آج یوم تاسیس تبلیغی تحریک ہے
آج 24؍فروری ہے۔ تاریخ میں یہی وہ تاریخ ہے، جس دن جمعیت علمائے ہند کے بینر تلے عالمی سطح کی سب سے بڑی تنظیم ’’شعبۂ تبلیغ ‘‘کا قیام عمل میں آیااور حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہند، اولین صدر اور مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نور اللہ مرقدہ اولین ناظم بنائے گئے۔اور جمعیت علمائے ہند کی اس پیش قدمی کے تقریبا تین چار سال بعد مروجہ ’’تبلیغی جماعت‘‘ کا آغاز ہوا۔
تفصیلات کے لیے وقت کا انتظار ہے۔ذیل میں اس تحریک کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:
1۔ جنگ عظیم اول میں اماکن مقدسہ کے حوالے سے انگریزوں کی بد عہدی کے باعث، ان کے خلاف مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، جس سے خلافت تحریک وجود میں آئی۔
2۔ گاندھی جی عدم تشدد کے ذریعہ بھارت کو انگریز مکت کرنا چاہتے تھے، اس لیے انھو ں نے مسلمانوں کا ساتھ لینے کے لیے بلا شرط خلافت تحریک کی تائید و حمایت کی۔اس سے ہندو مسلم اتحاد عروج پر پہنچ گیا۔
3۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے، ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے 1921ء میں سنگھٹن تحریک اور 1923ء میں شدھی تحریک چلوائی۔
4۔ جمعیت علمائے ہند نے اس ارتدادی تحریک کے خلاف 18-22؍فروری 1921ء کو تبلیغی وفود کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
5۔ تبلیغ حق کے جرم میںاکتوبر1921ء کی کسی تاریخ کو ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
6۔ تیسرے اجلاس عام (18-20؍نومبر1921ء ) میں گرفتاری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی گئی۔
7۔ 9-10؍فروری 1923ء کو شعبۂ ’’تبلیغ و حفاظت اسلام‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور 24؍فروری 1923ء کو باقاعدہ شعبہ کا آغاز کردیا گیا اور مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب ناظم منتخب کیا گیا۔
8۔ 15-16؍جولائی 1923ء کو مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کو اس شعبہ کا صدر مقرر کیا گیا۔
9۔ 13-16؍جولائی 1923ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں اسے پورے ہندستان کا مرکز قرار دیا گیا۔
10۔ 7 ؍نومبر1923ء کو شعبۂ تبلیغ کے عملی خاکے ترتیب دیے گئے۔
11۔ 26-27؍اگست 1924ء کو دائرۂ عمل بڑھا کر کئی صوبوں میں پھیلایا گیا اور ’’الداعی‘‘ کے نام سے اس شعبہ کا مخصوص اخبار جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
12۔ 26؍ستمبر1924ء میں ہندو مسلم مفاہمت کے لیے جب تبلیغ کو بند کرنے کی بات کہی گئی، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کا زبردست دفاع کیا۔
13۔ 15؍جنوری1925ء میں تبلیغ کانفرنس کا انعقاد عمل میںآیا۔بعد ازاں مختلف سالوں میں کی گئی مساعی کا تذکرہ کیا گیا۔ اور سکیڑوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔
14۔ 11-14؍مارچ 1926ء میں سبھی مسلک والوں سے فروعی اختلاف کو بھول کر تبلیغ کرنے کی دعوت دی گئی۔
15۔ بتاریخ 21؍ستمبر 1926ء، سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اس شعبہ کی مستقل حیثیت کے بجائے جمعیت میں انظمام کردیا گیا۔
16۔ 10؍ستمبر 1927ء کی خبر کے مطابق پندرہ روزہ ’’تبلیغ‘‘ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
17۔ نہرو رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے پیش کردہ متبادل فارمولا کے مطالبہ نمبر (۸) میں یہ کہا گیا کہ مذہبی تبلیغ آزاد رہے گی۔
18۔ حسب سابق 1928، 1929، 1930، 1931 اور دیگر سالوں میں تبلیغی وفود بھیجنے، مدارس، مکاتب اور مساجد قائم کرنے، نو مسلماں کی امداد جیسی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
19۔ مروجہ تبلیغی جماعت کا آغاز اس کے تقریبا تین چار سال بعد آواخر 1926ء میں ہوا۔ اس کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس نور اللہ مرقدہ ہیں۔
20۔ جمعیت نے روز اول سے جماعت تبلیغ کی تائید و تحسین کی۔ اور اکابرین جمعیت تبلیغی اجتماع میں شرکت اور خطاب فرماتے رہے۔
21۔ 2018ء میں جمعیت کے عملہ کے جماعتی تربیت کے لیے قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے مسجد عبد النبی دفتر جمعیت علمائے ہند میں جماعت والوں کو خصوصی دعوت دی۔اور جماعتی نظام قائم کرنے کے لیے کہا۔
22۔ کووڈ لاک ڈاون میں جب مودی حکومت نے جماعیتوں کو کورونا پھیلانے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا۔ تو مولانا محمود مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے 2 ؍اپریل 2020ء کو انڈیا ٹو ڈے ٹی وی پر آکر کھل کرجماعتیوں کی حمایت کی اور انھیں بے قصور بتایا۔
23۔ ان جماعتیوں کو قرنطینہ کے نام پر جیلوں میں بند کردیا گیا، ان کے ساتھ ناروا انسانی سلوک کیے گئے اور بہت سے احباب پر مقدمہ بھی قائم کردیا گیا۔ جمعیت نے ان کے سحری، افطاری کا نظم کیا۔ ان کے مقدمات لڑے، انھیں رہا کرایا اور وطن بھیجنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی۔اور کورونا لاک ڈاون جیسے سخت حالات میں انھیں تقریبا چھ مہینے تک دفتر جمعیت علمائے ہند میں قیام کرایا۔
24۔ 10؍دسمبر 2021ء کو سعودی حکومت نے باقاعدہ جمعہ کے خطبے میں جماعتیوں کو بدعتی، قبر پرست اور دہشت گرد ہونے کا خطبہ پڑھوایا، جس کے خلاف جمعیت نے اعلان حق کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت ایک پرامن اور دین کی داعی تحریک ہے، اس کے تحفظ اور دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
محمد یاسین جہازی
24؍فروری2026ء۔ مطابق 6؍رمضان المبارک 1447ھ بروز منگل۔