23 Oct 2018

Peshab ke Aadab

پیشاب پاخانہ کے آداب


پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (26) 

تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-مئی-1919_00-جون-1976) نور اللہ مرقدہ
پیشاب کے لیے جب بیٹھے تو پہلے بسم اللہ پڑھے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: جب پاخانہ جائے ، تو جن کی آنکھوں سے پردہ انسان کی شرمگاہ کے لیے بسم اللہ ہے۔ 
(ھذا حدیث غریب اسنادہ لیس بقوی قال علی القاری: و مع ھذا بہ فی فضائل الاعمال سیما ، و قد رواہ احمد والنسائی عنہ، و رویٰ الطبرانی عن انس نحوہ)
یعنی بسم اللہ پڑھ کر ستر کھولا جائے تو انسان کی بے ستری جنوں کو نظر نہیں آتی ہے ، اس لیے جب پیشاب پاخانہ کے لیے بیٹھے تو بسم اللہ پڑھ لے۔بلا ضرورت پیشاب کھڑے کھڑے کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جو شخص یہ بیان کرے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوکر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی بات کو نہ مانو۔ آپ ﷺ ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔ 
رواہ احمد و الترمذی والنسائی و اسنادہ حسن جید قال الترمذی: حدیث عائشۃ احسن شئی فی ھذا الباب و اصح)
البتہ ضرورت سے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ 
اتیٰ النبی ﷺ سباطۃ قوم فبال قائما۔ (بخاری و مسلم)
نبی کریم ﷺ قوم کی کوڑی پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔
اور یہ آپﷺ کا کھڑے ہوکر پیشاب کرنا ضرورت ہی کی وجہ سے تھا ، ورنہ آپ ﷺ کا معمول وہی تھا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ علمائے کرام نے مختلف عذر آں حضرت ﷺ کا بیان کیاہے۔ 
پیشاب پاخانہ کے لیے جب بیٹھے تو قبلہ رخ نہ بیٹھے، نہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرے ۔ پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منھ کرنا یا پیٹھ کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
اذا ذھب احدکم الیٰ الغائط او البول فلایستقبل القبلۃ ولایستدبرھا (رواہ النسائی)
جب تم سے کوئی پاخانے پیشاب کو جائے تو قبلہ کی طرف منھ نہ کرے اور نہ پیٹھ کرے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا: 
اذا اتیتم الغائط فلاتستقبلوا القبلۃ ولا تستدبرواھا۔ (بخاری و مسلم)
جب تم پاخانہ کو آؤ تو تم قبلہ کی طرف منھ نہ کرو اور نہ پیٹھ کرو۔ 
اسی طرح مسجد کی دیوار کے پاس مسجد کے رخ میں پیشاب نہ کرے ، ایسا کرنا مکروہ ہے۔
نھیٰ رسول اللّٰہ ﷺ ان یبال فی قبلۃ المسجد۔ (رواہ ابو داؤد فی مراسلہ مرسلا)
آں حضرت ﷺ نے مسجد کے رخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ 
پیشاب کرتے وقت ذکر کو دائیں ہاتھ سے نہ پکڑے، بلکہ بائیں ہاتھ سے پکڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
لایمسکن احدکم ذکرہ بیمینہ وھو یبول۔ (مسلم)
پیشاب کرتے وقت تم میں سے کوئی اپنے ذکر کو دائیں ہاتھ سے ہرگز نہ پکڑے۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیے، تو چاہیے کہ برتن میں سانس نہ لے ۔ اور جب پاخانہ جائے تو اپنی شرم گاہ کو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجا کرے۔ (بخاری ، کتاب الوضو، ص؍ ۵۱)
پیشاب نرم زمین میں کرے تاکہ چھینٹیں نہ اڑے۔ 
عن ابی موسیٰ قال: کنتُ مع النبی ﷺ ذات یوم، فاراد ان یبول فاتیٰ دمثا فی اصل جدار فبال ثم قال: اذا اراد احدکم ان یبول فلیرتد لبولہ۔ (رواہ ابو داؤد) 
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا تو آپ ﷺ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ ﷺ دیوار کی جڑ میں ایک نرم زمین کے پاس آئے اور آپ ﷺ نے پیشاب کیا، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کا ارادہ کرے تو پیشاب کے لیے ایسی جگہ تلاش کرے۔ 
پیشاب غسل خانہ میں نہ کرے ۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
لایبولن فی مستحمہ۔ (ابو داؤد)
ہرگز کوئی غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے اور اس میں نہائے۔ 
اسی طرح سوراخ میں پیشاب نہ کرے ، ممکن ہے کوئی جانور موذی ہو ، وہ نکل کر ڈس لے ۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
لایبولن احدکم الیٰ جحر۔ (ابو داؤد)
ہرگز کوئی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ 
پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد ڈھیلے سے استنجا کرے اور اتنا چہل قدمی کرے کہ پیشاب کے اترنے کا سلسلہ بند ہوجائے ۔ پیشاب کے بعد صرف پانی سے دھولینا یا مٹی ڈھیلے سے پوچھ لینا اگرچہ درست ہے ۔ 
عن مولیٰ عمر یسار بن نمیر قال: کان عمر اذا بال قال ناولنی شئیا استنجی بہ فاناولہ العود او الحجر او یاتی حائطا یمسح بہ او یمسہ الارض ولم یغسلہ۔ (رواہ البیھقی و قال انہ اصح ما فی الباب نقلہ فی رسائل الارکان و کذا نقل الشیخ عبدالحق) 
حضرت عمرؓ کا غلام یسار ابن نمیر کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر پیشاب کرتے تو فرماتے کہ کوئی چیز لاؤ کہ استنجا کروں تو میں آپ ﷺ کو لکڑی یا پتھر دیتا یا دیوار میں آکر پوچھ لیتے، یا زمین سے رگڑ لیتے اور اس کونہیں دھوتے بھی۔ 
لیکن چوں کہ اس زمانہ میں عموما لوگوں کے مثانے کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے دیر تک پیشاب کے اترنے کا سلسلہ رہتا ہے ، اس لیے ممکن ہے پانی سے دھونے کے بعد یا ڈھیلے سے پونچھنے کے بعد پیشاب کا قطرہ آجائے ، اس صورت میں اگر پہلے وضو کیا ہے تو وضو صحیح نہیں ہوگا، ورنہ کم از کم کپڑا نجس ضرور ہوگا، جس کی وجہ سے نماز صحیح نہ ہوگی ، اسی لیے آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
اکثر عذاب القبر من البول۔ (رواہ ابن ماجہ و آخرون و صححہ الدار قطنی والحاکم)
زیادہ تر عذاب قبر پیشاب ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 
پاخانے کے لیے ایسی جگہ بیٹھے جہاں پردہ ہو۔ سب سے بہتر بیت الخلا ہے ۔ اگر بیت الخلا نہ ہوتو پھر پردہ کی جگہ تلاش کرے۔ اگر نزدیک میسر نہ ہو تو دور نکل جائے ۔ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے نہ بیٹھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب پاخانہ کا ارادہ فرماتے تو آپ ﷺ اتنادور نکل جاتے کہ کوئی آپ ﷺ کو نہ دیکھتا۔ (ابو داؤد) اور آپ ﷺ نے فرمایا:
من اتیٰ الغائط فلیستتر (ابو داؤد) 
جو پاخانہ میں آئے، اس کو چھپنا چاہیے۔ 
اور جب پاخانہ کے لیے بیٹھے تو کپڑا اس وقت اٹھائے جب کہ زمین سے قریب ہوجائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو کپڑا اس وقت اٹھاتے جب زمین سے قریب ہوجاتے۔ (ترمذی، ابو داؤد، دارمی) ۔ 
پاخانہ پھیرتے ہوئے دوسرے سے باتیں نہ کرے ۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایاکہ شرم گاہ کھول کر جب پاخانہ کر رہا ہو تو اس حالت میں دو شخص آپس میں باتیں نہ کرے، اس پر اللہ تعالیٰ بڑا ناراض ہوتا ہے۔ (احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ)
پاخانہ میں گھسنے سے پہلے اور میدان میں ستر کھولنے سے پہلے یہ دعا پڑھے: 
اللّٰھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث۔ (بخاری، کتاب الوضو)
جب پاخانہ سے فارغ ہوجائے تو اس کے بعد ڈھیلے سے استنجا کرے ۔ ڈھیلے سے استنجا کرنا سنت ہے، خواہ جتنے ڈھیلے سے مخرج صاف ہوجائے۔ تین یا پانچ یا سات ڈھیلوں کا استعمال کرنا مستحب ہے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
من استجمر فلیوتر، من فعل فقد احسن ومن لا، فلا حرج۔ (رواہ ابو داؤد، وابن ماجہ، والدارمی، وابن حبان فی صحیحہ وھو حدیث حسن) 
جو شخص ڈھیلے سے استنجا کرے تو چاہیے کہ بے جوڑ ڈھیلے استعمال کرے، جس نے ایسا کیا بڑا اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کچھ حرج نہیں کیا۔ 
استنجا بائیں ہاتھ سے کرے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
یستنج بشمالہ۔ (ابن ماجہ) 
استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ 
اور آپ ﷺ نے فرمایا: 
لایتمسح من الخلاء بیمینہ۔ (مسلم) 
پاخانہ سے فارغ ہونے کے بعد دائیں ہاتھ سے نہ پونچھے۔ 
اگر نجاست مخرج سے آگے نہیں بڑھا ہے تو پانی سے استنجا کرنا مستحب ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ بیت الخلا میں داخل ہوتے تو میں اور میری طرح ایک لڑکا پانی کا برتن اور چھوٹا نیزہ اٹھاتے اور آپ ﷺ پانی سے استنجا کرتے۔ (بخاری و مسلم) 
اگر نجاست مخرج سے آگے بڑھا ہے ، مگر ایک درم سے مقدار میں کم ہے تو پانی سے استنجا کرنا سنت ہے ۔ اور اگر مقدار درم تک تجاوز کرگیا ہے تو پھر دھونا واجب ہے ۔ اور اگر اس سے بھی زیادہ لگ گیا ہے تو دھونا فرض ہے ۔ (کبیری) 
جب پانی سے دھوکر فارغ ہوجائے تو ہاتھ کو مٹی سے دھوئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ بیت الخلاتشریف لے جاتے تو میں آپ ﷺ کے لیے لکڑی یا چمڑے کے برتن میں پانی لاتا تو آپ ﷺ استنجا کرتے ۔ پھر ہاتھ کو زمین پر رگڑتے۔ پھر دوسرے برتن میں پانی لاتا اور آپ ﷺ وضو کرتے ۔ (ابو داؤد، دارمی، نسائی)
گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنا مکروہ ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا اور آپ ﷺ اپنی حاجت (رفع کرنے) کے لیے نکلے تھے اور آپ ﷺ (کی عادت تھی) ادھر ادھر نہ دیکھتے تھے تو میں آپ ﷺ سے قریب ہوگیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے پتھر تلاش کردو، تاکہ میں اس سے پاکی حاصل کروں۔ (پارس کے مثل کوئی لفظ فرمایا) اور ہڈی میرے پاس نہ لانا اور نہ گوبر ۔ (بخاری، کتاب الوضو؍۵۲)۔

22 Oct 2018

Deoband min sad sala ejlas se pahle jamiat ulama godda karegi azeemush shan ejlas aam

دیوبند میں صد سالہ اجلاس سے پہلے جمعیۃ علماء گڈا کرے گی عظیم الشان اجلاس عام 
مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کی شرکت متوقع
پریس ریلیز ، گڈا

مؤرخہ ۲۰؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مدرسہ بدرالعلوم مہگاما گڈا (جھارکھنڈ ) میں جمعیۃ علماء گڈا کی اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ضلعی و بلاک سطح کے ذمہ داران جمعیۃ کے علاوہ جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ مولانا ابوبکر اور نائب صدر مولانا نعمت اللہ صاحبان نے شرکت کی۔ میٹنگ میں مکمل دس ایجنڈوں پر غور و خوض کرتے ہوئے ملک و ملت کے حق میں بہت اہم اہم فیصلے لیے گئے۔ ایجنڈہ نمبر ایک کے تحت گذشتہ کارروائی کی توثیق کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا کہ جمعیۃ علماء گڈا ہر تین ماہ پر ایک میٹنگ کرے گی ، جس کی ایک رپورٹ صوبائی جمعیۃ کو بھی بھیجی جائے گی۔ ایجنڈہ نمبر ۲ پر بحث و گفتگو کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا کہ آئندہ سال ماہ فروری میں ہونے والے جمعیۃ علماء ہند کے صد سالہ اجلاس کی جنگی پیمانے پر تیاریاں کی جائیں گی اور اس کے لیے بلاک، پنچایت اور گاؤں کی سطح پر سلسلہ وار میٹنگیں کی جائیں گی جن میں عوام الناس کو اجلاس کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے اس کی ضرورت و اہمیت سے روشناس کرایا جائے گا۔ ایجنڈہ نمبر ۳ کے تحت یہ طے کیا گیا کہ مرکزکی ہدایات کے مطابق جمعیۃ علماء ضلع گڈا زمینی سطح پر کام کرنے کا عہد کرتی ہے ۔ اسی طرح مرکز کی طرف سے ممبرسازی کے فیصلے کے بعد گڈا میں سو فیصد ممبرسازی کی کوشش کی جائے گی۔ ایجنڈہ نمبر ۴؍میں یہ کہا گیا کہ مرکزی جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے جو بھی سرکلر اور ہدایات موصول ہوں گی، سبھی ممبران کو اس سے آگاہ کیا جائے گا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے مشترکہ جدوجہدکی جائے گی۔ ایجنڈہ نمبر ۵؍ کے تحت چل رہے مکاتب کا جائزہ لیا گیا اور انھیں مزید فعال بنانے اور تعداد کے اضافہ پر غور کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا کہ ان کی رپورٹ مرکزی دینی تعلیمی بورڈ کو پابندی سے بھیجی جائے۔ ایجنڈہ نمبر ۶؍ پر یہ بات طے پائی کہ رانچی میں ایک صوبائی سطح کا اجلاس کیا جائے گا ، جس میں پورے صوبہ کے سبھی اضلاع سے نمائندگی اور عوام کی شرکت کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ایجنڈا نمبر ۷ ؍ کے تحت یہ طے پایا کہ جمعیۃ علماء ضلع گڈا کے تنظیمی ڈھانچہ کو مضبوط اور فعال بنانے کی ہر ممکن کی کوشش کی جائے گی۔ ایجنڈہ نمبر۸؍ کے تحت یہ فیصلہ لیا گیا کہ اصلاح معاشرہ کے لیے اپنے گھروں ، محلوں اور نشستوں میں ہر طرح کے اصلاحی کام کرتے رہیں گے اور وقتا فوقتا جلسوں کے ذریعے عامۃ المسلمین کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی ۔ ایجنڈہ نمبر ۹؍ پر یہ فیصلہ لیا گیا کہ مہگاماں میں ضلع گڈا کا ایک عظیم الشان اجلاس کیا جائے گا، 

جس میں قائد جمعیۃ مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ کے مطابق تاریخ طے کی جائے گی تاکہ حضرت کی شرکت یقینی ہوسکے۔ایجنڈا نمبر ۱۰: دیگر امور بہ اجازت صدر محترم کے تحت یہ طے کیا گیا کہ ووٹر لسٹ نئے ناموں کا اندراج اور غلط اندراجات کی اصلاح کی تحریک کو مزید فعال کیا جائے تاکہ رہتے وقت کے اندر پورے ضلع میں کام کو مکمل کیا جاسکے۔ 
میٹنگ میں قرب و جوار کی بڑی اہم اہم شخصیات نے شرکت کی ، جن میں مہمانان خصوصی مولانا ابوبکر صاحب ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء جھارکھنڈ اور مولانا نعمت اللہ صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کے علاوہ مولانا محسن اعظم قاسمی آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند، جناب عبد الحسیب بکوا چک ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ضلع گڈا، مولانا محمد یاسین مصباحی ، مولانا عبد العزیز مدرسہ حسنیہ ملکی، مولانا محمد اقبال قاسمی، قاری محمد خورشید جناب محمد اسماعیل، جناب محمد قاسم، جناب محمد معین الدین ، جناب محمد مبارک، جناب محمد شفیع الدین، جناب محمد ولی الدین ، جناب محمد نظام الدین ، جناب محمد رضوان، جناب محمد سمیع اللہ ،جناب محمد شوکت علی ، جناب محمد شفیق احمد اور دیگرحضرات کے نام قابل ذکر ہیں۔ صدارت ڈاکٹر تمیز الدین صاحب صدر جمعیۃ علماء گڈا نے کی۔ 

Kuwen ka Bayan

کنویں کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (25) 

تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-مئی-1919_00-جون-1976) نور اللہ مرقدہ
اگر کنویں کا پانی جاری نہیں ہے اور وہ دس ہاتھ لمبا چوڑا نہیں ہے تو وہ پانی نجاست کے گرنے سے ناپاک ہوجاتا ہے ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، مگر اس کے پاک کرنے کے مختلف احکام ہیں ، اس لیے یہاں اس کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں ۔ 
گوبر، لید، مینگنی کے علاوہ، اگر کنویں میں کوئی نجس چیز گر جائے، خواہ وہ ایک قطرہ خون ہی کیو ں نہ ہو۔ اسی طرح سور کے گرنے سے گرچہ زندہ نکل آئے ، کیوں کہ اس کا بال نجس العین ہے ۔ کتا اور بکری اور آدمی یا اس کے برابر یا اس سے بڑا جانور گر کر مرجانے سے ، اسی طرح چوہا وغیرہ ، یا اس سے بڑا جانور کنویں میں پھول پھٹ جانے سے کنویں کا سارا پانی نکالا جائے گا۔ جیسا کہ حبشی کے مرجانے سے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے زمزم کے پانی کو صاف کرایا ۔ اگر تمام پانی صاف کرنے سے عاجز ہو تو تقریبا دو سو تین سو ڈول پانی نکال لیا جائے ، جیساکہ عبداللہ ابن زبیرؓ نے فرمایا: حسبکم، تم کو اتنا ہی کافی ہے ۔ یہ دونوں حدیثیں اوپر بیان ہوچکی ہیں۔ 
اگر کوئی حرام جانور سور کے کے علاوہ کنویں میں گرجائے اور زندہ نکل آئے اور اس کا منھ پانی میں نہ پڑے تو کنواں ناپاک نہ ہوگا۔ اور اگر کنویں میں اس کا منھ جا پڑا تو اس کے لعاب کی نجاست کی وجہ سے سارا کنواں نجس ہوگا اور سب پانی نکالا جائے گا۔ اور اگر آدمی یا حلال گوشت جانور کنواں میں گرے اور زندہ نکل آئے تو پانی ناپاک نہ ہوگا، اگرچہ منھ پانی میں پڑے، کیوں کہ ان کا جھوٹ پاک ہے۔ 
اگر کنویں میں مرغی یا بلی یا اتنا بڑا کوئی دوسرا جانور گر کر مرجائے تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے اور ساٹھ ڈول نکالنا مستحب ہوگا۔ 
عن الشعبی فی الطیر والسنور و نحوھما یقع فی البئر قال: ینزح منھا اربعون دلوا۔ (رواہ الطحاوی و قال الامام بن الھمام سندہ صحیح) 
شعبی سے مروی ہے کہ پرندہ اور بلی اور اس جیسا کوئی جانور کنواں میں پڑے تو فرمایا اس کنواں سے چالیس ڈول نکالا جائے۔ 
اور اگر چوہا یا چڑیایا اس کے برابر کوئی دوسرا جانور گر کر مرجائے تو بیس ڈول پانی نکالے۔ تیس ڈول نکالنا مستحب ہوگا۔ 
عن انس رضی اللّٰہ عنہ انہ قال فی الفارۃ اذا ماتت فی البئر و اخرجت من ساعتھا نزح منھا عشرون دلوا او ثلاثون۔ (طحاوی من طرق غیر شرح الاثار)
حضرت انسؓ نے چوہے کے بارے میں جب کہ کنویں میں مرجائے اور فورا نکال لیا جائے فرمایا: بیس ڈول یا تیس ڈول اس سے پانی نکالا جائے۔ 
اور ڈول سے مراد اوسط ڈول ہے جو کنویں پر پڑا رہتا ہے ، اسی لحاظ سے پانی نکالا جائے۔ پانی نکالنے کے بعد کنواں ، رسی ، ڈول کھینچنے والے کا ہاتھ سب خود بخود پاک ہوجاتا ہے، کسی چیز کے دھونے کی حاجت نہیں۔ 
جس جانورمیں بہتا خون نہ ہو وہ کنویں میں گر کر مرجائے یا وہ پانی کا جانور ہو اور کنویں میں مرجائے تو اس سے کنواں ناپاک نہ ہوگا۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
یاسلمان! کل طعام و شراب وقعت فیہ دابۃ لیس لھا دم فماتت فیہ فھو حلال اکلہ و شربہ و وضوۂ۔ (رواہ الدار قطنی، زجاجہ ۱۲۶)
ائے سلمان! جس کھانے پینے میں ایسا جانور پڑجائے جس میں خون نہیں ہے ، اس میں پھر مرجائے تو اس کا کھانا پینا حلال ہے اور اس سے وضو کرنا جائز ہے ۔ 
اور آپ ﷺ نے فرمایا: 
اذا وقع الذباب فی شراب احدکم فلیغمسہ ثم لینزعہ فان فی احد جناحیہ داء و فی الاخریٰ شفاء۔ (بخاری، بلوغ المرام)
جب تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں مکھی پڑ جائے تو اس کو ڈبودینا چاہیے ، پھر نکالنا چاہیے ، اس لیے کہ اس کے دونوں پروں میں سے ایک میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں علاج ہوتا ہے ۔ 
معلوم ہوا کہ پانی میں مکھی پڑجانے سے پانی نجس نہیں ہوتا ہے ۔ اور مکھی میں خون نہیں ہے ، پس بے خون کے جانور کا یہی حکم ہوگا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں ، دو مردے مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔ (احمد)۔ اس سے مری ہوئی مچھلی اور ٹڈی کا پاک ہونا ثابت ہوا۔ اور پاک چیز پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ 
اگر کنویں میں مرا ہوا جانور ہو اور ابھی پھولا پھٹا نہ ہو اور گرنے کا حال معلوم نہ ہو کہ کب گرا ہے ، تو ایک دن رات قبل سے کنواں نجس سمجھا جائے گا اور چوبیس گھنٹے کی نماز دوہرانی ہوگی ، جب کہ اس پانی سے وضو کیا ہے یا کپڑا دھویا ہے ۔ اور پھولنے پھٹنے کی صورت میں تین دن رات کی نماز لوٹانی ہوگی۔

20 Oct 2018

Jhoot ka Bayaan

جھوٹ کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (24) 

تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ
کھانے پینے کے بعد جو تھوڑی چیز بچ جاتی ہے، وہ جھوٹ کہلاتی ہے۔ کثیر پانی سے کوئی جانور پی لے تو اس کو جھوٹ نہیں کہتے۔ بہرحال جھوٹ چار طرح کا ہوتا ہے : 
اول: طاہر مطہر غیر مکروہ، یعنی بلاکراہت پاک کرنے والا۔ اور وہ آدمی کا جھوٹ ہے ، خواہ کسی مذہب اور ذات سے تعلق رکھتا ہو، خواہ وہ پاک ہو یا ناپاک ہو۔ جب اس کے منھ میں نجاست نہیں ہے تو اس کا جھوٹ پاک بلاکراہت پاک کرنے والا ہے ۔ اسی طرح تمام حلال گوشت جانور کا جھوٹ ، جیسے گائے، بھینس، بکری، اونٹ، چڑیا، مینا وغیرہ۔ اسی طرح گھوڑے کا جھوٹ پاک ہے، کیوں کہ گھوڑا حلال ہے، اس کے گوشت میں کراہت کرامت کی وجہ سے ہے نجاست کی وجہ سے نہیں۔ چنانچہ بخاری کی روایت میں ہے کہ 
نھیٰ النبی ﷺ یوم خیبر عن لحوم الحمر و رخص فی لحوم الخیل۔ 
نبی کریم ﷺ نے خیبر کی جنگ میں گدھے کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت میں اجازت دی۔
لعاب کی نجاست کی وجہ سے جھوٹ نجس ہوتا ہے اور لعاب گوشت کی نجاست کی وجہ سے نجس ہوتا ہے ، کیوں کہ لعاب گوشت سے پیدا ہوتا ہے ۔ جب گوشت نجس نہیں ہے تو لعاب نجس ہوگا نہ جھوٹ نجس ہوگا اور ان تمام چیزوں کا گوشت پاک ہے، اس لیے لعاب اور جھوٹ سب پاک ہوگا۔ 
دوسرا: نجس :اور وہ حرام گوشت چوپایا کا جھوٹ ہے ، جیسے کتا، سور ، شیر، لومڑی، گیدڑ وغیرہ۔ کتے کے بارے میں آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
طھور اناء احدکم اذا ولغ فیہ الکلب ان یغسلہ سبع مرات اولھن بالتراب۔ (مسلم)
جب برتن میں کتا منھ ڈال دے، تو اس کو سات مرتبہ دھوئے، پہلی مرتبہ مٹی سے ہو۔ 
معلوم ہوا کہ کتے کا جھوٹ نجس ہے جب ہی تو سات مرتبہ دھونے کا حکم ہوا۔ اور کتا حرام ہے، اس لیے باقی حرام گوشت جانوروں کے جھوٹ کا حکم وہی ہوگا جو کتے کے جھوٹ کا حکم ہوا۔ کیوں کہ لعاب گوشت سے پیدا ہوتا ہے ، اس لیے لعاب کا وہی حکم ہوگا جو گوشت کا حکم ہوگا، لہذا حرام گوشت جانور کا جھوٹ نجس ہوگا۔ 
تیسرا: طاہر مطہر مکروہ، یعنی کراہت کے ساتھ پاک کرنے والا۔ اوروہ بلی، کھلی ہوئی مرغی ، حرام گوشت پرندہ اور زمین میں رہنے والے جانور یعنی چوہا، نیولا، گھوس، گرگٹ وغیرہ کا جھوٹا ہے ۔ مرغی کے جھوٹ میں کراہت اس وجہ سے ہے کہ وہ نجاست میں منہ ڈالتی ہے ۔ اگر نجاست میں منھ نہ ڈالے تو پھر کوئی کراہت نہیں ہے ۔ اور بلی وغیرہ کے جھوٹ کے مکروہ ہونے کی دلیل اوپر گذر چکی ہے ، اس لیے لوٹائی نہیں جائے گی۔ اگر دوسرا پانی ہو تو اس کو استعمال نہ کرے ، ورنہ پھر اسی پانی سے وضو غسل کرے ۔ آں حضرت ﷺ نے بلی کے جھوٹ سے وضو کیا ہے ۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں ہیں کہ 
انی رأیتُ رسولَ اللّٰہ ﷺ یتوضأ بفضلھا۔ (رواہ ابو داؤد، و قال النیموی اسنادہ حسن) 
میں نے آں حضرت ﷺ کو بلی کے جھوٹ سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ 
چوتھا : مشکوک ہے ۔ اور وہ گدھے اور خچر کا جھوٹ ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔

19 Oct 2018

Bhart Scout & guide Aur Jamiat Youth Club

بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈاور جمعیۃ یوتھ کلب
محمد یاسین جہازی (جہاز قطعہ)
9871552408


جمعیۃ یوتھ کلب کے تعارف اور آغاز کیمقصد سے ۲۴؍ جولائی ۲۰۱۸ء کو دیوبند میں منعقد پروگرام میں ،جمعیۃ علماء ہند کے زیر انتظام بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ کے تربیت یافتہ کچھ بچوں اور نوجوانوں کا مظاہرہ پیش کیا گیا۔ اس سے جہاں نوجوانوں میں جمعیۃ یوتھ کلب سے جڑنے کا شعور و جذبہ بیدار ہوا، وہیں بھارتی میڈیا میں اس کی غلط اور منفی شبیہہ پیش کرنے کی خوب خوب کوشش کی گئی، جس سے ایک طرف جہاں کچھ نئے سوالات نے جنم لیے، تو وہیں دوسری طرف لوگوں میں جمعیۃ یوتھ کلب اور اسکاؤٹ کے بارے میں جان کاری حاصل کرنے کی تشنگی بڑھ گئی۔ یہ تحریر اسی پیاس کو بجھانے کی ایک کوشش ہے۔ 
بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ کے بانی کا نام : رابرٹ اسٹیفینسن اسمتھ بیڈن پاویل (Robert Stephenson Smyth Baden-Powell) تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ساؤتھ افریقہ میں نیا گرا (Niagara Falls) نامی ایک جھیل ہے، جوموسم سرما میں برف میں تبدیل ہوجاتی ہے ، اور پھر لوگ شورٹ کٹ کی وجہ سے اس پر آمدو رفت کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک مرتبہ میاں، بیوی اور بچہ اس راستہ سے گذر رہے تھے کہ اچانک برف پگھل کر درجنوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی اور یہ تینوں تین الگ الگ برف پر ہوگئے۔ جوں جوں برف پگھل رہی تھی توں توں پانی اور بہاؤ بڑھتا جارہا تھا۔ یہ منظر کچھ لوگوں نے دیکھا تو قریب کے گاؤں میں شور مچایا اور گاؤں والوں کو انھیں بچانے کے لیے بلایا۔ چنانچہ گاؤں والے رسی لے کر آئے اور انھیں رسی پکڑایا ، لیکن تینوں ٹھنڈ کی وجہ سے کافی کمزور ہوچکے تھے، اس لیے انھوں نے رسی توپکڑی ، لیکن جب رسی کو اوپر کھینچی گئی تو وہ اوپر تک نہ آسکے اور برفیلے پانی میں گر کر مرگئے۔اس علاقے میں یہ منفرد نوعیت کا حادثہ تھا، اس لیے زبان زد خاص و عام ہوگیا۔ پاویل بذریعہ ٹرین وہاں سے گذر رہا تھے ۔ وہاں سے سوار ہونے والے کچھ مسافر بیٹھ کر اس واقعہ پر چرچا کرنے لگے۔ جب پاویل نے سنا تو کہا کہ اگر حکمت عملی سے کام لیا جاتا تو تینوں کو آسانی سے بچایا جاسکتا تھا۔لوگوں نے حیرانی سے انھیں دیکھا اور کہا کہ جنھیں پورے گاؤں والے نہ بچا سکے، انھیں آپ کیسے بچا سکتے تھے؟ پاویل نے ایک رسی کے نیچے گانٹھ باندھ کر بتایا کہ اگر ایسا کرکے رسی لٹکائی جاتی، تو وہ تینوں اوپر تک آسکتے تھے۔ یہ دیکھ اور سن کر لوگوں نے پاویل کے خیال کی تائید کی اور گذارش کی کہ آپ ہمیں اور ہمارے بچوں کو ایسی ٹریننگ دیں۔ چنانچہ تبھی سے پاویل نے فیصلہ کیا کہ اگرایسی ہلکی پھلکی ٹریننگ دے دی جائے، جس سے کہ وہ یہ سیکھ سکیں کہ کسی سہارے اور آلات کے بغیر اچانک پیدا ہونے والے حالات سے کس طرح مقابلہ کیا جائے تو بہت سارے لوگ اپنی زندگی کا تحفظ خود کرسکتے ہیں۔ چنانچہ اس کا بنیادی خاکہ پیش کرتے ہوئے انھوں نے ۱۸۹۹ء میں (Aids To Scouting) نامی کتاب لکھی۔ اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اسکاؤٹ کا پہلا کیمپ لندن میں ۱۹۰۷ء میں لگا۔ ۱۹۰۸ء میں (Scouting for Boys) نام کی کتاب لکھی ، جس سے باقاعدہ اسکاؤٹ کی شروعات ہوئی۔ بھارت میں اس کا باضابطہ آغاز ۱۹۰۹ء میں ہوا۔ ۷؍ نومبر ۱۹۵۰ میں بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ تنظیم کی نیو رکھی گئی۔ فی الحال یہ ۲۱۶ ممالک میں قائم ہے اور کروڑوں لوگ اس کے ممبر ہیں۔ 
اسکاؤٹنگ کیا ہے؟ 
اسکاؤٹ کے تین بنیادی مقاصد ہیں: 
(۱) اللہ تعالیٰ کے حقوق(Duty to God): انسان پراپنے خالق و مالک کے کیا حقوق و فرائض ہیں، ان کو جاننا اور اس پر عمل کرنا ؛ اسکاؤٹ کا بنیادی مقصد ہے۔ 
(۲) دوسروں کے حقوق کی ادائیگی(Duty to Others ): اسی طرح ہمارے اوپر دوسروں کے جوحقوق و فرائض عائد ہوتے ہیں ، ان کو جاننا اور ان کی ادائیگی کی فکر کرنا اسکاؤٹ کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ 
(۳) خود کے تئیں خود کی ذمہ داری (Duty to Self): خود اپنے جسم و جاں کے تئیں خود کی کیا ذمہ داری ہے ، یہ بھی اسکاؤٹ میں سکھایا جاتا ہے۔ 
کائنات فطرت کے مطالعہ و مشاہدہ سے خود بھی سیکھنا اور سیکھنا، جسمانی اورذہنی تربیت کے ذریعہ سماجی، سیاسی اور مذہبی افکار و نظریات کو فروغ دینا، قوم و وطن کے تئیں وفاداررہنا اور فطرت سے عشق و محبت کے جذبات کی پرورش کرنااسکاؤٹ کا بنیادی نظریہ ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے، جس میں بچوں کی نفسیات کے مطابق کھیل کھیل میں اچھے اخلاق و کردار کی تعلیم دی جاتی ہے، تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی دونوں اعتبار سے اچھے شہری بن سکیں۔ اسکاؤٹ نوجوانوں کی تحریک بھی مانی جاتی ہے، کیوں کہ انھیں اپنے اندر خود اعتمادی، لیڈر شپ کی قابلیت اور اللہ، دوسرے اور خود کے تئیں ذمہ داری و جوابدہی کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ چوں کہ اسکاؤٹ فطرت سے محبت کا سبق دیتا ہے ، اس لیے جنگل و بیابان اور آبادی سے دور قدرتی ماحول میں کیمپ لگا کر تعلیم و تربیت پر زور دیتا ہے۔ اس تحریک میں ذات، برادری، چھوا چھوت اور بھید بھاؤ کے بھاؤناؤں کو برا سمجھا جاتا ہے اور ہر شخص کی عزت اور احترام مذاہب کیتعلیم دی جاتی ہے۔ زندگی کو گل گلزار کیسے بناسکتے ہیں، یہ بھی اسکاؤٹ کی تعلیم کا حصہ ہے؛قصہ مختصر یہ ہے کہ اسلام نے جن اعلیٰ اخلاق و کردار کی تعلیم پر زور دیا ہے، قریب قریب ان کا مجموعی احاطہ اسکاؤٹ اینڈ گائڈ میں پایا جاتا ہے۔ 
اسکاؤٹ اینڈ گائڈ
اسکاؤٹ لڑکوں کے لیے اور گائڈ لڑکیوں کے لیے بولا جاتا ہے۔گویااس فن کو سیکھنے کے لیے صنف کی کوئی تفریق نہیں ہے۔دونوں صنفوں کی ٹریننگ کے لیے کئی مراحل متعین کیے گئے ہیں، جس میں عمر کا لحاظ کیا جاتا ہے۔جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں: 
بنی
اسکاؤٹ میں شرکت کرنے والے۳؍ سے ۶؍ سال کے بچوں اور بچیوں کے گروپ کو ’’بنی‘‘ کہاجاتا ہے۔اس میں ۲۴؍ بچے بچیوں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے، جس کو ’’ٹمٹولا‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس کے ٹیچر کو ’’بنی آنٹی‘‘بولا جاتا ہے۔ ۲۴؍ بچے بچیوں کو پھر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر ۱۲؍ افراد کی ٹولی کو ’’گروپ‘‘ کہتے ہیں۔ اس’’ گروپ‘‘ کا نام پھل اور سبزیوں کے ناموں پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بیج کا رنگ میٹل بیج ہوتا ہے۔ 
اسکاؤٹ 
پانچ یا چھ سال کے لڑکوں کے لیے تین جماعتیں ہوتی ہیں، جن میں عمر کے اعتبار سے داخلہ دیا جاتا ہے، اس کی تفصیل اس طرح ہے: 
(۱) کب پیک
اس جماعت میں پانچ یا چھ سال سے دس سال کے لڑکوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ اس میں ۲۴؍لڑکوں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے، جس کو ’’کب پیک‘‘ کہاجاتا ہے۔ ہر ۲۴؍ لڑکوں پر مشتمل کب پیک کا نام کسی تاریخی شخصیات پر رکھا جاتا ہے۔ اس کے ٹیچر کو ’’کب ماسٹر‘‘بولا جاتا ہے۔ ہر ایک کب پیک میں ایک مانیٹر بھی ہوتا ہے، جسے ’’سینیر سکسر‘‘ کہاجاتا ہے۔ ۲۴؍لڑکوں کو پھر چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر۶؍ افراد کی ٹولی کو ’’سکس‘‘ کہتے ہیں۔ سکس ٹولی کا بھی ایک لیڈر ہوتا ہے ، جسے ’’سکسر‘‘ کہاجاتا ہے ۔اس’’ سکس‘‘ کا نام رنگوں کے ناموں پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بیج کا رنگ’’نیلا‘‘ہوتا ہے۔اسکاؤٹ کا جھنڈا پھہراتے وقت اسے گول دائرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ 
(۲) اسکاؤٹ ٹروپ
دس سے سترہ سال کے لڑکوں کی جماعت کو ’’اسکاؤٹ ٹروپ‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس میں کم از کم۲۴؍اور زیادہ سے زیادہ ۳۲؍لڑکوں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے۔ہر۳۲؍ یا ۲۴؍ لڑکوں پر مشتمل اسکاؤٹ ٹروپ کا نام کسی تاریخی شخصیات پر رکھا جاتا ہے۔ اس کے ٹیچر کو ’’اسکاؤٹ ماسٹر‘‘بولا جاتا ہے۔ ہر ایک ٹروپ میں ایک مانیٹر بھی ہوتا ہے، جسے ’’ٹروپ لیڈر‘‘ کہاجاتا ہے۔ اسکاؤٹ ٹروپ کو پھر چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر۸؍ یا۶؍ افراد کی ٹولی کو ’’پٹرول‘‘ کہتے ہیں۔ ہر ایک پٹرول گروپ میں بھی ایک لیڈر بنایا جاتا ہے، جس کو ’’پٹرول لیڈر‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس’’ پٹرول‘‘ کا نام جانوروں کے ناموں پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بیج کا رنگ’’ہرا‘‘ہوتا ہے۔ اسکاؤٹ کا جھنڈا لہراتے وقت اسے گھوڑے کے نال کی شکل میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ 
(۳) رُو وَر کُرو
پندرہ سے پچیس سال کے جو لڑکے اس تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ان کی جو جماعت تشکیل دی جاتی ہے، اسے ’’ رُو وَر کُرو‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس میں ۲۴؍لڑکوں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے۔ہر ۲۴؍ لڑکوں پر مشتمل رُو وَر کُرو کا نام کسی تاریخی شخصیات پر رکھا جاتا ہے۔ اس کے ٹیچر کو ’’رُو وَر لیڈر‘‘بولا جاتا ہے۔ ہر ایککُرو میں ایک مانیٹر بھی ہوتا ہے، جسے ’’سینر رُووَر میٹ‘‘ کہاجاتا ہے۔ رُو وَر کُرو کو پھر چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر۶؍ افراد کی ٹولی کو ’’میٹ‘‘ کہتے ہیں۔ ہر ایکمیٹ گروپ میں بھی ایک لیڈر بنایا جاتا ہے، جس کو ’’رُووَر میٹ‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس’’میٹ‘‘ کا نام تاریخی شخصیات کے ناموں پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بیج کا رنگ’’لال‘‘ہوتا ہے۔ اسکاؤٹ کا جھنڈا لہراتے وقت اسے گھوڑے کے نال کی شکل میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ 
گائڈ 
پانچ یا چھ سال کی لڑکیوں کے لیے بھی تین جماعتیں ہوتی ہیں، جن کا نام بلبل فلاک،گائڈ کمپنی اور رینجر ٹیم ہوتا ہے۔ اس میں بھی عمر کے اعتبار سے داخلہ دیا جاتا ہے، اس کی تفصیل اس طرح ہے: 
(۱) بلبل فلاک
اس جماعت میں پانچ یا چھ سال سے دس سال کی لڑکیوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ اس میں ۲۴؍لڑکیوں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے، جس کو ’بلبل فلاک‘‘ کہاجاتا ہے۔ ہر ۲۴؍ لڑکیوں پر مشتمل بلبل فلاک کا نام کسی تاریخی عورت کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ اس کی ٹیچر کو ’’فلاک لیڈر‘‘بولا جاتا ہے۔ ہر ایک بلبل فلاک میں ایک مانیٹر بھی ہوتی ہے، جسے ’’سینیر سکسر‘‘ کہاجاتا ہے۔ ۲۴؍لڑکیوں کو پھر چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر۶؍ افراد کی ٹولی کو ’’سکس‘‘ کہتے ہیں۔ سکس ٹولی کی بھی ایک لیڈر ہوتی ہے ، جسے ’’سکسر‘‘ کہاجاتا ہے ۔اس ’’سکس‘‘ کا نام پرندوں کے ناموں پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بیج کا رنگ’’نیلا‘‘ہوتا ہے۔ اسکاؤٹ کا جھنڈا پھہراتے وقت یہ گول دائرے کی شکل میں کھڑی ہوتی ہیں۔
(۲) گائڈ کمپنی
دس سے سترہ سال کی لڑکیوں کی جماعت کو ’’گائڈ کمپنی‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس میں کم از کم۲۴؍اور زیادہ سے زیادہ ۳۲؍لڑکیوں کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے۔ہر۳۲؍ یا ۲۴؍ لڑکیوں پر مشتمل گائڈ کمپنی کا نام کسی تاریخیعورت کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ اس کی ٹیچر کو ’’گائڈ کپٹین‘‘بولا جاتا ہے۔ ہر ایککمپنی میں ایک مانیٹر بھی ہوتی ہے، جسے ’’کمپنی لیڈر‘‘ کہاجاتا ہے۔ گائڈ کمپنی کو پھر چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر۸؍ یا۶؍ افراد کی ٹولی کو ’’پٹرول‘‘ کہتے ہیں۔ ہر ایک پٹرول گروپ میں بھی ایک لیڈر بنائی جاتی ہے، جس کو ’’پٹرول لیڈر‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس ’’پٹرول‘‘ کا نام پرندوں اور پھولوں کے ناموں پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بیج کا رنگ’’ہرا‘‘ہوتا ہے۔ اسکاؤٹ کا جھنڈا لہراتے وقت اسے گھوڑے کے نال کی شکل میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ 
(۳) رینجر ٹیم
پندرہ سے پچیس سال کی لڑکیوں کی جو جماعت تشکیل دی جاتی ہے، اسے ’’ رینجر ٹیم‘‘ کہاجاتا ہے۔ہر ۲۴؍ لڑکیوں پر مشتمل رینجر ٹیم کا نام کسی تاریخی عورت کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ اس کی ٹیچر کو ’’رینجر لیڈر‘‘بولا جاتا ہے۔ ہر ایک ٹیم میں ایک مانیٹر بھی ہوتی ہے، جسے ’’سینر رینجر میٹ‘‘ کہاجاتا ہے۔رینجر ٹیم کو پھر چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر۶؍ افراد کی ٹولی کو ’’میٹ‘‘ کہتے ہیں۔ ہر ایک میٹ گروپ میں بھی ایک لیڈر بنائی جاتی ہے، جس کو ’’رینجر میٹ‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس’’میٹ‘‘ کا نام تاریخی عورت کے ناموں پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بیج کا رنگ’’لال‘‘ہوتا ہے۔ اسکاؤٹ کا جھنڈا لہراتے وقت اسے انگریزی کے حرف وی(V) شکل میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ 
درج بالا تفصیلات کی روشنی میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ اسکاؤٹ اینڈ گائڈ میں ذہنی و جسمانی دونوں طرح کی ایسی ٹریننگ دی جاتی ہے، جس سے جہاں بچے بچیاں اعلیٰ و اخلاق و کردار کی حامل ہوجاتی ہیں، وہیں قدرتی حادثات کے موقع پر کسی آلہ کے سہارے کے بغیر خود کے اور دوسروں کے تحفظ میں نمایاں کردارکرنے کے قابل بن جاتی ہیں۔ ایک طرف وہ طاقت و قوت سے لبریز ہوتے ہیں، تو دوسری طرف دوسروں کے لیے خیر اور نفع رسانی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ اور یہ ایسی چیز ہے، جسے اسلام میں پسند کیا گیا ہے اور ایسا بننے اور کرنے کے لیے ترغیب بھی دی گئی ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ 
الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَیْرٌ وَأَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیفِ، وَفِي کُلٍّ خَیْرٌ(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب فی الامر بالقوۃ آہ)
طاقت ور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے ۔ اور خیر ہر شخص میں ہے۔ 
ایک دوسری حدیث میں آقا کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ 
خیرالناس من ینفع الناس۔ (شعب الایمان،باب التعاون علیٰ البر والتقویٰ)
لوگوں کو نفع پہنچانے والا شخص سب سے بہتر شخص ہے۔
جمعیۃ علماء ہندنے ’’ جمعیۃ یوتھ کلب ‘‘ کی تشکیل بھی انھیں اغراض و مقاصد کے تحت کیا ہے ، چنانچہ اس کے دستوری کتابچہ میں’’اغراض و مقاصد‘‘ کے عنوان تحت کہا گیا ہے کہ 
(الف) سماجی اور جماعتی خدمات انجام دینا، نیز مصیبت زدگان اور مظلوموں کی مدد کرنا۔
(ب) بلا امتیاز مذہب و ملت مظلوموں اور خلق خدا کی خدمت کرنا۔
(ج) قیام امن، حفاظت وطن اور ملک کے تعمیری پروگراموں میں تنہا یا دوسری جماعتوں کے ساتھ حصہ لینا۔
(د) مسلمانوں میں دینی رجحان پیدا کرنا۔
(ھ) اسکاوٹنگ کی ٹریننگ حاصل کرنا۔
تو خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسان کو انسان بنانے، اسے اعلیٰ اخلاق و کردار سے آراستہ کرنے، ملک و قوم کے سچے و پکے خادم بنانے اور خود اور دوسروں کے لیے نفع بخش بنانے کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے ’’جمعیۃ یوتھ کلب ‘‘ کی تشکیل ہے ، اور چوں کہ اسکاؤٹ اینڈ گائڈ اس قسم کی تربیت کے لیے ایک منظم طریق عمل ہے، اس لیے کلب میں شامل ہونے کے لیے پہلے اسکاؤٹ کی ٹریننگ لازمی کی گئی ہے۔
جمعیۃ یوتھ کلب، جمعیۃ علماء ہند کی کوئی نئی تحریک نہیں ہے؛ بلکہ ۲۰؍ اجلاس عام منعقدہ ۹،۱۰،۱۱؍ دسمبر ۱۹۶۰ میں منظور کردہ دستور اساسی کی دفعہ (۹۳) میں مذکور ’’خدام ملت ‘‘ کی تشکیل کے لیے ایک ذیلی ڈھانچہ ہے۔ جمعیۃ علماء ہند تقریبا گذشتہ چار سالوں سے بچوں اور نوجوانوں کو بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ کی ٹریننگ دے رہی ہے تاکہ انھیں جمعیۃ یوتھ کلب میں شامل کیا جاسکے اورپھران میں سے منتخب افراد کو خدام ملت کا ممبر بنایا جائے۔ 
جمعیۃ یوتھ کلب کا بنیادی تصورہمارے بڑوں نے دیا تھا، جس کوعملی جامہ پہنانے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری اور حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہندشب و روز فکرمند ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ اکابر نے جس مقصد سے اس نظام کا تصور دیا تھا، اسے حقیقت میں بدل کر دم لیں گے ؛ کیوں کہ یہ کلب بالیقین بھارت میں ملت اسلامی کے سنہرے مستقبل کا اشاریہ ہے۔ 
نوٹ: بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ کی درج بالا معلومات جناب نوشاد علی صدیقی صاحب اسسٹنٹ اسٹیٹ آرگنائزنگ کمشنر علی گڑھ منڈل اور اسی عہدے سے ریٹائرڈ جناب ہدایت اللہ صاحب سے زبانی گفتگو پر مبنی ہیں، اور ان کے شکریہ کے ساتھ یہاں پیش کی گئی ہیں۔

18 Oct 2018

Ahkam ke itabar se Pani ke Aqsam

احکام کے اعتبار سے پانی کے اقسام 

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (23) 

تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ
پانی پانچ طرح کا ہوتا ہے : 
اول: طاہر مطہر غیر مکروہ، یعنی بلا کراہت پاک کرنے والا پانی ۔ اور وہ مطلق پانی ہے جس کا حال اوپر بیان ہوا۔ 
دوسرا: طاہر مطہر مکروہ ہے، یعنی کراہت کے ساتھ پاک کرنے والا۔ اور وہ بلی وغیرہ کا جھوٹا پانی ہے ، اس لیے کہ قاعدہ کے مطابق بلی کا جھوٹا نجس ہونا چاہیے، اس لیے کہ بلی کا گوشت نجس حرام ہے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
السنور سبع۔ (رواہ الحاکم و صححہ)
بلی درندہ ہے۔ 
اور درندہ حرام ہے ، لہذا بلی حرام ہے اور حرام گوشت سے جو لعاب پیدا ہوتا ہے، وہ نجس ہوتا ہے ، اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: 
طھور الاناء اذا ولغ فیہ الھر ان یغسل مرۃ او مرتین۔ (رواہ دار قطنی و صححہ)
جب برتن میں بلی منھ ڈالے تو ایک دو مربتہ دھونے سے برتن پاک ہوجاتا ہے۔ 
مگر بلی چوں کہ اکثر گھروں میں رہتی ہے اور بسا اوقات برتنوں میں منھ ڈالتی ہے ، اس لیے دفع حرج کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا: 
انھا لیست بنجس انھا من الطوافین علیکم ۔ (رواہ مالک و احمد و ترمذی وغیرہ، قال الترمذی حسن صحیح) 
بلی کا جھوٹا نجس نہیں ہے ، یہ گھروں میں پھرنے والی ہے ۔ 
اس لیے طہارت کے ساتھ کراہت کا حکم لگایا۔ 
تیسرا: طاہر غیر مطہر ہے ، یعنی خود پاک مگر دوسرے کو پاک کرنے والا نہ ہو اور وہ مستعمل پانی ہے ۔ مستعمل وہ پانی ہے جس سے حدث کا ازالہ ہوا ہو یا ثواب حاصل ہوا ہو، جب کہ وہ بدن سے جدا ہوگیا ہو۔ جیسے بے وضو والے کا وضو یا وضو پر وضو ثواب کی نیت سے ۔ 
اگر پہلے سے وضو ہو اور پھر بغیر نیت کے وضو کرے تو وہ مستعمل پانی نہ ہوگا، کیوں کہ نہ اس سے حدث کا ازالہ ہوا اور نہ ثواب حاصل ہوا۔ حدث کا ازالہ اس لیے نہیں ہوا کہ پاک ہونے کی وجہ سے حدث کا وجود ہی نہیں ہے، جس سے اس کا ازالہ ہوتا۔ اور نیت نہ ہونے کی وجہ سے ثواب بھی حاصل نہیں ہوا، کیوں کہ ثواب کا مدار نیت پر ہے۔ انما الاعمال بالنیات۔ ثواب کا مدار نیت پر ہے، لہذا وہ مستعمل نہ ہوگا۔ مستعمل پانی اس لیے پاک ہے کہ اگر مستعمل پانی ناپاک ہوتا تو آں حضرت ﷺ کے مستعمل پانی کو صحابہ کرامؓ اس طرح نہ لیتے اور اپنے بدن پر نہ ملتے۔ حضرت ابو جحیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپﷺ کے لیے وضو کا پانی لایا گیا۔ آپ ﷺ نے وضو کیا تو لوگ آپ ﷺ کے وضو کے پانی کو لینے لگے اور اپنے بدن میں ملنے لگے ۔ (بخاری) 
اور بخاری کی ہی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ 
اذا توضأ النبی ﷺ کادوا یقتتلون علیٰ وضوۂ۔ 
جب نبی کریم ﷺ وضو فرماتے تو آپ ﷺ کے وضو کے پانی پر صحابہ کرام ایسا ہجوم کرتے کہ معلوم ہوتا کہ اب لڑ پڑیں گے۔ 
اس سے واضح ہوگیا کہ مستعمل پانی پاک ہے ، مگر پاک کرنے والا نہیں ہے ۔ وہ اس طرح معلوم ہوا کہ آج تک کسی سے نہیں سنا اور نہ کسی حدیث میں دیکھا گیا کہ صحابہ کرامؓ نے مستعمل پانی سے دوبارہ وضو کیا ہو، یا مستمل پانی کو رکھ چھوڑا ہو اور ضرورت کے وقت کھانے پینے یا وضو کرنے میں کام لایا ہو۔ اگر طاہر مطہر ہوتا تو ضرورت کے وقت ایسا ضرور کرتے ، کیوں کہ سفر میں بسااوقات پانی کی قلت کی وجہ سے مجبور ہوجاتے اور دربار نبوت میں شکایت ہوتی اور پھر معجزات کا ظہور ہوتا۔ 
چوتھا: نجس پانی ہے 
ان الماء طھور لاینجسہ شئی۔ 
بے شک پانی پاک ہے کوئی چیز اس کو نجس نہیں کرتی 
اس حدیث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پانی خواہ کتنا ہی قلیل ہو نجاست پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو آں حضرت ﷺ یہ نہ فرماتے: 
لایبولن احدکم فی الماء الدائم الذی لایجری ثم یغتسل فیہ۔ (بخاری و مسلم)
تم میں سے کوئی رکے ہوئے پانی میں جو کہ بہتا نہیں ہے ہرگز پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں نہائے ۔ (یہ حدیث مشہور ہے ، نور الہدایہ)
معلوم ہوا جب کہ پانی جاری نہ ہو تو پیشاب کرنے سے ناپاک ہوجاتا ہے ، اس لیے آپ ﷺ نے اس میں پیشاب کرنے سے سختی سے منع کیا۔اور بھی آپ ﷺ نے فرمایا: 
اذا استیقظ احدکم من نومہ فلایغمس یدہ فی الاناء حتّٰی یغسلھا ثلاثا فانہ لایدری این باتت یدہ۔ (بخاری و مسلم) 
جب تم میں سے کوئی سوکر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، یہاں تک کہ اس کو تین مرتبہ دھو ڈالے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا ہے کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں کہاں پہنچا ہے۔ (اور یہ حدیث بھی مشہور ہے۔ نور الہدایہ۔ اور مسند بزار میں ہے فلا یغمس یدہ فی طھورہ (اپنا ہاتھ پانی میں ہرگز نہ ڈالے)
اس حدیث سے واضح ہوگیا ہے کہ تھوڑی نجاست بھی پانی کو نجس کرنے کے لیے کافی ہے ، اس لیے کہ ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد مقعد میں نجاست قلیل ہی رہے گی ۔ پھر اس قلیل میں سے ہاتھ میں جو نجاست لگے گی وہ اور بھی بہت زیادہ کم ہوگی۔ مگر اس کے باوجودچوں کہ وہ بھی پانی کو نجس کرنے کے لیے کافی تھا، اس لیے آپ ﷺ نے سوکر اٹھنے کے بعد پانی میں ہاتھ ڈالنے سے منع فرمایا اور اس کو تین بار دھو ڈالنے کا حکم فرمایا۔ اور اس سے یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ پانی میں نجاست کا اثر ظاہر ہو یا نہ ہوپانی ناپاک ہوگا، اس لیے کہ اتنی قلیل نجاست کا اثر جب کہ ہاتھ میں بھی ظاہر نہیں ہورہا ہے تو پانی میں کس طرح ظاہر ہوگا۔ 
معلوم ہوا تھوڑا پانی جیسے برتن کا پانی اور غیر جاری پانی نجاست کے پڑنے سے ناپاک ہوجاتا ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ رکا ہوا پانی خواہ کتنا ہی ہو نجاست کے پڑنے سے ناپاک ہوجاتا ہے ؛ بلکہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو دہ در دہ سے کم ہو۔ اگر دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا پانی پھیلاؤ میں ہو یا اس سے زیادہ ہو اور اتنا گہرا ہو کہ چلو بھرنے سے زمین نہ کھلے تو وہ بڑے حوض اور تالاب میں شمار ہوتا ہے اور وہی پانی کثیر کہلاتا ہے اور اسی پانی کے بارے میں آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
ان الماء طھور لاینجسہ شئی۔ 
کثیر پانی ایسا پاک ہے کہ اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ 
چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ 
انتھیت الیٰ غدیر فاذا فیہ حمار میت فکففنا عنہ حتیٰ انتھیٰ الینا رسول اللّٰہ ﷺ فقال: ان الماء لاینجسہ شئی فاستقینا و اروینا و حملنا (ابن ماجہ)
میں ایک تالاب پر پہنچا تو دیکھتا کیا ہوں کہ اس میں ایک گدھا مرا پڑا ہے ، تو ہم اس سے رک گئے ، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ پھر تو ہم نے پیا ، جانوروں کو پلایااور لاد لیا ۔ 
اس حدیث میں گرچہ دہ در دہ کا تذکرہ نہیں ہے ، لیکن اتنا معلوم ہوا کہ تالاب کا پانی نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔ اور تالاب کا پانی کثیر پانی میں داخل ہے ، کیوں کہ تالاب حوض سے کہیں بڑا ہوتا ہے ۔ اور دہ در دہ کا ثبوت ایک دوسری حدیث سے ہوتا ہے ۔ اور وہ یہ کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
حریم البئر اربعون ذراعا من جوانبھا کلھا۔ (احمد)
کنواں کا حریم چالیس ہاتھ ہے ہر جانب سے۔ 
حریم ہر وہ جگہ، جس کی حفاظت واجب ہو، یعنی کنویں کی حفاظت ہر طرف سے دس دس ہاتھ ہونی چاہیے۔ اس کے اندر نہ کوئی دوسرا کنواں کھودے اور نہ نجاست کا گڑھا کھودے ، کیوں کہ دس ہاتھ کے اندر کی چیزوں کا اثر کنویں میں پہنچتا ہے ۔ اس سے معلوم ہو اکہ دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑاؤ میں پانی پھیلا ہوا ہو تو اس میں نجاست کا اثر نہ پہنچے گااور اتنا پانی کثیر کہلاتا ہے ۔ اگر دو مٹکے پانی دس ہاتھ لمبائی چوڑائی میں پھیلا ہوا ہو تو اس میں بھی نجاست کا اثر ہر طرف نہ پہنچے گااور وہ بھی کثیر پانی میں شمار ہوگا۔ لیکن اگر دس ہاتھ لمبا چوڑا پانی نہ ہو تو وہ قلیل پانی ہے اور نجاست پڑنے سے نجس ہوگا ۔ اگر ایسی بات نہ ہوئی تو پھر کنواں کبھی ناپاک نہ ہوتا اور نہ اس کے صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ۔ کیوں کہ اس میں دو مٹکے سے کہیں زیادہ پانی ہوتا ہے ، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے اس کے پاک کرنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ ابن سیرین سے مروی ہے کہ 
ان زنجیا وقع فی بئر زمزم یعنی مات فامر بہ ابن عباس فاخرج و امر بھا ان تنزح قال: فغلبتھم عین جاء ت من الرکن، قال فامر بھا فدست بالقباطی والمطارف حتیٰ نزحوھا فلما نزحوھا انفجرت علیھم۔ (رواہ الدار قطنی مرسلا، قال العلامۃ النیموی اسنادہ صحیح و رواہ ابن ابی شیبہ نحوہ و اسنادہ صحیح) 
ایک حبشی زمزم کے کنویں میں گرا پھر مرگیا، تو حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ نے پانی نکالنے کا حکم دیا۔ پانی نکالنے لگے تو ایک جھرنے نے جو رکن یمانی کی طرف سے آتا تھا، لوگوں کو پانی نکالنے سے عاجز کردیا، تو کپڑے وغیرہ سے اس کو بند کرنے کا حکم دیا۔ پھر بند کرکے اس کا تمام پانی کھینچا۔ کھینچنے کے بعد وہ جھرنا پھر پھوٹ پڑا۔ 
اور حضرت عطا سے مروی ہے کہ 
ان حبشیا وقع فی زمزم فمات فامر عبد اللہ بن زبیر فنزح ماؤھا فجعل الماء لاینقطع فنظر فاذا ھی عین تجری من قبل الحجر الاسود فقال ابن الزبیر حسبکم (رواہ الطحاوی و اسنادہ صحیح باعتراف الشیخ تقی الدین بن دقیق العید بہ فی الامام)
ایک حبشی زمزم میں گرا، پس وہ مرگیا تو عبد اللہ بن زبیر نے حکم دیا ، پس اس کا پانی کھینچا گیا ، تو پانی ٹوٹتا نہیں تھا، پھر دیکھا کہ حجر اسود کی طرف سے ایک سوت بہہ رہا ہے ، تو حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا بس کافی ہے ۔ 
بات واضح ہوگئی کہ صرف دو مٹکے پانی جب کہ وہ دس ہاتھ میں پھیلا ہوا نہ ہو تو وہ نجس ہوتا ہے اور جہاں حدیث میں ہے کہ دو مٹکے پانی نجاست کو برداشت نہیں کرتا، اس سے وہی مراد ہے کہ اتنا پانی پھیلا ہوا دہ در دہ میں ہو۔دو چار ہاتھ میں مجتمع نہ ہو، ورنہ کنواں صاف کرنے کی حاجت نہ ہوتی اور نہ اس قدر دقت اٹھائی جاتی۔ بئر بضاعہ سے کسی کو دھوکا نہ ہونا چاہیے ، کیوں کہ اس کا پانی جاری تھا۔ چنانچہ واقدی کا بیان ہے کہ 
ان بئر بضاعۃ کانت فیہ طریقا للماء الیٰ البساطین فکان الماء لایستقر فیھا فکان حکم ماءھا کحکم ماء الانھار۔ (طحاوی) 
بضاعہ کے کنویں میں پانی کا راستہ تھا، جو باغوں کی طرف جاتا تھا، اس لیے اس میں پانی ٹھہرتا نہیں تھا ، لہذا اس کے پانی کا حکم وہی ہوگا جو نہر کے پانی کا حکم ہے۔ 
چنانچہ بضاعہ کے کنویں کے بارے میں سوال کرنے پرکہ اس میں کتے، حیض کے کپڑے اور گندی چیز ڈالی جاتی ہے، آں حضرت ﷺ نے فرمایا: کہ بضاعہ کا پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ لہذا بضاعہ کی حدیث سے کنویں کے پاک رہنے پر دلیل پکڑنا غلط ہے۔ خلاصہ یہ کہ جاری پانی یا جو جاری پانی کے حکم میں ہے ، یعنی بڑے حوض اور تالاب کا پانی جو کم از کم دہ در دہ ہو ، نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا ہے، جب تک کہ نجاست کا پانی پر اثر ظاہر نہ ہو ۔ جو پانی گھاس تنکے پتے کو بہا لے جائے ، وہ بہتا پانی ہے ، خواہ وہ کتنا ہی آہستہ آہستہ بہتا ہو۔ اثر ظاہر ہونے پر بہتا پانی بھی ناپاک ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: 
الماء لاینجسہ شئی الا ما غلب علیٰ لونہ او طعمہ او ریحہ۔ (رواہ الطحاوی والدار قطنی مرسلا و صح ابو حاتم ارسالہ)
پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، مگر یہ کہ اس کے رنگ یا مزہ یا اس کی بو پر نجاست غالب آجائے۔
اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ 
الماء طھور الا ان یغیر ریحہ او طعمہ او لونہ بنجاسۃ تحدث فیہ۔ (بلوغ المرام)
پانی پاک ہے مگر یہ کہ بدل جائے اس کی بو یا مزہ یا رنگ اس نجاست کی وجہ سے جو اس میں پڑتی ہے۔ 
پانچواں : مشکوک پانی ہے۔ مشکوک وہ پانی ہے جس کی نجاست اور طہارت دونوں پر دلیل ہو اور کسی ایک دلیل کا رجحان نہ ہو، دونوں دلیلیں برابر ہوں۔ اور وہ گدھے اور خچر کا جھوٹا پانی ہے جو قلیل ہو۔ گدھے کے گوشت کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ، اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر میں پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرمایا، یعنی پہلے گدھے کا گوشت کھانا حلال تھا جنگ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ نے اس کے حرام ہونے کا اعلان کیا۔ اور ہانڈیوں میں جو گدھے کا گوشت ابل رہا تھا ، ان ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: گدھے کا گوشت نجس ہے ۔ 
عن انسؓ قال: لما کان یوم خیبر امر رسول اللّٰہ ﷺ ابا طلحۃ فنادیٰ ان اللّٰہ و رسولہ ینھا کم عن لحوم الحمر الاھلیۃ فانھا رجس (متفق علیہ، بلوغ المرام)
مگر شک اس کے جھوٹے میں ہے، اس لیے کہ اس کے گوشت کی نجاست اس کے لعاب کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہے ، کیوں کہ نجس گوشت کا لعاب نجس ہوتا ہے ۔ مگر اس کا گھروں میں رہنا اور آنا جانا، برتنوں میں منھ ڈالنا، اس بات کی دلیل ہے کہ دفع حرج کے لیے اس کا جھوٹا بلی کی طرح پاک ہو، مگر چوں کہ اس کا بلی کی طرح کثرت سے گھروں میں آنا جانا اور برتنوں میں منھ ڈالنا نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس کے جھوٹے کے طاہر ہونے میں شک ہوجاتا ہے ، اس لیے اس کا جھوٹا مشکوک ہے۔

17 Oct 2018

Pani ka Bayan

پانی کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (22) 

تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ
خواہ پانی سمندر کا ہو یا ندی ، نہر اور تالاب کا ہو ، یا کنویں، جھرنے اور بارش کا ہو ، یا صرف برف ، اولے کا پگھلا ہوا پانی؛ جو پانی ہے اس سے وضو غسل جائز ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ 
فلم یجدوا ماء ا فتیمموا صعیدا طیبا (النساء، آیۃ :۴۳ )
پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک زمین سے تیمم کرو۔ 
معلوم ہوا کہ پانی ملنے پر وضو غسل ہے خواہ وہ پانی کہیں کا ہو، جب تک پانی پانی ہے، اس سے وضو غسل ہے اور جب پانی پانی نہ رہے، آگ میں پکانے سے، یا کوئی چیز ملانے سے وہ شوربہ یا شربت وغیرہ بن جائے تو اس سے وضو غسل جائز نہ ہوگا۔ اسی طرح درخت یا پھل یا پتوں سے نچوڑے ہوئے پانی سے وضو غسل جائز نہیں ہے ، اس وقت تیمم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی کے بارے میں فرمایا: 
و ینزل علیکم من السماء مآء ا لیطھرکم بہ (انفال،۱۱)
اور وہ آسمان سے تم پر پانی برساتا ہے تاکہ تم کو اس سے پاک کرے۔ 
آں حضرت ﷺ کا ایک تالاب پر گذر ہوا، تو صحابہ کرام نے آں حضرت ﷺ سے پوچھا : اس میں کتے اور درندے منھ ڈالتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کتے اور درندے کا وہ ہے جو اس نے اپنے پیٹ میں ڈالے ، تم پیو اور وضو کرو۔ (ابن ابی شیبہ)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آں حضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم بضاعہ کے کنویں کے پانی سے وضو کریں، جس میں کتے اور حیض کے کپڑے اور بدبودار چیزیں ڈالتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پاک کرنے کی چیز ہے، اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ (ابو داؤد، ترمذی) اور اس حدیث کو ترمذی، ابن قطان اور امام احمد نے حسن کہا ہے (نور الہدایہ، ص؍۳۷)
اور ایک شخص نے پوچھا آں حضرت ﷺ سے کہ ائے اللہ کے رسول! دریا میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں ، اگر ہم وضو کریں، تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا دریا کے پانی سے وضو کریں، تو آپﷺ نے فرمایا: 
ھو الطھور ماۂ والحل میتتہ۔ (اخرجہ الاربعۃ و صححہ ابن خزیمہ، از بلوغ المرام) 
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کی مچھلی حلال ہے۔ امام ترمذی نے کہا میں نے محمد ابن اسماعیل سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔ (نور الہدایہ، ص؍ ۳۷)
قرآن کی آیت اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ پانی سے طہارت حاصل ہوتی ہے ، خواہ آسمان سے اترا ہو یا زمین سے نکلا ہو ، سمندر یا تالاب میں ہو، ندی ، نالے، یا کھیت کیاری میں ہو ، یا کہیں اور جگہ میں ہو۔ جب پانی ہے تو اس سے وضو غسل جائز ہے ۔ اگر اس میں تھوڑی بہت کوئی چیز ملی ہو تو اس سے کچھ حرج نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ایک برتن سے غسل کیا جس میں آٹے کا اثر تھا۔ (نسائی، نور الہدایہ؍۳۷)۔ معلوم ہوا کہ اگر پانی میں آٹا یا مٹی یا کوئی دوسری منجمد چیز مل جائے ، مگر پانی پتلا یا بہنے والا رہے تو کچھ حرج نہیں ۔ البتہ جب پانی پر دوسری چیزیں غالب آجائیں تو وہ پانی کے حکم سے خارج ہوجاتا ہے اور اس کے غلبے کی چند صورتیں ہیں: 
اول: یہ کہ کوئی منجمد چیز پانی میں ملے اور اتنی ملے کہ پانی گاڑھا ہوجائے ، اس میں رقت اور سیلان نہ رہے ، تو غیر کا غلبہ سمجھا جائے گا۔
دوسری: یہ کہ پانی میں کوئی پانی کی طرح پتلی چیز ملے تو اس چیز کے اوصاف پر نظر ہوگی، اگر اس کے اندر تین وصف ہیں تو وصف کے ظاہر ہونے پر غلبہ ہوگا جیسے سرکہ کہ اس میں رنگ، بو اور مزہ تینوں وصف ہیں۔ اگر اتنا سرکہ پانی میں ملے کہ پانی کا رنگ اور مزہ بدل جائے تو اس وقت وہ سرکہ کے حکم میں ہوگا، پانی نہ کہلائے گا۔ اور اگر اس کے اندر ایک یا دو وصف ہیں تو ایک وصف کے ظاہر ہونے سے اس کا غلبہ سمجھا جائے گا، جیسے کہ دودھ اس میں رنگ اور مزہ ہے ،بو نہیں ہے ، تو پانی میں اتنا دودھ ملے کہ پانی سفید ہوجائے تو وہ دودھ کے حکم میں ہوگا پانی نہ کہلائے گا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی وصف نہیں ہے جیسے عرق گلاب جس کی بواڑچکی ہے ، یا مستعمل پانی تو اس صورت میں وزن کا لحاظ ہوگا۔ جب ایک سیر پانی میں سیر بھر سے زائد مستعمل پانی یا عرق گلاب ملے تو اس کا غلبہ سمجھا جائے گا اور وہ پانی کے حکم میں نہ رہے گا، اس لیے کہ قانون ہے کہ للاکثر حکم الکل: اکثر کا وہی حکم ہوتا ہے جو کل کا۔ 
اگر سادہ پانی پکایا یا گرمایا جائے یا اس میں ایک آدھ مٹھی پتے صفائی کے لیے دے دیے جائیں تو اس سے وضو غسل جائز ہے ۔ 
عن ابن عباس قال: لابأس ان یغتسل بالحمیم و یتوضأ منہ۔ (رواہ عبد الرزاق بسند صحیح) 
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا: گرم پانی سے نہانے اور ضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ 
غسل میت کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا: 
بماء و سدر۔ (بخاری و مسلم) 
میت کو پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو۔ 
معلوم ہوا مزید صفائی کے لیے بیر کے پتے پانی میں ڈال کر پکایا جائے تو کچھ حرج نہیں۔البتہ اگر پانی میں کوئی چیز ڈال کر اتنا پکایا جائے کہ وہ شوربہ یا عرق کا کاڑھا وغیرہ بن جائے تو پھر اس سے وضو غسل جائز نہ ہوگا۔ اسی طرح درخت اور پھل کے پانی سے وضو غسل جائز نہیں ہے ، کیوں کہ یہ پانی کے حکم میں نہیں ہے۔ اور پہلے بیان ہوچکا کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم ہے۔

16 Oct 2018

Zakham ki Patti par Masah ka Bayan

زخم کی پٹی پر مسح کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (21) 
تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ
زخم کو دھونے سے یا اس پر مسح کرنے سے نقصان پہنچتا ہو تو اس زخم پر یا ٹوٹی ہوئی ہڈی پر جو پٹی اور چچری بندھی ہوئی ہو ، اس پر مسح کرنا درست ہے ، خواہ وضو کے بعد اس کو باندھا ہو یا بغیر وضو کے باندھا ہو۔ پٹی کے نیچے زخم ہو یا نہ ہو ہر حال میں پوری پٹی پر مسح کرنا درست ہے ۔ البتہ اگر پٹی کھول کر زخم کے علاوہ جگہ کو دھونا ممکن ہو تو پٹی کو کھول کر باقی جگہ کو دھونا ضروری ہے ، ورنہ پوری پٹی پر مسح کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ 
ما یرید اللّٰہ لیجعل علیکم من حرج ولٰکن یرید لیطھرکم (المائدہ، ۶)
اللہ تعالیٰ تم کو تنگ کرنا نہیں چاہتا ، لیکن تم کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ 
چوں کہ زخم کے دھونے میں یا اس پر مسح کرنے میں حرج ہے ،اس لیے پٹی پر مسح کرنا درست ہے اور اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔ 
عن ابن عمر انہ توضأ و کفہ معصوبۃ فمسح علیھا وعلیٰ العصابۃ و غسل سویٰ ذٰلک۔ (رواہ المنذری باسناد صحیح، زجاجہ ۱۵۰)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وضو کیا اور آپ ﷺ کی ہتھیلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی ، تو آپ ﷺ نے اس پر اور پٹی پر مسح کیا اور باقی عضو کو دھویا۔ 
جب تک زخم اچھا نہ ہوجائے اس وقت تک اس پٹی پر مسح کرنا درست ہے ، خواہ کتنے ہی دن لگ جائیں ۔ اگر اس درمیان میں پٹی کھل بھی جائے تو مسح نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر زخم کے اچھے ہونے پر پٹی کھل جائے تو مسح ٹوٹ جاتا ہے ، اس کے بعد عضو کو دھولے۔ 
وضو یا غسل میں زخم دھونے سے نقصان پہنچے، تو زخم پر مسح کرلے۔ اگر مسح کرنا بھی نقصان پہنچائے اور اس پر کوئی پٹی وغیرہ نہ ہو تو اس کو چھوڑ دے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو آں حضرت ﷺ کے زمانہ میں سر میں زخم لگا تھا اور اس کو احتلام ہوا تو اس کو غسل کا حکم کیا گیا، تو اس نے غسل کیا اور اکڑ کے مرگیا اور آں حضرت ﷺ کو اس کی خبر پہنچی۔ عطا نے کہا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: کاش دھو لیتا اپنا تمام بدن اور اپنا سر جس جگہ زخم لگا تھا اس جگہ کو چھوڑ دیتا ۔ (اس کو ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کی ہے۔ نور الہدایہ؍ ۶۰)
قسط نمبر (22) کے لیے کلک کریں

15 Oct 2018

Nawaqiz-e- Masah

نواقض مسح

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (20) 
تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ

(۱) جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ، انھیں چیزوں سے مسح بھی ٹوٹتا ہے ۔ 
(۲) کسی ایک پاؤں کو موزہ سے نکال لینے یا پاؤں کے اکثر حصہ کا نکل جانے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے 
(۳) کسی ایک پاؤں میں پانی گھس جائے اور قدم کے اکثر حصہ کو تر کردینے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ 
(۴) مسح کی مدت تمام ہونے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے ۔ 
اگر نواقض وضو سے مسح ٹوٹے تو وضو کرکے دوبارہ موزہ پر مسح کرلے کافی ہے، لیکن بقیہ صورتوں میں اگرپہلے سے وضو ہے تو صرف پاؤں کا دھونا اس پر ضروری ہوگا، باقی وضو کا لوٹانا ضروری نہیں۔ 
عن ابن عمر انہ کان فی غزوۃ فنزع خفیہ و غسل قدمیہ ولم یعد الوضوء (مؤطا امام محمد)
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کسی غزوہ میں شریک تھے تو انھوں نے اپنے دونوں موزوں کو نکالا اور پاؤں کو دھویا اور وضو نہیں دوہرایا۔ 
عمامہ، ٹوپی، دستانے، برقع، اوڑھنی پر مسح جائز نہیں۔
قسط نمبر (21) کے لیے کلک کریں

14 Oct 2018

FARZ MASAH, SUNNAT MASAH

فرض مسح
پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (19) 

تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ
ہاتھ کی چھوٹی تین انگلی کی مقدار موزہ کے ظاہر حصہ پر مسح کرنا فرض ہے ۔ 
عن علی انہ قال: لو کان الدین بالرأی لکان اسفل الخف اولیٰ بالمسح من اعلاہ و قد رأیت رسول اللّٰہ ﷺ یمسح علیٰ ظاھر خفیہ۔ (رواہ ابو داؤد باسناد حسن و للدارمی معناہ و فی التلخیص اسنادہ صحیح)
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اگر دین کا تعلق رائے سے ہوتا تو موزہ کے نچلے حصہ کا مسح کرنا زیادہ مناسب ہوتا اوپر کے حصے کے مسح کرنے سے ، حالاں کہ میں نے موزہ کے اوپر کے حصہ پر رسول اللہ ﷺ کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ 
اگر کسی کے پاؤں کا اگلا حصہ تین انگلی کی مقدار بھی باقی نہ رہے تو اس کے لیے موزہ پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، گرچہ ایڑی موجود ہو، کیوں کہ مسح کا محل باقی نہیں رہا۔ 
سنت مسح
اور سنت یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیوں کو پاؤں کی انگلیوں پر رکھے اور کھینچتے ہوئے ٹخنے تک لائے۔ دائیں موزہ پر دایاں ہاتھ اور بائیں موزہ پر بایاں ہاتھ رکھے۔ 
عن المغیرۃ بن شعبۃ قال: رأیت رسولَ اللّٰہ ﷺ بالَ ثم توضأ و مسح علیٰ خفیہ ووضع یدہ الیمنیٰ علیٰ خفہ الیمنیٰ ویدہ الیسریٰ علیٰ خفہ الیسریٰ، ثم مسح اعلاھما مسحۃ واحدۃ حتیٰ کانی انظر الیٰ اصابع رسول اللّٰہ ﷺ علیٰ الخفین۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ و رویٰ البیھقی نحوہ)
حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آں حضرت ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ آپ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ دائیں موزہ پر رکھا اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں موزہ پر رکھا۔ پھر دونوں موزہ کے اوپر والا حصہ پر ایک ہی مرتبہ مسح کیا گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کو موزہ پر دیکھ رہا ہوں ۔