2 Apr 2018

رکعاتِ تراویح بیس یا آٹھ ؟

رکعاتِ تراویح بیس یا آٹھ ؟
پسِ منظر
یہ مکالمہ دراصل دارالعلوم دیوبند کی ایک فعال اور سر گر م عربی انجمن ’’النادی العربی ‘‘ کے ششماہی پر وگرام کے لیے عربی میں لکھا گیا تھا ، جب اس مو ضوع کی تعیین کے ساتھ لکھنے کی ذمہ داری احقر کو دی گئی ، تو پلاٹ کی ترتیب کی نو عیت پر بہت غور وفکر کیا ، لیکن شر وع میں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے کیسے تر تیب دیں ؟ کیوں کہ ایک طر ف تو مکالمے کے حوالے سے موضوع اتنا خشک تھا کہ اسے مکالمے کے رنگ میں رنگنا دشوار نظر آرہا تھا ، وہیں دوسری طرف یہ حکم بھی تھا کہ اسے مزاحیہ روپ دیا جائے ، بہر کیف تو فیق ایز دی اورنہایت عر ق افشانی کے بعد پلاٹ کی تر تیب دے دی گئی اور مزاحیہ بنانے کے لیے نفس مضمون کے مکالمات کے ساتھ ساتھ عملی وآلی رموز کے سہارے بھی لیے گئے ۔ اور چوں کہ مکالمے کاافتتاح او ر اختتام بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہو تا ہے اور اسے کسی بھی رنگ میں رنگنے کے لیے انھیں دونوں حصوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے بایں وجہ مزاحیہ روپ دینے کے لیے ان دونوں حصوں پر زیادہ تو جہ دی گئی ہے اور خارجی رموز بھی استعمال کی گئی ہیں ۔
جب یہ مکالمہ اسٹیج کیا گیا تو جہا ں طلبۂ کرام او ر سامعینِ عظام نے بے حد پسند کیا ، وہیں اساتذۂ کرام نے بھی تحسین و حو صلہ افزا کلمات سے نوازا، جن کی بدولت احقر کو ا س میدان میں آگے قدم بڑھانے میں بہت حو صلہ ملا اور قدم بڑھاتا چلا گیا ۔ ہذامن فضل ربی وللہ الحمد ۔ اب اسے اردو میں منتقل کر کے یہاں پیش کیا جا رہا ہے ۔



تفصیلات 
افراد کردار
(۱)محمد نسیم مو ؤن 
(۲)محمد خالد ایک عام دیوبندی 
(۳)محمد منور ایک عام سلفی 
(۴)ہدایت اللہ سلفی عالم 
(۵)ثنا ء اللہ سلفی عالم 
(۶)محمد سعد دیوبندی عالم
(۷)نہال انور دیو بندی عالم 
محمد نسیم (موؤن ): (ہاتھ میں ایک مو ٹی سی تسبیح اور سر پہ پگڑی باندھے اسٹیج پر آتا ہے اور اسٹیج پر لگی گھڑی ۔جس میں عشا کی اذان کا وقت بجا ہو تا ہے ۔کو دیکھتے ہو ئے کہتا ہے کہ )
اوفوہ ! عشا کی اذان کا وقت ہو بھی گیا ۔ چلو پہلے اذان دے دیتے ہیں ، پھر چٹائی و ٹائی بچھائیں گے ۔
(پھر ا س طر ح اذان دیتا ہے )اللہ اکبر اللہ اکبر ۔اللہ اکبر اللہ ۔۔۔۔۔۔(یہاں پر اچانک آواز بند کر دیتا ہے جو اس با ت کی طر ف اشارہ ہو تا ہے کہ بجلی کٹ جانے کی وجہ سے آواز بند ہو گئی ہے ۔ پھر دس پندرہ سکنڈ کے وقفے کے بعد )۔۔۔ ۔۔۔الہ الا اللہ ۔(پھر گھڑی کو پچاس منٹ آگے کر کے اسٹیج سے باہر آجاتا ہے ۔ اس کے بعد دو آدمی اسٹیج کے دونوں کناروں سے چل کر بیچ میں آکر ملتے ہیں اورعلیک سلیک کے بعد )
محمد خالد(عام دیوبند ی) : بھا ئی صاحب ! اذان ہو چکی ہے ،چلیے عشااور تراویح کی نماز پڑھنے چلتے ہیں ۔
محمد منور (عام سلفی ):تعجب ہے ! ابھی تک آپ نے عشا کی بھی نماز نہیں پڑھی ہے ؟ حالاں کہ میں عشا تو کیا تراویح سے بھی فارغ ہو چکا ہو ں ۔
محمد خالد (عام دیو بند ی) :انا للہ ! ابھی تو اذان ہو نے سے پچاس منٹ بھی نہیں گذرے ہیں ، پھر بھی آپ عشا اور تراویح دونوں سے فارغ ہو گئے ؟ کیوں کہ صر ف عشا ہی کی نماز سنن و نو افل کے ساتھ دس رکعات ہیں ، پھر تراویح کی بیس رکعات ہیں ، اس کے بعد تین رکعات وتر کی بھی ہیں ۔ اور آخر میں کم از کم دورکعت نفل بھی ہے اور یہ تمام مل کر ۳۵؍رکعات ہو جاتی ہیں، توآپ نے ۳۵؍ رکعات ۵۰؍منٹ کے اندر ہی اندر کیسے ادا کر لیے ؟ یہ تو بچوں والی نماز ہی ہو سکتی ہے ۔
محمد منور (عام سلفی) : ( تعجب خیز انداز میں )کیا کہا آپ نے تراویح کی بیس رکعات ہیں ؟ ارے بھا ئی ! تراویح توصر ف آٹھ ہی رکعات ہیں ، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صر ف آٹھ ہی رکعات منقول ہے ، ا س لیے ہم سلفی نبی کا کامل اتباع کر تے ہو ئے صر ف آٹھ ہی رکعات پڑھتے ہیں ، ہم مانتے ہیں کہ کثر ت صلاۃ بذات خود ایک عبادت ہے ، لیکن اتنی ہی کثرت عبادت ہے ، جتنی کہ شر ع میں منقول ہے، اس سے زیادہ عبادت نہیں؛ بلکہ گناہ ہے، نیز ارشادِ خداوندی ہے کہ ( یُرِ یْدُ الْلّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ) اورآپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیس کے با لمقابل آٹھ رکعات مختصر ہیں او رآسان بھی ۔
محمد خالد (عام دیو بند ی ): تعجب ہے آپ پر اور آپ کی عقل و فکر پر ’’ چوری بھی اور سینہ زو ری بھی ‘‘ خواہش نفسانی کا اتباع کر تے ہوئے صر ف آٹھ رکعات ہی پڑھتے ہیں اور اس پر قرآن و حدیث سے غلط استدلال بھی کرتے ہیں ، ہا ئے تعجب ، ہا ئے افسوس ۔
محمد منور (عام سلفی ):دیو بندی بھا ئی ! آپ کو اس عمل پر تعجب او رافسوس ہو رہا ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور جس عمل کو کر نے کا حکم امیر المؤمنین حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے دیا ہے او ر جس عمل پر امت کا توارث چلا آرہا ہے ؟۔
محمد خالد (عام دیوبندی ): نہیں میرے بھا ئی نہیں ۔ میں اس عمل پر تعجب نہیں کر رہا ہو ں،جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاہے او رجس کو کرنے کا حکم خلیفۂ ثانی نے دیا ہے ، بلکہ آپ کے اس عمل پر تعجب کر رہا ہو ں ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف ہے ، صحابہ کے عمل کے خلاف ہے ،جمہورِ امت کے عمل کے خلاف ہے اور اس دعوے پر تعجب کر رہا ہو ں، جو شریعت کے خلاف ہوتے ہوئے بھی کامل اتباع نبوی سمجھ رہے ہیں ۔
محمد منور (عام سلفی ): دیوبندی بھائی !اب آپ بالکل خاموش ہو جائیے او رمزید ایسی ہر زہ سرائی نہ کیجیے ، جس سے آپ کا ایمان و عقیدہ اکارت ہو جائے ۔اور میں بھی اب کچھ نہیں بو لوں گا ، جس سے آپ کی ہٹ دھر می میں اضافہ ہو جائے ، اس لیے میں ایک بڑے عالم کو بلاتاہوں ، جو آپ کو اچھی طرح سمجھادیں گے کہ تراویح صر ف آٹھ رکعات ہیں بیس رکعات نہیں ہیں ۔
محمد خالد (عام دیو بندی) :ٹھیک ہے بلائیے ۔
محمد منور(عام سلفی ):(موبائل سے ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔
مولانا ہدایت اللہ (سلفی عالم ) : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ،کہو کیسے یاد فر مایا آپ نے ؟ کوئی خاص مسئلہ پیش آگیا ہے کیا ؟ 
محمد منور(عام سلفی ): جی حضرت، معاملہ کچھ ایسا ہی پیش آگیا ہے ، میرے ایک دیوبندی دوست ہے، جوا س بات پر بہ ضد ہے کہ ترا ویح بیس رکعات ہیں آٹھ نہیں ، میں نے اسے سمجھانے کی ہر ممکن کو شش کی، مگر یہ سمجھتا ہی نہیں، اس لیے آپ جلدی تشریف لے آئیے ، تاکہ ہم اپنے دوست کو دیوبندیت کی ضلالت سے سلفیت کی ہدایت پر لاسکیں ۔
مولانا ہدایت اللہ (سلفی عالم) :ٹھیک ہے میں پہنچ رہا ہو ں، تم میرا انتظار کرو ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔
محمد منور (عام سلفی ):وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ (دیو بندی کو مخاطب بنا کر ) وہ آرہے ہیں ، جو اچھی طرح آپ کو سمجھا دیں گے ۔
(اتنے میں دو سلفی عالم اسٹیج پر آجاتے ہیں )
مولانا ہدایت اللہ(سلفی عالم ) :حامداً و مصلیا امابعد! سب سے پہلے میں اس بات پر شکر یہ ادا کر وں گا کہ ایک دیو بندی کی اصلاح کے لیے مجھے بلایا گیا ، کیوں کہ اگر ایک دیو بندی کی اصلاح ہوجائے تو میں اسے سو ابلیس کو مسلمان بنانے سے زیادہ ثواب کاکا م سمجھتا ہو ں ، اس لیے کہ شیطان شیطانی کر تا ہے، تواس احساس کے ساتھ کر تا ہے کہ و ہ شیطانی کا م ہے ، جس کی اصلاح ممکن ہے ، لیکن ایک دیو بندی کو ئی غلط کام کر تا ہے تو اسے غلطی کا احساس نہیں ہو تا؛ بلکہ وہ اسے دین کاکام سمجھ کر کر تا ہے، او رایسوں کی اصلاح نا ممکن ہے ، انھیں غلط کاموں میں سے ایک، دیو بندی کا بیس رکعات تراویح پڑھنابھی ہے ،حالاں کہ بے شمار احادیث میں صراحت کے ساتھ یہ مسئلہ مذکور ہے کہ تراویح صرف آٹھ رکعات ہیں ۔میں چند احادیث پیش کر تا ہوں۔
اِنَّ صَحَابِیًّا سَاألَ عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہٗ تَعَالیٰ عَنْہَا :کَیْفَ کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْ لِ اللّٰہٖ صَلَّی اللّٰہٗ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ فِیْ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ :مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہٖ صَلَّی اللّٰہٗ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَزِیْدُ فِیْ رَمَضَانَ وَلَا فِیْ غَیْرِہٖ عَلیٰ اِحْدَیٰ عَشْرَ ۃَ رَکْعَۃً یُصَلِّی اأرْبَعًا ‘‘(بخاری شریف،ص،۱۵۴)۔
اس حدیث سے صاف پتہ چلتاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں صرف گیارہ رکعات پڑھا کر تے تھے ، جن میں سے آٹھ تراویح کی ہو تی اور تین وتر کی ہوتی تھیں۔ اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مر وی ہے: 
صَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہٖ صَلَّی اللّٰہٗ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ فِیْ رَمَضَانَ لَیْلَۃً ثَمَانَ رَکَعَاتٍ وَالْوِتْرَ۔
علاوہ ازیں خلیفہ ثانی حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بھی آٹھ ہی رکعات پڑھنے کا حکم دیاہے ، جیسے کہ مو طا امام مالک میں ایک حدیث ہے :
’’ اَمَرَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہٗ تَعَالیٰ عَنْہٗ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَ تَمِیْمًا اَلدَّارَمِیْ اَنْ یَقُوْمَ لِلنَّا سِِ اِحْدَیٰ عَشْرَ ۃَ رَکْعَۃً‘‘۔
ان تمام احادیث سے یہی ثابت ہو تا ہے کہ تراویح صر ف آٹھ رکعات ہیں، بیس رکعات نہیں ہیں ۔
دیوبندی جی !اب تو آپ کے دل میں آٹھ کے بارے میں کو ئی شبہ باقی نہیں ہوگا؟
محمد خالد(عا م دیوبندی ):مو لانا سلفی صاحب ! ابھی آپ نے جو احادیث مبارکہ پڑھ کر سنائیں ،وہ سر آنکھو ں پر ، لیکن میں ایک جاہل آدمی ہو ں ، میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا ہو ں کہ آپ نے جو کہا وہی حق ہے ، یا پھر وہ جو ہمارے علمائے کر ام کہتے ہیں ، کیوں کہ وہ بھی تو احادیث ہی سے بیس رکعات ثابت کرتے ہیں ،اس لیے میں بھی اپنے علما کو بلا تا ہو ں ، تا کہ آج آمنے سامنے یہ فیصلہ ہو جائے کہ کون حق پر ہے او ر کو ن باطل پر ؟ 
مولانا ہدایت اللہ (سلفی عالم) : میرے بھائی ! میں تو آپ کے سامنے احادیث سے مکمل صراحت کے ساتھ یہ ثابت کر دیاکہ تراویح آٹھ ہی رکعات ہیں ، اس لیے آپ کو اپنے علما کو بلانے کی کیا ضرورت ہے ۔ میری باتوں پرغور وفکر کر تے رہیے ، سب سمجھ میں آجائے گا ۔
محمد منور (عام سلفی ): میرا دوست ٹھیک کہہ رہا ہے، انھیں بھی اپنے علماکو بلانے دیجیے، اگر ہم حق پر ہیں، تو ڈر نے کی کیا بات ہے ، ان کے علماکے سامنے بھی حق واضح ہو جائے گا۔(دیو بند ی سے مخاطب ہو کر ) آپ اپنے علما کو بلایئے ۔
محمد خالد (عام دیو بندی ) : (موبائل سے ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔
مولانا محمد سعد (دیو بندی عالم) :(اسٹیج کے پیچھے سے ) وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، کہو کیسے یا د فر مایا آپ نے ؟ 
محمد خالد (عام دیوبندی) :اس وجہ سے زحمت دی آپ کو ، کہ ہمارے یہاں ایک سلفی عالم آئے ہو ئے ہیں ، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ احادیث سے تراویح کی صرف آٹھ رکعات ہی ثابت ہیں اور مجھے سلفی بنانے کی ہر ممکن کو شش کر رہے ہیں ، اس لیے آپ تشریف لے آئیں ، تو آپ کی مہر بانی ہو گی ۔
مولانا سعد (دیوبندی عالم) :ٹھیک ہے ، آپ اسے روکے رکھیے ، کہیں بھاگنے نہ پا ئے ، میں بہت جلد آرہا ہوں، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔
محمد خالد (عام دیو بندی ): شکر یہ حضرت ، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔ 
مولانا ثناء اللہ( سلفی عالم):کیا وہ تشریف لا رہے ہیں ؟ 
محمد خالد (عام دیو بندی ):(موبائل جیب میں رکھ کر) ہا ں بس وہ پہنچنے ہی والے ہیں ۔
مولاناثناء اللہ (سلفی عالم) :(گھبراہٹ کے انداز میں ) بھا ئی ! میں چلتا ہوں،اس لیے کہ گھر میں بہت کام ہے ، پھر کبھی ملاقات ہوگی ، ان شاء اللہ ۔
محمد منور (عام سلفی ):رکیے مولانا رکیے !اتنی سخت سردی میں بھی آپ کی پیشانی پر پسینہ ؟ خیریت تو ہے ، مو لانا اگر ہم حق پر ہیں ، تو دیو بند ی علماکے نام سے گھبراکربھاگنے کی کیا ضرورت ہے ؟
(اتنے میں دو دیو بندی عالم اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں او رعلیک سلیک کے بعد )
مولانامحمد سعد(دیوبندی عالم) :مجھے اطلاع ملی ہے کہ بیس رکعات تراویح کو آٹھ کر نے کے لیے آپ ایک جاہل آدمی سے مناظرہ کررہے ہیں ؟ 
مولاناثنا ء اللہ (سلفی عالم ):مولانا !چھوڑیے ان باتو ں کو اور خدا را ہمارے پیچھے مت پڑیے، ویسے بھی اس مو ضوع پر مناظرہ کرنے سے کچھ فائد ہ نہیں ، کیو ں کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ آج کے زمانے میں لوگ کس قدر سہولت پسند اور تن آساں ہو گئے ہیں اور تراویح کے حوالے سے آٹھ بیس دونوں طرح کی روایتیں ہیں ، اس لیے زمانے کے تقاضے کے مطابق جس روایت پر چاہیں عمل کر سکتے ہیں ، اس میں جھگڑ نے کی کو ئی بات ہی نہیں ہے ۔
مولانامحمد سعد(دیوبندی عالم ):سلفی عالم صاحب! مذہبِ اسلام کو ئی کھیل کی چیز نہیں کہ جو چاہے ، او رجس طرح چاہے ، اس سے کھیل کر ے ، اورآپ کایہ کہنا کہ ہم جس روایت پر چاہیں حسبِ خواہش عمل کر سکتے ہیں، یہ انتہائی غلط نقطۂ نظر او رگھنا ؤنی فکر کی عکاسی کر تا ہے ، اگر آپ سلفی حضرات ان جیسی چیزوں سے باز نہیں آئیں گے تو کوئی بعید نہیں کہ آپ حضرات اپنے ایمان سے ہا تھ دھو بیٹھیں۔ اس لیے آج میں احادیث کی روشنی میں یہ ثابت کر دکھاؤں گا کہ تراویح حقیقہً بیس رکعات ہیں ، آٹھ رکعات نہیں ۔
اس سلسلے میں بے شمار احادیث مر وی ہیں ، لیکن قلتِ وقت کی وجہ سے چند احادیث پیش کر تا ہو ں، علامہ شیخ نیمویؒ نے آثار السنن میں ایک حدیث ذکر کی ہے کہ 
’’ اِنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہٗ عَنْہٗ اَمَرَ رَجُلًا اَنْ یُصَلِّیَ بِہِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً ‘‘۔
تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ترا ویح میں بیس رکعات ہی پڑھا کرتے تھے، جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عطا کاقول منقول ہے کہ
’’اَدْرَکْتُ النَّاسَ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً ‘‘
علاوہ ازیں چاروں امام بھی بیس رکعات ہی کے قائل تھے ۔ نیز عہد صحابہ سے لے کر با ر ھویں صدی تک پو ری امت کااجماع او رتوارث اسی پر چلا آرہا ہے کہ تراویح بیس رکعات ہیں ، چنانچہ امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ
’’ثُمَّ اسْتَقَرَّالأمْرُ عَلیٰ أَنَّ التَّرَاوِیْحَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً ‘‘
حافظ ابن حجر بھی یہی کہتے ہیں کہ
’’ اِجْتَمَعَتِ الصَّحَابَۃُ عَلیٰ اَنَّ التَّرَاوِیْحِ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً ‘‘ 
امام ابن تیمیہؒ کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ
’’ہُوَ الَّذِیْ یَعْمَلُِ بہٖ اَکْثَرُ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘۔
علاوہ ازیں دنیا کی تمام مسجدوں میں حتی کہ حر مین شریفین میں آج بھی بیس رکعات کی تراویح ہوتی ہے ، اگر حقیقت میں آٹھ ہی رکعات ہو تیں ،تو امت کے یہ جلیل القدر علما اس کی مخالفت نہ کر تے او رنہ ہی مسلمانوں کی بڑی تعداد اس کے خلاف عمل پیرا ہوتی ۔لہذامعلوم ہو اکہ آٹھ رکعات نہ صرف احادیث کے خلاف ہیں، بلکہ تعاملِ صحابہ او راجماعِ امت کے بھی خلاف ہیں۔
مولانا ہدایت اللہ (سلفی عالم):(متعجبانہ لہجے میں ) مولانا قاسمی صاحب، کیا کہا آ پ نے! آٹھ رکعات کا ثبوت احادیث کے خلاف ہے ، حالاں کہ اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک حدیث مر وی ہے جو بخاری شریف میں مو جود ہے ، اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ایک حدیث مر وی ہے ، جس میں صراحت کے ساتھ آٹھ رکعت کا ذکر ہے ، اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ کا حکم بھی حدیث کی کتابوں میں مو جو د ہے ، کیا بخاری شر یف جھوٹی کتاب ہے ؟ کیا احادیث کا جو ذخیر ہ ہم تک پہونچا ہے، یہ سب جھوٹی باتو ں سے بھر ی ہو ئی ہے ، اگر یہ سب جھوٹ نہیں ہے اور یقیناًجھوٹ نہیں ہے، توان احادیث کے بارے میں آپ کا کیاخیال ہے اور آپ کے پاس ان کے کیا جوابات ہیں ؟ 
مولانا نہا ل انور (دیو بندی عالم) : مولانا سلفی صاحب ! ہمیں ان کے حدیث ہو نے کا انکار نہیں ہے ، البتہ جن احادیث کی طر ف آپ نے اشارہ کیاہے ، ان سے وہ مر اد نہیں ہے ، جو آپ حضرات سمجھ رہے ہیں؛ بلکہ ان کا صحیح مطلب وہ ہے ، جو میں بتلانے جارہا ہو ں ، جہاں تک حضرت عائشہ کی حدیث کی بات ہے ، تو اس سے تراویح نہیں، بلکہ تہجد کی نماز مراد ہے ؛ کیوں کہ اس حدیث میں ایک لفظ ’’ وَلَا فِیْ غَیْرِہِ ‘‘ہے، جو اس با ت پر صراحتاً دلالت کر تا ہے کہ حضرت عائشہؓ ؓؓؓؓؓؓ سے تہجد کے بارے میں سوال کیا گیا تھا ؛کیوں کہ غیر رمضان میں تہجد ہی پڑھی جاتی ہے ، تراویح نہیں ۔
اگر با لفر ض ہم یہ مان بھی لیں کہ تراویح ہی کے متعلق سوال کیا گیا تھا، تو بھی آٹھ کی تحدید درست نہ ہو گی؛ کیو ں کہ حضرت عائشہ سے پانچ طرح کی روایتیں مر وی ہیں ، جن میں یہ چار قوی اسانید سے ثابت ہیں ؛ (۱) گیارہ رکعات (۲) تیرہ رکعات (۳) اکیس رکعات (۴) تئیس رکعات، لہذا صرف آٹھ کی تحدید د رست نہیں ۔ اسی وجہ سے امام قر طبی ؒ حضرت عائشہ کی حدیثوں کے بارے میں یہ تحریر فرماتے ہیں کہ
’’اُشْکِلَتْ رِوَایَاتُ عَاءِشَۃَ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ اَہْلِ الْعِلْمِ حَتٰی نَسَبَ بَعْضُہُمْ حَدِیْثَہَا اِلٰی الِاضْطِرَابِ ‘‘ 
اورماشاء اللہ آپ عالم ہیں، جانتے ہی ہیں کہ حدیث مضطرب سے استدلال کر نا درست نہیں ہے ۔
مولانا ثناء اللہ(سلفی عالم ) :مولانا قاسمی صاحب ! چلو ہم یہ مان لیتے ہیں کہ حدیثِ عائشہ تہجد سے تعلق رکھتی ہے ، یا مضطر ب ہے ، لیکن حضرت جابرؓ کی حدیث میں تو صراحت کے ساتھ تراویح اور رمضان کاذکر ہے ۔ اس میں آپ یہ کہہ ہی نہیں سکتے ہیں کہ وہ تہجد سے متعلق ہے ، اسی طرح حدیث عمر بھی ہمارے ہی موقف پر دلالت کر تی ہے۔ ان کا کوئی جواب ہے آپ کے پا س ؟ 
مولانا نہا ل انور(دیو بندی عالم ) :ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہے ، لیکن جس حدیث جابر کا آپ نے حوالہ دیا ہے ، در اصل اس میں ایک راوی متہم بالکذ ب اور منکر الحدیث ہے ، او رمنکر کے بارے میں امام بخاری کا یہ فیصلہ ہے کہ
’’ اِنَّ مُنْکَرَ الْحَدِیْثِ وَصْفٌ فِی الرِّ جَالِ یَسْتَحِقُّ بِہٖ التَّرْ کَ‘‘
لہذا اس سے استدلال کر نا درست نہیں ۔
اور رہی بات حدیثِ عمر کی ، تو وہ سند اور متن دونو ں اعتبار سے مضطرب ہے ، اور مضطرب کے بارے میں ابھی آپ نے سنا کہ وہ قابلِ استدلال نہیں ۔ علاوہ ازیں اس کے خلاف حضرت عمر ہی کے متعلق ’’ بیہقی میں صحیح سند کے ساتھ سائب بن یزید سے ایک روایت مذکور ہے کہ 
’’ کَانُوْایَقُوْمُوْ نَ عَلیٰ عَہْدِ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِؓ فیِ شَھْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِ یْنَ رَکْعَۃً وَ کَذَ ا فِیْ عَہْدِ عُثْمَانَؓ ‘‘۔ 
المختصر تمام روایتوں پر غائرانہ نظر دوڑ انے سے یہی پتہ چلتا ہے کہ تراویح آٹھ نہیں؛ بلکہ بیس رکعات ہیں ، جیسا کہ میں نے کچھ نمونہ آپ کے سامنے پیش کیا ، اب تو آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ تراویح بیس ہی رکعات ہیں ، یا اب بھی کوئی شبہ باقی ہے ؟اگر باقی ہے تو پیش کیجیے ان شاء اللہ اس کا بھی ازالہ ہو جائے گا ۔
مولانا ہدایت اللہ( سلفی عالم ) :میرے کر م فرما مولانا قاسمی صاحب! اب تک تو ہم سلفی یہی سمجھتے آرہے تھے کہ ا حادیث کو ہم سلفی کے علاوہ کو ئی اور صحیح طو ر پر سمجھتا ہی نہیں ہے ، لیکن آپ دونوں کی اس بلیغانہ ، عالمانہ اور محققانہ تقریر سے معلوم ہو ا کہ حقیقت بالکل ا س کے بر عکس ہے ۔آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میری آنکھیں کھو ل دیں او رفریبِ علاّمیت سے نکال کر حق و صداقت کی راہیں دکھلائیں ۔فجزاکمااللہ احسن الجزاء۔
محمدمنور(عام سلفی ): میں بھی اپنے مولویوں کی غلط فہمیو ں کی وجہ سے اب تک دھو کے میں پڑا ہو ا تھا اور بچپن سے لے کر اس عمر تک آٹھ رکعات ہی پڑھا کر تا تھا ، جس کی وجہ سے بارہ رکعات کے ثواب سے محروم ہو تا رہا ، لیکن آج سے ان شاء اللہ بیس رکعات پڑھا کر وں گا ۔
محمد خالد (عام دیو بند ی) : ( گھڑی دیکھتے ہو ئے ) مسجد میں تراویح ہو رہی ہے ، تو چلیے چلتے ہیں اور مکمل بیس رکعات پو ری کر کے آتے ہیں ۔
محمد منور(عالم سلفی ): ہا ں ہا ں جلدی چلیے کہیں کو ئی رکعت نہ نکل جائے اور پھر کفِ افسوس ملنا پڑ ے ۔(بعد ازاں تمام حضرات اسٹیج سے باہر آجاتے ہیں اور موؤن آتاہے ، جو گھڑی میں سحر ی کا وقت بجا دیتا ہے ، پھر بہ آواز بلند یہ اعلان کر تا ہے ) 
محترم حضرات ! سحری کھانے کا وقت ہو گیا ہے ، اس لیے جلد سے جلد اپنی نیند کو تو ڑ یں اورسحری کھالیں (یہ اعلان دو مر تبہ کر تا ہے ، پھر گھڑی میں ختمِ سحری کا وقت بجا کر دو مر تبہ یہ اعلان کر تا ہے کہ )
محتر م حضرات ! سحری کا وقت ختم ہو گیاہے ، اس لیے جو حضرات سحری تناول فر ما رہے ہیں ، وہ کھانا بند کر دیں اور نمازِ فجر کی تیاری کریں ۔

مکالمہ نگاری اصول و امثال


مکالمے کی تعریف وتشریح 
یہ لفظ عربی کے بابِ مفاعلت کا مصدر ہے ، اس کے لغو ی معنی ہیں :با ہم دیگر گفتگو کر نا ، آپس میں با ت چیت کر نا ،ایک شخص کا دو سرے شخص کے سا تھ ہم کلا م ہو نا ۔ اردو اد ب کی اصطلا ح میں مکا لمہ ایک ایسی مخصو ص نثر ی صنفِ سخن کو کہا جا تا ہے جس میں چند افر اد و اشخا ص کا تصو ر کر کے ،ان کے اوصاف و احو ال کے منا سب کر دا ر اور اقو ال ان کی زبا ن سے ادا کر ائے جا تے ہیں ۔ ہر مکا لمہ تین اہم عنا صرِ تر کیبی پر مشتمل ہو تا ہے :(۱)مو ضو ع (۲)پلا ٹ (۳)کر دا ر ۔
موضوع
یہ مکالمہ نگا ری کا سب سے پہلا مر حلہ ہو تا ہے ، جب تک کو ئی مو ضو ع پیشِ نظر نہیں ہو گا ، اس وقت تک آگے کی منزل کی طر ف قد م بڑھا نا نا ممکن ہے ،اس لیے مکا لمہ نگا ری شرو ع کر نے سے پہلے ضروری ہے کہ کو ئی مو ضو ع متعین کر لیا جا ئے ،بعد ازاں اسے واقعا تی اور مکا لما تی ر وپ دیا جا ئے ۔
مکا لمے کے لیے کسی مو ضو ع کی قید نہیں ہو تی ، کا ئنا ت کی چھو ٹی سے چھو ٹی اور بڑی سے بڑی چیز پر مکالمہ لکھا جاسکتا ہے بشر طیکہ مکالمہ نگار اسے مکالمے کے رنگ میں رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، اس کے لیے یہ بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ اس کا کوئی پسِ منظر پہلے سے موجود ہو تبھی مکالماتی قالب میں ڈھا لا جاسکتا ہے ، بلکہ مکالمہ نگار کے زورِ قلم سے فر ضی خیا لات اور اختراعی افکار بھی مکالمے کا پیکر اختیار کر سکتے ہیں،المختصر مو ضوع کے حوالے سے سب کچھ مکالمہ نگار کی قوتِ نگارش پر منحصرہے ، البتہ حقیقی زندگی سے اٹیچ احوال و واقعات اور انسانی مسائل کو موضوع بنا نے سے اس کی اثرانگیزی میں چار چاند لگ جاتا ہے ، قلم کاغذ ہاتھ میں لینے سے پہلے مو ضوع کے ہر پہلو پر غور و فکر کر نے کے بعد ایک ذہنی خاکہ بنا لینا چاہیے ، بعد از اں اسے کاغذ پر منتقل کر نا چاہیے۔
پلاٹ
مو ضوع کے حوالے سے مکالماتی روپ دیے ہو ئے جملوں اور گفتگو وں کو افرادو اشخاص کے طریقِ اظہار کے ساتھ مخصوص انداز میں تر تیب دینے کا نام ’’پلاٹ ‘‘ہے ۔پلاٹ مکالمہ کا ایسا مر حلہ ہے جہا ں مکالمہ نگار کو لکھتے وقت بہت ساری چیزوں کاخیال رکھنا پڑتاہے ، مثلاًیہ کہ ادیبا نہ اسلوب زیادہ بہتر ہو گا یا عوامی بول چال کی زبا ن ؟ کن اشخاص کے لیے کون سی زبان زیادہ مو زوں ہو گی ؟ کس مقام پر مختصر کلام کیا جائے گا اور کس جگہ تفصیلی کلام مناسب ہوگا ؟ متصور اشخاص کی نفسیات کہاں پر کیسا انداز اور کس اسٹائل کا تقاضا کر تی ہیں ؟ کہا ں پر نر می اور ملا ئمت کااظہار ہو گا اور کہا ں پر غصیلہ لہجہ راس آئے گا ؟ کس جملے کے ساتھ حر کات و اشارات لابدی ہو ں گے اور کن الفاظ پر مہر سکوت و مجسمۂ جمود بننا پڑے گا ؟ کس کردار کے ساتھ رنگ روپ اختیار کر نا زیب دے گا اور کس کے ساتھ زیب نہیں دے گا ؟ پلاٹ کی تر تیب کیسی ہو نی چاہیے کہ کہیں سے بے ربطی نہ جھلکے اور سامعین و ناظر ین کو بے لطفی کا احساس نہ ہونے پائے ؟ وغیر ہ وغیر ہ۔
مکالمے کے حسن وقبح ، پسندیدگی و نا پسندیدگی اور معیار ی و غیر معیار ی کا دار و مدار اسی پلاٹ کی تر تیب پر ہے ، گویا’’پلاٹ ‘‘مکالمے کے لیے ایک آزمائش کن خار دار وادی ہے ، اگروہ اس وادی پرخار سے صحیح وسالم گذر جاتا ہے ، تو گویا وہ اپنے مقصد میں ننا نوے فیصد کا میا ب ہے، اور اگر وہ اس مقام پر لغزش کھا جاتا ہے ، تو وہ تقر یباً نا کام ہے ، اس لیے اس وادی سے صحیح سا لم گذر جانے کے لیے پلاٹ کے ان تمام تقاضوں سے واقف ہو نا ضروری ہے جو اس میں در کار ہو تے ہیں ، جن میں سے ادبی لیا قت اور سائیکالو جی پر اتنی معلومات رکھنا ۔جن سے کر دا ر کا روں کی نفسیا ت پر کھنے کی صلا حیت پید ا ہو جا ئے اور ان کے مطا بق مکا لما تی جملے فٹ کر سکیں ۔سر فہر ست ہیں، علا وہ ازیں بار بار مکا لمو ں کا مشاہدہ و مطا لعہ ، متصو ر اشخا ص سے تبا دلۂ خیا لا ت اور جنر ل مطا لعہ با لخصو ص تا ریخ اور جغرا فیہ کا مطا لعہ نہایت ضروری ہے ۔
کر دا ر 
کر دا ر سے مر اد متصو ر اشخا ص وافر اد کا وہ عمل اور رول ہے ، جس کے لیے انھیں متصو ر کیا گیا ہے ۔یہ کر دا ر ڈرا مے میں بھی ہو تا ہے ۔ ڈر ا مے کا کارندہ اور رو لر کلا می تأ ثر اور صد ا کا ری کے سا تھ ساتھ جسما نی ایکٹنگ بھی کر تا ہے اور کر دا ر کے منا سب رو پ بھی دھا ر تا ہے ، لیکن مکا لمے کا کا ر ند ہ کسی حد تک صد ا کا ری تو کر تا ہے ، لیکن جسما نی ایکٹنگ با لکل نہیں کر تا ، کیو ں کہ یہ جس طر ح ڈرا مے کے لیے ایک کما ل اور فنی مہا رت تصو ر کیا جا تا ہے ،اسی طر ح یہ مکا لمے کی رو ح کے منا فی اور معیو ب سمجھا جاتا ہے ، اس لیے کہ ڈرا مے کا بنیا دی مقصد تفر یحِ طبع ہو تا ہے اور اس کا سا را دا رو مدا ر ایکٹنگ او ر مضحکہ خیز رو پ اختیار کر نے پر ہے ، جب کہ مکا لمے کا اصل مقصد اصلا ح ہو تا ہے ۔ اصلاح انسان کا فر ض ہے اور فر ض کسی تصنع سے ادا نہیں ہو تا، اوریہی چیز ایک مکا لمے کو ڈرا مے سے ممتا ز کر تی ہے ۔ لہذا مکالمے کے کر دا ر کا رو ں او ر کا ر ند و ں کے لیے ضرو ری ہے کہ وہ کو ئی رو پ دھا ر نے یا کسی طر ح کی ایکٹنگ کر نے سے بالکلیہ اجتنا ب کر یں ۔ ورنہ مکا لمہ اپنے بنیا دی مقصد کی اثر انگیزی سے عا ری ہو جائے گا اور وہ ایک تھیڑ بن جائے گا ۔
کو ئی روپ دھارنے اور کسی طرح کی ایکٹنگ سے با لکلیہ اجتناب کر نے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ با لکل ا س کی ضد کی شکل اختیار کر لے یا ایک بے جان لاش بن جائے ، بلکہ اس سے مر اد یہ ہے کہ نہ تو اس میں اِ فراط سے کام لیا جائے اور نہ تفریط سے ، بلکہ معتدل اور میانہ رو ی اختیار کیا جائے ۔ جہاں تک سادگی کے ساتھ نقل ممکن ہو ، وہیں تک نقالی کی جائے ۔ اس حد سے تجاوز کر کے بالکلیہ اصلی روپ میں متمثل ہو نے کے لیے بے جا تکلفات کرنا اور سنجیدگی اور وقار کے دائر ے سے نکل کر سراپا ایکٹربن جانا انتہائی نا زیبا اور نا مناسب ہے ۔
تسلسل
مکالمے میں واقعاتی اور مکالما تی تسلسل کا پایا جانا ضروری ہے ، اس کے بغیر مکالمہ کرکرا ، بے لطف اور بد وضع ہو جاتا ہے ، اگر مکالمہ نگار اپنے خیالات کو درجِ ذیل خانوں میں تقسیم کر کے مکالمہ نگاری کرے ،تو بہ آسانی تسلسل قائم کیا جاسکتاہے:
(۱)ابتدا:اس حصے میں وہ چیز یں بیان کی جاتی ہیں جو یا تو آگے کی کہانی سمجھانے کے لیے ضروری تمہید ہو تی ہیں یا پھر مکالمے کے اصل واقعے کا آغاز ہوتی ہیں۔
(۲)ارتقا: اس مر حلے میں وہ باتیں درج کی جاتی ہیں، جو مکالمے کو آگے بڑ ھاتی ہیں اور موضوع کا اصل مدعا ہوتی ہیں۔
(۳)انتہا: ا س خانے میں مذکورہ با لا دونوں حصوں کی روشنی میں کہانی اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اسی پر مکالمہ مکمل ہوجاتاہے ۔
مکالمہ اور اسٹیج
چوں کہ مکالمہ تماشائیوں کے سامنے اسٹیج کی جانے والی صنف ادب ہے، اس لیے مکالمے کے لیے اسٹیج کا تصور جز وِ لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے ، لہذامکالمہ نگار کے لیے مکالمے پیش کیے جانے والے اسٹیج کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے ، مثلاً مکالمہ ریڈیو کے اسٹیج سے پیش کیا جائے ، تو چو ں کہ اس میں مشاہد ہ نہیں ہو تا ،اس لیے اس اسٹیج کے تقاضے کے پیشِ نظر ہر کردارکی ادائیگی کے لیے صوتی تأ ثر اور صداکاری کا سہارا لیا جائے ، یا مثلاً مکالمہ بہ راہِ راست سامعین و ناظرین کے رو بر و کسی اسٹیج سے پیش کیا جائے، تو وہا ں صدا کاری کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا بہت عملی کر دار بھی پیش کیا جائے ۔
اب ڈرامے کی طرح مکالمے کے تماشائی بھی سننے اور اصلاح کا درس لینے سے زیادہ دیکھنے میں دل چسپی کا مظاہرہ کر نے لگے ہیں ، اسی وجہ سے مکالمات سے زیادہ عملی پیش کش اہمیت اختیار کر تی جارہی ہے ، اس صورتِ حال میں مکالمے کو کامیاب بنانے کے لیے دو طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں: (الف )مکالمات سے زیادہ عمل اور کردار کااضافہ کر دیا جائے۔ (ب)مکالمات کو مزاحیہ بنادیاجائے۔
جہا ں تک اول الذکر صورت کی بات ہے ، تو اس سلسلے میں پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ زیادہ کر دار مکالمے کی روح کے منا فی اور اس کے لیے سخت معیوب ہے ، اس لیے ا س سے گریز نا گزیر ہے۔البتہ آخرالذکر صورت سب سے عمدہ اور بہتر صورت ہے ، کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اصلاح وارشاد کے لیے طنز و مز اح جس قدر اثر انگیز ہے ، اتنا کو ئی اور شی نہیں ، اس لیے مزاحیہ انداز سے جہاں عملیت کو تر جیح دینے والے حضرات کے لیے بھی دل چسپی کا باعث بنے گا ، وہیں ان کے دلوں میں اصلاح کی فکر بھی انگڑائیا ں لینے لگے گی ۔راقم الحروف نے بار بار تجر بے سے اسی صورت کو سب سے مفید ،سود مند اور کار گر پایا ہے ۔مکالمے کے مکالمات کو مختلف طریقوں سے مزاحیہ بنایا جاسکتا ہے ، ذیل میں چند طریقے در ج ہیں :
(۱) طنز و مزاح نگاری کے اصولوں کو مدِ نظر رکھا جائے اور ان کی روشنی میں مکالمہ نگاری کی جائے ۔
(۲)مکالمات کی پر وڈی(۱) کر دی جائے ۔
(۳)غیر محسوسات کو محسوسات کے پیکر میں ڈھال دیا جائے ۔
(۴)غیر موجود کو موجود فر ض کر لیا جائے ، او راسے بطور رولر پیش کیا جائے ۔
(۵)غیر ذوی العقول اشیا کو ایکٹر بنا دیا جائے ۔
(۶)غیر اہم کر دار کو اہم کر دار کی شکل دے دی جائے ۔
(۷) موضوع کے مر کزی قصے سے چھوٹے موٹے ضمنی قصے بھی جو ڑ دیے جائیں ، لیکن یہ ملحوظِ خاطر رہے کہ ان جز وی قصوں کی کثر ت نہ ہو نے پائے کہ مر کز ی قصہ ان میں فنا ہو جائے ۔
(۸)یہ کوئی حتمی و قطعی طریقے نہیں ہیں ، بلکہ راقم الحروف کے تجر با تی و استقرائی طریقے ہیں ، جن میں شکست و تعطل اور حذف و اضافہ عین ممکن ہے ، کیو ں کہ مکالمہ ایک نفسیاتی فن ہے اور تمام لو گ نفسیات و طبعیات کے اعتبار سے مختلف واقع ہو ئے ہیں ،اس لیے زمان، مکان اور ماحول کے اعتبار سے الگ الگ نفسیات کے حامل حضرات اور کردار ادا کنندگان کی عمر ، عملی قابلیت ، سامعین کی قوتِ فہم اور ان جیسے ضروری پہلووں پر مدِ نظر رکھتے ہو ئے کسی طریقے سے مزاح پیدا کیا جاسکتاہے ، لیکن یہ خیال رہے کہ حد سے زیادہ مزاح بھی پیدا نہ ہو نے پائے ، ورنہ مکالمہ ، مکالمہ نہیں رہے گا ، بلکہ وہ ایک تھیڑاور پھکڑبن جائے گا ۔
رموز
ہر واقعہ چو ں کہ کسی نہ کسی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا کوئی نہ کوئی پسِ منظر ہو تا ہے ، اس لیے ان کی وضاحت یا ان کی طر ف اشارے کرنے کے لیے کچھ عملی وغیر عملی رموز کے سہارے لیے جاتے ہیں ، جیسے : کوئی خاص وقت بتانے کے لیے گھڑی استعمال کی جائے ، جگہ مثلاً مسجد کی تعیین کے لیے اذان دی جائے ، میٹنگ کی صورت نمایاں کر نے کے لیے کر سیا ں سجائی جائیں ، المختصر مکالمہ ڈائریکٹر مکالمے کی نوعیت ، کر دار اور پلاٹ کے تقاضے کے مطابق کسی بھی چیز کو رموزِ مکالمہ بنا سکتا ہے ۔ ان رموز کی وضاحت ، لکھتے وقت اندرونِ سطو ر بریکٹ لگا کر بھی کی جاسکتی ہے اور مشق و تمر ین کے دوران عملی ہدایات کے ذریعے بھی ۔
مشق
کسی بھی علم وفن میں مہارت و لیا قت پیدا کر نے اور فنی چابک دستی بڑھانے کے لیے مشق و تمرین ضروری ہے ، اس لیے خواہ مکالمہ نگاری کی جائے یا اسٹیج کرنے کی تیاری ، دونوں صورتوں میں جودت و حسن اور فن کاری پیدا کرنے کے لیے مشق ضروری ہے ، لکھنے کی مشق تو بار بار لکھنے سے ہی ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں باربار مشاہدے سے بھی مشق ہو جاتی ہے اور تیاری کے لیے ہدایت کا ر جو بھی صورت تجویز کرے، وہ مشق کے لیے مفید ہو گی ۔
اقسام 
مکالمے کے لیے چوں کہ نہ توکسی مو ضوع کی قید ہو تی ہے اور نہ کسی زمان و مکان کی، ہر موضوع پرمکالمہ لکھا جاسکتا ہے اور ہر زمان ومکان میں اسٹیج کیا جاسکتا ہے ، اس لیے نئے نئے احوال وواقعات اور موضوعات کے اعتبار سے اس کی درجنوں قسمیں ہو سکتی ہیں ، جیسے :تعلیمی مکالمہ،سیاسی مکالمہ ، سماجی مکالمہ ، تہذیبی وثقافتی مکالمہ ، اصلاحی مکالمہ ، مذہبی مکالمہ ، تاریخی مکالمہ ، مزاحیہ مکالمہ ،علمی مکالمہ، سائنسی مکالمہ ، مناظراتی مکالمہ وغیرہ وغیرہ ۔

مسلمانوں کی پستی کا علاج


مسلمانوں کی پستی کا علاج
حامدا و مصلیا امابعد 
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر 
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
اور ؂
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
محترم سامعین کرام!دنیا پیاسی ہے ۔ 
لیکن کس کے خون کی ؟
مسلمانوں کے خون کی۔
ابتدائے آفرینش سے چمنستان نمو کس کے خون سے سیراب ہے؟ 
مسلمانوں کے خون سے۔
اس کائنات رنگ و بو کی رعنائی و زیبائی کس کے لہو کی دین ہے؟ 
مسلمانوں کے خون کی ۔
طرابلس اور بلقان کے میدان لالہ زار ہیں۔
مگر کس کے خون سے ؟
مسلمانوں کے خون سے۔ 
چیچنیا، بوسنیا اور الجزائر کی زمین کس کے خون سے رنگین ہے ؟
مسلمانوں کے خون سے۔
برما، بلغاریہ اور انڈونیشیا میں خوں چکاں داستانیں کس کی مدون ہوئیں؟
مسلمانوں کی ۔
افغانستان ، عراق اور فلسطین کی سطح نمو کی نیرنگیوں میں کس کا لہو شامل ہے ؟
مسلمانوں کا۔ 
بھاگلپور ، پٹنہ اور بکسر کی خونی واقعات کس کی ہیں؟
مسلمانوں کی۔
گجرات، امرتسراورممبئی کے فسادات میں کون شہید ہوئے ؟
مسلمان۔
خطۂ عالم کی تمام جنگوں میں انسانیت پاش توپوں ، ہلاکت بار ایٹموں اور جاں سوز ہتھیاروں نے کس کا خون چوسا؟
مسلمانوں کا۔
دنیا اپنے بوڑھاپے کی دہلیز پر بہت پہلے قدم رکھ چکی ہے ، پھر بھی وہ اتنی حسین و رنگین کیوں نظر آرہی ہے؟
اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے لہو میں شرابور ہے۔
المختصراس خانۂ خراب میں جب بھی اور جہاں بھی جنگیں ہوئیں اور حروب وقتال کے جتنے بھی معرکہ بپا ہوئے ، ان تمام میں صرف مسلمان ہی تہہ تیغ کیے گئے اور آج بھی اس مہذب دور میں کوئی ایسا مقتل نہیں ، جہاں مسلمانوں کی گردنیں نہ کاٹی گئی ہوں، آخر ایسا کیوں؟
اسلام عین سلامتی ہے اور مسلمان اس کی عملی مثال، اور اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو انسانوں کو انسانیت سکھاتااور دنیا کی تمام غلامیوں و ہر قسم کی محکومیوں سے آزادی کا درس دیتا ہے تاکہ وہ کسی کے ظلم و قہر اور استبدادو جبر کا نشانہ نہ بن پائے، پس اسلام آزاد ہے ، آزادی کا درس دیتاہے اور اسی میں امن و سلامتی کا راز مضمر ہے ، پھر جب حقیقت یہ ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس مجسم امن کو ہی مبداء نفرت و عداوت بتایاجارہاہے ؟ اور پھر ایسا کیوں کر ہے کہ زمین کی وسعت کو صرف امن و سلامتی کے پیکر پر تنگ کی جارہی ہے ؟ نیز دستور الٰہی ہے کہ لَاتَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرَیٰ اور وَلِلْاِنْسَانِ مَاسَعَیٰکہ انسان صرف اپنے کیے کا ذمے دار اور صرف اپنی ہی غلطی کا سزایاب ہوگا اور شیاطین متحدہ (اقوام متحدہ ) کی بھی اک دستور یہی ہے کہ کسی جر م کی سزا صرف مجرم ہوگی اور اس کے سوا کسی کو مشق ستم نہیں بنایاجائے گا ، تووہ کون سا جرم ہے جو کسی ایک مسلمان سے صادر ہوا تھا اور تا قیامت آنے والے مسلمان اس کے سزا کے مستحق بنے؟ اور اس سے کیسا گناہ سرزد ہوا تھا ، جس کی تلافی سوائے ہلاکت و بربادی اور خوں ریزی کے کسی اور چیز سے نہیں کی جا سکتی؟
محترم سامعین کرام! دنیا کو جزا و سزا اس بات پردی جاتی ہے کہ وہ جرم کا ارتکاب کرتی ہے لیکن مسلمانوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بے قصور ہیں، ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے گناہوں سے دامن چھڑالیا ، ان کی خطا یہ ہے کہ وہ واجب الوجود کے آستانے کے علاوہ کہیں اور اپنے سروں کو خم نہیں کرتا اور اس کے علاوہ کسی اورسے ڈرنانہیں جانتا، وہ اس لیے سزا کے مستحق ہیں کہ وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور ان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّا اَنْ یُّؤمِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ۔
آپ جبل تاریخ کی بلند چوٹیوں پر چڑھ جائیے اور طراف عالم پر سرسری نگاہ دوڑائیے تو آپ کو ہر طرف مسلمانوں ہی کا خون بہتا نظر آئے گا، ہر سمت مسلمانوں ہی کی لاشیں تڑپتی دکھائی دیں گی، ہر جگہ مسلمانوں ہی کے خون کے فوارے جوش ماررہے ہوں گے ، زمین کاذرہ ذرہ مسلمانوں ہی کے خون سے لالہ زار ہوگا، ہر لمحہ صرف انھیں کی چیخ سنائی دے گی، قتل و ہلاکت کے میدان میں صرف انھیں کے کٹے سر ملیں گے اورداستان مظلومیت انھیں سے شروع ہوگی اور انھیں پر ختم ہوجائے گی۔
دوستو! یہ ہمارا کوئی زبانی دعویٰ نہیں ہے ؛ بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو زمین کے ہر ذرے پر ، لہو کے ہر قطرے پر ، تلوار کی ہردھار پر، مظلومیت کی ہر دیوار پر اور تاریخ کے ہر ورق پر رقم ہے کہ
روسیوں نے چیچنیا میں مسلمانوں ہی کا قتل عام کیا ۔
سربی کوسوی قصابوں نے مسلمانوں ہی کے خون سے اپنی سفاکیت و وحشیت کی پیاس بجھائی
عیسائی بھیڑیوں نے نائجیریا کی زمین کو مسلمانوں ہی کے لہو سے لہو لہان کیا
انھیں درندوں نے بوسینیا کو مسلمانوں کا مقتل بنادیا
سربرانیکا میں مسلم دوشیزاوں کی چھاتیوں کو کاٹ ڈالا گیا
الجزائر میں مسلمان پہلے قیدی بناگئے ،پھر ان بے گناہوں پر تیزاب کی بارش کردی گئی
برما میں کتوں کی مہمان نوازی کے لیے مسلمانوں کے جسموں کا قیمہ بنایاگیا
بلغاریہ میں مسلم عورتیں عصمت دری کی شکاری ہوئیں
انڈونیشیا میں مسلمانوں کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کا ہار بنایاگیا
چین میں مسلمانوں کو آروں سے چیر دیاگیا
سری لنکا میں معصوم بچوں، ضعیف و کمزور بوڑھوں اور نازک عورتوں کو زندہ دفن کردیا گیا
فلپائن میں حاملہ عورتوں کے پیٹوں کو چیر کر خنزیر کے بچے رکھ دیے گئے
البانیہ میں مسلمانوں کو بیدردی سے شہید کرکے لاشوں کو آگ لگادی گئی
صومالیہ میں باپ کو اپنے بیٹے اور بیٹے کو اپنے باپ کے عضو تناسل کاٹنے پر مجبور کیاگیا
یوگنڈا میں مسلمانوں کے سر ہتھوڑوں سے پھوڑے گئے 
کمبوڈیا میں کلہاڑی سے مسلمانوں کے تنوں کو پاش پاش کردیاگیا
کموچیا میں مسلمانوں کی آنتوں کو نکال کر دوڑنے پر مجبور کیا گیا
اوگاوین میں مسلمانوں کو ایک منزل میں جمع کرکے توپ سے بھون ڈالا گیا
افغانستان میں مسلم عورتوں کو عریاں کرکے ہیلی کاپٹر سے نیچے پھینک دیاگیا
ہندستان کے صوبہ امرتسر اور گجرات میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہادی گئیں
عراق میں ایندھن کی جگہ مسلمان جلائے گئے 
اور فلسطین میں یہودیوں کی ظلم وبربریت کی کہانی اخبار اور میڈیا کی زبانی آج بھی پوری دنیا دیکھ رہی ہے اورسن رہی ہے ۔
سامعین ! یہ جوکچھ بھی عرض کیا گیا، یہ مشتے نمونے ازخروے تھا، ورنہ مسلمانوں پر کیے گئے ظلم وستم کی داستان ، بے ستون اور لامحدود ہے ۔ان تاریخی حوالوں کو سناکر آپ کے زخموں پر نمک پاشی کرنا مقصود نہیں ہے ؛ بلکہ صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اب تک جو کچھ ہونا تھا، وہ ہوچکا اور ابھی اور جتنی تباہی و بربادی اور مقدر ہے ، یہ مسلم قوم اپنی غفلت و نحوست سے ختم نہیں کرسکتی ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ
یہ مظلوم ومقہور قوم کب تک ظلم و ستم کی چکی میں پستی رہے گی؟
مسلمان کب تک عیش حیا ت اور نشاط زندگی کو ختم کرنے والے توپوں اور بندوقوں سے لقمۂ اجل بنتے رہیں گے؟
کب تک خوں آشام تلواریں اور آبدار شمشیریں ان کا خون چوستی رہے گی؟
کب تک پیاسی زمین مسلمانوں کے خون سے سیراب ہوگی؟
کب تلک اللہ کی بسائی حسین و جمیل بستی آگ اور دھوئیں کی نذر ہوتی رہے گی؟
کیا امت مسلمہ پر یہ ظلم و ستم کا سلسلہ دائمی ہوگا؟ 
کیا اب عدل و عدالت کی بہار نہیں آئے گی؟
اور مسلمانوں کا وہ خدا جس کی شان لَایُظْلِمُوْنَ فَتِیْلاً ہے ، آخر کب تک اپنے محبوب بندے کو خون میں لتھڑادیکھتا رہے گا؟ اور کب وہ وقت آئے گا کہ اس کا زبردست ہاتھ اٹھے گا تاکہ ظالموں کے پنجووں کو مروڑ دے؟
معزز سامیعن !دنیا حیران ہے ، مسلمان پریشان ہیں اور غیر مسلم خنداں ہیں کہ آخر ان کا خدا انھیں کیوں بھول گیا؟ یا مسلمانوں کا کوئی خدا ہی نہیں ؟ اگر مسلمانوں کا کوئی خدا ہے توپھر ان کی حالت پر رحم کیوں نہیں کھاتا؟ اور ان کی مدد کیوں نہیں کرتا ؟ اور مسلمان بھی پشیمان ہیں اور دربار ایزدی میں فریاد کناں ہیں کہ ائے قوم ثمود و عاد کو ہلاک کرنے والے خدا، قوم لوط اور فرعونیوں کو غرق آب کرنے والے پروردگار ! آج ان کفاروں کو ، ظلم و ستم کے پرستاروں کو اور پتھروں کے پجاریوں کو نیست و نابود کیوں نہیں کرتااور میری فریاد کیوں نہیں سنتا؟
سامعین !ہاں اللہ تعالیٰ تمھاری فریاد کو نہیں سنے گا، وہ تمھاری مدد کو نہیں پہنچے گا، وہ کیوں کر تمھاری نصرت کو ہاتھ بڑھائے گا؟ جب کہ تم نے اس سے اپنا رشتہ توڑ لیا اور تم اسے یکسر بھول گئے ، لیکن اگر تم یہ چاہتے ہوکہ وہ تمھاری مدد کرے اور تمھاری حالت پر رحم کھائے ، تو تم اس کی طرف بڑھواور اس کی پائیگاہ ربانیت پر اپنی پیشانی رگڑواور گڑگڑا کر اس سے معافی مانگواور خوب توبہ کرواور اس وقت تک توبہ کرتے رہو،جب تک تمھیں اپنی معافی کا پروانہ نہ مل جائے ، تم نے ایک اللہ کے آستانے سے منھ موڑ کر اور غیروں سے اپنا رشتہ جوڑ کر دیکھ لیا کہ اس ایک سے سرکشی کرنے سے کس طرح ساری دنیا تم سے سرکش اور تمھارا دشمن بن گئی ، اس لیے آؤ اب صرف ایک سے جڑ جائیں ، تم نے معصیت سے دامن بھر لیے اور صدیوں اس کی کڑواہٹ چکھ لی ، آؤ اب اطاعتوں اور نیکیوں کا بھی مزہ چکھیں تاکہ پہلے کی طرح پھر ہمیں وہ تمام چیزیں لوٹا دے ، جو کبھی اس نے اپنے نیک اورمطیع بندوں کے لیے وقف کی تھی ، آئیے عہد کریں کہ اب ہم صرف اسی کی عبادت کریں گے اور صرف اسی کا کہا مانیں گے ۔ ؂
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

مساوات



الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذی اصطفیٰ اما بعد، 
معزز سامعین، لائق صد احترام حاضرین حضرات اساتذۂ کرام وعزت مآب مہمان عظام ! اسلامی دائرۂ نظام سے ہٹ کر مساوات و برابری کے نام پر مختلف فرقوں، جماعتوں اور انجمنوں نے تحریکیں چلائیں، نعرے لگائے اور تجاویز پاس کیں؛ مگر ان میں خیر خواہی کا عنصر کم اور افساد و اضرار کا پہلو زیادہ غالب رہا؛ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مساوات کے نام پر چلائی جانے والی تحریکوں کا نسل انسانی پر الٹا اثر پڑا، کیوں کہ جب چینی کمیونزم نے مساوات کی تحریک چلائی ، تو پوری انسانیت کو الحاد و لادینیت اور خدا فراموشی و خدا ناشناسی کے قعر مذلت میں لاکھڑا کیا ، جب روسی کمیونزم نے مساوات کی تحریک چلائی تو کسانوں ، مزدوروں اور جفا کش انسانوں کو ظلم و ستم کی تپتی ہوئی بھٹی میں جھونک دیا، جب یوروپ نے مساوات کی تحریک چلائی تو باپ بھائی ، ماں بہن اور بیوی بیٹی کی عظمت و تقدس کو کند چھری سے ذبح کردیا، انسانیت کے سر سے شرم و حیا کی قبا چھین لی ، اسے آدمیت کے دائرے سے نکال کر حیوانیت و بہیمیت کے صف میں لا کھڑا کردیا، بے حیائی و بد کاری کو عام کیا، عریانیت و بے پردگی کو ہوا دیا، نفس پرستی اور ہوا پرستی کو بڑھاوادیا، زناکاری اور بد چلنی کو فروغ دیا، انسانی پاک بازی اور پاک دامنی کا جنازہ نکال دیا ، عالم ناسوت کے اس وسیع و عریض دہلیز پر شیطانیت وسرکشی کا جو کچھ بھی ڈراماہوا ، وہ صرف اس لیے ہوا کہ ان قوموں اور ان جماعتوں نے اسلامی نظریۂ مساوات سے ٹکر لی اور اسلامی تعلیمات کو ٹھکرادیا۔میں مغربی تہذیب کے پرستاروں اور مساوات و برابری کے علم برداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مساوت اسی کا نام ہے کہ پوری نسل انسانی ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہوکر بے حیائی و بد کاری کا ننگا ناچ ناچے؟کیا مساوات اسی کا نام ہے کہ انسانی برادری خالق کائنات کے خلاف بغاوت و سرکشی کا جھنڈا لہرائے؟کیا مساوات اسی کا نام ہے کہ پورا معاشرہ جنسی بے راہ روی اور ہوس پرستی کا شکار ہوجائے ؟نہیں نہیں ، ہرگز نہیں مساوات اس کا نام نہیں
بلکہ
مساوات نام ہے اونچ نیچ کی تفریق کو مٹا دینے کا
مساوات نام ہے رنگ و نسل کی تقسیم ختم کردینے کا 
مساوات نام ہے چھوت چھات کے اثرات کو نیست ونابود کردینے کا
مساوات نام ہے ذات پات کی دیوار گرادینے کا
مساوات نام ہے مال داری و غریبی کے امتیاز کو بھلا دینے کا
مساوات نام ہے آقائیت وغلامیت کی حد فاصل کو ڈھادینے کا ۔
دوستو! اسلام نے مساوات و برابری کے تمام پہلووں کو زندگی کے تمام شعبوں میں جس اکمل و احسن طریقے سے نافذ کیا ہے، دنیا کی تمام کونسلیں، تمام انجمنیں، تمام کمیٹیاں اور تمام پارٹیاں اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز و بے بس ہیں۔
یہ اسلام ہی ہے ، جس نے اونچ نیچ کی تفریق مٹاتے ہوئے ’’کُلُّ بَنِیْ آدَمَ اِخْوَۃٌ‘‘ کا درس دیا۔
یہ اسلام ہی توہے ،جس نے رنگ ونسل کی تقسیم کو ختم کرتے ہوئے ’’ لَافَضْلَ لِعَرْبِیٍّ عَلَیٰ عَجَمِیٍّ‘‘ کا سبق سکھلایا۔
یہ اسلام ہی تو ہے ، جس نے چھوت چھات کے اثرات کو ختم کرکے’’ سُوؤرُ الْاَدْمِیٍّ طَاھِرٌ‘‘ کا فرمان جاری کیا۔
یہ اسلام ہی تو ہے ، جس نے ذات پات کی دیوار گراتے ہوئے ’’اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقَاکُمْ‘‘ کا پیغام سنایا۔
یہ اسلام ہی تو ہے ، جس نے نسوانیت کو حق مساوات دیتے ہوئے ’’اَلنِّسَاءُ شَقَاءِقُ الرِّجَالِ‘‘ کا مژدہ سنایا۔
غرض یہ کہ اسلام نے نوع انسانی کے ہر صنف کو جو حق مساوات عطا کیا ہے ، دیگر قوموں اور مذہبوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی، اس لیے بجا طور پر مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ؂
لگایا تھا مالی نے ایک باغ ایسا
نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پودا
اور یہ باغ باغ اسلام ہے ، لہذا اگر دنیا مساوات و برابری قائم کرنا چاہتی ہے ، تو اسے یہ قیمتی فارمولہ مذہب اسلام ہی کے دامن میں مل سکتی ہے اور کہیں نہیں۔
وما علینا الا البلاغ

قرآن و حدیث کی بالادستی


قرآن و حدیث کی بالادستی
الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذی اصطفیٰ اما بعد، فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ، بسم اللہ الرحمان الرحیم،ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ، صَدَقَ اللَّہُ الْعَظِیْمُ۔
معزز سامعین ، لائق صد احترام حاضرین!آج انسانی دنیا عجیب کشمکش سے دوچار اور حیران کن مخمصے کا شکار نظر آرہی ہے، جس سمت نگاہ کیجیے، بے چینی،بے اطمینانی، بد عنوانی و بد امنی، قتل و غارت، چیخ و پکار اور آہ و بکاکا دور دورہ ہے، ہر طرف ظلم و ستم ، فتنہ و فساد ، خوف و دھشت اور حق تلفی و ناانصافی کا بازار گرم ہے، امن و سکون اور صلح و صفائی کا ایسا فقدان ہے کہ ہر شخص خوف و ہراس میں ڈوبا ہوا، جوروجفاکا مارا ہوا، بے کسی و بے بسی کی تصویر دکھائی دیتا ہے، یہاں زندگی زندگی سے پناہ مانگتی اور فریاد کرتی دکھائی دیتی ہے ، آدمی آدمیت کا قاتل اور انسان انسانیت کا دشمن نظر آتا ہے ، غرض کہ آج دنیا عالمی بدامنی و بد عنوانی اور بین الاقوامی کرپشن و بگاڑ سے ’’ظھر الفساد فی البر والبحر‘‘ کی صداقت پر عملی ثبوت پیش کر رہی ہے۔
حضرات گرامی!امن وامان کے اس عالمی بحران کو ختم کرنے کے لیے دنیا بھر میں قومی و ملکی ، علاقائی و جغرافیائی اور عالمی و بین الاقوامی ہر طریقے پر کوششیں کی گئیں ، ریزولیشن پاس کیے گئے ، دستاویزات مرتب کیے گئے، عہد نامے جاری کیے گئے، مذاکرات کیے گئے، طاقت آزمائے گئے، بم برسائے گئے، میزائل داغے گئے، آبادیاں ویران کی گئیں اور ملک در ملک تباہ کردیے گئے، مگر کرپشن وبگاڑ کا خاتمہ ایک خیال خام اور امن و امان کا قیام ایک خواب پریشاں ہی رہا، کاش ! مشرقی دانش ور، مغربی مفکرین، جارح حکومتیں اور اقوام متحدہ کے عہدہ نشیں امن و امان کے اس کم یاب لیلیٰ کو قرآنی محمل اور نبوی خیمے میں تلاش کرتے ، چشم تصور سے آج سے چودہ سو سال پہلے کے مکہ و مدینہ کی تاریخ پڑھتے، آقائے مدینہ اور تاج دار حرم ﷺ کے قائم کردہ اصول و ضوابط کا مطالعہ کرتے، اسلام کے دور اول کے بے مثال امن وامان کے زریں باب کی ورق گردانی کرتے اور قیام امن سے متعلق قرآنی احکامات اور نبوی تعلیمات کو تسلیم و رضا کے ہاتھوں سے قبول کرتے ؛ تو آج یہ دنیا امن و امان کا گہورہ اور صلح و آشتی کا سائبان بن جاتی۔
حضرات گرامی!قرآن و حدیث نے قیام امن سے متعلق جو فارمولے پیش کیے ہیں ، ان تمام کو معرض التوا میں رکھ کر اگر صرف ایک فارمولہ ’’احترام انسانیت‘‘ کو زیر عمل لایاجائے ، تو دنیا سے نقض امن اور وجود فتنہ کا یکسر خاتمہ ہوجائے ؛ کیوں کہ اگر دلوں میں احترام انسانیت کا جذبہ پیدا ہوجائے ، تو خود بخود انسانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہوجائے ، نہ کوئی کسی کی جان کے درپے ہواور نہ کوئی کسی کے مال کے پیچھے پڑے ، نہ کوئی کسی کی عزت و آبرو پر حملہ آور ہواور نہ کوئی کسی کی آبرو سے کھیلے، بس ہر طرف سکون ، ہر طرف چین، ہر سمت امن اور ہر جہت اطمینان ہی اطمینان ہو۔
قرآن کریم اور حدیث نبوی نے دلوں میں احترام انسانیت بیٹھانے اور امن وامان کی فضا قائم کرنے کے لیے کہیں یوں ہدایت جاری فرمائی کہ
لَاتَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ 
اور کہیں پر یہ فرمان سنایا کہ
اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللَّہَ وَ رَسُوْلَہُ وَ یَسَعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَاداً اَنْ یُّقْتَلُوْا اَوْ یُصَلَّبُوْااَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیَھُمْ وَ اَرْجُلَھُمْ 
اور کہیں پر یہ وعید سنائی کہ
اِنَّ اللَّہَ لَایُحِبُّ الظَّالِمِیْنَ 
اور کہیں پر یہ اعلان فرمایا کہ
اَلنَّاسُ مِنْ آدَمَ وَ آدَمُ مِنْ تُرابٍ ، لَافَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلَیٰ عَجَمِیٍّ،وَلاَ لِعَجَمِیٍّ عَلَیٰ عَرَبِیٍّ، وَلَا لِأسْوَدَعَلَیٰ أحْمَرَ، وَلَا لِأحْمَرَ عَلَیٰ أسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوَیٰ۔
حضرات ! یہ وہ قرآنی احکامات و نبوی ہدایات ہیں کہ اگر ان کی بالا دستی و حاکمیت کو تسلیم کرلی جائے ؛ تو دنیا بھر میں قیام امن و استحکام امن کا بول بالا ہوجائے ۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں


کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
الحمد لاھلہ والصلاۃ لاھلہا،اما بعد۔
مجھ سے ہی آنکھ مچولی ہے برق و باراں کی 
رہا ہوں میں تو حوادث میں ناخدا کی طرح
وہیں سے پھوٹے ہیں آب حیات کے چشمے
جہاں لہو میں نہائے ہیں کربلا کی طرح
بزرگان ملت اور عزیز دوستو!فتنے ہر دور میں ابھرے ہیں، تاریکیوں نے ہمیشہ اجالوں کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے ، بربریت کے منحوس پنجوں نے ہمیشہ انسانیت کا پیرہن نوچنے کی سعی کی ہے اور حوادث کے تھپیڑے سفینۂ انسانیت کو ستم کاریوں کا تختۂ مشق بناتے رہے ہیں؛ مگر آج جو فتنے ابھر رہے ہیں ،جو تاریکیاں فضا پر مسلط ہورہی ہیں، جیسی سرکش آندھیاں انسانیت کا خیمہ اکھاڑ رہی ہیں،اتنی بجلیاں خرمن عدل و مساوات کو خاکستر کرنے پر تلی ہوئی ہیں ، جیسے باد سموم کے جھونکے باغ آدم کو جھلسانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور جس کے نتیجے میں خدا کی زمین معصوموں کے خون سے لہو لہان ہے اور انسانیت کا مقتل بن گئی ہے، یہاں عصمتوں کی دھجیاں ہیں ، شرافت کا دریدہ پیرہن ہے، مظلوموں کی سسکیاں اور بیواؤں کی آہ و بکا ہے، یتیموں کی چیخیں اور بوڑھوں کے خاموش نالے ہیں، ایسا تاریک دور آنکھوں نے بہت کم دیکھاہے اور چشم فلک نے ایسے روح فرسا حالات کا مشاہدہ بہت کم کیاہے۔ 
آج پوری انسانیت ان فتنوں کی زد میں ہے ؛ مگر سب سے زیادہ حوادث کے شکار اسلام اور اس کے نام لیوا ہیں، آج اسلام اور مسلمان داخلی و خارجی فتنوں کی چکی میں پس رہے ہیں، ایک طرف اہل بدعت کی ناپاک سازشیں ہیں ، تو دوسری طرف نہاد اہل حدیث کی ریشہ دوانیاں ہیں، ایک طرف شیعیت کی فتنہ سرائیاں ہیں ، تو دوسری طرف قادیانیت کی شر انگیزیاں، ایک طرف مرعوبان مغرب سانپ بن کر ڈستے ہیں ، تو دوسری طرف استعماریت کے زَلّہ ربا اس کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، ایک طرف انھیں رجعت پسند اور دقیانوس کہاجارہا ہے ، تو دوسری طرف اس پر دھشت گردی کا لیبل لگایا جارہاہے، ایک طرف اگر تعلیم کے میدان میں پیچھے دھکیلا جارہا ہے ، تو دوسری طرف ا س کی اقتصادیات کو کمزور کیا جارہا ہے، ایک طرف اسے بے حیائی اور اباحت کا سبق پڑھایا جارہاہے تو دوسری طرف اس کو ایمان فروشی کا درس دیاجارہاہے، ایک طرف ان کی مساجد شہید کی جارہی ہیں، تو دوسری طرف ان کے مدارس کو دھشت گردی کا اڈہ قرار دیا جارہاہے۔
الغرض آج مسلمانوں کے دین و مذہب پر، ان کی تہذیب و ثقافت پر، ان کے شعار پر، ان کے امتیازات و خصوصیات پر ، ان کے علوم وفنون پر ، ان کی انفرادی شان پر، ان کے مال و جان پرہر طرف سے فتنوں کی یلغار ہے، مسلمان جس نے دنیا کو عدل ومساوات کا درس دیا، آج مظلوم و مقہور ہے ، وہ مسلمان، جنھوں نے دنیا کو آئین جہاں بانی و جہاں گیری سکھلایا، وہی آج محکوم و مجبور ہے، وہ مسلمان ، جنھوں نے جہالت کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں علم کی شمع روشن کی ، آج تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہے، جس نے قدم قدم پر الفت و محبت کے چراغ جلائے ، آج نفرتوں میں گھرا ہوا ہے ، وہ مسلمان ، جس کی بدولت دنیا سے ظلم و عدوان اور کفرو شرک کی ظلمتیں چھٹ گئیں ، آج تاریکیاں اس کا مقدر بن گئی ہیں۔
اے درد مند انسانو!ذرا سوچو تو سہی، آج مسلمان لوح جہاں پر حرف مکرر کیوں بن گیا ہے؟ کس جرم کی پاداش میں اسے حرف غلط کی طرح مٹایا جارہا ہے ؟ عصمتیں فریاد کررہی ہیں، بیوگی ماتم کررہی ہے، یتیموں کی دل دوز چیخوں سے فضا لرز رہی ہے ؛ مگر آسمان پھٹ کیوں نہیں جاتا؟ زمین کا سینہ چاک کیوں نہیں ہوجاتا، دعائیں رائیگاں کیوں جاتی ہیں؟ یہ بے بسی کیوں دیکھنی پڑ رہی ہے؟ آخر یہ مظلومی ومقہوری کیوں؟ یہ محکومی و مجبوری کس لیے؟
میرے دوستو! معاف کرنا، میں نے غلط کہا کہ مسلمان مظلوم و مقہور ہے؛ مسلمان مظلوم نہیں؛ بلکہ ظالم ہے، مقہور نہیں جابر ہے، محکوم نہیں ؛ ستم گر ہے، مجبور نہیں ؛ مجرم ہے، ستم رسیدہ و الم گزیدہ نہیں ؛ بلکہ پیکر عصیاں اور خوگر طغیاں ہے۔
شیدائیان اسلام! ہماری عزت ،ہمارے رنگ و روپ کی رہینِ منت نہیں ، ہماری سربلندی کا راز قوم ونسل میں نہیں، ایمان و یقین میں ہے، ہماری قوت و اعتصام کسی سیاسی پارٹی کی چاپلوسی میں نہیں ؛ بلکہ اعتصام بحبل اللہ میں پنہاں ہے اور ہماری سر فرازی کی شرط اولیں ان کنتم مؤمنین ہے۔آج اگر ہم پر فتنوں کی یلغار ہے، حوادث کی دست درازیاں ہیں ، ہم دبائے جارہے ہیں، ہم ستائے جارہے ہیں، ہم ملامتوں کے شکار ہیں، دشنام طرازیوں میں گرفتار ہیں ، تو قصور ہماراہے ، مجرم ہم ہیں، غلطی ہم سے ہوئی ہے ؛ کیوں کہ جادۂ حق سے منحرف ہوکر، کتاب و سنت کو چھوڑ کر ، احکام الٰہی سے منھ موڑ کر، شرائط کی تعبیر، نتائج کی تمنا، فرائض کے بغیرحقوق کی خواہش دیوانے کا خواب ہے، سوچ کا فریب ہے اور عقل کا سراب ہے۔
میرے دوستو! ابھرتے فتنوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ، عظمت رفتہ کے حصول کے لیے ہمیں اپنے ماضی کی طرف پلٹنا ہوگا، اللہ و رسول کے فرمان پر عمل پیر اہونا ہوگا، ان کنتم مؤمنین کو پیش نظر رکھنا ہوگا، ماضی کی روشنی سے مستقبل کو روشن کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی، فتنوں کو حلم و تدبر اور متانت و سنجیدگی سے دبانا ہوگا۔
لیکن اگر وہ ہمارے اس امن کا مذاق اڑائے، صلح کے پھول کو پاؤں تلے روندے، انسانیت کا گلاگھونٹے، تو پھر تلواروں کی چھاؤں میں بات کرنا ہوگی، نیزوں کی زبان میں گفتگو کی جائے گی، ہنگامۂ داروگیر بپا کرنا ہوگا، بغاوت پر آزادی کا ترانہ گانا ہوگااور بزور شمشیر فتنوں کو شکست دینا ہوگی، کیوں کہ ؂
وہیں سے پھوٹتے ہیں آب حیات کے چشمے
جہاں سے نہائے ہیں کربلا کی طرح
وما علینا الا البلاغ

مدارس کے خلاف زہر افشانی


مدارس کے خلاف زہر افشانی
حامدا و مصلیا اما بعد
یہ مدرسہ ہے تیرا میکدہ نہیں ساقی
یہاں کی خاک سے انساں بنائے جاتے ہیں
اور ؂
اے ہم نشیں چمن کے مرے! داستاں نہ پوچھ 
لوٹا ہے کس نے آہ! مرا آشیاں نہ پوچھ
معزز سامعین اور لائق صد احترام حاضرین! یہ وقت کا عجیب و غریب حادثہ ہے کہ کل غلام ہندستان کو جن مدارس اسلامیہ نے آزادی کا تاج پہنایا تھا، آج آزاد ہندستان میں انھیں مدارس اسلامیہ کو غداری کا طعنہ دیا جارہاہے،ان کے کردار کو مجروح کیا جارہاہے، ان کے تقدس پر حملہ کیا جارہا ہے، ان کی قربانیوں کو فراموش کیاجارہاہے اور انھیں کسی ایک فرد ، ایک جماعت کی طرف نہیں؛بلکہ مختلف جماعتوں اور مختلف تنظیموں کی طرف سے دھشت گردی کے اڈے اور بنیاد پرستی کے مراکز قرار دیے جانے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں، یہ وقت کی بد ترین گالی اور غلیظ ترین طعنہ ہے جو مختلف اوقات میں مختلف شرپسند عناصر کی طرف سے دہرائی جاتی ہے۔ یہ گالی صرف آر ایس ایس ،بجرنگ دل، شیو سینا اور وشو ہندو پریشد جیسی اسلام دشمن دھشت گرد تنظیموں کی طرف سے دی جاتی ، تو بہت زیادہ فکرو تعجب کی بات نہ تھی، ہم اسے ان تنظیموں کا دماغی خلل اور عداوت پسندانہ جنون کہہ کر ٹال دیتے ؛ مگر ہماری حمیت و غیرت ،ہمارا صبرو تحمل اور ہماری قوت برداشت اس وقت بالکل جواب دے جاتی ہے ، جب ہندستانی حکومت اور اس کے اہل کاروں کی طرف سے بھی انھیں گالیوں کا تحفہ دیا جاتاہے۔ ؂
فسانۂ دلِ مضطر تمھیں سنائیں کیا
جفائے گردشِ اختر تمھیں سنائیں کیا
وطن میں رہ کے بھی ثاقب ہے اجنبی جیسا
سلوکِ خویش و برادر تمھیں سنائیں کیا
حضراتِ گرامی! مدارسِ اسلامیہ کی پاکیزہ شبیہ کو بگاڑنے اور انھیں بدنام کرنے کی مذموم کوشش تو برسوں پہلے ہی سے کی جارہی تھی ۔ کبھی کوئی متعصب اور تنگ نظر لیڈرمدارس کے خلاف زہر افشانی کرکے اپنی دلی تسکین کا سامان فراہم کرتا تھا ، تو کبھی کوئی موقعہ پرست و خود غرض اخبار تمام مدارس کو دھشت گردی کا اڈے بتاکر ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتا تھا ، یہ جوکچھ بھی ہورہاتھا، وہ حکومت اور ارباب حکومت کی مرضی سے ہورہاتھا؛ مگر اب حکومت کھل کر میدان میں آگئی ہے ، اس نے چار رکنی وزارتی گروپ کی رپورٹ میں کھلے لفظوں میں مدارس اسلامیہ کو ملکی سالمیت اور یہاں کے امن عامہ کے لیے خطرہ بتایاہے، دھشت گردی اور شدت پسندی کی طرف ان کی نسبت کرکے مدارس اسلامیہ کو ککرمتوں سے تشبیہہ دی ہے اور اس شرانگیزی میں ملکی اور غیر ملکی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور دیگر تمام ذرائع ابلاغ کو اپنے ساتھ لے کر پوری دنیا میں مدارس اسلامیہ کو داغ دار اور بدنام کرنے کی عالمی مہم چھیڑ دی ہے، حد تو یہ ہے کہ کبھی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کرنے کا فرمان سنایاجاتا ہے ، تو ان کی بیرونی اعانت و امداد پر روک لگانے کی بات کہی جاتی ہے ، کبھی خواہی نہ خواہی انھیں رجسٹریشن کرانے کا حکم جاری کیاجاتاہے ،تو کبھی ان پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
محترم حضرات! مدارس اسلامیہ پر لفظ دھشت گردی کے ذریعے حکومت کا یہ ظالمانہ حملہ بالواسطہ اسلام اور مذہب اسلام پر حملہ ہے اور مدارس اسلامیہ کے خلاف حکومت ہند کی یہ زہر افشانی یہاں کے حکمرانوں کی نیتوں اور عزائم کا پتہ دیتی ہے کہ یہاں کی حکومت مدارس اسلامیہ کو مضبوط طریقے سے اپنے شکنجے میں لینا چاہتی ہے اور اس کے لیے ہر ممکن طریقے اپنا رہی ہے ، ایسے سنگین حالات اور نازک ماحول میں ہمیں مدارس اسلامیہ کو حکومت کے شکنجے سے محفوظ رکھنے کے لیے اور مدارس کے دشمن بھیڑیوں کے ناپاک ارادوں سے بچائے رکھنے کے لیے انتہائی سوجھ بوجھ اور بے حد سنجیدگی کے ساتھ مناسب اقدام کرنا ہوگا ، جلد بازی یا اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے متانت و دور رسی کا ثبوت دینا ہوگا اور تمام مسلمانوں کو مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک متحدہ پلیٹ فارم پر آنا ہوگا ، تبھی ہماری آواز مؤثر ہوگی اور ہم دشمن کو شکست دے سکیں گے ، ورنہ یاد رکھو !ان مدارس پر تالے لگ جائیں گے اور ہندستان دوسرا اسپین بن جائے گا۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

ہمارا موجودہ ہندستان اور مسلمان

محمد یاسین جہازی
ہمارا موجودہ ہندستان اور مسلمان
الحمد لاھلہ والصلاۃ لاھلہا اما بعد
غبار گردش لیل و نہار ہوں میں
میرا وجود بہر حال رائیگاں تو نہیں
یہ غم نہیں کہ جلا آشیاں اٹھے شعلے
یہ فکر ہے کہ چمن میں کہیں دھواں تو نہیں
معزز سامعین لائق صد احترام حاضرین!ہم ہندستانی ہیں، ہندستان ہمارا ملک ہے، ہم مسلمان ہیں، ہندستان ہمارا ملک ہے ، ہم نے ہمایوں کے روپ میں اس کی سرحدوں کی حفاظت کی تھی، بابر کے بھینس میں اس کے ذروں سے محبت کی تھی، اکبر کی شکل میں اس کے چاروں کونوں کو وسعت دی تھی ، جہاں گیر بن کر اس کی زلفوں کو سنوارا تھا ، شاہ جہاں بن کر اس کے حسن کو نکھارا تھا، عالم گیر بن کر اخلاص کی دولت دی تھی، ٹیپو بن کر اس کے چرنوں پر اپنی جان نچھاور کی تھی اور جان جاں آفریں کے سپرد کرکے اس کو آزادی کے پھولوں کا ہار پہنایا تھا۔
قطب مینار ، تاج محل ، لال قلعہ ہماری عظمت کے نشان ہیں، تو زبان تاریخ ہماری شوکت پر غزل خواں ہیں، جب ملک غلام ہوا تو ہم تڑپ اٹھے، ہم لرز گئے، ہم رو دیے، ہم بلک اٹھے، آزادی کا پرچم ہاتھ میں لیااور ناموسِ وطن پر مر مٹے، ہم آزادی کی خاطر کٹ گئے، ہم آزادی کی خاطر مٹ گئے، ہم آزادی کی خاطر لٹ گئے، ہماری سات سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہم نے برادران وطن سے کس طرح محبت کی ہے، ہم نے حق داروں کا کیسا حق دیا ہے، ہم نے غداروں کو کیسی معافی دی ہے، ہم نے اخوت کا کیسا درس دیا ہے اور محبت کا کیسا پیغام سنایا ہے۔
مگر افسوس کہ آج ہم ہندستانی مسلمان برادران وطن کی نگاہوں میں خار کی طرح کھٹک رہے ہیں، ہمارے ہنر انھیں عیب اور ہماری خوبیاں انھیں برائی نظر آ رہی ہیں، ہمارے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جارہی ہیں، ہمیں شک کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے، ہمیں غیر ملکی ایجنٹ قرار دیاجارہا ہے، ہمارے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا جارہاہے، ہماری عزت و آبرو کو پامال کیا جارہاہے، ہماری عبادت گاہوں کو مسمار کیاجارہاہے، ہمارے دین و مذہب پر حملہ کیا جارہاہے، ہماری آزادی و خود مختاری کو برباد کیاجا رہاہے، برادران وطن ہماری وفا شعاریوں اور قربانیوں کو بھول رہے ہیں، اپنی جمعیت و کثرت پر اترارہے ہیں اور ہمارے خلاف ظلم و ستم ، جوروجفا اور حیوانیت و بہیمیت کا سلوک کررہے ہیں، کاش ! ہندستان کے بدلتے ہوئے حالات میں یہاں کے جفا پرور و ظلم پیشہ لوگوں کے کانوں میں کوئی دھیرے سے یہ کہہ دیتا کہ ؂
ہم ہیں غدار تو وفادار تم بھی نہیں
اپنی کثرت پہ نہ اتراؤ خدا تم بھی نہیں
حضرات!آج ہندستان کے حالات بدل گئے ہیں، یہاں کے دن رات بدل گئے ہیں، کل یہ دھرتی ہندستانی مسلمانوں کے لیے ایک جنت ارضی تھی ،آج یہ دھرتی مسلمانوں کے لیے ظلم کی چکی بن چکی ہے، آزادی کے بعد سے لے کر اب تک ظلم و ستم کا وہ کون سا پہاڑہے جو ہم پر نہ توڑا گیا ، جوروجفا کا وہ کون سا ڈراما ہے جو نہ رچایا گیا، بہیمیت وسفاکیت کا وہ کون ساحربہ ہے جو نہ آزمایاگیا،ملک کے قومی ایجنڈے کے بارے میں ہمارے ساتھ غداری کی گئی، ملک کے قانونی ایجنڈے کے سلسلے میں ہمارے ساتھ بے وفائی کی گئی، ملک میں مذہبی معاملے کے تئیں ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کی گئی، اب حال یہ ہے کہ یہاں نہ ہم محفوظ ہیں، نہ ہماری جان محفوظ ہے ، نہ ہماری عزت محفوظ ہے نہ ہماری آبرو محفوظ ہے اور نہ ہی ہماراایمان و اسلام محفوظ ہے ؂
درد میں درد ہو تو احساس کسے ہوتاہے 
اک جگہ ہو تو بتاؤں کہ یہاں ہوتاہے
ہندستان کے اس بدلتے ہوئے حالات میں یہاں کے مقہور و مظلوم مسلمان زبان حال سے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ؂
کیا بتاؤں حال دل اب قابل بیاں نہیں
درد کدھر کدھر نہیں، زخم کہاں کہاں نہیں
یہ اور بات ہے کہ میں منت کش فغاں نہیں 
پہلے بھی بے زباں نہ تھا، اب بھی بے زباں نہیں
دوستو! موجودہ ہندستان کے حالات اتنے خراب ہیں کہ اگر ہم حقیقی صورت حال کو اجاگر کردیں تو کلیجہ چھلنی چھلنی ہوجائے گا اور پھر تم سے دوسرا کوئی حالات پوچھے تو یہی جواب دوگے کہ ؂
نہ پوچھو دوستو احوال دل کے
تمھارا کلیجہ بھی جائے گا ہل کے 
اس لیے مزید زخموں کو نہ کریدتے ہوئے میں اپنی بات ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہندستان کو پھر ویسا ہی بنادے جیسا کہ غلامی سے قبل تھا اور جن خصوصیات کی وجہ سے اسے سونے کا چڑیا کہاجاتا تھا۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

باکمال خطیب بننے کے زریں اصول


باکمال خطیب بننے کے زریں اصول
محمد یاسین جہازی 

کسی بھی میدان کے نوواردوں کے سامنے سب سے بڑی پریشانی یہ در پیش ہوتی ہے کہ اپنے سفر کو کیسے شروع کریں ؟چنانچہ وہ اس مسئلے کو لے
 کراتنا حیران و سراسیمہ ہوجاتے ہیں کہ ہر کس ونا کس کی رائے و مشورے پر عمل کرنا شروع کردیتے ہیں ۔اس مرحلے پر اگر ان کی صحیح رہ نمائی نہیں ہو پاتی ہے اور صلاح کار ان کی نفسیات کے مطابق اچھی صلاح نہیں دے پاتا ہے ،تو انھیں آگے چل کر ناکامی و نامرادی کا منھ تک دیکھنا پڑ جاتاہے اور وہ یہ تصور قائم کرلیتے ہیں کہ اس فن کا حصول میری ہمت و حوصلے سے بالاتر ہے ۔ اس لیے یہ مرحلہ جہاں نوواردوں کے لیے صبر آزما اور مشقت آمیز ہوتا ہے ،وہیں رہ نماؤں کے لیے بھی محنت طلب اور آزمائش کن ہوتا ہے ؛ کیوں کہ اِنھیں کی نفسیات پرکھ کی صلاحیت اور ہر ہر طالب خطابت کے لیے جدا جدا مناسب ہدایات پر نوواردوں کی کامیابی و کامرانی اور ناکامی و نامرادی کا دارومدار ہوتا ہے ۔اس لیے اس مقام پر جہاں نوواردوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی رہ نمائی کے لیے اُنھیں حضرات کو رہ نما بنائیں،جو اس فن میں مکمل مہارت رکھتے ہوں اور ہر ایک کی نفسیات کے مطابق رہ نمائی کرسکتے ہوں ، وہیں رہ نماؤں سے یہ گذارش ہے کہ جو مبتدی آپ کی جوتیاں سیدھی کرنے کے لیے آئیں ،ان کی صحیح اور مکمل رہ نمائی کریں ۔آپ ان کی زندگی سے کھلواڑ نہ کریں ۔اگر ان میں سے کسی کی اصلاح آپ کے بس کی بات نہ ہو،تو ان کے سامنے اپنی عاجز ی کا اظہار کردیں اور دوسروں سے رجوع کرنے کی نیک صلاح دے دیں۔خواہ مخواہ ان کا قیمتی وقت ضائع نہ کریں ۔ذیل میں عمومی ہدایات کے تحت ہم نوواردوں سے چند گذارشات کر رہے ہیں ۔
(۱)کسی بھی علم وفن سیکھنے کے لیے صرف دوہی طریقے ہیں :(الف)مطالعہ اور اس فن کی بنیادی باتوں سے واقفیت ۔(ب)مشق وتمرین۔ہرچند کہ فن سیکھنے کے لیے مطالعہ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے ؛لیکن فن خطابت کے لیے سب سے زیادہ اہمیت مشق وتمرین کی ہے۔اس لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ فنی نکتوں اور علمی موشگافیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ وقت مشق و تمرین میں صرف کریں ۔
(۲)اگر چہ قدیم اساتذۂ فن نے سارا زور اس بات پرصرف کردیاہے کہ رٹ کر تقریر نہیں کرنی چاہیے ؛بلکہ ہمیشہ فی البدیہہ اور برجستگی کے ساتھ بولنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔یہ بات اس شخص کے حق میں تو قابل قبول ہوسکتی ہے ،جو خطبا کی فہرست میں آچکے ہیں ۔لیکن ایک مبتدی کے حق میں نہیں ؛کیوں کہ تجربہ بتلاتا ہے کہ ایک مبتدی کے لیے رٹ کر تقریر کی مشق جس قدر مفید اور سود مند ہے، وہ بغیر رٹے کرنے میں نہیں ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مبتدی بحیثیت مبتدی اس درجہ خالی الذہن ہوتا اور اسٹیج کا خوف اس قدرمسلط ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی کہنے سے عاجز و قاصر رہتا ہے ۔ایسی صورت میں کوئی چیز اسے سہارا دے سکتی ہے ،تو وہ رٹی ہوئی بات ہی ہوسکتی ہے ،جو وہ اسٹیج کا خوف محسوس کرتے ہوئے بھی بول سکتا ہے ۔اور جب متعدد بار اس طرح سے رٹ کر تقریر کر لے گا ،تو اسٹیج کا خوف بھی دور ہوتا چلاجائے گا اور مواد ومیٹر کا ایک بڑا ذخیرہ بھی اس کے سینے میں محفوظ ہوجائے گا ۔پھر وہ بلا خوف و تردد اپنے حافظے کے بھروسے پر خودبخود فی البدیہہ تقریر کرنے لگے گا اور رٹنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔اس لیے ایک مبتدی کے لیے رٹ کر تقریر کی مشق زیادہ مفید اور سود مند ہے ۔
(۳)آج کل طباعت کی سہولتوں اور رطب و یابس جمع کردینے والے مؤلفوں کی کثرت کی وجہ سے بری بھلی ہر طرح کی کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں ،جس کی وجہ سے کتاب کے انتخاب کا مسئلہ ایک مبتدی کے لیے مشکل مسئلہ بن گیا ہے ۔اس لیے اس سلسلے میں راقم الحروف کا مشورہ یہ ہے کہ آپ انھیں خطیبوں اور ادیبوں کی کتابوں اور تحریروں کا مطالعہ کریں،جو اپنے فن میں سند کا درجہ اور اساتذۂ فن کی حیثیت رکھتے ہیں ،جیسے :مولانا ابوالکلام آزاد ؒ ، مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ،مولانا علی جوہر، مولانا حسین آزاد ،مولانا ڈپٹی نذیر احمد ،مولانا شبلی نعمانی ،ؒ مولانا الطاف حسین حالی ؒ ،علامہ اقبال ؒ ،مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ وغیرہ ۔ان کی رشحات و نگارشات کے مطالعہ کرنے سے جہاں آپ کی تقریری صلاحیت پروان چڑھے گی، وہیں آپ کی زبان وبیان کی بھی اصلاح ہوگی اور طلاقت وسلاست بھی پیدا ہوگی۔
(۴)آپ ہر طرح کے جلسے جلوس میں شرکت کرنے کی کوشش کریں اور نام ور خطیبوں کے لب ولہجے ، اشارات وحرکات ،مدوجزر،زیروبم،اندازواسلوب ؛غرض ہر چیز پر نگاہ رکھیں اور ان سے کچھ حاصل کرنے کوشش کریں ۔
(۵)ٹیپ،سی۔ڈی اور موبائل جیسے جدید آلات و سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان خطیبوں کوبار بار سنیں اور دیکھیں ،جن کو بہ راہ راست اسٹیج پر سن چکے ہیں اور ان کو بھی جن کو بہ راہ راست سننے کا اتفاق نہیں ہواہے۔ 
(۶)چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے،ملنے جلنے والے سبھی بے تکلف یارو احباب کے درمیان بے باکی کا مظاہرہ کریں اور جو کچھ بولیں ،قواعد زبان کی رعایت کرتے ہوئے بلا جھجھک اور انتہائی سلاست کے ساتھ بولیں۔اس میں کسی طرح کا خوف یا شرم کو مانع نہ بننے دیں ۔باقی مزید باتیں ’’مشق خطابت‘‘کے زیر عنوان آرہی ہیں ۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔ھوالموفق والمعین۔
مشقِ خطابت 
ماقبل میں یہ بات آچکی ہے کہ کسی بھی فن کے حصول کا سراسر دارومدارمطالعہ اور مشق پر ہے۔ گرچہ ہر فن میں مطالعہ کو اولیت حاصل ہے ؛لیکن فنِ خطابت میں سب سے زیادہ اہمیت مشق کی ہے اور مطالعہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے ۔ مشق وتمرین کا مسئلہ اگر زیادہ مشکل نہیں ہے ،تو اس قدر آسان بھی نہیں ہے کہ جس کا جس طرح جی چاہے ، اسی طرح مشق کرنا شروع کردے؛بلکہ مشق خطابت کے بھی کچھ اصول اور زریں طریقے ہیں ،جن کو اپنا نااورصحیح طور پر برتنا ضروری ہے ۔ذیل میں وہ طریقے لکھے جارہے ہیں ،جنھیں خود مملکت خطابت کے بے تاج بادشاہوں نے عملی تجربے کے بعد مفید پایا ہے اور انھیں طریقوں پر چل کر وہ منزل مقصود تک پہنچے ہیں ۔
(۱)’’جو شخص خطابت سیکھنا چاہتا ہے ،اس کو چاہیے کہ بولنے سے پہلے لکھنے کی مشق کرے۔ مضمون لکھتے وقت کوئی سامنے نہیں ہوتا ،جس کا خوف ہو اور دماغ میں یکسوئی ہوتی ہے۔مضمون لکھ کر کسی جلسے میں لوگوں کے سامنے پڑھے ۔اس کے عیب وہنر سوچے اور دوسروں سے دریافت کرے ۔پہلے چھوٹے اور سہل مضامین سے ابتدا کرے۔ جس قدر مشق بڑھتی جائے اور لکھنے کا سلیقہ آتا جائے ،اسی قدر بڑے اور مشکل مضامین لیتا رہے۔اسی طرح پہلے چھوٹے جلسوں میں پڑھے پھر بڑے جلسوں میں بیان کرے ۔‘‘(خطابت وتقریر،ص؍۴۴)
(۲)تقریر کی کوئی معیاری کتاب سامنے رکھ لیجیے اور تقریری انداز میں بآواز بلند پڑھیے ۔
(۳)تقریر کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیجیے اور چھوٹے بڑے سبھی جلسوں میں تقریر کرنے کی کوشش کیجیے ۔
(۴)کسی بھی مضمون کا ذہن میں ایک خاکہ تیار کر لیجیے اور تنہائی میں نا قابل خطاب اشیا کو مخاطب بنا کر تقریر کیجیے اور یہ تصور قائم کر لیجیے کہ وہ ہمارے سامعین ہیں اور ہماری گفتگو کو سن رہے ہیں ۔
(۵) تنہائی میں چوں کہ کوئی ناقد نہیں ہوتا ،جو اس کو اس کی خامیوں پر تنبیہہ کرے ،اس لیے جو خامیاں ہوتی ہیں، ان کی اصلاح نہیں ہوپاتیں؛بلکہ وہ اور پروان چڑھ جاتی ہیں ،جو پھر بعد میں کبھی دور نہیں ہوپاتیں۔اس لیے ان کی اصلاح ضروری ہے ۔اور اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ آپ کسی ایسے کمرے کو مشق گاہ بنائیں، جس میں بڑے بڑے سائز کے شیشے فٹ ہوں ۔ان کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر کریں اور ساتھ ہی یہ دیکھتے رہیں کہ ہماری کونسی حرکت نازیبا اور کونسا اشارہ نامناسب ہے ،پھر اس کی اصلاح کی کوشش کریں ۔اسی طرح اس پر بھی نگاہ رکھیں کہ ہم کسی مخصوص حرکتوں کا بار بار ارتکاب تو نہیں کر رہے ہیں ۔چہرے مہرے کی ہیئت ٹھیک ٹھاک رہتی ہے کہ نہیں وغیرہ وغیرہ ان تمام چیزوں پر نگاہ رکھیں اور ان کی اصلاح کی فکر کریں ۔اور اپنی آواز ، انداز ،لب ولہجے،تکلم کا زیرو بم ،الفاظ کا مدو جزر اور ان جیسے پہلووں کی خامیوں کو پکڑنے کے لیے ٹیپ وغیرہ کا سہارا لیں ۔
(۶)اگر کسی وجہ کر آپ کے لیے یہ صورت ممکن نہیں ہے ،تو پھر ایسے دوستوں کی ایک تنظیم بنائیں ،جو آپ ہی کی طرح تقریروخطابت سیکھنے کے شیدائی ہوں اور انھیں بھی کسی سہارے کی تلاش ہو اور ہر ایک فرد اس بات کے لیے فکرمند ہو کہ کوئی ایسا دوست ملے ،جو اس کی غلطیوں کی نشاندھی کرے ۔
(۷)اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو،تو پھر آپ کسی قریبی مدرسے ،کالج اور یونی ورسٹیوں کی انجمنوں ۔جن کا بنیادی مقصد طلبہ میں تقریرو خطابت کی روح پھونکنی ہوتی ہے ۔سے جڑ جائیں اور ان کے ہفتہ واری ،پندرہ روزہ یا ماہانہ پروگرام میں پابندی کے ساتھ شرکت کریں ۔
(۸)ملک کے طول عرض میں کہیں بھی مسابقۂ خطابت ہو رہاہو ،تو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کریں۔
(۹)اگر مذکورہ بالا تمام صورتیں آپ کے لیے نا پید ہیں ،تو پھر آپ اپنے گھر کے افراد کو اکٹھا کرکے تقریر کی مشق کرسکتے ہیں۔
(۱۰)اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو ،توجنگل و بیابان میں نکل جائیں اور درخت ، پتھر اور ان جیسی بے جان چیزوں کو اپنا مخاطب بنا کر مشق کریں ۔ان شاء اللہ تعالیٰ کامیابی ضرور ملے گی اور بہت جلد ایک باکمال و بے مثال خطیب بن کر ابھریں گے۔