رحلت
نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ
محمد
یاسین جہازی
رحلت
نبوی ﷺ کے اشارات
جب سورۂ فتح
نازل ہوئی، تو اس میں
فتح و نصرت کے ساتھ ایک لطیف اشارہ بھی مضمر تھا کہ اب دین کی تکمیل کا مرحلہ آیا
ہی چاہتا ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک یہی وہ
زمانہ تھا جب حضور اکرم ﷺ نے محسوس فرمایا کہ آپ کی بعثت کا مقصد پایۂ تکمیل کو
پہنچ رہا ہے اور اب رحلت کا وقت قریب ہے۔
رحلت
نبوی ﷺ سے 107 دن پہلے: 22؍فروری632ء، سنیچر
یہی وجہ ہے کہ سن 10
ہجری ، مطابق 632 ء میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کا اراد
فرمایا۔ حجۃ الوداع کایہ مبارک سفر 27؍ دن میں مکمل ہوا۔آپ ﷺ 25؍ ذی قعدہ 10 ھ،
مطابق 22؍فروری632ء سنیچر کے دن مدینہ
منورہ سے روانہ ہوئے۔اور آٹھویں دن4؍ ذی الحجہ10ھ، مطابق یکم مارچ 632ء بروز اتوار مکہ مکرمہ پہنچے۔ اور اسی دن عمرہ
ادا فرمایا۔ پھر یکم تا11؍مارچ 632ء حج و عمرہ کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ فراغت کے
بعد،14؍ ذی الحجہ 10 ھ، مطابق 11؍مارچ
632ء بروز بدھ ، مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے اور دسویں دن23؍ ذی الحجہ 10 ھ،
مطابق 20؍مارچ 632ء، بروز جمعہ علی الصباح مدینہ منورہواپس تشریف لائے۔
آپ ﷺ نے
حجۃ الوداع کے موقع پر 9 ؍ذوالحجہ 10 ہجری،
مطابق 6؍مارچ 632ء بروز جمعہ میدانِ عرفات کے
تاریخی خطبہ میں حمد و صلاۃ کے بعد سب سے پہلے نہایت درد بھرے لہجے میں ارشاد
فرمایا:
"اے لوگو!
غالب گمان ہے کہ اس سال کے بعد میں تم سے اس مقام پر دوبارہ نہ مل سکوں گا۔"
یہ الفاظ
دراصل امت کے لیے الوداعی پیغام تھے۔
رحلت
نبوی ﷺ سے 80 دن پہلے: 23؍ذی الحجہ 10ھ، مطابق 20؍مارچ 632ء ، جمعہ
جب سرور
کائنات ﷺ حج و عمرہ سے فراغت کے بعد 23؍ذی الحجہ 10ھ، مطابق 20؍مارچ 632ء جمعہ کے دن مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے، تو
اس کے بعد آپ ﷺ میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق روز بروز بڑھتا گیا۔ عبادت،
تسبیح، تحمید اور ذکر و اذکار میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
ایک موقع
پر آپ ﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
"بیٹی!
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اب میری رحلت کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔"
انھی ایام
میں آپ ﷺ کو شہدائے اُحد کی یاد آئی، چنانچہ آپ ان کی قبور پر تشریف لے گئے اور نہایت رقت آمیز انداز میں ان کے لیے دعا
فرمائی، گویا یہ آخری ملاقات ہو۔
اسی طرح
ایک رات آپ ﷺ جنت البقیع (مدینہ منورہ کا قبرستان) تشریف لے گئے اور وہاں مدفون
اہلِ قبور کے لیے دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا:
"إِنَّا
بِكُمْ لَلَاحِقُونَ"(ہم بھی جلد تم سے آ ملنے والے ہیں)
یہ تمام
واقعات دراصل آپ ﷺ کی طرف سے اپنی رحلت کے واضح اشارات تھے۔
رحلت
نبوی ﷺ سے 12 دن پہلے:مرض الوفات کی ابتدا: یکم ربیع الال سن 11 ہجری مطابق 27؍مئی632ء
بدھ
رسول اکرم
ﷺ کی آخری بیماری کا آغاز یکم ربیع الال
سن 11 ہجری مطابق 27؍مئی632ء بدھ کے دن ہوا۔
اس دن آپ ﷺ ایک جنازہ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستے ہی میں سر درد کی شدت
محسوس ہوئی، جو آگے چل کر مرضِ وفات ثابت ہوا۔
حضرت ابو
سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک پر کپڑا بندھا ہوا تھا اور بخار اس
قدر شدید تھا کہ ہاتھ رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔
مرض بڑھتا
گیا تو ازواجِ مطہراتؓ نے آپ ﷺ کی اجازت سے آپ کا قیام مستقل طور پر حضرت عائشہؓ
کے حجرہ میں کر دیا۔
کمزوری اس
حد تک بڑھ گئی تھی کہ آپ ﷺ خود چل کر حجرہ تک نہ جا سکے۔ حضرت علیؓ اور حضرت فضل
بن عباسؓ نے آپ کے بازو تھام کر سہارا دیا اور بڑی مشقت سے حجرہ تک پہنچایا۔
حضرت
عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے دعا پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ ﷺ نے
خود دعا پڑھنے کو ترجیح دی اور فرمایا:
"اللَّهُمَّ
اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى"(اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیقِ اعلیٰ
کے ساتھ ملا دے)
رحلت
نبوی ﷺ سے چار روز پہلے: 8؍جون 632ء، مطابق 9؍ ربیع الاول 11 ھ، جمعرات
وفات اقدس
ﷺکے چار روز پہلے، 8؍جون 632ء، مطابق 9؍ ربیع الاول 11 ھ، جمعرات کے دن پتھر کے
ایک ٹب میں بیٹھ گئے اور سر اقدس پر پانی کی سات مشکیں ڈالوائیں ۔ جس سے مزاج اقدس
میں تھوڑی خنکی اور تسکین ہوئی تو مسجد نبوی تشریف لے گئے اور ایک مختصر تقریر
فرمائی، جس میں آپ نے یہود و نصاریٰ کی طرح انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے
منع فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ
دنیا و ما فیہا کو قبول کرے یا آخرت کو ترجیح دے، مگر اس نے آخرت کو قبول کیا۔ یہ
سن کر رمز شناس نبوت حضرت ابو بکر صدیق ؓ زاروقطار رونے لگے، جس پر حاضرین نے
انھیں تعجب سے دیکھتے ہوئے کہا کہ سرکار ایک شخص کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، اس میں
رونے کی کیا بات ہے۔ حضرت ابوبکر کی یہ حالت دیکھ کرخیال اشرف سے ارشاد ہوا کہ میں
سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں وہ ابوبکر ہیں۔اگر میں کسی شخص
کو اپنی دوستی کے لیے منتخب کرتا تو وہ ابوبکر ہوتے، لیکن اب رشتہ اسلام میرے لیے
کافی ہے۔ اس کے بعد مسجد کے رخ پر سوائے دریچہ ابوبکر کے سب کو بند کرنے کا حکم
دیا۔علالت نبوی پر انصار کو روتے ہوئے دیکھا تو انصار کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ
کرنے کی وصیت فرمائی۔پھر حضرت اسامہ بن زید کو شام پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر
فرمایا کہ حلال وحرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا میں نے وہی چیز حلال یا
حرام کیا ہے جسے قرآن اور خدا نے حلال یا حرام قرار دیا ہے۔پھر اپنے اہل بیت کو
خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ائے رسول کی بیٹی فاطمہ اور ائے پیغمبر خدا کی
پھوپھی صفیہ ! خدا کے ہاں کے لیے کچھ کرلو میں تمھیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتا
۔
رحلت
نبوی ﷺ سے تین روز پہلے: 10؍ ربیع الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، بروز جمعہ
10؍ ربیع
الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، بروز جمعہ حضرت عائشہؓ سے ارشاد فرمایا کہ اپنے
والد ابوبکر اور بھائی عبدالرحمان کو بلا لیجیے اور دوات کاغذ لے آئیے میں ایک
تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوں گے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے سرور کائنات کی
شدت مرض کو دیکھ کر یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی حالت میں تکلیف دینا مناسب نہیں ہے
،اب تکمیل دین کا کوئی ایسا نکتہ باقی نہیں رہا جس میں قرآن کافی نہ ہو۔ بعض دوسرے
صحابہ نے اس رائے سے اتفاق نہ کیا اور شور شرابہ ہونے لگا جس پرحضور نے فرمایا کہ
مجھے چھوڑ دو ، میں جس مقام میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف مجھے بلا رہے
ہو۔پھر تین وصیتیں فرمائیں کہ کوئی مشرک عرب میں نہ رہے،سفیروں اور وفود کی بدستور
عزت و مہمانی کی جائے اور تیسری قرآن کے بارے میں کچھ تھا جو راوی کو یاد نہ رہا۔
رحلت
نبوی ﷺ سے تین روز پہلے: 10؍ ربیع الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، جمعہ بعد نماز
مغرب
10؍ ربیع
الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، جمعہ کے دن مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر غنودگی طاری
ہوگئی ۔ عشا کے وقت آنکھ کھلی تو دریافت فرمایا کہ کیا نماز ہوچکی؟صحابہ نے عرض
کیا کہ سب لوگ حضور ﷺ کے منتظر ہیں۔ لگن میں پانی بھرواکر غسل فرمایا اور ہمت کرکے
اٹھے مگر غش آگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر آنکھ کھلی تو ارشاد فرمایا کہ کیا نماز ہوچکی
ہے ؟ صحابہ نے وہی جواب دیا کہ لوگ سرور کونین کی امامت کے منتظر ہیں۔اس مرتبہ
اٹھنے کی کوشش کی مگر بے ہوش ہوگئے۔ جب تیسری مرتبہ جسم مبارک پر پانی ڈالا گیا
اور اٹھنے پر غشی آگئی ، تو افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا کہ ابوبکر نماز
پڑھادیں۔حضرت ابوبکر بہت رقیق القلب تھے، اس لیے انھوں نے حضرت عمرؓ کو آگے
بڑھادیا ۔ مگر حضور نے تین مرتبہ منع فرمایا اور فرمایا کہ نماز ابوبکر ہی
پڑھائیں۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حیات نبوی میں سترہ نمازیں پڑھائیں۔
رحلت
نبوی ﷺ سےدوروز پہلے: 11؍ربیع الاول 11ھ، مطابق 6؍جون 632ء،بروز سنیچر
11؍ربیع
الاول 11ھ، مطابق 6؍جون 632ء،بروز سنیچر حضرت صدیقؓ ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ
سرور کائنات حضرات علی وعباسؓ کے سہارے مسجد تشریف لائے ۔ نمازی نہایت بے قراری سے
حضور ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت صدیق بھی مصلیٰ سے پیچھے ہٹے ، مگر حضور نے دست
اقدس سے اشارہ کیا کہ پیچھے مت ہٹو ، پھر حضور ، حضرت صدیق کے برابر بیٹھ گئے ، اب
حضرت صدیق سرکار کی اقتدا کررہے تھے اور مسلمان صدیق اکبر کی اقتدا میں تھے۔ یہ
پاک نماز اسی طرح مکمل ہوئی ۔ بعد ازاں حضور حجرہ حضرت عائشہ میں تشریف لے آئے۔
رحلت
نبوی ﷺ سےایک روز پہلے: 12؍ربیع الاول 11 ھ، مطابق 7؍جون 632ء،اتوار
12؍ربیع
الاول 11 ھ، مطابق 7؍جون 632ء،اتوار کے دن صبح بیدار ہوئے، تو پہلا کام یہ کیا کہ
سب غلاموں کو آزاد کردیا جو 40 کی تعداد میں تھے۔ پھر اثاث البیت کا جائزہ لیا تو
صرف 7 دینار تھے، جنھیں غریبوں میں تقسیم کرادیایہاں تک کہ آخری رات کو کاشانہ
نبوی میں چراغ جلانے کے لیے تیل تک موجود نہیں تھا۔ گھر میں کچھ ہتھیار تھے ،
انھیں مسلمانوں کو ہبہ کردیا گیا ۔کمزوری لمحہ لمحہ بڑھ رہی تھی، حتی کہ غشی آگئی
جس پر دردمندوں نے آپ کو دوا پلادی، افاقہ کے بعد جب احساس ہوا تو فرمایا اب یہی
دوا ان پلانے والوں کو پلائی جائے، کیوں کہ دیدار خداوندی کا اشتیاق اس قدر بڑھ
چکا تھا کہ اب اس میں نہ دعا کی گنجائش تھی اور نہ ہی دوا کی۔
یوم
رحلت: 13؍ ربیع الاول11 ھ، مطابق 8؍جون 632ء، بروز سوموار
13؍ ربیع
الاول11 ھ، مطابق 8؍جون 632ء، بروز سوموار مزاج اقدس میں کسی قدر سکون تھا ۔نماز
فجر ادا کی جارہی تھی کہ سرورکائنات ﷺ نے
مسجد اور کمرہ کا درمیانی پردہ سرکادیا، چشم اقدس نے دیکھا کہ لوگ رکوع و سجود میں
مصروف ہیں، اس پاک منظر کو دیکھ کر جوش مسرت سے ہنس پڑے۔ لوگوں کو خیال ہوا کہ آں
حضور مسجد میں تشریف لارہے ہیں ، نمازی بے اختیار ہونے لگے اور نمازیں ٹوٹنے لگیں۔
حضرت صدیق امامت کررہے تھے وہ پیچھے ہٹنے لگے، مگر حضورﷺ نے اشارہ اقدس سے سب کو
تسکین دی اور چہرہ انور کی ایک جھلک دکھلاکر پھر کمرے کا پردہ ڈال دیا۔ طبیعت کا
حال یہ تھا کہ غشی کے ایک بادل آتے تھے اور جاتے تھے ۔ ان تکلیفوں کو دیکھ حضرت
فاطمہ رونے لگیں ۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ بیٹی مت رو۔میں دنیا
سے رخصت ہوجاوں تو انا للہ و انا الیہ راجعون کہنا ۔ پھر آپ نے ان کے کان میں کہا
کہ بیٹی میں اس دنیا کو چھوڑ کر جارہا ہوں ، جس پر حضرت فاطمہ بے اختیار رونے
لگیں۔ پھر فرمایا کہ فاطمہ!میرے اہل بیت میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملوگی، جس پر
فاطمہؓ بے اختیار ہنس دیں۔حضرت حسن و حسین بہت غمگین ہورہے تھے انھیں پاس بلایا ،
دونوں کو چوما اور ان کے احترام کی وصیت فرمائی ۔ پھر ازواج مطہرات کو طلب فرمایا
اور انھیں بھی نصیحتیں کیں۔ پھر حضرت علی کو بلوایا اور انھیں بھی نصیحت فرمائی
اور فرمایا کہ الصلاۃ الصلاۃ و ما ملکت ایمانکم، نماز، نماز اور غلام باندی۔رفتہ
رفتہ حالت نازک ہوتی جارہی تھی کہ زبان اقدس سے ارشاد ہوا کہ لاالٰہ الا اللہ ان
للموت سکرات۔کبھی ارشاد ہو تا کہ اللھم بالرفیق الاعلیٰ۔ آپ کبھی چادر اقدس چہرے
پر ڈالتے تھے اور کبھی ہٹا دیتے تھے کہ دفعۃ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہود نصاریٰ پر
اللہ کی لعنت ہو، ان لوگوں نے اپنے انبیاء اور ولیوں کی قبروں کو سجد گاہ بنالیا ۔
اسی دوران حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر ایک تازہ مسواک لے کر آئے ، جسے دیکھ کر حضور
نے مسواک پر نظر جمادی ، جس سے حضرت صدیقہ نے اشارہ سمجھ لیا اور دانتوں میں نرم
کرکے مسواک پیش کی ۔ آپ نے بالکل تندرست کی طرح مسواک فرمایا ۔ پھریک لخت ہاتھ
اونچا کیا گویا کہ کہیں تشریف لے جائیں گے اور زبان اقدس سے نکلا کہ بل الرفیق
الاعلیٰ ۔ اب اور کوئی نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔ بل الرفیق الاعلیٰ ۔ بل
الرفیق الاعلیٰ ۔ تیسری آواز پر ہاتھ لٹک آئے ، پتلی اوپر کو اٹھ گئی اور روح شریف
عالم قدس کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
یہ ربیع
الاول کی 13؍ تاریخ سوموار کا دن اور چاشت کا وقت تھا عمر مبارک قمری تاریخ کے
اعتبار سے 63؍ سال ہوئی ۔
تجہیز
و تکفین: 14؍ربیع الاول 11 ھ، مطابق 9؍جون 632ء منگل
14؍ربیع
الاول 11 ھ، مطابق 9؍جون 632ء منگل کے دن تجہیز و تکفین کا کام شروع ہوا۔فضل بن عباس اور
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما پردہ تان کر
کھڑے ہوئے۔ اوس بن خولی انصاریؓ پانی کا گھڑا بھر کر لائے ۔ حضرت عباس اور ان کے
صاحب زدے جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے اورحضرت اسامہ ؓ اوپر سے پانی ڈالتے تھے
اور حضرت علیؓ غسل دے رہے تھے۔تین سوتی کپڑوں کا کفن دیا گیا ۔ حضرت صدیق اکبر کی
رائے کے مطابق حجرہ عائشہ میں قبر کھودی گئی۔ حضرت طلحہ نے لحدی قبر کھودی ۔ زمین
میں نمی تھی اس لیے بستر نبوی کو قبر میں بچھا دیا گیا ۔ جب جنازہ تیار ہوگیا تو
اہل ایمان نماز کے لیے ٹوٹ پڑے اور سب نے الگ الگ نماز پڑھی۔ جنازہ چوں کہ کمرے
میں تھا اس لیے نماز کا سلسلہ تقریبا 23؍ گھنٹہ جاری رہا۔
تدفین:
15؍ربیع الاول 11ھ، مطابق 10؍جون 632ء بروز بدھ رات
اس لیے تدفین15؍ربیع الاول 11ھ، مطابق 10؍جون
632ء بروز بدھ رات کو عمل میں آئی ۔ جسم
اطہر کو حضرات علی، فضل بن عباس، اسامہ بن زید اور عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنھم نے قبر میں اتارا اور اس باعث کون
و مکاں ہستی کو ہمیشہ کے لیے اہل دنیا کی نگاہ سے اوجھل کردیا گیا ۔
بارہ
وفات کی حقیقت
12؍ربیع الاول عوام میں ’’بارہ وفات‘‘ کے نام سے مشہور
ہے۔ لیکن قمری کلینڈر سے ثابت ہوتا ہے کہ 12 ؍ربیع الاول کو نبی اکرم ﷺ کی وفات کی
تاریخ قرار دینا تاریخی غلطی ہے۔ کیوں کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ وفات کا دن سوموار کا تھا۔ (صحیح
البخاری1387، و صحیح مسلم60945)۔ اور یہ بھی قطعی الثبوت ہے کہ وفات سےتقریبا تین
مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم
اکملت لکم دینکم: 6:460)۔
9؍ذی الحجہ 10ھ روز جمعہ سے 12؍ربیع الاول تک کا حساب لگا یاجائے، تو ذی الحجہ، محرم، صفر، ان
تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30، یا کچھ کو 29 اور کچھ کو 30 تسلیم کریں، توکسی بھی شکل میں ؍12ربیع الاول
کو سوموار کا دن نہیں پڑتا۔ تینوں مہینوں کو 29 یا 30 مان کر کلینڈر بنایا جائے،
تو اس کی 8 شکلیں بنتی ہیں۔
1. ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 30
کے ہوں۔اس شکل میں 12؍ ربیع الاول اتوار کے دن پڑتا ہے۔
2. ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 29
کے ہوں۔اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعرات کے دن پڑتا ہے۔
3.
ذی الحجہ 30 ، محرم اور صفر 29 کے ہوں۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعہ کو
پڑتا ہے۔
4. ذی الحجہ 29 کا اور محرم و صفر 30کے ہوں۔
اس شکل میں 12؍ ربیع الاول سنیچر کو پڑتا ہے۔
5. ذی الحجہ 29 کا ، محرم 30 کا اور صفر 29
کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعہ کو پڑتا ہے۔
6. ذی الحجہ 30 کا ، محرم 29 کا، اور صفر30
کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول سنیچر کو پڑتا ہے۔
7.
ذی الحجہ 30، محرم 30
اور صفر 29 کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول سنیچر کو پڑتا ہے۔
8.
ذی الحجہ 29 کا، محرم
29 کا اور صفر 30 کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعہ کو پڑتا ہے۔
پھر
حقیقی تاریخ کیا ہے؟
ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین
قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن لکھتے ہیں کہ:
26؍ جنوری 632ءکی
شام کو مکہ مکرمہ کے افق پر پونے سات ڈگری (6:44) ڈگری چاند اونچا تھا ، عام حالات
میں ؍9 ڈگری پر چاند نظر آتا ہے ،لیکن پونے سات ڈگری پر دور بین سے نظر آنا ممکن
ہے اہل فلکیات ایسا کہتے ہیں ، اس لیے جب9؍ذی الحجہ10ھ کو جمعہ کا دن مانیں، تو یہ کہنا پڑے گا کہ26؍
جنوری632ء کی شام کو حضوراکرم ﷺ نے چاند
دیکھا اور 27؍ جنوری 632ء کو ذی الحجہ10 ھ کی پہلی تاریخ ہوئی ۔ اور جمعہ کے دن 9؍
ذی الحجہ 10ھ ہوئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص؍337)
حضرت ماہر
فلکیات اسی کلینڈر میں آگے تحریر فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ کے
وصال کی تاریخ:
عَنْ
عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...... وَقَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ
تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ : يَوْمَ
الاثنين ( بخاری شریف ، باب موت یوم الاثنین ، نمبر 1387)
اس حدیث
سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی وفات پیر کے دن ہوئی ہے۔
سیرت ابن
اسحاق ، یا سیرہ ابن ہشام میں 12؍ربیع الاول کا تعین نہیں ہے، البتہ دلائل النبوہ ،بیہقی
وغیرہ میں ہے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ،
قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وَسَلَّم لاثْنَتَى عَشْرَةَ
لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرٍ ربيع الأول (دلائل النبوة للبیہقی ، باب ماجاء فی
الوقت واليوم والشهر ، جلد7ص؍235)
لاثْنَتَى
عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَت ، کا ترجمہ 12؍ رات اور 12؍دن دونوں گزر گئے، تو13؍ ربیع الاول
کو وفات ہوئی ہے، اور اس دن پیر کا دن ہے، کیوں کہ 12؍ربیع الاول کو ہر حال میں
اتوار کا دن ہے، جو حدیث کے خلاف ہوگا۔
حضور ﷺکا
وصال 13؍ ربیع الاول 11ھ، مطابق8؍ جون 632ء بروز پیر کو ہونی چاہیے۔ (341)
اور یہ
شکل نمبر (1) پر منطبق ہوتا ہے، جس میں ذی الحجہ ، محرم اور
صفر تینوں مہینے 30 کے فرض کیا گیا ہے۔
ماہر فلکیات نے چاند کی ڈگریوں کے حوالے سے ، اسی شکل کی رویت کی تفصیلات پیش کی
ہیں۔ دیکھیے: ثمیری کلینڈرازصفحات 337تا 341 )