ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے
محمد یاسین جہازی
خارجہ پالیسی مذہبی عقائد پر نہیں؛بلکہ ہمیشہ انسانیت، عدل اور عالمی امن کے اصولوں پر بنائی جاتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ یہی اصول پیش نظر رکھا ہے ۔
خود ایران کے تناظر میں بات کریں، تو مختلف ادوار میں جمعیت علمائے ہند کے نقطۂ نظر میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ۔ اور حمایت و مخالفت کے دونوں پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ
ایران بمقابلہ برطانیہ و روس ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی۔
ایران بمقابلہ امریکہ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ عراق، جمعیت علمائے ہند نے عراق کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ سعودی عرب، (سانحۂ حرم کے تناظر میں) جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔
چوںکہ جمعیت علمائے ہند کا موقف عالمی سطح پر ہندستان کے مسلمانوں کے موقف و نظریات کے طور پر کوڈ کیا جاتا ہے، اس لیے آئیے ایک صدی کی تاریخ میں ایران کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کیخارجہ پالیسیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ایران کا پہلا تذکرہ پانچویں اجلاس عام منعقدہ: 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے خطبۂ صدارت میں ملتا ہے، جس میں انگلستان اور روس کے درمیان ایران کی تقسیم کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے شمالی ایران پر روس کے قابض و متصرف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
صدر محکمہ ٔ شرعیہ استانبول نے9؍جنوری 1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت علمائے ہند سے گذارش کی کہ وہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے متوجہ کرے۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بارھویں اجلاس عام منعقدہ: 7تا 9؍جون 1940ء کے خطبۂ صدارت میں فرمایا کہ ہندستان کی آزادی سے ایران بھی مصائب سے محفوظ رہیںگے۔
اسی طرح تیرھویں اجلاس عام منعقدہ: 20تا22؍مارچ 1942ء کے خطبۂ صدارت میں، حضرت شیخ الاسلام نے ایران سمیت تمام ممالک اسلامیہ کے متعلق اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے برطانوی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا۔پھر اسی اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے تجویز منظور کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کاموقف طے کردیا۔
11؍جون1945ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی صدارت ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں ایران پر روسی و برطانوی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔
ایرانی سفیر نے 27تا 29؍اپریل 1951ء کو منعقد سترھویں اجلاس عام کے اپنی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔
ہندستان اور پاکستان کے باہمی تنازعات کے لیے دوستانہ تصفیے کے لیے کوشش کرنے والے ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام، 9؍اگست 1951ء کو بحری تار بھیج کر پاکستان کے پروپیگنڈا سے آگاہ کیا۔
حضرت شیخ الاسلام نے 16؍نومبر1951ء کا دن ایران کی کامیابی کے لیے بطور دعا منانے کی اپیل کی۔
11تا 13؍فروری 1955ء کو جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں ایران کے سفیر محترم علی اصغر حکمت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہندستان کے سیکولر نظام کو نعمت سے تعبیر کیا۔
17؍فروری1956ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایران کے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی اور ان کی بیوی ثریا اسفند یاری بختیاری کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کی اور انھیں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔
سفارت کی مدت پوری ہونے کے بعدایران واپس جانے کی مناسبت سے11؍جنوری 1958ء کو ایران کے سفیر جناب علی اصغر حکمت کو جمعیت علمائے ہند نے الوداعیہ پیش کیا۔
15؍جولائی1959ء کو جدید و قدیم علوم کے ماہر ایرانی فوج کے مشہور جنرل آقای حسین علی رزم آرا کو قبلہ نما ایجاد کرنے پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے مبارک باد پیش کی۔
20؍جنوری1960ء کو سابق وزیر خارجہ نے ایران جناب علی اصغر علی حکمت نے جمعیت علمائے ہند کو عید کی مبارک باد پیش کی۔
6؍ستمبر1962ء کو مشرقی ایران کے علاقے میں آئے شدید زلزلے میں متأثرین سے، 8؍ستمبر1962ء کو صدرجمعیت علمائے ہندفخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحبؒ نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیااور لوگوں سے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔
15تا17؍اپریل1966ء کومنعقد جمعیت علمائے ہندکے بائیسویں اجلاس عام کے لیے سفیر ایران ڈاکٹر جلال عبدوہ نے اپنی نیک خواہشات بھیجیں۔
3؍ستمبر1968ء کو شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو ایک برقیہ بھیج کر زلزلہ سے ہوئی تباہی پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں 18-19؍اپریل1970ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں ایک تجویز منظور کرکے زلزلہ متأثرین سے یک جہتی کا اظہار کیا۔
اسلامی انقلاب کے بعد 4؍نومبر1979ء کو، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے ہمنواؤں نے امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کرکے امریکی شہریوں کو یرغمال بنالیا۔ یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے 24؍اپریل1980ء کو ’’آپریشن ایگل کلا‘‘ شروع کیا۔ 27؍اپریل1980ء کو منعقد مجلس عاملہ ، بعد ازاں 28-29؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس منتظمہ نے ان دونوں واقعات: ایران میں امریکی طرز عمل اور ایرانیوں کے طرز عمل کی مذمت کی۔
اسلامی انقلاب کو عراق نے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے، 22؍ستمبر1980ء کو ایران پر بلاوجہ حملہ کردیا، جس سے ایک طویل جنگ کی شروعات ہوگئی۔ اور تقریبا آٹھ سال تک جاری رہنے کے بعد 20؍اگست1988ء کو اقوام متحدہ کی قرار داد 598کے تحت اختتام پذیر ہوئی۔ اس ایران-عراق جنگ پر جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایران سے فوری طور پر جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ یکم اکتوبر1980ء کو مجلس عاملہ میں،بعد ازاں مجلس منتظمہ منعقدہ: 25-26؍نومبر1983ء میں،پھر تعلیمی و ملی کانفرنس منعقدہ: 6-7-8؍ اپریل 1984ء میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔
ایران-عراق جنگ کے دوران ڈیڑھ ہزار عراقی جنگی قیدیوں کے وحشیانہ قتل کی خبر موصول ہونے پر26؍دسمبر1981ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اور پھر 26-27؍ دسمبر 1981ء کو مجلس عاملہ نے اس واقعہ پر ایران کی مذمت کی۔
22سے 25؍اپریل 1985ء کو عراق میں دوسری عالمی بغداد کانفرنس ہوئی، جس کا بنیادی مقصد عرب ازم اور پین اسلام ازم کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔جب 6-7؍مئی 1985ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، تو مجلس عاملہ نے بغداد کانفرنس کی تمام تجویزوں کی تائید کرتے ہوئے 24؍مئی 1985ء کو ایران- عراق جنگ بندی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔لیکن مکمل تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر یہ دن نہیں منایا جاسکا۔
یکم نومبر1986ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں عراق کی طرف سے جنگ بندی کی پیش قدمی کے باوجود ایران کی طرف سے جنگ بند نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔
ملی اتحاد کا پر فریب نعرہ اور حرمین شریفین کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی آیت اللہ خمینی کی منصوبہ بند سازش کے تحت،ایران کے ایک لاکھ پچاس ہزار حاجیوںنے، 31؍جولائی 1987ء کو مکہ مکرمہ کے حرم محترم کے قریب عصر کے وقت خمینی کی تصویروں کے ساتھ احتجاجی نعرے بلند کرنا شروع کیے اور لاٹھی ڈنڈوں اور چاقوں کے ساتھ حرم میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور چار سو افراد جاں بحق ہوگئے ۔ اس پر2؍اگست 1987ء کو مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور 9؍اگست 1987ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اسے حرم محترم کی بے حرمتی قرار دیا۔اور 21؍ اگست 1987ء کو ’’یوم حرم‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔
پھر 3؍ستمبر1987ء کو سعودی سفیر محترم فواد صادق مفتی صاحب سے ملاقات کرکے اس سانحہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کے موقف اور کاررائیوں سے مطلع کیا گیا۔
3-4؍اکتوبر1987ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حرم محترم کی بے حرمتی کرنے پر ایرانیوں کی سخت مذمت کی گئی۔
7؍نومبر1987ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی۔اور ساتھ ہی ایران -عراق جنگ بند کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔
8؍نومبر1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ ہوئی، علمائے کرام کے خطاب اور قرارداد کے علاوہ ،مولانا معزالدین احمد گونڈویؒ کے استفسار پر دارالعلوم دیوبند کے اس فتویٰ کی تائید کی گئی، جس میں عقائد و نظریات کے تناظر میں آیت اللہ خمینی کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیاگیا تھا۔
9-10؍اپریل1988ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تحفظ حرم کی بابت سعودی حکومت کو چند مفید تجاویز پیش کرتے ہوئے ایران-عراق جنگ کو فورا بند کرنے کی اپیل کی گئی۔
2؍جولائی1988ء کو لندن میں ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے پر خمینیوں کی شدید مذمت کی۔
19؍جولائی 1988ء کو جنگ بندی کی خبر آنے پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔پھر جب 20؍ اگست 1988ء کی تاریخ کو حتمی طور پر جنگ بندی کادن طے کردیا گیا، تو اس سے پہلے ہی 13-14؍ اگست 1988ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علما نے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ اور پھر اواخر اگست 1988ء کو باقاعدہ ایک تقریب جشن منعقد کرکے ایران-عراق جنگ بندی پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔
ایران کے شمال مغربی حصے میں آئے بھیانک زلزلے پر 6؍جولائی 1990ء کو جمعیت علما نے ایک پریس بیان جاری کرکے ہمدردی کا اظہار کیا اور گراں قدر تعاون پیش کیا۔
11؍اکتوبر1991ء کو ایرانی صدر کے مشیر خاص مولانا اسحاق مدنی صاحب کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لانے پر ان کا استقبال کیا گیا۔
26؍مئی 1995ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے حج کے موقع پر ایرانیوں کی طرف سے سیاسی مظاہرہ کی مذمت کی۔ اور حرم محترم کے تقدس کو ہر حالت میں بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے جوہری ہتھیار کی غلط تشہیر پر 6؍دسمبر2004ء کو صدر جمعیت حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی صاحب نے سخت مذمت کی۔
2002ئسے لے کر 2006ء تک کی مختلف تاریخوں میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی طرف سے ایران کو دھمکی دینے کے تناظر میں، یکم تا 3؍مارچ 2006ء کو امریکی صدر کے ہندستان دورے کی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سخت احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ یہ احتجاجی اجلاس ایران کی حمایت میں کیا گیا تھا۔
امریکہ ایران تنازع پر 23؍مئی 2006ء کو صدر جمعیت نے ایک پریس بیان دیتے ہوئے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت کی۔
14؍فروری 2007ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔
28؍اپریل 2008ء کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کیا گیا۔اور اسے ایران -ہندستان کی ثقافتی، تجارتی اور تہذبی روابط کے لیے امید افزا قدم بتایاگیا۔
19؍مئی 2024ء کو ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلی ٰ افسران کی حادثاتی موت پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
22؍جون2025ء کو جوہری ہتھیار کی ممکنہ تیاری کا بہانہ بناکر امریکہ کی طرف سے ایران پر کی گئی بم باری کی شدید مذمت کی گئی۔
28؍فروری2026ء کو کسی جواز کے بغیر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جابرانہ حملے شروع کردیے، جن کے نتیجے میں پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے چند اہل خانہ کی موت واقع ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے 2؍مارچ 2026ء کو اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سپریم لیڈر و اہل خانہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔
