26 Jan 2026

کارروائی رپورٹ مفتی اعظم ہند سیمینار

 کارروائی رپورٹ مفتی اعظم ہند سیمینار

محمد یاسین جہازی

مفتی اعظم ہند حضر ت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب بانی و صدر جمعیت علمائے ہندکی حیات و خدمات پر مشتمل دو روزہ( 21-22؍نومبر2025ء)سیمینارکی پہلی نشست 21؍نومبر2025ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب مدنی ہال واقع مرکزی دفتر جمعیت علمائے ہند میں، حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب دامت برکاتہم مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کی صدارت میں شروع ہوئی۔ حضرت مولانا محمد حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے نظامت فرماتے ہوئے تلاوت کے لیے قاری فاروق صاحب امام مسجد عبدالنبی آئی ٹی او اور حمد و نعت کے لیے قاری محمد اقرار بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند کو مدعو کیا۔ 

خطبہ افتتاحیہ

ان دونوں رسمی کارروائیوںکے بعد حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے مطبوعہ خطبہ افتتاحیہ پیش فرمایا۔جس کامکمل متن درج ذیل ہے:

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین محمد والہ واصحابہ اجمعین اما بعد!

فدا کاران جمعیت علمائے ہندو دانش وران ملت !

میں بارگاہ رب العزت میں نذرانہ تشکر و امتنان پیش کرتا ہوں کہ اس ذات کریم و رحیم نے محض اپنی فضل و کرم سے اس ناچیز خادم جمعیت علمائے ہند کو اپنے مخلص معاونین کے عملی وفکری اور تحریری تعاون سے جمعیت علمائے ہند کے پہلے صدر اور اس کے روح رواں مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کی حیات و خدمات پر اس سیمینار کے باوقار انعقاد کی توفیق ارزانی بخشی، فللہ الحمد و الشکر۔

حضرات گرامی !

یہ عام رواج اور ضابطہ سا بن گیا ہے کہ جب کسی تنظیم و جماعت کے قیام پر پچیس، پچاس، یا سو سال پورے ہوجاتے ہیں، تو وہ احساس تشکر و اظہار تفاخر کے طور پر جشن صد سالہ مناتی ہے، جب مسلمانان ہند کی سب سے مقبول و فعال تنظیم جمعیت علمائے ہند کی تاسیس پر2019ء میں ایک مکمل صدی بخیر و عافیت پوری ہوئی ۔ یادر ہے کہ یہ وہ جماعت ہے، جس کا ہر دن ملک وقوم کی خدمت اور سر بلندی کے لیے وقف رہا اور اپنے قیام کے دن سے لے کر آج تک بغیر کسی انقطاع کے جمعیت علمائے ہند نے ملک و قوم خاص کر ملت اسلامیہ کے حقوق کے لیے سر بکف رہی۔بلا تفریق مذہب وذات سب کے مسائل حل کرانے میں سرگرم رہی اور قوم وملت نے جمعیت علمائے ہند پر کامل اعتماد کرتے ہوئے اس ملی و دینی اور اصلاحی تنظیم کو محکم کرنے میں تعاون پیش کیا، تو ہم جمعیت علمائے ہند کے رضا کاران نے ’’صدی تقریبات‘‘ منانے کا فیصلہ کیا، لیکن سوال یہ تھا کہ کس انداز میں منایا جائے، کسی بڑے عظیم الشان اجلاس عام کے ذریعہ، یا مختلف پروگراموں کی شکل میں اس کے یادگار نقوش چھوڑے جائیں۔

معزز شرکائے سیمینار !

کئی متبادل تھے، جس پر عمل کیا جا سکتا تھا؛ لیکن جمعیت علمائے ہند کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے ہمارے مرحوم فاضل دوست مولانا معز الدین احمد گونڈوی نے یہ لائق تحسین نظریہ پیش کیا کہ جمعیت علمائے ہند کے بلند کردار و بے لوث قائدین اور جماعت کی نابغہ روز گار عظیم المرتبت شخصیات کے مثالی کارناموں سے ملت اسلامیۂ ہند کو باخبر کرایا جائے اور ان کے احوال وسوانح کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے، جنھوں نے تحریک آزادی سے لے کر تمام دینی و ملی مسائل میں ہر سطح پر ملت اسلامیۂ ہندیہ کے لیے خدمات سر انجام دینے ، آزاد ہند میں دین مبین کی حفاظت کرنے اور امت مسلمہ کو ملکی سطح پر انتشار و اضطراب سے نکالنے میں قائدانہ رول ادا کیا، اور اس راہ میں ہر طرح کی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔ یہ فکر اور نظریہ سب کو پسند آیا اور با ہم غور و تدبر اور رائے و مشورے کے بعد اسے عملی شکل دی گئی کہ اسلامیان ہند کی موجودہ پیڑھی اور نسل کے سامنے ان برگزیدہ و نابغہ روزگار شخصیات اور مردم گرو تاریخ ساز کابر کی حیات و خدمات کو مدلل اور مفصل انداز میں پیش کیا جائے، جنھوں نے جمعیت علمائے ہند کی1919ء میں طرح ڈالی تھی ، یا بعد میں اس قافلہ میں شامل ہوئے اور اس کے لیے تن من دھن سب قربان کر دیا۔ یہ ان کا حق ہے کہ ان کے کارناموں اور خدمات کو آج کی نسل نو کے سامنے پیش کیا جائے کہ ان کے اکابر کیسے تھے اور انھوں نے ہمارے لیے کیا کچھ کیا ، اور ان سرفروشان ملت کی حیات و خدمات کو اجاگر کرنا اور ان کے تاریخی کردار کو محفوظ کرنا ہی سب سے بڑا جشن ہے۔

جمعیت علمائے ہند کا قیام در حقیقت ایک انقلابی قدم تھا جو انقلاب 1857ء کے اولو العزم علما، مجاہدین کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی منظم کوشش تھی اور جس کے لیے مئی 1866ء میں دارالعلوم دیو بند کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ دارالعلوم دیو بند کے اولین طالب علم شیخ الہند مولا نا محمود حسن دیو بندی سے زیادہ دارالعلوم دیو بند کے قیام کے اغراض و مقاصد کو کون بتا سکتا ہے، حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’حضرت الاستاذ حجۃ الاسلام مولا نا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس مدرسہ کو کیا درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کے لیے قائم کیا تھا؟ مدرسہ میرے سامنے قائم ہوا، جہاں تک میں جانتا ہوں 1857ء کے ہنگامے کی ناکامی کے بعد یہ ارادہ کیا گیا کہ کوئی ایسا مرکز قائم کیا جائے، جس کے زیر اثر لوگوں کو تیار کیا جائے، تا کہ1857ء کی ناکامی کی تلافی کی جائے۔‘‘

دانش وران قوم و ملت !

بانیان دارالعلوم دیوبند انگریزوں کے ناپاک قبضہ سے وطن عزیز کو آزاد کرانے کی حربی و تحریکی سرگرمیوں کے پس پردہ یہ چاہتے تھے کہ غلامی کی ذلت سے باشندگان وطن کو نجات ملے ، اس لیے کہ آزادی ہر فرد کا تخلیقی حق ہے۔ دوسری وجہ مسلمانوں کے دینی وملی تشخص کی بقا کے ساتھ ان کے ایمان و عقیدے کی حفاظت تھی کہ جس وسیع پیمانے پر غاصب انگریزوں نے علمائے اسلام اور مجاہدین حریت کا قتل عام کرایا تھا، قید و بند اور سولی و پھانسی دی گئی تھی ، ملت اسلامیہ کا ایمان و عقیدہ ہی نہیں ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ اپنے اساتذہ اور بانیان دارالعلوم کے مشن کو اولیت نظر کیمیا اثر نے ان کے سیکڑوں تلامذہ میں عبقریت کی شان پیدا کر دی، اس میں بہتوں نے اپنے استاذ کے مشن کی تکمیل کو اپنے مقاصد حیات میں شامل کر لیا، اس میں سر فہرست مولانا عبید اللہ سندھیؒ تھے، جنھوں نے چوتھائی صدی جلا وطنی کی زندگی گزار دی۔ اسی میں سے ایک اہم شخصیت مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب شاہ جہاں پوری ثم دہلویؒ کی ہے، جن کے علم و عمل، تفقہ و تبحر ، سیاست و تدبر اور معتدل مزاجی کے گواہ ہر طبقہ و جماعت کے لوگ ہیں، انھوں نے اپنے استاد و مربی کے مشن کی تکمیل میں درس و تدریس کے ساتھ میدان سیاست میں بھی قدم رکھا اور قائدین وقت کے ہم دوش رہے اور سب نے ان کی غیر معمولی سوجھ بوجھ اور عبقریت کو تسلیم کیا ، ان کی اور علمائے وقت کی مساعی سے نومبر1919 ء میں جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا، اور حضرت مفتی اعظم جمعیت علمائے ہند کے پہلے عارضی صدر منتخب ہوئے اور انھوں نے اس جماعت کے استحکام کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں اور جمعیت کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔اس سیمینار کی مناسبت سے ان کے رشحات قلم شائع ہو رہے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت کیسی عہد ساز اور خدمات کتنی ہمہ گیر ہیں۔یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ ان ہمہ جہت شخصیت، دینی و سیاسی فکری و اصلاحی ہر اعتبار سے مرجع عام و خاص تھی۔ ان کے تعارف میں حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرماتے ہیں:

’’حضرت مولانا المفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ الہند مولا نا محمود حسن صاحب قدس سرہ کے مخصوص تلامذہ میں تھے۔ اگرچہ ہزاروں علما نے حضرت شیخ الہند قدس سرہ العزیز سے علوم عقلیہ کا استفادہ کیا؛ مگر قدرت کی فیاضیوں نے جو خاص جامعیت اور سابقیت مفتی صاحب مرحوم کو عطا فرمائی تھی، وہ بہت کم کو نصیب ہو تی ہے۔ مفتی صاحب مرحوم ابتدا ہی سے نہایت ذکی، سمجھ دار، مستقل مزاج، عالی حوصلہ، معاملہ فہم واقع ہوئے تھے۔ آپ کو علوم عقلیہ و نقلیہ سے طبعی مناسبت تھی۔ تقریرو تحریر کے میدانوں میں آپ ہمیشہ پیش پیش رہے اور دوسروں کے مقابلے میں بازی لے گئے۔ اخلاق فاضلہ میں خداوند عالم نے کمال عطا فرمایا تھا۔ دریائے سیاست کے بہترین شناور تھے۔ تدبر و تفکر کے انمول موتیوں سے آپ کا دامن بھرا رہتا تھا۔ ہر معاملے کی گہرائی اور آخری تہہ تک پہنچنا آپ کی ذکاوت کا شاہ کار رہا ہے۔ جس طرح آپ بلند پایہ مفتی ، وسیع النظر عالم ، دوراندیش، زیرک اور دقیقہ رس سیاست دان تھے، ایسے ہی آپ بہترین مدرس اور استاد بھی تھے۔ دقیق و غامض مضامین سمجھانے کا بہترین ملکہ خداوند عالم نے آپ کو عطا فرمایا تھا۔‘‘

( مفتی اعظم نمبر الجمعیۃ 2000)

اور ان کے استاذ ومربی حضرت شیخ الہند نے فرمایا تھا کہ:

’’ جماعت کو مولانا کفایت اللہ اور مولانا حبیب الرحمان عثمانی کو کبھی نہیں چھوڑ نا چاہیے۔ ‘‘

اور یہ بھی فرمایا تھا کہ:

’’ تم لوگ سیاست داں ہو اور کفایت اللہ کا دماغ سیاست ساز ہے ۔‘‘ (الجمعیۃ، مفتی اعظم نمبر، ص؍36)

حضرات گرامی قدر !

آج سے آٹھ سال قبل جمعیت علمائے ہند کی صدی تقریبات کی مناسبت سے جس انوکھے اور نادر سلسلہ کا خواب ہماری آنکھوں نے دیکھا تھا، اس کی خوب صورت ، روشن اور مفید و کامیاب تعبیر یہ سیمینا ر ہے، جو ہمارے سامنے ہے۔

یہ امر واقعہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی وہ شخصیات -جو علمی، ادبی اور تحقیقی کمالات، نیز جنگ آزادی کی راہ میں مجاہدانہ اور قائدانہ کردار کی زریں تاریخ رکھنے کے باوجود نئی نسلوں کی دنیا میں گمنام، یا کم متعارف تھیں، سیمیناروں کے اس سلسلے نے انھیں حیات نو بخشی ہے اور نئے انداز واسلوب میں ان کو جدید نسل سے روشناس اور متعارف کرایا ہے۔

حضرت مفتی اعظم کی جو شان عبقریت تھی، اس کے پیش نظر ہم نے حضرت مفتی اعظم حیات و خدمات پر یہ سیمینار مسک الختام کے طور پر سب سے آخر میں رکھا ہے۔ اب تک سات عظیم المرتبت قائدین و مجاہدین پر سیمینار منعقد کیا جا چکا ہے۔ سب سے پہلا سیمینار حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد اور حضرت مولانا محمد میاں صاحب دیوبندی پر 15-16؍ دسمبر 2018 ء کو دہلی میں منعقد ہوا ، جس کے کنویز بالترتیب مولانا مفتی اختر امام عادل اور مولانا ضیاء الحق خیر آبادی تھے۔یہ دونوں حضرات پوری محنت اور خلوص سے اس میں لگے اور اسے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اور اس کے مجموعۂ مقالات بھی تین ماہ کی قلیل مدت میں منظر عام پر آگئے۔ دوسرا سیمینار محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمان الاعظمی پر 24؍ فروری 2019 ء کو بنارس میں ہوا۔ اس کے کنو نیز مولانا ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی تھے۔ تیسرا سیمینار سحبان الہند احمد سعید دہلوی و مولانا عبدالباری فرنگی محلی پر 21-22؍ دسمبر2019 ء کو دہلی میں ہوا، جس کے کنوینر بالترتیب مولانا ڈاکٹر عبد الملک قاسمی اور مولانا عمران اللہ غازی آبادی تھے۔ چوتھا سیمینار 22-23؍ دسمبر2022 ء کونئی دہلی میں منعقد ہوا ، جومولانا سید فخر الدین احمد مراد آبادی اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی علیہما الرحمہ پر تھا، اس کے کنوینر مولانا ضیاء الحق خیر آبادی اور مولانا مفتی محمد عفان منصور پوری تھے۔ حضرت مجاہد ملت کے علاوہ سبھی سیمینار کے مجموعہ مقالات منظر عام پر آچکے ہیں۔

الحمد للہ ان نفوس قدسیہ کی حیات و خدمات پر ہر پہلو سے لکھنے والوں نے مقالات لکھ کر ان کے کارناموں کی دستاویز تیار کر دی، جو بفضلہ تعالیٰ کتابی شکل میں محفوظ کر لی گئیں، جو کسی بھی اسکالر کے لیے مرجع بن سکتی ہیں۔ان برگزیدہ ، بلند پایہ شخصیات کے تذکروں اور ان کے تاریخی کارناموں کے بغیر جمعیت علمائے ہند کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ۔ آج اگر جمعیت علمائے ہند اسلامیان ہند کی سب سے منظم و محکم اور مقبول دینی وملی اور اصلاحی تنظیم ہے، جس کے ممبران کی تعداد کئی کروڑ ہے اور جس کی خدمات کے سینکڑوں روشن ابواب ہیں، تو انھیں خاصان خدا اور رہنمایان ملت اسلامیہ کی قربانیوں، جاںفشانیوں اور قیادتوں کے صدقۂ طفیل میں انھیں کی برکات کا ثمرہ ہے کہ ہم خدام جمعیت علمائے ہند بھی کچھ ملک وملت کے تئیں کرنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔

حضرات دانش وران ملت !

بڑی ناسپاسی ہوگی اگر میں ان محققین ،مصنفین حضرات کی بارگاہ علم و ادب میں ارمغان تہنیت و امتنان نہ پیش کروں، جنھوں نے ہمارے اس سیمینا ر کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بھرپور دل چسپی کے ساتھ تعاون فرمایا اور اپنی نگارشات و مقالات علم و تحقیق کے اصولوں پر رقم فرما کر ان تمام شخصیات پر آئندہ نسلوں کے لیے مستند و معتبر مراجع و مصادر تیار کر دیے ہیں۔ اللہ ہی ان قلمی وفکری معاونین کو اس کا بدل عطا کر سکتا ہے، ہم سے جو کچھ ممکن ہو سکا، قدردانی میں کوتاہی نہیں کی۔ پھر بھی اگر کچھ کمیاں بشری تقاضوں کے تحت جمعیت کے کارکنوں اور خدام سے ہوئی ہو، تو نظر انداز فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

اس کے ساتھ میں بطور خاص اس سیمینار کے کنوینرملک کے مایۂ ناز قلم کا رو تذکرہ نویس مولانا ضیاء الحق خیر آبادی کی بے لوث خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا شکریہ نہ ادا کروں جنھوں نے ہماری درخواست پر اس سلسلہ کے آخری سیمینار کے انعقاد کی ساری ذمہ داریاں بحیثیت جوائنٹ کنو ینر قبول فرمائیں اور اس کے لیے اپنی تمام تر ممکنہ توانائیاں صرف کر دیں۔ یہ سیمینار تو کئی سال قبل ہو جانا چاہیے تھا؛ لیکن کچھ تو حالات کی سنگینی اور کچھ دیگر ضروری مصروفیات کے تحت اپنے مقررہ وقت سے کافی مؤخر ہو گیا، لیکن اس تاخیر سے ایک بڑا خیر یہ وجود میں آیا کہ مولانا ضیاء الحق خیر آبادی نے حضرت مفتی اعظم کے پوتے ڈاکٹر محمد قاسم دہلوی سے رابطہ کر کے ان کا وہ مجموعہ مضامین و مقالات حاصل کر لیا، جسے مفتی صاحب کے بڑے صاحب زادے مولانا مفتی حفیظ الرحمان واصفؔ نے آج سے تقریبا پچاس سال قبل مرتب کیا تھا ، یہ مجموعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس میں حضرت مفتی صاحب کے مضامین و مقالات اور ان کے وہ تاریخی خطوط و تا ر ہیں، جو انھوں نے بحیثیت صدر جمعیت علمائے ہند وائسرائے ہند اور ملک کی دیگر اہم شخصیات کو لکھے تھے۔ اس میں ان کے بعض اسفار کی روداد اور بہت سی اہم شخصیات کے انتقال پر لکھے گئے مضامین بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ان کے عربی اشعار کا مجموعہ’’ روض الریاحین‘‘ بھی حاصل کر لیا، اس میں فارسی واردو کے بھی اشعار شامل ہیں۔ اس موقع پر اسے شائع کرتے ہوئے ہمیں قلبی مسرت ہو رہی ہے۔

 ہم اپنے ان تمام بزرگوں، کرم فرماؤں اور مقالہ نگاروں کی خدمت میں ہدیۂ تشکر پیش کرتے ہیں، جنھوں نے ہماری دعوت کو قبول کر کے پروگرام میں شرکت کی اور اس کو وقار عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق تمام حضرات کو بدلہ عنایت فرمائیں۔

آمین، یا رب العالمین ،وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

سیمینار کا تعارف

بعد ازاں حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری صاحب استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے سیمینار کا تعارف پیش فرماتے ہوئے درج ذیل خطاب کیا:

علمائے کرام اور دانش وران قوم ملت!جمعیت علمائے ہند اپنی ایک عظیم تاریخ رکھتی ہے اور اس تاریخ کو روشن بنانے میں ہماری اکابر کی خدمات شامل ہیں۔ ان کا تذکرہ ہم سب کے لیے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت سی باتیں، جو ہمارے ذہنوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں، مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے، یا توجہ نہ دینے کی وجہ سے، اس طرح کی مجلسوں سے ان کی یاد دہانی ہوتی ہے اور ان روشن نقوش کو اپنا کر آگے کا سفر طے کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے اسی غرض سے سیمیناروں کا سلسلہ شروع کیا اور سب سے پہلے جو عظیم الشان تاریخی سیمینار منعقد ہوا، وہ حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد صاحب مدنی نور اللہ مرقدہ کی حیات میں 1986ء میں شیخ الہند سیمینار ہوا تھا۔ آپ میں سے بھی بہت سے حضرات اس میں شریک ہوئے ہوںگے تال کٹورا اسٹیڈیم میں، اپنی الگ شان کا سیمینار تھا اور حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب اعظمی استاد حدیث دارالعلوم دیوبند رحمۃ اللہ علیہ اس کے کنوینر تھے۔ اور بعد میں اس کے مقالات شائع ہوئے بڑے قیمتی اور اہم مقالات ہیں۔ اس کے بعد پھر دوسرا سیمینار شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی نور اللہ مرقدہ کی حیات و خدمات پر ہوا، یہ سن 1988ء کی بات ہے اور اس کے کنوینرجناب ڈاکٹر رشید الوحیدی صاحب تھے۔ اس میں بھی بڑے قیمتی مقالات لکھے گئے اور وہ شائع ہوئے۔الحمدللہ وہ مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد سن 2007ء میں حضرت فدائے ملت رحمۃ اللہ علیہ پر ایک پروگرام میں منعقد ہوا دو روزہ، جس میں ملک اور بیرون ملک کی اہم شخصیات نے شرکت کی اور اس کے مضامین بھی بہت ذخیم مجموعہ کی شکل میں شائع ہوگئے۔ اس کے بعد سن 2019ء میں جب جمعیت کے قیام کو سو سال پورے ہوئے، تو یہ بات سامنے آئی کہ ہمیں صد سالہ جشن منانا چاہیے اور اس بارے میں کئی آرا سامنے آئی: اجلاس کیا جائے، کوئی نمائش لگائی جائے اور چیزیں شائع کی جائیں؛ لیکن ہمارے بعض احباب نے اور بالخصوص جناب مولانا معز الدین مرحوم نے یہ مشورہ دیا کہ ہمیں اپنے ان اکابر کو یاد کرنا چاہیے، جنھوں نے اپنے خون جگر سے اس جماعت کو سینچا ہے اور جن کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ،مگر نئی نسل ان سے زیادہ واقف نہیں ہے، تو اگر ہم اس مناسبت سے سیمینار کے پروگرام کریںگے، تو ان شاء اللہ اس کا فائدہ ہوگا۔ مفتی اعظم مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر یہ سیمینار منعقد ہو رہا ہے۔ حضرت مفتی صاحب کی ذات ایک عظیم ستون کی حیثیت رکھتی ہے جمعیت علمائے ہند کے لیے، جیسا کہ ابھی آپ نے سنا، جن کی فراست کے بارے میں ان کے استاد اور مربی یہاں تک فرمائیں کہ ان کا دماغ سیاست ساز تھا، تو اس سے بڑی گواہی اور کیا ہو سکتی ہے اور خود حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کا جو ان کے ساتھ ربط اور تعلق اور اعتماد تھا ، وہ قابل ذکر ہے۔

مقالات کی خواندگی

بعد ازاں مولانا مفتی ریاست علی قاسمی امروہہ نے مولانا مفتی کفایت اللہ شاہ جہاں پوری، ثم دہلوی کے عنوان سے اپنے مقالہ کا کچھ حصہ پڑھا۔ اور وقت ختم ہونے کی وجہ سے دوران میں موقوف کردیا۔

 بعدازاں نظامت کی ذمہ داری مولانا ضیاء الحق خیرآبادی نے نبھائی اور علی الترتیب مقالہ نگاروں نے اپنے اپنے مقالے پیش کیے:

مولانا مفتی محمد طاہر مدرسہ امدادیہ مراد آباد: سرز مین شاہجہاں پور کا روشن مینار۔

مولانا مفتی محمد اکرام اللہ شاہ جہاںپوری: مفتی اعظم اپنے وطن مالوف شاہ جہاں پور میں۔( یہ سیمینار میں موجود نہیں تھے)

مولا نا محمد کلیم اللہ مدرسہ شاہی مراد آباد: حضرت مفتی اعظم اور مدرسہ شاہی۔

مولانا مفتی محمد اجمل قاسمی مدرسہ شاہی مراد آباد: باطل عقائد و محرف افکار کے احتساب میں مفتی اعظم کا منہج۔

مولانا مفتی سعید الظفر قاسمی رام پور: مکاتیب حضرت مفتی اعظم :تلاش و تدوین۔

مولانا مفتی محمد ابراہیم مراد نگر مراد آباد: حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کا فقہی مقام۔

مولانا محمد اللہ خلیلی دار العلوم دیوبند: حضرت مفتی اعظم کا زمانۂ اسارت۔

مہمان خصوصی کا خطاب

مقالہ خواندگی کی تکمیل کے بعد حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے مہمان خصوصی حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب امیر الہند خامس و صدر جمعیت علمائے ہند کو خطاب کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ:

عم محترم حضرت سیّد ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم صبح ہی سے دہلی تشریف لائے ہوئے ہیں، اور دوپہر تک بھی آرام کا موقع نہیں ملا۔ پھر یہاں سے سفر کرکے دیوبند تشریف لے جانا ہے، جہاں صبح درس بھی دینا ہے۔ ایسی مصروفیت کے باوجود ہم نے حضرت سے گزارش کی کہ مختصر وقت کے لیے ہماری مجلس میں تشریف آوری فرمائیں، تو حضرت نے قبول فرمایا۔ ہم سب خدامِ جمعیت حضرت کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔اب حضرت صدر سے درخواست ہے کہ چند کلمات سے اس مجلس کو منوّر فرمائیں۔

حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب کا خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم، والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین سیدِنا و مولانا محمد، وعلی آلہ و صحبہ أجمعین۔

صدرِمحترم، میرے عزیز مولوی محمود صاحب، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم، معزز علمائے کرام اور تمام حاضرین!

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں میں کچھ زیادہ نہیں جانتا، اس لیے کہ ان کا انتقال حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں ہوا اور میں اس وقت چھوٹا تھا۔ مگر میں نے حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے خود ان کا ذکر بارہا سنا ہے۔

حضرت فرمایا کرتے تھے:اگرچہ شاید یہ بات کسی کتاب میں نہ ملے کہ مجھے اور حضرت مفتی صاحب دونوں کو ایک ہی کتاب حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی تھی۔ غالباً معقولات کی کوئی کتاب تھی۔(سامعین کی طرف سے کسی نے کہا کہ میر زاہد رسالہ، حضرت نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ رسالہ میر زاہد ہو) امتحان کا پرچہ بھی حضرت شیخ الہندؒ نے ہی بنایا تھا۔ میں نے جواب میں صرف دو صفحے لکھے، اور حضرت مفتی صاحب نے صرف بارہ سطریں لکھیں، مگر حضرت شیخ الہندؒ نے دونوں کو برابر نمبر عطا فرمائے۔

حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مفتی صاحب کی خصوصیت یہ تھی کہ بڑے بڑے مضامین کو چند جامع جملوں میں اس طرح سمو دیتے کہ دوسروں کو گفتگو کا موقع ہی نہیں رہتا تھا۔

جمعیت علما کی تحریک کے زمانے میں، اجلاسِ عاملہ اور دیگر مجالس میں بڑی علمی گفتگوئیں ہوتی تھیں۔ کوئی لفظ ’’بدل دو‘‘، کوئی ’’یوں کردو‘‘ اور سب حضرات اپنی آراپیش کرتے رہتے، مگر حضرت مفتی صاحب خاموش بیٹھے رہتے۔ جب آخر میں تجویز لکھنے کا وقت آتا، تو یہ کام انھی کا تھا۔ حضرت گوشۂ مجلس میں بیٹھ کر تجویز لکھتے اور ہر جملے کے فوائد واضح فرماتے۔ اس انداز میں کہ پھر کوئی اس پر کلام ہی نہ کرسکتا تھا۔ یہ حضرت مفتی صاحب کا کمال تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج ان کے تلامذہ جہاں کہیں بھی نمایاں ہیں، وہ دراصل حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کی جھلک ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ میں علم منتقل کرنے کی جو صلاحیت تھی، وہ ان کے علاوہ کسی اور میں اس درجے میں نہ تھی۔

آپ ان کے شاگردوں کی فہرست دیکھ لیجیے،جنھیں مجددِ دین، مجددِ ملت کہا جاتا ہے، وہ سب انھی کے تلامذہ ہیں۔ صرف متداول علوم نہیں؛ بلکہ وہ علوم بھی جن کا رواج نہیں رہا تھا، ان کے ماہر حضرت انور شاہ کشمیریؒ تھے، جو خود فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں ایسے افراد بھی ہیں جو ستر (70) علوم میں مہارت رکھتے ہیںاور یہ اشارہ اپنی طرف فرماتے تھے۔

حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ الہندؒ کے وہ شاگرد ہیں، جنھوں نے علم کے ساتھ ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کی روح بھی انھی کی خدمت سے حاصل کی۔

مفتی صاحب کی طبیعت خود دار طبیعت تھی۔ مردآباد محلہ کسرول میں جہاں مفتی صاحب رہا کرتے تھے، وہاں میں نے بارہا نماز پڑھی ہے۔ لکھنوی ٹوپی میں نقش و نگار کیا کرتے تھے اور اس کو فروخت کیا کرتے تھے۔ 

آج علما میں خود داری نہیں ہے، خود میرے اندر نہیں ہے، تو میں علما کو کیا کہوں۔

مفتی صاحب کا اپنے شاگردوں سے بہت گہرا تعلق تھا۔ حضرت شیخ الہند نے رہائی کے بعد عملی جدوجہد کے لیے جمعیت علمائے ہند کو پلیٹ فارم بنایا، جس کی بنیاد حضرت مفتی اعظم ہند نے رکھی۔ پہلے حضرت کو عارضی صدر بنایا گیا۔ بعد ازاں حضرت شیخ الہند کو مستقل صدر بنایا گیا۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت مفتی اعظم ہند کو دوبارہ مستقل صدر بنایا گیا۔

میں نے حضرت شیخ الہندؒ کی صاحب زادی- جنھیں ہم ’’پھوپھی اماں‘‘ کہتے تھے- سے براہ راست یہ بات سنی کہ جب آپ اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ جیل سے واپس آئے، تو ہماری والدہ نے کہا کہ ’’چار سال کیسے گزرے؟‘‘ حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا: ’’میری کوئی اولاد نرینہ نہیں، اگر ہوتی، تو بھی میری اتنی خدمت نہ کرتی، جتنی خدمت مولانا حسین احمد نے کی ہے۔‘‘

حضرت کے گھر پر خطوط لکھنے آتے تھے، خدمت گزاری کرتے تھے۔ پھر جب انھوں نے خواہش کی کہ ان کے سر پر ہاتھ پھیریں، تو حضرت نے اجازت نہ دی، مگر آخرکار یوں فرمایا:ایک ترکیب کرتا ہوں۔پھر حضرت مولانا مدنیؒ کے اوپر چادر ڈال دی اور فرمایا:چادر کے اوپر سے ان کے سر کو چوم لو۔

میں کہتا ہوں کہ ہر شاگرد کو جو کچھ ملا ہے، وہ استاد کی خدمت سے ملا ہے۔

آج لوگ کہتے ہیں کہ ’’افراد پیدا نہیں ہوتے‘‘، ’’قوم بانجھ ہوگئی‘‘۔ میں کہتا ہوں کہ افراد اس لیے پیدا نہیں ہورہے کہ انھیں بنانے والے باقی نہیں رہے۔ ہمتیں توڑ دی گئیں، حوصلے پست کر دیے گئے۔ آج دنیا میں نیویارک کا مئیر ایک مسلمان بن سکتا ہے ممدانی، لندن کا مئیر مسلمان ہوسکتا ہے، مگر ہمارے ملک میں کوئی مسلمان کسی یونی ورسٹی کا وائس چانسلر بنے، تو اس کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے،جس طرح آج اعظم خان اور اقبال کی  اولاد جیل میں ڈال دی گئی ہے۔ الفلاح کا کیا حال ہے۔حکومت کی پوری کوشش ہے کہ مسلمان سر نہ اٹھا سکے۔

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جو مقام ملا، وہ حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک کے امین ہونے کی بنیاد پر تھا۔ جب یہ بات مشہور ہوئی کہ مالٹا سے رہائی کا امکان ہے، تو حضرت شیخ الہندؒ نے پوچھا کہ ’’اب دوڑنے کے لیے پلیٹ فارم کہاں ہے؟‘‘اور جمعیت علماکی بنیاد امرتسر میں رکھی۔

حضرت مفتی اعظم اس کے پہلے عارضی صدر تھے، اور حضرت شیخ الہندؒ کی آمد کے بعد مستقل صدر بنائے گئے۔ مگر چند روز بعد ان کا انتقال ہوگیا، اور پھر جمعیت کے افراد نے حضرت مفتی اعظم کو مستقل صدر منتخب کیا۔

آخر میں میری گفتگو جذبات میں کچھ آگے بڑھ گئی، جو شاید اس موقع کے مناسب نہ ہو، مگر میں یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مفتی صاحب جو کچھ تھے، وہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کے مختلف پہلو تھے۔کسی نے ایک جہت کو اختیار کیا، کسی نے دوسری کو، اور سب دنیا کے لیے خیر و برکت کا باعث بنے۔

آج پیار و محبت کی دولت ختم ہوتی جارہی ہے، اس لیے کہ ایسے افراد پیدا نہیں ہو رہے، جن کا سرمایۂ دل عشق و اخلاص ہو۔ اللہ تعالیٰ اس ملک میں دوبارہ پیار و محبت کی وہ فضا قائم فرمائے، جو صدیوں یہاں کی پہچان رہی ہے۔

آخر میں میں آپ سب حضرات سے، مولانا محمود اور مفتی سلمان سے بھی معذرت چاہتا ہوں اگر میری کوئی بات موقع کے مناسب نہ ہو۔اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو قبول فرمائے اور خیر و برکت عطا فرمائے۔

مقالہ کی خواندگی کا دوبارہ آغاز

اس کے بعد دوبارہ مقالہ کے خواندگی کا سلسلہ شروع کیا گیا اور درج ذیل حضرات نے مقالے کے اختصارو اقتباس پڑھ کر سنائے:

مولا نا عمران اللہ غازی آبادی دارالعلوم دیو بند: حضرت مفتی اعظم اور دارالعلوم دیوبند۔

مولانا فیصل احمد بھٹکلی دار العلوم ندوہ لکھنو: مفتی کفایت اللہ دہلوی کے غیر مطبوعہ فتاوی ، ایک جائزہ۔

مولانا مفتی ابو جندل قاسمی: حضرت مفتی اعظم کے ذاتی کمالات و اوصاف۔

حافظ محمود ضیا خیر آبادی مدرسہ منبع العلوم خیر آباد: حضرت مفتی اعظم کی حجاز و مصر کی کانفرنسوں میں شرکت۔

مولا نا مفتی اشتیاق احمد در بھنگوی دارالعلوم دیوبند:حضرت مفتی اعظم بحیثیت مصنف اور تصانیف کا تعارف۔

حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب کا خطاب

اس مقالے کے بعد حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند صدر نشست اول نے خطاب فرمایا، جودرج ذیل ہے: 

نحمدہٗ و نصلّی علیٰ رسولہٖ الکریم، اما بعد! 

محترم علمائے کرام، بزرگانِ ملت! حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی حیات اور ان کی خدمات کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ ہمیں ان اسباق کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے: ؎

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

 گاہے گاہے باز خواں قصۂ پارینہ را

ہمیں ان کیفیات، حالات اور خدمات کے اندر تقریباً سو سالہ ملک کی تاریخ بھی مل رہی ہے کہ ہمارا ملک کن حالات سے گزرا ہے، اور ان حالات میں ہمارے اکابر اور علمانے ملت کی خدمات کے لیے کیا کیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہر چیز میں ہمیں اپنے لیے نمونہ تلاش کرنا چاہیے، خواہ اس کا تعلق حضرت مفتی صاحب اور دیگر اکابر-جن کے اوپر سیمینار ہوئے ہیں-کی ذاتی حالات اور ذاتی اخلاق سے ہو، یا ان کی خدمات سے اس کا تعلق ہو۔

پھر یہ کہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں کون سے عوامل کارفرما تھے؟ کس راستے سے گزر کر وہ بلندی کے اس مقام تک پہنچے؟ اور انھوں نے اپنی ملت کی خدمت کے لیے کیا کیا طریق کار اختیار کیا؟ ان سب کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے لیے بھی طریقہ چننا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں ان کو استعمال کرنا چاہیے۔

دو طرح کی چیزیں ہوتی ہیں: کچھ وہبی ہیں، کچھ کسبی۔ جو وہبی چیزیں ہیں، وہ تو آدمی کے اختیار سے باہر ہیں؛ اس کے لیے اللہ سے دعا ہی مانگی جا سکتی ہے۔ لیکن جو کسبی ہیں اور جن کے اندر انسان کی محنت اور اس کی جدوجہد کا حصہ ہوتا ہے، انھیں سن کر اپنے اندر بھی عمل کی تحریک پیدا ہونی چاہیے۔

آپ نے حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو حالات سنے ہیں، جن میں خاص طور سے اپنے اساتذہ کرام اور خصوصاً حضرت شیخ الہندرحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ان کا والہانہ تعلق، ان کی خدمت، اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی میں تواضع، لوگوں کے ساتھ شفقت و محبت کا معاملہ، ایثار کا معاملہ، اور خدمت کا جذبہ؛یہ سب چیزیں اختیاری ہیں؛ انھیں اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔

تواضع اور خاکساری یہ ہے کہ جب آدمی کسی بلند مقام پر پہنچ جاتا ہے، اگر اس نے اپنے اندر تواضع نہیں پیدا کی، اپنی انکساری پیدا نہیں کی، اور اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہو گیا، تو وہ ساری بلندی پستی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہمارے بڑوں کے جو حالات ہمارے سامنے آتے ہیں-شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ-ان سب کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر ان کے مقام و مرتبہ میں بلندی اور بڑائی آتی گئی، اسی قدر ان کے اندر تواضع میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں ان کے علمی سفر کی جو داستان ہمارے سامنے آئی ہے، تو تین چیزوں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مقام و مرتبہ کیا تھا: اساتذہ، ساتھی اور تلامذہ۔

جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے، تو سر فہرست شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اور اس کے علاوہ بھی کئی اساتذہ کے نام مختصر سوانحی خاکہ میں موجود ہیں۔ اس کے بعد جب ساتھیوں میں دیکھتے ہیں، تو حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری، حضرت مفتی شفیع احمد صاحب، حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے بھائی؛یہ حضرات حضرت مفتی صاحب کے ساتھیوں میں ہیں۔

تلامذہ کی فہرست میں ہمیں حضرت مفتی مہدی حسن صاحب شاہ جہاںپوری، حضرت مولانا اعزاز علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، شیخ الحدیث داررالعلوم دیوبند، اور ان کے علاوہ دیگر بڑے بڑے اساتذہ کرام-جو اپنے وقت کے نام ور علما میں تھے-یہ سب ملتے ہیں۔ تو ظاہر بات ہے کہ جس کے اوپر، جس کے برابر، اور جس کے نیچے ہر طرف اکابر شخصیات ہوں، اسی سے ان کے مقام کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

آج کے مقالات میں ہمارے جن بزرگوں اور ساتھیوں نے جن جن جہتوں پر گفتگو کی ہے، ان شاء اللہ یہ ساری چیزیں ہمارے سامنے آئیںگی، تاریخ بنے گی، اور انھیں مطالعہ میں رکھ کر ہمیں اپنے لیے بھی روشنی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ نے جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، ان سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔

جو حالات اس وقت ہماری ملت پر چل رہے ہیں،انگریزوں کے تسلط کے بعد بھی ہندستان کے مسلمانوں پر سیاسی اعتبار سے اس سے کم مصیبتیں نہیں آئیں۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ آج ہمارے ایمان، دین، مدارس اور مساجد کے اوپر مصیبتیں آئی ہوئی ہیں، لیکن مجموعی طور پر حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک گزرچکے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے بزرگوں نے کیا حکمتِ عملی اختیار کی تھی؟ ہمیں ان سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

استقبال

کلمات صدارت کے بعد حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب مائک پر تشریف لائے اور درج ذیل مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ:

جمعیت علمائے نیپال کے صدر محترم مولانا ڈاکٹر خالد صدیقی ندوی صاحب دامت برکاتہم کا استقبال کرتے ہیں، یہ نیپال سے تشریف لائے ہیں، اور ہمارے دوست ہیں۔ مفتی رضوی صاحب، یہ جمعیت علمائے سری لنکا کے صدر محترم ہیں، ان کا بھی ہم استقبال کرتے ہیں۔ اپنے سفر کا روٹ چینج کر کے تشریف لائے، چھوٹی سی درخواست پر۔

نشست دوم

بعد ازاں مولانا ضیاء الحق خیرآبادی نے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے دوسری نشست کا آغاز کیا۔ اس نشست کی صدارت حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کے حفیدرشید مولانا انیس الرحمان صاحب دہلی مہتمم مدرسہ امینیہ دہلی نے فرمائی جب کہ  حضرت مولانا عتیق احمد صاحب بستوی، استاد دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو مہمانِ خصوصی رہے۔ 

 مقالہ کے خواندگی کا سلسلہ شروع ہوا اور درج ذیل حضرات نے اپنے اپنے مقالے پیش کیے:

مولانا اظہار الحق صاحب قاسمی، استاد دارالعلوم وقف: حضرت مفتی اعظم اپنے معاصر و اقران، ممتاز تلامذہ اور مشاہیر کی نظر میں۔

مولانا امداد اللہ مئوی جامعہ مفتاح العلوم مئو:کفایت المغتذی تقریر ترمذی: ایک تعارف: یہ بیماری کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے۔ 

مولانا عظیم الرحمان قاسمی غازی پوری: حضرت مفتی اعظم اور علم حدیث۔انھوں نے ایک دوسرا مقالہ بھی لکھا، جس کا عنوان ہے: مفتی اعظم ہند کا فتویٰ الحاد و زندقہ پر، لیکن حساس موضوع ہونے کی وجہ سے یہاں پڑھوایا نہیں گیا۔انھوں نے صرف پہلے مقالے کا خلاصہ پیش کیا۔

مولانا انوار احمدخیر آبادی جامعہ اسلامیہ مظفر پور:انھوں نے بھی دو مقالے لکھے:  عبدیت، استقامت، تفقہ اور سیاست و تدبر کا عظیم شاہ کار۔ کفایت المفتی کے منتخب فتاوں کا انتخاب۔ طوالت کی وجہ سے پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

مولانا ڈاکٹر یعقوب صاحب قاسمی : مفتی اعظم صاحب کی عربی شاعری۔ خود تشریف نہیں لائے، نمائندہ کو بھیجا، لیکن قلت وقت کی وجہ سے معذرت پیش کی گئی۔

مفتی محمد اسامہ عظیم شاہ جہاں پوری: حضرت مفتی اعظم ، فرقہ باطلہ کے مقابلے میں۔

مولانا انیس الرحمان صاحب کا خطاب

اس کے بعد اس نشست کے صدر مولانا انیس صاحب نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ:

الحمدللہ وکفیٰ، والسلام علیٰ عبادہ۔

جناب منتظمین، مولانا محمود مدنی اور علمائے کرام!

سب سے پہلے تو میں اس بات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے مجھ کو یہاں بولنے کے لیے بلایا۔ کیوںکہ یہ سیمینار مفتی کفایت اللہ صاحب کے بارے میں ہے، اس لیے مفتی کفایت  اللہ صاحب سے متعلق دو چیزیں بہت اہم ہیں:ایک تو جمعیت علمائے ہند اور دوسرے مدرسہ امینیہ کشمیری گیٹ دہلی۔ اور ان دونوں کا تعلق اتنا زیادہ ہے کہ ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

1919ء میں جب حضرت مفتی اعظم نے جمعیت علما قائم کرنے کے لیے علما سے مشورے کیے اور علما کو بلایا، تو ان کے دست راست مولانا احمد سعید دہلوی تھے۔ ان دونوں حضرات نے کوششیں کر کے، علما سے ملاقاتیں کر کر کے، خط و کتابت کر کرکے اور مختلف مسالک اور مختلف پہلوؤں کے لوگوں کو آمادہ کیا۔ جو ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔

اس سلسلے میں جو سب سے پہلا کام ہوا، وہ یہ ہے کہ مدرسہ امینیہ میں اس کا دفتر قائم ہوا۔ مولانا احمد سعید فرماتے ہیں کہ ہم لوگ خود ہی سارے کام کرتے تھے۔

بہرحال! میں اس وقت یہاں جو آیا ہوں، بہت ہی مجبوری میں؛ کیوں کہ میں بیمار ہوں، میں آ نہیں سکتا تھا، مجبوری سے آیا۔ لیکن مفتی صاحب کے نام کی وجہ سے مجھے یہاں آنا پڑا۔ مجھے نہ بولنے کی عادت ہے، نہ میں اتنا زیادہ بولنا چاہتا ہوں، صرف ایک معمولی سی تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں۔

چوں کہ مفتی صاحب سے بہت بڑے فقہیہ تھے اور جمعیت کے پاس ایک سب سے بڑا فقیہِ اعظم موجود ہے، اس لیے جمعیت علما نے جو ایک ادارہ قائم کیا ہے ’’دارۃ المباحث الفقہیہ‘‘، میری رائے اور میری تجویز یہ ہے کہ اس کا نام ’’ادارۃ الکفایۃ للمباحث الفقہیہ‘‘ کیا جائے۔ یہ میری ایک ناچیز رائے ہے۔میں اس کے بعد اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ شکریہ۔

مفتی محمد ابراہیم رضوی کا خطاب

مولانا مفتی محمد ابراہیم سری لنکا مہمان خصوصی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ مولانا نے خطاب میں فرمایا کہ:

الحمدللہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔

قال اللہ تعالیٰ:وَمَن یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَانَّھَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ۔

میرے عزیز علمائے کرام!

میں حقیقتاً اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ آپ حضرات کے سامنے یہ کلمات عرض کروں۔ یہ سب حضرت مولانا سید محمود اسد مدنی حفظہ اللہ کی محبت کا اثر ہے۔ پرسوں جب انھوں نے مجھے اس اجلاس کی دعوت دی، تو میرا سفر طے شدہ تھا، لیکن چوں کہ میری کم سنی ہی سے حضرت مفتی کفایت اللہؒ کا نام بار بار سنتا اور پڑھتا آیا ہوں، اس لیے ان کے نام کی نسبت نے مجھے تڑپا کر یہاں آنے پر مجبور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے فیوض و برکات ہم سب کو عطا فرمائے۔

حضرات!جب مجھے جمعیت کی امانت 2004 ء میں سپرد کی گئی، ٹھیک اسی وقت سری لنکا میں خوف ناک سونامی آیا، جس میں تقریباً پینتیس ہزار افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سترہ ہزار مسلمان تھے۔ اس سخت گھڑی میں محترم محمود مدنی صاحب بنفسِ نفیس وہاں پہنچے، اور انھوں نے ایسی ہمت اور حوصلہ دیا کہ دل کھل گیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ بعض لوگ دلوں کو قریب کرتے ہیں اور بعض انھیں دور دھکیل دیتے ہیں، لیکن انھوں نے واقعی ہمارے حوصلوں کو مضبوط کیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے اس موقع پر جو خدمت ہمارے ہاتھوں سے ہوئی، وہ دراصل ایک طویل روحانی چلّا تھا:سترہ ہزار جنازوں کی تدفین کا چلّا۔

میرے محترم علمائے کرام!

میں چند مختصر گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت مفتی کفایت اللہؒ کے بارے میں ہمیشہ اپنے اکابر سے سنتا آیا ہوں کہ حضرت شاہ محمد الیاسؒ مدرسہ امینیہ میں بار بار تشریف لے جاتے کہ کسی طرح حضرت مفتی کفایت اللہؒ ان کی محنت کو قبول فرما لیں اور طلبہ کو اللہ کے راستے میں نکالنے کا دروازہ کھول دیں۔ پہلے وہ راضی نہ ہوئے، لیکن دوسری مرتبہ جب حضرت الیاسؒ نے اپنی بات رکھی، تو حضرت نے فرمایا: وقت کہتا ہے، تو حق ہے، مگر کرنے والا کون ہوگا؟اس پر حضرت الیاسؒ نے وہ تاریخی جملہ کہا:اگر پوری دنیا مجھے نہ کہہ دے، تب بھی میں یہ کام کرتا رہوں گا۔

اسی اخلاص کے نتیجے میں اللہ نے ایک طرف ہمارے مدارس اور دارالعلوم کو برکت دی، دوسری طرف جمعیت کی خدمات کو قبولیت ملی، تیسری طرف خانقاہیں آباد ہوئیں، اور چوتھی طرف تبلیغ کی محنت پوری دنیا میں پھیل گئی۔

حضرت مفتی محمد شفیعؒ ایک واقعہ میں بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت انورشاہ کشمیری کے پاس گئے۔ تہجد کا وقت تھا، انھوں نے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ پوچھا:حضرت خیریت تو ہے؟ فرمایا:ہم نے اپنی عمریں ضائع کر دیں۔ اگر آپ نے غفلت کی تو ہمارا کیا بنے گا؟پھر فرمایا: ہم تو راجح اور مرجوح میں لگے رہے، محنت کرتے رہے، یہی راجح ہے، یہی مرجوح ہے۔ امت خطاؤں اور فتنوں کی زد میں ہے، زمانہ بہت خطرناک ہو چکا ہے۔

آج کے اس سیمینار میں جو عنوانات زیرِ بحث آئے ہیں، وہ نہایت سنجیدہ ہیں۔ ہمیں ان پر پورے غور و فکر کے ساتھ توجہ کرنی چاہیے۔ تبلیغی محنت، دارالعلوم، مبلغین کی تربیت؛ ان سب کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی حالت خاص طور پر توجہ کی متقاضی ہے۔ میں خود لندن کے ایک گھر میں گیا، جہاں دو بچے قرآن کاحفظ کر رہے تھے، مگر ایک بچہ اللہ کا نام تک سننا گوارا نہ کرتا تھا۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی تنبیہ ہے۔

لہٰذا میری علمائے کرام سے عاجزانہ گزارش ہے کہ ہم سب امت کی اور اس کے اتحاد کو اپنا مقصد بنائیں۔ ہمارے اکابر کا طرز یہی تھا،وحدت، بقا اور باہمی احترام۔ اسے مضبوطی سے اپنانا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ جزاکم اللہ خیرًا، بارک اللہ فیکم۔

اس کے بعد دوبارہ مقالہ کی خواندگی کا سلسلہ شروع ہوا۔اور علی الترتیب مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے:

مولانا ابن الحسن قاسمی: حضرت مفتی اعظم کے تلامذہ اور فیض یافتگان۔

مولانا مفتی محمد یوسف قاسمی میواتی: حضرت مفتی اعظم اور میوات۔

مولا نا مفتی عین الحق امینی: حضرت مفتی اعظم اور تعلیم الاسلام۔

مفتی عطاء اللہ قاسمی کوپا گنجی: حضرت مفتی اعظمؒ چند نقوش عزیمت۔ 

مولانا صداقت علی مدرس مدرسہ امینیہ دہلی: مفتی اعظم کی قرآن فہمی، تحریرات و افادات کی روشنی میں۔

مفتی محمد جنید قاسمی گنج مرادآباد: حضرت مفتی اعظم کے اوصاف و کمالات۔

مولانا مفتی شوکت علی قاسمی بھاگلپوری:نونہالوں کی تعلیم و تربیت میں تعلیم الاسلام کا کردار۔

مفتی عطاء الرحمان قاسمی: حضرت مفتی اعظم کی سیاسی بصیرت۔

مولانا مجتبی حسن قاسمی حسن پور: حضرت مفتی اعظم کے رفقائے درس۔ ( یہ موجود نہیں تھے۔)

مولانا شاہد کھرساوی: مفتی اعظم کی وفات پر معاصر شخصیات و رسائل کا خراج عقیدت۔

آخر میں اس نشست کا اختتام کرتے ہوئے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب نے مولانا ضیاء الحق صاحب خیرآبادی کو مولانا رحمت اللہ میر کشمیری، مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مولانا انیس الرحمان صاحب مدرسہ امینیہ کشمیری گیٹ، مولانا محمود مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے ہاتھوں توصیفی سند اور چادر پیش کی گئی۔اور حضرت مہتمم دارالعلوم دیوبند کی دعا پر دوسری نشست اختتام پذیر ہوئی۔ 

اختتامی نشست

22؍نومبر2025ء صبح ماؤ لنکر ہال نئی دہلی میں کئی حصوں میں اس سیمینار کی اختتامی نشست، قاری فاروق صاحب کی تلاوت سے، مولانا محمد حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور مولانا مفتی محمد عفان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے اترپردیش کی زیر نظامت آغاز ہوا۔ قاری اقرار صاحب بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند کی حمد و نعت کے بعد مقالہ خواندگی کا سلسلہ شروع ہوا۔اور علی الترتیب درج ذیل حضرات نے اپنے مقالے پیش کیے:

مولانا اختر امام عادل صاحب قاسمی سمستی پوری: مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کا علمی و فقہی مقام۔

مولانا محمدعرفات اعجاز اعظمی: رد قادنیت مجلہ البرہان کے آئینہ میں۔ 

مولانا حافظ عبدالحی مفتاحی صدر جمعیت علمائے مشرقی زون: حضرت مفتی اعظم ملی اور سیاسی خدمات۔

ڈاکٹر محمد قاسم دہلوی (حفید حضرت مفتی اعظم) نے جذباتی انداز میں اپنے مقالے کی خواندگی کا آغاز کیا، جس کا عنوان تھا: جمعیت علمائے ہند کے قیام میں حضرت مفتی اعظم کا کردار۔

مولانا نور الحسن راشد صاحب کاندھلوی: مولانا مفتی کفایت اللہ اور مولانا محمد الیاس کاندھلوی۔ یہ ازبکستان چلے جانے کی وجہ سے موجود نہیں تھے، ان کی طرف سے ان کے شاگرد مولانا ارشد قاسمی کاندھلوی نے مقالے کا اختصار پیش کیا۔

مولانا خالد صاحب صدر جمعیت علمائے نیپال کا خطاب

اس کے بعد مولانا خالد صاحب جمعیت علمائے نیپال نے(حمدو صلاۃ کے بعد) اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایاکہ: 

حضرت مفتی اَعظم ہند کی شخصیت اتنی عظیم اور ہمالیائی ہے کہ ایک نیپال کا ادنیٰ خادم ان کے سامنے کیا عرض کر سکتا ہے۔ طالب علمی کا زمانہ مکمل کرکے جب ہم اپنے ملک واپس گئے، تو درس و تدریس سے واسطہ بھی باقی نہ رہا۔ حضرت مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم کی وہ تحریر جو ہمارے یہاں پانچ دن کے اندولن کے نیم روپوش زمانے میں نظر سے گزری، اس نے دل کو بے چین کر دیا۔ ایک شعر ذہن میں گونجتا رہا: ؎

ما و مجنوں ہم سبق بودم در دیوانِ عشق

او بصرہ رفت و ما در کوئے فقیر

ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ پھر بھی حضرت مفتی اعظمؒ اور دیگر اکابر کے سلسلے میں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ ہمارے اکابرحضرت شیخ الاسلام، حضرت شیخ الہند، بعد میں حضرت فدائے ملت، اور آج کے بزرگ؛سب کی گھٹی میں یہ بات رہی کہ زندگی کے اہم معاملے، خصوصاً سیاست، سے کبھی کنارہ کش نہیں ہوئے۔ آج امت کو جن مسائل کا سامنا ہے، وہ کسی حد تک سیاسی شعور اور بصیرت کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خصوصاً علما کی سیاسی کونسلنگ ہو۔ بسا اوقات میں دور بیٹھ کر حضرت صدرِ محترم کی باتیں سنتا ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ بہت لوگوں کے لیے وہ باتیں باؤنس ہوتی ہیں، اور اس کی بنیاد بھی وہی ناپختہ سیاسی فہم ہے۔

دوسری چیز جو میں نے اپنے اکابر میں دیکھی،اور آج بھی ذمہ دارانِ جمعیت میں محسوس کر رہا ہوں،وہ یہ کہ سیاست میں بھی، درس میں بھی، خانقاہوں میں بھی، اور خدمتِ خلق میں بھی یکساں لگن اور تڑپ رکھتے ہیں۔ یہ تڑپ دراصل وہی درد ہے جس کا ذکر قرآنِ مقدس میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا۔ یہ درد، یہ چبھن ایسی چیز ہے، جس کی کوئی شفا نہیں، سوائے اس کے کہ آدمی آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلے۔ حافظ شیرازی نے بھی کہا ہے کہ یہ ایسا روگ ہے، جس کی شفا صرف اتباعِ نبوی ہے۔

جب ہم حضرت مفتی اعظمؒ، حضرت شیخ الاسلامؒ اور دیگر اکابر کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو حقیقت یہی سامنے آتی ہے کہ : ؎

ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

آخر میں امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کا وہ قول یاد آتا ہے، جو انھوں نے لیث ابن سعد کے بارے میں فرمایا کہ لیث فقہ میں امام مالک سے بھی بڑے تھے، مگر ان کے ماننے والے نہ تھے۔ یہی بات رہنماؤں، کارکنوں اور امت کی ذمہ داری بھی یاد دلاتی ہے۔

میں اسی درخواست کے ساتھ رخصت ہوتا ہوں کہ ہم اپنے اکابر کے اس درد، اس تڑپ، اور اس جامعیت کو اپنے اندر پیدا کریں۔

ان کے بعد مقالہ خواندگی کا سلسلہ پھر سے شروع ہوا اور درج ذیل حضرات نے اپنے مقالے پیش کیے:

مولانا عتیق احمد بستوی: حضرت مفتی اعظم کا فکری اعتدال اور اصابت رائے۔

انھوں نے اپنے مقالے کے بعض حصے کی خواندگی کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اپنے اکابر کے لائحۂ عمل اور فکروعمل کو نمونہ عمل بناکر موجودہ بدلتے ہوئے حالات میں سمت سفر اور اہداف طے کریں۔ انھوں نے اتحاد کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد کے لیے مشترک اجلاس کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور حالات سے بالکل نہیں گھبرانا چاہیے۔

ان کے بعد مولانا محمود مدنی صاحب نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں آج کے زمانے کے کچھ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مسلم لیگ کا نظریۂ تقسیم درست تھا، جب کہ متحدہ قومیت کا نظریہ سراسر غلط۔ میں کہتا ہوں کہ تفصیل و دلیل میں جائے بغیر متحدہ قومیت کا نظریہ بالکل صحیح تھا۔ 

مولانا ضیاء الدین قاسمی ندوی: حضرت مفتی اعظم دینی اصلاحی اور سیاسی تحریکات۔

مولانا مفتی شبیر احمد قاسمی مدرسہ شاہی مرادآباد: حضرت مفتی اعظم کی شخصیت اور اہم کارنامہ۔درود شریف کے بعد انھوں نے کہا کہ اسی سال عمر میں چھپن سال آپ نے فتویٰ نویسی میں گذارے۔ حضرت کی ابتدائی عمر کے چھتیس سال اور آخر کے نوسال کے فتاویٰ دستیاب نہیں ہیں۔صرف گیارہ سال کے فتاویٰ موجود ہیں۔ 

مفتی محمد صالح صاحب استاذ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور: حضرت مفتی اعظم صاحب کے اساتذہ۔ انھوں نے کہا کہ کفایت المفتی میں کل 4958 فتاویٰ ہیں، جواب تک ملے ہیں۔یہ کتاب پہلے نو جلدوں میں چھپی تھی، بعد میں مولانا سلیم اللہ خاں صاحب شیخ الحدیث کی تخریج کے بعد چودہ چلدوں میں چھپی ہے۔

مفتی محمد صالح صاحب امین عام مدرسہ مظاہر علوم: حضرت مفتی صاحب کے اساتذہ۔

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب کا اظہار خیال

انھوں نے اپنے خطاب میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ درج ذیل ہے :

حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم شخصیت ایسی ہے کہ ملک کی ہر بڑی دینی و ملی تحریک میں کہیں نہ کہیں ان کا ذکر ضرور آتا ہے۔ اکابر نے خصوصاً فتوے کے میدان میں ان کے تقویٰ، احتیاط اور گہرائی کو نمایاں کیا ہے، کیوں کہ فتویٰ دراصل اللہ کے حکم کو پوری دیانت، غور، اور دل کی حرارت بجھا دینے والی حکمت کے ساتھ بیان کرناہوتا ہے۔ اسی لیے جب فقہا کا ذکر ہوتا ہے، تو امام مالک، امام شافعی، لیث ابن سعد اور دیگر ائمہ کی نظیریں سامنے رکھی جاتی ہیں، جن کا اصل امتیاز یہی تقویٰ اور بصیرت تھی۔ اہلِ علم کا تذکرہ بڑھتا چلا جائے، تو ختم نہیں ہوتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی شخصیت جامع ہوتی ہے، جس کے پاس فقہ کی گہرائی اور سیاست کی صحیح شعور دونوں ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر کا کردار خلافت کمیٹی ہو، یا قادیانی فتنے جیسے حساس مسائل،ہر میدان میں فیصلہ کن رہا۔ علامہ امرتسری اور دیگر اہلِ حدیث اکابر کی خدمات بھی اسی ملی و دینی فکر کے تسلسل کا حصہ تھیں۔ اس دور میں باوجود فقہی جمود کے دل ایک سمت دھڑکتے تھے، اور ملت کے درد نے سب کو جوڑ رکھا تھا۔ آج دنیا وسیع اور مسائل پیچیدہ ہیں، لیکن اگر ہم ان اکابر کے نقش قدم پر، تقویٰ و اخلاص کی بنیاد پر چلیں، تو ملت کو وحدت و استقامت کی راہ پر رکھا جا سکتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ ورثہ ہمارے ہاتھوں میں آیا، اور اسی پر استقامت کی توفیق مانگتے ہیں۔ انھوں نے سیمینار کے ذریعہ اکابر کو یاد کرنے پر صدر جمعیت مولانا محمود مدنی صاحب کی تعریف و تحسین بھی کی۔

مولانارحمت اللہ میر کشمیری صاحب کا خطاب

الحمدللہ وکفیٰ، وسلامٌ علیٰ عبادہِ الذین اصطفیٰ!

حضرت مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کل شام سے آج دوپہر تک نہایت وقیع اور جامع مقالات پیش کیے گئے۔ ان شاء اللہ جب یہ تمام مقالات مستقل شکل میں سامنے آئیں گے، تو امت کو ایک عظیم اور قیمتی علمی سرمایہ دستیاب ہوگا، جو افراد سازی اور ہماری مستقبل کی ملی و علمی قیادت کے لیے روشن مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ اسی لیے مجھے ان کے بارے میں مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔

میرے ذہن میں ایک مصرعہ آرہا تھا۔ اگرچہ اردو یہاں کی زبان ہے اور آپ جانتے ہیں کہ میں کشمیری ہوں، اس لیے لغزش کا احتمال رہتا ہے۔ اصل مصرع ہے: ؎

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

تم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

لیکن میں اس میں معمولی ترمیم کے ساتھ یوں کہنا چاہتا ہوںکہ : ؎

ہم ہی تھک گئے داستاں کہتے کہتے

میں یہ جملہ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ جمعیت علمائے ہند کے موجودہ دور کے قائدین اور ذمہ داران نے صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں جو عظیم الشان اور تاریخی سلسلہ شروع کیا تھا-جس میں ایک سیمینار اس سے قبل بھی اسی ہال میں منعقد ہوا تھا-یہ شاید اس سلسلے کی آخری کڑی ہو۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ : ع

ہمیں تھک گئے داستاں کہتے کہتے

 صرف تقریبات تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے، کیوں کہ یہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے نہایت مفید اور کارآمد علمی سرمایہ فراہم کرتا ہے۔

جمعیت علمائے ہند کے سفر میں ایسی بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں جن پر مستقل سیمینار ہونے چاہئیں۔ ان سے ہمیں نئی فکری روشنی اور تازہ توانائی حاصل ہوگی۔

اسی ضمن میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے ساتھ جو ’’مفتی اعظم ہند‘‘ کا لقب منسوب ہے، اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اُس وقت کا ’’ہند‘‘ اور آج کا ’’ہند‘‘ ایک جیسا نہیں۔ موجودہ نسل اس لقب کے مفہوم کو موجودہ جغرافیے کے تناظر میں سمجھ بیٹھتی ہے، جب کہ اس عنوان کا تاریخی دائرہ کچھ اور تھا۔ لہٰذا اس وضاحت کی نہایت ضرورت ہے۔

ہمارے صدرِ اجلاس-اللہ انھیں سلامت رکھے-قدیم و جدید کے جامع ہیں۔ دو دفعہ دلی کی میٹنگ میں انھوں نے فرمایا کہ جب جمعیت علما بنی، تو علمائے صادق پور بھی تو تھے، جیسا ابھی حضرت مولانا اصغر علی امام سلفی نے بھی ذکر کیا، جیسے مولانا داؤد غزنوی، مولانا امرتسری علیہم الرحمہ، تو وہ ایک تصور جو آج کے زمانے میں ہمارے نوجوانوں میں جمعیت علما کے بارے میں مختصر ہوتا جاتا ہے، چاہے ہم عملا کتنا ہی کرسکیں؛ لیکن یہ ذہن میں آنا چاہیے کہ اس وقت ہمارے عقائد کا ویژن کتنا واضح اور متعین تھا۔

شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا جو آخری فکری منصوبہ تھا، وہ قرآن سے تعلق جوڑنے کا تھا۔ اسی مقصد کے لیے اُس دور میں مساجد میں ترجمۂ قرآن کے حلقے قائم کیے گئے۔ حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ نے اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم الاسلام کے ذریعے ایسا عظیم کام کیا کہ آج اسے عالمی تناظر میں دیکھیں، تو افریقہ، انگلستان، امریکہ، عرب اور نئی نوآبادیاتی ریاستوں ہر جگہ تعلیم الاسلام ہی دینی نصاب کی بنیاد دکھائی دیتی ہے۔ یہ دراصل انھیں بزرگوں کی محنت کا فیض ہے۔

میں نے پہلے بھی گزارش کی تھی کہ ہم سنا کرتے تھے کہ حضرت مفتی اعظم کے رسائل کی صرف چار جلدیں نہیں تھیں؛ بلکہ چھ تھیں۔ میں نے گزشتہ سال مدرسہ امینیہ کے ذمہ داروں سے یہ گذارش کی تھی کہ ان دو مزید حصوں کی تلاش کی جائے۔ اگر یہ دستیاب ہوجائیں، تو یہ ہمارے لیے سنہرا خزانہ ہوگا اور نورٌ علیٰ نور کی حیثیت رکھے گا۔

آخر میں میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں اور اکابرِ جمعیت؛ خصوصاً مولانا سید محمود مدنی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے اس سلسلۂ تقریبات کے تحت ایسے سیمیناروں کا اہتمام کیا۔ اللہ کے فضل سے مستقبل کے لیے ایک عظیم ذخیرہ تیار ہوا ہے اور اہلِ فکر کو بے پناہ فائدہ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو قائم و دائم فرمائے۔

صدر نشست مولانامحمد سلمان بجنوری صاحب کا خطاب

بعد ازاں اس نشست کے صدر حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب دامت برکاتہم نے درج ذیل خطاب فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ و صحابہ أجمعین۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس عظیم الشان شخصیت کے سلسلے میں اس سیمینار میں شرکت کی سعادت ملی اور استفادے کا موقع ملا۔

مبارک باد پیش کرتا ہوں قائدِ ملت حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم کو، جن کا یہ ایک بہت دور رس فیصلہ ہے۔ اور اگر اس میں حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب دامت برکاتہم کی تجویز شامل ہوجائے، تو یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری بھی رہے گا۔ اور حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری دامت برکاتہم جیسے اجلاس کے اصل ذمہ دار ہیں، اور ان کے معاونین حضرت مولانا ضیاء الحق صاحب اپنی محنت کے اعتبار سے ان سب حضرات کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

دو تین باتیں جلدی سے عرض کرتا ہوں:

(۱)مفتی اعظم، حضرت مفتی کفایت اللہؒ کے لقب کے بارے میں۔ حضرت! آپ نے جو ’’ہند‘‘ والی بات کہی ہے، اس کا ایک آسان حل یہ ہے کہ فی الحال ’’ہند‘‘ کا لفظ چھوڑ دیجیے، تو لقب عام ہو جائے گا۔ مفتی اعظم خاص کر دیجیے، تومفتی اعظم حضرت مفتی کفایت اللہؒ۔

حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بہت بڑے وزن کی حامل تھی۔ ان کے عجیب عجیب واقعات ہم نے سنے، اور ہمارے سامنے یہ بات رہی کہ وہ مقربین کے دِل میں عجیب طرح کی عقیدت رکھتے تھے۔

ہم نے جو پڑھا، وہ مقالات میں بھی ہے، لیکن ان مقالات میں ان کی شخصیت کا خلاصۃ الخلاصہ بھی پوری طرح سامنے نہیں آپایا۔ جب ہم پڑھیںگے، تو ان شاء اللہ مزید استفادے کا موقع ملے گا۔

(۲) ان کے معاصرین کے ذریعے تعارف: اگر ہم حضرت کی شناخت ان کے معاصرین کی نگاہ سے کرنا چاہیں، تو دو بڑی شخصیات سامنے آتی ہیں:

پہلی شخصیت:امام العصر، نادرۃ الزمان حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ۔ وہ بالکل ہم عمر اور رفیق تھے، جیسا کہ ابھی حضرت مفتی صاحب نے بھی بیان فرمایا۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ حضرت مفتی اعظم کو ’’عالم الدین ‘‘ہی نہیں؛ بلکہ ’’عالمِ دنیا‘‘  بھی کہا کرتے تھے۔

یہ حضرت مولانا انظر شاہ قیصر نے لکھا ہے۔اور آپس کے تعلقات ایسے تھے کہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ اپنے تمام معاملات میں حضرت مفتی صاحب سے مشورہ کرتے تھے، یہاں تک کہ گھر کی خریداری جیسے ذاتی معاملات میں بھی، جب دہلی جاتے، تو انھی سے مشورہ لیتے۔اور بہت ہی قریبی تعلقات تھے۔ اس سے حضرت مفتی اعظم کی علمی و شخصی وقعت معلوم ہوتی ہے۔

دوسری شخصیت: شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی۔حضرت مفتی صاحب نے جس واقعے کی طرف اشارہ کیا تھا، مگر طوالت کی وجہ سے بیان نہ ہوسکا، میں وہ واقعہ مختصراً عرض کر دیتا ہوں۔شیخ الاسلام نے لکھا ہے کہ جب جبریہ تعلیم کا مسئلہ تھا،حفظ، یا ناظرہ کے استثنیٰ کی بات تھی۔شیخ الاسلام ناظرہ کے استثنیٰ کے قائل تھے،اور حضرت تھانویؒ چاہتے تھے کہ دونوں کا استثنیٰ ہو۔ سہارنپور سے حضرت مفتی عبدالکریم صاحب آئے، اور حضرت مولانا الیاسؒ بھی وہیں سے آئے۔دونوں نے کہا کہ دیوبند چلنا ہے، حضرت مدنی کو قائل کرنا ہے۔شیخ الاسلام فرماتے ہیں: میں (مولانا الیاس)نے پوچھا: وہاں جا کر ان سے کیا کہیں گے؟

مفتی عبدالکریمؒ نے کہا: کہیں گے کہ حضرت تھانویؒ نے کہا ہے۔

میں نے کہا: دلیل دینی پڑے گی۔ تو انھوں نے کہا: حضرت آپ چلیں، آپ سے جو دلیل ہو سکے گی، آپ دے ہی دیں گے۔

دیوبند پہنچے، مگر وقت کم ملا۔ پھر دہلی کے سفر میں ساتھ ہو گئے۔ فرماتے ہیں کہ میں راستے میں حضرت مدنیؒ سے بات کرتا رہا؛ مگر وہ قائل نہ ہوئے۔ دہلی اسٹیشن پہنچے، تو وہاں ایک بڑا مجمع تھا، حضرت کے استقبال کے لیے۔ مفتی اعظم بھی موجود تھے۔

یہاں حضرت مفتی اعظم کی عظمت کا پہلو دیکھیے، جو بیس سال تک جمعیت علمائے ہند کے صدر رہ چکے ہوں، وہ اپنے بعد والے صدر کے استقبال کے لیے اسٹیشن پر موجود ہیں۔

مولانا لکھتے ہیں:جیسے ہی میری نظر مفتی صاحب پر پڑی، میں نے سوچا: کام ہو گیا، کیوںکہ مجھے معلوم تھا کہ حضرت مدنیؒ کی رائے اگر کوئی بدل سکتا ہے، تو مفتی اعظم بدل سکتے ہیں۔

فرماتے ہیں:میں ہجوم میں سے نکل کر فوراً مفتی صاحب کے پاس پہنچا، ان کے کان میں کہا: حضرت! یہ دونوں بات کرنی ہے۔بس وہ جلسہ ہوا، اور حضرت نے ایک گھنٹہ جوش کے ساتھ دونوں چیزوں کے استثنیٰ پر زوردار تقریر فرمائی۔

 (۳) اختلاف کے زمانے میں ان کی حکمت: جب دارالعلوم دیوبند میں اختلاف ہوا، اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ وغیرہ الگ ہو گئے،تو اس اختلاف کے زمانے میں حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ بار بار دیوبند جاتے رہے۔دونوں فریقوں سے بات چیت کرتے رہے، اور ان کے تدبر سے بارہا فتنہ ٹلا۔ اور واقعہ یہ رہا کہ اختلاف کے بعد بھی دونوں فریقوں کے ساتھ ان کا اعتماد و تعلق ویسا ہی برقرار رہا جیسا پہلے تھا۔ یہ ان کے عدل، توازن، تدبر اور بڑائی کی ایک نمایاں دلیل ہے۔

(۴) بڑے مقصد کی طرف اشارہ: حضرت کی شخصیت پر جتنا چاہیں بات کرتے رہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے اصل مسئلہ آگے کا سفر ہے۔میں نے پہلے بھی ایک جگہ کہا تھا۔ اگرچہ میں چھوٹا آدمی ہوں، چھوٹا منھ بڑی بات ہے، مگر ضرورت کے تحت کہنا پڑتا ہے: ہمیں اب ایسی شخصیات پیدا کرنے کی فکر کرنی ہے، جیسا کہ حضرت استاد محترم نے ’’شخصیت سازی‘‘ کے موضوع پر فرمایا۔ دارالعلوم کے صد سالہ اجلاس میں حضرت مفکر اسلام مولانا علی میاں ندویؒ نے فرمایا تھا:

’’اگر مدارس نے بہت جلد حکیم الامت حضرت تھانوی، یا ان کے قریب کوئی شخصیت، یا شیخ الاسلام حضرت مدنی، یا ان کے قریب کوئی شخصیت پیدا نہ کی، تو حالات بہت مشکل ہو جائیں گے۔‘‘

اور حقیقت یہی ہے کہ وہ شخصیات- جنھوں نے اس مشکل وقت میں امت کی کشتی کو سنبھالا تھا-آج بھی ویسی شخصیات کی ضرورت ہے۔ اور اللہ کے فضل سے یہ امت کبھی بانجھ نہیں ہوسکتی۔ شرط صرف ایک ہے: اخلاص نیت۔ان بزرگوں کے کارناموں کو زندہ کرنے اور ان کے تذکروں کو سامنے لانے کا اصل مقصد یہی ہے کہ امت کو آگے کے سفر میں رہنمائی حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان تمام سیمیناروں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، امت کے حق میں نافع بنائے، اور جمعیت علمائے ہند، اس کے ذمہ داران اور تمام خدام کی حفاظت فرمائے۔آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔

آخری نشست

اس خطاب کے بعد یہ دوسری نشست اختتام پذیر ہوئی۔ اور مفتی محمد راشد صاحب اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی صدارت میں آخری نشست کا اجلاس شروع ہوا۔ 

مفتی عبدالعلیم صاحب دفتر جمعیت علمائے ہند نے ایک نعتیہ کلام پیش کیا۔ بعد ازاں مقالہ خواندگی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور درج ذیل حضرات نے مقالے پیش کیے:

مولانا ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی: حضرت مفتی اعظم اور مساوات اسلامی۔

مفتی ذکاوت حسین نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب نے 1904ء میں اتحاد مدارس کا نظریہ پیش کیا تھا۔ بعد ازاں 1910ء میں دارالعلوم دیوبند نے لبیک کہا۔ شاید رابطہ مدارس اسلامیہ اسی تحریک کا احیا ہے۔ مفتی صاحب کا عنوان تھا : حضرت مفتی اعظم اور مدرسہ امینیہ۔ 

مولانا خورشید انور مدنی صاحب: حضرت مفتی اعظم کی تقریر درس بخاری، ایک تعارف۔

مولانا ضیاء الحق صاحب خیرآبادی: حضرت مفتی اعظم اور مسئلۂ فلسطین۔

مقالہ نگاروں میں مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب: حضرت مفتی اعظم کے قومی و سیاسی افکارو جہات اور جناب فاروق ارگلی صاحب : کامل شریعت و سیاست مفتی اعظم ہند ، موجود نہیں تھے۔ ان کے علاوہ مہمانان خصوصی کے طور پر مولانا ڈاکٹر عبدالملک قاسمی: حضرت مفتی اعظم کی شاعری۔ مولانا خورشید انور اعظمی جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور: حضرت مفتی اعظم کی اصابت رائے۔ مولانا محمد سالم جامعی ایڈیٹر ہفت روزہ الجمعیۃ: حضرت مفتی اعظم اور افکار معاصرین۔ مولانا محمد یاسین جہازی معتمد شعبۂ تصنیف مرکز دعوت اسلام جمعیت علمائے ہند: تعشیر حیات مفتی اعظم ہند۔ مولانا حسان ابراہیم دفتر جمعیت علمائے ہند : حضرت مفتی صاحب سے منسوب جمعیت کی خدمات۔اور مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی میڈیا انچارج جمعیت علمائے ہند: تعلیم الاسلام مسئلۂ کفر اور سردار پٹیل کا مکتوب تحقیق کے آئینے میں ، جیسے مقالے قلت وقت کی وجہ سے پیش نہیں کیے گئے اور مہمانوں کے خطابات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

خطاب مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری صاحب

بعد الحمد والصلاۃ،اس باوقار سیمینار کی آخری نشست کے صدرِ محترم، اسٹیج پر تشریف فرما مہمانانِ گرامی اور مختلف علاقوں سے تشریف لانے والے علمائے کرام و دانش ورانِ قوم و ملت! ہمارا مقالہ کے عنوان کا تعلق ان جمہوری ممالک سے ہے، جہاں مختلف تہذیبوں، مذاہب اور زبانوں کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسلام اور مسلمان اپنے تشخص، عقائد، اعمال اور شعائر کے ساتھ کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں اور ان کے لیے کیا راہِ عمل ہے، اس بارے میں مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ اور تحریرات میں قابلِ قدر رہنمائی ملتی ہے، اور اہلِ علم پر یہ حقیقت مخفی نہیں کہ حضرت مفتی صاحب کے فتاویٰ ملکی حالات سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔ ہمارے اکابر دیوبند اور جمعیت علمائے ہند نے اس دور میں جس انداز سے مذہبی و تہذیبی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھایا، وہ تحریک پہلے بھی جاری تھی اور آج بھی جاری ہے، اور ایسے ماحول میں حضرت مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی فکر اور ان کا نظریہ سب سے بہتر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے ہمارا مقالہ فائل کی شکل میں آپ کو پہلے ہی دے دیا گیا تھا، تاکہ مجموعۂ مقالات کا انتظار کیے بغیر آپ حضرت مفتی صاحب کے فتاویٰ سے استفادہ کر سکیں۔

جب تحریکِ آزادی اپنے انجام کے قریب پہنچی اور یہ بات طے ہوگئی کہ انگریز یہاں سے رخصت ہونے والا ہے، تو یہ سوالات شدت سے ابھرنے لگے کہ انگریز کے جانے کے بعد یہاں کونسا نظام قائم ہوگا، باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی اور خصوصاً مسلمانوں کے طبقے میں شدید خدشات اور خطرات پائے جاتے تھے اور مستقبل نہایت تاریک نظر آتا تھا۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے درمیان دو مختلف نقطۂ نظر پیدا ہوگئے۔ ایک جذباتی سوچ یہ تھی کہ ہندستان تقسیم ہو، مسلمان الگ ملک میں رہیں، ان کی تہذیب الگ ہو اور نظامِ حکومت بھی الگ ہو، جب کہ دوسری طرف اکابرِ دیوبند- جن میں حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ نمایاں شخصیت تھے- اس ملک کی زمینی حقیقت کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ انھیں حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے وسیع تجربات سے معلوم تھا کہ انگریز کو نکالنے کے لیے صرف ایک قوم کافی نہیں؛ بلکہ تمام اقوام کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کی آبادی پورے ملک میں بکھری ہوئی تھی، انھیں جمع کرنا عملی طور پر ناممکن تھا اور اگر ایسا کرنے کی کوشش کی جاتی، تو قتل و غارت گری کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔

ان تمام حقائق کے پیشِ نظر اکابرِ دیوبند نے نہایت غور و فکر کے بعد انگریز حکومت کے سامنے ایک تجویز پیش کی، جو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ میں منظور ہوئی۔ اس مجلس کی صدارت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی اور اس میں حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب بنفس نفیس شریک تھے؛بلکہ قوی احتمال ہے کہ اس تجویز کے الفاظ انھی کے تحریر کردہ ہیں۔ یہ تجویز آپ کے فائل میں شامل ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں کسی دوسری قوم کے تابع بن کر نہیں جینا چاہتے؛بلکہ برابر شہری کی حیثیت سے مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور دوسری قوموں کو بھی ان کے مقام و مرتبے کے مطابق عزت دینا چاہتے ہیں۔ یہی تجویز بعد میں ’’مدنی فارمولا‘‘ کے نام سے معروف ہوئی۔ اس فارمولا میں وضاحت کی گئی کہ جمعیت علمائے ہند مسلمانوں کی مذہبی، سیاسی اور تہذیبی آزادی کو کسی حال میں نہیں چھوڑ سکتی اور وہ ہندستان کی وفاقی حکومت اور مرکزیت کے قیام کو مفید سمجھتی ہے؛ مگر اس شرط کے ساتھ کہ صوبوں کے لیے حقِ خود ارادیت تسلیم کیا جائے اور مرکز ایسی شکل میں قائم کیا جائے کہ غیر مسلم اکثریت محض عددی برتری کی بنیاد پر مسلمانوں کے مذہبی اور تہذیبی حقوق پر کسی طرح کی دست درازی نہ کرسکے۔ اس مقصد کے لیے ایوان کے ارکان کی ایسی تقسیم تجویز کی گئی، جس میں تمام طبقات کی نمائندگی اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت یقینی ہو۔ مثال کے طور پر مرکزی ایوان میں ہندوؤں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے نمائندوں کی متوازن شمولیت اور یہ اصول کہ اگر کسی قانون کو مسلم ارکان کی دو تہائی اکثریت اپنے مذہبی، یا تہذیبی حقوق کے خلاف سمجھتی ہو، تو اسے منظور نہ کیا جائے۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کے سامنے یہ حقیقت ضرور پیش کرنی چاہیے کہ ہمارے اکابر کا نظریہ یہی تھا کہ ملک متحد رہے، تمام طبقات کو حقوق ملیں اور باہم اتفاق کے ساتھ ایک مضبوط ملک تشکیل پائے۔ بعد میں جو وطن تقسیم ہوا، اس کے نتیجے میں جو قتل و غارت گری ہوئی اور لاکھوں لوگ برباد ہوئے، اس کا ذمہ جمعیت کے اکابر پر نہیں؛ بلکہ دونوں طرف کے ان جذباتی اور فرقہ وارانہ عناصر پر عائد ہوتا ہے، جو اس وقت بھی آگ بھڑکا رہے تھے اور آج بھی اسی ذہنیت کے ساتھ ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاویٰ میں صاف لکھا ہے کہ وطن سے محبت، وطن کے لیے قربانی اور وطن کو غیروں کے تسلط سے آزاد کرانا ہر محبِ وطن کا فرض ہے۔ آپ نے کانگریس کے ساتھ اشتراکِ عمل کی بہادری سے تائید کی، دلتوں کے ساتھ چھوا چھوت کی سختی سے مخالفت فرمائی، مذہبی جلوسوں میں باہمی رواداری کے جذبے کے تحت پانی کی سبیل لگانے جیسے امور پر بھی اعتدال پسند اور انصاف پر مبنی رائے دی۔ ان تمام امور میں حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ نے ایسی رہنمائی چھوڑی ہے، جو آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں اپنے بزرگوں سے وابستہ رکھے۔ ؎

فضول سمجھ کر بجھا دیا ہے ، جن چراغوں کو 

انھیں چراغوں کو جلاؤ، تو روشنی ہوگی

مشہور مؤرخ اور سپریم کورٹ کے وکیل جناب انل موریہ جی

ان کے بعد انل موریہ جی مشہور مؤرخ اور سپریم کورٹ کے وکیل نے خطاب کیا، جو درج ذیل ہے:

اکتوبر1923ء میں ایک بیان جاری ہوا تھا، جس میں مفتی صاحب، مولانا ابوالکلام آزاد، لالہ لاجپت رائے اور مدن موہن مالویہ کا مشترکہ بیان تھا۔ جس میں کسی بھی مذہبی مقامات پر، یا کسی شخص، مرد ، عورت پر حملہ کرنے کی مشترکہ مذمت کی تھی۔ 

قاہرہ کانفرنس میں جب مفتی صاحب نے شرکت کی، توپنڈت نہرو نے وفد پارٹی کے سربراہ نحاس پاشا کو مکتوب لکھ کر یہ کہا تھا کہ مفتی صاحب کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہیں؛ بلکہ مذہبی لیڈر ہیں۔ 

1930ء کی ورکنگ کمیٹی کانگریس کے مفتی صاحب ممبر رہے اور تحریک آزادی ہند میں زبردست حصہ لیا۔ 

اپریل و مئی 1930ء میں پشاور میں جو حادثے ہوئے تھے، اس کی تحقیقاتی کمیٹی کے مفتی صاحب کو موتی لال نہرو نے پٹیل کی صدارت میں بنائی گئی کمیٹی کا ممبر نام زد کیا۔

1940ء میں جب آزاد مسلم کانفرنس ہوئی، تو مسلم لیگ کی تقسیم پاکستان کی تجویز کی سخت مذمت کی۔ 

سبھاش چندر بوس نے 1942ء میں دو مرتبہ اپنے براڈ کاسٹ میں مفتی صاحب کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا تھا کہ مفتی صاحب بہت بہادر پرجوش مجاہد آزادی تھے۔

جب جناح سے گاندھی جی کے ساتھ کوئی اتفاق عمل نہیں ہوپایا، تو گاندھی جی نے بھی مفتی صاحب کو مشورہ کے بلایا اور ملکی مسائل میں ان سے صلاح و مشورہ کیا۔ 

ڈاکٹر سوربھ باجپئی صاحب کا خطاب

میں غیر مسلم ہونے کے باوجود ،اس لیے آیا ہوں کہ مفتی صاحب وغیرہ یہ ہمارے اکابر ہیں، ان کو پڑھ کر میں حوصلہ پاتا ہوں۔ 

مسلمان ہندستان کے دوسرے درجے کے شہری نہیں ہیں؛ لیکن یہ بات مسلمان بھول گئے ہیں۔ انھوں نے رامائن کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ماتا سیتا کو کھوجنے کے لیے سمندری کنارے پر بیٹھ کر جب سمندر پارکرنے کی تدابیر پر غور ہورہا تھا، تو جامونت نے ہنومان کو اس کی طاقت یاد دلائی، جس سے وہ چھلانگ لگا کر سری لنکا پہنچ گیا اور ماتا سیتا کو کھوج لایا۔ ایسے ہی مسلمان اپنی طاقت کو بھول گئے ہیں، انھیں یاد دلانا ضروری ہے کہ ہماری یہاں شرکت متحدہ قومیت کی علامت ہے، جو ہماری اصل طاقت ہے۔

خلافت کے خاتمے کے بعد 1924ء میں جب فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور گاندھی جی نے برت رکھا ، تو مفتی اعظم نے اپنے ہاتھوں سے جوس پلاکر برت کھولوایا اور کہا کہ ہندو مسلم اتحاد کے لیے آپ کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ مفتی صاحب نے گاندھی جی کو جوس پلاکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ یہ ہندو مسلم اتحاد کا جذباتی تعلق تھا۔ 

آج فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے مسلمانوں کی طاقت آدھی ہوجاتی ہے۔ آج جب کوئی فرقہ پرست مسلمانوں سے یہ کہتا ہے کہ توپاکستان کیوں نہیں جاتا، تو مسلم نوجوان گلٹی محسوس کرنے لگتا ہے اور پلٹ کر جمعیت علما کی تاریخ نہیں بتاتا کہ ہم کون ہیں اور کس کے وارث ہیں۔

1946ء میں الیکشن کے موقع پر مسلم لیگ کے لوگوں نے زبردست فرقہ وارانہ فسادات کیے تھے۔ اس زمانے میں صرف چودہ فی صد مسلمانوں کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا؛ لہذا تقسیم کی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ ہمیں اپنی تاریخ کو نہیں بھولنا چاہیے اور ہمیں متحدہ قومیت کی جڑوں کو سینچنا چاہیے۔ 

جناب عمران پرتاپ گڑھی کی تقریر

انھوں نے مفتی کفایت اللہ صاحب کی زندگی کے ماضی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے  کہا کہ آزادی سے پہلے جمعیت علما کے کردار کو آج کے حالات میں یاد کرنا ضروری ہے۔ 

مفتی کفایت اللہ صاحب ایک ایسی شخصیت ہیں کہ سبھاش چندر بوس اور بڑے بڑے لوگوں نے ان کو یاد کیا۔ جمعیت کا دائرہ صرف مذہبی دائرہ تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ اس کا دائرہ ہندستان سے باہر تک وسیع ہے۔ اگر ہندستان کی آزادی کی جدوجہد کرتی ہے، تو فلسطین کی مظلومیت پر بھی جمعیت آواز اٹھاتی ہے۔ 

ان تمام کاموں کے لیے ہم مولانا محمود مدنی صاحب کو مبارک پیش کرتے ہیں کہ آپ نے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ اور اس کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھا۔ 

انھوں نے نیلسن منڈیلا کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ وہ جب ایک ہوٹل میں کھانے گیا، تو اس نے سامنے بیٹھے ایک بھکاری آدمی کو بلاکر ٹیبل پر کھانا کھلایا۔ اس کے جانے کے بعد سکریٹری نے جب منڈیلا سے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ وہ بیمار ہے، کیوں کہ کھاتے وقت اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، تو منڈیلا نے جواب دیا کہ یہ وہ شخص ہے، جو مجھے جیل میں تشدد دیا کرتا تھا۔ میں نے اسے یہاں ٹیبل پر کھانا کھلاکر اپنے اوپر ہوئے ظلم کا بدلہ لے لیا۔

انھوں نے آخر میں کہا کہ جمعیت کو موجودہ حالا ت میں آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے۔ کیوں کہ نفرتی طاقت کو مل کر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی دوران کچھ اہم مہمانان گرامی کا استقبال کیا گیا۔ اور نشست کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد راشد صاحب اعظمی کو دعوت سخن دی گئی۔ 

حضرت مولانا مفتی محمد راشد صاحب اعظمی کا خطاب

مفتی صاحب نے خطاب کا آغاز اس شعر سے کیا کہ : ؎

گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

اور کہا کہ میں نے جو فارسی شعر پڑھا ہے، اس میں یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اگر اپنے سینے کے داغوں کو تازہ رکھنا چاہتے ہو، تو اپنے بزرگوں کی یاد کو زندہ رکھو۔ جمعیت علما کا قیام بھی اسی اتفاق، اخلاص اور دردِ ملت کا نتیجہ تھا۔ اس کے پہلے صدر وہ حضرات تھے، جو ہمارے استاد بھی تھے اور سفر و حضر کے ساتھی بھی۔ حضرت فدائے ملت رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے خود یہ واقعہ سنا کہ جب امتحان ہوا اور ’’زکوٰۃ الابل‘‘ کا مسئلہ پوچھا گیا، تو شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے چار صفحے لکھے، جب کہ مفتی کفایت اللہ صاحب نے صرف ایک صفحہ تحریر کیا، لیکن پرچہ بنانے والے اور جانچنے والے شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں حضرات کو برابر نمبر عطا فرمائے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں عظیم المرتبت اور باصلاحیت شخصیات تھیں۔

مفتی صاحب نے ایک لطیفہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگوں نے طویل مقالہ لکھا اور اس کا خلاصۃ الخلاصہ پیش کیا۔ میں نے مختصر لکھا ہے اور اس سے زیادہ طویل بولوں گا۔ 

سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا کہ:

جب جمعیت قائم ہوئی ،تو کوئی مستقل دفتر نہیں تھا۔ مدرسہ امینیہ دہلی میں مفتی صاحب کے کمرے ہی کو دفتر بنایا گیا۔ تمام کام مفتی صاحب خود انجام دیتے اور ناظمِ اعلیٰ مولانا احمد سعید صاحب ان کے معاون ہوتے۔ نہ کوئی نوکر تھا، نہ چپراسی، نہ ملازم اور نہ کوئی خادم۔ مفتی صاحب کی برکت یہ تھی کہ جن علماکے درمیان معمولی جزوی مسائل میں مناظرے ہوتے تھے، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر باہم اختلاف کرتے تھے،مفتی صاحب نے سب کو متحد، متفق اور ملت کے مستقبل کے بارے میں سوچنے والا بنا دیا۔ یہ ان کی غیر معمولی بصیرت اور عظمت کا ثبوت ہے۔

مفتی صاحب کا علم بہت وسیع تھا۔ ملک کے جس بڑے عالم کا بھی نام لیا جاتا، وہ ان سے دل کی گہرائیوں سے احترام رکھتے۔ لیکن خود کبھی بھی صدارت قبول نہ کی، ہمیشہ کسی اور بزرگ کو آگے بڑھاتے۔ ان کی زندگی میں ’’تواضع للہ‘‘ کا وہ اعلیٰ نمونہ موجود تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں غیر معمولی عزت و سرفرازی عطا فرمائی۔ آج ان کے وصال کو برسوں گزر چکے ہیں؛ مگر مسلمان بھی، ہندو بھی، سب ان کے اوصافِ حمیدہ، اخلاق و کردار اور بے مثال امانت و دیانت کو یاد کرتے ہیں۔

ان کی امانت داری کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ پشاور اجلاس کے موقع پر مفتی صاحب سے کسی نے عرض کیا کہ آپ اپنے بچے کا بھی خرچ جمعیت سے لے لیجیے۔ انھوں نے فرمایا: ’’میں تو جمعیت کا رکن ہوں، لیکن میرا بیٹا جمعیت کا رکن نہیں۔ یہ میرے ساتھ خدمت کے لیے آیا ہے، اس کا خرچ میں جمعیت سے نہیں لے سکتا۔‘‘ ایسی ان گنت واقعات ان کی زندگی میں ہوںگے کہ چپراسی کا کام بھی خود کر رہے ہیں، محرر کا کام بھی، صدارت کی ذمہ داریاں بھی اور ناظمِ اعلیٰ کے فرائض بھی۔ اور بھلا مراعات لینے کا تو تصور بھی نہ تھا؛ بلکہ اپنی جیب سے خرچ کرتے تھے۔

یہ ہمارے بزرگوں کی غیرتِ ایمانی اور صدقِ دل ہی تھا کہ وہ پوری قوت سے حکومتِ وقت کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ ’’تحفظ فلسطین‘‘ کے نام سے مجلس قائم کی، ’’یومِ فلسطین‘‘ منایا اور انگریزوں کے ظالمانہ اور ناپاک اقدامات کے خلاف بھرپور صدائے احتجاج بلند کی۔ قاہرہ میں اجتماع ہوا۔ اس میں عالمِ اسلام کے ساڑھے تین ہزار مندوبین شریک ہوئے۔ اس وقت کے وفد میں جمعیت کی طرف سے حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب صدر تھے، لیکن اپنی مجلسوں کی صدارت کبھی خود نہیں کی۔ اس اجلاس میں ’’ہندی عالم زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے گئے، یہ ان کے لیے بڑا اعزاز تھا۔

میں ایک جلسے میں خطاب کر رہا تھا، میں نے کہا کہ تعلیم الاسلام نے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو جس طرح عام کیا ہے، اتنا شاید کسی اور ذریعے نے نہ کیا ہو۔ لوگ کہتے ہیں کہ مجھے جتنے مسائل ’’تعلیم الاسلام‘‘ سے یاد ہوئے، وہ ’’ہدایہ‘‘ سے بھی نہ ہوئے۔ ہدایہ عظیم کتاب ہے؛ مگر تعلیم الاسلام نے مسائل کو عوام تک اس طرح پہنچایا کہ ایمان مفصل و ایمان مجمل، دعائے قنوت، التحیات، رسالت و خلافت، صحابۂ کرام کے فضائل؛سب گھر گھر پہنچ گئے۔ اگر آج مسلمان اپنے گھروں میں تعلیم الاسلام کو شامل کرلیں، تو ہمارے بچے اور بچیاں -جو الحاد اور بے دینی کی طرف بڑھ رہے ہیں- ان کے سینوں میں ایمان کا نور اتر آئے، اور وہ کبھی بھی بے دینی کی طرف رخ نہ کرسکیں۔

جمعیت علما کی تحریک ہی یہی ہے کہ ہر گاؤں اور بستی میں مکاتب قائم کیے جائیں اور ان کتابوں کو پڑھایا جائے۔ حضرت مفتی صاحب کے وصال کے بعد دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے تعزیتی جلسہ ہوا۔ اسی وقت مکتب کے چھوٹے چھوٹے بچے وہاں سے گزر رہے تھے، وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: ’’یہ تعلیم الاسلام والوں کا جلسہ ہے۔‘‘ اس سے اندازہ لگائیے کہ انھوں نے ملک و ملت کو کیسے سنوارا، دین کو کیسے مضبوط کیا اور مسلمانوں کے دلوں کو کیسے عزم و حوصلہ عطا کیا۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ جمعیت نے اپنے بزرگوں کو یاد کر کے ایک عظیم قدم اٹھایا ہے۔ ان شاء اللہ اس یاد کے بہترین نتائج سامنے آئیںگے۔ اور اگر ہم مفتی کفایت اللہ نہیں بن سکتے، تو کم از کم کچھ نہ کچھ ان کے اوصافِ حمیدہ،ان کی قربانیاں، ان کی جرأت، ان کا عزم، ان کی تواضع، ان کی خدمت اور ان کی للہیت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش تو ضرور کر سکتے ہیں۔

بعد ازاں مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی نے تمام کارکنان کی طرف سے شکریے کی تجویز پیش کی اور سمینار کی اشاعت پذیر سبھی کتابوں کو طلبۂ مدارس کو انعام میں دینے کی تجویز رکھی۔ اور آخر میں مولانا حبیب الرحمان صاحب باندوی کی مختصر تقریر اور دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

رپورٹ: محمد یاسین جہازی شعبۂ تصنیف مرکز دعوت اسلام جمعیت علمائے ہند۔


مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟

 

محمد یاسین جہازی

سوراج (کامل آزادی)

جمعیت علمائے ہند اور تجویز آزادی

ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے جنگ و تشدد کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نظریے نے جنم لیا، جس کو اردو میں ترک موالات بشرط عدم تشدد، ہندی میں ستیہ گرہ اور انگریزی میں نان کوآپریشن کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کو سب سے پہلے گاندھی جی نے پیش کیا تھا، چنانچہ انھوں نے رولٹ بل کو 6؍فروری1919 کو کونسل میں پیش کرتے وقت اس کی منظوری کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر24/فروری1919 تک اس بل کو مسترد نہیں کیا گیا،تو 30/مارچ1919 سے تحریک ترک موالات شروع کردیں گے۔ چنانچہ اسی تاریخ سے ہندستان میں اس تحریک کا آغاز ہوا۔

تحریک کے ابتدائی دور میں گاندھی جی کے نزدیک  ترک موالات کے تین  بنیادی مقاصد تھے: مسئلہ خلافت، پنجاب کے حالات اورسوراج کا حصول ؛ لیکن سوراج کی تشریح میں کانگریس کے نزدیک مکمل آزادی کا مفہوم شامل نہیں تھا،بلکہ وہ ڈومینین اسٹیٹس کی حامی تھی ۔اسی طرح اس دور کی نمائندہ تنظیمیں بھی سوراج کی تشریح و مراد میں متفق الخیال نہیں تھیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا بنیادی نصب العین حکومت کی وفاداری کرکے بڑے بڑے مناصب حاصل کرنا تھا، اس لیے آزادی کے ریس سے باہر تھی۔اور آل انڈیا خلافت کمیٹی کی بنیادی جدوجہد تحفظ خلافت تھی، اس لیے اس کے یہاں بھی حصول سوراج اولیت نہیں رکھتی تھی۔

23/؍نومبر1919ءکو جمعیت علمائے ہند کے قیام کے بعد ، 6/ستمبر1920ء کو جمعیت علمائے ہند نے ترک موالات کی تجویز منظور کرکے اس تحریک میں شرکت کا آغاز کیا؛ لیکن  گاندھی جی کی تحریک اور جمعیت کی تحریک ترک موالات میں فرق یہ تھا کہ  جمعیت علما کا مطمح نظر صرف مسئلہ خلافت تھا، جیسا کہ 6/ستمبر1920ء کو منظور کردہ تجویز کے متن اور اس کے بعد 8؍ستمبر1920 ء دیے گئے متفقہ فتوی علمائے ہند سے  ظاہر ہوتا ہے۔ بعد ازاں مسیح الملک حکیم اجمل خاں نے جمعیت علمائے ہند کے دوسرے سالانہ اجلاس عام منعقدہ 19-20-21/نومبر1920 کے خطبہ استقبالیہ میں ترک موالات کا مقصد بتاتے ہوئے، خلافت، پنجاب  اور سوراج کا اضافہ کیا ۔ چنانچہ موصوف لکھتے ہیں کہ :

"ان تمام باتوں کے علاوہ اِس وقت ہم خلافت اور پنجاب کے واقعات کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ جس قدر جلد ہم ”سوراج“ حاصل کریں، جس کے لیے ہمیں کونسلوں کے باہر کام کرنے کے لیے بہت سے قابل اور لائق کام کرنے والوں کی ضرورت ہے۔ اگر یہ لوگ کونسلوں میں چلے جائیں گے، تو اس نیک اور اہم کام کے انجام دینے کے لیے ہمارے ہاتھ میں وہ قابل اشخاص کی تعداد نہ ہوگی، جس کی ہمیں ملک کی سچی فلاح و بہبود کے لیے ضرورت ہے۔"

اس کے بعد  18-19-20/نومبر1921 کو دہلی میں منعقد جمعیت علمائے ہند کے تیسرے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے سوراج کو مسلمانوں کا قدیم نظریہ بتاتے فرمایا کہ:

"ایک اور مسئلہ ہے جو ایک ہندی لفظ کے بھیس میں سوراج کے لفظ میں آیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ محض لباس کا تغیر آپ کو حقیقت و معانی سے ناآشنا نہ کردے گا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حقیقت آپ کے لیے کوئی نئی حقیقت نہیں ہے، نیا پیغام نہیں ہے۔ عمل کا کوئی نیا دروازہ نہیں کھلنا چاہتا ہے، مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کرہئ ارضی کے نیچے دنیا کی کوئی جماعت، قوم، فرد نہیں ہے کہ جس کو اس کے خدا اور رسول نے اس حقیقت محبوبہ کو اس کے دل کے ایک ایک گوشہ میں نہ رچا دیا ہو، اور اس کے تمام جسم میں نہ پھیلا دیا ہو۔ یہ حقیقت ہے، جو تیرہ سوبرس سے آپ کے سامنے موجود ہے۔"

اورپھراسی  تیسرے سالانہ اجلاس عام میں  جمعیت علمائے ہند نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ بھارت کو آزاد کرانا مسلمانوں کا نہ صرف وطنی فریضہ ہے؛ بلکہ مذہبی نصب العین بھی ہے، یعنی جمعیت علمائے ہند کا نقطہ نظر کامل آزادی اور استخلاص تام ہے۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

"جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ ہندستان کو موجودہ حکومت کے تسلط و استبداد سے آزاد کرانے کی سعی مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے اور اس کے حصول کے لیے تمام صحیح و مناسب مدلل وسائل کو عمل میں لانا اورآخر تک جدوجہد جاری رکھنا ہمارا مذہبی نصب العین ہے۔ جمعیت اس کا بھی اعلان کرتی ہے کہ ہندستان کی آزادی کا جو نصب العین ہمارے سامنے ہے، اس کے لیے اسلامی احکام کی روسے ضروری ہے کہ:

الف:   مسلمان اپنی مذہبی و شرعی زندگی میں بالکل خود مختار اور آزاد ہوں۔

ب:     مسلمانوں کے لیے احکام وحدود و تعزیراتِ اسلامیہ کے اجرا و تنفیذ میں کوئی قوت مانع اور مزاحم نہ ہو۔ جمعیت تسلیم کرتی ہے کہ ہندستان کی اقوام کے ساتھ متفق ہوکر بہ تحفظ حدود شرعیہ ایسی آزادی ہم حاصل کرسکتے ہیں اور حاصل کریں گے۔"

اس نظریے کی مزید تشریح جمعیت علمائے ہند کی اس روداد میں ملتی ہے، جسے حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی ناظم جمعیت علمائے ہند نے تیسرے سالانہ اجلاس عام منعقدہ(-19-20/نومبر1921) کے موقع پرتحریر کی تھی ۔ چنانچہ مولانا جمعیت علما کی تشکیل کے حوالے سے علمائے کرام کے فرائض بیان کرتے ہوئے ان کو عملی جامہ پہنانے کا جو فارمولہ پیش کرتے ہیں، وہ ہندستان کی  کامل آزادی  ہے۔ چنانچہ مولانا لکھتے ہیں کہ:

"پس آج علمائے اسلام کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ نظام شرعی کے ماتحت پہلے خود مرکزی طاقت و اجتماعی قوت بہم پہنچائیں اور پھر امت کو مرکز کی دعوت دیں؛ لیکن اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہ کیا جائے کہ حقیقی رہنمائی اور مقصود اصلاح مسلمانوں کی اس وقت تک محال قطعی ہے، جب تک ہم کو کامل آزادی حاصل نہ ہوجائے۔ استقلال تام،یا حریت کامل ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو ایک طرف علما کو فرائض کی انجام دہی میں مدد دے گا اور دوسری جانب امت میں قبول و انقیاد کی اہلیت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ہی وہ دعوت الی الخیر ہے، جو فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بھی مقدم سمجھا گیا ہے۔"

اس کے بعد 9-10/فروری1922 کو جمعیت علما کی مجلس متنظمہ کا اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر دو میں عہد نامہ نیشنل والنٹیر کور کی شرط نمبر (ب) میں  ترک موالات کا مقصد بتاتے ہوئے لکھا گیا  کہ

"کیوں  کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہندستان کی موجودہ حالت میں خلافت، و پنجاب کے معاملات اور حصول سوراج کے لیے بہترین طریقہ ترک موالات مع عدم تشدد و عدم تعدی ہے۔"

یہ تمام حوالے شاہد ہیں کہ جمعیت علمائے ہند کے اکابر کے نزدیک سوراج سے  مراد کامل آزادی  تھی۔

اس سوراج کو حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا، اس کو ترک موالات ، نان کوآپریشن اور ستیہ گرہ کہا جاتا ہے۔بہ الفاظ مختصر یہ کہ آئینی تحریکات کے آغاز میں کامل آزادی کا سب سے پہلے مطالبہ جمعیت علمائے ہند نےاپنے تیسرے سالانہ اجلاس عام منعقدہ  18-19-20/نومبر1921 کو  کیا۔

آل انڈیا خلافت کانفرنس اور مکمل آزادی کی تجویز

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ آل انڈیا خلافت کمیٹی کا بنیادی مقصد تحفظ خلافت تھا، اس لیے ابتدائی دور میں کمیٹی اپنے مقصد پر فوکس رہی۔ بعد ازاں جمعیت علمائے ہند کے کامل آزادی کے فیصلے کے چار سال بعد آزادی کامل کی تجویز منظور کی۔ گرچہ 1921 میں بھی مولانا حسرت موہانی نے کامل آزادی کا فیصلہ منظور کرانے کی کوشش کی ، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ چنانچہ اس سلسلے میں درج ذیل اقتباس سے پوری صورت حال سامنے آجاتی ہے:

’’25-26/دسمبر1921 کوآل انڈیامسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی کے اجلاس ہوئے، جن میں کئی قرار دادیں پاس کی گئیں ۔سبجیکٹ کمیٹی میں مجاہد دستورفقیدالہندمولانا حسرت موہانی اور مولانا  آزادسبحانی نے مکمل آزادی وبرطانوی شہنشاہیت کی تباہی کے متعلق اپنی تجویز پیش کی، جس پر بہت دیر تک بحث و مباحثہ ہوا ۔ آخر کار اس تجویز کو پاس نہیں کیا گیا۔ اور آل انڈیا خلافت کا نفرنس کے اجلاس میں کافی غور و خوض کے لیے پیش ہونا قرار پایا۔(مرقع اجتماعات احمدآباد، ص/90)

''اس کے بعد مجاہد دستور فقید الہند حضرت مولانا سید فضل الحسن حسرت موہانی نے بہ تحریک حضرت مولانا آزاد سبحانی مکمل آزادی حاصل کرنے وبرطانوی شہنشاہیت کو تباہ کر انے کے متعلق ایک رزولیوشن پیش کیا ،جس کا مضمون یہ ہے ۔
حصول آزادی کی تجویز
چوں کہ برٹش گورنمنٹ کی یہ پالیسی  اورمکمل رویہ  کی وجہ سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ برطانوی امپریلزم جزیرة العرب و مقدس مقامات اسلام کو غیرمسلموں کے اثر واقتدار سےپورے طور پر آزاد رہنے دے گی۔ اور اس کا یہ مطلب ہے کہ خلافت اس درجہ میں محفوظ و مامون نہ رہے گی، جس میں شریعت اسلام اس کےتحفظ کی متقاضی ہے، لہذا خلافت کی مستقل حفاظت اور ہندستان کی خوش حالی حاصل کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ برطانوی امپریلزم کوتباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ ( خلافت) کانفرنس اس رائے پر قائم ہے  کہ اس کوشش کو عمل میں لانے کا صرف یہی طریقہ ہے مسلمان دیگر باشندگان ہند کی شرکت میں ہندستان کو کامل طورسے آزاد کرلیں۔ اور اس کانفرنس   کی رائے ہے کہ مسلمانوں کی رائے سوراج کی بابت وہی ہے، جو مکمل آزادی کی مراد ہے اور کا نفرنس  امید کرتی ہے کہ دیگر باشندگان ہند بھی اسی نقطہ نظرپر قائم ہوں گے۔''
اس رزولیوشن پر زبردست بحث و مباحثہ ہوا۔ آخرمیں سبجیکٹس کمیٹی خلافت کا نفرنس کے ایک ممبر نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ہمارے نظام اساسی کے بموجب کوئی تحریک وتجویز جو ہمارے عقیدہ میں تبدیلی کی نوعیت رکھتی ہے، منظور شدہ کے طور پر پیش نہیں کی جا سکتی تاوقتیکہ سبجیکٹس کمیٹی میں یہ دو تہائی ممبروں کی اکثریت نے اس کے موافق رائے نہ دی ہو۔
حکیم اجمل خاں صاحب صدر خلافت کا نفرنس نے اس اعتراض کو تسلیم کیا اور آزادی کی تجویز کو خلاف قاعدہ قرار دیا۔ مجاہد دستورفقید الہند حضرت مولانا حسرت موہانی نے بہت زور سے پروٹسٹ کیا اور بتایا کہ جب اسی قسم کا اعتراض انھی ممبر صاحب کی طرف سے سبجیکٹس کمیٹی میں کیا گیا تھا ، اور جناب صدر نے اس کو نامنظور کردیا تھا؛ لیکن اب کا نفرنس کے کھلے میدان میں اس اعتراض کو تسلیم کرلیا گیا۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ حقیقتاً صدر صا حب نے ان کی تجویز  کو خلاف قاعدہ قرار دینے کی یہ حکمت عملی اس لیے برتی ہے کہ وہ اس کا نفرنس سے ان کے اس امر کا اعلان کرنے میں مانع آئیں کہ ان کے سوراج سے مکمل آزادی مراد ہے ۔
گو کثیر التعداد حضرات مولانا حسرت موہانی کے رزولیوشن کے موافق اور موئید تھے؛ لیکن آخر کار رزولیوشن خلاف قاعدہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔(مرقع اجتماعات احمدآباد،ص/108-109)

آل انڈیا خلافت کانفرنس نے مکمل آزادی کی تجویز کب منظور کی؟

25 /دسمبر 1925 کو کانپور میں منعقد ہونے والی آل انڈیا خلافت کانفرنس  میں آزادی کامل کی تجویز منظور کی گئی۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

تجویز نمبر15: اس کانفرنس کی رائے میں ملک کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی باہمی نااتفاقی روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے اور متحدہ قومیت کا مقصد دورتر ہوتاجاتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، یہ کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ ہندستان کی قومی جدوجہد اور اس کی آزادی ہی ان کا ایک ایسا قدرتی اور غیر متزلزل نصب العین ہے، جس سے کسی حال میں وہ غافل نہیں ہوسکتے۔

محرک: مولانا محمد علی صاحب۔ موید: مولوی اسماعیل صاحب داؤدی۔

باتفاق منظورہوئی۔( سہ روزہ الجمعیۃ، 2 /جنوری 1926ء)

آل انڈیا کانگریس اور  آزادی کامل کی تجویز

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ کانگریس کے نزدیک سوارج میں مکمل آزادی کا مفہوم شامل نہیں تھا۔اس میں میں مکمل آزادی کے مفہوم کو  شامل کرنے کے لیے سب سے پہلی کوشش مولانا حسرت موہانی صاحب نے کانگریس کے اجلاس منعقدہ احمد آباد میں کی، جس کی مختصر روئیداد درج ذیل ہے:

27/دسمبر1921 کو احمد آباد میں آل انڈیا کانگریس کی سبجیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں گاندھی جی کی طرف سے پیش کردہ تجویز نمبر(1) میں مولانا حسرت موہانی نے کانگریس کے نصب العین کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے مکمل آزادی اور خود مختاری کی تجویز پیش کی۔

گاندھی جی کی تجویز کی میں مولانا حسرت موہانی کی ترمیم کا مقصد یہ تھاکہ

"کانگریس کا نصب العین یہ ہو کہ تمام معقول اور ممکن ذرائع سے سوراج حاصل کیا جائے بجائے اس کے کہ صرف پرامن جائزذرائع اور تدابیر سے۔''

 اس ترمیم کی کسی شخص نے معقول تائید نہیں کی۔ اورمحرک نے بعد کو واپس لے لیا۔ دوسری ترمیم یہ تھی کہ ''سوراج سلطنت برطانیہ سے باہر رہ کر حاصل کیا جائے۔'' یہ ترمیم نہایت ہی گرم اوربحث طلب تھی اور اکثر لوگوں نے نہایت ہی پرجوش اور ولولہ انگیز تقرریں کی ۔ مولانا حسرت موہانی نے اپنی تقریرمیں کہا کہ ان کی نظر میں سوراج کی تعریف صرف یہی ہے کہ کامل آزادی اور خود مختاری حاصل ہو۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرایہ عقیدہ ہے کہ ہماری سیاسی نجات صرف اسی بات  پرمنحصرہے کہ ہم سلطنت برطانیہ کا خاتمہ کریں۔ گذشتہ سال سے یہ برابر ظاہر ہورہاہے کہ پنجاب میں خلافت کے مسائل میں برٹش گورنمنٹ سے کبھی انصاف حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک برطانیہ کی سلطنت کا وجود رہے گا، اس کے بدارادوں میں ہر گز فرق نہ آئے گا۔ حسرت کی تائید میں تقریباً ایک درجن اصحاب نے تقریریں کیں اور انھوں نے بھی حسرت کے برابر ہی جوش و خروش کا اظہار کیا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم ادھوری بات نہ کہیں؛ بلکہ سوراج کے متعلق ہماری جو توقعات ہیں، ان کا صاف طور پر اظہار کردیں ۔اسی قدر تعداد میں دیگر مقررین نے اس ترمیم کی مخالفت کی اور کہا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے کہ ہم اس بات کی تشریح کریں کہ  کس قسم کی گورنمنٹ ہندستان کے لیے موزوں ہوگی۔ پہلے تو ہم کو ہندستان کواس قابل بنا لینا چاہیے کہ وہ اپنے لیے طریق حکومت کا انتخاب کر سکے۔ اس کے بعد پھر یہ طے کیاجائے گا کہ کس قسم کی حکومت یہاں قائم کی جائے۔ کا نگر یس کا موجودہ منصب العین ہی سب سے بہتر ہے۔(مرقع اجتماعات احمد آباد، ص/12-13)

سبجیکٹ کمیٹی کے بعدآل انڈیا کانگریس کا  28/دسمبر1921 کو اجلاس عام کا آخری سیشن ہوا، جس میں گاندھی جی کی تجویز نمبر(1) پیش کی گئی۔ اس کی تائید میں مولانا عبدالماجد ، مولانا سید سلیمان ندوی ،خواجہ عبدالرحمان و دیگر غیر مسلم حضرات نے تقریریں کیں اور قرارداد پاس ہوگئی۔

مہاتما گاندھی کی اہم قرارداد پاس ہونے کے بعد مجاہددستور فقید الہندمولانا حسرت موہانی نے اپنی ترمیم ایک قرار داد کی صورت میں، بابت تبدیلی عقیدہ کانگریس پیش کی، جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کے نزدیک قومی پارلیمنٹ ہند کا عقیدہ اور نصب العین بغیر ملکی نگرانی کے تمام جائز اور باامن ذرائع سے حصول سوراج(حصول حریت کامل ) ہونا چاہیے۔

 مولانا نے اپنی ترمیم پیش کر کے ایک مختصر؛ مگر زبردست تقریر کی۔ مولانا نے فرمایا کہ مہاتما گاندھی نے ناگپور کانگریس میں کہا تھا کہ اگر مظالم پنجاب اور پنجاب کی گورنمنٹ نے تلافی نہ کی ، تووہ اعلان آزادی کردیں گے۔ مولانا نے کہا کہ میں چاہتا ہوں اب جب کہ اس تجربہ میں ایک سال ضائع ہوگیاہے،مہاتما جی اپنا وعدہ  پورا کریں۔ مولانا نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوے فرمایا کہ مظالم پنجاب اور مظالم خلافت اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا، جب کا تک کہ برطانوی امپریلزم وبرطانوی شہنشاہیت کو تباہ کر کے اور حریت کامل کے لیے مزید کوشش کر کے ان کے اعادہ کو ناممکن نہ بنا یا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہندستان کو نو آبادیات کا سا درجہ نہیں دیا جائے گا؛ کیوں کہ جن لوگوں کو نو آبادیات میں مراعات حاصل ہوئی ہیں، وہ اسی مذہب کے پیروہیں اور ویسا  ہی سفید رنگ رکھتے ہیں، حالاں کہ ہندستان کی حالت قطعی اس طرح کی نہیں ہے ۔ مولانا حسرت موہانی نے اپنی تقریر کو جاری   رکھتے ہوئے فرمایا کہ حضرات ڈیلی گیٹ یہاں پر بدیں غرض تشریف لائے ہیں کہ وہ بطور اپنے ایک نصب العین کے حریت کامل کا اعلان کریں ۔ مولانا نے پوچھا کہ کیا وہ ویسے ہی واپس جائیں گے؟ (بعض نے کہا نہیں)۔

 مولانا حسرت موہانی کی تائید میں چار ز بردست مقرروں نے تقریریں کیں، جن میں مسٹرآر دنیکترام،  سوائے کی ، آرآئند اور پی پی انور شامل تھے۔''۔(مرقع اجتماعات احمد آباد، ص/43)

اس کے بعد گاندھی جی نے اس کی مخالفت میں تقریر کی۔ گاندھی جی کی تقریر ختم ہوتے ہی پریزیڈنٹ (مسیح الملک حکیم اجمل خاں صاحب) نے مولانا حسرت موہانی کی تحریک پر ووٹ لیے ؛ لیکن وہ بڑی اکثریت کے ساتھ مسترد کردی گئی۔

کانگریس نے مکمل آزادی کی تجویز کب منظور کی؟

اس کے تقریبا آٹھ سال بعد کانگریس نے مکمل آزادی کامطالبہ پیش کیا۔واقعہ یہ ہوا کہ   29/دسمبر1928میں کلکتہ کے کانگریس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر حکومت برطانیہ کو نہرو رپورٹ کے منظور کرنے کاجو چیلنج دیا گیا تھا، 29/دسمبر1929 کو اس نوٹس کی میعاد ختم ہوگئی؛ مگر برطانوی حکومت نے نہرورپورٹ کی منظور کردہ تجاویز کو قابل قبول نہ سمجھ کر اسے رد کردیا، تو 28/ دسمبر1929ء کو آل انڈیا نیشنل کانگریس نے لاہور دریائے راوی کے کنارے اپنے سالانہ اجلاس میں نہرور پورٹ کو دریائے راوی کے سپرد کر کے ہندستان کی مکمل آزادی کاریزولیوشن پاس کر دیا ۔ بنیاد کانگریس (1905ء) سے کانگریس سمیت دوسری جماعتیں انگریزوں سے ہندستان کے لیے صرف درجہ نو آبادیات کا مطالبہ کرتی چلی آئی تھیں؛ لیکن 1929ء کا سال ہے کہ کانگریس نے برطانیہ سے ہندستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم،ص/468)

کانگریس کے چوالیسویں سالانہ اجلاس کے موقع پر یکم جنوری 1930ء کو لاہور میں انقلاب زندہ باد کے نعروں کی گونج میں آزاد ہندستان کا جھنڈا لہرایا گیا ، آزادی کا اعلان نامہ پڑھ کر سنایا گیا اور 26/جنوری کو ہر سال یوم آزادی منانے کا فیصلہ کیا گیا۔( سکسٹی ایرس آف کانگریس ، ص/394)

آل انڈیا مسلم لیگ اور مکمل آزادی کی تجویز

30/دسمبر1921 کو احمد آباد میں بوقت نو بجے شب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس عام کی دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ اس میں چند تجاویز منظور ہونے کے بعد کامل آزادی حاصل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

"اس کے بعد حضرت مولانا حسرت موہانی صدر آل انڈیامسلم لیگ نے نعرہ ہائے تحسین کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ جس رزولیوشن میں آزادی حاصل کرنے کے اور برطانوی امپریلزم کو تباہ و برباد کرنے کو لیگ کا مقصد و منشا قرار دیا گیا تھا، اس میں سبجیکٹ کمیٹی میں بحث و مباحثہ ہو چکا ہے اور چھتیس رایوں کی مخالفت و بتیس  رایوں کی موافقت سے وہ نا منظور ہوچکا ہے اور چوں کہ سبجیکٹ کمیٹی کا فیصلہ آزادی کے سوال پر لیگ کا ایک سلجھا ہوا فیصلہ ہے، اس لیے وہ اس رزولیوشن پر یہاں بحث کیے جانے کی اجازت دے سکتے ہیں؛ لیکن کوئی  رائے نہ لی جائے گی؛ کیوں کہ ان کے خیال میں لیگ کی ایک سبجکیٹ کمیٹی کافیصلہ لیگ کی عام رائے کا آئینہ ہے۔(چیرز)

جناب صدر کے اس اعلان کے متعلق بعض اعتراضات بھی اٹھائے گئے؛ لیکن مولانا نے جواب میں فرمایا کہ جن رزولیوشن پرچاہیں، باختیار خودمباحثہ کی اجازت دے سکتے ہیں، تاکہ یک اہم مسئلہ کے متعلق کافی طورپر اظہار رائے ہو سکے۔ بعد ازاں آپ نے مولانا آزاد سبحانی کو"کامل آزادی حاصل کرنے کے رزولیوشن"کو پیش کرنے کی اجازت دی۔ چنانچہ مولانا آزاد سبحانی نے اس رزولیوشن کو پیش کیا۔(سبجیکٹ کمیٹی میں بھی مولانا ہی پیش کرچکے تھے)۔

"چوں کہ برطانوی حکومت کے گذشتہ رویہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جزیرة العرب اور دنیائے اسلام کو غیرمسلم سیاسی اقتدار سے آزا در رہنے دیں گے، جس کی وجہ سے حفاظت خلافت مشکوک ہوگئی اور ہندستان کی مکمل بہبودی موجودہ حالات میں ناممکن ہے، اس لیے خلافت کی مستقل حفاظت اور ہندستان کی مکمل بہبودی کو یقینی طورپر حاصل کرنے کے لیے برطانوی شہنشاہیت کی تباہی کی کوششیں لازمی تھیں ۔ اس کوشش کا ہندستان میں صرف ایک ہی ذریعہ ہے،اور وہ یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمان دوسرے باشندوں کے ساتی مل کر ملک کی مکمل خود مختاری کے لیے کوشش کریں۔ سوراج کے متعلق ہندستان کے مسلمانوں کا متذکرہ بالا ذریعہ سیاسی نصب العین ہوگا۔ اور وہ خواہش کرتے ہیں کہ ہندستان کے دوسرےفرقوں کابھی یہی نصب العین ہو۔"

مولانا آزاد سبحانی کی زوردار تقریر

مولانا نے مندرج بالا تحریک کوپیش کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ہندو مسلم اتحاد پر پورا یقین و اعتمادہے اور غیر اشتدادی ترک موالات کوبھی بے انتہا ضروری سمجھتے ہیں اور ان کا یہ یقین ہے کہ یہی چیز لڑائیوں کے لڑنے میں ان کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسے بھی بخوبی  سمجھتے ہیں۔ کہ مہا تما گاندھی اس کے پورے طور پر مستحق ہیں کہ ان کو کامل خودمختاری کے اختیارات دیے جائیں اور کانگریس نے انھیں یہ اختیارات دے بھی دیے ہیں؛ لیکن اسی کے ساتھ ان کا یہ بھی عقیدہ وخیال ہے کہ برطانوی اپریلزم سےہندستان اور اسلامی دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اوران کے سامنے  آزادی کا ایک اصول پیش کرکے اسے بالکل تباہ وبرباد کردینا چاہیے۔

اس رزولیوشن کی تائید میں درجن بھر تقریریں ہوئیں۔اس کے بعد آنریبل مسٹر رضا علی کھڑے ہوئے اور انھوں نے رزولیوشن کی مخالفت کرتے ہوئے ایک پر زور تقریر کی۔

مسٹر رضا علی کی تقریر

 حضرات ! پریزیڈنٹ کے فیصلہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ لیگ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتی کہ جو کانگریس نے نہ اٹھایا ہو۔ آپ نے اس تحریک اور اس کے پروگرام کے ساتھ اپنا ااختلاف رائے  ظاہر کیا اور بتایاکہ محض بڑھ بڑھ کرباتیں بنانا ان کو سمجھنے کے بغیر فضول ہے۔ میرے خیال میں اس جدوجہد سے اگر یہ ٹھیک طور پر جاری رکھی گئی، ممکن ہے ہمیں آزادی حاصل ہو جائے ؛لیکن میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ اگر ایسی آزادی حاصل ہو بھی گئی تو  ہم بھی اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر انگریز آج ملک چھوڑ جائیں، تو کمانڈر ان چیف ( سپہ سالار اعظم) کون ہوگا؟ چند آوازیں آئیں کہ "انور پاشا ہوں گے، انور پاشاہوں گے۔" مگر مقرر نے اس کی تردیدکی اور کہا کہ وہ کسی اجنبی کا سپہ سالار ہونا کسی طرح گوارا نہیں کرسکتے۔( اس پر چند آوازیں پھر آئیں کہ انور پاشا ہم کو صرف فنون جنگ سکھانے کے لیے آئیں گے)

آخر کار بہت سے مباحثہ کے بعد کامل آزادی حاصل کرنے کا اہم رزولیوشن پاس کرائے جانے کے متعلق یہ آخری کوشش بھی ناکامیاب رہی اورمولانا  آزاد سبحانی کا ہم رزولیوشن پاس نہیں ہوا۔ (مرقع اجتماعات احمدآباد، ص/87-89)

آل انڈیا مسلم لیگ نے مکمل آزادی کی تجویز کب منظور کی؟

آل انڈیا مسلم لیگ نے مکمل آزادی کی تجویز 15؍اکتوبر1937ء میں منعقد اپنے لکھنو کے اجلاس میں کیا۔ جناب چودھری خلیق الزماں صاحب لکھتے ہیں کہ  :

’’دوسرے دن پندرہ اکتوبر کو مسلم لیگ کا پہلا اجلاس ہوا۔ صدارتی تقریر کے بعدرات نو بجے مسلم لیگ کو نسل کا اجلاس راجہ محمود آباد کی کنکر والی کوٹھی میں منعقد ہوا ۔ 1913ء میں سر محمد شفیع کی صدارت میں لکھنو میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد میں سیلف گورنمنٹ کے الفاظ شریک کیے گئے تھے ۔ اس کے بعد1936 ء تک کوئی تغیر اس پالیسی میں نہیں ہوا۔ مسلم یونٹی بورڈ سے مفاہمت کے سلسلے میں مسٹر جناح نے مولانا حسین احمد سے یہ کہا تھا کہ جب ہم آپ کو مسلم پارلیمنٹری میں اکثریت دیتے ہیں، تو آپ مکمل آزادی کا اس بورڈ سے قبول کر سکتے ہیں ۔

یہ گفتگو مسلم یونٹی بورڈ کے نمائندوں سے جناح صاحب نے ،8؍ فروری 1936ء کوکی تھی۔ اس کے بعد مسلم لیگ کے بمبئی کے سالانہ اجلاس 1936 ء میں مسٹر جناح نے سیلف گورنمنٹ کے الفاظ کی بجائے (RESPONSIBLE GOVT) یا ذمہ دار حکومت کے الفاظ استعمال کیے۔ اب اس کونسل کے اجلاس میں ، میں نے سب سے پہلے یہ تجویز پیش کی کہ مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد میں یہ ترمیم کی جاے کہ مسلم  لیگ کا مطمح نظر ہندستان کی مکمل آزادی ہے، جس کے اجزاپوری آزاد جمہوری حکومتیں ہوں گی، جن میں مسلم اور تمام دوسری اقلیتوں کے حقوق اور مسلم مفاد کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔ جیسے ہی میں اپنی تائید میں تقریر ختم کر چکا، تو جناح صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ وہ آزادی کے لفظ کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ اس پر مولانا حسرت موہانی فورا کھڑے ہو گئے اور ایک بڑی تکلیف دہ بحث شروع ہوگئی اور سارے مجمع میں سناٹاچھا گیا۔ ادھر بحث  بڑھتی جا رہی تھی ،ادھر میری اس وقت بہت بری حالت تھی۔ میں سوچتا تھا ک اگر اس وقت یہ نزاع جاری رہا، تو بالکل ووٹ شماری کی نوبت آئے گی۔ اس میں اگرہم جیت گئے ، جو یقینا ہوتا، تو مسٹر جناح کو ہم ہاتھ سے کھو دیں گے۔ اور اگر ہار گئے، توجمعیت علما کی فتح ہو جائے گی؛ کیوں کہ ان کو موقع مل جائے گاکہ مسلم لیگ کو بدنام کرتے رہیں کہ اس  جماعت کو انگریزوں نے اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے اور وہ انھی کے اشاروں پر ناچتی ہے؛یہاں تک کہ وہ ہندستان کی آزادی تک کے خلاف تھے ۔ میں یہ سوچ رہا تھا اور دوسری طرف تقریر بازی ہور ہی تھی۔ مسٹر جناح  کسی طرح آزادی کے لفظ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ جب دو اڑھائی بج  گئے، اس وقت آخری مرتبہ میں نے مسٹر جناح سے اپیل کی کہ آپ گاندھی جی کی طرح نہ بنیں اور ہمارے حالات کا پورا جائزہ لے کر دیکھیں، تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میری تحریک کو رد کرنے سے مسلم لیگ کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ خدا کے لیے اس کو بچائیے ۔ اور اپنے ہی ہاتھوں آپ اس کو ہلاکت کی دعوت نہ دیجیے۔ مسٹر جناح بہت جھنجھلا کر اٹھے اور کہا کہ میں پوری آزادی مان لوں گا؛مگر مکمل آزادی نہیں قبول کروں گا ۔

اس ایک فقرے سے ان کی اندرونی ذہنیت اور طرز تخیل کا پتہ لگ جاتا ہے، یعنی یہ کہ وہ کبھی شکست قبول نہیں کر سکتے اور اس کو وہ بہرنوع کسی نہ کسی نوعیت سے اپنی فتح بنا لیتے ہیں ۔ چوں کہ دونوں الفاظ میں کوئی فرق نہ تھا،اس لیے میں نے اور تمام مجمع نے جناح صاحب کی فل انڈی پینڈیس کو لبیک کہا۔‘‘ (شاہراہ پاکستان ،ص؍697-698۔ بحوالہ کاروان احرار، جلدسوم،ص؍177-178)

اس کے بعد آزادی کامل کے لیے تجویز نمبر 3 منظور کی گئی، جو درج ذیل ہے:

مسلم لیگ کا عظیم مقصد حیات ہندستان کی آزادی ہے ۔ ایسی آزادی جس میں اکثریت والے صوبوں کے اندر مسلمانوں کو آزادی حاصل ہو۔(کاروان احرار، جلد سوم، ص؍179)

مولانا حسین احمدمدنی اور آزادی کامل

بیسویں صدی کے آوائل کے مقبول رہ نماؤں کی بات کریں، تو سب سے پہلے آزادی کامل کا نظریہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب کے یہاں ملتا ہے۔ چنانچہ 21/فروری 1921 کو سیوہارہ بجنور میں منعقد خلافت کانفرنس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے خطبہ صدارت میں ہندستان اور عالمی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ :

"ہم اس کلی کو فقط ایک فرد میں منحصر پاتے ہیں ہیں، وہ یہ کہ حکومت مستقلہ حاصل کی جائے ،جس کو سو راج سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ا س کے ماسوا تجارت نے جملہ راستے بند کر دیے۔ جب تک وہ نہ حاصل ہو،اپنے آپ کو، اور نہ آئندہ نسلوں کوزندہ خیال کرنا اور نہ دوسری ایشیائی اور افریقی قوتوں کی محافظت کرنا ممکن سمجھنا چاہیے۔
سوراج کے لیے ترک موالات ضروری ہے:گر ایسی بڑی اور متعصب حکومت کو- جو گر چہ وہ زبان سے وعدہ آزادی کرتی رہی ہو؛ مگر طرز عمل اور گذشتہ و حالیہ تجارت بالکل اس کے غلط ہونے کے شاہد ہیں- سوائے ترک موالات او رقطع علائق تناصر و مشارکت کسی طرح ہم کسی طرح مجبور نہیں کر سکتے،  جس کی تعلیم شریعت نبویہ  بھی علی اکمل الوجوہ فرمارہی ہے۔ا سلام –جس میں سیاست شریعت میں داخل کر دی گئی ہے- اس کو فرض اور ضروری کہہ رہا ہے۔ لہذا عالم اسلام پر یہ فریضہ شرعیہ بھی اسی  طرح کا ہو، جیسے کہ فریضہ سیاسیہ تھا۔ یہی وہ طریقہ  ہےکہ نہایت امن اور شائستگی کے ساتھ آپ مقصد کو پہنچ سکیں گے۔ یہی وہ طرز عمل ہے کہ کمال صلح شوری کے ساتھ بغیر فتنہ و شورش آپ اپنے اور آئندہ نسلوں کے حقوق کو زندہ کر سکیں گے۔ یہی وہ شاہراہ ہے کہ بلا جنگ وجدال  آپ مغرور سروں اور متکبر قلبوں کے گھٹنوں کو حقانیت کی دیوی کے سامنے جھکا سکیں گے۔ یہی وہ آفتاب ہے کہ بغیر لوٹ مار، داروگیر آپ اپنے ملک اور قوم کو روشن کر سکیں گے ۔(اسیر مالٹا کا پیغام، ص/65-66)

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور سوراج

ان کے بعد دوسرا نام امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کا  آتا ہے، جنھوں نے 25/اگست1921 کو آگرہ میں منعقد صوبائی خلافت کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے خطبہ صدارت میں سوراج  یعنی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ

" لیکن جب تک برٹش گورنمنٹ فریق محارب ہے، وہ خلافت کے مطالبات پور نہیں کرتی ، جب تک ہندستان کو سچے اور حقیقی معنوں میں سوراج نہیں دیتی ، یعنی کوئی نئی اور کسی قدرترقی یافتہ ریفارم کی اسکیم نہیں؛ بلکہ سوراج ۔ جس وقت تک انگریزی گورنمنٹ ان تمام امور کو پورا نہیں کرتی ، اس وقت تک مسلمانوں کے لیے اس کا وجود، اس کے گورنروں کا وجود، اس کی عدالتوں کا وجود ظلم و ستم کی کارروائیاں ہیں، ان کا وجود لڑنے والوں کا وجود ہے ۔ مسلمان کے لیے ممکن ہے کہ وہ بچھوؤں کو ہتھیلی پر لے کر دودھ پلائے؛ مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ انگریزوں کے ساتھ صلح کرے۔ (خطبات آزاد، ص/ 50۔ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص/250)

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ نکلا کہ اشتدادی تحریکات میں ناکامی  سے سبق لیتے ہوئے ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے آئینی طریقہ اختیار کیا گیا، جس کے لیے سب سے پہلے گاندھی جی نے رولٹ بل کی منظوری کے خلاف فروری 1919 میں مسئلہ خلافت، پنجاب اور حصول سوراج کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ستیہ گرہ اور ترک موالات  کے  آغاز کا اعلان کیا اور 30 مارچ 1919 کو عملی طور پر آغاز کردیا گیا۔ گاندجی کے نزدیک سوراج کے مفہوم میں مکمل آزادی کے بجائے ڈومینین اسٹیٹس کا تصور شامل تھا۔جمعیت علمائے ہند نے اپنے تاریخ قیام(23/نومبر1919) کے بعد6/ستمبر1920 کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں پہلی مرتبہ ترک موالات کی تجویز منظور کی ۔ اس تجویز کے متن سے ترک موالات کا مقصد صرف حصول خلافت کی وضاحت ہوتی ہے، سوراج کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی طرح ترک موالات پر دیے گئے فتوؤں میں بھی تحفظ خلافت کو بنیاد بنایا گیا ہے؛ البتہ جمعیت کے تیسرے اجلاس عام منعقدہ 18-19-20/نومبر1921 میں منظور کردہ تجویز نمبر(4) میں غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ بھارت کو آزاد کرانا مسلمانوں پر فرض ہے۔

اس بنیاد پر یہ دعوی کرنا بجا ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے سب سے پہلے 20/نومبر1921 کو بھارت کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں آل انڈیا خلافت کمیٹی نے   25 /دسمبر 1925 کو کانپور میں مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد  28/ دسمبر1929ء کو آل انڈیا کانگریس نے مکمل آزادی کا رزولیوشن منظور کیا۔اور سب سے آخر میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 15/اکتوبر 1937 کو کامل آزادی کی تجویز منظور کی۔

آج جنوری کی 26 کی تاریخ ہے، جو تاریخ میں جشن جمہوریہ سے معنون ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ جمہوریت باقی ہے، جس کے لیے جمعیت علمائے ہند اور دیگر وطن پرور جماعتوں نے جانی ، مالی ہر طرح کی قربانیاں پیش کی تھی؟؟؟؟؟

مولانا معز الدین احمدؒ یادیں ان کی ، ان کی باتیں

 مولانا معز الدین احمدؒ

یادیں ان کی ، ان کی باتیں

محمد یاسین جہازی

فضل و کمال یا بزرگیت کو وراثت میں پالینے والے افراد ؛ اگر اپنی وراثت سنبھالنے میں کامیاب رہیں، تو اسے بھی ایک کمال کی بات کہی جاسکتی ہے؛ لیکن اس روایت کو خود ایجاد کرکے فضل و کمال کے بلند مرتبے پر پہنچنا ، فضل و کمال کا اصل مظاہرہ ہوتا ہے۔ ایسی شخصیات تاریخ میں صرف شخصیات کے حوالے سے ہی متعارف نہیں ہوتیں؛ بلکہ زمانہ ان کے کارنامے کا تذکرہ کرنے میں جہاں  فخر محسوس کرتاہے، وہیں، ان کے گراں بار احسانات کے تلے اپنی گردنیں خم کرنا خود کے لیے باعث سعادت سمجھتا ہے۔ مولانا معز الدین احمد صاحب قاسمی نور اللہ مرقدہ کا تعلق وراثت کے بجائے روایت کے ایجاد والے طبقہ سے تھا۔ ان کی زندگی کے عظیم کارنامے اس حقیقت کے کھلے گواہ ہیں۔ 

راقم نے 2006(دارالعلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی) میں ، اپنی کتاب ’’رہ نمائے اردو ادب‘‘ پر تقریظ اور اشاعت کے تعلق سے دہلی کا سفر کیا، تو مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب اورجناب فاروق ارگلی صاحب نے تنقیدی مطالعہ کے لیے قبول کرتے ہوئے مفید اصلاحات کیں۔ اسی سفر میں مولانا نعمانی صاحب کے توسط سے مولانا معز الدین احمد صاحب قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ مولانا سے ناچیز کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ مولانا کی خدمت میں مبیضہ کا ایک عکس پیش کیا، تو انھوں نے سرسری نظر ڈالی ۔ اسی دوران نعمانی صاحب نے کہا کہ میں نے اسے پڑھی، تو اچھی لگی۔ ناچیز نے عرض کیا کہ کیا یہاں کا کوئی پبلشر اسے قابل اشاعت سمجھے گا؟۔ اس پر نعمانی صاحب نے مولانا معز الدین احمد صاحبؒ سے کہا کہ اسے فرید بکڈپو چھاپ سکتا ہے۔کتاب کو کچھ دیر دیکھنے کے بعد مولانامرحوم نے فرید بکڈپو سے بات کی۔ اور پھر مجھے کہا کہ کل بکڈپو میں جاکر ملاقات کرلینا۔ چنانچہ میں اگلے دوپہر فرید بکڈپو پہنچا، تو اس کے مالک نے مسودہ قبول کرتے ہوئے اشاعت کا وعدہ کیا۔

یہ پہلی ملاقات گرچہ مولانا سے بہت مختصررہی؛ لیکن اس نے میری زندگی میں گہرے نقوش چھوڑے۔ مولانا کا کمرہ، (جو ایک کتب خانہ سے کم نہیں تھا)، ذوق مطالعہ اور علمی گفتگو کو دیکھ ،سن کر میں بہت متاثر ہوا اور مولانا سے عقیدت سی ہوگئی۔

اگست 2009میں جمعیت علمائے ہند سے عملی وابستگی کے بعد مولانا مرحوم کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ شروعاتی دور میں گرچہ بہت کم تعلق رہا؛لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تعلق گہرا ہوتا گیا اور گذشتہ چار پانچ سالوں کے درمیان تو گویا استاذ اور شاگرد جیسا رشتہ قائم ہوچکا تھا۔ اس رشتہ کے آغاز کا واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ ایک دن مولاناؒ جمعیت کی تاسیسی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے درگاہ سید حسن رسول نما پر بانیان جمعیت کے حلف رازداری کا تذکرہ کر رہے تھے، گرچہ جمعیت کا ملازم تھا؛ لیکن تاریخ جمعیت سے اس طرح کی واقفیت نہیں تھی؛ مولانا کی تاریخی گفتگو سے میں بہت متاثر ہوا اور اسی وقت یہ ارادہ کرلیا کہ مولانا کی رہ نمائی میں جمعیت کی تاریخ پر کام کریں گے۔ چنانچہ اس کے بعد اس حوالے سے استفادہ کا تعلق تا دم مرگ جاری رہا۔ ناچیز نے ’’جمعیت علمائے ہند کے سو سال … قدم بہ قدم‘‘ کے عنوان سے جمعیت کی تاریخ کو جمع کرنا شروع کیا اور اس کے ہر مرحلہ پر مولانا سے رہنمائی لیتا رہا؛ لیکن افسوس کہ یہ کام ابھی ابتدائی مرحلے ہی میں ہے اور مولانا دنیا سے پردہ فرماگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو منور کردے۔ 

جمعیت سے عملی وابستگی کی شروعات شعبہ نشرو اشاعت (میڈیا) میں معاون کار کی حیثیت سے ہوئی تھی؛ لیکن کچھ سالوں بعد ناچیز کو ادارہ مباحث فقہیہ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ ادارہ مولانا معز الدین احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے زیر نگرانی تھا۔ چوں کہ کچھ ہی دنوں بعد ناچیز کو ’’مرکز دعوت اسلام ‘‘ سے وابستہ کردیا گیا؛ اس لیے ایک دو نشست کے علاوہ مولانا سے کچھ خاص استفاد ہ نہیں کرسکا۔ 

مولانا معز الدین احمد صاحبؒ معاملہ فہمی اور رائے کی پختگی کے لیے منفرد شناخت رکھتے تھے۔ بھارتی مسلمانوں کے تعلق سے ملک و ملت کے تقریبا ہر مسئلے میں ان کی رائے بالعموم فیصلہ کن ثابت ہوتی تھی۔کورونا بیماری کے تعلق سے وہ احتیاط کے تو قائل تھے؛ لیکن اس کی وجہ سے عقیدے کو خراب کرنے کے سخت مخالف تھے۔ اصول پسندی اور وضع داری کے حامل تھے۔ انھیں بے اصولی اور اعتدال سے انحراف پسند نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے کچھ احباب ان سے خفگی کا اظہار بھی کرتے تھے؛ لیکن مولانا مرحوم کبھی اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ مولانا کا باطن ظاہر کا اور ظاہر باطن کا مظہر تھا۔وہقول و عمل میں تضاد کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ حق گوئی ان کی فطرت میں شامل تھی۔ بلاوجہ دوسروں کے معاملہ میں دخل دینے سے ان کی ذات بری تھی۔ کم گو ئی اور نیک گوئی کا مزاج رکھتے تھے۔معاملات کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ان کی شناخت تھی؛ غرض مولانا مرحوم ان تمام خوبیوں کے حامل تھے، جن پرایک شخصیت کی تعمیر کی جاتی ہے۔ 

مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند سے ، تعلیمی اور معین تدریسی سے فراغت کے بعد1988میں براہ راست جمعیت علمائے ہند سے وابستہ ہوئے ۔ جمعیت میں ان کا تقرر’’ امارت شرعیہ ہند ‘‘ کی نظامت کے لیے ہوا تھا۔جس کی ذمہ داری انھوں نے بہ خوبی نبھائی ۔وہ ’’ادارہ مباحث فقہیہ‘‘ کے بھی ناظم تھے جس کے تحت تا دم حیات پندرہ فقہی سیمینار منعقد کرائے۔ سولھواں سیمینارکے لیے بھی مکمل تیاری ہوچکی تھی؛ لیکن کووڈ لاک ڈاون کی وجہ سے نہیں ہوپایا۔ ساتھ ہی جمعیت ہلال کمیٹی کے بھی مرکزی ذمہ دار تھے۔ گذشہ کچھ سالوں سے جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے رکن بھی رہے۔ مولانا مرحوم کم و بیش 32سال جمعیت علمائے ہند سے عملی طور پر وابستہ رہے۔ 

مولانا مرحوم اگرچہ سند کے اعتبار سے مفتی نہیں تھے؛ لیکن فقہیات میں گہرا درک تھا ؛ بالخصوص نئے مسائل پر جو بھی رائے قائم کرلیتے تھے، بڑے مفتی حضرات بھی اسی رائے کو اہمیت دینے لگتے تھے۔ اکابر نے شاید یہی خصوصیت دیکھی ہوگی ، جس کی بنیاد پر انھیں جمعیت میں امارت شرعیہ ہند کی نظامت تفویض کی گئی تھی۔ 

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ کے کچھ حصے تو وہ ہیں، جو کسی نہ کسی کتاب میں چھپے ہوئے ہیں؛ لیکن کچھ تاریخیں ایسی بھی ہیں، جو آج تک حیطہ تحریر میں نہیں لایا گیا ہے، وہ سینہ بہ سینہ ہی منتقل ہوتا آرہا ہے۔ تاریخ کے اس حصہ کا ایک وافر ذخیرہ مولانا کے سینہ میں محفوظ تھا۔ائے کاش! مولانا مرحوم سینہ سے صفحات پر منتقل کردیتے تو جمعیت کی تاریخ میں قابل قدر اضافہ ہوجاتا۔ 

اسی طرح جمعیت علمائے ہند کی دستوری دفعات پر ان کی گہری نظر تھی؛ گویا مولانا ان کے حافظ تھے۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ منعقدہ 4؍ اگست 2019میں نئی ممبر سازی اور جمعیت کی یونٹوں کے لیے نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا تو راقم نے ممبر سازی اور انتخابات کے طریقوں پر ایک مضمون لکھنے کا ارادہ کیا۔ دستور کا مطالعہ شروع کیا، تو معلوم ہوا کہ اسے سمجھنا آسان نہیں ہے، چنانچہ مولانا مرحوم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دستور کی تفہیم کی درخواست کی۔ مولانانے تدریسی طریقہ کے بجائے یہ کہا کہ تم نے دستور پڑھ کر جو سمجھا ہے، پہلے وہ لکھ کر لے آو، ہم اس کو دیکھ لیں گے۔ چنانچہ راقم نے ایک مضمون بعنوان: ’’جمعیت کی ممبرسازی کیسے کریں، مقامی، ضلعی ، شہری،علاقائی اور ریاستی جمعیتیں کیسے بنائیں‘‘ لکھ کر پیش کیا، تو اس کے نوک پلک درست کیے۔ 

جب کسی کو عشق ہوجاتا ہے، تومعشوق و مطلوب تک رسائی خواہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو، وہ اسے حاصل کرکے ہی رہتا ہے۔ راقم کے عندیے میں مولانا مرحوم اپنی ذاتی کمالات میں جو کچھ تھے، وہ تو تھے ہی؛ اس کے علاوہ وہ ایک بڑے عاشق بھی تھے۔ انھیں تاریخی کتابوں؛ بالخصوص فقہی اور اکابر دیوبند کی کتابوں سے بہت گہرا عشق تھا۔اردو عربی فارسی میں کوئی ایسی مستند کتاب نہیں ہوگی، جو انڈو پاک میں کہیں چھپتی ہو اور اس کی پہلی اشاعت کی کاپی مولانا کے پاس نہ ہو۔ خود راقم کا مشاہدہ ہے کہ ان دونوں موضوعات پرکتابوں کے حوالے سے اساتذہ دارالعلوم دیوبند بھی آپ سے مشورہ اور مطالعہ کے لیے کتابیں طلب کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ راقم نے سید الملت مولانا محمد میاں صاحب دیوبندیؒ کی کتاب ’’ دینی تعلیمی تحریک اور دستور العمل‘‘ کی نئی اشاعت کے موقع پر احادیث کو اصل مآخذ کے الفاظ سے مطابقت کرتے ہوئے اصلاح کردی۔ تو مولانا نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حدیث کے الفاظ کو تم نے کیوں بدلا؟۔ ناچیز نے عرض کیا کہ پورے ذخیرہ احادیث میں اس طرح جملہ نہیں ہے، جس طرح ابھی کتاب میں چھپا ہوا ہے۔ مولانا نے فرمایا : تم اتنے یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہو، کیا تم نے سارے ذخیرہ احادیث کو پڑھ لیا ہے؟۔ میںنے مکتبہ شاملہ کا حوالہ دیا اور یونی کوڈ بیسڈ تلاش کے بارے میں بتایا ۔ ساتھ ہی پی ڈی ایف بھی مولانا کو دکھایا۔ اس واقعہ کے کچھ دنوں کے بعد دیکھا کہ مولانا نے اینڈورائڈ فون خرید لیا اور انٹرنیٹ پر موجود اکثر اہم کتابوں کا ذخیرہ کرنے لگے۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ ہم لوگوں کو جو کتاب سرسری تلاش میں نیٹ پر نہیں ملتی تھی، تو مولانا سے رابطہ کرتے تھے اور وہ کسی نہ کسی سائٹ تک رہ نمائی کردیتے تھے یا پھر پی ڈی ایف ہی دے دیتے تھے۔ اسے مولانا کا کمال ہی کہا جائے گا کہ پچھلی جنریشن سے تعلق رکھنے کے باوجود نئی چیزوں کو بہت جلد اخذ کرلیتے تھے، جب کہ ناچیز کا تجربہ ہے کہ ہمارے موجودہ اکابر بالعموم یا تو اجنبیت محسوس کرتے ہیں یا ان چیزوں کو دیر سے قبول کرتے ہیں ۔

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

مولانا جمعیت میں وابستگی کے ساتھ ساتھ بزنس مین بھی تھے۔انھیں کتابوں کی اشاعت کا مکمل تجربہ تھا۔یہ کوئی خاص کمال کی بات نہیں ہے، تجارت میں تجربہ تو کسی کو بھی ہوسکتا ہے؛ لیکن مولانا کا کمال یہ تھا کہ خود بھی اہل علم تھے اور اہل علم کے بڑے قدر داں تھے، اور ایسی شخصیات کو کتابوں کی سوغات پیش کیا کرتے تھے۔ راقم کا مشاہدہ ہے کہ کووڈ لاک ڈاون میں جس وقت کہ ایک نادیدہ وائرس نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا، اہل ثروت غربت کے کگار پر اور غریب تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا، ایسے سخت حالات میں بھی اپنی تجارت کے سرمایہ کو بطور تحفہ تقسیم کرتے رہے۔ انھیں دنوں میں راقم ’’تذکرہ سحبان الہند‘‘ کے مطالعہ کے لیے مولانا مرحوم کے پاس گیااور گذارش کی کہ اس کتاب کو ہفتہ دو ہفتہ کے لیے عاریۃ عنایت فرمادیں۔ مولانا نے ایک خاص لہجے میں کہا کہ میں کتاب خریدتا بیچتا ہوں، عاریۃ دوں گا تو کون خریدے گا۔ تمھیں خریدنی  ہی ہوگی۔ راقم نے عرض کیا کہ خریدنے کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے ایک دو ہفتہ کے لیے نہیں، تو کم از کم دو دن کے لیے ہی دے دیں، اس پر بھی وہی جواب دیا۔ آخر میں راقم نے گذارش کی کہ کم از کم مشمولات کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے دیں۔ مولاناؒ نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا۔ کچھ دیر بعد واپسی کی اجازت طلب کی، تو فرمانے لگے کہ کتاب فروشی میرا ذریعہ معاش ہے؛ لیکن اہل طلب کو کتابوں تک رسائی نہ دینا بھی میرا شیوہ نہیں ہے۔تمھارے شوق طلب کو دیکھ کر ہفتہ دو ہفتے کے لیے نہیں؛بلکہ ہمیشہ کے لیے بطور ہدیہ دیتا ہوں۔ چنانچہ مولاناؒ نے ’’تذکرہ سحبان الہند‘‘ ہی نہیں؛بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ’’تذکرہ فدائے ملت‘‘ اور ’’تذکرہ مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ‘‘ بھی عنایت فرمادی۔مولانا کا یہ معاملہ صرف ناچیز کے ساتھ نہیں تھا؛ بلکہ ہر اس رہ روان شوق کے ساتھ ہوتا تھا، جو ذوق طلب کے لیے تشنہ بلب نظر آتے تھے۔مولانا مرحوم کا یہ کردار دراصل اہل فضل و کمال کی معرفت و قدر کا عملی مظہر ہے، جو موجودہ دور مادہ پرستی میں رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جارہا ہے۔ اور ایسی شخصیات کا دنیا سے رخصت ہوجانا قیامت کی نشانیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ 

2015میں شیطان کو کنکری مارنے والے عمل حج کے دوران بھگڈر مچنے کی وجہ سے جہاں سیکڑوں حاجی شہید ہوگئے تھے، وہیں مولانا معز الدین احمد صاحب مرحوم بھی شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔ واپسی پر عیادت کے لیے حاضر خدمت ہوا، تو خود پر بیتے حالات کو سناتے ہوئے بتاتے تھے کہ’’ مفتی فاروق صاحبؒ (مہتمم جامعہ محمودیہ میرٹھ) نیچے گرگئے، میں ان کو بچانے کے لیے آگے بڑھا، تو ایک دوڑتی بھاگتی زبردست بھیڑ نے مجھے بھی گرادیا۔میں نیچے تھا اور میرے نیچے مفتی صاحب مرحوم تھے ۔ حواسہ باختہ لوگ ہم دونوں کو روندتے ہوئے گذرتے رہے؛ یہاں تک کہ میں بے ہوش ہوگیا۔ تین دن کے بعد جب ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ میں ایک ہاسپیٹل میں ہوں۔ مجھے محسوس ہورہا تھا کہ شاید یہ زندگی کے آخری لمحات ہیں؛ لیکن اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا اور مجھے دوبارہ زندگی عطا فرمائی۔ زندگی کا یہ دوسرا چانس اضافی موقع ہے اور شاید یہ دو تین سال تک چلے۔‘‘ پھر دیکھیے خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ 2020کے آوائل میں کووڈ 19 مہاماری نے بھارت کو بھی اپنے شکنجہ میں لے لیا، جس کی وجہ سے اہم اہم شخصیات لقمہ اجل بن گئیں۔ مولانا معز الدین احمد صاحب بھی اس کی چپیٹ میں آگئے ۔ شوگرکے دائمی مریض پہلے سے ہی تھے، اچانک کورونا پازیٹیو ہونے کی وجہ سے کمزوری نے آدبوچا ؛ گرچہ علاج و معالجہ کے حوالے سے ہر ممکن کوشش کی گئی؛ لیکن تقدیر تدبیر پر غالب آگئی اور قضائے اجل آپہنچااور 13ستمبر2020کو میکس ہاسپیٹل دہلی میں آخری سانس لی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ 

راقم اس وقت کووڈ لاک ڈاون کی وجہ سے مادر وطن جھارکھنڈ میں تھا، سوشل میڈیا کے توسط سے جوں ہی یہ خبر ملی،دلی تکلیف ہوئی۔ سینے میں دھچکا سا لگا ، حسرت و افسوس نے چہرے کا رنگ فق کردیا، آنکھیں بھی صدمہ برداشت نہ کرسکیں اور آنسو بن کر چھلک پڑیں، زبان بے ساختہ گویا ہوئی کہ بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی کے پاس ہمارا اصل ٹھکانہ ہے۔ ؎

میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر

اب درد جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم

انھیں جدید قبرستان اہل اسلام واقع آئی ٹی او نئی دہلی میں دفن کیا گیا۔ مجبوری دیکھیے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے جنازہ کو کندھا بھی نہ دے سکے۔ ؎

کس طرح تڑپتے جی بھر کر یاں ضعف نے مشکیں کس دیں ہیں

ہو بند اور آتش پر ہو چڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم

اے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلا

ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بے تاب ہیں ہم

آمدو رفت فلسفہ حیات کا تلازمہ ہے۔ آمد پر خوشی اور روانگی پر افسوس فطری خاصیت کا مظہرہے۔ ایسے موقع پر صبرو قرار کے لیے ایک ہی فارمولہ ہے کہ رضائے مولیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے ، اس کے حکم کے مطابق مرحومین کے لیے دعائے خیر اور ایصال ثواب کرتے رہیں۔ اور ان کے لیے صحیح خراج عقیدت یہ ہے کہ ان کے مشن کو زندہ رکھیں۔ امید ہے کہ ان سطور کے قارئین ان دونوں گذارشات کو عملی جامہ پہنائیں گے۔