6 Apr 2020

مولانا محمد منیر الدین جہازیؒ (4مئی 1919-جون1976)

مولانا محمد منیر الدین جہازیؒ
(4مئی 1919-جون1976)
محمد یاسین جہازی، خادم جمعیت علمائے ہند
لاشعوری ذہن و دماغ میں سب سے پہلے جس بزرگ ہستی کے قدسی اوصاف کے ترانے گونجے اور گونجتے رہے، ان کا اسم گرامی مولانا محمد منیر الدین نور اللہ مرقدہ تھا۔ گاوں کے عمر رسید افراد کو اپنی پرائیویٹ گفتگو اور محفلوں کے مکالموں میں بارہا مولانا کے اقوال و کردار کو کوڈ کرتے سنا اور دیکھا۔ ان تمام مناظر نے لاشعوری احساس میں یہ تجسس پیدا کردیا کہ بالیقین مولانا کوئی بڑی شخصیت گذری ہے، جن کے کارنامے لوگوں کے دل و دماغ پر تا ہنوز نقش ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے دور طالب علم میں طلبہ گڈا کی انجمن ”آئینہ اسلاف“ سے وابستگی کے بعد علاقے کے مشاہیر پر لکھی کتاب”یاد وطن“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ دوسرا موقع تھا، جب مولانا موصوف کے بارے میں قدرے تفصیلی جان کاری ملی؛ تاہم لاشعوری ذہن پر عقیدت و محبت کا جتنا گہرا رنگ چڑھا ہوا تھا، معلومات کی یہ مقدار تشفی کے لیے کافی نہ تھی؛ البتہ اس مطالعہ نے ذوق جستجو کو مزید مہمیز کردیا۔ کبھی ان کے معاصرین سے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا تو کبھی شاگردان رشید سے استفسار۔ اور یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا۔ ان معلومات سے عقیدت کو تو تسکین مل جاتی تھی؛ لیکن ایک تحقیق کے متلاشی ذہن کو جن جانکاریوں کی طلب تھی، وہ طلب تاہنوز تشنہ بلب رہی۔
میرے والد محترم (جناب محمد مظفر صاحب حفظہ اللہ) کتابوں سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دو رقہر بار سیلابوں کے باوجود کچھ کتابوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ وطن معیشت دہلی سے گھر پہنچا تو گٹھریوں میں لپٹی کتابوں کو دیکھنے کا اشتیاق ہوا۔ جب انھیں کھولا تو کئی نایاب رجسٹر اور مسودے ملے۔ ان میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کا پہلا رجسٹر، مولانا محمد اسلام ساجد کی تحریریں، کتابیں اور مہر وغیرہ ملیں۔ ان نایاب قیمتی ورثے نے، مولانا مرحوم سے لاشعوری عقیدت کو پھر سے جگادیا اور ساتھ ہی ذہن و دماغ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ مولانا کے کارناموں اور ان کی تاریخ سے نئی نسلوں کو آگاہ کیا جائے۔ چنانچہ اسی وقت سے مولانا مرحوم کے متعلق معلومات کو اکٹھا کرنے اور انھیں تحریری شکل دینے کا سلسلہ شروع کردیا اور احباب کو بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ ذیل کی سطروں میں انھیں کوششوں کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ بالیقین خلاف واقعہ ہوگا کہ یہ تحقیق حرف آخر ہے، تاہم اسے نقش اولین کہنا بھی مبالغہ نہیں ہوگا۔
ولادت اور ابتدائی تعلیم و تربیت
ضلع گڈا سے شمال مگرب می ں تقریبا بیس کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع گاوں جہازقطعہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ تاریخ ولادت کے حوالے سے مولانا مرحوم کے اہل خانہ سے استفار کے باوجود کوئی جان کاری نہیں مل سکی؛ البتہ دارالعلوم دیوبند کے داخلہ فارم میں مولانا نے خود جو تاریخ پیدائش لکھی ہے، وہ 4مئی 1919ہے۔ آپ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے، جب پورا بھارت انگریزوں کی غلامی اور اسلام دشمنی سے جوجھ رہا تھا۔ یہاں کی بیشتر آبادی آدی واسیوں کی وجہ سے تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے حد درجہ بجھڑا ہوا تھا۔ اور آج سو سال ہونے کے باوجود حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔ یہاں کے تعلیمی حالات کے بارے میں ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب لکھتے ہیں کہ:
”سنتھال پرگنہ قبائلی آبادی والا ضلع سمجھا جاتا ہے، گرچہ غیر قبائلیوں کی بڑی آبادی بھی موجود ہے۔ یہ تصور اس علاقے کو جہالت و ضلالت کی تاریکی میں رکھنے کے لیے کافی تھا۔ چنانچہ آج بھی اس علاقہ میں اس تصور کی حکمرانی ہے اور جہالت و ناخواندگی اور پسماندگی اس کی شناخت بن چکی ہے۔ آزادی سے قبل سرکاری اسکول تو بالکل ندارد تھے، مدارس کا وجود بھی آٹے میں نمک کے برابر تھا۔ انتہائی قدیم مدارس میں مدرسہ شمسیہ گورگاواں (سن قیام1901) اور مدرسہ سلیمانیہ سنہولا ہاٹ (سن قیام:1929ء) تھا۔ اول الذکر ضلع سے تقریبا پچاس کلو میٹر اور آخر الذکر بھی تقریبا اتنے ہی فاصلے پر دوسری سمت واقع ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دو ادارے پورے ضلع کی تعلیمی کفالت کرنے سے قاصر تھے۔ اس لیے یہاں کے باشندگان دینی اور دنیوی دونوں تعلیم سے نابلد تھے۔“ (تاریخ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ، ص/8)
ظاہر سی بات ہے جب تعلیمی ادارے ہی نہیں تھے، تو سماجی ماحول میں بچوں کو تعلیم دینے، دلانے کا کیا رجحان رہا ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا کی نہ تو رسمی طور پر بسم اللہ کرائی گئی اور نہ ہی ان کے بچپن نے کسی مکتب کا چہرہ دیکھا۔ البتہ گھر اور سماج کے اقتصادی حالات کے پیش نظر بچپن کا ایک بڑا حصہ بھینس کی نگہبانی میں گذر گیا۔
بھینس کی نگہبانی سے تعلیم کی طرف
مولانا کے مشاہدین کا بیان ہے کہ حسب معمول آپ بھینس چرانے گئے تھے، اسی دوران اچانک آپ کے ذہن و دماغ میں تعلیم حاصل کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ پھر کیا تھا، خیال کو ارادے میں تبدیل کیا اور اپنے ساتھی کو لاٹھی تمھاتے ہوئے کہا کہ بھائی! میں چلتا ہوں، میری بھینس کی نگرانی کرنا۔ یہ کہہ کر نکلے اور گاوں سے غائب ہوگئے۔ شام میں پورے گاوں میں چرچہ ہونے لگا کہ منیر کہیں غائب ہوگیا ہے۔گھر والوں کے ساتھ گاوں والوں نے بھی تلاش شروع کی۔ لیکن پتہ نہیں چلا۔ کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ آپ گاوں سے تقریبا بیس کلو میٹر دور ضلع بھاگلپور میں واقع مدرسہ اسلامیہ سنہولہ ہاٹ پہنچ گئے ہیں۔ اہل خانہ نے تعلیم کی طرف اچانک رجحان دیکھ کر پڑھنے کی اجازت دے دی اور آپ نے یہاں سے اپنی تعلیم کی شروعات کی۔
مدرسہ سلیمانیہ میں آپ نے کب تک اور کیا کیا تعلیم حاصل کی؛ یہ جان کاری حاصل کرنے کے لیے اس مدرسہ کے ایک ذمہ دار شخص مفتی محمد اسامہ صاحب سے رابطہ کیا، تو انھوں نے چند روز کے بعد بتلایا کہ مدرسہ میں سابقہ دستاویزات کی حفاظت کا کائی اہتمام نہیں کیا گیا ہے، جس کے باعث اس دور کی کوئی بھی معلومات دستیاب نہیں ہے۔
مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ میں
دارالعلوم دیوبند میں درج ریکارڈ میں صراحت ہے کہ آپ نے دیوبند آنے سے پہلے مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ ہاپوڑ یوپی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اس مدرسہ کے موجودہ مہتمم قاری شوکت علی صاحب سے راقم نے رابطہ کیا، تو انھوں نے بتایا کہ ہم نے ان کا تذکرہ تو بہت سنا ہے۔ ہمارے یہاں کے پرانے اساتذہ ان کی ذہانت اور شیر دلی کے کئی قصے سنایا کرتے تھے۔ داخلہ، تعلیم اور تعلیمی مدت کے حوالے سے استفسار کرنے پر مہتمم صاحب نے بتایا کہ جس کمرے میں ریکارڈ محفوظ تھے، وہ بارش کی زد میں آنے کی وجہ سے ضائع ہوچکے ہیں، اس لیے ان حوالوں سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاسکتی؛ لیکن یہ یقینی ہے کہ وہ یہاں کے طالب علم رہے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ”تاریخ اعزاز العلوم ویٹ“ میں جہاں فیض یافتگان کی فہرست ہے، وہاں مولانا محمد منیر الدین ؒ کا نام درج نہیں ہے۔دارالعلوم دیوبند کے ریکارڈ سے سابقہ تاریخ کی تعین کی جائے، تو آپ نے یہاں 1938تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند چلے گئے۔
دارالعلوم دیوبند میں
آزادی سے پہلے مدارس اسلامیہ کی نظامیہ تعلیم درجہ بندی کے اعتبار سے نہیں ہوتی تھی اور طلبہ دارالعلوم دیوبند کا رخ بالعموم شرح جامی (درجہ سوم یا چہارم) کے لیے کیا کرتے تھے۔ قرین قیاس یہی ہے کہ آپ نے ویٹ میں درجہ دوم کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور 7شوال المکرم 1357، مطابق 30نومبر 1938کو درجہ عربی سوم میں داخلہ لیا۔ اور شعبان 1362ھ، مطابق اگست 1943تک اس بحر علم سے فیضیاب ہوتے رہے۔ دورہ حدیث سے سند فراغت حاصل کی۔ بخاری شریف مولانا فخر الدین صاحبؒ، ترمذی شریف مولانا اعزاز علی صاحبؒ، ابو داود شریف مولانا محمد ادریس صاحبؒ، نسائی اور شمائل ترمذی مولانا عبد الشکور صاحبؒ، ابن ماجہ مولانا عبد الحق قدیم صاحبؒ، طحاوی شریف،مولانا عبد الحق جدیدصاحبؒ اور مسلم شریف مولانا بشیر احمد صاحبؒ سے پڑھی۔ دارالعلوم دیوبند کی چھ سالہ زندگی کا بیشتر حصہ شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب نور اللہ مرقدہ کے زیر تربیت گذری۔
تدریس سے وابستگی
دارالعلوم دیوبند میں شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی نور اللہ رمقدہ کے زیر تربیت رہے۔ اس لیے فراغت کے بعد انھیں کے حکم پر یوپی کے ضلع میرٹھ میں جامع جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ یوپی پہنچے اور بحیثت صدر مدرس آپ کا تقرر عمل میں آیا۔ آپ نے یہاں دو سال تک تعلیمی خدمات انجام دیں اور درجہ سوم تک کی کتابیں آپ سے متعلق رہیں۔
کاروان مغیثی جلد اول م ص/48پر جامعہ کے صدور المدرسین کی ایک فہرست دی گئی ہے، اس کے ترتیبی سلسلے میں نمبر 6پر آپ کا اسم گرامی موجود ہے اور ساتھ ہی تاریخ درج ہے کہ از 1340ھ، تا 1342۔ اس سے بھی اور معاصرین کی شہادت سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ آپ نے یہاں دو سال خدمات انجام دیں، البتہ کاروان مغیثی میں درج تاریخ صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ اس تاریخ کو جب عیسوی میں بدلتے ہیں، تو یہ 1921بنتی ہے اور دارالعلوم دیوبند کے ریکارڈ کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش4/ مئی 1919اور سن فراغت اگست1943 ہے۔ اس لحاظ سے 1921میں آپ کی عمر محض تین سال اور فراغت سے بائیس سال قبل کا زمانہ ہوجاتا ہے؛ اور یہ ناممکن ہے کہ تین سال کا بچہ دارالعلوم دیوبند میں چھ سال تعلیم بھی حاصل کرلے اور اس کے بعد دو سال تک ایک ادارہ کا صدر مدرس بھی رہے۔
کاروان مغیثی کے مرتب مولانا منقاد احمد قاسمی صاحب سے اس حوالے سے راقم نے بات کی، تو انھوں نے کہا کہ یہ تاریخیں غلط ہوسکتی ہیں؛ کیوں کہ یہ جو کچھ بھی لکھا گیا ہے، اس میں بنیادی مآخذ محض اندازے اور قیاس ہیں۔
اجراڑہ سے استعفیٰ
بتایا جاتا ہے کہ مولانا کو کسی خانگی ضرورت کی بنیاد پر اچانک گھر آنا پڑا۔ عجلت میں جامعہ کے خزانے کی ذمہ داری ایک شخص کے حوالے کردیا۔ واپسی پر جب اس شخص سے حساب طلب کیا گیا، تو اس میں کافی خرد و برد نظر آیا۔ مولانا نے مواخذہ کرنے کی کوشش کی، تو الٹا مولانا ہی پر خرد و برد کا الزام لگادیا، جس سے آپ بہت دل برداشتہ ہوئے اور آپ نے محض الزام سے بری الذمہ ہونے کے لیے گھر واپس آکر اپنی جائیدادیں اور اہلیہ کے زیورات فروخت کیے اور جناب مصطفی صاحب سیری چک اور مولانا خلیل الرحمان صاحب سیری چک کو ساتھ لے کر جامعہ اجراڑہ پہنچے اور سارا حساب بے باق کراکر استعفیٰ پیش کردیا۔ اور اپنے مشفق مربی حضرت مولانا اعزاز علی صاحب کی خدمت میں دیوبند رہنے لگے۔ 
مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ کی تاسیس
مولانا محمد منیر الدینؒ کی صالحیت اور صلاحیت کے پیش نظر شیخ الادب مولانا اعزازؒ اس کوشش میں تھے کہ آپ کا تقرر دارالعلوم دیوبند میں ہوجائے۔ اور یہ کوشش اتنی بار آور ہوچکی تھی کہ کچھ دن اور دیوبند رک جاتے، تو تقرری ہوجاتی؛ لیکن اس سے قبل جہاز قطعہ والوں نے مولانا کی خدمت میں ایک خط بھیجا، جس میں یہ گذارش کی کہ علاقہ میں دینی کام کے لیے آہ کی سخت ضرورت ہے، آپ گاوں تشریف لے آئیں۔ اس حوالے سے مولانا نے اپنے مربی محترم سے مشورہ کیا اور حسب الحکم آپ نے جہاز قطعہ آنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا محمد اسلام ساجد لکھتے ہیں کہ:
”کیوں نہ مولانا منیر الدین صاحب مدظلہ کو دیوبند سے بلوالیا جائے اور جہاز قطعہ میں مدرسہ کھول دیا جائے۔ چنانچہ اہل دل اور صاحب حیثیت لوگوں نے آپس میں گفتگوئیں کیں اور مولانا کے پاس دیوبند خط لکھا۔ حضرت مولانا محمد منیر الدین صاحب اس وقت اپنے مربی اعظم اور استاذ شفیق حضرت مولانا اعزاز علی صاحب امروہی کے پاس مقیم تھے۔ اور خود شیخ الادب ہی کی کفالت میں تھے۔ قریب تھا کہ آپ دارالعلوم کے کسی شعبہ میں فائز ہوتے کہ آپ کو اہل جہاز قطعہ کی طرف سے دعوتی خط موصول ہوا۔ آپ وہاں سے حضرت شیخ الادب کی اجازت سے تشریف لائے۔ اہل دل لوگوں نے اپنی پیشکش کی۔ دیگر اکابرین کو خصوصی دعوت دی گئی۔اور اس دعوت کے ساتھ مدرسہ کی تاسیس خود روداد1369 ھ (مطابق 21/ دسمبر1949ء بروز بدھ) مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ کی زبان سے سنیے!
”یکم ربیع الاول (1369ھ مطابق22/ دسمبر1949ء بروز جمعرات)کو مدرسہ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے علاقہ کے سربرآوردہ لوگوں کو دعوت دی گئی۔ داعی کی آواز پر عمائدین علاقہ نے گرم جوشی کے ساتھ شرکت فرمائی۔ حضرت مولانا انور علی صاحب نیموہاوی کی صدارت میں مغرب کے بعد جلسہ ہوا۔ دینی تعلیم کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔ سبھوں نے اس ضرورت کو سراہا۔ اور مدرسہ کے قائم کرنے پر زور دیا۔ عشا کے بعد عمائدین کا مولانا موصوف کی صدارت میں دوسرا اجلاس ہوا۔ حضرت مولانا محمد اعزاز علی صاحب مدظلہ العالی شیخ الادب دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی، مولانا محمد انور علی صاحب نیموہاوی کی صدارت اور شیخ الفت حسین صاحب پردھان کی نظامت میں مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ کے نام سے دوسری ہی تاریخ سے تجویز پاس ہوئی اور محمد منیر الدین مدرس بحال ہوئے۔ دوسری تاریخ سے مدرسہ کا کام باقاعدہ جاری ہوا (روداد مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ 1369ھ، مطابق1949)“۔
مدرسہ کی پہلی میٹنگ کی روداد بتاتی ہے کہ مورخہ یکم ربیع الاول1369ھ (مطابق 22 / دسمبر 1949) بروز جمعرات مولانا انور صاحب کی صدارت میں بمقام جہاز قطعہ ایک میٹنگ ہوئی۔ اور اس میٹنگ میں ذمہ داران کا انتخاب عمل میں آیا۔ (1)مولانا محمد انور صاحب نیموہاں صدر، (2) مولانا محمد سلیمان صاحب کیتھپورا نائب صدر، (3)جناب محمد الفت حسین صاحب ناظم،(4) مولانا انوارالحق صاحب جہاز قطعہ، (5)جناب محمد امیر الدین صاحب ریسمانائب ناظم، (6)جناب عبداللطیف صاحب کپیٹا خازن،(7) مولانا محمد منیر الدین صاحب ممبر (8) محمد وارث علی صاحب پڑوا ممبر،(9) پیر محمد صاحب پڑوا ممبر،(10) محمد شریف الدین صاحب دھپرا ممبر، (11)صابر علی صاحب پھنسیا ممبر،(12) شمس الدین صاحب کمرھا کول ممبر،(13)  عبدالرحمان صاحب بسمبر چک ممبر کل تیرہ افراد پر مشتمل ایک ورکنگ باڈی بنائی گئی۔ اسی میٹنگ میں درج ذیل چار تجاویز پاس ہوئیں:
(1)مدرسہ کا نام باتفاق رائے ”مدرسہ اسلامیہ“ رکھا گیا۔
(2)کمیٹی نے باتفاق رائے طے کیا کہ مولانا محمد منیر الدین صاحب مدرسہ بحیثیت مدرس تعلیم کا کام انجام دیں گے، جن کی تنخواہ فی الوقت مبلغ تیس روپیے ماہوار مقرر ہوئی۔ یکم ربیع الاول کو مولانا کی بحالی سمجھی گئی۔
اس روداد کی شہادت کے مطابق کمیٹی نے مدرسہ کی بنیاد ڈالی اور مولانا محمد منیر الدین ؒ کو مدرس اول مقرر کیا؛ لیکن اہل گاوں کی متواتر شہادت یہی ہے کہ کمیٹی نے مدرسہ بناکر چھوڑ دیا؛ البتہ مولانا محمد منیر الدین نور اللہ رمرقدہ نے ہی اپنیخون جگر سے اسے سینچا اور پروان چڑھایا۔ مولانا کے معاصر مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ:
”مکمل آٹھ سال کی غربت ومسافرت کے بعد گھر تشریف لائے تو علاقائی ابتری کو دیکھ کردل ابلنے لگا، لوگوں کو دیکھا کہ وہ علم سے کورے اور تہذیب اسلامی سے نابلد ہیں، ان کی اصلاح اور راہ راست پرلانے کے لیے کسی مرد کامل سے بھی میدان خالی ہے، اس لیے آپ نور علم کی ضیا پاشیوں کے لیے کمر بستہ ہو گئے اور مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ کی بنیاد ڈالی،  خودہی منتظم اور خودہی مدرس تھے۔
      خود کو زہ خود کو زہ گر و خود گل کوزہ
آپ کے درسی لگاؤ اور انہماک کی اتنی شہرت ہوئی کہ مدرسہ منارہ نوربن گیا،جس سے سینکڑوں پروانوں نے روشنی حاصل کی۔“ (یاد وطن، ص/ 29)
یہی وجہ ہے کہ گاوں کے سبھی حضرات مولانا ہی کو مدرسہ کے مدرس اول کے ساتھ ساتھ بانی بھی سمجھتے ہیں۔
مدرسہ اسلامیہ، مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ کیسے بنا؟
روز اول سے مدرسہ ترقی کی راہ پر گامزن تھا، اور محض چار سال کے اندر مدرسہ نے تعلیمی وتعمیری ترقی میں نام کمالیا۔ مولانا محمد اسلام ساجد صاحب نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں کہ
”مدرسہ کی تعلیمی کام شروع ہوا۔ دوسرے لوگوں نے اقتصادی ضروریات کے لیے حتیٰ الامکان کوششیں کیں اور پوری کوشش کی۔ طلبا بھی مدرسہ کے اندر رہنے لگے۔ باہر سے طلبہ آئے اور مطبخ کی ضرورت پڑگئی۔ اب تک طلبا کی تعلیم زیر آسمان ہورہی تھی، با خانہئ خدا میں، لیکن ارباب ہمت اور اراکین نے صرف چار ماہ میں دو کمرہ اور ایک درس گاہ کی دیوار پختہ تیار کرادیا، اس سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ اینٹ تیار کراکے پکانا، پھر دیوار کھڑا کرنا کتنا وقت لیتا ہے اور اہل دل لوگوں نے صرف چار ماہ میں تیار کرادیا اور چھت کے لیے تیسری کمیٹی میں رائے پاس ہوگئی۔
فی الجملہ مدرسہ ترقی کے عروج پر تھا۔ خدا کی مرضی اور لوگوں کی کوششیں ”دن دگنی رات چوگنی“ کے مصداق ہورہی تھیں۔ تھوڑے ہی دنوں میں مدرسہ میں وہ ترقی ہوئی کہ دور دور تک اس کی شہرت ہوگئی۔“
مدرسہ ترقی کی راہ پر گامزن تھا کہ ایک چھوٹے سے اختلاف کی وجہ سے مدرسہ کو نظر بد لگ گئی۔ وہ اختلاف محض اس بات کا تھا کہ مہیش پور کے سراج الدین صاحب کے یہاں سے مولانا محمد انور صاحب نیموہاں ؒ چندہ کی کچھ رقم لے کر آئے، جسے انھوں نے رجسٹر میں اندراج نہیں کرایا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ انھوں نے کچھ کا اندراج کرایا تھا اور کچھ باقی تھا۔  اسی معاملہ کو لے کر ایک میٹنگ ہوئی، جس میں حساب و کتاب پر بحث و تمحیص کے دوران لڑائی ہوگئی۔ اور لڑائی اتنی بڑھ گئی کہ قلم کی لڑائی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی۔ لڑائی کے ماحول میں ایک شخص نے مولانا نور اللہ مرقدہ کا کرتا پھاڑ دیا۔ اس بد تمیزی سے مولانا کو بہت زیادہ صدمہ پہنچا۔ جس کے باعث 3اکتوبر 1954کو منعقد ایک میٹنگ میں استعفیٰ پیش کر کے مدرسہ کے نظام سے علاحدگی اختیار کرلی۔ 
 اس جھگڑے سے مولانا کی عالی مرتبت شخصیت کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا، کیوں کہ دوست و دشمن سبھی آپ کی دیانت اور نیک طینت سے بھالی بھانتی واقف تھے، البتہ قوم و ملت کا نقصان یہ ہوا کہ مولانا مرحوم کے مدرسہ سے علاحدہ ہوتے ہی مدرسہ زوال پذیر ہوگیا اور مدرسہ کی شہرت و عظمت پر ٹھپہ لگ گیا۔ حاسدین نے مدرسہ پر قبضہ کرلیا؛ لیکن خوش قسمتی کی بات یہ رہی کہ گاؤں کی اکثریت مولانا مرحوم کے ساتھ تھی، اس لیے علیٰ الفور جہازیوں نے مولانا سے اصرار کیا کہ آپ دوسرا مدرسہ قائم کریں۔ اول وہلہ میں مولانا اس کے لیے تیار نہ تھے، لیکن مدرسہ کی زوال پذیری اور اس کے تئیں لوگوں کی نفرت کی وجہ سے تیار ہوگئے اور اپنے بھائی جناب عبدالرحمٰن صاحب کے دروازے پر مدرسہ کی شروعات کی۔ اورقدیم مدرسہ کی بدنامی سے بچنے کے لیے اسلامیہ کے ساتھ رحمانیہ کا لاحقہ لگا دیا، جو جناب عبدالرحمٰن صاحب کی قربانی کی طرف اشارہ تھا۔
ایک ہی گاوں میں دو دو مدرسے کو ارباب دانش نے غیر مناسب سمجھا اور دونوں میں مفاہمت پیدا کرنے کے لیے 26 دسمبر 1954کو اتوار کے روز ایک خصوصی میٹنگ رکھی گئی۔، جس کی صدارت مولانا شمس الحق صاحب لوچنی نے کی۔ اس میں تیرہ افراد پر مشتمل ایک مفاہمت کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی کی کوششوں سے فروری 1969میں دونوں مدرسے کو ضم کردیا گیا اور مولانا محمد منیر الدین نور اللہ رمرقدہ کو دوبارہ ذمہ داری سونپی گئی۔ مصالحت کی خوشی میں پورے گاوں والوں نے مل کر ایک بڑا جلسہ کیا، جس میں اپنے وقت کے بڑے بڑے حضرات تشریف لائے، جس میں مولانا ابوالوفا شاہ جہاں پوریؒ، مولانا محمد سالم صاحب دامتؒ مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند، فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ اور مشہور شاعر جناب ساجد لکھنوی نے شرکت کی اور جہازی ان کے دیدار سے بہرہ مند ہوئے۔
اس جلسے کے بعد مدرسہ مزید ترقی کے منازل طے کرتا رہا، حتیٰ کہ مولانا مرحوم کی وفات تک مشکوٰۃ تک تعلیم ہونے لگی اور پورے علاقے کے لیے ایک عظیم علمی آماجگاہ بن گیا۔ مولانا کی وفات کے بعد یہ مدرسہ عروج و زوال کی مختلف کہانیوں کے ساتھ تا دم تحریر دینی تعلیمات کی خدمات میں مصروف ہے۔
تصانیف
مولانا کی ذات علمی شخصیت کا مظہر جمیل تھی۔ مطالعہ کا شوق ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔ تدریس کی فراغت کے بعد بالعموم اپنا سارا وقت کتب بینی میں گذارا کرتے تھے۔ اس لیے ان کے قلم گہر بار سے کئی تصانیف معرض وجود میں آئیں۔ اب تک جو کتابیں دستیاب ہوئی ہیں، ان کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔
۱۔رہ نمائے مسلم
 اس کتاب میں پیدائش سے لے کر موت تک اسلامی زندگی گذارنے کے لیے جن ہدایات اور طریق کار کی ضرورت ہے، ان کا جامع خلاصہ پیش کیا گیاہے۔ اور ہر موقع کے لیے رسالت مآب ﷺ سے جن دعاوں کا ثبوت ہے، ان کو بھی لکھ دیا گیا ہے۔ کتاب بہت مختصر ہے، لیکن اپنے موضوع پر بہت ہی جامع کتاب ہے اور سیکڑوں کتابوں کا خلاصہ و نچوڑ اس میں آگیا ہے۔ مسائل کے حوالے سے بنیادی معلومات کے لیے یہ ایک کتاب درجنوں کتابوں کی ورق گردانی سے بے نیاز کردیتی ہے۔
۲۔مسائل حج
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کتاب میں مسائل حج کو بیان کیا گیا ہے اور حج کے حوالے سے کافی رہ نمائی موجود ہے۔ دستیاب مسودے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتاب پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پائی تھی۔ کتاب میں سعی تک بیان ہے۔
۳۔  نمازاور پاکی کے مسائل
اس کتاب میں پاکی اورنمازوں کے مسائل و فضائل پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور ہر موضوع کو تفصیل سے بیان کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، لیکن وائے ناکامی کہ یہ کتاب چوہوں کی نذر ہوگئی۔ کئی جلدوں پر مشتمل اس کتاب کاکچھ ہی حصہ قابل استفادہ بچا، جس کی اشاعت کی کوشش جاری ہے۔
ایک دیہات میں جہاں وسائل تحقیق بالکل ناپید تھے، تصنیف و تالیف کا کام کرنے کو کرامت سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ہر کتاب حوالہ سے مزین ہے اور جو کچھ بھی لکھا گیا ہے، وہ محقق و مدلل ہے۔ یہ مولانا مرحوم کی علمی جلالت اور صلاحیت کی روشن علامات ہیں۔
تصانیف کی تعداد
ناچیز کی تحقیق کے مطابق مولانا کی درج بالا یہی تین مسودے ملے۔ مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب کی تحریر سے ایک اور کتاب کا اشارہ ملتا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ
”آپ کے دور نارسا میں علاقے میں تصنیفی کام کا کوئی تصور نہیں تھا اور یہ دیہاتی علماء کی دستریں سے بالاتر چیز سمجھی جاتی تھی، لیکن آ پ علاقے میں پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے تصنیفی کام کا آغاز کیا اور لوگوں کو باور کرایا کہ محنت ولگن سے ثریاپر بھی کمندیں ڈالی جا سکتی ہیں،آپ نے مسلمانوں کی اصلاح حال اور سنتوں کی ترویج کے لیے ”رہنمائے مسلم“ اور ”زجاج المصابیح“ تصنیف فرمایا۔“ (یاد وطن، ص/30)
اس میں ایک کتاب زجاج المصابیح کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے براہ راست مولانا قاسمی صاحب سے رابطہ کیا، تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی ذاتی تحقیق نہیں کیا ہے؛ البتہ یہ معلومات ان کے بھتیجے قاری عبد الجبار صاحب قاسمی صدر شعبہ خطاطی دارالعلوم دیوبند سے ہوئی زبانی گفتگو پر مبنی ہیں۔ راقم نے قاری صاحب سے رابطہ کیا، تو انھوں نے بتایا کہ زجا ج المصابیح کے نام سے تو کوئی کتاب نہیں ہے؛ البتہ انھوں نے اس نام سے موجود کتاب کی طرز پر سوال و جواب کے انداز میں ایک کتاب لکھی تھی۔ لیکن بسیار تلاش کے باوجود مسودہ نہیں مل سکا۔ رہ نمائے مسلم نامی کتاب 2018میں شائع ہوچکی ہے۔
اصلاحی تعلق
سلوک و تصوف میں آپ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے دامن سے وابستہ تھے۔ البتہ آپ حضرت کی جانب سے مجاز نہیں تھے؛ کیوں کہ سنتھال پرگنہ کے مجازین کی فہرست میں آپ کا نام نہیں ہے، تاہم مولانا مرحوم کی مقبولیت، اصلاح و صلاح کے تسلسل اور آپ کی ذات گرامی سے اہل علاقہ کی حد درجہ عقیدت و وابستگی، آپ کے عند اللہ مقبول و محبوب ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی رقم طراز ہیں کہ
”آپ خاموش طبع اورعزلت پسند واقع ہوئے تھے،رزم وبزم،شوروہنگامہ سے آپ کی طبعی دوری تھی،آپ دل کی دنیا کو آبقد ومعمور رکھنا چاہتے تھے، یہی وجہ تھی کہ راہ سلوک میں بہت سے مدکامل کے لئے مشعل راہ ورشک نگاہ بنے ہو ئے تھے،آپ سالک بے مثال حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنیؒ کے دامن سے وابستہ تھے۔“ (یاد وطن، ص/30)
شاگردان رشید
مولانا نور اللہ مرقدہ کی زندگی کے پینتیس سال کا عرصہ تعلیمی خدمات میں گذرا۔اس طویل عرصہ میں نہ جانے کتنے آفتاب و مہتاب کو آپ نے تیار کیا؛ لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ حضرت کے تعلق سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، جس کی بنیاد پر شاگردوں کی جامع فہرست بنائی جاسکے۔ بالخصوص میرٹھ کی تدریسی حالات بالکل بھی معلوم نہیں ہیں، تاہم جہاز قطعہ کے مدرسہ سے فیضیاب ہونے والے چند اہم ناموں کی فہرست پیش کی جارہی ہے۔ 
(1) مولانا قاری عبدالجبار صاحب قاسمی صدر شعبہ خطاطی دارالعلوم دیودبند۔
(2) مولانا خلیل الرحمان صاحب کیتھ پورہ مرحوم۔
(3) مولانا محمد یونس صاحب کیتھ پورا۔
(4) مولانا عبد الحفیظ صاحب پڑوا۔
(5) مولانا زین العابدین صاحب۔
(6) مولانا غلام رسول صاحب اسناہا۔
(7) جناب عالم گیر صاحب بکوا چک۔
(8) مولانا اسلام صاحب بیلڈیہا۔
(9) مولانا فضل الرحمان صاحب رجون۔
(10) مولانا محمد عرفان صاحب رجون۔
(11) مولانا عمر فاروق صاحب رجون۔
(12) مولانا بشیر الدین صاحب پنڈرا۔
(13) مولانا ذکیر الدین صاحب پنڈرا۔
(14) مولانا عبدالقیوم صاحب پنڈرا۔
(15) مولانا محمد اسحاق پنڈرا۔
(16) حافظ معین الدین کدرچالا کدمہ۔
(17) مولانا حدیث کھگڑا۔
(18) حافظ جنید صاحب ڈنگا پاڑا دمکا۔
(19) مولانا محمد شوکت علی پلواہی۔
(20) حافظ رحمت اللہ پلواہی۔
(21) حافظ شعیب احمد مورنئے۔
(22) جناب عبدالجبار صاحب مورنئے۔
(23) مولانا عبد القیوم مورنئے۔
(24) حافظ منصور احمد گوپی چک۔
(25) مولانا عبدالحنان بڑی سانکھی۔
(26) مولانا ابراہیم صاحب بھیرو چک۔
(27) حافظ محبوب صاحب انجنا۔
(28) مولانا عبدالمجید صاحب رگھوناتھ پور۔
(29) مولانا ہدایت اللہ صاحب رگھوناتھ پور۔
(30) قاری قطب الدین صاحب جہازی۔
(31) مولانا نور الدین جہازی۔
(32) مولانا علیم الدین جہازی۔
(33) مولوی مقبول جہازی۔
(34) مولانا مظہر الحق قاسمی جہازی۔
(35) مولانا ابراہیم جہازی۔
(36) مولانا یونس جہازی۔
(37) مولانا اظہر الحق صاحب جہازی۔
(38) مولانا اسلام صاحب کیتھ پورہ۔
(39) مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری جہازی۔
(40) مولانا منصور الحق بیلسر
(41) مولانا عبد الحفیظ صاحب جہازی
(42) مولانا مسعود عالم صاحب جہازی
(43)مولانا شفیق احمد صاحب بڑی سانکھی
(44) قاری ظفیر الدین  صاحب جہازی
(45) قاری رمضان علی صاحب جہازی
(46) مولانا نعیم الدین صاحب جہازی
(47)حافظ قطب الدین صاحب جے پوری
(48)مولانا مستقیم صاحب بڑی سانکھی
(49) مولانا عبد الرزاق صاحب قاسمی مدھوبن سارواں
 حسب نسب
شیخ لوری کا بیٹا شیخ فخر الدین، فخر الدین شیخ کا بیٹ نصیر الدین، نصیر الدین شیخ کے والا تبار صاحب زادہ کا نام ہے: نمونہ اسلام حضرت مولانا منیر الدین نور اللہ مرقدہ۔ یہ تو مولانا نور اللہ مرقدہ کے اصول تھے۔ اس  سے آگے کا سلسلہ نسبمحفوظ نہیں ہے۔ اور فروع کی بات کریں، تو مولانا نور اللہ مرقدہ سمیت تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ دوسرے بھائی کا نام عبد الرحمان اور تیسرے کا نام کرامت علی تھا۔بہن کا نام مریم تھا، ان کی شادی بیلڈھیہا میں ہوئی تھی۔ مولانا محمد منیر الدین ؒ کی شادی کی تاریخ معلوم نہ ہوسکی، البتہ اہلیہ کا نام تقدیرہ خاتون تھا، جو شاہ پور بیلڈیہا کے جناب اکبر صاحب کی صاحب زادی تھیں۔ ان کا انتقال 1994میں ہوا۔ مولانا کے سات لڑکے تھے، کوئی لڑکی نہیں تھی۔ لڑکوں کے نام علیٰ الترتیب اس طرح ہیں: عبد السلام، سلیم، سالم، شمیم، نسیم، مختار اور عبد الغفار صاحبان۔
 خدوخال
مولانا کو بذات خود دیکھنے والے لکھتے ہیں کہ
”1967ء کی کسی صبح کو تبلیغی جماعت کے ساتھ یہ کفش بردار جہاز قطعہ پہنچا،مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ کے احاطے میں قدم رکھاتوایک فرشتہ صفت بزرگ سے ملاقات ومصافحہ ہوا،میانہ قد،گدازبدن،نورانی چہرہ،متبسم پیشانی،درازکرتا اور لنگی میں ملبوس عارف باللہ حضرت مولانا منیر الدین صاحب جہاز قطعہ تھے۔“ (یاد وطن، ص/29)
دراز قد، گندمی رنگت اور لحیم و شحیم جسم کے مالک تھے۔ چہرے پر موٹے فریم والا کالا چشمہ عموما پہنے رہتے تھے۔ رعب و دبدبہ کا یہ عالم تھا کہ جب مولانا کسی راستے سے گزرتے تھے تو کسی میں سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، مولانا کو آتا دیکھ کر عموما چھپنے کی کوشش کرتے تھے۔ عورتوں کا یہ عالم تھا کہ مولانا کی طرف نگاہ بھی اٹھا کر نہیں دیکھ سکتی تھیں، اس زمانے میں عورتوں کی اپنی بچیوں کی تعلیم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مولانا کی نگاہ میں مت آجانا۔ چنانچہ  بچیوں کے پردے کا اہتمام مولانا کے سامنے بڑھ جاتا تھا۔
مولانا بہت کم گو تھے۔ کسی سے گفتگو کی ضرورت پڑتی تھی تو بقدر ضرورت ہی باتیں کیا کرتے تھے۔ آپ اپنا زیادہ تر وقت اپنے گھر کی لائبریری میں مطالعہ میں گذارا کرتے تھے۔ گلی کوچوں میں بلا ضرورت گھومنا آپ کو بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ اگر ضرورت سے آپ باہر تشریف لے جاتے تو ہمیشہ نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے۔ زندگی کے ہر پہلو میں کوشش یہ رہتی تھی کہ کسی متروک سنت کو زندہ کیا جائے، اس لیے اتباع سنت کا خاص خیال فرماتے۔ اگر کسی شخص کو خلاف سنت عمل کرتے دیکھتے، تو اصلاح کا تدریجی طریقہ اختیار فرماتے، ڈانٹ ڈپٹ یا ناراضگی کا اظہار کبھی نہیں فرماتے، بلکہ سمجھانے کے انداز میں بتاتے تھے۔ جناب عبد الرشید صاحب مرحوم نے مولانا کے اصلاحی طریقے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محرم کے موقع پر یہاں بہت ڈھول تاشا ہوتا تھا۔ جب مولانا یہاں رہنے لگے، تو انھوں نے فرمایا کہ اس طریقے سے ڈھول مت بجاؤ اگر بجانا ہی ہے تو اس طرح سے بجاؤ کہ اس میں تال سے تال نہ ملے۔مولانا کے بارے میں چل رہی گفتگو کے ایک موقع پر جناب ظفیر الدین صاحب عرف تیلی ظفیر نے کہا کہ مولانا محرم کے موقع پر بجائے جانے والے ڈھول اور جھرنی کو سخت ناپسند کرتے تھے، البتہ جب گاوں کا کوئی اجتماعی معاملہ ہوتا تھااور لوگوں کو ایک جمع کرنے کی ضرورت پیش آتی، تو انھیں کے بتائے طریقے کے مطابق چھت پر چڑھ کر ڈھول بجایا جاتا، جس سے آنا فانا لوگ ایک جگہ جمع ہوجایا کرتے تھے۔
مولانا کی مخلی طبیعت کے باوجود بچوں سے بے حد پیار کیا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب مطالعہ گاہ میں ہوتے جہاں آپ کسی غیر ضروری معاملہ کے تعلق سے کسی سے بھی ملنا پسند نہیں کرتے تھے، لیکن کسی بچے پر نظر پڑجاتی، تو اسے پاس بلاکر بیٹھا لیتے تھے اور پھر اسے کچھ سکھانے کی کوشش کرتے۔
 بیماری اور انتقال پرملال
آپ کو آخری عمر میں تین مرتبہ فالج کا حملہ ہوا۔ پہلی مرتبہ جسم کے مکمل آدھے حصہ پر حملہ کیا، جس میں آپ صحت یاب ہوگئے، پھر دوبارہ اسی طرح کا حملہ ہوا، اس میں بھی صحت یاب ہوگئے، لیکن تیسری مرتبہ دماغ پر حملہ ہوا، اس حملہ میں آپ جاں بر نہ ہوسکے اور اور داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ اپنے آبائی قبرستان جہاز قطعہ میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کا انتقال جون 1976 ء میں ہوا۔
مولانا کی ذات نابغہ روزگار ہستی تھی
مولانا کی ذات گرامی ایک نابغہ روزگار ہستی تھی۔ علمی مرتبت بہت بلند تھا۔ دیہات میں جہاں کتابوں کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں تھا، ایک نہیں؛ بلکہ کئی کئی مستند کتابیں لکھنا کسی کرامت سے کم نہیں ہوسکتا۔ وہ مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے دامن سلوک سے وابستہ تھے، اس لیے تقویٰ و طہارت پر شبہ کرنا ناممکن ہے۔ معاملہ کی صفائی، خوش اخلاقی اور نرم گوئی ان کی خاص شان تھی جن کی گواہی آج بھی کو دیکھنے اور جاننے والے دے رہے ہیں۔ باطلانہ و جاہلانہ رسوم و رواج کی اصلاح کے لیے وہ ہمیشہ پابہ جولاں رہتے تھے اور بڑی حکمت عملی سے کام لیتے تھے کہ لوگوں کو برا بھی نہیں لگتا تھا اور مقصد بھی حاصل ہوجاتاتھا۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود، اہل ہنر اور اہل قدر لوگوں کے تعلق سے لوگوں کا جو بے قدری والا رویہ ہوتا ہے، وہ مولانا کے ساتھ بھی رہا، اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ یہ انسانی فطرت کا تسلسل ہے۔ ایسا بڑے بڑوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے؛ لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ جہاں دنیا اہل قدر کے مرنے کے بعد ان کی اہلیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتی ہے، وہاں مولانا کے مرحوم ہونے کے بعد بھی ناقدری کی گئی اور ان کے سارے کارناموں کو فراموش کردیا گیا۔اس لیے قبل ازمرگ اور بعد از مرگ دونوں کے مرثیہ کے لیے مولانا مرحوم ہی کے شعر پیش کیا جاتا ہے کہ       ؎
تیرے ہنر کا کوئی نہیں قدر داں منیرؔ
شرمندہ ہوں میں اپنے کمالوں کے سامنے
اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی تمام خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین۔ ثم آمین۔

13 Feb 2020

محمد یاسین جہازی

محمد یاسین جہازی
محمد یاسین نام ہے، جہازی وطنی نسبت ہے ، مقام پیدائش کا نام جہاز قطعہ ہے  جو بھارت کے مشرقی کنارے ضلع گڈا جھارکھنڈ میں واقع ۔    8 جنوری 1984بروز اتور بوقت صبح صادق اصلی تاریخ پیدائش ہےَوالد محترم کا نام محمد مظفر ابن نصیر الدین ابن تاج علی ابن شیخ پھیکو ابن شیخ لوری ہے۔ اس سے آگے کا سلسلہ نسب محفوظ نہیں ہے۔
پرورش و پرداخت
دادا نصیر الدین کے مرحوم ہونے کے وقت والد محترم کی عمر بمشکل بارہ چودہ سال تھی۔ دادا نے اپنی وراثت میں بینک کا بھاری قرض، تقریبا چار سالہ ایک  بہن محمودہ خاتون اور سال ایک  مہینے کا بھائی فیروزچھوڑ گئے تھے۔ اس لیے تعلیم کی تکمیل نہیں کرپائے۔ یتیمی  ، بینک کا بھاری قرض، قرض کی وجہ سے گرفتاری کا بار بار وارنٹ ،27 ستمبر 1995 میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ سے کچے آبائی مکان کا انہدام  اور پھر دوبارہ 19 اکتوبر 1999 کے بھیانک سیلاب میں چھپر یل  گھر کی مکمل تباہی کے علاوہ پانچ لڑکے اور ایک لڑکی کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے گھریلو حالت غربت کی سطح سے  بھی نیچے پہنچ گئی تھی، سرچھپانے کے ساتھ ساتھ روزینہ کے بھی لالے پڑتے تھے،  اس کے باوجود والد محترم نے اپنے دوبیٹوں کو مکمل عالم  دین بنانے  اور بقیہ تینوں بیٹوں کی تعلیم کی حتیٰ الامکان کوشش کی۔
تعلیمی سفر
لاشعوری عمر میں گائے اور بکری کی نگہبانی کے ساتھ ، دروازے پر چل رہا مکتب میں جناب اختر صاحب سے  اردو، عربی، ہندی اور انگریزی کے الف ب ، ت سیکھے۔ ایک ڈیڑھ سال کے بعد گھر سے قریب مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد جہاز قطعہ  اور پھر مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں یکے بعد دیگرے ناظرہ قرآن اور ابتدائی دینیات کی تعلیم حاصل کی۔ اساتذہ میں مولانا حضرت علی صاحب، پنڈت صاحب اور دیگر تھے، جن کے نام بالکل بھی یاد نہیں آرہے ہیں۔یہ سلسلہ 1993 تک چلا۔ بعد ازاں 1994 میں مدرسہ اصلاح المسلمین چمپانگر بھاگلپور میں داخلہ لیا اور مولانا نعمان صاحب جہازی دامت برکاتہم کے زیر سایہ عاطفت ناظرہ قرآن کی تکمیل اور فارسی کی بنیادی کتاب پڑھی۔ 1995 میں مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ غازی آباد میں درس نظامی کا پہلا درجہ ، درجہ فارسی میں داخلہ لیا۔ یہاں ایک محترم استاذ کے تشدد آمیز سزا کی وجہ سے ناچیز تعلیمی سال کی تکمیل سے پہلے ہی مدرسہ سے بھاگ گیا۔ فارسی کے اساتذہ میں سے مولانا مرغوب الرحمان صاحب، مولانا اعزاز صاحب، مولانا کلیم صاحب، مولانا شہادت صاحب اور دیگر حضرات کرام تھے۔  1996 میں مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی موکل چک کی سرپرستی میں مدرسہ مظہر العلوم دادا میاں چوراہا بیگم گنج کانپور پہنچا اور عربی اول میں داخلہ لیا۔ اساتذہ میں سے مولانا شفیع الدین صاحب، مولانا ابوبکر صاحب، مولانا قمر الحسن صاحب، مفتی اقبال صاحب اور دیگر حضرات تھے۔1997 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ روڑکی ہریدوار پہنچا اورعربی دوم کے درجہ کا طالب علم بنا ۔ اساتذہ کرام میں مولانا اظہر الحق جہازی صاحب، مولانا محمد ارشد صاحب، مولانا محبوب الحق صاحب، مولانا اسحق صاحب، مفتی سلیم الدین صاحب اور دیگر حضرات تھے۔1998 میں دارالعلوم آگرہ پیر جیلانی آگرہ آگرہ کا رخ کیا۔ اور داخلہ امتحان کے بعد سوم مطلوب کے بجائے عربی دوم میں داخلہ منظور ہوا۔اور اس طرح عربی دوم کو دوبار پڑھا۔ اساتذہ میں مفتی عبدالقدوس صاحب، مولانا صلاح الدین صاحب، مفتی عبدالمجید صاحب، مولانا علی صاحب، مولانا کاتب مظفر حسین صاحب، مولانا بسم اللہ صاحب و دیگر صاحبان تھے۔ 
دارالعلوم دیوبند میں
علوم نبویہ کے طالب علموں کی سب سے بڑی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اس کی آخری تعلیمی منزل دارالعلوم دیوبند ہو۔ یہی تمنا مجھے بھی دارالعلوم دیوبند لے آئی اور داخلہ امتحان دیا۔الحمد للہ اس میں کامیابی ملی اور 1999ء میں درجہ عربی سوم میں داخلہ ہوگیا۔اس درجے کی درسیات میں،شرح شذور الذہب اور شرح تہذیب مولانا مزمل صاحب مظفر نگری، ترجمہ قرآن کریم اورنفحۃ الادب مولانا مصلح الدین صاحب سدھارتھ نگری، القراۃ الواضحہ مولانا سعد حصیری اور دیگر کتابیں دیگر موقر اساتذہ کرام سے متعلق تھیں۔ درجہ چہارم میں شرح وقایہ مولانا بلال اصغر صاحب، قطبی مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب، دوروس البلاغۃ مولانا خضر کشمیری صاحب، ترجمہ قرآن مولانا مزمل صاحب مظفر نگری اور اصول الشاشی مولانا جمال صاحب سے پڑھی۔ پنجم میں نور الانوار امام المنطق والفلسفہ مولانا عبدالرحیم صاحب، سلم العلوم مولانا عثمان صاحب، مختصر المعانی مولانا خضر کشمیری صاحب، مقامات مولانا محمد جمال صاحب، ہدایہ مولانا نسیم صاحب بارہ بنکوی پڑھاتے تھے۔ عربی ششم میں جلالین مولانا شوکت صاحب بستوی، دیوان متنبی مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب سے وابستہ تھی۔ ہفتم میں ہدایہ مولانا محمد احمد صاحب و مولانا مجیب الحق گوونڈی صاحب، مشکوۃ مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری سے پڑھی۔ دورہ حدیث میں بخاری اول مولانا نصیر احمد خاں صاحبؒ ، بخاری ثانی مولانا عبدالحق صاحبؒ ، مسلم مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی (جلد اول) و مولانا قمر الدین صاحب گورکھپوری (جلد ثانی) ،طحاوی و ترمذی مولانا سعید صاحب پالنپوری (جلد اول) و مولانا سید ارشد مدنی صاحب (جلد ثانی)، سنن ابی داود مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی و مولانا حبیب الرحمان صاحب اعظمی،سنن ابن ماجہ مولانا ریاست علی ظفر صاحب بجنوریؒ ،موطا امام مالک مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری،موطا امام محمد مفتی محمد امین صاحب پالن پوری، شمائل ترمذی مولانا عبدالخالق صاحب مدراسی ، سنن نسائی مولانا قمر الدین صاحب گورکھپوری سے پڑھی۔ 
فراغت و تدریس
2005ء میں دورہ حدیث شریف سے فراغت ہوئی اور2006ء میں تکمیل ادب عربی میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں 2007ء میں تکمیل علوم کیا۔ اور پھر دیوبند کو الوداع کہتے ہوئے اسی سال اور 2008ء کے آواخر تک مکمل دو سال جامعہ عربیہ بیت العلوم جعفرآباد دہلی میں تدریسی خدمات سے وابستہ رہا۔
جمعیت علمائے ہند سے عملی وابستگی
2009ء سے جمعیت علمائے ہند  کے  شعبہ میڈیا سے عملی وابستگی کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں ادارہ مباحث فقیہ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ سردست شعبہ دعوت اسلام  میرے متعلق کیا گیا ہے ، جس کا  سلسلہ تادم تحریر(2020) جاری ہے۔
فاصلاتی تعلیمات
2005 میں  بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ  بہار سے وسطانیہ۔
2007 میں بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ  بہارسےفوقانیہ۔
2010 میں بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ  بہارسے مولویت۔
2010 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی  سے بی اے (اردو آنرس)۔
2012 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے ایم اے (اردو آنرس) ۔
2014 میں  مولانا مظہر الحق عربک اینڈ پرشین یونی ورسیٹی پٹنہ بہار سے بی اے (اردو آنرس)
2016 میں مولانا مظہر الحق عربک اینڈ پرشین یونی ورسیٹی پٹنہ بہار سے  ایم اے۔ (اردو آنرس)
2017 میں دہلی یونی ورسیٹی دہلی سے ٹرانسلیشن اینڈ ماس میڈیا۔
2018 میں ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پنڈراجورا  سے پی ٹی ٹی۔
تالیفات
 (1) رہ نمائے اردو ادب: اس میں اردو ادب کی مختلف اصناف کا تعارف پیش کیا گیا ہے اور تحریر کے مختلف اسلوب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب میں مشہور اسلامی اہل قلم حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کے تاثرات بھی شامل ہیں۔ 
(2) رہ نمائے خطابت: یہ کتاب تقریر کے اسرار و رموز اور فن خطابت کے مضامین پر مشتمل ہے اور شائع ہوکر مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔ 
(3) نظامت ، خطابت اور مکالمہ نگاری: اس کتاب میں ان تینوں موضوعات پر معلومات پیش کی گئی ہیں۔ سردست یہ کتاب اشاعت کے مراحل میں ہے۔
(4) آسان عربی قواعد: یہ کتاب تدریسی تجربات کا ماحصل ہے، جس میں مبتدی طلبہ کو ان کے نفسیات کے مطابق انتہائی آسان انداز میں عربی زبان سکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 
(5)آسان انگریزی قواعد: اردو اور عربک بیک گراونڈ والے طلبہ کے لیے اردو قواعد کے طرز پر آسان انداز میں انگریزی گرامر کو پیش کیا گیا ہے۔ 
(6) حق اطلاعات: آر ٹی آئی کے متن کا ترجمہ اور اس ایکٹ سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر یہ کتاب مشتمل ہے۔ اسے جمعیت علمائے ہند نے اپنے شعبہ سے شائع کیا ہے۔
(7)  مقالات جہازی جلد اول و دوم : ناچیز کے مضامین و مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ سب وہ مضامین ہیں، جو کسی ضرورت، یا کسی کی طلب پر لکھے گئے ہیں اور سبھی مضامین روزنامہ، سہ روزہ، ہفت روزہ ،ماہانہ جرائد و رسائل اور ویب پر شائع ہوچکے ہیں۔ مقالات کا سلسلہ جاری ہے۔ 
(8) فلسفہ اسلام: مسائل و احکام کے اسرار و رموز پر یہ کتاب مشتمل ہے، جو ابھی زیر ترتیب ہے۔ 
(9) تاریخ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ: سنتھال پرگنہ کی کمشنری میں واقع: دیوگھر، دمکا، گڈا، صاحب گنج، پاکوڑ اور جامتاڑا کی ضلعی جمعیت کی تاریخ پیش کی گئی ہے۔ اس میں ناچیز نے مختلف دستیاب دستاویزات کو مرتب کرنے کا کام کیا ہے۔
(10) تاریخ جہاز قطعہ: مادری گاوں کی تاریخ  اور علاقائی تہذیب و ثقافت پر  تاریخ و حقائق پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ابھی زیر ترتیب ہے۔
(11) جمعیت علمائے ہند کے سو سال -- - قدم بہ قدم :  اس میں اختصار کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کی سوسالہ تاریخ کو احاطہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،  اس کی پہلی جلد تکمیل کے قریب ہے۔  بیس بیس سالہ تاریخ پر مشتمل پانچ جلدوں میں ترتیب دینے کا ارادہ ہے۔
ازداوجی زندگی
27 جون 2012 میں پھوپھا کی صاحبزادی نصرت خاتون سے مسنون عقد ہوا، جس میں رسموں کومکمل طور پر ترک کیا گیا۔  تقریبا ڈیڑ  سال بعد ایک لڑکے کی ولادت ہوئی۔ ولادت میں جسم تو مکمل تھا، لیکن روح ہی نہیں تھی۔ بعد ازاں 4؍ جنوری 2016 رات گیارہ بج کر 35 منٹ پر ایک لڑکی کی نعمت سے سرفراز ہوا، جس کا نام اپنے نام کے ہم نام یاسمین رکھا گیا۔ کچھ سال بعد ایک بار پھر اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکے سے نوازا ۔ اس کا نام یامین محمد رکھا گیا۔ اس کی پیدائش 9 ؍ مارچ 2019 بروز سنیچر صبح پونے سات بجے ہوئی۔ پھریکم اپریل 2021 بوقت رات دس بج کر پینتالیس منٹ پر جاسمین کی پیدائش ہوئی۔ثلیث و تربیع حیات کے بعد بھی نئی زندگیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
حالیہ سرگرمیاں
جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے ملی خدمات کے ساتھ ساتھ ذاتی ذوق و شوق کی بنیاد پر جہازی میڈیا کا چیف ایڈیٹر ہے۔ یہ خبروں کا نہیں؛ بلکہ نظریوں کا نیٹ ورک ہے۔ اس میں نیوز سے زیادہ ویوز کی اشاعت کو ترجیح دی ہے جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد،آج گوگلنگ کے مزاج کی وجہ سے اکابرین امت اور مستند اسلام کو یونی کوڈ فارمیٹ میں پوری دنیا میں عام کرنا ہے، جس سے ابھی تک نیٹ کی دنیا محروم ہے۔




15 Nov 2019

بابری مسجد! بچ سکتی تھی اگر ہم یہ غلطی نہیں کرتے

محمد یاسین جہازی
یمن کے قبیلہ حمیر کے ایک مشرک بادشاہ ذو نواس نے اپنے زمانے کے مسلمان بیس ہزار عیسائیوں کو خندق کھودواکر زندہ جلا دیا۔ اس میں صرف دوس ذو ثعلبان نامی شخص کسی طرح زندہ بچ کر نکل گیا اور ملک شام پہنچ کر فریاد رسی چاہی۔ یہ نصرانی بادشاہ تھا، اس نے شاہ حبشہ سے فوجی مدد طلب کی۔ چنانچہ شاہ حبشہ نے ارباط اور ابرہہ کی سرداری میں ایک بڑا لشکر بھیج دیا۔یہ لشکر یمن پہنچا اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کردیا۔ ذونواس جان بچانے کے لیے بھاگا، لیکن دریا میں ڈوب کر مرگیا۔ جس کے بعد ان دونوں سرداروں نے یمن پر قبضہ کرلیااور دونوں یہیں رہنے لگے۔ کچھ دنوں بعد ان دونوں میں ناچاقی ہوگئی اور اختلاف اتنا بڑھا کہ دونوں اپنی اپنی فوج لے کر لڑنے نکل گئے۔ پھر اس بات پر فیصلہ ہوا کہ فوج کو لڑانے کے بجائے، ہم دونوں آپس میں مقابلہ کریں گے، جو جیتے گا وہی یمن کا حاکم ہوگا۔دونوں میں سخت مقابلہ ہوا، بالآخر ابرہہ نے اپنے غلام عتودہ کے پیٹھ پیچھے وار سے ارباط کو قتل کردیا اور یمن کا بادشاہ بن گیا۔
 شاہ حبشہ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ ابرہہ سے سخت ناراض ہوئے اور لعنت ملامت کرتے ہوئے کہا کہ میں تمھارے شہر کو پامال کردوں گا۔ شاہ حبشہ نجاشی کا سخت رویہ دیکھ کر ابرہہ نے معافی مانگ لی، جس پر بادشاہ نے معاف کردیا اور یمن کا سردار بنادیا۔
ابرہہ نے نجاشی کو مزید خوش کرنے کے لیے خط لکھا کہ میں یمن میں آپ کے لیے ایک بے مثال گرجا تعمیر کروں گا۔ چنانچہ ابرہہ نے عالی شان گرجا گھر تعمیر کردی اور لوگوں کو دعوت دی کہ وہ کعبۃ اللہ کے بجائے اسی گرجا کا طواف و حج کیا کریں۔ یہ بات عربوں اور قریشیوں کو بہت ناگوار گذری۔ کچھ دنوں بعد ایسا ہوا کہ کسی شخص نے اس گھر میں پاخانہ کردیا، جس کا الزام قریشیوں پر لگا۔ بادشاہ اس بے حرمتی سے بہت ناراض ہوا اور قسم کھالی کہ میں کعبتہ اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔ چنانچہ وہ بیس ہزار لشکر لے کر مکہ پہنچا۔ مکہ کے میدان میں اہل مکہ کے جو اونٹ چر رہے تھے، ابرہہ کی فوج نے سب کو اپنے قبضے میں کرلیا، جس میں دو سو اونٹ عبد المطلب کے تھے۔ ابرہہ نے سردار قریش کو طلب کیا، تو عبد المطلب پہنچے اور گفت و شنید میں کہا کہ میرے دوسو اونٹ مجھے واپس کردو اور خانہ کعبہ خدا کا گھر ہے، وہ خود اس کو بچالے گا۔ عبد المطلب اپنے اونٹ واپس لے کر آئے اور چنندہ افراد کو لے کر خانہ کعبہ پہنچے، اور اس کے دروازے کا کنڈا پکڑ  کر خوب گڑگڑا کر دعائیں کیں کہ ائے بار ی تعالیٰ! ابرہہ اور اس کے خون خوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچالے۔
 دعا کے بعد عبد المطلب نے قریشیوں کو حکم دیا کہ وہ آبادی کو چھوڑ کر آس پاس کے پہاڑوں میں پناہ لے لیں اور خود چند سرداروں کے ہمراہ چوٹیوں پر چڑھ گیا تاکہ خدائی حفاظت کا بچشم خود مشاہدہ کرسکے۔ اگلی صبح جب ابرہہ نے حملہ کا اعلان کیا، اور بیت اللہ کی طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ کیا دیکھتا ہے کہ گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادلوں کی طرح امڈا چلا آرہا ہے۔ اور ابھی پوری طرح معاملہ کو سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ وہ پرندے سر پر آگئے اور کنکریاں برسانے لگے۔ یہ کنکری جس کے جسم پر جہاں لگتی تھی، اسے چیر کر رکھ دیتی تھی۔ چنانچہ اس پرندے کی فوج نے پوری لشکر کو تباہ و برباد کردیا۔ خود ابرہہ بھی بری طرح زخمی ہوچکا تھا، وہ کسی طرح میدان جنگ سے بھاگنے میں کامیاب رہا، لیکن صنعا پہنچتے پہنچتے اس کے جسم کاسارا گوشت کٹ کر گرچکا تھا اور بالآخر تڑپتا تڑپتا مرگیا۔
اس واقعہ پر موجودہ حالات کے تناظر میں غور کیجیے، تو شاید یہ نتیجہ خلاف حقیقت نہیں کہلائے گا کہ ہم بابری مسجد کواس لیے نہیں بچا پائے، کیوں کہ ہم نے اس کے تحفظ کے لیے عبد المطلب اور قریشیوں کا کردار ادا نہیں کیا۔خانہ کعبہ کے تحفظ کے لیے انھوں نے سب سے پہلے جو کردار پیش کیا، وہ یہ کیا کہ اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کیا۔ بیت اللہ کے الٰہی تحفظ پر اس قدر توکل و یقین پیدا کیا کہ   ”جب وہ خدا کا گھر ہے، تو اس کا تحفظ وہ خود ہی کرے گا“۔ دوسرا کردار یہ پیش کیا کہ اس اعتقاد کے باوجود رجوع الیٰ اللہ کا دامن نہیں چھوڑا اور بیت اللہ کے دروازے سے چپٹ کر خوب روروکر تحفظ کی دعائیں کیں۔
جب بابری مسجد شہید ہوئی، تب بھی ہم نے مساجد کو آباد کرنے والا کردار پیش نہیں کیا۔ اور 9/ نومبر2019کو جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والا تھا، تب بھی ہم نے نہ تو دعا کی اور نہ ہی عملی کردار پیش کرتے ہوئے اپنی مساجد کو آباد کی۔ جب تحفظ کے لیے ہم نے نہ باطنی اسباب کو ترجیح دی اور نہ ہی مساجد کی اصلی آبادی والا کردار پیش کیا، تو کہاں سے خدائی مدد آتی اور مسجد کے تحفظ کے لیے غیبی مدد اترتی۔
یقین مانیے کہ اگر ہم- بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے عبرت حاصل کرنے کے بعد ہی سہی- توکل علیٰ اللہ اور رجوع الیٰ اللہ کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے نماز و تلاوت سے مساجد کو آباد کرنے کے عملی نمونے پیش کرتے ہیں، اور سبھی مسجدوں کو پنج وقتہ نمازوں سے آباد کرنا شروع کرتے ہیں، تو اس کی جگہ رام مندر بنانے والے پھر کبھی کسی مسجد کی طرف غلط نگاہ نہیں ڈال سکیں گے۔ لیکن اگر ہم اتنے بڑے حادثہ کے باوجود کوئی عبرت نہیں پکڑتے اور ہماری زندگی کے اعمال میں کوئی انقلاب نہیں آتا اور پہلے ہی کی طرح ہماری مسجدیں ویران نظر آتی ہیں، تو ایک بابری مسجد کیا، ہماری ہزاروں مسجدیں ہم سے چھینی جاسکتی ہیں اور پھر کوئی خدائی مدد ہمارے لیے نہیں آئے گی۔ فافہم و تدبر۔ 

31 Oct 2019

جمعیت: ملی و قومی اتحاد کا مرکزی پلیٹ فارم ہے جمعیت کا ممبربننے کا مطلب:ملی وقومی اتحادکا دوسرا نام ہے


محمد یاسین جہازی

کفار مکہ کی چیرہ دستیوں سے گلو خلاصی کے لیے مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت؛ درحقیقت اسلام کے لیے ایک نقطہ انقلاب ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے بعد جب سالار قافلہ اسلامی فداہ امی و ابی سرور کونین محمد عربی ﷺ بھی مدینہ پہنچ گئے، تو گرچہ اہل مدینہ، مکہ والوں کی طرح، اسلام کے تعلق سے اتنی شدید نفرت نہیں رکھتے تھے، اس کے باوجود سرور کائنات ﷺ نے اسلام کے تحفظ اور مسلمانوں کے فاتحانہ دور کے آغاز کے لیے بڑی حکمت کے عملی مظاہر پیش کیے۔ 
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے والدجناب مالک کے مکان پر ایک میٹنگ رکھی گئی، جس میں مسلمانوں کے علاوہ مدینہ کے دس بڑے قبیلوں کے سرداروں نے شرکت کی اور یہودیوں کے تین بڑے قبیلوں کے سرداروں کو بھی مدعوین خصوصی کے طور پر شریک کیا گیا۔اور پھر مشترکہ طور پر کچھ تجاویز منظور کی گئیں، جو تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔
محققین اور تاریخ نگاروں کے مطابق اس میں پچاس کے قریب یا اس سے زائد دفعات ہیں؛  دفعات کے تناظر میں حالات کے پس منظر کا تجزیہ کیا جائے، تو آپ اسی سچائی پر پہنچیں گے کہ مدینہ میں اجتماعی نظام کا جو قدیم سلسلہ موجود تھا، آپ نے اس کو توڑنے کے بجائے، تقویت پہنچانے اور سرداروں کی لیڈر شپ میں قبیلہ وار اجتماعیت کے نظریے کو برقرار رکھا۔ اور یہی وہ حکمت عملی تھی، جس نے دنیا میں سب سے پہلے قومیت اور ملت کی بنیاد پر وطنیت کا تصور پیش کیا۔ سرور کائنات ﷺ کا یہ دانش مندانہ عمل بالیقین ان ممالک کے مسلم باشندگان کے لیے فلاح و نجات کا ضامن ہے، جہاں جمہوریت میں قائدانہ رول ادا کرنا چاہتے ہیں، یا مذاہب کی رنگا رنگی میں اپنے وجود کو امتیازی تشخص بخشنا مقصود ہے۔ 
موجودہ حالات کے تناظر میں بھارتی مسلمانوں کے لیے اپنے ماضی کے وقار اور لیڈر شپ کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے اس نبوی فارمولہ سے بہتر کوئی اور فارمولہ نہیں ہوسکتا کہ مذاہب کی کثرت کے باوجود اپنی اسلامی شان و شوکت کو برقرار رکھنے کے لیے ملی اتحاد کا عملی ثبوت بہم پہنچاتے ہوئے اہل وطن کے ساتھ مذہبی آزادی اور رواداری کے مظاہر دکھلائیں۔ 
یہاں تک پہنچنے کے بعد اب آپ کا اگلا سوال یہی ہوگا کہ آخر اس کی عملی شکل کیا ہوگی؟ ظاہر ہے کہ یہ سوال جتنا زیادہ آسان ہے، عملی اعتبار سے اس کا جواب اتنا ہی مشکل ہے؛ کیوں کہ بھارت کا مسلمان جس طرح عقیدے کے اعتبار سے مختلف النوع ہیں، اسی طرح اپنی مسلکی تاریخ میں اتنا ہی دست و گریباں؛ چنانچہ شیعہ سنی کی تاریخ میں، سنی شیعہ کی نظر میں، دیوبندی بریلوی کے عقیدے میں، بریلوی دیوبندی کی تحقیق میں، اہل حدیث دیگر فرقوں کے علمی تجزیے میں اور دیگر فرقے اہل حدیث کے نظریے میں اتنا ہی بڑا کافر یا گمراہ ہے، جتنا کہ ایک بت پرست حقیقی معنی میں مشرک و نجس ہے۔ ان تمام اختلافات کے باوجود میثاق مدینہ کی روشنی میں محض اسلام یا پھر وطنیت کی بنیاد پرملی یا قومی اتحاد کی نیو رکھ سکتے ہیں۔ اور ہر چند کہ ہر ایک مسلک کے پاس اپنی اپنی تنظیمیں اور پلیٹ فارم ہیں، اس کے باوجود سب کے لیے ”جمعیت علمائے ہند“ کے پلیٹ فارم سے بڑھ کر اور بہتر شاید کوئی اور مرکز اتحاد نہیں ہوسکتا؛ کیوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تنظیم کی نیو میں کسی ایک فرقہ و مسلک کی نہیں؛ بالعموم سبھی مسلکوں کی فکر شامل ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں زمینی سطح سے مربوط اور دائرہ کار کے اعتبار سے اتنی وسیع کوئی اور تنظیم نہیں ہے؛ لہذا اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے، اپنے اپنے مسلک و مشرب کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی چھوٹی بڑی تحریکوں و تنظیموں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے، جمعیت کا مقامی/ شہری/ ضلعی/ ریاستی / مرکزی نمائندہ کے حیثیت سے اپنا وجود تسلیم کراسکتے ہیں۔
مدینہ میں چوں کہ قبائلی طور پر اتحاد کا سسٹم موجود تھا، لہذا اسے بروئے کار لایا گیا۔ بھارت میں مرکزی اتحاد کے لیے نہ تو قبائلی معاشرہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی اور سسٹم موجود ہے، سوائے اس کے کہ ماضی کی طرح آج بھی جمعیت کو مرکز بناکر ملی و قومی اتحاد قائم کیا جائے۔ 
یکم ستمبر سے 31/ دسمبر 2019تک جمعیت کی ممبر سازی مہم جاری ہے۔اور یہی وہ سنہری موقع ہے، جہاں ہم خود بھی اور احباب و متعلقین کو بھی ممبر بناکر جمعیت کے جھنڈے تلے اتحاد و اتفاق کا حسین مرکز قائم کرسکتے ہیں۔ تو دیر کس کی بات کی ہے، آپ اپنے علاقے کے مقامی ذمہ داران جمعیت سے ملاقات کیجیے اور ان سے ممبر شپ حاصل کرکے جمعیت کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ بن جائیے، تاکہ اتحاد کے قیام اور ملت مسلمہ کو تقویت پہنچانے میں آپ کے کردار کو سنہرے حروف میں لکھا جاسکے۔ 

20 Sept 2019

عملی اسلام کہاں ہے……؟

 عملی اسلام کہاں ہے……؟
محمد یاسین جہازی، خادم جمعیت علمائے ہند
اسلام میں جہاں  نظریات کی بنیادی اہمیت ہے، وہیں عملیات بھی اس سے کم اہمیت نہیں رکھتے؛ البتہ یہ تفریق ضرور ہے کہ حقوق اللہ میں نظریات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ حقوق العباد میں عمل کی اہمیت زیادہ ہے۔ آئیے ان دونوں پہلووں پر ایک زمینی تجزیہ کرتے ہیں کہ دونوں حقوق میں دونوں پہلوں پر کھرے اترنے والے مسلمانکتنے  ہیں۔
نظریاتی مسلمان
اعتقادو نظریات کے اعتبار سے تجزیہ کیا جائے تو اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ 
(۱) مدارس کے تعلیم یافتہ افراد: بنیادی اعتقاد کے بالکل پختہ ہوتے ہیں۔ 
(۲) عصری تعلیم یافتہ طبقہ: اس کی دو کٹیگری ہیں: 
(الف) جن کو گھریلو ماحول میں اسلامی نظریات کی تربیت ملی ہے۔ 
(ب) جن کا گھریلو ماحول اسلامیات سے ناآشنا ہے۔
اول الذکر افراد نظریاتی اعتبار سے بسا غنیمت ہیں، جب کہ آخر الذکر افراد محض نام کے مسلمان ہوتے ہیں، تاہم یہ نام بھی ان کی دائمی بخشش کے لیے سہارا بن سکتا ہے۔ 
ایک دوسری حیثیت سے غور کیا جائے تو یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ جو عصری تعلیم یافتہ  حضرات علما کی رہنمائی و استفسار کے بغیر صرف اپنے مطالعہ سے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو چوں کہ ان کی زبان بالعموم انگریزی ہوتی ہے، عربی یا اردو نہیں ہوتی۔ اور انگریزی زبان میں اسلامیات یا تو ندارد ہیں۔ اور اگر کچھ ہیں بھی، تو بالعموم راہ حق و اعتدال سے بھٹکے ہوئے قلم کاروں کی کاوش ہے، جنھوں نے اسلام علما سے نہیں؛ بلکہ انھوں نے بھی محض اپنے انگریزی مطالعہ سے سیکھا ہوا ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ایسی تحریروں میں اسلامیات کم اور گمراہیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ جب گمراہی سے لت پت لٹریچر پڑھ کر نئی نسل اسلام کو سمجھنا چاہتی ہے، تو اس کا ریزلٹ یہ سامنے آرہا ہے کہ ایسا طبقہ از خود گمراہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ 
(۲) ناخواندہ افراد: ان کی دو قسمیں ہیں: 
(الف) مسلمانوں کے محلہ و معاشرے میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے مسجد کی اذان سنتے ہیں، جلسے جلوس میں شرکت کا موقع مل جاتا ہے، دوسرے لفظوں میں کسی نہ کسی حد تک اسلامی ماحول مل جاتا ہے۔ ایسے افراد تفصیلی عقائد سے تو انجان ہوتے ہیں؛ البتہ یہ ضرور مانتے ہیں کہ خدا  ایک ہے۔ آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔ اس قسم کے جو ضروری عقائد ہیں، انھیں نہ جاننے کے باوجودانھیں تسلیم کرتے ہیں۔ 
(ب) جو غیر مسلم آبادیوں میں رہتے ہیں، جہاں نہ مسجد ہے اور نہ ہی کوئی دوسرے اسلامی ادارے۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارا نام مسلمان ہے؛ لیکن اسلام کیا ہے؟ اسے نہ تو جانتے ہیں اور نہ جاننے سے کوئی سروکار رکھتے ہیں۔ ایسے افراد کے پاس جس مذہب کا بھی رہنما پہنچ جاتا ہے، وہ اس کے پیغام کو قبول کرلیتے ہیں۔اب ان کی قسمت کی بات ہوتی ہے پیغامبر حق و صداقت پہنچ گیا، تو اپنا ایمان بچانے میں کامیاب رہتے ہیں، بصورت دیگر ارتداد ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ 
 عملیاتی مسلمان
عملیات کے دو میدان ہیں: حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ 
نماز، روزہ، حج اور زکوۃ؛ یہ اہم حقوق اللہ ہیں۔ ان کے زمینی عملیات کی رپورٹ کچھ اس طرح ہے: 
(۱) علما و تبلیغی طبقہ: بالعموم حقوق اللہ ادا کرتے ہیں۔لیکن معاشرے میں ان کی تعداد دو سے چار پرسینٹ ہے۔ 
(۲) عصری تعلیم یافتہ طبقہ: بالعموم حقوق اللہ ادا نہیں کرتے؛ البتہ کچھ حضرات جنھیں گھریلو دینی ماحول مل جاتا ہے، یا پھر علما کی صحبت میسر آجاتی ہے، تو پھر یہ بھی حقوق اللہ کی ادائیگی پر مکمل توجہ دیتے ہیں، لیکن ان کی تعداد ایک پرسینٹ ہے
 (۳) ناخواندہ طبقہ: یہ طبقہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں بالکل صفر ہے۔ ہزاروں میں  کچھ افراد اگر نماز روزہ کرلیتے ہوں، تو کرلیتے ہوں گے، بالعموم انھیں حقوق اللہ اور شعائر اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ یہ طبقہ صرف اپنے اسلامی نام ہی مسلمان ہونے کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی مسلم بستی آبادی میں چلے جائیے، جہاں ایک ہزار کی آبادی ہے، تو اس میں سے بمشکل تمام دس سے بیس افراد ہی نمازی ملیں گے۔ 
اب ائیے ایک نظر حقوق العباد پر ڈالتے ہیں: 
جتنے بھی سماجی، سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی معاملات ہیں، ان سب کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ جیسے شادی بیاہ، سماجی مسئلہ ہے، تجارت اور نوکری اقتصادی پہلو ہے۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور حسن کلام کے ساتھ معاملہ کرنا اخلاقیات سے تعلق رکھتا ہے۔حقوق اللہ کے ان سارے پہلووں پر عمل کے اعتبار سے زمینی رپورٹ اسی نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ یہاں مسلمان مکمل طور پر بے عملی؛ بلکہ بد عملی کے شکار ہیں۔ چنانچہ غیر مسلم سماج اور مسلم سماج کا تجزیہ کرلیجیے،تو مسلمانوں کا سماج ہر اعتبار سے غیر مسلم سماج سے کم تر نظر آئے گا۔اور اس حوالے سے کیا علما اور کیا خواص؛ سب ایک ہی رنگ میں نظر آتے ہیں۔ طوالت سے بچنے کے لیے صرف ایک ہی مثال لے لیجیے کہ مسلم شادی اور غیر مسلم شادی کی رسوم و رواج، محفل نکاح کے علاوہ کوئی اور فرق نظر نہیں آئے گا۔ بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری کیا ہے اور جو لوگ سیاست میں براہ راست شریک ہیں، ان کا مسلمانوں کے تعلق سے کیا کارنامے ہیں، سب جگ ظاہر ہے۔ اسی طرح اخلاقی اعتبار سے جج کرلیجیے،تو معلم اخلاق کی امت ہونے کے باوجود بد اخلاقی میں مسلمان اول نمبر پر ہیں۔قصہ مختصر یہ ہے کہ حقوق العباد میں مسلمان عملی اعتبار سے بالکل صفر ہیں؛ زیادہ سے زیادہ مبالغے کے ساتھ ایک فی صد کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے۔
اس رپورٹ کے تناظر میں فطری طور پر یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہر طقبے اور نظریاتی و عملی اعتبار سے حقو ق اللہ اور حقو ق العباد میں بھی اس درجہ بے عملی اور بد عملی کے شکار ہوچکے ہیں، تو آخر عملی اسلام ہے کہاں ……؟ 
یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب ملت مسلمہ کے ہر مبلغ اور دین اسلام کے ہر داعی کو ڈھونڈھنا ضروری ہے؛ خواہ وہ تبلیغی سلسلے سے وابستہ ہوں، یا مدارس و مکاتب کے ذمہ دار ہوں، یا پھر کسی اور ذرائع سے دعوت اسلام کے فرائض انجام دے رہے ہوں؛ اس کے بغیر یہ پیش قیاسی شاید خلاف واقعہ نہ ہو کہ وہ دن زیادہ دور نہیں رہے گا، جب بھارت بھی مسلمانوں کے لیے اسپین بن جائے گا۔ 

19 Jul 2019

وعدے تو وفا کرنے کے لیے ہی ہوتے ہیں محترم




محمد یاسین جہازی، جمعیت علمائے ہند

عبداﷲ بن ابی الحمساء ؓنے بعثت سے پہلے سرور کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم سے خریدوفروخت کا کوئی معاملہ کیا ،جس میں کچھ ادائیگی باقی رہ گئی تو انھوں نے کہ آپ یہیں رہیں، میں لے کر آتا ہوں۔ لیکن جب یہ گھر گئے تو تین دن کے بعد یاد آیا ۔ چنانچہ یہ مقام عہد پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں سرور کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم اسی جگہ ابھی  تک محو انتظار ہیں۔ اتنی بڑی وعدہ خلافی پر آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا کہ تم نے مجھے مشکل میں ڈالا اور زحمت دی ، تین دن سے میں اسی مقام پر موجود ہوں‘‘۔(ابوداؤد)
یہ  توعہد مجسم فخر دو عالم ﷺ کا ذاتی معاملہ تھا ، یہاں تو بے وفائی کا شائبہ تک نہیں گذر سکتا۔ کمال تو یہ ہے کہ ایک طرف موت ہو اور دوسری طرف زندگی کا سنہرا دور۔ اورپھر صرف وعدہ وفا کی خاطر موت کی طرف قدم بڑھانا پڑے تو تصور کیجیے کہ یہ کتنا دشوار گذار لمحہ ہوگا، لیکن قربان جائیے سرور کائنات ﷺ کے اس جذبہ پر  کہ آپ نے وعدے کی تکمیل میں اپنے جاں نثار کو موت کی طرف بڑھنے سے نہیں روکا ۔ شاید آپ اشارہ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم عہد حدیبیہ کی بات کر رہے ہیں ۔ واقعہ یہ ہوا کہ سرور کائنات ﷺصلح حدیبیہ کی شرائط و ضوابط تقریبا مکمل فرما چکے تھے؛ لیکن  نافذ العمل ہونے کے لیے فریقین کے دسخط ضروری ہیں ، جو ابھی باقی تھے کہ عین اسی وقت  حضرت ابوجندلؓ خون میں غلطاں و پیچاں  اور پاؤں میں بیڑیاں لگی ہوئی بھاگتے ہوئے  آکر مسلمانوں سے عرض  کرتے ہیں  کہ مجھے ان کافروں سے بچالو، مجھے مدینہ لے چلو ۔ حضرت موصوف کی حالت زار کو دیکھ کر  آپﷺنے اہل مکہ سے بات کی اور کہا کہ ابھی تو دستخط نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن کافر نہ  مانے ، تو آپ ﷺ نے  عہد  کی پابندی کرتے ہوئے حضرت ابوجندلؓ کو واپس بھیج دیا ۔
وعدے کی تکمیل کے سرفروشانہ جذبہ کی یہ مثال ایفائے عہد کی سرشت والے افراد کے لیے شاید کچھ کمتر ہو؛ لیکن گھبرائیے نہیں، سرور کائنات ﷺ کی سیرت طیبہ و طاہرہ میں وعدہ وفا کرنے کی ایسی بھی مثال موجود ہے، جس سے اعلیٰ و ارفع کردار نہ تو آج تک کسی نے پیش کیا ہے اور نہ شاید یہ ممکن ہے۔
آپ تاریخ سے واقف ہیں کہ  تیرو تفنگ اور شمشیرو سنان سے لیس کفار کے ایک ہزار لشکر جرار کے بالمقابل  ہتھیارو تلوار سے محروم بے خانما نو مسلموں  کے تین سو تیرہ افراد پر مشتمل ایک چھوٹا سا قافلہ میدان کارزار میں خیمہ زن ہے۔ یہ ایسا وقت ہے جہاں ایک آدمی کی معیت بھی ڈوبتے کو تنکے کے سہارے سے کم نہیں ۔ حق وباطل کے فیصلہ کن اس معرکے میں ایک ایک شخص کی شدید ضرورت ہے۔ ایسے میں حضرت حذیفہ اور ان کے والد محترم حضرت یمان رضی اللہ عنہما میدان بدر میں آتے ہیں ، مسلمانوں کے حوصلوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ ہوئے واقعہ کو بیان کرتے ہیں کہ   یا رسول اللہ ﷺ ! راستے میں ہمیں ابو جہل کے لشکر نے گرفتار کرلیا تھا اور اسی شرط پر رہا کیا ہے کہ ہم کافروں کے اس لڑائی میں آپ کا ساتھ نہ دیں۔  اتنے سنگین حالات کے باوجود سرور کائنات  صلی اﷲ علیہ وسلم نے معاہدے کی خلاف ورزی کو برداشت نہ کیا اور ارشاد فرمایاکہ ’’ہم اُ ن کے عہد کو پورا کریں گے اور کفار کے خلاف اﷲ عزوجل سے مد د مانگیں گے ‘‘(صحیح مسلم )
آپ تصور کیجیے کہ جنگ بدر کوئی معمولی لڑائی نہیں ہے، یہ ایسی لڑائی ہے کہ خود زبان رسالت مآب ﷺ کے الفاظ میں ، اس میں شکست تاقیامت اسلام کی شکست کا عندیہ ہے، اور ہمیشہ ہمیش کے لیے اسلام کے دفن ہوجانے کا معرکہ ہے۔ اتنے سخت جان دشوار ترین حالات کے باوجود سرور کائنات ﷺ نے ایفائے عہد کو مقدم رکھا۔ آخر کیوں--- کیوں کہ اسلام کے حقیقت پسندانہ کردار اور منافقت کے ڈرامائی  روپ میں یہی فرق ہے۔ اسلام میں ریا اور ڈرامے کی کوئی گنجائش نہیں ، جب کہ دوسرے مذاہب میں بھگوان بھی روپ بدل کر مختلف لیلا کرتے نظر آتے ہیں۔ ---- یہاں پر ذرا رکیے اور خود کا جائزہ لیجیے کہ کیا واقعی ہمارے اندر سچے اسلام کا خون گردش کر رہا ہے، یا پھر بھگوان جیسا ڈراما کے ہیرو بن گئے ہیں ۔ --- ہمارا کردار تو آخر الذکر پہلو کا مجسمہ  بن چکا ہے--- کیوں کہ
ہم نے وحدانیت کو ماننے کا عہد لیا، تو کیا ہمارے عقیدے شرک کی آلائش سے پاک ہیں۔۔۔؟
ہم نے فرمان رسول ﷺ پر دل و جان سے عمل کرنے کا عندیہ دیا، لیکن ہم نے ایسا کیا۔۔؟
ہم نے اسلامی معاملات کے تمام ابواب ازبر کرلیے، لیکن کبھی ایک  بھی معاشرتی معاملہ کو سنت کے مطابق کرنے کرانے کا عملی منظر پیش کیا۔
ہم نے عہد لیا کہ گفتگو، معاشرت، لین دین اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں گے، لیکن کیا ہم نے مکمل طور پر ایسا کیا، جھوٹ ہم بولتے ہیں، معاشرہ میں ہمارا غلط کردار ضرب المثل ( مثلا مولوی جو کہے وہ کرو، جو وہ کرے وہ نہ کرو)بن گیا ہے ۔ ہر شعبہ ہائے حیات میں ہمارے  رویے کو پس خوردگی سے تعبیر کی جارہی ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہوا۔۔۔ کیوں کہ ہم نے جن تعلیمات پر چلنے کا زمانہ الست میں وعدہ دیا  تھا اور پھر اس زندگی میں اس وعدے کے پابند ہونے کا اعلان کیا تھا اس وعدے کو ہم پورا نہیں کر رہے ہیں ، جب کہ وعدہ وفا کرنے کے لیے ہی کیا جاتا ہے!۔



6 Jul 2019

اگر آپ ماب لنچنگ میں پھنس جائیں تو کیا کریں


حضرت خبیب ابن عدی کا ماب لنچینگ

تاریخ اسلام کا پہلا لنچگ موجودہ حالات کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے
محمد یاسین جہازی

سلیم الفطرت انسانوں کا نظریہ ہے کہ جب ان کا معاشرہ، یا ملک دشمنوں سے محفوظ ہوجائے، تو امن و امان کی فضا قائم کرلیتے ہیں؛ لیکن بد فطرت انسان نما مخلوق کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے حریف کی خاموشی کو اپنی بے چینی اور چیرہ دستی کا سبب بنالیتے ہیں؛ یہی کچھ آج کل ہمارے بھارت میں ہورہا ہے۔ مسلمان دستور و آئین اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جمہوری طریق عمل اور عدم تشدد کی راہ پر گامزن ہے، تو ملک کی اکثریت اپنے اقتدار و کثرت کے زعم میں اقلیت پر ظلم و تشددکا بازار گرم کرتی جارہی ہے۔ اب تک بھیڑیے نما بھیڑ نے جن اللہ کی وحدانیت کی گواہی دینے والوں کو تنہا پاکر شہید کیا ہے، یہ دراصل اسی بد فطرتی کا مظاہرہ اور بزدلی کی بد ترین مثال ہے۔ ایسی صورت حال میں بھی مسلمانوں کا ازلی تعلیم اسے یہ سکھاتی ہے کہ جان کی امان مانگنے کی ضرورت نہیں؛ بلکہ جاں بازی سے مقابلہ کرکے جان جاں آفریں کے سپرد کردینا ہی نجات ابدی کا ذریعہ ہے۔ آئیے ایسی ہی ایک مثال کے لیے اسلامی تاریخ کے پننے کو پلٹتے ہیں۔ 
قبیلہ عضل و قارہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عریضہ پیش کیا کہ اسلام کی تعلیم و تبلیغ کے لیے کچھ افراد کو ہمارے پاس بھیج دیں۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے سات معلم صحابہ کو اس کے ساتھ بھیج دیا۔ جب یہ تبلیغی وفد ایک گھاٹی سے گذر رہا تھا، تو پہلے سے منصوبہ بند طریقے سے چھپے دو سو مسلح نوجوانوں نے اچانک حملہ کردیا۔ پانچ صحابہ ؓنے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جان جاں آفریں کے سپردکردیں، جب کہ تین صحابہ کرام: حضرات خبیب، زیدو عبداللہ کو گرفتار کرلیا اور قریش مکہ کے ہاتھوں فروخت کردیا۔ 
حضرت خبیب ابن عدی کو حارث ابن عامر کے گھر میں قید رکھا گیا اور کھانی پانی بند کردیا اور فاقہ کشی سے مرنے کا انتظار کرنے لگے، لیکن جب اس طرح سے آپ کی موت نہیں ہوئی، تو  مآب لنچنگ کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ چنانچہ جب مقررہ تاریخ پر بے شمار لوگ تیر و تلوار اور آلہ قتل لے کر لنچنگ کرنے کے لیے تنعیم میں اکٹھا ہوگئے، تو حضرت خبیب ؓ کو پابہ زنجیر لایا گیا اور صلیب کے نیچے کھڑا کرکے ہاتھ پاوں باندھ دیے۔ مجمع سے ایک شخص نکل کر آیا اور کہنے لگا کہ ائے خبیب تمھارے دکھ سے ہم درد مند ہیں، تمھاری جان اب بھی بخشی جاسکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ تم اسلام چھوڑ دو۔ حضر ت خبیب نے ڈرنے گھبرانے کے بجائے جواب دیا کہ جب اسلام ہی باقی نہیں رہے گا، تو جان بچاکر کیا کریں گے……؟۔یہ جواب سن کر مجمع دم بخود رہ گیا۔ اتنے میں ایک دوسرے آدمی نے پوچھا کہ کوئی آخری خواہش……؟ حضرت خبیب نے کہا کہ بس دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ مجمع نے اجازت دے دی تو آپ نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دوگانہ ادا کیا۔ سلام پھیرنے کے بعد مجمع نے پھر آپ کو ستون سے جکڑ دیا اور تیر و تلوار کو ایمانی حرارت کا امتحان لینے کے لیے دعوت دی گئی۔ ایک شخص آگے آیا اور نیزے کی انی سے جسم پر کئی چرکے لگائے، جس سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے۔ ایک اور شخص آیا اورحضرت خبیب کے جگر پر نیزہ رکھ کر اس زور سے دبایا کہ کمر سے پار ہوگیا۔ اس جاں کنی کے عالم میں حملہ آور نے حضرت خبیب سے کہا کہ کیا اب بھی تم پسند کروگے کہ تمھاری اس مصیبت کی جگہ پر محمد ﷺ کو کھڑا کردیا جائے، گویا محبت نبوی کو پرکھنے کی کوشش کی گئی۔ پیکر صبر حضرت خبیب جو تیر و سنان کے زخموں کو حوصلہ مندی سے برداشت کر رہے تھے، لیکن عشق نبوی پر قدغن لگانے والے اس جملہ کو برداشت نہ کرسکے اور گرج کر جواب دیا کہ ائے ظالم! خدا جانتا ہے کہ مجھے جان دینا پسند ہے، لیکن یہ بالکل پسند نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پیر میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ مجمع یہ جواب سن کر تمازت کفر سے ابلنے لگا اور چاروں طرف سے تیرو تلوار کی بارش کردی۔
”پیکر صبر خبیب رضی اللہ عنہ کے دردناک مصائب کا تصور کیجیے: آپ ستون کے ساتھ جکڑے ہوئے ہیں، کبھی ایک تیر آتا ہے اور دل کے پار ہوجاتا ہے، کبھی نیزہ لگتا ہے اور سینے کو چیر دیتا ہے۔ ان کی آنکھیں آتے ہوئے تیروں کو دیکھ رہی ہیں۔ ان کے عضو عضو سے خون بہہ رہا ہے۔ درد و تکلیف کی اس قیامت میں بھی ان کا دل اسلام سے نہیں ٹلتا۔“ (انسانیت موت کے دروز پر، ص/145)
     میڈیا کے توسط سے آئے دن کہیں نہ کہیں اس طرح کے مناظر کا مکروہ منظر دیکھنا پڑرہا ہے کہ ایک خوں خوار بھیڑ کے بیچ عقیدہ وحدانیت کی شناخت رکھنے والا بے قصور کے ہاتھ پیر جکڑ ہوئے ہیں۔ ایک مخصوص مذہبی شناخت رکھنے والا مجمع ”جے شری رام“ کا نعرہ پلید لگانے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔ گرچہ جان کی اماں کی خاطر وہ مغلظات بک بھی دیتا ہے، اس کے باوجود گرگ جاں گسل بھیڑ انتہائی بے دردی سے اس کے پیر کے ٹکڑے کردیتا ہے، پھر ہاتھ کو بھی جسم سے الگ کردیتا ہے۔وہ تڑپ تڑپ کر زندگی کی بھیک مانگتا ہے، لیکن بھیڑ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود درندوں کی ہوس نہیں بجھتی ہے تو بدن پر چھری سے چرکے لگاتا ہے اور بوٹی بوٹی کرڈالتا ہے۔ پھر تیز دھار دار ہتھیار سے سر کو تن سے جدا کردیتا ہے۔ 
چوں کہ یہ زیادہ تر مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے، اس لیے اگر آپ کہیں ایسے حالات میں گھر جاتے ہیں، تو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی جان بچانے کے لیے مغلظات کفر بکنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ ایسے موقع پر حضرت خبیب ؓ کی سیرت کو یاد رکھ کر جواں حوصلگی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جمہوری دستور میں دفاع نفس کا حق استعمال کرتے ہوئے نعرہ کفر پر مجبور کرنے کی جگہ نعرہ تکبیر لگائیں۔ امان مانگنے کے بجائے عشق خبیب کا مظاہرہ کریں اور مرتے مرتے مارنے والوں کو شوق شہادت کا جذبہ سکھا کر جائیں، کیوں کہ ایک مسلمان سب کچھ کرسکتا ہے، لیکن وہ ایمان کا سودا نہیں کرسکتا۔ ایک مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے، لیکن بزدل اور ڈرپوک نہیں ہوسکتا۔ اور جب بزدل نہیں ہوسکتا تو جب یہ ثابت کرنے کا موقع آئے تو خوں خوار درندے کو بتا دیجیے کہ مسلمان سر تو کٹا تو سکتا ہے، لیکن وہ جھک نہیں سکتا ہے۔ 
تو کیاضرورت پڑنے پر آپ سیرت خبیب پر عمل کرنے کے لیے تیارہیں ……؟  

21 Jun 2019

شیطان کے گھر کا ایڈریس یہ ہے

شیطان کے گھر کا ایڈریس یہ ہے
محمد یاسین جہازی، جمعیت علماء ے ہند
واٹس ایپ 9871552408


خیبر مدینہ سے تقریباً سو میل کے فاصلے پر ہے، بنو نضیر کے یہودی جب مدینہ سے جلا وطن کیے گئے، تو خیبر جا بسے اور پھر خیبر یہودیوں کی سازشوں کا مرکز بن گیا؛ لہٰذا اسلام کی حفاظت کے لیے ضروری ہو گیا کہ ان کے اس شر انگیز اڈے کو توڑ دیا جائے؛چنانچہ سات ہجری میں تقریباً سولہ سو مسلمان مجاہدین کا لشکر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں خیبر روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا گیا۔ یہ محاصرہ تقریباً دس روز تک جاری رہا؛ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی اور خیبر کے تمام قلعوں پر قبضہ ہو گیا۔
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ (جب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غنودگی طاری ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام کرنے کے لیے آخر رات میں ایک جگہ اتر گئے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارا خیال رکھنا (یعنی صبح ہو جائے تو ہمیں جگا دینا) یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو سو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تہجد کی نماز میں لگ گئے۔ جب صبح صادق ہونے کو ہوئی، تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے کجاوے سے تکیہ لگا کر مشرق کی جانب منہ کر کے بیٹھ گئے۔ لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ انھیں بھی نیند آگئی۔ جب صبح صادق ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی بھی آنکھ نہ کھلی، یہاں تک کہ جب ان کے اوپر دھوپ آگئی اور اس کی گرمی پہنچی، تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر فرمایا کہ بلال یہ کیا ہوا؟ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے بھی نیند آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جگہ سے چلے چلو۔ چنانچہ سب لوگ تھوڑی دور تک اپنی اپنی سواریاں لے کر چلے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تکبیر کہنے کا حکم دیا۔ چنانچہ انھوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا: جو آدمی (نیند وغیرہ کی بنا پر) نماز پڑھنی بھول جائے تو یاد آتے ہی فوراً اسے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ 
 وَاَ قِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ (20۔طہ: 14)۔
یعنی میرے یاد کرنے کے وقت نماز پڑھ لو۔ 
شوافعی علما کے نزدیک چوں کہ طلوع آفتاب کے وقت قضا نماز پڑھنا جائز ہے، اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے قضا نماز پڑھے بغیر فوراً اس لیے روانہ ہوگئے، کیوں کہ وہاں شیطان آگیا تھا،جیسا کہ دوسری روایتوں میں اس کی تصریح موجود ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت کے  الفاظ ہیں کہ”اس لیے کہ اس جگہ ہمارے پاس شیطان آگیا ہے۔“(۲)
اس حدیث سے صاف صاف شیطان کے گھر کا ایڈریس معلوم ہوگیا کہ جس جگہ رہتے ہوئے نماز قضا ہوجائے، تودراصل وہاں شیطان ہوتا ہے، جس کی نحوست سے نماز تک قضا ہوجاتی ہے۔ اور اگر کبھی کسی جگہ رہتے ہوئے نماز قضا ہوجائے، تو اس جگہ کو تبدیل کردینا چاہیے۔ آج اپنے گھر اور جائے رہائش پر رہتے ہوئے ہماری نمازیں قضا ہوتی رہتی ہیں، یا پھر اس سے بھی بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ ہمیں نماز پڑھنے کی ہی توفیق نہیں ہوتی، تو دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے گھر کو شیطان کا گھر بنا رکھا ہے۔ ہم اپنے گھروں کو کیڑوں مکوڑوں سے صاف رکھنے کے لیے دوائی تو استعمال کرتے ہیں، لیکن شیطان کو بھگانے کے لیے اور شیطان کا بسیرا نہ بننے دینے کے لیے کچھ نہیں کرتے، حتیٰ کہ بسم اللہ تک پڑھ کر گھر میں داخل نہیں ہوتے اور نہ ہی داخل ہوتے وقت گھر والوں کو سلام کرتے ہیں، جس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارا گھر شیطان کا اڈا بن جاتا ہے، جس سے گھر کا سکون، برکت اور اہل خانہ کے درمیان الفت و محبت؛ سب ختم ہوجاتا ہے؛ کیوں کہ شیطان ہمارے گھر اے سی، کولر اور پنکھا میں بیٹھنے نہیں آتا؛ بلکہ اپنی ڈیوٹی کرنے آتا ہے اور اس کی ڈیوٹی یہی ہے کہ گھر کا سکون برباد کردو، وہاں بے برکتی پھیلادو، افراد خانہ کے درمیان دشمنی اور لڑائی کرادواور گھر کو جہنم کدہ بنادو۔ 
اگر آپ کے گھر میں ایسا ہی ہوتا ہے،بھائی بھائی، میاں بیوی، اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ لڑائی ہوتی رہتی ہے، تو سمجھ لیجیے کہ یہاں شیطان موجود ہے۔ اس لیے گھر کو نعمت کدہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کا ہر فرد نماز کا اہتمام کرے اور جب بھی گھر آئے تو اہل خانہ کو سلام کرے اور بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کرے۔ اگر آپ ایسا کریں گے، تو پھر شیطان آپ کے گھر کو اپنا اڈا نہیں بناسکے گا اور پھر آپ کا گھر جہنم کدہ سے نعمت کدہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مردود شیطان سے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ 
مآخذ و مصادر
(۱) عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حِےْنَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَےْبَرَ سَارَ لَےْلَۃً حَتّٰی اِذَا اَدْرَکَہُ الْکَرٰی عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ اِکْلَأ لَنَا اللَّےْلَ فَصَلّٰی بِلَالٌ مَّا قُدِّرَ لَہُ وَنَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَصْحَابُہُ فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ اِلٰی رَاحِلَتِہٖ مُوَجِّہَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَےْنَاہُ وَھُوَ مُسْتَنِدٌ اِلٰی رَاحِلَتِہٖ فَلَمْ ےَسْتَےْقِظْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَا بِلاَل ٌوَلَا اَحَدٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ حَتّٰی ضَرَبَتْھُمُ الشَّمْسُ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَوَّلَھُمُ اسْتَےْقَاظًا فَفَزِعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَیْ بِلَالُ فَقَالَ بِلَالٌ اَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِیْ اَخَذَ بِنَفْسِکَ قَالَ اقْتَادُوْا فَاَقْتَادَوْا رَوَاحِلَھُمْ شَےْءًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَمَرَ بِلَالًا فَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ فَصَلّٰی بِہِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا قَضَی الصَّلٰوَۃَ قَالَ مَنْ نَسِیَ الصَّلٰوۃَ فَلْےُصَلِّھَا اِذَا ذَکَرَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔(طہ، آیت ۴۱) (صحیح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ،باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ)
(۲) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَسْتَیْقِظْ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: «لِیَأْخُذْ کُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِہِ، فَإِنَّ ہَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِیہِ الشَّیْطَانُ»، قَالَ: فَفَعَلْنَا، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، وَقَالَ یَعْقُوبُ: ثُمَّ صَلَّی سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ۔  (صحیح مسلم، کِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاۃَ، بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاۃِ الْفَاءِتَۃِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِیلِ قَضَاءِہَا)

4 Jun 2019

عید کی رات کچھ خاص کرنے کی رات


عید کی رات کچھ خاص کرنے کی رات
محمد یاسین جہازی،جمعیت علمائے ہند


عید کا چاند مسرت کا دوسرا نام ہے۔ چاند نظر آتے ہی رمضان کے شیڈول لائف سے آزادی کا احساس، بسا اوقات ہمیں غفلت میں مبتلا کردیتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فرائض و نوافل اور ذکرو تلاوت کے اہتمام کی جگہ عید کی مصروفیات ہمیں گھیر لیتی ہیں اور اس طرح سے ہم عید کی رات میں عبادات الٰہی سے غفلت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ عید کی خوشی اپنی جگہ مسلم ہے؛ لیکن چاند نظر آنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ عید کی رات قدرو فضیلت سے بالکل محروم ہوجاتی ہے؛ بلکہ اس رات میں بھی عنایات الٰہی کی بارش ہوتی ہے۔ چنانچہ سرور کائنات ﷺ کا گرامی قدر ارشاد ہے کہ جو شخص عید کی رات کو ذکر خداوندی میں گذارے گا، اس کا دل قیامت کے ہولناک مناظر کے سامنے بھی زندہ رہے گا، جہاں ہر ایک کے دل پر موت کی حکمرانی قائم ہوجائے گی۔مَنْ قَامَ لَیْلَتَیِ الْعِیدَیْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّہِ لَمْ یَمُتْ قَلْبُہُ یَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام،بَابٌ فِیمَنْ قَامَ فِی لَیْلَتَیِ الْعِیدَیْنِ)حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عید کی رات، دعا کی قبولیت کی رات ہے۔وقال الإمام الشافعی رضی اللہ عنہ: ”بلغنا أنہ کان یقال: إن الدعاء یُستجاب فی خمس لیال: فی لیلۃ الجمعۃ، ولیلۃ الأضحی، ولیلۃ الفطر، وأول لیلۃ من رجب، ولیلۃ النصف من شعبان… وأنا أستحب کل ما حکیت فی ہذہ اللیالی من غیر أن یکون فرضاً” ”الأم” (1/ 264)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ عید الفطر کی رات درحقیقت ’انعام و اکرام کی رات‘ ہوتی ہے۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب نوازتا ہے اور کسی سائل کو بھی محروم نہیں کرتا۔فَإِذَا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْفِطْرِ سُمِّیَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ لَیْلَۃَ الْجَاءِزَۃِ، شعب الایمان للبیھقی، الصیام، باب جزاء الاجیر، التماس لیلۃ القدر آہ)لہذا ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس رات کو صرف عید کی تیاری میں نہیں؛ بلکہ نماز اور ذکرو دعا میں گذاریں۔ نبی اکرم ﷺ جہاں عید کی رات کو جاگنے کا اہتمام فرماتے تھے، وہیں آپ ﷺ اس رات کو غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کو بھی عید کی خوشی میں شامل کرنے کے لیے سامان بہم پہنچایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کا معمول تھا کہ عید کا چاند نظر آنے کے بعد گھر آکر ازواج مطہرات کے حال احوال پوچھتے، پھر عشا کے بعد ضرورت مندوں میں فطرہ تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ روزہ داری، بندگی، فطرہ، زکاۃاصل میں ہیں یہ حقیقت عید کیمفلسوں کو وقت پر دے دو زکاۃوہ کریں پوری ضرورت عید کی ان ارشادات گرامی اور خود اسوہ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے آئیے عہد کرتے ہیں کہ اس عید کی رات کو ایک خاص رات بنائیں گے: قیام رات کرکے، اللہ کے حضور گڑگڑا کے اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی مرضیات پر چلائے اور اس عید کی رات کا خصوصی اہتمام کرنے کی توفیق ارزانی کرے، آمین۔

2 Jun 2019

آئیے عید مناتے ہیں، تہوار نہیں

آئیے عید مناتے ہیں، تہوار نہیں 
محمد یاسین جہازی، جمعیت علمائے ہند


خوشی کا دوسرا نام عید ہے۔ عید عربی کا لفظ ہے، اس کے معنی لوٹنے کے ہیں، چوں کہ یہ ہرسال لوٹ کر آتی رہتی ہے، اس لیے خوشی کو عید کہا جاتا ہے۔ اس کے ایک معنی فائدہ کے بھی ہیں، چوں کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی بے پناہ نوازشیں بندوں پر ہوتی ہیں، اس لیے بھی اسے عید کہاجاتا ہے۔ 
انسانی سماج میں عید کا تصور بہت قدیم ہے۔ کہاجاتا ہے کہ نسل انسانی کی اولیں شخصیت حضرت آدم علیہ السلام کی جب توبہ قبول ہوئی، تو عید منائی گئی۔ بعض روایتوں کے مطابق حضرت آدم کے بیٹے ہابیل و قابیل کی لڑائی میں جب صلح ہوئی، تو روئے زمین پر پہلی عید منائی گئی۔ کچھ مورخین کا ماننا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس دن بت پرستی سے دور رہنے کی تلقین کی، وہی دن عید کی ابتدا کا دن ہے۔ اسلامی ملتوں کے علاوہ دیگر قوموں میں بھی خوشی اور تہوار منانے کا رواج پایا جاتا ہے، جن میں ان کی تہذیب و ثقافت اور عقیدوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی مجوسی دو تہوار مناتے ہیں:ایک نو روز، جس کے معنی نیا دن کے ہیں۔ نوروز شمالی نصف کرہ میں بہار کے آغاز کی علامت ہے۔ یہ ایرانی تقویم کے پہلے مہینے فروردین کا پہلا دن ہوتا ہے۔ یہ عموماً 21 مارچ یا اس سے پچھلے یا اگلے دن اس وقت منایا جاتا ہے، جب سورج کے خط استوا سماوی کو عبور کرتے وقت دن اور رات برابر ہوجاتے ہیں۔ اور دوسرا مہرجان، جسے ۲۲/ ستمبر سے ۲۲/ اکتوبر تک منایا جاتا ہے۔ قدیم یونانیوں میں عید منانے کا طریقہ یہ تھا کہ مرد و عورت مکمل طور پر ننگے ہوکر بتوں کے سامنے جنسی عمل کیا کرتے تھے۔ اور جو شریف النفس ایسا کرنے سے انکار کرتے، مذہب کے ٹھیکدار انھیں دو ردراز غاروں میں زندہ دفن کردیتے تھے۔  ۵۲/ دسمبرکو عیسائی حضرات ولادت مسیح کے نام سے تہوار مناتے ہیں۔ بھارت میں ہندوں کے یہاں تقریبا ہر ایک مہینے میں کوئی نہ کوئی تہوار ضرور ہوتا ہے، جس میں ہولی، دیوالی، دشہرہ، بسنت پنچمی وغیرہ بڑے تہوار مانے جاتے ہیں۔ 
 سن ۲/ ہجری، مطابق ۵۲۶ ء میں نبی کریم ﷺ نے انصاری صحابیوں کو جاہلیت کے طرز پرخوشی مناتے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم جاہلیت سے مناتے آرہے ہیں، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر تمھیں دو دن عطا کیے ہیں: ایک عید الفطر اور دوسری عید الاضحی۔ 
عَنْ أنَسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَلَھُمْ یَوْمَانِ یَلْعَبُوْنَ فِیْھِمَا فَقَالَ: مَا ھٰذانِ الْیَوْمَانِ؟ قَالُوْا: کُنَّا نَلْعَبُ فِیْہِمَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: إنَّ اللّٰہَ قَدْ أبْدَلَکُمْ بھِمَا خَیْراً مِنْھُمَا یَوْمَ الأضْحیٰ وَیَوْمَ الْفِطْرِ۔(أبو داود: کتاب الصلوٰۃ، باب صلاۃ العیدین)
عید اور تہوار کا فرق
ہر مذاہب کے نام ان کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہیں ہندو مت سے وطنیت (ہندستان) کا مفہوم نکلتا ہے۔ عیسائیت سے ہادی اعظم (حضرت عیسیٰؑ) کی شخصیت سامنے آتی ہے۔ یہودیت سے ایک قوم کا تصور ابھرتا ہے۔ پارسیت سے ایک ملک کا دھیان دلوں میں جمتا ہے؛ لیکن اسلام کے لفظ سے نہ ملک، نہ قوم اور نہ شخصیت جھلکتی ہے؛ بلکہ صرف اطاعت حق میں فنائیت اور مالک الملک میں محویت کے جذبات کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جب عیدگاہ کے لیے چلتے ہیں، تو نہ رنگ پھینکتے ہیں، نہ گردو غبار اڑاتے ہیں اور نہ ہی شخصیت یا قومیت کے نعرہ لگاتے ہوئے چلتے ہیں؛ بلکہ مسلمانوں کا کا یہ ترانہ زبان زد ہوتا ہے کہ اللہ اکبر اللہ اکبر۔ اور یہی چیز عید کو تہوار سے الگ کرتی ہے۔ علاوہ ازیں اسلام نے ماضی کی کسی تاریخ پر عید مقرر نہیں کی، کیوں کہ وہ واقعہ ایک مرتبہ ہوکر فنا ہوگیا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ کارنامے خود اس تہوار منانے والوں کے نہیں ہوتے۔ اسلام نے ایسا واقعہ عید کی اصل قرار دیا، جو ہر سال نیا ہوتا ہے اور انسان خود اسے اپنے عمل سے تیار کرتا ہے۔ اور یہ سب چیزیں تہوار میں نہیں ہوتیں۔
عید اور تہوار کے یہ سب فرق بتاتے ہیں کہ عید کی خوشی دراصل اسی کو میسر ہوتی ہے، جو خود روزہ رکھ کر یا قربانی کرکے عید کی فضا بناتے ہیں،اور اس کی کامیاب تکمیل پر بارگاہ ایزدی میں دوگانہ سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو کسی شرعی معذوری کے بغیر بھی روزہ نہ رکھے، یا وجوب کے باوجود قربانی نہ کرے، تو اس کے لیے عید کی خوشی ہو ہی نہیں سکتی، وہ جس چیز پر خوش ہوتے ہیں، وہ محض تہوار ہے۔ اور تہوار سے دل خوش تو ہوسکتا ہے، لیکن اس میں عید کی مسرت حاصل نہیں ہوسکتی۔ تو آئیے، اس یکم شوال کو ہم تہوار کی خوشی نہیں، بلکہ خوشی کی عید منائیں۔