سابق چیف الیکشن
کمیشن آف انڈیا سے جہازی مکالمات
محمد
یاسین جہازی
9891737350
27
جولائی 2024 ء ہفتہ کے روز ساون کی شبنمی قطرات میں بھیگتے بھیگتے جوں ہی آفس کے
گیٹ پر پہنچا، حضرت مولانا حکیم الدین
صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کا حکم ہوا کہ گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ تعمیل
حکم کے بعدمقصد سفر معلوم کیا ،تو معلوم ہوا کہ تحفظ جمہوریت کے مقصد سے جواہر بھون
(منسوب بہ جواہر لال نہرو) واقع نئی دہلی میں ایک پروگرام کاانعقاد کیا جارہا ہے،
جس میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے شرکت کی نمائندگی کرنی ہے۔چنانچہ اس موضوع
کوخود سے ریلیٹ کرنے کی وجہ سے دل چسپی میں اضافہ ہوا اور ختم اجلاس تک اجلاس میں
شریک رہا۔
دنیا
نے تشدد کے راستے انقلاب برپا کرنے اور حکومتوں پر فتح پانے کے طریقے کو جب فرسودہ
پایا، تو عدم تشدد کا فلسفہ اپنا کر اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کا راستہ ڈھونڈھ
نکالا۔ چنانچہ برصغیر بالخصوص ہندستان کی آزادی میں اس فارمولےنے بڑا کردار ادا
کیا اور محض تیس سال کے اندر اس حکومت کو دیس نکالا دے دیا، جس کے متعلق یہ عقیدہ
بن گیا تھا کہ اس کی حکومت کا سورج کبھی غرو ب نہیں ہوتا۔آزادی کے بعدبھارت میں جمہوری طرزحکمرانی لاگو گئی،
جس کودوسرےالفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب میدان جنگ میں دوبدو کرنے کے بجائے
محض ایک انگلی کے بہتر استعمال سے حکومت
کو پلٹااور بدلا جاسکتاہے، جسے ووٹنگ سسٹم کہا جاتا ہے۔
لیکن
پچھلےکچھ دنوں سے جمہوریت کے دشمن فسطائی
عناصر بھارت کی اس خوب صورتی کو ختم کرنے کے لیے اپنے مکروہ مقصد کے لیے پابہ
جولاں ہیں، جس کی وجہ سےملکی سیاست کی بصیرت
رکھنے والے ماہرین اسے جمہوریت کے لیے خطرہ بتاتےہوئے، اس کے تحفظ کے لیے
لائحۂ عمل پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ پروگرام اسی نوعیت کا تھا، جس کے دوسرے سیشن میں
جناب ایس وائی قریشی صاحب سابق چیف الیکشن کمیشن نے شرکت کی۔
جناب
قریشی صاحب نے مجمع کو سلام سے اپنی بات کا آغاز کیااورکسی قسم کی تقریر سے پہلے
لوگوں سے ووٹ بوتھ پر ہوئی پریشانیوں اورگڑبڑیوں کا فیڈ بیک لیا، لوگوں نے ہوئی
پریشانیوں اور گڑبڑیوںکو بیان کیا،جس میں اہم باتیں یہ سامنے آئیں:
1۔ ای
وی ایم مشین میں اگر وہ سیل بند ہےاور افسروں نے اس کے ساری ہدایات پر عمل کیا
ہے،تو گڑبڑی ہوہی نہیں سکتی۔
2۔ ایک
منٹ میں ایک ای وی ایم مشین میں صرف چھ ہی ووٹ ڈل سکتےہیں، کیوں کہ ہر ایک ووٹ کے
بعد 12 سکنڈ کےلیے مشین ڈیڈ ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی لگاتار بٹن دباتا رہے گا، تو مشین
مکمل ڈیڈ ہوجائے گی۔یہ اس لیے کیاگیا ہےتاکہ کوئی بوتھ پر قبضہ کرکے ان گنت ووٹ نہ
ڈال سکے۔
3۔ ای ویم ایک منٹ میں چھ ووٹ سے زیادہ سلو (دھیمی
رفتار) نہیں ہوسکتی۔ اگرکہیں پر اس کی رفتار کو سست کرتا ہے، تو اس کےلیے افسروں
کی بدنیتی ذمہ دار ہے، اس کےخلاف فورا اعلیٰ افسروں کوشکایت کریں۔
4۔ ووٹر
کارڈ ووٹ ڈالنے کی گارنٹی نہیں ہے،بلکہ الیکٹورل رول گارنٹی ہے، اس لیے ہر دوچار
مہینے میں اپنا ،اپنی فیمیلی اور دیگرمتعلقین کا نام چیک کرتے رہنا چاہیے۔ اور نام
چاہے جیسے بھی کٹا ہو، اس کا نقصان ووٹر ہی کو ہوگا ؛ کیوں کہ وہی ووٹ ڈالنے کے حق
سے محروم ہوگا۔ الیکشن کمیشن اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
اس پر
راقم سمیت کئی لوگوں نے پوچھا کہ آخر الیکشن کمیشن لوگوں کے ناموں کو کیوں کاٹ
دیتےہیں، توقریشی صاحب نے اس کی وجوہات بتائیں کہ
۱۔
کمپیوٹر ایرر۔
۲۔
پڑوسی یا کسی کی غلط شکایت۔
۳۔
افسران کی غلطی۔
۴۔
افسران کی بد نیتی۔
انھوں
نےزور دے کر کہا کہ وجہ کوئی بھی ہو، نقصان آپ ہی کا ہے، اس لیے جس طرح آر ایس
ایس والوں نے ہر ایک پنے پر جس میں تقریبا پچیس تیس نام ہوتے ہیں، ایک پنا پرمکھ
بنا رکھا ہے، ایسے ہی تحفظ جمہوریت اور اپنی سیاسی سمجھ بوجھ کا حوالہ دینےکےلیے
ووٹ کے تعلق سے بیدار رہنا ضروری ہے۔انھوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکٹورل
رول کے ذریعہ الیکشن کی ہار جیت کا فیصلہ چھ مہینے، تین مہینے پہلے ہوجاتا ہے، تو
جولوگ اس تعلق سے بیدار رہتے ہیں، وہ لوگ جیت جاتے ہیں، اور جولوگ ایسا نہیں کرتے،
وہ لوگ ہار جاتے ہیں۔
راقم
نے ایک سوال یہ کیا کہ جو لوگ کسی دوسری جگہ ملازمت کرتے ہیں، مثلا دہلی کی رپورٹ
یہ ہے کہ یہاں کی مقامی آبادی کل تیس فیصد ہے ، جب کہ ستر فی صد لوگ باہر سے آکر
یہاں رہ رہے ہیں،جن میں سےبیشتر کے پاس
یہاں کاالیکشن کارڈنہیں ہےاور نہ ہی یہ حضرات ملازمت کی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے
بوتھ پر جاکر ووٹ ڈال پاتے ہیں، تو اس کےلیے الیکشن کمیشن نے کیا انتظام کیا ہے؟
اس پرانھوں نے کہا کہ پوسٹل ووٹنگ کاسسٹم ہے، لیکن وہ سرکاری ملازمین کےلیے مشروط
ہے، عام لوگوں کے لیے نہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس سوال پر الیکشن کمیشن کو
غور کرنا چاہیے۔
دوسرا
سوال یہ راقم نے یہ کہا کہ نئے ووٹر کارٹ بنانے میں اگر بی ایل او معاونت نہ کرے
اور معاندت سے کام لے،تو اس کا کیا حل ہے، تو انھوں نے بتایا کہ آپ تحصیل کے
ادھیکاری کے پاس جاسکتے ہیں، وہاں شنوائی نہ ہورہی ہو، تو آپ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ
کےپاس جاسکتے ہیں ۔
سیشن
کے بالکل آخر میں راقم کا تیسرا سوال یہ تھا کہ
ایک وڈیو میں دیکھا کہ جو تین مرتبہ سے زائد ووٹ نہیں ڈالے گا، اس کا نام
کاٹ دیا جائے گا اور شہریت بھی ختم کی جاسکتی ہے، اس میں کتنی سچائی ہے؟ اس کا
ہاتھ ہلاکر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ بالکل افوا ہ ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
سچائی
یہی ہے کہ آج کل سیاسی سوجھ بوجھ کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ووٹنگ سسٹم سے
مکمل طور پر واقفیت ہو اور جب کبھی ووٹنگ ہو، تو اس میں سو فی صد ووٹ کاسٹنگ کا
عزم کرتے ہوئے مکمل اتحاد کے ساتھ کسی ایک جمہوریت مزاج لیڈر کو جیتانا ضروری ہے؛
ورنہ اگر ہرانے کی سیاست کرتے رہے، تو شکست ہماری عقل و بصیرت پر ماتم کرے گی اور مردہ قوم کا عنوان چسپاں کرکے ہماری تباہی کا تماشا دیکھے گی۔
اس
جلاس کی مکمل رپورٹ درج ذیل ہے:
جمعیت
علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے اشتراک سے جواہر لال نہرو بھون نئی دہلی میں 27
؍جولائی 2024 ءکو بروز ہفتہ ووٹر بیداری کے تعلق سے ایک پروگرام منعقد
کیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری
جمعیت علمائے ہند ،مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا
ذاکر قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا وحید الزماں صاحب قاسمی آرگنائزر
جمعیت علمائے ہند اور راقم محمد یاسین جہازی نے شرکت کی ریاستی جمعیت علمائے
ہریانہ کی طرف سے مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے
ہریانہ،پنجاب ہماچل پردیش کی قیادت اور مفتی سلیم احمد ساکرس کی نگرانی میں ایک
بڑی تعداد نے شرکت کی.
پروگرام
کا آغاز قاری اسلم بڈیڈ صاحب کی تلاوت اور نعت النبی سے ہوا۔ بعد ازاں جناب ملک
صاحب نے پروگرام کے مقاصد کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہریانہ میں آنے والے اسمبلی
الیکشن میں ایسا فعال کردار ادا کرنا ہے جس سے فرقہ پرستانہ سوچ کی ہار ہو۔انھوں
نے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ سیاست میں فرقہ واریت سے زیادہ سماج سے فرقہ واریت
کا خاتمہ ضروری ہے اور ہمیں اسی کے لیے کام کرنا ہے۔
اس کے
بعد مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے خطاب
فرمایا،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارا ملک بہت خوب صورت ہے لیکن بیمار ہوگیا ہے۔ اس
بیماری کی اصلاح ضروری ہے۔انھوں نے اس پر زور دیا کہ ہمیں زمینی سطح پر کیسے کام
کرنا ہے اس کو سیکھنا چاہیے اور مکمل معلومات حاصل کرکے میدان میں اترنا چاہیے۔مولانا
قاسمی نے پچھلے 2024 ءکے الیکشن میں خاموش طریقہ سے جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد کا
بھی تذکرہ کیا۔
پروفیسر
عزیز جھا صاحب نے اس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے 2024 ءکے پارلیمنٹری
الیکشن میں جس طرح چار سو پار کا نریٹیو سیٹ کیا تھا، ایسا لگتا تھا کہ فرقہ واریت
جیت جائے گی ؛لیکن اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والوں نے ہمت نہیں
ہاری اور فرقہ واریت کو شکست دینے کے لیے کام کرتے رہے، جس کا نتیجہ اچھا آیااور
فرقہ واریت کو ہار ہوئی۔
اس کے
بعد جناب ندیم صاحب اور ان کے ساتھیوں نے پی پی ٹی کے ذریعہ ہریانہ میں ماحول
بنانے، ووٹ کاسٹنگ کی کمی کو دور کرنے اور ووٹ اندراج کو یقینی بنانے جیسے موضوعات
پر شان دار معلومات فراہم کیں۔
اس کے
بعد جناب جوگندر یادو صاحب نے اپنا خطاب شروع کیا، انھوں نے کہا کہ بی جے پی ہارنے
کے بعد اگلے الیکشن جیتنے کے لیے جائز ناجائز قانونی غیر قانونی ہر حربے استعمال
کرے گی۔یہ لڑائی ذہنی لڑائی ہے، اس لیے صرف الیکشن میں بی جے پی کو ہرانے سے نہیں
ہم نہیں جیتیں گے؛ بلکہ اس کے لیے آر ایس ایس کی سو سالہ جدوجہد کے خاتمے کے لیے
ہمیں بھی سڑک پر اترنا پڑے گا۔
انھوں
نے ہریانہ الیکشن کے ڈیٹا انالائسیس کرتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی ہندو مسلم اور
جاٹ یادو کا کارڈ کھیل کر جیتتی ہے، جس کے لیے انھوں نے ابھی سے تیاری شروع کردی
ہے، اس لیے ہمیں مقابلے کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے۔
انھوں
نے مزید کہا کہ مشینوں کی ہیرا پھیری کی بات کی جاتی ہے لیکن بی جے پی نے دماغوں
کی ہیرا پھیری کردی ہے، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسے لوگوں سے بات کرنی
ہوگی جس نے پہلے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔
میوات
میں جو لوگ بی جے پی کے لیے ووٹ مانگنے آئے، وہاں کے لوگوں کو کہنا چاہیے کہ جو
ہمارا مآب لنچنگ کرتی ہے اس کے لیے تم کیسے ووٹ مانگ سکتے ہو۔
ہریانہ
میں کانگریس سے زیادہ بھرشٹا چار بی جے پی کے دور میں رہی۔نوکری، بے روزگاری اور
اس جیسے ریل (حقیقی) ایشوز پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی فرضی مدعے اٹھاکر
ماحول کو الگ رخ پر لے جاتی ہے جس سے اصل مدعے غائب کردیتی ہے۔
آر ایس
ایس پچھلے دو سال سے ہریانہ میں کام کررہی ہے۔
اس کے
بعد جناب پرشانت کمار صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیونیکیشن، کمپیننگ اور
زمینی سطح کے کام ہی اصل کام ہے۔نھوں نے مزید کہا کہ ہمیں ماضی کی تاریخ سے ہندو
مسلم اتحاد کے جو عملی مظاہرے ہوئے ہیں، اس کو سامنے لاکر سدبھاؤنا قائم کریں،
جیسے کہ ہریانہ میں سرچھوٹو رام نے ایک یونینسٹ پارٹی بنائی تھی جس کی ورکنگ کمیٹی
میں کئی مسلمان تھے اور انھوں نے ہندو مسلم دلت اور جاٹ کو متحد کرنے پر کام کیا۔
2024
ءکے الیکشن میں انڈیا اتحاد کے اسٹار پرچارک نے کبھی بھی ہندو مسلم بیانات نہیں
دیے، بلکہ الٹے ہی بی جے پی کو اپنے ٹریک پر لانے کی کوشش کی۔آزاد بھارت میں یہ سب
سے زیادہ مضبوط اپوزیشن ہے۔
انھوں
نے کی میسیج دیتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں متھرا کاشی اور رام مندر کے معاملے کا
کوئی مطلب نہیں ہے، لیکن بی جے پی ہریانہ کے باہر کے مدعے لانے کی کوشش کرے گی، جس
میں ہریانہ والوں کو نہیں پھنسنا ہے؛بلکہ وہاں کے جو مقامی مدعے ہیں ان کے تعلق سے
بیداری پیدا کرکے ماحول بنانے کی کوشش کریں۔
پارٹیوں
میں ٹکٹ کی تقسیم میں میرا آدمی تیرا آدمی کے نام سے سرپھٹول ہوگی؛ لیکن ہمیں اس
سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے، اس کے بجائے ہمیں کمپیین میں سوشل میڈیا، میڈیا
سماج کے اہم اہم لوگوں کی فہرست بنائیں اور اپنے پروگرام میں ان کو بلاکر مقامی
مدعوں پر بلوائیں،اس میں کوئی کانگریس، بی جے پی نہیں کریں۔
بی جے
پی کے اہم ووٹر مہیلا ووٹرس ہیں، ان کے مدعے کو بھی اٹھائیں۔
اسی کے
ساتھ صبح کا سیکشن اختتام پذیر ہوگیا اور پروگرام نماز و ظہرانہ کے لیے دوسرے سیشن
کے لیے ملتوی ہوگیا.
دوسرا
سیشن جناب ایس وائی قریشی صاحب سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا کے لیے وقف تھا، جس
کی تفصیلات سطور بالا میں آگئی ہیں۔
بعد
ازاں جناب شیو کمار صاحب پروفیسر دہلی یونی ورسٹی نے تقریر کی۔انھوں نے کہا کہ جس تکلیف سے سب لوگ انفرادی طور پر گزر
رہے ہیں اگر سب لوگ مل کر اس کو حل کریں گے تو مسئلہ ضرور حل ہوجائے گا۔انھوں نے
جاوید خان کے پرائیویٹ بل پیش کرکے دوسروں کے حقوق کے لیے لڑنے کا نمونہ پیش کیا۔1857
ء میں ملک اس لیے جیت نہیں پایا کہ سب لوگ ملک کے لیے نہیں؛ بلکہ صرف اپنی ریاست
کے لیے لڑ رہے تھے اور 1947ء میں ہندستانی اس لیے جیت گئے کہ انھوں نے ہندستان کے
لیے لڑائی لڑی۔ہمیں سیکولرزم کی لڑائی مل کر بڑی لڑائی لڑنی ہوگی۔
ایک
دوسرے مہمان مقرر نے کہا کہ اقلیتوں کی اکثریت کو ملا کر اور سڑک پر آکر کام کرنے
سے پتہ چلتا ہے کہ ہم لوگ کیا کرسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر کام کرسکتے ہیں۔
خود
اپنی کمیونٹی کے ساتھ اور دوسری کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا نہایت ضروری ہے۔
مشترکہ
لوگوں کا گروپ بناکر سب کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ضروری ہےاور لوگوں کو جوڑے
رکھنے کے لیے مشترک کمیونٹی کے ساتھ مختلف مسائل پر پروگرام کرتے رہنا چاہیے۔ ساتھ
ہی ہر پروگرام کے بعد فیڈ بیک لینا ضروری ہے۔
جناب
اشتیاق صاحب نے کہا کہ پروگرام میں سنی ہوئی باتوں کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے۔
مفتی
سلیم احمد ساکرس نے کہا کہ بہتر نتائج کی
توقع ہم سب رکھتے ہیں؛ لیکن اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ،صرف خواب دیکھنے سے کچھ
نہیں ہوتا۔ ہمیں ووٹ دیتے وقت ذاتی مفاد کے بجائے ملی مفاد کو ترجیح دینا ہے۔
مفتی
ساکرس نے آخر میں یہ بھی کہا کہ علما کو قوم کا سب سے بڑا ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ یہ
ہمدردی اسی وقت سچی سمجھی جائے گی جب ضرورت پڑنے پر قوم کے کام کے لیے علما آگے آئیں گے اور اس کے لیے زبردست محنت کریں گے
۔
بعد
ازاں جناب ندیم صاحب نے کہا کہ ہمیں کام کرکے یہ ثابت کرنا ہے کہ مودی قابل شکست
ہے۔2024 ءکا الیکشن کا ریزلٹ کسی سیاسی پارٹی کی وجہ سے نہیں؛ بلکہ سیکولر عوام کی
بیداری کی وجہ سے ہے۔
مفتی
سلیم احمد گڑگاواں کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔