ہندستان کی موجودہ شرعی حیثیت؟
(گذشتہ دو سو سال کے تناظر میں)
محمد یاسین جہازی
ملک ہندستان کا
دارالحرب بن جانا مسلم ہندستان کی سیاسی تاریخ کا بہت اہم واقعہ تھا۔ لیکن ملک کی
سیاسی نوعیت بدل جانے اور دار الاسلام سے دارالحرب ہو جانے کا عمل اتنی
آہستگی سے ظہور میں آیا تھا کہ ایک صاحب نظر ہستی کو مستثنیٰ کر دینے کے بعد وقت
کا کوئی مدبر اس کی آہٹ بھی نہ سن سکا۔ اتنا ہی نہیں؛
بلکہ متعدد اہل علم نے تو حالات کے انقلاب اور ملک کی سیاسی اور قانونی حیثیت یکسر
بدل جانے کی نوعیت کو تسلیم کرنے ہی سے انکار کر دیا اور نہ صرف جنگ آزادی 1857ء
کی ناکامی کے حادثہ کے بعد بھی اس حقیقت کو نہ سمجھا؛ بلکہ فاضل مفتی مولانا احمد
رضا خان صاحب نے تو الاعلام بان الہند دارالاسلام لکھ کر آزادی کے جہاد کی حرمت کا ہی اعلان
کردیا۔
آزادی ہند کے لیے جہاد کا پہلا فتویٰ
1806ء میں دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد اگر چہ انگریزوں نے بساط سیاست پر ”شاہ
عالم “ کو ایک تاج دار کی حیثیت سے نمایاں کیا اور مملکت اور حکومت میں ایک عجیب و
غریب تقسیم کر کے یہ اعلان کیا کہ ”ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا"
اور اس بنا پر کچھ علما کو یہ خیال بھی ہوا کہ ہندستان بدستور ”دار الاسلام"
ہے، مگر وہ مستثنیٰ شخصیت جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور جس نے ملک کی سیاسی اور
قانونی حیثیت بدل جانے کا سب سے پہلے ادراک اور انقلابی اعلان کیا تھا، حکیم الہند
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ کی تھی۔ انھوں نے انیسویں صدی کی پہلی
دہائی میں جب کہ ہندستان کے تخت پر شاہ عالم ثانی رونق افروز تھے، فتوی دیا کہ
ہندستان کی سیاسی حیثیت بدل گئی ہے۔(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد اول، ص 82-83)
در اصل ملکی حالات
کے تناظر میں رہ نماؤں کے سامنے چار راستے تھے :
1۔ وقت کے تقاضے اور قوم کے سیاسی مفادات
سے اغماض برتیں اور خاموش رہیں۔
2۔ تن آساں علما کی طرح ہندستان کو بدستور
دارالاسلام قرار دیتے رہیں۔
3۔ ملک کو دارالحرب قرار دے کر ہجرت
کرجائیں۔
4۔ دارالحرب کی حیثیت کو بدلنے کے لیے ملک
کو دوبارہ دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کریں۔
ابن الوقت رہ نماؤں
نے ہمیشہ کی طرح پہلی شکل اختیار کی۔
مفاد پرستوں نے
دوسرے طریقے کو اختیار کیا، جس میں قادیانی، بریلوی اور سید احمد خاں کے نام
نمایاں ہیں۔
تیسری راہ کو اختیار
کرنا انفرادی طور پر کچھ لوگوں کے لیے، یا ایک مختصر جماعت کے لیے ممکن ہو سکتا
تھا؛ لیکن ہندستان میں پھیلے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کے لیے عملاً ممکن نہ تھا کہ
ہندستان سے ہجرت کر جائیں۔ اگر ان میں سے ایک جماعت چلی بھی جاتی، تو مسئلہ پھر
بھی اپنی جگہ پر باقی رہ جاتا اور پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں کی حالت اور بھی
ابتر ہو جاتی اور انھیں گویا کفر و طاغوت کے حوالے کر دینا ہوتا۔
چوتھا راستہ عزیمت
کاتھا، جو ہمیشہ اصحاب عزم کے لیے مخصوص رہا ہے اور یہ راستہ سب سے دشوار گزار
راستہ ہے۔
ان راہوں میں حضرت شاہ عبد العزیز نور اللہ مرقدہ نے جو راہ اختیار
فرمائی، وہ یہی چوتھا راستہ تھا۔ چنانچہ حضرت مرحوم نے 1808،یا 1809ء میں سب سے
پہلے جہاد کا فتویٰ دیا۔یہاں استفتا اور فتویٰ دونوں کا متن درج کیاجاتا ہے:
سوال: دار الاسلام
دار الحرب شود یانه؟
جواب : در کتب
معتبره اکثر همین روایت اختیار کرده که دارالاسلام دار الحرب تواند شد بشروط ثلاثه
در در المختار می نویسد لاتصير دار الاسلام دار الحرب الا بامور ثلثة باجراء الاحكام
اهل الشرك وباتصالہ بدارر الحرب وبان لا يبقى فيها مسلم او ذمی آمنا بالامان
الأول على نفسه ودار الحرب تصير دار الاسلام باجراء احكام اهل الاسلام فيها، انتهى. و در کافی می نویسد ان المراد بدار الاسلام بلاديجرى فيها حكم امام
المسلمين ويكون تحت قهره وبدار الحرب بلاديجرى فيها امر عظيمها و يكون قهره، انتهى .
دریں شهر حکم امام
المسلمین اصلا جاری نیست و حکم رؤساء نصاری بے دغدغه جاری است و مراد از اجراء
احکام کفر این است که در مقدمات ملک داری و بندوبست رعايا و اخذ خراج وباج و عشور،
اموال تجارت و سیاست قطاع الطريق و سراق، فصل خصومات و سزائے جنایات کفار بطور خود
حاکم باشند آری اگر بعضی احکام اسلام را مثل جمعه و عیدین و اذان و ذبح بقر تعرض
نه کنند نکرده باشد، لیکن اصل الاصول این چیز ها نزد ایشان ہجاوھد راست زیرا که
مساجد را بے تکلف ہدم می نمایند و ہیچ مسلمان یا ذمی بغیر استیمان ایشان دریں شهر
و نواح آن نمی تواند. آمد برای منفعت خود ازار دین و مسافرین و تجار مخالفت نمی
نمایند. اعیان ودیگر
مثل شجاع الملک و ولایتی بیگم بغیر حکم ایشاں دریں بلاد داخل نمی تواند شد وازیں
شہر تا کلکتہ عمل نصاری ممتد است. آرے در چپ و راست مثل حیدر آباد و لکھنو و رام
پور احکام خود جاری نکرده اند بسبب مصالحت و اطاعت مالکان آن ملک۔
و از روی احادیث و
تتبع سیرت صحابه کرام و خلفاء عظام همین مفهوم می شود زیرا که در عهد حضرت صدیق
اکبر ملک بنی یربوع را حکم دار الحرب دادند، با وجوديكہ مسلمانان در ان بلاد موجود
بودند و على هذا القياس در عهد خلفاء کرام همین طریق سلوک بود بلکه در عهد حضرت
پیغمبر فدک و خیبر را حکم دار الحرب فرمودند. حالانکه تجار اهل اسلام بلکه بعضی
سکنه آن جائیز در ان مکانات در وادی القریٰ مشرف باسلام بودند و فدک و خیبر را
کمال اتصال بود با مدینه منوره (فتاوی عزیزی، جلد اول، ص /16، 17)
شیخ الاسلام کی
سیاسی ڈائری جلد اول، ص/88-99)
حضرت شاہ صاحب نے
صرف ایک فتویٰ دینے پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ مختلف مسائل کے ضمن میں بار بار
ہندستان کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا۔ خطوط کے ذریعہ اپنے معتقدین و منتسبین میں
اس فتوے کو عام کیا اور ایک فکری تحریک
پیدا کی، جو ایک خاص قومی سیاسی تحریک تھی۔ علاوہ ازیں انھوں نے اپنی زندگی
میں بعض اصحاب استعداد کی تربیت فرماکر عمل و سعی کے لیے انھیں منظم کردیا اور
ہندستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے اپنے تلامذہ اور منتسبین کو ان کی مدد کےلیے
آمادہ کیا۔
آزادی ہند کے لیے جہاد کا دوسرا فتویٰ
فتویٰ جہاد شاملی کے اسباب
قاضی عنایت علی اور قاضی عبدالرحیم تھانہ بھون میں بے حد ہر دل عزیز تھے۔
ہندو اور مسلمان دونوں ہی ان سے محبت کرتے اور ان کو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔
پھر بھی قصبہ میں بعض ایسے نفوس موجود تھے، جن کو ان دونوں بھائیوں سے عناد تھا۔
ان ہی لوگوں میں قوم کا ئستھ کا ایک شخص بھی تھا، جو دفتر کلکٹری سہارن پور میں
سرشتہ داری کے عہدے پر متعین تھا۔ غالباً قاضی عنایت علی سے جائیداد کا معاملہ
تھا۔ اس کا کچھ جھگڑا عرصے سے چلا آرہا تھا۔ اپنی سابقہ ربخش اور عداوت کا بدلہ
لینے کا اسے نہایت زریں موقع ملا۔ قاضی عبدالرحیم کی سہارن پور آمد سے اس نے خاطر
خواہ فائدہ اٹھایا اور حاکم ضلع رابرٹ اسپنکی سے یہ جھوٹی شکایت کی کہ تھانہ بھون
کا رئیس عنایت علی انگریزی حکومت سے باغی ہو گیا ہے اور اس کا چھوٹا بھائی
عبدالرحیم شاہ دہلی کے باغیوں کے لیے سامان حرب خریدنے کے لیے سہارن پور آیا ہوا
ہے۔“
رابرٹ اسپنکی کو ضلع سہارن پور کی اہمیت کے پیش نظر حکومت انگلشیہ سے فوجی
اور سول دونوں کے وسیع اختیارات ملے ہوئے تھے۔ مختلف محاذوں پر فوج، اسلحہ اور رسد
بھیجنا، فوجی افسروں کا تقرر و تنزل اور ان کے لیے حکم، احکام جاری کرنا اس کے
دائرہ اختیار میں تھا۔ کچھ تو ان وسیع اختیارات کا نشہ کچھ اپنی ذمہ داریوں کا
احساس اور کچھ ان سب باتوں پر مستزاد یہ کہ شکایت ایک سرکاری ملازم کی طرف سے ہوئی
تھی، وہ بھی خاص تھانہ بھون کا باشندہ ۔ لہذا وہ ایک دم مشتعل ہو گیا اور اپنی
قومی خصوصیت ضبط و تحمل کو یکسر فراموش کر کے قاضی عبدالرحیم کو سراے سے بلوا
بھیجااور ان سے حاکمانہ انداز سے سہارن پور آنے کی وجہ دریافت کی۔ قاضی عبدالرحیم
نے جو بات تھی، بے کم و کاست بیان کر دی۔ اس نے اس بیان کی تصدیق چاہی۔ قاضی صاحب
نے کہا کہ میرے خالو شیر علی صاحب سے جو شہر میں موجود ہیں بلا کر میرے بیان کی
تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اسپنکی نے شیر علی صاحب کو طلب کر لیا۔ وہ کلکٹر کی تیز مزاجی
اور فرعونیت سے بخوبی واقف تھے، لہذا اس خوف سے کہ وہ کہیں الٹا مجھے بھی نہ پھانس
لے صاف طور پر کہہ دیا: ’’مجھے ان کے سہارن پور آنے کی وجہ قطعاً معلوم نہیں ہے۔“
یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے اس بیان میں حقیقت و صداقت ہو اور وہ واقعی اس بات
سے بے خبر ہوں ۔ لیکن اسپنکی جو پہلے سے کافی بدظن تھا ان کے اس بیان سے بھڑک اٹھا
اور اس نے مزید تحقیق و تفتیش کیے بغیر قاضی عبدالرحیم صاحب اور ان کے رفقا کو
پھانسی دے دی ۔ (جہاد شاملی)
قاضی عنایت علی اپنے بھائی عبدالرحیم کی پھانسی کی اطلاع سے ہوش و حواس کھو
بیٹھے۔ کیرانہ، شاملی اور تھانہ بھون کے علاقے میں آگ لگ گئی ۔ دیو بند، گنگوہ ،
نانوتہ وغیرہ سے لوگ تھانہ بھون پہنچے اور ایک مجلس شوری منعقد ہوئی جس کے خاص خاص
حضرات کے نام یہ ہیں: حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حافظ محمد ضامن ، مولانا مظہر
نانوتوی بانی مدرسہ مظاہر العلوم سہان پور، مولانا محمد میر نانوتوی ، مولانا محمد
قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا محمد احسن نانوتوی اور مولانا
شیخ محمد تھانوی ۔ آخر الذکر دونوں حضرات نے جہاد کے خلاف رائے دی ۔ آخر فیصلہ
جہاد کے حق میں ہوا۔ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب امیر جہاد مقرر ہوئے۔ حربی سکریٹری
مولا نا محمد منیر نانوتوی اور فصل قضایا کا عہدہ مولانا رشید احمد گنگوہی کو ملا۔
شاملی جہاد آزادی کے استفتا اور فتوی کا متن
استفتا:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ اب جو انگریز دلی پر چڑھ آئے اور
اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس صورت میں اب اس شہر والوں پر جہاد
فرض ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ فرض ہے تو فرض عین ہے یا نہیں؟ اور لوگ جو اور شہروں
اور بستیوں کے رہنے والے ہیں ان کو بھی جہاد کرنا چاہیے یا نہیں؟ بیان کرو اللہ تم
کو جزا دے.
جواب
در صورت مرقومہ فرض عین ہے۔ اوپر تمام اس شہر کے لوگوں کے اور استطاعت ضرور
ہے اس کی فرضیت کے واسطے۔ چنانچہ اب اس شہر والوں کو طاقت مقابلہ اور لڑائی کی ہے۔
یہ سبب کثرت اجتماع افواج کے اور مہیا اور موجودہ ہونے والے آلات حرب کے تو فرض
عین ہونے میں کیا شک رہا اور اطراف و حوالی کے لوگوں پر جو دور ہیں با وجود خبر کے
فرض کفایہ ہے۔ ہاں اگر اس شہر کے لوگ باہر ہوجائیں مقابلے سے یا ستی کریں اور
مقابلہ نہ کریں تو اس صورت میں ان پر بھی فرض عین ہو جائے گا اوراسی طرح اور اس
ترتیب سے سارے اہل زمین پر شرقا وغربا فرض عین ہوگا ۔ اور جو عدو اور بستیوں پر
ہجوم اور قتل اور غارت کا ارادہ کریں تو اس بستی والوں پر بھی فرض ہو جائے
گا بشرط ان کی طاقت کے۔
دستخط اور مواهیر:
1. المجيب المصيب احقر العبادنور جمال عفی عنہ.
2. العبد محمد عبد الکریم.
3. العبد فقیر سکندر علی.
4. مفتی محمد صدر الدین.
5. مفتی اکرام الدین معروف سید رحمت علی.
6. محمد ضیاء الدین.
7. سید محمد نذیر حسین.
8. رحمت الله.
9. صح هذ الجواب عبد القادر.
10. فقیر احمد سعید احمدی.
11. العبد محمد میر خاں.
12. محمد مصطفیٰ خان ولد حیدر شاه نقشبندی.
13. محمد کریم الله.
14. العبد مولوی عبد الغنی.
15. خادم العلما محمد علی.
16. فرید الدین.
17. محمد سرفراز علی.
18. سید محبوب علی جعفری.
19. حامی الدین محمد ابواحمد.
20. العبد سید احمد علی.
21. الہی بخش.
22. محمد انصار علی.
23. مولوی سعد الدین.
24. نام پڑھا نہیں جاتا.
25. سراج العلماء ضياء الفقها مفتی عدالت العالیہ محمد
رحمت علی خان.
26. حیدر علی.
27. حفیظ اللہ خاں.
28. محمد نور الحق چشتی.
29. واللہ الغنی داشم الفقرا.
30. العبد سيف الرحمن.
31. سید عبد الحمید عفا اللہ عنہ.
32. محمد ہاشم.
33. ماخظه سید محمد.
34. محمد امداد علی عفی عنہ.
35. خادم شرع شریف رسول الثقلين قاضي القضات محمد علی
حسین۔
(یہ فتوی سب سے پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا، اس سے صادق
الاخبار دہلی نے 26 / جولائی 1857ء کی اشاعت میں نقل کیا۔ (شیخ الاسلام کی سیاسی
ڈائری جلد اول ص/401)
شاملی جہاد آزادی ہند کے 5 قائدین
14 ؍ستمبر 1857ء بروز پیر شاملی کے
میدان میں انگریزوں سے دوبدو جنگ ہوئی۔تاریخ کے تفحص سے جمعیت مجاہدین کے محض پانچ
افراد کے ناموں کا پتا چل سکا ہے:
(1) قاضی عنایت علی نور اللہ مرقدہ :جو فنون حرب میں بڑے
ماہر تھے اور جن کی وجہ سے یہ مہم ہوئی تھی۔ سرسید کے بیان سے تو یہ مترشح ہوتا ہے
کہ مجاہدین کی فوج کی قیادت وہی کر رہے تھے۔
(2)حافظ ضامن علی شاہ نور اللہ مرقدہ :جو
قاضی عنایت علی کے سگے خالو تھے اور اس معرکے میں جام شہادت نوش فرمائی۔
(3) قدوۃ السالکین حضرت مولانا رشید احمد
گنگوہی نور اللہ مرقدہ سرپرست دارالعلوم دیوبند ۔
(4) حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم
نانوتوی نور اللہ مرقدہ بانی دارالعلوم دیوبند،جنھوں نے اس معرکے میں اپنی
مجاہدانہ سرگرمی کا پوری طرح اظہار کیا۔
(5) حضرت مولانا محمد منیر نانوتوی نور
اللہ مرقدہ،جو مولانا مناظر احسن گیلائی کی روایت کے بموجب حضرت حاجی امداد اللہ
صاحب نور اللہ مرقدہ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب
نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے محافظ و نگراں کی حیثیت سے ساتھ تھے۔(جہاد شاملی و
تھانہ بھون. بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری جلد اول، ص355-356)
سرسید مرحوم کا سیاسی موقف
14 ستمبر
1857ء کی جنگ شاملی اور تھانہ بھون میں شکست کے بعد علمائے حق کے ساتھ جو بہیمانہ اور
وحشیانہ سلوک کیا گیا ، جس بے دردی کے ساتھ انھیں پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا اور
جلا وطنی کی جو کرب انگیز سزائیں دی گئیں، ان کا قدرتی مقتضا یہ نکلا کہ علما کو مجبوراً
گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑنی، گویا انقلاب کی تباہ کاریوں نے مسلمانوں کو اس قدر ہیں
ڈالا کہ عمل تو در کنار سیاست کے نام سے بھی وہ لرزنے لگے۔ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری،
جلد اول، ص 355)
اسی دور
میں جناب سرسید احمد خان صاحب مسلمانوں کا ایک تعلیمی لیڈر بن کر ابھرے،ان کا مطمح نظر یہ تھا کہ مسلمان انگریزوں کی
مخالفت کرکے ہندستان میں باعزت زندگی نہیں
گذارسکتے ، اس کے لیے انگریزوں کی وفاداری اور ان کی تہذیب و ثقافت کو قبول کرنا
ضروری ہے۔
قاضی
عدیل عباسی صاحب لکھتے ہیں کہ:
لیکن سرسید
ہندستان کی سیاست پر اس وقت نمودار ہوئے جب 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمان
بری طرح کچلا گیا تھا۔ قتل، پھانسیوں اور جائدادوں کی ضبطی کا ایک لاتناہی سلسلہ تھا۔
جو عرصہ تک جاری رہا تھا۔ اور مکمل تسلط ہونے کے بعد ہی انگریز حکومت نے جونیر ملازمتوں
سے مسلمانوں کا مکمل اخراج کر دیا تھا۔ بڑی نوکریاں تو خیر ہندستانیوں کو ملتی ہی نہ
تھیں۔ سرسید ان حالات سے بے انتہا متاثر تھےاور اس کا انھوں نے کچھ زمانے کے بعد یہ
حل سوچا کہ :۔
(1) مسلمانوں کے افلاس کو دور کیا جائے۔
(2)
ملک کی آزادی کو جہاں تک ممکن ہو ٹالا جائے ۔ اور مسلمانوں کے افلاس کو دور کرنے اور
باعزت زندگی حاصل کرنے کے لیے حکومت کی مکمل وفاداری کا تمغہ حاصل کیا جائے کیوں کہ
اگر ملک آزاد ہوا تو تین چوتھائی ہندو اور ایک چوتھائی مسلمان ہوں گے تو پیس دیے جائیں
گے چنانچہ 11 - 12 جنوری 1888ء کے پانیر میں سرسید کی ایک تقریر شائع ہوئی جو انھوں
نے 28 دسمبر 1887ء کو ایک مجمع کے سامنے کی تھی جس میں تعلقد اران اور ھر حکومت کے
سول اور فوجی افسران، و کلا نمائندگان اخبارات، فضلاء اور دانشور، ہر فرقہ و خیال کے
مندوبین سنی و شیعہ علما ہندوستان اور انگلستان کے نوجوان تعلیم یافتہ موجود تھے تقریر
میں انھوں نے زور دیا تھا کہ مسلمانوں کو ہرگز کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ
اگر ہندوستان میں نمائندہ حکومت قائم ہوئی تو ان کا مستقبل تاریک ہو گا اور ان کو تباہی
و بربادی کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ اور اس سے مسلمانوں کو دائمی غلامی کے سوا اور کچھ
حاصل نہ ہوگا۔ سرسید نے اس کے تین وجوہ بلاتے تھے.
(1)
ہندو اور مسلمان دو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ فرض کیجیے
کہ انگریز اپنی فوجیں وغیرہ لے کر چلے جائیں تو کون یہاں حکومت کرے گا۔ ظاہر ہے کہ
تخت حکومت پر ہندو اور مسلمان دونوں نہیں بیٹھ سکتے کوئی ایک دوسرے کو مغلوب کرے گا۔
یہ امید کرنا کہ دونوں مساوی اختیارات رکھیں گے امر ناممکن اور ناقابل عمل تصور کی
تمنا کرنا ہے ۔
(2)
انتخابی حکومت ہندستان کے لیے غیر موزوں ہے اس لیے کہ اگر ووٹ لیے گئے تو مسلمان مسلمانوں
کو اور ہندو ہندوؤں کو ووٹ دیں گے۔ ایسی صورت میں تین چوتھائی اور ایک چوتھائی کی نسبت
ہو گی.
(3)
مسلمانوں کو انگریزی حکومت پر پورا بھروسہ کرنا چاہیے۔ وہ ان کے حقوق کا تحفظ کر سکتی
ہےاور ان کو انتظامیہ میں با اثر نمائندگی عطا کر سکتی ہے
یہ تقریر
جس عظیم الشان مجمع میں اور جس ماحول اور زمانہ میں کی گئی تھی اس کی وجہ سے اس کی
بہت اشاعت ہوئی. ہندستسان کے اخبارات میں غصہ اور نفرت ٹپکنے لگی۔ البتہ لندن ٹائمز
نے 16 جون 1888ء کی اشاعت میں اس تقریر کو ایک ہندستانی کی زبان سے یکے از بہترین مباحث
سیاسی قرار دیا۔(تحریک خلافت، قاضی محمد عدیل عباسی، ص/58)
آل انڈیا کانگریس کا قیام
قیام کا نگریس کا پس منظر :
1857ء کے مجاہدین کے متعلق ملکہ وکٹوریہ کی طر ف سے یکم نومبر ۱۸۵۸ ء کے اعلان معانی پر ہندستان میں امن اور اطمینان کی لہر
دوڑ گئی ۔ اگر چہ ایسٹ انڈیا کمپنی اس سے پہلے بہت سے اعلانوں اور معاہدوں کو توڑ چکی
تھی اور اس بنا پر اس کے کسی اعلان اور عہد نامے پر ہندستانیوں کو اعتماد نہ ہوتا تھا،
مگر چوں کہ یہ اعلان ملکہ وکٹوریہ اور ہاؤس آف کامنس ( دارالعوام ) اور ہاؤس آف لارڈس
( دار الخواص ) اور انگلستان کی مذہبی جماعتوں کی طرف سے ہوا تھا، اس پر اعتماد کیا
گیا اور بڑے درجے تک بے چینی دور ہوگئی ، چاروں طرف رعایا مطمئن ہوگئی ؛ مگر بعد کے
کچھ عرصے کے معاملات نے واضح کر دیا کہ یہ اعلان محض ہاتھی کے دانت کی طرح تھا جو محض
دکھلاوے کا کام کرتا ہے۔ تمام حکام وہی رکھے گے جن کے ہاتھ ہندستانیوں کے خون سے رنگے
ہوئے تھے ۔ اور جن کی سرشت میں درندگی اور بربریت بھری ہوئی تھی۔ اور جو کہ ہندستانیوں
کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اور مساوات گورے اور کالے کے انتہائی مخالف تھے۔
چنانچہ حکام ان کی چیرہ دستیوں کو دیکھ کر گورنروں اور وائسراے کو برابر واقعات اور
مظالم کی عرضداشتیں پیش کی گئیں ، مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی ۔ عاجز آ کر ہندستانیوں
نے ان امور کی اطلاعات پارلیمنٹ آف کامنس اور وزرا تک پہنچائیں؛ مگر وہاں سے بھی کوئی
دستگیری اور اشک شوئی نہ ہوئی، تو اضطراب اور بے چینی بڑھنے لگی ۔ چنانچہ ان بے عنوانیوں
کی شکایت حکام رس لوگوں نے وائسراے وقت لارڈ ڈفرن تک زبانی پہنچا ئیں، تو جواب یہ ملا
کہ اب تک تم لوگوں نے جو کارروائی کی وہ انفرادی ہے تم کو اپنی جماعت بنانی چاہیے اور
اجتماعی طور سے مطالبات پیش کرنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے ۔ حکومت برطانیہ کے لوگ
اجتماعی مطالبات کو وقعت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
کانگریس کا قیام:
چنانچہ دسمبر 1885ء میں مسٹر اے، او ہیوم کے ہاتھوں کانگریس کی
بنیاد رکھی گئی اور پہلا اجلاس اس کا بمبئی میں کیا گیا اور اس میں بلا تفریق مذہب
و نسل ہندستانیوں کو ممبر بنانے کا اعلان کیا گیا اور شکایات اور مطالبات کو ریزولیوشنوں
کی صورت میں تمام اہل ہند کی طرف سے پیش کیا گیا۔ اس اجلاس میں اٹھتر ممبر شریک ہوئے
جن میں دو مسلمان اور تین بنگالی اور باقی بمبئی کے باشندے ہندو اور پارسی وغیرہ تھے۔
مسلمانوں میں مشہور تاجر بمبئی سیٹھ رحمت اللہ سیانی تھے، اس اجلاس کی صدرات مسٹر سریندر
ناتھ بنرجی نے کی۔(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد اول، ص؍193-194)
کانگریس سے انگریزوں کا اندیشہ اور اس کی مخالفت:
کانگریس کی اس بڑھتی ہوئی حالت اور مقبولیت کو دیکھ کر ممکن
نہ تھا کہ مستقبد اور سیاہ دل انگریزوں کے دماغ ماؤف نہ ہوں اور سینے اور دل میں کپکپی
پیدا نہ ہو۔ مسٹر بیک پر نسپل علی گڑھ کالج اور دوسرے انگریزوں کو انتہائی بے چینی
نے گھیر لیا۔ چنانچہ انھوں نے انجمن محبان وطن ( انڈین پیر یا تک ایسوسی ایشن) کی بنیاد
ڈالی ۔ کانگریس کی مخالفت میں آرٹیکل بار بار شائع کیے۔ مختلف مقامات پر سفر کیے اور
لکچر دیے اور سرسید پر اس قدر اثر اور دباؤ ڈالا کہ وہ انتہائی درجہ کانگریس کے مخالف
ہو گئے اور مسلمانوں پر زور ڈالنے لگے کہ وہ ہرگز ہرگر کانگریس میں شرکت نہ کریں اور
انڈین پیٹر یا تک ایسوسی ایشن میں شریک ہوکر انگریزوں کی وفاداری کا ثبوت دیں۔ اس
کی شرکت مسلمانوں کے لیے فرض اور ضروری ہے اور کانگریس میں جانا مسلمانوں کے لیے سم
قاتل اور زہر ہلاہل ہے۔ چند علما کو اپنا ہم خیال بنا کر فتوی شائع کرایا جس کی رو
سے مسلمانوں کو کانگریس کی شرکت حرام قرار دے دی گئی اور پیٹر یا تک ایسوسی ایشن کی
شرکت فرض بتائی گئی۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کا فتویٰ
سرسید
صاحب کی تحریک 1888ء تک پرزور طریقے پر جاری رہی۔ اس پر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی نے فتویٰ دیا
تھا کہ سرسید کی تحریک سے تعلق رکھنا اور حکومت کی وفاداری کرنا حرام ہے۔ کوئی صاحب اس تحریک سے تعلق نہ رکھے۔استفتا اور فتوی دونوں کے
متون حوالے کے ساتھ درج ذیل ہیں
:
(سوال سوم)
ایک
جماعت قومی مسمی بہ نیشنل کانگریس، جو ہندو اور مسلمان وغیرہ سکنائے ہند کے واسطے
رفع تکالیف و جلب منافع دنیاوی چند سال سے قائم ہوئی، اور ان کا اصل اصول یہ ہے کہ
بحث انھی امور میں ہو جو کل جماعتہائے ہند پر موثر ہوں، اور ایسے امر کی بحث سے
گریز کیا جائے جو کسی ملت یا مذہب کو مضر ہو، یاخلاف سرکار ہو، تو ایسی جماعت میں
شرکت درست ہے یا نہیں؟
(سوال
چهارم)
سید
احمد خیاں نیچری نے جو ایک جماعت ایسوسی ایشن قائم کی ہے، اور لوگوں کو بذریعہ
اعلان مطبوعہ 8/ اگست 1888ء یوں ترغیب دے رہا ہے کہ میری جماعت میں بڑے بڑے ہندو
ذی وجاہت مثل راجہ بنارس وغیرہ _جو کا نگریس کے برخلاف ہیں _شامل ہیں. ہر شخص جو
داخل ہو پانچ پانچ روپے چندہ ماہانہ میرے نام علی گڑھ یا بنارس میں راجہ صاحب کے
نام روانہ کیا کرے وغیرہ وغیرہ، اور اس کی مدد کے واسطے جا بجا ایسوسی ایشنیں
انجمن اسلامیہ کے نام سے لوگوں نے شہروں میں قائم کی ہیں. جو شخص ان کے ساتھ اتفاق
کرنے سے بر خلاف معلوم ہوتا ہے اس کے ساتھ طرح طرح کا فساد اورفتنہ برپا کر کے اس
کو جبرا ملانا چاہتے ہیں، آیا ایسی جماعت میں مسلمانوں کو شامل ہونا اور ان کی مدد
کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں، اور نیچری لوگ بدخواہ اسلام ہیں یا نہیں؟
جواب:
شرکت
بیع و شرا و تجارت میں کر لیویں ، اس طرح کہ کوئی نقصان دین میں یا خلاف شرع
معاملہ کرنا اور سود اور بیع فاسد کا قصد پیش نہ آئے، جائز اور مباح ہے، مگر سید
احمد سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے، اگر چہ وہ خیر خواہی اسلام کا نام لیتا ہے ، یا
واقع میں خیر خواہ ہو ، مگر اس کی شرکت مآل کار اسلام و مسلمانوں کو سم قاتل
ہے،ایسا میٹھا زہر پلاتا ہے کہ آدمی ہرگز نہیں بچتا ، پس اس کے شریک مت ہونا اور
ہنود سے شرکت معاملہ کرلینا. اور اگر ہنود کی شرکت سے اور معاملہ سے بھی کوئی خلاف
شرع امر لازم آتا ہو، یا مسلمانوں کی ذلت و اہانت یا ترقی ہنود ہوتی ہو، وہ کام
بھی حرام ہے، جیسا کہ اوپر لکھا گیا اسی طرح ہے اور بس فقط.
(بنده
رشید احمد گنگوہی عفی عنه (نصرۃ الابرار، ص/ 13)
مسلم لیگ کاقیام انگریزوں کی ایک گھناؤنی سازش
سر سید احمد خاں صاحب نے اپنے جس نظریے کی تبلیغ کی ،
مسلم لیگ کا قیام اس کا عملی مظہر تھا، ذیل کی سطر میں اس کے قیام کےپس پردہ افراد
اور ذہنیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ایک طرف تقسیم بنگال کے اعلان کی تیاریاں ہو رہی
تھیں، تو دوسری طرف گورنمنٹ کی طرف
سے ہندستانیوں کو کونسلوں میں حقوق دینے کے سامان کیے
جا رہے تھے. "جان مارلے" وزیر ہند کی بجٹ اسپیچ کی بنا پر ہزایکس لینسی
لارڈ منٹو وائسرائے ہند نے کونسل کی توسیع کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا تھا.
وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنیل ڈنلاپ اسمیتھ نے وائسرائے کے مشورے کے مطابق
مسلمانوں کی عرض داشت کے متعلق ایک مضمون بناکر مسٹر ارچ بولڈ پرنسپل علی گڑھ کالج
کو دیا. مسٹر ارچ بولڈ نے مجوزہ مضمون کا مسودہ بناکر 6 جولائی 1906ء کو نواب محسن
الملک آں ریری سکریٹری کالج کو بھیجا۔
نواب محسن الملک نے ایک تھوڑے سے وقت میں وائسرائے سے
ملنے کے ایک وفد مرتب کیا. وفد نے یکم اکتوبر 1906ء کو ہز ہائی نس سر آغا خان کی
قیادت میں شملہ جاکر وائسرائے ہند کو وہ مسودہ پیش کیا. مسودہ میں اس بات پر زور
دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کے حقوق کا مطالبہ کیا جائے. اسی طرح یہ بھی کہا گیا تھا
کہ مسلمانوں کو ہمیشہ سے اپنے حکام کے انصاف پر بھروسہ رہا ہے اور انھوں نے حقوق
طلبی کرنے میں حکام کو پریشان کرنے سے احتراز کیا ہے. نیز کہا گیا کہ یورپ کے
نمونہ کی نیابتی جماعتیں ہندستانیوں کے لیے نئی ہیں، اس لیے ان کے اختیار کرنے ہیں
یہ خطرہ ہے کہ ہمارے قومی مفاد کی باتیں ایک ہمدرد اکثریت کے رحم پر منحصر ہو
جائیں گی.
مسلم لیگ کا قیام اور مقاصد
اس وفد کے بعد اس امر کی ضرورت ہوئی کہ مسلمانوں کی
ایک جماعت باقاعدہ قائم کی جائے، اُس کے لیے 9 نومبر 1906ء کونواب سلیم اللہ خان
بہادر نواب ڈھا کہ نے ایک تحریر جاری کی، جس میں تجویز کیا گیا کہ "مسلم آل
انڈیا کنفیڈریشن" کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی جا ئے. اُس جماعت کے
مقاصد اور مجوزہ کاموں کا خاکہ بنا کر بزرگان قوم کے سا منے پیش کیا گیا اور
مشوروں کی تکمیل کے لیے آخر د سمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں جمع ہونے کی دعوت دی گئی۔
اس کے ساتھہ آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس کو بھی سالانہ اجلاس منعقد کرنے کی دعوت
دی گئی ۔اس دعوت پر تمام ہندستان کے مسلمان لیڈروں اور قائم مقاموں کا ایسا بڑا
اجتماع ہوا کہ اس کی نظر دور جدید میں مشکل سے ملے گی۔ اس موقعہ پر 30 دسمبر 1906ء
کو نواب وقار الملک کی صدارت میں وہ سیاسی جلسہ منعقد ہوا جس میں "آل انڈیا
مسلم لیگ"قائم ہوئی اور اس کے حسب ذیل مقاصد قرار دییے گئے:
(الف ) مسلمانان ہند
کے دل میں برٹش گورنمنٹ کی نسبت وفادارانہ خیالات کو ترقی دینا اور گورنمنٹ کی کسی
کارروائی کے متعلق ان میں جو غلط فہمی پیدا ہو، اسے دور کرنا.
(ب) مسلمانان ہند کے
پولٹیکل حقوق و فوائد کی نگہداشت کرنا اور ان کی ضروریات اورخواہشات کو مودبانہ
طریقہ سے گورنمنٹ میں پیش کرنا ۔
(ج) لیگ کے دیگر
مقاصد کو نقصان پہنچائے بغیر مسلمانان ہند میں ایسے خیالات پیدا نہ ہونے دینا جو
دوسرے فرقوں کی نسبت معاندانہ ہوں.
اس جلسہ میں نواب وقار الملک سکریٹری اور نواب محسن
الملک جوائنٹ سکرٹری مقررکیے گئے.
اس جلسہ میں چار رزولیوشن پاس ہوئے، جن میں سے پہلا
قیام ومقاصد مسلم لیگ کے بارہ میں تھا ۔ دوسرا اور چوتھا قواعد بنانے کے متعلق
تھا۔ اور تیسرے ریزولوشن کا منشا
یہ تھا کہ تقسیم بنگالہ مسلمانوں کے لیے مفید ہے ۔
اور اس کے خلاف شورش اور بوائے کاٹ کی تحریکات مذموم ہیں۔
اس اجلاس کے ختم ہو تے ہی مسلم لیگ قائم ہونے کی
اطلاع بذریعہ تار گورنمنٹ کو دی گئی ۔ اور پاس شدہ رزولیوشنوں میں سے صرف تیسرے
ریزولیوشن کی نقل بھیجی گئی جو تقسیم بنگالہ کے مسلمانوں کے لیے مفید ہونے کے بارہ
میں تھا۔ اور درخواست کی گئی کہ اس کی ایک نقل وزیر ہند کو بھیجی جائے۔
مسلم لیگ کے قائم ہونے کی خبر جب انگلستان پہنچی تو
وہاں کے مشہور اخبار ٹائمز نے بقول (سر) سید رضا علی پریسیڈنٹ مسلم لیگ اجلاس
بمبئی
"اس بات پر بغلیں
بجائیں کہ مسلمانوں کی ایک مضبوط سیاسی جماعت قائم ہوجانے سے اب ہندستان میں صلح
نہ رہے گی."(خطبہ صدارت مسلم لیگ منعقدہ دسمبر 1924ء)
آخر لارڈ منٹو وائسرائے جنھوں نے مسلمانوں کے سر پڑے
ہوئے مطالبہ کو تسلیم کر کے اُسے وزیر ہند سے منظور کرانے میں ایڑی چوٹی کا زور
لگا دیا اور یہاں تک کہا کہ انگلستان سے سات ہزار میل دور ہم انگریزوں کی حفاظت
بجز فرقہ وارانہ انتخاب کے اور کس طرح ہو سکتی ہے. جب یہ مطالبہ منظور ہو گیا تو
انگلستان میں خوشیاں منائی گئیں کہ اب ہندستان میں ایک قوم نہ رہے گی؛ بلکہ دو
قومیں جو آپس میں لڑتی رہیں گی. (مسلمانوں کا روشن مستقبل،ص/360 تا370 و 624)
1930ء میں مسٹر پوڈن
ڈسٹرکٹ جج میرٹھ نے اپنے ایک خط میں یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ آیندہ ہندستان میں
انگریزوں کو ملازمتیں نہ ملیں گی اس لیے شمالی ہند اور بنگال کے دو منطقے مسلمانوں
کے لیے علیحدہ کر کے کراچی اور کلکتہ کی بندر گاہوں کو مضبوط کیا جائے اور اپنی
تجارت کو مستحکم کیا جائے۔ پھر اسی اسکیم کو اگلے سال کیمبرج کے ایک طالب علم
چودھری رحمت علی نے لے کر اس کی اشاعت و تبلیغ کی ۔ بالآخر مسٹر جناح نے اُسے
1940ء میں اختیار کیا اور اس زور کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا کہ اُس سے
مسلمانوں کا نفع سمجھا جاتا ہے۔(مسلمانوں کا روشن مستقبل. ص/623)
مسٹر
پوڈن کا خفیہ خط
1931ء میں اخبارات نے
ممالک متحدہ کے جج مسٹر پلوڈن کا ایک خط شائع کیا تھا، جو کسی مستفسر کے جواب میں لندن
بھیجا تھا۔ اور اتفاقاً سنڈے کرانکل کے ہاتھ پڑجانے سے شائع ہوگیا تھا۔ اس خط کا بجنسہٖ
ترجمہ درج ذیل ہے:
”مدت سے ہندستان کی صورت حالات قابو
سے باہر ہورہی ہے۔ ہم نیم پارلیمنٹری حکومت کا حتمی وعدہ کرچکے ہیں،جو برطانوی افسروں
کے بغیر نہیں چل سکتی۔ برطانوی افسر زیادہ عرصہ تک نہیں رہیں گے۔ سول سروس کے تمام
شعبے یہاں تک ہندستانیوں سے بھردیے گئے ہیں، یا بھرے جارہے ہیں کہ آئندہ چند سال میں
ان میں ڈھونڈنے سے بھی انگریز کا نام نہیں ملے گا۔ میں ان حالات میں ہندستان کے مسئلہ
کا ایک ہی حل دیکھتا ہوں کہ اسے ہندو اور مسلمان حصّوں میں تقسیم کردیا جائے۔ آئرلینڈ
میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کا تنازعہ ختم کرنے کے لیے35 سال کی مسلسل پارلیمنٹری جنگ
کے بعد ایسا ہی کرنا پڑا تھا، ہندوؤں نے ہمیں ہندستان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک
دیا ہے، اب ہمیں مالیہ معاف کردینا پڑا ہے تاکہ کاشت کار زندہ رہ سکیں، یہ ایک نہایت
ہی یاس انگیز صورتِ حال ہے اور اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اس تعفّن کو پھیلنے سے روکا
جائے اور قدرتی تقسیم کے مطابق ملک کے حصّے کردیے جائیں۔ اگر ہندو کاروبار تجارت نہیں
کریں گے، تو بمبئی کی جگہ کراچی شہر تجارتی بندرگاہ کا کام دے سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں
کہ مزید 25 یا30 سال کے لیے ہندستان پر ہمارا اثر و اقتدار قائم رہے۔ اب برطانوی حکومت
کے پرانے طریق کار کی طرف عود کرنا ناممکن ہے۔ ہمارے پاس اب کارکن اصحاب موجود نہیں
ہیں، اب ہم دور ماضی کو قائم نہیں کرسکتے، نیز ہم نے اپنا کام بھی کرلیا ہے۔ کیوں کہ
ہندستان میں ریلیں اور نہریں وغیرہ قائم کی ہیں۔ اب اسے ایسا طرزِ حکومت دے دو، جو
اس کے لیے موزوں اور قدرتی ہو۔ لیکن جب تک ہندستان میں ہمارا اثر و اقتدار قائم ہے،
ہمیں تحریک مقاطعہ کو پورے زور سے روکنا چاہیے۔ خوں ریزی کو روکنے اور دقیانوسی ہندو
سسٹم کا سدباب کرنے کے لیے ہمیں کراچی اور دہلی سے کام شروع کرنا چاہیے، جہاں دنیا
کی ایک بڑی مسلم طاقت قائم ہوگی، ہم خواہ کچھ کریں، یہ ہوکر رہے گا، پھر کیا وجہ ہے
کہ ہم اسے جلد از جلد معرض عمل میں نہ لائیں۔ اور اس کے ساتھ سب سے پہلے تاجرانہ تعلّقات
کیوں نہ قائم کریں۔ جب بحر قزوین اور بحیرہ روم کی طرف وسیع ملکوں کا خیال جائے تو
بڑے بڑے امکانات نظر آتے ہیں۔“ (مدینہ بجنور21/اگست 1931ء)
بعد ازاں ٹو نیشن
تھیوری پیش کرکے 22-23؍مارچ 1940ء کو قرارداد لاہور منظور کیا اور یہی تجویز بعد
میں قیام پاکستان کا سبب بنا۔ اور اس طرح انگریز اپنی سازش میں کامیاب ہوگئے۔
جنگ عظیم اول کے خاتمے کے بعد
ایک طرف 18 اگست
1917ء کو شاہی اعلان کے ذریعہ سے حکومت خود اختیاری کی توقعات دلائی گئیں؛ مگر یہی
زمانہ وہ تھا جب کہ رولٹ ایکٹ کمیٹی اپنی تحقیقات میں مصروف تھی جس نے 18 جنوری
1919 ء کو وہ مسودے شائع کیے، جن کا نام رولٹ بلز تھا، جن کے ذریعہ سے قانون تحفظ
ہند کوگویا دوام کردیا تھا اور زمانہ جنگ میں ہندستانیوں کی وفاداری کا معاوضہ
ایسے جا برا نہ قانون سے دیا گیا تھا، جس کے ذریعہ سے غلامی کی زنجیروں کو بہت
زیادہ کس دیا ۔ حکام کو مندرجہ ذیل اختیارات دیے گئے:
(1) ضمانتیں مع مچلکہ، یا بغیر مچلکہ کے طلب کرنا ۔
(2) کسی شخص کی بود و باش کو ایک جگہ میں محدود کردینا، یا اُسے حکم دینا کہ
اپنی نقل و حرکت کی اطلاع دیتے ر ہے ۔
(3) بعض افعال سے باز رہنے کا حکم دیا ۔ (مثلا اخبار نویسی، پرچےتقسیم کرنا، یا
جلوس میں شریک ہونا )
(4) اس امر کاحکم دینا کہ کوئی شخص وقتا فوقتا اپنی موجودگی کی رپورٹ
پولیس کو دیا کرے ۔
(5) گرفتار کرنا ۔
(6) وارنٹ کے ماتحت تلاشی لینا ۔
(7) بطور تعزیر حراست میں مقید رکھنا ۔
(8) جو ہندستانی دیگر ممالک میں ہیں، ان کو داخلہ ہند سے روک دینا.
علاوہ ازیں 9یا 10
مارچ 1919ء کو جلیان والا باغ امرتسر کے مجمع عام میں ہندستانیوں کو گولی سے بھون
ڈالنا، بعد ازاں پورے پنجاب میں مارشل لاء لگا دینا، انھیں حالات سے مجبور ہوکر
ہندستانیوں نے ستیہ گرہ کا پروگرام چلانے کا فیصلہ کیا؛لیکن اس وقت ستیہ گرہ کا
منشا محض رولٹ ایکٹ کا مقابلہ تھا، البتہ اس کے بعد مفکرین ہند نے ایک قدم اور آگے
بڑھایا ۔ آزادی ہند کو ایک اقتصادی تقاضا قرار دے کر ہندستان کی سیاست کو تمام
دنیا کی سیاست کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ اور ایک بعید منزل کے لیے ترک موالات اور
ستیہ گرہ کو حصول مطالبات کا پروگرام مقررکر لیا ۔(علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ
کارنامے، جلد اول، ص206)
چنانچہ 6؍ستمبر1920ء
کو جمعیت علمائے ہند نے اپنے خصوصی اجلاس منعقدہ کلکتہ میں مولانا ابوالکلام آزاد
کی تحریک پر ترک موالات کی تجویز منظور کی ۔ اور 8؍ستمبر1920ء ترک موالات کا فتویٰ دیا گیا، جس پر تقریبا پناچ سو علمائے
کرام نے دستخط کیے۔ اس فتویٰ کی رو سے مسلمانوں کے لیے جہاں وطن کو آزاد کرانا
قومی فریضہ بتایا گیا ، وہیں ان کا مذہبی نصب العین بھی قرار دیا گیا۔
اسی دور میں یہ
مسئلہ رہنمایان دین متین کے سامنے زیر بحث رہا کہ جب ہندستان کو آزاد کرانا
مسلمانوں کے لیے ایک جہاد ہے، اور جہاد ایک خالص اسلامی عبادت ہے، تو اس میں غیر
مسلموں کو شریک کرنا، یا ان کا ساتھ دینا شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟
چنانچہ فخر المحدثین
حضرت مولانا انور شاہ صاحب نے ملک ہندستان کی شرعی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے ان کا
یہ حل پیش کیا کہ ہندستان نہ تو دارالاسلام ہے کہ اس کی آزادی کے تحفظ کے لیے غیر
مسلموں سے تعاون لینے میں کوئی شرعی قباحت ہو اور نہ ہی دارالکفر ہے کہ مسلمانوں
کو اس کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ اس کی حیثیت دارالامان کی ہے، جہاں ہندو مسلم
سبھی مل کر اپنے سب سے بڑے دشمن وطن کا مقابلہ کرکے اس کی تحریک آزادی میں حصہ لے
سکتے ہیں اور اس مشترک کوشش کے نتیجے میں سبھی حصہ داران کو یکساں حقوق و مراعات
حاصل ہوں گے، جس کا نام جمہوریت ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب نے نے جمعیت علمائے ہند
کے چھٹے اجلاس عام(منعقدہ 2-3-4-5؍دسمبر1927ء ) کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطبۂ
صدارت میں ارشاد فرمایا کہ
وہ بات یہ ہے کہ مسائلِ
شرعیہ تین قسم کے ہیں: اوّل وہ جو اسلامی حکومت اور اُس کی شوکت کے ساتھ متعلق ہیں۔
دوسرے وہ جو دارالامان کے ساتھ مخصوص ہیں۔ تیسرے وہ جو دارالحرب میں جاری ہوتے ہیں۔
ہندستان کی موجودہ حالت کو دیکھنا ہے کہ وہ دارالاسلام ہے یا دارالامان، یا دارالحرب۔
جہاں تک غور و فکر اور اصولِ شرعیہ کا تعلق ہے، زیادہ سے زیادہ اس کو دارالامان کا
حکم دیا جاسکتا ہے۔ دارالاسلام کے احکام جاری ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
ہمارے شیخ المشائخ حضرت
مولانا شاہ عبدالعزیز قدس سرہ‘ محدث دہلوی نے تصریح فرمادی ہے کہ ہندستان ہرگز ہرگز
دارالاسلام نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب کا یہ خیال اور یہ فتویٰ اس وقت کا ہے جب کہ موجودہ
زمانہ کے لحاظ سے ہندستان میں اسلامیت کا رنگ بہت زیادہ گہرا تھا۔ اور شعائر اسلامیہ
کا اہتمام اور وقعت بہت اچھی حالت میں تھی،تو آج تو اس کا دارالاسلام نہ ہونا اس سے
زیادہ واضح اور روشن ہونا چاہیے۔
دارالاسلام اور دارالامان
اور دارالحرب کے احکام کی پوری تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے، مگر جو اہلِ علم اس کی تفاصیل
معلوم کرنا چاہیں وہ در منتقی کے اس باب کو ملاحظہ فرماسکتے ہیں جس میں اختلافِ دار
کے احکام کی بحث ہے۔
ہندستان کے دارالاسلام
نہ ہونے کی حالت میں ہمارا فرض ہے کہ ہم دارالامان کے احکام کتب مذہب میں تلاش کریں
اور ان احکام کی روشنی میں ہندستانی مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دیں۔ اگرچہ میں
اس مختصر خطبہ میں دارالامان کے تمام احکام پر روشنی نہیں ڈال سکتا، تاہم یہ بھی ضروری
ہے کہ کچھ نہ کچھ اشارات ضرور کردوں اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ میں آپ کو سیّد الاولین
والآخرین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس معاہدے کی بعض دفعات کی
طرف توجہ دلاؤں جو حضور انور نے ابتدائے زمانہ ہجرت میں باہم مسلمانوں اور مدینہ کے
ساتھ کیا تھا۔ ان دفعات کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مسلمان دارالامان یا
دارالحرب میں غیر مسلم اقوام کے ساتھ کس قسم کا معاہدہ کرسکتے ہیں۔‘‘
جمہوریت کے لیے جدوجہد
چنانچہ جمعیت علمائے
ہند کے جھنڈے تلے علمائے حق علمائے ہند نے ہندستان کو دارالامان قرار دے کر
3-4-5-6؍مئی 1930ء کو منعقد اپنے نویں اجلاس عام میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل
کیا اور مل کر غلام ہندستان کی سیاسی حیثیت کو بدلنے کے لیے جمہوریت کے نفاذ کی
شرط کے ساتھ جدوجہد کا آغاز کیا۔
چنانچہ 15؍اگست1947ء
کو ہندستان آزاد ہوا، تو ہرچندکہ مسلمانوں کے ایک طبقہ کے مطالبے پر اسلامی تصور
وطن کی تشریح کے نتیجے میں پاکستان کے نام سے ایک الگ حصہ دے دیاگیا، لیکن جمعیت
علمائے ہند کی قربانیوں اور شرط کے پیش نظر ہندستان میں ایک مشترکہ حکومت بنی، جس
میں سبھی کے حقوق و اختیارات کے یکساں تحفظ کا حلف لیا گیا تھا۔
اس وقت جب کہ ہم یہ
تحریر لکھ رہے ہیں یعنی دسمبر1924ء کو ملک کی سیاسی حالات کیا ہیں، وہ سب کے
سامنے ہیں کہ 2014ء کے بعد سے مرکزمیں بی
جے پی کی حکومت آنے کی وجہ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے سامنے جو مسائل پیدا
کیے جارہے ہیں اور بہت حد تک کیے جاچکے ہیں، مآب لنچگ، مساجد پر بالجبر قبضہ،
معاشی بائیکاٹ کی دھمکی،ہر شعبوں میں مسلمانوں کے امتیازات وغیرہ وغیرہ ایسے مسائل
ہیں، جن سے یہ کہنا کہ ہندستان میں اب بھی جمہوریت بچی ہے، بڑی حد تک حقائق کو
جھٹلانا ہے۔
ایسے حالات میں ہم
رہنمایان ملت اسلامیان ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ جس طرح حضرت شاہ عبدالعزیز نور
اللہ مرقدہ نے گو برائے نام ہی سہی ، مسلم بادشاہ ہونے کے باوجود ہندستان کو
دارالحرب قرار دے کر اس کی حیثیت کوبدلنے کے لیے جہاد کا فتویٰ دیا تھا، اب جب کہ
اکابر کی قربانیوں سے حاصل شدہ جمہوریت پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے ، تو مسلمانوں کی
رہ نمائی فرمائیں کہ شرعی اعتبار سے
ہندستان کی کیا حیثیت ہوگی اور اس کے لیے کس طرح کے جہد و عمل کی راہ اختیار کرنی
پڑے گی؟