ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں تین خطوط لکھے گئے تھے، جن میں دو سے مولانا عبید اللہ سندھی نور اللہ مرقدہ نے اور ایک مولانا محمد میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ نے ۔ دوسرا خط درج ذیل ہے:
تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو
از مولانا عبید اللہ قاسمی سندھی نور اللہ مرقدہ
برائے شیخ عبدالرحیم سندھی
سلام مسنون!آپ ضرور ،یہ امانت مدینہ طیبہ میں حضرت مولانا کی خدمت میں کسی معتمد حاجی کی معرفت پہنچا دیں، یہ ایسا کام ہے کہ اس کے کے لیے مستقل سفر کرنا نقصان نہیں ، اگر آدمی معتمد ہو تو زبانی یہ بھی کہہ دیں کہ حضرت مولانا یہاں آنے کی بالکل کوشش نہ کریں اور مولوی اگر اس حج پر نہ آسکیں تو خیال فرمالیں کہ اس کا آنا ممکن نہیں۔
آپ اس کے بعد خود میرے پاس آنے کی کوشش کریں، کیوں کہ یہاں بہت سے ضروری کام ہیں ، ضرور آئیے، اگر خدا نخواستہ آپ کو معتمد حاجی نہ مل سکے، اور آپ خود بھی نہ جاسکیں، تو مولوی حمد اللہ پانی پت والے سے اس معاملے میں مدد لیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس حج کے موقعہ پر یہ اطلاعات حضرت مولانا کے پا س پہنچ جائیں اور وہاں سے جو اطلاع ملے، وہ براہ راست نہ ہوسکے تو مولوی احمد لاہوری کی معرفت ضرور ہی ملنی چاہیے۔عبیداللہ عفی عنہ
