8 Feb 2026

جمعیت علمائے بسنت رائے کی ایک رپورٹ

 عصر حاضر کے چیلنجیز ، مسائل اور ان کا حل کانفرنس

15؍اکتوبر2020ء کو جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام ، مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں عصر حاضر کے چیلنز ، مسائل اور ان کا حل کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی مختصر کارروائی درج ذیل ہے:

علمائے کرام نے، تعلیم و تربیت، معیشت و تجارت، مقامی لیڈر شپ کی ضرورت و اہمیت، ہر ہر گاوں میں ایک دینی لیڈر اور ایک سیاسی لیڈر تشکیل دینے کی تجویز کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے ہند کا ممبر بننے اور بنانے جیسے حساس مسائل پر خطاب کیے

جس طرح بھارت کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے جمعیت علمائے ہند،آل انڈیا کانگریس ور دیگر تنظیموں نے مل کر ترک موالات کی تحریک چلائی، جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ جس وقت مغل سے انگریزوں نے بھارت کوچھینا تھا، تو اس وقت بھارت کی جی ڈی پی % 39تھی، جو بھارت کی آزادی تک گھٹ کر3.052%  رہ گیا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتیوں نیبرطانوی حکومت ہند کو اتنا مجبور کردیا کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہ بھی نہ دے سکنے لگی اورپھر انگریزوں کو بھارت چھوڑنا پڑا۔ ان خیالات کا اظہار مرکز دعوت اسلام جمعیت علمائے ہند کے انچارج مولانا محمد یاسین جہازی نے، مسجد منیر مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ میں، جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر انتظام عصر حاضر کے چیلنجز اور ان کا حل کے عنوان سے منعقد ایک کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت بھی بھارت کی جی ڈی پی گراکر اسے ہندو راشٹربنانے میں تلی ہوئی ہے۔ مولانا جہازی نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ مائنس جی ڈی پی -25.20، اخلاقی و سیاسی سپریم: سپریم کورٹ کی خاموشی،پبلک سیکٹر کی نیلامی، روزگار کے مواقع کا خاتمہ، زرعی بل میں سرمایہ داروں کی حمایت، دیش کو اڈانی و امبانی گروپ کے ہاتھوں میں سوپنا، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی بے حیثیتی، جی ایس ٹی کے ذریعہ ریاستوں کو کمزور کرکے رفتہ رفتہ ملک کو صدارتی نظام کی طرف دھکیلنا، فوجوں کے تینوں شعبوں پر آر ایس ایس کے ٹرینڈ بپن راوت کا تقرر وغیرہ وغیرہ؛ سب کے سب ملک کو غلام بنانے کا واضح اشارہ ہے۔انھوں نے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے بسنت رائے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے لوگوں کو کاروبار سے جڑنے اور ملک کی گرتی معیشت کو سنبھالا دینے کی تجویز پیش کرتی ہے۔

کانفرنس سے جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظم اعلیٰ مفتی محمد نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی کو امام بنانا اور اس کی اقتدا کرنا شریعت اسلامی کا مزاج ہے، جماعت کی نمازیں اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری دینی سرخروئی کے لیے ضروری ہے کہ ہر گاوں میں ایک دینی لیڈر بنائیں، جن کو مقتدا بناکر اپنے دینی مسائل کو حل کرنا لازم سمجھیں۔ناظم اعلیٰ نے موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ گاوں میں بسنے والے غریب کسانوں اور مزدوروں کے لیے دستور میں دیے گئے فنڈا مینٹل رائٹس کے تحت درجنوں اسکیمیں سرکار نے جاری کر رکھی ہیں؛ لیکن ہمیں ان کی جان کاری نہ ہونے کی وجہ سے، یہ اسکیمیں ہم تک نہیں پہنچ پاتی ہیں اور بچولیے کھاجاتے ہیں۔ ناظم اعلیٰ نے حل بتاتے ہوئے کہا کہ اپنا وزن پیدا کرنے اور اس طرح کی اسکیمیں زمین پر اتارنے کے لیے ہر ایک گاوں میں ایک ایسا مقامی سیاسی لیڈر بنانا ضروری ہے، جو سیاست کو تجارت نہیں؛ بلکہ سماجی خدمت کا ذریعہ سمجھتا ہو۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ہر ہر گاوں میں ایک دینی لیڈر اور سیاسی لیڈربنانے میں کامیاب ہوگئے، تو یہ ہمارے مستقبل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مفتی محمد زاہد امان قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے یوں تو تعلیم اور اس سے وابستہ افراد کا100% کا نقصان ہوا ہے؛ لیکن اگر صرف مدارس کی بات کریں، تو 2007کی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 4% افراد مدارس سے وابستہ تھے۔ گذشتہ تیرہ سالوں میں تعلیم کی طرف بڑھتے رجحانات کو دیکھتے ہوئے% 6 کا اضافہ مان لیا جائے، تو کل% 10پرسینٹ ہوجاتے ہیں۔انھوں نے ڈیٹا پیش کرتے ہوئے کہا کہ  حالیہ اعداد وشمار کے مطابق مسلمان 22کروڑ ہیں۔ 22کروڑ کا دس پرسینٹ 2کروڑ،20لاکھ ہوتے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے 2کروڑ 20لاکھ طلبائے مدارس اور ان کے اساتذہ کا تعلیمی و معاشی نظام چرمرا گیا ہے، جو ہمارے بچوں کی فری تعلیم کے لیے دن رات لگے رہتے تھے۔انھوں نے سامعین کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیٹا یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے کتنے اہم اور ضروری قدم اٹھانا پڑے گا۔سکریٹری جمعیت نے اس کا ایک حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابنیائے کرام کے علمی وارث ہونے کی وجہ سے، سبھی مقامی علمائے کرام کا قومی اور ملی فریضہ ہے کہ اپنے اپنے گاوں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے منظم مکاتب قائم کریں۔ اسی طرح دوسری تعلیم: حفظ، ناظرہ اور عصریات پڑھنے والوں کے لیے بھی جگہ جگہ انسٹی ٹیوٹ کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔ انھوں نے آخر میں لوگوں سے اپیل کی کہ کورونا کے تعلق سے حکومت کی گائڈ لائنس اور ہدایات پر عمل کرنا نہ بھولیں۔

مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ،مولانا محمد سرفراز قاسمی خازن جمعیت علمائے بسنت رائے نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کل ہند سطح پر مسلمانوں کی فکری، علمی، قانونی اور عملی سطح پرکوئی تنظیم ہمارا سہارا ہے، تو اس کا نام ”جمعیت علمائے ہند ہے“۔ انھوں نے جمعیت کے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تنظیم جتنی قدیم ہے، خدمات بھی اتنی ہی عظیم ہیں، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ تقسیم ہند کے قضیہ شر وفساد میں بھارت میں ڈٹے رہنے کے لیے جس تنظیم نے مسلمانوں کو سہارا دیا، اور اس کے بعد آج تک آفات سماوی و انسانی میں انسانیت کی جو مثال جمعیت پیش کرتی ہے،وہ اپنے آپ میں ایک مکمل تاریخ بن جاتی ہے۔ انھوں نے جمعیت علمائے ہند کی ممبرسازی کے طریق کار کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 31دسمبر2020تک اس کی ممبرسازی کا وقت ہے، اس میعاد میں بڑی تعداد میں اس جماعت کا ممبر بن کر اس کو مضبوط کرنا ہمارا قومی و ملی فریضہ ہے۔

پروگرام میں بلاک بسنت رائے کی 56مسلم آبادی پر مشتمل بستیوں سے تقریبا 400علمائے کرام، سماجی کارکن اور اہم شخصیات نے شرکت کیں۔ جن میں مولانا محمد یاسین جہازی جمعیت علمائے ہند،مفتی محمد سفیان ظفر صاحب قاسمی صدر جمعیت علمائے بسنت رائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی، ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے بسنت رائے، مفتی محمد زاہد امان قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے، مولانا محمد سرفراز قاسمی خازن جمعیت علمائے بسنت رائے، ڈاکٹر تمیز الدین صاحب کیواں صدرجمعیت علمائے ضلع گڈا، ماسٹر عبد الحفیظ صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ضلع گڈا، مولانا سلیم صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ضلع گڈا، مفتی اقبال صاحب نائب صدر جمعیت علمائے جھارکھنڈ، جناب شریف صاحب پرنسپل جامعہ ام سلمہ بسنت رائے، جناب نذیر صاحب پرنسپل مولانا ابوالکلام آزاد کالج بسنت رائے، جناب انظر صاحب سماجی کارکن، جناب ناہید، مفتی عبد السلام امڈیہا،جناب مقیم الدین صاحب، جناب ہارون صاحب پرسیہ، مولانا عرفان صاحب مظاہری، مفتی عباد الرحمان صاحب، مولانا سلیم الدین، قاری کلیم الدین صاحب، مولانا شاہنواز صاحب کیتھیا، مولانا مجیب الحق صاحب امام مسجد جھپنیہاں، مولانا تحسین صاحب  قاسمی، مولانا اکرام صاحب، مولانا مختار صاحب، مولانا غلام رسول صاحب ریسمبا، ماسٹر صدیق صاحب ریسمبا،ماسٹر نسیم صاحب، جناب مقیم الرحمان صاحب سروتیا،مولانا غفران صاحب، مولانا عبد القیوم صاحب اور مولانا مسعود صاحب کے نام قابل ذکر ہیں۔

نظامت کے فرائض مولانا محمد یاسین جہازی نے انجام دیے۔ تلاوت مولانا ابراہیم مظاہری جہازی نے کی۔ مولوی اسماعیل نیا نگر متعلم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ نے نعت النبی پیش کی۔ مولانا ابراہیم مظاہری جہازی اور  مولوی اسماعیل نیا نگر نے مشترکہ طور پر جمعیت کا ترانہ پیش کیا۔ آخرمیں مفتی محمد سفیان ظفر قاسمی صدر جمعیت علمائے بسنت رائے کی دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

تقریب استقبالیہ 

جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے زیر اہتمام،جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کے کیمپس میں 10؍دسمبر 2025ء بروز بدھ ، جامعہ کی سالانہ تکمیل حفظ قرآن کانفرنس مکمل ہونے کے بعد، دوسری نشست کے طور پر سوا بارہ بجے تقریب استقبالیہ شروع ہوئی۔ اس کی صدار ت حضرت مولانا مفتی محمد اقبال صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ضلع گڈا و بانی مہتمم معہد محمود سراج العلوم رجون نے فرمائی۔اس پروگرام کا بنیادی مقصد جمعیت بلاک یونٹ کے صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی کے دہلی چھوڑ کر علاقے ہی میں رہنے کے فیصلے تناظر میں ان کا تہلکہ خیز استقبال کرنا تھا۔ چنانچہ اسکیجیول کے مطابق سب سے پہلے ٹیکر سے لے کر جامعہ تک پیدل مارچ کرتے ہوئے نعرہ ہائے استقبال و خوش آمدید کے مترنم صداوں کے بیچ ، پھولوں کی بارش اور مالا وگل دستوں کے ساتھ ان کی آمد کا خیر مقدم کیا گیا۔ علاقے کے ائمہ، علما اور جمعیت علما سے وابستہ افراد نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے، مفتی محمد نظام الدین کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ مفتی صاحب علما و عوام کے جلوس کے جلو میں جب تک جمعیت علما کے جھنڈے تک نہیں پہنچے، تب تک فلک شگاف نعرہ ہائے استقبال و تحسین بلند ہوتے رہے۔ بعد ازاں مفتی صاحب نے جھنڈا لہرانے کی رسم ادا کی، اس کے ساتھ ہی ترانۂ جمعیت علما پڑھا گیا۔اسے مشہور مداح رسول مولانا شمیم صاحب مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ نے اپنی دل کش اور من موہ لینے والی آواز میں پیش کیا۔ 

بعد ازاں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے ،مولانا شمس تبریز قاسمی نائب صدر ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے کو مائک پر بلایا ، جنھوں نے کلمات ترحیب و تشکر پیش کیا۔ 

اس کے بعد مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ پیش کی، جو 2019سے 2025 تک خدمات پر مشتمل تھی۔ 

پھر مفتی محمد خلیل احمد صاحب استاذ حدیث مدرسہ اصلاح المسلمین چمپانگر بھاگل پور نے استقبال کی شرعی حیثیت کے عنوان سے خطاب کیا، جس میں انھوں نے کہا کہ آج کل مدارس اور دیگر جلسوں میں مقررین کے لیے جو القاب استعمال کیے جاتے ہیں، وہ حد درجہ مبالغہ آمیز اور حقیقت سے بہت دور ہوتے ہیں، ہمیں شریعت کے حکم کو سامنے رکھتے ہوئے اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ انھوں نے حدیث کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ جس کی تعریف کی جائے، اسے چاہیے کہ تکبر میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیے تعریف کرنے والے کو تعریف کرنے سے منع کرے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اعتدال کے ساتھ کسی کا استقبال کیا جائے، تو شریعت اس سے منع نہیں کرتی ہے۔

 بعد ازاں مولانا شمیم صاحب نے زبردست استقبالیہ نظم پیش کی، جس میں مفتی محمد نظام الدین صاحب کی خصوصیات کے تذکرہ کے ساتھ اس پر مسرت کا اظہار کیا کہ علاقے میں ان کے مستقل طور پر رہنے سے اہل علاقہ کو بڑا فائدہ ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ۔

پھر مولانا مجیب الحق صاحب نائب صدر جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے و امام و خطیب جھپنیاں مسجد نے مفتی محمد نظام الدین کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے ان کا جامع تعارف پیش کیا، جس میں خاندانی پس منظر، تعلیمی اسفار، خدمات کا وسیع دائرہ، سلوک و تصوف سے وابستگی اور علاقے میں ان کے کارہائے نماں کا نمایاں طور پر تذکرہ کیا گیا تھا۔

 اس کے بعد تاثرات کے تحت مولانا محمد سلیم الدین صاحب مہتمم یتیم خانہ باگھاکول نے اپنے قلبی جذبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد نظام الدین صاحب ہمہ گیر شخصیت ہیں، وہ سیاست، قیادت، تعلیم و تدریس اور تحریر وتقریر گویا ہر فن مولیٰ اور گل سرسبد ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ مفتی صاحب اور ان کے رفقا نے علاقے میں تعلیمی و سماجی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے۔

 ڈاکٹر مولانا عبدالمجید ندوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے علاقے کے حالات کے متعلق ’’علاقے میں شیخ برادری کا ذکر جاوداں‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں ثابت کیا ہے کہ علاقے میں پرسہ اسکول اور مدرسہ شمسیہ گورگواں کا بڑا اہم کردار ہے، جنھوں نے ہمیں پاؤں پاؤں چلانا سکھایا ہے؛ لیکن یہ ادارے آج زبوں حالی کے شکار ہیں۔ انھوںنے مفتی صاحب کا علاقے میں خیرمقدم کرتے ہوئے ، انھیں مبارک باد پیش کی اور امید جتائی کہ جامعۃ الہدیٰ کا قیام اورمفتی صاحب کی روزو شب کی محنت علاقے کے کھوئے ہوئے وقارکو واپس دلانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

 مولانا سجاد ندوی صاحب نے مارٹن لوتھر کا مقولہ سنایا اورمفتی صاحب کو مجاہد کا خطاب  دیتے ہوئے ان کی زندگی کو جہد مسلسل سے تعبیر کیا اورکہا کہ کرگس کے بجائے شاہین کی زندگی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔

دہلی کے معروف ڈرائے فروٹ تاجر جناب ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب-جو دہلی سے اس اجلاس میں شرکت کے مقصد سے ہی تشریف لائے تھے- نے اپنا تأثرات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مفتی محمد نظام الدین صاحب دہلی کی گرین پارک جامع مسجد میں صرف ایک امام اور خطیب ہی نہیں تھے؛ بلکہ وہ ایک مشن اور تحریک کا نظریہ رکھنے والی شخصیت تھے۔ جب انھوں نے وہاں استعفی پیش کیا، تو دل نے قبول نہیں کیا؛ لیکن جب یہاں ان کی خدمات و کارنامے کو دیکھا ، تو معلوم ہوا کہ وہاں سے زیادہ ضرورت یہاں ہے، اس لیے نم آنکھوں کے ساتھ ہمیں مجبورا الوداع کہنا پڑا۔ اور یہاں آج ان کے استقبال کے حسین منظر کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ آپ سب اپنے عالم، اپنے قائد سے کس درجہ محبت کرتے ہیں۔انھوں نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ علاقہ بہت پس ماندہ ہے اور کام کی سخت ضرورت ہے، ہمیں جب بھی کسی کام کے لیے آواز دی جائے گی، تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم لبیک کہیں گے۔

 بعد ازاں مرکزی جمعیت علمائے ہند کے شعبۂ تصنیف مرکز دعوت اسلام کے معتمد مولانا محمد یاسین جہازی –جنھوں نے مہمان خصوصی کے طور پراس اجلاس میں شرکت کی تھی-نے اپنے خطاب میں کہا کہ موضوع کے اعتبار سے ارادہ یہ تھا کہ علاقے میں جمعیت علمائے ہند کو کم سرمایہ کے باوجود فعال کیسے بنایا جائے کے موضوع پرگفتگو کروں، لیکن قلت وقت کی وجہ سے اس موضوع کو چھوڑتا ہوں۔ انھوں نے آگے کہا کہ مفتی خلیل احمد صاحب نے استقبال کے متعلق حقیقت سے دور القابات استعمال کرنے سے متعلق جو باتیں کہی ہیں، وہ معتدل موقف ہے، تاہم سیرت نبوی اور بزرگان کی سوانح حیات میں اپنی قیادت کی حوصلہ افزائی اور استقبال کے عملی نمونے ملتے ہیں۔ اور مفتی صاحب کا یہ استقبال دراصل اسی فریضہ کی ادائیگی تھی۔ اگرچہ جس آن بان اور شان کے ساتھ ہمیں مفتی صاحب کا استقبال کرنا چاہیے، وہ نہیں ہوپایا، تاہم یہ عمل ہمارے مستقبل کے لیے نمونۂ عمل ہے، جس کا سلسلہ مزید وسیع ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔انھوں نے جمعیت والے کو ہدیہ بہت ملتا ہوگا کے تصور پر ایک لطیفہ بھی سنایا کہ مجھے ایک بہت بڑی ہستی نے کہا کہ آپ لوگوں کو ہدیہ بہت ملتا ہوگا، جس پر مولانا جہازی نے جواب دیا کہ اتنا ہی ملتا ہے، جتنا آپ نے دیا ہے۔ چوں کہ انھوں نے کبھی کوئی ہدیہ نہیں دیا تھا، اس لیے وہ صاحب اور شریک اجلاس بھی بہت محظوظ ہوئے۔

بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی نے ان کے لیے استقبالیہ پروگرام منعقد کرنے پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے ذمہ داروں اور ممبروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ استقبال دراصل ذمہ داری ہے، اور ان شاء اللہ اس کی ادائیگی میں میں آپ حضرات کی توقع پر پورااترنے کی کوشش کروں گا۔ اور سماج کا ہر ہر فرد اپنی اپنی جگہ ایک ذمہ دار ہے۔ اور اسے اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ نوجوان سماج کا آئینہ ہے، لہذا بہتر سماج کی تعمیر کے لیے ہمارے نوجوانون کو اپنا کردار بھی بہتر بنانا ہوگا۔

 مولانا ادریس صاحب صدر جمعیت علمائے گڈا (ارشد مدنی) و مہتمم امداد القرآن کیواں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کام کی توفیق کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہے؛ بلکہ مقبولیت بھی ضروری ہے۔ مفتی محمد نظام الدین صاحب کے کارہائے نمایاں اس پر بات گواہ ہیں کہ ان کے اندر صلاحیت بھی ہے اور عند اللہ و عند الناس مقبول بھی ہیں۔ انھوں نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ میں مفتی صاحب کا علاقے میں خیرمقدم کرتا ہوں اور ان کے تمام کاموں کی مکمل تائید کرتا ہوں۔

اخیر میں اس نشست کے صدر مولانا مفتی محمد اقبال صاحب نے صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں، بحیثیت نائب صدر جمعیت علمائے گڈا، بحیثیت صدر لجنۃ العلما والمفتیین اور بحیثیت صدر رابطہ مدارس اسلامیہ ضلع گڈا، حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے اس تاریخی بیان کی مکمل تائید کرتا ہوں، جو انھوں نے 29؍نومبر 2025ء کو بھوپال میں مرکزی مجلسِ منتظمہ کے اجلاس میں دیا تھا کہ:

’’جب جب ظلم ہوگا، تب تب جہاد ہوگا۔‘‘

انھوں نے سلسلہ ٔکلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ علاقے کے اہل ثروت کو جامعۃ الہدی اور دیگر تمام اسلامی اداروں کے تعاون کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ انھوں نے ترغیب کے لیے دیوبند کی بیوہ کا واقعہ بھی سنایا، جو اپنی کمائی ہوئی دو روٹی میں سے ایک افغانستان کے ایک مجبور و لاچار طالب علم کو دیا کرتی تھی، تاکہ وہ طالب علم دارالعلوم دیوبند میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔ چندہ کرتے ہوئے مفتی صاحب نے اعلان کیا کہ کون ایک طالب علم کو حافظ بنانے کا خرچہ اٹھائے گا، جس پر ماسٹر نسیم صاحب لوچنی، جناب یاسین صاحب پکڑیا ، ماسٹر غلام رسول صاحب جہاز قطعہ، ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب دہلی (دو بچے) نے لبیک کہا۔ اور نقد بارہ ہزار پانچ سو چودہ روپے ہوئے۔

 مفتی محمد خلیل صاحب سیری چک کی دعا پردو بج کر ایک منٹ پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ 

نماز ظہر کے بعد تمام حاضرین کی بریانی اور زردہ سے ضیافت کی گئی، جس کی مجموعی تعداد تقریبا پانچ سو تھی۔

 ان دونوں پروگراموں میں عوام کی سینکڑوں تعداد کے لیے جن اہم اہم شخصیات نے شرکت کی، ان میں قاری محمود بسمبر چک، مولانا محفوظ امام مسجدموہن پور، مفتی زاہد حسن بانی مہتمم جامعہ شیخ یونس اسنبنی گڈا، انجینر مقیم الرحمان فاونڈر و پرنسپل الامین اسکول سروتیہ، مولانا خالد اقبال مہتمم جامعہ محی السنہ، مولانا الیاس ثمر ڈائریکٹر و پرنسپل الفتح انٹرنیشنل اسکول کرما، مولانا قاسم بانی مہتمم معہد انور نیموہاں، ماسٹر نظام الدین ناظم اعلیٰ مدرسہ بشیر العلوم کیتھیہ، مفتی زبیر نمائندہ مدرسہ سلیمانیہ سنہولا ہاٹ بھاگل پور، قاری اکرام بانی مہتمم جامعۃ الصالحات کرہریا گڈا، مولانا عبد الرحمان مظاہری ناظم اعلیٰ مدرسہ حمیدیہ ہنوارہ، مولانا آصف قاسمی امام و خطیب مدنی چک، مفتی سجاد قاسمی امام و خطیب موکل چک، حافظ جمشید امام و خطیب سکرام پور، حافظ رئیس مدرسہ اسلامیہ خرد سانکھی، مولانا شمشیر قاسمی امام و خطیب پھنسیہ، قاری محسن بانی مہتمم جامعۃ الطاہرات بنسی پور، قاری محمود بسمبر چک، قاری ضیاء اللہ ناظم اعلیٰ مخزن العلوم دھپرا، مولانا ذیشان قاسمی امام و خطیب بیلا قطعہ، حافظ محسن امام و خطیب بڑی سانکھی، قاری عبدالستار امام و خطیب کپیٹا، مولانا سرفراز قاسمی بڑی سانکھی، قاری کلیم الدین مہتمم مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم خورد، مولانا مستقیم پربتہ،حافظ ہاشم امام و خطیب کیتھیا مسجد، جناب آفتاب عالم ناظم اعلیٰ جامعۃ الطاہرات مانجر، ماسٹر نسیم لوچنی خازن جمعیت علمائے بسنت رائے، ماسٹر ازہر کیتھ پورا، ماسٹر ولی سروتیہ خازن جمعیت علمائے ضلع گڈا، ماسٹر مظفر جمنی کولا، مولانا اختر حسین امینی جہازی، مولانا غلام رسول ریسمبا، ماسٹر فیض الدین جہازی، جناب فہیم جہازی، مکھیا صغیر جہازی، جناب انظر احمد پرمکھ بسنت رائے پرکھنڈ، ڈاکٹر خالد جہازی، ماسٹر غلام رسول جہازی، حافظ شفیق امام عیدگاہ جہاز قطعہ،حاجی عبید اللہ جہازی، حافظ اشفاق جہازی، مولانا عبدالقیوم قاسمی جہازی،نسیم بسمبر چک،مفتی عبد اللہ جہازی مدرس مدرسہ اسلامیہ خرد سانکھی،حافظ قمر الہدی رنسی ، قاری سجاد صاحب کیواں،مولانا فیضان قاسمی جہازی، حافظ ہارون رشید پرسیاہائی اسکول اور جناب جمال جہازی صاحب ودیگر اہم شخصیات کے نام قابل ذکر ہیں۔

 سامعین کے تأثرات میں اس بات کا کھل کر اعتراف کیا گیا کہ جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کے اس دو سیشن پر مشتمل عظیم الشان پروگرام نے علمی، سماجی اور تنظیمی سطح پر ایک نئی تاریخ رقم کی، جسے علاقے کے لوگ دیر تک یاد رکھیں گے۔

اس پروگرام میں مفتی زاہد امان قاسمی ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے نے جو سکریٹری رپورٹ پیش کی، اس کا مکمل متن درج ذیل ہے:

سکریٹری رپورٹ

تمہید

    جمعیت علمائے ہند ملک عزیزکی ایک تاریخی، دینی، سماجی اور ملی تنظیم ہے۔ 2019 سے 2025 تک بسنت رائے بلاک میں جو دینی، سماجی، فکری اور تنظیمی بیداری پیدا ہوئی، وہ نہایت قابلِ قدر اور غیر معمولی کامیابی ہے۔یہ رپورٹ انھی خدمات کا اجمالی وجامع رپورٹ ہے۔

بلاک سطح کی جمعیت کے قیام کا پس منظر

     2019 تک ضلع گڈا کے کسی بھی بلاک میں جمعیت علمائے ہند کی منظم یونٹ قائم نہیں تھی۔ جب مفتی محمد نظام الدین قاسمی صاحب 2019 میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد سے مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ، جہاز قطعہ میں مہتمم کی حیثیت سے تشریف لائے تو ارادہ ہوا کہ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے جڑ کرکے سماجی کام کیا جائے،لیکن کوئی مناسب مشیر کار نہیں تھا۔

دہلی کا سفر اور مشاورت

اسی دوران دہلی کے لیے مفتی صاحب کا سفر ہوا اور جمعیت علما? ہند کے مرکزی دفتر میں موجود مولانا محمد یاسین صاحب جہازی دامت برکاتہم العالیہ معتمد شعبہ مرکز دعوت اسلام سے جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کو زمین پر اتارنے کے سلسلہ مفصل مشورہ کیا۔انھوں نے اصول اور ضابطے کی روشنی میں بلاک سطح کی جمعیت بنانے کا لائحہ? عمل بتایا۔

جمعیت  علمائے بلاک کا قیام

مشورہ کے بعد بتاریخ: 17?فروری2019 مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ  جہاز قطعہ کی مسجد منیر میں اس وقت کے ضلعی صدر ڈاکٹر تمیز الدین صاحب اور نائب صدر مفتی محمد اقبال صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیر سرکردگی ایک مجلس منعقد ہوئی۔ جس میں مفتی سفیان ظفر قاسمی کو صدر، مفتی محمد نظام الدین قاسمی کو جنرل سکریٹری، مولانا سرفراز قاسمی کو نائب صدر، مفتی زاہد امان قاسمی نائب سکریٹری اور مولانا سرفراز صاحب قاسمی کو خزانچی منتخب کیا گیا۔

 اس طرح سے ضلع گڈا میں  جمعیت کی باضابطہ بلاک یونٹ قائم ہوئی۔ اور اب الحمدللہ سبھی بلاک میں جمعیت کی یونٹ ہے۔

لاک ڈاؤن اور تنظیمی سرگرمیاں

     2020 میں جب لاک ڈاؤن لگا اور جولائی میں مولانا محمدیاسین صاحب جہازی بھی اتفاق سے گھر  آگئے، تو بقر عید کے بعد یہ مشورہ ہوا کہ  علاقائی دورہ کرکے جمعیت کے کام  کو مضبوط اور پیغام کو عام کیا جائے۔ چنانچہ آپسی تبادلہ خیال کے بعد جن ایجنڈوں کے تحت  پورے بلاک بسنت رائے کی مسلم آبادیوں پر مشتمل باون بستیوں کا  دورہ ہوا۔ اور درج  ذیل سات موضوعات کو گاوں گاوں تک پہنچایا گیا:

(1) بستی بستی  خود کفیل مکاتب کے قیام کی  پرزوراپیل 

(2) ہر مسجد میں درس قرآن اور درس حدیث کا اہتمام 

(3) سماجی اور دینی لیڈر کی ضرورت و اہمیت 

(4) جمعیت علمائے ہند کے ممبر سازی کی اہمیت 

(5) ووٹ بیداری مہم

(6) معاشی بیداری اور تجارت پر زور۔

 دورہ میں بالعموم درج ذیل افراد نے پوری لگن اور جذبے کے ساتھ شرکت کی:

(1) مفتی نظام الدین قاسمی 

(2) مفتی زاہد امان قاسمی 

(3) مولانامحمد یاسین جہازی 

(4) مولانا سرفراز قاسمی جہاز قطعہ 

ان چار افراد کی قیادت میں مختلف دنوں میں مختلف لوگوں کی بھی شرکت رہی۔ اتفاقی طور پر جن افراد کی شرکت رہی ان میں مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی امام وخطیب جھپنیاں، قاری محمود صاحب بسمبر چک،مولانا شمیم صاحب مہتمم جامعہ فخر الاسلام کوریانہ، مولانا انصار صاحب جہاز قطعہ مظاہری مفتی سفیان ظفر قاسمی کی شرکت پورے دورے میں صرف ایک دن بگھاکول میں اور مولانا سرفراز صاحب کی شرکت صرف ان کی بستی بڑی سانکھی میں رہی۔

دورہ کا طریقہ کار

دورہ کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے بستی کا انتخاب کرتے، روزانہ دو بستیوں کا دورہ کرتے، کبھی مشورہ کے بعد تین میں بھی ہو جاتا،ہم لوگ اکثر عصر پڑھ کرکے ایک جگہ ملاقات کرتے اور طے شدہ گاؤں میں مغرب اور عشاء پڑھتے،بعد نماز مغرب اور عشاء مذکورہ عناوین کے تحت مختصر بات چیت اور ملاقات کرکے ترغیب دیتے تھے،مفتی زاہد امان قاسمی زیادہ تر درس قرآن درس حدیث اور مکاتب پر بات کرتے تھے، مولانا محمدیاسین جہازی ووٹ بیداری، مولانا سرفراز صاحب قاسمی جمعیت کی ممبر سازی، مفتی نظام الدین صاحب قاسمی مذکورہ عناوین کا خلاصہ اور دینی و سماجی لیڈر کی ضرورت و اہمیت پر بات کرکے دعا کرا دیتے تھے، اتفاقی طور پر جن کی شرکت ہوتی  ان کو مذکورہ عناوین میں سے کوئی بھی عنوان دے دیا جاتا تھا، جہاں عشاء پڑھتے وہاں سے کھانے کھاکر واپس آتے تھے  یہ سارا نظام مفتی زاہد امان صاحب قاسمی کی نگرانی میں ہوتا تھا ? یہ ایک ماہ سے زائد کا علاقائی دورہ تھا جو یقینا ایک تاریخی دورہ تھا۔

مندرجہ ذیل بستیوں کا دورہ ہوا

. مدنی چک۔ 2. کدمہ۔3. جگت پور۔4. جمنی کولہ۔5. بیلا قطعہ۔6. نیموہاں۔7. شاہ پور بیلڈھیہ۔8. شاہ پور۔9. سرسہ۔10. سمری۔11. بگھاکول۔12. بسنت قطعہ۔13. موکل چک۔14. پکڑیا۔15. کمرہ کول۔16. بنسی پور۔17. چورا۔18. کیتھ پورہ۔19. جھپنیاں۔20. بسمبرچک۔21. لیتھا۔22. دھپرا۔ 23. سہوڑا۔24. راہا۔

25. کپیٹا۔26. جہاز قطعہ۔27. رسمبا۔28. پھسیہ۔29. بیلسر۔30. لوچنی۔31. پچوا قطعہ۔32. مانجر۔33. مہیش ٹکری۔34. بڑی سانکھی۔35. گوپی چک۔36. کیتھیا۔37. رنسی۔38. چینگے۔39. پھلوڑیہ۔40. بیلڈھیہ۔41. پربتہ۔42. پرسیہ۔43. روپنی۔44. بھٹہ۔45. قاسم علی ٹیکر۔46. کوریا نہ۔47. بودرا۔48. رانی دیہہ۔49. سیارڈیہہ۔50. پڑوا خورد۔51. پڑوا کلاں۔52. نکٹا۔53. سوڑنیہ۔

اس مہم کی سکسیس اسٹوری

اس مہم اور علاقائی دورہ سے عوام میں نئی فکر پیدا ہوئی،  کئی  مقامات  پرمکاتب کا قیام ہوا، جو احباب پہلے سے ہی مکاتب چلا رہے تھے ان کو عزم و حوصلہ ملا اور بہت سے ساتھیوں کو یہ احساس ہوا کہ علاقے میں دینی عصری اور سماجی اعتبار سے کام کرنے کی بہت ہی سخت ضرورت ہے اس موقع سے ضمنی الیکشن ہونا تھا، اس میں زبر دست بیداری آئی اور ووٹ فیصد میں بھی کافی اضافہ ہوا ?

دورہ کے بعد تاریخی پروگرام

دورہ کے دوران ایک معمول یہ بھی تھا کہ ہر بستی سے تین سے پانچ افراد پر ایک لسٹ تیار کرتے تھے، جس میں امام، کوئی عالم اور سماجی ذمہ دار کا نام ہوتا تھا،  جب دورہ مکمل ہوا تو تقریبا تین سو لوگوں پر مشتمل مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں ظہر سے عصر تک 15/ اکتوبر 2020  ایک عظیم الشان اجلاس عام ہوا، مذکورہ عناوین پر مقالہ لکھا گیا تھا، پروگرام میں سب کو پچاس روپے کے ہدیہ سے ایک ایک فائل دیا گیا اور اس میں مذکورہ عناوین کی فوٹو کاپی بھی دی گئی تھی ? اور انہی عناوین پر بیان بھی ہواتھا، بیان کرنے والوں میں مفتی نظام الدین صاحب قاسمی، مفتی زاہد امان صاحب قاسمی، مولانا یاسین جہازی، مولانا سرفراز صاحب قاسمی تھے، یہ پروگرام مولانا عرفان صاحب مظاہری رحمہ اللہ کی صدارت میں میں ہوا تھا استقبالیہ مفتی سفیان ظفر قاسمی نے پیش کیا تھا، یہ پروگرام بلاک جمعیت کے استحکام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔

ممبر سازی اور انتخاب

اس بیداری مہم کے بعد جمعیت کو لوگوں نے قریب سے جانا اور ممبر سازی میں زبر دست انقلاب آیا اور پہلی بار بلاک سطح پر اڑتالیس سو سے زائد ممبر سازی ہوئی جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے ضلع گڈا کی انتخابی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے دفتر میں عمل میں آیا، اس انتخاب کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں دستوری انتخابی ضابطہ کی مکمل پاسداری کی گئی، اس میں نگراں کی حیثیت سے مولانا محمد یاسین صاحب جہازی انچارج شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند کی شرکت رہی، مولانا یاسین صاحب نے تلاوت کلام پاک کے بعد انتخاب کے اصول و ضوابط کو نہ صرف پڑھ کر سنایا بلکہ بہت سے مقامات پر استفسار کے بعد مکمل وضاحت کی، اس کے بعد ہی انتخابی کارروائی عمل میں آئی،  چنانچہ ضابطہ کے مطابق 59 افراد مجلس منتظمہ کے ممبران قرار پائے پھر  مجلس منتظمہ کے ان ممبران کے ذریعہ مجلس منتظمہ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے مطابق مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی کو صدر اور مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جمعیۃ کے خازن مولانا سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ قرار پائے جبکہ نائب صدر کے طور پر مولانا محمد سرفراز قاسمی سانکھی سابق استاذ:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور قاری ارشاد صاحب کدمہ سابق استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی کو منتخب کیا گیا اور نائب ناظم کے طور پر مفتی زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے اور ڈاکٹر نسیم صاحب مانجر اور معاون کے طور پر محمد شاہد جھپنیاں کو منتخب کیا گیا. اس طرح اس انتخابی نشست میں بسنت رائے سے تعلق رکھنے والے 59 اہم افراد  مجلس منتظمہ کے ممبر منتخب کئے گئے اور 8 افراد مجلس عاملہ کے  اراکین منتخب ہوئے یہ اب تک کا باقاعدہ پہلا انتخاب تھا ? اس انتخاب کے کچھ ماہ بعد ہی مفتی نظام الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری ملازمت کے سلسلہ میں دہلی چلے گیے، کچھ ناگفتہ حالات بھی تھے، اس لیے زمینی طور پر اس باقاعدہ ٹرم میں جمعیت کا کچھ خاص کام نہیں ہوا جب کہ مفتی نظام الدین صاحب قاسمی کے علاوہ سارے ہی افراد بسنت رائے میں ہی موجود تھے۔

ٹرم 2025 کا انتخاب

بتاریخ: 24? اگست 2025 ء بروز: پیر،بوقت: دس بجے دن، بمقام: جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ  میں مقامی یونٹ کا انتخابی اجلاس ہوا، جس میں کل ممبران : 3515  کے لیے مجلس منتظمہ اور عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس میں بطور صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی کا غائبانہ انتخاب ہوا،نائبین صدرمولانا شہنواز صاحب قاسمی،مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی  اور قاری ارشاد کا انتخاب ہوا،جنرل سکریٹری مفتی زاہد امان قاسمی،نائبین مولانا شمیم صاحب، مولانا شمس تبریز قاسمی اور قاری محسن کا انتخاب ہوا، جبکہ بطور خزانچی قاری کلیم الدین صاحب راہی مدرس جامعۃ الہدی جہاز قطعہ اور ماسٹر نسیم صاحب لوچنی بطور معاون ناظم  منتخب ہوئے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

     جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے نیجمعیت علمائے ہند کے مقاصد کی روشنی میں آئندہ ٹرم کے لیے درج ذیل اہداف پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ?

(1) قائم شدہ مکاتب کو منظم کرنا اور مزید مکاتب کا قائم کرنا 

(2) اصلاح معاشرہ کے تحت طلاق، وراثت، سماجی برائیاں، آپسی تنازعات کا حل، نشہ، سود اور جوا سے تحفظ وغیرہ پر کام کرنا ?

(3) تعلمی و تربیتی پروگرام کا انعقاد 

(4) مدارس کے اساتذہ کا تربیتی ورکشاپ ?

(5) اسکول کے طلبا و طالبات کے لیے دینی بیداری پروگرام ?

(6) تجارتی و معاشی بیداری۔ 

(7) ایس آئی آر پر محنت اور درست رہنمائی، تمام ڈاکومنٹ کی درستگی وغیرہ وغیرہ۔

¡¡




¡v¡¡v¡