اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے
محمد یاسین جہازی
جنگ عظیم اول (28/ جولائی 1914ء- 11/ نومبر1918ء) میں برطانیہ نے تین الگ الگ لوگوں سے تین متضاد وعدے کیے۔ یہودیوں سے ان کو قومی وطن دینے کا، عالم اسلام سے تحفظ خلافت کا اور ہندستانیوں سے سوراج کا؛ لیکن جنگ کے اختتام کے بعد، 30/ اکتوبر 1918ء کو ترکی اور اتحادیوں کے درمیان ہوئی عارضی صلح، بعد ازاں 10/اگست1920ء کو معاہدہئ سیورے کے ذریعہ اس کی تصدیق وتوثیق کے بعد عالم اسلام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خلافت عثمانیہ اسلامیہ کی بندر بانٹ کرکے،2/نومبر1917ء کے بالفور اعلامیہ کے مطابق،24/جولائی 1922ء کو لیگ آف نیشنز کی کونسل نے فلسطین کا مینڈیٹ برطانیہ کو دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ اس طرح خطہئ فلسطین خلافت عثمانیہ کی عمل داری سے نکل کر برطانیہ کی غلامی میں چلا گیا۔برطانیہ نے اپنی حکمرانی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے، فلسطین کو تقسیم کرکے وطن الیہود بنانے کی کوششیں شروع کردیں، جس کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں مغربی کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے برطانیہ کی گہری سازش کافرما تھی، تاکہ وطن الیہود ”اسرائیل“ کو ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
جمعیت علمائے ہند نے برطانوی انتداب (مینڈیٹ) کے نفاذ سے پہلے ہی اپنے تیسرے اجلاس عام: 18، 19،20/نومبر1921 ء کے خطبہئ صدارت میں، بعد ازاں 22/ مارچ 1922ء کو مجلس عاملہ میں فلسطین کو خلافت عثمانیہ ترکیہ اسلامیہ کے زیر نگیں رکھنے کا مطالبہ کیا اور 3/ ستمبر 1929ء کوایک زبردست احتجاجی اجلاس کے ذریعہ فلسطین کو وطن الیہود بنانے کی شدید مخالفت کی۔یہ وہ پہلی آواز تھی،جو ایشائی مسلمانوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جمعیت علما نے اٹھائی۔اور پھر ہمیشہ اسرائیل کے ناجائز وجود کے خلاف مصروف عمل رہی۔
بعد ازاں 14/مئی 1948ء کو جب اسرائیل قائم کردیا گیا، تو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے انیسواں اجلاس عام منعقدہ:27تا/ 29/اکتوبر 1956ء کے اختتامی خطاب میں اسرائیل کو نام نہاد حکومت قرار دیا۔ مولانا نے فرمایاکہ:
”سامراجی طاقتوں کی خود کاشتہ نام نہاد حکومت اسرائیل کی سرحدیں بیت المقدس کے شہر کے قلب تک پہنچ چکی ہیں۔“
بعد ازاں حضرت ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے23/ مئی 1967ء کو اسرائیلی عزائم اور اس کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے ”غاصب اسرائیل“ سے تعبیر کیا۔
”تاہم حالات کی سنگینی کے پیش نظر یہ ضروری اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عوامی پیمانہ پر غاصب اسرائیل کے جارحانہ عزائم، امریکہ کی سازش اور اس کی سامراجی سرپرستی کی مذمت میں ملک گیر احتجاجی جلسے کر کے اقوام متحد تک ہم اپنے عوامی جذبات پہنچائیں اور اپنے عرب دوستوں کو ہندستانی عوام کی ہمدردیوں اور ہرقسم کے بھر پور تعاون کا یقین دلائیں۔“
(روزنامہ الجمعیۃ،25/ مئی 1967ء)
اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے
مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند، منعقدہ: 23،24/ ستمبر1967ء کو تجویز نمبر (۳) میں علی الاعلان کہا کہ: اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے۔ تجویز کے متعلقہ حصہ میں کہا گیا کہ:
”جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس مشرق وسطیٰ کے سلسلہ میں جمعیت علمائے ہندکے تاریخی اجلاس کو کنا ڈا 1923ء،زیرصدارت شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد صاحب مدنی نوراللہ مرقدہ کے موقف کی تائید کا اعادہ کرتے ہوئے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ اسرائیل کا جارحانہ وجود- جواستعماری طاقتوں کی فوجی چھاؤنی ہے- ایک ظلم ہے۔ عربوں کے حق میں جابرانہ مداخلت ہے اور فتنہ وفسادکی بنیا دہے۔ حق وانصاف کے احترام کو باقی رکھنے کے لیے اس کا ختم ہونا ضروری ہے۔
چنانچہ مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس دنیا کے امن پسند عوام سے یہ اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی فوجی چھاونی کوختم کرانے کے لیے ایک متحرک قوت بن کر سامنے آئیں اور اس وقت تک اپنی تحریک کو جاری رکھیں، تاوقتیکہ اسرائیل سے عربوں کے تمام مقبوضہ علاقے خالی نہ ہو جائیں اور اس کاجا برا نہ کرداراور وجود ختم نہ ہو جائے۔“
اسرائیل کے خاتمہ کے لیے اتحاد کی اپیل
پھر اسی اجلاس میں اسرائیل کے خاتمہ کے لیے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے تجویز نمبر(۸) میں کہا گیا کہ:
”صرف اسی وجہ سے نہیں کہ مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک سے جمعیت علمائے ہند کا ایک جذباتی اور دینی رشتہ بھی ہے؛ بلکہ اس وجہ سے بھی کہ یہ ممالک ہندستان کی آزادی اور اس کی سلامتی کے محافظ ہیں اور ہندستان اور عرب ممالک کے درمیان ہمیشہ سے ایک خاص تعلق اور رشتہ رہا ہے، جغرافیائی اعتبار سے عرب ممالک ایسے کلیدی مقامات پر واقع ہیں کہ اگر ان پر سامراجی طاقتوں کا قبضہ وتسلط باقی رہے توا فریشیائی قوموں کی آزادی ہمیشہ خطرہ میں رہے گی؛ اور افریقہ اور ایشیا کے ممالک استعماری استحصال سے کبھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ جمعیت علمائے ہند نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے وجود کو ہمیشہ سامراج کی ایک فوجی چھاؤنی سمجھا ہے اور اس کے جا برا نہ ناجائز وجود کو ہندستان کی آزادی افریشیا کے تحفظ اور امن پسند دنیا کے لیے ایک بین الا قوامی خطرہ متصور کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کا اب بھی یہی خیال ہے کہ مغربی طاقتوں کی سرپرستی میں اسرائیل کا وجود جب تک باقی رہے گا؛مشرق وسطیٰ میں نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے نہ ہندستان کی آزادی و سلامتی محفوظ رہ سکتی ہے اورنہ افریقہ ایشیا کے کمزور دونوں آزاد ممالک محفوظ رہ سکتے ہیں، بلکہ خودمغربی طاقیتں اوریورپ بھی ایک وقت میں اسرائیل کی ظالمانہ دہشت پسندی کے نقصانات اور ایذا رسانیوں سے اپنا تحفظ نہ کرسکیں گے۔
اس لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس دنیا کی انصاف پسند قوموں کو متنبہ کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ وہ عرب سرزمین پر اسرائیل کے شرم ناک وجود کے حقیقی خطروں سے خبردار اوراس کی ناجائز سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔“
قصہئ مختصر یہ کہ اسرائیل کے خلاف سب سے پہلے جمعیت علمائے ہند نے آواز اٹھائی اور اس کے وجود کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا۔ چوں کہ اسرائیل کا معاملہ قضیہئ فلسطین سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کی مکمل تفصیلات ”قضیہئ فلسطین“ کے عنوان میں درج ہوں گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
