٹکائے جانے کے خلاف 9/جون 1932ئ کو مولانا عبدالحلیم صدیقی نے بیان جاری کیا۔ 16/اگست 1932ئ کو برطانوی وزیر اعظم کے لائے گئے کمیونل ایوارڈ پر جمعیت کے ساتویں ڈکٹیٹر مفتی محمد نعیم لدھیانوی نے 28/اگست 1932ئ کو اسے بحالت جنگ ناقابلِ التفات قرار دیا۔

 جمعیت کو قابو میں کرنے کے برطانوی حکومت کے ایک خفیہ گشتی مراسلے کا پردہ فاش 22/ اکتوبر 1932ئ کو لاہور کے اخبار ٹریبیون نے کیا۔

فلسطین میں برطانوی تشدد پر مفتی کفایت اللہ صاحب نے یکم جون 1936ئ کو بیان جاری کیا۔ جب 7/جولائی 1937ئ کو لارڈ پیل شاہی کمیشن کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی رپورٹ آئی، تو جمعیت نے 30/جولائی 1937ئ کو جامع مسجد دہلی میں مفتی کفایت اللہ صاحب  کی صدارت میں اس کے خلاف بڑا جلسہ کیا،جب کہ 3/ستمبر 1937ئ کو ملک گیر احتجاج منظم کیا گیا۔ 20/ستمبر 1937ئ کو جمعیت نے دوبارہ برطانوی کارروائیوں کو ناقابلِ برداشت کہا اور 9/ اکتوبر 1937ئ کو وائسرائے کو تار بھیجا۔ 29/اکتوبر 1937ئ کو آل انڈیا فلسطین مجلس عمل نے برطانوی اشیا کا بائیکاٹ کیا۔

 27õ29/مئی 1938ئ کو جمعیت علمائے بہار نے سرحد پر برطانوی فوجی اقدامات کے خلاف تجویز منظور کی۔ 5/جولائی 1938ئ اور 21/اگست 1938ئ کو مولانا محمدحفظ الرحمان  سیوہاروی نے برطانوی مظالم اور فوجی بھرتی بل کے خلاف بیانات دیے۔ 3 تا 6/مارچ 1939ئ کو گیارھویں اجلاسِ عام میں بھی برطانوی تشدد کی مذمت کی گئی۔

جنگ عظیم دوم، کامل آزادی کا عزم اور تقسیمِ ہند کی مخالفت (1939ئ تا 1947ئ)

گیارھویں اجلاسِ عام (3 تا 6/مارچ 1939ئ) میں علامہ سید عبدالحق مدنی کی صدارت میں برطانوی امپریلزم سے نجات کو نصب العین قرار دیا گیا۔ 17/مئی 1939ئ کو شائع برطانوی قرطاسِ ابیض (وائٹ پیپر) کی مشروط اور تاخیری آزادی کی پالیسی کو جمعیت کی مجلس مرکزیہ نے 27õ29/مئی 1939ئ کو ناانصافی پر مبنی قرار دیا۔

3/ستمبر 1939ئ کو جنگِ عظیم دوم کے اعلان کے بعد جب انگریزوں نے ہندستان کو زبردستی جنگ میں شامل کیا، تو جمعیت کی مجلس عاملہ نے 16õ18/ستمبر 1939ئ کو جنگ میں عدم تعاون کا تاریخی فیصلہ کیا۔ 13/جنوری 1940ئ کو مولانا محمد سجاد نے وائسرائے لن لتھگو کو خط لکھ کر اس موقف کو دہرایا۔ 7õ9/جون 1940ئ کو باردھویں اجلاسِ عام میں صدر جمعیت مولانا حسین احمد مدنی نے اس فیصلے کا اعادہ کیا۔ 20õ22/مارچ 1942ئ کو تیرھویں اجلاسِ عام میں مولانا عبدالقادر قصوری اور مولانا مدنی نے برطانوی تحفظ کو باعثِ شرم اور طرزِ عمل کو مایوس کن قرار دے کر آزادی کے عزم کا اظہار کیا۔

وائٹ پیپر کے تحت یہودیوں کے داخلے کی پانچ سالہ مدت 31/مارچ 1944ئ کو ختم ہونے پر جمعیت نے 17/مارچ 1944ئ کو ملک گیر یومِ فلسطین منایا اور 8õ9/نومبر 1944ئ کو مجلس عاملہ نے صیہونی نوازی کی مذمت کی۔ 2/جون 1945ئ کو مولانامحمد حفظ الرحمان صاحب نے فرانسیسی بم باری اور مفتیِ اعظم فلسطین کی گرفتاری کے خلاف اپیل جاری کی، جس کے بعد 11 جون 1945ئ کو اردو پارک دہلی میں تاریخی جلسہ کر کے مفتیِ اعظم کی رہائی اور ایران سے برطانی و روسی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔ 18õ19/ستمبر 1945ئ کو مجلس مرکزیہ نے برطانوی انتداب کے خاتمے اور عرب حکومت کے قیام کا مطالبہ براہِ راست صدرِ امریکہ اور وزیر اعظمِ انگلستان کو بھیجا۔

 6/اکتوبر 1945ئ کو آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ نے انگریزی شہنشاہیت کے خاتمے کے لیے غریب مسلمانوں کو ووٹر بنانے کی مہم شروع کی۔ 17/فروری 1946ئ کو مفتی کفایت اللہ صاحب نے فتاویٰ کے ذریعے انگریزی اقتدار کو کمزور کرنے کے لیے کانگریس میں شمولیت کو ضروری بتایا۔

جب اینگلو امریکن کمیٹی کی 20/اپریل 1946ئ کی صیہونی نواز رپورٹ آئی، تو مولانا حسین احمد مدنی نے 13/مئی 1946ئ کو برطانوی وزیر اعظم ایٹلی اور امریکی صدر ٹرومین کو تار بھیجے اور 24/مئی 1946ئ کو یومِ احتجاج منایا گیا۔ جمعیت کی مجلس عاملہ نے 10õ12/جون 1946ئ کو اسے قبلہ اول پر صیہونی غلبے کی سازش قرار دیا۔ جب 25/جولائی 1946ئ کو تقسیم فلسطین کی اسکیم اور 4/ستمبر 1946ئ کو امریکی صدر کا متعصبانہ بیان آیا، تو 18 اگست 1946ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے اسے شرم ناک قرار دیا۔

ہندستان کی آزادی کے آخری مرحلے میں جب برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے 20/فروری 1947ئ کو جون 1948ئ تک اقتدار سونپنے کا اعلان کیا، تو جمعیت کی مجلس عاملہ نے 13õ15/ مارچ 1947ئ کو اس کا خیرمقدم کیا؛ لیکن ہندستان کو تباہ کرنے کی برطانوی چالوں سے متنبہ بھی  کیا۔ 10/مئی 1947ئ کو کونسل کے اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی نے انگریزوں کو طاقت کے زور پر نکالنے کے لیے تیار رہنے کا تاریخی خطبہ دیا، جب کہ 9õ11/مئی 1947ئ کو مجلس عاملہ نے تقسیمِ ہند کی برطانوی و وطنی سازشوں کے خلاف تجویز منظور کی۔

جداگانہ انتخابات (دسمبر 1945ئ تا مارچ 1946ئ)، کیبنٹ مشن کی آمد (23/مارچ 1946ئ)، شملہ کانفرنس کی ناکامی (5/مئی 1946ئ)، مسلم لیگ کے یو ٹرن (27/جولائی 1946ئ) اور لیگ کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے (16/اگست 1946ئ) کے خونیں فسادات کے بعد 2/ستمبر 1946ئ کو پہلی عارضی حکومت بنی۔اس کے بعدجب 3/جون 1947ئ کو لارڈ ما¶نٹ بیٹن کا پلانِ تقسیم ہند سامنے آیا، تو جمعیت کی مجلس عاملہ نے 24õ25/جون 1947ئ کو اسے پانچ کروڑ مسلمانوں کے لیے مہلک قرار دے کر مسترد کردیا۔ اسی طرح صوبہ سرحد میں 6 تا 17/جولائی 1947ئ کے درمیان ہونے والے برطانوی ریفرنڈم کے بعد 23/جولائی 1947ئ کے سرکاری اعلامیے کے مطابق اسے پاکستان میں شامل کر دیا گیا، تو جمعیت علما نے اس کی مخالفت کی۔

بالآخر 14/اگست 1947ئ کو کراچی میں لارڈ ما¶نٹ بیٹن نے مسٹر جناح سے برطانوی وفاداری کا حلف لیا اور اسی رات 14õ15/اگست 1947ئ کی درمیانی شب ٹھیک  بارہ بج کر ایک منٹ پردہلی آئین ساز اسمبلی میں ہندستان کی آزادی کا اعلان ہوا، جس پر جمعیت کے ناظمِ عمومی مولانا محمدحفظ الرحمان نے ملک گیر جشنِ آزادی منانے کا اعلان کیا۔

بعد از آزادی برطانوی سامراج کی مذمت (1951ئ تا 1988ئ)

آزادی کے بعد بھی جمعیت نے برطانوی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز بلند رکھی۔ 14/ نومبر 1951ئ کو مولانا حسین احمدمدنی نے نہر سوئز پر برطانوی و امریکی فوجی قبضے پر افسوس کا اظہار کیا۔

 18/دسمبر 1953ئ کو انھوں نے یورپی اقوام سے تعلق کو بھیڑیے اور بکری کا تعلق قرار دیا۔

 11õ13/فروری 1955ئ کو اٹھارھویں اجلاسِ عام اور 27õ29/اکتوبر 1956ئ کو انیسویں اجلاسِ عام میں مولانا مدنی نے واضح کیا کہ ملک میں تفرقہ اور اقلیت و اکثریت کی نفرت انگریز سامراج کی تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی کا پھل ہے۔

 28/اکتوبر 1956ئ کو موتمر اسلامی کے سامنے مولانا عبدالحلیم صدیقی نے جمعیت کی مسلسل قربانیوں کا تذکرہ کیا۔

 23õ24/ستمبر 1967ئ کو مجلس منتظمہ نے اسرائیل کی ظالمانہ جارحیت میں امریکہ اور برطانیہ کے انسانیت سوز کردار کی مذمت کی۔

جب برطانیہ میں محبت کا ٹرکش آرٹ نامی گندی کتاب چھپی، تو جمعیت کی مجلس عاملہ 8õ9/جنوری 1971ئ نے اس کی ضبطی کا مطالبہ کیا۔

19/جولائی 1972ئ کو جمعیت علمائے برطانیہ کا کی تشکیل عمل میں آئی ۔ اور31/مارچ 1989ئ کو جمعیت برطانیہ کے بانی مولانا محمد حسن نے بتایا کہ یہ تنظیم 1970ئ سے قائم ہے اور مولانا اسعد مدنی کے دوروں کی برکت سے وہاں 500 سے زائد مساجد اور مدارس قائم ہوئے۔

برطانیہ میں نسلی فسادات اور پولیس کے ہاتھوں ایشیائیوں کے قتل پر مولانا اسعد مدنی نے 18/جولائی 1981ئ کو برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کو تار بھیجا اور اندرا گاندھی سے اثر و رسوخ  استعمال کرنے کی اپیل کی، جب کہ 9õ10/اگست 1981ئ کو مجلس عاملہ نے برطانوی شہریت کے تاوان اور کامن ویلتھ سے نکلنے کی دھمکی پر مشتمل تجویز پاس کی۔

 30/اگست 1983ئ کو مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں وفد نے ہندستانی برطانوی مسلمانوں کو حج ویزا نہ ملنے پر وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔

الجزائر میں 15/نومبر 1988ئ کو ریاستِ فلسطین کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے جمعیت کی مجلس عاملہ نے 26õ27/نومبر 1988ئ میں برطانیہ سے اسے تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا، جب کہ اسی اجلاس میں سلمان رشدی کی دل آزار کتاب شیطانی آیات کو ضبط نہ کرنے پر برطانوی حکومت کے مسلم آزار رویے کی سخت مذمت کی گئی۔

حالیہ دور میں عالمِ اسلام پر برطانوی گٹھ جوڑ کے خلاف موقف (1993ئ تا 2024ئ)

19õ20/دسمبر 1993ئ کو مجلس عاملہ نے بوسنیا پر سربوں کے مظالم پر اقوامِ متحدہ، امریکہ اور برطانیہ کے متعصبانہ کردار کی مذمت کرتے ہوئے مسلم ممالک کو ان کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔

 16 تا 19/دسمبر 1998ئ کو عراق پر ہونے والے برطانوی و امریکی فضائی حملے (آپریشن ڈیزرٹ فاکس) کے خلاف 17/دسمبر 1998ئ کو مولانا اسعد مدنی نے اسے صریح دہشت گردی قرار دے کر سفیروں کو تار بھیجے۔

13/مئی 2000ئ کو چھبیسویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں مولانا اسعد مدنی نے امریکہ اور برطانیہ سے عراق اور افغانستان سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا، جب کہ چیچنیا میں روسی درندگی پر امریکہ اور برطانیہ کے زبانی جمع خرچ کو منافقت قرار دیا۔

11/ستمبر 2001ئ کے بعد جب امریکہ و برطانیہ نے 7/اکتوبر 2001ئ کو افغانستان پر حملہ کر کے 13/نومبر 2001ئ کو طالبان حکومت کا خاتمہ کیا، تو 8/اکتوبر 2001ئ کو مولانا اسعد مدنی نے اس حملے کو برطانوی و امریکی سرکاری دہشت گردی قرار دیا۔

 9/مارچ 2003ئ کو ستائیسویں اجلاسِ عام میں مولانا اسعد مدنی نے کیمیائی ہتھیاروں کا جھوٹا واویلا مچا کر عراق پر برطانوی و امریکی فوجی یلغار کو بدترین جارحیت قرار دیا۔

آخر میں، جمعیت نے 5/اپریل 2008ئ کو مجلس منتظمہ اور 16/مئی 2015ئ کو بتیسویں اجلاس عام کے ذریعے فلسطین، یمن اور شام کے بحرانوں میں اپوزیشن کو حاصل برطانوی و امریکی سرپرستی کی مذمت کی، اور اپنے حالیہ ترین 4õ5/جولائی 2024ئ کے مجلس منتظمہ کے اجلاس میں غزہ اور مشرقی یروشلم میں جاری نسل کشی کا حوالہ دے کر امریکہ، برطانیہ اور بھارت سے اسرائیل کو اسلحہ کی برآمدات فوری بند کرنے کا دوٹوک مطالبہ کیا اور اسلحہ دینے والی ریاستوں کو اس نسل کشی میں برابر کا شریک قرار دیا۔