2 Feb 2026

اشعاربرجستہ: مولانا محمد اسلام ساجدمظاہریؒ سابق استاذ مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ

جہازی اکابرین کی نایاب وراثت 


اشعاربرجستہ

تصنیف

مولانا محمد اسلام ساجدمظاہریؒ

سابق استاذ مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ 

جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ

ناشر

جہازی بک ڈپو

جہاز قطعہ گڈا، جھارکھند


حال احوال

’’اشعار برجستہ‘‘ مولانا محمد اسلام ساجد صاحب مظاہری نور اللہ مرقدہ کی ایک نایاب وراثت ہے۔ وہ بذات خود شاعر تو نہیں تھے؛ البتہ شعرو ادب سے گہرا تعلق تھا، روز مرہ کی گفتگو میں بکثرت شعر پڑھا کرتے تھے۔یہ مجموعہ ان کے شعری مذاق کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ کتاب بچوں میں شعر فہمی کی استعداد پیدا کرنے کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے اور اس کے لیے یہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ شعروں پر عنوانات لگادیے گئے ہیں۔ ایک شعر ذو معنی ہوتے ہیںاور اس پر کئی کئی عنوانات فٹ آتے ہیں، اور مختلف مقامات پر ان کا استعمال غیر موزوں نہیں ہوتا، اس لیے اس کتاب میںکچھ اشعارکئی کئی عنوانات کے تحت درج  کیے گئے ہیں۔اس لیے امید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب طلبہ میں بے حد مقبول ہوگی ۔

کتاب کے مسودے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابھی پائے تکمیل کو نہیں پہنچی تھی کہ مصنف کا انتقال ہوگیا، کیوں کہ ہر عنوان کے بعد تقریبا نصف صفحہ خالی رکھا گیا ہے،جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ان کے ذہن میں جس عنوان کا ورود ہوتا تھا، اسے لکھ لیا کرتے تھے اور جیسے جیسے اشعار دریافت ہوتے تھے، اسے اس عنوان کے تحت درج کردیا کرتے تھے۔

اشعار تحریر کرنے کا انداز سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ زیادہ تر وہی اشعار قلم بند کیے گئے ہیں، جو مولانا کو یاد تھے، کیوں کہ کسی کسی جگہ صرف ایک ہی مصرع لکھا ہوا تھا، جسے راقم نے مآخذ سے تلاش کرکے مکمل کردیا۔ اس کتاب میں مرزا اسدا للہ خاں غالبؔ کے اشعار زیادہ ہیں، جس سے مولانا مرحوم کی غالب شناسی اور اس شاعر سے انسیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ 

اشعار برجستہ کا مسودہ ہمیں گھرکی باقیات سے ملا، جو تقریبا کافی بہتر حالت میں تھا، جب کہ اس کے ساتھ مولانا مرحوم کے کئی اور بھی مسودے ملے، جوانتہائی مخدوش تھے، کچھ مسودوں کا تو نام تک کا پتہ نہیں چلا، جب کہ کچھ مسودے نام کے ساتھ محض دو تین اوراق ہی محفوظ یا پڑھنے سمجھنے کے قابل تھے، جن میں ’دل کی راہ سے‘ ،’ حرف آخر‘ اور’ ذکر حبیب ‘نامی مسودے شامل ہیں۔

مسودے کے اس بے رحمی سے ضائع ہونے کے پیچھے کئی اسباب کار فرما رہے۔ زبانی روایت کے مطابق مولانا مرحوم نور اللہ مرقدہ کے انتقال کے بعد وارثین نے ذاتی لائبریری کو بھی تقسیم کرلیا، جس  کی وجہ کتاب شناسی نہیں تھی؛ بلکہ اکابر کے تبرک کی تحصیل تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتابیں غیر اہلوں کے ہاتھوں میں چلی گئیں اور رفتہ رفتہ ضائع ہوگئیں۔اکابرین کی وراثت کے ضائع ہونے کی ایک وجہ تو یہ تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ دیہات میں کاغذوں کو پانی میں گلا کر ڈلیا بنا لیا کرتے تھے۔ راقم نے اپنے گھر میں بھی دیکھا کہ جو کاپی خالی پننے نہیں رکھتی تھی، اسے ناقابل استعمال سمجھ کر گلا دی گئی اور ڈلیا بنالیا گیا۔ علاوہ ازیں راقم نے خود اپنے سن لاشعور میں کئی مسودے اس لیے بھی نذر آتش کردیے کہ یہ بے کار ہوگئے ہیںاور لکھنے کے لیے ایک بھی صفحہ نہیں بچا ہے۔ کچھ کتابوں اور مسودوں کے ضائع کرنے میں دیمک نے بھی اپنا مکمل کارنامہ انجام دیا۔ مٹی کا گھر ہونے کی وجہ سے دیمک نے کتابوں کو اپنا بسیرا بنایا اور ان کا پورا وجود چٹ کرگیا۔ ان تمام حوادث کے باوجود کتابوں اور مسودوں کا ایک بڑا ذخیرہ گھر میں موجود تھا؛ لیکن ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ ۲۷؍ ستمبر ۱۹۹۵؁ء کو سر شام گاؤں میں ایک بھیانک باڑھ آیا، جس نے پورے گاوں کو تہس نہس کردیا۔ تقریبا سبھی کچے مکانات زمیں بوس ہوگئے ۔ گھروں میں اناج کے ذخیرے اور مال و اسباب تباہ و برباد ہوگئے۔ اس سیلاب نے امیر کو غریب کی صف میں لاکھڑا کر دیا اور غریبوں کو غریب تر بنا دیا۔ابھی اس ہوشربا تباہی و بربادی سے کمر سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ پھر دوبارہ ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اس سے زیادہ خطرناک سیلاب آیا۔۱۱؍ بجے دن بروز منگل گاوں پر پانی چڑھنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے گاوں کے اونچے مقامات پر تقریبا دس فٹ پانی بلندہوگیا۔ بہاو اتنا تیز تھا کہ اس نے گاؤں کی اشیائے حیات کے ساتھ ساتھ تاریخی نوادرات بھی بہا لے گیا۔ جہاں اپنی جان کا تحفظ مشکل ہوگیا تھا، وہاں کتابوں کے تحفظ کو سوچنا بھی محال تھا۔ گاوں کی بہت بزرگ شخصیت مولانا مظہر الحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس لکڑی کا ایک صندوق تھا، جس میں مدرسے اور اکابرین جہازی کی تصانیف محفوظ تھیں، اتفاق سے اس سیلاب میں وہ پورا صندوق تیز بہاو کی زد میں آگیا اور بہت کوشش کے باوجود بھی اسے نہ بچایا جاسکا۔ اس طرح یہ گاوں اپنی تاریخی وراثت سے محروم ہوتا چلاگیا۔ ان حوادث کے باوجود کتابوں کے حوالے سے والد محترم    ( جناب محمد مظفر حسین صاحب ، جو مولانا مرحوم کے نواسے ہیں)کے شوق و لگاؤ کی وجہ سے کچھ چیزیں محفوظ رہ گئیں، جن میں سے ایک کتاب یہ بھی ہے۔ اور اب آپ کی محبت ان شاء اللہ تعالیٰ اسے ضائع ہونے نہیں دے گی۔ 

مولانا مرحوم ؒ کی دستیاب تحریروں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ کثیر التصانیف تھے۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت تصنیف و تالیف میں ہی گذارا کرتے تھے۔ 

مولانا مرحوم نور اللہ مرقدہ در حقیقت نثر نگار تھے ، جس میں انشاء نگاری کا عکس جھلکتا تھا۔اور اسلوب کی رنگینی قاری کو مربوط و مبہوط کردیتی تھی۔ بطور مثال ان کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کیا جارہا ہے:

جمعہ کی رات(شب اول) سہانی، خوشگوار پرفضا چاند کی کوثر تسنیم میں دہلی ہوئی چاندنی اور اس پرہولے ہولے جھکولے کھاتی ہوا، کتنا پرسکون ہوتا ہے اور پھر اس پر سونے پر سہاگہ کیوں نہ ہوجائے، جب کہ ایسی حالت میں دوست اور یار غار آجائے!۔

ا س پر فضا ماحول میں ہم بیٹھے ہوئے تھے، بعد نماز مغرب کے آدھ گھنٹے گفتگو میں گذر جانے کے بعد اچانک دروازے کی جانب سے السلام علیکم کی آواز آئی۔ سر اٹھا کر دیکھا، آواز جانی پہچانی تھی۔ خوشی دوبالا ہوگئی۔ رات گفتگو میں گذری۔صبح کو بعد ناشتہ جب مہمان اپنے میزبان کے ساتھ تنہا تھے، نہایت سنجیدگی کے ساتھ یہ بات پیش کی: 

’’مولوی اسلام! آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں، اکثر چاہا، مگر بھول جاتا ہوں۔ ابھی پھر خیال آیا، دیکھیے آج ہماری، آپ کی اور نہ جانے کتنے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ نہ وہ گھر کا گنا جاتا ہے اور نہ باہر کا۔ اور ان میں سے اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں، جو مدارس نظامیہ سے تعلیم حاصل کرکے آتے ہیں اور معمولی سی تنخواہ میں بچوں کو تعلیم دینا شروع کردیتے ہیں۔ اول پیسے کی کمی۔ دوئم وقت سے فراغت کم ہونے کی وجہ سے وہ گھر کے کسی اور کام کو انجام دے نہیں پاتا۔ اور گھر سے ایک قسم کی بے تعلقی ہوجاتی ہے۔ اور پھر گھر والے اس کو علاحدہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ’’دھوبی کا کتا نہ گھر کا گھاٹ کا‘‘ والی مثال ہوجاتی ہے۔ ایسے عالم میں وہ جاہل مزدور سے بھی گیا گذرا ہوجاتا ہے، جو روزانہ کم از کم دو سیر مزدوری کرلیتا ہے۔ لوگ اس کی حالت دیکھ کر ہنستے ہیں اور تماشائی بنتے ہیں۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ایک ایسی انجمن ہو، جس کی کچھ مالی حیثیت ہو اور وہ ایسے لوگوں نیز اور دوسرے غربا و مفلسوں کی وقتی امداد کرسکے اور جب فراغت ہوجائے، وہ شخص اس قرض حسنہ کو ادا کردے۔ میں اس چیز کی اہمیت کو شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہوں۔ تم کیا کہتے ہو؟؟!‘‘۔اور محمد اسلام نے اپنے دوست کو اپنا دلی ترجمان دیکھ ہاں کہہ کر اپنا وہ منصوبہ پیش کردیا جو ایک مدت سے اپنے دل میں پال رکھا تھا۔ اور……اسی وقت ان دونوں ’’میزبان اور مہمان‘‘ نے ایک انجمن کی داغ بیل ڈال دی! خدا کرے ان دو دوستوں کی دلی تمنا پوری ہو۔ اور دونوں کی کوشش بار آور ہو!!!!۔

یہ جمعہ کا دن ۱۰؍بجے کا وقت تھا تاریخ ۱۱؍ربیع الآخر۱۳۸۹ھ مطابق یکم جون۱۹۶۹ء تھی۔

  (جہاز قطعہ کی تاریخ: مرتب: محمد یاسین جہازی)

مصنف کے حال احوال

مولانا محمد اسلام ساجد مظاہری ابن جناب عبدالرحمٰن ابن نصیر الدین عرف نسو ابن پھیکو ابن گھولی ابن دروگی شیخ نور اللہ مرقدہ ، جہاز قطعہ کے رہنے والے تھے، جو ریاست جھارکھنڈ کے گڈا ضلع میں واقع ہے۔مولانا مرحوم کی پیدائش اور تعلیمی معلومات کے حوالے سے ان کی ایک تحریر موجود ہے، جو انھوں نے ’’حرف آخر ‘‘ نامی کتاب کے شروع میں تعارف کے عنوان سے لکھا ہے ۔ اس تحریر کو من و عن یہاں پیش کیا جارہا ہے: 

نام: محمد اسلام ساجد۔پتہ: مدرسہ رحمانیہ جہاز قطعہ، ڈاک خانہ اعظم پکڑیا، تھانہ پتھر گاماں، ضلع دمکا بہار۔تاریخ پیدائش:ماہ جمادی الثانیہ۱۳۶۲ھ، (مطابق جون ۱۹۴۳ء) میں ولادت ہوئی، تاریخ متعین نہ کی جاسکی۔  تعلیم: غالبا ۱۳۶۶ء (مطابق۱۹۴۷ء) سے طفل مکتب بنا۔ ۱۳۷۹ء (مطابق ۱۹۵۹ء) تک مدرسہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں تعلیم شرح جامی، کنز الدقائق، اصول الشاشی تک حاصل کی۔ شوال ۱۳۷۹ھ (مطابق مارچ ۱۹۶۰ء)  میں مظاہر علوم سہارنپور، بتکمیل تعلیم پہنچا۔ شعبان ۱۳۸۴ھ( مطابق دسمبر ۱۹۶۴ء)  فراغت (مدرسہ مذکور سے ) پائی۔ 

پیشہ:آبائی پیشہ کاشتکاری ہے۔ والد ماجد کے ذمہ ایک ایکڑ چند ڈسمل زمین کاشت ہے۔ فراغت کے بعد مدرسہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں بحیثیت مدرس چہارم کام کرنا شروع کیا۔ 

نوٹ: دنیا مجھے اسلام کے نام سے جانتی ہے۔ گھر، گاوں، مدرسہ، حتیٰ کہ مظاہر علوم سہارنپور میں بھی ’’محمد اسلام دمکوی ہی تھا۔ ساجدؔ۔

 مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ میں درجہ سوم تک کی کتابوں کی تدریس وابستہ کی گئی۔ نور الایضاح،قدوری،میزان و منشعب، نحومیر، گلستاں اور بوستاں کا درس بہت زیادہ مقبول تھا۔ تا دم وفات تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ میں ایک استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ناظمدارالاقامہ بھی تھے، جس کے ذریعے بچوں کی تربیت پر خاص نگاہ رکھتے تھے ۔ مطبخ کی ذمہ داری بھی وابستہ تھی، جس سے تہذیبی و سماجی تربیت پر بھی خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ان تمام ذمہ داریوں کے ساتھ وہ ایک باکمال خطیب بھی تھے اور جمعہ کے دن جامع مسجد میں خصوصیت کے ساتھ خطاب فرمایا کرتے تھے۔ 

وہ کم گو تھے، لیکن طبیعت میں ظرافت تھی۔ساتھ ہی وہ قابل تقلید اخلاق کے بھی مالک تھے۔نرم خوئی ان کی خاص صفت تھی، اس لیے مدرسے کے بچے آپ سے بہت زیادہ بے تکلف رہا کرتے تھے۔ تدریس سے فراغت کے بعد بالعموم تحریر و کتابت میں مصروف رہتے تھے۔

 حادثہ فاجعہ 

 مولانا کا شب و روز درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گذر رہا تھا کہ اچانک  مولانا مرحوم کو پہلے سردی والا بخار آیا، جو رفتہ رفتہ میعادی بخار میں تبدیل ہوگیا۔گاؤں کے ڈاکٹر جناب ثمیر الدین صاحب نے علاج شروع کیا، لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا، جس کے پیش نظر جھپنیاں کے ڈاکٹراکرام صاحب سے رجوع کیا گیا، لیکن یہاں بھی کچھ افاقہ نہیں ہوا۔ صلاح و مشورہ کے بعد یہ طے کیا گیا کہ حکیمی علاج شروع کیا جائے، چنانچہ گاؤں کے حکیم جناب محمد حسین مرحوم نے علاج شروع کیا، لیکن یہاں بھی کوئی فائدہ نظر نہیں آیا، بالآخر علاقے کے سب سے مشہور ڈاکٹر جناب شہید پچوا قطعہ سے رابطہ کیا گیا۔ انھوں نے خصوصی توجہ کے ساتھ تقریبا بارہ تیرہ ایام تک علاج کیا اور اپنے گھر پر ہی اپنی نگرانی میں رکھا، لیکن مرضی مولیٰ برہمہ اولیٰ ہوتا ہے، اس لیے اس بیماری سے وہ جاں بر نہ ہوسکے اور داعی اجل کو لبیک کہہ کر واصل بحق ہوگئے۔والد محترم کی ملی ایک تحریر کے مطابق تاریخ وفات ۱۹؍ اپریل ۱۹۷۲ء؁ بروز بدھ تقریبا دو بجے دن ہے۔ اس کے اگلے دن آبائی قبرستان جہاز قطعہ میںتدفین عمل میں آئی۔ پسماندگان میں ایک لڑکا جناب محمد اطہر اور ایک لڑکی مَسُودہ خاتون ہے ، جو تا دم تحریر با حیات اور صاحب اولاد ہیں۔ ان کے انتقال کے وقت لڑکی ابھی کچھ ہی مہینوں کی تھی اور بڑی اولاد لڑکے کی عمر کچھ سال کی تھی۔ 

دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات کو بلند کرے اور اس کتاب کو ان کے لیے نجات کا ذریعہ بنائے، آمین ۔ ثم آمین۔

محمد یاسین جہازی قاسمی

خادم جمعیۃ علماء ہند

۲۴؍ مارچ ۱۰۱۸ء؁ جمعرات رات نو بجے

      مطابق ۶؍ رجب ۱۴۳۹ھ؁


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لاھلہ والصلاۃ لاھلہا اما بعد

ننگ وجود

ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی

میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

غالبؔ

خاکساری

پر تو خود سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم

میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک

اللہ خاں غالبؔ

ازل میں جب ہوئی تقسیم عالم فانی

بطور خاص ملا سوز جاوداں مجھ کو

ضیاؔ فتح آبادی

درد کو ڈھالتے ہیں نغموں میں

سوز کو ساز میں بدلتے ہیں

داد دے ہم کو ائے غم دنیا

زخم کھاکر بھی پھول اگلتے ہیں

نریش کمار شاد

پس مرگ

یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے 

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

غالبؔ

اللہ اللہ! کیا خوشی ہے میرے مرنے کی وہاں

دھوم ہے چاروں طرف شور مبارک باد کی

مائل

کہہ رہے ہیں وہ میرے لاشے پر

ہائے کیا مرگ ناگہانی ہے

نعمت علی ماجد

شکریہ

کس منھ سے شکر کیجیے اس لطف خاص کا 

پرشش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں

غالبؔ

قسمت بری سہی، پہ طبیعت بری نہیں

ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے

غالبؔ


تری محفل سے

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغ محفل

جو بھی نکلا تری محفل سے پریشاں نکلا

غالبؔ

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے ، لیکن

بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے

غالبؔ

کچھ نہ کچھ

بوسہ نہیں، نہ دیجیے، دشنام ہی سہی

آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں

نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب

سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں

غالبؔ

ہے گراں چاول، تو آٹا ہی سہی

آٹا غائب تو بھوسہ ہی سہی

پیٹ بھرنا ہے بہر صورت ہمیں

کچھ نہ کچھ تو کھائیں گے دھوکہ ہی سہی

(نامعلوم)

ناتوانی- بیچارگی

مرگیا صد مہ یک جنبش لب سے غالبؔ 

ناتوانی سے حریف دم عیسیٰ نہ ہوا

غالبؔ

اسے حشر بھی اٹھائے تو وہ اب اٹھ نہ سکے گا

تیرے غم میں روتے روتے جسے نیند آگئی ہے

نور تقی نورؔ

بے مائیگی و بے بسی

بے داد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ

جس دل پہ ناز  تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا

غالبؔ

روتے روتے مرے آنکھوں کا لہو سوکھ گیا

عین برسات میں برسات نے دم توڑ دیا

صہبا بانو صہباؔ

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغ دار میں

شاہ ظفرؔ

ہمیں  دل سے رہا کیا کام، جب جاتا رہا ہم سے

چمن سے ہم کو کیا مطلب جو اجڑا آشیاں اپنا

اقبال بیگم ترک

انتظار

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

غالبؔ

عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

شاہ ظفرؔ

کرم ہے ان کے کل آنے کی خبر

آج ہی کاش وہ کل ہوجائے

ضیا فتح آبادی

مقصود نظر

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا سجود

قبلہ کو اہل جہاں قبلہ نما کہتے ہیں

غالبؔ

کروں سجدہ نہ کیوں کر سرجھکاکر اپنے سینے کو 

کہ سینے میں میرا دل ہے وہ میرے دل میں رہتے ہیں

(نامعلوم)

چارہ ساز- غم گسار

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

غالبؔ

شوق تذکرہ و گفتگو

کتنی بے کیف ہے زیست کی انجمن

ائے جنوں چھیڑ دے ذکرِ دارو رسن

(نامعلوم)

کبھی قسمت کی شکایت کبھی رونا دل کا 

رات بھر رہتی ہے باتیں تری تصویر کے ساتھ

بیخودؔ

تمھاری کہانی تمھیں کو سناکر

کہو تو ہنسا دوں، کہو تو رلا دوں

سلیمان کلکتہ

برا نہ مان

غالب برا نہ مان گر واعظ برا کہے

ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

غالبؔ

نہ لڑ  ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی 

ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر

غالبؔ

نہ سنو، گر برا کہے کوئی

نہ کہو، گر برا کرے کوئی

غالبؔ

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

غالبؔ

ذلت عشق

اک ہم ہیں کہ دنیا والوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن

اک وہ ہیں کہ جن کی راہوں میں پلکوں کو بچھایا جاتا ہے

سلیم کھتولوی

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن

بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے

غالبؔ

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہیں

کوئی یہ بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

غالبؔ

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھولیے

خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیے

(نامعلوم)

پرزے اڑا کے خط کے ایک پرزہ لکھ دیا

لو اپنے ایک خط کے سو خط جواب میں

بسملؔ دھلوی

بے خودی میں ہاتھ کانپا، جام چھوٹا، مے گری

جانے کن نظروں سے دیکھے گی بھری محفل مجھے

علی جواد زیدی

دم آخر

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

غالبؔ

دم آخر سرِ بالیں بہت مغموم وہ آئے

تھے اشک آنکھوں میں لب پر تھی دعا آہستہ

مسلم جونپوری

آپ آئیں نہ آئیں ہمیں موت ہے 

خوب گذری شب غم کی تنہائیاں

زبیر امروہوی

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

مومنؔ

انا

اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے

کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر

غالبؔ

ختم تھا نغمہ بھی مجھ پر نالہ و فریاد بھی

باغباں بھی یاد کرتا ہے مجھے صیاد بھی 

بیخود دہلوی

کہے کوئی اناالحق ہم انا المحبوب کہتے ہیں

سر اپنا شور اپنا جان اپنی امتحان اپنا

اقبال بیگم ترک

ہم اس لیلیٰ کے دیوانے ہیں غافل جو کہ صحرا میں

بغل میں اپنے مجنوں کی لیے تصویر ہوتی ہے

غافل ؔ

ہو مبارک تجھ کو جاہ و سلطنت ائے شاہ حسین

فقر کافی ہے فقیرِ بے نوا کے واسطے

مخمور ؔ لکھنوی

لذت کش ازار نہ ہوگا کوئی مجھ سا 

وہ کون سا غم ہے جو مرے دل میں نہیں ہے

شاکرؔ

میں مسلمان ہوں اس کا بھی ذرا دھیان رہے

مری گردن پہ چھری پھیریے تکبیر کے ساتھ

بیخودؔ دہلوی

گیا چمن میں تو جھک کر بہت ملی شاخیں

لیا گلوں نے مجھے آشیاں کی طرح

ریاض

مری تکمیل رندی میں اک ایسا بھی مقام آیا

اٹھایا جام جب میں نے فرشتوں کا سلام آیا

شباب للت

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

(نامعلوم)

میرے ہونٹوں پہ کچھ اتنا ہی تبسم مچلا

شدت غم نے مجھے جتنا رلانا چاہا

مخمور سعیدی


غنیمت

نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے

بے صدا  ہوجائے گا یہ ساز ہستی ایک دن

غالبؔ

مقام عشق و محبت

دنیائے محبت میں اک ایسی بھی منزل آتی ہے 

معصوم نگاہیں جھکتی ہیں جب عشق کا نام آجاتا ہے

ساجدؔ شاہجہاں پوری

اتنی سوخی پہ ائے حسن رنگین نہ جا

تو نے دیکھا عشق کا بانکپن

فناؔ

قلبِ پروانہ کی اف رے  دھڑکن

خود بخود ہوگئی شمع روشن

فناؔ

تمھاری شوخیاں برہم زن عالم سہی لیکن

ہماری آہ سے بھی حشر برپا ہوہی جاتا ہے

مائل دہلوی

مقام عشق میں شاہ و گدا کا ایک رتبہ ہے 

زلیخا ہر گلی کوچہ میں بے توقیر پھرتی ہے

غافلؔ

نہ چلتی کچھ بھی یوسف کی، نہ ہوتی کچھ بھی رسوائی

پکڑ لیتی اگر دامن زلیخا دل کے ہاتھوں سے

مائلؔ دہلوی

محبت کیا ہے تاثیر محبت کس کو کہتے ہیں

ترا مجبور کردینا  مرا مجبور ہوجانا

جگر مرادآبادی

محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں

یہ وہ نغمہ ہے جو ہر سازپہ گایا نہیں جاتا

مخمورؔ دہلوی

خلوص - خلوص دل- صفائی دل

مہرباں ہوکے بلا لو مجھے چاہو جس وقت

میں گیا وقت نہیں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

غالبؔ

قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیں

ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے

غالبؔ

صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہ

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

غالبؔ

دل سے سو داغ لیے ہیں ہم نے

تیرے دامن کو بچانے کے لیے

ہم نے اک بات چھپانے کے لیے 

لاکھ الزام زمانے کے لیے 

روشؔ

ٹوٹے ہوئے دل رہنے دو بھی ٹھکراؤ نہ تم پیہم اس کو

مٹی کا شکستہ ساغر بھی میخانے کے کام آجائے گا

(نامعلوم)

انجام

لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے

یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

غالبؔ

گلوں سے زینت باغ و چمن ہے سوچ ائے ظالم

اگر غنچوں کے دل پر مردنی چھائی تو کیا ہوگا

شبنمؔ

طلوع صبح غم تو  ہوچلی ہے شام باقی ہے

مرے آغاز ہستی کا ابھی انجام باقی ہے

کامل امروہوی

ہر خار کو حسرت ہے دامن سے الجھنے کی 

انجام خدا جانے دیوانے کا کیا ہوگا

نازؔ

جب بھی چھیڑی گئی وصل کی گفتگو

بخش دی شام فرقت کی تنہائیاں

زبیر امروہوی

غافل

گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

غالبؔ

فریاد- وجہ

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے

لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

غالبؔ

کوئی تو بات ہے جس کی بدولت اہل غم چپ ہیں

مظالم آپ کے کیا روشنی میں لا نہیں سکتے

حفیظ مالی گاوں


استقامت

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ

اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

غالبؔ

گو میں رہا رہین ستم ہائے روز گار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

غالبؔ

مسلک

ہم موحد ہیں ہمارا کیس ہے ترک رسوم

ملتیں سب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں

غالبؔ

آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل

ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

غالبؔ

روک لو گر غلط چلے کوئی

بخش دو گر خطا کرے کوئی

غالبؔ

انسانیت پرست ہوں پھر کس طرح کفیل

انسانیت کے خوں پہ مری آنکھ نم نہ ہو

کفیل الرحمٰن انشاءؔ

ہر چند بے ثبات ہے انساں کی زندگی 

انسانیت تو اپنی جگہ لازوال ہے

نریش کمار شادؔ

جدائی - فراق

کس طرح کاٹے کوئی سب ہائے تار بر شکال

ہے نظر خو کردہ اختر شماری ہائے ہائے

غالبؔ

مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضور

فراق یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو

غالبؔ

فرقت کی اندھیری راتوں میں رو رو کے گذارا کرتے ہیں 

بیتابیِ دل جب بڑھتی ہے ہم ان کو پکارا کرتے ہیں

انجمؔ

ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم

منھ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم

مومنؔ

احوال دل زار

اپنا احوال دل زار کہوں یا نہ کہوں

ہے حیا مانع اظہار کہوں یا نہ کہوں

غالبؔ

منظور ہے گذارش احوال واقعی

اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے

غالبؔ

جنوں کو سنبھالا لٹا دی جوانی

یہی مختصر سی ہے میری کہانی

عابدہ بانو خلجی حرمؔ

صاحب دل جان کر اور سارا الفت دیکھ کر

شمع نے رو رو سنایا حال پروانہ مجھے

(نامعلوم)

فرقت کی اندھیری راتوں میں رو رو کے گذارا کرتے ہیں 

بیتابی دل جب بڑھتی ہے ہم ان کو پکارا کرتے ہیں

انجمؔ

گلستان جہاں میں ہوں میں اک حسرت نوا بلبل

نہ کوئی ہم قفس اپنا نہ کوئی ہم زباں اپنا

اقبال بیگم ترک

مرا در دیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد

وگر دم در کشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد

اکبر الٰہ آبادی

شکر سمجھو اسے یا کوئی حکایت سمجھو

اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں

غالبؔ

وابستہ جس قدر بھی رہے سر خوشی سے ہم

اتنے ہی اب دو چار ہیں افسردگی سے ہم

نجمیؔ

ذوق و شوق

اللہ رے ذوق دست نوردی کہ بعد مرگ

ہلتے ہیں خود بہ خود مرے اندر کفن کے پاؤں

غالبؔ

ہم کو جب چلنا ہی ٹھہرا راہ الفت میں حزیںؔ

کیوں نہ پھر دشواریوں کا سامنا کرتے چلیں

حزیںؔ حقی

احتراز- معذوری- پرہیز

روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ

سودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے

غالبؔ

یوں ہی دکھ دینا کسی کو نہیں خوب ورنہ کہتا

کہ عدو کو مرے یارب ملے میری زندگانی

غالبؔ

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

غالبؔ

مقصد ہے نازو غمزہ، ولے گفتگو میں کام

چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

غالبؔ

فصل بہار

ہے جوش گل، بہار میں یاں تک کہ ہر طرف

اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں

غالبؔ

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی 

پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے

مومنؔ

شدت غم

دیدہ خوں بار ہے مدت سے ولے آج ندیم

دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل ہوئے

غالبؔ

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر

ہر گل تر ایک چشم خو فشاں ہوجائے گا

غالبؔ

کوئی جب چھیڑ دیتا ہے رباب دل کے تاروں کو 

قیامت جاگ اٹھتی ہے سکوں برباد ہوتا ہے

صیفؔ

یہ صبا سے کوئی کہہ دے دبے پاؤں وہ بھی گذرے

میں مریض شام غم ہوں مرا دل دہل نہ جائے

انورؔ مرزا پوری

جسے سن کے وہ تڑپ اٹھے وہ خلش ہو غم سے کہ روپڑے

وہی نغمہ اصل میں نغمہ ہے وہی دل کی میرے پکار ہے

ساجدؔ امیٹھوی

آتا ہے ایک پارہ دل ہر فغاں کے ساتھ

تارِ نفس کمندِ شکار اثر آج

غالبؔ

وحشت کی فزونی کیا کہیے، اب حال یہاں تک آپہنچا

وہ سامنے ہوتے ہیں اپنے ہم ان کو پکارا کرتے ہیں۔

انجمؔ

لذت محبت

واعظ تجھے کیسے سمجھاؤں راز جنون خود داراں

ظالم اس جینے کی خاطر انسان کو بھی مرنا پڑتا ہے

نور تقی نورؔ

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

غالبؔ

آرام - سکون

نہ تیر کمان میں ہے نہ صیاد مکیں ہے

گوشہ میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

غالبؔ

جلاؤ آشیاں کو یا پھونک دو سارے گلستاں کو

قفس کے رہنے والے اب کبھی گھبرا نہیں سکتے

حفیظ مالے گاؤں

اب درد زندگی میں سکون حیات ہے

اب درد زندگی کا مداوا نہ کیجیے

زیبؔ بریلوی

نہ ہوا حیف رِہا ہو کہ میسر اک دن

لطف جو کچھ ہمیں صیاد تہہ دام آیا

(نامعلوم)

لذت وصال

خواہش لذت دید کی خیر ہو

بڑھ چلی ہے نگاہوں کی رسوائیاں

زبیر امروہوی

نسبت

گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں

کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

غالبؔ

انھیں اپنے دل کی خبریں میرے دل سے مل رہی ہیں

میں ان سے روٹھ جاؤں تو سلام تک نہ پہنچے

(نامعلوم)

زمانہ غور سے سننے لگا ہے داستاں میری

جب ائے جان اسی داستاں میں تیرا نام آیا

شباب للت

ریا- دکھاوا- سمعہ-شہرت

میں جو سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

اقبالؔ

چوں من سر بسجدہ کردم ززمیں ندا برآمد

کہ مرا خراب کردی تو بسجدۂ ریائی

(نامعلوم)

چیلنج

ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

غالبؔ

یہ میرا فیصلہ ہے آپ میرے ہونہیں سکتے

میں جب جانوں یہ جذبہ مرا ناکام ہوجائے

شعریؔ بھوپالی 

سوال

ہمارے درد سے جب تم کو واسطہ ہی نہیں

تو پھر  نظر سے نظر کیوں ملائی جاتی ہے

دلؔ

جو نہ زندہ ہو اور نہ مردہ ہو

ہائے اس آدمی کو کیا کہیے

اخترؔ

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہیں

کوئی یہ بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

غالبؔ

نالہ کروں نہ شکوہ صبح و شام کروں

ظالم تو ہی بتا کہ کروں میں تو کیا کروں

امینؔ

ناتمام

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے

غالبؔ

جب بھی خط لکھنے بیٹھا انھیں

صرف لے کر قلم رہ گئے

فناؔ

فیصلہ

یہ مرنا، یہ جینا، یہ رونا، یہ ہنسنا

مرا بس چلے تو میں جھگڑا چکا  دوں

سلیمانؔ کلکتہ

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر ائے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

غالبؔ

ہم کو جب چلنا ہی ٹھہرا راہ الفت میں حزیںؔ

کیوں نہ پھر دشواریوں کا سامناکرتے چلیں

حزیںؔ حقی

تمھیں چاہوں، تمھارے چاہنے والے کو بھی چاہوں

مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا

مضطر ؔ خیرآبادی

بیزار

ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے 

بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے 

غالبؔ

نہ چھیڑ ائے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی 

تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہے، ہم بیزار بیٹھے ہیں

انشاءؔ دہلوی

جیسے کا تیسا

ہماری شرط وفا یہی ہے کہ وفا کروگے وفا کریںگے

ہمارا ملنا ہے ایسا ملنا ، ملا کروگے ملا کریں گے

کسی سے دب کر نہ ہم رہیں گے ہمارا شیوہ نہیں خوشامد

برا کہوگے برا کہیں گے، ثنا کروگے ثنا کریں گے

ہمارے محبوب سیکڑوں ہیں تمھارا شیدا ہزاروں لیکن

نہ تم کو شکوہ نہ ہم کو شکوہ گلا کروگے گلا کریں گے

یہ پوچھنا کیا کہ خط لکھوگے یہ پوچھنے کی نہیں ضرورت

تمھاری مرضی پہ منحصر ہے لکھا کروگے لکھا کریں گے

یہ کہہ دیا قیس اس سے ہم نے ہماری غیرت نظر میں رکھنا

وفا کروگے وفا کریں گے، جفا کروگے  جفا کریں گے

قیس امر چند

احترام و خموشی

بے پردہ سوئے وادی مجنوں نہ گذر

ہر ذرہ  کے نقاب میں دل بے قرار ہے

غالبؔ

یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

غالبؔ


دل سے سو داغ لیے ہم نے 

ترے دامن کو بچانے کے لیے

روشؔ

ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب عظمت گلشن کی خاطر

خود اپنا نشیمن اپنے ہی ہاتھوں سے جلایا جاتا ہے

سلیمؔ لکھنوی

ان گلوں سے تو کانٹے ہی اچھے

جس سے ہوتی ہو توہین گلشن

فناؔ

کرلی ہے توبہ اس لیے واعظ کے سامنے

الزام تشنگی مرے ساقی کے سر نہ جائے

فناؔ

آیا نہ کبھی شکوہ لب پر، مچلے نہ سر مژگاں آنسو

ہے پاس وفا اتنا تو ہمیں ہرجور گوارا کرتے ہیں

انجمؔ

زمانہ کیا وہ خود بھی گوش بر آواز ہوجائے

کبھی چھیڑی نہیں اپنی زبان سے داستاں ہم نے

مولانا ابوالوفاء عارفؔ

اگر اے سوزؔ ہوتی بادہ نوشی شب کے پردے میں 

تو میں دنیا کی نظروں میں یقیناپارسا ہوتا

سوزؔسکندر پوری

کیسے سمجھاؤں میں ان روتی ہوئی آنکھوں کو 

اس میں میری ہی نہیں ان کی بھی رسوائی ہے

(نامعلوم)

کوئی تو بات ہے جس کی بدولت اہل غم چپ ہیں

مظالم آپ کے کیا روشنی میں لا نہیں سکتے

حفیظ مالے گاؤں

گو ان کے ظلم و جور سے دل ہے مرا فگار

لیکن مری جبین پہ ذرا بھی شکن نہیں

یوسف عثمانی

عشق - محبت

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے

غالبؔ

دل میں ائے دلؔ وہ پہلی سی دھڑکن نہیں

کچھ محبت میں شاید کمی آگئی

دلؔ لکھنؤی

دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا

دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں

غالبؔ

دم طواف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہن

نہ مری حکایت سوز میں نہ تری حدیث گداز میں

اقبالؔ

نہ وہ عشق میں رہی گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہی شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی اور نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

قبالؔ

کوئی جب چھیڑ دیتا ہے رباب دل کے تاروں کو 

قیامت جاگ اٹھتی ہے سکون برباد ہوتا ہے 

صیف ؔ سہارنپوری

دیوانۂ الفت ہوں ضیاءؔ خلق میں مشہور

ہوتا نہیں اب قیس کا چرچا مرے آگے

ضیاءؔ دہلوی

نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے

کبھی روئے، کبھی سجدہ کیے خاک نشیمن کو 

بیخود موہانی

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا 

تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

مضطر خیر آبادی

جستجو  (مقصد)

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے

غالبؔ

جس سے ہوتی ہیں مشکلیں آساں

ایسی مشکل تلاش کرتا ہوں

افق

سیکڑوں سجدے تڑپتے ہیں جبینِ شوق میں

بیخودی تو ہی بتا دے ان کا کاشانہ مجھے

دردؔ لکھیم پوری

جس کا عنواں ہو دھڑکنیں دل کی

اس کا حاصل تلاش کرتا ہوں 

جوش طوفاں سے کیا غرض مجھ کو

میں تو ساحل تلاش کرتا ہوں

افقؔ

ماتم

خدا کے واسطے یارو مجھے اتنا تو سمجھا دو

کہاں تک سر کو پیٹیں ناصح جاہل کے ہاتھوں سے

مائلؔ

جو غنچے دل گرفتہ ہیں تو گل ہیں چاک پیرہن

چمن کی زندگی میں کون ہے جو ماتمی نہیں

فراقؔ

اتنے چرکے دیے احساس ندامت نے انھیں

قتل کے بعد سمجھتے ہیں وہ قاتل کو مجھ کو

جوشؔ

مصائب - بلائیں- مشکل

پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے 

اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

غالبؔ

ہوچکیں غالب بلائیں سب تمام

ایک مرگ ناگہانی اور ہے

غالبؔ

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شب غم بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

غالبؔ

سکوں کیسا تڑپنا اب تو مشکل ہوگیا ان کو 

مسیحا کیا بتاؤں تیرے بیماروں پہ کیا گذری

دردؔ اندوری

اپنے ہاتھوں سے

آشیانہ جلا کے خود اپنا

میں نے گلشن میں روشنی کی ہے

مہدی پرتاپ گڑھی

مدعا- توقع

ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار

یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

میں بھی منھ میں زبان رکھتا ہوں

کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا

اور درویش کی صدا کیا ہے

غالبؔ

غالب تمھیں کہو کہ ملے گا جواب کیا 

مانا کہ تم کہا کیے، وہ سنا کیے

غالبؔ

وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو

اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہوجائے گا

غالبؔ

آرزوں کو اس طرح نیند آگئی

جیسے سوجائے تھک کر غریب الوطن

فناؔ

خود داری  - بانکپن

کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو

نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منھ میں زباں کیوں ہو

غالبؔ

تیرے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

غالبؔ

اتنی شوخی پہ ائے حسن رنگیں نہ جا

تونے دیکھا نہیں عشق کا بانکپن

فناؔ

حیرت سے نہ دیکھ ارے ناداں، یہ عین مذاق فطرت ہے

پھولوں کے حسیں رخساروں پر شبنم کو بکھرنا پڑتا ہے

نور تقی نورؔ

واعظ تجھے کیسے سمجھاؤں یہ راز جنوں خود داراں

ظالم اس جینے کی خاطر انسان کو مرنا پڑتا ہے

نور تقی نورؔ

دعوت عمل

آشنا اپنی حقیقت سے ہو، ائے انساں ذرا

دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو حاصل بھی تو

سر اقبالؔ

حیرت و افسوس (برحال معشوقاں)

تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ

تونے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے

غالبؔ

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے

کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے

غالبؔ

کس کے ماتم  میں بہائے آپ نے آنکھوں سے اشک

کس کے غم میں آپ کی زلفیں پریشاں ہوگئیں

قیسؔ رامپوری

حیرت

دیکھ کر تیری تصویر کو 

آئینہ بن کے ہم رہ گئے

فناؔ

احتیاط

میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز

گوش ہیں در پس دیوار کہوں یا نہ کہوں

غالبؔ

بشکل باغباں ہو یا بشکل خضر منزل ہو

چمن والو مگر صیاد پھر صیاد ہوتا ہے

صیفؔ سہارنپوری

میں بنا تو لوں نشیمن کسی شاخ گل پہ لیکن

کہیں ساتھ آشیاں کے یہ چمن بھی جل نہ جائے

انورؔ مرزا پوری

اسی خوف سے نشیمن نہ بناسکا میں انورؔ

کہ نگاہ اہل گلشن کہیں پھر بدل نہ جائے

انورؔ مرزا پوری

منزل آرزو ملے نہ ملے

رہزنوں کو نہ رہ نما کے لیے

قاری افسرؔ

فریب رہبری میں آ نہ جانا قافلے والو

کہ رہزن رہبروں کے بھیس میں اکثر نکلتے ہیں

مسلم ساگری

فیض محبت

یہ فیض محبت ہے انجمؔ ہر تلخی دوراں بھول گئے

اک دن کا تصور یاد اب اس پہ گذارا کرتے ہیں

انجمؔ

التفات نگاہ حسین کیا کہوں

بج رہی ہے خیالوں میں شہنائیاں

عشق مجنوں بنے چاک داماں پھرے

حسن معصوم کی کار فرمائیاں

جب بھی چھیڑ گئی وصل کی گفتگو

بخش دی شام فرقت کی تنہائیاں

زبیر امروہوی

اعتبار

ترے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

غالبؔ

تمنا

ائے دوست جہانِ ہستی میں مریم کی تمنا لاحاصل

اس راہ میں دل کے زخموں کو اشکوں ہی سے بھرنا پڑتا ہے

نورتقی نورؔ

جب تمنا مٹ گئی انکار ان کا مٹ گیا

مرثیہ بھی ہم نے لکھا ہے مبارک باد  بھی

بیخودؔ دہلوی

غم فراق

رنگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا

جسے غم سمجھ رہے ہو وہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے 

غم عشق اگر نہ ہوتا تو غم روزگار ہوتا

غالبؔ

تیرے فراق میں کیا کیا نہ پالیا میں نے

کہ جنگلوں کو بھی گلشن بنالیا میں نے 

عاصفؔ

سوچ تو دل کہاں غم کی چوٹیں کہاں

آب گینیں ہیں یہ چور ہوجائیں گے

ابرؔ

گھرسے چلے تھے ہم تو خوشی کی تلاش میں

غم راہ میں کھڑے تھے وہی ساتھ ہولیے

(نامعلوم)

بخشی ہے تو نے دل کو آج غم سے دوامی زندگی

کیوں غموں کے ساز پہ گیت خوشی کے گائے دل

بدرؔ مظاہری

کون جانے مجھے ہوا کیا ہے

کس مرض کی دوا کرے کوئی

رضا رام پوری

کوئی غم آکے ٹکراتا ہے جس دم قلب انساں سے 

لہو آنکھوں میں پانی بن کے آتا ہے رگ جاں سے

(نامعلوم)

غم نہیں اس کا کہ اپنا آشیاں ہے نذر برق

یہ بھی کیا کم ہے چمن میں روشنی ہونے لگی

اودے سنگھ مصورؔ

انقلاب

انقلابات میں یوں نظم گلستاں بدلا

پھول مرجھائے ہیں کانٹوں پہ بہار آئی ہے

(نامعلوم)

احساس بدل دیتا ہے نظارے کی قدریں

کیفیت ہر شام و سحر اب بھی وہی ہے

ادیبؔ سہانپوری

جنوں

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

غالبؔ

چمن والو یہ کہہ دو آندھیوں سے برق و باراں سے

کوئی طاقت ہٹاسکتی نہیں ہم کو گلستاں سے

شاکر

کوئی ائے شکیل دیکھے یہ جنوں نہیں تو کیا ہے

کہ اسی کے ہوگئے ہم جو نہ ہوسکا ہمارا

شکیلؔ

تھا دل آویز کچھ ایسا مرا انداز جنوں

ہوش مندوں نے کہا رونق محفل مجھ کو

جوش ملسیانی

تعمیر کا جمال ہمارے جنوں میں ہے

صحرا میں پھول آئیں گے نکلے جو گھر سے ہم

ابرؔ احسن گنوری

جفا- ظلم-جور- رنج

شاید کہ ازل سے دنیا کا دستور یہی ہے ائے راہی

معصوم محبت کی دنیا دانستہ مٹائی جاتی ہے

راہیؔ

سراپا غم و یاس و حرماں ہوں انجمؔ

اٹھائے ہیں صدمے بہت دوستی میں

انجمؔ

بدر شکوہ کرے تو کرے کیا

ظلم ڈھایا ہے خود دوستی نے

بدرؔ مظاہری

شکایت

جب توقع ہی اٹھ گئی غالب

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

غالبؔ

قسمت بری سہی، پہ طبیعت بری نہیں

ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے

غالبؔ

ہم زمانے سے الگ ہیں شاید

مہرباں ہیں وہ زمانے کے لیے

روشؔ

بلبل کو پاسباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں

شاہ ظفرؔ

تنکوں سے کیا گلہ کہ وہ تنکے ہی تھے افقؔ

ساحل نے عین دقت پہ دھوکہ دیا مجھے

افقؔ

ہم ان سے شکایت کیا کریں فرقت کی اندھیری راتوں کی 

جب ان کی طرف سے فرقت کی روداد سنائی جاتی ہے

راہیؔ

گلہ کیسا، شکایت کیوں، پشیمانی سے کیا حاصل

جہاں تک تم نے پہنچائی، وہاں تک بات جا پہنچی

شیداؔ

بدرؔ شکوہ کرے تو کرے کیا

ظلم ڈھایا ہے خود دوستی نے 

بدرؔ مظاہری

ہم اہل وفا ان سے شکایت نہ کریں گے

خود دار ہیں توہین محبت نہ کریں گے

آرزدہ دہلوی

دشمنوں سے مجھے شکایت کیا

مرے منھ پر مجھے برا کہیے

قاری اخترؔ

اپنا ہی سر درودیوار سے ٹکراتے ہیں

تجھ سے شکوہ کوئی ائے کاتب تقدیر نہیں

(نامعلوم)

دو  لفظ محبت کے تم کہہ نہ سکے مجھ سے 

رہنے بھی دو افسانہ، افسانے سے کیا ہوگا

نازؔ

آیا نہ کبھی شکوہ لب پر، مچلے نہ سر مژگاں آنسو

ہے پاس وفا اتنا تو ہمیں ہر جور گوارا کرتے ہیں

انجمؔ

ان حسینوں کو نئی چالیں سکھاتا ہے فلک

دونوں دشمن ہیں مرے شاگرد بھی استاد بھی

بیخودؔ دہلوی

بار خاطر تھی اگر تجھ کو مری آہ و فغاں

کیوں دیا روز ازل درد بھرا دل مجھ کو

جوشؔ

ہمارے درد سے جب تم کو واسطہ ہی نہیں

تو پھر نظر سے نظر کیوں ملائی جاتی ہے

دلؔ

نالہ کروں نہ شکوہ صبح و مسا کروں

ظالم تو ہی بتا کہ کروں میں تو کیا کروں

امینؔ

ہمارے پاؤں میں تم نے تو زنجیر وفا ڈالی

تمھارے ہاتھ سے کیوں دامن مہر و وفا چھوٹا

 رضا علی وحشت لکھنوی

علاج غم

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

غالبؔ

کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند

کس کی حاجت روا کرے کوئی

غالبؔ

ائے دوست جہان ہستی میں مریم کی تمنا لا حاصل

اس راہ میں دل کے زخموں کو اشکوں سے ہی بھرنا پڑتا ہے

نور تقی نورؔ

نگاہِ ناز - ادائے خاص

کرنے گئے تھے اس تغافل کا ہم گلہ

کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہوگئے

غالبؔ

گلستاں سے کوئی گذرا تھا لیکن کیا خبر ان کو

گلوں کے دل پہ کیا بیتی تھی اور خاروں پہ کیا گذری

دردؔ اندوری

پاکیزہ لبوں کی جنبش سے غنچے بھی کھلائے جاتے ہیں

معصوم اداؤں سے دل پر بجلی بھی گرائی جاتی ہے

راہیؔ

سنتے ہیں کہ تیری محفل کا دستور جدا ہے ائے ساقی

ساغر کا بہانہ ہوتا ہے آنکھوں سے پلائی جاتی ہے

راہیؔ

چشم ساقی میں خمار آتے ہی پیمانہ بنا

ہاتھ انگڑائی کو اٹھے اور مے خانہ بنا

آرزو لکھنوی

دل کا کہیں پتہ نہ جگر کا نشان ہے

سب چھین کر وہ مے لیے مفلس کا مال تھا

مولوی عبدالصمد صمدؔ

خوف و یرانی

ساقی… میخانہ کا کیا ہوگا

……………………………


خیال

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں

سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے

غالبؔ

جی ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن 

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

غالبؔ

اختصار

المدد ائے جذبۂ توفیق الفت المدد

ختم صرف اک آہ پر کرنا ہے افسانہ مجھے

شادؔ شاہ جہاں پوری

بے نیازیِ حسن

یہ ردائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک

مگر ایسی بے رخی کہ سلام تک نہ پہنچے

(نامعلوم)

گلستاں سے کوئی گذرا تھا لیکن کیا خبر ان کو

گلوں کے دل پہ کیا بیتی تھی اور خاروں پہ کیا گذری

دردؔ اندوری

وہ محو ناز کیا جانے خلش ہے کیا محبت کی

یہ اہل دل سے پوچھو درد کے ماروں پہ کیا گذری

دردؔ اندوری

بے نیازی

راہ الفت میں قدم رکھ تو دیا ہے میں نے 

دیکھیے صبح کہاں شام کہاں ہوتی ہے

سلیمؔ کھتولوی

جس کی قفس میں آنکھ کھلی ہو مری طرح

اس کے لیے چمن خزاں کیا بہار کیا

(نامعلوم)

ناامیدی

ہم نے اک شمع جلائی تھی روشؔ

شام ہوتے ہی بجھانے کے لیے

روشؔ

آرزوؤں کو اس طرح نیند آگئی

جیسے سوجائے تھک کر غریب الوطن

فناؔ


رسوائی

بیٹھا رہتا ہوں تو توہین ہے بال و پر کی 

اور اڑ جاؤں تو صیاد کی رسوائی ہے

(نامعلوم)

ہمراز -ہمدام

ایک ہی صحن گل ایک ہی انجمن کوئی درد آشنا کوئی ناآشنا

سن کے روداد غم عشق برباد کی روئی شبنم تو گل کو ہنسی آگئی

شمیمؔ کرہانی

نغمہ شادی بھی سنتا ہے کوئی فریاد بھی

بزم میں بیٹھے ہوئے ہیں شاد بھی ناشاد بھی

بیخودؔ دہلوی

رہبر - رہنما

تمھاری رہ گذر جب نہ پاسکا ائے دوست

تیرے خیال کو رہبر بنا لیا میں نے

سہارا جب نہ ملا تو مجبوراً

ترے کرم کو سہارا بنا لیا میں نے

عاصفؔ

حسن 

رنگ خوشبو چمن چاند تارے کرن

پھول شبنم شفق آبجو چاندنی

ان کی دل کش جوانی کی تکمیل میں

حسن فطرت کی ہر چیز کام آگئی

شمیمؔ کرہانی

یہ مدہوش نظریں، یہ قاتل نگاہیں

نگاہوں میں بجلی سی لہرارہی ہے

تم اپنی جوانی کا عالم نہ پوچھو

سراپا قیامت نظر آرہی ہے

(نامعلوم)

اف  تمھارا شوخ وہ انگڑائی تری

دونوں عالم تھرتھرا کر رہ گئے

(نامعلوم)

ماہتابی ضیا، آفتابی کرن یہ ستاروں کی محفل یہ رنگ چمن

کالی کالی گھٹا یہ سسکتی پون سب انھیں کی تو ہیں کار فرمائیاں

سوزؔ سکندر پوری

حسن ہے لبوں پر پریشاں پریشاں

لٹ گیا ہو کوئی جیسے رہزن

فناؔ

تو لاکھ چھپے ائے پردہ نشیں دیکھیں نہ تمھیں یہ ممکن نہیں

رنگینی گل میں انجم میں ہم تیرا نظارا کرتے ہیں

انجمؔ

سنبل و نسترن لالہ و ارغواں

سب نے پائی نگاری کی پرچھائیاں

زبیرؔ امروہوی

کشمکش

بیٹھا رہتا ہوں تو توہین ہے بال وپر کی

اور اڑجاؤں تو صیاد کی رسوائی ہے

(نامعلو)

سہمے سہمے ہوئے آنسو ہے مری آنکھوں میں 

ڈرتے ڈرتے ہوئے ہونٹوں پہ ہنسی آتی ہے

(نامعلو)

وعدہ- بے وفائی- محروم- بد نصیب

وعدے ہوتے رہے روز وعدے شمیمؔ

ان کو آنا نہ تھا وہ نہ آئے کبھی

یاد ان کی مگر آ کے ہر شام غم

مجھ کو پگھلا گئی دل کو برما گئی

شمیمؔ کرہانی

ان حسرتوں سے کہہ دو  کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دار میں

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے 

دو گز زمیںبھی مل نہ سکی کوئے یار میں

شاہ ظفرؔ

جب سلیمؔ آتی ہے انساں پر مصیبت کوئی

بے وفا کیا ہیں وفادار بدل جاتے ہیں

سلیمؔ کھتولوی

اسے کہتے ہیں ناکامی اسے کہتے ہیں محرومی

سر منزل پہنچ کر لٹ گیا ہے کارواں اپنا 

سلامؔ ساگری

ہم کہ پابند رہ و رسم وفا تھے ائے دوست

تجھ سے بچھڑے تو ترے غم سے نبھانا چاہا

مخمورؔ سعیدی

وائے ناکامی

دل کا کہیں پتہ ہے نہ جگر کا نشان ہے

سب چھین کر وہ لے گئے مفلس کا مال تھا

عبدالصمد صمدؔ غازی

وہ دل نہ وہ دماغ نہ وہ آرزو رہی

ائے عمر رفتہ لائیں تجھے اب کہاں سے ہم

حفیظؔ جونپوری

ہوئے ہیں پاؤں پہلے ہی نبرد عشق میں زخمی

نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے 

غالبؔ

جو زندہ ہو اور نہ مردہ ہو

ہائے اس آدمی کو کیا کہیے

اخترؔ

پوچھتے ہیں کہ وہ غالبؔ کون ہے

کوئی یہ بتلاؤ ہم بتلائیں کیا

غالبؔ

اجنبی تو سمجھیں گے اجنبی ہمیں لیکن

اپنے بھی سمجھتے ہیں اجنبی نہ جانے کیوں

رشیؔ

اشک بن کر مری پلکوں پہ سلگ  اٹھا

میں نے جس پھول کو دامن میں سجانا چاہا

مخمور سعیدی

مل رہی ہیں دل ناداں کو سزائیں کیا کیا

جرم یہ تھا کہ تجھے اپنا بنانا چاہا

مخمور سعیدی

برعکس گلستاں کے نظارے نکل آئے

سمجھے تھے جنھیں پھول شرارے نکل آئے

ڈاکٹر امرت لعل عشرتؔ

تجربہ -ناتجربہ کاری

کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن

جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن

فناؔ

امتحان

یہ مانا شب ہجر تنہائیوں میں تڑپتا رہا آنکھ پتھر آگئی ہے

یہی امتحان محبت ہے ائے دل خلاف ان کے وعدے کے جانا برا ہے

رشیدؔ

مجبوری

کیسے پائے کوئی تیرا مسکن

راہ رو کے ہیں شیخ و برہمن

فناؔ کانپوری

خیال آبروئے عشق سے مجبور ہیں ورنہ

ہم اپنے درد سے دنیا کو کیا تڑپا نہیں سکتے

حفیظ مالی گاؤں

احترام ان کے جلوؤں کا لازم تو ہے

سامنے رہ گذر ہو تو میں کیا کروں

انورؔ مرزا پوری

رہ گئی دل کی تمنا مرے دل میں گھٹ کر

لب پہ آئی بھی نہیں کہ بات نے دم توڑ دیا

صحبہ بانو صحبہؔ

کاٹ کے پر مجھے صیاد نے آزاد کیا

اور کہا جا تو اب قابل زنجیر نہیں

(نامعلوم)

ہم زمانے سے الگ ہیں شاید

مہرباں ہیں وہ زمانے کے لیے 

روشؔ

تمھاری راہ گذر جب نہ پاسکا ائے دوست

تیرے خیال کو رہبر بنا لیا میں نے

عاصفؔ

ائے دوست جہانِ ہستی میں مریم کی تمنا لا حاصل

اسی راہ میں دل کے زخموں کو اشکوں ہی سے بھرنا پڑتا ہے

نور تقی نورؔ

رہنے نہ دے گا باغ میں صیاد کا خیال

اڑ کر قفس میں جائیں گے خود آشیاں سے ہم

حفیظ جونپوری

درد الفت نے کبھی چین سے جینے نہ دیا

میں نے چاہا تو مجھے زہر بھی پینے دیا

مسعود حیاتؔ

اظہار

کریں گے اب تو خود ہی مدعائے دل بیاں اپنا

دل اپنا، مدعا اپنا، زباں اپنی، دہاں اپنا

اقبال بیگم ترکؔ

ایک وہ ہے جو نہیں کرتے کچھ اظہار خیال

ساری دنیا کہہ رہی ہے ان کا دیوانہ مجھے

دردؔ لکھیم پوری

جب بھی جلتا ہے کوئی گھر تو دھواں اٹھتا ہے

جل چکے جب تو دھواں ہو یہ ضروری تو نہیں

نسیمؔ شاہ جہاں پوری

حرص-بے صبری

گل تو گل خار بھی چن لیے ہیں

پھر بھی خالی ہے گلچیں کا دامن

فناؔ

یاد- بے خودی

کتنی بے باک تھی آرزوئیں

عشق  کا یاد آتا ہے بچپن

فناؔ

والہانہ قدم اٹھ رہے ہیں

جیسے مجھ کو کسی نے پکارا

فناؔ

دریچوں سے یادوں کے یہ کون آیا

گذشتہ محبت کے دن لوٹ آئے

یہ کس نے مرا نام چپکے سے لے کر

لب لعل افشاں سے مجھ کو پکارا

محذوں نیازی

یاد ہے اب تک وہ نظروں کا تصادم یا د ہے 

آپ نے دیکھا تھا جب بے اختیارانہ مجھے

شادؔ شاہ جہاں پوری

شب غم دل میں جب انگڑائیاں لیتی ہے یاد ان کی 

بجائے اشک آنکھوں سے مرے گوہر نکلتے ہیں

(نامعلوم)

سر پھوڑنا وہ غالب شوریدہ حال کا

یاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کر

غالبؔ

کام کچھ آ نہ سکی یاد بھی ان کی صہباؔ

آخری  امید کے لمحات نے دم توڑ دیا

صہبا بانو صہباؔ

یاد آہی جاتا ہے کبھی ناصح کا قول بھی

سب کیجیے جہاں میں محبت نہ کیجیے

عزیز لکھنؤی

بن گئے ہو تم مری زندگانی

ہر نفس پر تمھیں یاد آئے

(نامعلوم)


آرائش - زینت

اتنی آرائش آشیانہ

ٹوٹ جائے نہ شاخ نشیمن

عظمت آشیانہ بڑھا دی

برق کو دوست سمجھوں کہ دشمن

فناؔ

خوفِ دلِ بلبل نے عجب کام کیا ہے

پھولوں میں کبھی ہم نے یہ رنگت نہیں دیکھی

اخترؔ

صورت

نمودِ جلوۂ بے رنگ سے ہوش اس قدر گم ہیں

کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

اصغرؔ گونڈوی

جلوہ گر یوں ہی نہیں صورت جاناں دل میں

سیکڑوں نقش مٹائے تو یہ تصویر بنی

شاعرؔ فتح پوری

خدا کو بھول کر انساں کے دل کا یہ عالم ہے

یہ آئینہ کہ صورت نما ہوتا تو کیا ہوتا

چکبست

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

غالبؔ

تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں

اس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں 

داغؔ دہلوی


بہتر

ان گلوں سے تو کانٹے ہی اچھے

جس سے ہوتی ہے توہین گلشن

جنازہ

جنازہ روک میرا وہ اس انداز سے بولے

گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جائے ہو

صفیؔ

میرے خدا مجھے تھوڑی سے زندگی دے دے

اداس میرے جنازے سے جارہا ہے کوئی

قمرؔ

بس اتنی آرزو ہے بعد فناؔ جنازہ

نکلے میرے مکاں سے ٹھہرے تیری گلی تک

نازاںؔ

جاتی ہوئی میت کو دیکھ رم واں اٹھ کر نہ آسکے

دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں 

قمرؔ جلال آبادی

ان کی گلی جس دم میرا گیا جنازہ

حسرت سے دیکھتے تھے پردہ اٹھا اٹھا کر

ذاکرؔ دہلوی

برا ہے

فسانہ محبت کا دہرانے والے

سر بزم آنسو بہانا برا ہے

اگر پاس ہے کچھ محبت کا تم کو 

تو جل جاؤ ان کو جلانا برا ہے

یہ مانا  شب ہجر تنہائیوں میں

تڑپتا رہا آنکھ پتھرا گئی ہے

یہی امتحان محبت ہے ائے دل

خلاف ان کے وعدے کے جانا برا ہے

ہر ایک پھول انگڑائیاں لے رہا ہے

کلی بھی جوانی پہ اترا رہی ہے

وہ جان تمنا نہ وعدے پہ آیا

بہاروں کا اس وقت آنا برا ہے

کبھی آ کے بیمار غم کی خبر لو 

کہ دم کھینچ کے آنکھوں میں آنے لگا ہے

رشیدؔ آج دنیا سے بھی جارہا ہے

ترا بعد مرنے کے آنا برا ہے

رشیدؔ 

ٹھکانہ

سایہ دیوار ہو یا سنگ در

بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ چاہیے

جرمؔ محمد آبادی

گذارا ہو نہ سکا جب بہار میں عاصفؔ

خزاں کے دوش پہ خرمن بنالیا میں نے

عاصفؔ

کیا نہیں دیوار اپنی سر پٹکنے کے لیے

قیس کیوں دیوانہ بن سوئے صحرا جائے ہے

شمسادؔ

اب اہل گلستاں کو شاید نہ ہو شکایت

ہم نے بنا لیا ہے کانٹوں پہ آشیانہ

دلؔ

جب میکدہ چھٹا تو پھر اب کہاں کی قید

مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

غالبؔ

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم نفس کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار کا اک گھر بنانا چاہیے

کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار

اور اگر مر جائے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

غالبؔ

مرحلے

سودائے عشق میں کچھ مرحلے ایسے بھی آتے ہیں

کبھی آنسو ڈھلکتے ہیں کبھی دل شاد ہوتا ہے

(نامعلوم)

کیا جانیے کس کس عالم سے اس دل کو گذرنا پڑتا ہے

وہ دل جسے آنسو بن بن کر دامن پہ بکھرنا پڑتا ہے

(نامعلوم)

الجھنیں مرحلۂ عشق میں اور بھی بڑھ جائے گی

آج میں نے تری زلفوں کی قسم کھائی ہے

(نامعلوم)

ظفر -نصیب

ہوگا ظفر نصیب وہی مرد کج کلاہ

جس کو خیال سختی دار و رسن نہیں

یوسف عثمانی

زہر کے ہر بوند جزو جسم و جاں ہوتی گئی

غم مجھے ملتا گیا ہمت جواں ہوتی گئی

جگرؔ مرادآبادی


دعا

ائے رحمت تمام ہو میر خطا معاف

میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا

جگرؔ مراد آبادی

صبر- سکوت

گو ان کے ظلم و جور سے دل ہے مرا  فگار

لیکن مری جبین پہ ذرہ بھی شکن نہیں

یوسف عثمانی

مرے کلام سے بہتر ہے مری خاموشی

نہ جانے کتنے خیالوں کی آبرو رکھ لی

ایازؔ جھانسوی

پھول

کیا ہوا جو خضر ہم کو راہ دکھلاتے رہے

ہم تو منزل پر پہنچ ٹھوکریں کھاتا رہے

اپنی ہستی خود مٹادی سب کے کام آتے رہے

بخش آ زلفوں کو نکہت پھول مرجھاتے رہے

اخترؔ معروفی اعظمی

تمنا

یہیں کاش رہ جائے دور زمانہ

میرے گھر آئے ہیں وہ مہمان بن کر

بدرؔ مظاہری

تڑپ

ہائے مجبوریاں محبت کی

ہاتھ اٹھے اور سلام ہو نہ سکے

(نامعلوم)

تمھاری یاد کے سائے میں کیوں نہ دم لے لوں

رہ حیات میں آرام پھر ملے نہ ملے

(نامعلوم)

ترا ہاتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے

مجھے سہل ہوگئیں مشکلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

(نامعلوم)

یوں بھی تو لاکھ غم تھے میرے دل کے آس پاس

اک شخص اور مل گئے مجھے کرگئے اداس

(نامعلوم)

انتظار کے شب میں چلمنیں سرکتی ہیں

چونکتے ہیں دروازے سیڑھیاں دھڑکتی ہیں

(نامعلوم)

موت- حقیقت

موت کیا ہے زمانے کو سمجھاؤں کیا

اک مسافر تھا رستے میں نیند آگئی

دلؔ

خزاں سے جو نہیں واقف نہیں آگاہ کانٹوں سے 

نشاط زندگی پھولوں میں رہ کر پا نہیں سکتے

حفیظ مالے گاؤں

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

غالبؔ

ائے واعظ ناداں یہ مرے قلب و جگر میں

تو توڑتا ہے ساغر و مینا مرے آگے

ضیاء دہلوی

موت اک ماندگی کا وقفہ ہے

اور آگے چلیں گے دم لے کر

(نامعلوم)

اجل کی زندگی پر دسترس کیا 

اجل خود کانپتی ہے زندگی سے

(نامعلوم)

عزم - حوصلہ- وفا

مسرت ڈھونڈھ کر لانی ہے چاہے آسماں پر ہو

حفیظؔ اس زندگی کو اور ہم تڑپا نہیں سکتے

حفیظؔ مالی گاؤں

فقیہان حرم رندوں کے رتبہ کو تو پہچانو

وہیں پر بن گیا کعبہ جبیں رکھ دی جہاں ہم نے 

مولانا ابوالوفاء

محبت کرنے والے جان پر بھی کھیل جاتے ہیں 

وفا کیسی اگر سود و زیاں تک بات جا پہنچی

شیداؔ

ناخدا عزم سے لے کام نہ ڈر موجوں سے 

کہیں جی چھوڑ کے طوفاں کا اثر جاتا ہے

شفقؔ بھوپالی

یہ ادنیٰ موج کیا اس ناؤ کو شاکرؔ ڈبو دے گی

ہزاروں بار جو ٹکرا رہی ہے موج طوفاں سے

شاکرؔ

تمھاری کہانی تمھیں کو سنا کر

کہوں تو ہنسا دوں کہو تو رلا دوں

سلیمانؔ کلکتوی

گو ان کے ظلم و جور سے دل ہے وا فگار

لیکن مری جبیں پہ ذرا بھی شکن نہیں

یوسف عثمانی

ساتھ اشکوں کے لہو کیا لخت دل آنے لگے

کچھ نہ کچھ بد نام اب میری وفا ہوجائے گی

ریاضؔ خیر آبادی

حسرت - افسوس

دور سے آئے تھے ساقی سن کے میخانے کو ہم 

بس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم

نظیرؔ اکبرآبادی

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھولیے

خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیے

(نامعلوم)

ہر خار کو حسرت ہے دامن سے الجھنے کی

انجام خدا جانے دیوانے کا کیا ہوگا

نازؔ

وصال

ہوگیا ساتھ اک رات ان کا اور مرا

رات بھی  رات بھر مسکراتی رہی

عارفؔ بہرائچ

دم آخر سر بالیں پہ مجمع ہے حسینوں کا 

پھر آنا ائے اجل اس وقت پردہ ہو نہیں سکتا

مضطر خیر آبادی

سوال وصل پر ائے داغؔ دل کی رہ گئی دل میں

کہا منھ پھیر کر ظالم نے ایسا ہو نہیں سکتا

داغؔ

شعلۂ عشق

میرا دامن تو جل ہی چکا ہے مگر آنچ تم پر بھی آئے گوارا نہیں

میرے آنسو نہ پوچھو خدا کے لیے ورنہ دامن تمھارا بھی جل جائے گا

انورؔ مرزا پوری

دنیا-جوانی-بوڑھاپا

دنیا عجب سرائے فانی دیکھی

ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی

جو آکے نہ جائے وہ بوڑھا پا دیکھا

جو جائے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

تقدیر و تدبیر

ائے فناؔ تیری تقدیر  میں 

ساری دنیا کے غم رہ گئے

فناؔ

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

غالبؔ

جس میں کوشش ہو سوا کام بگڑتا ہے وہی

دشمنی ہے مری تقدیر کو تدبیر کے ساتھ

بیخودؔ دہلوی

تمت بالخیر