26 Jan 2026

مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟

 

محمد یاسین جہازی

سوراج (کامل آزادی)

جمعیت علمائے ہند اور تجویز آزادی

ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے جنگ و تشدد کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نظریے نے جنم لیا، جس کو اردو میں ترک موالات بشرط عدم تشدد، ہندی میں ستیہ گرہ اور انگریزی میں نان کوآپریشن کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کو سب سے پہلے گاندھی جی نے پیش کیا تھا، چنانچہ انھوں نے رولٹ بل کو 6؍فروری1919 کو کونسل میں پیش کرتے وقت اس کی منظوری کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر24/فروری1919 تک اس بل کو مسترد نہیں کیا گیا،تو 30/مارچ1919 سے تحریک ترک موالات شروع کردیں گے۔ چنانچہ اسی تاریخ سے ہندستان میں اس تحریک کا آغاز ہوا۔

تحریک کے ابتدائی دور میں گاندھی جی کے نزدیک  ترک موالات کے تین  بنیادی مقاصد تھے: مسئلہ خلافت، پنجاب کے حالات اورسوراج کا حصول ؛ لیکن سوراج کی تشریح میں کانگریس کے نزدیک مکمل آزادی کا مفہوم شامل نہیں تھا،بلکہ وہ ڈومینین اسٹیٹس کی حامی تھی ۔اسی طرح اس دور کی نمائندہ تنظیمیں بھی سوراج کی تشریح و مراد میں متفق الخیال نہیں تھیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا بنیادی نصب العین حکومت کی وفاداری کرکے بڑے بڑے مناصب حاصل کرنا تھا، اس لیے آزادی کے ریس سے باہر تھی۔اور آل انڈیا خلافت کمیٹی کی بنیادی جدوجہد تحفظ خلافت تھی، اس لیے اس کے یہاں بھی حصول سوراج اولیت نہیں رکھتی تھی۔

23/؍نومبر1919ءکو جمعیت علمائے ہند کے قیام کے بعد ، 6/ستمبر1920ء کو جمعیت علمائے ہند نے ترک موالات کی تجویز منظور کرکے اس تحریک میں شرکت کا آغاز کیا؛ لیکن  گاندھی جی کی تحریک اور جمعیت کی تحریک ترک موالات میں فرق یہ تھا کہ  جمعیت علما کا مطمح نظر صرف مسئلہ خلافت تھا، جیسا کہ 6/ستمبر1920ء کو منظور کردہ تجویز کے متن اور اس کے بعد 8؍ستمبر1920 ء دیے گئے متفقہ فتوی علمائے ہند سے  ظاہر ہوتا ہے۔ بعد ازاں مسیح الملک حکیم اجمل خاں نے جمعیت علمائے ہند کے دوسرے سالانہ اجلاس عام منعقدہ 19-20-21/نومبر1920 کے خطبہ استقبالیہ میں ترک موالات کا مقصد بتاتے ہوئے، خلافت، پنجاب  اور سوراج کا اضافہ کیا ۔ چنانچہ موصوف لکھتے ہیں کہ :

"ان تمام باتوں کے علاوہ اِس وقت ہم خلافت اور پنجاب کے واقعات کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ جس قدر جلد ہم ”سوراج“ حاصل کریں، جس کے لیے ہمیں کونسلوں کے باہر کام کرنے کے لیے بہت سے قابل اور لائق کام کرنے والوں کی ضرورت ہے۔ اگر یہ لوگ کونسلوں میں چلے جائیں گے، تو اس نیک اور اہم کام کے انجام دینے کے لیے ہمارے ہاتھ میں وہ قابل اشخاص کی تعداد نہ ہوگی، جس کی ہمیں ملک کی سچی فلاح و بہبود کے لیے ضرورت ہے۔"

اس کے بعد  18-19-20/نومبر1921 کو دہلی میں منعقد جمعیت علمائے ہند کے تیسرے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے سوراج کو مسلمانوں کا قدیم نظریہ بتاتے فرمایا کہ:

"ایک اور مسئلہ ہے جو ایک ہندی لفظ کے بھیس میں سوراج کے لفظ میں آیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ محض لباس کا تغیر آپ کو حقیقت و معانی سے ناآشنا نہ کردے گا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حقیقت آپ کے لیے کوئی نئی حقیقت نہیں ہے، نیا پیغام نہیں ہے۔ عمل کا کوئی نیا دروازہ نہیں کھلنا چاہتا ہے، مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کرہئ ارضی کے نیچے دنیا کی کوئی جماعت، قوم، فرد نہیں ہے کہ جس کو اس کے خدا اور رسول نے اس حقیقت محبوبہ کو اس کے دل کے ایک ایک گوشہ میں نہ رچا دیا ہو، اور اس کے تمام جسم میں نہ پھیلا دیا ہو۔ یہ حقیقت ہے، جو تیرہ سوبرس سے آپ کے سامنے موجود ہے۔"

اورپھراسی  تیسرے سالانہ اجلاس عام میں  جمعیت علمائے ہند نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ بھارت کو آزاد کرانا مسلمانوں کا نہ صرف وطنی فریضہ ہے؛ بلکہ مذہبی نصب العین بھی ہے، یعنی جمعیت علمائے ہند کا نقطہ نظر کامل آزادی اور استخلاص تام ہے۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

"جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ ہندستان کو موجودہ حکومت کے تسلط و استبداد سے آزاد کرانے کی سعی مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے اور اس کے حصول کے لیے تمام صحیح و مناسب مدلل وسائل کو عمل میں لانا اورآخر تک جدوجہد جاری رکھنا ہمارا مذہبی نصب العین ہے۔ جمعیت اس کا بھی اعلان کرتی ہے کہ ہندستان کی آزادی کا جو نصب العین ہمارے سامنے ہے، اس کے لیے اسلامی احکام کی روسے ضروری ہے کہ:

الف:   مسلمان اپنی مذہبی و شرعی زندگی میں بالکل خود مختار اور آزاد ہوں۔

ب:     مسلمانوں کے لیے احکام وحدود و تعزیراتِ اسلامیہ کے اجرا و تنفیذ میں کوئی قوت مانع اور مزاحم نہ ہو۔ جمعیت تسلیم کرتی ہے کہ ہندستان کی اقوام کے ساتھ متفق ہوکر بہ تحفظ حدود شرعیہ ایسی آزادی ہم حاصل کرسکتے ہیں اور حاصل کریں گے۔"

اس نظریے کی مزید تشریح جمعیت علمائے ہند کی اس روداد میں ملتی ہے، جسے حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی ناظم جمعیت علمائے ہند نے تیسرے سالانہ اجلاس عام منعقدہ(-19-20/نومبر1921) کے موقع پرتحریر کی تھی ۔ چنانچہ مولانا جمعیت علما کی تشکیل کے حوالے سے علمائے کرام کے فرائض بیان کرتے ہوئے ان کو عملی جامہ پہنانے کا جو فارمولہ پیش کرتے ہیں، وہ ہندستان کی  کامل آزادی  ہے۔ چنانچہ مولانا لکھتے ہیں کہ:

"پس آج علمائے اسلام کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ نظام شرعی کے ماتحت پہلے خود مرکزی طاقت و اجتماعی قوت بہم پہنچائیں اور پھر امت کو مرکز کی دعوت دیں؛ لیکن اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہ کیا جائے کہ حقیقی رہنمائی اور مقصود اصلاح مسلمانوں کی اس وقت تک محال قطعی ہے، جب تک ہم کو کامل آزادی حاصل نہ ہوجائے۔ استقلال تام،یا حریت کامل ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو ایک طرف علما کو فرائض کی انجام دہی میں مدد دے گا اور دوسری جانب امت میں قبول و انقیاد کی اہلیت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ہی وہ دعوت الی الخیر ہے، جو فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بھی مقدم سمجھا گیا ہے۔"

اس کے بعد 9-10/فروری1922 کو جمعیت علما کی مجلس متنظمہ کا اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر دو میں عہد نامہ نیشنل والنٹیر کور کی شرط نمبر (ب) میں  ترک موالات کا مقصد بتاتے ہوئے لکھا گیا  کہ

"کیوں  کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہندستان کی موجودہ حالت میں خلافت، و پنجاب کے معاملات اور حصول سوراج کے لیے بہترین طریقہ ترک موالات مع عدم تشدد و عدم تعدی ہے۔"

یہ تمام حوالے شاہد ہیں کہ جمعیت علمائے ہند کے اکابر کے نزدیک سوراج سے  مراد کامل آزادی  تھی۔

اس سوراج کو حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا، اس کو ترک موالات ، نان کوآپریشن اور ستیہ گرہ کہا جاتا ہے۔بہ الفاظ مختصر یہ کہ آئینی تحریکات کے آغاز میں کامل آزادی کا سب سے پہلے مطالبہ جمعیت علمائے ہند نےاپنے تیسرے سالانہ اجلاس عام منعقدہ  18-19-20/نومبر1921 کو  کیا۔

آل انڈیا خلافت کانفرنس اور مکمل آزادی کی تجویز

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ آل انڈیا خلافت کمیٹی کا بنیادی مقصد تحفظ خلافت تھا، اس لیے ابتدائی دور میں کمیٹی اپنے مقصد پر فوکس رہی۔ بعد ازاں جمعیت علمائے ہند کے کامل آزادی کے فیصلے کے چار سال بعد آزادی کامل کی تجویز منظور کی۔ گرچہ 1921 میں بھی مولانا حسرت موہانی نے کامل آزادی کا فیصلہ منظور کرانے کی کوشش کی ، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ چنانچہ اس سلسلے میں درج ذیل اقتباس سے پوری صورت حال سامنے آجاتی ہے:

’’25-26/دسمبر1921 کوآل انڈیامسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی کے اجلاس ہوئے، جن میں کئی قرار دادیں پاس کی گئیں ۔سبجیکٹ کمیٹی میں مجاہد دستورفقیدالہندمولانا حسرت موہانی اور مولانا  آزادسبحانی نے مکمل آزادی وبرطانوی شہنشاہیت کی تباہی کے متعلق اپنی تجویز پیش کی، جس پر بہت دیر تک بحث و مباحثہ ہوا ۔ آخر کار اس تجویز کو پاس نہیں کیا گیا۔ اور آل انڈیا خلافت کا نفرنس کے اجلاس میں کافی غور و خوض کے لیے پیش ہونا قرار پایا۔(مرقع اجتماعات احمدآباد، ص/90)

''اس کے بعد مجاہد دستور فقید الہند حضرت مولانا سید فضل الحسن حسرت موہانی نے بہ تحریک حضرت مولانا آزاد سبحانی مکمل آزادی حاصل کرنے وبرطانوی شہنشاہیت کو تباہ کر انے کے متعلق ایک رزولیوشن پیش کیا ،جس کا مضمون یہ ہے ۔
حصول آزادی کی تجویز
چوں کہ برٹش گورنمنٹ کی یہ پالیسی  اورمکمل رویہ  کی وجہ سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ برطانوی امپریلزم جزیرة العرب و مقدس مقامات اسلام کو غیرمسلموں کے اثر واقتدار سےپورے طور پر آزاد رہنے دے گی۔ اور اس کا یہ مطلب ہے کہ خلافت اس درجہ میں محفوظ و مامون نہ رہے گی، جس میں شریعت اسلام اس کےتحفظ کی متقاضی ہے، لہذا خلافت کی مستقل حفاظت اور ہندستان کی خوش حالی حاصل کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ برطانوی امپریلزم کوتباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ ( خلافت) کانفرنس اس رائے پر قائم ہے  کہ اس کوشش کو عمل میں لانے کا صرف یہی طریقہ ہے مسلمان دیگر باشندگان ہند کی شرکت میں ہندستان کو کامل طورسے آزاد کرلیں۔ اور اس کانفرنس   کی رائے ہے کہ مسلمانوں کی رائے سوراج کی بابت وہی ہے، جو مکمل آزادی کی مراد ہے اور کا نفرنس  امید کرتی ہے کہ دیگر باشندگان ہند بھی اسی نقطہ نظرپر قائم ہوں گے۔''
اس رزولیوشن پر زبردست بحث و مباحثہ ہوا۔ آخرمیں سبجیکٹس کمیٹی خلافت کا نفرنس کے ایک ممبر نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ہمارے نظام اساسی کے بموجب کوئی تحریک وتجویز جو ہمارے عقیدہ میں تبدیلی کی نوعیت رکھتی ہے، منظور شدہ کے طور پر پیش نہیں کی جا سکتی تاوقتیکہ سبجیکٹس کمیٹی میں یہ دو تہائی ممبروں کی اکثریت نے اس کے موافق رائے نہ دی ہو۔
حکیم اجمل خاں صاحب صدر خلافت کا نفرنس نے اس اعتراض کو تسلیم کیا اور آزادی کی تجویز کو خلاف قاعدہ قرار دیا۔ مجاہد دستورفقید الہند حضرت مولانا حسرت موہانی نے بہت زور سے پروٹسٹ کیا اور بتایا کہ جب اسی قسم کا اعتراض انھی ممبر صاحب کی طرف سے سبجیکٹس کمیٹی میں کیا گیا تھا ، اور جناب صدر نے اس کو نامنظور کردیا تھا؛ لیکن اب کا نفرنس کے کھلے میدان میں اس اعتراض کو تسلیم کرلیا گیا۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ حقیقتاً صدر صا حب نے ان کی تجویز  کو خلاف قاعدہ قرار دینے کی یہ حکمت عملی اس لیے برتی ہے کہ وہ اس کا نفرنس سے ان کے اس امر کا اعلان کرنے میں مانع آئیں کہ ان کے سوراج سے مکمل آزادی مراد ہے ۔
گو کثیر التعداد حضرات مولانا حسرت موہانی کے رزولیوشن کے موافق اور موئید تھے؛ لیکن آخر کار رزولیوشن خلاف قاعدہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔(مرقع اجتماعات احمدآباد،ص/108-109)

آل انڈیا خلافت کانفرنس نے مکمل آزادی کی تجویز کب منظور کی؟

25 /دسمبر 1925 کو کانپور میں منعقد ہونے والی آل انڈیا خلافت کانفرنس  میں آزادی کامل کی تجویز منظور کی گئی۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

تجویز نمبر15: اس کانفرنس کی رائے میں ملک کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی باہمی نااتفاقی روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے اور متحدہ قومیت کا مقصد دورتر ہوتاجاتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، یہ کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ ہندستان کی قومی جدوجہد اور اس کی آزادی ہی ان کا ایک ایسا قدرتی اور غیر متزلزل نصب العین ہے، جس سے کسی حال میں وہ غافل نہیں ہوسکتے۔

محرک: مولانا محمد علی صاحب۔ موید: مولوی اسماعیل صاحب داؤدی۔

باتفاق منظورہوئی۔( سہ روزہ الجمعیۃ، 2 /جنوری 1926ء)

آل انڈیا کانگریس اور  آزادی کامل کی تجویز

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ کانگریس کے نزدیک سوارج میں مکمل آزادی کا مفہوم شامل نہیں تھا۔اس میں میں مکمل آزادی کے مفہوم کو  شامل کرنے کے لیے سب سے پہلی کوشش مولانا حسرت موہانی صاحب نے کانگریس کے اجلاس منعقدہ احمد آباد میں کی، جس کی مختصر روئیداد درج ذیل ہے:

27/دسمبر1921 کو احمد آباد میں آل انڈیا کانگریس کی سبجیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں گاندھی جی کی طرف سے پیش کردہ تجویز نمبر(1) میں مولانا حسرت موہانی نے کانگریس کے نصب العین کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے مکمل آزادی اور خود مختاری کی تجویز پیش کی۔

گاندھی جی کی تجویز کی میں مولانا حسرت موہانی کی ترمیم کا مقصد یہ تھاکہ

"کانگریس کا نصب العین یہ ہو کہ تمام معقول اور ممکن ذرائع سے سوراج حاصل کیا جائے بجائے اس کے کہ صرف پرامن جائزذرائع اور تدابیر سے۔''

 اس ترمیم کی کسی شخص نے معقول تائید نہیں کی۔ اورمحرک نے بعد کو واپس لے لیا۔ دوسری ترمیم یہ تھی کہ ''سوراج سلطنت برطانیہ سے باہر رہ کر حاصل کیا جائے۔'' یہ ترمیم نہایت ہی گرم اوربحث طلب تھی اور اکثر لوگوں نے نہایت ہی پرجوش اور ولولہ انگیز تقرریں کی ۔ مولانا حسرت موہانی نے اپنی تقریرمیں کہا کہ ان کی نظر میں سوراج کی تعریف صرف یہی ہے کہ کامل آزادی اور خود مختاری حاصل ہو۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرایہ عقیدہ ہے کہ ہماری سیاسی نجات صرف اسی بات  پرمنحصرہے کہ ہم سلطنت برطانیہ کا خاتمہ کریں۔ گذشتہ سال سے یہ برابر ظاہر ہورہاہے کہ پنجاب میں خلافت کے مسائل میں برٹش گورنمنٹ سے کبھی انصاف حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک برطانیہ کی سلطنت کا وجود رہے گا، اس کے بدارادوں میں ہر گز فرق نہ آئے گا۔ حسرت کی تائید میں تقریباً ایک درجن اصحاب نے تقریریں کیں اور انھوں نے بھی حسرت کے برابر ہی جوش و خروش کا اظہار کیا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم ادھوری بات نہ کہیں؛ بلکہ سوراج کے متعلق ہماری جو توقعات ہیں، ان کا صاف طور پر اظہار کردیں ۔اسی قدر تعداد میں دیگر مقررین نے اس ترمیم کی مخالفت کی اور کہا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے کہ ہم اس بات کی تشریح کریں کہ  کس قسم کی گورنمنٹ ہندستان کے لیے موزوں ہوگی۔ پہلے تو ہم کو ہندستان کواس قابل بنا لینا چاہیے کہ وہ اپنے لیے طریق حکومت کا انتخاب کر سکے۔ اس کے بعد پھر یہ طے کیاجائے گا کہ کس قسم کی حکومت یہاں قائم کی جائے۔ کا نگر یس کا موجودہ منصب العین ہی سب سے بہتر ہے۔(مرقع اجتماعات احمد آباد، ص/12-13)

سبجیکٹ کمیٹی کے بعدآل انڈیا کانگریس کا  28/دسمبر1921 کو اجلاس عام کا آخری سیشن ہوا، جس میں گاندھی جی کی تجویز نمبر(1) پیش کی گئی۔ اس کی تائید میں مولانا عبدالماجد ، مولانا سید سلیمان ندوی ،خواجہ عبدالرحمان و دیگر غیر مسلم حضرات نے تقریریں کیں اور قرارداد پاس ہوگئی۔

مہاتما گاندھی کی اہم قرارداد پاس ہونے کے بعد مجاہددستور فقید الہندمولانا حسرت موہانی نے اپنی ترمیم ایک قرار داد کی صورت میں، بابت تبدیلی عقیدہ کانگریس پیش کی، جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کے نزدیک قومی پارلیمنٹ ہند کا عقیدہ اور نصب العین بغیر ملکی نگرانی کے تمام جائز اور باامن ذرائع سے حصول سوراج(حصول حریت کامل ) ہونا چاہیے۔

 مولانا نے اپنی ترمیم پیش کر کے ایک مختصر؛ مگر زبردست تقریر کی۔ مولانا نے فرمایا کہ مہاتما گاندھی نے ناگپور کانگریس میں کہا تھا کہ اگر مظالم پنجاب اور پنجاب کی گورنمنٹ نے تلافی نہ کی ، تووہ اعلان آزادی کردیں گے۔ مولانا نے کہا کہ میں چاہتا ہوں اب جب کہ اس تجربہ میں ایک سال ضائع ہوگیاہے،مہاتما جی اپنا وعدہ  پورا کریں۔ مولانا نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوے فرمایا کہ مظالم پنجاب اور مظالم خلافت اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا، جب کا تک کہ برطانوی امپریلزم وبرطانوی شہنشاہیت کو تباہ کر کے اور حریت کامل کے لیے مزید کوشش کر کے ان کے اعادہ کو ناممکن نہ بنا یا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہندستان کو نو آبادیات کا سا درجہ نہیں دیا جائے گا؛ کیوں کہ جن لوگوں کو نو آبادیات میں مراعات حاصل ہوئی ہیں، وہ اسی مذہب کے پیروہیں اور ویسا  ہی سفید رنگ رکھتے ہیں، حالاں کہ ہندستان کی حالت قطعی اس طرح کی نہیں ہے ۔ مولانا حسرت موہانی نے اپنی تقریر کو جاری   رکھتے ہوئے فرمایا کہ حضرات ڈیلی گیٹ یہاں پر بدیں غرض تشریف لائے ہیں کہ وہ بطور اپنے ایک نصب العین کے حریت کامل کا اعلان کریں ۔ مولانا نے پوچھا کہ کیا وہ ویسے ہی واپس جائیں گے؟ (بعض نے کہا نہیں)۔

 مولانا حسرت موہانی کی تائید میں چار ز بردست مقرروں نے تقریریں کیں، جن میں مسٹرآر دنیکترام،  سوائے کی ، آرآئند اور پی پی انور شامل تھے۔''۔(مرقع اجتماعات احمد آباد، ص/43)

اس کے بعد گاندھی جی نے اس کی مخالفت میں تقریر کی۔ گاندھی جی کی تقریر ختم ہوتے ہی پریزیڈنٹ (مسیح الملک حکیم اجمل خاں صاحب) نے مولانا حسرت موہانی کی تحریک پر ووٹ لیے ؛ لیکن وہ بڑی اکثریت کے ساتھ مسترد کردی گئی۔

کانگریس نے مکمل آزادی کی تجویز کب منظور کی؟

اس کے تقریبا آٹھ سال بعد کانگریس نے مکمل آزادی کامطالبہ پیش کیا۔واقعہ یہ ہوا کہ   29/دسمبر1928میں کلکتہ کے کانگریس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر حکومت برطانیہ کو نہرو رپورٹ کے منظور کرنے کاجو چیلنج دیا گیا تھا، 29/دسمبر1929 کو اس نوٹس کی میعاد ختم ہوگئی؛ مگر برطانوی حکومت نے نہرورپورٹ کی منظور کردہ تجاویز کو قابل قبول نہ سمجھ کر اسے رد کردیا، تو 28/ دسمبر1929ء کو آل انڈیا نیشنل کانگریس نے لاہور دریائے راوی کے کنارے اپنے سالانہ اجلاس میں نہرور پورٹ کو دریائے راوی کے سپرد کر کے ہندستان کی مکمل آزادی کاریزولیوشن پاس کر دیا ۔ بنیاد کانگریس (1905ء) سے کانگریس سمیت دوسری جماعتیں انگریزوں سے ہندستان کے لیے صرف درجہ نو آبادیات کا مطالبہ کرتی چلی آئی تھیں؛ لیکن 1929ء کا سال ہے کہ کانگریس نے برطانیہ سے ہندستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم،ص/468)

کانگریس کے چوالیسویں سالانہ اجلاس کے موقع پر یکم جنوری 1930ء کو لاہور میں انقلاب زندہ باد کے نعروں کی گونج میں آزاد ہندستان کا جھنڈا لہرایا گیا ، آزادی کا اعلان نامہ پڑھ کر سنایا گیا اور 26/جنوری کو ہر سال یوم آزادی منانے کا فیصلہ کیا گیا۔( سکسٹی ایرس آف کانگریس ، ص/394)

آل انڈیا مسلم لیگ اور مکمل آزادی کی تجویز

30/دسمبر1921 کو احمد آباد میں بوقت نو بجے شب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس عام کی دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ اس میں چند تجاویز منظور ہونے کے بعد کامل آزادی حاصل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

"اس کے بعد حضرت مولانا حسرت موہانی صدر آل انڈیامسلم لیگ نے نعرہ ہائے تحسین کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ جس رزولیوشن میں آزادی حاصل کرنے کے اور برطانوی امپریلزم کو تباہ و برباد کرنے کو لیگ کا مقصد و منشا قرار دیا گیا تھا، اس میں سبجیکٹ کمیٹی میں بحث و مباحثہ ہو چکا ہے اور چھتیس رایوں کی مخالفت و بتیس  رایوں کی موافقت سے وہ نا منظور ہوچکا ہے اور چوں کہ سبجیکٹ کمیٹی کا فیصلہ آزادی کے سوال پر لیگ کا ایک سلجھا ہوا فیصلہ ہے، اس لیے وہ اس رزولیوشن پر یہاں بحث کیے جانے کی اجازت دے سکتے ہیں؛ لیکن کوئی  رائے نہ لی جائے گی؛ کیوں کہ ان کے خیال میں لیگ کی ایک سبجکیٹ کمیٹی کافیصلہ لیگ کی عام رائے کا آئینہ ہے۔(چیرز)

جناب صدر کے اس اعلان کے متعلق بعض اعتراضات بھی اٹھائے گئے؛ لیکن مولانا نے جواب میں فرمایا کہ جن رزولیوشن پرچاہیں، باختیار خودمباحثہ کی اجازت دے سکتے ہیں، تاکہ یک اہم مسئلہ کے متعلق کافی طورپر اظہار رائے ہو سکے۔ بعد ازاں آپ نے مولانا آزاد سبحانی کو"کامل آزادی حاصل کرنے کے رزولیوشن"کو پیش کرنے کی اجازت دی۔ چنانچہ مولانا آزاد سبحانی نے اس رزولیوشن کو پیش کیا۔(سبجیکٹ کمیٹی میں بھی مولانا ہی پیش کرچکے تھے)۔

"چوں کہ برطانوی حکومت کے گذشتہ رویہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جزیرة العرب اور دنیائے اسلام کو غیرمسلم سیاسی اقتدار سے آزا در رہنے دیں گے، جس کی وجہ سے حفاظت خلافت مشکوک ہوگئی اور ہندستان کی مکمل بہبودی موجودہ حالات میں ناممکن ہے، اس لیے خلافت کی مستقل حفاظت اور ہندستان کی مکمل بہبودی کو یقینی طورپر حاصل کرنے کے لیے برطانوی شہنشاہیت کی تباہی کی کوششیں لازمی تھیں ۔ اس کوشش کا ہندستان میں صرف ایک ہی ذریعہ ہے،اور وہ یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمان دوسرے باشندوں کے ساتی مل کر ملک کی مکمل خود مختاری کے لیے کوشش کریں۔ سوراج کے متعلق ہندستان کے مسلمانوں کا متذکرہ بالا ذریعہ سیاسی نصب العین ہوگا۔ اور وہ خواہش کرتے ہیں کہ ہندستان کے دوسرےفرقوں کابھی یہی نصب العین ہو۔"

مولانا آزاد سبحانی کی زوردار تقریر

مولانا نے مندرج بالا تحریک کوپیش کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ہندو مسلم اتحاد پر پورا یقین و اعتمادہے اور غیر اشتدادی ترک موالات کوبھی بے انتہا ضروری سمجھتے ہیں اور ان کا یہ یقین ہے کہ یہی چیز لڑائیوں کے لڑنے میں ان کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسے بھی بخوبی  سمجھتے ہیں۔ کہ مہا تما گاندھی اس کے پورے طور پر مستحق ہیں کہ ان کو کامل خودمختاری کے اختیارات دیے جائیں اور کانگریس نے انھیں یہ اختیارات دے بھی دیے ہیں؛ لیکن اسی کے ساتھ ان کا یہ بھی عقیدہ وخیال ہے کہ برطانوی اپریلزم سےہندستان اور اسلامی دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اوران کے سامنے  آزادی کا ایک اصول پیش کرکے اسے بالکل تباہ وبرباد کردینا چاہیے۔

اس رزولیوشن کی تائید میں درجن بھر تقریریں ہوئیں۔اس کے بعد آنریبل مسٹر رضا علی کھڑے ہوئے اور انھوں نے رزولیوشن کی مخالفت کرتے ہوئے ایک پر زور تقریر کی۔

مسٹر رضا علی کی تقریر

 حضرات ! پریزیڈنٹ کے فیصلہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ لیگ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتی کہ جو کانگریس نے نہ اٹھایا ہو۔ آپ نے اس تحریک اور اس کے پروگرام کے ساتھ اپنا ااختلاف رائے  ظاہر کیا اور بتایاکہ محض بڑھ بڑھ کرباتیں بنانا ان کو سمجھنے کے بغیر فضول ہے۔ میرے خیال میں اس جدوجہد سے اگر یہ ٹھیک طور پر جاری رکھی گئی، ممکن ہے ہمیں آزادی حاصل ہو جائے ؛لیکن میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ اگر ایسی آزادی حاصل ہو بھی گئی تو  ہم بھی اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر انگریز آج ملک چھوڑ جائیں، تو کمانڈر ان چیف ( سپہ سالار اعظم) کون ہوگا؟ چند آوازیں آئیں کہ "انور پاشا ہوں گے، انور پاشاہوں گے۔" مگر مقرر نے اس کی تردیدکی اور کہا کہ وہ کسی اجنبی کا سپہ سالار ہونا کسی طرح گوارا نہیں کرسکتے۔( اس پر چند آوازیں پھر آئیں کہ انور پاشا ہم کو صرف فنون جنگ سکھانے کے لیے آئیں گے)

آخر کار بہت سے مباحثہ کے بعد کامل آزادی حاصل کرنے کا اہم رزولیوشن پاس کرائے جانے کے متعلق یہ آخری کوشش بھی ناکامیاب رہی اورمولانا  آزاد سبحانی کا ہم رزولیوشن پاس نہیں ہوا۔ (مرقع اجتماعات احمدآباد، ص/87-89)

آل انڈیا مسلم لیگ نے مکمل آزادی کی تجویز کب منظور کی؟

آل انڈیا مسلم لیگ نے مکمل آزادی کی تجویز 15؍اکتوبر1937ء میں منعقد اپنے لکھنو کے اجلاس میں کیا۔ جناب چودھری خلیق الزماں صاحب لکھتے ہیں کہ  :

’’دوسرے دن پندرہ اکتوبر کو مسلم لیگ کا پہلا اجلاس ہوا۔ صدارتی تقریر کے بعدرات نو بجے مسلم لیگ کو نسل کا اجلاس راجہ محمود آباد کی کنکر والی کوٹھی میں منعقد ہوا ۔ 1913ء میں سر محمد شفیع کی صدارت میں لکھنو میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد میں سیلف گورنمنٹ کے الفاظ شریک کیے گئے تھے ۔ اس کے بعد1936 ء تک کوئی تغیر اس پالیسی میں نہیں ہوا۔ مسلم یونٹی بورڈ سے مفاہمت کے سلسلے میں مسٹر جناح نے مولانا حسین احمد سے یہ کہا تھا کہ جب ہم آپ کو مسلم پارلیمنٹری میں اکثریت دیتے ہیں، تو آپ مکمل آزادی کا اس بورڈ سے قبول کر سکتے ہیں ۔

یہ گفتگو مسلم یونٹی بورڈ کے نمائندوں سے جناح صاحب نے ،8؍ فروری 1936ء کوکی تھی۔ اس کے بعد مسلم لیگ کے بمبئی کے سالانہ اجلاس 1936 ء میں مسٹر جناح نے سیلف گورنمنٹ کے الفاظ کی بجائے (RESPONSIBLE GOVT) یا ذمہ دار حکومت کے الفاظ استعمال کیے۔ اب اس کونسل کے اجلاس میں ، میں نے سب سے پہلے یہ تجویز پیش کی کہ مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد میں یہ ترمیم کی جاے کہ مسلم  لیگ کا مطمح نظر ہندستان کی مکمل آزادی ہے، جس کے اجزاپوری آزاد جمہوری حکومتیں ہوں گی، جن میں مسلم اور تمام دوسری اقلیتوں کے حقوق اور مسلم مفاد کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔ جیسے ہی میں اپنی تائید میں تقریر ختم کر چکا، تو جناح صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ وہ آزادی کے لفظ کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ اس پر مولانا حسرت موہانی فورا کھڑے ہو گئے اور ایک بڑی تکلیف دہ بحث شروع ہوگئی اور سارے مجمع میں سناٹاچھا گیا۔ ادھر بحث  بڑھتی جا رہی تھی ،ادھر میری اس وقت بہت بری حالت تھی۔ میں سوچتا تھا ک اگر اس وقت یہ نزاع جاری رہا، تو بالکل ووٹ شماری کی نوبت آئے گی۔ اس میں اگرہم جیت گئے ، جو یقینا ہوتا، تو مسٹر جناح کو ہم ہاتھ سے کھو دیں گے۔ اور اگر ہار گئے، توجمعیت علما کی فتح ہو جائے گی؛ کیوں کہ ان کو موقع مل جائے گاکہ مسلم لیگ کو بدنام کرتے رہیں کہ اس  جماعت کو انگریزوں نے اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے اور وہ انھی کے اشاروں پر ناچتی ہے؛یہاں تک کہ وہ ہندستان کی آزادی تک کے خلاف تھے ۔ میں یہ سوچ رہا تھا اور دوسری طرف تقریر بازی ہور ہی تھی۔ مسٹر جناح  کسی طرح آزادی کے لفظ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ جب دو اڑھائی بج  گئے، اس وقت آخری مرتبہ میں نے مسٹر جناح سے اپیل کی کہ آپ گاندھی جی کی طرح نہ بنیں اور ہمارے حالات کا پورا جائزہ لے کر دیکھیں، تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میری تحریک کو رد کرنے سے مسلم لیگ کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ خدا کے لیے اس کو بچائیے ۔ اور اپنے ہی ہاتھوں آپ اس کو ہلاکت کی دعوت نہ دیجیے۔ مسٹر جناح بہت جھنجھلا کر اٹھے اور کہا کہ میں پوری آزادی مان لوں گا؛مگر مکمل آزادی نہیں قبول کروں گا ۔

اس ایک فقرے سے ان کی اندرونی ذہنیت اور طرز تخیل کا پتہ لگ جاتا ہے، یعنی یہ کہ وہ کبھی شکست قبول نہیں کر سکتے اور اس کو وہ بہرنوع کسی نہ کسی نوعیت سے اپنی فتح بنا لیتے ہیں ۔ چوں کہ دونوں الفاظ میں کوئی فرق نہ تھا،اس لیے میں نے اور تمام مجمع نے جناح صاحب کی فل انڈی پینڈیس کو لبیک کہا۔‘‘ (شاہراہ پاکستان ،ص؍697-698۔ بحوالہ کاروان احرار، جلدسوم،ص؍177-178)

اس کے بعد آزادی کامل کے لیے تجویز نمبر 3 منظور کی گئی، جو درج ذیل ہے:

مسلم لیگ کا عظیم مقصد حیات ہندستان کی آزادی ہے ۔ ایسی آزادی جس میں اکثریت والے صوبوں کے اندر مسلمانوں کو آزادی حاصل ہو۔(کاروان احرار، جلد سوم، ص؍179)

مولانا حسین احمدمدنی اور آزادی کامل

بیسویں صدی کے آوائل کے مقبول رہ نماؤں کی بات کریں، تو سب سے پہلے آزادی کامل کا نظریہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب کے یہاں ملتا ہے۔ چنانچہ 21/فروری 1921 کو سیوہارہ بجنور میں منعقد خلافت کانفرنس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے خطبہ صدارت میں ہندستان اور عالمی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ :

"ہم اس کلی کو فقط ایک فرد میں منحصر پاتے ہیں ہیں، وہ یہ کہ حکومت مستقلہ حاصل کی جائے ،جس کو سو راج سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ا س کے ماسوا تجارت نے جملہ راستے بند کر دیے۔ جب تک وہ نہ حاصل ہو،اپنے آپ کو، اور نہ آئندہ نسلوں کوزندہ خیال کرنا اور نہ دوسری ایشیائی اور افریقی قوتوں کی محافظت کرنا ممکن سمجھنا چاہیے۔
سوراج کے لیے ترک موالات ضروری ہے:گر ایسی بڑی اور متعصب حکومت کو- جو گر چہ وہ زبان سے وعدہ آزادی کرتی رہی ہو؛ مگر طرز عمل اور گذشتہ و حالیہ تجارت بالکل اس کے غلط ہونے کے شاہد ہیں- سوائے ترک موالات او رقطع علائق تناصر و مشارکت کسی طرح ہم کسی طرح مجبور نہیں کر سکتے،  جس کی تعلیم شریعت نبویہ  بھی علی اکمل الوجوہ فرمارہی ہے۔ا سلام –جس میں سیاست شریعت میں داخل کر دی گئی ہے- اس کو فرض اور ضروری کہہ رہا ہے۔ لہذا عالم اسلام پر یہ فریضہ شرعیہ بھی اسی  طرح کا ہو، جیسے کہ فریضہ سیاسیہ تھا۔ یہی وہ طریقہ  ہےکہ نہایت امن اور شائستگی کے ساتھ آپ مقصد کو پہنچ سکیں گے۔ یہی وہ طرز عمل ہے کہ کمال صلح شوری کے ساتھ بغیر فتنہ و شورش آپ اپنے اور آئندہ نسلوں کے حقوق کو زندہ کر سکیں گے۔ یہی وہ شاہراہ ہے کہ بلا جنگ وجدال  آپ مغرور سروں اور متکبر قلبوں کے گھٹنوں کو حقانیت کی دیوی کے سامنے جھکا سکیں گے۔ یہی وہ آفتاب ہے کہ بغیر لوٹ مار، داروگیر آپ اپنے ملک اور قوم کو روشن کر سکیں گے ۔(اسیر مالٹا کا پیغام، ص/65-66)

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور سوراج

ان کے بعد دوسرا نام امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کا  آتا ہے، جنھوں نے 25/اگست1921 کو آگرہ میں منعقد صوبائی خلافت کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے خطبہ صدارت میں سوراج  یعنی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ

" لیکن جب تک برٹش گورنمنٹ فریق محارب ہے، وہ خلافت کے مطالبات پور نہیں کرتی ، جب تک ہندستان کو سچے اور حقیقی معنوں میں سوراج نہیں دیتی ، یعنی کوئی نئی اور کسی قدرترقی یافتہ ریفارم کی اسکیم نہیں؛ بلکہ سوراج ۔ جس وقت تک انگریزی گورنمنٹ ان تمام امور کو پورا نہیں کرتی ، اس وقت تک مسلمانوں کے لیے اس کا وجود، اس کے گورنروں کا وجود، اس کی عدالتوں کا وجود ظلم و ستم کی کارروائیاں ہیں، ان کا وجود لڑنے والوں کا وجود ہے ۔ مسلمان کے لیے ممکن ہے کہ وہ بچھوؤں کو ہتھیلی پر لے کر دودھ پلائے؛ مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ انگریزوں کے ساتھ صلح کرے۔ (خطبات آزاد، ص/ 50۔ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص/250)

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ نکلا کہ اشتدادی تحریکات میں ناکامی  سے سبق لیتے ہوئے ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے آئینی طریقہ اختیار کیا گیا، جس کے لیے سب سے پہلے گاندھی جی نے رولٹ بل کی منظوری کے خلاف فروری 1919 میں مسئلہ خلافت، پنجاب اور حصول سوراج کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ستیہ گرہ اور ترک موالات  کے  آغاز کا اعلان کیا اور 30 مارچ 1919 کو عملی طور پر آغاز کردیا گیا۔ گاندجی کے نزدیک سوراج کے مفہوم میں مکمل آزادی کے بجائے ڈومینین اسٹیٹس کا تصور شامل تھا۔جمعیت علمائے ہند نے اپنے تاریخ قیام(23/نومبر1919) کے بعد6/ستمبر1920 کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں پہلی مرتبہ ترک موالات کی تجویز منظور کی ۔ اس تجویز کے متن سے ترک موالات کا مقصد صرف حصول خلافت کی وضاحت ہوتی ہے، سوراج کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی طرح ترک موالات پر دیے گئے فتوؤں میں بھی تحفظ خلافت کو بنیاد بنایا گیا ہے؛ البتہ جمعیت کے تیسرے اجلاس عام منعقدہ 18-19-20/نومبر1921 میں منظور کردہ تجویز نمبر(4) میں غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ بھارت کو آزاد کرانا مسلمانوں پر فرض ہے۔

اس بنیاد پر یہ دعوی کرنا بجا ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے سب سے پہلے 20/نومبر1921 کو بھارت کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں آل انڈیا خلافت کمیٹی نے   25 /دسمبر 1925 کو کانپور میں مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد  28/ دسمبر1929ء کو آل انڈیا کانگریس نے مکمل آزادی کا رزولیوشن منظور کیا۔اور سب سے آخر میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 15/اکتوبر 1937 کو کامل آزادی کی تجویز منظور کی۔

آج جنوری کی 26 کی تاریخ ہے، جو تاریخ میں جشن جمہوریہ سے معنون ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ جمہوریت باقی ہے، جس کے لیے جمعیت علمائے ہند اور دیگر وطن پرور جماعتوں نے جانی ، مالی ہر طرح کی قربانیاں پیش کی تھی؟؟؟؟؟