بھارت کی قسطوں کی آئینی
آزادی
آئینی آزادی
کی پہلی قسط
محمد یاسین جہازی قاسمی
9891737350
26/جنوری بھارت میں دستور ہند کے نفاذ العمل کی
تاریخ ہونے کی وجہ سے بطور جشن جمہوریہ منایا جاتا ہے۔ انگریزوں کی طرف سے ہمیں
قسطوں میں آئینی آزادی دی گئی ہے۔ اس کی پہلی قسط اس وقت دی گئی جب کہ ہندستان میں
گورنر جنرل کی کونسل سب سے اول 1854ء میں بنائی گئی؛ مگر اس میں کوئی غیر سرکاری
ممبر نہ تھا۔ غالباً ہنگامہ 1857ء کے اثرات سے 1861ء میں آئینی اصلاحات کا پہلا
قانون پاس ہوا، جس کی رو سے تین ہندستانی بذریعہ نام زدگی مقرر کیے گئے، ان میں سے
ایک ممبر گوالیار کے مشہور وزیر سر ڈنکر راؤ تھے ۔(مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص/254)
آئینی
اصلاحات کی دوسری قسط
جناب سرسید احمد صاحب، ان کے متعبین اور انجمن محبان وطن (The United Indian Patriotic Association )کی طرف سے چلائی جارہی انگریزوں
کی وفاداری کی تحریک جیسے رجعت پسند گروہ کی مخالفتوں کے باوجود کانگریس کے اثرات بڑھ رہے تھے۔ چنانچہ مسٹر بیک
کی مرتب کردہ عرض داشت کے باوجو د ہندستانی کو نسلوں کا قانون 1892ء میں پاس ہوا،
جس کی رو سے میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈوں ، یونی ورسٹیوں اور تجارتی جماعتوں سے صوبہ
کی کونسلوں میں ممبر لیے جانے لگے۔ ممبروں کو کونسلوں میں سوالات کرنے اور بجٹ پر
بحث کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ اگرچہ ضمنی سوالات کرنے اور رزولیوشن پیش کرنے کے
اختیارات نہ دیے گئے تھے۔ اصلاحات کی یہ دوسری قسط اکتیس سال کے بعد دی
گئی۔(مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص/300(
آئینی
اصلاحات کی تیسری قسط
بعد ازاں ہندستانی کو
نسلوں کا قانون اصلاحات کی تیسری قسط 1909 ء میں پاس ہوا۔اصلاحات کی یہ تیسری قسط
سترہ سال بعد دی گئی۔ اس کی رو سے جدید کو نسلوں میں پہلی بار ہندستانیوں کا تقرر
بذریعہ انتخاب منظور کیا گیا۔ اسی قانون کی رو سے مسلمانوں کے جدا گانہ انتخاب کا
مسئلہ طے ہوا، جس کی مخالفت لارڈ مارلے وزیر ہند نے کی تھی اور یہ تجویز کیا تھا
کہ مسلمانوں کو معین نشستوں کے ساتھ مخلوط انتخاب دیا جائے؛ مگر گورنمنٹ ہند نے
جدا گانہ انتخاب کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر اسی کو پاس کرا دیا ۔ اور اس طرح
ہندومسلمانوں میں مستقل جدائی پیدا کر کے عرصہ دراز کے لیے ملک میں اختلاف اور
انتشار پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
اس قانون کی رو سے
مرکزی اور صوبہ جاتی کونسلوں کے ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اور انھیں
مزید سوالات کرنے اور رزو لیوشن پیش کرنے کے اختیارات دیے گئے ۔ صوبوں کی کونسلوں
میں غیر سرکاری ممبروں کی اکثریت کر دی گئی۔ چند سال بعد سکریٹری آف اسٹیٹ کی
کونسل میں ایک ہندستانی ممبر مقرر کیا گیا۔ نیز وائسرائے کی ایگزکٹو کونسل میں ایک
ہندستانی ممبر مقرر کیاگیا ۔( مسلمانوں کا روشن مستقبل،ص/369-370)
ان اصلاحات کی رو سے
قانون ساز کونسلوں کے ارکان کی تعداد میں قدرے اضافہ کردیا گیا۔ گورنر جنرل کی
کونسل کے ارکان کی تعداد بڑھادی گئی۔ لیکن کونسلوں میں سرکاری اکثریت برقرار رکھی
گئی مرکزی قانون ساز کونسل میں سرکاری ارکان کی تعداد سینتیس(37) اور غیر سرکاری
ارکان کی تعداد تئیس (23) مقرر کی کئی۔سینتیس سرکاری ارکان میں سے اٹھائیس(28) کو
گورنرنے نام زد کرنا تھا اور باقی بلحاظ عہدہ مقرر کیے جانے تھے۔ تئیس غیر سرکاری
ارکان میں سے پانچ کو گورنر جنرل نے منتخب کرنا تھا اور باقی ارکان کاانتخاب ہونا
قرار پایا۔ یہ تھا؛ حکومت ہند کا قانون مجریہ 1009ء۔(کاروان احرار ،جلد دوم، ص/511)
آئینی اصلاحات کی چوتھی
قسط
1919 ء ہی وہ سال تھا، جس میں آئینی اصلاحات کی چو تھی
قسط گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کی شکل میں شائع ہوئی، جو مانٹیگو چیمس فورڈ
رپورٹ سے بھی زیادہ مایوس کن تھی ۔ اس سے ناراض ہوکر لبرل جماعت کے نمائندے مسٹر
سر بندرو ناتھ بنرجی کی سرکردگی میں اور ہوم رول لیگ کی نمائندہ مسٹر اینی بسنٹ کی
سرکردگی میں انگلستان گئے اور وہاں مسٹر مانٹیگو کی امداد سے ایکٹ مذکور میں اپنے
حسب منشا ترمیمات کرائیں اور مطمئن ہو کر ہندستان واپس آگئے؛مگر کانگریس کے لوگ
اُس سے بدستور ناراض رہے۔ اسی سے لبرل فیڈریشن اور کانگریس میں مستقل طور پر جدائی
ہو گئی ۔ آئینی اصلاحات کی یہ قسط دس سال کے وقفہ سے ملی اور اُس کی رو سے صوبوں
کی حکومت ہندستانی وزیروں کے سپرد کی گئی اگر چہ مالیات کا صیغہ گورنر کے ہاتھ میں
بدستور رہا۔ ممبروں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی گئی ؛تاہم جو کچھ ملا وہ ہندستانیوں
کی توقعات سے کم تھا ۔( مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص/398-399)
1909ء کی اصلاحات سے ہندستان کے عوام مطمئن نہیں
تھے،لہذا پہلی جنگ عظیم کےبعد برطانیہ نے ہندستان پر ایک اور احسان کیا اور مرکزی
اسمبلی میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کی جگہ دو ایوانی مقننہ قائم کی گی، ایوان بالا
کا نام کونسل آف اسٹیٹ اور ایوان زیریں کا نام سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی رکھا گیا۔
کو نسل آف اسٹیٹ ایک سو
پینتالیں (145)ارکان پرمشتمل تھی۔ اس میں ایک سو تین(103) ارکان منتخب کیے جاتے
تھے۔ باقی بیالیس(42) ارکان گورنر جزل نام زدکرتا تھا ، ایک سوتین ارکان کی تقسیم
اس طرح تھی: عمومی حلقہ ہائے انتخاب سے اکیاون(51)۔مسلمان بیس(20)۔سکھ دو(2)۔ خاص
حلقہ ہائے انتخاب سے :بیس (20)ارکان ، ان کی تقسیم اس طرح تھی: زمین دار:سات (7)۔یورپین:نو(9)
۔ ایوان تجارت: چار(4)۔
نام زد
ارکان میں پچیس(25) سرکاری اور باقی غیر سرکاری۔(کاروان احرار ،جلد دوم، ص/511)
آئینی
اصلاحات کی پانچویں قسط
ظاہر ہے کہ انگریز کا
یہ قانون بھی ہندستان کے لیے مفید نہیں تھا۔ چنانچہ /13 اپریل 1919ء کا حادثہ جلیا
نوالہ باغ بھی اسی بے چینی کا نتیجہ تھا، تحریک خلافت بھی یہیں سے آگے بڑھی اور
ترک موالات کے ہنگامے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔
آخر برطانیہ نے سرجان
سائمن کی صدارت میں ایک کمیشن قائم کیا، جو 1928ء میں ہندستان آیا ۔ اس کمیشن میں
ہندستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا، جس میں بطور ناراضگی جمعیت علمائے ہند، کانگریس اور مسلم لیگ نے اس
کمیشن کا بائیکاٹ کیا ۔ اس کے باوجود کمیشن نے ہندستان کا دورہ کیا اور اپنی رپورٹ
برطانوی پاریمنٹ کے سامنے پیش کردی۔
مارچ 1933ء میں حکومت
نے ایک قرطاس ابیض شائع کیا، جس پر ہندستان کے سیاسی رہنماؤں نے تنقید کی۔ جمعیت
علمائے ہند نے بھی مکمل آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی واضح ضمانت نہ ہونے
کی وجہ سے مسترد کردیا۔ برطانوی حکومت نے ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے 5 /فروری
1935ء کو ایک مسودہ بل تیار کر کے پارلیمنٹ میں پیش کیا، جسے 2/ اگست 1935ء کو
منظور کرلیا گیا۔ یہی وہ قانون ہے، جوایکٹ 1935 ء کو لایا اور یکم اپریل 1937ء کو
اس کا نفاذ ہندستان میں ہوگیا۔
(کاروان
احرار ،جلد دوم، ص/511۔ مصنف: جاں باز مرزا)
اور آخر کار ایکٹ 1935ء
کی شکل میں آئینی اصلاحات کی پانچویں قسط ظہور پذیر ہوئی۔ (مسلمانوں کا روشن
مستقبل، ص/456)
اس ایکٹ کے مطابق کونسل آف
اسٹیٹ کے ممبروں کی تعداد بڑھا کر 260 کردیا گیا، جن میں سے 156 ممبروں کا انتخاب
برطانوی حکومت ہند کے زیر تصرف علاقوں سے اور 104 ممبران دیگرریاستوں سے چنے جاتے
تھے۔ اس ایکٹ کا ایک فائدہ یہ تھا کہ اس میں حکومتی اختیارات کو مرکز اور ریاستوں
کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا، گرچہ گورنر جنرلوں کو حاصل بے پناہ اختیارات کی وجہ
سے اس کی افادیت نہ کے برابر تھی۔
چوں کہ اس میں بھی مکمل
آزادی کا مطالبہ نہ منظورکیا گیاتھا، اس لیےجمعیت علمائےہند نے اسے مسترد کردیا
اور کامل آزادی کے نصب العین پر قائم رہی؛تاہم ایکٹ سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے
انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کے ساتھ شراکت کی اور مسلم لیگ
کواکثریت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
آئینی اصلاحات کی چھٹی
اور آخری قسط اور بھارتیوں کا اپنا دستور
پھر 1947ء میں ماؤنٹ بیٹن
بھارت کا آخری وائسرائے بن کر آیا۔ پہلے انھوں نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور کرنے
کے لیے کہا؛ لیکن جب مسلم لیگ، جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے درمیان متحدہ
قومیت، اکھنڈ بھارت اور مطالبہ پاکستان کے مختلف و متضاد نظریات نے ماؤنٹ بیٹن کو
کوئی متفقہ فیصلہ کرنے سے قاصر رکھا، تو بیٹن نے تقسیم ہند کے مطالبہ کو منظور
کرتے ہوئے ، آئینی اصلاحات کی چھٹی اورآخری قسط اور بھارتیوں کا اپنا دستور
14/ اگست 1947 ء کو پاکستان اور 15/ اگست 1947ء کو
بھارت نے مکمل طور پر آزادی حاصل کرنے کے بعد، کچھ دنوں تک انگریزوں کا بنایا ہوا انڈیا
ایکٹ 1935ء کے مطابق ہی ملک کا نظام چلتا رہا، لیکن جلد ہی اس وقت کے عظیم قومی رہنماؤں
اور لیڈران نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر بابا صاحب کی قیادت میں ایک دستور ساز کمیٹی
بنائی۔ 9/ دسمبر 1946ء سے کام کا آغاز ہوا۔
دستور ساز اسمبلی نے دو سال، 11 مہینے اور 18 دن میں آئین مرتب کیا۔ 26/ نومبر
1949ء کو دستور ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد کو آئین کی کاپی دستیاب کرائی
گئی۔ 284/ ممبروں نے 24/ جنوری 1950ء کو آئین کی دستاویزات پر دستخط کیے۔ 26/ جنوری
1950ء کو ملکی دستور کا نفاذ عمل میں آیا۔ اس طرح ہمارا ملک 26/ جنوری 1950ء کو ایک
جمہوری اور ڈیموکریٹک اسٹیٹ بنا۔ (نوٹ: اصل آئین کے پریمبل میں ”سیکولر“ کا لفظ شامل
نہیں تھا؛ یہ 1976ء میں بیالیسویں ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیاہے)
یہ آئین دنیا کا طویل ترین تحریری
دستور ہے، جو بھارت کو ایک خودمختار، جمہوری جمہوریہ قرار دیتا ہے۔ اس کی تیاری میں
مختلف کمیٹیاں شامل تھیں۔
دستور نافذ ہونے کے وقت، دستور ساز اسمبلی ہی پروویژنل پارلیمنٹ کے طور پر کام
کرتی رہی۔ اس کے 389/ ارکان تھے، جو تقسیم کے بعد 299/ رہ گئے تھے،اس لیے 1950ء میں
ایم پی کے طور پر کام کرنے والے ارکان کی تعداد 299 /تھی۔ بھارت کا پہلا عام انتخاب
بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر 1950ء میں ہوا، جس کا سلسلہ جاری ہے۔